Translater
01 جون 2023
اپوزیشن اتحاد کا راستہ !
آنے والے لوک سبھا چناو¿ میں بھاجپا کے خلاف اپوزیشن اتحاد ممکن ہوگا یانہیں یہ کانگریس کے رویہ پر منحصر کرے گا۔ ممتا بنرجی ،شردپوار اور نتیش کمار چاہتے ہیں کہ یکساں نظریہ والی پارٹیاں لوک سبھا کی 543میں 474سیٹوں پر اکیلا امید وار کھڑا کریں۔ تلنگانا ،آندھراپردیش ،کیرل کو چھوڑ کر اس فارمولے کے مطابق کانگریس کے حصے میں 249سیٹیں آتیں ہیں۔ ایسے میں کانگریس اگر دل بڑا نہیں کرے گی تو اپوزیشن اتحاد ناممکن ہے ۔ دراصل اپوزیشن اتحاد کو لیکر 12جون کو نتیش کی رہنمائی میں پٹنہ میں اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ ہے جس میں راہل گاندھی بھی شامل ہوںگے ۔جے ڈی یو ، ٹی ایم سی چاہتی ہے کہ آنے والے لوک سبھا چناو¿ سے پہلے کانگریس لچیلا رویہ دکھاتے ہوئے تلنگانا،دہلی ،آندھراپردیش اور کیرل کو چھوڑکر انہیں سیٹوں پر دعویٰ کرے جہاں پارٹی پچھلے چناو¿میں پہلے یا دوسرے نمبر پر رہی تھی۔ اس فارمولے کو چھوڑ کر کانگریس کے ہاتھ 244سیٹیں ہی آئیں گی۔ اور پچھلی چناو¿ میں پارٹی کو چار ریاستوں کو چھوڑ کر بھاجپا سے سیدھے مقابلے پر چناو¿ لڑی اور دوسرے مقام پر رہی جبکہ پارٹی کو 52سیٹوںپر ہی کامیابی ملی تھی۔ اپوزیشن اتحاد کے بہانے سے بڑا داو¿ نتیش کمار چل رہے ہیں۔اوروزیر اعظم بننے کی خواہش ہے اس لئے نتیش اپوزیشن اتحاد کے ساتھ جنتا دل پریوار کو بھی متحد کرنا چاہتے ہیں۔ بہار میں بھاجپا سے دوری بنانے کے بعد اتحاد کیلئے نتیش کی آر ایل ڈی ،سپا ،جی ڈی ایس ،لوک دل اور آر جے ڈی سے کئی دور کی بات چیت ہوئی ہے ۔ نتیش کو لگتا ہے کہ اگر اتحاد ہو جاتا ہے تو اس کااثر اترپردیش ،بہار ،ہریانہ اور کرناٹک میں بڑھے گا۔ جنتا دل پریوار میں اب پی ایم عہدے کے دعویدار نہیں ہیں۔ مولائم سنگھ اب نہیں ہیں،لالو پرساد یادو بیمار ہیں اور دیو گوڑا عمر دراز ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی دوسری پیڑھی کا سارا پلان ریاست کی سیاست پر ہے۔ کرناٹک چناو¿ سے پہلے کانگریس سرینڈر کی پوزیشن میں تھی۔ اس سے پہلے اپوزیشن اتحاد کیلئے ہوئی ملاقات میں اس کا موقف بہت نرم رہا حالاںکہ کرناٹک کے نتیجے کے بعد پارٹی اتحا د کیلئے شرط رکھ رہی ہے ۔ اس نے اشارہ دیا ہے کہ اس کا عآپ ،ڈی آر ایس ،کیرل کی لیفٹ پارٹیوں سے سمجھوتہ نہیں ہو سکتا ہے ۔ اسی شرط کے پیش نظر نتیش ممتا ،پوار نے سمجھوتے کیلئے 474سیٹوں کا فارمولہ پیش کیا ہے ۔جنتا دل یوکے ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پٹنہ کی ریلی میں بات نہیں بنیں تو اپوزیشن اتحاد مشکل ہو جائے گا۔ اس کا کہنا ہے کہ 12جون کی اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ بہت اہم ہے ۔ ممتا ،نتیش اور شرد پوار چاہتے ہیں کہ کانگریس اس میٹنگ میں 474سیٹوں میں سے 274سیٹوں پر لڑنے کیلئے راضی ہوجائے ۔ اگر کانگریس اس کیلئے تیار نہیں تو اپوزیشن اتحا د کی کوشش بیکار ہو جائے گی۔ جنتا دل یوکے ذرایع کا کہنا ہے کہ مرکز میں اقتدار بدلنے کی سب سے زیادہ ضرورت کانگریس کو ہے ایسے میں کانگریس کو ہی اپنی بڑی فراخدلی دکھانی چاہیے۔
(انل نریندر)
مشن 2024:450سیٹوں کا ٹارگیٹ !
آنے والے لوک سبھا چناو¿ میں اقتدار کی ہیٹرک لگانے کیلئے بھاجپا نے میگا پلان تیار کیا ہے۔ پارٹی کا پلان لوک سبھا کی 3-5سیٹوں کا گروپ بناکر چناو¿ تک اس کی تین سطحی نگرانی اور ذمہ داری طے کرنے کی ہے۔ چناو¿ ہونے تک اے بی سی تین زمروں کے لیڈر خود سے جڑے گروپ کی سیٹوں پر طے کی گئی ذمہ داری نبھائیںگے ۔ اس سلسلے میں اتر پردیش ،اتراکھنڈ کی 85سیٹوں کو 3-5لوک سبھا گروپ میں بانٹنے اور ذمہ داری طے کرنے کا کام پورا ہو چکاہے ۔ ان میں ایک کٹیگری میں مرکزی وزراءاور قومی عہدیداران کوبی کٹیگری میں سینئر لیڈروں اور دوسرے ریاستوں کے ممبران پارلیمنٹ شامل ہوں گے ۔اور سی کٹیگری میں مقامی لیڈروں کو رکھا گیا ہے۔ اگلے سال30جنوری کو پارٹی کا مہا سمپرک ابھیان کے ساتھ ہی تینوں کٹیگری کے نیتا 8ماہ تک اپنے کلسٹر یعنی گروپ سے جڑے رہیںگے۔ پارٹی کے ذرائع کے مطابق ان میں اے کٹیگری کے نیتا اقتدار مخالف لہر کو پہچاننے اور اسے درست کریںگے۔ ساتھ ہی ان پر تنظیمی کاموں کو بھی پورا کرنے اور ریلیاں کرنے اور مقامی لوگوں کی پریشانیاں دور کرنے کی کوشش کریںگے ۔ سی کٹیگری میں شامل نیتا زمین پر کام کرنے کے ساتھ پارٹی کے پروگرام کا انعقاد کریںگے ۔ جبکہ بی جے پی کے نیتا ان پروگراموں کی نگرانی کریںگے ۔ آنے والے چناو¿میں پارٹی کے پاس تلنگانا کوچھوڑ کرآگے بڑے راجیہ نہیں ہیں ۔ایسے میں پارٹی کی چنوتی جیتی ہوئی 303سیٹیں بر قرار رکھنے اور یہاں ہونے والے نقصان کو پورا کرنے ان 144سیٹوں سے پوری کرنے سے کی ہے جہاں پارٹی دوسرے یا تیسرے نمبرپر رہی تھی ۔پارٹی نے ان سیٹوں کو کلسٹر بنانے میں نشان دہی کی ہے ۔ 29مئی 2019کو وزیر اعظم کی حلف برداری بھی تھی اس لئے 9برس مکمل ہونے پر 30مئی کو تقریب منائی جائے گی ۔ اور اس دن بھاجپا کے بڑے نیتا مرکزی وزراءدیش بھر میں پریس کانفرنس کریںگے۔ اور 31مئی کو وزیر اعظم نے اجمیر میں ریلی کی ہے بھاجپا اپنے میگا پلان کا اعلان کرے گی۔ بھاجپا ذرائع کے مطابق میگا پلان تاریخی ہوگالیکن پارٹی کے قیام سے اب تک کا سب سے بڑا جن سمپرک کا پروگرام بڑے سطح کا ہوگا۔ اس پلان میں آنے والے ایک مہینے میں دیش بھر کے ووٹروں تک پہنچا جائے گا۔ اس لئے 543لوک سبھا سیٹوں کیلئے بوتھ لیول ،پردھان اور ضلع پرمکھ اور لوک سبھا ایم پی راجیہ سبھا ایم پی اور پردیش صدور جنتا کے درمیان جائیں گے۔ در اصل سرکار کے 9سال پورے ہونے کے مو قع کو 2024کے عام چناو¿ کی تیاری سے جوڑا گیا ہے ۔ 28مئی کو نئے سنسد بھون کا افتتاح پر آنے والی دسمبر میں ایودھیا میں رام مندر گربھ گرہ میں موجود رام للا کی مورتی لگانے کی یوجنا اسی تیاری کا حصہ ہے ۔ بھاجپا کو لگتا ہے کہ شمالی بھارت میں اس کی پوزیشن سینچری پوائنٹ یعنی زیادہ حد سے اوپر پہنچ چکی ہے ۔ اب اسے جنوبی ریاستوں اور شمال مشرق کی طرف توجہ دینی ہوگی ۔ کرناٹک چناو¿ ہارنے سے سائیکلوجیکل طور پر مانا جا رہا ہے کہ بھاجپا کی سیٹیں کم ہوں گی ۔لیکن وزیر داخلہ امت شاہ نے مثال دی ہے کہ پچھلی بار بھی کرناٹک ،راجستھا ن ،مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ چناو¿ ہارنے کے بعد بھی بھاجپا نے 2019کے لوک سبھا چناو¿ میں چاروں ریاستوںمیں اچھی کامیابی حاصل کی تھی۔اس لئے کرناٹک کی ہار کا اثر لوک سبھا چناو¿ پر نہیں پڑے گا۔
(انل نریندر)
30 مئی 2023
جوڈیشل افسران کی ترقی پر روک !
سپریم کورٹ نے گجرات کی نچلی عدالت کے 68جوڈیشری حکام کی ترقی پر روک لگا دی ہے ۔ جسٹس ایم آر شاہ اور جسٹس روی کمار پر مشتمل بنچ نے کہا کہ جن جوڈیشل حکام کو ترقی دی گئی فی الحال انہیں ان کے پرانے عہدے پر ہی واپس بھیجا جائے جن کی ترقی پر روک لگی ہے ۔ان کی ہتک عزت معاملے میں راہل گاندھی کو قصوروار ٹھہرانے اور سزا سنانے والے جج ہری ہسمکھ بھائی ورما بھی شامل ہیں۔ غور طلب ہے کہ مختلف ضلع عدالتوںمیں ترقی کیلئے گجرات ہائی کورٹ نے سفارش کی تھی۔ اسے نافذ کرنے کیلئے گجرات حکومت نے نوٹیفیکیشن جاری کردیا تھا۔ اسی پر بنچ نے روک لگائی ہے اور بنچ نے مدعہ لین کو بھی نوٹس جاری کردیا ہے ۔اور کہا کہ ہائی کورٹ کیلئے جاری نوٹس اور ضلع جوڈیشری کے حکام کو ترقی دینے کیلئے ریاستی حکومت کا حکم غیر قانونی ہے اور اس عدالت کے فیصلے کے بر عکس ہے اس لئے اسے برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ہم ترقی لسٹ پر عمل کیلئے روک لگاتے ہیں اور ترقی پانے والے متعلقہ ججوں کو ان کے عہدے پر ہی واپس بھیجا جاتا ہے ۔ بنچ نے یہ بھی صاف کیا کہ موجودہ التویٰ حکم ان اسامیوں پر بھی لاگو ہوگا جن کے نام میرٹ لسٹ میں پہلے 68امیدواروں میں نہیں ہے ۔ اب اس معاملے کی سماعت وہ بنچ کرے گی ۔ جسے چیف جسٹس سونپیں گے ۔ کیوں کہ جسٹس شاہ 15مئی کو ریٹائر ہوگئے۔ جج صاحبان گجرات میں 68ضلع ججوں میں ترقی کو چنوتی دی گئی تھی۔ دراصل ان ججوں کی ترقی 65فیصد کوٹہ قائدے کے مطابق کی گئی تھی۔ جسے سینئر سول جج کیڈر کے دو حکام نے چنوتی دی تھی ۔عرضی گزاروں نے کہا کہ بھرتی قواعد کے مطابق ضلع جج کا عہدہ اہلیت اور سینئرٹی کے اصول اور اہلیت امتحان پاس کرنے کی بنیاد پر 65فیصد ریزرویشن رکھتے ہوئے بھرا جاتا ہے ۔اور سینئرٹی کو نظر انداز کیا گیا۔ انہوںنے جوڈیشل حکام نے 200میں سے 135.5اور 140.5نمبر حاصل کئے تھے اس کے باوجود کم نمبر لانے والے امید وارں کو جج مقرر کردیاگیا ۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ ہائی کورٹ اور ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عدالت نوٹس جاری کرنے سے پہلے ہی ہائی کورٹ نے ضلع ججوں کی ترقی کردی تھی اور نوٹس جاری ہونے کے وقت یہ فائل گجرات کے پاس لٹکی ہوئی تھی۔ اس کے بعد ایک ہفتے اندر ہی ریاستی حکومت نے مختلف ججوں کو ترقی دینے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیاتھا ۔ اعتراض کے بعد سپریم کورٹ نے اس پر روک لگا دی ہے۔
(انل نریندر)
چیتا پروجیکٹ پر سوال؟
محکمہ جنگلات کونو نیشنل پارک میں مادہ چیتا دکشا کی موت کو قدرتی بے شک مان رہے ہیں لیکن مادہ چیتا جوالہ کے تین بچوں کی موت نے جہاں وائلڈ لائف شائقین کو مایوس کیا ہے وہیں ساو¿تھ افریقہ سے چیتے لاکر بھارت کے جنگلوں کوآباد کرنے کے اس پروجیکٹ کو سوالوں کے گھیرے میں ضرور لا دیا ہے ۔ اس سے پہلے 23مئی کو ایک چیتا بچے کی موت کے بعد میڈیکل جانچ میں تینوں بیمار ملے تھے ۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ چیتے کی بچوں کی موت اسی شام ہو گئی تھی اور اس کی باقاعدہ جانکار ی محکمہ جنگلات کے حکام نے جمعرات کو ہی ظاہر کردی تھی۔ اس اہم پروجیکٹ کے تحت نامیبیا سے 20لائے گئے تھے۔ اور یہاں آنے کے بعد 27مارچ کو مادہ چیتا جوالہ نے چار بچوں کو جنم دیا حالاںکہ پچھلے چھ مہینوںمیں پہلے تین کی موت ہوئی اور پھر تین بھی زندہ نہیں بچے ۔کونو چڑیاں گھر منیجمنٹ کے مطابق زبردست گرمی کے سبب چیتے کی بچوں کی موت ہوئی ہے جس دن ان کی طبیعت بگڑی اس دن درجہ حرارت 47ڈگری تھا۔ساو¿تھ افریقہ کے وائلڈ لائف ماہرین کا کہنا ہے کہ چیتوں کی موت تکلیف دہ ہے اور یہ معمولی بات نہیں ہے ۔ پرنسپل چیف وائلڈ لائف نگہبان جے اے چوہان کے مطابق 23مئی کو ایک بچے کی موت کے بعد باقی تین بچوں اور ان کی ماں جوالہ کی پال پور میںماہرین جنگلات ڈاکٹروں کی ٹیم کے ذریعے مسلسل نظر رکھی گئی ۔ جوالہ کو سپلیمنٹ فوڈ بھی دیا گیا ۔ دوپہر بعد تین بچوں کی حالت ٹھیک نہیں ہوئی اور اسی دن درجہ حرارت 47ڈگری تک چلا گیا جس وجہ سے سب سے زیادہ گرم ہوا چلتی رہی کونو پارک کے ڈاکٹروں کی ٹیم نے تین بچوں کا علاج شروع کیا لیکن طبیعت اتنی بگڑگئی کہ انہیں بچایا نہیں جا سکا ایک بچے کو آئی سی یو میں رکھا گیا۔ نامیبیا اور ساو¿تھ افریقہ کے معاون ڈاکٹروں اور ماہرین سے بھی مسلسل صلاح لی گئی ۔ مدھیہ پریش کے محکمہ جنگلا ت کے حکام نے ڈکلیئر کیا کہ ان بچوں کی موت شدید گرمی اور کھانا نہ کھانے اور علاج کی کوششوں پر ان کی طبیعت میں کوئی سدھار نہیں آیا کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ان چیتوں اور ان کے بچوں کیلئے یہاں کا موسم اور ماحول زیادہ راس نہیں ؟ جانکاری کے مطابق عام طور پر ریزو علاقوں میں چیتوں کے بچنے کی امید بہت کم ہوتی ہے ۔ اس عمر میں بچوں کیلئے سب سے زیادہ اچھی غذا ماں کا دودھ ہوتا ہے ۔قریب دو مہینے کے عمر کے یہ ننھے چیتے اس گرمی کے ماحول میں بڑوں کیلئے بھی پریشانی ہوتی ہے۔اگریہ بچے کمزور تھے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں ماں کا دودھ درکار مقدارمیں نہیں مل پایا ۔ اور اگر یہ سچ ہے تو یہ صورت حال باعث تشویش ہے ۔ اتنے قیمتی چیتوں کی دیکھ بھال اور ان کے رکھ رکھاو¿ میں لاپرواہی ظاہر ہوتی ہے کہ پروجیکٹ چیتا غلط تھا جس کی صحیح جانچ چیتوں کو لانے سے پہلے ٹھیک سے نہیں گئی ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ایران-امریکہ ،اسرائیل جنگ : آگے کیا ہوگا؟
فی الحال 23 اپریل تک جنگ بندی جاری ہے ۔پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں لگا ہوا ہے ۔پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران م...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...