Translater
16 نومبر 2024
ضمنی چناو ¿ میں سرکردہ نیتاو ¿ں کی یوپی میں اگنی پریکشا!
اترپردیش کی 9 سیٹوں پر ہونے جا رہے ضمنی چناو¿ میں حکمراں اور اپوزیشن کے سرکردہ لیڈروں کی اگنی پریکشا ہے ۔کانگریس کے میدان سے باہر ہونے سے تو اب چناو¿ بھاجپا بنام سپا کے درمیان مانا جارہا ہے ۔حالانکہ بسپا تکونی لڑائی میںبنی ہوئی ہے بھاجپا کی طرف سے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے مسلسل تین دنوں تک زبردست کمپین چلائی ۔ہر سیٹ پر ماحول بنانے کی کوشش کی ۔اکھلیش یادو بھی سیاسی رخ کو بھانپ رہے ہیں ۔سیاسی واقف کاروں کے مطابق ضمنی چناو¿ میں اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور سپا چیف اکھلیش یادو اور مایاوتی کی ساکھ داو¿ پر لگی ہے۔حالانکہ 2027 کا یوپی اسمبلی چناو¿ ابھی دور ہے لیکن اس ضمنی چناو¿ کو اسمبلی چناو¿ کا سیمی فائنل ماناجارہا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ سبھی پارٹیوں نے اسے جیتنے کے لئے اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے ۔امبیڈکر نگر کی کٹیری اسمبلی کے ضمنی چناو¿ کے لئے بھاجپا نے سابق ممبر اسمبلی دھمراج نشاد کو اپنا امیدوار بنایا ہے ۔سپا نے لال جی ورما کی اہلیہ شوبھا وتی کو ٹکٹ دیاہے ۔وہیں بسپا نے امت ورما کو اپنا امیدوار بنایا ہے ۔بھاجپا کے لئے یہ سیٹ جل شکتی منتری مندیو سنگھ کو انچارج بنا کر انہیں ایک بڑی ذمہ داری سونپی ہے ۔وہ چناو¿ کے اعلان کے کئی ماہ پہلے سے یہاں پڑاو¿ ڈالے ہوئے ہیں اور پوری شدت سے یہاں بھاجپا کے حق میں ماحول بنا رہے ہیں بھاجپا کی ا تحادی پارٹی بسپا کے سابق وزیر اوم پرکاش راج بھر بھی زوروشور سے زور لگا رہے ہیں وہیں اس سیٹ سے ممبر اسمبلی رہے ایم پی لال جی ورما کی ساکھ بھی داو¿ پر لگی ہے کیوں کہ ان کی بیوی یہاں سے سپا کے امیدوار کے طور پر ضمنی چناو¿ لڑ رہی ہے ۔ضمنی چناو¿ کی سب سے ہاٹ سیٹ کرہل ہے یہاں پر ملائم سنگھ یادو کے خاندان کی ساکھ داو¿ پر لگی ہے اس سیٹ پر ملائم کے پوتے اور اکھلیش کے بھتیجے تیج پرتاپ کو سپا نے امیدوار بنایا ہے ۔وہیں صوبہ کے اقتدار پر قابض بھاجپا نے اس سیٹ سے ملائم سنگھ یادو کے بھائی ابھے رام یادو کے داماد کو میدان میں اتارا ہے ۔ملائم سنگھ یادو کے خاندان کے بیٹے ،داماد کی لڑائی نے یادو اکثریتی کرہل سیٹ کی چناوی جنگ کو دلچسپ بنا دیا ہے ۔نائب وزیراعلیٰ برجیش پاٹھک کے لئے بھی یہاں سے بھاجپا کی ہار کا سوکھا ختم کرنے کا بڑا ٹارگٹ ہے ۔اس کے ساتھ ہی یوگندر اپادھیائے ،جے ویر سنگھ ،اجیت پال جیسے وزراءکی ساکھ بھی اس چناو¿ سے جڑی ہوئی ہے ۔وہیں اس سیٹ پر ملائم خاندان کے سبھی ممبر لگاتار چناو¿ کمپین میں لگے ہیں ۔سپا ایم پی ڈمپل یادو اس سیٹ پر جم کر پرچار کررہی ہیں اس کے علاوہ شیو پال یادو ،بدائیوں سے ایم پی آدتیہ یادو واعظم گڑھ سے ایم پی دھرمندر یادو بھی اس سیٹ پر لگاتار اپنا پسینہ بہا رہے ہین ۔پریاگ راج سے پھولپور کرمی اکثریت ہونے کی وجہ سے یہاں سے بھاجپا سرکار کے وزیر راکیش میان اور سپا جنرل سکریٹری اندر جیت سروج ڈٹے ہوئے ہیں یہ سیٹ نائب وزیراعلیٰ کیشو پرساد موریہ کی ساکھ بنی ہوئی ہے۔کدر کی اسمبلی سیٹ میں بھاجپا نے راجویر کو امیدوار بنایا ہے ۔سپا نے سابق ممبر اسمبلی رضوان پر داو¿ لگایا ہے ۔بھاجپا نے یہاں سے وزیر کو آپریٹو ایس راٹھو ر اور جسونت سنگھ کو انچارج بنایاہے ۔کل ملا کر بڑے سرکردہ لیڈروں کی ساکھ اس ضمنی چناو¿ پر داو¿ میں لگی ہے ۔
(انل نریندر)
بھاجپا اور اجیت پوار میں بڑھتی دوری !
مہاراشٹر میں اتحاد میں ہوتے ہوئے بھی بھاجپا اور این سی پی (اجیت پوار) میں کئی مسئلوں پر دوری برقرار ہے ۔امیدوار طے کرنے سے لے کر چناو¿ کمپین تک میں دونوں اپنی اپنی لائن پر الگ الگ کام کررہے ہیں ۔اتحاد میں اجتماعی چناو¿ کمپین اور کمپینروں کو لے کر موٹے طور پر رضامندی تو ہے لیکن کئی مسئلوں پر اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں ۔مثال کے طور پر اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو لے کر اٹھے تنازعہ کو لے لیجئے ۔این سی پی اجیت پوار نے بھاجپا لیڈر شپ کو صاف کر دیا ہے کہ ان کے امیدواروں کے چناو¿ حلقوں میں یوگی آدتیہ ناتھ کی ریلیاں نا کروائی جائیں ۔یوگی آتیہ ناتھ کے متنازعہ بیان کٹیں گے بٹیں گے کو لے کر اقلیتی فرقہ میں تلخ رد عمل دیکھتے ہوئے اجیت پوار نہیں چاہتے کہ ان کو ملنے والی حمایت میں کوئی کمی آئے۔اجیت پوار نے بھاجپا کے احتجاج کے باوجود نواب ملک کو امیدوار بنایا ہے۔اب جبکہ پارٹی کے دو گروپ ہیں تب بھی دونوں کی مسلم فرقہ میں اچھی خاصی پکڑ ہے جبکہ نوا ب ملک کی بیٹی ثناءملک بھی چناو¿ لڑر ہی ہیں ۔بتا دیں بھاجپا نیتاو¿ں نے کھلے عام نواب ملک کو امیدوار بنانے کی مخالفت کی تھی ۔انہوں نے یہاں تک کہا تھا کہ نواب ملک کے داو¿د ابراہیم سے قریبی تعلقات رہے ہیں ۔بھاجپا نواب ملک کے پرچار بھی نہیں کرے گی ۔تمام دباو¿ کے باوجود اجیت پوار نے نواب ملک کو امیدوار بنایا بلکہ ان پر پبلسٹی کی بھی ذمہ داری ڈال دی ہے ۔چار دن پہلے اجیت پوار نے تو ایک بم چھوڑ دیا تھا ۔مہاراشٹر کے نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار نے دعویٰ کیا کہ پانچ سال پہلے بھاجپا کے ساتھ سرکار بنانے کے لئے ہوئی میٹنگ میں صنعت کار گوتم اڈانی بھی شامل تھے ۔ایک نیوز پورٹل کو دئیے انٹر ویو میں اجیت پوار نے کہا پانچ سال پہلے کیا ہوا سب جانتے ہیں ۔۔۔۔۔میٹنگ کہاں ہوئی ۔۔میں پھر سے بتا دیتا ہوں۔وہاں امت شاہ تھے ،گوتم اڈانی تھے ،پرفل پٹیل تھے ،دیوندر فڑنویس تھے ،میں تھا او ر پوار صاحب (شردپوار ) تھے ۔اجیت نے کہا اس کے لئے پانچ میٹنگیں ہوئی تھیں ورکر کے طور پر میں نے وہی کیا جو نیتا (شردپوار) نے کہا ،غور طلب ہے کہ اس میٹنگ کے بعد ہی 23 نومبر 2019 کی صبح فڑنویس نے وزیراعلیٰ اور اجیت نے ڈپٹی سی ایم کا حلف لیا تھا ۔حالانکہ شردپوارنے بھاجپا کے ساتھ سرکار بنانے سے انکار کر دیا۔ایسے میں قریب 80 گھنٹے بعد اجیت کو استعفیٰ دے کر واپس چاچا کے ساتھ آنا پڑا۔اس کے علاوہ 28 نومبر کو فڑنویس کو استعفیٰ دینا پڑااور کچھ دن بعد ریاست میں ادھو ٹھاکرے نے کانگریس این سی پی کے ساتھ مل کر سرکار بنائی ۔اجیت پھر ڈپٹی سی ایم بنے ۔اس سنسنی خیز کو اگر صحیح مانیں تو یہ انتہائی تشویش کا باعث ہے کہ سرکار بنانے ،اکھاڑنے میں گوتم اڈانی کا نام آیا ہے ۔اس خبر کی نا تو بھاجپا نے تردید کی ہے اور نا ہی گوتم اڈانی نے اگر یہ صحیح ہے تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ مہاراشٹر چناو¿ میں صنعت کاروں کا کتنا بڑا رول ہے ۔کہا جارہا ہے کہ اس چناو¿ میںہزاروں کروڑ روپے بانٹے جارہے ہیں ہم اس کی تصدیق نہیں کرسکتے لیکن شوشل میڈیا میں یہ خوب چل رہا ہے ۔
(انل نریندر)
14 نومبر 2024
میں کاروبار نہیں ،بالا دستی کے خلاف ہوں!
لوک سبھا چناﺅ میں اپوزیشن کے لیڈر اور کانگریس ایم پی راہل گاندھی نے حال ہی میں بھارت کے کئی بڑے اخباروں میں ایک آرٹیکل لکھا تھا جو تنازعوں میں آ گیا ہے جہاں کچھ لوگ اس پر نکتہ چینی کر رہے ہیں ۔وہیں ایسے لوگو ں کی بھی کمی نہیں کے آرٹیکل میں غلط حقائق پیش کئے گئے ہیں جبکہ کئی لوگ اس آرٹیکل کی تعریف بھی کر ہے ہیں ۔آخر اس آرٹیکل میں راہل گاندھی نے کیا لکھا تھا ؟انہوںنے کہا کے وہ کاروباریوں کے نہیں بلکہ بالا دستی کے خلاف ہیں انہوںنے ایک آرٹیکل کا حوالہ دیتے ہوئے کے یہ دعویٰ بھی کیا قاعدے ضابطے کے تحت کام کرنے والے کچھ کاروباری گروپوں کو مرکزی حکومت کے ایک سینئر وزیر ،وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی سرکار کے پروگراموں کی تعریف کرنے کے لئے مجبور کر رہے ہیں ۔ان کے اس دعویٰ پر سرکار کی جانب سے کوئی ردعمل جاری نہیں ہوا ہے ۔بھاجپا نے پی ایم مودی کے خلاف بے بنیاد الزام لگانے کے لئے بدھوار کو راہل گاندھی کی نکتہ چینی کی تھی اور ان پر نتیجے پر پہنچنے سے پہلے حقائق کی جانچ کرنے کی صلاح دی تھی ۔راہل گاندھی نے اپنے بیان کا ویڈیو جاری کر کہا تھا کے بھاجپا کے لوگ مجھے کاروباری مخالف بتانے کی کوشش کر رہے ہیں میں کاروباریوں کے خلاف نہیں ہوں لیکن میں ایک طرفہ بالادستی کے خلاف ہوں وہ ایک دو تین یا پانچ لوگوں کے ذریعہ صنعتی دنیا میں اپنی بالا دستی کے قائم کرنے کے خلاف ہیں میں نے اپنی کرئیر کی شروعات منتظم مشیر کی شکل میں کی تھی میں کاروبار کو سمجھتا ہوں اس لئے ضروری چیزوں کے بارے میں بھی جانتا ہوں بالادستی مخالف نہیں راہل گاندھی نے یہ بیان اپنے ایکس پوسٹ میں کہا کے میں نوکریوں کے زرائع بنانے کا حمائتی ہوں اور مقابلے کا حمائتی ہوں ہماری معیشت تبھی پھولے پھلے گی جب سبھی تاجروں کے لئے آزاد اور غیر جانب دارانہ مقام ہوگا انہوںنے کہا میرے آرٹیکل کے بعد قائدے سے چلنے والے کاروباری گروپوں نے مجھے بتایا کے ایک سینئر وزیر بھی کیا کہہ رہے ہیں اور انہیں وزیر اعظم مودی اور سرکار کے پروگراموں کے بارے میں سوشل میڈیا پر اوچھی بارتیں کہنے کےلئے مجبور کر رہے ہیںراہل گاندھی نے کہا اس ان کی بات صحیح ثابت ہوتی ہے انہوںنے بدھوار کو شائع آرٹیکل میں دعویٰ کیا تھا کے ایسٹ انڈیا کمپنی بھلے ہی رسوں پہلے ہی ختم ہو گئی ہو لیکن اس نے جو ڈر پیدا کیا تھا وہ آج بھی پھر سے دکھائی دینے لگا ہے اور بالا دستی والو ں کی ایک نئی پیڑھی نے لے لی ہے ان کا کہنا ہے کے وہ ایک دو تین یا پانچ لوگوں کے ذریعہ صنعتی دنیا میں بالادستی کے خلاف ہیں انہوںنے آگے آرٹیکل میں لکھا کے بھارت ماتا اپنے سبھی بچوں کی ماں ہے اور ان کے وسائل پر اقتدار پر کچھ لوگوں کا ایک طرفہ اختیار بھارت ماں کو چوٹ پہنچاتا ہے ۔میں جانتا ہوں کے بارت کے سینکڑوں ٹیلنٹ یافتہ کاروباری ہیں لیکن وہ سمجھتے ہیں کے ایک طرفہ بالادستی والوں سے ڈرتے ہیں۔
(انل نریندر)
اصلی کون نقلی کون ہے یہ نتیجے طے کریں گے
مہاراشٹر اسمبلی چناﺅ مہم آہستہ آہستہ شباب پر پہنچ رہی ہے ۔20 نومبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے اور نتیجے 23 نومبر کو پتہ چلیں گے کے سرکار مہایوتی منانے جا رہی ہے یا مہا وکاد ادھاڑی جیتے گی ۔اور مہایوتی اتحاد جیت کے لئے پوری طاقت چناﺅ مہم میں چھونک دی ہے جہاں دونوں اتحادوں کے درمیان کانٹے کے لڑائی ہے وہیں کئی چھوٹی لڑائیاں اتحاد کے اندر بھی لڑی جا رہی ہیں جیسے اصلی شیو سینا کونسی ہے اور اصلی این سی پی کونسی ہے ؟اسمبلی چناﺅ نتائج دونوں اتحاد کی ہار جیت کے ساتھ یہ بھی طے کریں گے کی شیوسینا کا کونسا گروپ ممبئی میں زیادہ اثر دار ہے ۔بتا دیں کے ممبئی غیر منقسم شیو سینا کا گڑھ رہی ہے ابھی ممبئی میں اسمبلی 36 سیٹیں ہیں سال 2019 میں بھاجپا اور شیوسینا نے ایک ساتھ چناﺅ لڑا تھا ان چناﺅ میں دونوں نے 30 سیٹیں جیتیں تھیں ان چناﺅ میں صورت حال الگ ہے شیو سینا (شندے)مہا یوتی میں شامل ہیں جبکہ شیو سینا (یو بی ٹی) ایم وی اے کا حصہ ہے ۔ایم وی اے کی اتحادی پارٹیوں میں ممبئی کی سیٹ کو لیکر کافی ٹکراﺅ تھا ۔سال 2019 میں کانگریس نے 36 میں سے 30 سیٹ پر چناﺅ لڑا تھا ۔اس بار اس کے حصہ میں صرف 11 سیٹیں آئی وہیں شیو سینا (یو بی ٹی )22سیٹوں پر چناﺅ لڑ رہی ہے باقی 3 سیٹ پر دوسری پارٹیاں ہیں وہیں مہایوتی میں شامل ایکناتھ شندے کی شیو سینا 16 بھاجپا 18اجیت پوار کی این سی پی 2 سیٹ پر چناﺅ میدان میں ہے سال 2019 میں ہوئے اسمبلی چناﺅ میں شیو سینا نے بھاجپا کے ساتھ اتحاد میں ممبئی میں 19 پر چناﺅ لڑا اور 14 سیٹیں جیتیں تھی ۔ممبئی کی 36 سیٹ چناﺅ ہار جیت میں اہم کردار نبھائیگی ۔کیوں کہ ممبئی کے ووٹر طے کریں گے کے تقسیم شدہ اصل شیو سینا کون ہے؟اسمبلی چناﺅ میں شیو سینا کے دونوں گروپ 49 سیٹ پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے چناﺅ لڑ رہے ہیں ۔ممبئی کی 14 سیٹ پر ایکناتھ شندے اور ادھوٹھاکرے کی شیو سینا آمنے سامنے ہے پردیش کانگریس کے ایک سینئر لیڈر نے کے ایم وی اے متحد ہے اور پچھلے 250برسوں میں تقسیم ہوئی شیو سینا کے دونوں گرپوں کے درمیان کون شیو سینا کا اصلی سینا پتی ہوگا ۔شیو سینا کے دونوں گروپ 49سیٹوں پر اور این سی پی کے دونوں گروپ ایک دوسرے کے سامنے میدان میں ہیں ۔یہ 87 سیٹیں بھی ادھو ٹھاکرے ،ایکناتھ شندے ،شرد پوار،اجیت پوار کی بالا دستی طے کریں گی ۔49 سیٹو ں پر سیدھا مقابلہ ایکناتھ شندے اور ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا کے بیچ اور 38 سیٹوں پر سیدھا مقابلہ شرد پوار اجیت پوار اور این سی بی کے درمیان ہو رہا ہے ۔جہاں یہ چناﺅ نتیجے یہ طے کریں گے کے اصلی این سی پی کونسی ہے شرد پوار کا گروپ 38 سیٹوں پر مقابلہ ان کے بھتیجے اجیت پوار سے ہو رہا ہے اس میں زیاتر سارے سیٹیں مغربی مہاراشٹر کی شگر بیلٹ کی ہیں ۔ان میں سے ایک سیٹ بالا متی ہے جہاں اجیت پوار کا مقابلہ بھتیجے یوگیندر پوار سے ہو رہا ہے ۔
(انل نریندر)
12 نومبر 2024
کیاصدر رہتے بھی جیل کا خطرہ بنا رہے گا؟
امریکہ میں صدارتی چناﺅ کے نتیجے آ چکے ہیں کئی ہفتوں کی چناﺅ مہم اور سخت مقابلے کے بعد پارٹی کے لیڈر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ کے صدارتی چناﺅ کے بعد ایوان صدر پہنچنے والے ایسے پہلے صدر ہوں گے جن کے خلاف کئی جرائم کے مقدموں میں فیصلہ آنا باقی ہے اس کے چلتے نہ گذیں حالات پیدا ہو گئے ہیں ۔جب ٹرمپ وائٹ ہاﺅس میں جائیں گے تو ان کے سامنے 4 چنوتیاں ہوں گی اس میں ہر پوزیشن کے ساتھ کیا ہو سکتا ہے ۔اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ڈونالڈ ٹرمپ کی نیویارک میں سنگین معاملوں میں قصوروار قرار دئے چکے ہیں یہ معاملہ کاروباری ریکارڈ میں ہیر پھیر کرنے سے وابستہ ہے ماہ مئی میںنیویارک کی ایک جیوری نے ٹرمپ کو قصور پایا تھا یہ معاملہ پارن فلم اسٹار کو چپ چاپ پیسے دینے سے جڑا تھا جیوری کے مطابق ٹرمپ اس پیسہ ادائیگی میں جڑے تھے جج جوان یرمین نے ٹرمپ کی سزا کو ستمبر سے 26 نومبر تک ٹال دیا تھا یعنی چناﺅ کے بعد تک وہیں بکلین کی سابق وکیل جولیا ریڈل مین نے کہا کے ٹرمپ کے چناﺅ جیتنے کے بہ وجود جج اپنے اختیار کے مطابق سزا کو لاگو کرنے سے آگے بڑھا سکتے ہیں ۔قانونی واقف کار مانتے ہیں کے ایسے امتحانات بے حد کم ہیں کی ٹرمپ کو پہلی بار ایک کافی عمر کے مجرم کے طور پر سزا سنائی جائے گی وکیل ریڈل مین کہتی ہیں کے اگر ایسا ہوتا ہے تو ٹرمپ کے وکیل سزا کے خلاف اپیل کر سکتے ہیں اگر ٹرمپ کو جیل بھیجا جاتا ہے تو وہ اپنے سرکاری کام نہیں کر پائے گے ایسے میں ان کو آزاد رکھنا چاہئے اپیل کرنے کی کارروائی کئی سال آگے بڑھائی جا سکتی ہے اسپیشل کاﺅنسل جیک سمتھ نے پچھلے سال ٹرمپ کے خلاف جرائم کے الزامات طے کئے تھے ۔یہ معاملہ جو بیڈن کے خلاف 2020 کا صدارتی چناﺅ ہارنے کے بعد نتیجوں کو پلٹنے کے لئے کی گئی کوشش اور تشدد بھڑکانے کا الزام ہے اس معاملے میں خود کو بے قصور بتایا تھایہ کیس تب سے لٹکا ہوا ہے سابق فیڈرل وکیل نعیم رحمانی کے مطابق جب سے ٹرمپ جیتے ہیں مجرمانہ مقدموں میں جڑی ان کی پریشانیاں دور ہو چکی ہیں اور وہ اب صدر بن چکے ہیں ان پر مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا ایسے میں واشنگ ٹن ڈی سی ضلع عدالت میں چل رہا چناﺅی دھوکہ دھڑی کا معاملہ خارچ ہو جائے گا ۔ٹرمپ نے ایک طرح سے کلین چٹ حاصل کر لی ہے جج نے یہ معاملہ ٹرمپ کے ذریعہ مقرر ایک عدالتی کمیٹی کے سونپا تھا انہوںنے جولائی میں اسے یہ کہہ کر خارچ کر دیا تھا کے محکمہ قانون میں اس پورے معاملے کی پیروی کرنے کے لئے جج سمتھ کی تقرری نہ مناسب طریقہ سے کی تھی اب جب ٹرمپ راشٹر پتی بن گئے ہیں تو قانونی ماہیرین کا خیال ہے کے صدارتی دفتر میں ٹرمپ کے رہتے سبھی مقدموں پر روک لگنے کا امکان ہے امریکہ کے صدر ہونے کے ناطے تب تک وہ صدر دفتر میں ہیں تب تک ان کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔
(انل نریندر)
سپریم کورٹ کے فیصلے کا کیا اثر ہوگا؟
جو یہ امید کر رہے تھے کے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی درجہ کو لیکر طویل عرصے سے چلے آ رہے تنازعہ پر ہاں یا نہ میں صاف جواب مل جائیگا۔انہیں سپریم کورٹ کے جمعہ کو آئے فیصلے سے تھوڑی راحت بھی ملی ہوگی اور تھوڑی مایوسی بھی لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کے ان اہمیت اس معنیٰ میں یہ ہے کے اس معاملے کو دیکھنے سمجھنے کے طریقوں میں رہی خامیوں پر روشنی ڈالتا اور انہیں دور کرتا ہے سپریم کورٹ کی آئینی بینچ نے جمعہ کو 1967 کے اپنے فیصلے کو پلٹ دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جیسے سینٹرل یونیورسٹی کواقلیتی ادارہ کا درجہ حاصل نہیں ہو سکتا تھا۔7 ججو کی آئینی بینچ کے اکثریتی فیصلے میں ایس عزیز باشا بنام مرکزی حکومت معاملے کو پلٹا ہے ۔حالانکہ اے ایم یو کو اقلیتی ادارے کا درجہ حاصل ہوگا یا نہیں اس کا فیصلہ بڑی عدالت کی ایک ریگولر بنچ کرے گی۔چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ جسٹس سنجیو کھنہ ،سوریہ کانت،جے بی پاردیوالا سمیت 7 ججوں کی بنچ میں شامل تھے ۔اس قانونی تنازعہ کی پیچیدگی کو اس پہلو سے سمجھا جا سکتا ہے کی یہ آدھی سدی سے بھی زیادہ پرانا معاملہ ہے اس کی شروعات 1967 میں عزیز باشا شیخ سے آئے سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے مانی جاتی ہے جس میں کہا گیا تھا کے اے ایم یو اقلیتی ادارہ نہیں ہے کیوں کے یہ ایک قانون اے ایم یو ایکٹ نے دیا ہے کے ذریعہ وجود میں آیا تھا عدالت کے اس فیصلے کو پلٹتے ہوئے کچھ پیمانے بھی مقرر کئے گئے ہیں؟اب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی درجہ پر اگلی سماعت میں فیصلہ انہیں تجروں کو ذہن میں رکھتے ہوئے کیا جائےگا ۔پورے طور پر دلیل یہ ہے کے کی ادارے کا قیام کس نے کیا کیا ادارے کا کردار اقلیتی ہے اور کیا یہ اقلیتوں کے مفاد میں کام کرتا ہے ؟ اقلیتی درجہ کا سوال یونیورسٹی انتظامیہ کے مختلف اہم ترین پہلوﺅ سے جڑا ہے ،یہاں لاگو ہونے والا ریزویشن سسٹم بھی فیصلہ کن اثر ڈالنے والا ہے یونیورسٹی میں مسلمانوں کو کتنا ریزویشن ملےگا اور ایس سی ،ایس ٹی ،او بی سی ان کو ریزرویشن ملےگا یا نہیں یہ بھی اس سوال کے جواب میں منحصر کرتا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی وجود کی بحالی بے شک ہو گئی ہے حالانکہ ابھی 3 نفری بنچ نے اس وجود سے جڑے تقاضے طے کرنے ہوں گے اے ایم یو ،علیگ برادری اسے اپنی بڑی جیت اور راستہ کھلنا مان رہے ہیں اس فیصلے کے ساتھ ہی سوال کھڑے ہو رہا ہے کے اب اے ایم یو کو چلانے اور سسٹم میں کیا تبدیلی ہو سکیں گی جس پر ایک ہی جواب ہے کے ابھی کے حکم کے قانونی پہلوﺅ کا جائزہ اور باریکیوں پر قانونی رائے لینے کے بعد ہی کچھ کہا جائے گا اور پھر طے ہوگی اے ایم یو کے چلانے میں اگر غور کریں تو اب تک اے ایم یو اپنے ایکٹ ،یو جی سی اور وزارت تعلیم کے قوائد سے چلتی ہے اس کے تحت اے ایم یو میں 50 فیصدی طلبا کو عارضی طور پر کوٹ کا فائدہ ملتا ہے حالانکہ اگر اقلیتی کریکٹر ہٹتا ہے تو ریزرویشن سسٹم لاگو ہوگا جانکار کہتے ہیں کے اب حالات جو ں کے توں رہیں گے۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...