Translater

11 مئی 2019

دواﺅں پر ہے منوہر لال کھٹر کی ساکھ

قومی راجدھانی دہلی سے لگے صنعتی شہر فریدآبادلوک سبھا حلقہ میں بھاجپا کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے دھریندروں کے درمیان تکونہ مقابلہ ہے چھٹے مرحلے میں یہاں بارہ مئی کو پولنگ ہوگی بھاجپا سے مرکزی وزیر کرشن گوپال گوجر مسلسل دوسری بار میدان میں ہیں ۔تو کانگریس کے اوتار سنگھ بڑھانا مسلسل چوتھی مرتبہ چناﺅی میدان میں اپنا مستقبل آزما رہے ہیں ۔2014کا چناﺅ کرشن گوپال گوجر نے کانگریس کے اوتار سنگھ بڑھانا سے 4.76فیصد ووٹوں سے ریکارڈ جیت حاصل کی تھی بڑھانا تین بار فریدآباد سے اور ایک مرتبہ میرٹھ سے کانگریس کے ٹکٹ پر چناﺅ جیت چکے ہیں حالانکہ اس مرتبہ یہاں 27امیدوار کھڑے ہیں ۔اہم مقابلہ بھاجپا کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے پردیش صدر نوین جے چند کے درمیان ہے ۔ایک طرف راجستھان دوسری طرف پنجاب بیچ میں ہے ہریانہ کا سرسا حلقہ یہ سیٹ پچھلی بار انڈین نیشنل لوک دل کے چرن جیت سنگھ روڑی نے جیتی تھی انہیں پھر سے انڈین نیشنل لوک دل نے اتارا ہے بھاجپا نے سنیتا دگل جبکہ کانگریس نے اشوک تونر اور عآپ جے جے پی اتحاد نے نرمل سنگھ کو موقع دیا ہے اس سیٹ پر چرن جیت سنگھ نے پچھلے چناﺅ میں اپنے حریف کانگریس کے پردھان ڈاکٹر اشوک تنور کو 115776ووٹوں سے ہرایا تھا ۔بھاجپا نے انڈین میسول سروس کی افسر رہی سنیتا دگل پر داﺅں کھیلا ہے جو یہاں سخت مقابلہ کر رہی ہیں ۔کرنال میں بھاجپا ایم پی اشونی کمار کا ٹکٹ کاٹ کر سنجے بھاٹیا کو موقعہ دیا گیا ۔ان کا مقابلہ کانگریس کے کلدیپ شرما سے ہے ۔آپ جے جے پی اتحاد نے کرشنا اگروال اور آئی این ایل ڈی نے کرنال سیٹ پر دھرم ویر کپاڑا کو ٹکٹ دیا ہے ۔یہاں بھاجپا کو جتانے کی ذمہ داری وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر پر ہے ۔کیونکہ بھاٹیا کھٹر کی پسند ہیں ۔اس سیٹ پر بھاجپا آگے ہے ۔امبالہ لوک سبھا سیٹ پر بھاجپا نے رتن لال کٹاریہ کو دوبارہ موقعہ دیا ہے ۔کانگریس نے کماری شیلجہ اور آپ جے جے پی گٹھ بندھن نے پتھوی راج کو اتارا ہے جبکہ لوک دل نے رام پال بالمیکی کو ٹکٹ دیا ہے بھاجپ یہاں پہلے مضبوط تھی لیکن شلیجہ کو یہاں سخت ٹکر مل رہی ہے ۔شیلجہ اس سیٹ پر پہلے بھی ایم پی رہ چکی ہیں ۔امبالہ میں سینی ،سکھ ،پنجابی،اگروال،اور مسلمان بھی کافی ہیں یہ بی ایس پی کے اثر والی سیٹ ہے کل ملا کر سب سے زیادہ ساکھ اگر کسی کی ہے تو وہ وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر کی ہے ۔دیکھیں کس کی قمست ان سیٹوں پر چمکتی ہے۔

(انل نریندر)

پہچان،وراثت اورکیرئیرسب کچھ دواﺅں پر ہے

موجودہ چناﺅ میں ہریانہ کی حصار لوک سبھا سیٹ صوبے کے سیاسی خاندانوں کے چناﺅی گھمسان کے چلتے ہائی پروفائل بن گئی ہے ۔یہاں سے بی جے پی کے ٹکٹ پر آزادی سے پہلے متحدہ پنجاب کی سیاست کرنے والے سر چھوٹو رام کے نواسے برجیندر سنگھ میدان میں ہیں ان کے سامنے جے جے پی سے سابق نائب وزیر اعظم چودھری دیوی لال کے پڑپوتے اور ہریانہ کے سابق وزیر اعلیٰ اوم پرکاش چوٹالہ کے پوتے دشینت سنگھ چوٹالہ اور ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ بھجن لال کے پوتے اور کانگریس کے سینر لیڈر کلدیپ بشنویی کے چھوٹے بیٹے بھویہ وشنویی کھڑے ہیں جاٹ اکثریتی علاقہ میں ریاست کے سرکردہ لیڈروں کی کنبہ ذاتی وراثت کے درمیان یہ مقابلہ دلچسپ بن گیا ہے دشینت سنگھ اور برجیندر سنگھ جاٹ چہرے ہیں جبکہ بھویہ وشنویی غیر جاٹ امیدوار ہیں ۔حصار کے امیدواروں کا ایک یہی دلچسپ پہلو نہیں ہے ۔تینوں امیدواروں سے جڑے کئی اور پہلو بھی ہیں جن کے چلتے یہ سیٹ سرخیوں میں ہے تنیوں امیدواروں کی بھی ہریانہ میں موجودہ ممبر اسمبلی ہیں برجیندر سنگھ کی ماں اور چودھری ویرندر سنگھ کی بیوی پریم لتا بھی ممبر اسمبلی ہیں تو دشینت کی ماں نینا چوٹالہ ڈوالی اور بھویہ کی ماں رینگو وشنیویی ہانسی سے ہیں ۔تنیوں مائیں سخت دھوپ میں اپنے بیٹوں کے لئے کمپئین چلا رہی ہیں ۔پچھلے لو ک سبھا چناﺅ میں دشینت کا مقابلہ بھویہ کے والد کلدیپ وشنویی سے ہوا تھا جس میں بشنویی ہار گئے تھے اب ان کے سامنے دشینت چوٹالہ کے سیاسی وجود کا سوال ہے وہیں بھویہ وشنوی پری خاندان کی سیاسی وراثت کا آگے بڑھانے کی ذمہ داری ہے اس چناﺅ سے ان کا خود کا سیاسی کیر ئیر بھی طے ہوگا وہیں برجیندر سنگھ اپنے والد مرکزی وزیر کی جگہ میدان میں ہیں بیٹے کو ٹکٹ ملتے ہی پتا نے کیبنٹ سے استعفی دینے کی پیش کش کی تھی دشینت پہلی بار مودی لہر میں جیتے تھے۔دشنینت کافی مقبول ہیں ان کی پارٹی حالانکہ جے جے پی محض چھ مہینے پرانی ہے ۔

(انل نریندر)

یہاںہڈا پریوار کا بول بالا ہے

ہریانہ کی رہتک لوک سبھا سیٹ اس مرتبہ بھی ہڈا پریوار کی وجہ سے سرخیوں میں ہے۔ روہتک میں اس مرتبہ کانگریس امیدوار دیپندر ہڈا کے لئے راہ آسان نہیں ہوگی یہاں ان کا مقابلہ بھاجپا امیدوار اروند شرما سے ہے ۔بھاجپا نے ان کے لئے رہتک میں پوری طاقت جھونک دی ہے ۔حالانکہ جن نائک جنتا پارٹی امیدوار پروین دیشوال بھی میدان میں ہیں ۔روہتک کی جاٹ اثر والی سیٹ پر کانگریس کے بھوپیندر سنگھ ہڈا اور خاندان کا دبدبہ ہے ۔ہڈا کی وجہ سے جاٹ ووٹ کانگریس کے کافی قریب ہے ۔ان کے بیٹے جیتندر ہڈا نے پچھلی مرتبہ مودی لہر میں بھی یہ جیت حاصل کی تھی یہاں جاٹ بنام غیر جاٹ مدعہ ہے اس حلقہ میں 35فیصد جاٹ چھ فیصد پنجابی دس فیصد بنیا اور آٹھ فیصد برہمن آٹھارہ فیصد دلت ہیں ۔آپ جے جے بھی اتحاد نے پردیپ دیشوال اور انڈین نیشنل لوک دل میں دھرم ویر فوجی کو اتارا ہے بھاجپا نے اروند شرما کو بھلے ہی لاکھ روہتک میں اتارا ہو لیکن یہاں سے کانگریس کو پوری ٹکر دینے کی کوشش جاری ہے ۔سا تھ ہی بھاجپا اپنی پوری تنظیم کی طاقت سے چناﺅ لڑ رہی ہے ۔روہتک میونسپل کارپوریشن چناﺅ میں ملی جیت کا بھی اسے فائدہ ملے گا ۔جے جے پا اور کانگریس کے جاٹ امیدواروں کے درمیا ن اروند شرما غیر جاٹ امیدوار ہیں یسے میں انہیں اس بات کا پورا فائدہ ملے گا ۔حالانکہ باہری امیدوار ہونے سے اندر خانے نقصان کا بھی ڈر ہے ۔لیکن فی الحال بھاجپا نے سبھی ورکروں کو چناﺅ مہم میں اتارا ہوا ہے ۔ہریانہ بننے سے پہلے یہ سیٹ پنجاب میں ہوتی تھی 1952میں ہوئے پہلے لوک سبھا چناﺅ سے لے کر آج تک 16انتخابات میں سب سے زیادہ دس بار کانگریسی اس سیٹ پر جیت کا پرچم لہرا چکی ہے۔اس جیت میں ہڈا پریوار کا اہم کردار رہا ہے کیونکہ دس میں سے آٹھ مرتبہ ہڈا پریوار کامیاب ہوا ہے ۔تبھی رنبیر ہڈا کی تیسری پیڑھی دیپندر ہڈا موجودہ ایم پی ہیں ۔

(انل نریندر)

10 مئی 2019

دو سیاسی گھرانوں میں بادشاہت کی جنگ

قومی راجدھانی دہلی سے محض 32کلو میٹر کی دوری پر بسا آئی سیکٹر کا گڑھ گورو گرام فی شکس آمدنی میں چنڈی گڑھ اور ممبئی کے بعد تیسرے نمبر پر آتا ہے ہریانہ کو اپنے اس شہر پر بہت فخر ہے گورو گرام ایسا آئی ٹی ہب بن چکا ہے جس کا راستہ دیش دنیا کے کئی بڑے شہروں تک پہنچتا ہے ۔یہاں گورو درونا چاریہ پانڈوں کوتعلیم تھی جس کے بعد یودھشٹر نے اپنے گرو درونا چاریہ کو گو رو گرام تحفے میں دیا تھا ۔نام بھلے ہی بدل گیا ہو لیکن چناﺅ کمیشن کے ریکارڈ میں گورو گرام کے بجائے اب بھی گرگاﺅں درج ہے ۔بھاجپا نے ایک بار پھر مرکزی وزیر مملکت اندرجیت سنگھ کو میدان میں اتارا ہے وہیں کانگریس نے چار بار ایم پی رہے راﺅ اندر جیت کو چنوتی دینے کے لئے سابق وزیر کیپٹن اجے سنگھ یاد وکو اپنا امیدوار بنایا ہے انڈین نیشنل لوک دل نے صنعت کار ویرندر رانا کو ٹکٹ دیا ہے ۔تو وہیں جن نائک پارٹی نے عآپ سے اتحاد کے بعد سوشل انٹر پرنیور ڈاکڑمحمود خان پر داﺅں کھیلا ہے ۔راﺅ اندر جیت 2014میں کانگریس چھوڑ کر بھاجپا میں آئے تھے وہ پچھلے سال سے مودی سرکار میں وزیر ہیں بھاجپا کو راﺅ کی صاف ستھری ساکھ سے جیت کی پوری امید ہے وہ کیپٹن اجے سنگھ یادو اور آر جے ڈی نیتا لالو پرساد یادو کے سمدھی ہیں اور ریواڑی سے چھ بار ممبر اسمبلی اور ریاستی بجلی منتر ی رہ چکے ہیں 2009میں حد بندی کے بعد ابھی تک صرف دو چناﺅ ہوئے ہیں 2014کے چناﺅ میں راﺅ نے مودی لہر پر سوار ہو کر میو امیدوار ذاکر حسین کو دو لاکھ 74ہزار سے زیادہ ووٹوں سے ہرایا تھا ۔دونوں لوک سبھا چناﺅ سے پتا لگتا ہے کہ اس سیٹ پر ذات پات تجزیہ اور شہری ووٹروں کا دبدبہ ہے میوات علاقہ کی تین سیٹوں پر میو امیدوار کا دبدبہ رہا ہے تو وہیں ریواڑی ضلعہ کی دو اسمبلی سیٹوں ،ریواڑی اور گورو گرام ضلعہ کی تین اسمبلی سیٹوں (گورو گرام،بادشاہپور،و پٹودی)میں اہیر ووٹوں کی تعداد زیادہ ہے 2009میں کانگریس و بھاجپا کے ٹکٹ سے چناﺅ لڑنے والے اندر جیت سنگھ کو اہیروں کے ساتھ شہری ووٹوں کی بھی ہمایت ملی ۔اس سیٹ پر مودی فیکٹر کام کر رہا ہے جنہیں اندر جیت سنگھ سے نارضگی بھی ہے لیکن پھر بھی ووٹ مودی کو دیں گے بھاجپا کو امید ہے کہ راﺅ اندر جیت سنگھ پھر بڑی جیت حاصل کریں گے ۔تو وہیں کانگریس کے حق میں میو ووٹوں کو اپنے حق میں لانے کی آس لگائے بیٹھی ہے یہاں فوجیوں و سابق فوجی ووٹوں کی کافی تعداد ہے بالا کوٹ ائیر اسٹرائک کے چلتے سابق فوجیوں کا جھکاﺅ بھاجپا کی طرف ہے ۔تو وہیں کانگریس بے روزگاری جی ایس ٹی ،نوٹ بندی ،کسانوں کے مسئلے جیسے اشو اٹھا رہی ہے 2014کے مقابلے یہ چناﺅ کافی الگ ہے ۔یہ بات راﺅ اندر جیت سنگھ بھی سمجھ رہے ہیں ۔دیکھیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ۔

(انل نریندر)

کیا آستھاکی نگری میں ذات برادری تجزیہ حاوی ہوگا؟

گنگا جمنا سرسوتی کے سنگم کو اپنے آغوش میں سمائے الہٰ آباد دھارمک طور سے اہم ترین ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی طور سے بھی اہم ہے ۔کنبھ میلے کا اتعقاد اسے آستھا کا مرکز بناتا ہے تو دیش کو دو وزیر اعظم دے کر سیاست میں اپنی اہمیت ثابت کی ہے الہٰ آباد میں بارہ مئی کو چناﺅ ہونا ہے بھاجپا نے یہاں سے ریتا بہو گنا جوشی کو میدان میں اتارا ہے ان کے مقابلے پر سپا کے راجیندر سنگھ پٹیل اور کانگریس کے یوگیش شکل ہیں ۔لکھنو چھاونی سے ممبر اسمبلی ریتا بہو گنا جوشی یوگی آدتیہ ناتھ کی سرکار میں مہیلا خاندانی بہبود اور زچگی اور ٹورزم وزیر ہیں ۔اتحاد کے تحت سپا نے پہلی بار راجیندر سنگھ پٹیل کو یہاں سے امیدوار بنایا ہے وہیں سال 2009میںبھاجپاکے ٹکٹ پر لوک سبھا چناﺅ لڑ چکے یوگیش شکلا اس مرتبہ کانگریس کے ٹکٹ پر چناﺅ لڑ رہے ہیں وہ 60983ووٹ پاکر تیسرے مقام پر رہے تھے ۔بھاجپا سے ٹکٹ کٹنے کے بعد باغی ہو گئے اور اب وہ کانگریس کے ٹکٹ پر چناﺅ لڑ رہے ہیں ۔بتا دیں کہ 2014کے لوک سبھا چناﺅ میں بھاجپا کے شیاما چرن گپتا 313772ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے اور سپا کے ریوتی رمن سنگھ دوسرے نمبر پر تھے جنہیں 251763ووٹ ملے جبکہ تیسرے نمبر کے بسپا کے کراری دیوی پٹیل ان کو 162073ووٹ ملے تھے ۔کانگریس امیدوار نند گوپال گپتا کو 102453ووٹ ملے تھے اس مرتبہ سپا بسپا مل کر چناﺅ لڑ رہے ہیں ۔اگر 2014کے ان دونوں ووٹوں کو جوڑ دیا جائے تو کل 324146ووٹ بنتے ہیں یہ بھاجپا کے 251763سے کہیں زیادہ ہیں اگر صحیح معنوں میں بسپا کا ووٹ سپا کو ٹرانسفر ہو جاتا ہے تو بھاجپا کانگریس دونوں کے لئے جیتنا مشکل ہو جائے گا بھاجپا امیدوار کو مودی کی مقبولیت یوگی آدتیہ ناتھ سرکار کے کارناموں کا فائدہ مل سکتا ہے ۔وہیں اکھلیش یادو کے وزیر اعلیٰ کے عہدمیں ہوئے ترقیاتی کام کا فائدہ امیدوار کو مل سکتا ہے کانگریس یہاں جیتنے کے لئے نہیں بلکہ اپنی کھوئی زمین کو واپسی کے لئے لڑ رہی ہے یہاں سے گیتا بہوگنا جوشی کے جیت پانے میں شبہ ہے ۔راجیندر سنگھ پٹیل کا پلڑا بھاری دکھائی دے رہا ہے ۔

(انل نریندر)

اکھلیش اور بھوجپوری سپر اسٹار میں مقابلہ

سپا-بسپا کا گڑھ مانی جانے والی اعظم گڑھ لوک سبھا سیٹ سے امیدوار سپا چیف اکھلیش یادو کی پوزیشن کو ذات برادری تجزیہ کے پیش نظر بے حد مضبوطی مل رہی ہے ۔حالانکہ بھاجپا امیدوار دنیش لال یادو نرہوا اکھلیش کو راشٹرواد پردھان منتری مودی اور بطور اداکار اپنی مقبولیت کے تحت سخت ٹکر دے رہے ہیں ۔واقف کاروں کی مانےں تو بھاجپا نے اعظم گڑھ کے ذات برادری کے حساب کتاب کو ذہن میں رکھ کر ہی بھوجپوری فلموں کے سپر اسٹار نرہوا کو اکھلیش کے خلاف میدان میں اتارا ہے ۔بہر حال وہ بڑا الٹ پھیر کر سکتے ہیں جب وہ اس سیٹ پر فیصلہ کن یادو ووٹوں میں اچھی خاصی سیندھ ماری کر سکیں نرہوا کا دعوی ہے کہ انہیں اعظم گڑھ سے اس بار یادو سمیت سبھی طبقوں کی حمایت مل رہی ہے ۔انہوںنے کہا کہ میرے آنے سے اکھلیش جی کے سارے تجزیے بگڑ گئے ہیں ۔میرے ساتھ سماج کا ہر طبقہ ہے میں یہاں کنبہ پرستی اور ذات پات کی سیات ختم کرنے ہی آیا ہوں اب اعظم گڑھ میں وکاس کی سیاست ہوگی ۔دوسری طرف سپا کا کہنا ہے کہ اعظم میں نرہوا کو جنتا سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے۔اور بھاجپا نے انہیں امیدوار بنا کر یہاں ایک طرح سے سپردگی کر دی ہے اور اکھلیش یادو کو ایک طرح کا واک اور دے دیا ہے ۔ویسے اعظم گڑھ کا ذات پات تجزیہ ہی سپا کے اس قلعہ کو مضبوط بناتا ہے اور اس بار تو بسپا بھی اس کے ساتھ ہے ۔مقامی لوگوں کے مطابق اس لوک سبھا حلقہ میں 19لاکھ ووٹروں میں سے 3.5لاکھ سے زیادہ یادو اور تین لاکھ سے زیادہ مسلمان اور قریب تین لاکھ دلت ہیں ۔یہ ذات پات کا حساب یہاں اکھلیش کی جیت تقریب طے کرتا ہے ۔وہیں سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ نرہوا کیسے جیت کی امید کر سکتے ہیں ۔بھاجپا کو امید ہے کہ نرہوا سپا کے اہم ووٹر یعنی یادو میں سیندھ لگائیں گے اور غیر یادو او بی سی اور غیر جاٹ دلت اور اونچا طبقہ بھی بھاجپا کے ساتھ کھڑا ہوگا جس سے یہاں بہت بڑا الٹ پھیر ہو سکتا ہے اب تو بارہ مئی کو لوگ صرف یہ طے کریں گے کہ جیت کا فرق کتنا ہوگا ؟ویسے مودی فیکٹر کا کچھ فائدہ بھاجپا کو مل سکتا ہے لیکن کو اکھلیش کو ہرانے کے لئے کافی نہیں ہوگا اکھلیش کی جیت پکی ہے ۔

(انل نریندر)

09 مئی 2019

مغربی دہلی سیٹ پر بھاجپا کانگریس کے درمیان کانٹے کی ٹکر

دیش کی راجدھانی دہلی میں لوک سبھا چناﺅ میں پولنگ کی تاریخ جیسے جیسے قریب آرہی ہے ویسے ویسے مغربی دہلی کے مقابلے میں تصویر بھی صاف ہوتی جا رہی ہے ۔مغربی دہلی پارلیمانی سیٹ پر ذات ،اور علاقائی تجزیوں کو جائزہ لینا تنیوں پارٹیوں کے امیدواروں کے لئے اس بار آسان نہیں ہوگا ۔اس سیٹ پر بھاجپا نے پرویش ورما کو جبکہ کانگریس نے مہاول مشرا اور عام آدمی پارٹی نے بلویر جھاکڑ کو کھڑا کر کے لڑائی کو تکونہ بنا دیا ہے لیکن لڑائی بھاجپا کے پرویش ورما اور کانگریس کے مہاول مشرا کے درمیان ہے ۔2014میں مودی لہر میں پرویش ورما نے شاندار جیت حاصل کی تھی پرویش ورما اپنی چناﺅ مہم میں پانچ سال کے کام کو ضرور گنا رہے ہیں ۔لیکن اس دوران نریندر مودی سرکار کے کام کاج کا بار بار ذکر کرنا لیکن بھاجپا کے حکمت عملی سازوں کا ماننا ہے کہ بہت بڑی تعداد میں ووٹر مودی کے نام پر ووٹ ڈالیں گے کانگریس کے مہاول مشرا کے لے یہ پوزیشن اچھی ہے کہ کانگریس نہ تو مرکز میں اور نہ دہلی اسمبلی اور نہ ہی ایم سی بی میں اقتدار میں ہے ۔لہذا ان کے لئے تمام مسائل کا ٹھیگرا بھاجپا اور عام آدمی پارٹی پر پھوڑنا آسا ن ہے حالانکہ ان کے پاس بھی گنانے کے لئے کافی کارنامے ہیں وہیں عآپ کے امیدوار بلویر جاکھڑ وزیر اعلیٰ اروند کجریوال اور ان کی سرکار کے ذریعہ دہلی میں ہیلتھ ،اور تعلیم سیکٹر میں بہتر کام کی بنیاد پر جنتا سے ووٹ مانگ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ان کی پارٹی دہلی کو مکمل ریاست کا درجہ دلانے کا وعدہ پورا کرئے گی ۔حالانکہ پورے حلقہ میں عآپ کے دو ممبراسمبلی ہیں لیکن باقی دونوں امیدوار نئے ہیں اور ایک منجھے ہوئے اکھاڑے باز کی طرح سیاسی داﺅن پینچ نہیں جانتے آپ نے مقابلے کو تکونہ بنا دیا ہے ۔جس سے بھاجپا کے لئے جیت حاصل کرنا آسان ہو گیا ہے ۔ورنہ کانگریس اور بھاجپاکے درمیان آمنے سامنے مقابلے کی صورت میں دلچسپ نتیجہ آنے کی امید ہے ۔

(انل نریندر)

تینوں ہی بڑی پارٹیوں نے یہاں نئے چہروں پر داﺅں کھیلا ہے

شمال مغربی دہلی لوک سبھا سیٹ دہلی کی اکلوتی محفوظ سیٹ ہے جو 2008میں حد بندی کے بعد وجود میں آئی تھی یہاں تنیوں بڑی پارٹیوں نے اس مرتبہ نئے چہروں کو میدان میں اتار کر مقابلہ کو دلچسپ بنا دیا ہے ۔بھاجپا،کانگریس اور عآپ کے امیدوار پہلی بار لوک سبھا چناﺅ لڑ رہے ہیں یہاں ادیت راج کی جگہ بھاجپا نے صوفی گلو کار ہنس راج ہنس کو میدان میں اتارا ہے ۔وہیں عام آدمی پارٹی نے راکھی برلانگ کی جگہ مقامی لیڈر گگن سنگھ کو اتارا ہے ۔کانگریس نے راجیش للوٹھیا کو امیدوار بنایا ہے ۔لوک سبھا چناﺅ کو دیکھیں تو دس اسمبلی سیٹ پر بھاجپا آگے رہی تو تین پر عآپ آگے رہی مودی لہر نے کانگریس پارٹی تیسرے نمبر پر تھی ۔شمال مغربی دہلی سیٹ میں منگول پوری ،سلطانپوری ،ناگلوی اور نریلا سیٹ میں دلتوں کی تعداد زیادہ ہے ۔وہیں روہنی ،ریٹھالا ،بادلی علاقہ میں کاروباری طبقہ کی تعداد زیادہ ہے ۔دہلی کا علاقہ جڑے ہونے کے سبب اس حلقہ میں جاٹوں کا رجحان اہم رہتا ہے لوک سبھا 2014کے چناﺅ میں 13لاکھ 53181ووٹوں میں سے بھاجپا کو 6لاکھ 27ہزار 529جبکہ عآپ کو 5لاکھ 22ہزار 842اور کانگریس کو1لاکھ 57ہزار 242ووٹ ملے تھے ۔کہنے کو تو یہ حلقہ راجدھانی کا حصہ ہے لیکن ترقی کے معاملے میں باقی دہلی سے پیچھے ہے ۔دس میں سے تین اسمبلی سیٹیں بھی اسی لوک سبھا حلقہ میں محفوظ ہیں ۔حالت یہ ہے کہ علاقہ وکاس کے لئے ترس رہا ہے ۔سہولیات کی کمی ہے ۔اور علاقہ کی عوام سے جو بات ابھر کر سامنے آئی ہے یہاں مقابلہ دلچسپ ہے ۔ادھر دبی زبان میں کانگریس و بھاجپا کے نیتا یہ کہتے نہیں تھکتے کہ پارٹی نے باہری امیدوار اتارا ہے اور اس سے کانگریس ورکروں میں نارضگی ہے ۔وہیں عام آدمی پارٹی نے بھی پچھلی بار راکھی برلان کو میدان میں اتارا تھا ۔تو اس بار بھوکنت سنگھ کو میدان میں اتار دیا ۔تینوں ہی بڑی پارٹیوں کو نئے امیدواروں پر اس بار داﺅں کھیلا ہے ۔

(انل نریندر)

بی جے پی کےلئے مغربی بنگال میں یہ سیمی فائنل چناﺅ ہے

اڑیشہ کے ساحلی علاقوں میں بھاری نقصان پہنچانے والے سائکلون طوفان فینی بے شک تھم گیا ہے مگرپڑوسی ریاست مغربی بنگال کی سیاست میں اس نے چناﺅی سنگرام تیز کر دیا ہے ۔مغربی بنگال میں ابھی دو مرحلوں کا چناﺅ باقی ہے گھاٹال ،مدنا پور ،پرولیا ،کاٹھی،تعلک ،بادورا،اور وشنو پور میں 12مئی کو ووٹ پڑیں گے وزیر اعظم نریندر مودی اور مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ و ترنمول کانگریس کے چیر مین ممتا بنرجی میں واک یودھ تیز ہو گیا ہے ۔وزیر اعظم نے پیر کو ریاست میں ایک چناﺅ ریلی میں کہا کہ طوفان سے پیدا زمینی حالات کا جائزہ لینے کے لئے ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو دو مرتبہ فون کیا تھا مگر ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا دوسری طرف ممتا نے بھی ایک چناﺅ ی ریلی میں صفائی دی کہ وہ طوفان کے حالات کا جائزہ لینے کے لئے کھڑگ پور میں تھیں اس لئے وزیر اعظم سے فون پر بات نہیں کر سکی ۔ممتا نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ میں نریندر مودی کو اپنا پردھان منتری تک نہیں مانتی دراصل دیش کے موجودہ لوک سبھا چناﺅ کے لئے بھلے ہی مرکز میں بھاجپا سرکار بنانے کی لڑائی ہو مغربی بنگال میں اس کے لئے یہ سیمی فائنل میچ ہے ۔پانچ مرحلوں میں زبردست پولنگ سے خوش بھاجپا اس سیمی فائنل میچ کو جیت کر دو سال بعد ہونے والے مغربی بنگال کے اسمبلی چناﺅ میں ممتا بنرجی سے دو دو ہاتھ کرنے کی زمین تیار کر رہی ہے ۔جن سنگھ کے بانی ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی زمین ہونے کے باوجود بنگال میں 2014کے لوک سبھا چناﺅ تک بھاجپا کو سیاسی حلقوں میں کافی سنجیدگی سے نہیں لیا گیا ۔2014کے لوک سبھا چناﺅ میں پارٹی کو دو سیٹیں اور تقریبا 17فیصد ووٹ ملے تھے ۔اس کے بعد تقریبا ہر چناﺅ میں اور خاص کر گذشتہ سال ہوئے پنچایت چناﺅ میں پارٹی نے کانگریس اور لیفٹ فرنٹ کو ہاشیہ پر ڈالتے ہوئے ریاست کی سیاست میں دوسرے مقام پر پہنچ گئے ۔حالانکہ پہلے نمبر پر رہنے والی ترنمول کانگریس اور اس کے درمیان اب بھی فاصلہ بہت زیادہ ہے اب موجودہ چناﺅ میں وہ اسی فاصلے کو بھرنے کے لئے حتی الامکان کوشش کر رہی ہے تاکہ 2021کے اسمبلی چناﺅ میں وہ ترنمول کو برابر کی ٹکر دے سکے ۔اس 
لےئے ہم اسے بھاجپا کے لئے سمی فائنل چناﺅ کہہ رہے ہیں ۔
(انل نریندر)

08 مئی 2019

گوجر ،جاٹ ،پروانچلی ووٹوں کے ہاتھ میں جیت کی کنجی

ساﺅتھ دہلی کی لوک سبھا سیٹ پر تکونہ مقابلہ ہے ۔بھاجپا نے رمیش بدوڑی کو ایک بار پھر موقعہ دیا ہے کانگریس نے مکے باز بیجندر سنگھ کو جبکہ عام آدمی پارٹی نے راگھو چڈھا کو میدان میں اتارا ہے بیدوڑی تنیوں امیدواروں میں سب سے زیادہ تجربے کار ہیں ۔راگھو چڈھا چارٹرڈ اکاﺅنٹینٹ ہیں کانگریس بھاجپا،کے مقابلے میں راگھو چڈھا کا زیادہ چناﺅ پرچار ہے اور وہ پروانچلیوں میں اپنی بات کافی حد تک پہنچانے میں کامیاب رہے ہیں بدوڑی کا کہنا ہے کہ جنتا ایک بر پھر نریندر مودی کی قیادت میں سرکار بنانے جا رہی ہے اور ہمارا ٹارگیٹ یہ ہے کہ اس جیت کا فرق پچھلے سے دو گنا زیادہ ہو وہیں راگھو چڈھا کا کہنا ہے کہ میں بجیندر کا سیاست میں خیر مقدم کرتا ہوں اور نوجوانوں کو سیاست میں آنا چاہیے لیکن وہ ایک غلط پارٹی سے سیاست میں آئے ہیں بیجندر کہتے ہیں پرینکا گاندھی کی سادگی سے میں بہت متاثر ہوں اور ان میں مجھے اندرا گاندھی کی خوبی نظر آتی ہے برجیندر سنگھ اپنی مہم میں ٹھیٹ دیسی اور دیہاتی لہجے میں لوگوں سے بات کرتے ہیں وہ معیاری زندگی کو بہتر بنانے ہیلتھ اور تعلیم اور سہولیات کو اشو بنا رہے ہیں رمیش بدھوڑی اپنی ریلیوں میں میٹرو فیس فور کو منظور کرانے اور گھر گھر تک پانی پہچانے سیور سہولت ،اسکول کالج کھولنے ،اسپتال بنانے کا تذکرہ بھی اپنی تقریروں میں کر رہے ہیں ۔چھتر پور کے بڑے بڑے فارم ہاﺅس کے ساتھ پاش علاقے وسنت کنج میں زیادہ تر لوگوں کا ایک ہی جھنڈا ہے کہ دہلی میں کجریوال سرکار مرکز میں مودی سرکار علاقہ کی پچاس فیصدی آبادی ناجائز کالیونیوں میں دس فیصدی نو آباد کالیونیوں میں پانچ فیصدی پکی کالونیوں میں 35فیصدی دیہی علاقوں میں رہتی ہے ،اس حلقہ میں کچھ کالونیوں میں جاٹوں اور گوجروں کی بڑی آبادی ہے اس کے علاوہ غیر منظور کالونیوں یوپی بہار کے لوگوں کی بڑی تعداد میں رہتے ہیں ۔یہ تینوں علاقہ چناﺅ میں فیصلہ کن پوزیشن میں ہیں ان کا وو ٹ بھی ایک تہائی ہے جہاں ذات برادری کا ووٹنگ پیٹرن میں خاص اثر دکھائی دیتا ہے ۔

(انل نریندر)

اس تکونی لڑائی میں کون بازی مارئے گایہ کہنا مشکل ہے ؟

جھلسنے والی گرمی کے درمیان مشرقی دہلی پارلیمانی حلقہ کا سیاسی پارہ انتہا پر پہنچ گیا ہے ۔تنیوں بڑی سیاسی پارٹیوں بھاجپا کانگریس عام آدمی پارٹی نے سیاسی بساط بچھا دی ہے تنیوں کے امیدوار اب آمنے سامنے ہیں اس تکونی لڑائی میں اگر اروندر سنگھ لولی جیتے تب یہ چالیس سال بعد دہلی سے کسی سکھ کو لوک سبھا میں پہنچانے کی تاریخ رقم کر دے گی ان کا مقابلہ بھاجپا کے گوتم گمبھیر اور عام آدمی پارٹی کی نیتا آتیشی سے ہے تنیوں میں ایک دوسرے پر الزام تراشیوں ،شکوا شکایتوں کی بوچھار میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش میں ہیں دوسری طرف آج انسانیت ترقی اور راشٹرواد کے درمیان اپنے نمائندے کی تلاش کر رہا ہے ۔دلچسپ یہ ہےکہ مشرقی دہلی کے تکونے مقابلے کی سیدھی لڑائی دکھانے کی حکمت عملی پر تنیوں پارٹیاں کام کر رہی ہیں عام آدمی پارٹی کا دعوہ ہے کہ ان کا سیدھا مقابلہ بھاجپا سے ہے تو کانگریس بھی سیدھی لڑائی بھاجپا سے بتا رہی ہے ۔وہیں بھاجپا بھی عام آدمی پارٹی کو تیسرے نمبر کا کھلاڑی بتاتی ہے اور اس کی جگہ بھاجپا اپنا سیدھا سیاسی حریف کانگریس کو مان رہی ہے ۔آتیشی عآپ امیدوار پچھلے چھ مہینے سے اپنی چناﺅ مہم میں لگی ہیں جبکہ بھاجپا نے کرکٹر گوتم گمبھیر ،اور کانگریس نے اروندر سنگھ لولی کو دیر سے امیدوار بنایا تنیوں پارٹیاں ووٹروں کو اپنی طرف جوڑ توڑ سے راغب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں نکڑ سبھایں ،اور روڑ شو اور صبح شام یاتراﺅں کے سہارے تینوں پارٹیوں کی چناﺅ مہم جاری ہے اروندر سنگھ لولی کو سکھ ہونے اور کانگریس کے پردیش صدر رہنے کا فائدہ ملے گا وہیں بھاجپا اپنی اس جیتی ہوئی سیٹ کو کسی قیمت پر ہارنا نہیں چاہے گی آتیشی دونوں کو ہی سخت ٹکر دے رہی ہیں ۔اگر کانگریس اور آپ کے ووٹوں کا بٹوارہ ہوتا ہے تو اس کا فائدہ بی جے پی کو ہوگا گوتم گمبھیر سے زیادہ بھاجپا مودی کے نام پر چناﺅ لڑ رہی ہے ۔

(انل نریندر)

سیاست میں گراوٹ کی انتہا

یہ تو انتہا ہوتی جا رہی ہے کہ چناﺅ مہم کے دوران الزام تراشیاں تو ہوتی رہتی ہیں لیکن معاملہ ماں باپ تک پہنچ جائے یہ کسی مہذب سماج کو شاید قبول نہ ہو وہ بھی جب آپ ایسے شخص کے بارے میں اتنی گھٹیا رائے زنی کریں جو اب اس دنیا میں نہ ہو اور جس نے دیش کی خاطر جان دے دی ہو میں بات کر رہا ہوں پردھان منتری نریندر مودی کے سورگیہ راجیو گاندھی کے بارے میں تبصرے کی ۔لوک سبھا چناﺅ کے پانچویں مرحلے سے ایک دن پہلے مودی نے پرتاپ گڑھ کی چناﺅ ریلی میں بو فورس گھوٹالے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے راجیو گاندھی پر بنا نام لیے نکتہ چینی کی تھی مودی نے کہا تھا آپ کے (راہل گاندھی)پتا جی کو آپ کے درباریوںنے باجے گاجے کے ساتھ مسٹر کلین بنا دیا تھا لیکن دیکھتے دیکھتے کرپٹ نمبر 1کی شکل میں ان کی زندگی کا خاتمہ ہو گیا ۔نامدار یہ غرور آپ کو کھا جائے گا یہ دیش غلطیاں معاف کرتا ہے مگر گھوٹالے بازوں کو کبھی معاف نہیں کرتا مجھے وزیر اعظم کے تبصرے پر مایوسی اور افسوس بھی ہوا مجھے معلوم ہے کہ راجیو گاندھی ،وی پی سنگھ کے ان بے بنیاد الزامات سے کتنے دکھی تھے ،مجھے کئی بار ان کے درد کا احساس بھی ہوا وہ بے قصور تھے اور دیش کی عدالتوں نے انہیں کلین چٹ بھی دے دی تھی ۔اسی بوفورس توپ نے ہمیں کارگل جنگ جتائی آج بھی سرحدوں پر دشمن کے سارے حملوں کا منھ توڑ جواب دے رہی ہے ۔میرے خوش قسمتی تھی کہ راجیو جی مجھے اپنا دوست مانتے تھے اور میری کئی یادیں جنہیں میں یاد کرکے ان کی عزمت یا د کرتا ہوں جب میں نے مودی کا یہ تبصرہ سنا تو مجھ سے رہا نہیں گیا۔میں نے ٹوئٹر اور فیس بک پر ان کے اس گھٹیا تبصرے پر رائے زنی بھی کی۔میں نے لکھا ''یہ بہت افسوس ناک ہے کہ سورگیہ شری راجیو گاندھی جی کے بارے میں نکتہ چینی کی جائے خاص کر ان کے بارے میں جو اس دنیا میں نہیں ہیں یہ تبصرہ ہمارے گرتے معیار کو ظاہر کرتا ہے راجیو جی کی بہت عزت ہے اس سے کانگریس کو فائدہ بھی ہو سکتا ہے میرے فیس بک وال پر یہ لکھنے سے بہت سے دوستوں کے کمنٹ بھی آئے اس میں سے کچھ تو میں یہاں رکھنا چاہتا ہوں تاکہ آپ کو بھی پتہ چلے کہ آج بھی راجیو جی کی بہت عزت ہے ۔ایک قاری نے لکھا کہ بالکل ٹھیک کہا آپ نے میں آپ کی بات سے پوری طرح متفق ہوں سیاست کا اخلاقی معیار اتنا نیچے آگیا ہے یہ بہت تکلیف دہ ہے مثبت نظریہ ہی دیش کو بچا سکتا ہے اونچے سطح پر بیٹھے اخبار نویسوں اور مدیروں کو یہ فیصلہ لینا چاہیے کہ سیاست دانوں کو آپ نے مضبوط کیا ہے آئینہ آپ ہی دکھا سکتے ہیں ۔ایک دوسرے قاری کا تبصرہ تھا بھائی صاحب بہت ہی نچلے سطح پر آگئے ہیں دوسرے نے لکھا اقتدار کے لئے بھوت کال میں جی رہے ہیں ۔موجودہ حال میں سرکار نے پانچ سال میں کیا کیا وہ نہیں بتا رہے اوچھی سیاست کرنے پر آمادہ ہیں ۔ایک نے لکھا ہے بدقسمتی یہ ہے کہ ایسی سیاست سے نفرت ہے صحیح کہا سر آپ کے ووٹ کی چاہ میں کسی کو بھی کچھ کہہ سکتے ہیں ۔کناڈا کے ایک دوست نے لکھا پہلی بار تعریف میں دیکھ رہے ہیں کسی پردھان منتری نے راجیو گاندھی کو ایسے گھٹیا انداز میں نشانہ بنایا ہے آپ کی لڑائی کانگریس پارٹی سے ہے نہ کہ راجیو گاندھی ،راہل اور پرینکا سے ایک دوست نے لکھا کہ سر جب راستے سے گزر رہی کسی کی بھی شو یاترا کو اپنے من سے پرڈام کرتے ہیں من سے ہی اس کی آتما کو شانتی ملتی ہے اونچے عہدے پر بیٹھے لوگ ہی اس طرح کی بے ہودہ زبان کا استعال کریں گے یہ تو ان کی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے ۔ایک نے لکھا ہے کہ سیاست سے اوپر ایک جگہ ہے راجیو گاندھی جی کی رہی سیاست کی بات آج سیاست کا مطلب ....سب جانتے ہیں ۔مودی کا گھٹیا بیان ان کا سب سے بڑا اور گھٹیا جھوٹ ہے اور ان کے چناﺅ میں ہارنے کا یہ مایوسی کا ثبوت ہے جب اٹل بہاری واجپائی پردھان منتری تھے تب عدالت نے اپنے فیصلے میں صاف صاف کہا تھا کہ راجیو گاندھی بالکل بے قصور ہیں ۔اس کے باوجود اگر کوئی اس حد تک گر سکت ہے تو یہ مودی نے دکھا وا ہی کیا ہے ۔مودی ہے تو ممکن ہے ویسے تو اور بہت سے تبصرے آئے ہیں میں نے کچھ کا ذکر کیا ہے مجھے آج بھی وہ منہوس دن یا د ہے جب پیرمبدور سے خبر آئی تھی کہ راجیو جی کا قتل کر دیا گیا ہے اس وقت دہلی کی سڑکوں پر سناٹا چھا گیا تھا لوگوں کو یقین نہیں ہو رہا تھا کہ راجیو جی اب ہمارے بیچ میں نہیں رہے ۔

(انل نریندر)

07 مئی 2019

نئی دہلی سیٹ کا نتیجہ کاروباری اور سرکاری ملازم طے کریں گے

دیش کی سب سے وی وی آئی پی سیٹ نئی دہلی میں اس مرتبہ چناﺅی مقابلہ بھی وی وی آئی پی ہونے والا ہے ۔اس سیٹ پر سال2014کے لوک سبھا چناﺅ میں کانگریس کے امیدوار اجے ماکن کو ہار کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔اور بھاجپا کی نیتا میناکشی لیکھی نے انہیں ہرایا تھا ۔ایک بار پھر دونوں آمنے سامنے ہیں ۔بھاجپا نے میناکشی لیکھی کو کانگریس نے اجے ماکن کو اور عام آدمی پارٹی نے برجیش گوئل کو بسپا نے سشیل وگیرا، کو میدان میں اتارا ہے ۔پہلی بار ہے میدان میں چار بڑے امیدوار اترے ہیں ۔نئی دہلی سیٹ پر سب سے زیادہ مرتبہ بھاجپا ایم پی چنے گئے ہیں ۔پارٹی نے ایک بار پھر میناکشی لیکھی کو چناﺅ میدان میں اتار کر سیاسی داﺅں چلا ہے سال 1952میں پہلی مرتبہ اس سیٹ پر سچیتا کرپلانی ایم پی بنی تھیں وہیں سابق و سورگیہ پی ایم اٹل بہاری واجپائی اس سیٹ سے 1977اور1980میں ایم پی رہ چکے ہیں ۔وہیں 1989اور 1991کے چناﺅ میں لال کرشن اڈوانی ایم پی بنے تھے جبکہ 1992میں ہوئے چناﺅ میں فلم اداکار سورگیہ راجیش کھنہ کامیاب ہوئے تھے ۔نئی دہلی کے زیادہ تر علاقوں میں پانی کا بڑا مسئلہ ہے خاص کر جھگی علاقوں میں پانی کی قلت ہر سال دیکھنے کو ملتی ہے یہاں کے لوگوں کی اہم پریشانی پانی سیور ،اسکول وغیرہ ہیں ۔نئی دہلی سیٹ بھلے ہی جتنی ہاٹ سیٹوں میں نہیں کی جا رہی ہو لیکن اس سیٹ کے نتیجے دور رس پیغام دیں گے اس سیٹ پر ویسے تو پنجابی ووٹروں کی اکثریت ہے لیکن کون جیتے گا یہ کافی حد تک اس حلقہ کے کاروباری اور سرکاری ملازم کے ووٹ طے کریں گے ۔یہی وجہ سے کہ تینوں پارٹیوں کے امیدوار ان سے کافی امید لگائے بیٹھے ہیں ۔بطور ایم پی میناکشی لیکھی نے بے شک کئی کام کئے ہیں لیکن ان سے شکایتیں بھی ہیں کہ وہ لوگوں کا کام نہیں کرتی ہیں ۔پچھلے ڈیڑھ سال کے دوران نئی دہلی کے تاجروں کو سیلنگ کا معاملہ جس طرح جھیلنا پڑا اس سے پیدا ناراضگی کو دور کرنا اور کاروباریوں کا اعتماد پھر سے حاصل کرنا لیکھی کے لئے بڑا چیلنج ہوگا ۔اجے ماکن یہاں سے اپنی قسمت پہلے بھی آزما چکے ہیں اور اسی وجہ سے دو بار ایم پی رہ چکے ہیں سیلنگ کے اشو کو زور شور سے اُٹھا کر کاروباری طبقہ کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش میں کتنے کامیاب ہوتے ہیں وہ یہ تو ووٹوں کی گنتی کے بعد پتہ چلے گا ۔کل ملا کر یہاں مقابلہ کانٹے کا ہے ۔
(انل نریندر)


تاریخی چاندنی چوک سیٹ پر کون کرئے گا تاریخ رقم؟

  1. چاندنی چوک پارلیمانی سیٹ دہلی کی سب سے پرانے پارلیمانی حلقوں میں سے ایک ہے اس سیٹ پر بی جے پی کے مرکزی وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن پھر سے امیدوار ہیں وہ دوسری مرتبہ یہاں سے چناﺅ لڑ رہے ہیں انہوںنے منموہن سرکار میں مرکزی وزیر رہے کپل سبل و عآپ لہر پر سوار ہو کر عآپ نیتا آشوتوش کو ہرایا تھا ۔کانگریس کے سرکردہ امیدوار جے پرکاش اگروال چاندنی چوک میں جانی پہچانی شخصیت ہیں ۔وہ اس سیٹ سے تین مرتبہ ایم پی رہ چکے ہیں ۔انہوںنے نارتھ ایسٹ سیٹ کی بھی نمائندگی کی ہے ۔مہذب اور ملنسار طبیت کے حامی جے پی نے ریاستی کانگریس صدر سمیت کئی ذمہ داریاں نبھائی ہیں ۔جے پی کہتے ہیں کہ وہ چاندنی چوک میں پلے بڑھے ہیں اور ان کے پریوار کو چاندنی چوک میں سبھی جانتے ہیں ۔اور حلقہ کی ہر پریشانی سے وہ بخوبی واقف ہیں وہیں مرکزی وزیر رہے ڈاکٹر ہرش وردھن کی ساکھ بھی صاف ستھری ہے ۔وہ بی جے پی کے ایک سینر لیڈر مانیں تو پچھلے چناﺅ میں ان کو مسلم علاقوں میں کافی ووٹ ملا تھا ۔اور اس بار بھی پارٹی کو امید ہے کہ وہ مودی سرکار کے کام کاج کا چناﺅ میں انہیں فائدہ ملے گا۔عام آدمی پارٹی نے قریب چھ مہینے پہلے ہی پنکج گپتا کو چاندنی چوک سیٹ سے امیدوار اعلان کر دیا تھا ۔اور ابھی تک وہ اس سیٹ کے تحت آنے والے سبھی اسمبلی حلقوں میں لوگوں کے درمیان جا چکے ہیں ۔ان کا مقابلہ دو بڑے لیڈروں سے ہے ۔لیکن ان کے حق میں بات یہ ہے کہ لوک سبھا حلقہ کی سبھی دس اسمبلی سیٹوں پر عآپ کے ہی ممبر اسمبلی ہیں اور وہ ان کے لئے رابطہ قائم کر رہے ہیں ۔اور باقی دو امیدواروں سے اس لحاظ سے زیادہ لوگوں میں عآپ سے وابستگی کا اظہار ہو رہا ہے ۔بلی ماران ،مٹیا محل،چاندنی چوک،صدر بازار ،علاقوں میں مسلم ووٹوں کی اچھی خاصی تعداد ہے وہیں شکر پور،وزیر پور،آدرشنگر ،ماڈل ٹاﺅن،اسمبلی حلقہ میں دلت ووٹروں کی اچھی خاصی تعداد ہے شالیمار باغ اور ماڈل ٹاﺅن میں عالیٰ شان کالونیاں بھی ہیں ۔بی جے پی ،عام آدمی پارٹی ،کانگریس نے ویشہ سماج سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو اتارا ہے تکونے مقابلے میں ووٹوں کا تجزیہ تینوں امیدواروں کے لئے اچھا خاصا اہم رہے گا۔اس سیٹ پر کون تاریخ رقم کرئے گا ؟
  2. (انل نریندر)


نارتھ ایسٹ دلّی ہاٹ سیٹ بنی

قومی راجدھانی دلی کی نارتھ ایسٹ سیٹ صحیح معنوں میں 2019بڑے مقابلے والی ہائی پروفائل سیٹ بن گئی ہے ۔منفی اثر کے باوجود ٹکٹ کٹنے کی قیاص آرائیوں کے درمیان بھاجپا نے اپنے پردیش صدر اور اداکار منوج تیواری کو پندرہ سال سی ایم رہتے ہوئے وکاس کا دوسرا نام کہلائی جانے والی شیلا دکشت کی مقبولیت اور عام آدمی پارٹی سے جڑنے کی کوشش کرنے والی ریاست میں برسراقتدار عآپ کے نیتا دلیپ پانڈے کے دعوں سے اس سیٹ پر لڑائی دلچسپ ہو گئی ہے ۔پورے ہندوستان کی طرح منوج تیواری کو مودی کی ساکھ کا ہی سہارا ہے ۔پانچ سال ایم پی رہے منوج تیواری نے باقی سب کچھ کیا ہے لیکن اپنے پارلیمانی حلقہ پر بالکل توجہ نہیں دی ۔مسلم و پسماندہ لوگوں کی اکثریت والے اس پارلیمانی حلقہ میں تین اہم امیدوار برہمن ہیں ۔یہی نہیں منوج تیواری اور دلیپ پانڈے خود کو پروانچلی اور شیلا دکشت خود کو پوروانچل کی بہو بتاتی ہیں ۔وکاس کے پیمانے پر باقی دہلی سے بہت پیچھے چھوٹی شمال مشرقی دہلی میں تینوں نیتاﺅں سے اپنی سیا سی بساط بچھا دی ہے ۔عآپ امیدوار دلیپ پانڈے گذشتہ قریب چھ مہینے سے اس علاقہ کی گلی گلی کی خاک چھان رہے ہیں وہیں بھاجپا اور کانگریس کے امیدوار اپنی چناﺅ مہم بھی پوری تیزی کے ساتھ چلا رہے ہیں ۔بھاجپا کے لئے پچھلی کارکردگی دہرانے کی چنوتی ہے تو ساتھ ساتھ شیلا دکشت کو ہرانے کی بھی ہے ۔کانگریس نے آپ پارٹی کے ساتھ اس لئے سمجھوتہ نہیں کیا کیونکہ وہ اپنی کھوئی ہوئی زمین واپس پانا چاہتی ہے اور اسے ایسا کرنے کے لئے شیلا دکشت جیسی بہتر امیدوار نہیں ملتی۔دہلی کی ترقی کے لیے جتنا کام شیلا دکشت نے کیا کسی اور نے نہیں کیا اس لئے کانگریس کو پوری امید ہے کہ شیلا دکشت یہ سیٹ جیت لیں گی ۔یہاں تکونہ مقابلہ ہونے کی وجہ سے کانگریس اور عآپ دونوں کے ووٹ آپس میں بٹنے کا خطرہ ہے ۔پچھلے اسمبلی چناﺅ میں مصطفی آباد سے بی جے پی کے جگدیش پردھان اس لئے جیتے تھے کہ مسلم ووٹ کانگریس اور آپ میں بٹ گیا تھا ۔اور بی جے پی کو فائدہ ہوا تھا ۔اسمبلی میں تو کانگریس کو لوگوں نے مسترد کر دیا تھا لیکن ایم سی ڈی چناﺅ میں اس نے کچھ واپسی کی ایسے میں آپ کا ووٹ کانگریس کاٹ سکتی ہے ۔کل ملا کر مقابلہ کانٹے کا ہے لیکن شیلا جی کا پلڑا بھاری ہے ۔
(انل نریندر )

05 مئی 2019

بڑا چناﺅی دنگل: سلطانپور

سلطانپور لوک سبھا حلقہ میں اس مرتبہ مقابلہ بے حد دلچسپ ہے ۔پیلی بھیت ،سے سات مرتبہ ایم رہیں مینکا گاندھی کے مقابلے میں کانگریس امیدوار ڈاکٹر سنجے سنگھ ہیں وہ 2009سے یہاں ایم پی رہے ہیں وہیں گٹھ بندھن سے بسپا امیدوار چندربھان سنگھ ہیں جو یہاں سے کئی بار ممبر اسمبلی رہ چکے ہیں ۔ان میں بھاجپا امیدوار مینکا گاندھی اپنے بیٹے ورون گاندھی کے ذریعہ کرائے گئے ترقیاتی کاموں کو سامنے رکھ کر لوگوں کے درمیان ہیں جبکہ ڈاکٹر سنجے سنگھ اور چندربھان سنگھ مقامی ہونے پر خود اعتمادی سے لبریز ہیں ۔سلطانپور میں کل 18لاکھ 11ہزار 770ووٹر ہیں ان میں 9لاکھ 47ہزار 618مرد اور 8لاکھ 64ہزار 59عورتیں ہیں ۔16ویں لوک سبھا کے چناﺅ میں سلطانپور کے ووٹروں نے ورون گاندھی کو 4لاکھ دس ہزار ووٹ دئے تھے ۔جبکہ کانگریس کے موجودہ امیدوار ڈاکٹر سنجے سنگھ کی بیوی امیتا سنگھ صرف 42ہزار ووٹوں سے تشفی کرنی پڑی تھی ۔ایسے میں کانگریس کے کبھی گڑھ رہے سلطانپور میں کانگریس کی موجودہ صورتحال کا تجزیہ کرنا مشکل نہیں ہے ۔رہی بات 16ویں لوک سبھا کے چناﺅ کی تو اس سیٹ سے سپا بسپا کے امیدواروں کو ملے ووٹوں کے مقابلے بھی کم دلچسپی نہیں ہے ۔بسپا کے شکیل احمد کو 16ویں لوک سبھا چناﺅ میں 2لاکھ 28ہزار بسپا امیدوار پون پانڈے کو 2لاکھ 31ہزار ووٹ ملے تھے اپنے دونوں امیدواروں کو 16ویں لوک سبھا کے چناﺅ میں ملے ووٹوں کو ایک ساتھ کر سپا بسپا اپنی مضبوطی کا دعوہ ٹھوک رہی ہیں ۔ایسے میں دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا یہ دونوں پارٹیاں ووٹروں کو ایک ساتھ لا پانے میں کامیاب ہو پاتی ہیں یا نہیں ؟کبھی مہاراجاﺅں کی سلطنت رہے سلطانپور کو بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے گٹھ کے طور پر قائم کیا ہے ۔لوک سبھا سیٹ سے اب تک آٹھ مرتبہ کانگریس چار مرتبہ بھاجپا اور ایک بار بار جنتا پارٹی اور جنتا دل کے امیدوار کامیاب ہو چکے ہیں ۔کل ملا کر سلطانپور سے سولہویں لوک سبھا کے چناﺅ میں مقابلہ بے حد دلچسپ ہے ۔

(انل نریندر)

چوکا لگانے اور کھاتہ کھولنے کی لڑائی

دھرم کرم و موکش کی نگری سارڑن حلقہ گوتم رشی کی تپو بھومی ہے ۔اور ددھیچ رشی بھی یہاں کے تھے۔دوسری طرف سیاسی طور سے لوک نائک جے پرکاش نارائن کی سمپورن انقلاب کی تاریخ یہاں کے چپے چپے کو آج بھیطاقتوربنائے ہوئے ہے۔لوک سبھا چناﺅ میں یہاں بارہ امیدوار ہیں اہم مقابلہ این ڈی اے امیدواربھاجپا کے قومی ترجمان و ایم پی راجیو پرتاپ روڑی اور مہا گٹھ بندھن کے امیدوار و آر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو کے سمدھی چندرکا رائے کے درمیان نظر آرہا ہے ۔سابق وزیر اعلیٰ دورغہ پرسادرائے کے لڑکے مدرکا رائے اس حلقہ سے ممبر اسمبلی ہیں ۔روڑی یہاں سے چوتھی بار چناﺅ جیتنے کے لئے مشقت کر رہے ہیں ۔دوسری طرف چندرکا کی چنوتی لالو کی سیاسی کرم بھومی سارڑن کو پھر سے حاصل کرنا ہے ۔یہاں ووٹر خاموش ہیں سارڑن میں چھ مئی کو ووٹ پڑنے ہیں ۔جے پی راجیندر اور بھوجپوری کے شیکسپیر بھکاری ٹھاکر جیسی وبھوتیوں کو اپنی گود میں سمائے سارڑن گنگا گنڈک اور سرجیو ندیوں سے گھر ا ہے ۔بابا ہریہر ناتھ ،ابھا مندر ،اور عالمی شہرت یافتہ سونپور پربھومیل ہے۔سے بھی ان کی پہچان ہے چھ وزیر اعلیٰ دینے والے اس پارلیمانی حلقہ میں اس مرتبہ دو دھرندر تال ٹھوک رہے ہیں ۔یہ لوک سبھا حلقہ رگھونشیوں کا گڑھ رہا ہے ۔ان دونوں کے درمیان دہایوں سے اقتدار کا سنگم ہوتا ہے ۔2008کے حد بندی کے بعد سارڑن لوک سبھا حلقہ کے قیام ہوا ۔لالو پرساد یادو یہاں سے چار بار جیتے اور ریکارڑ بنایا ۔روڑی بے شک ابھی جمے ہوئے ہیں لالو اس دنگل سے بھلے ہی باہر ہیں لیکن ان کی شخصیت کی چمک آج بھی سارڑن میں زندہ ہے ۔روڑی کو مرکزی وزیر تک کے سیاسی سفر طے کرنے میں سارڑن کی دھرتی کا نام پرچھائی کی طرح جڑا ہے ۔اگر چندرکا رائے لالو کے دم خم پر چناﺅ لڑ رہے ہیں تو روڑی پی ایم مودی کی مقبولیت پر چناﺅ لڑ رہے ہیں ۔اپوزیشن گٹھ بندھن یہاں بے روزگاری چھپرا شہر میں پانی بھراﺅ ،سنیچائی کے بہتر سسٹم نہ ہونے سے ٹوپو لینڈ ہل کا مسئلہ اُٹھ رہا ہے ۔تو روڑی قومی سلامتی کے علاوہ بہتر سڑک پہلی بار پہنچی اور بجلی سروسٹیشن بنا ۔این ڈی اے کا وکاس کا ایجنڈا کی دھوم ہے۔

(انل نریندر)

اب 12سیٹوں پر شہ-مات کا کھیل شروع

راجستھان کے پہلے مرحلے کی پولنگ ہونے کے بعد اب لڑائی کا مرکز راجدھانی جے پور بن گیا ہے ۔ریاست کی باقی بچی جن سیٹوں کے لئے چھ مئی کو ووٹ ڈالے جائیں گے اس میں راجدھانی جے پور اور اس سے وابسطہ سیٹیں شامل ہیں ۔آخر مرحلے والی 12سیٹوں میں سب سے دلچسپ مقابلہ جے پور دیہات سیٹ پر ہو رہا ہے ۔یہاں لڑائی دیش کا نام روشن کرنے والی دو نامور شخصیتوں کے درمیان ہے ۔بھاجپا کی طرف سے نشانہ باز سلور میڈل ونر راجوردھن سنگھ راٹھور ہیں ۔تو دوسری طرف کانگریس کے ٹکٹ پر گولڈ میڈل ونر کرشنا پنیا لڑ رہی ہیں ۔راٹھور 2014میں سیاست میں آئے تھے ۔اور اسی سیٹ سے ایم پی بن کر مرکز ی وزیر بنے ہیں ۔ادھر کرشنا پنیا 2018کے اسمبلی چناﺅ میں کانگریس کے ٹکٹ پر چورو ضلع کی سبل پور سیٹ سے ممبر اسمبلی ہیں ۔پارٹی نے انہیں جے پور دیہات سے میدان میںراجوردھن سنگھ روٹھور کے خلاف اتارا ہے ۔جے پور دیہات کی چناﺅ ی لڑائی کو ذات پات کے تجزیوں کی وجہ سے کانٹے کی ٹکر مانا جا رہا ہے ۔اس سیٹ پر قریب پانچ لاکھ جاٹ ووٹ ہیں ۔اور کرشنا پنیا بھی جاٹ ہیں۔اس کے علاوہ ایک لاکھ مسلمان ووٹ ہیں ۔جو کانگریس کے حامی مانے جاتے ہیں ۔جے پور دیہات میں آٹھ اسمبلی حلقوں میں سے پانچ پر کانگریس کا قبضہ ہے ۔باقی سیٹیں بھاجپا کے حصے میں ہیں ۔اور ایک سیٹ آزاد کے پاس ہے ۔جنہوںنے کانگریس کو حمایت دے رکھی ہے ۔باقی سیٹیں بی جے پی کے حصے میں ہیں ۔وہی راٹھور کی سب سے بڑی طاقت ہیں وہ راجپوت برادری سے آتے ہیں ۔اگر پنیا کے حق میں جاٹ ووٹروں کا پولرائزیشن ہو سکتا ہے تو راٹھور کے حق میں پوری راجپورت برادری کھڑی ہو سکتی ہے ۔ویسے بی جے پی کی کوشش جس طرح سے دیگر سیٹوں پر نظر آئی وہاں دیگر سیٹوں پر ذات پات کی صف بندی کو کاٹ کرنے کے لئے راشٹرواد کے اشوکو بھناتی دکھائی پڑ رہی ہے ۔اُدھر جے پور شہر سیٹ پر بی جے پی مضبوط ہے ۔کانگریس نے اس سیٹ پر سابق میر لوتی کھیڑ وال کو ٹکٹ دیا ہے ۔ان کا مقابلہ موجودہ ایم پی رام چرن گورا سے ہے جو پچھلے چناﺅ میں راجستھان میں سب سے زیادہ ووٹوں سے جیتے تھے ۔یہ سیٹ بی جے پی کے دبدبے والی مانی جاتی ہے ۔اب راجستھان کی بارہ سیٹیں جیتنے کے لئے شہ مات کا کھیل شروع ہو چکا ہے ۔

(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...