19 اپریل 2014

لوک سبھا چناؤ میں بیٹی کا بیٹی سے مقابلہ تو بھائی کا بھائی سے!

لوک سبھا چناؤ کے پانچویں مرحلے میں 24 اپریل کو 117 سیٹوں پر ووٹ پڑیں گے۔ان میں کئی لڑکے ،لڑکیاں ،بھائی بھائی میدان میں آمنے سامنے ہوں گے۔ پہلے بات کرتے ہیں لڑکیوں کی۔ پونم مہاجن کوممبئی نارتھ سینٹرل سیٹ سے امیدوار بنا کر بھاجپا نے بیٹی کے مقابلے بیٹی اتارنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ پونم مہاجن بھاجپا کے سورگیہ لیڈر پرمود مہاجن کی بیٹی ہے جو سورگیہ اداکار اور کانگریس لیڈر سنیل دت کی بیٹی اور موجودہ ایم پی پریہ دت کے خلاف میدان میں ہے۔ پونم سے پہلے بھاجپا ممبئی نارتھ سینٹرل لوک سبھا سیٹ پر پریہ دت کو چنوتی دینے کے لئے کسی چمک دمک والے شخص کی تلاش میں تھی۔ اس کے لئے ہیما مالنی، ونود کھنہ،انوپم کھیر جیسے اداکاروں سے رابطہ قائم کیا تھا لیکن کوئی پریہ دت کے خلاف اترنے کو تیار نہیں ہوا۔ تب پارٹی نے پونم مہاجن کے نام پر اپنی مہر لگادی۔ پریہ اس سیٹ سے دوبار کامیاب ہوچکی ہیں۔ پونم کا مقابلہ پریہ دت کے علاوہ عام آدمی پارٹی کے امیدوار فیروز پالکی والااور سپا کے ابو فرحان سے ہے۔ اس لوک سبھا سیٹ کے تحت 6 اسمبلی سیٹوں میں سے پانچ پر کانگریس این سی پی اتحاد اور ایک پر بھاجپا شیو سینا قابض ہے۔ 2009 کے چناؤ میں پریہ دت نے بھاجپا کے مہیش جیٹھ ملانی کو174551 ووٹوں سے ہرایا تھا۔ پونم ایک نوجوان اور ایماندار ساکھ والی لڑکی ہیں۔ مودی لہر کی طاقت ہے جبکہ کانگریس کی یہ بہت مضبوط سیٹ ہے۔ اس سیٹ پر عیسائی مسلمان اکثریت میں ہیں۔ کانٹے کے مقابلے میں پریہ کو ہرانا ایک چیلنج ہوگا۔ بھاجپا کے سینئر لیڈر اور اترپردیش کے وزیر اعلی کلیان سنگھ کے بیٹے راجبیر سنگھ ایٹہ لوک سبھا حلقے سے بھاجپا کے امیدوار ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس عام چناؤ میں پورا دیش بھاجپا کومرکز میں لانا چاہتا ہے اس کا اثر ایٹہ میں بھی دکھائی دے گا۔اس سیٹ پر 2009 ء کے لوک سبھا چناؤ میں کلیان جیتے تھے۔ اس وقت سپا کی حمایت سے آزاد امیدوار کی شکل میں کامیاب ہوئے تھے۔ وہ بھاجپا میں لوٹ چکے ہیں اور بیٹے کو ٹکٹ دلانے میں کامیاب رہے۔ راجبیر کے سامنے ایٹہ پر اپنی پکڑ مضبوط کرنے کی چنوتی ہے جو بھاجپا کا گڑھ ہے یہاں سے پانچ بار بھاجپا نے پرچم لہرایا ہے۔ حلقے میں لودھی فرقہ اثر دار ہے اور راجبیر اسی فرقے کے ہیں۔ان کا مقابلہ سپا کے دویندر سنگھ ، عام آدمی پارٹی کے دلیپ یادو اور بسپا کے انجینئر نور محمود سے ہے۔ ان کی اگر طاقت پر نظر ڈالیں تو ان کی ایماندار ساکھ، سیاسی تجربہ اور والد کلیان سنگھ کا بیٹا ہونا ہے۔ دوسری بات بھاجپا چھوڑنے اور پھر پارٹی بدلنے سے پارٹی ورکروں کا بھروسہ ڈگمگایا ہے۔ ان کو اکٹھا کرنا چنوتی ہوگی۔ اب بات کرتے ہیں راجستھان کے دوسہ پارلیمانی حلقے کی۔یہ سیٹ دلچسپ اور مختلف چناوی جنگ کی گواہ بنی ہوئی ہے۔ اس سیٹ پر دو بھائیوں نے دیش کی دو سب سے کٹر حریف پارٹیوں سے ایک دوسرے کے خلاف تال ٹھونکی ہے۔ دونوں ہی انڈین پولیس سروس میں رہ چکے ہیں۔ دوسہ سے بھاجپا نے ہریش چندر مینا کو میدان میں اتارا ہے۔ انہوں نے چناؤ لڑنے کے لئے اپنی مرضی سے ریٹائرمنٹ لے لیا ہے۔نارائن مینا کو کانگریس کے ہریش چند کے بھائی نمو نارائن مینا کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔ دوسہ سیٹ پر چھٹے مرحلے کے تحت24 اپریل کو چناؤ ہونے ہیں۔ دیش کی دو بڑی حریف پارٹیوں کے امیدواروں کے ہونے کے باوجود بھائیوں کو چناؤ پرچار کے دوران ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کرتے نہیں دیکھا گیا۔ راجستھان کی 25 سیٹوں پر 17 اپریل کو چناؤ ہوچکا ہے۔ اب چھٹے مرحلے میں باقی پانچ سیٹوں پر ووٹ پڑیں گے۔ ہریش چند ریاست کے ڈائریکٹر جنرل پولیس رہ چکے ہیں۔نمو نارائن سابق اعلی افسر ہونے کے ساتھ ساتھ دو بار ایم پی رہ چکے ہیں۔ نمو نارائن موجودہ یوپی اے سرکار میں وزیر مملکت مالیات ہیں۔ ایک دوسہ کا باشندہ کہتا ہے جہاں نمو نارائن یوپی اے سرکار کے ترقیاتی کاموں کی دہائی دے رہے ہیں وہیں ان کے بھائی ہریش چند بھاجپا کے پی ایم امیدوار نریندر مودی اور وزیر اعلی وسندھرا راجے کے نام پر ووٹروں کو اپنی طرف راغب کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ بھاجپا کا پلڑا بھاری لگتا ہے۔ دوسہ حلقے میں دنیا کا مشہور بالا جی ’ہنومان جی‘ کا مندر بھی آتا ہے۔
(انل نریندر)

امریکی مشہور ترین ایجنسی’گیلپ پول‘ کا سروے!

لوک سبھا چناؤ میں نتیجے ویسے تو پورے دیش کے لئے اہمیت کے حامل ثابت ہوں گے لیکن مرکز میں اگلی حکومت کس پارٹی یا محاذ کی بنتی ہے اسے 6بڑی ریاستوں کو طے کرنا ہے۔ پچھلے چناؤ میں ان 6 ریاستوں نے فیصلہ کن کردار نبھایا تھا اور یوپی اے اقتدار قابض ہوئی تھی۔ اس بار بھی ان ریاستوں میں جس اتحاد کی کارکردگی بہتر ہوگی وہی مرکز کے اقتدار پر قابض ہوگا۔ان ریاستوں میں اترپردیش، مہاراشٹر، آندھرا پردیش اور راجستھان شامل ہیں۔ ان 6 ریاستوں میں کل 264 سیٹیں ہیں لیکن یوپی اے و این ڈی اے کے لئے مرکز میں سرکار بنانے کے لئے ان ریاستوں میں کم سے کم پانچ میں شاندار جیت ضروری ہے۔ اگر یوپی اے یا این ڈی اے دیش کی دیگر ریاستوں میں اچھی جیت حاصل کرتا ہے اور ان ریاستوں میں وہ پچھڑتا ہے تو سرکار بنانا شاید ممکن نہ ہوپائے۔قریب قریب سبھی چناؤ میں ان ریاستوں کے نتائج اثر انداز ہوتے ہیں۔ پچھلے عام چناؤ میں مندرجہ بالا ریاستوں میں سے پانچ میں یوپی اے کی کارکردگی شاندار رہی تھی۔ ان میں یوپی، مہاراشٹر، آندھرا پردیش، مدھیہ پردیش شامل تھے۔ یوپی میں کانگریس کو22، مہاراشٹر میں کانگریس کواتحادی این سی پی سمیت25 ، آندھرا میں ریکارڈ تعداد 33 سیٹیں، راجستھان میں 21، مدھیہ پردیش میں11 سیٹیں ملی تھیں کل ملا کر112 سیٹیں یوپی اے کو ان پانچ ریاستوں سے ملی تھیں جو اس کی کل آدھے سے زیادہ تھیں لیکن اس بار ان ریاستوں میں یوپی اے کی راہ مشکل دکھائی پڑتی ہے۔ دنیا میں مشہور امریکہ کی سروے کمپنی ’گیلپ پول‘ نے اپنے تازہ سروے میں دعوی کیا ہے کہ ہندوستان کی بہت بڑی اکثریت مانتی ہے کہ ان کی سرکار میں ہر طرف کرپشن پھیلا ہوا ہے۔ زیادہ تر ہندوستانیوں کا یہ بھی خیال ہے کہ موجودہ حکومت نے اس سے نمٹنے کے لئے کوئی خاص کام نہیں کیا۔ گیلپ کے سروے کے مطابق 2013ء میں 18 سے34 برس کے ہندوستانی لڑکوں کی تین چوتھائی آبادی یہ مانتی ہے کہ ان کی سرکار میں وسیع طور پر کرپشن پھیلا ہوا ہے جبکہ 35 سے54 برس کے لوگوں کی 76 فیصدی آبادی اور 55 برس سے اوپر کے 72 فیصدی بزرگوں کا بھی ایسا ہی خیال ہے۔ اس سروے کے لئے اکتوبر2013ء کے دوران تین ہزار لوگوں سے بات کی گئی تھی جس کے مطابق نارتھ انڈیا کے لوگ شمال کی بہ نسبت اقتصادی ماحول کو لیکر زیادہ فکر مند نظر آئے جبکہ ساؤتھ انڈیا کے 38فیصدی لوگ مانتے ہیں دیش کی معیشت بہتر ہورہی ہے۔یہ بھی مانتے ہیں ان کی معیشت ٹھپ ہے یا اس کی حالت بہتر ہوئی ہے۔ سروے میں آگے دعوی کیا گیا ہے کہ نارتھ انڈیا کے صرف 9فیصدی لوگ ایسا مانتے ہیں کہ ملک کی معیشت اچھی ہورہی ہے جبکہ65فیصدی کی بھاری اکثریت مانتی ہے کہ ملک کی معیشت خراب ہورہی ہے۔ گیلپ کے مطابق 2013ء میں محض 27 فیصدی ہندوستانیوں نے منموہن سنگھ کے کام کاج کو صحیح مانا تھا جبکہ40 فیصدی نے اسے مسترد کردیا۔ نارتھ انڈیا میں محض14فیصدی لوگوں نے منموہن سنگھ کو کامیاب مانا تھا جبکہ2012ء میں اسی علاقے کے 38فیصدی لوگوں نے انہیں کامیاب بتایا تھا۔
(انل نریندر)

18 اپریل 2014

بھگوڑے کیجریوال کا اصل مقصد مودی کے بڑھتے قدموں کو روکنا ہے!

آج ہم بات کریں گے دہلی کے بھگوڑے سابق وزیر اعلی اروند کیجریوال اور ان کی عام آدمی پارٹی کی۔49 دن کے یہ بادشاہ اب فرماتے ہیں کہ میں نے دہلی کے وزیر اعلی کا عہدہ چھوڑ کر غلطی کی ہے۔ انہوں نے آخر کار اپنی غلطی کو مان لیا ہے دہلی کی سرکار ایک جھٹکے میں چھوڑناان کی بھول تھی یہ بات انہیں پہلے کرنی چاہئے تھی اور عوام کے مسائل دور کرنے چاہئے تھے اور لوگوں کو اپنے فیصلے کے بارے میں بتانا چاہئے تھا۔ یہ بھی مانا ان کے فیصلے کی وجہ سے بہت سے لوگ پارٹی سے دور ہوئے ہیں۔انہوں نے دعوی کیا استعفیٰ دینے کا فیصلہ اجتماعی طور پر لیاگیا تھا۔یہ پارٹی کی سیاسی معاملوں کی کمیٹی نے لیا تھا۔ کیجریوال کے ساتھی اور عام آدمی پارٹی کے سینئر مشیر کار ممبر پرشانت بھوشن نے دعوی کیا ہے کہ کیجریوال کا استعفیٰ دینا اور سرکار چھوڑنے کا کبھی بھی پارٹی کی قومی ورکنگ کمیٹی میں فیصلہ نہیں ہوا تھا۔یہ معاملہ تو یہاں تک پہنچا ہی نہیں۔ یہ کیجریوال کا نجی فیصلہ تھا جو بعد میں انہوں نے پارٹی پر تھونپ دیا۔ یہ غلط فیصلہ تھا لیکن ہمارا400 سیٹوں پر چناؤ لڑنا پارٹی کا فیصلہ ہے۔ تنظیم کے نام پرچند بڑے شہروں تک سمٹی عام آدمی پارٹی نے امیدوار کھڑے کرنے میں حکمراں کانگریس اور بڑی اپوزیشن جماعت بھاجپا کو بھی پیچھے چھوڑدیا ہے۔اب تک وہ432 سیٹوں پر اپنے امیدواروں کا اعلان کرچکی ہے۔ عام آدمی پارٹی کو ابھی اچھے لوگوں کی تلاش جاری ہے جبکہ دونوں بڑی پارٹیاں اب تک سوا چار سو کے آس پاس ٹکی ہوئی ہیں۔ ویسے سیاسی پارٹیوں کا ٹکٹ پانے کی ماراماری تو ہر چناؤ میں دکھائی پڑتی ہے لیکن اس بار کے چناؤ ٹکٹ لوٹانے کی وجہ سے بھی یاد رکھے جائیں گے۔ دو درجن سے زیادہ پارٹی امیدوار اس بار ٹکٹ ملنے کے بعد میدان چھوڑ گئے ہیں یا میدان سے بھاگ لئے ہیں۔ اس میں کانگریس کے چار امیدوار ہیں۔ پہلی بار لوک سبھا چناؤ میں شرکت کررہی عام آدمی پارٹی کے 20 سے زیادہ امیدوار ہیں جنہوں نے ٹکٹ واپس کرنے کے معاملے میں نیا ریکارڈ بنادیا ہے۔ اب تک کبھی کسی پارٹی کے اتنے امیدواروں نے ٹکٹ نہیں لوٹایا۔ دراصل دہلی اسمبلی چناؤ میں غیر متوقع کامیابی نے عام آدمی پارٹی کو راتوں رات ساتویں آسمان پر پہنچادیا تھا۔ پارٹی کے کچھ لیڈروں اور ورکروں کا تو رویہ بھی ساتویں آسمان پر پہنچ گیا تھا۔ جب انسان آسمان کی طرف دیکھے گا تو اسے تارے نظر آئیں گے فرق بس اتنا ہے کہ رات میں تارے دیکھنا اچھا ہوتا ہے اور جب یہ ہی تارے دن میں دیکھنے لگیں تو سمجھ لیجئے مصیبت سر پر ہے۔ اب یہ ہی حالت ’آپ‘ کے لیڈروں کی ہے۔ پارٹی کا تیزی سے گرتا گراف دیکھ کر نیتاؤں میں بھگدڑ مچی ہوئی ہے۔ انہیں بھی دن میں تارے دکھائی دینے لگے ہیں۔ ایک کے بعد ایک ’آپ‘ کے نیتا لڑائی سے پہلے ہی ہار کے ڈر سے میدان چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں اوپر سے عام آدمی پارٹی سے نکالے گئے ونود کمار بنی کی رہنمائی میں ایک بڑا گروپ اپنے الگ نیتا کو چننے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ ایک تو کھاج ہے تو اس میں بھی خارش۔ کیجریوال صاحب جھاڑو کی سمت چیک کیجئے ۔کہیں وہ الٹی تو نہیں چل رہی ہے؟ اروند کیجریوال نے کچھ دن پہلے گوگل ہینگ آؤٹ پروگرام میں دیش کے ووٹروں کے سوال کا جواب دیا۔ پہلی بار خاموشی توڑتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فورڈ فاؤنڈیشن سے ایک بھی پیسہ نہیں لیا۔ کورٹ نے غیر ملکی عطیہ کے معاملے میں بھاجپا اور کانگریس پر سوال اٹھائے ہیں ووٹروں نے کیجریوال سے تلخ سوال کئے۔ ایک سوال کے جواب میں کیجریوال نے کہا وارانسی سے چناؤ لڑنے کا مقصد چناؤ جیت کر پارلیمنٹ میں پہنچنا نہیں ہے بلکہ غلط لوگوں کو پارلیمنٹ میں پہنچنے سے روکنا ہے۔ وہ وارانسی میں چناؤلڑنے کے لئے دبنگی مختار انصاری کی حمایت نہیں لیں گے۔ مودی اور راہل ایک ہی سسٹم کے دو حصے ہیں۔ان دونوں میں سے جو بھی اقتدار میں آئے گا تو اقتدار کی منتقلی تو ہوگی لیکن سسٹم نہیں بدلے گا۔ آگے دعوی کیا کہ امیٹھی سے ’آپ‘ کے امیداور کمار وشواس راہل گاندھی کو ہرا کر 2 لاکھ ووٹوں سے جیتیں گے۔ کاشی تک بہرحال پہنچتے پہنچتے اروند کیجریوال نے کرپٹ لیڈروں کی فہرست گم ہوگئی ہے۔ اب نہ انہیں قانون منتری سلمان خورشید کو ہٹانے کی فکر ہے اور نہ ہی کوئلہ منتری سری پرکاش جیسوال کو۔ ساتھ ہی سپا چیف ملائم سنگھ یادو ،کانگریس صدر سونیا گاندھی، فاروق عبداللہ سمیت تمام ایسے لیڈروں کو بھی بھول چکے ہیں جنہوں نے چناؤ میں چت کرنے کے دعوے کے ساتھ کیجریوال نے لوک سبھا چناؤ کے لئے مہم شروع کی تھی۔ عام چناؤ میں اترنے کا اعلان کرتے ہوئے 31 جنوری کو عام آدمی پارٹی کی میٹنگ میں کیجریوال نے ایک لسٹ پڑھی تھی۔ جس میں سونیا گاندھی، راہل گاندھی، ملائم سمیت کئی لیڈروں کے نام شامل تھے۔ کیجریوال نے ان کے خلاف مضبوط امیدوار اتار کرچناؤ میں ہرانے کا دم بھرا تھا۔ خاص بات یہ ہے کہ پہلی لسٹ میں نریندر مودی کا نام نہیں تھا بعد میں ان کا نام بھی جڑ گیا۔’آپ‘ نے شروع میں راہل گاندھی کے خلاف امیٹھی سے کمار وشواس کو اتار کر اپنے ارادوں پر قائم رہنے کا اشارہ دیا تھا لیکن جیسے جیسے سیاسی پارہ چڑھا کیجریوال کا اصل مقصد سامنے آگیا ہے اور وہ یہ تھا نریندر مودی کو وارانسی سے روکنا۔ پھر ان کی پوری توجہ نریندر مودی اور بھاجپا کہ بڑھتے قدموں کو روکنے پر ہے۔
(انل نریندر)

اتراکھنڈ میں نریندر مودی لہراور ہریش راوت سرکار میں کانٹے کی ٹکر!

اتراکھنڈ کے سرحدی علاقے کی بیداری کہیں یا پھر فوجی اکثریتی خطے کی فطری یا قدرتی ، سیاسی طور سے یہ ریاست کے عوام الناس نے تقریباً ہر چناؤ میں خود کو قومی دھارا سے جوڑے رکھا۔ سال1957ء سے پہلے چناؤ سے لیکر 2009ء میں 15 ویں لوک سبھا میں یہاں کے ووٹروں نے انہی پارٹیوں پر بھروسہ جتایا جو اکثریت یا اقلیت کے قریب رہی ہیں۔حال میں اتراکھنڈ میں لوک سبھا کی پانچ سیٹیں ہیں۔ ٹہری ،پوڑی گڑوال، الموڑا، نینی تال اور ہری دوارشامل ہیں۔ان سیٹوں پر دیش کی سیاست میں کانگریس کی ہی بالادستی رہی اور اس کو ایکطرفہ کامیابی ملی۔ ایمرجنسی کے بعد 1977 ء میں چھٹی لوک سبھا چناؤ میں مرکز میں اقتدار میں تبدیلی ہوئی تو اتراکھنڈ کی سبھی سیٹوں پر جنتا پارٹی کا قبضہ ہوگیا ۔ تب سے لیکر اب تک اتراکھنڈ میں کانگریس کا ہی دبدبہ رہا ہے۔1998ء میں بھاجپا نے کانگریس کا پوری طرح صفایا کیا۔ اگلے سال1999ء میں این ڈی اے کی سرکار بنی تو بھاجپا کو چار اور کانگریس کو ایک سیٹ ملی۔ ہری دوار کی اہم سیٹ پر تصویر اب صاف ہوگئی ہے۔ اس بار یہاں مودی لہر اور ہریش راوت سرکار کے درمیان جنگ ہے۔اس سیٹ پر وزیر اعلی ہریش راوت کی بیوی رینوکا راوت چناؤ لڑ رہی ہیں۔ جبکہ ٹہری سیٹ سے سابق وزیر اعلی وجے بہوگنا کے صاحبزادے ساکیت بہوگنا، پوڑی گڑوال سے اور ریاست کے وزیر ذراعت ہرک سنگھ راوت میدان میں ہیں۔ رینوکا ہری دوار سیٹ سے لڑ رہی ہیں جس کی نمائندگی ان کے شوہر ہریش راوت کرچکے ہیں۔2009ء میں وہ یہاں سے کامیاب ہوئے تھے۔ بھاجپا کی جانب سے ہری دوار سے سابق وزیر اعلی رمیش پوکھریال نشنک امیدوار ہیں۔ویسے تو اور بھی امیدوار ہیں لیکن اہم مقابلہ وزیر اعلی کی اہلیہ اور بھاجپا نیتا نشنک کے درمیان مانا جارہا ہے۔پچھلے برس آئے سیلاب و تباہی اور پھر کیدارناتھ وادی اور ریاست کے دیگر حصوں میں متاثرہ افراد کے لئے ریلیف کام حکمراں پارٹی کو بھاری پڑ سکتا ہے۔ اس چناؤ میں جہاں ایک ٹہری گھرانے کی ساکھ تو دوسری طرف ہیموتی نندن بہوگنا خاندان کی تیسری پیڑھی کا مستقبل داؤ پر لگا ہے وہیں یہاں راج گھرانے کی مالا راجے لکشمی شاہ بھاجپا کی ٹکر سابق وزیراعلی کے بیٹے ساکیت بہوگناکے درمیان ہے۔2012ء کے ضمنی چناؤ میں ساکیت کو مات دے چکی مالا راجے لکشمی شاہ کیلئے اپنی جیت کو دوہرانا آسان نہیں ہوگا۔بھاجپا ۔کانگریس کے علاوہ ٹہری سے عام آدمی پارٹی ، بسپا اور دیگر امیدوار بھی اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ سیاسی وراثت کے معاملے میں دونوں کنبے ایک دوسرے سے کم نہیں ہیں۔ ٹہری میں شاہی پریوار کے دبدبہ کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ اب تک16 لوک سبھا چناؤ میں 10 مرتبہ جنتا نے شاہی پریوار پر بھروسہ جتایا ہے۔ ادھر بہوگنا خاندان کا یوپی سے دہلی تک دبدبہ ہے۔وہیں ہیموتی نندن بہوگنا کی مضبوط سیاسی بنیاد سب کو معلوم ہے۔ دونوں کنبوں میں سیاسی جنگ پرانی ہے۔ ٹہری سیٹ پر ہار جیت طے کرتا ہے میدانی علاقہ۔ ٹہری لوک سبھا میں اتر کاشی ضلع کے تین اسمبلی حلقوں میں محض پونے دو لاکھ ووٹ ہیں۔ ٹہری ضلع کے چار اسمبلیوں حلقوں میں تقریباً تین لاکھ ووٹ ہیں۔ باقی سات لاکھ ووٹر دہرہ دون ضلع کی سات اسمبلی سیٹوں میں ہیں۔ 2009ء میں ہوئے ضمنی چناؤ میں بھاجپا کو دہرہ دون کے میدانی حلقوں کی پانچ اسمبلی سیٹوں پر بھاری اکثریت سے کامیابی ملی تھی۔ اب دیکھنا ہے کہ بھاجپا اس ریاست میں اپنا دبدبہ پھر سے قائم رکھ سکے گی؟
(انل نریندر)

17 اپریل 2014

پانچویں مرحلے کی 121 سیٹیں مودی کے مشن 272+ کیلئے کافی اہم!

عام چناؤ کے پانچویں مرحلے میں121 سیٹوں پر آج یعنی 17 اپریل کو ہونے والا چناؤ سبھی بڑی پارٹیوں کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ این ڈی ٹی وی کے ایک تازہ سروے جو اس نے ہنس ریسرچ گروپ سے کرایا، بھاجپا کے لئے اچھی خبر لے کر آیا ہے۔دیش میں اس وقت نریندر مودی کی لہر چل رہی ہے جس کے چلتے این ڈی اے کو لوک سبھا میں 230 سے 275 سیٹیں تک مل سکتی ہیں۔سب سے بڑے اوپینین پول میں لوک سبھا کی کل 543 سیٹوں میں سے یوپی اے کو111 سے 128 سیٹیں ملنے کی بات کہی گئی ہے۔ اس پول کے ماہرین کا دعوی ہے اکیلے بھاجپا کے کھاتے میں 196 سے226 سیٹیں اور کانگریس کو 92 سے106 سیٹیں مل سکتی ہیں۔ دونوں بھاجپا اور کانگریس نے آج ہونے والی پولنگ کے لئے پوری طاقت جھونک دی تھی۔ اب تک ہوئے چناؤ کی بہ نسبت زیادہ سیٹیں (120) اس مرحلے میں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔ ان میں کرناٹک ، مہاراشٹر، راجستھان، مدھیہ پردیش، اڑیسہ، اترپردیش وغیرہ سیٹوں پر آج ووٹ پڑیں گے۔ اترپردیش کی چاروں بڑی پارٹیوں نے اب مغربی اترپردیش کی 11 لوک سبھا سیٹوں پر اپنی پوری طاقت لگائی۔ پچھلے چناؤ میں سب سے زیادہ 4 سیٹیں سپا نے جیتی تھیں۔ اس کے بعد کانگریس اور بھاجپااور راشٹریہ لوکدل اتحاد تین تین سیٹ لیکر برابری پر تھا۔ بسپا کو ایک ہی سیٹ پر صبر کرنا پڑا تھا۔ 10 اپریل کو صوبے کے پہلے مرحلے میں جن 10 سیٹوں کے لئے ووٹ پڑے تھے وہاں بھاجپا کو اپنی بڑھت کا بھروسہ ہے۔ دوسرے مرحلے میں 11 سیٹوں پر بھاجپا کی پچھلے چناؤ میں کارکردگی کافی اچھی نہیں دکھائی دی۔ نگینہ محفوظ سیٹ پر اصلی مقابلہ بھاجپا کے ڈاکٹر ونش راوت اور بسپا کے گریش جاٹو کے درمیان ہے۔ مراد آباد میں پچھلی بار کانگریس کے اظہرالدین نے بھاجپا کے سوورن سنگھ کو ہرایا تھا۔ پانچ سال تک اظہر الدین علاقے سے ندارد رہے لہٰذا کانگریس نے انہیں اس بار راجستھان بھیج دیا ان کی جگہ رامپور کی بیگم نور بانو یاہاں سے امیدوار ہیں۔بسپا نے میرٹھ کے متنازعہ لیڈریعقوب قریشی کو اور سپا نے ایس ٹی حسن کو اتارا ہے۔ تین مسلمانوں کے درمیان بھاجپا کے ٹھاکر سرویش سنگھ اس بار اپنی جیت کو لیکر کافی مطمئن نظر آتے ہیں۔ یہاں سنبھل سیٹ بھاجپا کے لئے اس بار بھی کافی پہیلی بنی ہوئی ہے۔ یہاں اصلی مقابلہ بسپا کو چھوڑ کر سپا میں آئے شفیع الرحمن برق بسپا کے عقی الرحمن اور بھاجپا کے ستیہ پال سونی میدان میں ہیں۔ کانگریس کے متنازعہ بابا آچاریہ پرمود کرتنام پر داؤ لگایا ہے۔ رامپور میں پچھلے دو چناؤ میں سپا ٹکٹ پر جیہ پردہ نے کامیابی حاصل کی تھی۔ اس بار سپا نے یہ سیٹ نصیر احمد خان اوربسپا نے حاجی اکبر حسین کو تو کانگریس نے بیگم نور بانو کے بیٹے کاظم علی کو امیدوار بنایا ہے۔بھاجپا کے مضبوط لودھ لیڈر اور سابق وزیر ندال سنگھ کو جیت کے لئے سخت محنت کا سامنا ہے۔ امروہہ میں پچھلی بار بھاجپا آر ایل ڈی اتحاد کے امیدوار دویندر ناگپال نے سپا کو ہرایا تھا۔ اس بار بسپا کے حاجی شبن اور سپا کی حمیرہ اختر ،آر ایل ڈی۔ کانگریس کے مشترکہ امیدوار راجیش ٹکیت اور بھاجپا کے امیر ترین گوجر لیڈر سوامی رامدیو کی پسند کے کنور سنگھ تنور کو کانٹے کی لڑائی میں اتارا ہے۔ بریلی سیٹ سے بھاجپا کے لئے عمید درگا ہیں لیکن پچھلے چناؤ میں کانگریس کے پروین سنگھ نے بھاجپائی لیڈر سنتوش گنگوار کو ہرایا۔ اس بار اپنی کھوئی سیٹ اور اپنی ساکھ کو واپس لانے کے لئے وہ دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔ مقابلہ بسپا کے عمیش گوتم ،سپا کی عائشہ اسلام اور پچھلے کامیاب رہے پروین ایرن میں ہے۔ پیلی بھیت میں مینکا گاندھی بسپا کے انیس احمد، سپا کے بدھ سین اور کانگریس کے سنجے کپور سے مقابلہ آرا ہیں۔ تیسرے مرحلے میں 51 سیٹوں پر پولنگ میں مسلمانوں کے ووٹ کی تقسیم نے کانگریس ہی نہیں دیگر پارٹیوں کو بھی پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ذرائع کے مطابق مسلمانوں کے مذہبی پیشوا اور دانشوروں نے اس سلسلے میں جو حکمت عملی بنائی ہے اس کے مطابق بھاجپا کے سامنے کوئی بھی مضبوط امیدوار کے حق میں ووٹ ڈالا جائے۔ ان سیٹوں پر سپا۔بسپا دونوں کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔17 اپریل کو بہار کی 7 پارلیمانی سیٹوں جن پر چناؤ ہورہا ہے وہ منگیر،نالندہ، پٹنہ صاحب، پاٹلی پتر، آرا،بکسر، جہان آباد وغیرہ شامل ہیں۔ پہلے مرحلے کے مقابلے میں یہ سیٹیں کافی اہمیت کی حامل ہیں اور حساس بھی ہیں۔ نکسلی حملوں کے نقطہ نظر سے پانچویں مرحلے کی سات سیٹوں پر کئی سرکردہ لیڈروں کی عزت داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کو اپنے آبائی شہر نالندہ میں جنتادل (یو) کے امیدوار کو کامیاب بنانا ہے جہاں سیاسی ساکھ کا سوال ہے وہیں راشٹریہ جنتادل کے صدر لالو پرساد یادو کی ساکھ پاٹلی پترسیٹ پر لگی ہوئی ہے۔ یہاں سے ان کی بیٹی میسا اور دوسرے رام کرپال سے سخت ٹکر مل رہی ہے۔ اگر ووٹوں پر نظر ڈالی جائے تو دوسرے مرحلے میں لیڈروں کے علاوہ دو فلمیں ستارے اور دو ڈاکٹر، ایک سابق اعلی افسر میدان میں ہے۔پٹنہ صاحب سے بھاجپا کے شتروگھن سنہا اپنی دوسری بار جیت کے لئے جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں۔ کانگریس نے کرپال سنگھ اور جنتادل (یو)نے ڈاکٹر گوپال سنگھ سنہا کو اتارا ہے جس کی وجہ سے لڑائی سہ رخی بن گئی ہے۔ آرا پارلیمانی سیٹ سے بھاجپا نے سابق ہوم سکریٹری آر کے سنگھ کو جبکہ جنتادل (یو ) نے مینا دیوی اور آر جے ڈی نے بھگوان سنگھ کشواہا کو میدان میں اتارا ہے۔اب کچھ دیگر حلقوں کی بات کریں۔بالمیڑ لوک سبھا سیٹ سے بھاجپا کے بڑے ستون رہے اور مرکز میں وزیر خزانہ ، وزیر خارجہ رہے جسونت سنگھ آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں اترے ہوئے ہیں۔ ان کا مقابلہ بھاجپا کے کرنل سونا رام اور کانگریس کے ہریش چودھری سمیت 11 امیدواروں سے ہے۔ جسونت سنگھ کو ہرانے کے لئے صوبے کی وزیر اعلی وسندھرا راجے نے بھی اپنی ناک کا سوال بنا لیا ہے۔ کرناٹک کی اہم حاسن لوک سبھا سیٹ سے سابق وزیراعظم ایچ ڈی دیوگوڑاچناؤ میدان میں اترنے والے ہیں ان کا مقابلہ کانگریس کی ممبر اسمبلی اے۔ منجو سے ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ دیوگوڑا کے خلاف چناوی حکمت عملی میں وزیر اعلی سدا رمیا بھی مدد کررہے ہیں۔81 سال کے دیوگوڑا کرناٹک کی سیاست میں کھلاڑی ہیں۔ بھاجپا کے لئے بی۔ ایس یدی رپا جوڑ توڑ میں بھی کم نہیں ہیں۔ اب دیکھنا ہے مودی لہر کا کتنا فائدہ کرناٹک کی 28 سیٹوں پر ہوتا ہے۔ یہ بھی پتہ چلے گا کہ جھارکھنڈ کی پانچ سیٹیں رانچی، جمشید پور، سنگھ بھوم وغیرہ میں چناؤ ہوگا۔ راجستھان میں 20 سیٹوں پر چناؤ بھاجپا کے لئے کافی اہمیت کا حامل ہے۔مدھیہ پردیش کی10 سیٹوں پر بھاجپا چاہے گی کہ وہ زیادہ سے زیادہ سیٹیں جیتے۔ اڑیسہ کی11 سیٹوں پر ووٹ ڈلے گا۔ کل ملا کر یہ نریندر مودی کے مشن 272+ کے لئے کافی اہمیت کا حامل ہے۔ بھاجپا کو امید ہوگی کہ اس پانچویں مرحلے کے بعد این ڈی ٹی وی کا سروے اگلی بار اور بہتر آئے گا۔
(انل نریندر)

16 اپریل 2014

شندے، پوار، آزاد و پائلٹ کی ساکھ داؤں پر لگی!

مہاراشٹر میں 17 اپریل کو ہونے والی پولنگ این ڈی اے کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ 17 کومہاراشٹر کے مراٹھا چھترپ شرد پوار کے گڑھ میں چناؤ ہونے ہیں اور بھاجپا و این ڈی اے کے لئے اس خطے میں کامیابی آسان نہیں ہے۔ حکمت عملی کے تحت ہی اپنے نئے دوستوں کی تعداد بڑھانے کے ساتھ بھاجپا نے لاتور شعلہ پور میں نریندر مودی کی ریلی کا انعقاد کیا۔ لیکن یہ علاقہ بھاجپا ۔شیو سینا کے لئے آسان نہیں ہے۔ مغربی مہاراشٹر کی شعلہ پور لوک سبھا سیٹ سے مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے چناؤ لڑتے آئے ہیں جبکہ سانگلی وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان کا آبائی علاقہ ہے۔ ویسے تو پورا مغربی مہاراشٹر شرد پوار کے اثر والا علاقہ مانا جاتا ہے۔ 3.25 کروڑ ووٹر مہاراشٹر کی 19 لوک سبھا سیٹوں کے لئے 358 امیدواروں کا فیصلہ کریں گے۔ اس لئے امیدوار پورے دم خم سے ڈٹے ہوئے ہیں۔ اس مرحلے میں مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے ،سابق وزیر اعلی اشوک چوہان، سینئر بھاجپا لیڈر گوپی ناتھ منڈے کی قسمت کا فیصلہ ہونا اسی مرحلے میں مراٹھ واڑہ زون کی ہنگولی نانڈیر ،بیڑ، پرمنی، عثمان آباد اور لاتور، مغربی مہاراشٹر کی پنے، بارہمتی، سنگروروغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔ نارتھ مہاراشٹر میں شرڈی اور احمد نگر ،کونکن کی رتنا گری،سدھو درگا سیٹ پر چناؤ ہونے ہیں۔ نئی پیڑھی کے نلیش رانے (رتنا گری سندھو درگ) سپریہ سلے(پوار کی بیٹی) بارہمتی کو اپنی دوسری پاری میں کامیابی کی امید ہے۔موجودہ ممبر اسمبلی اور بھارتیہ یوتھ کانگریس کے پردھان راجیو سالوے(ہنگولی) پہلی بار چناؤ میدان میں ہیں۔ ستارہ میں چھترپتی شیواجی کے پرکھے ادین راجے گھوسلے پھر سے میدان میں ہیں جو پچھلا چناؤ قریب تین لاکھ ووٹوں سے جیتے تھے۔اس مرتبہ سابق نائب وزیر اعلی وجے سنگھ مہتے پاٹل چناؤ لڑ رہے ہیں ان تینوں سیٹوں کا حساب کتاب بدل پانا شیو سینا۔ بھاجپا کے لئے ایک مشکل نشانہ ہے۔ کانگریس کے قبضے والی شعلہ پور اور ایک سانگلی سیٹ مرکزی وزیر سشیل کمار شندے اور مرکزی وزیر کوئلہ پرتیک پاٹل کے قبضے میں رہی ہے۔ شندے پچھلا چناؤ قریب ایک لاکھ ووٹوں سے جیتے تھے جبکہ سانگلی کی سیٹ پر آزادی کے بعد سے آج تک کانگریس کبھی نہیں ہاری۔ اس بار ان دونوں سیٹوں پر نظر لگائے بھاجپا شیو سینا نے سوابھیبینی شویدکر سنگٹھن آر پی آئی اورآر پی ایس جیسی علاقائی اثر والی پارٹیوں سے سمجھوتہ کیا ہے۔ پنے اور مہاول لوک سبھا سیٹ فی الحال کانگریس اور شیو سینا کے پاس ہے لیکن اس بار شیو سینا بھاجپا کے حق میں عوام دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ مودی کا مشن 272+ میں مہاراشٹر کی یہ سیٹیں کافی اہمیت رکھتی ہیں۔چلئے مہاراشٹر سے چلتے ہیں جموں و کشمیر کی طرف۔اودھمپور ڈوڈا سیٹ پر مرکزی وزیر صحت غلام نبی آزاد کی راہ پتھریلی دکھائی دیتی ہے۔ پہلی بار یہاں سہ رخی مقابلے میں پھنسے ہیں۔ انہیں بھاجپا کے ڈاکٹر جتیندر سنگھ اور پی ڈی پی کے ارشد ملک سے سخت مقابلہ ہے۔ آزاد کے سامنے کٹھوا میں بھاجپا سے سیدھی چنوتی مل رہی ہے تو ڈوڈا کشتواڑ علاقے میں پی ڈی پی۔ کانگریس کے ووٹ بینک میں سیند لگاتی دکھائی دے رہی ہے۔ نریندر مودی اس پارلیمانی حلقے کے ہری نگر میں ریلی کر چکے ہیں۔ کانگریس کی طرف سے ابھی تک نہ تو سونیا اور نہ ہی راہل دورہ کر پائے۔آزاد اپنے بلبوتے پرچناؤ کمپین کررہے ہیں۔ بھاجپا کو مودی لہر کی امید ہے لیکن پینتھرس پارٹی چیف بھیم سنگھ ہندو ووٹ بینک میں سیند لگانے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔ پینتھرس پارٹی کا اودھمپور علاقے میں کافی اثر ہے اور اسمبلی چناؤ میں اسے دو سیٹیں ملی ہیں اس لئے سخت مقابلہ ہے۔ دیکھیں اونٹ کس کرونٹ بیٹھتا ہے؟ جموں و کشمیر سے رخ کرتے ہیں راجستھان کے اجمیر سیٹ پر صوفی سنت خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ کے لئے مشہور اجمیر میں پردیش کانگریس پردھان سچن پائلٹ اور جاٹ لیڈر سانور لال جاٹ کے درمیان زور دار مقابلہ ہونے کا امکان ہے۔ سانور لال وسندھرا راجے کی وزارت میں وزیر ہیں۔ اجمیر لوک سبھا سیٹ بھاجپا کی رہی ہے لیکن پچھلے چناؤ میں سچن نے یہاں بھاجپا کے گڑھ میں سیند لگاتے ہوئے 76 ہزار ووٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی۔ حالانکہ اسمبلی چناؤ میں اس لوک سبھا سیٹ کے تحت آنے والی سبھی سیٹیوں پر کانگریس کو ہار ملی تھی۔ اجمیر میں جاٹھ اور راوت ووٹروں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ بھاجپا کو جیت دلانے میں مدد کرسکتی ہے۔ چناؤ کے دوران ریلیوں میں سچن علاقے میں کئے گئے ترقیاتی کاموں کے بارے میں پرچار کررہے ہیں ان کا کہنا ہے پانچ سال کے دوران انہوں نے اجمیر میں مرکزی یونورسٹی ، کشن گڑھ میں ہوائی اڈہ اور آئی ٹی پروفیشنل کورس کے لئے کیکرا میں انسٹیٹیوٹ اور250 دیہی اسکولوں میں کمپیوٹر تعلیم،48 نئے پرائمری اسکول،5 نئی ٹرینیں، کئی ریلوے اوور برج بنوانے کا کام کیا۔ بھاجپا کے نریندر مودی کی ہوا سے یہاں کے لوگ کافی زیر اثر دکھائی پڑتے ہیں۔ وسندھرا راجے کی ساکھ بھی کچھ حد تک یہاں داؤ پر لگی ہے۔ کل ملاکر کانگریس کے لئے راجستھان میں یہ ایک سیٹ محفوظ مانی جاتی ہے۔
(انل نریندر)

ورون گاندھی اپنی تقریروں میں مودی کا ذکر تک نہیں کررہے!

امیٹھی سے لگا سلطانپور لوک سبھا چناؤ حلقہ بھی اس بار وی آئی پی اسٹیٹس کا حامل بن چکا ہے کیونکہ گاندھی پریوار کے ہی نوجوان ورون گاندھی کو بھاجپا نے میدان میں اتارا ہے۔ پچھلی بار محض40 ہزار ووٹ پانے والے بھاجپا کے ورکروں کا جوش ساتویں آسمان پر ہے۔ دلچسپ اور چونکانے والی بات تو یہ ہے سلطانپور میں نہ تو کوئی نریندر مودی کی بات کررہا ہے نہ ہی بھاجپا کی کوئی لہر۔ صرف ورون کی لہر چل رہی ہے۔روزانہ 15سے20 چناوی ریلیاں کرنے والے ورون خود بھی اپنی ریلیوں میں نہ اٹل، اڈوانی اور نہ ہی مودی کا کوئی ذکرکرتے ہیں ۔ وہ اپنی تقریر کی شروعات میں گاؤں والوں سے کہتے ہیں کہ گاؤں کی طرف سے کوئی ایک مالہ پہنادے کیونکہ وہ تو یہیں کے ہیں۔اس کے بعد وہ سیدھی تقریر شروع کرتے ہیں کہتے ہیں یہ چناؤ اس لئے اہم ہے کیونکہ ہم نے عظم کیا ہے کہ سلطانپور میں نئے دور کا آغاز کرنا ہے۔ ذات پات کو نہیں مانتا میں ایسی سیاست کرنا چاہتا ہوں جہاں دھرم اور ذات پات کے لئے کوئی جگہ نہ ہو۔ مجھے پتہ ہے کہ یہاں کے لوگ محنتی ہیں ،ضمیر والے ہیں پھر بھی یہ علاقہ پسماندہ ہے ،وجہ ہے علاقے کو ابھی تک صحیح لیڈر شپ نہیں مل سکی۔ تالیوں کے درمیان کہتے ہیں سیاست میں اس وقت غرور بھر چکا ہے۔ وہ لوگوں کو جذباتی کرتے ہیں اور کہتے ہیں میں یہاں نیتا نہیں بھائی اور بیٹے کی شکل میں آیا ہوں۔ میری ماں کہتی ہیں جہاں مہلائیں ہوتی ہیں وہیں لکشمی کا آشیرواد ہوتا ہے اور یہاں تو مجھے لگا ہے کہ لکشمی کا زیادہ ہی آشیرواد ملے گا۔ وہ سلطانپور کیسے پہنچے۔ اس کے جواب میں ورون کہتے ہیں کہ دراصل میں ایسا علاقہ چاہتا تھا جس سے میرا جذباتی رشتہ ہو۔ پیلی بھیت میں مجھے مسلسل کامیابی ملتی رہی ہے۔انہوں نے وہ سیٹ سیکھنے کے لئے دی تھی لیکن اب وقت آگیا ہے میں ا پنی بنیاد خود تیار کروں اس لئے سلطانپور کو میں نے اپنے کام کے لئے چنا ہے۔ پچھلے دنوں ورون گاندھی نے اپنے تایا ذات بھائی راہل گاندھی کے ذریعے امیٹھی میں کئے کام کی تعریف تھی جس سے تنازعہ کھڑا ہوگیا تھا۔ ٹیچروں کی ایک ریلی کو خطاب کرتے ہوئے ورون نے کہا تھا کہ جس طرح امیٹھی میں راہل جی نے خود مددگار گروپوں کے ذریعے عورتوں کو روزگار سے جوڑا ہے اسی طرح چھوٹی صنعتوں کی سلطانپور میں زیادہ ضرورت ہے۔ امیٹھی میں کام کاج کے لئے راہل گاندھی کی تعریف کیا ورون گاندھی نے سوچ سمجھ کر کی تھی؟ حالانکہ بعد میں ورون نے صفائی بھی دی کہ ان کا مقصد کسی پارٹی یا پھر امیدوار کی مدد کرنا نہیں ہے لیکن مانا جارہا ہے کہ ورون کے اس بیان سے بی جے پی خاص کر امیٹھی سے بی جے پی امیدوار اسمرتی ایرانی کو شاید پریشانی ہو۔ سیاسی واقف کاروں کا کہنا ہے کہ ورون کے اس بیان کے کئی معنی ہیں کیونکہ اس بار خود ورون بھی امیٹھی کے قریب سلطانپور سیٹ سے امیدوار ہیں۔ ورون پچھلی بار پیلی بھیت سے چناؤلڑے تھے۔ امیٹھی کی طرح ہی سلطانپور میں بھی گاندھی خاندان کا دبدبہ رہا ہے ایسے میں وہ اپنی کسی تقریر میں راہل گاندھی کی تعریف کرتے ہیں تو ظاہر ہے انہیں سلطانپور میں بھی اس کا فائدہ ملے گا۔ اسی بہانے انہوں نے سلطانپور کی جنتا کو یہ بھی یاد کروادیا کے وہ بھی گاندھی خاندان کے ہیں۔ سلطانپور سے 2004ء میں بسپا سے محمد طاہر ایم پی بنے تھے اور 2009ء میں ڈاکٹر سنجے سنگھ ریکارڈ ووٹوں سیجیتے تھے جب ورون سے پوچھا گیا کہ وہ اپنی کمپین میں نہ تو مودی کا نام لیتے ہیں اور نہ ہی بھاجپا کا ،تو انہوں نے جواب دیا میری تقریر غریبوں کو بھروسہ دلانے کے لئے ہے۔ میں لوگوں سے کہہ رہا ہوں آپ میرا ساتھ دیجئے۔
(انل نریندر)

15 اپریل 2014

لوک سبھا دنگل!چدمبرم کے بیٹےاور دگوجے کے بھائی میدان میں

آج ہم بات کریں گے کانگریس کی دوہستیوں کی ایک کا بیٹا چناؤ میدان میں ہے اور دوسرے کا بھائی۔ میں بات کررہا ہوں یوپی اے سرکار کے وزیر خزانہ پی چدمبرم کے بیٹے کارتی چدمبرم کی اور کانگریس کے سکریٹری جنرل دگوجے سنگھ کے بھائی لکشمن سنگھ کی۔ ٹیکساس اور کمبیرج جیسے تعلیمی اداروں میں تعلیم پائے 42 سالہ کارتی پی چدمبرم کو اپنے والد کی روایتی سیٹ شیوکنگا میں سہ رخی مقابلہ کے سامنا کرناپڑرہاہے کارتی اس دور میں سیاسی دنگل میں اترے ہے جب ساؤتھ میں بڑی ریاست تامل ناڈو اکیلے چناؤ میں اترناپڑا ہے حالانکہ سفید شرٹ اور سفید دھوتی میں اپنے والد کے ساتھ چناؤ کمپین لگے کارتی کے چہرے پر کسی طرح کی خوداعتمادی کی کمی نہیں دکھائی دیتی ان کا مقابلہ انا ڈی ایم کے کے امیدوار پی آر سیتھلی ناتھن سے ہے وہ پسماندہ فرقے میں مقبول لیڈر ہے سیتھلی کے حق میں بڑی بات یہ ہے کہ 6اسمبلیوں میں 4 اسمبلیوں انا ڈی ایم کا قبضہ ہے بھاجپا کے ایم راجہ بھی مقابلے میں ہے وہ 1999میں دوسرے نمبر پر رہے تھے وہی ڈی ایم کے کے نے بھی ا پنے امیدوار ایس پی دورئی راج کو میدان میں اتارا ہے کارتی تامل ناڈو کی سیاست میں سرگرم ضرور ہے لیکن ان کی پہچان پی چدمبرم کے بیٹے کے طور پر ہے2009کے لوک سبھا چناؤ میں پی چدمبرم یہاں سے بہت تھوڑے ووٹ سے جیت پائیں تھے اور نتیجہ پر بھی بھاری تنازع تھا اور ریکارڈنگ کی نوبت آئی تھی ان کو334348 ووٹ ملے تھے جب کہ انا ڈی ایم کے کے راجہ کو 330994 و وٹ ملے تھے اور چدمبرم 3359 ووٹ سے کامیاب ہوئے تھے۔
راج گڑھ لوک سبھا حلقے سے دیواروں پر جسے دگی راجہ لکھا جاتا ہے وہ پہلے ہی راجیہ سبھا میں پہنچ گئے ہیں رادھوگڑھ کے نام سے مشہور چھوٹے سے قصبے میں ان کے آبائی واجداد کا پرانا قلعہ بنا ہوا ہے وہاں سے ان کے بیٹے جے وردھن سنگھ ودھان سبھا پہنچ گئے ہیں لیکن 2009میں سرپنچ سے ایم پی بنے نارائن سنگھ یہاں نریندر مودی کی لہر میں پیر ٹکانے کی کوشش کررہے ہیں آر ا یس ایس کے ایک عام ورکر روڈیر ناگر سرکاری پریوار اور اس کے قریبیوں پر بھاری پڑرہا ہے۔ پنچ مور کے ایک کانگریسی لیڈر نے کہا ہے کہ دگوجے سنگھ میں لوک سبھا چناؤ لڑنے کے بجائے راجیہ سبھا جانے کا متبادل چنا تو لوگ سمجھ گئے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھنے والا ہے۔ کانگریس ورکروں کو اپنی نیتا کا یہ غلط پیغام تھا ایک ایسے وقت میں جب اچھا سندیش دینے کی بڑی ضرورت تھی تو دگی کے بھائی نارائن سنگھ کو ودیشا سے چناؤ لڑنے کے لئے اتارا اور اثر بھی اس پارلیمانی حلقے میں ہوا ہے رادھوگڑھ سے ان کے خاندان کی پوری ٹیم ودیشا پہنچ گئی ہے اب نارائن سنگھ عملابے کو اپنی لڑائی خود لڑنی پڑرہی ہے۔ ودیشا میں لکشمن سنگھ کو سخت ٹکر کاسامنا ہے کیونکہ یہاں بھاجپا کی لیڈر سشما سوراج چناؤ لڑرہی ہے۔ ایک وقت تھا جب اٹل جی یہاں سے چناؤ جیتا کرتے تھے یہ بھاجپا کی سب سے محفوظ سیٹوں میں شمار ہے لکشمن سنگھ جو پہلے بھاجپا میں بھی تھے کے لئے سشما کو چنوتی دینا بہت مشکل نظر آرہا ہے۔ دگوجے سنگھ کو دوہری خطرہ ہے اپنے گڑھ میں بھی کانگریس کو ہارنے کا امکان ہے اور بھائی ودیشا سے ہارنے کے خوف میں ہے دگوجے سنگھ کی خوداعتمادی کا حال یہ ہے کہ وہ خوداپنے گڑھ سے بھی لڑنے کی ہمت نہیں دکھا سکیں۔
(انل نریندر)

مغربی بنگال میں ممتابنام لیفٹ بنام بھاجپا دنگل

تیسرے مورچے کی تشکیل کے لئے سرگرم ہورہی لیفٹ پارٹیوں کو سب سے زیادہ مشکل اپنے گڑھ مغربی بنگال میں ہورہی ہے۔ ترنمول کانگریس کی لیڈر ممتا بنرجی کے جارحانہ تیوروں کی وجہ سے لیفٹ پارٹیوں کی چل نہیں پارہی ہے۔ تمام کوششوں کے باوجود ترنمول کانگریس اور اس کی سربراہ ممتا بنرجی کی گھیرا بندی کرنے میں ناکام لگ رہی ہے۔ اندیشہ تو یہاں تک ہے کہ لیفٹ پارٹیوں کے لئے 2009 کے اپنی عام کارکردگی کے چلتے کامیابی کو دوہراپانا مشکل ہورہا ہے۔ مغربی بنگال میں پچھلے چناؤ میں 19سیٹیں جیتنے والی ترنمول کانگریس کی اس مرتبہ سیٹیں بننے کا دعوی سروے نے کیا ہے اس سے لیفٹ پارٹیاں کچھ مایوس ہے دبی زبان وہ بھی ان کے ٹی وی چینلوں کے سروں پر کی سچائی کو غور سے دیکھ رہے ہیں۔ دوسر پچھلے دو دہائی سال کے عہد میں حکومت ریاست کی ترقی کی تصویر نہیں بدل پائی۔ لیکن لیفٹ پارٹیوں کو محسوس ہورہا ہے کہ ان کے کیڈر کو منظم طریقے سے توڑا جارہا ہے۔ جس کا نقصان انہیں چناؤ میں اٹھانا پڑے گا یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں لیفٹ فرنٹ کے ایک نمائندہ وفد نے چناؤ کمیشن سے ممتا بنرجی سے شکایت کی کہ دوسری طرف لیفٹ پارٹیوں کے تئیں جو لوگوں میں ناراضگی تھی وہ ابھی بھی برقرار ہے جب کہ انہیں اقتدار سے باہر ہوئے دوسال ہوچکے ہیں۔ ممتا کی قسمت یہ ہے کہ اقتدار کی پیدا ہونے والی لہر ابھی تک ان کے خلاف نہیں شروع ہوئی ہے۔ یہی لیفٹ پارٹیوں کی سب سے بڑی ناکامی ہے ویسے ممتا کی لڑائی اور تنازع پیدا کرنے کے لئے ٹرینڈ ریاست پر بہت بھاری پڑتے پڑتے بچے ہیں اب وہ چناؤ کمیشن سے لڑرہی ہے۔ 
غور طلب ہے کہ ممتا بنرجی نے پانچ اعلی افسران کے تبادلے کے چناؤ کمیشن کے فرمان کو ماننے سے انکار کردیا تھا ممتا نے چناؤ کمیشن کو کھلی چنوتی دیتے ہوئے کہا کہ وہ افسران کو ہٹا کر دکھائے پردیش کی کل 42سیٹوں میں سے19 سیٹیں ان متنازعہ علاقوں سے آرہی ہے جہاں کے افسروں کے تبادلے کردیئے گئے تھے چناؤ کمیشن نے مقامی رپورٹوں کی بنیاد پر اعلی افسروں کے تبادلوں کے حکم دیئے تھے ممتا نے انہیں ہٹانے کے لئے انکار کردیا تھا چناؤ کمیشن نے ممتا کو بدھوار صبح 10 بجے تک تبادلہ کرنے کا حکم دیاتھا اور قیاس آرائیاں جاری تھی کہ تبادلہ نہ کئے جانے پر چناؤ کمیشن مغربی بنگال میں چناؤ پروگرام ملتوی کرنے جیسے سخت قدم اٹھا سکتا ہے اس کے دباؤ کے چلتے ممتا نے منگل وار کی شام درگا پور میں کہا ہے کہ چناؤ کمیشن کے حکم تعمیل کرتے ہوئے چار ایس پی ایک ڈی ایم اور دو ا ے ڈی ایم کاتبادلہ کردیا جائے گا۔ مجھے اس پر کوئی ا عتراض نہیں ہے کہ مغربی بنگال میں نریندر مودی کی دھوا ں دھار کا کمپین کا بھی اثر پڑے گا یہاں ا ہم مقابلہ ترنمول کانگریس بنام بھاجپا نظر آتا ہے لیفٹ پارٹیاں اس مقابلے میں کہیں جمتی نظر نہیں آرہی ہیں۔

 (انل نریندر)

13 اپریل 2014

جونیئر رمن سنگھ یعنی ابھیشیک سمیت 50 سیٹوں پر نیتاؤں کے بیٹے بیٹیاں!

16 ویں لوک سبھا چناؤ میں کم سے کم 50 پارلیمانی سیٹیں ایسی ہیں جس پر راشٹرپتی پرنب مکھرجی کے بیٹے ابھیجیت سے لیکر راہل اور ورون گاندھی سمیت مختلف دلوں کے راج نیتاؤں کے بیٹے اور بیٹیاں اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔زیادہ تر برسر اقتدار کانگریس کے ہیں۔ممبر پارلیمنٹ ابھیجیت مکھرجی اپنی موجودہ زنگیر پور (پشچمی بنگال) سے کانگریس کے ٹکٹ پر لڑ رہے ہیں۔ فائننس منسٹر پی چدمبرم کے بیٹے کیرتی تاملناڈو کی ریوگنگا سیٹ سے پہلی بار چناؤ میں اترے ہیں۔ بھاجپا نیتا اور سابق فائننس منسٹر یشونت سنہا کے بیٹے جینت جارکھنڈ کی ہزاری باغ سیٹ سے چناؤ لڑرہے ہیں۔یوپی اے سرکار نے سابق وزیر مرلی دیوڑا کے بیٹے ملن دیوڑا ،کیرل کے راجیپال شیلا دیکشت کے بیٹے سندیپ دیکشت، ہریانہ کے وزیر اعلی بھوپندر سنگھ ہڈا کے بیٹے دپیندر ، آسام کے وزیر اعلی ترون گگوئی کے بیٹے گورو، راجستھان کی وزیر اعلی وسندھرا راجے کے بیٹے دشینت، سابق مرکزی وزیر سنیل دت کی بیٹی پریہ دت، مرحوم نیتا پرمود مہاجن کی بیٹی پونم، اترپردیش کے سابق وزیر اعلی کلیان سنگھ کے بیٹے راجویر سنگھ اور دہلی کے سابق وزیر اعلی صاحب سنگھ ورما کے بیٹے پرویش ورما کو ملا کر کل50 سیٹوں پر نیتاؤں کے بیٹے بیٹیاں چناؤ میدان میں ہیں۔چھتیس گڑھ کے مکھیہ منتری رمن سنگھ کے بیٹے ابھیشیک چھتیس گڑھ کی راجنند گاؤں سیٹ سے میدان میں ہیں۔ ایک سال پہلے جب چھتیس گڑھ میں رمن سنگھ تیسری بار مکھیہ منتری کی کرسی پر قابض ہونے کے لئے ودھان سبھا کا چناؤ لڑ رہے تھے تب ان کے بیٹے ابھیشیک ان کی چناؤ مہم کی دیکھ ریکھ میں جٹے تھے اس بار اب عام چناؤ ہورہے ہیں ابھیشیک خود امیدوار ہیں اور اب پتا ان کے لئے ووٹ مانگ رہے ہیں۔ ابھیشیک کے لئے پارٹی نے راجنند گاؤں کے روپ میں ایسی سیٹ کا چناؤ کیا جہاں پچھلی بار وہ کامیاب رہی تھی۔ بھاجپا نے موجودہ ممبر پارلیمنٹ مدھوسودن یادو کو ہٹا کر ابھیشیک کو ٹکٹ دیا ہے۔اس سے پارٹی میں تھوڑی ناراضگی بھی پھیلی۔ ابھیشیک علاقے کے لوگوں کو بھروسہ دلانے میں لگے ہیں کہ وہ راجنند گاؤں کے بیٹے ہیں ان کو مودی کی چھوی اور اپنے راجیہ کی راج نیتی پر پتا کی پکڑ کر بھروسہ ہے۔ سمرتھک ان کو جونیئر رمن کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ 33 سال کے ابھیشیک نے ایکس ایل آئی ای جمشید پور سے ایم بی اے کیا ہے۔ سہج،سرل اور ایماندار چھوی کے مانتے جاتے ہیں۔ ان کے چناؤ چھیتر میں نعرہ بھی چل رہا ہے ’سرل سہج دل کا نرم راجنند گاؤں کا بیٹا ابھیشیک‘ ابھیشیک کا مقابلہ کانگریس کے کملیشور ورما سے ہے جو حال میں ضلع پنچایت کے ممبر ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے بھاسکر دویدی بھی میدان میں ہیں۔ 2009 کے لوک سبھا چناؤ میں بھاجپا امیدوار مدھو سودن یادو یہاں سے جیتے تھے۔ انہوں نے کانگریس کے دیو دت سنگھ کو قریب1.19 لاکھ ووٹوں کے فرق سے ہرایاتھا۔ اس بار یادو کی جگہ ابھیشیک میدان میں اترے ہیں۔ابھیشیک کے لئے چنوتی ہے کہ وہ پہلا چناؤ لڑ رہے ہیں۔ ایک سیٹنگ ایم پی کوہٹا کر میدان میں آئے ہیں۔ تھوڑا اسنتوش پارٹی میں ہوگا جس کا انہیں توڑ نکالنا ہوگاپر پتا نہ صرف راجیہ کے مکھیہ منتری ہیں بلکہ ان کی راجیہ میں پکڑ کا فائدہ ابھیشیک کو ضرور ملے گا۔ یہ ایک اچھا سنکیت ہے کہ میسا بھارتی کی طرح ابھیشیک بھی ایک پڑھے لکھے امیدوار ہیں اور بیشک ونش واد کا الزام لگتا ہو پر ایسینوجوانوں کا راجنیتی میں سواگت ہونا چاہئے۔
(انل نریندر)

لالو کی بیٹی میسا پھنسی چاچا ۔ تاؤ سے مقابلے میں!

ہزاروں سے پہلے کبھی گنگا کنارے کی اس دھرتی پر آچاریہ وشنو گپت(چانکیہ) نے کہا تھا کہ راجنیتی میں کوئی اپنا نہیں ہوتا۔ اپنا ہوتا ہے محض لکشیہ۔پاٹلی پتر لوک سبھا حلقہ میں چانکیہ کا یہ سوتر عمل ہوتا نظر آرہا ہے۔ اس چناوی حلقے میں ایک طرف کبھی لالو پرساد یادو کی راجنیتی کے تین قریبی ایک دوسرے سے بھڑ رہے ہیں تو دوسری طرف 80 کی دہائی کے پچھڑوں کے آدھار کے لئے بنی بھومی ہاروں کی اگوائی والی رنویر سینا کے سنستھاپک برہم دیو مکھیا کی وراثت اپنے وجود کے لئے میدان میں کود پڑی ہے۔کبھی لالو کے ساتھی اور گورو دونوں کہے جانے والے ڈاکٹر رنجن پرساد یادو جنتادل (یو) سے امیدوار ہیں تو تین دہائی تک لالو کے داہنے ہاتھ مانے جانے والے رام کرپال یادو بھاجپا کا کمل تھامے میدان میں ہیں اور ان تاؤ چاچا کے سامنے لالو پرساد یادو کی بڑی بیٹی میسا بھارتی راشٹریہ جنتادل امیدوار کے طور پر ہیں۔ ویسے اور بھی امیدوار میدان میں تو ہیں پر چرچا ان تینوں کے علاوہ رنویر سینا کے سنستھاپک برہم دیو مکھیا کے بیٹے اندر بھوشن کی بھی ہے۔ میسا بھارتی کو بیشک سیاست ماتا پتا سے وراثت میں ملی ہو پر جس پاٹلی پتر لوک سبھا سیٹ سے وہ پہلی بار لوک سبھا چناؤ میدان میں اتری ہیں وہ ان کے لئے اپہار قطعی نہیں ہے۔ اس سیٹ پر ان کے والد لالو پرسا یادو جنتا دل (یو )کے رنجن پرساد یادو سے ہار چکے ہیں۔ اس بار اس سیٹ سے رام کرپال یادو لڑنا چاہتے تھے جو لالو جی کے بیحد قریبی مانے جاتے تھے لیکن ٹکٹ کو لیکر ہوئے وواد میں رام کرپال یادو راشٹریہ جنتا دل چھوڑ کر بھاجپا میں چلے گئے۔رنجن اور رام کرپال دونوں پاٹلی پتر سیٹ کے دعویدار ہیں۔ صاف ہے کہ میسا کو بیحد مضبوط مد مقابل امیدواروں سے ٹکر لینی ہے۔ان کی جیت آسان نہیں ہے۔ حالانکہ میسا نے رام کرپال کے پرکرن میں جس طرح پہلے ان کو منایا اور بعد میں ان پر حملہ بولا اس سے شروعات میں ہیں صاف ہوگیا تھا کہ سیاست کے گر وہ بخوبی جانتی ہیں۔ فی الحال انہیں گاؤں گاؤں کی دھول کھانی پڑ رہی ہے۔ بھاجپا کا سمرتھن ہونے کے باوجود اندر بھوشن کی ناراضگی ،راجد سے بھاجپا میں گئے رام کرپال یادو کی امیدواری کو لیکر ہے۔ 39 سالہ میساکے جنم کے وقت دیش میں ایمرجنسی نافذ تھی۔ پتا لالو پرساد یادو مینٹیننس آف انٹرنل سکیورٹی ایکٹ (میسا ایکٹ) کے تحت جیل میں بند تھے۔ لالو کو جیل میں بیٹی کے جنم کی خبر ملی جس کے بعد میسا ایکٹ پر انہوں نے بیٹی کا نام میسا رکھ دیا ۔ پچھلے کچھ سال سے میسا پارٹی کی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہیں ۔ مئی2013ء میں راجد کی پریورتن ریلی میں شامل ہوکر پہلی بار میسا نے راجنیتی میں سیدھے طور پر اپنی موجودگی درج کرائی تھی۔ میسانے اعلی تعلیم حاصل کی ہے وہ ایم بی بی ایس کی ڈگری لے چکی ہیں۔ ڈاکٹری کے ذریعے سماج سیوا کرنے کی راہ چنی ۔ وہ چاہتی تو کاروبار بھی کر سکتی تھیں۔ میسا تیز طرار اور بیباک بولنے والی ہیں۔ انہوں نے چناؤ پرچار سنبھالنے کے لئے بطور ایکسپرٹ دو اور آئی آئی ٹی اور دو ڈاکٹروں کو لگا رکھا ہے۔ پاٹلی پتر سیٹ پر17 اپریل کو مقابلہ ہے۔ بتادیں کہ2009ء میں یہاں سے جدیو ٹکٹ پر رنجن سنگھ یادو جیتے تھے۔ جنہیں 269298 ووٹ ملے تھے۔ انہوں نے راجد سپریموں اور میسا کے پتا لالو پرساد یادو کو ہرایاتھا۔ لالو کو245757 ووٹ ہی مل سکے تھے۔اس بار میسا کے لئے اور زیادہ سنگھرش ہے کیونکہ مقابلہ چاچا ۔ تاؤ کے ساتھ ہے۔
(انل نریندر)