Translater

16 ستمبر 2017

بلٹ ٹرین تو ٹھیک ہے لیکن ریلوے کا چال چلن ٹھیک کرو

گجرات کے دورہ پر آئے جاپان کے وزیر اعظم شنجو آبے کے ساتھ مل کر وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو قریب 1 لاکھ کروڑ روپے کی لاگت سے چلنی والی بلٹ ٹرین کا سنگ بنیاد رکھا۔ بلٹ ٹرین کو ہندوستانی آزادی کی 75 ویں سالگرہ 15 اگست 2022 ء تک دوڑانے کا ٹارگیٹ ہے۔ پہلی بلٹ ٹرین احمد آباد سے ممبئی تک چلائی جائے گی جو دو ریاستوں کے درمیان 7 گھنٹے کی دوری محض 3 گھنٹے میں پورا کر سکے گی۔ بلٹ ٹرین واقعی بیحد اہم ترین پروجیکٹ ہے۔ اس کے ذریعے دیش میں ریل سروس جدید دور میں داخل ہوگی۔ جہاں بلٹ ٹرین پروجیکٹ کے پل بنائے جارہے ہیں وہیں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ بلٹ ٹرین تو ٹھیک ہے لیکن پہلے دیش کے موجودہ ریلوے نظام کو تو صحیح کرلو۔ دیش میں 66 ہزار کلو میٹر سے 50 ہزار کلو میٹر پٹریاں انگریزوں کے وقت کی بچھائی ہوئی ہیں۔ ظاہری طور پر دہائیوں بعد ان کا رکھ رکھاؤ ریلوے کے لئے بڑا چیلنج ہے۔ ریلوے کے پاس تمام وسائل ہونے کے باوجود آئے دن ٹرینیں پٹری سے اتر رہی ہیں۔ ایک طرف پی ایم مودی بھارت کی پہلی بلٹ ٹرین کا سنگ بنیاد رکھ رہے تھے دوسری طرف دیش کی راجدھانی کے سب سے بڑے ریلوے اسٹیشن پر ٹرینوں کے پٹری سے اترنے کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر جمعرات کو صبح قریب 6.02 منٹ پر جموں راجدھانی 12426 پلیٹ فارم نمبر 15 پر آرہی تھی کہ ٹرین کا آخری ڈبہ پٹری سے اترگیا۔ ٹرین کی رفتار بہت کم تھی جس سے بڑا حادثہ نہیں ہوا۔ وہیں شیو سینا نے بلٹ ٹرین پروجیکٹ پر پورے طور پر عدم اتفاق ظاہر کیا ہے۔ شیو سینا کہ ماؤتھ پیس اخبار ’سامنا‘ میں پارٹی نے جمعرات کو کہا دیش میں بنیادی ڈھانچہ کی پریشانیاں حل نہیں ہو پارہی ہیں، ممبئی کی لوکل ٹرین اور انڈین ریلوے پریشان ہے، ایسے میں ممبئی۔ احمد آباد کے درمیان بلٹ ٹرین غیر ضروری ہے۔ اس پروجیکٹ کی زیادہ تر فنڈنگ جاپان سے ملنے والے 17 ارب ڈالر کے لون سے ہوگی۔ سوشل میڈیا میں اس اہم ترین پروجیکٹ کو لیکر طنز کسے جارہے ہیں، وجہ یہ ہے کہ کچھ دنوں سے ریل گاڑیوں کے پٹری سے اترنے کا سلسلہ جاری ہے۔ یہاں تک کہ سابق ریلوے وزیر سریش پربھو کو استعفیٰ بھی دینا پڑا تھا۔ رولنگ جوائنٹ اینڈل سے لکھا گیا ہے کہ بلٹ ٹرین کا کیا ۔۔۔ پہلے جو ہے اس کو تو پٹری پر لے آؤ یار۔ ایک شخص نے لکھا ہے ’مجھے نہیں لگتا کہ بھارت کو بلٹ ٹرین کی ضرورت ہے۔اس میں بھاری سرمایہ لگے گا جسے ریلوے ڈھانچہ کو سدھارنے میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔‘ ایک شخص سندر نے طنز کستے ہوئے لکھا ہے کہ سال 2022ء کی خبر مینٹی ننس کی کی وجہ سے بلٹ ٹرین پٹری سے اتر گئی تو ؟ جمعرات کو جب گجرات میں یہ پروگرام شروع ہورہا تھا اس سے پہلے ہی نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر ایک ٹرین پٹری سے اتر گئی۔ میرا خیال ہے کہ دیش میں بیشک بلٹ ٹرین کی ضرورت ہو مگر ہمیں موجودہ ریل کی حفاظت پر بھی اپنی توجہ دینی ہوگی۔
(انل نریندر)

کچا تیل 53 فیصد سستا اور فروخت ہے اونچی قیمت پر

کسی جمہوری دیش میں چنی ہوئی سرکار کا پہلا فرض اور ذمہ داری اس کی جنتا کے تئیں ہوتی ہے۔ اسے یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ اس کی جنتا خوشحال رہے، دو وقت کی اسے روزی روٹی ملے۔ لیکن دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے دیش میں سرکاریں غریب جنتا کے مفادات سے کہیں زیادہ اپنی منافع خوری میں لگی ہوئی ہیں۔ کمر توڑ مہنگائی سے جنتا بے حال پہلے ہی سے ہے اور راحت جہاں دی جاسکتی ہے وہ بھی نہیں دی جاتی۔ ہمارے سامنے پیٹرول، ڈیزل کی قیمتیں ہیں۔ پیٹرول ڈیزل کی قیمت تین سال میں اونچی سطح تک پہنچ چکی ہے۔ بدھ کو ممبئی میں پیٹرول 89.48 روپے اور دہلی میں 70.38 روپے فی لیٹرفروخت ہوا۔ اس سال 16 جون سے پیٹرول ۔ ڈیزل کے دام یومیہ گھٹ بڑھ رہے ہیں۔ تب سے پیٹرول 7.48 فیصد اور ڈیزل 7.76 فیصد مہنگے ہوچکے ہیں لیکن سرکار کا کہنا ہے کہ وہ اس میں دخل نہیں دے گی۔ وزیر پیٹرول دھرمیندر پردھان کا کہنا ہے کہ حکومت دام طے کرنے کے طریقوں کو نہیں بدلے گی۔ بتادیں کہ اگست 2014ء میں ایکسائز ڈیوٹی 9.48 روپے تھی اب یہی 21.48 روپے فی لیٹر ہے۔ یعنی پچھلے تین برسوں میں 126 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ ڈیزل اگست 2014ء میں 3.56 روپے تھا جو اب 17.33 روپے فی لیٹر پہنچ چکا ہے۔ یعنی اس میں 387 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ 73 ہزار کروڑ روپے چار ماہ میں مرکزی حکومت نے ایکسائز ڈیوٹی کی شکل میں وصولے ہیں جبکہ ریاستوں میں ویٹ سے 42 ہزار کروڑ روپے وصولے ،دونوں کے ملا کر 1.15 لاکھ کروڑ روپے بنتے ہیں۔ عام زبان میں جو پیٹرول کی قیمت ؍ لاگت حکومت کو 26.65 روپے فی لیٹر پڑتی ہے اس پر 36.44 روپے فی لیٹر ٹیکس کی شکل میں آجاتا ہے اور 7.29 روپے کا مارجن ہے۔ ایکسائز ڈیوٹی بڑھت کے سبب پیٹرول ۔ ڈیزل میں 387 فیصد کا اضافہ ہو چکا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ بین الاقوامی بازار میں کچے تیل کے دام 2014ء کے مقابلے میں آدھے ہوچکے ہیں اس کے باوجود دیش میں پیٹرول ۔ڈیزل کی قیمتیں اب تک اونچی سطح تک پہنچ چکی ہیں۔ مرکزی سرکار کے تین سال کے عہد میں کچے تیل کے دام 53 فیصدی گرے ہیں، مگر بدھوار کو پیٹرول ممبئی میں 80 روپے تو دہلی میں 70.38 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا۔ جولائی 2014 کو بین الاقوامی بازار میں کچے تیل کے دام 112 ڈالر فی بیرل تھے جو موجودہ وقت میں گھٹ کر 54 ڈالر بیرل تک رہ گئے ہیں۔ اپوزیشن میں رہتے ہوئے اور لوک سبھا چناؤ کمپین کے دوران بھاجپا نے تیل کی قیمتوں کو بڑا اشو بنایا تھا۔ ایکسائز ڈیوٹی اور ویٹ میں اضافے پر روک لگانے کیلئے نئے سسٹم پر زور دیا گیاتھا مگر اقتدار میں آنے کے بعد مودی سرکار نے تین سال میں پیٹرول ۔ ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں 12 مرتبہ تبدیلی کی ہے۔ پتہ نہیں کہ سرکار کو جنتا کے دکھ کی خبر نہیں یا چنتا نہیں ہے؟
(انل نریندر)

15 ستمبر 2017

ویاپاری ڈاکٹر: ڈگری آیوروید کی دھندہ کڈنی کا

ہمارے دیش میں اخلاقی اقدار میں اتنی گراوٹ آگئی ہے کہ بس اب تو اوپر والا ہی مالک ہے۔ ڈاکٹروں کو کبھی بھگوان کا درجہ دیا جاتا تھا لیکن آج کل ڈاکٹر پیسوں کی خاطر جو حرکتیں کررہے ہیں اس سے ہر دیش واسی کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ دہرہ دون جیسی چھوٹی اور خوبصورت جگہ میں کڈنی کا اتنا بڑا ریکٹ ہو اس کا تصور نہیں کیا جاسکتا تھا لیکن انتہائی دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ دہرہ دون کے ایک اسپتال گنگوتری چیریٹیبل اسپتال میں کڈنی نکالنے کے کالے دھندے کا پردہ فاش ہوا ہے۔ دہرہ دون کے ہری دوار روڈ پر واقع گنگوتری چیریٹیبل اسپتال میں تین لاکھ روپے میں کڈنی بیچی جاتی تھی۔ یقین کرنا مشکل ہورہا ہے کہ اس گورکھ دھندے کا سرغنہ کڈنی خور ڈاکٹرامت راوت نکلا۔ امت راوت وہ شخص ہے جو گزرے 24 برسوں سے ڈاکٹری کے پیشے کو داغ لگا رہا ہے۔ یہاں تک کہ جیل کی سلاخوں کو پیچھے رہنے کے بعد بھی اس نے یہ دھندہ نہیں چھوڑا۔ اسی سے اس نے اربوں روپے کی املاک بنائی۔ امت گزرے برسوں میں 500 سے زیادہ کڈنی بیچ چکا ہے۔ اس نے یوروپ ،ایشیا سمیت خلیجی ملکوں میں نیٹ ورک بنا لیا تھا۔ اسی کے ذریعے ہی پچھلے دنوں عمان سے 4 شہری کڈنی ٹرانس پلانٹ کرانے کے لئے دہرہ دون آئے تھے۔ڈاکٹر امت وہی مافیہ ہے جس نے 2013ء میں گوروگرام میں 600 سے زیادہ لوگوں کی کڈنی چرانے کے کھیل کو انجام دیاتھا۔ اس ریکٹ میں شامل زیادہ تر چہروں سے منگلوار کو نقاب اٹھ گیا۔ اس کھیل میں ڈاکٹر امت راوت کے علاوہ اسپتال کے مالک راجیو چودھری عرف بالی ،باشندہ باغپت اور ڈاکٹر رکشت عرف اکشے کے علاوہ عمان کے شیخ سمیت 4 لوگ شامل ہیں۔ ان ساتوں لوگوں کے بھارت چھوڑنے کے اندیشہ کے پیش نظر ایس ایس پی نرودیتا ککریتی نے منگل کو ان کے خلاف لک آؤٹ نوٹس جاری کردیا ہے۔ ڈاکٹر امت ہر شہر میں ایجنٹ بناتا ہے۔ ایجنٹوں کو فی کڈنی کمیشن دیا جاتا ہے۔ پرانے معاملہ بھی سامنے آچکے ہیں۔ امت نے ملک و بیرون ملک میں 500 ایجنٹ بنا رکھے تھے۔ اس مرتبہ پولیس کی تفتیش اور بڑھ گئی ہے کہ اس نے اس ریاست میں کتنے ایجنٹ بنا رکھے ہیں۔ 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک میں زبردستی غریب کے جسم سے نکالی گئی کڈنی کو ڈاکٹر امت 50 سے70 لاکھ روپے میں بیچا کرتا تھا۔ ایس ایس پی ککریتی نے بتایا کہ ڈاکٹر راجیو چودھری نے ہی گنگوتری اسپتال میں میڈیکل سازو سامان و اسٹاف سمیت دیگر وسائل سے اکٹھا کیا تھا لہٰذا راجیو کو بھی پولیس اس سازش میں برابر کا سانجھیدار مان رہی ہے۔
(انل نریندر)

بودھوں اور روہنگیا مسلمانوں میں دشمنی کیوں شروع ہوئی

پچھلے کچھ عرصہ سے روہنگیا پناہ گزینوں کا اشو میڈیا میں چھایا ہوا ہے۔ ان روہنگیا پناہ گزینوں کو بھارت سے واپس بھیجنے کے فیصلہ پر اقوام متحدہ نے تنقید کی ہے۔حالانکہ بھارت نے اس کا زور دار طریقہ سے جواب دیا ہے۔ بھارت کے مستقل نمائندے راجیو کے چندر نے بتایا کہ قانون کی تعمیل کرنے کو کسی کے تئیں ہم کم ہمدردی کے طور پر نہیں پیش کیا جاناچاہئے۔ دوسرے دیشوں کی طرح بھارت بھی غیر قانونی پناہ گزینوں کو لے کر فکر مند ہے لیکن چندر نے صاف کہا کہ روہنگیا پناہ گزیں نہیں بلکہ ناجائزتارکین وطن ہیں۔ آخر یہ روہنگیا مسلمان اور میانمار کے بودھوں کے بیچ مسئلہ کیا ہے؟ عزم تشدد کا اصول دیگر مذاہب کے مقابلہ میں بودھ مذہب کے لئے زیادہ اہم ہے۔ بودھ بھکشو کسی کا قتل نہ کرنے کی تعلیم دیتے ہیں اس لئے سوال یہ ہے کیوں بودھ بھکشو مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں اور مشتعل بھیڑ میں شامل ہورہے ہیں؟ میانمار کی حالت باعث تشویش ہے یہاں 969 گروپ نام کی ایک انجمن مبینہ طور پر مذہبی نفرت پھیلا رہی ہے۔ اس کی قیادت اسین بیراتھو نام کے ایک بودھ بھکشو کہتے ہیں کہ انہیں مذہبی نفرت پھیلانے کے الزام میں 2003 ء میں جیل کی سزا ہوئی تھی۔ وہ 2012ء میں رہا ہوئے تھے۔ وہ خود کو میانمار کا اسامہ بن لادن بتاتے ہیں۔ 2013ء میں میکٹیلا قصبہ کے مسلمانوں پر مشتعل بھیڑ کے حملہ میں 40 لوگوں کی موت ہوگئی تھی۔ تشدد کی شروعات سونے کی ایک دوکان سے ہوئی تھی۔ دونوں ملکوں میں ہوئے تشدد (میانمار اور سری لنکا) اقتصادی وسائل کونشانہ بنایا گیا۔ یہاں اکثریتیوں کی توقعات کے لئے مذہبی اقلیتوں کو بلی کا بکرا بنایا گیا۔ 2013 میں ہی رنگون کے نارتھ میں واقع بھوکسن میں ایک مسلمان لڑکی کی سائیکل ایک بودھ بھکشو سے ٹکرا گئی تھی اس کے بعد بھڑکے تشدد میں قہر برپا کررہے بودھوں نے مسجد پر حملے کئے تھے اور قریب 70 گھروں میں آگ لگادی تھی۔ اس حملہ میں ایک شخص کی موت ہوگئی تھی اور دیگر 9 زخمی ہوئے تھے۔ دھرم کے راجہ کی شکل میں جانے جانے والے میانمار کے حکمراں بودھ دھرم کے اصولوں کی بنیاد پر جنگ کو جائز ٹھہراتے ہیں۔ جاپان میں بھی بہت سے سمورائی بودھ دھرم کے زین مت کو مانتے ہیں۔وہ کئی طرح کے تشدد کو جائز ٹھہراتے ہیں۔ وہ ایک شخص کے قتل کو بھی بدلے کی کارروائی بتاتے ہیں۔ اسی طرح کی دلیلیں دوسری جنگ عظیم میں بھی دی گئی تھیں۔ سری لنکا اور برما میں پنپنے راشٹرواد کی تحریکوں میں بودھ دھرم نے ایک اہم ترین کردار نبھایا اور برطانوی سامراج کو اکھاڑ پھینکنے کی اپیل کی۔ بعد میں تشدد بھڑک گیا۔ رنگون میں 1929ء میں بودھ بھکشوؤں نے چار گورو کو قتل کردیا تھا۔ سری لنکا میں 1983ء میں پھیلی نسلی کشیدگی خانہ جنگی میں بدل گئی۔ اس دوران سری لنکائی مسلمانوں کے خلاف تشدد کی کمان تمل باغیوں نے سنبھال لی تھی۔ برما میں بودھ بھکشوؤں نے فوجی حکومت کو چنوتی دینے کے لئے اپنی اخلاقی حکمرانی کا استعمال کیا اور 2007ء میں جمہوریت کی مانگ کی۔ اس وقت پر امن مظاہروں میں کئی بودھ بھکشوؤں کی جان گئی۔ آج کل کچھ بودھ بھکشو اپنی اخلاقی حکمرانی کا استعمال بالکل الگ طریقے سے کررہے ہیں۔ وہ اقلیت ہو سکتے ہیں لیکن ایسے بودھ بھکشوہزاروں کی تعداد میں ہیں جو خود کو اینگری ینگ مین مانتے ہیں۔ دونوں دیشوں میں حکومت کررہیں پارٹیاں اور بودھ بھکشوؤں کے درمیان کا رشتہ ابھی صاف نہیں ہے۔ جموں میں رہ رہے روہنگیا مسلمانوں کی طرف سے سپریم کورٹ عرضی دائر کر مرکزی سرکار کی طرف سے انہیں میانمار واپس بھیجنے کے فیصلہ کو چنوتی دی گئی ہے۔ اس سے پہلے بھی ایسی عرضی دائر ہوچکی ہے۔ عرضی گزار نے درخواست کی ہے کہ اس معاملہ میں ان کا موقف بھی سنا جائے۔ معلوم ہو کہ ماضی گذشتہ میں دائر عرضی میں بین الاقوامی انسانی حقوق معاہدوں کی خلاف ورزی سمیت کئی بنیاد بتاتے ہوئے سرکار کے فیصلہ کو چنوتی دی گئی ہے۔
(انل نریندر)

14 ستمبر 2017

بچوں کی سلامتی کسی ایک اسکول کا نہیں پورے دیش کا معاملہ ہے

گوروگرام کے ایک اسکول میں پچھلے جمعہ کو جو کچھ ہوا وہ صرف ایک شہر یا ایک ریاست کا مسئلہ نہیں ہے یہ پورے دیش و سماج کا مسئلہ ہے۔ رائن اسکول کے سات سالہ بچے پردھومن کے قتل کے معاملہ میں والد کے ذریعے واقعہ کی سی بی آئی جانچ کی مانگ کو لیکر دائر عرضی پر سپریم کورٹ نے کہا یہ ایک اسکول کا معاملہ نہیں، بلکہ پورے دیش سے جڑا معاملہ ہے۔ پردھومن کے والد ورون ٹھاکر کے وکیل کے مطابق ہم نے کہا ہے کہ اسکول کی خامیوں پر ذمہ داری طے ہو۔ کمیشن یا ٹریبیونل بنایا جائے۔ سماعت کرتے وقت چیف جسٹس ڈیپک مشرا کی بنچ نے سی بی ایس ای سے بچوں کی سکیورٹی اور اسکول مینجمنٹ کی ذمہ داری طے کرنے کی گائڈ لائن پر تین ہفتے کے اندر جواب دینے کو کہا ہے۔ پردھومن کی جن حالات میں موت ہوئی وہ نہ صرف بیحد سنگین ہے بلکہ ایک چمک دمک بھرے پرائیویٹ اسکولوں کے سیاہ موقف کا ایک اور حیران کرنے والی مثال بھی ہے۔ اسکول کے ٹوائلٹ میں ایک بچے کی گردن چاقوسے کاٹی گئی اورکسی کو بدقسمت بچے کی چیخ تک نہیں سنائی پڑی۔ کسی بھی اسکول میں طالبعلم کے ساتھ ایسی بربریت بہت ہی افسوسناک ہے۔ اس خوفناک واقعہ نے اسکولوں میں بچوں کی سلامتی کے سوال سے کہیں زیادہ خطرناک شکل سامنے لادی ہے۔ بچوں کے لئے گھر کے بعد سب سے محفوظ مقام اسکول ہوتا ہے لیکن اگر وہاں بھی بچے محفوظ نہیں رہے تو اس کا مطلب ہے کہ اسکولوں کا انتظامیہ ان کی سلامتی میں لاپروائی برت رہا ہے۔ پچھلے سال نئی دہلی کے وسنت کنج میں اسی اسکول کی ایک برانچ کے واٹر ٹینک میں گر کر چھ سال کے ایک طالبعلم کی موت ہوگئی تھی۔ یہ حیرانی کی بات ہے کہ پرائیویٹ اسکول عمدہ پڑھائی اور شاندار سہولیت کے لئے بھاری فیس تو لیتے ہیں، لیکن وہ کسی طرح کی ذمہ داری نہیں لیتے۔ گوڑگاؤں کے واقعہ سے والدین میں دہشت پھیلنا فطری ہی ہے۔ اس واقعہ کے فوراً بعد دہلی کے ایک پرائیویٹ اسکول میں پانچ سال کی معصوم بچی کے ساتھ آبروریزی کی واردات سامنے آئی ہے۔ ایسے حادثہ لگاتار سامنے آرہے ہیں اور اس سے ایک بات تو صاف ظاہر ہورہی ہے کہ اسکول انتظامیہ کا دھیان صرف موٹی فیس اور ڈونیشن وصول کرنا رہ گیا ہے۔ ہمارے دیش میں تعلیم ایک ایسادھندہ بن گیا ہے جو کسی کے تئیں جواب دہ نہیں ہے۔ بچوں کی سیفٹی کو لیکر سی بی ایس ای کے ذریعے باقاعدہ ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ سی بی ایس ای نے اسکول کمپلیکس میں سی سی ٹی وی اور چہاردیواری ، سکیورٹی خامیاں پائی گئیں اور بچوں کو سہولیت سے آراستہ بس دستیاب کرانے، بس میں سی سی ٹی وی لگانے کی ہدایت دی گئیں تھیں لیکن والدین سے موٹی فیس اور طرح طرح کی متوں میں فاضل پیسہ وصولتے رہنے والے اسکول سکیورٹی قواعد پر کھرے نہیں اتر رہے ہیں جبکہ اخلاقی طور سے قانونی طور سے بھی بچہ جب تک جس ادارہ کی نگرانی میں ہے تب تک سکیورٹی کی ذمہ داری اسی کی ہے۔ یہ واقعہ قومی تشویش کا موضوع بنناچاہئے کہ ایسے معاملہ لگاتار بڑھ رہے ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ بچوں کا اسکول جانا خطرے بھرا ہوگیا ہے۔ کبھی وہ اسکول کی بس یا وینمیں واردات۔ حادثہ سے دوچار ہوتے ہیں اور کبھی اسکول کمپلیکس کے اندر ہی۔ سب سے زیادہ گھناؤنی بات یہ ہے کہ وہ جنسی ٹارچر کے بھی شکار بننے لگے ہیں۔ بچوں کی سلامتی کو لیکر طے پیمانوں پر ہمیشہ اسکول انتظامیہ سے سوال پوچھے جانے چاہئیں اور باآور ہونا پڑے گا کہ اسکول میں سی سی ٹی وی کیمرے کام کررہے ہیںیا نہیں؟ ملازمین کی ویری فکیشن ہوئی ہے یا نہیں؟ ٹوائلٹ میں سکیورٹی کا کیا انتظام ہے، کیا سسٹم ہے؟ اسکولوں کو اپنے سبھی ملازمین کا نام ، پتہ ،ٹریک ریکارڈ ،رابطہ نمبر وغیرہ تفصیل بتانی چاہئے اور پوچھنے پر یہ بھی بتانا چاہئے کہ انہیں کتنی تنخواہ ملتی ہے؟ مفت میں یا بہت معمولی تنخواہ پر کام کرنے والوں سے بھلا کتنے پیشہ ور وں کی امیدیں کی جاسکتی ہیں۔ دیش بھر میں پرائیویٹ اسکولوں پر لگام لگانے کا وقت آگیا ہے، تاکہ تعلیم کے مندروں کو تجارت میں بدل دینے کا ٹرینڈ بند ہو۔
(انل نریندر)

باباؤں کی بھر مار:اصلی کون نقلی کون؟

آج کل باباؤں کی خبریں سرخیوں میں چھائی ہوئی ہیں۔ اصلی اور نقلی بابا میں بحث چھڑی ہوئی ہے۔ کونسا بابا اصلی ہے ، کونسا نقلی ہے یہ کون طے کرے گا؟ بہرحال ہندو سنتوں کی بڑی انجمن اکھل بھارتیہ اکھاڑا پریشد نے ایتوار کو الہ آباد میں اپنی میٹنگ کے بعد 14 فرضی سنتوں کی لسٹ جاری کی ہے۔ ڈیرہ سچا سودا چیف گورمیت رام رحیم کو سادھوی سے بدفعلی معاملہ میں سزا ملنے کے بعد ہندی دھرم گوروؤں کے کردار، چال چلن پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ ایتوار کی صبح مٹ بانچھوری گدی نے اکھاڑہ کونسل کی میٹنگ 14 فرضی باباؤں کی فہرست جاری کر ان کے بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا ہے۔ ان میں آسا رام، گورمیت رام رحیم اور رادھے ماں قابل ذکر ہیں۔ اس فہرست میں آسا رام ،رادھے ماں ،سچیدا نند، رام رحیم،اوم بابا، نرمل بابا، بھیما نند، اسیما نند،رامپال، نارائن سائن،کشومونی اور ملکھان گری شامل ہیں۔ اس سلسلہ میں ایسے تو سنتوں کے خلاف کارروائی کرنے کا پہلے ہی من بنا لیا گیا تھا ۔ اس سلسلے میں اکھاڑوں کی پہلی میٹنگ جون میں ہوئی تھی۔ اکھاڑے کے الہ آباد میں واقعہ موجگیری آشرم میں ہوئی تھی ، تبھی ان سنتوں کے خلاف کارروائی کا خاکہ طے کرلیا گیا تھا۔ سبھی اکھاڑوں کو فرضی سنتوں کی فہرست تیار کرنے کو کہا گیا تھا۔ اکھاڑے نے میٹنگ کے بعد سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے نام نہاد سنتوں کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے۔ان کو سنت کے نام پر دی جانے والی سہولیات بند کی جائیں۔ سوشل میڈیامیں سنتوں و بڑے لیڈروں کے خلاف ہو رہے غلط الفاظ کے استعمال پر بھی ناراضگی ظاہر کر انتظامیہ سے لگام لگانے کی مانگ کی گئی ہے۔ اصل سوال یہی ہے سچے اور فرضی باباؤں میں فرق کیسے کیا جائے؟ اکھاڑہ پریشد اس معاملہ میں کوئی خاص مدد نہیں کرپا رہا ہے۔ کسی بھی مذہب میں شبہ اور ڈھونگی دلیلوں کے لئے زیادہ گنجائش نہیں ہوتی۔ کسی بابا کی میٹھی میٹھی باتوں میں آکر کوئی ایک بار اس پر بھروسہ کرلے تو پھر اس کے لئے بابا کو آزمانے کے سارے راستے بند ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اکھل بھارتیہ اکھاڑہ پریشد نے ’سنت ‘کی اپادھی دینے کیلئے باقاعدہ کارروائی مقرر کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے تاکہ گرمیت رام رحیم جیسے لوگوں کو اس کا غلط استعمال کرنے سے روکا جاسکے۔ وشو ہندو پریشد کے جوائنٹ سکریٹری سریندر جین نے کہا کہ سنتوں کے درمیان یہ احساس ہے ایک یا دو دھارمک نیتاؤں کے غلط کاموں کی وجہ سے پوری برادری کیساکھ کو غلط طریقے سے دکھایا جارہا ہے۔ بی ایچ پی اکھل بھارتیہ اکھاڑہ پریشدکے ساتھ مل کر کام کرتی ہے۔ جین نے کہا کہ اب کسی شخص کی پڑتال کرنے اور اس کے نظریہ کا تجزیہ کرنے کے بعد ہی یہ اپادھی دی جائے گی۔ انہوں نے کہا یہ اپادھی دینے سے پہلے اکھاڑہ پریشد یہ بھی دیکھے گی کہ شخص کا طریقہ زندگی کس طرح کی ہے۔
(انل نریندر)

13 ستمبر 2017

آخر کیا ہے یہ جان لیوا بلیووہیل گیم

کانپور کے برّا علاقہ میں ایک ٹیچر کی سوجھ بوجھ سے بلیو وہیل گیم کے جال میں پھنسے گیارھویں کلاس کے طالبعلم سشیل کمار کنوجیا کو تو بچا لیا گیا لیکن ابھی درجنوں طالبعلم اس گیم کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں آخر یہ بلیو وہیل گیم کیا ہے؛ خطرناک کارناموں کے لئے نوجوان لڑکوں کو اکسانے والا آن لائن گیم ’بلیو وہیل چیلنج‘ پچھلے کافی عرصے سے بھارت میں مقبول ہے۔ تقریباً 50 دن تک چلنے والے اس کھیل میں کھلاڑی کو50 ٹاسک کرنے ہوتے ہیں، جن میں سے کئی میں خود کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس کھیل میں کھلاڑی کو کرنا ہوتا ہے سوسائڈ یا خودکشی۔ اس پورے کھیل کے دوران کھلاڑی کو اپنے سبھی کارناموں کے ویڈیو بنا کر اس وہیل دی انسٹرکچر کو بھیجنے ہوتے ہیں جو ابھی توا سے انٹرکٹ کرتا رہا ہو۔ دنیا بھر میں اس چیلنج کی وجہ سے تقریباً 130 موتیں ہوچکی ہیں۔ بھارت میں بھی کئی لڑکے اس کے چلتے اپنی جان گنوا چکے ہیں۔ کہتے ہیں اس کھیل کی شروعات 2013 سے ہوئی تھی۔ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ Kontake کے ایک گروپ F-57 ،جسے دیتھ گروپ کہا جاتا تھا کی وجہ سے پہلی موت 2015 میں ہوئی۔ روس کی ایک یونیورسٹی سے باہر کئے گئے طالبعلم فلپ بدیکن نے دعوی کیا تھا کہ اس نے یہ کھیل بنایا ہے۔ اس کے مطابق اس نے ایسا اس لئے کیا کیونکہ وہ چاہتا تھا کہ سماج صاف ہوجائے اور اس کے مطابق ان لوگوں نے خودکشی کے لئے اکسا کر ایسا کیا جاسکتا ہے جن کی(اس کے مطابق ) کوئی حیثیت نہیں تھی۔ اسے نوعمرلڑکوں کو خودکشی کے لئے اکسانے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔ 11 مئی کو بدیکن کو ملزم قرار دے کر تین سال کی سزا سنائی گئی۔ بلیو وہیل کا تعلق وہیل (بڑی مچھلی) کے سوسائڈ سے ہے۔ پانی میں رہنے والے جانور بیچ پرچلے جاتے ہیں وہاں ان کی ڈی ہائیڈریشن ، اپنے خودکے وزن یا ہائی ٹائٹ کی وجہ سے موت ہوجاتی ہے۔ یہ کھیل چیلنجرز (جنہیں کھلاڑی یا امیدوار بھی بلایا جاسکتا ہے) اور پرستارو کے درمیان رشتے پر بیس ہوتا ہے۔ اس میں منتظمین کے ذریعے دئے گئے فرائض کی ایک سیریز شامل ہوتی ہے جسے کھلاڑیوں کو پورا کرنا ہوتا ہے۔ عام طور پر یومیہ ایک کام کرنا ہوتا ہے، جس میں سے کچھ خود اعتمادی سے جڑے ہوتے ہیں، کچھ کام ایڈوانس میں لیا جاسکتا ہے، اس کھیل کا آخری فیصلہ خودکشی کرنے کو کہا جاتا ہے۔ کاموں کی فہرست کو 50دنوں میں پورا کیا جانا ہوتا ہے جس میں شامل ہوتے ہیں صبح 4 بجے جاگنا،دیوار پر چڑھائی اور ایک جملہ یا تصویر شخص کے اپنے ہاتھ یا پیٹھ پر گدوانا، خود کام کرنا، ایک سوئی کو اپنے ہاتھ یا پیر پر چبھانا، ایک پل یا چھت پر کھڑاہونا، منتظمین کے ذریعے بھیجے گئے سنگیت سننا، ویڈیو دیکھنا، ان میں سے ایک سنگیت ویڈیو ناروے گلوکار ایملی نکولس کا جوش بھرا گیت اسٹریو شامل تھا۔ بھارت میں اس گیم سے متاثر ہوئے کئی معاملہ سامنے آچکے ہیں۔ 30 جولائی 2017 کو ممبئی شہر کے اندھیری مشرق میں ایک 14 سالہ لڑکے نے 7 ویں منزل سے کود کو خودکشی کرلی۔ وزیر اعلی دیویندر پھڑنویس نے اس خودکشی کے لئے بلیو وہیل کھیل کو قصوروار ٹھہرایا ہے۔ 13 اگست کو بنگال کے مغربی مدنا پور ضلع میں ایک15 سال کے لڑکے نے خودکشی کرلی۔ پولیس کو شبہ ہے کہ یہ واردات اس کھیل سے جڑی ہے۔ بھونیشور میں بلیو وہیل گیم کے تئیں بیداری و ہدایتوں کے باوجود ریاست کے نوجوان اور لڑکے گیم کھیل رہے ہیں۔ ایک ایسا ہی معاملہ چکائی گاؤں میں سامنے آیا۔ یہاں آئی ٹی آئی کا ایک طالبعلم انل بریکے بلیو وہیل گیم کے کئی راؤنڈ کھیلنے کے بعد اس میں پھنس گیا، آخر میں اسے خودکشی کرنی تھی لیکن اسے بچا لیا گیا۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کے اسمارٹ فون سے ہائیپر لنک آیا جس سے وہ بہت خوش ہوا اور اس نے اسے اپ لوڈ کرلیا۔ جب وہ گیم کھیل رہا تھا تبھی اس کی دادی آگئی ، اس نے دیکھا کہ اس کا عام دنوں کی طرح برتاؤ نہیں ہے۔ خاندان کے دیگر افراد کودادی نے بتایا تو گھر والوں نے اس کا موبائل چھین لیا۔ تب تک وہ کلائی پر کئی کھرونچ لگا چکا تھا۔ کوٹا پور پولیس سپرنٹنڈنٹ کنور وشال نے بتایا کہ جانچ کے بعد پتہ چل پائے گا کہ بلیو وہیل گیم کے سبب ایسا ہوا ۔سولن میں بلیو وہیل کی گرفت میں اسکولی طالبعلم کے رشتے داروں نے بتایا کہ ان کا بچہ ایک پرائیویٹ اسکول میں پڑھنے جاتا تھا اور پچھلے کچھ دنوں سے وہ رات کو تاخیر سے سوتا اورصبح 4 بجے اٹھ جاتا تھا۔ اس 12 سالہ بچے کی گیم میں شامل ہونے کی جانکاری جب رشتے داروں کو ملی تو انہوں نے اس کا اس اسکول میں جانا بند کردیا۔ بچے کو جب اس کی حقیقت پتہ چلی تو وہ صدمہ میں ہے اور آہستہ آہستہ راز کھول رہا ہے۔ بات چیت پر اس نے بتایا کہ وہ تین طالبعلم ایک ساتھ اس کھیل کو کھیل رہے تھے اور اس نے اس کھیل کے دو چیپٹر کھیلے اور بازو پر بلیو وہیل کے نشان اتار لئے۔ بھارت سرکار اور تمام ریاستی حکومتوں کو چاہئے کہ وہ بلا تاخیر اس کھیل کا پردہ فاش کریں ۔ اور بلیو وہیل کو ہو سکے تو بین کریں۔ کئی دیشوں میں اس کھیل پر پابندی لگ چکی ہے۔ ماں باپ اور رشتے داروں کو خاص کر ہوشیاری برتنی ہوگی۔ بچوں کے ہاتھوں میں اسمارٹ موبائل فون جان لیوا بھی ہوسکتا ہے یہ کسی کو اندازہ بھی نہیں تھا۔ بچوں کو بچاؤ۔
(انل نریندر)

گردش میں چل رہے ہیں کانگریسیوں کے ستارے

پچھلے کچھ عرصہ سے کانگریسیوں پر جانچ کا معاملہ تیزہوگیا ہے۔ تازہ معاملہ سابق وزیر ماحولیات جینتی نٹراجن کا ہے۔ جھارکھنڈ میں ایک کمپنی کو کھدان کی منظوری کے معاملہ میں جینتی نٹراجن کے خلاف سی بی آئی کا شکنجہ کس گیا ہے۔ تقریباً تین سال تک ابتدائی جانچ کرنے اور ثبوت اکٹھا کرنے کے بعد جانچ ایجنسی سے ایک ایف آئی آر درج کی ہے۔ چنئی میں واقع ان کے گھر پر چھاپہ مارا گیا۔ جینتی پر سارنڈا کے جنگلوں میں الکٹرواسٹیل کاسٹنگ لمیٹڈ کو لوہے و میگنیز ابرق کی کھدائی کے لئے ماحولیات محکمہپر منظوری دینے میں گڑبڑی کا الزام ہے۔ ادھر سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم کے بیٹے کارتی چدمبرم کی سی بی آئی سے دور بھگانے کی تمام کوششیں ناکام رہیں۔ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد انہیں نئی دہلی کے سی بی آئی ہیڈ کوارٹر میں آخر کار پیش ہونا پڑا۔ این آئی ایکس میڈیا کمپنی کو غیر ملکی سرمایہ فروغ بورڈ کی طرف سے دی گئی چھوٹ میں رول کے متعلق کارتی سے 8 گھنٹے سے زیادہ پوچھ تاچھ کی گئی۔ ذرائع کے مطابق ان سے اس دوران 100 سے زیادہ سوال پوچھے گئے۔ سی بی آئی نے مئی میں آئی این ایکس میڈیا کو ایک ایف آئی پی ڈی کی جانچ سے بچانے کے عوض میں رشوت لینے کے الزام میں کارتی چدمبرم کے گھروں و دفتروں پر چھاپہ مارا گیا تھا۔ سی بی آئی نے ایف آئی آر میں الزام لگایا ہے کہ اس وقت کے وزیر خزانہ پی چدمبرم کا بیٹا ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کارتی چدمبرم نے آئی این ایکس کو ایف آئی بی پی کی جانچ میں کلین چٹ دلا دی تھی۔ سی بی آئی کی جانچ سے بچنے کے لئے کارتی نے ہائی کورٹ اور بعد میں سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا لیکن سپریم کورٹ نے صاف کردیا تھا کہ وہ سی بی آئی کی جانچ سے نہیں بچ سکتے۔ کارتی سے ہوئی پوچھ تاچھ کی رپورٹ سپریم کورٹ کو سونپ دی گئی ہے۔ تیسرا کیس کانگریس صدر سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ واڈرا کا ہے۔ ان سے جڑے زمین الاٹمنٹ گھوٹالہ کی سی بی آئی جانچ کررہی ہے۔ بیکانیر میں سی بی آئی حکام نے اس سلسلہ میں لوک مت و جج نیٹ پولیس تھانوں میں درج 18 ایف آئی آر کی نقل لینے کے ساتھ ہی محکمہ محصولات و ضلع کلکٹر سے جانکاری اور ضروری ثبوت اکھٹے کئے ہیں۔ یہ معاملہ کچھ ایسا ہی ہے ۔فائرننگ رینج کے اجڑے لوگوں کے نام سے زمین کے فرضی الاٹمنٹ کا کھیل 2006 سے شروع ہوا۔ اس وقت محصولات سے جڑے حکام و ضلع کلکٹریٹ کے کچھ حکام نے مقامی زمین مافیاؤں اور کچھ لیڈروں سے مل کر 1400 بیگھہ زمین و الاٹمنٹ فرضی ناموں سے کرالیا اور پھر اسے بیچ دیا۔ کئی بار یہ زمین بکی ۔اسی کڑی میں 2010 میں رابرٹ واڈرا کی کمپنی اسکائی لائٹ ہاسپٹالٹی نے 275 بیگھہ زمین محض 79 لاکھ روپے میں خرید لی جبکہ اس کی اصلی قیمت 2 کروڑ روپے سے زیادہ بتائی جارہی ہے۔ اس زمین گھوٹالہ کو لیکر جو 18 ایف آئی آر کولایت و گجنیٹ پولیس تھانہ میں درج ہوئیں ، اس میں سے چار ایف آئی آر واڈرا کی کمپنی کے نام درج ہیں۔ لگتا ہے کچھ کانگریسیوں کے ستارے گردش میں چل رہے ہیں۔ سارے معاملہ عدالت میں ہیں۔ اگر سیاسی رقابت سے کئے گئے ہیں تو عدالت میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔
(انل نریندر)

12 ستمبر 2017

اب کھلتے جارہے ہیں گرمیت رام رحیم کے دفن راز

اب آہستہ آہستہ ڈیرا سچا سودہ کے سربراہ گرمیت رام رحیم کے سرسہ ہیڈ کوارٹر میں دفن راز کھلنے لگے ہیں۔ ہائی کورٹ کے جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس اے جی مسیح و جسٹس اونیش تھنگن کی مکمل بنچ نے حکم دیا ہے کہ ریٹائرڈ سیشن جج اے کے ایس پوار کی نگرانی میں ڈیرہ کی جانچ کروائیں۔ جج پوار کی نگرانی میں ہی ڈیرہ کی پراپرٹی سمیت دیگر سبھی مقامات کی جانچ کی ویڈیو گرافی کرانے کے بھی احکامات دئے ہیں۔ جانچ پوری ہونے پر اس کی سیل بند رپورٹ ہائی کورٹ کو سونپی جائے گی۔ جانچ میں چونکانے والے معمہ سامنے آرہے ہیں۔ ڈیرہ سچا سودا سرسہ میں تلاشی کارروائی کے دوسرے دن سنیچر کو تلاشی ٹیم نے ناجائز آتشبازی فیکٹری پکڑی، اسے سیل کردیا گیا۔ فیکٹری ڈیرہ میں بانجکا روڈ پر پائی گئی۔ اس کو جانوروں کے کھانا بنانے کے نام پر چلایاجاتا رہا۔ سرچ ٹیم نے فیکٹری میں بھاری مقدار میں دھماکو سامان و پٹاخہ ضبط کئے ہیں۔ برآمد دھماکو سامان میں 85 ڈبوں میں پٹاخہ رکھے گئے تھے۔فیکٹری میں کچھ ہتھیاروں کو بھی بنایا جاتا تھا۔ پچھلے دنوں جن ہتھیاروں کو برآمد کیا تھا ان میں سے کچھ کی بٹ یہیں بنتی ہے۔ پولیس نے اس نامعلوم فیکٹری مالک کے خلاف دھماکو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس نے ڈیرہ میں پنچکولہ سینٹر کے انچارج جے کور سنگھ اور ایک دیگر دان سنگھ کو چنڈی گڑھ میں گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق پنچکولہ میں 25 اگست کو خوفناک تشدد کے پیچھے انہی دونوں کا ہاتھ تھا۔ پٹیالہ میں پنجاب پولیس کے اس کمانڈو کرنجیت سنگھ کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جو رام رحیم کی سکیورٹی میں تھا۔ اس سے ہتھیار بھی ملے ہیں۔ ڈیرہ چیف کی گپھا سے سادھویوں کی رہائش کی طرف جانے والے راستے میں چھوٹے چھوٹے کمرے اور باتھ روم بھی ملے ہیں۔ گپھا میں فائبر سے ڈھک کر رکھے گئے سامان کی جانچ جاری ہے۔ گپھا سے ملے ایسے ثبوتوں کے بعد سی بی آئی کی اسپیشل کورٹ کے ذریعے جنسی استحصال معاملہ میں دی گئی سخت سزا پر مہر لگادی گئی ہے۔بتایا گیا ہے گپھا کی تیسری منزل پر کچھ کھدائی ہوئی، خیال ہے کہ وہاں سے کوئی مشتبہ چیز کھود پر ڈیرہ مینجمنٹ منڈل نے بابا کے جیل جانے کے بعد ثبوتوں کو مٹانے کے لئے نکالی ہے۔ جانچ میں ملے دھماکو کارخانہ کے بعد اب ڈیرہ چیف کی گپھا سے اے کے۔47 کے خالی ڈبے نے سب کو حیرت میں ڈال دیا کہ آخر گرمیت رام رحیم ہتھیار کے زور پر ہی لڑکیوں سے آبروریزی کیاکرتا تھا۔ جیسا کہ ایک سادھوی نے سال 2002 میں ہائی کورٹ کو لکھے خط میں تذکرہ کیا تھا۔ ڈیرہ کمپلیکس میں مشتبہ سامان ملنے کے بعد سرکار کی خفیہ ایجنسیوں کے ان پٹ کے بعد اب ڈیرہ پربندھک منڈل کی چیئرپرسن وپاسنا انسا بھی جانچ کے راڈار پر ہیں۔ سرچ آپریشن کے دوران گرمیت رام رحیم کی رہائش ’تیرا واس‘ جسے گپھا بھی کہا جاتا ہے، وہاں ایک خفیہ سرنگ بھی ملی ہے۔ اس گپھا کے اوپر مٹی ڈال کر اور فائبر لگا کر اسے بند کیا گیا تھا۔ جانچ ٹیم نے اس کی کھدائی شروع کردی ہے۔ ہریانہ سرکار کے ترجمان نے بتایا اس گپھا سے کھڑکی نما خفیہ راستہ ملا ہے۔ یہ راستہ ’تیراواس ‘ سے سادھویوں کے ہاسٹل تک جاتا ہے۔ تخت شری دمدمہ صاحب کے جتھے دار بلجیت سنگھ ددوال نے سرسہ کے گرودوار شری دسویں پنت شاہی میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے خلاصہ کیا کہ گرمیت رام رحیم کے ڈیرہ میں اعضا ء کی تجارت کا گھناؤنا کام بھی ہوتا تھا۔ گرمیت رام رحیم لوگوں کو اعضاء دینے کے لئے اکساتا تھا۔ ڈیرے سے نکل رہے لوگوں نے مجھے بتایا کہ جب لوگ اعضا ڈونیٹ کرتے تھے تو نہ جانے کتنوں کے اعضاء غائب ہوجاتے تھے۔ جو لوگ اپنوں کا علاج کرانے کے لئے ایک اعضاء دیتے تھے اس کے کچھ اور دیگر جسم کے حصے چپکے سے نکال لئے جاتے تھے۔ بلجیت سنگھ نے کہا ڈیرہ سچا سودا نہ صرف پاکھنڈ کا سودا ہے بلکہ آبروریزوں کا اڈہ بھی ہے۔ ڈیرہ چیف بابا گرمیت رام رحیم آبروریزں کا سرغنہ ہے جب پر سی بی آئی کورٹ نے تاریخی فیصلہ دے کر ثابت کردیا ہے کہ قانون سبھی کے لئے برابر ہے۔ سناریہ جیل میں 28 اگست کو 20 سال کی سزا پانے کے بعد دو دن تک بابا رہ رہ کر چلاتا تھا کہ میں بھی کتا ،ساڈا کی تھا۔ مگر اب گم ہے۔ کھانا بھی بہت کم کھاتا ہے۔ جیل کے اندر کی ان باتوں کا خلاصہ سامنے آیا ہے جو دلت نیتا سودیش کراڈ نے کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے بابا کے آتے ہی ایسا لگا کہ جیل میں ہی ہماری ایک اور جیل ہوگئی۔ کسی بھی قیدی کو باہر نہیں نکلنے دیاگیا اور بلاک میں ہی بند کردیا۔ قیدیوں کی ضمانت اور رہائی بھی روک دی گئی ہے۔ سودیش نے کہا کہ جیل میں قریب 1300 قیدی ہیں۔ روزانہ 150 کی کورٹ میں تاریخ ہوتی ہے جن کی تاریخیں تھیں ان کی تاریخیں آگے بڑھ گئیں۔ کسی کی ضمانت ہونی تھی وہ ایک مہینہ لیٹ ہوگئی۔ روہت کی سناریہ جیل کے آس پاس ایک کلو میٹر تک سکیورٹی کا گھیرا بنادیا گیا ہے۔ ادھر گرمیت رام رحیم کے حمایتی افواہ پھیلا رہے ہیں کہ جیل میں بند بابا نہیں ان کا ڈپلیکیٹ ہے۔ سوشل میڈیا پر دعوی کیا جارہا ہے کہ 15 اگست کو ڈیرہ میں ہوئے پروگرام میں گرمیت کے بال کافی چھٹے دکھائی دے رہے تھے جبکہ 25 اگست کو پیشی کے بعد اس کے بال اور داڑھی کافی بڑھی دکھائی دے رہی تھی۔ انہی تصویروں نے قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔ پتہ چلا ہے کہ ڈیرہ چیف نے اسی دن سر اور داڑھی کے بال سنوارے تھے۔ پولیس نے اس کی بھی تردید کی ہے۔
(انل نریندر)

میگڈونلز کی 169 دوکانوں پرلگا تالہ!

بھارت نے بچوں کے انتہائی پسندیدہ فاسٹ فوڈ چین میگڈونلز کی 169 آؤٹ لیٹس (دوکانیں) 6 ستمبر سے بند ہوگئی ہیں۔میگڈونلز نے بھارت میں اپنی پارٹنر کمپنی کناٹ پلازہ ریسٹورینٹ لمیٹڈ کو 21 اگست کو ٹرمینیشن نوٹس بھیجا تھااور سی پی آر ایل کو 5 ستمبر تک وقت دیا تھا۔میگڈونلز انڈیا کے ترجمان نے کہاٹرمینیشن نوٹس کی میعاد 5 ستمبر کو ختم ہوگئی لہٰذا سی آر پی ایل کے پاس میگڈونلز کے سسٹم اور ریٹلیچول پراپرٹی رائٹس کے استعمال کا حق نہیں رہ گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں میگڈونلز کے نام ،ٹیرڈ مارک، ڈیزائن، برانڈنگ ،آپریشنل اور مارکنٹنگ پریکٹس، پالیسیاں ،فوڈ ریسیپی اور اسپانسر شپ کا استعمال بند ہوگیا ہے۔ منگلوار کو ہی ایک دوسرے واقعہ میں نیشنل کمپنی لا ٹرمینل نے سی پی آر ایل کے ایم ڈی وکرم بخشی کی وہ عرضی خارج کردی ، جس میں انہوں نے فرنچائزی ایگریمنٹ منسوخ کرنے کی میگڈونلز کے قدم کو چیلنج کیا تھا۔ میگڈونلز کے ان آؤٹ لیٹس کے بند ہونے کا اثر سیدھے سات ہزار لوگوں پر پڑا۔ ایک جھٹکے میں سات ہزار لوگوں کی نوکری چلی گئی۔ غور طلب ہے کہ میگڈونلز کے 43 ریستوراں جون سے ہی بند ہیں۔ وکرم بخشی کی رہنمائی والی سی پی آر ایل اور میگڈونلز انڈیا کے درمیان 2013 سے جھگڑا چل رہا تھا۔ اگست 2013 میں بخشی کو سی پی آر ایل کے منیجنگ ڈائریکٹر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا اس کے بعد بخشی اور میگڈونلز کے درمیان لمبی قانونی لڑائی شروع ہوئی تھی جس میں انہوں نے دنیا کی سب سے بڑی فوڈ چین کو کمپنی لا بورڈ میں گھسیٹ لیا تھا۔ اس کے بعد بخشی اس معاملہ کو دہلی ہائی کورٹ لے گئے تھے۔ سی پی آر ایل نے وکرم بخشی اور میگڈونلز کے درمیان 50-50 کی پارٹنر شپ تھی۔ ایک رپورٹ کے مطابق دہلی میں میگڈونلز آؤٹ لیٹ بند کرنے کے فیصلہ کے بعد فاسٹ فوڈ چین سب وے کو اس کا سب سے زیادہ فائدہ ہوا۔ وہیں جولائی میں ڈراپ ٹین سکس سروس ریستوین کے بل سائز میں اوسطاً طے 8 فیصدی کا اضافہ ہوا۔ کرنٹ آئی ایم آر وی ۔ کرائسٹ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق سب وے کے مارکٹ شیئر میں 5 فیصدی کا اضافہ ہوا جبکہ مالس میں برگر کنگ اور کے ایف سی کی حصہ داری میں 2-2 فیصدی کا اضافہ ہوا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جنک فوڈ اچھی غذا نہیں مانی جاتی لیکن ہمیں یہ کہنے میں کوئی قباحت نہیں ہے کہ میگڈونلز کی اپنی ہی ایک مارکیٹ اور مقبول تھی۔ خاص کر یہ نوجوانوں کی پسند تھی۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...