Translater

17 مئی 2025

نیوکلیائی مکھوٹہ اب اتر چکا ہے !

پچھلے دو دہائی سے ایک معمہ بھارت اور پاکستان کے تمام بکواسوں پر حاوی رہا۔یہ کہ اسلام آباد کے پاس نیوکلیائی ہتھیار ہیں اور ہر بار جب کسی دہشت گردی کے واقعہ کے بعد بھارت جوابی کاروائی کرتا تھا تو پاک نیوکلیائی ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دیتا تھا ۔اور بھارت کو دنیا ڈرا دیتی تھی کہ کاروائی کو آگے نہ بڑھاو¿ لیکن اس بار کی پراکسی جنگ میں بھی یہی ہوا لیکن آپریشن سندور نے یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان کا نیوکلیائی مکھوٹہ اب اتر چکا ہے اس لئے وزیراعظم نریندر مودی نے صا ف طور پر کہا کہ بھارت اب کے کوئی بھی نیوکلیئر بلیک میل نہیں سہے گا ۔آپریشن سندور میں انڈین ایئر فورس کے ذریعے طے فوجی کاروائی کے بعد پاکستان کے نیوکلیائی ٹھکانوں کی حفاظت کے بارے میں سوال اٹھائے جارہے ہیں ۔خاص طور سے ایئر کارگو بیس سے انہیں ہوئی کرانا ہلس علاقہ کولے کر حالانکہ بھارت نے کسی نیوکلیائی جگہ کو نشانہ بنانے سے انکار کیا ہے لیکن قیاس آرائیاں اور دیگر کے بیان اس کو لے کر بڑھتے جارہے ہیں ۔ہندوستانی جارحیت اور حکمت عملی کے دباو¿ آپریشن سندورکے دوران انڈین ایئر فورس نے نور خاں اور رگھی ، مرید ،سکور اور سیالکوٹ جیسے اہم ایئر بیس خود مبینہ طور پر متاثر ہوئے ہیں ۔اور ان حملوں نے پاکستان کے دفاعی ڈھانچہ کمزور کیا ہے۔سرگودہ سے لگے کرانہ ہلس میں پاکستان اپنے نیوکلیائی ہتھیار چھپا کر رکھتا ہے ایسا کہا جاتاہے ۔کرانہ ہلس نیوکلیائی ٹھکانے کے آس پاس قیاس آرائیاں سب سے خطرناک دعوے شوشل میڈیا پر اپنی پیشگوئیاں ہیں جو بتاتی ہیں کہ کرانہ ہلس نیوکلیائی فیسلٹی میں ایک بڑا واقعہ ہو سکتا ہے ۔کچھ ان پٹ رپورٹوں میں دعویٰ ہے کہ امریکی نیشنل نیوکلیائی سیکورٹی ایڈمنسٹریشن کے جہاز پاکستان میں دیکھے گئے تھے جو نیوکلیائی ایمرجنسی کے امکانات کو دکھاتا ہے ۔حالانکہ اس کی کوئی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے لیکن آن لائن چیٹ کے باہری تعداد نے فوجی ماہرین اور بین الاقوامی متاثرین کو توجہ دینے پر مجبور کیا ہے ۔شوشل میڈیا میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ کرانہ ہلس کے آس پاس کے علاقوں سے شہریوں کو ہٹادیا گیاہے۔غیر مصدقہ خبروں میں کہا گیا ہے کہ کچھ شہریوں کو نیوکلیائی ریڈیشن کا خطرہ جتایاجارہا ہے ۔سرکاری طور پر ہندوستانی رد عمل افواہوں کے باوجود بھارت نے اپنے فوجی ارادوں کے بارے میں کھل کر بتا دیا ہے ۔ایک پریس کانفرنس کے دوران ایئر مارشل اے کے بھارتی نے صاف کر دیا کہ انڈین ایئر فورس نے سرگودہ ایئر بیس پر حملہ کیا ہے اور کسی بھی نیوکلیائی جگہ پر جان بوجھ کر حملہ نہیں کیا گیا ۔شوشل میڈیا اکثر غیر بھروسہ مند ہوتا ہے ۔وہیں بین الاقوامی برادری پاکستان کے نیوکلیائی سیکورٹی کو لے کر فکرمند ہے ۔کرانہ ہلس میں کیا ہوا ہے یہ تو شاید ہی پتہ چلے کیوں کہ پاکستان ہر بات کو چھپاتا ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ کچھ تو ہوا ہے ۔یہ مسئلے کی بات ہے لگتا ہے کہ پاکستان کی نیوکلیائی دھمکی کااب بھارت پر کوئی اثر ہو ۔تبھی تو وزیراعظم نے کہا کہ بھارت اب پاکستان کے نیوکلیائی بلیک میل کے سامنے نہیں جھکے گا اور ہاں جوابی کاروائی کرنے سے نہ ہی کترائے گا ۔پاکستان کا نیوکلیائی دھمکی کا مکھوٹہ اتر چکا ہے ۔ (انل نریندر)

15 مئی 2025

مان نہ مان میں تیرا مہمان!

بھارت اور پاکستان میں ایک دوسرے کے فوجی اڈوں پر حملے اور نقصان پہنچانے کے دعوے کئے ہیں ۔دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی انتہاپر تھی اسی درمیان امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس سرگرم ہوئے انہوں نے بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور بھارت کے وزیرخارجہ ایس جے شنکر پاکستان کے فوج کے سربراہ عاصم منیر سے بات چیت کی ۔بھارت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ جاری لڑائی کو ختم کرنے کا یہ پہلا اشارہ تھا ۔دوپہر قریب 3.30 بجے پاکستان کے ڈی جی ایم او نے بھارت کے ہم منصب سے فون پر بات کی ۔اس بات چیت میں دونون دیش زمین ،ہوائی اور بحری سیکٹر سے ایک دوسرے کے خلاف فوجی کاروائی روکنے پر رضامند ہوئے ۔اس رضامندی کا حیران کرنے والا اعلان نہ تو بھارت کے وزیراعظم نے کیا اور نہ ہی پاکستان کے وزیراعظم نے یہ اعلان دنیا کے خود ساختہ ٹھیکیدار امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنیچر کو 15.30 بجے اپنے شوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کئے ایک پوسٹ میں کیا تھا ۔ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ میں آپ دونوں کے ساتھ مل کر یہ پتہ لگانے کے لئے کام کروں گاکہ کیا کشمیر کے سلسلے میں کوئی حل نکالا جاسکتا ہے ۔بھارت اور پاکستان دونوں کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ رات بھرچلی بات چیت میں امریکی ثالثی کا دعویٰ کیا ۔اور بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی ہو گئی ہے میں اسے جنگ بندی ہی کہوں گا کیوں کہ جنگ تو ہوئی نہیں جو تین چار دن چلی اسے لڑائی کہا جائے گا ۔دیش سوال پوچھ رہا ہے کیا صدر ٹرمپ کا دعویٰ صحیح ہے ۔اگر امریکہ نے جنگ بندی رکوانے میں کوئی رول نبھایا تو اس میں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے ۔کیوں کہ ممکن ہے ٹرمپ کے پاس کوئی ایسی خفیہ جانکاری ہو جس سے پتہ لگتا ہو پاکستان نیوکلیائی ہتھیاروں کے استعمال کرنے کی تیار میں ہو ۔ہمیں اعتراض اس بات کا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کون ہوتے ہیں بھارت پاک جنگ بندی کا اعلان کرنے والے وہ بھی جب نہ تو بھارت کی طرف سے اور نہ ہی پاکستان کی طرف سے ایسا کوئی اعلان ہو ا پھر پورا دیش اس سے ناراض ہے کہ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ میں دونوں دیشوں کے ساتھ بیٹھ کر کشمیر کا حل بھی نکلوانے کی کوشش کروں گا ۔اس کا کیا مطلب ہے بھارت نے کشمیر مسئلے پر امریکہ کی ثالثی قبول کر لی ہے ؟ بتا دیں کہ نا تو پردھان منتری مودی نے اپنے دیش کے نام خطاب میں اس پر کوئی صفائی دی اور نہ ہی بھارت سرکار نے کسی بھی سطح پر اس کی تردید کی ہے۔پچھلے کئی برسوں سے بھارت کا یہی موقف رہا ہے کہ یہ معاملہ علاقائی ہے جس میں کسی تیسرے ملک کے رول کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی ۔شملہ معاہدے میں اس کا ساتھ ہی ذکر کیا گیا ۔بھارت سرکار کو اس بارے میں صفائی دینی ہوگی ۔ابھی یہ تنازعہ چل رہی رہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ دھمکیوں پر اتر آئے ہیں ۔انہوں نے پھر دعویٰ کیا بھارت اور پاکستان کے بیچ خطرناک ٹکراو¿ کو روکتے ہوئے جنگ بندی میں مدد کی تھی ۔ٹرمپ نے کہا ہم نے اس میں بہت مدد کی ۔میں نے دونوں ملکوں سے کہا اگر آپ لڑائی روکتے ہیں تو ہم تجارت کریں گے نہیں تو کچھ نہیں ۔ٹرمپ نے آگے کہا کہ اگر دونوں دیش جنگ بندی نہیں کرتے تو دونوں دیشوں سے ٹریڈ بند کردوں گا اور اگر وہ مانتے ہیں تو تجارت بڑھا دوں گا ۔انہوں نے آگے دعویٰ کیا کہ دونوں دیش مان گئے اور جنگ بندی کے لئے راضی ہو گئے ۔قابل ذکر ہے ٹرمپ کا یہ پوسٹ وزیراعظم نریندر مودی کے قوم کے نام خطاب سے ٹھیک ایک گھنٹے پہلے آیا ۔امریکی صدر کو لگتا ہے کہ اگر کوئی رائے نہیں پچھلے تین دن سے لگاتار بھارت کے خلاف پاکستان زہر اگل رہا ہے ۔سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ اتنا کچھ ہونے کے باوجود بھی بھارت نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے ۔بھارت کے سامنے یوکرین جیسے چھوٹے دیش کے وزیراعظم زیلنسکی نے وائٹ ہاو¿س کے اندر ہی ٹرمپ کو ہڑکا دیا تھا ۔اور بھی کئی دیشوں کے سربراہوں نے ٹرمپ کو منھ توڑ جواب دیا لیکن پتہ نہیں بھارت کی کیا مجبوری ہے کہ وہ ایک لفظ امریکہ کے خلاف نہیں نکلتا ۔رہا سوال بھارت - پاک جنگ رکوانے کا تو روس یوکرین جنگ بھی رکوا دیں اور اسرائیل اور حماس جنگ بھی رکواسکتے تھے ۔مان نہ مان میں تیرا مہمان۔ (انل نریندر)

13 مئی 2025

پاکستان کا بھسما سورعاصم منیر!

بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کی رضامندی پانچ بجے ہو گئی ابھی جشن منانا شروع بھی نہیں ہوا تھا کہ اس خودساختہ جنگ بندی کے تین گھنٹے کے اندر پاکستان نے ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں ڈرون حملے شروع کر دئیے اور جنگ بندی کی دھجیاں اڑا دیں ۔پاکستان نے ایسا کیوں کیا ؟ اس پر تجزیہ چل رہا ہے۔لیکن ہمارا خیال ہے کہ اس کے پیچھے اگر کوئی خاص طور پر ذمہ دار ہے تو وہ پاکستان فوج کے سربراہ عاصم منیر اور ان کے فوجی کمانڈر ہیں ۔پاکستان کے اندرونی حالات ٹھیک نہیں ہیں کیا یہ ممکن ہے ۔پاک فوج کے چیف نے اپنی سرکار اور وزیراعظم کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے حملے جاری رکھے ۔جب پاکستان کے وزیراعظم اور دیگر وزراءنے جنگ بندی کا اعلان کیا تو فوج کے ذریعے اس کی کھلی تلقین کو ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی فوج کے چیف اور وزیراعظم اور ان کی سرکار کے ذمہ دار ان کے فیصلے کو نہیں مانتے ۔دراصل اس لڑائی کے پیچھے عاصم منیر ہی ہیں اس نے اپنی اصلیت پہلگام حملے سے پہلے ہی دکھا دی تھی جب اس نے 17 اپریل کو دی گئی اپنی تقریر میں کہا کہ پاکستان کشمیر سے لے کر طریقہ زندگی تک ہر معاملے میں ہندوو¿ں سے الگ ہے۔اس تقریر میں جنرل منیر نے کہا کہ پاکستان کشمیر کے لوگوں کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑے گا ۔مانا جارہا ہے کہ اسی تقریر کے بعد پہلگام میں حملہ ہوا ۔اس حملے کا سارا کردار منیر کا بنایا ہوا تھا اور اس کو انجام بھی اس نے ہی دلوایا ۔بھارت کو یاد رکھنا چاہیے کہ کشمیر پاکستان کے گلے کی نس نہیں ہے جیسا کہ منیر یقین دلاتے ہیں ۔اصل میں نس تو بلوچستان اور سندھ ہے ۔کشمیر تو بس اس نے نیرٹو بنائے رکھنا چاہتا ہے۔اگر ایسا نا ہوتا تو پہلگام پر حملہ کیوں کرواتا ۔یہاں پر سیاحوں کو نشانہ بنا کر کشمیریوں کی روزی روٹی پر لات مار دی ۔کہا جارہا ہے کہ نومبر 2022 میں فوج کے سربراہ بنے منیر 2025 کے بعد کسی بھی قیمت پر توسیع پانے کی جدوجہد میں لگے ہیں۔بھارت کے ساتھ ایک مختصر اور محدود جنگ یا اس کے خلاف ایک بڑا آتنکوادی حملہ انہیں اسی مقصد تک پہنچا سکتا ہے ۔ظاہر ہے پاکستانی فوج کے خلاف سستی جنگ کے ایک ذریعے کی شکل میں جہاد کا استعمال جاری رکھنے والی ہے ۔پاکستان کے اندرونی حالات ٹھیک نہیں ہیں ۔اس وقت پاکستان میں کئی فیکٹر کام کررہے ہیں۔چین اس کے پیچھے سیدھے طور پر کھڑا ہوتا نہ دکھائی دے لیکن وہ اپنے ہتھیاروں کے ذریعے منیر کی مدد کررہا ہے ۔بھارت پاکستان کے درمیان چھڑی جنگ میں اب کھل کر چینی ہتھیاروں کا استعمال ہورہا ہے ۔جنگی جہازوںسے لیکر سرویلنس ساز و سامان کے ساتھ ساتھ چینی رائفلوں کا بھی بھارت کی سرحد پر استعمال ہورہا ہے ۔پاکستان بھارت کا مقابلہ کرنے کی کوشش میں چین میں تیار ایسے ایچ 15- آرٹیفیشیل کا بھی استعمال کررہا ہے ۔اسی چائنیز بندوق کے سہارے پاکستان کی چوکی اور سرحدی دیہات کو نشانہ بنا رہا ہے ۔دوسرا فیکٹر ہے ترکیہ پاکستان نے بھارت کے الگ الگ حصوں میں بڑے پیمانہ پر ڈرون کا استعمال کیا ہے ۔اور کرررہے ہیں ۔کرنل صوفیہ قریشی نے بتایا کہ پاکستانی فوج نے جمعرات کی رات فوجی بنیادی ڈھانچہ کو نشانہ بناتے ہوئے 300 سے 400 ڈرون چھوڑے ہیں اور ڈرون سے حملے ابھی جار ی ہیں ۔ابتدائی جانچ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ڈرون ترکیہ کے ڈرون ہیں۔سونوار ڈرون سے ہتھیار لے جانے میں اہل یعنی اہل بے انسان ہوائی گاڑی ہے ۔جسے ترکی نے ڈیزائن اور تیار کیا ہے ۔پتہ نہیں ترکی نے کتنے ہزاروں ڈرون پاکستان کو دیے ہیں ان کا پورا استعمال جنرل منیر بھارت کیخلاف کررہے تھے۔ترکی کی فوجی مدد کے علاوہ ایک تیسرا فیکٹر بھی پاکستان میں کام کررہا ہے وہ ہے حماس کے لڑاکے ۔کشمیر میں دہشت گردی پھیلانے کے لئے اب حماس بھی سرگرم ہے ۔حماس کے تجربہ کار کمانڈر اب جیش محمد کے ساتھ مل کر بھارت پر حملے کررہے ہیں ۔جیش کے چیف جیش کے اثر والے علاقہ میں حماس کے لڑاکے دیکھے گئے ہیں جس طریقہ سے بھارت پر ڈرون سے حملے ہو رہے ہیں اسی طرح حماس اسرائیل میں تاوڑ توڑ حملے کرتارہا ہے ۔ان حملوں کے پیچھے سیدھے سیدھے حماس کا ہاتھ نظر آرہا ہے ۔اس سال 5 فروری کو یوم کشمیر کے موقع پر جیش اور لشکر کے جلسہ میں بھی حماس کا سیاسی چیف بھی نظر آیا تھا ، یہ جلسہ راول کوٹ میں منایا گیا تھا ۔بھارت کے لئے یہ خطرناک اور پریشان کن اشارہ ہے ۔کل ملا کر آج پاکستان میں فوج کے چیف عاصم منیر کی ہی چل رہی ہے یہ پاکستان کے لئے بھسما سور ثابت ہوگا ۔جنگ بندی توڑنے پر بھارت زبردست جوابی کاروائی کرے گا یہ منیر جانتا ہے ۔فوج میں تختہ پلٹ بھی ہوسکتا ہے ۔شہبازشریف کا تختہ پلٹ بھی کر سکتا ہے ۔کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔ہمیں 24 گھنٹے چوکس رہنا ہوگا ۔نہ ہم امریکہ پر بھروسہ کریں ۔پاکستان کی بات ہی نہ کریں ۔ہماری فوج منھ توڑ جوا ب دے گی ۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...