Translater
10 مئی 2025
دنیا نے دیکھا سندور کا شوریہ!
جب پاکستان نے پہلگام کے بیسرن پر بے قصور سیاحوں کابے رحمانہ قتل نام پوچھ کر کیا تھا تو اس کے پیچھے ان کی ناپاک نیت تھی ۔بھارت میں ہندو مسلم بھائی چارے کو بگاڑ دیں ۔دنگے کروا دیں تاکہ دیش ہندو مسلم میں بٹ جائے لیکن ہوا اس کا الٹا ۔آج سار ا دیش ایک ہے اور چاہے وہ سیاسی پارٹیان ہوں بھارت کی تمام جنتا ہو وہ سب اپنی بہادر فوج کے پیچھے چٹان کی طرح کھڑے ہیں اور رہی پاکستان کی تو اسے شاید اب سمجھ میں آرہا ہوگا کہ سندور اجاڑنے کی کتنی بھارت کی یہ قیمت ادا کرنی پڑرہی ہے ۔سب سے پہلے میں اپنے وزیراعظم نریندر مودی کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں کہ انہوں نے صرف ناقابل فراموش ہمت دکھائی ۔ہماری افواج کو جوابی کاروائی کرنے کی کھلی چھوٹ دی بلکہ پوری کاروائی کا نام آپریشن سندور رکھا ۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے پہلگام میں 26 شہریوں کا قتل کر دیا تھا جس میں سبھی مرد تھے اور بہت سے متوفین کی متاثرہ بیویوں کا دھیان رکھتے ہوئے جوابی کاروائی کے لئے سندور آپریشن نام سب سے مفید سمجھا گیا ۔یہ نہ صرف ایک فوجی جوابی کاروائی ہے بلکہ یہ بھارت کی ناری شکتی کے احترام اور سیکورٹی کے تئیں پختگی کی بھی علامت ہے ۔فوجی کاروائی کی پریس بریفنگ کرنے میں بھی خاص خیال رکھا گیا ۔پریس بریفنگ کے ذریعے کرنل صوفیہ قریشی (مسلم ) ونگ کمانڈر ویومیکا سنگھ (ہندو) کو خاص کر چنا گیا تاکہ پوری دنیا کو یہ پیغام جائے کہ بھارت ایک ہے اور ناری شکتی کے ساتھ کھڑا ہے ۔جس کسی نے بھی یہ فیصلہ کیا وہ مبارکباد کا مستحق ہے ۔جب جنگ چھڑتی ہے تو دونوں طرف کے بے قصور شہری مارے جاتے ہیں ۔پاکستان نے جان بوجھ سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت یا یوں کہیں بوکھلاہٹ میں بھارت کے علاقہ پر حملے کئے ہیں جس میں بہت سے بے قصور شہری مارے گئے ہیں ۔لیکن یہ قیمت تو چکانی ہوگی ۔آئے دن ان آتنکی حملوں میں بھی تو بے قصور مارے جاتے ہیں اس لئے بہتر حکمت عملی یہی ہے کہ اس بار دہشت گردی اور ان کے اسپانسروں کو بھی ختم کر دیا جائے ۔کئی آتنکی اڈوں کو تباہ کیا گیا ہے لیکن اصل مسئلہ پاکستانی فوج اور اس کی آئی ایس آئی ہے جب تک ان کو ایسی زبردست چوٹ نہ پہنچائی جائے تب تک یہ مسئلہ نمٹنے والا نہیں ہے ۔ہمیں خوشی ہے کہ بھارتیہ فوج نے پاکستانی فوج کے ڈھانچہ پر سیدھے حملے کئے ہیں اور کئی کو تباہ بھی کر دیا ہے ۔آپریشن سندور کا پہلا نشانہ پاکستان میں جیش محمد ،حزب المجاہدین ،لشکر طیبہ کے ہیڈ کوارٹر اور آتنکی ٹریننگ کیمپ تھے ۔جنہیں تباہ کر دیا گیا ہے ۔اب سارے حملے پاکستانی فوج کے اڈوں پر کئے جارہے ہیں۔غور طلب بات یہ ہے کہ بھارت نے کسی عام شہری یا سول علاقہ پر حملے نہیں کئے ہیں صرف فوجی ٹھکانوں پر آپریشن سندور کے لئے ہندوستانی فوج نے ہر ٹارگٹ کا انتخاب بھروسہ مند خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کیا ۔پہلگام کے 15 دن بعد جوابی کاروائی کر پاکستان کو سدھرنے کا پورا موقع دیا گیا یعنی پاکستان اپنی غلطی کو سدھارے اور اپنی زمین پر پل رہے آتنکیوں کیخلاف کاروائی کا پورا موقع دیا گیا لیکن جب پاکستان نے سدھرنے کی جگہ الٹا دھمکیاں دینی شروع کر دیں تو جواب دینا ضروری ہوگیا۔وزیر دفاع راجناتھ سنگھ سے جب ہندوستانی حملوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہم نے ہنومان کے اس اصول کی تعمیل کی ہے جو انہوں نے اشوک واٹیکا اجاڑتے وقت عمل کیا تھا ۔جن موہے مارا ، تن موہی مارے یعنی صرف انہیں کو مارا ہے جنہو ںنے ہمارے معصوموں کو مارا ہے ۔آج پورا بھارت ایک ہے لڑائی تو فوج لڑتی ہے لیکن پیچھے کھڑا ہوتا ہے پورا ملک ۔آج پورا دیش اپنی بہادر فوج کے پیچھے کھڑا ہے اور اپنے جانبازوں کی بہادری پر سب کو فخر ہے ۔جے ہند!
(انل نریندر)
08 مئی 2025
حملے کی خفیہ معلومات پہلے ہی مل گئی تھی!
پہلگام میں ہوئے بھیانک آتنکی حملے نے پورے دیش کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔اس حملے میں 26 لوگوں کی موت ہوگئی جن میں 25 سیاح تھے اور ایک مقامی مرنے والے سبھی سیاح ہندو فرقہ سے تھے اب اس معاملے میں چوکانے والی معلومات سامنے آئی ہیں کہ سیکورٹی ایجنسیوں کو حملے کا اندیشہ پہلے ہی تھا لیکن لوکیشن اور تاریخ کو لے کر اندازہ غلط ثابت ہوا ۔ہندوستان ٹائمس کی رپورٹ کے مطابق خفیہ بیورو اور دیگر ایجنسیوں نے جموں وکشمیر میں مقامی سیکورٹی حکام کو آگاہ کیا تھا کہ سیاحوں کو نشانہ بنا کر آتنکی حملہ ہوسکتا ہے ۔یہ الرٹ وزیراعظم نریندر مودی کے 19اپریل کو ہونے والے سری نگر دورہ کے پیش نظر کیا گیا تھا ۔اس کے بعد شری نگر اور آس پا س کے علاقوں میں سیکورٹی بڑھا دی گئی تھی خاص کر ان جگہوں پر جہاں سیاح زیادہ آتے ہیں ۔جیسے ڈمی دھام ،نیشنل پارک حالانکہ موسم خراب ہونے کی وجہ سے وزیراعظم کا یہ دورہ منسوخ ہو گیا تھا ۔اس کے ٹھیک بعد دہشت گرد 22 اپریل کو پہلگام میں بیسرن علاقہ میں حملہ کر بیٹھے ۔یہ علاقہ سری نگر سے تقریباً 90 کلو میتر دور ہے اور پورے سال کھلا رہتاہے۔امرناتھ یاترا کے دوران ہی اسے بند کیاجاتا ہے ۔ایک سینئر پولیس افسر نے ہندوستان ٹائمس کو بتایاکہ 10 میں سے 9 بار ایسے الرٹ بے کار جاتے ہیں لیکن اس بار سیاحوں کو لے کر وارننگ صحیح تھی ۔اس سے مشکل حصہ ہوتا ہے کہ ہم صحیح جگہ کی پہچان کریں ۔اس بار وہ غلط ہو گئی ۔انہوں نے تصدیق کی تھی کہ فوج اور سول سیکورٹی فورس کو وزیراعظم کے دورہ کے دوران سری نگر کے قریب کسی سیاح مقام پر حملے کے اندیشہ کو لے کر چوکس رہنے کی ہدایت دی گھی تھی اب جب ہم پیچھے کی طرف مڑ کر دیکھتے ہیں تو یہ صاف ہے کہ دہشت گرد وزیراعظم کا دورہ منسوخ ہونے کا انتظار کررہے تھے۔سب سے بڑی کوتاہی بیسرن علاقہ میں ممکنہ حملے کا اندیشہ نا جتا پانے کی رہی ہے ۔جو سال بھر کھلا رہتا ہے اور صر ف امرناتھ یاترا کے دوران بند ہوتا ہے ۔ایک افسر کے مطابق مقامی دو دہشت گردوں نے سیاحون کو ایک طرف بھگایا جبکہ غیر ملکی دہشت گردوں نے گولیاں چلائیں ۔چونکہ اس مقام پر داخل ہونے اور نکلنے کا ایک ہی ٹکٹ ہوتا ہے ۔سیاحوں کے لئے بھاگنا مشکل ہوجاتا ہے اب جبکہ یہ صاف ہے کہ دہشت گرد علاقہ میں پہلے سے ہی رہ رہے تھے اور اب بھی علاقہ میں سرگرم تھے جو اس موجودگی اور اسکیم کو بھانپنے میں پولیس خفیہ ناکام رہی ۔وقت آگیا ہے کہ اب پاک اسپانسر دہشت گردی کیخلاف فیصلہ کن قدم اٹھایا جائے ۔سارا دیش بھارت کے جوابی کاروائی کا انتظار کررہا ہے ۔بھارت کے لوگوں کا غصہ آسمان پر ہے ۔بھارت نے ابھی تک جو وسیع قدم اٹھائے ہیں ایسا نہیں لگتا عوام میں غصہ کی کسی طرح کی کمی آئی ہے ۔خود وزیراعظم نے بھاجپا لیڈروں نے اور مین اسٹریم میڈیا نے جو ماحول بنایا ہے اس سے یہی توقع ہے کہ پاکستان کو ایسی سزا دی جائے جو سز ا ظاہر ہو اگر ایسا نہیں ہوتا تو جنتا کے بھروسہ کو ٹھینس پہنچے گی اور کہا جائے گا بڑے بڑے دعوے کرنے والے اندر سے کھوکھلے نکلے ۔
(انل نریندر)
06 مئی 2025
کیا کہتے ہیں سابق را چیف دللت !
بھارت کی خفیہ ایجنسی ریسرچ ایند اینالیسس ونگ ( را ) کے سابق چیف اور آئی پی ایس افسر امرجیت سنگھ دللت جو کہ اٹل وہاری واجپائی سرکار میں پی ایم او میں بطور جموں وکشمیر امور کے مشیر رہے نے پہلگام حملے پر بی بی سی سے ایک اہم بات چیت کی ۔آج کے پش منظر میں میرے خیال میں دیش کو کچھ باتوں پر ضرور غور کرنا چاہیے ۔پیش ہے ان کے انٹرویو کے کچھ اہم اقتصابات :دللت نے اپنے کریئر کے شروعاتی برسوں میں بطور جموں وکشمیر امور کے ایڈوائزر کی شکل میں کام کر چکے ہیں اور انہوںنے جموں وکشمیر میں انٹیلی جنس ویورو کا کام بھی دیکھا ہے ۔دللت کہتے ہیں کہ پہلگام میں جو ہوا وہ بہت برا ہوا اور اسے سیکورٹی خفیہ مشینری کی کوتاہی بتایا ہے۔مجھے لگتا ہے کہ پہلگام حملہ ایک سیکورتی ناکامی ہے ۔وہاں کسی قسم کی سیکورٹی ہی نہیں تھی ۔جہاں ہم انٹیلی جینس یا خفیہ مشینری کی بات کرتے ہیں وہاں ہمیں سمجھنا ہوگا کہ کشمیر میں جو سب سے ضروری انٹیلی جینس ہے وہ اب آپ کو کشمیریوں سے ہی ملے گی تو کشمیریوں کو اپنے ساتھ رکھنا بہت ضروری ہے ۔میں کسی کو قصور وار نہیں کہنا چاہتا لیکن جموں وکشمیر میں قانون و نظام کی ذمہ داری تو مرکزی سرکار کے ہاتھ میں ہے ناکہ وہاںکے وزیراعلیٰ کے ہاتھ میں ہے ۔تو مرکزی سرکار کو دیکھنا چاہیے کہ وہاں کے ایل جی کو دیکھنا چاہیے تھا ۔پہلگام حملے سے پہلے جموں وکشمیر میں سیاحوں کی تعدادمیں کافی اضافہ ہوا تھا اور سرکاری اعداد شمار کے مطابق جہاں 2020 میں 24 لاکھ سے زیادہ سیاح آئے تھے ۔وہی سال 2023 کے ختم ہوتے ہوتے یہ تعداد دو کروڑ ایک لاکھ سے پار ہو گئی تھی ۔لیکن کیا انتہا پسند تشدد میں کوئی کمی اائی ہے ۔ساو¿تھ ایشیا ٹورازم پورٹل کے مطابق سال 2012 میں جموں وکشمیر میں عام شہریوں کی موت انتہا پسندوں کے ذریعے تشدد میں ہوئی ،اسی برس 18 سیکورٹی ملازم بھی شہید ہوئے ۔84 انتہا پسند مارے گئے تھے ۔ا س کے مقابلے سال 2023 میں 12 شہریوں کی موت ہوئی اور 23 سکورٹی ملازم مارے گئے ۔87 شدت پسند بھی مارے گئے ۔سال 2024 میں عام شہری سمیت 263 سیکورٹی ملازم اور 69 شدت پسند مارے گئے تھے ۔یعنی حملے جاری تھے۔لیکن سرکار کے بیانوں میں جموںوکشمیر میں شدت پسندی تقریباً ختم ہو گئی ہے کا دعویٰ کیا جارہا تھا ۔ساتھ ہی سیاح ایسے علاقوںمیں بھی جانے لگے جہاں انتظامیہ نے سیکورٹی کا کوئی انتظام ہی نہیں کیا تھا ۔جموں وکشمیر میں پچھلے دو برسوں میں زیادہ حملے ہوئے ہیں ۔ٹور ازم ایک بات ہے اور نارملیسی دوسری چیز ہے ۔جب بھی ہم نے کہا کہ جموں وکشمیر میں حالات ٹھیک ہیں تبھی آتنکی حملے زیادہ ہو گئے ۔جس طرح سیاح بڑھ رہے تھے لوگ اپنی مرضی سے وہاں جارہے تھے تو آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ سرکار کو خطرہ پہلے ہی نظر آجانا چاہیے تھا ۔حملے میں مار ے گئے لوگوں کے عزیزوں نے بتایا کہ پہلگام میں لوگوں کا مذہب پوچھ کر مارا گیا تو دللت نے کہا کہ پہلگام میں جو ہوا وہ ہندو مسلم اشو نہیں ہے ۔نا جموں وکشمیر ہے اور نا ہی بھارت میں کوئی ہندو مسلم سوال ہے ۔بلکہ یہاں ہندو مسلم ایک ہیں ۔یہ پیغام صاف طور پر جانا چاہیے ۔آج خاص طور سے میں کہوں گا کہ کشمیریت کو ہمیں کھونا نہیں چاہیے ۔اسے زندہ رکھنا بہت ضروری ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...