15 اگست 2015

میدان جنگ لوک سبھا میں بھاجپا نے پلٹی بازی

مانسون سیشن ختم ہونے سے ایک دن پہلے بدھ کے روز لوک سبھا میں للت مودی معاملے پر ایسی بحث ہوئی جو پہلے ہم نے کبھی دیکھی نہ سنی۔پارلیمنٹ کے سیشن کو ختم کرچکی کانگریس کی اتحادی اپوزیشن کے دامن کو چھوڑ دینے کے بعد مجبوری میں بڑھی جارحیت کے ساتھ لوک سبھا میں اتری لیکن کرپشن اور چوری کے جن تیروں سے شکنجہ کسنا چاہا۔ وہ سبھی پلٹ کر اسی کو گھیرتے دکھائی دئے۔ اپنی دلائل پر مبنی بحث سے خود سشما نے نہ صرف کانگریس کے ایک ایک سوال کا جواب دیا بلکہ شاید پہلی بار کانگریس لیڈر شپ کو کٹہرے میں کھڑا کردیا۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی، نائب صدر راہل گاندھی اور سابق وزیر مالیات پی چدمبرم سے ان کے کارناموں پر انتہائی تلخ سوال بھی پوچھے۔ سشما پوری رو میں بولیں۔ للت مودی کو بچانے کے عوض میں پیسے لینے کے راہل گاندھی کے الزامات کے جواب میں سشما بولیں 15 ہزار لوگوں کے قاتل اینڈرسن اور کواتروچی کو اور عادل شہریار کو بھگانے کے لئے اپنی مام سے جاکر پوچھو انہیں بھگانے کے کتنے پیسے لئے؟ راہل جی کو چھٹیاں گزارنے کا شوخ ہے ۔ اس بار تنہائی میں چھٹیاں گزارنے جائیں اور اپنے خاندان کی تاریخ کو پڑھیں۔ سبھی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے سشما نے کہا کہ میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔ میرے خاندان نے ایک پائی نہیں لی۔ میرے شوہر پاسپورٹ معاملے میں للت کے وکیل نہیں تھے۔ میری بیٹی نے ایک بھی پیسہ نہیں لیا وہ تو نویں نمبر کی جونیئر وکیل تھی۔ سونین گاندھی بحث کے دوران اپنی بہن پر بھاجپا ممبران کے تبصرے پر اتنی مشتعل ہوئیں کہ وہ ویل میں آکر چھلانے لگیں۔ یہ پہلی بار ہوا جب کانگریس صدر اس طرح سے مشتعل نظر آئیں۔ علیگڑھ سے بھاجپا ایم پی ستیش گوتم نے کہا کہ سونیا گاندھی کی بہن نے بھی للت مودی سے ملاقات کی تھی۔ جودھپور سے پارٹی کے ایم پی گجندر نے کہا کہ للت کے سے سلسلے میں راہل گاندھی کی موسی سونیا کی بہن بھی ہیں۔ اس سے ناراض سونیا کی رہنمائی میں پارٹی کے ممبران اسپیکر کے سامنے ویل میں آگئے اور ہنگامے کے سبب ایوان کی کارروائی ایک گھنٹے تک ملتوی کرنی پڑی۔ اپنا دل کی ایم پی انوپریا پٹیل نے جوشیلے انداز میں سشما جی کا بچاؤ کیا۔ اپوزیشن کی حکمت عملی پر طنز کستے ہوئے انہوں نے کہا ’کھودا پہاڑ نکلی چوہیا‘۔ وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے بھی انو پریا کے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے اسی طرح کے محاورے کے ذریعے اپنی بات رکھی۔ انہوں نے کہا کہ اس میں سے تو چوہا بھی نہیں نکلا۔ للت تنازعے پر لوک سبھا میں لمبی بحث کے بعد سرکار کی طرف سے وزیر خزانہ نے کانگریس کی جم کر کھنچائی کی۔ منگلوار کو پارلیمنٹ کے ہنگامے سے تھوڑی سی بے چین بھاجپا کے مارگ درشک شری لال کرشن اڈوانی بدھوار کو بیحد مایوسی کے عالم میں دکھائی پڑے۔ سشما سوراج کی تقریر کے وقت ان کے برابر والی سیٹ پر بیٹھے اڈوانی سشما کی تقریر کے بعد ان کی پیٹھ تھپتھپاتے دکھائی دئے۔ سشما کی تقریر کے دوران اپنے مخالفین کو بے اثر دیکھ کانگریس ممبران نے تختیاں نکال کر کیمروں کے راستے میں آنے کی ناکام کوشش بھی کی۔ اس سے پار پانے کیلئے لوک سبھا ٹی وی اینگل بدلتا رہا۔ وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کانگریس کی جم کر کھنچائی کرتے ہوئے کہا کہ ان کے کھوکھلے نعروں کی وجہ سے پارلیمنٹ کا مانسون سیشن ہنگامے کی نظر ہوگیا۔ انہوں نے سرکار اور سشما کے خلاف لگائے سارے الزامات کو سرے سے مستردک ردیا۔ انہوں نے کہا کہ یوپی اے سرکار نے للت مودی کے خلاف جے پور اور جودھپور کے ہوائی اڈے پر لائٹ بلو نوٹس دیا جبکہ اس وقت للت مودی لندن میں تھے۔ ایسے میں ریڈ کارنر یا بلو کارنر نوٹس دیا جانا چاہئے تھے۔ انہوں نے کہا یوپی اے کے عہد میں ہندوستان میں للت مودی کا پاسپورٹ منسوخ کردیا گیا لیکن وہ غلط طریقے سے منسوخ کیا گیا۔اسی وجہ سے عدالت نے ان کے پاسپورٹ کو بحال کردیا۔ انہوں نے راہل کی بندروالی مثال پر کہا کہ آپ گاندھی جی کے تین بندروں کی بات کرسکتے ہیں لیکن دیش کو بندر مت بتائیے۔ راہل گاندھی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ بغیر معلومات کے کوئی بات نہیں کہنی چاہئے۔جیٹلی نے کہا اس پورے معاملے میں محترمہ سشما سوراج کو بلکی کا بکرا بنایا گیا۔ کانگریس کا اصلی مقصد اہم قوانین کو روک کر دیش کو آگے بڑھنے سے روکنا ہے۔ اس نے بنا اشو کے پارلیمنٹ کے ایک پورے سیشن کو برباد کردیا۔ کانگریس نے ایک ناکام اور کرپٹ سرکار چلائی اور اب دیش کی ترقی کو روکنا چاہتی ہے۔ یوپی اے نے کرپٹ سرکار چلائی لیکن جب این ڈی اے نے سب کچھ ٹھیک کردیا تو اب کانگریس نے اس کی ساکھ خراب کرنا شروع کردی ہے۔ پارلیمنٹ نہ چل پانے کے معاملے میں سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں اس کیلئے گائڈ لائنس طے کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔ کانگریس کے اس غیر ذمہ دارانہ رویئے کے سبب مانسون سیشن نہ چلنے کی قیمت دیش کی عوام کی گاڑھی کمائی کے260 کروڑ روپے کی شکل میں چکانی پڑی ہے۔
(انل نریندر)

14 اگست 2015

سنتھارا پر روک آستھا اور دھرم میں مداخلت ہے

سنتھارا جین سماج کی ہزاروں سال پرانی پرتھا ہے۔ اس میں موت کے قریب ہونے پر منی برت رکھ لیتے ہیں اور کھانا پینا چھوڑ دیتے ہیں اسی حالت میں آہستہ آہستہ ان کی موت ہوجاتی ہے۔ اسے سلیکھنابھی کہا جاتا ہے۔ راجستھان ہائی کورٹ نے گذشتہ دنوں ایک بڑا فیصلہ سنایا ہے۔ جین دھرم میں موت کو اپنانے کی سینکڑوں سال پرانی سنتھارا پرتھا پر روک لگا دی ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ کسی کا بھی کھانا پینا چھوڑ کر جان تیاگنا خود کشی ہی ہے۔ ایسا کرنے والوں پر دفعہ309 کے تحت خودکشی کا مقدمہ درج ہوگا۔ سنتھارا کے لئے اکسانے والوں کے خلاف دفعہ306 کے تحت کارروائی ہوگی۔ اس کا کوئی ریکارڈ تو نہیں ہے لیکن جین انجمنوں کے مطابق ہر سال 200 سے300 سے زیادہ لوگ سنتھارا کے تحت موت کو گلے لگا تھے۔ اکیلے راجستھان میں ہی یہ اعدادو شمار 100سے زیادہ ہے۔ گجرات اورمدھیہ پردیش میں بھی اس پرتھا کا اثر ہے۔ یہ معاملہ9 سال سے راجستھان ہائی کورٹ میں چل رہا تھا۔ وکیل نکھل سونی نے سال2006 میں سنتھارا پر روک لگانے کیلئے عرضی دائر کی تھی۔ اس میں کہا گیا تھا کہ جس طرح ستی پرتھا خودکشی ہے اسی طرح سنتھارا بھی خودکشی کی ایک قسم ہے۔ راجستھان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سنیل ابوانی اور جسٹس اجیت سنگھ کی بنچ نے اس سال 23 اپریل کو سماعت پوری کرلی تھی۔ فیصلہ اب آیا ہے۔ اسی کے ساتھ ستی پرتھا کے جیسے ہی سنتھارا بھی جرم کے زمرے میں آگئی ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ سنتھارا خودکشی ہے اور اسے دھارمک آستھا کا نام دے دیا گیا ہے۔ جبکہ آستھا کی قانون میں کوئی جگہ نہیں اس لئے اس پرتھا پرروک لگے جبکہ جین سماج کا کہنا ہے کہ یہ خودکشی نہیں ہے۔ جین روایت کے مطابق یہ پرتھا آتما کو پوتر کرنے کیلئے انسان کی آخری تپسیا ہے اسے منیوں کے لئے ضروری کہا گیا ہے۔ راجستھان ہائی کورٹ کے اس فیصلے کی جین سماج میں بھاری مخالفت ہورہی ہے۔ آچاریہ منی لوکیش نے بتایا کہ خودکشی کشیدگی اور لاچاری کی صورت میں کی جاتی ہے جبکہ سنتھارا آستھا کا ایک اشو ہے۔ جین سنت تروجا ساگر کا کہنا ہے کہ دیش بھر میں اس کی مخالفت کی جائے گی وہیں کچھ جین تنظیمیں فیصلے کو دھارمک دائرے میں دخل مان کر سپریم کورٹ میں اس کو چیلنج کرنے کی بات کررہی ہیں۔دگمبر جین منی نے رائے زنی کی: آج سنستھارا کو کل دگمبر مدرا پر بھی روک لگا دے گا۔ ہم عدالت کا سنمان کرتے ہیں لیکن وہاں بیٹھے لوگوں کو فیصلہ لینے سے پہلے سوچنا چاہئے تھا۔ ستی اور سنتھارا کو ایک ماننا غلط ہے۔ سنتھارا کی کارروائی 12 سال تک چلتی ہے۔ونوبابھاوے نے بھی سنتھارا کیا تھا انہوں نے کہا تھا کہ میں زندگی گیتا کی طرح اور موت مہاویر کی طرح مانتا ہوں۔ عدالت نے اسے خودکشی سمجھ کر غلطی ہے۔ یہ آزاد بھارت کا سب سے غلام فیصلہ ہے۔ شویتمبور جین منی رشی وجے مہاراج کا کہنا ہے کہ یہ دھارمک معاملوں میں کورٹ کی مداخلت ہے۔ سنتھارا کی اجازت مہاویر سوامی نے دی تھی۔ مرنے سے کسی کو کون بچا پایا ہے ہم جین منیوں سے متفق ہیں ہماری بھی رائے میں عدالتوں کو دھارمک اور آستھا کے معاملوں میں مداخلت کرنے سے بچنا چاہئے۔ آستھا کو چنوتی نہیں دی جاسکتی۔ امیدہے کہ عزت مآب سپریم کورٹ جین سماج کہ دلائل پر سنجیدگی سے غور کرکے اس میں اصلاح کرے گی۔
(انل نریندر)

سفارتخانے پر حملہ: امریکہ کئی محاذ پر لڑنے پر مجبور

امریکہ اس وقت گھر میں بھی گھرا ہوا ہے اور اب بیرونی ممالک میں بھی اس کے خلاف حملے جاری ہیں۔ ایک سیاہ فام لڑکے کے سفید پولیس ملازم کے ذریعے قتل کی پہلی برسی پر دن بھر چلے امن پروگرام کے بعد شام کو جھگڑا بھڑک گیا۔ مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں کے بعد پولیس نے ایتوار کو فائرننگ کی جس میں ایک شخص شدید طور پر زخمی ہوگیا۔ سبسٹی سینٹ لوئی نے سیاہ فام لڑکے مائیکل براؤن کے بے رحمانہ قتل کے بعد سے ہی امریکہ کے کئی شہروں میں سیاہ فام بنام گوری پولیس ملازمین میں ٹکراؤ چلا آرہا ہے۔ مائیکل براؤن کی برسی پر منعقدہ پروگرام پیس مارچ کے ساتھ شروع ہوا لیکن شام ہوتے ہوتے احتجاجی مظاہرہ کرنے والے درجن لوگوں نے ٹریفک روکنا شروع کردیا اور دوکانوں کے شیشے توڑنے لگے۔ مظاہرین نے پولیس پر پانی کی بوتلیں پھینکی اس کے بعد پولیس نے فائرننگ شروع کردی اس کا کہنا ہے کہ مظاہرین میں سے کسی نے پولیس پر گولیاں چلائیں۔18 سالہ براؤن کی9 اگست2014ء کو موت کے بعد سے ہی پورے امریکہ میں عدم استحکام و بے اعتمادی کا ماحول بنا ہوا ہے۔ ادھر ترکی کے شہر استنبول میں پیر کے روز کئی حملے ہوئے۔ ان حملوں میں6 سکیورٹی جوان کی موت ہوگئی اور 3 دہشت گرد مارے گئے۔ امریکہ کے قونصل خانے پر حملہ ہوا۔ 2 خواتین حملہ آوروں نے سفارتخانے کی عمارت کے پاس اچانک فائرننگ شروع کردی۔ حملے کی ذمہ داری لیفٹ فرنٹ تنظیم رویولوشنری پیپلز لبریشن آرمی فرنٹ نے لی ہے۔ اس سے پہلے ترکی کے سب سے بڑی شہر استنبول میں ایک پولیس تھانے پرفدائی حملے کے بعد دہشت گردوں نے زبردست فائرننگ کی۔ حملے میں1 پولیس ملازم کی موت ہوگئی جبکہ جوابی کارروائی میں دو دہشت گرڈھیڑ ہوگئے۔ وہیں مرنک صوبے میں سڑک کے کنارے بم دھماکے میں چار پولیس افسر مارے گئے۔ ان حملوں کے پیچھے کرد انتہا پسندوں کا ہاتھ بتایا جارہا ہے۔قونصل خانے پر حملہ کرنے والی تنظیم کو امریکہ اور ترکینے دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا ہوا ہے۔ 2013ء میں ان تنظیموں نے ترکی کی راجدھانی انقرہ میں امریکی میں امریکی سفارتخانے پر حملہ کیا تھا۔ دہشت گرد تنظیم آئی ایس سے مقابلہ کرنے کے لئے امریکہ نے ایک اور محاذ کھول دیا ہے۔ اس نے ترکی کے اس ایئرفورس اڈے پر 6 ایف ،10 جیٹ جنگی جہاز اور 300 فوجی جوان بھیجے ہیں۔ موجودہ وقت میں امریکہ دوہرے محاذ پر لڑنے کو مجبور ہے گھر میں میسورٹی کے فرگیوسن صوبے میں جہاں اب ایمرجنسی لگانی پڑی ہے اور باقی دنیا میں آئی ایس کا دبدبہ بڑھت رہا ہے ویسے دیکھا جائے تو یہ صورتحال امریکہ نے خود ہی پیدا کی ہے۔
(انل نریندر)

13 اگست 2015

یادو سنگھ معاملے سے بوکھلاہٹ

نوئیڈا کی تین تین اتھارٹیوں کے انجینئر انچیف کے عہدے سے نوازے گئے اربوں روپے کی کالی کمائی اور گھپلے گھوٹالوں کے ملزم یادو سنگھ کے خلاف سی بی آئی جانچ کو لیکرا ترپردیش سرکار میں گھبراہٹ پائی جاتی ہے اس کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔اس اشو پر اسے سپریم کورٹ میں بھی لعنت ملامت جھیلنی پڑی، جس نے خود اس بے چینی کا سبب پوچھ لیا۔سپریم کورٹ نے جمعہ کو کسی دوسری ایجنسی کو معاملہ سونپنے کے لئے اترپردیش سرکار کی عرضی خارج کرتے ہوئے کہا کہ سی بی آئی جانچ پر تو آپ کو خوش ہونا چاہئے۔ چیف جسٹس ایل ایل دوت کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ ہماری نظر میں اس معاملے کی سی بی آئی جانچ ضروری ہے اس لئے مرکزی ایجنسی کو جانچ کرنے دیجئے۔ اترپردیش سرکار کی پیروی کررہے سینئر وکیل کپل سبل نے بتایا کہ یہ معاملہ ابھی جوڈیشیل کمیشن کے پاس ہے اس لئے ریاستی سرکار سی بی آئی جانچ کے حق میں قطعی نہیں ہے۔ انہوں نے الزامل لگایا کہ سی بی آئی جانچ کے ذریعے ریاستی حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ پڑھنے کے بعد ہمیں لگتا ہے کہ وہ پوری طرح صحیح ہے۔ جس وقت آپ وسیع جانچ سی بی آئی سے کروانے کی مانگ لے کر آئے تھے اس وقت ہم نے وہ معاملہ بھی اسی ایجنسی کو سونپا تھا۔ کپل سبل نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ سی بی آئی ایک طوطی ہے۔ اس پر بنچ نے کہا ہم ایسا نہیں مانتے۔ سی بی آئی پر لوگوں کو یقین ہیں۔ آپ پریشان نہ ہوں ، یادو سنگھ فرار ہے ان کے بیرون ملک بھاگنے کا اندیشہ ہے۔ الزام ہے کہ یادو نے بیرونی ممالک میں دولت جمع کررکھی ہے اور اب اس کی لوکیشن بھی نہیں مل رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں سی بی آئی یادو سنگھ کے خلاف ریڈ کارنر نوٹس جاری کرسکتی ہے۔ یادو سنگھ کے معطل ہونے کے کچھ دن بعد سے ہی نہ تو پولیس کو اس کا ٹھیکانے کا پتہ ہے اور نہ ہی اس کے خاص ملنے جلنے والوں کو اس کا پتہ ہے۔ سی بی آئی کے ذریعے یادو کنبے کے خلاف دو مقدمے درج کر 16 ٹھیکانوں پر چھاپہ ماری کے دوران بھی کسی ٹیم کو کچھ نہیں ملا۔یادو سنگھ کی منقولہ جائیدادوں کی بحث بھلے ہی چل رہی ہو لیکن 10 اپریل 2015 کو یادو نے ہائی کورٹ میں جو حلف نامہ داخل کیا ہے اس میں اس کے خاص 1982 ء نوئیڈا اتھارٹی سے ملا 115 مربعہ میٹر کا ایک گھرہے۔ یادو کا دعوی ہے وہ کسی کرپشن میں شامل نہیں ہیں اور اس کی بیوی کے نام کسم گارمینٹ نام سے ایک دوکان ہے۔ اربوں روپے کا گھوٹالہ اجاگر ہونے کے بعد سے غائب یادو سنگھ کبھی مایاوتی کی آنکھ کے تارے رہے ہیں۔ شروعات میں تو سپا سرکار کی آنکھ کی کرکری بنے کے سی تیاگی کی شکایت پر یادو سنگھ معطل کیا گیا تھا۔ پھر راتوں رات سرگرم ہوئی انجینئر لابی نے پتہ نہیں کیسے اسے سپا کی گود میں بٹھانے میں کامیابی پائی؟ اس کے بعد یادو سنگھ کو مسٹر 30 پرسنٹ کی اپادھی سے نوازا گیا۔ یہ معمولی سطح کے انجینئر کا ملازم ایک ساتھ تین اتھارٹیوں کا انجینئر انچیف بنا دیا گیا پھر ٹھیکہ پتی میں کمیشن ، حصے داری کے علاوہ اس نے مبینہ طور پر فرضی کمپنیوں کے نام پر زمین کا جو دھندہ شروع کیا وہ اربوں تک جا پہنچا۔ اب جب عدالتوں کی سختی سے وہ گھر گیا ہے تو پردیش سرکار میں بے چینی ہورہی ہے۔ خود سپا چیف نے لکھنؤ میں بغیر نام لئے کہا کہ کانگریس کی طرح بھاجپا بھی سی بی آئی کا بیجا استعمال کررہی ہے اور وہ مخالفین کو پریشان کرنے میں لگی ہے اور انتہا توتب ہوگئی جب ریاستی سرکار سی بی آئی جانچ کی مخالفت کرنے سپریم کورٹ پہنچ گئی جہاں اس کی عرضی تو خارج ہوئی ہی ہے ساتھ ساتھ ڈانٹ اور پڑ گئی ۔ اگر صحیح معنی میں یادو سنگھ کی جانچ ہوئی تو یقینی طور سے کئی بڑی ہستیاں پھنسیں گی۔ اس سطح کا گھوٹالہ بغیر سیاسی سرپرستی کے ممکن نہیں۔
(انل نریندر)

یعقوب کی پھانسی کور کرنے پر 3 چینلوں کو نوٹس

ممبئی دھماکوں کے قصوروار یعقوب میمن کو پھانسی سے وابستہ خبروں کے مقابلے میں پیچھے چھوڑنے کی دوڑ میں کئی ٹی وی چینلوں نے اپنی حدود پر توجہ نہیں دی۔ کم سے کم یہ سوچنا ہے کہ مرکزی وزارت اطلاعات و نشریات وزارت 2 چینلوں نے تو انڈر ورلڈ ڈان چھوٹا شکیل کا فون پر انٹرویو لیا جبکہ ایک چینل نے میمن کے وکیل کے بیجا تبصرے ٹیلی کاسٹ کئے۔ اس سے ناخوش وزارت اطلاعات و نشریات نے 3 بڑے چینلوں کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا ہے۔ نوٹس میں پوچھا گیا ہے کیوں نہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے؟ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ایسا پایا گیا ہے کہ ان نیوز چینلوں کی طرف سے کئے گئے کوریج میں ان سے یہ صاف کرنے کو کہا گیا ہے کہ ان کے کوریج میں پروگرام کوڈ کی دفعات کی خلاف ورزی کیسے کی۔ پروگرام کوڈ کی دفعات بتاتی ہیں کہ کسی فحاشی، ہت عزت، جان بوجھ کر غلط اور من گھڑت آدھی سچائی کو دکھانے والا کوئی پروگرام ٹیلی کاسٹ نہیں کیا جائے گا۔ کورٹ کی دیگر دفعات کے مطابق کوئی ایسا پروگرام ٹیلی کاسٹ نہیں کیا جانا چاہئے جس سے تشدد کو بڑھاوا ملنے کا اندیشہ ہو۔ یا اس میں کچھ بھی ہو جس سے قانون و سسٹم بگڑنے یا قوم مخالف جذبات کو تقویت ملنے کا خطرہ ہو۔ ایک دوسری دفعہ کے مطابق چینل ایسا نہیں دکھا سکتے جسے صدر و عدلیہ کے وقار پر کسی طرح کی ٹھیس لگنا محسوس ہوتا ہو۔ وزارت اطلاعات و نشریات کی الیکٹرانک میڈیا یونٹ مانیٹرنگ سینٹر(ای ایم ایم سی) قریب600 چینلوں کے مواد پر نگرانی کرتا ہے۔ جن چینلوں کو نوٹس بھیجا گیا ہے ان میں دو ایسے ہیں جنہوں نے مبینہ طور پر انڈرورلڈ ڈان چھوٹا شکیل کا فون پر انٹرویو ٹیلی کاسٹ کیا تھا۔ ایک دوسرے چینل نے مبینہ طور پر میمن کے وکیل کے بیان کو ٹیلی کاسٹ کیا تھا۔ بھارت میں نیوز چینلوں کے مدیروں کی بڑی تنظیم نے تینوں نیوز چینلوں کو جاری نوٹس پر تعجب ظاہر کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا ہے کہ بی ای اے نے اس اشو کو سرکار کے سامنے اٹھانے کا فیصلہ لیا ہے بی ای اے نے محض ٹیلیویژن نیٹ ورک (ترمیم قواعد2015) پر بھی تشویش جتائی ہے جس میں دہشت گردی انسداد مہم میں میڈیا کوریج کو آپریشن ختم ہونے تک صرف سرکار کی طرف سے دی گئی اطلاعات ٹیلی کاسٹ کرنے تک محدود کردیا گیا ہے۔ بی ای اے نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات سیدھے ٹیلی کاسٹ میں یقین نہیں رکھتا لیکن اس کا یہ خیال ہے کہ میڈیا کوریج کو سرکار کی طرف سے اطلاعات دئے جانے تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔6 صحافی انجمنوں نے اس کی مذمت کی ہے اور اسے میڈیا کو دھمکانے کی کوشش بتایا ہے۔
(انل نریندر)

12 اگست 2015

عدلیہ کی حفاظت ہر حال میں کی جائے

یہ خبرانتہائی تشویش ناک ہے کہ یعقوب میمن کی پھانسی کی توثیق کرنے والے سپریم کورٹ کے جج جسٹس دیپک مشرا کو دھمکی بھرا خط ملا ہے۔ خط لال روشنائی سے لکھا گیا ہے اور خط میں کسی بھی تنظیم کا نام تو نہیں لکھا ہوا لیکن ہم اسے ہلکے سے نہیں لے سکتے۔ اگر یہ خط کسی نے شرارت میں نہیں لکھا تو جسٹس مشرا کی سکیورٹی بڑھانے کے علاوہ اس معاملے کی سنجیدگی سے چھان بین کی ضرورت ہے۔ بھارت میں شاید ہی پہلے کبھی یہ سننے میں آیا ہوکہ سپریم کورٹ کے کسی جسٹس کواس طرح کی دھمکی ملی ہو۔ خط میں بہت ہی متوازن زبان کا استعمال کرنے کیساتھ گالی گلوچ یا نازیبہ زبان کا استعمال نہیں کیا گیا۔ دہلی پولیس کے سینئر اسپیشل پولیس کمشنر (لا اینڈ آرڈر) دیپک مشرا نے بتایا کہ جسٹس کو بلٹ پروف کار مہیا کرادی گئی ہے۔ بنچ کے دو دیگر ججوں کی بھی سکیورٹی بڑھادی گئی ہے۔ نئی دہلی ضلع کے ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ خط بہت ہی ٹوٹی پھوٹی ہندی میں لکھا گیا ہے۔ خط کو دیکھنے سے لگ رہا ہے کہ لکھنے والا بہت کم پڑھا لکھا ہے یا جان بوجھ کر سیدھے ہاتھ سے لکھنے والے شخص نے الٹے ہاتھ سے لکھا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ کتنی بھی سکیورٹی لے لیں تمہیں مار دیں گے۔ ہمارے آدمی کئی دن پہلے دہلی آچکے ہیں، جو حال ہی میں ان کے بھائی جان یعقوب میمن کا ہوا ہے اس سے زیادہ برا حال تمہارا کریں گے۔ خط کے آخر میں تمہارا دشمن لکھا ہوا ہے۔ خط میں جسٹس دیپک مشرا کا نام لکھا ہوا ہے۔ پنجاب میں جب دہشت گردی کا زور تھا تب مقامی ججوں کو دہشت گردوں سے دھمکیاں ملنے کی کچھ خبریں آئیں تھیں تب خالصتان حمایتی آتنکی عدلیہ ، انتظامیہ اور پریس کے لوگوں کو اکثر دھمکاتے رہتے تھے۔ اسے سنجیدگی سے لینا اس لئے بھی ضروری ہے کہ ایسا سلسلہ پھر سے نہ شروع ہوجائے۔ اس خط کو سنجیدگی سے اس لئے بھی لیا جانا چاہئے کیونکہ یہ دھمکی ان لوگوں کی طرف سے دی گئی ہے جو 22 سال پہلے ممبئی میں قتل عام مچا چکے ہیں اور آج بھی ہندوستان کے خلاف جنگ چھیڑنے جیسی کارروائی میں آگے ہیں۔ وہ ایسا اس لئے بھی کرپا رہے ہیں کیونکہ ان کی پیٹ پر پاک فوج آئی ایس آئی کا ہاتھ ہے۔ داؤد ابراہیم اور ٹائیگر میمن آج بھی پاکستان کی پناہ میں ہے جبکہ حال ہی میں پاکستان نے بھارت مخالفت دہشت گردانہ کارروائیاں خاصی تیز کردی ہیں۔ چیف جسٹس ایم ایل دوت نے کہا ہے کہ جج ایسی دھمکیوں سے بے خوف رہتے ہوئے اپنا کام کرتے رہے ہیں۔ بیشک ماضی گذشتہ کی طرح مستقبل میں بھی دہشت گردوں اور خونخوار جرائم پیشہ کے خلاف فیصلہ دیتے وقت ہندوستانی عدلیہ مکمل انصاف کرکے اونچے حوصلے کا ثبوت دیتی رہے گی مگر بھارت اپنی عدلیہ پر ناپاک ارادوں کی چھایا تک نہیں پڑنے دے گا۔ اس لئے ہماری درخواست ہے کہ نہ صرف جسٹس دیپک مشرا بلکہ پوری سپریم کورٹ اور یعقوب میمن کی سماعت سے وابستہ رہے ہائی کورٹ و ٹاڈا کورٹ کے جج صاحبان و وکیلوں اور گواہوں کو بھی سکیورٹی مہیا کرانی چاہئے۔ وقت یہ دکھانے کا ہے کہ بھارت نہ تو دہشت گردی سے ڈرے گا اور نہ ہی ان بزدلوں کی گیدڑ بھبکیوں سے۔ ہم اپنے دیش و عدلیہ کی حفاظت کرنے میں پوری طرح اہل ہیں اور یہ دہشت گرد اپنے منصوبوں میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ ساتھ ساتھ یہ بھی کہنا چاہتے ہیں کہ غیر جانبدارانہ انصاف بھی تبھی ممکن ہوسکے گا جب اس سے وابستہ سبھی فریق اپنے آپ کو محفوظ محسوس کریں گے۔
(انل نریندر)

پنجاب کو پھر دہشت میں جھونکنے کیلئے آئی ایس آئی کا پلان

دہشت گردی کو منہ توڑ جواب دینے میں پنجاب ہمیشہ آگے رہا ہے۔ گورداس پور کے دینا نگر میں پچھلے دنوں ہوئے آتنکی حملے کا پنجاب پولیس نے منہ توڑ جواب دیا تھا۔ اس کارروائی میں پنجاب پولیس کا ایک ایسا جانباز بھی تھا جس نے کبھی ہاکی کی دنیامیں اپنی ٹریگ فلکر سے تہلکہ مچادیا تھا۔ دہشت گردوں سے لوہا لینے میں بھی ہندوستانی ہاکی ٹیم کے سابق اسٹار اور پینلٹی کارنر گول کرنے والے ماہر پنجاب پولیس کے ڈی سی پی جگراج سنگھ پیچھے نہیں رہے۔ ان کی اے ۔ کے47 سے نکلی گولیوں نے ہی پہلے آتنکی کو مار گرایا تھا۔ میڈیا سے بات چیت میں بتایا کہ ایس ایس پی کے ساتھ میں صبح8 بجے دینا نگر پہنچ گیا تھا۔ ہم نے دینا نگر تھانے کے سامنے مورچہ سنبھالا ہوا تھا اور 11.15 بجے مجھے کھڑکی کے پاس ایک دہشت گرد دکھائی دیا۔ میں نے قریب 20 راؤنڈ فائر کئے اور کچھ ہی دیر میں دہشت گرد کی باڈی کھڑکی پر گری نظر آئی۔ میں نے اپنے ایس ایس پی کو ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک تو گیا۔ ہم جگراج اور تمام پنجاب پولیس کو ان کی بہادری کے لئے سلام کرتے ہیں۔ گورداس پور حملہ دہشت گردی کا محض فروغ نہیں ہے یہ بھارت کو پریشان کرنے والا گھیراؤ ہے۔ پاکستان ایک بار پھر پنجاب میں دہشت گردی کو واپس لانا چاہتا ہے۔ تشویش کا موضوع یہ بھی ہے کہ لنج پنج بادل حکومت سے ہی پاکستان کی ہمت بڑھی۔ یہ جگ ظاہر ہے کہ دہشت گردوں کی سیاست مذہبی تنظیموں کے تئیں ہمدردی کے ساتھ چلتی ہے۔ وہ مانتی ہے کہ خالصتان کی مانگ کرنے والوں کے ساتھ اندرا کے عہد کے وقت سے ہی زیادتیاں کی گئی ہیں لہٰذا اکالی سرکارکا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے راج میں اس کے ساتھ نرمی برتے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ سینکڑوں بے گناہوں کی جان لینے والے دہشت گردوں ، انتہا پسندوں کو شہید کا درجہ دینا، سالانہ انہیں اعزاض سے نوازنا یا ان کے نام پر یادگار بنانے کے مطالبے پر سودے بازی سے پیش آنا۔ اکالی سرکار کو ان سبھی علاقوں میں مستعدی سے کام کرنا چاہئے جس سے پنجاب کوگھیرنے کیلئے بارود مل سکتا ہے۔ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ پنجاب میں پھر سے دہشت گردی لوٹنے کا کوئی موقعہ نہیں ہے، کیونکہ لوگوں نے اسے مسترد کردیا ہے۔ پاکستان کی آئی ایس آئی ، ببر خالصہ جیسی آتنک وادیوں کو اسی لئے پال رکھا ہے کہ وہ پنجاب کو ایک بار پھر کمزور کریں۔ جموں و کشمیر میں تو بھاجپا مخلوط سرکار میں شامل ہے اور پنجاب میں اس کی اتحادی سرکار ہے، مرکزی سرکار کو بھی سختی سے بادل کو کہنا ہوگا کہ وہ آتنکی حمایتیوں سے سختی سے نمٹے تاکہ آئی ایس آئی اپنے منصوبوں میں کامیاب نہ ہو۔
(انل نریندر)

11 اگست 2015

ایک بدنصیب پاکستانی باپ کا درد

اودھم پور حملے میں زندہ پکڑے گئے لشکر طیبہ کے دہشت گرد محمد نوید عثمان عرف قاسم کو اپنی عادت کے مطابق اپنا ماننے سے انکار کرنے والے پاکستان کو فوراً ہی منہ کی کھانی پڑی جب پاکستان کے ہی ایک شخص نے سامنے آکر خود کو قاسم کا والد بتادیا۔پاپ کا گڑھاپھوٹتا ہے تو کرتوت کا لیکھا جوکھا اپنے آپ باہر آجاتا ہے۔ بھلے ہی اسے روکنے کیلئے لاکھ چالبازیاں چلیں جائیں۔ محمد نوید عثمان عرف قاسم کو پاکستان پہچاننے تک سے انکار کررہا تھا کہ خود اس کے باپ نے بیٹے کی شناخت کرلی۔ میڈیا سے بات چیت میں پاکستانی باشندے محمد یعقوب نے کہا کہ وہ حملہ آور قاسم کا بدنصیب باپ ہے۔ خیال رہے کہ 2008 کے ممبئی حملے کے دوران زندہ پکڑے گئے آتنکی اجمل قصاب کو بھی اسی طرح پاکستان نے اپنا شہری ماننے سے انکار کردیا تھا لیکن میڈیا میں اس کے پریوار کے سامنے آنے کے بعد اسے رخ بدلنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔ بدقسمتی دیکھئے کہ باپ اس دیش سے اپنے نالائق بیٹے کو بچانے کی فریاد کررہا ہے جہاں وہ بے قصوروں کے خون کی ہولی کھیلنے پہنچا تھا۔ محمد یعقوب نے کہا کہ لشکرطیبہ کے دہشت گرد چاہتے تھے کہ میرا بیٹا (قاسم) مارا جائے اور زندہ نہ پکڑا جائے ۔ مگر اب ہماری جان کو خطرہ ہے ہمیں مار دیا جائے گا۔ میں بدنصیب باپ ہوں ۔ لشکر اور پاکستانی فوج ہمارے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ وہیں اس سے پہلے پاکستان کے محکمہ خارجہ کے ترجمان سید قا زی خلیل اللہ نے دہشت گرد کو پکڑے جانے پر کہا کہ ہم نے میڈیا میں ایسی رپورٹ دیکھی ہے اور میں اس مسئلے پر کوئی رائے زنی نہیں کروں گا۔ پاکستانی فوج اور دہشت گرد تنظیم ثبوت مٹانے کے نام پر کسی حد تک جاسکتے ہیں۔ ہم نے کارگل میں سینکڑوں کی تعداد میں ہلاک اپنی ہی فوج کے جوانوں کوا پنانے سے انکار کر اس نے ان بدقسمتوں کو جب اپنے دیش کی مٹی نصیب نہیں ہونے دی۔ ممبئی میں زندہ پکڑے گئے اجمل قصاب کو جب وہ پختہ ثبوتوں کی روشنی میں بھی پہچان نہیں سکا تب اس معاملے میں ہی سچ کیوں قبولے گا؟ سرکار کو تو چھوڑیئے پاک میڈیا تک نے رد عمل دینے سے بھی انکار کردیا۔نوید عثمان عرف قاسم کو زندہ پکڑے جانے کو لیکر جب ہندوستانی چینلوں اور اخبارات نے اس بارے میں سوال داغے تو انہوں نے جواب دینے کے بجائے فون ہی رکھ دیا۔ وہیں کچھ صحافیوں نے تو فون سننا بھی مناسب نہیں سمجھا۔ پاکستان کے کچھ ترقی پسند خیال صحافیوں نے خود اس بات کو تسلیم کیا کہ قاسم کا پاکستان سے رشتہ کوئی بھی قبول نہیں کرے گا۔ پاکستان کے مشہور اخبار ’حفیظ ‘ سے پوچھا گیا کہ پاک میڈیا میں زندہ پکڑے گئے دہشت گرد کی خبر کو ترجیح نہیں دی گئی تو انہوں نے صاف الفاظ میں کہا یہاں تو خاموشی چھائی ہوئی ہے اور آپ کسی سے بات کریں گے تو لوگ یہی کہیں گے کہ ضرور اس میں بھارت کی کوئی سازش رہی ہوگی۔ ایک اور بڑے صحافی احتشام الحق نے کہا کہ چھوڑیئے بھی ان باتوں کو لیکن سب سے بڑی بدقسمتی تو یہ ہے کہ جب بھی بات چیت کی پہل ہوتی ہے تو کوئی نہ کوئی مسئلہ آ کھڑا ہوتا ہے۔ رکاوٹ کے لئے ہمیں بھی پاکستان پر تہمت لگانے اور دھمکیا ں دینے سے وقت ضائع کرنے کی جگہ اپنے اقدامات پر مرکوز ہونا چاہئے۔ زندہ گرفتار اس دہشت گرد سے ایک کے بعد ایک سنسنی خیز معلومات مل رہی ہیں جن کا اگر بھارت ٹھیک استعمال کرے تو پاکستان تمام دنیا کے سامنے بے نقاب ہوجائے گا۔ پاک فوج اور ان جہادی تنظیموں کو لگتا ہے کہ اب نشانہ جموں اور پنجاب بن چکا ہے۔ جموں پٹھانکوٹ ہائی وے پر اسی سال بہت سے حملے ہوچکے ہیں۔ جموں و کشمیر کو دیش کی سرزمیں سے جوڑنے والی اس اکلوتی لائف لائن پر فوج کے درجنوں کیمپ اور چھاؤنیاں ہیں۔ اس کے ارد گرد بسنے والی آبادی بنیادی طور پر ہندو ہے۔ امرناتھ یاترا پر نکلنے والے تیرتھ یاتریوں کا جتھا بھی اسی شاہراہ سے گزرتا ہے۔ دہشت گرد کو زندہ پکڑنے کے بعد یہ پتہ چلا کہ وہ ڈیڑھ مہینے سے کشمیر میں رہ رہا تھا۔مطلب صاف ہے کہ ہمارے دیش میں ان جہادیوں کے کئی ہمدرد بیٹھے ہیں جو ہر طرح سے ان کی مدد کرتے ہیں۔ آستین کے ان سانپوں کو پہچاننا اور قابو کرنا ہمارے لئے چنوتی ہے۔ محمد نوید عرف قاسم کے والد پاکستانی باشندے محمد یعقوب کی خطرناک حالت سمجھی جاسکتی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاک فوج اور لشکر طیبہ کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں۔
(انل نریندر)

ان ڈھونگی سنتوں کی وجہ سے سارا دھارمک سماج بدنام ہورہا ہے

دھرم گورو اور سنت اگر شراب کا استعمال کریں کیا سوشل میڈیا پر اپنی فحاشی تصویریں ڈالیں تو ان کی اپنی ساکھ تو خراب ہوتی ہی ہے ساتھ ساتھ اس کے چھینٹے دھرم کی دنیا پر بھی پڑتے ہیں۔ پچھلے کچھ دنوں سے کچھ ایسے سنسنی خیز معاملے سامنے آرہے ہیں جن سے کچھ خودساختہ دھرم آچاریوں ،مہا منڈلیشور و سنتوں کے ایسے ہی معاملے سامنے آئے ہیں۔ پہلے سچن دتا نام کے ایک ایسے شخص کو سنیاس لینے کے اگلے ہی دن مہا منڈلیشور بنا دیا گیا جو بلڈر ہونے کے ساتھ ساتھ ڈسکو بار چلاتے تھے۔ان کے رسوخ کا عالم یہ تھا کہ ان کے ڈسکو بار کے دروازے مقرر وقت کے بعد بھی کھلے رہتے تھے۔ ان کو آناً فاناً میں مہا منڈلیشور بنانے کے پیچھے اقتدار سے ان کی نزدیکی بھی ایک بڑی وجہ رہی ہے۔ لیکن اصلیت سامنے آنے کے بعد انہیں ذلیل ہونا پڑا اور عہدے سے انہیں برخاست کرنا پڑا۔ مہا منڈلیشور عہدے سے برخاست ہونے والے اکیلے سچن دتا ہی نہیں بلکہ ان کے ساتھ ساتھ دھرم گورو رادھے ماں کو بھی عہدے سے ہٹنا پڑا۔ بھکتوں کے بیچ فحاشیت پھیلانے سمیت کئی تنازعوں کو لیکر ان دنوں سرخیوں میں چھائی خاتون سنت رادھے ماں کو مہامنڈلیشور عہدے سے برخاست کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں شری پنچ دشنام جونا اکھاڑے سے بھی نکال دیا گیا ہے۔ یہ اعلان اکھاڑے کے آچاریہ مہا منڈلیشور سوامی اودھیش آنند گری مہاراج نے کیا۔ سنیچر کو سوامی اودھیش آنند نے بتایا کہ اکھاڑے کے سبھی بڑے سنتوں اور عہدیداران میں بات چیت کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا۔ رادھے ماں کے خلاف جہیز اذیت سے لیکر فحاشیت پھیلانے کے معاملے سامنے آئے ہیں۔ ناسک کمبھ میں داخلے پر پابندی لگنے کے بعد وہ غائب ہوگئی ہے لہٰذا اس کے خلاف لک آؤٹ نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ سوامی جی نے یہ بھی صاف کیا کہ رادھے ماں کو اکھاڑے نے کبھی بھی اپنے مہامنڈلیشور کے طور پر اہمیت نہیں دی تھی اور نہ ہی انہیں دھمی اکھاڑے کا ممبر بنایا گیا تھا۔ پنجاب کے علاقے مکیریاں کی باشندہ ایک عام خاتون کا اچانک ممبئی میں ایک گلیمرس شخصیت میں تبدیل ہوجانا اور آستھا کا سہارا لے کر عام آدمی کے جذبات سے کھیلنے کی مثال ہے۔ دھرم گورو اگر شراب کا بار چلائیں یا استعمال کریں وہ سوشل میڈیا پر اپنی فحشیت کی تصویریں ڈالیں تو ان کی اپنی ساکھ تو خراب ہوتی ہی ہے اس کے ساتھ ساتھ ہندو مذہب کی دنیاپر بھی گہرا اثر پڑتا ہے۔ اس سے پورے سناتن دھرم کی بدنامی ہوتی ہے، جنتا میں ان دھرم گوروؤں کے تئیں آستھا گرتی ہے اور مخالفین کو ہندو دھرم گوروؤں کو نشانہ بنانے کا موقعہ مل گیا۔ سچن دتا عرف سچیتا نند گری اور رادھے ماں نے تو اپنے برتاؤ سے دھرم کے وقار کو کم کیا ہی ہے اس میں ان کا بھی قصور کم نہیں جنہوں نے ایسے لوگوں کو آگے بڑھایا۔ مذہب بدقسمتی سے کچھ لوگوں کے لئے ایک دھندہ بن چکا ہے۔ مندروں کے مہنتوں کیلئے بولیاں لگتی ہیں، مندر میں واقع دوکانیں اس لئے بنائی جاتی ہیں کہ مندر کو چلانے والوں کے لئے لاکھوں کی آمدنی کا ذریعہ بن جائے۔ یہ ٹھیک ہے یہ معاملے سامنے آنے کے بعد اکھاڑوں نے بھی اس کے خلاف سختی دکھائی ہے، لیکن صرف اتنا کافی نہیں مستقبل میں مہامنڈلیشور جیسا عہدہ دینے سے پہلے اس کی شخصیت کے بارے میں پوری طرح سے جانچ پڑتال ہونی چاہئے اور یہ بھی یقینی بنایا جانا چاہئے کہ وہ عہدے کا حقدار بھی ہے یا نہیں؟ جو شخص خود ہی لالچ ،چاہ اور پیسے سے آزاد نہیں ہو پایا وہ بھلا سماج کو مذہب کے بارے میں بتانے کا حقدار کیسے ہوسکتا ہے؟ ایسے ڈھونگی سنتوں کے سبب آج تمام ہندو مذہب بے عزتی محسوس کررہا ہے۔
(انل نریندر)

09 اگست 2015

ہردا ریل حادثہ ریلوے کیلئے سبق بھی سوال بھی

منگلوار رات مدھیہ پردیش کے ہردا ریلوے اسیشن کے پاس اٹارسی ۔ کھنڈوا سیکٹر کے پاس دو لمبی دوری کی ریل گاڑیوں کی کئی بوگیاں ایک ساتھ پلٹ گئیں۔ اس سنگین حادثے میں 30 سے زیادہ لوگوں کی موت ہوگئی، کئی گھائل ہیں اور کچھ کے بارے میں اب تک کوئی جانکاری نہیں ہے۔ وزیر ریل سریش پربھو نے قدرتی آفت کو الزام دے کر اپنے محکمے کو بچانے کی کوشش کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ جس انداز سے ندی کے پل پر یہ حادثہ ہوا ہے اس میں اچانک باڑھ آگئی جس سے پٹریوں کی بنیاد ہی بہہ گئی۔ ذرائع کے مطابق ہردا اور آس پاس کے علاقوں میں گزشتہ دو دن سے بھاری بارش ہورہی تھی، ریلوے بھی یہ دیکھ رہا تھا مگر اس نے ٹرینوں کی آمدورفت کو کنٹرول نہیں کیا۔ جہاں ٹرین حادثہ ہوا اس علاقے میں پانی بھرا ہونے کی وجہ سے پٹریوں کے آس پاس کی مٹی کٹ گئی تھی جس سے پٹریاں کمزور ہوگئیں۔ بارش کی وجہ سے پانی کا بہاؤ تیز ہونے پر پلیا کے آس پاس کی مٹی کٹنے سے دونوں ٹرینیں حادثے کا شکار ہوگئیں۔اگر مقامی ریل ملازمین نے دن میں معائنہ کیا ہوتا تو شاید حادثہ نہ ہوتا۔ حادثے کی جانچ 8 منٹ کے واقعات پر ٹکی ہے۔ ابھی تونہیں لیکن جانچ میں اس کا خلاصہ ضرور ہوگا کہ 8 منٹ میں اتنا پانی پل اور پٹری پر کیسے آگیا؟ اگر ایسا ہوا ہوتا تو کیا پانی کے بہاؤ کو سہنے کی صلاحیت پل اور پٹری کے لئے بنائے گئے ارتھ ورک میں نہیں تھی جس سے وہ اسے سہہ سکے۔ اس میں کہیں ارتھ ورک کو لیکر انجینئرنگ طور پر بھول تو نہیں ہوئی ہے؟ ریلوے کا کہنا ہے کہ 8 منٹ پہلے کھرکھیا و میٹنگی اسٹیشن کے درمیان پل پر بنے ریل پٹری سے دو ٹرینیں گزری تھیں۔ ان پر دونوں ٹرینوں کے پائلٹوں اور گارڈوں کو یہ احساس بھی نہیں ہوا کہ پل اور پٹری میں کوئی خامی ہے لیکن8 منٹ میں پٹری پر اتنا پانی آگیا کہ کامائنی ایکسپریس اور جنتا ایکسپریس کے پٹری سے اتر گئے؟ اس حادثے کے لئے صرف بارش اور باڑھ کو الزام دینا اپنی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش ہے۔ ریلوے بورڈ کے چیئرمین کا یہ بیان بھی طفلانہ لگتا ہے کہ حادثے سے کچھ منٹ پہلے ہی دو ٹرنیں اس لائن سے گزری تھیں لہٰذا اس کے لئے ریلوے کو الزام نہیں دیا جاسکتا۔ اگر پٹریاں بہہ گئی تھیں تو اس کا مطلب ہے کہ تیز بارش کی وجہ سے ریل ٹریک کمزور پڑ گیا تھا اور ظاہر ہے یہ ایک دن میں نہیں ہوا ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ پٹریوں کے رکھ رکھاؤ کی ذمہ داری کس کی ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ دیش کے 65 ہزار کلو میٹر لمبے ریلوے نیٹ ورک کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ نئی نئی ٹرینیں چلانے کی جگہ اگر موجودہ ریلوے نیٹ ورک پر دھیان دیا جائے تو بہتر ہوگا۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ ریلوے کی حالت سدھارنے کیلئے کوششیں نہیں کی گئی ہیں۔ راکیش موہن، انل کاکوتکر ، سیم پترودا اور ای شری دھن جیسے ماہرین کی لیڈر شپ میں انیک کمیٹیاں نہ جانے کتنے سجھاؤ دے چکی ہیں۔اگر ان میں سے آدھے پر بھی عمل ہوجائے تو بھی ریلوے اور ریل مسافروں کا بھلا ہوجائے۔
(انل نریندر)

بیگ ڈور سے بجلی اور مہنگی کرنے کی پلاننگ

دہلی واسی بجلی کمپنیوں کی دھندلیوں سے حیران پریشان ہیں۔ ایک طرف تو بجلی کے بل بڑھتے جارہے ہیں اور دوسری طرف بجلی کٹ بھی بڑھتے جارہے ہیں۔ بجلی کے میٹر تیز بھاگتے ہیں یہ شکایت ہر صارف کی جانب سے لگاتار بڑھ رہی ہے۔ مجبوری میں اسے بل تو چکانا ہی پڑ رہا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے ممبران اسمبلی نے دہلی الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن (ڈی ای آر سی) کو بجلی کی شرحیں نہیں بڑھانے کی سخت چیتاونی دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بجلی کی شرحیں بڑھانے کی کوشش ہوئی تو دہلی سرکار اور ممبران اسمبلی دہلی واسیوں کے ساتھ سڑک پر اتر کر آندولن کریں گے۔ہم عام آدمی پارٹی کی سرکار و ممبران اسمبلی کی اس مانگ کا سمرتھن کرتے ہیں۔ ممبران اسمبلی کی دلیل تھی کہ سال2002 میں جب بجلی تقسیم کا کام نجی ہاتھوں میں سونپا گیا تھا تو اس وقت 60 فیصد بجلی کی چوری ہوتی تھی جو اب15 فیصد رہ گئی ہے۔ٹرانسمیشن لاس میں بھی کمی آئی ہے۔ اس کا سیدھا فائدہ بجلی کمپنیوں کو مل رہا ہے۔ کمپنیاں سستی بجلی خرید کر مہنگے داموں پر بیچ رہی ہیں۔ فیول چارجز کے نام پر صارفین سے مزید فیصد وصولی جارہی ہے۔ اس کے باوجود کمپنیاں گھاٹے کی بات کہہ کر بجلی کی شرحیں بڑھانے کی مانگ کررہی ہیں۔ مہنگی بجلی سے پریشان دہلی واسیوں کا غصہ ڈی آر سی پر بھی نکل رہا ہے۔ لوگ اس کے طریقہ کار پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ الزام لگ رہا ہے کہ کمیشن کو صارفین کے بجائے بجلی تقسیم کمپنیوں کے مفاد کا زیادہ خیال ہے۔ اس لئے دہلی میں بجلی مہنگی ہوتی جارہی ہے۔ آر ڈبلیو اے کے دیگر نمائندوں نے کمیشن کے چیئرمین پرزور دار حملہ بولا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان بجلی تقسیم کمپنیوں پر کوئی روک نہیں ہے۔ بجلی کا لوڈ بڑھا کر صارفین سے زیادہ بل وصولے جارہے ہیں لیکن بجلی کمپنیاں بجلی تقسیم کے لئے اپنے نیٹ ورک میں سدھار نہیں کررہی ہیں کیونکہ ڈی ای آر سی کا ان پر کوئی اثر نہیں ہے۔ کمیشن کے کام سے کوئی خوش نہیں ہے۔ ان الزامات کے بعد ڈی ای آر سی تھوڑی چوکنا ہوئی ہے۔ کمپنیوں نے بجلی سپلائی سدھارنے کے لئے کتنے ٹرانسفارمر، گرڈ، سب اسٹیشن اور فیڈر وغیرہ لگائے ہیں اب ان سب کی فزیکل ویریفکیشن کرائی جائے گی، یہ کہنا ہے کمیشن کا۔ کمیشن کے چیئرمین پی ڈی سدھاکر نے اس کی تصدیق کی ہے۔ اس معاملے میں کمیشن کے افسران نے بتایا کہ ہم ان نجی بجلی کمپنیوں کے ان خرچوں کی گراؤنڈ ریلٹی جانیں گے جس میں بجلی سپلائی میں سدھار لانے کے لئے مزید ٹرانسفارمرز ، گرڈ اور سب اسٹیشن لگانے کے علاوہ انڈر گراؤنڈ اور اوور ہیڈ بجلی چوری روکنے کیلئے کئے گئے اقدام اور میٹر وغیرہ لگائے گئے ہیں۔ بجلی کی نئی قیمتیں بڑھانے کی بات ہورہی ہے۔ حالانکہ عام آدمی پارٹی سے لیکر تمام آر ڈبلیو اے اور ٹریڈ ایسوسی ایشنوں نے بجلی قیمتیں بڑھانے کی مخالفت کی ہے اس کے باوجود بجلی کے بلوں میں اضافہ ہونے کا اندیشہ ہے۔ یہ سیدھے طور پر ٹریفک میں بڑھوتری کے بجائے دوسرے راستوں سے ہوسکتا ہے۔ چارج کے سلیب میں بدلاؤ کرکے تینوں بجلی کمپنیوں نے 20 فیصدی تک بجلی قیمتیں بڑھانے کی ڈیمانڈ کی ہے۔ صارفین کی ساری نظریں اب ڈی ای آر سی پر ٹکی ہیں۔ جنتا کے مفاد کا تحفظ کرنے کیلئے بنائی گئی یہ ڈی ای آر سی کو جنتا کے بجائے ان خون چوسنے والی تقسیم کار کمپنیوں کی چنتا کم کر جنتا کی چنتا زیادہ کریں تو سب کا بھلا ہوگا۔ 
(انل نریندر)