Translater
24 ستمبر 2022
آخر یہ ساجد میر کون ہیں؟
اقوام متحدہ میں بھارت اور چین ایک بار پھر آمنے سامنے ٹکرائے اور اشو تھا 2008کے ممبئی حملوں کے اہم ملزموں میں شامل لشکر طیبہ کے کٹر پسند ساجد میر کو بلیک لسٹ کرنا در اصل امریکہ اقوام متحدہ میں ساجد میر کو بین الاقوامی دہشت گرد ڈکلیئر کرنے کی تجویز لایا تھا اور بھارت نے بھی اس کی حمایت کی تھی لیکن چین نے اپنے ویٹو پاور کا استعمال کرتے ہوئے اس تجویز پر روک لگوا دی ۔ تجویز کے تحت میر کو اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کی 1267القاعدہ پابندی کمیٹی تحت بین الاقوامی دہشت گر ڈکلیئر کیا جا نا تھا ۔ بھار ت اور امریکہ کی کوشش تھی کہ ساجد میر کے غیر ملکی دوروں پر پابندی لگائی جائے اور ان کے اثاثے ضبط کئے جائیں لیکن ایسا کرنے کیلئے سیکورٹی کونسل کی پابندی کمیٹی کے سبھی 15ممبران کا متفق ہونا ضروری ہے ۔پچھلے چار مہینوں میں یہ چو تھا موقع ہے جب چین نے ایسا قدم اٹھایا ہے ۔پچھلے مہینے ہی پاکستان کے متنازعہ مذہبی پیشوا مولانا مسعود اظہر کے بھائی عبدالرو¿ف اصغر جرم میں پاکستان کی دہشت گر انسداد عدالت نے ساجد میر کو آتنکی فنڈنگ معاملے میں 15سال جیل کی سزا سنائی تھی وہ ان دنوں پاکستان کے جیل میں بند ہے ۔ میر کو لیکر پاکستان کے رویہ پر سوال اٹھتے رہے ہیں کہ پاکستان کے حکام نے دسمبر 2021میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ ساجد میر کی موت ہوچکی ہے لیکن امریکہ سمیت مغربی ملکوں نے پاکستان کی بات پر یقین نہیں کیا تھا اور پاکستان کو کہا تھا کہ ساجد میر کے موت کی پختہ ثبوت پیش کر نا چاہئے ۔ امریکی وزارت خارجہ کے مطابق ساجد میر سال2001سے لشکر طیبیہ کا سینئر ممبر ہے اور 26نومبر 2008کی رات سمند ر کے راستے جو بندوق تھی ممبئی پر حملہ کرنے آئے تھے انہیں فون پر کراچی میں لشکر کے ایک اڈے سے گائڈ کرنے والے تین ہینڈلروں میں ساجد میر آگے آگے تھا۔ امریکی -پاکستانی ڈیوڈ کول مین ہیڈلی نے ممبئی حملوں کا پلان بنانے میں لشکر طیبہ اور آئی ایس آئی کے شامل ہونے کا دعویٰ کیا تھا اس کے پہلے ہیڈلی نے امریکہ کی جیل میں ہندوستان کی قومی جانچ رسا ایجنسی این آئی اے 2010میں بیان دیا تھا ۔خفیہ حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ساجد میر نے اپریل 2005سے کرکٹ منتظم کے طور پر بھارت میں انٹری لی تھی تب میر نے دہرہ دون کی انڈین ملیٹری اکیڈمی اور دہلی میں نیشنل ڈیفنس کالج کی ٹوہ بھی لی تھی۔
(انل نریندر)
راہل گاندھی کا انکار:چناو ¿ طے !
کانگریس صدر کا عہدہ نہ سنبھالنے کے راہل گاندھی کے اشارے کے بعد دیش کی سب سے پرانی پارٹی کے سپریم عہدے کیلئے اب چناو¿ مقابلہ ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے ۔ پارٹی کے کچھ سینئر لیڈر بھلے چناو¿ اتفاق رائے پر زور دے رہے ہوں لیکن ایک طرف ششی تھرور نے سونیا گاندھی سے مل کر پارٹی صدر کا چناو¿ لڑنے کی اپنی خواہش جتائی ہو دوسری طرف راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت کے بھی چناوی میدان میں اتر کے اشارے مل رہے ہیں۔ کچھ اور نیتاو¿ں کے بھی چناو¿ لڑنے کے امکان سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ راہل گاندھی تمام اپیلوں اور دباو¿ کے باوجود صدر چناو¿ نہیں لڑنا چاہتے اس کے پیچھے کئی وجاہات ہیں راہل گاندھی نے سال 2019کے لوک سبھا چناو¿ میں ہار کی ذمہ داری لیتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس کے بعد سے انہوں نے پبلک اسٹیج سے اپنا رخ بدلنے کی بات نہیں ہے۔ ایسے میں وہ صدر بنتے ہیں تو یہ ان کے قول و فعل میں فرق کے طور پر دیکھا جائے گا۔ حالاں کہ موجودہ سیاست میں یہ عام بات ہو گئی ہے ۔پارٹی صدر کی ذمہ داری نہ لینے کو راہل گاندھی سال 2024کے لوک سبھا چناو¿ حکمت عملی سے جوڑ کر بھی دیکھا جا رہا ہے ۔ کانگریس لیڈر مانتے ہیں کہ کئی اپوزیشن پارٹیاں ان کی لیڈر شپ متفق نہیں ہوں گی ۔ پارٹی کا کوئی اور سینئر لیڈر عہدہ سنبھالتا ہے تو اپوزیشن اتحاد کا امکان بڑھ جائےگا اس کے ساتھ پارٹی کو متحدہ رکھنے میں بھی مدد ملے گی ۔پازیٹیو پیغام دینے کوشش:کانگریس کے اندر گاندھی خاندان سے باہر کے کسی لیڈر کو پارٹی صدر بنانے کی مانگ کافی دنوں سے اٹھتی رہی ہے پارٹی کے باغیوں میں آنند شرما کہہ چکے ہیں کہ کانگریس کو گاندھی خاندان سے باہر بھی سوچنے کی ضرورت ہے ایسے میں راہل گاندھی خاندان سے باہر کسی لیڈر کو صدر بنانے کا مو قع ملتا ہے تواس سے پارٹی کے اندر و باہر پازیٹوسندیش جائےگا ۔ راہل گاندھی تنظیم میں جواب دہی طے کرنے ساتھ خاندانواد کے الزامات سے بھی پارٹی کو نجا ت دلانا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی سمیت بھاجپا کے تمام سرکردہ لیڈوں نے کانگریس پر کنبہ پرستی کا الزام لگایا ہے ۔پارٹی کے ایک نیتا نے کہا کہ راہل گاندھی صدر کا عہدہ سنبھال کر بھاجپا کو پھر سے اشو نہیں دینا چاہتے حالاںکہ ان پر صدر بننے کیلئے دباو¿ بنا ہوا ہے ۔ در اصل بھارت جوڑو یاترا کو بھاری حمایت مل رہی ہے اور راہل کی عوام میں ساکھ بڑھ رہی ہے ۔یوں کہا جائے کہ راہل گاندی صدر کے عہدے سے اوپر اٹھ چکے ہیں وہ بھلے ہی صدر نہ بنیں لیکن ان کی اپنی اہمیت ہوگی ۔ راہل گاندھی کے انکار سے 2024کے لو ک سبھا چناو¿ کیلئے اپوزیشن اتحاد کو بھی تقویت ملے گی ۔ ہماری رائے میں راہل گاندھی ٹھیک کر رہے ہیں ۔ان کو صدر کا چناو¿ نہیں لڑنا چاہئے ۔
(انل نریندر)
22 ستمبر 2022
عورتوں نے حجاب اتارے !
ایران میں حجاب سے وابسطہ تنازعہ اتور کو مزید بڑھ گیا ۔ اس شیعہ ملک میں حجاب پر بڑھتی جا رہی کٹر تا کے خلا ف احتجاج میں سیکڑوں عورتیں اتوار کے روز دیش کے مغربی حصے میں سڑکوں پر اتر آئیں اور انہوں نے احتجاجی مظاہرے میں اپنے حجاب کو اتار کر پھینک دیا اور سرکاری مخالف نعرے لگائے ۔ اس کا ویڈیو دنیا میں بھر میں وائرل ہونے پر بحث چھڑ گئی ۔ مظاہرے کی خاص وجہ تھی کہ ایک 22سالہ لڑکی کی موت سے یہ عورتیں غصے میں تھیں ۔لڑکی مہسا مغربی ایران کے ساکیز کی باشندہ تھی اور وہ اپنے گھر والوں سے ملنے 13ستمبر کو راجدھانی تہران آئی تھی اور وہ حجاب کے خلاف تھی اس لئے انہوں نے اسے نہیں پہنا ۔ پولیس نے مہسا کو گرفتار کرلیا اور گرفتار کے تین دن بعد 16ستمبر کو اس کی موت ہوگئی۔ الزام یہ ہے کہ لڑکی مہسا کو پولیس کی گاڑی میں بے رحمی سے پیٹا گیا لیکن گھر والوں کو بتایا گیا کہ مہسا کو دل کا دورہ پڑا تھا اور اس کو آئی سی یو رکھا گیا ۔ ایرانی پولیس نے پیٹائی کے الزامات سے انکار کیا ایران میں پبلک مقامات پر حجاب پہننا ضروری ہے اور اس کو اتار نا وہاں جرم ہے اور اس کی خلاف ورزی پر گرفتار ی ہوتی ہے ۔ ایران کے کٹر پسند صدر ابراہیم رئیسی نے وزارت داخلہ سے کہا کہ وہ لڑکی مہسا کی موت معاملے میں جانچ کرائے ۔مہسا امینی کی آخری رسوم پر اسے انصاف دلانے کی کوششیں تیز ہو گئی تھی ۔کردستان میں جگہ جگہ اس لڑکی کی موت کے بعد احتجاجی مظاہرے جاری ہیں ۔
(انل نریندر )
بھاجپا کو نئے سرے سے کھڑا کرنا !
طویل عرصے سے اتحاد کی سیاست کے چلتے پنجاب میں کمزور پڑی بھاجپا کو مضبوط کرنے کی کوشش شروع ہو گئی ہے ۔ سرحدی ریاست ہونے سے پنجا ب ڈپلومیسی ،فوجی ،اور سیاسی تینوں نظریے سے کافی اہم ریاست ہے ۔پورے شمالی بھارت میں پنجاب ہی ایک ایسی ریاست ہے جو بھاجپا کی پہنچ سے کافی نظر آ رہی ہے ۔ ایسے میں وہ ریاست میں اپنی بنیاد تیار کرنے اور اس کے بعد چناو¿ مہم کی حکمت عملی پر کام کرے گی۔ بھاجپا لیڈر شپ نے اپنی مہم کا کمان گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ اور پنجاب کے بھاجپا انجارچ وجے روپانی کو سونپی ہے ۔ موجودہ سیاسی پس منظرمیں نارتھ انڈیا میں پنجاب ہی بھاجپا کی سب سے کمزور کڑی ہے کافی عرصے تک اکالی دل کے ساتھ اتحاد میں رہنے کے سبب بھاجپا یہاں پر کبھی بھی ٹھیک طرح سے کام نہیں کر پائی ہے ۔لوک سبھا چناو¿ میں بھاجپا اور اکالی دل کا اتحاد تھا تب ریاست میں حکمراں کانگریس نے 13میں سے 8سیٹیں جیتی تھی ۔جبکہ بھاجپا اکالی اتحاد کو لوک سبھا کی 4سیٹیں ہی مل پائی تھی ۔اکالی دل کو 27.76فیصدی ووٹ اور بھاجپا کو 9.63فیصدووٹ ملے تھے روپانی پنجا ب کیلئے اس لئے بھی اہم ہیں کیوں کہ وہ مودی اور شاہ کی حکمت عملی کو اچھی طرح سمجھتے ہیں ۔ غور طلب ہے کہ نریندر مودی نے ریاست میں تنظیم کا کام کرتے ہوئے چار اہم منتر دئے تھے ۔ ان میں پگ میں مکر یعنی لگاتار سرگرم رہو،جیو میں راو¿کر اس کی اچھی بات کرو سرپر برف یعنی ٹھنڈ ے دماغ سے کام کرو اب پارٹی انہیں منتروں کو پنجاب میں آزمائے گی۔
(انل نریندر)
مدرسوں کا سروے صحیح قدم !
اترپردیش کے سہارن پور ضلع میں واقع اسلامک ادارہ دارالعلوم میں اتوار کو منعقدہ اجلا س میں اپنا نظریہ واضح کرتے ہوئے ریاست کی یوگی آدتیہ ناتھ سرکار کے ذریعے غیر منظور شدہ مدرسوں کے سروے کرانے کے فیصلے کی تعریف کی ۔ جمعیت علماءہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے سرکار کے ذریعے کرائے جا رہے مدرسوں کے سروے کو لیکر کسی کو اعتراض نہیں ہے ۔اور اپنا موقف صاف کردیا اتوار کے روز دیوبند کی مشہور مسجد رشید یہ میں منعقدہ کانفرنس میں دارالعلوم دیوبند میں اترپردیش کے مختلف مدرسوں سے آئے منتظمین علماءنے حصہ لیا۔اجلاس میں ریاست کے 250سے زیادہ مدرسوں کے منتظمین و مہتمم شامل ہوئے اجلاس کے بعد اخباری نمائندہ سے بات چیت میں مولانا ارشد مدنی نے کہ کہ ہم سرکا رے فیصلے کی تعریف کرتے ہیں ۔ ابھی تک سروے سے جو تصویر سامنے آئی ہے وہ صحیح ہے ۔ مدنی نے مدرسوں کے منتظمین سے اپیل کی کہ وہ سروے میں اپنا تعاون دیں ۔ چوںکہ مدرسے کے اندر کچھ بھی پوشیدہ نہیں ہے ان کے دروازے سب کے لئے ہمیشہ کھلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مدرسے دیش کے نظام کے حساب سے چلتے ہیں اس لئے اتر پردیش سرکار کے ذریعے کرائے جا رہے سروںمیں تعاون کرتے ہوئے مکمل اور صحیح جانکاری دیں ۔ مولانا نے کہا کہ مدرسہ منتظمین اپنے دستاویزات اور زمین کے کاغذات مکمل رکھیں ۔اور وہاں کا اوڈٹ صاف صفائی اور بچوں کے صحت اور رہن سہن پر خاص دھیان دیں ۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مدرسہ دیش کے آئین کے خلاف نہیں ہے ۔اگر کوئی ایک مدرسہ ٹھیک ٹھاک طریقے سے کام نہیں کررہا ہے تو اس کیلئے پورے مدرسے نظام پر الزام نہیں لگائے جانے چاہئے ۔ اگر کسی سرکار زمین پر کوئی مدرسہ بنا ہے تو اسے خود ہی ہٹوا دیا جانا چاہئے ۔ساتھ ہی کہا کہ اکا دکا مدرسوں کے طریقہ کار کا دیکھ کر پوری مدرسہ مشینری پر الزام نہیں لگایا جا سکتا۔جہاں تک عدالت کے ذریعے کسی مدرسے کو ناجائز قرار دیا جاتا ہے تو خود ہی اسے ہٹالیں چوںکہ شریعت اس کی اجازت نہیں دیتی ۔مولانا مدنی نے کہا کہ دارالعلوم نے اب اپنا رخ بدل لیا ہے اب اس کا مقصد مذہب کی حفاظت کرنا ہے ساتھ ہی طلبہ کو انجینئر ،وکیل اور ڈاکٹر بناکر بھیجنا ہے کہ کس طرح قوم کو بہتر بیرسٹر ،پروفیسر اور انجینئروں کی ضرورت ہے ٹھیک اسی طرح بہتر سے بہتر مفتی اور عالم دین کی ضرورت ہے ۔ ہمارے ملک میںلاکھوں مساجد ہیں ہر مسجد کیلئے امام کی ضرورت ہوتی ہے ۔
(انل نریندر)
20 ستمبر 2022
نشانے پر سلمان خان!
کانگریس لیڈر و پنجابی گلو کار سدھو موسے والا کے قتل سے پہلے آتنکی تنظیموں سے گٹھ جوڑ کرنے والے خطرناک بد معاش سرغنہ گولڈی براڈ و لورینس بشنوئی گروہ کے شوٹروں نے فلم اداکار سلمان خان کو مارنے کیلئے بھی سازش رچی تھی۔ ممبئی کے پنویل علاقے میں سلمان خان کے فارم ہاو¿س کے قریب تین شوٹروں نے فرضی نام سے کرائے پر کمرہ بھی لے لیا تھا ۔ اور انہوں نے علاقے میں ڈیڑھ مہینے تک رہ کر سلمان کے آنے جانے پر نظر رکھی تھی ۔ دہلی پولیس نے اداکار سلمان خان کو جان سے مارنے کی سازش کا جمعرات کے روز سنسنی خیز انکشاف کیا ۔پولیس کے دعوے کی مطابق لورینس وشنوئی کے غنڈوں نے سلمان کو مارنے کیلئے ان کے فارم ہاو¿س کے گارڈ سے دوستی کرنے کی کوشش بھی تھی۔ دہلی پولیس اسپیشل سیل کے اسپیشل کمشنر ایچ جی ایس دھالیوال نے بتایا کہ گروہ کے غنڈوں نے خود کو سلمان کا فین بتاکر ان کے بارے میں جانکاری لی تھی تاکہ صحیح موقع دیکھ کر ان کو مار سکیں ۔انہوں نے پتا لگایا تھا کہ فارم ہاو¿س کے باہر سلمان کی کار کتنی رفتار سے اند ر باہر آتی ہے اور سڑک پر کہاں گڈھے ہیں ۔ موسے والا کے قتل سے پہلے گروہ نے اداکار کو مارنے کا پورا پلان تیار کرلیا تھا۔گینگ کو کپل پنڈیتا،سنتوش جادو ،سچن بشنوئی نے پنویل میں کمرہ کرائے پے دلوایا تھا اور اس گینگ کے کوگ ڈیڑ ھ مہینے تک روکے تھے لیکن اچانک موسے والا کے قتل کے انجام دینا کا حکم ملنے پر پلان بدل گیا ۔ گولڈی اور لورینس نے آپریشن سلمان کا نام سلمان بی دیا تھا ۔موسے والا قتل کی گتھی کو سلجھانے میں لگی پولیس کی اسپیشل سیل کے چیف نے خاص بات چیت میں اس معاملے کا پر دہ فاش کیا اسپیشل سیل کے مطابق کینیڈا میں مقیم گولیڈی اور تہاڑ میں بند لورینس نے موسے والا کے قتل سے پہلے سلمان کو مارنے کا پلان بی تیار کیا تھا اور سلمان پر حملہ کرنے کےلئے شوٹروں نے چھوٹے بڑے غیر ملکی ہتھیار اور کارتوس کا بھی انتظام کیا تھا ۔ شوٹروں کو یہ پتا کہ کہ ہٹ اینڈر رن کیس میں پھنسنے کے بعد سلمان کے قافلوں کی گاڑیوں کی رفتار دھیمی رہتی ہے اسی دوران حملہ کرنے کی سازش رچی گئی تھی۔ اور دوبار شوٹروں نے سلمان خان پر حملہ کرنے کی کوشش بھی تھی لیکن وہ چوک گئے تھے موسے والا کے قتل کے کچھ دن بعد شوٹروں نے سلمان کے والد سلیم خان کو دھمکی بھرا خط بھیجا تھا اس کے بعد سلمان خان کی سیکورٹی بڑھانا ضروری سمجھا گیا ۔اس کا مطلب ہے کہ وہ ان بد معاشوں کے نشانے پر ہیں ان کے پرائیویٹ سیکورٹی گارڈوں کو بھی چوکس رہنا ہوگا کیا اس کا مطلب یہ نکالا جائے کہ اب ان بد معاشوں کی نظرین بالی ووڈ ستاروں پر بھی ہیں۔
(انل نریندر)
اپوزیشن ایکتا کا ہوگا امتحان!
مودی سرکار کے خلاف اپوزیشن کو متحد کرنے کی جاری کوشش کے درمیان ہریانہ کی سرزمین پر اپوزیشن ایکتا کا امتحا ن ہو گا۔ کوششوں سے مل رہے اشاروں کے مطابق یہ غیر کانگریسی اپوزیشن کا محاذ بنے گا لیکن غیر کانگریسی پارٹیوں میں بھی الگ الگ رائے درمیان ریلی کی اصلی تصویر کو لیکر کئی طرح کی قیاس آرائیاں ہیں۔ انڈین نیشنل لوک دل کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نتیش کمار ،شردپوار جیسے نیتا چودھری دیوی لال کی جینتی پر ہونےوالے پروگرام کو مرکزی سرکار کے خلاف بڑی مورچہ بندی کی شکل میں تیار کرنے کا مشورہ اوم پرکاش چوٹالہ دے چکے ہیں لیکن انڈین نیشنل لوک دل کو ہریانہ میں کانگریس اور عام آدمی پارٹی کو لیکر اپنی ہچکچاہٹ ہے ۔غور طلب ہے کہ انڈین نیشنل لوک دل چودھری دیوی لال کی جینتی پر 25ستمبر کو فتح آباد میں پروگرام منعقد کرنے جا رہی ہے اس کو ان لو سمان دیوس کی شکل میں مناتی ہے اس جینتی پر پارٹی میں بھاجپا مخالف کئی پارٹیوں کو ایک اسٹیج پر لانے کی کوشش کی ہے۔ پروگرام میں شرد پوار اور نتیش کمار کا آنا طے مانا جا رہاہے ۔لیکن ممتا بینر جی نے اپنے پتے نہیں کھولے ہیں ۔ کے سی آر کے موقف پر سب کی نظریں لگی ہیں فی الحال ممتا بنرجی کو بھی اس اسٹیج پر لانے کی پوری کوشش ہو رہی ہے جس سے بڑا سندیش جائے ۔ عام آدمی پارٹی کو لیکر پوزیشن صا ف نہیں ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی کچھ پارٹیاں اس پروگرام سے مختلف وجوہات سے دور رہ سکتی ہیں ۔ پچھلے دنوں انڈین نیشنل لوک دل کے چیف اوم پرکاش چوٹالہ نے گوروگرام میں بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے ساتھ ملاقات کی تھی حالاں کہ چوٹالہ خاندان میں خاندانی پھوٹ کی وجہ سے ہر یانہ میں چوٹالہ کی پارٹی اپنا مضبوط جن آدھار کھو رہی ہے اور پارٹی 90اسمبلی سیٹوں میں سے صر ف ایک ہی سیٹ پر سمٹ گئی ہے ۔ اپوزیشن ایکتا کا پہیہ بن کر چوٹالہ اپنے ووٹ بینک کو واپس لانے کی مہم کے ساتھ لوک سبھا چناو¿ کے لحاظ سے بڑی مورچہ بندی کے تحت نتیش اور پوار جیسے لیڈروں کو اپنے ساتھ کھڑے ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ سمان ریلی کیلئے ان دونوں نیتاو¿ں کے علاوہ نیشنل کانفرنس کے فاروق عبداللہ آندھر ا پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ چندر بابو نائیڈو بہار کے نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو اور سابق وزیر اعلیٰ ملائم سنگھ یادو اور سکھ بیر سنگھ بادل ،شرد یادو ،سپا کے نیتا کے سی تیاگی سمیت دیگر لیڈروں کو بھی ریلی کیلئے دعوت دی جا رہی ہے ۔پچھلے کئی برسوں میں یہ پہلا موقع ہو گا جس میں دیش بھر غیر بھاجپا غیر کانگریسی نیتا ایک اسٹیج پر ہوں گے ۔ 87سالہ بزرگ لیڈر چودھری اوم پرکاش چوٹالہ اپنی مہم میں کتنا کامیاب ہوں گے یہ تو وقت بتائے گا۔ لیکن یہ اسٹیج پوری اپوزیشن ایکتا کا سندیش دینے کے بجائے تیسرا مورچہ جیسی کوشش ثابت ہو سکتا ہے ۔
(انل نریندر)
18 ستمبر 2022
چناو ¿ لڑنے کا حق اخلاقی نہیں ہے !
سپریم کورٹ نے راجیہ سبھا چناو¿ کیلئے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کے مسئلے پر ایک عرضی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چناو¿ لڑنے کا حق نہ تو اخلاقی ہے اور نہ ہی کامن لاءکا اختیار ہے ۔کامن لاءکا اختیار شخصی حق ہے جو جج کے ذریعے بنائے گئے قانون سے آتے ہیں ناکہ کھانا پوری کی شکل سے آئین سازیہ کے ذریعے پاس قانون نہیں ہوتے اس کے ساتھ ہی عدالت نے عرضی گزار پر ایک لاکھ روپے کاجرمانہ بھی لگا دیا ۔عدالت کا کہنا تھا کہ کوئی شخص دعویٰ نہیں کر سکتا ہے کہ اسے چناو¿ لڑنے کاحق ہے ۔اس نے کہا عوام نمائندگان قانون 1950( چناو¿ ضابطہ قواعد، 1961کیساتھ پڑھیں ) میں کہا گیا ہے کہ پرچہ نامزدگی داخل کرتے وقت امیدوار کے نام کی تجویز کی جانی چاہیے ۔جسٹس ہیمنت گپتا اور جسٹس سدھانشو دھلیا کی بنچ نے دہلی ہائی کورٹ کے 10جون کے ایک حکم کو چیلنج کرنے والی ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے یہ حکم دیا ۔دہلی ہائی کورٹ نے راجیہ سبھا چناو¿ 2022کے لئے اپنا پرچہ داخل کرنے کیلئے عرضی گزار کی امیدواری طے کرنے سے متعلق ایک عرضی کو خارج کر دیا تھا ۔عرضی گزار کا کہنا تھا کہ قانون 2022سے ایک اگست 2022 کے درمیان ریٹائر ہونے سے راجیہ سبھا ممبران کی شیٹ پر کرنے کے لئے چناو¿ کی خاطر 12 مئی 2022کو نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا ۔نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 31مئی تھی ۔عرضی گزار نے کہا کہ انہوں نے نامزدگی لی تھی ۔لیکن ان کے نام تجویز کرنے والے مناسب تجویز کردہ کے بغیر نامزدگی داخل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔عرضی گزار نے دعویٰ کیا نومینیشن کے بغیر ان کی امیدواری قبول نہیں کی گئی ۔جس سے ان کی تقریر اور اظہار رائے آزادی کے اخلاقی حق اور شخصی آزادی کے حق کی خلاف ورزی ہوئی تھی ۔سپریم کورٹ نے ایک لاکھ روپے کا جرمانہ لگاتے ہوئے عرضی کو خارج کر دیا اور کہا کہ چار ہفتے کے اندر سپریم کورٹ قانونی مدد کمیٹی کو جرمانہ کی ادائیگی کرے ۔
(انل نریندر)
بیگو سرائے میں 11لوگوں کو گولی ماری !
بہار کے بیگو سرائے میں اندھا دھند فائرن کے معاملے میں پولیس نے نیا خلاصہ کیا ہے ۔بتایا جا رہاہے کہ جرائم پیشہ قریب 10کلو میٹر تک ہائی وے پر فائرنگ کرتے گئے ۔بیگو سرائے سے ایس پی یوگیندر کمار نے بتایا کہ اب تک ہوئی تفتیش میں اس بات کے صاف اشارے ہیں کہ اس واقعہ کو انجام دینے والے ایک بائیک سوار دو لوگ نہیںبلکہ چار لوگ تھے ۔جرائم پیشہ افراد ابھی گرفت سے باہر ہیں ۔پولیس کے ہاتھ ایک سی آئی او پی کے قریب بن رہے ریل اوور برج کے قریب لگے سی سی ٹی وی کافوٹیج دیکھا گیا ۔اس میں ایک بائیک پر سوار دو مشتبہ ملزمان کے چہرے صاف دکھائی دے رہے ہیں ۔ایس پی نے انٹر نیٹ میڈیا پر یہ فوٹو جاری سراغ دینے والے کو 50ہزار روپے دینے کا اعلان کیا ہے ۔وزیراعلیٰ نتیش کمار نے بتایا کہ یہ جان بوجھ کر کیا گیا کانڈ ہے ۔جہاں پر یہ واقعہ ہوا ہے وہاں ایک طرف پسماندہ برادری کے لوگ تھے تو دوسری اقلیتی سماج کے لوگ تھے ۔اس واقعہ کی پولیس ہر پہلو سے جانچ کر رہی ہے ۔بتا دیں منگل کی شام 5بجے بیگو سرائے میں دو بائیک سوار بدمعاشوں نے پانچ جگہ پر فائرنگ کی اور 12لوگوں پر گولی چلائی گئی اس میں ایک کی موت ہو گئی ۔اے ڈی جی ہیڈ کوارٹر جتیندر سنگھ گنگوار نے بتایا کہ اس معاملے میں پولیس گشتی ٹیم کے ساتھ عہدیدار ونو ملازمین کو فوراً معطل کر دیا گیا ۔واردات کو انجام دینے والے سبھی نوجوان لگ رہے تھے ۔پورے معاملے کی جانچ کرنے کے لئے چار ٹیمیں بنائی گئی ہیں ۔ایس پی نے بتایا کہ فوٹیج سے کئی تصویریں نکالی گئی ہیں جنہیں آس پاس کے ضلعوں میں بھی پہچان کے لئے بھیجا گیا ہے ۔نتیش کمار کا کہنا ہے کہ ضلع کے سبھی تھانہ علاقوں میں نقابہ بندی کر دی گئی ہے ضلع کے بارڈر کو بھی بند کر دیا گیا ہے ۔اس معاملے میں پانچ لوگ حراست میں لئے گئے ہیں ۔اور جانچ جاری ہے ۔بھاجپا نے اس معاملے پر تلخ رد عمل ظاہر کیا ہے ۔پارٹی لیڈر روی شنکر پرساد نے بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار پر طنزکرتے ہوئے کہا جس طرح کھلے عام فائرنگ میں ایک شخص کی جان گئی اور کئی زخمی ہوئے ان کے وزیرقبول کررہے ہیں وہ چوروں کے ہمدرد ہیں ۔اس کے بعد تو انہیں سوشاشن بابو کا طمغہ چھوڑ دینا چاہیے ۔بہار میں جے ڈی یو اور آر جے ڈی اتحاد کی سرکار بننے کے بعد سے بھاجپا جنگل راج کی واپسی کا نعرہ بلند کررہی ہے ۔انہوں نے نتیش کمار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نئے دوستوں کی چھتر چھایہ میں آپ کو کیا ہوگیا ہے نتیش جی ؟ الزام لگایا کہ آر جے ڈی کا آدھار مافیہ اور مردہ لوگوں کا ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...