Translater

08 جنوری 2022

اور اب چھتیس گڑھ میں کانگریس کا پرچم

چھتیس گڑھ کے میونسپل کارپوریشنوں میں ایک بار پھر اپنا پرچم لہراتی نظر آ رہی ہے۔ 15 شہری اداروں کے انتخابات میں شاندار کارکردگی کے بعد کانگریس نے اب میئر اور صدر کے انتخاب میں طاقت دکھائی ہے۔ تاہم دو بلدیات میں کراس ووٹنگ کے بعد پارٹی لیڈران محتاط ہو گئے ہیں۔ ساتھ ہی وزیر اعلی بھوپیش بگھیل نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے قلعہ بندی بھی کی کہ بڑے میونسپل کارپوریشن میں کوئی غلطی نہ ہو۔ اس کے نتیجے میں کانگریس دوبارہ دو بلدیاتی اداروں میں اپنا میئر بنانے میں کامیاب رہی۔ نامور رسالی اور پلئی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کے بعد تصویر واضح ہو جائے گی۔ تاہم یہ طے پایا ہے کہ کانگریس چھتیس گڑھ کے میونسپل کارپوریشن میں کلین سویپ کرنے جا رہی ہے۔ ریاست کے تمام 14 میونسپل کارپوریشنوں میں کانگریس کے میئر کے بعد ریکارڈ بھی بنے گا۔ آئندہ اسمبلی انتخابات کی تیاریوں سے پہلے کانگریس اسے وقار کا سوال سمجھ رہی تھی۔ شہری انتخابات میں ایک طرح سے اپوزیشن بی جے پی کا صفایا ہو گیا ہے۔ بلدیہ میں کراس ووٹنگ کے ذریعے بھی بی جے پی کہیں نہ کہیں قبضہ کرنے میں ضرور کامیاب ہو گئی۔ لیکن تکنیکی طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ تعداد قوت میں پیچھے ہے۔ چھتیس گڑھ کانگریس تنظیم اب رکنیت سازی مہم کے سلسلے میں جنگی بنیادوں پر کام کرے گی۔ اس کے ساتھ ہی مشن کی تیاریوں کے درمیان بوتھ کمیٹی کی تشکیل کے عمل کو بھی تیز کیا جائے گا۔ ریاستی ایگزیکٹو میں وزیر اعلی بھوپیش بگھیل اور ریاستی انچارج پی ایل پونیا کی ناراضگی کے بعد میعاد بھی طے کی گئی۔ اب تنظیم کے لیے اس ماہ 30 جنوری تک نوجوانوں کی کمیٹیاں تشکیل دینا لازمی ہے۔ ساتھ ہی ممبر شپ مہم کو 15 فروری تک مکمل کرنا ہوگا۔ اس بار 15 فروری تک تنظیم میں 10 لاکھ ممبران بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ بھوپیش بگھیل بلاشبہ کانگریس کے کامیاب وزرائے اعلیٰ میں سے ایک ہیں۔ انیل نریندر

الیکشن کمیشن ورچوئل ریلی، آن لائن ووٹنگ پر غور کرے

ملک میں بڑھتے ہوئے کورونا انفیکشن کے درمیان اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن سے آئندہ اسمبلی انتخابات میں ورچوئل ریلیوں اور آن لائن ووٹنگ پر غور کرے۔ ہائی کورٹ بدھ کو کورونا وبا سے نمٹنے سے متعلق مفاد عامہ کی عرضیوں کی سماعت کر رہی تھی۔ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سنجے کمار مشرا اور جسٹس آلوک کمار ورما کی بنچ نے کمیشن سے کہا کہ وہ بڑے انتخابی اجتماعات پر پابندی کے لیے رہنما خطوط جاری کرے۔ عدالت نے اس کے لیے کمیشن کو ایک ہفتے کا وقت دیا ہے۔ کیس کی اگلی سماعت 12 جنوری کو ہوگی۔ دراصل، کورونا انفیکشن کے پیش نظر مفاد عامہ کی عرضیوں میں الیکشن ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ریاست میں کورونا انفیکشن 300 فیصد کی شرح سے بڑھ رہا ہے۔ ہسپتال اور ڈاکٹر بھی کم ہیں۔ ہائی کورٹ نے 29 دسمبر کو کمیشن کو نوٹس جاری کیا تھا۔ کووڈ کے بڑھتے ہوئے معاملات کو دیکھتے ہوئے کانگریس نے اتر پردیش میں 15 دنوں کے لیے اپنی تمام ریلیاں، پروگرام منسوخ کر دیے ہیں۔ کانگریس پارٹی کا یہ فیصلہ درست ہے۔ اس کے بعد ایس پی نے وجے یاترا اور میٹنگیں بھی ملتوی کر دی ہیں۔ ساتھ ہی، بی جے پی نے 9 جنوری کو لکھنو¿ میں ہونے والی مجوزہ مہارالی کو ملتوی کر دیا ہے۔ تاہم اس مہارالی کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔ کانگریس نے بھی 15 دنوں کے لیے تمام بڑی ریلیوں اور پروگراموں کو منسوخ کرنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ پارٹی نے 'لڑکی ہوں، لاڈ سکتی ہوں' کی میراتھن دوڑ کو بھی دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دیا ہے۔ یہ پروگرام نوئیڈا، وارانسی، اعظم گڑھ اور دیگر شہروں میں منعقد ہونا تھا۔ دوسری طرف ایس پی نے بدھ کو ہونے والی وجے یاترا کو منسوخ کر دیا ہے۔ ایس پی صدر اکھلیش یادو نے 7، 8 اور 9 جنوری کو ہونے والی ریلی کو ملتوی کر دیا ہے۔ یہ ریلی گونڈا، بستی اور ایودھیا میں منعقد ہونی تھی۔ اس سے قبل 30 دسمبر کو یوپی کانگریس نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر بڑے اجتماعات اور ریلیوں پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔ انل نریندر

07 جنوری 2022

ایئر انڈیا میں روز تھا بیس کروڑ کاخسارہ!

مرکزی سرکار نے منگلوار کو دہلی ہائی کورٹ میںایئر انڈیا کی سرمایہ کاری کاروائی منسوخ کرنے سے وابسطہ راجیہ سبھا ایم پی ڈاکٹر سبرا منیم سوامی کی عرضی کو غلط دفعات پر مبنی بتاتے ہوئے اس کی سخت نکتہ چینی کی سرکار نے دلیل دی کہ کمپنی روزانہ بیس کروڑ روپے کاخسارہ اٹھا رہی تھی اور آگے اس سے جنتا کے پیسہ کی بربادی کرنے نہیں دی جاسکتی تھی ۔ساتھ ہی ٹاٹا گروپ نے سرمایہ کاری سسٹم میں کرپشن کے الزامات پر کہا کہ اسے ثابت کرنے کے لئے سبرا منیم سوامی کے پاس کچھ نہیں ہے معاملے میں سوامی اور مرکزی سرکار کی طرف سے پیش ہوئے سولی شیٹر جنرل تشار مہتا اور ورٹیلیٹ پرائیویٹ لمیٹیڈ کی طرف سے سینئر وکیل ہریش شالوے کی دلیل سننے کے بعد چیف جسٹس ڈی این پیٹل اور جسٹس جوتی سنگھ کی بنچ نے چھ جنوری تک کے لئے محفوظ رکھا تھا ۔تازہ خبر ہے کہ عدالت نے سبرا منیم سوامی کی عرضی کر خارج کر دیا ہے اس کے ساتھ ہی مرکزی سرکار کی ٹاٹا گروپ میں سرمایہ کاری کا راستہ صاف ہو گیا ہے ۔بتا دیں سبرا منیم سوا می نے اپنی دائر عرضی میں سرمایہ کاری کے لئے اپنائے گئے طریقہ کو منوانا اور غیر قانونی و کرپٹ قرار دیتے ہوئے اس سرمایہ کاری سودہ کو منسوخ کرنے اور اس معاملے میں حکام کے رول و کام کاج کی سی بی آئی جانچ کرانے کی مانگ کی تھی ۔پچھلے سال اکتوبرمیں ٹاٹا گروپ نے 18ہزارکروڑ روپے میں ایئر انڈیا کی سب سے بڑی بولی لگائی تھی ۔جس کو سرکار نے منظورکر لیاتھا ۔لیکن راجیہ سبھا ایم پی سوامی کاالزام تھا کہ اسپائی جیٹ کی قیادت والا سنگھ بھی بولی لگانے والا فریق تھا ۔ (انل نریندر)

سوچی سمجھی سازش تھا لکھیم پور تشدد!

لکھیم پور تشدد میں ایس آئی ٹی جانچ ٹیم نے مرکزی وزیرمملکت داخلہ اجے کمار مشراٹینی کے بیٹے آشیش مشرا عرف مونو کو اہم ملز م مانتے ہوئے چودہ ملزمان کے خلاف پیر کو چارشیٹ داخل کردی ہے ۔تین اکتوبر کو ہوئے تشد د میں چار دکسانوں اور ایک صحافی سمیت آٹھ لوگوں کی موت ہوئی تھی ۔چار کسانوں کے اور ایک صحافی کے قتل کے معاملے میں درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ آشیش مشرا مونو نے سازش رچتے ہوئے تشدد کو انجام دیا اور اس نے 12لوگوں کو شامل واردات کی تیاری اور تین اکتوبر سے پہلے کر لی تھی ۔چناو¿ مہم افسر ایس پی یادو نے بتایا کہ ایس آئی ٹی میں منتری ٹینی کے سالے وریندر شکلا پر آئی پی سی کی دفعہ 201 کے تحت ثبوت چھپانے کا الزام لگاتے ہوئے اس کو ملزم بنایا ہے۔ ابھی اس کی گرفتاری نہیں ہوئی ہے ۔چارشیٹ کے مطابق مرکزی وزیر ٹینی کے 25 منٹ کے لکچر کو ستپورن نگرمیں دیئے گئے بھاشن کے بعد ہی اس معاملے کی شروعات ہوئی تھی ۔مظاہرین کسانوں کو سبق سکھانے کی منشاءسے منتری کے بیٹے نے سوچی سمجھی سازش کے تحت ان پر گاڑی چڑوادی ۔واردات میں شامل گاڑی میں آشیش خود بھی موجود تھا ۔اس کے دوست انکت ویاس کے ساتھ نندن سنگھ بشط میں آشیش کی رائفل سے فائرنگ کی تھی چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ چنتا رام کی کورٹ میں پیش پانچ ہزار صفحات کی چارشیٹ کے مطابق 25ستمبر کو سمپورن نگر میں کسان سمپوزیم میں کالے جھنڈے دکھانے والے کسانوں کو سدھر جانے کی نصیحت دی تھی ۔اس سے ناراض کسانوں نے تین اکتوبر کو ٹینی کے گاو¿ں میں منعقد دنگل میں نائب وزیراعلیٰ کیشو پرساد موریہ کے دورہ کا ہیلی پیڈ پر احتجاج کرنے کا فیصلہ لیا ۔روٹ ڈائیورجن کی جانکاری ہونے کے باوجود آشیش مشرا ساتھیوں کے ساتھ کسانوں کے احتجاج والے راستہ پر ہی گاڑی سے نکلا۔چارشیٹ کے مطابق آشیش کی موقع واردات پر ناہونے کی دلیل سی سی ٹی وی کے بنیادپر جھونٹی پائی گئی ۔غور طلب ہے کہ گزرے سال تین اکتوبر کو لکھیم پور کھیری کے تیکونیہ میں ہوئے تشدد میں چار کسانوں ایک صحافی سمیت آٹھ لوگوں کی جان گئی تھی ۔اس میں دو ایف آئی آر درج ہیں ۔پہلی کسانوں کی طرف سے ہے ، جس میں چارشیٹ داخل کی گئی ہے ۔دوسری تین لوگوں کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالنے کے الزام میں پندرہ میں سے بیس کسانوں پر ہے ۔پہلے یوپی سرکار میں سے معاملے کی جانچ ایس آئی ٹی کو سونپی تھی حالانکہ سپریم کورٹ نے خود نوٹس لے کر سماعت کی اور جانچ کے لئے پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج راکیش کمار جین کی سربراہی میں کمیٹی بنائی چارشیٹ داخل ہونے کے بعد کانگریس و سپا سمیت اپوزیشن پارٹیوں نے وزیر مملکت داخلہ ٹینی کے وزیرکے عہدے سے برخواست کرنے کی مانگ پیش کردی ہے ۔غور طلب ہے کہ ٹینی یہ کہتے رہے ہیں کہ بیٹے کے خلاف ثبوت ملے تومیں استعفیٰ دے دوں گا ۔انہوںنے دعویٰ کیاتھا میں اور میرا بیٹاموقع واردات پر موجود ہی نہیں تھے ۔ (انل نریندر)

06 جنوری 2022

وزیر اعظم کی نئی سواری!

دیش میں انتہائی اہم شخصیتوں کی حفا ظت کو لیکر ایجنسیاں ہمیشہ چاک چوبند رہتیں ہیں اور ان کی گاڑی انتہائی محفوظ بنا نے کیلئے نئے قواعد طے کرتیں ہیں اسی سلسلے میں بھار ت کے وزیر اعظم کی سواری کیلئے دمدار اور جدید سہولت سے آراستہ مرسڈیز میں 41اے ایس 650کو چنا گیا ہے یہ کار کئی خوبیوں سے آراستہ ہے ۔بختر بند کار کے شیشے اتنے مضبو ط ہیں کہ ان پر آتشی بم اور اے کے 47کی گولیوں کا بھی اثر نہیں ہوگا ،ذرائع نے کہا کہ وزیر اعظم کے قافلے میں کار کا بدلہ جانا معمولی بات نہیں بلکہ یہ ریگولر تبدیلی ہے ۔ایس پی جی کا یہ قاعدہ ہے کہ وی آئی پی کی حفاظتی قافلے کی کار ہر چھ سال بعد بدلی جاتی ہے جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی کے قافلے کی کار آٹھ سال سے استعمال ہورہی تھی ۔ اور اوڈٹ میں اس اعتراض کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ اس کار سے وی آئی پی کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے ۔وزیر اعظم کی قافلے کی نئی کار کی قیمت کو لیکر میڈیا میں قیا س آرائیاں تھیں لیکن این 650کار کی قیمت کم ہے جبکہ میڈیا رپورٹ میں اس کو 12کروڑ کا بتایا جا رہا ہے ۔اس سیکورٹی لوکل کسی بھی دوسری کار کے مقابلے میں سب سے زیا دہ ہے مر سڈیز بینز نے پچھلے سال بھار ت میں A-600گارڈ کو 10.5کروڑ روپے میںلانچ کیا تھا یہ مو جودہ مرسڈیز اس سے اوپر کا ماڈل ہے ۔ کانگریس نے وزیر اعظم کے قافلے کیلئے لگژری کار کو خریدنے کو لیکر سرکا ر کی نقطہ چنی کی ہے ۔کانگریس نے کہا کہ کورونا دور میں یہ کار خریدنا غلط ہے ۔پارٹی کے ترجما ن گو رو بلبھ نے وزیر اعظم پر طنز کر تے ہوئے کہا کہ وہ خود کو فقیر کہتے ہیں لیکن وہ آٹھ ہزار کروڑ کے جہاز پر چلتے ہیں اور 20کے قریب کی کار پر سواری کرتے ہیں ۔ بھار ت ایک غریب دیش ہے جہاں ایک کار پر اتنا خرچ ٹیکس دہندہ کی گاڑھی کمائی سے خریدنا کیا صحیح ہے؟ (انل نریندر)

این سی بی سے ثمیر وانکھڑے کی چھٹی !

نا رکوٹکس کنٹرو ل بیورو کے ممبئی زون کے چیف ثمیر وانکھڑے اب ریوینو انٹیلی جنس ڈائریکٹریٹ کے ڈائر کٹر جنرل کو اپنی رپورٹ کریں گے ۔ این سی بی میں ان کام کی میعاد پیر کو ختم ہوگئی ۔بالی ووڈ میگا اسٹا ر شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان کو ڈرگس معاملے میں گرفتا ر کر نے کے بعد ثمیر وانکھڑے کو کافی نقطہ چینی کا سامنا کر نا پڑا تھا ۔آرین خان کیس کے دوران ثمیر وانکھڑے کو ان کے ڈپوٹیشن میں چار مہینے کی توسیع دی گئی تھی جو 31دسمبر کو ختم ہوگئی ثمیر کا کہنا تھا کہ ان کی اگلی پوسٹنگ سرکا ر کو طے کرنی ہے وانکھڑے کے خلاف کئی پریس کانفرنس کرنے والے این سی پی نیتا نواب ملک نے یہاں تک الزام لگا دیا تھا کہ بی جے پی نیتا و¿ں کی پیر وی کے سبب وانکھڑے کا این سی بی سے تبادلہ نہیں ہوا ہے اس کے علاوہ وہ ثمیر وانکھڑے کی ذات اور مذہب پر بھی سوال اٹھا تے رہے ہیں ۔اس کے بعد ثمیر وانکھڑے نے ہائی کورٹ میں ملک کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ بھی دائر کیا تھا ثمیر وانکھڑے کی دوخواست پر آرین خا ن معاملے کی جانچ این سی بی کے سینئر افسران کو سونپی گئی ۔وانکھڑے کی کام کی میعاد ختم ہوتے ہی معا ملہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر نے لگا اور اس درمیا ن کچھ نے وزار ت داخلہ سے انہیں ایک اور توسیع دینے کی درخواست کی ۔اس دوران آرین خان معاملے میں چار ج شیٹ ابھی ممبئی کورٹ میں دا خل نہیں ہوئی ہے ۔این سی بی ذرئع نے کہا کہ انہوں نے چارج شیٹ ڈرافٹ تیا ر کر لیا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ چارج شیٹ وانکھڑے کے ذریعے دائر کی جائے ۔ (انل نریندر)

آندولن ختم نہیں ،ملتوی ہوا ہے!

میگھا لیہ کے گورنر پروفیسر ستیہ پال ملک کا کہنا ہے کہ کسان آندولن میں درج مقدموں کو منسوخ کرنے کے ساتھ سرکا ر کو ایم ایس پی کو قانونی عملی جامہ پہنانے کا کا م ایمانداری سے پور ا کرنا چا ہئے سرکار اگر یہ سوچ رہی ہے کہ آندولن ختم ہوچکا ہے ،تو یہ غلط نظر یہ ہے چوںکہ آندولن ختم نہیں ہوا ہے اگر کسانوں سے زیا دتی ہوئی تو آندولن پھر سے شروع ہو جائے گا۔ گورنر ملک چرخی دادری میں سنیچر کو با با سوامی دیال دھام میں منعقدہ ایک پروگرام آئے تھے اسی دوران انہوں نے میڈیا سے یہ بات کہی انہوں نے ڈاڈم حادثے پر خیال ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کی جانچ کے ساتھ قصور وار پر کاروائی ہونی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ زرعی قوانین کے واپسی کو لیکر وزیر اعظم نے جو کہا اس سے آگے بڑھنے کی گنجائش نہیں ہے اب کسانوں کو اپنے حق میں فیصلے کر وانے چاہئے ۔انہوں نے کہا چودھری چرن سنگھ کے ساتھ سیا ست کی ہے اور ہر حالت میں وہ کسانوں کے ساتھ کھڑے ہیں ۔اس کے لئے پھر انہیں چاہے جو کچھ بھی کر نا پڑے یا کوئی بھی عہدہ چھوڑنا پڑے ۔بھیوانی کے ڈاڈم میں ہوئے حادثے پر وہ دکھی ہیں کھدان کرنے والے کوئی قاعدہ قانون نہیں مانتے ۔راجستھان میں تو وہ پہاڑ کے پہاڑ کھا گئے ۔انہوں نے کہا کہ ڈاڈم حادثے کی منصفانہ جانچ کے ساتھ قصور وار پر سخت کاروائی ہونی چاہئے ۔ گور نر ملک کا پہلے ٹول پلازہ پر منعقدہ پنچایت میں شامل ہونے کا پروگرام تھا لیکن وہ منسوخ ہو گیا ۔اس کا مطلب یہ قطعی نہیں کہ میں مہا پنچایت کی مذمت کر تا ہوں ۔میرا وہاں پروگرام میں جاکر خود کو ان سے جوڑنا صحیح نہین ہے کسان آندولن ابھی خجتم نہیں ہوا ابھی تو تیرہ مہینے کی ٹریننگ ہوئی ہے ۔سرکار کی نیت میں کھونٹ نظر آ رہا ہے اس لئے کسان 26جنوری کو دہلی میں ٹریکٹر مار چ نکالیں گے ۔یہ بات جوائنٹ کسان مورچہ کے نیتا راکیش ٹکیت نے کتلانا ٹول پلازہ پر منعقدہ مہا پنچایت میں کہی راکیش ٹکیت نے کہا کہ سرکا ر کا توجہ کسانوں کی زمین پر ہے اس سے چوکنا رہنے ضرورت ہے سرکار کا اگلا نشانہ بے زمین ان کسانوں پر ہے جو جانور پال کر کے دودھ بیچ کر سرکار پر حملہ کرتے ہیں ۔اب تک پوری طرح نہ تو مقدمے واپس ہوئے ہیں اور نہ ہی ایم ایس پی پر کوئی کمیٹی بنی ہے۔ (انل نریندر)

05 جنوری 2022

-22 ڈگری میں نہیں رکتی ہے زندگی!

پورا دیش 3-4 ڈگری ٹھنڈ سے کپکپانے لگا ہے ۔اور لوگ سونچ رہے ہیں کہ یہ دور کب ختم ہوگا ۔اس سے الگ لداخ کے دراس علاقہ میں لوگ مائنس 40-50ڈگری درجہ حرارت سے نمٹنے کی تیاری کرچکے ہیں ۔یہاں درجہ حرارت مائنس 032ڈگری تک نیچے آگیا ہے ۔لیکن اتنی سردی سے زندگی پل بھر کے لئے بھی نہیں رکی دراصل اس کے لئے تیاری بچپن سے کی جاتی ہے ۔چار سال کی عمر میں ہی بچوں کو گھر سے باہر کھیلنے کے لئے بھیجا جاتا ہے سردیوں کے دوران صحن میں اکثر پانچ سے دس فٹ برف ہوتی ہے ۔اور یہ بڑھتے بڑھتے پگھلتی بھی ہے۔دوسرے لوگ اس برف سے کلا کرتیں بنا کر برف میں ہی کھیلتے ہیں ۔اور کھیل میں ہی زندگی کو رفتار دیتے ہیں ۔مقامی باشندے ظہور احمد کا کہنا ہے کہ آئیس ہاکی اسنو اسکرنگ جیسے پلے ہمیں آزاد رکھتے ہیں ۔سردی میںتازہ سبزیاں اوردیگر کھانے کی چیزیں نہیں ملتی تو ہم دالوں و اناج سے ہی کام چلاتے ہیں ۔اس کو اسٹور کرکے رکھی گئی سبزیاں مچھلی اور میٹ وغیرہ برف میں اس قدر جم جاتے ہیں کہ انہیں گرم کرنے کے بجائے کلہاڑی سے کاٹنا پڑتا ہے ۔اکتوبر سے ہی چاول سبزیاں ،دالیں ،سامان جمع کرناشروع کر دیتے ہیں ۔اور گھر کو گرم رکھنے کے لئے کنگڑی کااستعمال بھی کرتے ہیں اور یہاں ہم 4.5ڈگری میں ہی کانپ جاتے ہیں ۔ (انل نریندر)

پہلی بار کشمیر میں سرگرم دہشت گردوں میں کمی آئی ہے !

یونیسکو نے سری نگر کو تعمیراتی شہروں کے نیٹورک کی فہرست میں رکھا ہے ۔اس سال سری نگر میں کئی کامیاب پروگرام ہوئے جس سے دیش اور بیرون ملک کی سرکردہ ہستیاں شامل ہوئیں ۔پچھلے سال کشمیر میں آتنکی وارداتیں بالکل نہیں ہوئی تھیں ۔حالانکہ اس تہماہی میں آتنکی وارداتیں اچانک برھ گئی ہیں زیادہ تر آتنکی حملے اسکول اور اقلیتوں کو نشانہ بنا کرکے جموں کشمیر سے باہر سے آنے والے ریڑھی پٹری والوں کو بنایا گیا ۔اور نہتہ پولیس غیر ملسح پولیس ملازمیں یا ان کے قریبیوں کو نشانہ بنانے کے لئے حملے ہوئے ۔یہ بڑھتے حملے بتا رہے ہیں کہ ریاست میں حالات ابھی بہتر نہیں ہوئے ہیں ۔آئے دن سیکورٹی فورسز اور شہریوں پر حملے ہو رہے ہیں ۔پچھلے تین مہینوں میں یہ حملے زیادہ ہوئے ہیں حالانکہ ہماری سیکورٹی فورسز کو بھی گزرے سال اچھی کامیابیاں ملیں ۔پچھلے تین مہینوں میں بیشک یہ حملے زیادہ ہوئے ہوں لیکن دو دن پہلے جنوبی کشمیر کے اننت ناگ اور کلگام ضلع میں دو مڈبھیڑوں میں چھ دہشت گردوں کو مار گرایا ان میں کشمیر ٹائیگر فورس کے خود ساختہ کمانڈر اور دوپاکستانی آتنکی بھی شامل تھے ۔چونکانے والی بات یہ بھی ہے کہ ان لوگوں کے پاس سے جو ہتھیار ملے وہ امریکہ کے بنے ہوئے ہیں اس سے صاف ہو گیا ہے کہ پاکستان نہ صرف دہشت گردوں کو بھارت میں داخل کرا رہا ہے بلکہ انہیں ہتھیاروں کی بھی سپلائی کررہا ہے ۔وادی میں ڈرون کے ذریعے ہتھیار پہوچانے کے معاملے بھی سامنے آئے ہیں ۔غور طلب ہے اس سال اگست میں افغانستان سے لوٹی امریکی فوج اپنے زیادہ تر ہتھیار وہیں چھوڑ آئی پھر یہ ہتھیار پاکستان کے بازاروں میں بکنے لگے ایسے میں اس بات کے اندیشے سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ امریکی ہتھیار اسی کے ذریعے سے دہشت گردوں تک پہوچائے جا رہے ہیں ۔خوش آئیں پہلو یہ ہے کہ دہشت گردی کی شروعات کے بعد سے پہلی بار کشمیر وادی میں سرگرم دہشت گردوں کی تعداد 200سے نیچے آگئی ہے ۔اور لڑکوں کی آتنکی گروپوں میں بھرتی پر بھی لگام لگی ہے ۔اننت ناگ ضلع کے قاضی کنڈ پولیس کے ڈائرکٹر جنرل وجے کمار اور فوج کے لیفٹننٹ جنرل ڈی پی پانڈے نے بتایا کہ ریاست میں سرگرم دہشت گردوں کی تعداد 180رہ گئی ہے ۔ان میں سے دہشت گردوں کی تعداد 100سے بھی کم ہے ۔ان میں سے سیکورٹی فورسز نے 128 میں سے 73کو مار گرایا ہے ۔16پکڑے گئے ہیں اور آتنکی گروپوں میں بھرتی میں بھی لڑکوں کی کمی آئی ہے ۔بہرحال اب تشدد کے نقصان کو نوجوان سمجھنے لگے ہیں کہ سرحد پارسے کیا ہو رہا ہے ۔ابھی بھی 200کے قریب آتنکیوں کی موجودگی کی بات کہی جا رہی ہے ۔جن میں 90دہشت گردوں کا تعلق بیرون ممالک سے ہے ۔یہ حالات بتا رہے ہیں کہ دہشت گردوں کے جال کو توڑ پانا آسان نہیں ہے ۔بیشک ہماری سیکورٹی فورسز کو کچھ وقت میںقابل قدر کامیابی ملی ہیں لیکن ابھی ہم چین کی سانس نہیں لے سکتے ۔ (انل نریندر)

پمی کی عقوت اثاثہ کے پیچھے کیا راز ہے ؟

بی جے پی اور سماج وادی پارٹی کے درمیان سیاسی جنگ کی وجہ بنے کاروباری پیوش جین کے ذریعے اتنا سونا وہ بھی غیر ملکی اور اتنی ہی نقدی ، کیسے ،کتنے دن میں کہا سے کانپور اور کنوج میں کمائی ؟ ایجنسیوں کو ان سوالوں کے جواب تلاشنے میں کافی محنت کرنی پڑے گی اورجواب ملنے پر کچھ ایجنسیوں کے رشتہ بھی شبہہ کے دائرے میں آسکتے ہیں ۔فی الحال ڈی آر آئی جی ایس ٹی انٹیلی جینس اور انکم ٹیکس محکمہ کے افسر جانچ کررہے ہیں ضرورت کے حساب سے ای ڈی بھی آگے چل کر جانچ کر سکتی ہے ۔ذرائع کے مطابق 23کلو گرام غیر ملکی سونابھی اربوں روپئے کے کیس طرح ہی حیران کررہا ہے ۔اتنا پیسہ اکھٹا کرنے میں کتناوقت اور کیا کچھ ترکیبیں جین نے لگائیں یہ جاننے کے لئے حراست میں پوچھ تاچھ شروع ہونے والی ہے ۔اتر پردیش کے اس عطر کاروباری اور سپا کے ودھان پریشد کے ممبر ایم ایل سی پشپ جین عرف پمی کو ٹیکس چوری کے معاملے میں انکم ٹیکس محکمہ نے پیر کو حراست میں لے لیا ۔یہ محض ٹیکس چوری کا معاملہ نہیں بنتا اس کے تار انٹر نیشنل سطح پر اور دیش میں بھی روپوش سرگرمیوں میں لگے لوگوں تک بھی ہو سکتا ہے ۔25کلو گرام سونے کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس پر یو اے ای کی مہر ہے ۔ان غیر ملکی نشان کو مٹانے کی کوشش بھی کی گئی لگتی ہے ۔جین کے ان معاملے کو آگے تلاشنے کے لئے کئی ایجنسیوں کے ذریعے مل کر کام کرنے کی ضروت پڑی ۔جین نے مبینہ طور پر ایجنسیوں کو بتایا کہ یو اے ای عطر دوبئی بھیجتا تھا اور بدلے میں سونا مانگتا تھا ۔اگر اس نے یہ صحیح کہا ہے تو بدلے میں سونا مانگنابھی غیر قانونی ہے کیا اس نے اس کی اجازت کسی سطح پر لے رکھی تھی ؟ سی بی آئی کے ایک سینئر ریٹائرڈ افسر کے مطابق دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ وہ سونا کتنی بار اور کس راستہ سے لاکر دیش میں کس جگہ پر اتارا گیا ؟ سونا لانے والے کون لوگ تھے ؟ کیا وہ سونا اسمگلرس کے ذریعے لایاگیا ؟کیا دوبئی سے اس طرح کی اسمگلنگ برابر ہو رہی ہے ؟ اگر صحیح ہے تو ہماری متعلقہ ایجنسیاں کیا کررہی ہیں ؟ کسٹم ٹیکس بچا کر کسی چیز کو لانا بھی غیر قانونی ہے ان سب سوالوں کے جواب تلاشنے کے بعد جین کو ٹیکس چوری کا ہرجانہ بھرنا پڑ سکتا ہے ۔اسے کئی مجرمانہ دفعات کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ایجنسیوں کے لوگ بھی شک کے دائرے میں آسکتے ہیں ۔فی الحال پورے معاملے کی گہرائی سے جانچ کی ضروت ہے ۔ (انل نریندر)

04 جنوری 2022

اگر شرا ب پینی ہے تو بہار نہ آئیں !

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا شراب کے خلاف مہم جاری ہے ان کا کہنا ہے کہ جو کوئی شراب پیتا ہے اسے بہار آنے کی ضرور ت نہیں ہے ۔شراب بندی کے بھی دو کروڑ سے زیا دہ سیاح آئے ہیں گزر بسر کیلئے شراب بندی سمیت کئی طرح کے ایسے اقدامات سے بڑی تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے وزیر اعلیٰ ساسارام کے فضل گنڈہ میں واقع اسٹیڈیم میں سماج کی بہتری مہم کے تحت لوگوں سے خطاب کر رہے تھے ۔مجھے جب سے سیوا کا موقع ملا ہے میں نے بہار کیلئے ہر چنو تی پر کام کیا آپ سبھی کے تعاون سے بہار مجموعی ترقی کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔لوگ شام ہوتے ہی شرا ب کیلئے باہر نکل آتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم نے عورتوں کی مانگ پر ہی ریاست میں شراب بندی لاگوں کی اور2017-18میں اس خلاف رائے حاصل کرنے کیلئے ہومن چین بنائی جس میں آپ سبھی نے ہما را ساتھا دیا مختلف پروگراموں کے ذریعے جب عورتیں یہ بتاتی ہیں کہ شراب بندی سے ان کی زندگی میںکتنی خوشی آئی ہے تو مجھے یہ انتہائی خوشی ہے مہاتما گاندھی نے بھی تازندگی شراب کی مخا لفت کی شراب پیسہ اور عقل دونوں کو ہڑپ لیتی ہے اور اس عام آدمی حیوان بن جاتا ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ڈبلیوں ایچ او کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پوری دنیا میں 30لاکھ سے زیادہ لوگ شراب پینے سے مرتے ہیں ۔صحت مند سماج کے بغیر ترقی کا کوئی جواز نہیں اس لئے نشہ مکتی ،جہیز نہ دینا بال شادی عورتوں کی اختیارات وغیرہ کو لیکر مہم چلائی ہے۔کہیں بھی غلط کام ہو وہاں جلوس نکال کر خوب نعرہ بازی کریں نتیش بابوکی بات تو صحیح ہے لیکن یہ بات کہنا کہ بہار میں شراب آنا بند ہوگئی ہے یہ صحیح نہیں ہے ۔نیپال اور بھار ت کے دوسرے حصوں سے شراب کی اسمگلنگ بڑھتی جارہی ہے کچی شراب سے سیکڑوں لوگ ہر سال مرتے ہیں اس راستوںکو بھی سوشاشن بابو کو بند کرنے کی ضرور ت ہے ۔ (انل نریندر)

یوگی پھر بنائیں گے یوپی میں سرکار !

اتر پر دیش میں اس سال ہونے والے اسمبلی چناو¿ کو لیکر ٹائمس ناو¿-نوبھارت نے سروے ایجنسی کے ساتھ مل کر 16سے 30ستمبر کے درمیا نے ایک اوپنین پول کیا اس کے مطابق یوپی چنا و¿ 2022میں بھاجپا کو اکثریت مل جائے گی ۔ اگر یہ اندازے صحیح رہے تو یو گی آدتیہ ناتھ 1985کے بعد ایسے وزیر اعلیٰ ہوں گے جو ددبار ہ اقتدار قابض رہیں گے ۔بی جے پی 403سیٹوں والی اسمبلی میں 230سے 249سیٹیں حاصل کر سکتی ہے ۔وہیں سما جوادی پارٹی کو 137سے 152سیٹیں ملنے کا اندازہ ہے اگر ایسا ہو تاہے تو سپا کیلئے بہت بڑی چھلانگ ہوگی کیوں کہ 2017کے اسمبلی چناو¿ میں پارٹی محض 47سیٹوں پر سمٹ گئی تھی وہیں اس پول کے اندازے کے مطابق ما یا وتی کی بی ایس پی کو نقصا ن اٹھا نا پڑ سکتا ہے پارٹی کی ووٹ شیئر میں گراو¿ت آسکتی ہے کانگریس کو 4سے 7سیٹیں مل سکتی ہیں ۔ اور 2017کے چنا و¿ کانگریس کو 7سیٹیں اور بسپا کو 19ملی تھیں ۔پسندیدی وزیر کا چہر ہ کو ن ہے یو گی آدتیہ نا تھ 52فیصد اکھلیش 32فیصد مایا وتی 30اور پرینکا گاندھی 2.2فیصد لوگوں کی پسند ہیں ۔ (انل نریندر)

ویشنو دیوی میں نئے سال پر تکلیف دہ واقعہ!

نئے سال کے پہلے دن ہی یہ انتہائی تکلیف دہ خبر آئی کہ جموں میں ما تا ویشنو دیوی مندر میں بھگدڑ ہونے سے 12شردھالوو¿ں کی موت ہو گئی ۔نئے سال کے آمد پر یہاں اچانک بھیڑ ہوگئی اور بھیڑ کی وجہ سے بھگدڑ مچی انہوں نے اس سانحہ پر مبنی واقعے کیلئے بدانتظامی کو قصو روار ٹھہرا یا اس بھگڈر میں زندہ بچے کچھ لوگوں نے بتایا کہ نئے سال کی وجہ سے اچانک بڑی تعداد میں بھگتوں کے آنے سے حالات بے قابو ہوتے چلے گئے ۔راستے میں سوتے لوگ بھگدڑ میں کچل گئے ۔جموں وکشمیر کے ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے بتایا کہ ایک معمولی جھگڑے کی وجہ اس افسوس ناک واقعے کیلئے ذمہ دار ہے ۔ایک لاش کو پہچاننے کیلئے ایک مردہ گھر کے باہر غازی آباد سے آئے ایک تیرتھ یاتری نے اس افسوس ناک حادثہ کی وجہ صر ف بد انتظامی بتایا انہیں بھیڑ بڑھنے کی جانکاری تھی لیکن لوگوں کو بے روک ٹوک آنے کی اجازت دی ایک شخص نے بتایا کہ اگر حکام کا بہتر انتظام ہوتا تو اس سانحہ سے بچا جا سکتا تھا ۔انہوں نے کہا اس طرح کی صورت حال پہلے بھی ہوئی تھی لیکن خوش قسمتی سے کوئی مرا یا زخمی نہیں ہوا ۔حالا ت پر کنٹرول کر لیا گیا۔بھار ی بھیڑ کے سبب بھگدڑ مچی کیوں کہ لوگ آ جا رہے تھے اور ہر کوئی جلدی میں تھا ۔ویشنو دیوی میں ہوئے اس واقعے کے چشمدید ستنا م سنگھ نے بتایا کہ ہیلی پیڈ اور شردھالوو¿ں کیلئے مند ر جانے کا راستہ ایک ہی طرف سے تھا۔ ساتھ ہی دونوں طرف جوتے رکھنے کا ریک لگا ہوا تھا ایسے میں راستہ کافی تنگ ہوگیا ۔ کچھ لوگ پہلی جنوری کو درشن کر نے کیلئے ویشنو دیوی کمپلیکس کی طرف جانے والی سڑک پر ہی سو گئے تھے جس وجہ سے وہاں لوگ پہلے سے ہی پہونچے ہوئے تھے ۔لوگ پنجے پر چل رہے تھے مندر سے درشن کر کے آرہے شخص کا بیلنس بگڑ گیا اور وہ سڑک کے کنارے سو رہے سڑک پر گر پڑا اس کے بعد ایک کے ایک لوگ گرنے لگے بھگدڑ مچ گئی ستنام سنگھ کہنا ہے کہ دم گھٹنے سے زیادہ لوگوں کی جانیں گئی ۔اگر وقت رہتے انتظامیہ نے دونوں طرف آ جا رہی گاڑیوں کی آمد ورفت روک دی جس وجہ حالات پر قابو پا لیا گیا ورنہ بہت زیا دہ اموات ہو سکتی تھی۔سوال یہ ہے کہ کیا ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ بھیڑ کا اندازہ نہیں لگا سکا کہ نئے سال کی وجہ سے زیا دہ شردھالوآئیں گے۔ نئے سال پر ایسا ہوتا ہی ہے نہ صر ف ویشنو دیوی مند ر میں بلکہ دیش دیگر دھارمک استھلوں پر بھی ہوتا ہے اچانک صرف ضروری یہ نہیں کہ بھگڈر مچنے کے اسباب کی جانچ ہو بلکہ یہ بھی کہ ایسے حادثوں سے سبق لئے جائیں ۔ویشنو دیوی مندر سمیت دیگر دھارمک استھلوں پر انتظام دیکھنے اور متعلقہ انتظامیہ کو ایسے حادثوں سے سبق لینے ہوںگے کیوں کہ اپنے دیش میں دھارمک استھلومیں بھگدڑ مچنے کے واقعہ کا سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔اب یہ سلسلہ رکنا چاہئے ۔ (انل نریندر)

02 جنوری 2022

مہنگائی پر فوراً روک لگاو ¿!

ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی)نے کہا ہے کہ مضبوط اور اصلاحا ت اور پرائیویٹ سرمایہ کاری و نیجی کھپت میں تیزی سے منحصر ہے لیکن بد قسمتی سے یہ دونوں سیکٹر اب بھی وباءسے پوری طرح سے سطح سے نیچے ہیں ۔ریزرو بینک نے یہ بات بدھوار جاری دوسری مالی رپورٹ میں کہی گورنر شکتی کانت داس نے بتایا کہ لاگت بڑھنے سے پیدا افراط زر شرح کو لیکر تشویش بنی ہوئی ہے ۔ انہوں نے غذائیت اور توانائی کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کیلئے سپلائی کے مورچے پر ٹھو س قدم اٹھا نے ضرور ت پر زور دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی سے معیشت آہستہ آہستہ رفتا ر پکڑ رہی ہے اور مضبوط بنی ہوئی ہے ،لیکن بڑھتے افراط زر شرح کے دباو¿ کے ساتھ کورونا وائرس کا نیا ویرئنٹ اومیکرون ایک بڑا چیلنج بن کر ابھرا ہے ۔گورنر نے کہا کہ گائڈ لائنز کے عمل کے ساتھ وبا ءکے دوران مالی ادارے مظبو ط بن رہے ہےں اور مالی بازاروں میں مضبوطی آرہی ہے ۔انہوں نے یقین دلایا کہ سرمایہ اور نقدی کے بہتر پو زیشن کے ساتھ بینکوں کا مظبوط بہی کھاتا مستقبل کے جھٹکوں سے نمٹنے میں مدد کرئے گا ۔گورنر داس نے بینکوں سے بچاو¿ اور آزمائش کا حوالہ دیتے ہوئے درخواست کی ہے ایم پی اے ستمبر 2022میں بڑھ کر 8.1-9.5فیصدی تک جاسکتی ہے۔جو ستمبر 2021میں 6.9فیصدی تھی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بینک مستقبل میں کسی بھی طرح کے جھٹکوں سے نمٹنے کو تیا ر ہیں حالاں کہ ایم پی اے بڑھنے کو لیکر آگاہ بھی کیا گیا ہے ۔اس سال تباہ کن (اپریل -مئی)میںکورونا وباءکی دوسری لہر کے بعد زرعی سیکٹر آہستہ آہستہ بہتر ہو ا ہے۔ لیکن عالمی واقعات اور حال میں سامنے آئے وائرس کے نئے ویرئنٹ اومیکرون کی وجہ معیشت کے سامنے چنوتی پیدا ہوگئی ہے۔ (انل نریندر)

بغاوت کے جرم میں کالی چرن گرفتا ر!

بےشک آپ کیوں کسی منتر پروش کے نظریات سے اخلاف کر سکتے ہیں ،لیکن آپ اس طرح کی زبان کا استعمال نہیں کر سکتے وہ بھی کے بابائے قوم اور عدم تشدد کے پجاری مہاتہا گاندھی کے خلاف کوئی شخص بے بنیاد ،زہریلے نظریا ت اور نفرت کو فروغ دے کسی بھی ذی شعور ذمہ دا ر شہر ی کی نظر میں یہ اس کا عمل اور منفی صحیح نہیں ٹھہرا یا جا سکتا اور سر کار اور انتظامیہ کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نفرت پھیلانے والے اس شخص پر قانونی کاروائی کرے اسی لحاظ سے چھتیس گڑھ کی پولیس نے کالی چرن مہاراج نامی شخص کو گرفتا ر کرکے یہ پیغا م دینے کی کو شش کی ہے کہ کو ئی بھی شخص قانو ن سے بالا تر نہیں اور یہ سماج میں نفرت اور تشدد بھڑکانے اجا زت نہیں دی جا سکتی ۔چھتیس گڑھ کی راجدھا نی رائے پور میں دھرم سنسد میں بابائے قوم مہاتما گاندھی کو نا زیبہ الفاظ کہنے والے اور ناتھو رام گوڈسے کو نمن کر نے والے اس شخص کالی چرن مہاراج کو رائے پور پولیس نے مدھیہ پر دیش کے کھجوراو¿ سے گرفتا ر کیا ۔کالی چرن وہاں کرئے کے مکان سے پکڑا گیا اور پھر پولیس وہاں سے سیدھے لیکر رائے پور لے آئی یہا ں اس کا میڈیکل ٹیسٹ کے بعد اس کو کورٹ میں پیش کیا جہاں عدالت نے کالی چرن کو ریمانڈ میںبھیج دیا ۔اس سے پہلے اس کے خلاف جذبات بھڑکانے کے معاملے میں کالی چرن پر ملک کی بغا وت کا مقدمہ درج کیا گیا ۔کا لی چرن کی گرفتاری کے فوراًبعد مدھیہ پردیش میں سیا سی ہلچل شروع ہو گئی ۔وہاںکی بھاجپا سرکا ر کے وزیر داخلہ نروتم مشرا نے گرفتا ری کو لیکر اپنا ئے گئے طریقے پر اعتراض کر تے ہوئے کہا کہ مدھیہ پردیش کے ہوم ڈیپارٹمنٹ یا پھر ریا ست کے کسی بااثر شخص کو اس کی جانکاری دینی چاہیے تھی۔اس پر وزیر اعلیٰ بھوپیش بھگیل نے تلخ اعتراض ظاہر کرتے کہا کہ مشرا بتائیں کہ کالی چرن کی گرفتاری سے وہ خوش ہیں یا دکھی؟ریا ست کے وزیر داخلہ ساہو نے کالی چرن کی گرفتاری کو قاعدوں کے تحت قرار دیتے ہوئے مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ کے اعتراض کو سرے سے خارج کر دیا ۔معاملہ کچھ یوں تھا کہ رائے پور کے راون مانڈھا میدان میں 26دسمبر کو منعقد دھرم سنسد میں کالی چرن نے مہاتما گاندھی کے خلاف نا زیب الفاظ کا استعمال کیا تھا انہوں نے گاندھی کے ہتیارے نا تھو ں رام گوڈسے کی تعریف بھی کی تھی ۔کئی بار پولیس کے کام کاج کر نے کا طریقہ ایسا ہوتا ہے جس میں کاروائی کو لیکر سوال جواب کی گنجائش ہو سکتی ہے ۔مگر اصلی مقصد کسی جرم کے الزاما ت کے قانون کے شکنجے میں کھڑا کیا جا نا چاہئے ۔کالی چرن نے جس طرح اپنے بیان میں اپنی جارحیت کا مظاہرہ کیا وہ صرف مہاتما گاندھی کے خلا ف نفر ت پھیلانے کی کوشش نہیں ہے بلکہ اس طرح سے دیش کی آزادی کی تحریک کی اصولوں اور جد وجہد کے جذبات کو بھی نے عزت کر نا ہے ۔ اس سے زیا دہ افسوس نا ک اور کیا ہو سکتاہے کہ جس شخص نے گاندھی جی کے ساتھ کھڑے لاکھوں کروڑوں لوگوں نے بلا مفاد جذبے سے دیش کی آزادی کیلئے تحریک میں حصہ لیا نہ جانے کتنے لوگوںنے قربانیاں دیں اس کی اہمیت کو بیان کر نے کے بجائے اسے بے عزت کیا جائے ۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...