Translater

08 اکتوبر 2011

اگلا لوک سبھا چناؤ کانگریس راہل کی قیادت میں لڑے گی



Published On 8th October 2011
انل نریندر
اب یہ واضح ہونے لگا ہے کہ 2014ء کے لوک سبھا چناؤ میں کانگریس پارٹی یووراج یعنی راہل گاندھی کی لیڈر شپ میں چناؤ لڑے گی۔ شری دگوجے سنگھ تو بہت پہلے سے ہی کہتے آرہے ہیں راہل گاندھی کو اب دیش کی باگ ڈور سنبھال لینی چاہئے لیکن اب تو منموہن سنگھ سرکار کے نمبر دو وزیر پرنب مکھرجی نے کہہ دیا ہے لوک سبھا کا اگلا چناؤ کانگریس راہل گاندھی کی لیڈر شپ میں ہی لڑے گی۔ پارٹی نے اس کے لئے اپنی پوری تیاری کرلی ہے۔ پرنب مکھرجی نے راہل کا نام آگے کرکے یہ بھی جتادیا ہے کہ وہ وزیر اعظم کی ریس میں شامل نہیں ہیں۔ یہ پتہ نہیں کہ انہوں نے اپنے دل سے کہا یا حالات دیکھ کر دکھی دل سے یا پھر دل کی بھڑاس نکالنے کے لئے کہا۔ بہرحال وجہ کچھ بھی رہی ہو پرنب دا کا یہ کہنا بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے یہ کہنے کے اگلے ہی دن پارٹی کے ترجمان راشد علوی نے اس سے آگے بڑھتے ہوئے کہا کہ راہل گاندھی کانگریس کا مستقبل ہیں اور کانگریس دیش کا مستقبل ہے۔ علوی کا کہنا ہے 42 سالہ راہل گاندھی کانگریس کے سب سے بڑے نیتاؤں میں سے ایک ہیں اور تمام نوجوان لیڈروں میں سے سب سے زیادہ اونچا قد رکھنے والے ہیں۔ راہل گاندھی کی تاجپوشی اس لئے بھی اب ممکن لگتی ہے کیونکہ بیشک محترمہ سونیا گاندھی کا کامیاب آپریشن ہو گیا ہے اور وہ ٹھیک ٹھاک لگ رہی ہیں مگر یہ بیماری ایسی ہے کہ سونیا کو چین سے نہیں جینے دے گی۔ خرابی صحت کے سبب سونیا کی پارٹی کی سرگرمیوں میں کمی آئی ہے۔
راہل کو آگے کرنے میں پارٹی کو یہ بھی فائدہ ہوگا کہ دیش کا تمام نوجوان طبقہ کانگریس کے تئیں راہل کے سبب راغب ہوسکتا ہے۔ اس واقعے سے ایک اور بات سامنے آتی ہے وہ یہ کہ موجودہ وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی کار گذاری سے پارٹی خوش نہیں ہے۔ وزیر اعظم کا اپنے کیبنٹ میں ہی کنٹرول نہیں رہا وہ دیش کو کیا کنٹرول کریں گے۔ ان کے نمبر دو اور تین وزرا میں خطرناک جنگ چھڑی ہوئی ہے۔ ان کے داہنا ہاتھ کو یہ معلوم نہیں کہ ان کا بایاں ہاتھ کیا کررہا ہے۔ ایک کے بعد ایک گھوٹالے کا پردہ فاش ہونے کے بعد آج کانگریس کی ساکھ زمین پر آگری ہے۔ اس سے نکلنے کیلئے کانگریس کو پارٹی میں بھاری سرجری کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف راہل کو پردھان منتری پروجیکٹ کرنے سے کام نہیں چلے گا۔ راہل کو اپنی ٹیم کھڑی کرنی ہوگی۔ اس ٹیم کو آنے والے دنوں میں اپنی پوزیشن لینی ہوگی۔ یہ کام شروع بھی ہوچکا ہے۔اس سلسلے کی شروعات پی ایم او پر اپنا کنٹرول کرنے سے ہوچکی ہے۔ وزیر اعظم کے دفتر میں پرنسپل سکریٹری کے عہدے پرپلک چٹرجی کی تاجپوشی اور پچھلے سات سالوں سے وزیر اعظم کے پرنسپل سکریٹری رہے پی کے نائر کی رخصتی اور کئی سینئر افسروں کی میعاد پوری ہونے کے بعد رخصتی ہونے سے نہ صرف نئے چہرے سامنے آئیں گے بلکہ پی ایم او کا ایک نیا روپ اورکام کرنے کا ڈھنگ اور نظریہ بھی سامنے آئے گا۔ سب سے بڑی بات 10 جن پتھ کی ہے۔ پی ایم او پر اس کا کنٹرول ہوگا۔ پلک چٹرجی 10 جن پتھ کے قریبی اور بھروسے مند مانے جاتے ہیں اس لئے ان کے کام میں کوئی مداخلت یا پرنسپل سکریٹری کی کوئی بھی طاقت اگر نائر کو دی گئی تو 10 جن پتھ اس کی مخالفت کرے گا کیونکہ پلک کو پی ایم او میں لانے والا 10 جن پتھ ہی ہے۔ پی کے نائر سے ویسے بھی کانگریسی نا خوش تھے۔ ٹوجی معاملے پر وزارت مالیات کے دستاویز کے سلسلے میں جسے بنانے میں نائر کا کردار بھی لگتا ہے اگلے سال پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی چناؤ راہل گاندھی کے لئے ایک ٹرائل کی شکل میں دیکھے جائیں گے۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ چناؤ تک سونیا گاندھی تنظیم کی باگ ڈور آہستہ آہستہ راہل کو سونپ دیں گی۔ حال ہی میں اپنی بیماری کے دوران انہوں نے تجربے کے طور پر راہل کو پارٹی کی کمان سونپی تھی۔ راہل کی اترپردیش اسمبلی چناؤ میں اگنی پریکشا ہوگی۔ ان کومشن2012ء میں کتنی کامیابی ملتی ہے اس پر کانگریس کی نظریں لگی ہوں گی۔ کل ملا کر اب یہ صاف ہوتا جارہا ہے کہ راہل گاندھی کانگریس کے اگلے پردھان منتری کے امیدوار ہوں گے۔
2G, Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Pranab Mukherjee, Rahul Gandhi, Vir Arjun

جنک فوڈ پر پابندی کا فیصلہ



Published On 8th October 2011
انل نریندر
کچھ وقت پہلے ایک ڈاکٹر مجھے ملنے آئے تھے۔ باتوں باتوں میں انہوں نے بتایا کہ ہم نے بچوں میں بڑھتی ذیابیطس کی بیماری کا ایک سروے کیا ہے۔ اس میں چونکانے والے نتیجے سامنے آئے ہیں۔ 10 سے14 سال کے بچوں میں ذیابیطس کی بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اتنی تیزی سے پھیلتی اس بیماری کی ایک وجہ جنک فوڈ بھی ہے۔ بچوں میں جنک فوڈ کی بڑھتی لعنت ہی ذیابیطس پھیلا رہی ہے۔
مجھے خوشی ہوئی جب میں نے پڑھا کہ جنک فوڈ سے دیش بھر میں بچوں کی صحت پر برے اثر کو دیکھتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ نے بدھ کے روز اسکولوں کی کینٹین میں جنک فوڈ کی فروخت پر پابندی سے متعلق اسکیم بنانے کے لئے مرکز کو ہدایت دی ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ صرف باتوں سے نہیں بلکہ بچوں کو اس خطرے سے بچانے کیلئے ٹھوس قدم اٹھائے جائیں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے داخل حلف نامے پر جسٹس اے کے سیکری اور جسٹس سدھارتھ متل کی بنچ نے کہا کہ سرکار صرف باتیں نہ کرے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ یہ یقینی بنانے کے لئے قدم اٹھائے کہ اسکولوں اور تعلیمی اداروں کے قریب جنک فوڈ کی فروخت بند ہو۔ تعلیمی اداروں میں اور ان کے آس پاس جنک فوڈ ، کولڈ ڈرنکس کی بکری بند کرنے کے لئے دائر ایک مفاد عامہ کی عرضی پربنچ نے مرکز سے2 نومبر تک دوبارہ کارروائی رپورٹ مانگی ہے۔ عرضی پر جاری نوٹس کے جواب میں داخل حلف نامے میں مرکزی حکومت نے مانا تھا کہ جنک فوڈ سے صحت پر برا اثر ہوتا ہے۔ ساتھ ہی کہا تھا کہ وہ اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں بہتر غذائی سامان مہیا کرانے کے لئے ضابطے طے کرنے پر غور کررہی ہے۔ مرکز نے یہ بھی کہا کہ جنک فوڈ اور سافٹ ڈرنک موٹاپے، دانتوں میں کھوکھلا پن، شوگر اور دل کے امراض کے لئے ذمہ دار ہے لیکن غذائیت سے متعلق قانون میں جنک فوڈ کی کوئی تشریح نہیں کی گئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے خوراک کے نقطہ نظر سے خراب غذا کو جنک فوڈ کہا جاسکتا ہے۔
عام طور پر جنک فوڈ کا مطلب جو ہم سمجھتے ہیں وہ ہیں برگر، پیزا،آلوچپس وغیرہ۔ ایسا نہیں کے اس کی اپنی اہمیت نہیں۔ بیرونی ممالک میں بھی یہ سب چیزیں چلتی ہیں اور یہ وہاں کی ہی دین ہیں لیکن ایک بنیادی فرق ہے بیرونی ممالک میں برگر کے ساتھ عام طور پر بچے سلاد وغیرہ کھاتے ہیں اس سے متوازن غذا ہوجاتی ہے۔ لیکن ہمارے یہاں کوئی سلاد وغیرہ ساتھ نہیں ہوتا اور پھر یہ سب اسنیکس کے زمرے میں آتے ہیں لنچ ڈنر کے زمرے میں نہیں۔ ہمارے اسنیکس بھی ہیں جیسے سموسہ، پکوڑا، کچوری وغیرہ وغیرہ لیکن یہ کھانے کا متبادل نہیں ہوسکتے۔ ان کا استعمال بطور اسنیکس ہوسکتاہے۔ برگر ، پیزا، کوک، پیپسی قانونی طور پر بند ہونے سے تو رہے اگر اسکول کی کینٹینوں میں اس کی اتنی آسانی سے دستیابی پر پابندی لگے تو اس کی کھپت میں ضرور کمی آجائے گی اور اگر ہم بچوں میں اس جنک فوڈ کی بڑھتی لعنت پر بھی تھوڑی سے بھی لگام لگا دیں تو میں سمجھتا ہوں کہ ہائی کورٹ کچھ حد تک اپنے مقصد میں کامیاب ہوا ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Junk Food, Vir Arjun

07 اکتوبر 2011

ایک بار پھر انا ہزارے اور کانگریس آمنے سامنے



Published On 7th October 2011
انل نریندر
سماجی کارکن انا ہزارے نے سخت الفاظ میں کانگریس کو وارننگ دے ڈالی ہے ۔ سدھی رالے گن میں خطاب کرتے ہوئے انا نے کہا اگر مرکزی حکومت پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں جن لوک پال بل پاس کرنے میں ناکام رہی تو حکمراں کانگریس پارٹی کو پانچ ریاستوں میں ہونے جارہے چناؤ میں زبردست ہار کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انا ہزارے نے حصار ضمنی چناؤ کو اپنی اس مہم کا پہلا مرحلہ قراردیتے ہوئے کہا کہ وہ ہریانہ کے حصار لوک سبھا کے ضمنی چناؤ حلقے میں ووٹروں سے اپیل کریں گے کے کانگریس امیدوار کو ووٹ نہ دیں کیونکہ پارٹی جان بوجھ کر جن لوک پال بل پارلیمنٹ میں نہیں لا رہی ہے۔ حصار میں13 اکتوبر کو ضمنی چناؤ ہونا ہے۔اپنے گاؤں میں اخبار نویسوں سے خطاب میں انا نے کہا ہم لوگوں سے یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ انہیں کس کو ووٹ دینا چاہئے ہم لوگوں سے کانگریس کو چھوڑ کر کسی بھی پارٹی کو ووٹ دینے اور صاف ستھرے کردار والے امیدوار کو چننے کو کہیں گے۔ انا ہزارے نے یہ بھی اعلان کیا کہ اترپردیش اسمبلی چناؤ شروع ہونے سے تین دن پہلے لکھنؤ میں چار دن کا انشن کریں گے۔ ادھر ٹیم انا نے سرکار و پارلیمنٹ پر جن لوک پال بل کے حق میں دباؤ بڑھانے کے مقصد سے گاندھی جینتی کے موقع پر دیش بھر میں بل پر ریفرنڈم کرانے کی مہم شروع کردی۔ اس عوامی ریفرنڈم میں صرف دو سوال پوچھے جارہے ہیں پہلا کیا ان کے حلقے کے ایم پی اور ان کی پارٹی کو پارلیمنٹ میں انا کے جن لوک پال بل کی حمایت کرنی چاہئے یا نہیں۔ دوسرا یہ کہ اگر ان کے حلقے کے ایم پی نے پارلیمنٹ میں انا کے جن لوک پال بل کی حمایت نہیں کی تو کیا آپ اگلے چناؤ میں اس ایم پی یا اس کی پارٹی کو ووٹ دیں گے یا نہیں۔ اس مہم کے آغاز کے لئے اترپردیش کے بڑے لیڈروں کے چناؤ حلقوں کو چنا گیا ہے۔ جن میں کانگریس صدر سونیا گاندھی ، کانگریس جنرل سکریٹری راہل گاندھی، بھاجپا نیتا راجناتھ سنگھ، ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی اور سپا کے ملائم سنگھ یادو شامل ہیں۔ گاندھی جینتی پر جن علاقوں میں ریفرنڈم کا آغاز کیا گیا ہے ان میں غازی آباد، کوشامبی، حمیر پور، مین پوری، رائے بریلی، امیٹھی، وارانسی، لکھنؤ اور امبیڈ کر نگر شامل ہیں۔
کانگریس میں انا کی وارننگ کا کتنا اثر پڑا یہ کہنا تو مشکل ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ پارٹی نے انا پر جوابی حملہ کرنا شروع کردیا ہے۔ارلیمانی وزیر پون بنسل نے کہا آپ کسی کی گردن پر پستول رکھ کر کوئی مقصد حاصل نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی جن لوک پال بل پر غور کررہی ہے اور اس پر ممبران کے نظریات لے رہی ہے۔ بنسل نے کہا بل کو آنے والے سرمائی اجلاس میں پیش کرنے کے لئے سنجیدہ کوشش کی جائے گی لیکن یہ اس بات پر منحصر ہے کمیٹی کتنا کام کرنے میں اہل ہے۔
کمیٹی میں سبھی پارٹیوں کے ممبر ہیں اور انہیں مختلف لوگوں سے نظریات مل رہے ہیں جو اس کے سامنے آنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا اگر کمیٹی طے وقت میں اپنی رپورٹ دینے میں کامیاب ہوگی تو اگلے اجلاس میں بل کو پیش کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہئے۔ کانگریس جنرل سکریٹری راہل گاندھی نے انا کے اعلان کے جواب میں کہا کہ اگر آپ کرپشن سے لڑنا چاہتے ہیں تو آپ کو سیاست میں اترنا پڑے گا۔ جمہوری طریقے سے ہی سسٹم کو درست کیا جاسکتا ہے۔ جنرل سکریٹری اور میڈیا محکمے کے انچارج جناردن دویدی نے کہا کہ انہیں دیش کے مجموعی ضمیر جس کی نمائندگی پارلیمنٹ کرتی ہے اس پر پورا بھروسہ رکھنا چاہئے اور ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہئے جس سے ان کے اشو کا کوئی سیاسی مفاد کے لئے بیجا استعمال کرے۔ دویدی نے کہا کہ پارلیمنٹ سے جو لوک پال بل سامنے آئے گا وہ اثر دار ہوگا اور اسے لیکر انہیں پہلے کوئی رائے نہیں بنا لینی چاہئے۔ انا ہزارے ایک منجھے اور تجربہ کار شخص ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ انہیں جمہوریت اور اس کے تقاضوں پر بھروسہ ہے۔
انا کی وارننگ اور کارروائی سے اترپردیش اور ہریانہ میں اثر ہونا فطری ہے۔ اس سے کانگریس کی پریشانی یقینی طور سے بڑھے گے تو ضرور۔ پردیش پردھان ڈاکٹر ریتا بہوگنا نے کہامجھے انا کا بیان تو معلوم نہیں لیکن سمجھ میں نہیں آتا کہ سب کا نشانہ کانگریس کی طرف ہی کیوں ہے چناؤ تو چناؤ ہے دیکھا جائے گا۔
ٹیم انا کے اہم ساتھی اروند کیجریوال کے آبائی حلقے حصار میں بھی انا کے اعلان کا اثر نظر آنے لگا ہے۔ شہر کے بنگلوں سے لیکر گاؤں دیہات کے چودھری انا کے اعلان پر غور و خوض کرنے لگے ہیں۔ ان سب کے درمیان یہ سوال بڑا ہے کہ ایماندار، اچھا، شفاف امیدوار کسے چنیں؟ دیہاتیوں کا کہنا ہے یہ معاملہ تو مشکل ہے کسے ووٹ دینا ہے۔ایسے میں اچھا برا چھانٹنا پڑے گا۔ انا 9 یا10 اکتوبر کو حصار آنے والے ہیں۔ امیدواروں پر نظر ڈالیں تو سبھی پر کچھ نہ کچھ الزام ہے۔ حالانکہ انا نے کانگریس کا بائیکاٹ کرنے کو کہا ہے لیکن حصار کے لوگوں نے امیدوار جے پرکاش کو بھی پلڑے میں رکھ لیا ہے۔ کہتے ہیں یہ امیدوار تین بار ایم پی بن چکا ہے لیکن ہر بار الگ الگ پارٹی کا ممبر بنا۔ دیگر الزام بھی لگتے رہے ہیں۔ دوسرے امیدوار ہریانہ جن شکتی کانگریس بھاجپا کے کلدیپ بشنوئی کے بارے میں کہتے ہیں کہ ان کی پارٹی کے پانچ ممبران اب کانگریس میں ہیں،نے الزام لگا دئے ہیں کہ یہ ان کو بیچنے کا سودا کررہے تھے۔ تیسرے امیدوار انڈین نیشنل لوک دل سے اجے سنگھ چوٹالہ ہیں۔ ان کے بارے میں دوسری پارٹی کے لوگ آمدنی سے زیادہ اثاثہ رکھنے کے معاملے میں قصوروار ہونے کی بات کہتے ہیں۔ لیکن اپنا خیال یہ ہے کہ مقابلہ اجے چوٹالہ۔ کلدیپ بشنوئی کے درمیان ہے۔ جے پرکاش تیسرے نمبر پر چل رہے ہیں۔
بھاجپا کو انا ہزارے کی کانگریس مخالفت تو راس آرہی ہے لیکن گجرات میں اپنی سرکار کے خلاف انا کے تیوروں نے اسے بغلیں جھانکنے کے لئے مجبور کردیا ہے۔ پارٹی نے حالانکہ انا اور اپنے بیچ کسی طرح کا تال میل ہونے سے صاف انکار کردیا ہے۔ پارٹی کے ترجمان نرملا سیتا رمن نے کہا کہ انا اور بھاجپا دونوں ہی کانگریس کے خلاف اس لئے ہیں کیونکہ کانگریس پوری طرح سے کرپٹ ہوچکی ہے۔
انا ہزارے کی تحریک کو بھاجپا بھلے ہی سیاسی طور سے بھنانے کی کوشش کرے لیکن انا مسلسل کہہ رہے ہیں بھاجپا اور آر ایس ایس ان کی تحریک سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ اب انہوں نے گجرات میں آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ کی گرفتاری کی مخالفت کرکے صاف کردیا ہے کہ آنے والے دنوں میں انا ہزارے اور کانگریس کے درمیان لفظی جنگ تیز ہوسکتی ہے۔ انا کی اپیل کا پہلا ٹیسٹ حصار لوک سبھا ضمنی چناؤ میں ہوسکتا ہے۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Congress, Corruption, Daily Pratap, Lokpal Bill, Uttar Pradesh, Vir Arjun, RSS, BJP,

06 اکتوبر 2011

نیویارک کی سڑکوں پر لڑکوں کا اترنا اچھا اشارہ نہیں



Published On 6th October 2011
انل نریندر
دنیا کا سب سے زیادہ مہذب مانا جانے والا دیش امریکہ آج کل مندی کے دور سے گذر رہا ہے۔ اقتصادی مندی کا سامنا کررہے امریکہ میں اوبامہ انتظامیہ کی پالیسیوں کے خلاف جنتا سڑکوں پر اتر آئی ہے۔ نا برابری اور کارپوریٹ میں کرپشن کو لیکر سنیچر ایتوار کے دن سینکڑوں مظاہرین نے نیویارک کے برک لین پل پر قبضہ جما لیا جس سے ایتوار کو کئی گھنٹوں تک ٹریفک جام ہوگیا۔ پولیس نے700 سے زیادہ مظاہرین کو حراست میں لینے کا دعوی کیا۔ نیویارک کے مالی بازار وال اسٹریٹ پر قبضہ کرو مہم کے تحت پچھلے کچھ ہفتوں سے امریکہ کے کئی شہروں میں تحریکیں جاری ہیں۔ کئی مزدور تنظیموں نے اس مہم کی حمایت کی ہے۔ دو ہفتے پہلے مین ہیٹن کے ایک پارک میں مظاہرین نے قبضہ جما لیا۔ سنیچر کی صبح مین ہیٹن سے نکلی ریلی برکلن پل پر پہنچی تو وہاں ٹریفک جام ہوگیا۔ انتظامی حکام نے گھنٹوں تک پل کو بند رکھا۔ مظاہرین کا الزام ہے سرکار سرمایہ داروں کے مفادات کا زیادہ خیال رکھ رہی ہے۔ کچھ جگہوں پر اسے سرمایہ داری نظام کے مخالفین کا ایک محاذ بھی بتایا جارہا ہے۔ بوسٹن میں بینک آف امریکہ کے دفتر کے باہر سنیچر کو زبردست مظاہرہ ہوا۔ رائٹ ٹو دی سٹی نے اس مظاہرے کا انعقاد کیا تھا۔
یہ مظاہرہ سرکار اور بینکوں کی پالیسیوں اور کارپوریٹ دلالوں کے خلاف تھا۔ ہزاروں لوگ اس میں شامل ہوئے۔ ارب ممالک میں جمہوریت کے لئے شروع ہوئی تحریکوں سے راہ حاصل کرتے ہوئے مہم کی ویب سائٹ میں کہا گیا ہے کہ کم سے کم 50 مظاہرین گرفتار ہوئے ہیں۔ اوکو پائی وال اسٹریٹ نے کہا کہ ہم سبھی نسلوں کے لوگ ہیں اور ہم سبھی اکثریت میں ہیں اور 99 فیصدی کے قریب ہیں۔ اب ہم چپ نہیں بیٹھیں گے۔ موجودہ اقتصادی اور سیاسی ماحول سے غیر مطمئن ہیں۔ اسی کا احتجاج کررہے ہیں۔
نیویارک کے یہ مظاہرین۔ مظاہرے کا موازنہ مصر کی راجدھانی قاہرہ کے تحریر چوک سے کیا جارہا ہے۔ جی ہاں ارب اسپرنگ نامی وہ تحریک شروع ہوئی جس نے مغربی ایشیا اور نارتھ افریقہ کے کچھ ملکوں میں پختہ تبدیلی کروا دی ہے۔ ظاہر ہے کہ وال اسٹریٹ پر قبضہ کرو جیسے قریب 21 جگہ چل رہے ہیں۔ تحریک کا مقصد امریکی انتظامیہ کا تختہ پلٹنا تو نہیں ہے کیونکہ بھارت کی طرح امریکہ بھی جمہوریت کا گڑھ ہے بلکہ امریکہ کی بد انتظامی کی وجہ سے بڑے بینکوں کے مالکوں اور کارپوریٹ دنیا کے مالکان کے خلاف ہے جنہیں سرکار بحران سے نکلنے کے لئے پیکیج دے کر قرض کے بحران سے نکالتی ہے۔ سڑکوں پر اترے وہ لوگ ہیں جن کی پڑھائی لکھائی پوری ہورہی ہے مگر انہیں دور دور تک روزگار کا امکان نظر نہیں آرہا ہے۔ یہ نوجوان طبقہ سماج کے اس طبقے کی نمائندگی کرتا ہے جو قرض لیکر پڑھا ہے اور اب یہ قرض لوٹانے میں انہیں مشکلوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اور نہ ہی ان کے خاندانوں کی اتنی حیثیت ہے کہ وہ قرض واپس کرسکیں۔ یہ طبقہ مانتا ہے کہ بڑی بڑی کارپوریٹ کمپنیوں کا لالچ دیش کو ڈوبا رہا ہے اور سرکار انہی کی مدد کررہی ہے۔ یہ تحریک امریکن اقتصادی نظام کے لئے ایک چنوتی بن کر ابھری ہے۔ جس ڈھنگ سے یہ تحریک امریکہ کے شہروں میں پھیلی ہے اس سے صاف ہے کہ امریکہ کے موجودہ مالی اور اقتصادی ماڈل پہلے سے کہیں زیادہ بحران کا شکار نہیں ہے بلکہ جدید سرمایہ داری سسٹم پر بھی بحران ہے جس سے ہرشخص پریشان ہے۔

خوفناک سمت میں جارہے ہیں یہ بچے



Published On 6th October 2011
انل نریندر
ہمارے سماج میں خاندانی ماحول تیزی سے بدل رہا ہے۔ مہنگائی کے سبب آج ماں باپ دونوں کو کام کرنا پڑتا ہے تاکہ گھر کی دال روٹی اچھی طرح چل سکے۔ جن کو اقتصادی پریشانی نہیں ہے انہیں اپنے بچوں کے لئے فرصت نہیں ہے وہ اپنے ہی کاموں میں اتنے مصروف ہیں کہ بچوں پر ان کی توجہ نہ کے برابر ہے۔ اس کا سب سے زیادہ خمیازہ بچوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ آئے دن ہم سنتے ہیں کہ ایک چھوٹے سے بچے نے یہ کردیا وہ کردیا۔ بچوں کی اب ٹی وی دیکھنے کی عادت زیادہ بن گئی ہے۔ طرح طرح کے سیریل دیکھتے ہیں۔ ان کے دماغ پر اس کا اثر پڑتا ہے اور کبھی کبھی تو وہ بڑی بڑی حرکتیں کرنے کی کوششیں کرتے ہیں جو سیریل میں دیکھتے ہیں۔ پچھلے دو دنوں میں تین ایسے واقعات ہوئے ہیں جن میں چھوٹے بچے ملوث ہیں۔ ان تینوں واردات میں ایک بات یکساں ہے بچوں کا نامناسب برتاؤ۔ آخر ہمارے بچے کس ذہنیت میں جی رہے ہیں نہ تو ان میں پیار ہے اور نہ ہی استاد کے تئیں احترام۔ پہلا واقعہ دہلی کے خیالات کا ہے اس میں 12 سال کے ایک بچے کے ہاتھ طمنچہ لگ گیا اور اس نے چور سپاہی کے کھیل میں اپنے دوست جو اس سے دو سال چھوٹا تھا کو گولی مار دی۔ بچے کی موت ہوگئی۔ پولیس نے اس لڑکے کو اصلاحاتی گھر بھیج کر دونوں بچوں کے والدین کو گرفتار کرلیا ہے۔
الزام ہے کہ گولی چلانے والے بچے کے والد نے ہی گھر میں یہ پستول رکھی تھی اور واردات کے بعد اسے نجف گڑھ نالے میں پھینک دیا تھا۔ ایسی رگھوویر نگر کے باشندہ راجیشور کا بیٹا سرکاری اسکول میں چھٹی کلاس میں پڑھتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملے میں بچے سے زیادہ قصوروار والد ہے جس نے کٹا (پستول) اسی جگہ رکھی تھی کہ بچہ آسانی سے اسے اٹھا کر لے گیا اور چور سپاہی کھیل تو سبھی بچے کھیلتے ہیں۔
بچوں کو کیا پتہ یہ اصلی بندوق ہے یہ نقلی؟ دوسرا قصہ خوریجی کا ہے یہاں کلاس میں من پسند سیٹ پر بیٹھنے کو لیکر ہوئے جھگڑے میں12 ویں کلاس کے ایک طالبعلم نے بڑی بے رحمی سے دانتوں سے ساتھی کا کان کاٹ دیا اور سڑک پر پھینک دیا۔ یہ واقعہ ریلوے کالونی کے باشندے اجے گوتم کا بیٹا نونیت ایک اسکول میں بارہویں کلاس کا طالبعلم ہے۔ تیسرا قصہ سہارنپور کا ہے۔ استاد کے ذرا سا ڈانٹے پر طالبعلم نے ان پر چاقو سے حملہ کرکے زخمی کردیا اور خود بھاگ کھڑا ہوا۔ طالبعلم کو اسکول سے نکال کر اس کے خلاف ایف آئی آر درج کرا دی گئی ہے۔ بڑ گاؤں کے آدرش انٹرکالج کے گیارہویں کلاس کے استاد جے دیو سنگھ کا پہلا گھنٹا تھا ، کلاس میں الٹی سیدھی پڑھی کرسیوں کو صحیح کرنے کوکہا تو طالبعلم سمت نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔ استاد نے اسے ڈانٹا تو اس نے چاقو نکال کر اپنے استاد پر حملہ کردیا۔
ایسے واقعات آج سارے دیش میں ہورہے ہیں۔ تیزی سے بدلتے سماجی ماحول میں والدین کے پاس اپنے بچوں کے لئے اتنا وقت نہیں ہے کہ وہ انہیں اچھی تربیت دے سکیں تاکہ وہ ٹیچروں کے تئیں احترام سکھا سکیں۔ بچوں کو کیا پتہ کیا صحیح ہے کیا غلط۔انہیں آج کوئی سمجھانے والا نہیں ہے۔ رہی سہی کسر ٹی وی نکال دیتا ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس سسٹم میں بہتری ہونے کا امکان بھی نظر نہیں آتا۔

05 اکتوبر 2011

فارمولہ 1- کارریس نے دہلی کے شہریوں کو جکڑا



Published On 5th October 2011
انل نریندر
آج کل دہلی کے شہریوں میں فارمولہ1- ریس فیور نے پوری طرح سے جکڑ لیا ہے۔ا س مہینے کے آخر میں نوئیڈا میں جے پی گروپ کے ذریعے کئے گئے ٹریک پر بھارت کی پہلی فارمولہ1- کار ریس ہوگی۔ فارمولہ کار1 کا جلوہ دکھانے کیلئے سپانسروں نے سنیچر کو نئی دہلی کے راج پتھ پر ایک اسپیشل شو رکھا۔ اس شو کو دیکھنے کے لئے ہزاروں کی تعداد میں شائقین راج پتھ کے دونوں طرف جمع ہو گئے۔ رفتار کو دیکھ کر لوگوں میں جنون سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ ہر کسی کی زبان پر رفتار لفظ تھا جبکہ ایک ڈرائیور ڈینیل ریکارڈو اپنی کمپنی فارمولہ1- (ایف1-) کار میں انڈیا گیٹ سے راشٹرپتی بھون کے درمیان ہوا سے باتیں کرتے ہوئے نکلے۔ فاسٹ رائڈرز کی ٹیم کے ذریعے موٹر سائیکلوں پر جیسے ہی اسٹنٹ ختم ہوئے تبھی انجن کے گرجنے کی آواز سے انڈیا گیٹ کے آس پاس کا علاقہ گونج اٹھا اور قریب 200 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ڈینیئل ریکارڈو اپنی ایک ایف1- کار میں بھیڑ کے سامنے سے نکل جاتے ہیں۔ اسپیڈ اتنی تھی کہ لوگ اپنے کیمروں کو کلک نہ کرسکے۔بھڑ کی طرف سے ایک ہی آواز کا شور گونج رہا تھا کہ ایک اور ایک اور۔ اسی طرح دو تین راؤنڈ لگائے۔ دہلی کے شہریوں کو اپنی زندگی میں پہلی بار ایف1- کار کو اتنے قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملا۔دنیا کی سب سے تیز رفتار مشینوں میں سے ایک ایف فارمولہ1- کار کی لاگت تقریباً10 سے12 کروڑ روپے بیٹھتی ہے۔ ایک ایف کار میں قریب 80 ہزار کل پرزے ہوتے ہیں۔ یہ ہی نہیں اس کی 15 فیصدی بنانے کی پہلی شرط ہوتی ہے اگر اس میں ایک فیصدی کمی رہ گئی تو کار تیار نہیں ہوگی۔ ایف 1- کار کا سب سے مہنگا حصہ اس کا انجن ہوتا ہے۔ فراری مرسڈیز ، میک لائن اور رینا کمپنیاں ایف انجن بناتی ہیں۔ ایف کار میں استعمال ہونے والا 2.4 لیٹر وی 8- انجن قریب4 سے5 کروڑ روپے میں بنتا ہے یعنی کار کی آدھی قیمت کا یہ انجن ہوتا ہے۔ اس کے بعد گیئر باکس اہم ہوتا ہے۔ 7 فارورڈ اور1 ریورس گیئر والا یہ باکس 1 کروڑ کی قیمت کے آس پاس ہوتا ہے۔ کار کا سب سے سستا حصہ ہوتا ہے اس کا ٹائر۔ یہ 50 سے60 ہزار روپے کا ہوتا ہے۔ ایف فارمولہ1- کار کی قیمت ایک عام ہیلی کاپٹر کی قیمت سے دوگنی ہوتی ہے۔ ہوائی جہاز کی طرح ایف کار میں بھی ایک بلیک باکس ہوتا ہے یہ اس کا نرور سینٹر یعنی دماغ ہوتا ہے یہ کار میں لگا ہوتا ہے ، تمام سینسروں سے جڑا ہوتا ہے اور کار کی چھوٹی چھوٹی حرکتوں کو ریکارڈ کرتا رہتا ہے۔ جہازوں میں لگے بلیک باکس کا کام حادثے کے بارے میں تکنیکی خامیوں کے بارے میں جانکاری دینا ہوتا ہے۔ جبکہ ایف 1- کے بلیک باکس کا کام ریس کے دوران کار کی نبض کو بتانا اور یہ تکنیکی طور پر کنٹرول روم سے جڑا ہوتا ہے۔ ایک طرح سے یہ کنٹرول روم کمپیوٹر سی سی کار کو کنٹرول کرنے کے دوران ایک کڑی کہا جاسکتا ہے۔ کار سے وابستہ تکنیکی باریکیوں کا تمام ڈاٹا یہ انٹرنیٹ جتنی تیزی سے بھیجتا ہے ریس کے دوران بلیک باکس سے پتہ چل جاتا ہے کب اور کس حالت میں انجن پر کنٹرول کیسا ہونا چاہئے۔ برآمد کردہ کروڑوں روپے کی لاگت والی یہ اسپیڈ مشین محض ایک ریس میں ہی اپنی عمر پوری کر لیتی ہے یعنی ایک ریس کے بعد اس کا کھیل ختم ہوجاتا ہے۔ ایف کار میں لگنے والے کروڑوں روپے کے انجن کی عمر بس ایک ریس تک محدود ہوتی ہے۔یعنی قریب300 سے350 کلو میٹر کی دوری کرنے کے بعد اس کا کام ختم ہوجاتا ہے۔ ایک ریس میں 4 سے8 ٹائر بھی خرچ آتے ہیں۔ ہیں نہ یہ مہنگا سودا۔

سونیا کو بلا تاخیر حکومت اور پارٹی کو صحیح لائن پر لانا ہوگا



Published On 5th October 2011
انل نریندر
ایتوار کو ہر کانگریسی نے راحت کی سانس لی ہوگی جب مہاتما گاندھی اور لال بہادر شاستری کی جینتی پر تقریباً دو مہینے کے بعد محترمہ سونیا گاندھی کو دیکھا ہوگا۔ بیرون ملک میں سرجری کرانے کے بعد پہلی بار انہوں نے کسی عوامی پروگرام شرکت کی۔ خیال رہے وہ ماہ ستمبر میں ہندوستان لوٹ آئیں تھیں لیکن میڈیا کے سامنے ابھی تک مخاطب نہیں ہوئیں تھیں۔ ان کی صحت کو لیکر میڈیا میں طرح طرح کی قیاس آرائیاں لگائی جاتی رہی ہیں۔ دیکھنے میں سونیا گاندھی ٹھیک ٹھاک لگ رہی تھیں ، تھوڑی کمزور ضرور لگیں لیکن کل ملاکر پہلے کی طرح ان میں خود اعتمادی دکھائی دے رہی تھی۔ لال کرشن اڈوانی سمیت کئی لیڈروں نے ان کی صحتیابی کے بارے میں پوچھا۔ پھر سونیا پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال میں مہاتما گاندھی اور سورگیہ وزیر اعظم لال بہادر شاستری کی تصویر پر گلہائے عقیدت پیش کرنے کے پروگرام میں انہوں نے حصہ لیا۔ قریب15 منٹ چلی اس تقریب میں کئی نیتا ان کی طبیعت معلوم کرنے کے لئے پہنچے تھے۔ اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج نے سونیا سے پوچھا اب آپ نے اپنی پوری ذمہ داریاں نبھانی شروع کردی ہیں؟ سونیا نے ہنستے ہوئے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جواب دیا ہاں۔ کانگریس پارٹی کے ترجمان راشد علوی نے کہا محترمہ گاندھی پوری طرح سے تندرست ہیں اور 2014ء کا اگلا لوک سبھا چناؤ بھی انہی کی رہنمائی میں لڑا جائے گا۔ سونیا گاندھی نے اب پوری طرح سے فورم میں آکر پارٹی متعلق ذمہ داریوں کو نبھانا شروع کردیا ہے۔ جمعرات کو پارٹی کے دو سینئر وزراء کے درمیان پیدا تنازعے جیسے قومی مسئلے کو سلجھانے کے بعد وہ پوری طرح سے ریاستی اور علاقائی معاملوں میں سرگرم ہوگئی ہیں۔ سونیا مہاراشٹر، راجستھان، تلنگانہ کے معاملوں پر حکومت اور پارٹی کے پروگراموں سے روبرو ہوئیں۔ سب سے پہلے ان کی ملاقات مہاراشٹر کے وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان، پارٹی کے مہاراشٹر یونٹ کے پردھان منک راؤ گاوت سے ہوئی۔ اس کے بعد سونیا نے راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت سے بھی ملاقات کی۔ بھانوری دیوی معاملے میں اور بھرت پور دنگوں کے بارے میں کی گئی کارروائی سے وزیر اعلی سے تفصیلات حاصل کی ہیں۔
سونیا کے لئے سب سے بڑی چنوتی کانگریس میں چل رہی رسہ کشی حکومت کی گرتی ساکھ کو سنبھالنا ہوگا۔ مرکز میں اقتدار میں رہنے کے باوجود کانگریس اور حکومت ان دنوں اپنے سب سے برے دور سے گذر رہی ہے۔ مرکز کے علاوہ اس کی ریاستی حکومتیں بھی سنگین بحران سے گھری ہوئی ہیں اور سب سے افسوسناک بات یہ ہے سونیا کے علاوہ شاید ہی اور کوئی انہیں سلجھا سکے اور پارٹی کی نیا کو پار لگا سکے۔کانگریس کی125 سالہ تاریخ میں پہلی بار ہے کہ ان کے زیادہ تر نیتا تنازعوں اور کرپشن میں پھنسے ہوئے ہیں۔ مرکزی حکومت کی مقبولیت اپنے سب سے نچلے سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ریاستوں میں بھی پارٹی کی صحت تسلی بخش نہیں ہے۔ کانگریس کا سب سے مضبوط گڑھ آندھرا پردیش ان دنوں مرکزی حکومت کی طرح سب سے بری حالت میں ہے۔ الگ تلنگانہ کی تشکیل کو لیکر اس کی مکمل اکثریت والی کرن ریڈی حکومت نے دو گروپ ہونے کے دہانے پر ہے۔ راجستھان میں اشوک گہلوت سرکار بھی برے دور سے گذر رہی ہے۔ خود وزیراعلی گہلوت اور ان کے رشتے داروں پر زمین الاٹمنٹ میں دھاندلی کے الزام لگ رہے ہیں۔ ریاست میں فرقہ وارانہ فسادات ہورہے ہیں جس کے چلتے نریندر مودی کے خلاف کانگریس کی جارحانہ دھار کچھ تیز ہورہی ہے۔ ساتھ ہی پارٹی کی سیکولر ساکھ بھی داغدار ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ بھنوری دیوی کا پتہ نہیں چل رہا ہے۔ سرکار کے سینئر وزیر مہیپال مردگنا سیدھے کٹہرے میں ہیں۔ دہلی میں شیلا دیکشت سرکار بھی مرکزی حکومت کی طرح بھاری ناراضگی سے دوچار ہے۔ کامن ویلتھ گھوٹالوں کے علاوہ مہنگائی کی مار نے دہلی کی کانگریس سرکار کو جنتا کا دشمن نمبر ون بنا دیا ہے۔ ہریانہ سرکار کے لئے اروند کیجریوال سردرد بنے ہوئے ہیں۔ انا ہزارے اپنا پہلا تجربہ حصار پارلیمانی سیٹ پر ہونے والے ضمنی چناؤ سے کررہے ہیں۔ سونیا گاندھی کے پارلیمانی حلقے پر بھی وہ سروے کرارہے ہیں۔ گووا سے بھی کان گھوٹالے کی خبروں میں دہلی میں بیٹھے آقاؤں کا درد سر بڑھا دیا ہے۔مرکز کا تو بہت برا حال ہے۔ وزیر داخلہ پی چدمبرم کے بعد خود وزیر اعظم ٹو جی گھوٹالے کی جانچ کی رپورٹ میں شامل ہیں۔ کل ملاکر سرکاراور پارٹی کے سامنے کئی چنوتیاں اور مسائل ہیں جنہیں سونیا گاندھی کو سلجھانا ہوگا۔ میڈم خود بھی ان حالات سے دکھی ہوں گی۔ بھگوان انہیں اچھی صحت بخشے اور وہ ان منہ پھاڑتی چنوتیوں کا ہمت اور حوصلے اور صبر سے مقابلہ کرسکیں۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, L K Advani, Mahatma Gandhi, Rajassthan, Sonia Gandhi, Vir Arjun

04 اکتوبر 2011

امریکہ کا القاعدہ کو دوہرا جھٹکا



Published On 4th October 2011
انل نریندر
امریکہ اور القاعدہ لشکر طیبہ کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ لشکر اور القاعدہ نے مل کر امریکہ کے ڈیفنس ہیڈ کوارٹر پینٹاگان کو اڑا نے کی سازش رچی تو ادھر یمن کی پہاڑیوں پر امریکہ نے ایک ہوائی حملہ کرکے القاعدہ کی یمن شاخ کو خطرناک آتنک وادی انور الاولاکی کو مار ڈالا۔ پہلے بات کرتے پنٹاگان پر حملے کی سازش کی۔ امریکہ کے محکمہ انصاف نے بتایا کہ ایک 26 سالہ امریکی شہری رضوان فردوس پر غیر ملکی دہشت گرد تنظیم خاص کر القاعدہ کو بیرونی ممالک میں امریکی فوجیوں پر حملے کرنے کیلئے دھماکوں سامان اور وسائل مہیا کرانے کی کوشش کا الزام لگایا گیا ہے۔ رضوان فردوس کو فرسنگم سے گرفتار کیا گیا۔ ایک حلف نامے کے مطابق 2011 جنوری کے آغاز میں تعاون کرنے والی گواہوں کی گواہی ریکارڈ کی گئی۔ بات چیت میں فردوس نے بتایا تھا کہ اس نے پنٹاگان پر چھوٹے بے پائلٹ جہازوں سے حملہ کرنے کی سازش تیار کی تھی۔ اس میں د ھماکو ہوتے ہیں اور جہاز کو جے پی سی سسٹم کے ذریعے چلایا جانا تھا۔ اپریل 2011ء میں فردوس نے اپنی سازش کی تفصیل بنا کر اس میں ایک دوسرے مقام پر حملے کو بھی شامل کیا۔ 2011ء کے مئی اور جون میں فردوس نے چھپا کر دو پین ڈرائیو سونپے جس میں پنٹاگان اور کیپرول پر حملے کی سازش کا قدم بہ قدم اور باقاعدہ تمام تفصیل تھی۔ سازش کے مطابق اس حملے کیلئے ریمورٹ کنٹرول سے چلنے والے تین جہازوں اور چھ افراد کا استعمال کیا جانا تھا جس میں وہ شخص بھی شامل تھا جس نے خود کوامیر بتایا ہے۔ عربی زبان میں امیر کا مطلب قیادت کرنے والا ہوتا ہے۔ فردوس کی گرفتاری امریکی سکیورٹی ایجنسیوں کی ایک شاندار کامیابی ہے۔ وقت رہتے ایک خطرناک سازش کا پردہ فاش کرکے انہوں نے ایک بڑا سازشی حملہ ہونے سے بچا لیا۔
ادھر اسامہ بن لادن کے مارے جانے کے بعد امریکہ نے القاعدہ کو ایک اور زبردست جھٹکا دیا ہے۔ یہ جھٹکا القاعدہ کی یمن شاخ کے خونخوار آتنک وادی انور الاولاکی کا مارا جانا ہے۔ اولاکی امریکی نژاد دہشت گرد تھا۔ فٹا فٹ انگریزی بولنے اور انٹر نیٹ کے ذریعے امریکہ میں حملوں کے ذریعے آتنک وادیوں کی بھرتی کرنے کے چلتے اس نے القاعدہ میں اہم درجہ حاصل کرلیا تھا۔ ایک بار پھر امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں نے قابل قدر کام کرکے دکھایا ہے۔ اس کار میں اولاکی سفر کررہا تھا اس پر ڈرون اور جیٹ جہازوں سے حملہ کیا گیا۔ وہ حملے میں مارا گیا۔ یمن کی حکومت نے کہا پہاڑی صوبہ جاف کے کاشف شہر کے باہر صبح9:55 پر الاولاکی کو نشانہ بنایا گیا، وہ ماراگیا ہے۔ جاف راجدھانی ثنا سے 40 کلو میٹر مشرق میں واقع ہے۔ مقامی قبائلیوں اور سکیورٹی ایجنسیوں نے کہا کہ اولاکی دو کاروں کے ساتھ سفر کررہا تھا۔ اس کے ساتھ القاعدہ کی یمن شاخ کے دو اور آتنکی بھی تھے۔ جس وقت اس پر ہوائی حملہ ہوا وہ الجاف کے پاس واقع مرند صوبے میں جارہا تھا۔ اولاکی میکسیکو میں پیدا ہوا۔ اس کے والدین یمن کے تھے۔ اس نے اپنی تعلیم یونیورسٹی سے امریکہ میں حاصل کی۔ اولاکی سینڈیگو میں دو لوگوں سے رابطے میں تھا جنہوں نے9/11 کے حملے میں خودکش اغوا کاروں کا کردار نبھایا تھا۔ ایف بی آئی نے اس سے پوچھ تاچھ کی لیکن ایجنسی کو اسے حراست میں لینے کی کوئی وجہ نہیں ملی اور اسے چھوڑدیا گیا۔2004 ء میں اولاکی یمن آیا۔ وہ ایک مذہبی پیشوا بن گیا اور اس نے برسوں سے انٹرنیٹ پر اپنے رہنما اصولوں میں امریکہ کی مخالفت کی اور جہاد کی اپیلیں کرتا رہا۔ امریکہ کو یہ دوہری کامیابی اس کی آتنک مخالف چوکسی کے سبب ملی۔ اس کی خفیہ جانکاری حاصل کرنے کی مشینری ایک بار پھرایک طرف تو اپنے دیش میں خطرناک حملے کو روکنے میں کامیاب رہی دوسری طرف ایک کٹر امریکی مخالف آتنک وادی کو صاف کرنے میں کامیابی حاصل کر پائی۔ ہندوستان کی خفیہ اور جانچ ایجنسیوں کو امریکی سسٹم سے کچھ سیکھنا چاہئے۔ ہم آج تک کسی بھی جانچ میں کامیاب نہیں ہوئے اور نہ ہی ہمیں حملے سے پہلے کوئی اطلاع بھی ملتی ہے۔ یوں ہی نہیں امریکہ کی سرزمین پر9/11 حملے کے بعد سے ایک بھی حملہ نہیں ہوسکا۔
 9/11, Al Qaida, America, Anil Narendra, CIA, Daily Pratap, FBI, Haqqani Network, USA, Vir Arjun

2 جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں انل امبانی کا کردار؟



Published On 4th October 2011
انل نریندر
سی بی آئی نے دعوی کیا ہے کہ ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں ریلائنس دھیرو بھائی امبانی گروپ کے مالک انل امبانی کے کردار کی آگے کی جانچ کرنے کی ضرورت ہے اور انہیں کلین چٹ نہیں دی گئی ہے۔ آئی اے ڈی جی کے چیئرمین انل امبانی کو کلین چٹ دئے جانے سے متعلق خبریںآنے کے بعد سی بی آئی نے ایتوار کو اپنے ترجمان کے ذریعے سے اس بارے میں پوزیشن صاف کردی ہے۔ سی بی آئی نے کہا کہ انل امبانی کے کردار کی جانچ اس لئے بھی کرنا ضروری ہے کیونکہ تہاڑ جیل میں بند ان کے تین بڑے افسران نے کسی بھی طرح کے غلط کام میں شامل ہونے سے انکار کیا ہے۔ سی بی آئی نے کہا کہ ریلائنس انل دھیرو بھائی امبانی گروپ کے تین گرفتار سینئر افسر جانچ کے دوران دئے گئے اپنے بیانوں سے مکر گئے ہیں اس لئے حقیقی طور پر فوائد حاصل کرنے والوں کا پتہ لگانے کیلئے آگے کی جانچ کی جارہی ہے۔
سی بی آئی نے کہا کہ آئی اے ڈی اے جی کے تین افسران گوتم دوشی، سریندر تیپارا اور ہری نائر نے مجرمانہ سیکشن کی دفعہ161 کے تحت دئے گئے اپنے بیان میں فیصلے کے لئے پوری ذمہ داری لی تھی لیکن دہلی ہائیکورٹ میں وہ اس سے مکر گئے۔ سی بی آئی کی جانب سے پیش وکیل کے کے گنگوگوپال نے جسٹس جی ایس سنگھوی اور اے کے گانگولی کی ڈویژن بنچ کے سامنے کہا کہ انہوں نے فیصلے کی ساری ذمہ د اری لی تھی لیکن بڑی عدالت میں ضمانت عرضی پر سماعت کے دوران وہ بولے کہ ہم تو ملازم تھے اور ہمیں کوئی فائدہ نہیں ملا۔ سی بی آئی نے عدالت کو اس گھوٹالے میں امبانی ۔ ٹاٹا گروپ ، ویڈیو کون کی بالادستی والی ڈیٹم اور اٹارنی جنرل جی ای واہنوتی کے خلاف مختلف الزامات میں اپنی جانچ کی مفصل جانکاری دی اور کہا کہ انل امبانی کے خلاف جانچ جاری ہے۔ لیکن اسے اس گھوٹالے میں دیگر کے خلاف مقدمہ چلانے سے متعلق کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔
جانچ ایجنسی کے ذریعے دو دن پہلے سپریم کورٹ میں کہا گیا ہے کہ سوان ٹیلی کام میں9.9 فیصدی شیئر کے معاملے کو لیکر انل امبانی اور دیگر ملازمین کے رول کی جانچ کی جارہی ہے۔ یہ شیئر ماریشس کی کمپنی ڈیلفی کو فروخت کئے گئے تھے۔ سی بی آئی نے جانچ کی پیش رفت کے بارے میں 29 ستمبر کوسپریم کورٹ میں پیش’’ وضاحت خط‘‘ میں کہا کہ جانچ میں ایسا کوئی زبانی یا تحریری ثبوت نہیں ملا ہے جس سے لگتا ہے مختلف کمپنیوں کے دوبارہ زندہ اور پیسے کی منتقلی میں انل امبانی ملوث ہیں۔
سی بی آئی نے یہ جواب اس معاملے میں دائر عرضی گذار وکیل پرشانت بھوشن کی جانب سے عدالت کو دئے گئے ایک خط کے جواب میں دیا گیا۔عدالت میں سی بی آئی نے کہا عرضی گذار نے اس خط کے اس کی جانچ کی غیر جانبداری اور ایمانداری کے بارے میں غلط رائے پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ جنتا جاننا چاہتی ہے کہ ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں شری انل امبانی کا صحیح کردار کیا تھا؟ اگر سی بی آئی کی جانچ پر شک کیا جارہا ہے تو اس کے لئے وہ خود ذمہ دار ہے۔ جو بار بار متضاد بیان دے رہی ہے۔ کبھی کلین چٹ دیتی ہے تو کبھی کہتی ہے کہ آگے جانچ کرنا ضروری ہے اور ہم نے انل امبانی کو کوئی کلین چٹ نہیں دی ہے؟
2G, Anil Ambani, Anil Narendra, CBI, Daily Pratap, Reliance Telecom, Supreme Court, Swan Telecom, Vir Arjun

02 اکتوبر 2011

سونیا گاندھی کی پہل پر پرنب چدمبرم میں جنگ بندی



Published On 2nd October 2011
انل نریندر
منموہن سنگھ سرکار میں جاری اتھل پتھل کو روکنے کے لئے آخر کار پارٹی صدر سونیا گاندھی کو مورچہ سنبھالنا پڑا۔ سنکٹ موچک کے طور پر سامنے آئیں محترمہ سونیا گاندھی فوری طور پر موجودہ بحران کو ٹالنے میں کامیاب ہوگئی ہیں لیکن یہ صرف سرسری طور پر ہے ۔کیونکہ ایک ساتھ فوٹو کھنچوانے سے پرنب مکرجی اور پی چدمبرم کے درمیان اختلافات ختم ہونے سے رہے۔ پرنب دادا ان دنوں بہت ناراض چل رہے ہیں۔ اتنے غصے میں کیوں ہے کہ نیویارک میں انہوں نے وزیر اعظم سے استعفیٰ تک دینے کی دھمکی دے ڈالی تھی؟ اس کے بعد اسکے جواب میں دادا حمایتی کہہ رہے ہیں کہ ان پر شبہ ظاہر کیا گیا۔ نوٹ کے معاملے کو جس طرح سے پیش کیا گیا ہے یعنی انہوں نے وہ جان بوجھ کر دستاویز بنایا تھا اور پھر اسے افشاء کروادیا۔ پارٹی اور حکومت کے اندر یہ سوال کھڑا ہوا ہے کہ نوٹ بننے کی کیا ضرورت تھی جب دستاویز بن رہا تھا تو اسی وقت اس کی زبان پر غور کیوں نہیں کیا گیا۔ اس دستاویز کو آگے وزیر اعظم تک کیوں بھیجا گیا اور اسی وقت پارٹی لیڈر شپ کو کیوں نہیں بتایا گیا؟اندرونی مباحثوں کے درمیان یہ سوال پوچھے جارہے ہیں اور یہ پرنب دا کے حق میں جا رہے ہیں۔ یہ نوٹ پرنب دا کی پہل پر نہیں بنا۔ کیبنٹ سکریٹریٹ، پی ایم او، ٹیلی کام اور وزارت قانون کے افسروں کی پہل پر یہ جائزہ لیا گیا اور اس کے بعد نوٹ تیار ہوا۔ اتنے محکموں کے افسر جس معاملوں میں شامل ہوں اسے کوئی بھی وزیر کیسے روک سکتا ہے اور کیوں روکنا چاہئے؟ اگر پرنب دا اس نوٹ کو روکتے یا دباتے تو آج خود بھی سوالوں کے گھیرے میں آجاتے؟ یہ بھی ایک آر ٹی آئی کے جواب میں اس نوٹ کی کاپی پردھان منتری وزارت کے ایک بڑے افسر کی اجازت دی گئی۔ کاپی دینے سے پہلے وزارت مالیات سے پوچھا تک نہیں گیا اور اب جب سب کچھ ہوچکا ہے پرنب مکرجی پر سارا گناہ تھونپا جارہا ہے۔ اس حالت میں انہیں غصہ کیوں نہ آئے؟
اپنا خیال ہے کہ یہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ چدمبرم کی مشکلوں کا خاتمہ نہیں ہوا ہے۔ سونیا گاندھی کی کوششوں سے مسئلہ رکا ہے ،ختم نہیں ہوا۔ پرنب مکرجی نے نوٹ کیسے تیار ہوا اور کس کس وزارت سے گذرا اس کی تفصیل پیش کی ہے۔ لیکن جو نوٹ میں لکھا گیا ہے وہ تو جھوٹ نہیں ہے۔ نوٹ میں جو تحریر ہے اس سے چدمبرم کٹہرے میں ضرور کھڑے ہیں۔ معاملہ سپریم کورٹ میں جاری ہے۔ جے پی سی میں بھی الگ سے چل رہا ہے۔ وہاں بھی تو اس نوٹ کا نوٹس لیا جائے گا۔ آج چدمبرم پارٹی کے اندر الگ تھلگ پڑے ہیں ان کی حمایت کانگریس پارٹی میں اتنا شاید ذکر نہیں ہے جتنا ڈی ایم کے سے انہیں مل رہا ہے۔ وہ کروناندھی کے خاص نمائندے ہیں اس وقت کانگریس میں کام کررہے ہیں اور ڈی ایم کے کی مشکلیں کم ہونے والی نہیں ہیں۔ نہ صرف دیاندھی مارن کے خلاف سی بی آئی نیا معاملہ درج کرنے کی تیاری کررہی ہے بلکہ ٹو جی کیس میں سی بی آئی نے تہاڑ جیل میں بند اے راجہ اور ان کے سابق سکریٹری چندولیہ اور اس وقت کے ٹیلی کام سکریٹری سدھارتھ بیہورہ کے خلاف آئی پی ایس کی دفعہ409 کے تحت معاملہ چلانے کی دلیل کورٹ میں پیش کی ہے۔ سی بی آئی کا الزام ہے کہ اس معاملے میں اے راجہ اور دیگر کے خلاف جنتا کے ساتھ دھوکہ کرنے کا مجرمانہ معاملہ بنتا ہے۔ اگر یہ الزام ثابت ہوا تو عمر قید تک کی سزا ہوسکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے ڈی ایم کے خوش تو ہونے سے رہی۔ ادھر راجہ نے کورٹ میں چدمبرم سے بطور گواہ پوچھ تاچھ کرنے کی مانگ کی ہے۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ معاملہ ختم نہیں ہوا ہے اور پارٹی میں مسلسل یہ کہا جارہا ہے کہ چدمبرم کے کردار پر کوئی فیصلہ سپریم کورٹ کا موقف ہی طے کرے گا۔ وزیر اعظم اور سونیا گاندھی کی ہدایت پر سرکار کی ساکھ بچانے کیلئے بھلے ہی پرنب چدمبرم ایک ساتھ کھڑے ہونے پر راضی ہوگئے ہیں لیکن ایسا کرنے میں دونوں کی ہچک باقی تھی اور اب بھی ہے۔ پرنب چدمبرم سے تب سے ناراض چل رہے ہیں جب سے انہوں نے وزارت مالیات کی جاسوسی کروائی تھی۔ وہ قصہ پرنب مکرجی بھولے نہیں ہیں۔ اب بھی چدمبرم وزارت مالیات میں دخل اندازی سے باز نہیں آرہے ہیں۔ دو دن پہلے ہی انہوں نے ایک پروگرام میں یہ کہا کہ امیر زیادہ ٹیکس بھرنے کے لئے تیار رہے ہیں۔ سوال اٹھتا ہے کیا یہ معاملہ وزارت داخلہ سے وابستہ ہے؟ کیا یہ وزارت مالیات کے اختیارات میں مداخلت تو نہیں ہے؟
2G, Anil Narendra, Daily Pratap, Manmohan Singh, P. Chidambaram, Pranab Mukherjee, Sonia Gandhi, Vir Arjun

اڈوانی اور نریندر مودی میں ٹکراؤ بڑھ رہا ہے



Published On 2nd October 2011
انل نریندر
منموہن سنگھ کی کیبنٹ میں اندرونی رسہ کشی اور ٹکراؤ کا الزام لگانے والی بھاجپا بھی خود ایسی صورتحال سے دوچار ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی دو روزہ قومی ایگزیکٹو کی میٹنگ میں پارٹی صدر نتن گڈکری کی اپیل کے باوجود گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی سمیت کرناٹک اور اتراکھنڈ کے سابق وزراء اعلی بی ایس یدی یرپا اور رمیش پوکھریال نشنک میٹنگ میں شامل نہیں ہوئے۔ بھاجپا پردھان نتن گڈکری نے حالانکہ یہ کہا کہ پارٹی کوشش کررہی ہے کہ مودی میٹنگ میں شامل ہو جائیں۔ کچھ ہی لوگ شاید اس دلیل کو مانیں گے کے مودی نوراتری کا برت رکھ رہے ہیں اس لئے وہ میٹنگ میں نہیں آ پائے۔ اصلی وجہ کچھ وار ہی ہے8 ستمبر کو پارٹی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی نے اچانک مل گیر رتھ یاترا کرنے کا اعلان کردیا۔ اس سے بھاجپا لیڈر شپ بھی حیران رہ گئی۔ اس اعلان کے ساتھ ہی چترماس لگنے لگے کے اڈوانی کی اس رتھ یاترا کا مطلب ایک بار پھر پی ایم ان ویٹنگ کا پیغام دینا ہے۔ آر ایس ایس نے 2009ء کے چناؤ میں ہار کے بعد شری اڈوانی کو پیچھے کرکے نمبر دو کے لیڈروں کو آگے کرنے کی اسکیم بنائی۔ اس میں نریندر مودی سشما سوراج ، ارون جیٹلی اور خود نتن گڈکری شامل تھے۔ لیکن اڈوانی کی اچانک رتھ یاترا کے اعلان نے یہ سارے تجزیئے بگاڑ دئے۔ اڈوانی کی یاترا کا سب سے زیادہ جھٹکا گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو لگا ہے۔ طویل عرصے تک ان کی پہچان اڈوانی کے خاص سپہ سالار کی شکل میں ہورہی تھی لیکن اب مودی بڑے استاد بن گئے ہیں۔ کچھ معنوں میں وہ اپنے آپ کو پارٹی سے اوپر سمجھنے لگے ہیں۔ بھاجپا کے ذرائع کے مطابق بھاجپا میں وزیر اعظم کے عہدے کے ان دو امکانی دعویداروں مودی اور اڈوانی کے درمیان ٹکراؤ بڑھتا جارہا ہے۔ اڈوانی کی مجوزہ رتھ یاترا مودی کو راس نہیں آرہی ہے۔ اسی کے چلتے انہوں نے بھی اڈوانی کی طرز پر پچھلے دنوں احمد آباد میں ایک بڑا سیاسی شو کرڈالا تھا۔ گورنر کے خلاف حال ہی میں گجرات میں منعقدہ مودی کی ریلی میں اڈوانی سمیت کسی بڑے نیتا نے شرکت نہیں کی تھی۔ احمد آباد میں مودی اپواس کا جس طرح سے پروپگنڈہ کیا گیا اس سے پارٹی کی سینئر لیڈر شپ خوش نہیں ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ مودی خود کو بھاجپا کی طرف سے وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر پیش کررہے ہیں۔ ادھر آر ایس ایس نے اڈوانی پر دباؤ ڈالا کہ وہ یہ صاف کردیں کہ ان کی یاترا کا ان کی وزیر اعظم کی امیدواری سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ سنگھ کے ناگپور میں واقع ہیڈ کوارٹر میں آر ایس ایس کی لیڈر شپ سے ملاقات کے بعد مسٹر اڈوانی نے اعلان کیا تھا کہ وزیر اعظم کے عہدے کی امیدواری کو لیکر وہ یہ یاترا نہیں کررہے۔ سب سے پہلے مودی نے ہی ان کی یاترا کی مخالفت کی تھی۔ ذرائع کے مطابق جب اڈوانی نے ان سے اس یاترا کے بارے میں بات کی تو مودی نے اپنی عادت کے مطابق ان سے دو ٹوک پوچھ لیا کے اس سے کیا فائدہ؟ آپ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ اتنا ہی نہیں مودی نے گجرات میں یاترا شروع کرنے میں مدد کرنے معذوری ظاہر کردی۔ آخر کار مسٹر اڈوانی نے اپنی یاترا بہار سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے پیچھے ایک اور مقصد بھی نظر آتا ہے ۔ شاید اڈوانی جی این ڈی اے کی طرز پر سیاست کو بڑھا وا دینا چاہتے ہیں۔ پہلے بھی انہوں نے محمد علی جناح کی تعریف کرکے اسی لائن پرچلنے کی کوشش کی تھی جس پر اٹل جی چلتے تھے۔ اڈوانی جی کی کوشش ہے کہ وہ این ڈی اے کی طرز پر پھر سے مرکز میں سرکار بنائیں اور اس کی قیادت کریں۔ اس مقصد کو نہ تو آر ایس ایس حمایت کرے گا اور نہ ہی مودی جیسے تلخ لیڈر۔ جن کی پہچان ہندوتو لیڈر کی ہے۔ مسٹر اڈوانی کی مجوزہ یاترا کو لیکر جو تنازعہ کھڑا ہوا ہے یہ رکنے والا نہیں۔ بھاجپا لیڈر شپ میں اس وقت زبردست ٹکراؤ ہے اور اس رتھ یاترا نے فوکس میں لاکر کھڑا کردیا ہے۔ ادھر کانگریس لیڈر شپ میں گھماسان ہو رہا ہے۔ رہی سہی کثر بھاجپا کی اندرونی رسہ کشی نے پوری کردی ہے۔
Anil Narendra, Arun Jaitli, BJP, Daily Pratap, L K Advani, Narender Modi, Nishank, Nitin Gadkari, Sushma Swaraj, Vir Arjun, Yadyurappa

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...