Translater

28 مئی 2011

دہلی بم دھماکہ: چیلنج یا وارننگ

 
Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily

28مئی 2011 کو شائع
انل نریندر

نئی دہلی کے انتہائی حساس ترین علاقے میں واقع ہائیکورٹ احاطے کے باہر ہوئے بم دھماکے نے کھلبلی مچا دی۔ کھلبلی اس لئے نہیں مچی کہ بم بہت طاقتور نہیں تھا اگر طاقتور ہوتا تو اس کے نتیجے میں زیادہ جان مال کا نقصان ہوتا۔ جہاں یہ واردات ہوئی ہے وہ نئی دہلی میں سب سے زیادہ حساس ترین علاقہ مانا جاتا ہے۔اس سے دو چار کلو میٹر دور راشٹرپتی بھون، نارتھ بلاک اور پارلیمنٹ کی متعلقہ عمارتیں بھی اسی علاقے میں واقع ہیں۔ یہ بم ایسے علاقے میں پھٹا ہے اس نے ان علاقوں کے لئے ایک چنوتی کھڑی کردی ہے۔اسی سے تھوڑی دور واقع نیشنل ڈیفنس کالج بھی ہے۔ یاد رہے شکاگو میں چل رہے مقدمے میں ڈیوڈ ہیڈلی نے اپنے بیان میں اس کالج کو نشانے پر بتایا تھا۔ افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ انٹیلی جنس بیورو نے وارننگ دی تھی کہ اسامہ بن لادن کے مارے جانے کے بعد سے آتنکی بوکھلائے ہوئے ہیں اور وہ کبھی بھی بدلہ لے سکتے ہیں۔ چار دن پہلے نئی دہلی ریلوے اسٹیشن کے انچارج کو ڈاک کے ذریعے ایک خط بھی ملا تھا جس میں لشکر طیبہ نام سے کسی نا معلوم تنظیم نے یہ خط بھیجا۔ وہ اسامہ بن لادن کی موت کا بدلہ لینے کیلئے بھارت میں بم دھماکے کرے گا۔ خط میں25 مئی کی شام 5 بجے کا وقت دیا گیا تھا اور نئی دہلی اسٹیشن، چڑیا گھر، لال قلعہ اور ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی تھی۔ اس خط میں کانپور، لکھنؤ، احمد آباد، جے پور ، ناگپور، غازی آباد، ہریانہ اور مہاراشٹر میں بھی حملے کی بات لکھی ہے۔ یہ خط کسی کریم نامی شخص نے لکھا ہے جو اپنے آپ کو جموں و کشمیر میں لشکرطیبہ کا کمانڈر ہونے کا دعوی کررہا ہے۔
میرا خیال ہے کہ ایسے معاملوں میں میں پولیس کچھ زیادہ نہیں کرسکتی۔ کوسنے کو تو ہم دہلی پولیس کو کوس سکتے ہیں لیکن یہ بھی ہے کہ دہلی جیسے شہر میں جہاں لاکھوں آدمیوں کا روز آنا جانا ہے ایسے کروڈ بم حادثے کو روکنا تقریباً ناممکن ہے۔ ہاں کوئی پارلیمنٹ حملے یا ممبئی حملے جیسی واردات کو تو روکا جاسکتا ہے لیکن ایسے چھوٹے موٹے دھماکوں کو روک پانا انتہائی مشکل ہے۔ سوال اٹھتا ہے آخر اس دھماکے کا مقصد کیا تھا؟ کیا یہ آتنکی اپنی طاقت دکھانا چاہتے ہیں یا پھر کسی بڑے حملے کی ریہرسل تھا؟ قریب سوا دو سال کی خاموشی کے بعد جس طرح ہائیکورٹ کے باہر کم طاقت کا یہ دھماکوسامان رکھا گیا تھا اس سے اتنا تو صاف ہے کہ ان کا مقصد کسی کو مارنے کا نہیں تھا۔ وہ پاکستان میں بیٹھے اپنے آقاؤں تک پیغام پہنچانا چاہتے تھے کہ ہم اب بھی اتنا ہی سرگرم ہیں۔ بیشک بم کم طاقت کا تھا لیکن اگر بھیڑ والی جگہ پر رکھا گیا ہوتا تو کافی نقصان ہوسکتا تھا۔ آج کل پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں اے راجہ اور شاہد بلوا ، کنی موجھی جیسی بڑی ہستیاں مقدموں میں سماعت کے لئے لائی جارہی ہیں،اس لئے ان کی سلامتی ایک بڑا سوال ہے۔ اس لئے زیادہ چوکسی کی ضرورت ہے۔ انتہا پسند تنظیمیں بوکھلائی ہوئی ہیں اور وہ کوئی بڑی واردات کرنے کے فراق میں ہیں۔ یہ تو شاید ریہرسل تھی اصل حملہ ابھی آگے ہوسکتا ہے۔
Tags: Delhi High Court, Bomb Blast, Red Fort, Airport, Anil Narendra, Vir Arjun, Daily Pratap,

دل دہلانے والا سانحہ


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily


28مئی 2011 کو شائع
انل نریندر

یہ کلیگ ہے اور اس کلیگ میں آدمی اوپر والے کی رحمت کو بھول چکا ہے۔اچھی صحت، اچھا خاندان اور صحیح سلامت بچے ، یہ آج کل خاص معنی نہیں رکھتے۔ ان سب کو تو آدمی مان کر چلتا ہے یعنی ’ٹیک ان فار گارنٹی‘ بہت کم لوگ ہی اوپر والے کا یہ شکریہ کرتے ہیں کہ اس نے آج کا دن صحیح سلامت رکھا۔ کوئی تو پیسے کے لئے بھاگ رہا ہے تو کوئی اقتدار کے لئے، کوئی پاور کے لئے۔ کبھی کبھی ایسا واقعہ سامنے آجاتا ہے جو آدمی کو سوچنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ہم کیا پلاننگ کرتے ہیں، کیا بڑی بڑی اسکیمیں یا منصوبے بناتے ہیں جبکہ ہمیں اگلے پل کا پتہ نہیں ہوتا؟ کیا بہار کے مغربی چمپارن کے علاقے بیتیا کے باشندے جو پیلیا کے مرض میں مبتلا تھا ، اس کے خاندان والوں کو معلوم تھا کہ وہ جس ہیلی کاپٹر سے دہلی علاج کرانے جارہے ہیں وہ چھوٹا جہاز گر جائے گا اور سارے مارے جائیں گے؟ اپولو ہسپتال کا ایئر ایمبولنس مغربی چمپارن کے بیتیا کے باشندے مریض راہل راج 20 سال کو لیکر شام پونے چھ بجے پٹنہ سے دہلی کے لئے روانہ ہوتا ہے۔ جہاز میں راہل کے ساتھ اس کے چچیرے بھائی رتنیش اور نرس اور اپولو کے ایمرجنسی ڈاکٹرارشد اور ڈاکٹر راجیش سوار تھے۔ طیارے کے پائلٹ ہرپریت اور منجیت تھے۔ راہل کا علاج پٹنہ کے جگدیش میموریل ہسپتال میں کافی وقت سے چل رہا تھا۔ بدھوار کی شام اچانک طبیعت زیادہ خراب ہونے کے بعد آناً فاناً میں دہلی کے اپولو ہسپتال میں اس کا علاج کرانے کے لئے ایئر ایمبولنس کا انتظام کیا گیا اور اسے دہلی کے لئے روانہ کیا گیا۔
پالم ایئر پورٹ پر اترنے کے انتظار میں طیارہ فرید آباد کے پاس اڑان بھر رہا تھا تبھی تیزی سے آندھی چلنے لگی۔ شاید اسی کی زد میں آکر طیارے کا توازن بگڑ گیا اور رات قریب ساڑھے دس بجے فرید آباد کی پروتیہ کالونی دو مکانوں پر گرا اور دھماکے کی آواز ہوئی ۔طیارہ کے گرتے ہی اس میں آگ لگ گئی۔ وہ دو ٹکڑوں میں بٹ گیا۔ اس حادثے میں آس پاس کے کچھ مکان بھی تباہ ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق جہاز پر سوار لوگوں کے علاوہ جن تین لوگوں کی لاشیں برآمد ہوئیں ان میں سرلا، دیپک اور شوبھا رام کی بیوی سویتا کی ہیں۔ اس کے علاوہ کئی لوگ لاپتہ بتائی جاتی ہیں۔
گھنی آبادی اور کنکریلی سڑک والے جس علاقے میں یہ ہیلی کاپٹر گرا، وہاں ایمولنس فائر برگیڈ کی گاڑیوں کو پہنچنے میں کافی پریشانی ہوئی۔ حادثے کے شکار مریض راہل راج کے موسا موکیش چودھری کا کہنا ہے راہل کی طبیعت بگڑنے پر انہوں نے شام کو ہی اپولو میں علاج اور ایمولنس کے لئے پیسے جمع کروائے تھے ۔ باقی کی تیاری کے لئے وہ دوسرے طیارے سے شام کو ہی دہلی پہنچ گئے تھے۔ فرید آباد کی پروتیہ کالونی میں آرام سے سو رہے سرلا، رانی، سویتا کا اتنا قصور تھا کہ جس علاقے میں ان کا گھر تھا وہیں جہاز آگرا۔ انہیں ہمیشہ کے لئے نجات دلا دی۔ اس لئے میں کہتا ہوں کہ اوپر والے کا بھگوان کا یا اللہ کا یا واہے گورو کا یا عیسیٰ مسیح کا شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ اس کی رحمت ہم سب پر بنی رہے۔
Tags: Faridabad, Apollo Hospital, Masroor Air Base, Masroor Air Base,Aircrash, Anil Narendra, Vir Arjun, Daily Pratap,

27 مئی 2011

کیا پاکستان کے ایٹمی ہتھیار محفوظ ہیں؟


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily


27مئی 2011 کو شائع
انل نریندر

کراچی کے مہران بحریہ کے ہوائی اڈے پر ہوئے آتنکی حملے نے وہاں کی غیر منظم سلامتی اور پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت کو لیکر بھارت کابے چین ہونا فطری ہے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اس معاملے میں بھارت کی تشویشات کو ظاہر کردیا ہے۔ بھارت کا خیال ہے کہ فوج کے ہیڈ کوارٹر پولیس ٹریننگ کیمپ کے بعد اب فوجی ہوائی اڈے پر خودکشی حملے جیسی آتنکی واردات روکنے میں پاکستانی مشینری کی ناکامی نے نہ صرف ہندوستان کے لئے تشویش کا باعث ہے بلکہ پوری دنیا کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ مہران اہم ٹھکانا ہونے کے باوجوداور اس سے وابستہ دیگر فوجی اداروں کے دفتر دور نہیں ہیں۔ یہ پاکستانی ایئر فورس کے مسرور مرکز کے قریب 40 کلو میٹر دوری پر واقع ہے۔ یہ نیوکلیائی ہتھیاروں کا ایک ڈپو مانا جاتا ہے۔ ایک ہندوستانی ڈیفنس ماہر کے مطابق پی این ایس مہران پاکستان کے سب سے بڑے بحری ایئر بیس میں شمار ہوتا ہے۔ جدید سازو سامان اور طیاروں سے مسلح اس اڈے پر آتنکیوں کا اتنی آسانی سے حملہ کردینا ، یہ خفیہ ایجنسیوں کی خامیوں کا اشارہ کرتا ہے۔ اندرونی شخص کی مدد کے بغیر آتنکیوں کو بحری اڈے میں ایئر کرافٹ کی موجودگی کا پتہ نہیں چل سکتا تھا۔جس طرح وہ گھنٹوں اس میں ڈٹے رہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پختہ معلومات کے ساتھ یہاں آئے تھے۔ نیویارک ٹائمز نے خلاصہ کیا ہے کہ مہران فوجی اڈے کے پاس ہی مسرور ایئر فورس کا بیس ہے۔ جہاں پاکستان کا ایٹمی ذخیرہ ہے۔ یہاں کافی نیوکلیائی بم ہیں جنہیں مزائلوں اور جنگی جہازوں سے ممکنہ نشانوں پر مار کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ امریکی ڈیفنس ماہرین کا اندازہ ہے پاکستان کے پاس اس وقت 100 نیوکلیائی بم ہیں۔
سب سے بڑی تشویش کی بات یہ ہے کہ پاکستانی فوج کے اندر القاعدہ ،لشکر طیبہ جیسی آتنکی تنظیموں کی مدد کرنے والے موجود ہیں۔ ان کی مد د سے اگر آتنکی مسرور ایئر فورس بیس پر حملہ کرتے ہیں تو اس کے خوفناک نتائج ہوسکتے ہیں؟ مان لیجئے بڑا حملہ ہوتا ہے اور اس حملے میں نیوکلیائی بم متاثر ہوجاتا ہے اور ریڈی ایکٹو کرنیں لیک ہوجاتی ہیں تو کیا ہوگا؟ دوسرا خطرہ یہ ہے کہ اگر ان میں سے کچھ آتنکیوں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں تو کم سے کم چھوٹا اور ڈرٹی بم بنا سکتے ہیں۔ تیسرا خطرہ یہ ہے کہ پاکستان فوج میں ان آتنکیوں کے ہمدرد آتنکیوں کو نیوکلیائی بم بنانے کی تکنیک مہیا کروا دیتے ہیں تو کیا ہوگا؟ ان سب امکانات کو دیکھتے ہوئے یہ انتہائی ضروری ہے کہ پاک اپنے نیوکلیائی ہتھیاروں کی سکیورٹی پر زیادہ توجہ دے اور اپنے اندر موجود بھیدیوں کی پہچان کرے اور اس بات کی جانچ کرے کہ مہران ایئر بیس پر جو حملہ ہوا ہے کیا اس میں کسی پاکستانی فوج کے راز داں کا ہاتھ تو نہیں تھا؟ امریکہ ابھی اس کو لیکر الجھن میں پڑا ہوا ہے۔ امریکی صدر کے سابق ڈیفنس ایڈوائزر جیک کراولی نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی میں ہوئے اس حوصلہ افزاء حملے کے مد نظر امریکہ پاکستان کے نیوکلیائی ہتھیاروں کو اپنے قبضے میں لینے کی ہنگامی اسکیم پر غور کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے پاکستان کے نیوکلیائی ہتھیاروں اور سامان کو قبضے میں لینے کی خفیہ اسکیم بنائی ہے۔ یہ تشویش کی بات ہے پاکستان اندرونی تال میل کھوتا جارہا ہے اور پھر یہ بھی کہنے سے نہیں تھکتا کہ ہم اپنے نیوکلیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کو اور بڑھائیں گے۔
Tags: Anil Narendra, Karachi, Mehran Aira Base, Pakistan, Atom Bomb, Masroor Air Base, Pakistan, Al Qaida, Lashkar e Toeba, Vir Arjun, Daily Pratap,  

آنکھ کی پتلی کا حال دیکھ تلملا اٹھے کروناندھی

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily

27مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
تمل زبان میں کنی موجھی کا مطلب ہوتا ہے آنکھ کی پتلی۔ ڈی ایم کے چیف ایم کروناندھی نے اپنی اس بیٹی کا نام برے پیار سے رکھا تھا کیونکہ کالی پتلی والی یہ بچی انہیں بہت پسند تھی۔ تبھی تو وہ جب تہاڑ جیل میں اپنی آنکھ کی اس پتلی بیٹی سے ملنے گئے تو گلے سے کنی کو لگاکر ان کی آنکھیں بھر آئیں۔ اور کنی بھی ان کے گلے لگ کر رونے لگیں۔ کنی موجھی کو سہارا دینے کے لئے والد کروناندھی پورے لاؤ لشکر کے ساتھ تہاڑ جیل گئے تھے۔ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ ، داماد اور پوتا بھی تھا۔ پارٹی کے 8 ممبرپارلیمنٹ بھی جیل کمپلیکس تک آئے تھے لیکن انہیں جیلر کے کمرے تک جانے کی اجازت نہیں ملی۔ اندر ماں باپ، بیٹی داماد کے آنسو نکل رہے تھے تو باہرکچھ اور ہی نظارہ تھا۔ تہاڑ کی سکیورٹی میں تاملناڈو پولیس کی ڈیوٹی رہتی ہے اس لئے کچھ سپاہی اپنے دیش کے ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ کھڑے باتیں کررہے تھے۔ چار سپاہی اور 8 ایم پی رونے کے انداز میں کھڑے تھے۔ جیسے ہی سامنے سے کروناندھی کا قافلہ آیا یہ ممبر پارلیمنٹ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔دو تامل سپاہی بھی اپنے آنسو نہیں روک پائے۔ پاس میں کھڑے ایک نیتا جی بولے یہ غم کے نہیں بلکہ وفاداری کے آنسو ہیں۔ ایسی وفاداری کے آنسو کبھی آپ نے بھی دیکھے ہیں؟ کروناندھی بغیر سونیا گاندھی سے ملے واپس چلے گئے۔
کانگریس اور ڈی ایم کے کے رشتے ٹوٹنے کے دہانے پر ہیں۔ اس ٹکراؤ کے ماحول میں تاملناڈو کی وزیر اعلی جے للتا نے اور آگ لگادی۔ انہوں نے سورگیہ راجیو گاندھی کے قتل میں ڈی ایم کے کا ہاتھ ہونے کا الزام لگادیا۔ منگلوار کو چناؤ جیتنے کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں جے للتا نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ 1991 ء سے میں بھی لبریشن ٹائیگرز کے ڈر کے سائے میں جی رہی ہوں۔ ہم ہمیشہ سے کہتے آرہے ہیں کہ راجیو گاندھی کے قتل میں ڈی ایم کے درپردہ طور پر شامل تھا۔ جے للتا سے پوچھا گیا تھا کیا لبریشن ٹائیگرز کے سابق لیڈر سی پدمنابھن عرف کے پی نے واقعی یہ کہا تھا کہ اگر موقعہ ملا تو تامل جنگجو جے للتا کا قتل کردیں گے۔ جے للتا نے کہا کے ٹو جی گھوٹالے میں ہورہی قانونی کارروائی سے لوگوں کا عدلیہ میں اعتماد بحال ہوا ہے۔ کنی موجھی کی طرف سے خاتون ہونے کا حوالہ دیکر عدالت سے ضمانت مانگنے پر انہوں نے کہا یہ دلیل بالکل غلط ہے۔ سیاست اور جرائم کے معاملوں میں خاتون ہونے کے سبب رعایت نہیں مانگی جاسکتی ہے۔
ڈی ایم کے ۔ کانگریس کو سبق سکھانے کیلئے بیتاب ہے لیکن اسے سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ کرے تو کیا کرے؟ اپنے محبوب ساتھی اے راجہ اور بیٹی کنی موجھی کے جیل چلے جانے سے کروناندھی ایک دم تمتمائے ہوئے ہیں۔ جیل میں بیٹی سے ملنے کے بعد ہر بار کی طرح وہ سونیا گاندھی سے ملنے نہیں گئے۔ خبر یہ ہے کہ ہوٹل تاج مان سنگھ میں کانگریس کے سینئر لیڈر اور سکریٹری جنرل ڈگوجے سنگھ سے بھی انہوں نے ملنے سے منع کردیا۔ کانگریس کے ساتھ 7 برسوں پرانی دوستی میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ کروناندھی دہلی آئے اور کانگریس کے کسی بھی لیڈر سے ملے بغیر واپس چلے گئے۔ کروناندھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس وقت ان کے 18 ممبران کانگریس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے لہٰذا اب وہ صحیح موقعے کی تلاش میں ہیں۔ ویسے بھی چناؤ ہارنے کے بعد وہ کتنے ہی مورچوں پر ایک ساتھ محاذ نہیں کھول سکتے۔
Tags: Anil Narendra, 2G, kani Mozhi, Karunanidhi, DMK, Tamil Nadu, Sonia Gandhi, Digvijay Singh, Vir Arjun, Daily Pratap, 

26 مئی 2011

نکسلیوں کے پاس جدید ہتھیاروں سے تشدد بڑھنے کا اندیشہ

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily

26مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ 26/11 ممبئی حملے کے بعد سے بھارت کے اوپر کوئی بڑا آتنکی حملہ نہیں ہوا لیکن وہیں بڑھتانکسلی تشدد تشویش کا موضوع ضرور ہے۔ ابھی دو دن پہلے چھتیس گڑھ کے گاریابند پولیس ضلع کے اڑیسہ جوڑی سرحدی علاقے میں گشت پر گئے ایک پولیس سپرنٹنڈنٹ سمیت12 پولیس والوں کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔ خبروں کے مطابق سبھی نکسلیوں کے حملے میں شہید ہوگئے ہیں۔ پچھلے دنوں وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا تھا نکسلی مسئلہ بھارت کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ دیش کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ اس نکسلی تحریک سے متاثر ہے۔ نکسلی کھلے عام کہتے ہیں کہ ہماری لڑائی تو نظم بدلنے کے لئے ہے، اقتدار بدلنے کے لئے نہیں۔ ہزاروں لوگ نکسلی اور ماؤوادی تشدد کا شکار ہوچکے ہیں۔ سرکار کی ٹال مٹول کی پالیسی کے سبب ان کا اثر بڑھتا جارہا ہے۔تحریک کو آگے بڑھانے کے لئے جدید ہتھیاروغیرہ خرید رہے ہیں۔ اب تو نکسلی بھی ہتھیار استعمال کرنے لگے ہیں جو بھارتیہ فوج یا نیم فوجی فورس استعمال کرتے ہیں۔
بستر کے گھر نکسلی متاثرہ علاقوں میں نکسلیوں کے پاس موجود تکنیک سے ہماری خفیہ ایجنسیوں کی نیند اڑ گئی ہے۔ نکسلی اب صرف بارودی سرنگ دھماکہ و اے کے 47- تک محدود نہیں رہ گئے ہیں۔ ذرائع کے دعوؤں پر یقین کریں تو خفیہ رپورٹ میں نکسلیوں کے پاس انتہائی جدید راکٹ لانچر ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ وہیں خبر تو یہ بھی ہے کہ اب ان کے پاس دستی بموں کا ذخیرہ ہے اور زہریلی گیس چھوڑنے والے وسائل دستیاب ہیں۔ نکسلیوں کو چینی ہتھیار مل رہے ہیں۔ ان میں دستی بم، راکٹ لانچر وغیرہ شامل ہیں۔ سکیورٹی فورس کو حال میں قابل ذکر کامیابی ملی ہے اور اس سے نکسلی بوکھلا اٹھے ہیں۔ گذشتہ مہینوں میں گنجان جنگلوں میں مڈ بھیڑ اور تلاشی کارروائی کے دوران بھی نکسلیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس سے پہلے بغیر روک ٹوک کی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھ رہے تھے ۔ نکسلیوں کی اس بوکھلاہٹ کو پولیس کی کامیابی مانا جارہا ہے۔
2010 ء نکسلی تشدد کا سب سے خونی برس رہا ہے۔ پچھلے ایک سال میں ایک ہزار سے زیادہ لوگ نکسلی تشدد کا شکار ہوئے ہیں۔44 برس پہلے 1967 میں شروع ہوئی نکسلی تحریک کی تاریخ میں یہ سب سے بڑا خونی سال تھا۔2010ء میں نکسلی متاثرہ 9 ریاستوں میں انہوں نے998 لوگوں کی جان لی ہے۔ ان میں پولیس ملازمین اور700 سے زیادہ عام شہری تھے۔ جموں کشمیر اور مشرقی ریاستوں میں دہشت گردانہ وارداتوں میں مارے گئے لوگوں سے یہ تعداد پانچ گنا زیادہ ہے۔ نکسلی تشدد کا شکار زیادہ تر وہ غریب قبائلی اور دیہاتی ہوئے جنہوں نے ان کی مخالفت کی یا پولیس کے مخبر بنے۔ وزیر داخلہ پی چدمبرم نے گذشتہ دسمبر میں اپنی رپورٹ میں ایک بار پھر نکسلی تشدد کو دیش کی سلامتی کے لئے زیادہ سنگین خطرہ بتا یا ہے۔ چدمبرم نے سکیورٹی فورس سے کہا کہ انہیں دفاعی ہونے کے بجائے جاریحانہ ہونے کی ضرورت ہے۔ مشکل یہ ہے کہ چدمبرم صاحب اور وزیراعظم کبھی تو سختی کی بات کرتے ہیں تو کبھی بات چیت کی اپیل کرتے ہیں نتیجہ یہ ہے سکیورٹی فورس کا یہ نہیں پتہ لگتا کہ سرکار کی پالیسی آخر کیا ہے۔
 Tags: 26/11, Anil Narendra, Daily Pratap, Manmohan Singh, Naxalite, P. Chidambaram, Terrorist, Vir Arjun

اسمبلی انتخابات میں مسلم پارٹیوں کو شاندار کامیابی ملی

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily

26مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
ہندوستان کے مسلمانوں کے بارے میں میں سمجھتا ہوں کہ یہ بدقسمتی ہی رہی ہے کے سیاست کے میدان میں انہیں اپنے فرقے کی کبھی صحیح لیڈرشپ نہیں ملی۔ بڑی سیاسی پارٹیوں نے ہمیشہ ان کا استعمال کیا اورووٹ بینک کی طرح ان سے برتاؤ کیا۔ اب یہ بات ہمارے مسلمان بھائیوں کو سمجھ میں آرہی ہے وہ اپنے کو سیاسی طور پرمنظم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ اچھی پیش رفت ہے۔ یوں تو آزادی کے بعد سے ہی ہندوستانی سیاست میں چھوٹی موٹی مسلم سیاسی پارٹیاں ہمیشہ میدان میں رہی ہیں لیکن اب انہیں شاندار کامیابی ملنے لگی ہے۔ حال ہی میں ہوئے پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ کے نتائج بتاتے ہیں مسلمان قومی سیاسی پارٹیوں سے مایوس ہوگئے ہیں اور وہ علاقائی مسلم پارٹیوں کے ساتھ اپنی یکجہتی دکھانے لگے ہیں۔ کیرل میں مسلم لیگ او رآ سام میں آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کو ملی کامیابی اور تاملناڈو میں نئی بنی مسلم پارٹی ایم ایس این کو بھی دو سیٹیں ملنا اس کا اشارہ کرتا ہے کہ اس کا اثر اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات پر بھی پڑنا لازمی ہے۔ خاص کر اترپردیش میں مسلم سیاسی پارٹیوں میں مسلم ووٹ کیلئے زبردست زور آزمائش ہونے والی ہے۔یوں تو کیرل میں مسلم لیگ ہمیشہ سے ہی طاقتور رہی ہے لیکن اس مرتبہ اس نے کامیابی کے سبھی پرانے ریکارڈ توڑ دئے ہیں۔ اس کے 24 میں سے20 امیدوار جیتے ہیں۔ وہیں آسام میں اے آئی یو ڈی ایم کی سیٹیں 10 سے بڑھ کر19 ہوگئی ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان ریاستوں کے مسلمانوں نے متحد ہوکر ان علاقائی مسلم پارٹیوں کو ووٹ دیا ہے۔ کیرل میں مسلم لیگ یوڈی ایف کا حصہ تھی تو اے آئی یو ڈی ایف نے آسام میں اکیلے چناؤ لڑوا کر اپنی طاقت دکھائی ہے۔ تاملناڈو میں ایم ایس این کے جے للتا محاذ کا اتحادی حصہ تھی لیکن چناؤ کے فوراً بعداس کا من جے للتا سے کھٹا ہوگیا کیونکہ انہوں نے اپنی حلف برداری تقریب میں نریندر مودی کو بلایا تھا۔ مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کی کامیابی میں مسلم ووٹوں کا اہم رول رہا ہے۔ روایتی طور پر مارکسوادی پارٹی کا ووٹ بینک رہے مسلمانوں نے اس مرتبہ ممتا کے تئیں اپنی ہمدردی و حمایت دکھائی۔ مسلم ووٹروں کے رخ کو ممتا کی طرف موڑنے میں مسلم تنظیم جمعیت العلمائے ہند کا اہم کردار رہا۔ آندھرا پردیش میں بھی ایک مسلم سیاسی پارٹی مجلس مشاورت کو حیدر آباد اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں اچھی کامیابی ملی ہے۔ اس کے لیڈر اویسی لوک سبھا کے ممبر ہیں۔
اترپردیش میں مسلم ووٹوں کا اہم کردار ہوگا۔ وہاں 6 سے7 مسلم پارٹیاں ریاست کے 18 فیصد مسلم ووٹروں کو راغب کرنے کیلئے میدان میں ہوں گی۔ یوپی میں سب سے طاقتور پیس پارٹی ہے۔ اس نے پچھلے ضمنی چناؤ میں اچھے خاصے ووٹ حاصل کرکے سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے لیکن اس کی پوری کوشش صوبے میں نہیں چل پائی اور زیادہ تر گورکھپور اور اس کے آس پاس کے علاقوں تک ہی محدود ہے۔ حال ہی میں جماعت اسلامی نے بھی پارٹی بنائی ہے ویلفیئر پارٹی آف انڈیا۔اے آئی یو ڈی ایف نے بھی یوپی کے چناؤ میں امیدوار اتارنے کا اعلان کیا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے دیش کے مسلم ممبران پارلیمنٹ میں سے ایک بھی شیعہ نہیں ہے۔ اس لئے کئی شیعہ تنظیموں نے بھی یہ محسوس کیا ہے کہ انہیں بھی منظم ہوکر اپنی پارٹی بنانا چاہئے تاکہ شیعوں کو ٹھیک نمائندگی مل سکے۔ یہ پارٹیاں کتنی کامیاب ہوتی ہیں یہ تو چناؤ کے بعد پتہ چلے گا لیکن اتنا ضرور ہے کچھ سیکولر پارٹیوں کی نیند حرام ضرور ہوگئی ہے۔
 Tags: Anil Narendra, Assam, Kerala, Muslim, State Elections, Tamil Nadu, Uttar Pradesh, West Bengal

25 مئی 2011

اوبامہ کی دھمکی کا پاکستان نے اسی انداز میں دیا جواب

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily

25مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
القاعدہ سرغنہ اسامہ بن لادن کی موت کے بعد امریکہ اور پاکستان کے درمیان لفظی جنگ تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ امریکی صدر براک اوبامہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کیلئے امریکہ آپریشن اسامہ کارروائی دوہرانے میں دیر نہیں کرے گا۔ ایک انٹرویو کے دوران اوبامہ نے کہا اپنی سلامتی کے لئے وہ پاکستان میں دوبارہ اپنی فوج بھیجنے سے نہیں چوکیں گے۔ بی بی سی کو دئے گئے انٹرویو میں اوبامہ نے کہا کہ وہ پاکستان کی سرداری کا احترام کرتے ہیں لیکن امریکہ کی سلامتی ان کی پہلی ترجیح ہے وہ کسی کو یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ ان کے خلاف سازش اور رچی جائے،اس پر امریکہ کارروائی نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر طالبان کا سرغنہ پاکستان میں پایا جاتا ہے تو امریکہ فوج کو دوبارہ بھیجنے میں کوئی قباحت نہیں دکھائے گا۔ انہوں نے پاکستان کو نصیحت دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے تئیں پاکستان کا جو دوہرا پیمانہ اس کی بڑی بھول ہے۔ اسی وجہ سے بھارت اسے اپنے وجود کے لئے خطرہ محسوس کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ اس ذہنیت سے دور ہٹ کر کام کرے تو بہت اچھا ہوگا۔ انہوں نے کہا امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان اس بات کو محسوس کرے اس کے لئے سب سے بڑا خطرہ باہر سے نہیں بلکہ اس کے گھر کے اندر ہی ہے۔
دوسری جانب پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے چیف احمد شجاع پاشا نے امریکہ کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ نے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے نہیں روکے تو پاکستان اس کا جواب دے گا۔ پاشا نے سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل موٹیل کے ساتھ سنیچر کو ہوئی بات چیت میں ان خیالات کا اظہار کیا۔ اخبار دی ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق پاشا نے موٹیل سے کہا کہ اگر آپ ڈرون حملے نہیں روکیں گے تو ہم جواب دینے کیلئے مجبور ہوں گے۔ پاشا نے حال ہی میں پاکستانی ہوائی سرحد میں نیٹو ہیلی کاپٹروں کی دراندازی کا ذکر کرتے ہوئے اس واقعہ کو امریکہ اور پاکستان کے فوجی اشتراک کو ایک جھٹکا بتایا۔ پاکستان کے دورے پر آئے موٹیل سی آئی اے کے آپریشنل افسر اور آئی ایس آئی افسروں کے ساتھ بات چیت کے لئے آئے ہوئے ہیں۔
دراصل ہمیں لگتا ہے کہ امریکہ اب پاکستان کی دوہری پالیسی کو سمجھ گیا ہے۔ ایک طرف تو وہ ’وار آن ٹیرر‘ میں امریکہ کا سب سے بڑا بھروسے مند اتحادی بتاتا ہے ، دوسری جانب آتنکوادیوں کو پوری سکیورٹی اور ٹریننگ ، پیسہ دیتا ہے۔ وہیں امریکہ کو آنکھیں دکھانے کے لئے چین کو آگے کردیتا ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے اپنے حالیہ دورۂ چین کے دوران چین کے تئیں دکھائی گئی بھائی چارگی نے کچھ امریکی ممبران کی بھنویں چڑھا دی ہیں اور وہ پوچھ رہے ہیں کہ چین کو اپنا سب سے اچھا دوست بتانے والا پاکستان امریکہ سے زیادہ سے زیادہ مدد کیوں مانگ رہا ہے؟ سینیٹ کی خارجی معاملوں کی کمیٹی میں سینیٹر جم رش نے کہا ہمارے ذریعے خرچ کئے گئے ایک ڈالر میں سے 40 فیصد ادھر سے آتے ہیں۔ امریکی لوگوں کو یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ہم سے 40 فیصد ادھار لیکر اسے پاکستان کو نہیں دینا چاہئے۔اس کے بعد بھی پاکستان سرکار چین کو اپنا بھروسے مند دوست مانتا ہے۔

Tags: America, Anil Narendra, China, CIA, Daily Pratap, ISI, Obama, Osama Bin Ladin, Pakistan, Shuja Pasha, Vir Arjun

جیسے بیج بوؤگے ویسی ہی فصل کاٹوگے!

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily

25مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
پاکستان کے اندرونی حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں، شاید ہی اب کوئی دن ایسا جاتا ہو جب وہاں دہشت گردانہ واقعات نہ ہوتے ہوں۔ ایتوار کی رات کو پاکستانی ساحلی شہر کراچی میں انتہائی محفوظ مانا جانے والا ایک بحریہ کا ایئر بیس مہران ہوائی اڈے پر دہشت گردوں سے زبردست حملہ کیا۔ سکیورٹی فورس سے16 گھنٹے مڈ بھیڑ چلی اور تب جاکر پاکستانی کمانڈو نے ان دہشت گردوں پر قابو پایا اور اس ہوائی اڈے کو آزاد کرالیا۔ اس حملے میں 10 سکیورٹی جوان اور4 آتنکی مارے گئے۔ مڈ بھیڑ کے درمیان چار دہشت گردوں نے خود کو اڑالیا۔ کراچی کا یہ حملہ ممبئی میں26/11 حملے جیسا ہی تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ وہ حملہ بہت بڑا تھا اور طویل چلا تھا، لیکن یہ حملہ چھوٹا اور جلد ختم ہوگیا۔ یہ حملہ اس لئے بھی زیادہ سنگین ہے کیونکہ ایک فوجی ایئر بیس پر حملہ ہوا ہے اور یہاں گھس کر تقریباً15 گھنٹے تک سکیورٹی فورس کا مقابلہ کرکے طالبان نے پاکستانی اقتدار اور فوج کو سنگین چیلنج کیا ہے۔ پاکستان میں فوج ، آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر، پولیس عمارتیں، ملٹری کالج تقریباً سبھی محفوظ ٹھکانے آتنک وادی حملوں کا شکار ہوچکے ہیں۔ راولپنڈی میں واقع فوج کے ہیڈ کوارٹر پر اکتوبر2009 میں ہوئے حملے کے بعد یہ سب سے خطرناک حملہ تھا۔
یہ حملہ اس لئے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ ٹھکانا ان چنندہ اہم ٹھکانوں میں سے ایک ہے جہاں سکیورٹی انتظام ہمیشہ چاق چوبند رہتے ہیں کیونکہ یہاں پاک فوج سے وابستہ کچھ اہم ادارے ہیں۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پی ایم ایس مہران جہاں آتنکوادیوں نے حملے کو انجام دیا وہ پاکستانی بحریہ اور ایئر فورس کا مضبوط اڈہ ہے۔ یہ پاک بحریہ کا پہلا بحری ایئر اسٹیشن ہے۔یعنی یہ پاکستانی بحریہ کے ہوائی دستوں کا اڑان بھرنے کا ٹھکانا ہے۔ یہ ہی نہیں اس سے بالکل پاس میں واقع پاکستان فیضل ایئر بیس ہے، یہیں پر پاکستانی ایئر فورس کی ساؤتھ کمان موجود ہے۔ اس حملے نے امریکہ کوبھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پاکستان میں سب سے محفوظ مانے جانے والے کراچی کے مہران بحری اڈے کی سلامتی کے انتظام کو بھانپتے ہوئے آتنک وادیوں نے جس طرح سے یہ واردات کی اس سے امریکہ و مغربی ممالک میں یہ خدشہ زیادہ پیدا ہوگیا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار محفوظ نہیں ہیں۔ اور ان ہتھیاروں کا سب سے بڑا حصہ کراچی کے ان ٹھکانوں میں ہی محفوظ رکھا گیا ہے۔ امریکہ کو اب یہ ڈر لگنے لگا ہے کہیں پاکستان کے ایٹمی ہتھیار آتنکوادیوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔ کراچی کا یہ حملہ پاک ایٹمی ہتھیاروں کو اپنے قبضے میں لینے کیلئے طالبان کی یہ ڈریس ریہرسل ہوسکتی ہے۔ آتنکیوں نے سوچا ہو کہ کیوں نہ ہم اس بیس پر حملہ کرکے تجربہ کریں کہ کیا اگلی بار ہم ایٹمی ہتھیاروں کو اپنے قبضے میں لے سکتے ہیں؟
ہمارے بڑے بوڑھے کہتے ہیں جیسا بیج بوؤگے ویسی ہی فصل کاٹو گے۔ پاکستان آج دنیا کی سب سے بڑی ٹیرر فیکٹری بن چکا ہے۔ یہاں بچوں تک کو جہادی بنایا جارہا ہے اور اس کام کے لئے پیسہ دے رہے ہیں سعودی عرب اور متحدہ ارب عمارات۔ پاکستان کے بڑے اخبار ڈان نے وکی لکس کے حوالے سے ایتوار کو یہ خبر دی کہ خلیجی ممالک سے ان تنظیموں کو ہر سال تقریباً10 کروڑ ڈالر کی رقم مل رہی ہے۔ اس رقسم سے پاکستان کی جہادی تنظیمیں اپنے کیمپ چلا رہی ہیں۔ آج پاکستان اپنے بنے ہی جال میں پھنس گیا ہے۔ اسے سمجھ نہیں آرہا ہے کہ وہ کرے تو کیا کرے؟ ادھر کنواں تو ادھر کھائی ہے۔
 Tags: Pakistan, Anil Narendra, Vir Arjun, Terrorist, 26/11, Taliban, ISI, Daily Pratap,

24 مئی 2011

القاعدہ کا مصری کنکشن: سیف العدیل

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
 
24مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
القاعدہ سرغنہ اسامہ بن لادن کے مرنے کے بعد اس انتہا پسند تنظیم نے اپنا نیا لیڈر چن لیا ہے۔ القاعدہ کا مصری رابطہ کار سامنے آگیا ہے۔ بن لادن کا جانشین ہے مصر کا ایک سابق فوجی افسر اس کا نام ہے سیف العدیل۔ یہ بن لادن کے مارے جانے کے قریب 15 روز بعد عارضی طور پر لیڈر چنا گیا ہے۔عدیل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ1981 ء میں مصر کے سابق صدر انور سعادات کے قتل کے لئے ذمہ دار تنظیم اسلامک جہاد کا ممبر رہ چکا ہے۔ وہ افغانستان میں 1980 کی دہائی میں سوویت روس کی فوج کے خلاف لڑائی میں بھی شامل رہا۔2001ء میں طالبان کے زوال کے بعد وہ ایران بھاگ گیا تھا۔ سی این این میں دو دہائی سے زیادہ وقت سے القاعدہ سے واقف نعمان کے حوالے سے بتایا کہ سیف العدیل القاعدہ کا روپوش لیڈر ہے۔ خبر کے مطابق العدیل کی تنظیم میں طویل عرصے سے اہم کرداررہا ہے۔
ادھر اسامہ کو زندہ یا مردہ پکڑنے سے امریکہ کی جانب سے اعلان کردہ 25 لاکھ ڈالر یعنی11 کروڑ روپے کا انعام کسی کو نہیں دیا جارہا ہے۔ امریکی حکام نے یہ سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ اسامہ کے خاتمے کی وجہ کوئی مخبر نہیں بلکہ جدید ترین مشینیں اور خفیہ ایجنسیاں تھیں۔ اس فیصلے سے ان قیاس آرائیوں پر روک لگ گئی جن میں دعوی کیا گیا تھا کہ انتہا پسند تنظیم سے وابستہ کسی شخص نے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کو اسامہ تک پہنچایا۔ اسامہ بن لادن امریکہ کی موسٹ وانٹڈ دہشت گردوں کی فہرست میں سب سے اوپر شامل تھا۔
ویب سائٹ بی بی سی ، کوم کو ڈاٹ یو کے نے اسامہ کے ذریعے ان کی موت سے کچھ عرصے پہلے مبینہ طور پر ریکارڈ کیا گیا ایک آڈیو ٹیپ جاری کیا ہے۔ لادن کا یہ آڈیو ٹیپ 12 منٹ کا ہے جسے ایک اسلامی ویب سائٹ پر جاری کیا گیا ہے۔ ٹیپ میں لادن نے تیونس اور مصر کے مخالف مظاہرین کو نصیحت دی ہے لیکن شام اور لیبیا اور یمن کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ لادن نے کہا مجھے لگتا ہے کہ اللہ کی مرضی سے پوری مسلم دنیا میں تبدیلی کی لہر چلے گی۔ آپ کے سامنے دو راہیہ ہے۔ مسلم فرقے کے ساتھ کھڑے ہونے اور خود کو حکمرانی کی توقعات ، انسانی قوانین اور مغربی بالا دستی سے نجات کرانے کا ایک واحد اور سنہرہ تاریخی موقعہ ہے۔ لادن نے کہا توآپ کس کا انتظار کررہے ہیں؟
لادن کی موت کے بعد القاعدہ کے عارضی چیف سیف العدیل نے دھمکی دینے میں زیادہ وقت نہیں لگایا۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی ایک رپورٹ کے مطابق سیف نے لادن کی موت کا بدلہ لینے کی دھمکی دی ہے۔ اخبار نے طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان کے حوالے سے کہا ہے کہ ہمارے لیڈر لندن میں بڑے حملے کی تیاری کررہے ہیں۔ احسان کے مطابق العدیل کا خیال ہے برطانیہ یوروپ کی ریڑھ ہے اور اسے توڑنے کی ضرورت ہے۔ ایسے میں لندن پر بڑا حملہ کرکے یوروپ سمیت پوری دنیا کو ہلایا جاسکتا ہے۔ اس درمیان یہ بھی خبر ہے کہ طالبان القاعدہ لیڈر پاک سرحد سے ملحق افغانستان کے علاقوں میں ملے ہیں اور آگے کی حکمت عملی پر غور خوض ہوا ہے۔ العدیل کو ایمن الظواہری اور الیاس کشمیری کو نئی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
Tags: Al Qaida, Anil Narendra, Vir Arjun, Daily Pratap, Egypt, Osama Bin Ladin, Aiman Al Zawahiri,

۔34سال بعد رائٹرس بلڈنگ میں لوٹے ایشور

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
24مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
مغربی بنگال میں شکروار کو پہلی خاتون وزیر اعلی کی شکل میں حلف لے کرمحترمہ ممتا بنرجی نے ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے۔ 34 سال بعدبھگوان مغربی بنگال میں لوٹے۔ ممتا بنرجی نے شکروار کو ٹھیک1.01 منٹ پر ایشور کے نام پر عہدۂ راز داری کا حلف لیا۔ اس سے پہلے لیفٹ مورچہ کے وزراء نے 34 سال کے عہد میں بھگوان کا نام نہیں لیا وہ ہمیشہ حلف آئین کے نام پر لیتے رہے۔ آخر اس وقت 1.01 منٹ کے پیچھے کیا خاص بات ہے؟ نجومیوں کا کہنا ہے کہ یہ وقت ممتا بنرجی کے لئے اچھا ہے جو انہیں پانچ سال کی پوری پاری مکمل کرائے گا اور تھوڑا ہوشیار رہتے ہوئے اپنی حلف برداری تقریب کے بعد عوام کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے روایت توڑ کر ممتا بنرجی راج بھون سے رائٹرس بلڈنگ یعنی وزیر اعلی کے دفتر تک جلوس کی شکل میں پیدل گئیں۔ ان کے حمایتیوں کی بھیڑ کو دیکھتے ہوئے رائٹرس بلڈنگ کے سبھی دروازے کھول دئے گئے۔ راج بھون میں دوپہر ٹھیک 1بجکر1 منٹ پر گورنر ایم کے نارائنن نے ممتا کو وزیر اعلی کی حیثیت سے عہدے کا حلف دلایا۔ اپنے روایتی ٹریڈ مارک ساڑی، ربڑ کی چپل اور سفید سوتی شال اوڑھے ممتا نے بنگلہ زبان میں ایشور کے نام پر حلف لیا۔ لیفٹ کے راج میں سیاسی تشدد کا شکار ہوئے خاندانوں کے لوگوں کو خاص طور پر بلایا گیا تھا۔ ممتا بنرجی کے کالی گھاٹ میں واقع گھر سے راج بھون تک ایک کلو میٹر کے راستے میں دونوں طرف جمع بھیڑ ان کی حمایت میں نعرے لگا رہی تھی۔
ممتا نے اپنی 43 نفری کیبنٹ میں اقلیتوں، دلتوں، آدی باسیوں ، پسماندہ طبقوں اور خواتین یعنی سماج کے سبھی طبقات کو مناسب نمائندگی دی ہے۔ جو کہنے کو تو کسی کتابی اصولوں کے مطابق لیفٹ مورچہ کی شکل میں مغربی بنگال میں سرو سماج طبقے کی حکومت تھی لیکن ممتا بنرجی کی حلف برداری تقریب دیکھ کرکہا جاسکتا ہے کہ عام طور سے عوامی حکومت اب قائم ہوئی ہے۔1977 میں پہلی بار لیفٹ مورچہ سرکار بننے پر اس کی وزیر اعلی جوتی بسو سے بے عزتی کا بدلہ18 سال بعد ممتا نے لیا ہے۔ ممتا نے تب قسم کھائی تھی کہ وہ ریاست کے وزیر اعلی کی شکل میں ہیں رائٹرس بلڈنگ کی سیڑھیاں چڑھیں گی۔ سنگور اور نندی گرام تحریک کے ذریعے جنتا میں اپنی پکڑ بنانے والی ممتا کا خواب پورا ہوا۔ وہ ریاست کی 11 ویں وزیر اعلی بنیں۔ تقریباً ڈھائی دہائی تک مغربی بنگال میں جس لیفٹ فرنٹ سرکار کے خلاف ممتا نے مسلسل جدوجہد کی اس فرنٹ کے سینئر لیڈروں کو حلف برداری تقریب میں بھی مدعو کرکے ممتا نے سیاسی سوجھ بوجھ کا اشارہ دیا۔ وہ ٹکراؤ سے نہیں میل جول اور بات چیت کے راستے سے چلیں گی۔ ممتا نے اپنی حلف برداری میں نندی گرام اور سنگور تحریک میں مارے گئے لوگوں کے رشتے داروں کے علاوہ مخصوص مہمانوں کی شکل میں سونا گاچھی علاقے کی سیکس ورکر اور رکشہ پولروں کے نمائندوں کوبھی مدعو کرکے با آور کرایا کہ وہ اب واقعی ایک نئے مغربی بنگال کیلئے کام کریں گی۔ ممتا کے سامنے چنوتیوں کی انبار ہے ۔ تشدد اور مالی محاذ پر خراب حالات قابو سے باہر بتائے جارہے ہیں۔ سرکاری خزانہ خالی ہے۔ پوری گاڑی ہی پٹری سے اتری ہوئی ہے۔ گاڑی کو واپس پٹری پر لانا آسان کام نہیں ہوگا۔ ممتا بنرجی کی شاندار کامیابی پر ہماری مبارکباد اور امید کے اب شاید ان کی لیڈر شپ میں مغربی بنگال کی قسمت سنور جائے۔
Tags: Anil Narendra, Cpi, CPM, Daily Pratap, Mamta Banerjee, Trinamool congress, Vir Arjun, West Bengal

22 مئی 2011

پاکستان نے پھر کھیلا بیجنگ کارڈ

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily

22مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
چاروں طرف سے گھرے پاکستان نے ایک بار پھر اپنا بیجنگ کارڈ کھیل دیا ہے اور آج کل پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی بیجنگ میں ماتھا ٹیکنے گئے ہوئے ہیں۔ چین پچھلے کچھ برسوں سے پاکستان کا کافی بھروسے مندملک بنا ہوا ہے۔ چین نے گیلانی کے موجودگی میں امریکہ کو وارننگ دے ڈالی۔ چین نے امریکہ کوخبردارکرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان سے دور رہے۔ اس کے ساتھ چین نے پاکستان کو بھی یقین دلایا کہ وہ اس کی حفاظت اور مدد کیلئے سب کچھ کرے گا۔ امریکہ پاکستان کی سرداری کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ پاکستان کے ایک انگریزی اخبار ’’دی نیشن‘‘ نے یہ جانکاری دی ہے۔ میڈیا کی ایک خبر میں کہا گیا ہے ایبٹ آباد میں القاعدہ سرغنہ اسامہ بن لادن کے خلاف چلائی گئی امریکی کارروائی کے سلسلے میں چین نے صاف طور پر خبردار کیا ہے کہ پاکستان پر کئے گئے کسی بھی حملے کو وہ چین پر حملہ سمجھے گا۔ یہ وارننگ بھرا پیغام واشنگٹن میں چین امریکہ سیاسی مذاکرات کار اور اقتصادی امور پر ہوئی بات چیت کے دوران رسمی طور سے چینی وزیر خارجہ نے دے دیا ہے۔ امریکہ کی پاکستان کی سرداری اور اتحاد کا احترام کرنے کی بھی نصیحت دے دی ہے۔چین کے وزیراعظم بن جیاباؤ نے یوسف رضا گیلانی کو گریٹ ہال آف دی پیپلز اپنی رسمی بات چیت کے دوران اس بارے میں بتایا۔
چین دنیا کا سب سے بڑا بنیا ہے۔ وہ بغیر کسی لالچ کے کوئی کام نہیں کرتا۔ اگر آج وہ پاکستان کی اتنی کھلی مدد کررہا ہے تو اس کی قیمت میں پاکستانی مقبوضہ کشمیر کی زمین کو آہستہ آہستہ ہڑپتا جارہا ہے۔ پاکستان کشمیر کے ہمارے حصے کو چین کو تھماتا جارہا ہے۔ چین نے پہلے ہی ہزاروں کلو میٹر رقبہ اپنے قبضے میں لے رکھا ہے۔ بھارت کے ناردن کمانڈ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل کے وی پنٹائک نے حال ہی میں ایک سیمینار میں کہا کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں چینی فوجیوں کی موجودگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور لائن آف کنٹرول میں ان فوجوں کی موجودگی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ چین پی او کے میں مسلسل تعمیر کراتا جارہا ہے۔ چین پی او کے کے اندر کئی سڑکیں اور ہوائی اڈے اور ہائیڈرو پاور بجلی گھر شامل ہیں۔ بھارت بدقسمتی سے آج چین اور پاکستان دونوں کا دشمن نمبر ایک ہے۔ امریکہ کا نمبر ہمارے بعد آتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ 1962 میں ہند ۔ چین جنگ کے دوران چین میں شمالی علاقے کے 38 ہزار مربع کلو میٹر اکسائی چن کے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس کے اگلے سال پاکستان نے بھارت پر دباؤ بڑھانے کے لئے چین سے ایک سمجھوتہ کرکے پی او کے کی 5120 مربع کلو میٹر علاقہ چین کی ترقی کیلئے سونپ دیا تھا۔ فوجی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ علاقہ سلامتی کے لحاظ سے سیاسی طور سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔
پاکستان امریکہ کو آنکھ دکھانے کے لئے ہمیشہ بیجنگ کارڈ کھیلتا ہے۔ چین نے پاکستان کو نیوکلیائی سے لیکرہر طرح کی مدد دی ہے۔ حالانکہ کھلے طور پر چین کوئی ایسا کام شاید نہ کرے جس سے امریکہ ناراض ہوجائے لیکن بھارت اس کی کسی گنتی میں نہیں۔ پاکستان ہمیشہ بلیک میلنگ کرکے اپنا الو سیدھا کرتا ہے۔ کبھی امریکہ کو القاعدہ ۔طالبان کے خلاف لڑائی کا ناٹک کرکے ، کبھی چینی کارڈ کھیل کر۔
Tags: Aksai Chin, America, Anil Narendra, Beijing, China, Jammu Kashmir, Pakistan, Vir Arjun

کنی موجھی بھی پہنچ گئیں تہاڑ

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
22مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
اسپیشل سی بی آئی جج نے شکروار کو ڈی ایم کے ایم پی اور کروناندھی کی بیٹی کنی موجھی اور کلیگنر ٹی وی کے ڈائریکٹر شرد کمار کی ٹو جی اسپیکٹرم معاملے میں ضمانت عرضی مسترد کرتے ہوئے انہیں فوراً گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ کنی موجھی تہاڑ جیل میں بیرک نمبر6 میں رکھی گئی ہیں ، جہاں پاک جاسوس کانڈ میں گرفتار مادھوری گپتا بھی ہیں، کے ساتھ رہیں گی۔ قابل ذکر ہے کہ ٹو جی اسپیکٹرم معاملے میں سابق ٹیلی کمیونی کیشن وزیر اے راجہ، شاہد بلوا، سدھارتھ بلوا اور سنجے چندرا اے ڈی اے جی کے دو اعلی افسر پہلے ہی سے تہاڑ جیل میں بند ہیں۔ عدالت نے ہدایت دی ہے کہ 43 سالہ کنی موجھی اور شرد کمار کوسنیچر کو 10 بجے ان کے سامنے پیش کیا جائے۔ کنی موجھی بھی عدالت کا حکم سن کر ایک دم صدمے میں آگئیں اور رونے لگیں۔ ان کے خاندان کے ممبران اور ان کے شوہر اروندر نے ان کا حوصلہ بڑھایا۔ عدلت کے حکم سنائے جانے پر ڈی ایم کے کے کچھ حمایتی رونے لگے اور چلانے لگے اور عدالت نے اپنے 144 صفحات کے حکم میں کہا کہ گواہی دینے والے زیادہ تر لوگ کلیگنر ٹی وی کے ملازم ہیں، جنہیں لالچ دیا جاسکتا ہے۔
اس سے پہلے سی بی آئی نے اپنی چارج شیٹ میں کنی موجھی پر الزام لگایا کہ انہیں غیر قانونی طریقے سے کلیگنر ٹی وی کو قریب200 کروڑ روپے کے لین دین کا پتہ تھا۔ ایک پرائیویٹ کمپنی کے ذریعے اس چینل کو200 کروڑ روپے دئے گئے جس کی واقفیت کنی موجھی کو تھی۔ قابل ذکر ہے اس گھوٹالے میں سابق وزیرمواصلات اے راجہ جوڈیشیل ریمانڈ میں ہیں۔ یہ گھوٹالہ چھوٹا موٹا نہیں1 لاکھ 76 ہزار کروڑ کا ہے۔ ادھر اے راجہ اب دنیا بھر میں مشہور ہوگئے ہیں۔ کہتے ہیں نام کمانے کا ایک طریقہ بدنام ہونا بھی ہے۔ تبھی تو تہاڑ جیل میں سابق وزیر مواصلات اے راجہ کی سیاسی گلیاروں میں کوئی خبر نہ لے رہا ہو لیکن نامور میگزین ’’ٹائم‘‘ نے انہیں یاد کیا ہے۔ اس میگزین نے انہیں دنیا کے سب سے بدنام لیڈروں کی فہرست میں اہمیت کے ساتھ جگہ دی ہے۔ ٹائم نے اقتدار کے بیجا استعمال کے دنیا کے دس بڑے معاملوں میں شامل لوگوں کی ایک فہرست بنائی ہے۔ اس میں بھارت کا نام روشن کرنے کے لئے ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالہ دوسرے نمبر پر ہے۔ سابق امریکی صدر رچرڈ نکسن کے عہد کے دوران واٹر گیٹ سے جڑے معاملے کوخاص اہمیت دی گئی ہے۔بدنام نیتاؤں کے کلب میں منموہن سنگھ سرکار سے استعفیٰ دے چکے ڈی ایم کے لیڈر اے راجہ نے لیبیائی صدر معمر قذافی ، نارتھ کوریا کے لیڈر کنگ جونگ اور روشن خیالی کے لئے بدنام اٹلی کے وزیر اعظم سلوبرلسکونی کو بھی پیچھے چھوڑدیا ہے۔ ٹائم نے اسپیکٹرم گھوٹالے پر سخت تبصرہ کیا ہے۔ ’’حال کے کچھ مہینوں میں بھارت کی یو پی اے سرکار اس بڑے گھوٹالے سے ہل گئی ہے۔ اس معاملے نے اقتدار پر پکی پکڑ رکھنے والی سرکار کو چنوتی دی ہے۔‘‘ الزامات کی وجہ سے پچھلے سال راجہ کو استعفیٰ دینا پڑا۔
کروناندھی کاسامراجیہ بکھر رہا ہے۔ ان کو اسمبلی چناؤ کو بھی بھاری شکست ملی ہے۔بیٹی اور وفادار دونوں جیل میں ہیں۔ خاندان ٹوٹنے کے دہانے پر کھڑا ہے۔ دیکھتے ہیں آگے آگے ہوتا ہے کیا؟
Tags: 2G, A Raja, Anil Narendra, Corruption, DMK, Kalaignar TV, kani Mozhi, Karunanidhi, Manmohan Singh, Richard Nixon, Water Gate Scandal

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...