Translater

19 مئی 2017

ان چھاپوں کا نشانہ صرف اپوزیشن پر کیا

منگلوار کو چھاپوں کا دن رہا اور یہ بڑی سیاسی جنگ کا اشارہ دے رہے ہیں۔ صبح خبر آئی سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم اور ان کے بیٹے کارتی چدمبرم کے گھروں پر چھاپے پڑے ہیں۔ ان دونوں کے خلاف کرپشن سے وابستہ معاملوں میں سی بی آئی کافی عرصے سے جانچ کررہی ہے۔ تھوڑی ہی دیر بعد خبر آئی کے انکم ٹیکس محکمے نے بہار کے سابق وزیر اعلی لالو پرساد یادو کے بے نامی سودوں کا پتہ لگانے کے لئے دہلی اور گوڑ گاؤں میں 20 سے زیادہ جگہوں پر چھاپے مارے ہیں۔ ان چھاپوں کے فوراً بعد پی چدمبرم نے الزام لگایا کہ مرکزی سرکار کے خلاف آواز اٹھانے کے سبب یہ چھاپے مارے گئے ہیں۔ میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ میں بولنا اور لکھنا جاری رکھوں گا۔ ان کے بیٹے کارتک نے کہا کہ میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔ کانگریس نے کہا ان کا یا اپوزیشن کا کوئی بھی لیڈر بدلے اور رقابت کی سیاست کے آگے نہیں جھکے گا۔ پارٹی نے یہ بھی کہا کہ یہ بھاجپا سرکار کی ڈی این اے بن گئی ہے۔ ادھرلالو انکم ٹیکس چھاپوں کے بعد ناراض ہوگئے ہیں۔ انہوں نے ٹوئٹ کرکے کہا کہ بھاجپا کو نئے دوست مبارک ہوں۔ ان کے اس ٹوئٹ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیوں کا دور شروع ہوگیا ہے۔ بہار میں اتحاد خطرے میں ہے۔ حالانکہ لالو نے صاف کیا اتحاد کو کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن سیاسی حلقے محسوس کرتے ہیں کہ اتحاد میں دراڑ گہری ہوچکی ہے اور یہ بھی کہا کہ میں ان چھاپوں سے مرکزی سرکار کی ان حرکتوں سے ڈرنے والا نہیں۔ دراصل یہ کارروائی بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کے اس بیان کے ٹھیک ایک دن بعد ہوئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر لالو کے خلاف شکایت ہے تو اس پر کارروائی کرنے کی ذمہ داری سینٹرل ایجنسیوں کی ہے۔ خبر ہے کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم اور ان کے بیٹے کارتی کے کالے کارناموں کے سارے دستاویز ایک برس پہلے ہی سی بی آئی کو دستیاب کرا دئے تھے۔ مگر کارروائی سی بی آئی کے ڈائریکٹر آلوک ورما کی قیادت میں منگلوار کو کی گئی۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹر نے تو ان دستاویزات کو دیکھا تک نہیں تھا۔ ابھی ایسا تذکرہ ہے کہ سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹر اس معاملے میں سابق وزیر خزانہ چدمبرم اور ان کے خاندان کو بچا رہے تھے۔ اپوزیشن نے اسے بدلے کی کارروائی بتایا تو حکمراں پارٹیوں نے کہا کہ قانون اپنا کام کررہا ہے اور کسی نے بھی غلط کام کیا ہے تو اسے بخشا نہیں جائے گا۔ سیاست کرنے والوں کے اس رخ کو چھوڑدیں تو جنتا کے درمیان ایسے معاملوں میں عام طور پر دو طرح کے رد عمل ہوتے ہیں ایک تو لوگ اسے اچھی طرح سے سمجھتے ہیں کہ سرکاری محکمہ ایسی کارروائی اس کے خلاف کرتے ہیں جو حکمراں گٹھ جوڑ کا حصہ نہیں ہیں، اپوزیشن میں رہ چکے ہیں یا سرکار کے بڑے نکتہ چینی کرنے والے ہیں۔اس کیس میں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ صدارتی چناؤ میں خودساختہ اپوزیشن اتحاد کو توڑنے کیلئے بھی یہ کارروائی ہوئی ہے۔ دوسرے رد عمل میں لوگ مانتے ہیں کہ ایسے معاملوں میں فوری طور پر سنسنی بھلے ہی پھیل جائے لیکن وہ انجام تک نہیں پہنچتی۔ لالو یادو کے خلاف چارہ گھوٹالہ کے معاملے میں انجام تک ضرور پہنچے لیکن اس میں کسی سرکار کی بجائے عدالت کا رول تھا۔ مودی سرکار اگر یہ دکھانا چاہتی ہے کہ قانون سے کوئی نہیں بچ سکتا چاہے وہ کتنا بڑا ہو، کوئی بھی ہو تو یہ اچھی بات ہے، تو اسے چاہئے کہ وہ صرف ان معاملوں کو وقت رہتے انجام تک پہنچانا چاہتی ہے بلکہ بار بار اسے دکھانا ہوگا کہ وہ بدلے کے جذبے سے کام نہیں کررہی ہے۔ بیشک مودی سرکار کی ساکھ بھلے ہی ٹھیک ہو لیکن اس کی جانچ ایجنسیاں جیسے سی بی آئی کی ساکھ اتنی اچھی نہیں ہے۔ پنجرے میں بند طوطے کو ایک آزاد اور غیر منصفانہ ساکھ والی ایجنسی میں بدلا اس دیش کی سب سے بڑی چنوتی ہے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ رابرٹ واڈرا ، بھوپندر سنگھ ہڈا، ویر بھدر سنگھ ، پی چدمبرم و لالو پرساد یادو سب آج کٹہرے میں کھڑے نظر آرہے ہیں؟
(انل نریندر)

اترپردیش کے بگڑتے قانون و نظم کے حالات

اترپردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ سرکاربیشک کئی اچھے کام کررہی ہے لیکن جہاں تک قانون و انتظام کا مسئلہ ہے وہ کنٹرول میں ابھی نہیں آیا ہے۔ چاہے معاملہ متھرا میں دو صرافہ کاروباریوں میک اگروال ،وشواس اگروال کے قتل و چار کروڑ کی لوٹ کا ہو۔ چاہے معاملہ ریاست کے مختلف مقامات پر دلت اور برہمنوں میں لڑائی کا ہو،دونوں ہی انتظامیہ کی کمزور پکڑ کو ظاہر کرتے ہیں۔ لودھا کے گاؤں کیشو پور جادھری میں ایک نالی کے جھگڑے میں برہمن اور دلت آمنے سامنے آگئے۔ برہمنوں نے دلتوں پر حملہ کردیا اور جم کر مارپیٹ اور پتھراؤ ہوا۔ گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ کی گئی۔ اس دوران حملہ آوروں کی طرف سے فائرنگ تک ہوئی۔ پولیس کے سامنے بھی چھتوں پر چڑھ کر فائرننگ ہوتی رہی۔ اترپردیش میں خراب قانون و نظم کو لیکر پریشان وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے اب قانون و نظم خود سنبھالنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب کسی بھی طرح کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ہر حال میں پردیش میں لا اینڈ آرڈر کو پٹری پر لایا جائے گا۔ متھرا میں دو جوہری کاروباریوں کے قتل کو سنگین معاملہ بتاتے ہوئے وزیر اعلی یوگی نے کہا کہ جرائم کو لیکر ذرا بھی برداشت نہ کرنے کی زیرو ٹالیرینس پالیسی اپنائی جائے گی اور جرائم پیشہ کو کوئی سیاسی تحفظ نہیں ملے گا۔ یوگی نے اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران یہ بات کہی۔ اپوزیشن والوں نے متھرا واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاست میں لا اینڈ آرڈر کے حالات پر اسمبلی میں بحث ہونی چاہئے۔ وزیر اعلی نے کہا ذات ، مذہب کے نام پر کوئی امتیاز نہیں برتا جائے گا۔ معاملوں کے نپٹارے کے لئے وقت میعاد طے کی گئی ہے۔ سخت کارروائی کی جائے گی۔یوگی نے اپوزیشن کے لیڈر رام گووند چودھری کی اس بات کا جواب دیا کہ پردیش جل رہا ہے وزیر اعلی نے کہا جو آپ کہہ رہے ہیں ویسا نہیں ہے۔ ساتھ ہی کہا کہ سابقہ سپا حکومت کے دور میں متھرا میں ہوئے جواہر باغ کانڈ کو بھی یاد کرنا چاہئے۔ سہارنپور میں حال ہی میں نسلی تشدد پر یوگی نے کہا اس میں شامل کچھ گروپوں کی پہچان کرلی گئی ہے۔ ایک سیاسی پارٹی کے سابق ممبر اسمبلی کا نام بھی آیا ہے۔ سرکار نے طے کیا ہے کہ جرائم پیشہ سے نمٹتے وقت قواعد میں کوئی لاپرواہی نہیں برتی جائے گی۔ ادھر چودھری نے دعوی کیا کہ آئے دن اترپردیش میںیوگی آدتیہ ناتھ کی سرکار کی آنکھ کے نیچے قتل اور لوٹ و ڈکیتی کے واقعات ہورہے ہیں۔ پردیش میں لا اینڈ آرڈر کے حالات مسلسل خراب ہوتے جارہے ہیں۔ وزیر اعلی یوگی اور ان کی حکومت کے لئے اترپردیش میں بگڑتا لا اینڈ آرڈر ایک بڑی چنوتی ہے۔ امید کی جاتی ہے اس میں جلد بہتری نظر آئے گی۔
(انل نریندر)

18 مئی 2017

کلبھوشن جھادو کیس میں بھارت کی مضبوط گھیرابندی

نیدر لینڈ کی راجدھانی ہیگ میں واقع پیس پیلس کے دی گریٹ ہال آف جسٹس میں ہندوستانی شہری کلبھوشن جھادو کے معاملے میں پیر کو سماعت کے دوران بھارت نے بہت مضبوطی سے اپنا موقف رکھا۔ بھارت نے جھادو کی موت کی سزا پر فوری روک لگانے کی مانگ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اس معاملہ میں نہ صرف ویانا معاہدے کا بلکہ بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔ ہندوستانی وکیل ہریش سالوے نے یہ بھی اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ پاکستان آئی سی جے( انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس) کا فیصلہ آنے سے پہلے ہی کہیں جھادو کو پھانسی نہ دے دیں۔ سالوے نے آئی سی جے سے اپیل کی کہ پاکستان کی فوجی عدالت کے فیصلے کو نامنظور قراردیا جائے و پھانسی کی سزا پر فوری روک لگائی جائے۔ وہیں پاکستان نے دلیل دی کہ بھارت اس معاملے میں آئی سی جے کا سیاسی استعمال کررہا ہے۔ ویانا معاہدے میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث جاسوس کو سفارتی روابط مہیا کرانے کی کوئی سہولت نہیں ہے۔
پاکستان کے وکیل کیو سی خاور قریشی نے کہا کہ بھارت اس معاملہ میں آئی سی جے کا سیاسی استعمال کررہا ہے لیکن آئی سی جے پاکستان کی سلامتی میں دخل نہیں دے سکتی۔ کورٹ کو جھادو کا اقبال جرم ویڈیو سنانا چاہئے۔ یہ ہرجگہ دستیاب ہے۔جھادو ایران کے راستے سے پاکستان میں گھسے تھے۔ جھادو کا قبول نامے کا ویڈیو اس کا پختہ ثبوت ہے۔ پاکستان نے جانچ کی جانکاری بھارت کو بھیجی تھی۔ جھادو کو پاکستان کے بلوچستان سے پکڑا گیاتھا اور بھارت کے ملزم کے ساتھ پاسپورٹ کی ایک کاپی بھی دی گئی تھی، لیکن بھارت نے اس پر کوئی رائے زنی نہیں کی۔اس پاسپورٹ پر جھادو کا دوسرا نام تھا۔ ہم نے بھارت کو جھادو پر درج ایف آئی آر کی کاپی بھی بھیجی اور اس پر جانچ میں شامل ہونے کے لئے بھارت کو بلایا بھی گیا تھا۔ 
پاکستان نے کہا کہ جھادو ،ایران کی سرحد پار کر کے بھارت آئے تھے۔ پاک نے بھارت کی عرضی میں کئی خامیاں گنائیں اور کہا کہ ویانا معاہدہ اس کیس میں لاگو نہیں ہوتا۔ 11 ججوں پر مشتمل بینچ نے فیصلہ محفوظ رکھ دیا اور کہا کہ فیصلہ جلد سنایا جائے گا۔ اس سے پہلے سماعت کے دوران پاکستان نے جھادو کے مبینہ قبولنامہ والے ویڈیو کو سب سے بڑا ثبوت بتاتے ہوئے کورٹ میں اسے چلانا چاہا لیکن عدالت نے اس کی اجازت نہیں دی۔ بھارت نے کورٹ میں اندیشہ ظاہر کیا کہ فیصلہ آنے سے پہلے جھادو کو پھانسی دی جاسکتی ہے لیکن پاکستان نے صاف کیا کہ جھادو کو 150 دن تک پھانسی نہیں دی جائے گی کیونکہ وہ 150 دن میں اپیل کرسکتے ہیں۔ بھارت نے شہری کے طور پر جھادو کے حقوق و پاکستان کی داخلی اور انصاف کو خطرہ مانتے ہوئے پھانسی پر روک لگانے کی مانگ کی۔ کیس کو مضبوطی سے رکھنے کیلئے تین پرانے فیصلے بھی سنائے۔ سب کے حقوق کا احترام ہونا چاہئے۔ جرمنی کے ایک مقدمہ میں 1998ء میں آئی سی جے نے یہی کیا تھا۔ امریکہ کو والٹرنائل کی سزا پر روک لگانے کا حکم دیا تھا۔ پریجوڈس کی بنیاد پر کوئی فیصلہ نہیں لیا جاسکتا۔ میکسیکو کے 44 شہریوں کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔انہیں امریکہ میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔ فن لینڈ اور نیدر لیڈر کے ایک معاملہ میں انصاف کو خطرے کی بنیاد پر آئی سی جے نے نیدر لیڈر کی کورٹ کی کارروائی پر روک لگادی تھی۔ پاکستان میں پہلے بھی ہندوستانی شہریوں کو جیل بھیجا جاتا رہا ہے یا جاسوسی کے الزام میں سزا دی جاتی رہی ہے۔ سربجیت سنگھ کا کیس تو ابھی بھی سب کو یاد ہے۔ 
یہ پہلا موقعہ ہے جب بھارت سرکار نے اپنے ایک شہری کو بچانے کیلئے بین الاقوامی عدالت تک رجوع کیا تھا۔ نیچرل جسٹس بھی تو ہونا چاہئے۔ ہندوستانی بحریہ کے سابق افسر کلبھوشن جھادو کو پاکستان کی فوجی عدالت میں سماعت کے دوران اپنا موقف رکھنے کا بھی موقعہ نہیں دیا گیا اور نہ ہی ان کے خلاف پاکستان کے پاس کوئی پختہ ثبوت ہے۔ جھادو کو بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا یا طالبان کی مدد سے ایران سے اغوا کیا گیا؟ پاک فوجی عدالت نے محض ان کے مبینہ قبولنامہ کی بنیاد پر پھانسی کی سزا سنائی۔ پاکستان کا الزام ہے کہ جھادو ہندوستانی بحریہ کے کمانڈر تھے اور ایران میں جھوٹی پہچان بنا کر پاکستان میں آتنک واد پھیلا رہے تھے۔
پاکستان کے ان الزامات کو بھارت نے مسترد کردیا۔ جھادو بحریہ سے ریٹائر ہوچکے ہیں اور انہیں ایران سے اغوا کیا گیا۔ پاکستان اور بھارت 18 سال بعد پھر بین الاقوامی عدالت میں آمنے سامنے ہیں۔ پاکستان نے بھارت کے ذریعے 10 اگست 1999ء کو اپنا ایک جہاز گرانے کی شکایت کی تھی، تب بھارت میں اٹل جی کی قیادت میں بھاجپا سرکار ہوا کرتی تھی۔ اس بار جب بھارت نے معاملہ اٹھایا ہے دیش میں نریندر مودی کی قیادت میں بھاجپا کی ہی سرکار ہے۔ بار بار بے نقاب ہوتا پاکستان کا چہرہ ایک بار پھر جھوٹ اور نیت میں بے نقاب ہوگا۔ جس طرح 18 سال پہلے اسی عدالت میں وہ جھوٹا ثابت ہوا تھا، اس بار بھی وہ بے نقاب ہوگا اور کلبھوشن جھادو کو انصاف ملے گا۔ ہمیں یقین ہے کہ کلبھوشن جھادو ایک بار پھر اپنے وطن اور اپنے لوگوں کے درمیان واپس لوٹیں گے۔
(انل نریندر)

17 مئی 2017

اور اب روہتک میں بھی نربھیا کانڈ

پانچ سال پہلے دہلی کے وسنت بہار میں نربھیا کانڈ ہواتھا۔ ابھی اس واقعہ کے قصورواروں کو پھانسی پر لٹکایا نہیں جاسکا اور اب روہتک کی پارشو ناتھ سٹی میں سونی پت کی لڑکی سے نربھیا جیسا بے رحمانہ سانحہ ہوگیا۔ یہ واقعہ حیرت زدہ کرنے والا ہے۔ سونی پت کی ایک دلت لڑکی سے نربھیا جیسی اجتماعی آبروریزی و قتل کا معاملہ رونگٹے کھڑے کردینے والا ہے۔ متاثرہ کے پوسٹ مارٹم سے پتہ چلا کہ لڑکی کے کپال کی ہڈی کے کئی ٹکڑے ہوگئے اور ہوسکتا ہے کہ اس کے اگلے پوشیدہ حصے میں کوئی دھار دار چیز ڈالی گئی ہو۔ متاثرہ کی کھوپڑی کی کئی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی ملیں اور ذاتی اعضا پر بھی چوٹ تھی جس کا مطلب ہے لڑکی سے جنسی ٹارچر کیا گیا۔ہریانہ پولیس نے بنیادی ملزم سمت سمیت دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔ سمت خود بھی دلت ہے۔ پولیس نے ایتوار کو کہا کہ متاثرہ کے خاندان کو 6 اور لوگوں کے شامل ہونے کا شبہ ہے۔اس میں سے5 اہم ملزم سے وابستہ ہیں۔ متاثرہ کے رشتے داروں نے الزام لگایا کہ انہوں نے ایک مہینے پہلے اس شکایت کے ساتھ سونی پت پولیس سے رابطہ قائم کیا تھا کہ سمت ان کی لڑکی کو پریشان کررہا ہے لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی جبکہ سونی پت کے پولیس ایس پی اشون رونوی نے کہا کہ کچھ عرصے پہلے لڑکی کی طرف سے پولیس کو ایک زبانی شکایت دی گئی تھی کہ بنیادی ملزم اس سے شادی کرنے کے لئے کہہ رہا ہے۔ وہ ایک زبانی شکایت تھی اور کوئی تحریری شکایت نہیں تھی۔ جنسی تشدد کے معاملہ میں سخت سزا بھی کیا اب لوگوں کو خوفزدہ نہیں کرتی؟ اس لڑکی کا اغوا کر اس کے ساتھ جس طرح سے درندگی کی گئی ہے اس کا قتل ہوا اور پھر پہچان مٹانے کے لئے اس کے جسم کے اعضا کو جس طرح سے نقصان پہنچایا گیا بہ ظلمیت کی ایک دل دہلادینے والی کہانی ہے۔ 21 ویں صدی کا جو سماج بیٹیوں کو پڑھانے اور بچانے کی بات کرتا ہے اسی سماج میں ایسے لوگ بھی ہیں جو جانوروں سے بھی بدتر ہیں اور حیوانیت کی مثال ہیں۔ اس بدقسمت لڑکی کا بس قصور اتنا تھا کہ اس نے ایک لڑکے کو ’نہ ‘ کہہ دیا تھا۔ بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ عورتوں کے خلاف تشدد کے مسلسل بڑھتے واقعات کے باوجود نہ تو سماج میں کوئی خاص تبدیلی آئی ہے اور نہ ہی پولیس انتظامیہ عورتوں کے خلاف ہونے والے جرائم پر کنٹرول کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ ویسے تو عورت کی سکیورٹی کے معاملے میں سبھی جگہ کم و بیش ایک جیسی ہی حالت ہے۔ دہلی، بنگلورو تک عورتیں محفوظ نہیں ہیں لیکن روہتک کا یہ واقعہ اور گوروگرام میں آبروریزی کا دوسرا واقعہ ہریانہ میں عورتوں کی سلامتی کے تئیں انتہائی خراب حالت کو ظاہرکرتا ہے۔
(انل نریندر)

حافظ دہشت پھیلا رہا ہے اور بھارت نے واپس لانے کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا

آخر کار پاکستان نے یہ اعتراف کر ہی لیا ہے کہ جماعت الدعوی اور لشکر طیبہ کا سرغنہ حافظ سعید جہاد کے نام پر دہشت گردی پھیلا رہا ہے۔پاکستان کے وزارت داخلہ نے جوڈیشیل نظرثانی بورڈ کے سامنے کہا ہے کہ ممبئی حملہ کے ماسٹر مائنڈ اور جماعت الدعوی کے سرغنہ حافظ سعید اور اس کے 4 ساتھی جہاد کے نام پر دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ سعید سنیچر کو بورڈ کے سامنے پیش ہوا تھا اس نے کہا پاکستان سرکار نے اسے حراست میں لیا ہوا ہے جس سے وہ کشمیریوں کی آواز اٹھانے بند کردے۔ حالانکہ وزارت داخلہ نے اس کی دلیلوں کو مسترد کردیا اور تین نفری بورڈ سے کہا کہ سعید اور اس کے چار ساتھیوں کو جہاد کے نام پر دہشت گردی پھیلانے کیلئے حراست میں لیا گیا۔ جسٹس اعجاز افضل خاں(سپریم کورٹ) جسٹس عائشہ ۔ اے ملک (لاہور ہائیکورٹ) اور جسٹس کمال خان (بلوچستان ہائی کورٹ) پر مشتمل بورڈ نے وزارت داخلہ کو ہدایت دی کہ وہ سعید اور اس کے چار ساتھیوں کو حراست میں لئے جانے کو لیکر 15 تاریخ کو ہونے والی اگلی سماعت کے دوران پورا ریکارڈ سونپے۔
ادھر پاکستان خود یہ مان رہا ہے کہ حافظ سعید جہاد کے نام پر دہشت پھیلا رہا ہے اور ادھر حکومت ہند نے اب تک نہ تو حافظ سعید اور نہ ہی 1993ء میں ہوئے ممبئی دھماکوں کے معاملے میں مطلوب داؤد ابراہیم کی حوالگی و انہیں بھارت لانے کے بارے میں ان معاملوں کی جانچ کر رہی ایجنسیوں سے کوئی درخواست نہیں ملی یعنی بھارت نے ابھی تک کوئی سرکاری طور پر مانگ نہیں کی جس میں ان دونوں کو بھارت لانے کی درخواست کی گئی ہو۔ اطلاعات کے حق (آر ٹی آئی) کے تحت وزارت داخلہ کے حوالگی سیل کے سی پی وی زون سے یہ اطلاع ملی ہے۔ آر ٹی آئی کے تحت وزارت خارجہ سے جماعت الدعوی کا چیف حافظ سعید اور بھگوڑا مافیا سرغنہ داؤد ابراہیم کو بھارت لانے کے بارے میں کی گئی کارروائی کے بارے میں پوچھا گیا تھا جواب میں کہا گیا بھارت میں ان معاملو ں کی جانچ کررہی ایجنسیوں کی طرف سے محکمہ خارجہ کے حافظ سعید اور داؤد ابراہیم کی حوالگی یا واپسی کو لیکر کوئی درخواست نہیں ملی۔ حالانکہ اس بارے میں ایک سوال کے جواب میں اسی سال اپریل میں وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ داؤد ابھی بھی کراچی میں ہے۔ پچھلے 10 برسوں سے بھارت نے اس کے بارے میں پاکستان کو کئی ڈوزیئر بھیجے ہیں لیکن ہمیں یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ اب ثبوت ہونے کے باوجود بھارت سرکار یا اس کی کسی ایجنسی نے ان دونوں کو بھارت لانے کیلئے کوئی قدم کیوں نہیں اٹھائے؟
(انل نریندر)

16 مئی 2017

اور اب دنیا کا سب سے بڑا سائبر حملہ

جمعہ کو شروع ہوئے سب سے بڑے سائبر حملہ نے دنیا میں کھلبلی مچا دی ہے۔ اس میں رین سمویچر نامی سافٹ ویئر اور وناکرئی وائرس کا استعمال کیا گیا ہے۔ ہیکرس اس کے ذریعے آن لائن زر فدیہ لیکر کمپیوٹر کو اپنے شکنجے سے چھوڑتے ہیں۔100 سے زیادہ دیش جس میں بھارت بھی شامل ہیں ، اس سے متاثر ہوئے۔ ماہرین کا کہنا ہے یہ حملہ امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی سے چرائے ہوئے سائبر ہتھیار ’انٹرنل بلو‘ سے کیا گیا ہے۔ اسے وناکرئی رین سمویچر نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس سائبر حملہ کے بارے میں سب سے پہلے سوئڈن ،برطانیہ اور فرانس میں پتہ چلا۔اس کے بعد اس کا دائرہ اور بڑھتا گیا۔رین سم ویچر سے سافٹ ویچر کے ذریعے ہیکرس کمپیوٹر پر حملہ کرتے ہیں۔ اسے ای میل سے لنک کے ذریعے بھیجا جاتا ہے ۔ لنک پر کلک کرنے پر کمپیوٹر لاک ہوجاتے ہے۔ اسکرین پر ایک ڈائیلاگ باکس کھلتا ہے ،لاک کو کھولنے کے لئے آن لائن پھروتی مانگی جاتی ہے، نہ دینے پر کمپیوٹر ڈاٹا اڑادیا جاتا ہے۔ یہ رین سمویچر کا خاص وائرس ہے۔ جمعہ کو سائبر حملہ کے لئے اسی کا استعمال کیا گیا۔ یہ خاص کر ونڈوز آپریٹنگ سسٹم کو نشانہ بناتا ہے۔ مانا جارہا ہے کہ یہ سائبر حملہ شیڈوبروکرس نامی گروپ نے انجام دیا ہے۔ گروپ نے 14 اپریل کو ہی اس وائرس کی جانکاری آن لائن کردی تھی۔ یہ وہی گروپ ہے جس نے پچھلے سال دعوی کیا تھا کہ اس نے این ایس اے کا سائبر ہتھیار انٹرنل بلو چرالیا ہے۔ دراصل انٹرنل بلو کو امریکی سکیورٹی ایجنسی این ایس اے نے دہشت گردوں اور دشمنوں کے ذریعے استعمال کئے جانے والے کمپیوٹروں میں سیند لگانے کے لئے بنایاتھا۔ امریکہ نے کبھی یہ نہیں قبول کیا کہ شیڈو بروکرس کے ذریعے لیک کیا گیا مال ویئر این ایس اے یا دیگر کسی امریکی خفیہ ایجنسی سے وابستہ ہے۔ مائکروسافٹ کے ترجمان نے بتایا کمپنی حالات سے نمٹنے کے اقدام پر کام کررہی ہے۔ مال ویئر سے بچانے کو آٹومیٹک ونڈو اپ ڈیٹ پش کررہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حملہ کے پیچھے کسی خاص دیش کے بجائے جرائم پیشہ گروہ ہے۔ روس ، چین، یوکرین، تائیوان سے ہیکروں کے گروہ پر شبہ ہے۔ یوروپی فیڈریشن نے ان کی تلاش میں ایک ٹاسک فورس بنائی ہے۔ الزام ہے ان ہیکرس کی خدمات امریکی چناؤ کو متاثر کرنے کے لئے دی جاچکی ہے۔ نظر میں نارتھ کوریا کے ہیکرس بھی ہیں جنہوں نے حا ل ہی میں دعوی کیا تھا دیش کے نیوکلیائی پروگرام کی فنڈنگ کے لئے ان کی نظر 18 دیشوں کے بینکوں پر ہے۔
(انل نریندر)

اگربسپا بکھراؤ کی جانب ہے تو ذمہ دار خود مایاوتی ہیں

سیاست میں پرانی کہاوت ہے کہ نہ کوئی مستقبل دوست ہے اور نہ کوئی مستقل دشمن۔ اگر مستقل ہے تو وہ خود کا مفاد ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بھارت کی سیاست میں کوئی کسی کا سگا نہیں ہوتا اور یہ بات بہوجن سماج پارٹی پر کھری اترتی ہے۔ تقریباً تین دہائیوں سے بہن جی کے قریبی رہے نسیم الدین صدیقی کو باہر کا راستہ دکھا دیا گیا ہے۔ اترپردیش میں اپنی رہی سہی ساکھ بچانے میں لگی بہوجن سماج پارٹی اور اس کی چیف مایاوتی کو کرارا جھٹکا قد آور لیڈر نسیم الدین صدیقی نے اپنے اخراج کے دوسرے دن الزام لگایا کہ مایاوتی کی 50 کروڑ روپے کی مانگ پوری نہ کر پانے پر انہیں پارٹی سے نکالا گیا۔ صدیقی نے یہاں تک کہہ دیا کہ مایاوتی مسلم فرقہ کے تئیں نفرت رکھتی ہیں اور اس وقت پوری پارٹی جنرل سکریٹری ستیش چندر مشرا کی جاگیر بن گئی ہے۔ صدیقی نے پریس کانفرنس کرکے مایاوتی سے بات چیت کے کچھ آڈیو کلپ بھی جاری کئے تھے اور دعوی کیا ان کے پاس ایسی ڈیڑھ سو آڈیو کلپ ہیں جن کے سامنے آنے سے بھونچال آجائے گا۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد مایاوتی نے صدیقی کو ٹیپنگ بلیک میلر بتا کر پلٹ وار کرتے ہوئے کہا کہ اس نے پارٹی کے چندے کی بڑی رقم ڈکار لی ہے۔ فطری ہے کہ اپنے بھروسے مند سے اس طرح کے الزامات اور فون ٹیپنگ کے آڈیو اسٹنگ سے مایاوتی پریشان ہو اٹھیں لیکن بسپا کی فطرت رہی ہے کہ ایسے الزام یا تہمت جھیلنے کی۔ اس لحاظ سے یہ کوئی نیا اور چونکانے والا واقعہ نہیں ہے۔ چار بار اترپردیش کے وزیر اعلی رہیں مایاوتی کے بارے میں اپوزیشن سے زیادہ خود انہی کی پارٹی کے لوگ ایسے الزام لگاتے رہے ہیں۔ دراصل پارٹی کے اندر مالی لین دین اور حساب کتاب کا کبھی کوئی مثالی سسٹم قائم نہیں ہوپایا۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے الزامات کی زد میں مایاوتی آتی رہی ہیں۔ بسپا کا گراف مسلسل گرتا جارہا ہے۔ اترپردیش میں چار بار سرکار بنا چکی اور قومی سطح کی پارٹی رہ چکی بسپا کی درگتی تب شروع ہوئی جب 2014ء کے لوک سبھا چناؤ میں اسے ایک بھی سیٹ نہیں ملی۔ کبھی اکیلے دم پر اکثریت کی سرکار بنا چکی اس پارٹی کی حالت 2017ء کے اسمبلی چناؤ میں اور خستہ ہوگئی جب 403 اسمبلی چناؤ میں صرف اسے 19 سیٹیں ہی ملیں لیکن بسپا کے اندر جو کچھ ہو رہا ہے اس میں کوئی تعجب نہیں ہے۔ یہ پارٹی چیف مایاوتی کے طریقہ کار کا نتیجہ ہے جسے پارٹی کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
80 کی دہائی میں دلت سماج کو یکجا کرکے سورگیہ کانشی رام نے جس بہوجن سماج پارٹی کو بنایا تھا اسے بہت جلد مایاوتی نے اپنے قبضے میں لے لیا۔ اس کے بعد پارٹی میں ابھرتے کسی بھی طاقتور لیڈر کو انہوں نے برداشت نہیں کیا اور ہرکسی کو جب چاہا ،جیسا چاہا استعمال کیا اور اسے قانونی جال میں پھنسنے پر فوراً اس سے پیچھا چھڑا لیا۔ بسپا کی حالت کی ایک وجہ یہ بھی ہے پارٹی میں اندرونی جمہوریت کی زبردست کمی رہی ہے اور اس میں حقیقت میں دوسری لائن کا لیڈر کوئی بھی نہیں ہے لہٰذا پارٹی کی سیاسی سرگرمیاں اور مالی انتظام مایاوتی اور ان کے بھروسے مند ساتھیوں کے آپسی اعتماد سے ہی چلتے ہیں۔نسیم الدین کے خلاف کی گئی کارروائی کے پیچھے ایک بڑی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اسمبلی چناؤ میں 98 مسلم امیدوار اتارکر کی گئی غلطی کو وہ درست کرنا چاہتی ہوں کیونکہ اس سے اسے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ الٹے اس پر مسلم خوش آمدی کا ٹھپہ لگا گیا۔ خود کو پریوار واد کی کٹر مخالف بتانے والی پارٹی چیف کا پچھلے دنوں اپنے بھائی کو قومی نائب پردھان بنانا اس بات کا اشارہ ہے کہ ان کو اب اپنے پر اتنا بھروسہ نہیں رہا۔ظاہر ہے کہ بسپا کا بحران تنظیمی سطح پر اتنا نہیں ہے جتنا اخلاقیات پر ہے۔
(انل نریندر)

14 مئی 2017

نکسلی مسئلہ دہشت گردی سے بڑا و دیش کیلئے چیلنج

مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کے ساتھ حال ہی میں ہوئی نکسلی متاثرہ 10 ریاستوں کے وزرائے اعلی کی میٹنگ میں کئی اہم مسئلوں پر بات چیت ہوئی کچھ بنیادی سوال بھی اٹھے۔برکاپال نکسلی حملہ کے بعد مرکزی وزیر مملکت داخلہ ہنسراج اہیرسکما ضلع کے پولب پلی علاقہ میں پہنچے۔ دو گھنٹے تک جوانوں اور افسروں کے درمیان رہنے کے بعد اخبار نویسوں کو بتایا کہ ضلع میں ہزاروں کی تعداد میں تعینات فورس ہے اس کے باوجود یہاں نکسلی کرتوت بڑھی ہیںیہ باعث تشویش ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ نکسلیوں نے سکما ضلع کے ایک بڑے علاقہ میں اپنا قبضہ جمایا ہوا ہے اور آدی واسیوں کو یرغمال بنا کر انہیں اپنے مطابق زندگی جینے پرمجبور کررہے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے سے یکا یک نکسلی سرگرمیاں تیز ہوئی ہیں۔ خبر ملی ہے کہ نکسلی تنظیموں کو جرمنی ، فرانس ،اٹلی، بلجیم، فلپین ، ہالینڈ اور ترکی جیسے ملکوں سے ماؤوادی تنظیموں سے بھی مدد ملتی ہے۔ بھارت ان دیشوں سے اتنے اچھے رشتوں کا استعمال کرے ایسے عناصر پر نکیل کسنے کو کہے ۔ نکسلیوں کی جڑ پر حملہ کرنے کے لئے بھارت سرکار کو ان ملکوں سے رابطہ قائم کر جو نکسلیوں کو آئیڈیالوجی کی خوراک اور اخلاقی حمایت کرتے ہیں،نکسلیوں کو ہتھیار سپلائی کرنے والے شخص کو تو حال ہی میں گرفتار کیا گیا ہے۔ بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے آل پارٹی میٹنگ میں مرکزی سرکار کی پالیسیوں کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ نکسلی مسئلہ کے سلسلے میں مرکز کا رول صرف جائزہ لینے تک محدود ہے۔ نکسلواد سے لڑنے کے لئے اگر ریاستی حکومتوں کو کوئی پوری حکمت عملی بنانی ہے اور اس کے لئے اپنے وسائل کا استعمال کرنا ہے تو پھر مرکز کا کیا رول رہ جاتا ہے؟ یہ بھی سچ ہے کہ نکسلی متاثرہ ریاستی حکومتیں اپنی اپنی سطح پر فیصلے لیتی ہیں اور اس تشدد سے لڑتی ہیں۔ دراصل اس کے پیچھے ایک سچائی یہ بھی ہے کہ نکسلی مسئلے کو قانون و نظم سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے اور آئینی سسٹم آئین کی فہرست میں ہے لہٰذا ریاستوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ نکسلی مسئلہ پر موثر طریقے پر کنٹرول کریں۔ البتہ اس سسٹم کے رہتے مرکزی سرکار کوئی پختہ کردارنہیں نبھا سکتی اس لئے اس بات پر شبہ کی زیادہ گنجائش ہے کہ یونیفائڈ کمان کا قیام اور مشترکہ حکمت عملی بنانے کی تجویز شاید ہی پروان چڑھ سکے۔ حالانکہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر مرکزی سرکار دیش کی ایکتا اور سرداری کے لئے نکسلواد کو دہشت گردی سے زیادہ بڑا خطرہ مانتی ہے تو اس معاملہ کو ریاستی سرکاروں کے پالے میں ڈالنے کے بجائے سیدھے طور پر مرکز کو اپنے ہاتھوں میں لے لینا چاہئے۔ یونیفائیڈ کمان ، مشترکہ حکمت عملی اور سینٹرل سکیورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے درمیان بہتر تال میل بنانے کی سخت ضرورت ہے اور اسے قانون و نظام کا معاملہ نہ سمجھا جائے۔
(انل نریندر)

جیلوں سے چلتی مافیا و جرائم پیشہ کی سلطنت

بہار میں جیل میں بند مافیہ شہاب الدین کی آر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو سے فون پر ہوئی بات چیت نے بھلے ہی سیاسی دنیا میں کھلبلی مچا دی ہو لیکن یہ مسئلہ صرف بہار تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ دیگر ریاستوں کی جیلوں میں بھی بند مافیا سرغنہ بھی اپنا سامراجیہ جیل کے اندر سے ہی چلاتے ہیں۔ جیلوں میں موبائل فون کا استعمال ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ بیشک جیلوں کے انتظامیہ نے اسے روکنے کے لئے جیمر لگانا شروع کردئے ہیں لیکن جرائم پیشہ نے اس کی بھی کاٹ نکال لی ہے۔ یہ جیمر 4 جی نیٹ ورک کے لئے کارگر نہیں ثابت ہوسکے۔ آپ اترپردیش کی ہی مثال لے لیجئے۔مافیا ڈان مختار انصاری ہوں یا اس کا مخالف برجیش سنگھ، منا بجرنگی ہو یا سبھاش ٹھاکر یا دوسرے جرائم پیشہ افراد سلاخوں کے پیچھے سے ان کی حکومت چلتی ہے۔ 
سیاست کے گٹھ جوڑ سے لیکر سرکاری ٹھیکوں میں بھی دخل اور دشمنوں سے نمٹنے کیلئے سارے پلان جیل کے اندر ہی تیار ہوتے ہیں اور باہر ان کے گرگے ان پر عمل کرتے ہیں۔ بڑے مافیا جیل کے اندر سے فون کا سب سے زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ریلوے ، سنچائی اور پی ڈبلیو ڈی میں ٹھیکوں کے لئے ان کا استعمال ہوتا ہے ساتھ ہی رنگداری نہ دینے والے کاروباریوں کو سبق سکھانے کے لئے جیل سے ہی اپنے شوٹروں کو ہدایت دیتے ہیں۔ کارروائی کا جہاں تک سوال ہے یہ تو بس برائے نام خانہ پوری ہوتی ہے۔ ایس ٹی ایف کے ایک ذرائع کا کہنا ہے کہ جیلوں میں جیمر کے باوجود جرائم پیشہ 4 جی نیٹ ورک کے سہارے ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ سہولت کا فائدہ لیتے ہوئے وائس اوور انٹرنیٹ پروٹوکول یا واٹس اپ کال کا استعمال کررہے ہیں جسے فیس کرنا تھوڑا مشکل ہوتا ہے۔پچھلے سال دسمبر میں لکھنؤ جیل میں جیمر لگائے جانے کی کارروائی شروع ہوئی تو مختار انصاری نے جیمر لگانے والی کمپنی اور اس کے ٹکنیشینوں کو فون پر انجام بھگتنے کی دھمکی دے ڈالی۔ بعد میں جیل محکمہ نے مقامی پولیس کی مدد سے جیل میں جیمر لگوایا اور جیمر لگوانے والے انجینئر کو کچھ دنوں کے لئے یوپی سے باہر رہنے کی زبانی ہدایت بھی دے دی۔
سرکار بدلنے پر مختار انصاری، منا بجرنگی سے لیکر 40 سے زیادہ چھوٹے بڑے جرائم پیشہ کو دوسری جیلوں میں شفٹ کیا گیا۔ اے ڈی جیل ، جی ایف مینا کہتا ہیں کہ جرائم پیشہ افراد کے ذریعے موبائل کے استعمال پر پوری طرح روک لگانے کے لئے کارروائی کی جارہی ہے۔ کافی حد تک لگام بھی لگی ہے۔ سبھی جیلوں میں جیمر لگائے جارہے ہیں۔ مشکل یہ بھی ہے کہ یہ مافیا جیل میں تعینات پولیس ملازمین کو بھی انجام بھگتنے کی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...