Translater
18 مئی 2023
کانگریس کیوں جیتی،بھاجپا کیسے ہاری!
اپوزیشن کے کئی لیڈروں نے کرناٹک اسمبلی چناو¿ میں جیت کے بعد کانگریس کی تعریف کی اور کہا کہ یہ نتیجہ دکھاتا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی میجک نہیں ہےںمودی کو بھی ہرایا جا سکتاہے ۔اتراکھنڈ کے بعد کرناٹک میں بی جے پی ہار گئی ۔ مودی شاہ ہار گئے اور کانگریس جیت گئی ۔کانگریس کیوں جیتی اور بھاجپا کیوں ہاری اس پر طرح طرح کے تجزیہ ہو رہے ہیں۔ میرے مطابق کانگریس کی جیت کی ایک بڑی وجہ راہل گاندھی اور ان کی بھارت جوڑا یاترا کا جذباتی اثر رہا ۔پارٹی کے مطابق بھارت جوڑو یاترا 20اسمبلی حلقوں سے گزری تھی جن میں سے 15سیٹوں پر کانگریس نے جیت درج کی یہ یاترا سب سے زیادہ 21دن کرناٹک میں رہی اس کے ساتھ راہل گاندھی کی لوک سبھا ممبرشپ منسوخ ہونے کا بھی جنتا پر اثر ہوا۔ اس سے بھی کانگریس کو ہمدردی ملی ۔پھر وقت سے پہلے چناوی حکمت عملی تیار کرنا اور اس پر عمل شروع کرنا کانگریس پارٹی کی حکمت عملی کامیاب رہی۔ پارٹی نے زمینی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے نئی چناوی حکمت عملی بنائی ۔بی جے پی نریٹیو کا مقابلہ کیا اور حکمراں پارٹی کے خلا ف اپنے اہم چناوی اشو کی شکل میں کرپشن کو ترجیح دی۔ اس کی تیاری پارٹی نے پہلے سے ہی کرلی تھی ۔ مہینوں پہلے باسو راو¿ بومئی نے بھی ہار کو تسلیم کرتے ہوئے کہا تھا کہ کانگریس نے چناوی تیار ی ہم سے پہلے شروع کردی تھی۔ اس حکمت عملی پہل کا فائدہ کانگریس کو ملا ۔ کانگریس پارٹی بومئی سرکار کے خلاف جنتا کی ناراضگی کو اچھی طرح سے اپنے فائدے کیلئے استعمال کیااور اشتہارات سب سے بڑے اخبار وجے کرناٹک ہیڈ لائن ہے کہ جنتا کی ناراضگی نے بی جے پی کو اقتدار سے باہر کردیا ۔ وزیر اعظم نے کرناٹک میں قریب ایک درجن ریلیاں کیں ۔ 26کلو میٹر لمبا روڈ شوز کیا لیکن کہیں بھی لوکل اشوز پر ایک لفظ بھی نہیں بولا ۔ کرناٹک میں بی جے پی سرکار کے کارناموں کے بجائے مرکزی حکومت کے کارنامے زیادہ گنائے۔ دوسری طرف کانگریس پارٹی نے نہ صرف مقامی لیڈوں کو اہمیت دی بلکہ لوکل اشوز کو چناوی اشو بنا یا ۔ ابھی نندی دودھ بنام امول دودھ کے معاملے کو ہی لے لیا جائے کہ جیسی ہی امول نے اعلان کیا کہ وہ ریاست میں آن لائن سیل کرنے کیلئے میدان میں آرہے ہیں اسے کانگریس لوکل بنام باہرے گجرات کے معاملے کو پیش کیا اور وہ کامیاب رہی۔ اب بات کرتے ہیں کہ بی جے پی کرناٹک میں کیوں ہاری؟ سب سے پہلے بتادیں کہ کرناٹک اسمبلی چناو¿ میں چناو¿ کمیشن کے مطابق بی جے پی کے 30امید واروں کی ضمانت ضبط ہو گئی ۔ بی جے پی وہ چھ غلطیاں جس کی وجہ سے انہیں ہار کا منہ دیکھنا پڑا۔ اقتدار مخالف لہر کی کاٹ نہیں کرپائی ،کرناٹک میں بھاجپا کی ہار کی بڑی وجہ اقتدار مخالف لہر تھی جس کی کاٹ کیلئے مناسب قدم اٹھانے میں ناکام رہی ہے ۔ ایک طے میعاد تک اقتدار میں رہنے کے بعد ووٹر اکثر حکمراں پارٹی کی پر فارمنس سے غیر مطئن ہو جاتے ہیں اور وہ تبدیلی چاہتے ہیں۔ بی جے پی2019سے قتدار میں تھی ،کو بے روزگاری اور آسمان چھوتی مہنگائی جیسے مسئلوں کو سامنا کرنا چاہئے تھا۔ کانگریس نے انہیں مسئلوں کو اٹھایا لیکن ماہرین کے مطابق بھاجپا اس پر کوئی ٹھوس حکمت عملی تیار کرنے میں ناکام رہی وزیر اعظم ،وزیر داخلہ و بی جے پی قومی صدر ،وزراءوغیر ہ کسی نے بھی ان برننگ اشوز پر ایک لفظ بھی نہیں بولا ۔ اسٹار کمپینر نریندر مودی اور پارٹی کے دوسرے مرکزی لیڈروںپر زیادہ انحصار اور مقامی لیڈروں کو چناو¿ میں مہم میں زیادہ اہمیت نہیں دی گئی ۔اور مرکزی لیڈروںپر ضرورت سے زیادہ انحصار تھا۔ برانڈ مودی کا ضرورت سے زیادہ استعمال بھی کام نہیں آیا۔ بی جے پی کا خیال تھاکہ پی ایم مودی کی ریلیوں اور روڈ شوز سے کم سے کم 20سیٹوں سے زیادہ بھاجپا کی جھولی میں آجائیںگی ، ایسا نہیں ہوا۔ چناو¿ کمپن کے آخری مرحلے میں پی ایم مودی نے چناو¿ کمپین کو تیزی دینے کی کوشش کی اور اپنے ڈیڑھ ہفتے کے قیام کے دوران وہ اوسطاً ہر دن تین سے چار ریلیاں اور روڈ شوز کرتے تھے ۔ خیر لوگوں نے پولرائزیشن کی سیاست کو سرے سے مسترد کردیا ۔ ہر طرح سے کوشش ہوئی کہ لڑائی فرقہ ورانہ ہو جائے ۔یہاںتک کہ بجرنگ بلی کو بھی کمپن کے دوران لے آئے ۔ صاف ہے کہ بی جے پی کی نفرت کی ہار ہوئی ہے ۔ مودی نے جتنا ہوسکے ووٹروں کا پولرائزیشن کرتے رہے ۔امت شاہ اور ہیمنٹ وسوا سرما نے کمپین کے آخری دنوںمیں اقلیتوں کے خلاف اور بھی زیادہ بری باتیں کہیں لیکن وہ سب ناکام رہی ۔ ساو¿تھ پنتھی نظریہ اور سیاسی ماہرین نے چناوی مہم کے وقت کرناٹک کا دورہ کیا تھا وہ کہتے تھے کہ پارٹی میں جو بغاوت ہوئی اور جس طرح سے رسہ کشی ہوئی خاص طور سے سینٹرل اور لنگایت والا علاقہ اور مہاراشٹر سے لگے کرناٹک کے علاقوںنے ان نیتاو¿ ں کی منفی چناوی کمپین نے پارٹی کو بھاری نقصان پہنچا یا ۔ ساتھ ہی جگدیش شٹار کی مانگوں کو نظر انداز کیا گیا ۔ اس کا خمیازہ پارٹی کو سینٹرل اور نارتھ کرناٹک میں بھگتنا پڑا ۔ پارٹی میں آپسی رسہ کشی اور گروپ بندے نے بھی پارٹی کو کمزور کیا ۔ اورپارٹی کے قد آور لیڈ یدی یورپا کو نظر انداز کرنے کی بھاری غلطی کی ۔ بھاجپا نے اقتدار میں کئی وعدے کئے تھے لیکن انہیں پورا کرنے میں ناکام رہے اس سے ووٹروں کے بھروسے اور حمایت پر اثر پڑا ۔ کانگریس کے سی ایم مہم کو صحیح طریقے سے کاو¿نٹر نہیں کیا گیا۔ کرناٹک ریاست ٹھیکیدار فیڈریشن کی شکایت تھی کہ ہر ایک ٹنڈر کو پاس کرانے کیلئے 40فیصد کمیشن کی مانگ کی جاتی ہے ۔ جسے کانگریس پارٹی نے اپنے چناوی فائدے کیلئے بھر پور استعمال کیا اور بومئی سرکار کو مسٹر 40فیصد کمیشن سرکار کا نام دے دیا گیا۔ حالاںکہ اس کرپشن کے الزام کوثابت نہیں کیا جا سکا ہے ۔ لیکن کانگریس نے زبردست ہوا بنائی جس سے اسے چناو¿ میں کامیابی ملی ۔
(انل نریندر)
16 مئی 2023
آرین نہ پھنسانے کیلئے 25کروڑ روپے مانگے تھے!
آپ کو یاد ہوگا2اکتوبر 2021کو سرخیوں میں آئے کروز ڈرگس کیس میں بالی ووڈ ایکٹر شاہ رخ خاں کے بیٹے آرین خان کو نشیلی چیز رکھنے کے معاملے میں ای ڈی کے افسر ثمیر وانکھیڑے نے گرفتار کیا تھا۔ معاملے میں بے قصور آرین خاں نے چار ہفتے فضول جیل میں بتائے تھے۔ بعد میں پتا لگا کہ یہ سارا معاملہ جھوٹا تھا اور آرین کو چھوڑ دیا گیا ۔اس کے بعد عدالت نے معاملے میں ان کو کلین چیٹ دے دی تھی۔ اور وقت بہت ہنگامہ مچاتھا اور ثمیر وانکھیڑے پر طرح طرح کے الزام لگے تھے۔ ان کا ممبئی نارکوٹکس کنٹرول بیورسے تبادلہ کردیا گیا تھا۔ اب خبر آئی ہے کہ سی بی آئی نے اینے سی پی کے سابق افسرثمیر وانکھڑے اور دیگر چار کے خلاف ایک کروز بیڑے سے ممنوعہ نشیلی سامان ضبط کئے جانے کے معاملے میں بالی ووڈ اکار شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان کو نہ پھنسانے کیلئے 25کورڑ روپے کی رشوت مانگے کے الزام میں ایف آئی آر درج کی ہے ۔ حکام نے بتایا کہ اس کے بعد ان کے گھروں کی تلاشی لی گی۔ انہوںنے کہا کہ آرین خان کو 2اکتور 2021کو اس معاملے میں رفتار کیا گیا تھا۔ اور این سی بی نے چارج شیٹ بھی دائر کردی تھی ۔اور آرین خان کو عدالت نے کلیت چیٹ دے دی تھی ۔ این سی بی کے ذریعے بنائی ایک اسپیشل تفیشی ٹیم ایس آئی ٹی نے دعویٰ کیا تھا کہ وانکھڑے کی رہنمائی والی تفتیش میں کوتاہی ہوئی تھی۔ ممبئی ،دہلی رانچی اور کانپور میں 29جگوں پر ٹی نے چھارا ماری کی تھی۔ آئی اے ایس وانکھڑے اور دیگر حکام نے آرین خان کو نشیلی اشیا ءمعاملے میں 25کروڑ روپے کی مبیبہ طور پر مانگ کی تھی۔ اب جانکاری ملی ہے کہ اس افسر اور ان کے ساتھی نے 50لاکھ روپے اڈوانس کے طور پر دئے تھے۔ وانکھڑے اعظم خان کی گرفتاری کے وقت ممبئی کے این سی بی کے چیف تھے۔ سازش رچنے کے معاملے آئی اے افسرا وانکھڑے علاہ اس وقت سپرنٹینڈنٹ این سی بی ونے سنہا اور ممبئی زون کے وس وقت کے خفتیہ افسر آشیش رنجن اور دو دیگر کرمچاری گوساوی ایس لیلے ڈسوزہ کے علاوہ دیگر کے خلاف بھی ایف آرئی آرف رج کی گی ہے ۔ وقت ثمیر وانکھڑوے ممبئی این سی بی برانچ کے زونل ڈائریکٹرتھے۔ بہر حال ایف آئی آر درج ہونے کے بعد وانکھڑے پر قانونی شکنجہ کسنے لگا ہے ۔
(انل نریندر)
دہلی حکومت پھر پہونچی سپریم کورٹ!
سپریم کورٹ میں کیجریوال حکومت اور دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر کے درمیان قانونی اختیارات کو لیکر لڑائی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ افسران کی تقرری اور تبادلے کا حق دہلی حکومت کا ہے اب تک دہلی میں سیکریٹریوں کے تقرری اور تبادلے کا اختیار دہلی کے ایل جی کے پا س تھا عدالت نے کہا کہ اراضی پبلک سسٹم اور دہلی پولیس کا معاملہ مرکزی حکومت کے درائرہ اختیار میں ہے دہلی میں سبھی انتظامی امور سے سپر ویزن کا اختیار لیفٹیننٹ گورنر کے پاس نہیں ہو سکتا ۔ سال2019میں سپریم کورٹ کی ڈویزن بنچ نے اس معاملے پر بٹا ہوا فیصلہ سنا یا تھا۔سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے گزشتہ جمعرات کو دہلی حکومت کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ افسران کا تبادلہ اور تقرری کا اختیار دہلی سرکار کے پاس ہوناچاہئے ۔چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی بنچ نے اس معاملے میں اتفاق رائے سے فیصلہ سنایا بنچ نے کہا کہ دہلی میں سبھی انتظامی امور کا سپرویزن کا اختیار ایل جی کے پاس نہیں ہو سکتا ہے ۔ اور یہ دہلی میں چنی ہوئی سرکار کا اختیا ر ہے اور اس میں ایل جی کا دخل نہیں ہو سکتا ہے ۔ بنچ نے کہا کہ کام کی تقرری اور تبادلے کا اختیار پبلک مشینری چنی ہوئی سرکار کے پاس ہوتا ہے۔ سروس سے جڑے سبھی فیصلے دہلی سرکار نے بھلے کئے ہوں یا نہیں ان کے تبادلے کا اختیار اب دہلی سرکار کے پاس ہوںگے ۔ اس فیصلے پر دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوا ل نے کہا کہ آج برسوں سے ہماری کام کو مرکزی سرکار نے ایک اس قائدے کے ذریعے روکا ہے ۔ تعلیم کا کام کرنا چاہا تو سیکریٹری مقرر کیا ۔ جس نے کام میں رکاوٹ ڈالی ،محلہ کلینک کیلئے ایسا ہیلتھ سیکریٹر چنا جو کام نہ ہونے دے ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے آنے کے بعد ابھی سیاہی سوکھی بھی نہیں تھی کہ ایک نتازعہ کھڑا ہو گیا۔ حکام کے تبادلے اور تعیناتی پر کنٹرول ملنے کے 24گھنٹے کے اندر دہلی کی عام آدمی پارٹی کی سرکار نے سروس محکمہ کے سیکریٹری آشیش موہرے کے تبادلے کو لیکر پھر سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ سرکار نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت مورے کے تبادلے میں اڑنگا لگارہی ہے۔ بڑی عدالت اس معاملے میں اگلے ہفتے سماعت کو تیار ہو گئی ہے ۔ چیف جسٹس آف انڈیا کی بنچ کے سامنے دہلی سرکار کی طرف سے پیش ہوئے دکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے بتایا کہ جمعرات کو بھی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ایسے میں حکم کی تعمیل نہ کرنا عدالت کی توہین ہے ۔ انہوںنے کہا کہ مرکز سروس محکمے کے سیکریٹری کے تبادلے کی تعمیل نہیں کر رہا ہے ۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ لگتا ہے کہ مرکزی سرکار دہلی میں عآپ سرکار آزادانہ طور سے کا م کاج کرنے میں ہر طرح سے رکاوٹ ڈالنے پر تلی ہوئی ہے۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ایٹمی پلانٹ پر چوتھا حملہ کتنا خطرناک ہے !
ایران کے بشر نیوکلیئر سنٹر کے پاس چوتھی بار امریکی -اسرائیلی حملہ ہوا ہے ۔اس حملے میں ایک شخص کی موت ہو گئی ۔سنیچر کو ایران کے بے حد اہم تری...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...