Translater

09 مئی 2020

کتنا محفوظ ہے آراوگیہ سیتو ایپ؟

آروگیہ سیتو کے پرائیویسی میں سیند ھ لگانے کے اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے سینٹر ل انفورمیشن اینڈ ٹیکنالوجی وزیرروی شنکر پرساد نے کہا ہے کہ یہ موبائل ایپ پرائیویسی کی سکیورٹی اور ڈاٹا کی حفاظت کے سلسلے میں پوری طرح سے مضبوط اور محفوظ ہے پرساد نے کہا یہ بھارت کی ٹیکنالوجی ایجاد ہے نیشنل انفارمیشن سائنس سینٹر ،نیتی آیوگ اور کچھ پرائیویٹ اداروں کا جو کووڈ19-کے خلاف لڑائی میں دد کیلئے ایک پوری طرح سے ایک ذمہ دار اسٹیج ہے ۔کانگریس نے آروگیہ سیتو کو پرائیویسی کے حق کی خلاف ورزی قرار دینے والا ایپ قرار دیتے ہوئے بدھ کو دعویٰ کیا کہ اس کے ذریعے سے ہر شخص کی نگرانی کی جائیگی ۔پارٹی کے چیف ترجمان رندیپ سرجیوالا نے یہ سوال کیا کہ آخر اس ایپ کا ڈیٹا اکٹھا کرنے والا سرور کہاں ہے ؟انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے اخباری نمائندوں سے کہا آروگیہ سیتو ایپ کو لیکر پرائیویسی کی خلاف ورزی کے سے جڑے سنجیدہ اشو ہیں ہم سب جانتے ہیں پرائیویسی کا بنیادی حق ہے ۔سپریم کورٹ نے بھی اس بارے میں اپنی رائے دی ہے ۔راہل گاندھی نے بھی اسے لیکر جو اعتراض ظاہر کیا تھا وہ صحیح تھا انہوں نے بتایا کہ ہیکر نے یہ بھی کہا کہ بھارت سرکار کی اندین کمپیوٹر ایمرجنسی رسپونس ٹیم نے اس سے کچھ حقائق کی جانکاری لی یہ اپنے آپ میں ثبوت ہے اور یہ ایپ پرائیویسی کے حق کی خلاف ورزی کرتا ہے ۔کانگریس نے دعویٰ کیا کہ اس ایپ کے ذریعے ہر شخص کی 24گھنٹے نگرانی کی جاسکتی ہے یہ تو جاسوسی کیمرہ لگانے جیسا ہے ۔دراصل فرانس کے ہیکر نے سائبر سکیورٹی ماہر الارٹ ایلٹسن نے منگلوار کو دعویٰ کیا کہ ایپ میں سکیورٹی کو لیکر کئی مسئلے پائے گئے ہیں اور 9کروڑ ہندوستانیوں کی پرائیویسی کو خطرہ ہے ۔
(انل نریندر)

بلڈروں کے کہنے پر کرناٹک نے پرواسی مزدوروں کی ٹرینیں روکیں

ریلوے پانچ دن میں ایک سو بائس اسپیشل ٹرینیں چلا کر دیش بھر میں پھنسے سوالاکھ پرواسی مزدوروں کو ان کی آبائی ریاست تک پہونچا چکی ہے ادھر کرناٹک میں بدھ کے روز اس وقت سیاست گرماگئی جب بلڈروں کی کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بی ایس یدی یورپا سے ملاقات کے کچھ گھنٹے بعد ریاست کی بھاجپا حکومت نے رونگی سے عین پہلے شرمک اسپیشل ٹرین کنسل کر دی بلڈروں نے وزیر اعلیٰ سے مانگ کی تھی کہ مزدوروں کو ریاست سے جانے سے روکا جائے اگر یہ جائیںگے تو تعمیراتی کام ٹھپ پڑجائیںگے اس لئے سرکار نے لاک ڈاو ¿ن کی شرطوں میں راحت دی ہے اور تعمیراتی اور کاروباری سرگرمیوں کو اجازت دے دی ہے مزدوروں کی کمی ہونے سے ان صنعتوں میں کام متاثر ہوںگے وزیر اعلیٰ نے حکام سے کہا کہ مزدوروں کو سمجھائیں کہ وہ ریاست نا چھوڑیں وہیں مہاراشٹر حکومت نے یوپی بہار سمیت ان ریاستوں کو آڑے ہاتھوں لیا جو پرواسی مزدوروں کو ریاست سے لے جانے سے پہلے ان کی جانچ کرا رہی ہیں شو سینا نے اپنے اخبار سامنا میں یوپی بہار سرکار کے اس قدم کو غیر انسانی بتایا کہا کہ امیروں کو سرکار فری بلا رہی ہے جبکہ ان مزدوروں سے کرایہ وصولنے کے ساتھ ان کی جانچ بھی کرارہی ہے ریلوے نے بدھ کو 42اسپیشل ٹرینیں چلانے کا پلان بنایا تھا جن میں اڑیسہ مدھیہ پردیش اور جھارکھنڈ اور یوپی بہار کے لوگوں کوبھیجا جارہا تھا ان ٹرینوں میں دیر شام تک 26ٹرینیں اپنی منزل کے لئے روانہ ہو چکی تھیں اور 16کو دیررات تک روانہ ہونا تھا ۔این منجو ناتھ پرساد نے ریلوے کو خط لکھ کر اگلے پانچ دن میں چلنے والی دس ٹرینیں کینسل کرنے کوکہا ۔بلڈروں کے ذریعے مزدوروں کی واپسی پر کام ٹھپ ہونے کا اندیشہ ظاہر کی گیا تھا ٹرین کینسل ہونے کو آل انڈیا کونسل آف ٹریڈ یونین نے اس قدم کو مزدوروں کی آمد ورفت کی آزادی حق کی خلاف ورزی بتایا ہے ۔
(انل نریندر)

محصول کیلئے ڈیزل پٹرول و شراب پر منحصر حکومتیں

بین الاقوامی بازار میںپٹرول،ڈیزل کے دام میں بھاری گراوٹ آئی ہے ۔کچے تیل کے دام اب تک کے اپنی نچلی سطح پر آچکے ہیں ایسے میں اپنی اپنی سطح پر پٹرول ڈیزل کے دام بڑھانے کا ریاستی حکومتوں کا فیصلہ حیران کن ہے پٹرول ڈیزل کے داموں کا مزید بوجھ آخر جنتا پر ہی پڑتا ہے منگلوار کو پٹرول دس روپئے اور ڈیزل 13روپئے سستا ہو سکتا تھا لیکن مرکزی سرکار نے جنتا کا کورونا بیماری کے بیچ میں راحت نہیں دی اتنا ہی نہیں پٹرول اور ڈیزل کی ایکسائز ڈیوٹی بڑھا دی ہے ۔ڈیزل کی بنیادی قیمت ڈھلائی کے ساتھ 18روپئے 78پیسے اور پٹرول کی 18.28روپیہ ہے لیکن دہلی میں ڈیزل کے دام 69.39روپئے ہے اور پٹرول 71.26روپئے فی لیٹر مل رہا ہے مثلا آپ ایک لیٹر پٹرول خریدتے ہیں تو مرکزی سرکار کو ایکسائز ڈیوٹی کے بغیر 32.98روپئے ٹیکس ملے گا اور ریاستی سرکار کو 16.44روپئے کا ٹیکس دیتے ہیں مرکزی سرکار کی طرف سے بڑھائی گئی ایکسائز ڈیوٹی پر دہلی سرکار کی طرف سے بڑھائے گئے ریٹ کے بعد اب پٹرول اور ڈیزل کے دام میں بہت ہی معمولی فرق رہ گیا ہے لاک ڈاو ¿ن میں ہوئے خسارے سے نکلنے کے لئے دہلی سرکار نے شراب اور پٹرول ڈیزل کی قیمتوںمیں اضافہ کیا ہے ۔ٹیکس فری بجٹ کا دعویٰ کرنے والی دہلی سرکار نے کورونا کے وبا کے دور میں پیسے اکٹھا کرنے کے لئے شراب اور پٹرول ڈیزل پر مزید ریٹ لگا کر اپنا خسارہ پورا کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔یہ قدم عوا م کے مفاد میں نہیں مانا جا سکتا بھلے ہی شرا ب میں 70فیصد قیمت بڑھانا سمجھ میں آتا ہے لیکن پٹرول ڈیزل تو عام جنتا پر مار ہے جس کی کمر پہلے ہی سے ٹوٹی پڑی ہے اس پر مزید بوجھ ڈالنا ہماری سمجھ سے باہر ہے ۔سرکار کو پٹرول ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ سے رواں برس میں 1.6لاکھ کروڑ روپئے کا فاضل مالی محصول مل سکتا ہے اس سے لاک ڈاو ¿ن سے ہو رہے مالی نقصان کی تکمیل کرنے میں مدد ملے گی اس وقت پوری دنیامیں کچے تیل کا بازار تاریخ میں سب سے بڑی گراوٹ جھیل رہاہے بین الاقوامی بازار میں پچھلے تین مہینہ میں تیل 56ڈالر سے گر 22ڈالر فی بیرل آچکا ہے یعنی قریب 60فیصد تک کی گراوٹ ہے ۔ایسے میں جب بھارت کی تیل کمپنیوں نے 19ڈالر فی بیرل کے بھاو ¿ سے کچا تیل خریدا ہو تو دام کم کرنے چاہیے تھے آج بھی پٹرول ڈیز ل کے دام کم و بیش وہی بنے ہوئے ہیں جہاں 2-3مہینے پہلے تھے ۔الٹا خزانہ بھرنے کے لئے ریاستی سرکاروں نے ریٹ بڑھانے جیسا عوام مخالف فیصلہ کرنے میں کوئی قباحت نہیں کی سوال ہے بین الاقوامی بازار میںبھاری گراوٹ عام آدمی کو فائدہ کیوں نہیں مل رہا ہے ایسا پہلی بار ہوا ہے جب مرکزی حکومت نے پٹرول ڈیزل ایکسائز ایک ساتھ اتنا زیادہ بڑھایا ہے حالانکہ کہا جارہا ہے کہ اس سے جنتا پر کوئی فاضل بوجھ نہیں پڑے گا لیکن حقیقت میں یہ غریب جنتا پر ایک اور بھاری مار ہے سرکاروں کو یہ بھی خیال دھیان رکھان چاہیے کہ پٹرول ڈیزل مہنگا ہونے کا سیدھا اور پہلا اثر مال کی ڈھلائی پر پڑتا ہے روز مرہ کی ضرورت کی چیزوں کی قیمتوں پر اثر پڑتا ہے ویسے ہی لوگ لاک ڈاو ¿ن سے پریشان ہیں یہ قدم اور پریشانی میں ڈالنے والا ہے ۔
(انل نریندر)

08 مئی 2020

پاکستان میں تبلیغی جماعت کے 72ممبر فرار

پاکستان میں اتوار کوکورونا مریضوں کی تعداد 20ہزار سے اوپر ہو گئی ہے اب تک 450سے زیادہ موتیں ہو چکی ہیں سب سے زیادہ 180موتیں پاکستان کے صوبے خیبر پختون خوا میں ہوئی ہیں اور سرکار کورونا سے مقابلے میں کئی محاض پر ناکام رہی ہے ایسے ہی صوبہ پنجاب کے حافظ آباد میں قائم بڑے تبلیغی مرکز کے کوارنٹائن کئے گئے تبلیغی جماعت کے اب تک 72ممبر بھاگ چکے ہیں ان کو پکڑنے کےلئے پاک کی خفیہ ایجسنی آئی ایس آئی کو لگایاگیا ہے دوسری طرف پاک فوج نے بھی کورونا سے مقابلے کے لئے تیاری شروع کر دی ہے اس نے پورے دیش میں چھاو ¿نیوں ہتھیار فیکٹریوں ،بارڈر سرحدی علاقوں ،کشمیر گلگت بلتستا ن میں مریضوں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے لاک ڈاو ¿ن کرکے فوج کے جوان تعینات کر دئیے گئے ہیں ۔میڈیکل کور کی مدد کے لئے چینی فوج نے میڈیکل ماہرین بلائے ہیں جو ان چینی ڈاکٹروں کو پاکستان کے اسپتالوں میں بھیجا جا سکتا ہے چینی میڈیکل ٹیم کی قیادت میجر جرنل وانگ کنگ جین کر رہے ہیں ۔وہ 9دن پہلے پاکستان آئے تھے اور کچھ دن پاکستان میں رہیں گے ادھر اپوزیشن وزیر اعظم عمران خان پر مسلسل دباو ¿ بنا رہی ہے پاکستان پیوپلس پارٹی کے صدر دلاور بھٹو کا کہنا ہے کہ سرکار کورونا کا مقابلہ کرنے میں کمزور ثابت ہوئی ہے انہیں استعفی ٰ دے دینا چاہیے ۔حالانکہ سرکار کا کہنا ہے کہ اس نے اب تک 2لاکھ 3ہزار 25کورونا ٹیسٹ کرائے ہیں پاکستان کے ڈاکٹر شروع سے ہی سکیورٹی آلات کی کمی سے پریشان ہیں 4دن پہلے راول پنڈی شہر میں 26سالہ ڈاکٹر کی کورونا سے موت ہو گئی تھی اس موت نے ہزاروں ہیلتھ اسٹاف سے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور وہ ضرور ی سکیورٹی اور آلات اور سہولیت کی مانگ کر رہے ہیں سرکار ان کی مانگیں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے ۔اس کے علاوہ پشاور میں بھی ایک سینئیر ڈاکٹر کی کوروناسے موت ہو چکی ہے ۔پہلے سے ہی ہیلتھ ملازمین کے کورونا سے متاثر ہونے سے پریشان سرکار اور انتظامیہ کی مصیبت اب ان تبلیغی جماعت والوں نے بڑھا دی ہے اور مرکز سے 72افراد فرار ہو گئے اور وہ دیش کے مختلف حصوں میں پھیل چکے ہوںگے اگر ان میں کوئی کورونا سے متاثر ہوا تو وہ جس جس سے ملیں اس میں وہ وائرس پھیلا دیںگے ۔تبلیغی جماعت بھارت کے لئے تو مشکل کا سبب بنی تھی لیکن اب پاکستان کے لئے بھی درد سر بن گئی ہے ۔
(انل نریندر)

اسرائیل اور اٹلی کا دعویٰ:کورونا دوا تجربہ کامیاب

کورونا وبا سے لڑ رہی دنیا کے لئے اسرائیل اور اٹلی سے خوش خبری آئی ہے اسرائیل کے وزیر دفاع بینٹ نے دعویٰ کیا ملک کی اہم جیوک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سائنسدانوں نے کورونا وائرس کے لئے انٹی بوڈی دوا تیار کر لی ہے اور انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیم نے کورونا وائرس کو ختم کرنے کے ٹیکہ تیار کر نے کا مرحلہ پورا کر لیا ہے اور اب اس کے پیٹنٹ اور وسیع پیمانے پر ان کی تیاری کے بارے میں کام چل رہا ہے بینٹ نے پیر کو نیوزجیو نا میں اسرائیل کی انسٹی ٹیوٹ فار وایو لوجیکل ریسرچ کے لیب کا دورہ کیا اور وہاں ایک دوا تیار کرنے کی ہدایت دی ۔وزیر کے مطابق یہ اینٹی ڈوٹ ویکسین مونوکلونل طریقے سے کورونا وائرس پر حملہ کرکے وائرس کو جسم کے اندر ہی ختم کر دیتی ہے اور ہمارے لئے یہ یہودی دماغ کی ایک عجب معجزہ ہے ادھر اٹلی کے سائنسدانوں نے بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے کورونا وائرس کی دوا بنا لی ہے سائنس ٹائمس میں منگل کو سائع رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس جان لیوا بیماری سے جڑے اسپلان جانی ہاسپٹل میں ٹسٹ کیا گیا ہے او رچوہے میں اینٹی ووڈی تجربہ کرکے کیا گیا اور اس نے اپنا اثر دکھایا ہم نے اینٹی باڈی باقاعدہ تیار کئے ہیں جس نے پہلی بار انسانی نسوں میں موجود کورونا وائرس کو ختم کر دیا ہے اورآگے کچھ انسانوں پر ٹرائل کئے جانے ہیں امید تو یہی کی جاتی ہے ان دونوں ملکوں کے دعوے میں دم ہو سکتا ہے اور اس منہوس بیماری سے جلد سے جلد چھٹکارا ملے ۔
(انل نریندر)

مزدوروں سے ٹرین کرایہ وصولنے پر سیاسی گھمسان

کانگریس صدر سونیا گاندھی نے پیر کی صبح پرواسی مزدوروں کی گھر واپسی کے لئے ریل کرایہ ادا کرنے کیلئے کانگریس کی طرف سے اعلان کر کے ایک بڑا سیاسی داو ¿ کھیلا ہے ذرائع کے مطابق سونیا کے اس ماسٹر اسٹوک سے پہلے سونیا نے کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی سے لمبی بات چیت کی راہل نے اس پر کورونا کو لیکر تشکیل کانگریس کور کمیٹی کے کچھ بھروسہ مند ممبروں سے بات چیت کرنے کے بعد حکمت عملی طے کی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے نمستے پروگرام کا نام لئے بغیر سونیا نے کہا کہ جب ہم گجرات کے ایک پروگرام میں سرکاری خزانے سے سو کروڑ روپئے خرچ کر سکتے ہیں ۔ریل منترالے پی ایم کئیرس فنڈ میں 151کروڑ روپئے دے سکتا ہے تو بیرون ملک میں پھنسے ہندوستانیوں کو بنا کرائے کے واپس لا سکتے ہیں تو پھر پرواسی مزدوروں کو بنا کرایہ ریل سفر کی سہولت کیوں نہیں دی جا سکتی ۔کانگریس کے سکریٹری کیسی وینو گوپال اور پارٹی ترجمان رندیپ سرجیووالا نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے میڈیا سے بات چیت میں ریلوے کا ایک ڈاکیومنٹ جاری کیا جس میں مزدوروں سے کرایہ وصولنے کا ذکر ہے ۔وینو گوپال نے کہا کہ پردیش کانگریس یونٹ سے متعلق ریاستی سرکاروں اور چیف سکریٹریوں کے ساتھ غور خوض کرنے کے بعد مزدوروں کا ریل کرایہ میں جو بھی خرچہ آئیگا اس کی ادائیگی کرے گی ۔راہل گاندھی نے ٹیوٹر پر لکھا ہے ایک طرف تو ریلوے دوسری ریاستوں میں پھنسے مزدوروں سے ٹکٹ کا کرایہ وصول رہا ہے وہیں دوسری طرف وزارت ریل پی ایم کئیرس فنڈ میں 151کروڑ روپئے دے رہا ہے ذرا یہ گتھی سلجھائیں ۔ادھر پرینکا گاندھی نے بھی ٹوئیٹ کیا کہ ہم ویرون ممالک میں پھنسے ہندوستانیوں کو بنا کرایہ لا سکتے ہیں تو ہم مفت ریل سفر کی سہولت کیوں نہیں دے سکتے ؟بھاجپا نے جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ پرواسی مزدوروں سے ریل کرایہ و خرچ وصولنے کے اپوزیشن کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ریلوے شرمک اسپیشل ٹرین کے کرایہ پر 85فیصدی سبسڈی دے رہا ہے اور15فیصدی ادائیگی ریاستی حکومتوں کو کرنی ہے اور کہا کہ زندگی ایک چکر سے چلتی ہے اور مالی خانہ پوری بھی ایک قاعدے سے ہوتی ہے یعنی لیور سے پروڈیکشن اور پروڈکشن نے استعمال اور اس کے استعمال کے لئے لیبر یہ کام صنعت کار کر رہے ہیں پیداوار نہیں ہو سکتی اگر لیور اپنے گھر چلے جائیں بے روزگار ہوئے مزدوروں کے پاس کھانے کونہیں ہے اور کوارنٹائن محض ان کا پیٹ بھرنے کا طریقہ نہیں ہے ۔اسے روزی کیلئے باہر نکلنے سے ڈراتا ہے سرکار کے پاس اتنا اناج ہے اگر جلد ہی ختم نہیں کیا گیاتو ذخیرہ اور رکھ رکھاو ¿ اور تقسیم کا خرچ اناج کی قیمت سے دگنا ہو جائیگا ۔دیکھا جائے تو ریاستی سرکاروں کی ناکامی ہے تو کہ دوسری ریاستوں میں رہ رہے لوگوں کو یقین دلانے میں کامیاب نہیں رہے ۔ہر صورت میں ان کا ساتھ دیا جائیگا ۔ان کو کوئی مشکل نہیں آنے دی جائیگی ۔ویسے ان پرواسی مزدوروں کا واپس جانا بھی کورونا انفکشن کے نظریے سے کم خطرہ بھرا نہیں ہے ۔ہم سیاسی پارٹیوں سے اپیل کریںگے کہ وہ اس معاملے میں سیاست بند کرکے دیش کے مستقبل کے نظریے سے اپنا رول نبھائے ۔
(انل نریندر)

07 مئی 2020

کئی دیش معیشت کو پٹری پر لانے کےلئے ڈھیل دیںگے

دنیا کے کئی بڑے ملکوں میں لاک ڈاو ¿ن ختم کرنے کے ساتھ معیشت کو پٹری پر لانے کے لئے کوششیں تیز ہو گئی ہیں ۔ولمرگ کی رپورٹ کے مطابق جرمنی ،جاپان جیسے ملکوں میں ڈھیل کے ساتھ چین پہلے سے ہی چھوٹ پا رہے ہیں 4مئی سے آدھی دنیا دوڑنے لگی تھی چین کے زیادہ تر حصوں میں پہلے ہی کاروباری سرگرمیاں شروع ہو چکی ہیں حالانکہ شوشل ڈسٹنسنگ فیس ماسک جیسی پابندیاں ہر دیش میں نافذرہیں گی حالانکہ کچھ دیشوں نے ابھی پابندی برقرار رکھنے کافیصلہ کیاہے ۔امریکی ریاستوں میں لاک ڈاو ¿ن 17سے 24مارچ کے درمیان لاگو ہوا تھا اب امریکہ کے نائب صدر مائک پینس نے کہا کہ مجھے بتایاگیا کہ امریکہ کی 35ریاستوں نے اپناکام کاج شروع کرنے کے لئے باقاعدہ پلاننگ شروع کر دی ہے ۔ٹکساز اور البامہ وغیر ہ ریاستوں میں لاک ڈاو ¿ن جمع کو ختم ہو گیا ۔فوریڈا او رارقنساس کے ساتھ کلوفورنیا کے کچھ حصو ں نے چار مئی کے بعد لاک ڈاو ¿ن کھولنے کے اشارے دئیے تھے ۔لیکن کئی ایسی ریاستیں ہیں جہاں 15مئی سے پہلے لاک ڈاو ¿ن کھلنے کے آثار نہیں ہیں جرمنی میں بھارت کی طرح سے 24مارچ سے لاک ڈاو ¿ن لاگو ہواتھا اور 4مئی کو کھیل میدان جیسے پبلک مقامات کھل گئے ہیں اور 6مئی کو ہوٹل بھی کھل گئے اسپین میں مرحلے وار ڈھیل شروع ہوگئی ۔اور مال کی ڈلیوری وغیرہ ہونے لگی چھوٹے کاروبار ہو ٹل 11مئی سے کھلیں گے ملیشیا کے وزیر اعظم محی الدین یاسین نے اعلان کیا ہے کہ 4مئی سے اقتصادی سیکٹر کھول دیا گیا ہے ۔ملیشیا ساو ¿تھ مشرقی وسطیٰ تیسری بڑی معیشت ہے اب وہاں زیادہ لوگوں سے جڑے ہر طرح کے پروگرام ہو سکیں گے ۔جاپان او ر برطانیہ میں لاک ڈاو ¿ن فی الحال بڑھ گیا ہے ۔فرانس کے وزیر اعظم ایڈورلڈ وفلپ نے کہاکہ مالی پابندیا ں 11مئی سے ختم ہو جائیںگی اور دیش میں ہر ہفتہ 7لاکھ کورونا ٹیسٹ کی صلاحیت حاصل ہو جائے گی لیکن سمندری ساحل پر ریستورانت کیفے یکم جون تک نہیں کھلیں گے بہر حال دیش میں 17مارچ سے لاک ڈاو ¿ن شروع ہو ا تھا اور 15دن کا تیسرا لاک ڈاو ¿ن پورا ہونے والا ہے ۔
(انل نریندر)

ایک بار پھر ممتا اور مرکز آمنے سامنے

ایک طرف پورا دیش کوروناوائرس سے لڑ رہا ہے تو وہیں دوسری طرف ایک دوسرے کی طرف سے الزام تراشیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔مغربی بنگال کے پرنسپل ہیلتھ سکریٹری نے مرکزی وزارت صحت سے کہا ہے کہ بنگال میں دس نہیں صرف چار ہی ریڈ زون ہیں آپ کو بتا دیں وزارت نے دودن پہلے ہی دیش کے ضلعوں کو ریڈ اوراورنج و گرین زون میں بانٹا ہے جس میں مغربی بنگال کے کچھ دس ضلعوں کو ریڈ زون میں رکھا ہے اس بارے میں پرنسپل ہیلتھ سکریٹری نے بتایا کہ مغربی بنگال کے دس ضلعوں کو ریڈ زون میںرکھا ہے لیکن اس میں صرف 4ضلعے ریڈزون میں ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ کورونا وائرس کے تیزی سے بڑھتے اثر کو دیکھتے ہوئے ان دس ضلعوں کو الگ الگ حساب سے بانٹنے کاکام کیا گیا ہے اور ڈبلنگ ریٹ اور ٹیسٹنگ ریٹ کے حساب سے ضلعوں کی نئی فہرست تیار کی گئی جن ضلعوں میں کورونا وائرس تیزی سے پھیلا اور نئے مریض سامنے آرہے ہیں ان ضلعوں کو ریڈ زون میں رکھا گیا ہے وہیں جن ضلعوں میں گزشتہ 21دن میں کوئی نیا مریض سامنے نہیں آیا انہیں گرین زون میں رکھاگیا اب28دن کے بجائے 21دن میں کورونا کا کیس نا آنے پر کسی ضلعے کو ریڈ زون سے گرین زون میں رکھا جا سکے گا ۔موجودہ قواعد کے تحت 14دن تک نیا کیس نا سامنے آنے پر گرین زون میں رکھا جاتا ہے مغربی بنگال اور مرکزمیں لڑائی پرانی چلی آرہی ہے اس سے پہلے بھی مرکزی ٹیم بھیجنے پرتنازعہ کھڑاہواتھا یہ افسوس ناک ہے اور سب کو مل کر کورونا سے لڑنا چاہیے ناکہ آپس میں لڑیں ۔
(انل نریندر)

رعایت ملی تو شراب کی دکانوں پر لمبی لائنیں

دہلی سمیت دیش بھر میں 25مارچ کو شروع ہوا لاک ڈاو ¿ن 41ویں دن اور لاک ڈاو ¿ن 3کا پیر کو پہلا دن کا ریڈ زون والی دہلی میں بھی چھوٹ ملی تو صبح سے ہی سڑک پر گاڑیاں بڑھنے لگیں غازی آباد اور نوئیڈاوارڈر پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں دکھائی دیں تو گڑگاو ¿ں و فریدآباد بارڈر پر بھی سختی قائم رہی ۔پبلک ٹرانپورٹ شروع نہ ہونے کی وجہ سے دفتر کھلنے کے باوجود موجودگی کم رہی ۔دکانیں کھلنے سے پہلے ہی شراب کی دکانوں پر لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں تھیں اور شراب کی بوتلیں پانے کے لئے لوگوں نے شوشل ڈسٹنسنگ کی کھل کر دھجیاںاڑائیں اور بھیڑ بے قابو ہونے کی وجہ سے 11بجے ہی سبھی دوکانیں بند کرنی پڑیں ۔جگت پوری کے علاقے چندر نگر کی دوکان پر ایک کلو میٹر لمبی قطار تھی تو لکشمی نگر میں ڈیڑھ کلو میٹر کی تھی کشمیری گیٹ وغیرہ علاقوں میں بھیڑ کوہٹانے کے لئے پولیس کو ہلکا لاٹھی چارج کرنا پڑا دہلی سرکار نے شراب کی دوکان کی کھولنے کی ذمہ داری اپنی چار کارپورشنوںکی سونپی 150دوکانوں کی فہرست بھی بنائی گئی لیکن شوشل ڈسٹنسگ کی تعمیل اور دوکان پر پانچ خریدار سے زیادہ اکھٹے نہیں ہونے کی شرط عائد کی تھی دہلی اسٹیٹ سبل سپلائی کارپوریشن نے دوکان کھولنے سے ہاتھ کھڑے کر دئیے ۔دہلی پولیس کے ملازم مسلسل شوشل ڈسٹنگ کے قواعد کی تعمیل کرنے کوکہتے رہے ۔دہلی میں ٹھیکے کھلنے پر کئی جگہوں پر سرکار کی مخالفت ہوئی تو کئی جگہ عورتوں نے شراب کی دوکانوں کو بند کرانے کے لئے مورچہ کھولا ان کا کہنا تھا کہ یہ اچھانہیں ہوا کی شراب کی دوکانیں کھلتے ہی ان کے آگے جمع ہوئی بھاری بھیڑ نے جسمانی دوری بنائے رکھنے کو ایسا نظر انداز کی کہ لاک ڈاو ¿ن کی تپسیا بھنگ ہو گئی ۔راجیہ سرکاروں اور اس کی انتظامیہ کو اس کا احساس ہونا چاہیے تھا شراب کی بکری کی اجازت ملنے پر ان کی دوکانوں پر افراتفری مچ سکتی ہے زیادہ دوکانوں پر ایسا ہی ہوا ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ یہ رہی کہ لوگوں نے جلد شراب خریدنے کی للک میں وقت اور ڈسپلن کو ٹھیکا دکھا دیا وزارت کا کہنا ہے محصول کی وجہ سے دوکانیں کھولنے کے لئے ریاستی حکومتوں کا بھاری دباو ¿ تھا 2020-21میں دیش کی 16بڑی ریاستوں شراب کی بکری سے کل محصول سے قریب دو لاکھ کروڑ روپئے رکھا گیا ہے کئی ریاستوں کے کچھ محصول کا پندرہ سے بیس فیصد پیسہ اسی مد سے آتا ہے لہذا کہا جا رہا ہے اگر انتظامیہ کا پہیا چلانا ہے تو یہ مالی محصول ضروری ہے حالانکہ دیش میں دو ریاستیں ایسی بھی ہیں جن میں وہار اور گجرات جہاں شراب پر پابندی ہے انہیں اس مد سے ایک پیسہ بھی نہیں آتا پھر بھی وہ کام چلا رہے ہیں اگر شراب خریدنے والے تحمل سے کام لیں اور ڈھنگ سے شوشل ڈسٹنسنگ برقرار رکھیںتو شراب کی دوکانیں کھولنے میں کوئی نقصان نہیں ہے جہاں ایک طرف ضلع افسران لوگوں کو چلنے پھرنے اور دیگر شراب کی دوکانیں کھلنے پر ایک کلو میٹر لمبی قطاریں دیکھ کر کئی ریاستوں کے وزیر اعلیٰ خوش نظر آرہے ہیں ۔
(انل نریندر)

06 مئی 2020

کورونا وائرس متاثرین کےلئے ارڈا کا اہم ترین فیصلہ

انشورنس ریگولیٹری اینڈ ڈبلپمنٹ اتھارٹی آف اندیا (ارڈا)نے سبھی ہیلتھ انشورنس کمپنیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ کورونا وائرس کی وبا میں کیش لیش علاج اور اسپتال سے فائنل ڈسچارج کی رکویسٹ پر دو گھنٹے کے اندر فیصلہ لے ارڈا نے جنرل اور ہیلتھ انشورنس کے فوراًنپٹارے کے لئے نئے تقضے طے کئے ہیں تاکہ بیماہولڈر کورونا وائرس متاثرہ مریضوں کو کوئی پریشانی نا ہو انشورنس ریگولیٹر نے کہا کہ ہاسپٹل سے فائنل بل یا ڈسچارج کی اطلاع ملنے پر بیما کنندہ کو د وگھنٹے کے اندر اپنے فیصلے کی اطلاع مریض اور ہاسپٹل کو دینی ہوگی ساتھ ہی بیما یافتاو ¿ں کو یہ بھی کہا کہ وہ اپنی تھرڈ پارٹی ایڈمن اسٹریکس کے لئے ضروری گائڈ لائنس جاری کرے ۔مارچ میں ہی ارڈ انے بیما ہولڈروں کوکورونا مریضوں کے دعوے فورا اور تجزیاتی بنیاد پر نپٹانے کی ہدایت دی تھی ریگولیٹری نے کہا کہ بیما کنندہ کلیم کو نپٹارا کرنے کے لئے سسٹم اور کاروائی تیار کریں جو چوبیس گھنٹے ایکٹو رہے ۔وزارت مالیات نے دیش بھر میں جاری لاک ڈاو ¿ن کو دیکھتے ہوئے ہیلتھ اور موٹر انشورنس کی تجدید تاریخ کو بڑھا کر پندرہ مئی تک کر دیا ہے تاکہ بیما پالیس لینے والوں کو کوئی پریشانی نا ہو اس کا مطلب ہے کہ اگر آپ کے موٹر یا ہیلتھ انشورنس کی رینیول کی تاریخ 25مارچ سے3مئی کے بیچ تھی وہ پالیسی اب پندرہ مئی تک ویلڈ رہے گی اور میعاد او ر بڑھے گی یا نہیں وہ لاک ڈاو ¿ن پر منحصر ہوگا ۔ارڈا نے اپنے سرکولر میں کہا کہ ہاسپٹالائیزیشن کوردینے والی موجودہ نقصان کی تکمیل کرنے والی ہیلتھ انشورنس پالیسیوں کو کورونا معاملوںمیں بھی کور دینا چاہیئے ۔موجودہ پالیس معاہدے کے قواعد و شرائط کے مطابق میڈیکل کلیم کا نپٹارا کیا جانا چاہیے جس میں کوارنٹائن پیریڈ بھی شامل ہے کلیم کمیٹی کے ذریعے ایک جامع جائز ہ لئے بنا دعوے کو خارج نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ارڈا کے فیصلے کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں لیکن یہ دیکھنا ہے کہ یہ انشورنس کمپنیاں ان ہدایتون پر کتنی تعمیل کرتی ہیں ؟کیونکہ انشورنس کمپنیوں کی عادت بن گئی ہے کہ وہ کسی نا کسی طریقے سے کلیم کو سیٹل کرنے سے بچ سکیں ۔
(انل نریندر)

رمیش دتا نہیں رہے ،الوداع دوست

دہلی کے فقیری کانگریس کے زمینی نیتا رمیش دتا ہمارے بیچ میں نہیں رہے ۔لمبی بیماری کے چلتے انہیں ایک مرتبہ پھر دہلی کے بترا اسپتا ل می داخل کرایا گیا تھا لیکن اس مرتبہ وہ موت سے ہار گئے اور ہمیشہ اس مرتبہ دتا بچ نا سکے ۔رمیش دتا کو میں پچھلے پچاس برس سے زیادہ عرصے سے جانتا ہوں میں ماڈرن اسکول میں پڑتا تھا اور اکثر بنگالی مارکیٹ جاتا تھا بنگالی مارکیٹ میں بھیم سین کی مٹھائی وغیر ہ کی مارکیٹ پر رمیش دتا بیٹھے رہتے تھے میرا تب سے ان سے تعلق بنا اور آخری وقت تک بنا رہا وہ آئے دن ہمارے دفت میں اپنی خبر چھپوانے آتے رہتے تھے اور مجھ سے ملنے بھی آجاتے تھے ان کا تکیہ کلام ڈیڈی تھا ہرایک کو ڈیڈی پکار کر پاو ¿ں چھونے لگتے تھے یہاں تک کہ اپنے سے بہت چھوٹوں کو بھی ڈیڈی کہہ دیاکرتے تھے ۔اور پاو ¿ں چھوتے تھے میرے دونوں بچوں کی شادیوں میں وہ اپنی نہرو بریگیڈ کو لیکر آئے انہوں نے شادی کی تیاریوں میں گھر کے فرد کی طرح سے کام کیا بہت سال پہلے ہم نے رام لیلاو ¿ں کو سمانت کرنے کے لئے را م لیلا ایوارڈ شروع کئے تھے جس میں ہم دہلی کی سب سے اچھی رام لیلاو ¿ں کو سمانت کرتے تھے پہلے ایوارڈ فنکشن میں ہم نے سورگیہ راجیو گاندھی کو بلایاتھا مجھے آج بھی یاد ہے کہ راجیو چناو ¿ ہار چکے تھے اور انہیں مہمان خصوصی بنانے میں تھوڑی قباحت تھی لیکن میں نے انہیں یقین دلایا کہ ان کا شاندار خیر مقدم ہوگا رمیش دتا اپنے بینڈ باجے کے ساتھ پورے لاو ¿ لشکر کے ساتھ آئی فیکس آل پہونچے اور راجیو جی کا زور دار استقبال کیا ۔بھیڑ اتنی ہوگئی کہ دتا صاحب کو بھیڑ کنٹرول کرنی پڑی ۔ہم ہر سال 80وسرجن یاترا کرتے ہیں اور ہم بھارت اور غیر ملکوں میں پڑی لاوارث استھیوں کا ہندو ریتی رواج سے ہریدوار میں وسرجن کرتے ہیں اور اس موقع پر ہمیشہ ہمارے سواگت کے لئے رمیش دتا اپنی نہرو بریگیڈ کے لاو ¿ لشکر کو لیکر پہونچتے تھے تین چار وار وہ ہمارے ساتھ ہو حریدوار بھی گئے ایک سال جہاں ہم ٹھہرتے تھے وہاں کمرہ نا ملنے کی وجہ سے ہمیں ہوٹل میںتھہرنا پڑا جو کہ دھرم شالہ کے پاس تھا وہاں ہم نے کمرے لئے اور رمیش دتا کوبھی میں نے ہوٹل میں ٹھہرایا ان کے ساتھ ہمارے پنڈت رامیشور دیال بھی کمرے میں ٹھہرے تھے اگلی صبح پنڈت جی نے مجھے بتایا کہ رمیش دتا صبح صبح اٹھ گئے جو کپڑے پہنے تھے انہیں دھویا ان کے پاس کپڑوں دوسرا جوڑا نہیں تھا اس لئے جو پہنے تھے ا س کو دھو کر پہنا ایسے سادہ انسان تھے کہ وہ ہر کانگریسی نیتا کی کسی بھی خوشی کے پروگرام میں اپنی ٹیم کے ساتھ پہونچتے تھے میں انہیں بھلا کیسے بھلا سکتا ہوں یا کانگریس کیسے بھلا سکتی ہے یہ اور بات ہے کہ کانگریس لیڈشپ میں انہیں کبھی سمان نہیں دیا جس کے وہ حقدار تھے جوکوئی بھی ان سے مدد مانگتا تھا اگر وہ کرسکتے تھے تو وہ ضرور کرتے تھے ۔جب وہ 75سال کے ہوئے اور ڈپٹی مئیر بنے تب بھی ان کے برتاو ¿ کبھی تبدیلی نہیں آئی اور منٹو روڈ پر ٹوٹے پھوٹے ایک سرکاری گھر میں فقیروں کی طرح رہتے تھے ان کے ماتا پتا اور بھائی جو رنجیو ہوٹل میں سینئیر مینیجر تھے ان سب کا پہلے ندھن ہو گیاتھا الوداع دوست بھگوان ان کی آتما کوشانتی دے ۔
(انل نریندر)

کرنل کی بیوی بولی شہادت پر مجھے فخر ہے

جموں کشمیر کے ہندواڑا میں ایک گھر کے لوگوں کو یرغمال بنا کر بیٹھے دہشت گردوں کو ڈھیر کرتے ہوئے راشٹریہ رائے فل کی اکیسویں بٹالین کے کمانڈنگ افسر کرنل آشو توش شرما سمیت پانچ جانباز شہید ہو گئے ۔ادیہ پور میں مقیم کرنل شرما کی بیوی پلوی نے شہادت پر فخرظاہرکرتے ہوئے کہا کہ میرے پتی دیش کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوئے ہیں مجھے ان پر فخرہے میں ان کی شہادت پر آنسو نہیں بہاو ¿ں گی دیش کے لئے قربان ہو نا احترام کی بات ہے یہ ان کا فیصلہ تھا میں اس کا پورا سمان کرتی ہوں ان کو جنون صرف وردی میں تھا ایسے میں کوئی ان کے عظیم قربانی پر افسوس جتائے آنسو بہائے یہ صحیح نہیں ہوگا ۔کشمیر میں تعینات ایک میجر جرنل نے بتایا کہ کرنل شرما کے لئے جان ہتھیلی پر رکھ کر آگے بڑھنا عام بات تھی ان کی بہادری کو دیکھتے ہوئے مسلسل 2018اور 2019میں فوج میڈل ملا تھا ۔دہشت گرد کو آمنے سامنے کی لڑائی میں مار گرانے کے لئے ملاتھا وہ دہشت گرد دستی بمب پھیکنے والا تھا تبھی کرنل شرما نے جھپٹ کر دبوچ لیا اور وہیں ڈھیر کر دیا ۔کرنل شرما گورلا جنگ میں ماہر تھے وہیں اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ نے کہا کہ شہید آشو توش شرما کے گھر والوں کو پچاس لاکھ روپئے اور ایک نوکری دےگی اور ہمارے جوانوں کا مڈبھیڑ میں شہید ہونا ایک ایسا نقصان ہے جس کی تلافی نہیں کی جا سکتی۔یہ ٹھیک ہے کہ مڈبھیڑ کے دوران فوج نے جن دو دہشت گردوں کو مار گرایا اس میں لشکر طیبہ کا سپریم کمانڈر حید علی تھا یہ دہشت گردی کے خلاف ایک کامیابی بیشک ہے اور اس کی قیمت بہت بھاری چکانی پڑی ہے حقیقت میں اگر دہشت گردوں نے گھر میں گھس کر یر غمال نہیں بنایاہوتا تو ہماری فورسز کو اتنا بڑا نقصا ن نہیں ہوتا پولیس کی ٹیم کے لئے یرغمال ہونے کے لئے ایک مشکل کھڑی ہو جاتی ہے ایک طرف اسے یرغمالوں سے چھٹانا ہوتا ہے ۔جنتا نا ماری جائے اس کا خیال بھی رکھنا ہوتا ہے اور ساتھ ساتھ خود کی حفاظت کرنی بھی ہوتی ہے اور اس کا بھی خیال رکھتے ہیں کہ سب کے ساتھ دہشت گردوں کا صفایا کرنا یا ان کو زندہ پکڑنا ہوتا ہے ۔کاروائی کتنی مشکل تھی اس کا ثبوت یہ ہے کہ یہ مڈبھیڑ 18گھنٹے تک جاری رہی اور دہشت گردوں کے قبضے سے لوگوں کو چھڑ ابھی لیا گیا لیکن اس میں ایک کرنل ایک میجر اور ڈپٹی کمانڈر اور ایک لال سنائک اور رائفل مین شہید ہوگئے ۔کیونکہ گھروں میں چھپے دہشت گردوں کی گھیرا بندی کے وقت کبھی پتھر بازی شروع ہو جاتی اور کبھی دہشت گردی کے دیگر حمد درد ،دہشت گردی میں خلل ڈال دیتے ہیں اس لئے خطر ہ اور بڑھتا جا رہا ہے ۔بیشک کرنل شرما اور ان کے ساتھ یرغمالوں کو آزاد کرانے میں کامیاب رہے لیکن اس کی بہت بڑی قیمت دیش کو چکانی پڑی ہے ایسے ویر جوانوں کو پورا دیش نمن کرتا ہے انہوں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ ہم اپنی جان دے دیںگے لیکن ہم ہر حال میں بچائیں گے ایسے بہادر جوانوں کو ہمارا سلام ۔
(انل نریندر )

05 مئی 2020

سی آئی اے نے ٹرمپ کو 12بارچیتاونی دی تھی

امریکہ کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے یہ کہہ کر سنسنی پھیلا دی ہے کہ اس نے وقت رہتے کوروناوائرس کے انفکشن پر 12مرتبہ وارننگ سندیش دیا تھا لیکن امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ان کی اس چنوتی سندیشوں کو نظر انداز کیا آج اسی کا نتیجہ ہے کہ کورونا وبا سے امریکہ کا برا حال ہورہا ہے دیش کی سب سے بڑی خفیہ ایجنسی کے اس بیان نے ٹرمپ کی پوزیشن اور بری کر دی ہے صدارتی چناو ¿ سے پہلے کورونا سے نمٹنے میں لاپرواہی کے الزام اپوزیشن بھی لگا رہی ہے ۔امریکہ میں کوروناسی آئی اے کے موجودہ اورسابق حکام نے واشنگٹن فورس اخبار میں دئیے گئے بیان میں کہا کہ ٹرمپ کے پاس جنوری فروی میں لگاتار مسلسل وارننگ پیغامات بھیجے گئے اور ان میں بتایاگیاتھا کہ کورونا وائرس کے چین پر ہورہے خطرناک اثرات اور اس سے وابسطہ اندیشات کے بارے میں بتایاگیا تھا لیکن بدقسمتی سے ان پر توجہ نہیں دی گئی واجہ ہو کہ دنیا کے سیاسی واقعات اور سکیورٹی سے جڑے مسئلوں پر سی آئی اے روزانہ صدر کو رپورٹ بھیجتی ہے اس میں امریکہ کے مفادات پر پڑنےوالے اثرات کا ذکر ہوتا ہے دیش میں کورونا انفکشن کا پتہ لگانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے پہلا بڑا قدم آتھاتے ہوئے جنوری کے آخر میں چین سے آنے جانے والے لوگوں پر روک لگادی گئی تھی لیکن فروری میںکئی بار ٹرمپ نے کھلے طور پر کورونا کے خطرے کو معمولی بتانے سے متعلق بیان دئیے اور کہاتھا کہ 26فروری کو کچھ معاملے سامنے آئے لیکن کچھ دنوں میں یہ وباجادو کی طرح غائب ہو جائےگی ۔10مارچ تک بھی صدر نے وبا کو ہلکے میں لیا اور اس ڈھیل سے امریکہ کو بڑا بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے ۔ ملک میں24گھنٹوں میں 18سو 83لوگوں کی کورونا وائرسے موت ہوئی ہے یہاںاکیلے نیویار ک میں 24ہزار سے زیادہ لوگ مرے جو اسپین اور فرانس میں ہونے والی اموات کے برابر ہے وہیںدیش میں 3لاکھ 15ہزار تین سو کے آس پاس مریض کورونا سے متاثر ہیں۔امریکہ میں وائرس کی وجہ سے اب تک 66ہزار3سو سے زیادہ لوگوں کی موت ہو چکی تھی وہیں 38ہزار سے زیادہ لوگ وائرس سے متاثر ہیں ۔موت کی ہی خوفناک اعداد شمار 1955سے 75تک چلی ویت نام جنگ سے بھی زیادہ ہے امریکی نیشنل اینا لیسز کے مطابق ویت نام کی جنگ میں 58ہزار دوسو بیس امریکی فوجی مارے گئے تھے دیش میں وائرس سے متاثر لوگوں کی تعداد ۱۱لاکھ سے زیادہ یہ دنیا بھر میں کورونا متاثرین کی ایک تہائی ہے ۔اس وبا کے دوران لاکھوں لوگوں نے اپنی قربانی دی اور یہ ایسی جس کے بارے میں کسی نے ابھی تک سوچا بھی نہیں تھا ہم اس طرح کی باتیں کریں اس طرح کی پہلی آفت کبھی نہیں دیکھی گئی ہمیں امید ہے کہ ہم اور مضبوط ہو کر نکلیںگے ۔برے دن گزر چکے ہیں اب معیشت پھر سے کھلنے کا انتظار کر رہی ہے بصد احترام صدر موصوف اگر وقت رہتے سی آئی اے کی وارننگ پر تھوڑی توجہ دیتے تو امریکہ کو یہ دن دیکھنے نا پڑتے ۔
(انل نریندر)

ادھر ٹیسٹ بڑھ رہے ہیں تو ادھر کورونا مریض بھی بڑھ رہے ہیں

راجدھانی دہلی میں کچھوں میں ملے کوروناوائرس انفکشن کے مریضو ںنے پریشانی بڑھا دی ہے ایک دن میں ہی 380مریض سامنے آئے ہیں مغربی دہلی کے کاپہ سہیڑا میں ایک ہی عمارت سے 41کورونا مریض سامنے آنے سے کھلبلی مچنا فطری ہے ڈی سی آفس سے لگی ٹھیکے والی گلی میںسونو یادوکے مکان میں 175لوگ رہتے ہیں۔ہاٹ اسپاٹ اعلان ہونے کے بعد بھی اتنی بڑی تعداد میں انفکشن ملنے سے انتظامیہ فکر مند ہے اس مکان کو سیل کرکے ہاٹ اسپاٹ قرار دے دیا گیا ہے اس مکان میں مقیم حاملہ عورت وائرس سے متاثر ملی تھی اس کے بعد پورے مکان کو سیل گیاتھا ۔علاقے میں مقیم 175لوگوں کے سیمپل جانچ کے لئے بھیجے گئے تھے 13دن بعد رپورٹ آئی اس میں 41لوگ وائرس سے متاثر پائے گئے راحت کی بات یہ ہے کہ سبھی ایک ہی عمارت میں رہتے ہیں شکر ہے کہ اس عمارت سے وائرس باہر نہیں پھیلا پھر بھی لوگوں کے سیمپل جانچ کے لئے بھیجے گئے ۔دراصل ٹسٹ بڑھنے کے ساتھ بھارت میں کورونا کے کیس بھی مسلسل بڑ ھ رہے ہیں وزارت صحت کے مطابق دیش میں سنیچر تک 976363ٹسٹ کئے جانے پر 37776کورونا کے مرضوں کا پرہ چلا ہے ۔ایک مہینہ پہلے یعنی اپریل کا موازنہ کریں تب ایک دن میں 376مریض سامنے آئے تھے لیکن یہ جاننا ہوگا تب 33.78فیصد ٹیسٹ ہی ہو پارہے ہیں اب 50ہزار سے زیادہ ٹسٹ یومیہ ہو رہے ہیں ۔جانچ رپورٹ میں تاخیر ہونے سے پریشانی بڑھ رہی ہے ۔کاپا کھیڑا میں سیمپل لینے کے 13دن بعد جانچ رپورٹ آئی ہے اس طرح دیری سے انفکشن شدہ لوگوں کے رابطے میں آنے سے خطرہ بنا رہتا ہے دہلی میں پچھلے کچھ دنوں سے کورونا کے مریض تیزی سے بڑھے ہین اسی لئے سرکار کے ساتھ ساتھ جنتا کو بھی چوکس رہنا ہوگا اسی لئے سرکار نے لاک ڈاو ¿ن بڑھانے کا فیصلہ لیا اسی لئے دہلی کے شہریوں کو اس پر عمل کرنا ہوگا اور شوشل ڈسٹنسنگ کا خیال رکھنا ہوگا ماسک پہننا ہوگا ۔گھروں میں رہنا چاہیے تھوڑا سابھی شبہہ ہونے پر جانچ کے لئے فورا ً آگے آنا چاہیے ۔
(انل نریندر)

پرواسی مزدوروں کی گھر واپسی کا راستہ خطرے بھرا

لاک ڈاو ¿ن کی وجہ سے دیش کے مختلف حصوں میں پھنسے لاکھوں پرواسی مزدوروں ،طلبہ و سیاحوں ،تیرتھ یاتریوں کی با حفاظت واپسی کے لئے جمعہ کے روز یہ پہلی شرمک اسپیشل ٹرین چلی اس کا ناصرف خیر مقدم بلکہ اس پر عمل کرنا چاہیے ۔قریب 40دن کے لاک ڈاو ¿ن کے بعد دیش کو پھر سے جوڑنے والی جو ٹرین تلنگانہ کے لنگم پلی سے جھارکھنڈ کے ہتھیا شہر کے لئے روانہ ہوئی ہے وہ ایک خیر مقدمی قدم ضرور ہے اب کیرل سے اوڑیسہ اور مہاراشٹر سے بہار اترپردیش کے لئے ٹرینوں کا سلسلہ چل پڑے گا تقریباً ان سبھی ریاستوں کی حکومتوں نے جہاںسے مزدور اور صنعتی اور ذراعتی کفیل ریاستوںمیں روزی روٹی کمانے جاتے ہیں اپنے لوگوں کو بس سے لانے میں لاچاری ظاہر کی ہے وہ غلط بھی نہیں ہے ۔مرکز کا مزدروں کو گھر واپس یعنی آبائی ریاست بھیجنے کا فیصلہ تو صحیح تھا لیکن یہ ذمہ داری ریاستی سرکاروں پر تھوپنا ہماری رائے میں نا سمجھی ہے کیرل میں پھنسے ہزاروں مزدور 27سو 35سو کلو میٹر مزدور کیسے جا سکتے ہیں؟بس کون بھیجے گا ؟خیر ایک بار پھر دیر سے صحیح مرکز کی سمجھ میں یہ بات آئی اورپہلی ٹرین تلنگانہ سے جھارکھنڈ کے لئے 1200مزدوروں کو لیکر روانہ ہوئی ۔پرواسی سرمک غریب اور صنعتی طور سے غیر ترقی یافتہ ریاستوں سے (مغرب و جنوبی ہندوستان)ذرعی کفیل پنجاب ،ہریانہ یا پھر خوش حال دہلی جاتے ہیں۔دیش کے مختلف حصوں میں پھنسے کروڑوں پرواسی مزدور ،طالب علم ،تیرتھ یاتریوں کی بحفاظت گھر واپسی کی راہ آسان نہیں ہے ۔مرکزی سرکار کی غیر واضح ہدایات راستی حکومتوں کی زمینی تیاریوں کی کمی اور ٹھوس حکمت عملی نا ہونا اس واپسی میں سب سے بڑی چنوتی ہے ۔اندازے کے مطابق دیش کے مختلف حصوںمیںپھنسے لوگوں کی تعداد تقریباً 100کروڑ سے زیادہ ہے سبھی لوگ پچھلے ایک ڈیڑ مہینے سے گھر واپسی کا انتظار کر رہے ہیں ۔کورونا کی اس وبا میں بغیر منظم حکمت عملی سے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی گھر واپسی دیش پربھاری نا پڑ جائے ۔بڑا تشویش کا موضوع ہے ۔گھر واپسی کی خوشی میں کہیں ایک بار پھر سے ہجوم کا منظر کا تماشہ نا بن جائے اب تک کہ سرکاروں کے ذریعے کی گئی کوششوں پر پانی پھیر دے اس وقت سب سے بڑی ان کے لئے واپسی کی راہ میںبڑ ی رکاوٹ ٹرانسپورٹ کی مشکل کو لیکر ہے ۔حکومت نے اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لئے اب بہت منظم طریقے سے اسپیشل ٹرین چلانے کی حکمت عملی بنائی ہے ایسی ریل صرف ایک جگہ سے چلے گی اور اپنی منزل جاکر رکےگی ۔بیچ میں کہیں نہیں رکنے کی حکمت عملی نہیں ہے ایک بوگی میں 54مسافر ڈیڑھ میٹر کی لگاتار دوری بنا کر سفر کر رہے ہیں امید ہے بیچ میں نا رکنے والی ٹرینو ں میں کافی کھانے پینے کا انتظام ہوگا ۔اس کے علاوہ لوٹ رہے لوگوں کا میڈیکل اور کچھ دن کوارنٹائن میں رکھنے کا انتظام بھی چاک و چوبند ہونا چاہیے ایک ساتھ 12سو یا 16سو لوگوں کو اپنے یہاں لانے کا خطرہ اٹھا رہی ریاستوں کو اپنی طرف سے بھی پوری تیاری و انتظام رکھنے چاہیے ۔خاص طور سے بہار اور اترپردیش کثر آبادی والی جگہوں میں قریب 45لاکھ لوگوں کے لوٹنے کا ارادہ ہے اس لئے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو محفوظ رکھنا اور ان کی باقاعدہ جانچ کرنا ایک اچھا قدم ہے فیصلہ تو اچھا ہے لیکن چنوتیاں بھی کم نہیں ہیں۔
(انل نریندر)

03 مئی 2020

ٹسٹ رپورٹ کے لئے 15دن کا انتظار

دہلی میں تیزی سے کوروناوائرس کے بڑھتے مریضوں نے سبھی کی نیند اڑا دی ہے سرکار اور انتظامیہ کو اس بات کا پتہ نہیں تھا کہ دہلی کی اصلی حالت کیا ہے کیا اس کی سب سے بڑی وجہ وقت پر رپورٹ نا مل پانا منگل کے روز مرکزی وزیر صحت کے ساتھ آن لائن میٹنگ میں دہلی کے ضلع مجسٹریٹ نے کہا دہلی میں تین تین دن میں خون کے سمپل جانچ کے لئے جا رہے ہیں اور ان کی رپورٹ پندر ہ دن سے بھی زیادہ وقت میں آرہی ہے ایسے میں جو مریض پازیٹو ہوگا ٹھیک ہو جائے گا اور جو پازیٹو ہیں وہ دوسروں کو وائرس پھیلا دیںگے ڈی ایم نے کہا نوئیڈا نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرلوجیکل پر زیادہ بوجھ ہونے کی وجہ سے رپورٹ وقت پر نہیں ملتی اوراگر وقت پر آتی تو آج ہم اورنج اور گرین زون میں بڑھ رہے ہوتے ۔جب رپورٹ پندرہ دن میں آتی ہے تو مریض بڑھ جاتے ہیں ہمارے سامنے جہانگیر پوری علاقہ سب سے بڑی مثال ہے ایسے میں علاقے کو اورنج اور گرین زون میں کیسے بنائیں ایسے ہی نظام الدین علاقے میں تبلیغی جماعت کے بعد سروے ناہونا اور ہوابھی اس کی رپورٹ اب تک نہیں ملی ہے اگر مل جاتی تو یہ علاقہ اورنج زون میں آجاتا بتادیں دہلی میں کورنا کی رفتار روکنے کےلئے لاک ڈاو ¿ن کی میعاد بڑھائی گئی تھی لیکن یہ تھمی نہین اور معاملے زیادہ آئے سرکار کو اس پر سنجیدگی سے غورکرنا ہوگا جانچ کے بعد رپورٹ آنے میں جتنی دیری ہوگی اتنا صحیح تجزیہ کرنے میں مشکل آئےگی ۔
(انل نریندر)

مئی میں کورونا جنگ ہوگی اہم

لاک ڈاو ¿ن ختم ہونے کے وقت میعاد تین مئی یعنی آج کے بعد 14دنوں کے لئے یعنی 17مئی تک بڑھا دی گئی ہے ۔میڈیکل ماہرین کاخیال ہے مئی کامہینہ کووڈ19-کے خلاف جنگ میں جیت یا ہار کے لئے اہم ثابت ہو سکتا ہے ماہرین کا کہنا ہے ہاٹ پاٹ زون کے لئے جارحانہ حکمت عملی کی ضرورت ہے ماہرین نے یہ بھی تجویز رکھی ہے کہ ریلوے ہوائی سفر اور بین ریاستی بس سیوائیں ،مول ،سوپنگ کمپلیکس ،دھارمک عبادت گاہوں کو کم سے کم مئی کے مہینہ تک بند رکھا جائے ۔وزیر اعظم نریندر مودی نے وزرائے اعلیٰ سے کہا تھا کہ کورونا وائرس کے خلاف جنگ کے ساتھ ساتھ ملک کی معیشت کو بھی اہمیت دینی ہوگی اور اشارہ دیا تھا کہ ملک گیر لاک ڈاو ¿ن تین مئی سے آگے بڑھایا جائے گا اور کچھ رعایتوں کی بات کہی تھی اسی پر وزارت داخلہ نے سخت قدم اٹھانے کی حکمت عملی اور پابندیوں میں کچھ ڈھیل دیتے ہوئے کہاتھا کہ گرین زون میں انفکشن کو پھیلنے سے روکنا ضروری ہے ۔دیش میں کووڈ19-ہاٹ اسپاٹ والے ضلعے میں 170میں سے گھٹ کر 129رہ گئے ہیں اور اس میعاد میں انفکشن سے آزاد ضلعے یعنی گرین زون بھی 325سے گھٹ کر 307رہ گئے ہیں ۔ہاسپٹل فورٹیز نوئیڈا کے پھیپھڑوں اور آئی سی یو شعبے کے ایڈیشنل ڈائرکٹر ڈاکٹر راجیش گپتا نے بتایا کہ یہ سمجھنا ضروری ہے پہلے سے پابندی وائرس کو ختم نہیں کرے گی بلکہ یہ اس کے پھیلاو ¿ کو دھیما کرے گی انہوں نے مشورہ دیاتھا ریڈ زون میںقریب دوہفتوں کے لئے پابندی جاری رکھنی چاہیے ایسا ہی مشورہ ڈاکٹر اروند کمار نے مشورہ دیاتھا ریلوے ہوائی سفر اور ریاستی بس سروس شوپنگ کمپلیکس دھارمک مکامات وغیرہ کو بند رکھا جائے اور گرین زون والے ضلعوں میں سرحدیں سیل کر دینی چاہیے اور محدود کاروباری سرگرمیوں کی اجازت دی جائے ایسے ہی ماسک پہننے اور ہاتھ دھونے کو زندگی کا ایک طریقہ کار بنا دیا جائے بہر حال مئی کا مہینہ کورونا وائرس بیماری کی روک تھا م کے لئے بہت اہم ترین رہنے والا ہے ۔اپنا خیال رکھیں اور گھروںمیںرہیں ۔
(انل نریندر)

الوداع رومانس کے رشی

کیوں ایسا لگتا ہے کہ ہمارے بالی وڈ کو کسی کی نظر لگ گئی ہے آئے دن کوئی نا کوئی تکلیف دہ واقعہ سننے کو مل رہا ہے ۔اداکار رشی کپور اب اس دنیا میں نہیں رہے وہ لیو کیمیہ (بلوڈ کینسر)سے بیمار تھے جمعرات کو صبح ممبئی کے اسپتال میں ان کابھی دھیانت ہو گیا ایک دن پہلے بدھ کو ایکٹر عرفان خان کے انتقال کی خبرآئی ۔بالی وڈ اس خبر کے صدمے سے سنبھلا بھی نہیں تھا کہ رشی کپور صاحب چلے گئے ۔خوش مزاجی کے لئے جانے جانے والے آخری وقت تک اپنے اس ہنس مکھ انداز کو نہیں چھوڑا جب انہوں نے آخری سانس لی اس وقت ان کے پاس بیوی نیتو کپور اور بیٹا رن بیر موجود تھے ۔رشی کپور کی بیٹی ردیما دہلی میں تھی لیکن لاک ڈاو ¿ن کی وجہ سے چارٹرڈ پلین کی اجازت نا ملنے پر وہ اپنے پتا کی آخری رسوم میں شامل نا ہو پائی حالانکہ وہ چودہ سو کلو میٹر لمبا سڑک کے راستے سفر طے کرکے ممبئی پہونچی تھی ۔رشی کپور کو رشی کپور کے پارتھک شریر کو اسپتال سے سیدھے چند ن باڑی شمشان گھاٹ لے جایاگیا اور قریبی بیس لوگوں کی موجودگی میں شام چار بجے بجلی کے شمشان گرہ میں انتم سنسکار کیاگیا سورگیہ رشی کپور کی زندگی کے کئی ایسے دلچشپ قصے ہیں جو بالی وڈ کے گلیاروں میں خوب سنے جا سکتے ہیں ان میں سے کچھ کا ذکر انہوں نے اپنی سوانح حیات میں کھلے طور پر ذکر کیا ہے اس کا نام تھا کھلم کھلا رشی کپور ان آنسرڈتھا۔جو مینا ائیر نے لکھی ہے 2018میں رشی کپور کو کینسر تھا علاج کے لئے وہ امریکہ تھے وہاں11مہینے رہنے کے بعد پچھلے سال ستمبر میں بھارت لوٹے امریکہ میں پورے وقت ان کے ساتھ بیوی نیتو تھی رنویر کپور کئی بار ان سے ملنے نیو یارک گئے تھے کچھ دنوں پہلے رشی نے ایک انٹر ویو میں کہا تھا کہ میں بہت بہتر محسوس کر رہا ہوں اور کوئی بھی کام کر سکتا ہوں اور سوچ رہاہوں ایکٹنگ دوبارہ سے شروع کروں پتہ نہیں لوگوں کو اب میرا کام پشند آئے گا بھی یا نہیں نیویارک میں مجھے کئی بار خون چڑھایاگیا میں نے نیتو سے کہا تھا کہ نئے خون کے باوجود میں اداکاری نہیں بھولوں گا 2اپریل کو رشی نے اپنا آخری ٹویٹ کیاتھا جس میں انہوں نے سبھی بھائیوں بہنوں سے اپیل کی تھی کہ برائے مہربانی تشدد ،پتھر بازی ،ما ¿ب لنچنگ کا سہارا نا لیں ڈاکٹر نرس اور پولیس والے آپ کو بچانے کے لئے اپنی زندگی خطرے میں ڈال رہے ہیں ہمیں اس کوروناوائرس جنگ کو ایک ساتھ جیتنا ہوگا ۔پلیز جے ہندوالی وڈ میںرشی کپور کا نام ایک ایسے سدابہار اداکار کے طور پریاد کیا جائے گا جو اپنی رومانی اور جذباتی اداکار ی سے تقریباً تین دہائی تک فلم ناظرین کو خوش کرتے رہے اسپتال کے ڈاکٹرون میڈیکل اسٹاف نے کہا کہ وہ آخری وقت تک ان کامنورنجن کرتے رہے اس بات سے خوش تھے کہ پوری دنیا میں انہیں اپنے پرستاروں سے بے شمار پیار مل رہا تھا اور یہ ہی ان کی تمنا تھی کہ انہیں ہر کوئی مسکان کے ساتھ یاد رکھے آنسوو ¿ ں کے ساتھ نہیں 4ستمبر 1952میں پیدا رشی نے بطور چائلڈ ایکٹر میرا نام جوکر سے اداکاری شروع کی تھی اور 1973میں ریلیز ہوئی فلم بووی میںبطور ہیرو اپنے کرئیر کا آغاز کیاتھا ۔رومانی ہیرو کےطور پر رشی نے قریب تین دہائی تک کے کرئیر میں چاندنی ،پریم روگ،نگینہ ،لیلا مجنوں،قرض،دو دونی چاروغیرہ میں یادگار کردار نبھایا۔الوداع رشی آ پ ہمیشہ یاد رہوگے ۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...