Translater

20 جون 2020

پیٹرول ڈیژل کی بڑھتی قیمتیں اورعام آدمی

دیش میں پیر کو تقریباً9دن پیٹرول کی قیمتیں بڑھائی گئی تھیں۔ پیر کو پیٹرول کا دام 48پیسے اور ڈیژل کا دام 23پیسے فی لیٹر بڑھادیا گیا۔ آخر کیاوجہ ہے کہ کچاتیل سستا ہونے کے باوجود دیش میں 9دنوں میں پیٹرول کا دام 75.87 روپے سے بڑھ کر 76.26روپے فی لیٹر اور ڈیژل کے دام 74.03روپے سے بڑھ کر 74.26روپے فی لیٹر مہنگا ہوچکا ہے۔ توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے پیچھے حالیہ دنوں میں کچے تیل پر مرکز کی جانب سے بڑھایا گیا ایکسائز ٹیکس اور ریاستوں کے ذریعے ویٹ میں اضافہ ہوا ہے۔ اگر تیل پر لگنے والے ٹیکس اور ویٹ کو دیکھ لیں تو بھارت میں قریب 69فیصدی لگتا ہے۔ وہیں امریکہ میں 19فیصدی، جاپان میں 47فیصد، برطانیہ میں 62فیصدی، جرمنی میں 65فیصدی ٹیکس اور ویٹ لگتا ہے۔ اس لحاظ سے بھارت دنیا میں سب سے زیادہ اس مد میں ٹیکس لگانے والا دیش بن گیا ہے۔ مرکزی سرکار کے ذریعے ایکسائز ٹیکس بڑھانے کے بعد کئی ریاستوں نے ویٹ کی شرح میں اضافہ کرکے اپنا خزانہ بھرنا شروع کردیا ہے۔ اس کے بعد ان لاک۔1میں مانگ بڑھنے پر تیل کمپنیوں نے دام بڑھانے شروع کردیئے۔ یہ سب کچھ عام آدمی کی جیب کی قیمت پر ہورہا ہے۔ ایک طرف بے روزگاری، بھکمری اور دوسری طرف بڑھتے ایندھن کی قیمتیں چوطرفہ مہنگائی ہوتی ہے لیکن کس کو فکر ہے؟ سرکاریں تو بس اپنا خزانہ بڑھاتی ہیں۔ بے شک پچھلے کچھ دنوں سے کچے تیل کی قیمتیں بڑھی ہوں لیکن اس سے پہلے تو کچے تیل کی قیمت سب سے نچلی سطح پر آگئی تھی۔ تب بھی سرکاروں نے قیمتیں نہیں گھٹائیں۔ غریب اور درمیانے طبقے کو پہلے سے ہی پس رہے ہیں رہی سہی کسر پیٹرول ڈیژل کی اضافی قیمتوں نے نکال دی ہے۔ (انل نریندر)

وبا کی حالت بے حد خراب ہونے لگی ہے

کورونا مریضوں کی تعداد میں اضافے کے معاملے میں بھارت دنیا میں تیسرے نمبراور روزانہ ہورہی اموات کے لحاظ سے چوتھے مقام پر ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اگر تعداد دوگنی ہونے کی شرح موجودہ 17.4جن کی بنیاد پر مانے تو 21ستمبر تک دیش میں ایک کروڑمریض ہوجائیں گے۔ سرکاری ادارے آئی سی ایم آر کی اسٹڈی کے مطابق جانچ کا طریقہ بدل جاتا ہے تو مئی کی شروعات میں ہی مریضوں کی اصلی تعداد 20گنا سے زائد ہوگی۔ اس لئے ماہرین کے مطابق مریضوں کی پہچان کمونٹی کا پھیلاو¿ کا تنازعہ، رابطہ جاننے کے مرحلے کافی پہلے ہی ختم ہوگئے۔ سپریم کورٹ نے منگلوار کو کہا کہ دیش میں کووڈ۔19سے پیدا حالت میں سدھار نہیں ہورہا ہے بلکہ دن بہ دن حالات خراب ہوتے جارہے ہیں۔ بڑی عدالت نے نشیلی ادویہ کا کاروبار کرنے کے ملزم پنجاب کے ایک کاروباری جگجیت سنگھ چہل کی پیرول کی میعاد بڑھاتے ہوئے یہ تبصرہ کیا۔ جسٹس آر ایف نریمن، جسٹس نوین سنہا اور جسٹس وی آر گوی کی بینچ نے جگجیت سنگھ چہل کی درخواست کی مخالفت کررہے پنجاب سرکار کے وکیل کی دلیل کے دوران کہا کہ آپ دیکھئے آپ کووڈ۔19کی حالت ہر گزرتے دن کے ساتھ اچھی نہیں ہورہی ہے۔ دیش میں یہ دن بدن بگڑرہی ہے۔ اس ملزم نے اپنی پیرول کی میعاد ایک مہینے بڑھانے کی درخواست کی تھی۔ اس کی درخواست پر ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سماعت کے دوران کہاکہ جب کچھ ملزم ضمانت پر تو کچھ پیرول ہوں تو ایسے حالات میں جیل میں زیادہ بھیڑ جمع کرنے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ بینچ نے پنجاب سرکار کے حلف نامے کے بعد کہاکہ ملزم 19فروری کو اس معاملے میں ضمانت دی گئی تھی اور اس کی اپیل 16جولائی کو سماعت کے لئے داخل ہے۔ آج ضرورت ہے کہ سنگین مریضوں کو دوا سمیت آکسیجن ملے، وینٹی لیٹر ملے، حالت بہت خطرناک ہیں اگر جلد ہیلتھ سے متعلق ضروریات پوری نہیں کی گئی تو یہ بہت خطرناک شکل اختیار کرسکتی ہے۔ (انل نریندر)

ڈریگن نے منظم سازش کے تحت حملہ کیا!

لداخ کی گلوان وادی میں بھارت۔ چین کی فوج کے درمیان تشدد آمیز جھڑپ چین کی منظم سازش تھی۔ 15جون کو چینی فوجی جب ہندوستانی فوجیوں کو دھوکے سے گھیر کر تمام ظلم کی حدیں پار کررہے تھے تبھی چین کے صدر شی جن پنگ کی یوم پیدائش کا جشن چل رہا تھا۔ ہندوستانی فوج کے ذرائع پی ایل اے کی اس کرتوت کو جن پنگ کی یوم پیدائش کا تحفہ دینا جیسا بتا رہے ہیں۔ شہیدوں کے جسم پر زخم اس کے ثبوت ہیں۔ 20شہیدوں میں سے 16کے جسم پر ڈنڈے، پتھروں سے کئے گئے حملے پر گہرے زخم ہیں۔ چار فوجیوں کی موت چوٹی سے گرنے سے ہوئی۔ یہ صاف نہیں ہے کہ انہیں دھکا دیا گیا یا دھکا مکّی کے دوران پگڈنڈی سے گرے۔ قریب 15ہزار فٹ کی اونچائی پر تشدد ایسے مقام پر ہوا جہاں بہت کم لوگ جمع ہوسکتے ہیں۔ جس سرحدی چوکی پر اعتراض جتانے کی کمانڈنگ افسر کرنل وی سنتوش گئے تھے وہاں سے بے حد تنگ راستہ نیچے کی طرف جاتا ہے۔ پہلے چینی پولیس چوکی سے تمبو واپس لے جاتے نظر آئے لیکن کرنل کی ٹکڑی پہنچنے پر چینی فوجیوں نے پینترا بدل دیا اور انہیں گھیر کر مارنا شروع کردیا۔ ذرائع کے مطابق منگلوار کو ہیلی کاپٹروں سے چینیوں نے زخمی فوجیوں کو نکال کر یہاں سے 46اسٹریچر لے جاتے دیکھاگیا۔ یہ صاف نہیں ہے کہ کتنے زخمی فوجی تھے اور کتنی لاشیں تھیں۔ اس خونی جھڑپ میں نقصان پر چین بھی خاموش ہے۔ چین کے محکمہ خارجہ نے بتایا کہ وہاں ایل اے سی پر مستقبل میں ایسی جھڑپ نہیں چاہتا اس جھڑپ کے بعد چینی اخبار نے منگلوار کو چینی فوجیوں کو نقصان ہونے کی بات قبولی تھی۔ اس اخبارسے وابستہ ایک رپورٹ نے 27فوجیوں کے مرنے کے متعلق ٹوئیٹ کیا تھا۔ بدھ کے ایڈیشن میں گلوبل ٹائمز نے اس کا تذکرہ نہیں کیا۔ حالانکہ ذرائع بتاتے ہیں کہ اس جھڑپ میں چین کو بھی بھاری نقصان پہنچا۔ چینی فوج کا کمانڈنگ افسر سمیت چالیس جوان مارے گئے۔ ایل اے سی کی دوسری طرف بڑی تعداد ایمبولینس پہنچنے کی بات سامنے آئی ہے۔ چینی وزیر خارجہ وانگ چی نے بھی 15جون کی خونی حرکت پر کہاکہ دونوں فوجوں جہاں جھڑپ ہوئی وہ علاقہ شروع سے ہی چین کے کنٹرول میں ہے۔ ہندوستانی فوج ایل اے سی پار کر وہاں پہنچی لیکن فوج کا یہ جھوٹ 16جون کو سیٹلائٹ تصاویر سے سامنے آگیا ہے۔ 16جون کی شام اس تصویر میں چینی فوجیوں کے بیرک ہندوستانی علاقے میں دکھائی دے رہے ہیںیہ واقعہ اگلے دن بھی چینی فوج پیچھے نہیں ہٹی ہے۔ پیر کوتشدد آمیز جھڑپ میں دونوں ملکوں کے بیچ 1962میں ہوئی جنگ کے خونی ٹکراو¿ کی یاد دلاتی ہے۔ تب بھی اسی طرح دونوں ملکوں کی فوج میں بھی خونی جھڑپ ہوئی تھی اور اس وقت بھارت کے 80اور چین کے تین سوسے زیادہ فوجی مارے گئے تھے۔ پیر کوجس گلوان وادی کے پاس دونوں ملکوں کے فوجیوں کے درمیان جھڑپ ہوئی وہ دنیا کے سب سے مشکل جنگی علاقوں میں سے ایک ہے۔ جھڑپ کی جگہ زمین کی سطح سے 14ہزار فٹ اوپر ہے۔ یہاں درجہ حرارت -0(مائنس) ہوتا ہے۔ (انل نریندر)

19 جون 2020

بیمہ رقم کے لئے خود کے قتل کی سپاری دی

دہلی میں ایک سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔ جب ایک شخص نے خود کے قتل کی سپاری دے کر بیمہ کا پیسہ لینے کی اسکیم بنائی یہ چونکانے والی داستان ایک شخص گوروو بنسل کی ہے۔ کرکرڈوما کے کاروباری گوروو بنسل نے پریوار کے بیمے کی رقم دلانے کے لئے خود ہی اپنا قتل کرواڈالا۔ اس نے فیس بک کے ذریعے بھاڑے کے قاتلوں سے رابطہ قائم کر انہیں 90ہزار روپے بھی دیئے۔ رن ہولا پولیس نے اتوار کو ایک نابالغ سمیت چارلوگوں کو پکڑا۔ تو قتل کے پیچھے کی کہانی سامنے آگئی۔ ڈی سی پی آو¿ٹر ایکان نے بتایا کہ 10جون رنہولا علاقے میں پیڑ سے لٹکی ایک لڑکے کی لاش ملی تھی، اس کے ہاتھ پیر بندھے تھے جس کی وجہ سے قتل کا معاملہ لگ رہا تھا جانچ سے معلوم ہوا کہ 37سالہ شخص گوروو بنسل کی لاش ہے۔ گوروو اپنے گھروالوں سمیت آئی پی ایکسٹینشن میں رہتا تھا۔ پریوار نے 9جون کو آنندوہار تھانے میں اس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی تھی جس میں کہاگیا تھا کہ وہ اپنی دکان پر گیاتھا لیکن گھر نہیں لوٹا۔ قتل کی جانچ کے لئے اے سی پی ناگر نے آنندساگر کی نگرانی میں انسپکٹرہسرام مینا پر ٹیم بنائی جس نے خاندان کے لوگوں، دوستوں اور دکان کے ملازمین سے معلومات اکٹھی کی لیکن کوئی سراغ نہیں ملا۔ پھر اے ایس آئی امت راٹھی نے متوفی کے فیس بک، وہاٹس ایپ اور موبائل کی جانچ کی تو پہلے سورج پھرامت ، منوج اور آخر میں ایک لڑکے بالن کو پولیس نے دبوچ لیا۔ پوچھ تاچھ میں ملزمان نے بتایا کہ گوروو نے اپنے قتل کے لئے انہیں 90ہزار روپے دیئے تھے تاکہ مرنے کے بعد اس کے بیمے کی رقم گھروالوں کو مل سکے۔ اس قتل کی کڑیاں جوڑنے میں پولیس کو کافی مشقت کرنی پڑی لیکن جانچ میں سچ سامنے آگیا۔ گوروو ایک ماہ سے اپنے قتل کی سازش رچ رہا تھا۔ اسے فیس بک پر ممبئی کا ایک شخص ملا جس نے قتل کرانے کے لئے نابالغ لڑکے کا موبائل نمبر دیا پھر اس نے سپاری لے کر تین لڑکوں کو اپنے ساتھ شامل کرلیا اور 9جون کو گوروو خود ہی رنہولا پہنچا جہاں پلان کے مطابق ملزمان اس کے ہاتھ اور پیر باندھ کر اسے پیڑ سے لٹکادیا۔ ایسا اس لئے کیاگیا تاکہ یہ لگے قتل ہوا ہے۔ پولیس کو نابالغ اور گوروو بنسل کے بیچ وہ چیٹ بھی مل گیا اس کو دیکھاجارہا ہے۔ اس میں کئی باتیں سامنے آئی ہیں، جس نے اس واردات سے تعلق رکھنے والے کی تلاش شروع کردی۔ فی الحال پولیس بیمے کی رقم کی جانکاری نہیں مل پائی ہے۔ پولیس رشتے داروں سے پوچھ تاچھ میں تفصیلات لے رہی ہے۔ گوروو کے موبائل کی بھی جانچ ہورہی ہے۔ (انل نریندر)

چین کی دھوکے بازی ایک بار پھر اجاگر ہوئی

لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) کے قریب مشرقی لداخ کی گلوان وادی میں کرنل سمیت 20جوانوں کو چینی فوجیوں کے ساتھ جھڑپ میں شہید ہوجانے کا واقعہ نے چین کی دھوکہ بازی کو ایک بار پھر سے اجاگرکردیا ہے۔ 1975میں اروناچل پردیش کے تلنگلا علاقے چینی فوجیوں کے گھات لگاکر کچھ ہندوستانی فوجیوں کو نشانہ بنانے کے 45سال بعد دونوں ملکوں کے بیچ ایسی جھڑپ ہوئی جس میں فوجیوں کی موت ہوئی اور اس سے بھارت۔ چین کے درمیان کشیدگی انتہا پر پہنچ گئی ہے۔ جب دونوں دیش گلوان وادی میں پیچھے ہٹنے پر متفق تھے تب ایسا کیوں ہوا؟ اس کی ایمانداری سے فوج اور وزارت خارجہ کے حکام کو تجزیہ کرنا چاہئے۔ اعلیٰ سطح پر اگر پہلے پہل ہوتی تو ممکن ہے تنازعہ اس تاریخی ٹکراو¿ کے موڑ نہ پہنچتا۔ چین کی طرف سے پیر کی رات یہ بھڑکانے والے کارروائی اس وقت کی گئی جب دونوں ملکوں کے درمیان بنی اتفاق رائے کی بنیاد ایل اے سی کے پاس فوجیوں کی واپسی ہونی تھی۔ دونوں فریقین میں کرنل میجر لیفٹیننٹ جرنل سطح کی کئی دور کی بات چیت کے بعد فوجیوں کی واپسی پر اتفاق رائے ہوا تھا، لیکن اس تازہ کارروائی میں چین کے قول اور فعل کے فرق کو ایک بار پھر اجاگر کردیا۔ چین کے قول اور فعل میں فرق کی لمبی تاریخ رہی ہے، چاہے وہ سال 1962کی جنگ کا ہو یا پھر اس کے بعد چھ دہائی بعد کا لمبا یہ وقت اس دوران ایل اے سی کو لے کر چین ہمیشہ اپنا رول بدلتا رہا ہے۔ حالیہ ڈوکلام تنازعہ یاد ہوگا؟ چین نے ایک بار پھر جس ہماری پیٹھ پر خنجر گھونپنے کا کام کیا اس کے بعد اس نتیجہ پر پہنچنے کے علاوہ اور کوئی قدم نہیں کہ وہ ہمارا سب سے بڑا اور ساتھی شاطر دشمن کی شکل میں سمجھ میں آگیا ہے۔ یہ ایک جانے انجانے کی تصویر ہے کہ وہ ہندوستانی علاقے میں قبضہ بھی کرتا ہے اور پھر بھارت کو امن قائم رکھنے کی نصیحت بھی دیتا ہے اور پیچھے ہٹنے سے انکار کرتا ہے۔ گلوان وادی کا یہ واقعہ بتارہا ہے کہ پانی سرکے اوپرچڑھنے لگا ہے دوستی کی آڑ میں دشمنانہ رویے کا ثبوت دینا اور بھارت کو نیچا دکھانا چین کی عادت سی بن گئی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ چینی محکمہ خارجہ نے ہندوستانی فوجیوں پر اس کی سرحد میں نام نہاد شکل میں گھسنے اور پہلے حملہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے خود کو متاثربتانے کی کوشش کی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ چینی فوجیوں نے پتھر بازی کر ہندوستانی جوانوں کو نشانہ بنایا۔ چین کو یہ پتاہونا چاہئے کہ وہ داداگیری کے بل پر بھارت سے اپنے رشتے قائم نہیں کرسکتا۔ 1962کو بھارت بھولا نہیں ہے، ہم اس کی اینٹ کا پتھر سے جواب دینے کے اہل ہیں۔ لیکن یہ صرف ضروری ہے کہ خود انحصار بھارت مہم کے تحت چینی مصنوعات درآمدات کو محدود کریں اور یہ بھی ہے کہ بھارت اپنی تبت، تائیوان اور ہانگ کانگ پالیسی پر نئے سرے سے نظرثانی کرے۔ اس واقعہ سے سرحد پر پچھلے 45برسوں سے چلی آرہی جوں کی توں حالت اب بدل چکی ہے ایسے میں دوررس ٹارگیٹ کو ایک طرف رکھنا ہماری مجبوری ہے۔ چین کو صاف اشارہ جلد بھارت کو دینا ہوگا اور چین کو سبق سکھانا ہی ہوگا۔ (انل نریندر)

18 جون 2020

سشانت کی پھانسی پر اٹھتے سوال

اگر آپ میری فلم دیکھنے نہیں آئیں گے تو یہ مجھے بالی ووڈ سے باہر نکال سکتے ہیں۔ میرا کوئی گاڈ فادر نہیں ہے.... میں نے آپ لوگوں کو ہی اپنا گاڈ فادر اور فادر مانا ہوا ہے۔ براہ کرم دیکھیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں بالی ووڈ میں کام کرتارہوں ، یہ بات مرنے سے کچھ دن پہلے سشانت نے اپنے کسی فین سے مذاق میں کہی ہوگی۔ لیکن کہیں نہ کہیں اس پوسٹ سے سشانت سنگھ راجپوت کا درد چھلکتا ہے وہ اس چمک دمک بھری فلم انڈسٹری میں خود کو اکیلا محسوس کیا کرتے تھے۔ بالی ووڈ کے تمام فلمی ہستیاں سشانت کی اچانک موت پر اپنے اپنے انداز میں دکھ کا اظہار کررہے ہیں اور مینٹل ہیلتھ پر کھل کر سامنے آنے کی صلاح ومشورہ کررہے ہیں۔ حالانکہ فلمی ہستیوں کے ان پوسٹ پر کئی پرستاروں اور جدوجہد میں لگے اداکاروں نے اپنے اپنے روےے کے لئے سوال اٹھائے ہیں۔ دھرمیندر،گنگنارناوت، شیکھرکپور اور رنبیرشوری، سکما بھوانی، نکھل دویدی جیسی کئی نامی ہستیوں نے فلم انڈسٹری میں امتیاز برتے جانے پر سوال اٹھائے ہیں۔ سشانت کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد عام لوگوں سے لے کر جونیئرسلیبریٹیزنے تنقید کی ہے۔ فلم اڑان سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کرنے والے رجت برمیا نے ایک پوسٹ میں انڈسٹری والوں کے مینٹل ہیلتھ کی بات کرنے کو فینسی ٹرینڈ بتایا ہے۔ ادھر ایکٹر وپروڈیوسر نکھل دویدی نے لکھا ہے کہ کوئی اعتراض نہیں ہے آپ صرف چڑھتے سورج کو سلام کریں شاید سبھی کرتے ہیں، اعتراض اس میں ہے کہ ڈھلتے وقت جس سورج سے آپ نے روشنی لی ہے آپ اسی سورج سے آنکھیں چراتے ہیں اور تو اور اس کی کھلی بھی اڑاتے ہیں۔ شروعات سشانت کی اچانک موت پر دکھ ظاہر کرتے ہوئے اداکارہ کنگنارناوت نے ایک ویڈیو پر بھید بھاو¿ کئے جانے کی بات کرتے ہوئے کہاکہ گلی بوائے جیسی واہیات جیسی فلم کو ایوارڈ ملے لیکن چھچھوڑے کو کیوں نہیں۔ سشانت کی موت نے ہم سب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ جن لوگوں کا دماغ کمزور ہوجاتا ہے وہ ڈپریشن میں آجاتے ہیں اور خودکشی کرتے ہیں۔ سشانت سنگھ راجپوت کے لئے آپ لکھتے ہیں کہ وہ سائکریٹک، نیوریٹک تھے، نشے کے عادی تھے بڑے اسٹار کی نشے کی عادت تو بہت کیوٹ لگتی ہے۔ تو یہ سوسائڈ نہیں یہ پلان مرڈر تھا۔ انہوں نے کہاکہ تم کسی کام کے نہیں ہو اور وہ مان گیا اور انہوں نے کہاکہ تمہارا کچھ نہیں ہوگا وہ یہ مان گیا۔ دراصل وہ یہی چاہتے ہیں کہ وہ تاریخ لکھیں کہ سشانت سنگھ راجپوت کمزور دماغ کا انسان تھا لیکن وہ یہ بتائیں گے کہ سچائی کیا ہے۔ ایسے رنبیر طنز کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ سشانت نے جوقدم اٹھایا وہ ان کا فیصلہ تھا اس کے لئے کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایاجاسکتا۔ لیکن اس بات میں ان لوگوں کو تو ضرورغور کرنا چاہئے جنہوں نے خود کو اپنے آپ کو موقع پرست بنالیا ہے۔ جو یہ کھیل کھیل رہے ہیں انہیں اپنے ڈبل اسٹنڈرڈ روےے کے بارے میں بھی بتانا چاہئے۔ (انل نریندر)

دوہزار سے زیادہ کورونایودھا انفیکشن کی زد میں!

دہلی میں کورونا سے لڑنے والے فرنٹ لائن واریئرس (یودھا) کوبہت بھاری قیمت چکانی پڑرہی ہے اور دہلی میں اب تک 2ہزار سے زیادہ کورونا یودھا انفیکشن کی زد میں آچکے ہیں۔ ان میں سے ایک ہزار سے زیادہ ہیلتھ ملازمین شامل ہیں۔ دہلی میں ابھی تک ایک ہزار سے زیادہ ہیلتھ ملازمین اس وائرس کی زد میں آچکے ہیں۔ ان میں ایمس کے سب سے زیادہ 624ملازم اور ان کے رشتے دار شامل ہیں۔ ایمس میں ابھی تک چھ سینئر پروفیسر اور 26ریزیڈنٹ ڈاکٹر کے علاوہ 105نرسنگ ملازمائیں اس انفیکشن کی زد میں آچکی ہیں۔ ایمس میں 126ملازمین اور ان کے رشتہ داروں کا علاج ابھی بھی ایمس کے دوسرے کمپلیکس میں چل رہا ہے۔ دہلی میں کورونا انفیکشن سے 6ہیلتھ ملازمین کی موت ہوئی ہے۔ ایسے ہی ایمس میں 3دیگر ملازمین جاں بحق ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ کالرا ہسپتال میں کام کرنے والی کیرل کی ایک نرس کی بھی صفدرجنگ میں علاج کے دوران موت ہوگئی۔ وہ کورونا متاثر تھیں ایک آیورویدک ہسپتال میں سیمپل لینے والے ملازم کی بھی انفیکشن سے بعد جان چلی گئی۔ ایسے ہی لوک نائک ہسپتال سے سوشرت کورونا سینٹر میں کام کرنے والے ایک ٹیکنشین کی بھی کورونا سے موت ہوچکی ہے۔ ایسے ہی ہیلتھ ملازمین کا علاج چل رہا ہے۔ دہلی میں ایمس کے علاوہ 33 دیگر ہسپتالوں میں 600سے زیادہ ہیلتھ ملازم کورونا سے متاثرہوچکے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ روہنی میںواقع امبیڈکر ہسپتال کے 114، بابوجگجیون رام ہسپتال کے 103 ہیلتھ ملازم بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صفدر جنگ کے 45، لوک نائک کے 96ہیلتھ ملازم ابھی تک کورونا کے زد میں ہیں۔ لوک نائک ہسپتال میں 31 ڈاکٹر انفیکشن سے متاثر ہیں۔ کورونا سے لڑنے کے لئے مریضوں کو ٹھیک کرنے کے لئے ڈاکٹروں نرسوں اور ہیلتھ ملازمین وپولیس ملازمین نے اپنی جان کی بازی لگارکھی ہے۔ انہیں ہمارا سلام۔ (انل نریندر)

ان پرائیویٹ ہسپتالوں کی لوٹ کھسوٹ پر لگام لگنی چاہئے

دہلی کے پرائیویٹ ہسپتال میں بیڈ کے انتظام تو ہوگئے لیکن محکمہ صحت کی جانب سے فیس طے نہیں کرنے کا خمیازہ مریضون کو بھگتنا پڑرہا ہے۔ پرائیویٹ ہسپتال سے اپنے حساب سے فیس طے کررہے ہیں اس لئے کئی مریض یہاں علاج سے محروم ہورہے ہیں۔ پرائیویٹ ہسپتالوں کا کہنا ہے کہ کورونا کے مریضوں کے لئے علاج کے انتظام کی لاگت بہت زیادہ ہے اس کی فیس بھی زیادہ ہے۔ مشرقی دہلی میں پرائیویٹ اسپتالوں میں سب سے بڑے پٹپڑ گنج میں واقع میکس ہسپتال میں جنرل وارڈ کے لئے یومیہ فیس 25ہزار روپے رکھی گئی ہے۔ اس کے علاوہ مہنگی دوا اور ٹیسٹ وغیرہ کے چارجز الگ سے دینے ہوں گے۔ یہ اوسطاً 10سے15ہزار کے درمیان ہوسکتی ہے۔ اگر مریض کو کمرہ چاہئے تو اس کے لئے 30490 روپے دینا ہوں گے۔ بغیر وینٹی لیٹر کے آئی سی یو فیس 50050روپے رکھی گئی ہے۔ اس طرح وینٹی لیٹر کی ضرورت پڑتی ہے تو مریض کو 72550 روپے یومیہ دینا ہوگا۔ اگر دیگر خرچ جوڑ دیئے جائیں تو وینٹی لیٹر کا خرچ 90ہزار روپے یومیہ پڑسکتا ہے۔ یہاں کورونا مریضوں کے لئے 80بیڈ ریزرو ہین۔ بدھوار کو کورونا کے 80مریض بھرتی تھے اورکوئی بیڈ خالی نہیں تھا۔ غورطلب ہے کہ راجدھانی کے پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج کی قیمتیں مقرر کرنے کے لئے دہلی ہائی کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے عدالت نے اس معاملے میں دخل دینے سے انکار کردیا ہے اوردہلی ہائی کورٹ نے دہلی سرکار کو جس میں یہ یقینی کرنے کی ہدایت دینے کو کہاگیا تھا کہ کووڈ۔19کے لئے طے کوئی بھی پرائیویٹ ہسپتال مریضوں سے زیادہ فیس نہ وصولے اور نہ ہی پیسے کی کمی کے سبب اس کا علاج کرنے سے انکار کرے۔ چیف جسٹس ڈی این پٹیل، جسٹس پرتیک جالان کی بینچ نے کہاکہ حالانکہ عرضی میں یہ سوال اٹھایاگیا تھا کہ زیادہ فیس وصول نے سے روکاجائے لیکن عدالت نے مفاد عامہ کے مقدمہ میں کوئی ایسا حکم جاری کرنے سے ہی منع کردیا۔ کیونکہ وہ ایسا نہیں کرسکتی جسے لاگو کرنا مشکل ہو، اس کے ساتھ ہائی کورٹ سماجی کارکن وکیل امت ساہنی کی عرضی کا نپٹارہ کردیا۔ ایک ہسپتال کے ذریعہ علاج کے لئے جاری فیس کے سلسلے میں دہلی سرکار کے 24مئی کے سرکلر کا حوالہ دیاگیا تھا۔ عرضی میں کہاگیاتھا کہ ریاستی سرکار نے کئی ہسپتالوں کو کووڈ۔19ہسپتال ڈکلیئر اور اس کے 3جون تک کے حکم حکام نے 3پرائیویٹ ہسپتالوں مولچند خیراتی لال ہسپتال، سروج سپر اسپیشلسٹی ہسپتال، سرگنگارام ہسپتال کو کووڈ۔19ہسپتال بنادیاگیا ہے۔ یہ ہسپتال مالی طور سے کمزور مریضوں کو 10فیصد اور 25فیصد میں اوپی ڈی سروسز مہیا کرانے کے لئے مجبور ہیں۔ ان پرائیویٹ کووڈہسپتالوں میں سے ایک کا سرکلر دیکھا جس میں کووڈ۔19کے مریض کے لئے کم ازکم بل تین لاکھ روپے طے کیاگیا ہے۔ دہلی سرکار کو علاج کے لئے فیس طے کرنی چاہئے اور جنتا کو پرائیویٹ ہسپتالوں کی لوٹ کھسوٹ سے بچانا چاہئے۔ (انل نریندر)

17 جون 2020

نیرو، میہول چوکسی سے ضبط 1350کروڑ کے ہیرے جواہرات واپس آئیں

ہیرا کاروباری نیرومودی، میہول چوکسی کے گھوٹالے سے وابستہ معاملوں میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے خود کو بڑی کامیابی حاصل کی۔ اس کے حکام نے گھوٹالے کے دونوں ملزمان کی فرموں سے 23سوکلوگرام ہیرے جواہرات اور زیورات، ہانگ کانگ سے لائے گئے ہیں۔ مودی اور چوکسی کی ملکیت والی فرمیں ہانگ کانگ اور دبئی میں ہے، جہاں سے 1350کروڑ روپے کے ان ہیرے جواہرات کو ضبط کیاگیا ہے۔ ای ڈی کے حکام نے بتایا کہ ہانگ کانگ سے کل 108عدد ضبط مال لایاگیا ہے۔ ان میں سے32نیرو مودی کے ہیں اور جبکہ 76 میہول چوکسی کی فرموں سے ضبط مال ہیں۔ دونوں کاروباریوں نے سال 2018کے ابتدا میں اپنے ہیرے جواہرات دبئی سے ہانگ کانگ پہنچادیئے تھے۔ اس کی جانکاری ملتے ہی ای ڈی نے ہانگ کانگ میں دونوں کاروباریوں کی فرموں سے ضبط کارروائی شروع کی اور اسے کامیابی ملی۔ بتادیں نیرو مودی اس وقت لندن کی جیل میں بند ہے جبکہ میہول چوکسی اینٹیگوا ہونے کا پتہ چلاہے، ادھر برطانیہ کی ایک عدالت نے نیرو مودی کو 9جولائی تک عدالتی حراست میں رکھنے کے احکامات دیئے۔ بھارت میں اربوں روپے کے بینک قرض گھوٹالے اور منی لارڈرنگ معاملے میں نیرو مودی پچھلے سال مئی سے لندن کی جیل میں بند ہے۔ وہ پچھلے سال مارچ میں گرفتاری کے بعد سے جیل میں بند ہے۔ 
(انل نریندر)

دہلی میں کورونا مریضوں کا اوپر والا ہی مالک ہے

زندگی سے بڑا کوئی بنیادی حق نہیں ہوتا۔ دہلی میں اپنی بدانتظامی اور کچھ ٹال مٹول کی پالیسی کے سبب اس حق کو خطرے میں ڈال دیا ہے، حالات کنٹرول سے باہر ہوگئے ہیں۔ اگر آپ صرف دہلی سرکار کے بیانات پر یقین کریں گے تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ دہلی میں کورونا مریض پورے ہیلتھ محکمے کی ترجیح ہیں اور ان کا اچھا علاج چل رہا ہے۔ دہلی دیش کی راجدھانی ہے اور یہاں جو ہوتا ہے وہ دیش کا آئینہ ماناجاتا ہے لیکن حقیقت الگ ہی بیان کرتی ہے۔ آپ کسی سرکاری، پرائیویٹ ہسپتال میں چلے جائیں گھروں میں کورینٹائن مریضوں سے ملیں تو آپ کی غلط فہمی منٹ بھر میں دور ہوجائے گی۔ آپ کہیں گے دہلی سرکار جھوٹ بول رہی ہے۔ کووڈ انفیکشن صرف بھگوان بھروسے ہے۔ آپ دہلی سرکار کے کسی ہیلپ لائن نمبر پر فون کریئے تو عام طورپر مدد نہیں ملے۔ منڈاولی کے ایک مریض کی رپورٹ پوزیٹیو آگئی جتنے نمبر دستیاب تھے انہوں نے فون کیا کوئی جواب نہیں ملا۔ کوئی ہیلتھ کرمی نہیں آیا۔ جس میں ایک شخص کے ہاتھ کاغذ منگادیئے جس پر انہوں نے دستخط کردینا تھا۔ ہم گھر میں کورینٹائن رہیں گے کہاگیا۔ اب وہ ٹھیک ہے لیکن کوئی بتانے والا نہیں کہ کیا کریں۔ 14دن گزرگئے پورے خاندان ٹیسٹ ہونا چاہئے نہیں ہوا۔ کوئی کاو¿نسلنگ نہیں ہوئی۔ یہ اکیلا معاملہ نہیں صد فیصد گھروں میں کورینٹائن نہ ہونے والوں کا یہی حال ہورہا ہے۔ ہسپتالوں کا حال جاننے کے لئے جے پرکاش نارائن ہسپتال چلے جائیے آپ کو وہاں لوگ روتے بلکتے دکھائی دیں گے۔ ان کے رشتہ دار بھرتی ہیں یا نہیں اس کی اطلاع ملنے تک کئی دن لگ رہے ہیں۔ موت ہونے پرلاش تک آسانی سے نہیں مل پاتی۔ دہلی کے سارے سرکاری ہسپتالوں کی ایک ہی حالت ہے۔ مرکز نے ہیلتھ ملازم کی حفاظت کے لئے قانون بنا دیئے لیکن ان کی ذمہ داری طے نہیں ہوئی اور ریاستی سرکار اپنی ذمہ داری کے بجائے جھوٹ، غلط اور فریبی سے کام کررہی ہے۔ ابھی آڈیو وائرل ہوا ہے جس میں کجریوال سے صفدرجنگ ہسپتال کا ملازم کہہ رہا ہے کہ یہاں تو موت ہی دکھائی دے رہی ہے کوئی انتظام نہیں ہے جتنے لوگ مارے گئے اتنے سرکار بتا نہیں رہی ہے۔ دہلی سرکار کو اپنے کاموں کو سدھارنا ہوگا۔ بھاری اکثریت سے کامیاب ہوکر عام آدمی پارٹی کی سرکار کو اپنے ووٹروں کو ہسپتالوں میں مریضوں کی حالت پر جواب دینا چاہئے۔ جو نہیں دے رہی ہے۔ 
(انل نریندر)

ایسے کیوں خموش ہوگئے سشانت!

فلم چھچھورے خودکشی کی کوشش کرنے والے اپنے بیٹے کو جینے کی راہ دکھانے والے اداکار سشانت سنگھ راجپوت نے خود زندگی سے ہار مان کر خودکشی کرلی۔ ممبئی کے باندرہ میں اپنے فلیٹ میں پھانسی کے پھندے سے لٹکے پائے گئے۔ حالانکہ موقع واردات سے کوئی سوسائٹ نوٹ نہیں ملا اور نہ ہی ان کی موت کی وجہ سامنے آسکی۔ حالانکہ بعد میں پولیس نے ابتدائی جانچ کی بنیاد پر خودکشی کا معاملہ درج کرلیا ہے۔ سشانت کے ماما آرسی سنگھ نے خودکشی کا اندیشہ جتاتے ہوئے جوڈیشیل انکوائری کی مانگ کی ہے۔ کرائم برانچ نے اپنی جانچ شروع کردی ہے۔ اداکار سشانت سنگھ راجپوت کا فلم برادری سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ لیکن عام آدمی کی طرح سخت محنت کے بعد اپنا مقام حاصل کرلیاتھا۔ ان کی پیدائش پٹنہ مین 21 جنوری 1986کو ہوئی تھی۔ ان کی چار بڑی بہنیں ہیں۔ ان کے والد کا نام کے کے سنگھ ہے۔ نام کے ساتھ راجپوت لکھنے کا سبب سشانت نے بتایا تھا کہ ان کی ماں راجپوت لکھا کرتی تھیں اس لئے انہوں نے ماں سے راجپوت لے لیا۔ پٹنہ میں ان کی ابتدائی تعلیم سینٹ لارنس ہائی اسکول میں ہوئی اور آگے کی پڑھائی دہلی سے کی۔دہلی کالج آف انجینئرنگ میں وہ پڑھائی کررہے تھے۔ اسی دوران وہ ایک ڈانس اسکول جاتے تھے۔ وہیں سے انہیں تجویز ملی تھی کہ وہ اداکاری بھی کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد سشانت نے بیری جان اسکول کو جوائن کیاڈانس اور تھیٹر کرتے ہوئے اس کا جادو ان پر چڑھنے لگا۔ سشانت کو سپنوں کی اڑان چھوٹے پردے سے ملی اور انہوں نے ایکتا کپور کے سیریل ’کس دیش میں ہے میرا دل‘ میں اپنی اداکاری دکھانے کا موقع ملا۔ کچھ باتیں تھیں جو سشانت کو خاص بناتی تھی۔ اداکاری کی حیثیت سے وہ جدوجہد کرکے اوپر آئے تھے۔ دہلی میں تھیٹر سے لے کر ممبئی میں ٹیلی سیریل پوتررشتہ میں اداکاری کی۔ فلموں میں کام کیا اور چھچھوڑا تک ان کے بمشکل بارہ تیرہ سال کے کیریئر میں کبھی بھی ہلکا کام کرتے نہیں دکھائی دیئے وہ چن چن کر اچھی فلمیں کرتے تھے اور فلموں میں بھی الگ الگ پس منظر کے رول کئے۔ اور جیسی رومانس سے کرکٹ کے کھلاڑی تک جاسوس سے ڈکیت تک رول کیا۔ انہوں نے پردے پر اپنا جوہر دکھایا۔ ٹیم انڈیا کے کرکٹر مہندرسنگھ دھونی کا رول نبھایا انہوں نے اتنی سنجیدگی سے انجام دیا۔ انہیں چانکیہ، ٹیگور اور کلام جیسی عظیم شخصیتوں کی شکل میں اتارنے کی تیاری شروع ہوگئی۔ اپنے کردار میں وہ ڈوب جانے کا ہنر تھا۔ سشانت کے لئے پچھلا ہفتہ ہل چل بھرا تھا۔ 9جون کو ان کی پرانی منیجر دشا سالیان (28) سال 7ویں منزل پر واقع اپنے فلیٹ سے چھلانگ لگاکر جان دے دی تھی۔ 11جون کو ان کی پرانی دوست انکتا لوکھنڈے کی منگنی کی خبر آئی۔ پولیس کے ذرائع بتاتے ہیں کہ سشانت نے خودکشی کے پہلے ریا سے بات کی تھی۔ حالانکہ پولیس حکام سرکاری طورسے کچھ نہیں بتارہے ہیں۔ ایسے میں دوست، رشتہ دار یا ساتھی چاہتے تو خودکشی کو تھوڑی سی سمجھ داری سے ٹال سکتاتھا۔ کاش سشانت سنگھ راجپوت کا کوئی ایسا دوست یا رشتہ دار ہوتا جو اس کو ڈپریشن سے نکال سکتا۔ ایک نوجوان جس کے سامنے سنہرا مستقبل تھا۔ وہ چلاگیا۔ بہت دکھ ہوا۔ بھگوان ان کی آتما کو شانتی دے۔ 
(انل نریندر)

16 جون 2020

Anil

Anil Narendra

کچرے میں پڑی کورونامریضوں کی لاشیں

کورونا بھارت میں خطرناک شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ لیکن کیاوجہ ہے کہ دیش کی سب سے بڑی عدالت کو خود نوٹس لیتے ہوئے سرکاروں کو جھاڑ پلانی پڑی؟ شرمناک تو یہ ہے کہ جن کے ووٹوں سے سرکار کا وجود ان کی لاشیں کوڑے میں ملیں اور مریضوں کے بیچ پڑی ہیں؟ پچھلے 15 روز سے سپریم کورٹ ہی شہریوں کے مفادات کی حفاظت کے لئے سرکاروں ہدایت دے رہی ہے اور پھٹکار لگانے پر مجبور ہورہی ہے۔ دہلی کے سول ہسپتالوں میں مریض بھٹک رہے ہیں کہیں بھرتی نہیں ہورہی ہے، حال ہی میں پرواسی مزدوروں کی حالت پر مرکز اور ریاستی سرکاروں کی جو لاپروائی دیکھی اسی عدالت نے حکم پاس کیا تھا۔ تازہ کیس جمعہ سپریم کورٹ نے ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج اور ان کے ساتھ لاشوں کو رکھے جانے کے واقعات پر خود نوٹس لیا۔ اور کہاکہ لاشوں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیاجارہا ہے۔ یہ کافی افسوس کی بات ہے کہ عدالت نے دہلی سرکار سے کہا کہ ہسپتالوں میں ہر جگہ لاشیں پڑی ہوئی ہیں اور لوگوں کا اسی جگہ پر علاج چل رہا ہے۔ عدالت نے کہاکہ دہلی میں روزانہ جانچ سات ہزار سے گھٹ کر پانچ ہزار پہنچ گئی ہے۔ ممبئی، چننئی جیسے شہروں میں روزانہ سات ہزار لوگوں کی جانچ ہورہی ہے۔ ریاستی حکومت کی یہ ڈیوٹی نہیں ہے کہ جانچ میں اضافہ ہو؟ جسٹس اشوک بھوشن اور سنجے کشن کول اور جسٹس ایم آرشاہ کی بینچ نے میڈیا رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ دہلی ہسپتالوں کی حالت بے حد خراب اور قابل رحم ہے۔ انہوں نے ایل این جے پی ہسپتال کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ وہاں مریض چلا رہے ہیں، لیکن ان کی آواز کوئی سننے والا نہیں ہے۔ یہ دہلی کے سرکار ہسپتالوں کی حالت ہے جس نے 2000بیڈ کی سہولت ہے لیکن 11جون تک 889 بیڈ ہی مریضوں کو دیئے گئے۔ سرکاری ہسپتالوں میں 5814بیڈ ہیں، جس میں 2620ہی بھرے ہوئے ہیں۔ عدالت نے ایل این جے پی کے ڈائریکٹر سے 17جون تک جواب مانگا ہے۔ سماعت کے دوران سرکار کے وکیل مہتا نے کہاکہ ایسا دیکھا گیا ہے کہ لاشوں کو کورونا کا علاج کرارہے مریضوں کے پاس ہی رکھا گیا ہے۔ ایسے بھی معاملے سامنے آئے ہیں کہ لاشوں کو رسّی سے گھسیٹ کر الگ لے جایا گیا۔ جسٹس ایم آرشاہ نے سالیسٹر جنرل سے پوچھا کہ پھر آپ نے کیاکیا؟ سپریم کورٹ نے کہاکہ ہسپتالوں میں لاشوں کے رکھ رکھاو¿ٹھیک نہیں ہورہا ہے اور نہ ہی لاشوں کے وارثوں کو جانکاری دی جارہی ہے۔ اس سے رشتہ داروں کو اپنے مرے افراد کے انتم سنسکار میں بھی شامل نہیں ہونے دیا جارہا ہے۔ ریاستی حکومتیں مرنے والوں کی تعداد کم بتارہی ہیں اور صحیح تعداد چھپا رہی ہے۔ سرکاری دباو¿ میں ریکارڈ میں مرنے کی وجہ دل کا دورہ پڑنے، کڈنی کا فیل ہونا دکھایاجارہا ہے کیونکہ وائرس پھیپھڑے پر حملہ کرکے ان میں آکسیجن لیول کم کردیتا ہے لہٰذا یہ اعضاءمتاثر ہوتے ہیں۔ یہ ایک گمنام جرم ہے جو 70سال میں جمہوریت میں سرکاریں کررہی ہیں۔ 
(انل نریندر)

کورنا اور فلائیڈ نے ٹرمپ کی بڑھائی مشکلیں

جوبائیڈن نے باقاعدہ طور سے امریکہ کی ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے صدارتی عہدے کے لئے نامزدگی کے لئے ضروری حمایت حاصل کرلی۔ جوبائیڈن صدر ٹرمپ کے لئے مشکل بن کر ابھرے ہیں۔ امریکہ کورونا وبا مالی بدحالی اور شہر میں شورش کے پس منظر سے گھرا ہوا ہے۔ ایسے مین ٹرمپ کو چنوتی دینے کے لئے جوبائیڈن میدان میں اتر آئے ہیں۔ امریکہ کے سابق نائب صدر اور روس کی اپوزیشن پارٹی کے مضبوط لیڈر رہے ہیں کیونکہ ڈیموکریٹک پارٹی شروعات میں ہی ان کے آخری چیلنجر برنی سینڈرس نے اپریل میں اپنی مہم ختم کردی تھی لیکن سات ریاستوں میں اور کولمبیاضلع کے صدر عہدے کے لئے منگل کو منعقدہ ابتدائی چناو¿ ریلی کے بعد جوبائیڈن نے دعویٰ کیا کہ حریفوں کی حمایت ملنے سے صدارتی چناو¿ کے لئے امریکہ میں تین نومبر کو وہ ریپبلکن پارٹی کے 73سالہ ٹرمپ کو ٹکردیں گے۔ ٹرمپ کے لئے یہ بہت اہمیت والا چناو¿ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی ابتدا میں اکثریتی نمائندوں کی حمایت حاصل کرنے کے بعد بائیڈن نے کہاکہ یہ امریکہ کی تاریخ میں ایک مشکل وقت ہے اور اس کا جواب ٹرمپ کی جارحانہ اور تقسیم کاری سیاست ہے اور انہوں نے کہاکہ وہ دیش کی دوبارہ قیادت کرنا چاہ رہے ہیں۔ مگر دیش کو ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو ہم سب کو متحد کرسکے اور ہمیں ساتھ کھڑا کرسکے۔ بائیڈن بھارت اور امریکہ کے رشتوں کے حمایتی رہے ہیں۔ 2018ایک سینیٹر کے ناطے انہوں نے تاریخی عدم پھیلاو¿ نیوکلیائی معاہدے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ وہ 2013 میں بھارت آئے تھے۔ انہوں نے موجودہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعے نوکریوں کے سلسلے میں جو امیدیں بتائی تھیں وہ اس میں ناکام رہے اور اب وہاں کی بدحالی کی رپورٹ آنے کے بعد وہ ان کے خلاف مہم چلانے کے لئے بےتاب تھے تاکہ وہ دیش کو بتاسکیں کہ اگر وہ اقتدار میں آئے تو وہ ملک کو مالی بدحالی سے نکالنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن ووٹروں پر ان کے بیان کا کوئی اثر ہوتا نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ کورونا اور پولیس حراست میں سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی موت نے امریکی صدر کے چناو¿ کے پورے پس منظر کو وہی بدل دیا ہے۔ حالت یہ ہے کہ اگر آج چناو¿ ہوجائیں گے ڈونالڈ ٹرمپ ہار بھی سکتے ہیں۔ دراصل جارج فلائیڈ کی موت کے پہلے بھی ٹرمپ سخت مقابلے کا سامنا کررہے تھے اور اس کی بڑی وجہ تھی کورونا وبا۔ لیکن اب فلائیڈ کی موت کے امریکہ نے ایسے خطرناک فسادات اور لوٹ مار دیکھی جو پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ سیاہ فام اب متحد ہوگئے ہیں اور اگر یہی حالت رہی تو ڈونالڈ ٹرمپ کا صدارتی چناو¿ جیتنا مشکل ہوجائے گا۔ 
(انل نریندر)

جھگڑے میںپستے ڈاکٹر!

باقی بھارت کے ساتھ راجدھانی دہلی میں کورونا انفیکشن کے بے تحاشہ بڑھتے مریضوں نے جہاں ایک طرف دہلی حکومت کی تیاریوں اور ہیلتھ سسٹم کی پول کھول دی وہیں دوسری طرف وزیر داخلہ کے کورونا یودھاو¿ں کے تئیں سرکار کی طرف سے دکھائی جارہی مایوسی سے حالات اور خطرناک ہونے کے امکان بڑھنے لگے ہیں۔ دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کجریوال بڑا دل دکھاتے ہوئے الزام در الزام کی سیاست سے اوپر اٹھ کر کورونا سے لڑنے کی اپیل تو کررہے ہیں لیکن نارتھ دہلی میونسپل کارپوریشن کے باڑہ ہندوراو¿ ہسپتال کے ڈاکٹروں کو تین مہینے سے تنخواہ نہ ملنے پر انہوں نے اجتماعی استعفے کی وارننگ دے کر دہلی سرکار کی دریا دلی کی پول کھول دی۔ این ڈی ایم سی کے اسپتالوں تعینات کورونا واریئرس (ڈاکٹر) مشکل میں ہیں۔ انہیں کئی مہینے سے تنخواہ نہ ملنے سے پریشانی ہے۔ ایسے ہی این ڈی ایم سی کے کستوربا گاندھی ہسپتال کے ڈاکٹروں نے ایم سی ڈی انتظامیہ کے خلاف آواز بلند کرکے احتجاج شروع کردیا ہے اور انہوں نے بھی کام چھوڑ کر استعفیٰ دینے کی دھمکی دے ڈالی ہے۔ ڈاکٹروں میں اس بات کی ناراضگی ہے کہ اعلیٰ افسران ایم سی ڈی کی مالی حالت بہتر بنانے کے لئے کوئی کوشش نہیں کررہے ہیں۔ کستوربا ہسپتال کے ریزیڈنٹ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن نے ایڈیشنل میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو خط لکھ کر کہاہے کہ ڈاکٹروں کو فوراً تنخواہ دلائیں۔ یہ لوگ پیسے کی کمی سے پریشان ہیں۔ جس وجہ سے ایم سی ڈی تین مہینے سے تنخواہ نہیں دے پائی۔ میونسپل کارپوریشن میں دہلی سرکار نے پانچویں مالیاتی کمیشن کی سفارش کے مطابق ایم سی ڈی کے ذریعے الاٹ رقم کی بھی ادائیگی نہیں کی ہے۔ جس کی وجہ سے ملازمین کی تنخواہ ادا نہ ہوسکی ہے۔ ایم سی ڈی کا تنخواہ مد پر تقریباً3.5کروڑ روپے خرچ آتا ہے۔ اس حساب سے دیکھاجائے تو تین مہینے کی تقریباً1000 کروڑ روپے تنخواہ کے لئے چاہئے۔ ادھر ناتھ دہلی میونسپل کارپوریشن کا تقریباً دہلی سرکار پر 1200 کروڑ روپے بقایا ہے۔ اگر سرکار مالیات کی ٹھیک ٹھاک حالت کے مطابق گرانٹ کی پوری رقم ایم سی ڈی کو دے دیتی ہے تو وہ فوری طورپر اپنے ملازمین کو تنخواہ کی ادائیگی کرسکتی ہے۔ وہیں دہلی ہائی کورٹ نے ایم سی ڈی کو کستوربا اور باڑہ ہندوراو¿ ہسپتالوں کے انتظامیہ کو 19جون تک تمام ڈاکٹروں اور عملے کو تنخواہ دینے کی ہدایت دی ہے۔ چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس پرتیک جالان کی ڈویژن بینچ نے دہلی سرکار کو ایم سی ڈی کو بچی رقم جاری کرنے کے لئے کہا ہے۔ تاکہ وہ اپنے ہسپتالوں کے ریزیڈنٹ ڈاکٹروں کو اپریل کی تنخواہ24جون تک دے دے۔ اس بارے میں مفاد عامہ کی ایک عرضی پر ہائی کورٹ نے ازخود نوٹس لیا ہے۔ 
(انل نریندر)

14 جون 2020

داشومسٹ گو آن!


کورونا نے اداکاروں کی زندگی کو اسٹیج سے اتار کر آن لائن کام کرنے کے موقع تلاش نے کو مجبور کردیا ہے۔ تین مہینے سے دہلی بند ہے۔ کسی آڈیٹوریم، آرٹ گیلری، نکڑ میں کسی بھی آرٹ اینڈ کلچرل ایکٹنگ کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا۔ مگر داشومسٹ گو آن کو جینے والے اداکاروں نے کوشش کرنے کی ہمت کی۔ ناظرین کو فن سے جوڑنے کے لئے آن لائن فیسٹیول کررہے ہیں تو کوئی اسٹوری ٹیلنگ، پینٹنگ، موسیقی کے اپنے ہنر کو ورچول پلیٹ فارم پر اتار رہا ہے تاکہ وبا کے دوران کشیدگی محسوس نہ کریں۔ دومہینے کے لاک ڈاو¿ن کے دوران دہلی کے اسمتا تھیٹرکے اداکاروں نے اپنے ناظرین کو باندھے رکھا ہے۔ کووڈ۔ 19 کے انفیکشن دور میں بالی ووڈ شوٹنگ کے طور طریقے بدلنے کی تیاری بھی ہورہی ہے۔ تاکہ شوٹنگ کی اجازت ملتے ہی محفوظ طریقے سے کام شروع ہوسکے۔ ساو¿تھ انڈیا کی ایک بڑی سنیما چین کے ایم ڈی روبن مارک وانن بتاتے ہیں کہ دیش بھر کے سنیما ہال والوں نے طے کیا ہے کہ سوشل دسٹینسنگ کی تیاری کی جائے۔ اس میں ٹکٹ کی بکری پوری طرح سے آن لائن یا بارکوڈ سے ہوگی۔ ہال میں ایک دوسیٹ چھوڑ کر بٹھایا جائے گا۔ شو کے بعد سنیما ہال سینیٹائز کئے جائیں گے۔ فلم بزنس تجزیہ نگار کومل ناہاٹا کہتے ہیں سنیما ہال کھول بھی دیئے جائیں گے تو شروع میں 30فیصد ہی لوگ آئیں گے اور درمیانے چھوٹے بجٹ کی فلمیں تو سنیما ہال میں ریلیز ہوں گی لیکن 30فیصدی ناظرین کے لئے بڑے بجٹ کی فلمیں سنیما ہال میں ریلیز ہوں گی یا نہیں اس میں شک وشبہ ہے۔ لیکن منافع شیئر سے شاید اسٹار کو اتنا فائدہ نہ ہو، سنے اینڈ ٹی وی آرٹسٹ ایسوسی ایشن (سنٹا) بڑے پیمانے پر کام کررہی ہے کہ کیسے قواعد کے ساتھ شوٹنگ شروع کی جاسکے اور سرکار کو اس بار راضی کیاجائے۔ سنٹا ایکزیکٹیو کمیٹی کے ممبر ششانت سنگھ کہتے ہیں کہ ہم طے کیا ہے کہ سیٹ پر 10سے 20لوگ ہی رہیں گے۔ اداکار میک اپ اور ہیئر اسٹار گھر سے کرکے آئیں گے سیٹ پر ان کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ایک پروڈیوسر بتاتے ہیں کہ میک اپ مین کی فیس میں بھاری کٹوتی ہوسکتی ہے۔ ابھی صرف ہیئر اسٹائلسٹ سیٹ پر آنے کے لئے 40ہزار سے ایک لاکھ روپے تک لیتے ہیں۔ انڈین موشن پکچرپرودیوسرس ایسوسی ایشن کے صدر پی پی اگروال بتاتے ہیں کہ ہم جب یوروپ یا امریکہ شوٹنگ کے لئے جاتے ہیں تب ساتھ 30فیصدی عملہ لے جاتے ہیں اب یہ قاعدہ بھارت میں بھی لاگو ہوگا۔ تھیٹر میں سیٹ پر ہی کھانے کا آرڈرلینا ضروری ہوگا۔ اوٹی ٹی سنسر کے دائرے میں لایا جاسکتا ہے۔ تھیٹر اور سنیما بھارت میں منورنجن کے سب سے بڑے ذریعے ہیں، امید کی جاتی ہے کہ جب جلد انہیں بھی کھولا جائے گا۔ کیونکہ داشومسٹ گو آن۔ 
(انل نریندر)

دیش بھر کی مساجد بند کی جائیں؟

ان لاک۔1میں مذہبی مقامات یعنی مندر۔ مسجد، گرجا گھر، گرودوارے کھول دیئے گئے ہیں۔ لیکن کورونا کی رفتار سے سبھی مذہبی پیشوا فکر مند ہیں۔ دہلی کے جامع مسجد کے شاہی امام سید احمد بخاری نے ایسے حالات میں لوگوں سے اپنے اپنے گھروں میں نماز ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے جامع مسجد سے اپیل میں کہاکہ بلاوجہ گھر سے نہ نکلیں اور ہوسکے تو نماز بھی اپنے گھروں میں ہی ادا کریں۔ 8جون کو سرکار کے حکم کے بعد مساجد کو کھول دیا گیا تھا۔ لیکن کیا مساجد کو کھولنے کا یہ کیا صحیح وقت تھا۔ کورونا کے مریضوں کے تیزی سے بڑھنے کے بعد شاہی امام نے مسجدوں کو بند کرنے کے معاملے پر مذہبی پیشواو¿ں اور عالم دین سے رائے مانگی تھی اس کے بعد ہی جامع مسجد کو عام نمازیوں کے لئے مہینے بھر کے لئے بندکرنے کے بارے میں رائے دیں۔ اس سب کو لے کر سید احمد بخاری نے فتح پوری مسجد کے شاہی امام ڈاکٹر مفتی مکرم احمد سے بھی بات چیت کی تھی۔ دونوں کا کہنا ہے کہ دہلی کے باقی لوگوں سے بھی رائے مشورہ کیاگیا۔ سوشل میڈیا ودوسرے ذرائع سے لوگوں کی رائے مانگی گئی، بخاری نے کورونا مریضوں کے بڑھنے کے درمیان مال، ریستوراں، مذہبی مقامات ودیگر جگہوں کو کھولنے کے فیصلے پر سرکار سے نظرثانی کے لئے کہاہے۔ وہ ان لاک میں مذہبی مقامات کو کھولنے اور ان کے لئے سرکار کی طرف سے گائیڈلائن جاری کی گئی گائیڈ لائن میں کہاگیا ہے کہ الکوحل سے مستثنیٰ سینیٹائزر سے مذہبی عبادتگاہوں پر چھڑکاو¿ کےلئے کہاگیا ہے۔ گائیڈ لائن پر بریلوی مسلک کے علماءنے تیور دکھانے شروع کردیئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلام میں الکوحل حرام ہے۔ اللہ کے گھر (مسجد) الکوحل والے سینیٹائزر سے ناپاک نہیں ہونے دیں گے۔ لال قلعہ جامع مسجد کے امام مفتی خورشیدعالم نے کہاکہ لاک ڈاو¿ن میں مسجدیں سونی رہیں اور رمضان میں نمازیوں سے مسجدیں محروم رہیں، چار سے پانچ لوگ ہی مسجد میں نماز پڑھتے تھے اب نئی گائیڈ لائن میں بھی ایسا ہی کہاگیا ہے۔ انہوں نے کہا جوگائیڈ لائن جاری کی ہیں اس میں کہاگیا ہے کہ عبادت گاہوں میں الکوحل یافتہ سینیٹائزر کا چھڑکاو¿ اسلام میں حرام ہے اس لئے ہم مسجد میں سینیٹائزر نہیں ہونے دیں گے۔ جماعت رضائے مصطفیٰ کے نائب صدر سلمان حسن خاں قادری نے کہاکہ ہندوستان سمیت بیرون ممالک کی مساجد کے امام اور ذمہ دارون سے بھی کہاگیا ہے کہ وہ الکوحل سے سینیٹائزر کا چھڑکاو¿ مسجدوں میں نہ ہونے دیں۔ 
(انل نریندر)

کورونا کھاسکتا ہے 13.5کروڑ نوکریاں!

کورونا وائرس وباس (کووڈ۔19) کے سبب بھارت 13.5کروڑ لوگوں کی نوکریاں ختم ہوسکتی ہیں اور 12کروڑ لوگ غریبی کی گرد میں سماسکتے ہیں۔ ایک رپورٹ میں یہ اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ ایک کنسلٹینٹ کمپنی اور تھرڈی لٹل کی رپورٹ میں دعویٰ کیاگیا ہے کہ وبا کا لوگوں کی آمدنی اور ان کی بچت اور خرچ پر وسیع اثر ہوسکتا ہے اور جس کے نتیجے میں سب سے برا اثر نوکریوں کے نقصان، غریبی میںاضافہ اور فی شخص آمدنی میں گراوٹ کے معاملے میں نچلے پائیدان کے لوگوں پر پڑے گا۔ اس کے سبب جی ڈی پی میں بھی تیزی سے گراوٹ ہوسکتی ہے۔ رپورٹ میں آگے کہاگیا ہے کہ کووڈ۔19کے مریضوں میں مسلسل اضافے کو دیکھتے ہوئے ہمارا خیال ہے کہ بھارت میںڈبلیو روپڑ ریکوری یعنی حالت میں بہتری کے بعد گراوٹ اور پھر سدھار کے زیادہ امکانات ہیں۔ اس کے مطابق 2020-21میں جی ڈی پی میں 10.8فیصد کی گراوٹ آسکتی ہے اور 2021-22 جی ڈی پی اضافی شرح 0.8 فیصد رہ سکتی ہے۔ بھارت میں کورونا وائرس کے انفیکشن کے مریضوں کی تعداد تین لاکھ سے اوپر ہوچکی ہے۔ اس وبا سے اب تک 9ہزار موتیں ہوچکی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس وبا کے سبب اب تک بھارت میں بے روزگاری کی شرح 7.6فیصد سے بڑھ کر 35فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ اس سے13.5کروڑ لوگوں کی نوکریاں ختم ہوسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ وبا کے سبب بھارت میں 12کروڑ لوگوں کی غریبی منہ میں گرنے اور چارکروڑ لوگوں کے غریبی کے شکنجے میں آنے کے اندیشات بڑھ گئے ہیں۔ 
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...