13 اگست 2011

جس برطانوی سامراج میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا،وہاں اندھیری رات ختم نہیں ہورہی

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 13th August 2011
انل نریندر
جب انگریزوں کی حکومت بھارت پر تھی تو انگریز یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ ’دی سن نیورسیٹس‘ یعنی سورج کبھی بھی غروب نہیں ہوگا۔برطانوی سامراج یعنی برطانوی عہد میں کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ وہ اتنا پھیلا ہوا تھا کہ دنیا کے ایک بڑے حصے میں انگریزوں کا راج ہوا کرتا تھا۔ انگریزوں نے راج کرنے کیلئے ہر طرح کے ہتھکنڈے اپنائے۔ آہستہ آہستہ حالات بدلتے گئے۔ آج حالت یہ ہے کہ انگلینڈ میں سورج نکلنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ وہاں ایسی کالی رات چھائی ہوئی ہے کہ روشنی کا موقعہ تک نہیں مل رہا ہے۔پچھلے پانچ چھ دنوں سے انگلینڈ میں ایسا خوفناک فساد بھڑکا ہوا ہے جو اس کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے جمعرات کے روز کہا کہ پولیس نے مانا کہ فسادات سے نمٹنے کیلئے اس کی حکمت عملی غلط تھی۔ انہوں نے کہا تشدد کے لئے اب تک 1300 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انگلینڈ کی لوک سبھا ہاؤس آف کامن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ تشدد کے دوران کئی شہروں میں ہوئے نقصان کی بھرپائی کیلئے ایک کروڑ پاؤنڈ کے راحت پیکیج کا اعلان کیاگیا ہے۔ گذشتہ 4 اگست کو پولیس کی فائرنگ میں ایک لڑکے مارک ڈگن جو افریقی نژاد سیاہ فام ہیں ، کے مرنے کے بعد 6 اگست کو ناٹنگھم سے شروع ہوئے دنگے آہستہ آہستہ مانچسٹر،سیلفرڈ، لیورپول، ناٹنگھم، لیسٹر اور بکنگھم تک پھیل گئے۔
انگلینڈ کے لوگ مہذب مانے جاتے ہیں لیکن سنیچر سے بھڑکے فسادات نے ثابت کردیا ہے کہ یہ سب سے بڑے لٹیرے بھی ہیں۔ جن 1300 لوگوں کو کو اب تک گرفتار کیا گیا ہے ان میں ایسے لوگ ہیں جن سے فساد بھڑکانا، لوٹ مار کرنے کی امید تک نہیں کی جاسکتی تھی۔ ان میں سے شاید ہی کسی کے خلاف پہلے جرائم کا ریکارڈ درج ہوا ہے۔ ان میں سب سے چھوٹا ایک11 سالہ بچہ بھی ہے تو ان میں کروڑپتی ماں باپ کی اولاد 19 سالہ ایک لڑکی لاراجنسن بھی ہے۔ ایک ٹیچر بھی پکڑا گیا ہے۔ گرفتار لوگوں میں ایک ہاؤس وائف بھی ہیں۔ زیادہ تر کو لندن کی عدالت میں پیش کردیا گیا ہے۔ امید تو تھی کہ کورٹ انہیں رہا کردے گی لیکن دنگوں میں ملزمان کو کورٹ نے ابھی بری نہیں کیا ہے۔ان لٹیروں میں سب سے چونکانے والا نام لارا جانسن کا ہے۔لارا ابھی جیل میں ہے ۔ ان لٹیروں میں سب سے چونکانے والا نام سارا جانسن کا ہے۔اس کے والد رابرٹ جانسن ارپنگٹن میں ایک بڑے مکان میں رہتے ہیں۔ اس میں سوئمنگ پول ، ٹینس کوٹ سمیت سبھی سہولیات مہیا ہیں۔ لارا لندن کے سب سے مہنگے اسکولوں میں سے ایک اولوے گریمر اسکول میں پڑھی ہے لیکن اس کے کار لوٹ کے مال سے بھری ہوئی پائی گئی۔ اس کی کار میں پانچ ہزار پاؤنڈ کی مالیت کا سامان بھرا ہوا تھا۔ اس میں سے ایک توشیبا ٹی وی، مائیکرو یو اور موبائل فون بھی تھا۔ لندن اور دوسرے شہروں میں جیسے غنڈوں کا راج چل رہا ہو۔ انگلینڈ کے آبائی لوگ ہی لوٹ مار میں آگے نظر آئے۔ ان لٹیروں غنڈوں نے ایشیائی نژاد لوگوں کو بھی اپنا نشانہ بنایا۔بکنگھم میں اپنے فرقے کے لوگوں کو فسادیوں سے بچانے کی کوشش کررہے تین برطانوی ایشیائی شہریوں کو (پاکستانی مسلمان) ایک تیز آتی کار نے کچل ڈالا۔ مرنے والوں کی شناخت شہزاد ، ہیری حسین اور منور علی کے طور پر کی گئی ہے۔ شہزاد اور حسین آپس میں بھائی ہیں۔ بکنگھم سے آئی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں پھیلے تشدد کے دوران تینوں مسجد سے باہر نکل کر اپنی کار کی دھلائی کرنے کیلئے سڑک پرکھڑے تھے۔ فسادیوں کی ایک تیز کار نے انہیں کچل دیا۔ تینوں متوفین کی عمریں 30-31 اور 20 سال بتائی جاتی ہیں۔ برطانیہ کے ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ مانچسٹر میں ہوئے فسادات اور لوٹ مار کے واقعات بیحد شرمناک جرائم ہے جو اتنے وسیع پیمانے پر پچھلے 30 برسوں میں نہیں ہوا۔ اتنے خونریزی کبھی نہیں دیکھی گئی۔
انگلینڈ میں جب فساد پھیلا اور ایشیائی نژاد برطانوی شہریوں نے دیکھا کہ پولیس انہیں قابو نہیں کرپا رہی ہے تو لٹل انڈیا کہے جانے والے لندن کے بیچ میں بسا ساؤتھ ہال میں ہندوستانی، پاکستانی ، بنگلہ دیشی چاہے وہ ہندو ہوں یا مسلمان یا وہاں کے سرکاری ملازم ہوں سبھی اکٹھے ہوگئے اور انہوں نے مورچہ سنبھال لیا۔ کرپانیں اور ہاکی لیکر یہ سب سڑکوں پر اتر آئے۔ پیر کی رات کو ان سیاہ فام فسادیوں نے ساؤتھ ہال کی ایک زیور کی دکان پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ یہ دکان ایک پنجابی خاندان کی تھی جو ویسٹ ایلنگ میں رہتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے سارے ساؤتھ ہال میں یہ خبر پھیل گئی کہ ایشیائی دکانوں پر خاص کر جوہری کی دکانوں پر حملہ اور لوٹ مار کا امکان ہے۔ تقریباً300 افراد سڑکوں پر آگئے اور انہوں نے شری گورو سنگھ سبھا گورودوارہ و ایک بڑی مسجد کے باہر مورچہ سنبھال لیا۔ برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے تسلیم کیا ہے کہ پولیس نے فسادات کو ٹھیک ڈھنگ سے ہینڈل نہیں کیا۔ جب انگریزوں کے اپنے گھر کی بات آتی ہے تو وہ گولی چلانے تک سے کتراتے ہیں۔ قارئین کو تعجب ہوگا کہ اتنے خوفناک فسادات میں بھی پولیس کو گولی چلانے کی چھوٹ نہیں تھی۔ اب جاکر ربڑ کی گولیاں یا پانی کی بوچھاریں استعمال کی جارہی ہیں۔ یہ وہی انگریز ہیں جنہوں نے جلیانوالا باغ میں سینکڑوں امن پسند ہندوستانیوں پر گولیاں برسائیں تھیں۔ تحریک آزادی میں دیش بھکتوں کو طرح طرح کی اذیتیں دی گئی تھیں اور اب اپنے گھر میں گولی چلانے تک پر بھی پابندی ہے۔ آپ کو یہ جان کر تعجب ہوگا کہ پورے لندن شہر میں محض 350500 پولیس جوان ہیں۔ ان میں سے صرف 2740 کے پاس ہتھیار ہیں باقی سب ڈنڈوں سے ہی دنگے پر قابو پانے میں لگے ہیں۔ فوج تک کو نہیں بلایا گیا ہے۔ جب ہم یہ سب دیکھتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ ہم بھارت میں دنگوں سے انگریزوں سے کہیں بہتر نمٹنے میں اہل ہیں۔
برطانیہ میں بھڑکے دنگوں نے ایک بار یہ سوال ضرور کھڑے کردئے ہیں اور صاف کردیا ہے کہ یہ صرف قانون اور نظم کا ہی معاملہ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ٹوری او ر لبرل ڈیموکریٹک محاذ حکومت کی پالیسیاں اور اس کی لاپرواہی کافی حد تک ذمہ دار ہے۔ اصل میں کبھی دنیا بھر میں اپنی حکومت پھیلانے والا برطانیہ خود آج ایک جوالہ مکھی پر بیٹھا ہوا ہے۔ تقریباً50 لاکھ لوگ دوسرے ملکوں سے آکر نہ صرف بسے ہیں بلکہ وہاں کے شہری بھی بن گئے ہیں اور یہ تعداد برطانیہ کی کل آبادی کی 8 فیصدی کے قریب ہے۔ انگریزوں کے موازنے میں ایشیائی اور افریقی اور کریبیائی لوگوں کی معیار زندگی سے لیکر اقتصادی حالت میں بھی بھاری فرق ہے۔ انگریزوں کے مقابلے میں وہاں سیاہ فام لوگوں میں بے روزگاری کی شرح تین گنا ہے۔ بہت سے ایشیائی اور دوسری نسل کے لوگوں نے وہاں خوشحالی کے جھنڈے بھی گاڑھ رکھے ہیں۔لیکن عام انگریز اب بھی اپنے یہاں رہ رہے دوسرے دیش کے لوگوں کو آسانی سے قبول نہیں کرپا رہے ہیں۔ ابھی جو فساد بھڑکا ہوا ہے اس کے پیچھے افریقی کریبیائی نژاد کے ایک لڑکے مارک ڈگن کی پولیس فائرنگ سے ہوئی موت کو سبب بتایا جارہا ہے۔ بیشک اس واقعہ نے چنگاری کو بھڑکانے کا کام کیا مگر چار دنوں میں لندن سمیت مختلف شہروں میں پھیل چکے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اندر ہی اندر جو آگ سلگ رہی تھی وہ بھڑک اٹھی ہے۔ جن علاقوں میں فساد پھیلا ہے وہاں ہندوستانی ، پاکستانی اور بنگلہ دیشی نژاد لوگ بھی بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔ فسادیوں نے جس طرح سے ہڑدنگ مچا رکھا ہے اس سے تو یہ ہی لگتا ہے کہ ان فسادات میں ایسے عناصر بھی شامل ہوگئے ہیں جنہیں صرف لوٹ مار سے مطلب ہے۔ کچھ شوقیہ لوگ جنہیں ایسے کاموں میں شامل ہونے کی کوئی ضرورت نہیں تھی وہ بھی اس میں کود پڑے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے ان فسادات کے لئے برطانیہ کی حکومت بھی کم ذمہ دار نہیں ہے۔ اس نے بجٹ اور دیگر خرچوں میں جو کٹوتی کی تھی اس کا خمیازہ وہاں کے غریب ،بیروزگار نوجوانوں کو زیادہ بھگتنا پڑا ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو ہر وقت دیش خاص کر ترقی یافتہ ملکوں کے لئے ایک چیلنج ہے۔ اس بات پر غور کرنا اس لئے ضروری ہے کیونکہ دنیا میں جن جمہوری ممالک کی دہائی دی جاتی ہے ان میں انگلینڈ بھی ایک ہے۔ بھارت کے لئے بھی اس میں ایک سبب ہے۔ ہیو ناٹس اور ہیونس کا بڑھتا فرق نہ تو دیش کے لئے ٹھیک ہے اور نہ ہی ہماری جمہوریت کیلئے۔ امیری بڑھتی جارہی ہے غریبوں اور امیروں میں فرق کم نہیں ہورہا ہے۔ بہرحال انگلینڈ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کیلئے سب سے بڑی چنوتی یہ ہے کہ وہ ان فسادات کو جلد سے جلد روکیں اور سرکار کی ان پالیسیوں پر پھر سے غور کریں جن کے سبب یہ فساد بھڑکے ہیں اور یہ کام جلد کرنا ہوگا کیونکہ 2012ء میں لندن میں اولمپک کھیل ہونے والے ہیں۔ اگر ہندوستانی ٹیم جو ان دنوں انگلینڈ کے دورے پر ہیں وہ بھی کہیں دنگوں کے سبب بیچ میں ہی ٹور منسوخ کرکے ملک واپس لوٹ آئے جیسا انگلینڈ ٹیم نے ممبئی فسادات کے دوران کیا تھا تو انگریزوں کو کیسا لگے گا؟
Anil Narendra, Daily Pratap, London, London Riots, Vir Arjun

12 اگست 2011

انا نے کیا کھلی جنگ کا اعلان

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 12th August 2011
انل نریندر
انا ہزارے نے جنگ کا اعلان تو کردیا ہے۔ بدھ کے روز انا ہزارے نے لوکپال بل پر غور کررہی پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کو کھری کھری سنائی۔ کمیٹی کو انا نے صاف کہہ دیا کہ اس سرکاری لوکپال بل پر غور کرنا کمیٹی کی جانب سے اپنا قیمتی وقت ضائع کرنا ہے۔
انہوں نے سرکاری بل کی کاپیاں بھی دکھائیں۔ انا نے کہا سرکار نے جو بل پارلیمنٹ میں پیش کیا ہے وہ غور کے لائق نہیں۔ سرکار یہ بل صرف جنتا کو بے وقوف بنانے کے لئے لائی ہے تاکہ لوگوں کو گمراہ کیا جاسکے اور اس نے بدعنوانی سے لڑنے کیلئے کچھ نہیں کیا ہے۔ جتنے اشو اتنی باتیں۔ انہوں نے سرکار کے نمائندوں کے ساتھ سیدھی میٹنگ کے دوران اٹھائے تھے ان سب کو چھوڑدیا گیا ہے۔ اس لئے بہتر ہوگا کہ وہ سرکار کو یہ کہتے ہوئے بل لوٹا دیں کہ بدعنوانی سے لڑنے کیلئے اس میں بہت سی مزید شقوں کی ضرورت ہے۔ انا کے ساتھ پہنچے جن لوکپال ٹیم کے ممبر شانتی بھوشن نے لوک آیکت کی ضرورت ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سرکار نے اپنے بل میں اس کا کوئی دائرہ نہیں رکھا ہے۔ ایسے میں اب پارلیمانی کمیٹی کے لئے یہ جوڑنا مشکل ہوگا۔ لوکپال کے انتخاب اور اسے ہٹانے کی سرکاری شقوں کو بھی انہوں نے غلط بتایا ساتھ ہی اس میں سبھی سرکاری حکام، ججوں اور وزیر اعظم کو بھی شامل کرنے کی وکالت کی ہے۔ میٹنگ کے دوران اس کمیٹی کے چیئرمین کانگریس ایم پی ابھیشیک منوسنگھوی سمیت کانگریس کے منیش تیواری اور مناکشی نٹراجن۔ بھاجپا کے رام جیٹھ ملانی۔ بسپا کے وجے سنگھ بہادر۔ سپا کے شیلندر کمار اور آر جے ڈی کے لالو پرساد یادو بھی موجود تھے۔ ٹیم انا میں انا کے علاوہ شانتی بھوشن، اروند کیجریوال، کرن بیدی اور منیش سسودیا تقریباً ڈیڑھ گھنٹے چلی میٹنگ میں موجود تھے۔
اب آگے کیا؟ طے پروگرام کے مطابق انا ہزارے بھوک ہڑتال پر بیٹھیں گے۔ دہلی پولیس کے ذریعے تجویز جگہ جے پرکاش نارائن نیشنل پارک انا کو منظور ہے۔ دہلی پولیس کے اعلی حکام نے بدھ کی شام ٹیم انا کو یہ متبادل پیش کیا تھا جسے انہوں نے قبول کرلیا ہے۔ انا 16 اگست سے یہیں بھوک ہڑتال پر بیٹھیں گے۔ جے پرکاش نارائن پارک دہلی کے اہم اسٹیڈیم فیروز شاہ کوٹلہ میدان اور شہیدی پارک سے بالکل لگا ہوا ہے۔ یہ پارک آٹھ دس ایکڑ مربع گز میں پھیلا ہوا ہے۔ اس میں 15 سے18 ہزار لوگ بیٹھ سکتے ہیں۔ بدعنوانی کے خلاف انا کے 16 اگست سے شروع انشن کی کامیابی میں تحریک کا وقت اور حالات اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اس ہفتے کے آخر میں کئی تہوار پڑ رہے ہیں ایسے میں نوکری پیشہ لوگوں نے دھڑا دھڑ ہفتے بھر کی چھٹی کے لئے درخواستیں دے دی ہیں۔ چھٹیوں کا یہ وقفہ انا کی تحریک کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اس ہفتے میں رکشہ بندھن اور پھر یوم آزادی کے بعد اگلے ہفتے کے ایتوار کو جنم اشٹمی کی چٹھی بھی آرہی ہے۔ انا کی تحریک بھی شروع ہورہی ہے۔ بدعنوانی کے خلاف دیش کومتحدکرنے کے لئے انا حال ہی میں نوکری پیشہ لوگوں کو ایک ہفتے کی چھٹی لیکر تحریک میں شامل ہونے کی اپیل کرچکے ہیں۔ اسے اتفاق ہی کہا جائے کہ یہ پلاننگ ایسے وقت میں ہورہی ہے جب چھٹیوں کی جھڑی لگی ہوئی ہے۔ خبر ہے کارپوریٹ کمپنیوں کے 55 فیصدی ملازمین نے بھی ایک ہفتے کی چھٹی کے لئے درخواستیں دے دی ہیں۔ وقت تو مناسب ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ انا کو کتنی عوامی حمایت ملتی ہے۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Corruption, Daily Pratap, Lokpal Bill, Vir Arjun

اشفاق کی سزابرقرار تو افضل گورو کی فائل کا آخری پڑاؤ

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 12th August 2011
انل نریندر
تاریخی لال قلعہ پر حملہ کر تین فوجیوں کو قتل کرنے والے لشکر طیبہ کے پاکستانی آتنکی محمدعارف عرف اشفاق کو ملی پھانسی کی سزا پر بدھ کے روز سپریم کورٹ نے اپنی مہر لگا کر اس کی سزا کو برقرار رکھا ہے۔ نچلی عدالت اور دہلی ہائی کورٹ کے ذریعے دی گئی پھانسی کی سزا کو برقرار رکھتے ہوئے جسٹس وی ایس سرپکراور جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی ڈویژن بنچ نے اشفاق کی عرضی کو خارج کردیا ہے۔ بنچ نے کہا کہ دیش میں غیر قانونی طور سے داخل ہوا اور دیش کے خلاف جنگ چھیڑنے کی سازش کو انجام دینے کیلئے دھوکہ دھڑی اور دیگر جرائم کر اس نے ڈرائیونگ لائسنس و راشن کارڈ بنوایا اور حوالہ کے ذریعے لاکھوں روپے اکٹھے کئے اور یہاں ایک مقامی لڑکی سے شادی کی۔ ان پیسوں سے اس نے اوکھلا میں کمپیوٹر سینٹر کھولا اور آخر کار 22 دسمبر 2002 کو دیش کی سرداری کی علامت لال قلعہ پر حملہ کروایا۔ اس لئے اس حملے میں عدالت کو سزائے موت دفعہ121,120B اور 302 کے علاوہ کوئی اور مناسب سزا نظر نہیں آتی۔
ادھر بدھ کے ہی روز اشفاق کی پھانسی کی سزا برقرار رکھنے کا فیصلہ آیا تو ادھر مرکزی وزارت داخلہ نے پارلیمنٹ پر حملے کے مجرم محمد افضل عرف افضل گورو کی موت کی سزا پر داخل رحم کی عرضی مسترد کرتے ہوئے اس کی فائل صدارتی سکریٹریٹ کو بھیج دی ہے۔غور طلب ہے کہ افضل گورو کو13 دسمبر 2001 ء کو پارلیمنٹ پر حملے کی سازش رچنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ یہ حملہ لشکر طیبہ اور جیش محمد نے مل کر کیا تھا۔جانچ میں حملہ آور کی شناختی کارڈ پر گورو کا فون نمبر ملا تھا۔ وہ حملے سے پہلے سری نگر میں گورو کے رابطے میں تھے۔ سپریم کورٹ نے 2004 میں اسے سزائے موت کے نچلی عدالت و ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔ افضل گورو کو 20 اکتوبر2006 کو ہی پھانسی دی جانی تھی لیکن گورو کی اہلیہ نے رحم کی اپیل داخل کر معاملے کو الجھا دیا۔ تبھی سے اس کی پھانسی لٹکی ہوئی ہے۔ کبھی دہلی حکومت میں تو کبھی وزارت داخلہ میں۔ سارا دیش بار بار یہ مطالبہ کرتا رہا ہے کہ افضل گورو کوپھانسی پر لٹکاؤ لیکن یوپی اے حکومت اپنی ووٹ بینک پالیٹکس کے چلتے فیصلہ لینے سے کترا رہی تھی۔ ایسا کرکے نہ تووہ مسلمانوں سے انصاف کررہی ہے اور نہ ہی دیش سے۔ افضل کو پھانسی سے کیا دیش کے مسلمان کانگریس کے خلاف ہوجائیں گے؟ قطعی نہیں۔ مسلمان تو افضل جیسے دہشت گردوں سے اتنا ہی پریشان ہیں جتنے دیش کے دوسرے فرقے کے لوگ۔ آتنک وادی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ جب آتنک وادی مقدس رمضان کے مہینے میں مساجد پر بم مار کر نماز ادا کررہے مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار سکتے ہیں تو ان کا مذہب سے عقیدت کا پتہ چل جاتا ہے۔اگر افضل گورو کو جلد پھانسی ہوجاتی ہے تو اس سے تمام دہشت گرد جماعتوں کو و ان کے آقاؤں کو ایک پیغام جائے گا۔ بھارت آتنک واد کے خلاف زیرو ٹالارینس کی پالیسی پر چلے گا۔ یعنی ایک بھی حملہ برداشت نہیں، ایک بھی آتنکی بچ نہیں سکتا۔افضل گورو کی فائل آخری مرحلے تک پہنچ گئی ہے، دیکھیں راشٹرپتی بھون سے کب اس پر پھانسی کی سزا کے لئے مہر لگتی ہے اور کب افضل پھانسی پر لٹکتے ہیں۔ ویسے اب تو اشفاق بھی اس لائن میں شامل ہوگئے ہیں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, Afzal Guru, Ashfaq, Sikh Terrorist, Terrorist,

11 اگست 2011

آج کی سیاست کا اصلی چہرہ دکھاتی فلمیں

Published On 11th August 2011
انل نریندر
کل رات ٹی وی پر ایک دلچسپ خبر دیکھی۔ پٹنہ میں پولیس کے سینئر افسروں کو سنگھم فلم خاص طور سے دکھائی گئی۔ اس کے لئے باقاعدہ کچھ گھنٹوں کے لئے ان افسروں کو چھٹی دی گئی۔ سنگھم فلم پولیس افسر کے بارے میں بنی ہے۔ کافی بولڈ سبجیکٹ ہے اور آج کی سیاست کو بخوبی دکھاتی ہے۔ ہمارے سیاستدانوں کو ایسی فلموں سے ڈرنا چاہئے اور سبق لینا چاہئے۔ پچھلے کچھ عرصے سے تازہ سیاسی اشوز پر فلمیں بن رہی ہیں۔ پرکاش جھا کی فلم ’آرکشن‘ بھی ایک برننگ اشو پر مبنی ہے۔ ایسی ہی ایک اور فلم ’کھاپ‘ بھی بنی ہے۔ ان دونوں کی مخالفت ہورہی ہے۔ دونوں کی مخالفت سیاست سے وابستہ لوگ کررہے ہیں۔ ایک زمانے میں ’آندھی ‘فلم آئی تھی جس نے سیاسی حلقوں میں طوفان مچا دیا تھا۔ اس فلم پراسلئے پابندی لگا دی گئی کیونکہ اس میں سچترا سین کے کردار میں کچھ لوگوں کو اندرا گاندھی کی جھلک دکھائی د ے رہی تھی۔ بنیادی طور پر فلم کو بہار میں نہیں دکھایا جاسکا۔جب آر جے ڈی لیڈر لالو پرساد یادو نے اس کی اجازت دے دی تھی۔اکثراحتجاج سیاستدانوں سے ہی شروع ہوتا ہے کیونکہ ان کے اندر بسا عدم سلامتی کا احساس ان کی سوچ پر حاوی ہوجاتا ہے۔ وہ جنتا کو گمراہ کراسے ٹہلاکر اپنا وفادار یا حمایتی بنائے رکھنا چاہتی ہے ، لیکن جب فلموں میں اس کا اصلی چہرہ سامنے آتا ہے تو وہ بوکھلا اٹھتے ہیں۔ اس لئے جیسے ہی کوئی ایسی طاقتور چیز آتی ہے جو جنتا کی آنکھیں کھول دے تو وہ ڈر جاتے ہیں اور کسی نہ کسی بہانے اس کی مخالفت شروع کردیتے ہیں۔ انا ہزارے یا بابا رام دیو کی تحریکوں سے بھی یہ اسی وجہ سے خوفزدہ ہیں۔
جانے مانے فلم ہدایتکار پرکاش جھا کی مقبول فلم ’آرکشن‘ 12 اگست کو ریلیز ہوگی ۔ لیکن بہت کم لوگوں کو پتہ ہوگا کہ باکس آفس پر بیحد ہٹ ہو چکی ان کی فلم ’گنگا جل ‘ کے اصلی ہیرو 1 اگست کو لوک سبھا میں لانچ ہوگئے۔ چونکئے مت یہ ہیں جمشید پور لوک سبھا ضمنی چناؤ میں بھاری اکثریت سے جیت حاصل کرنے والے بہار کے سابق ایس پی ڈاکٹر اجے کمار۔ پرکاش جھا نے ’گنگا جل ‘ میں جرائم پر لگام لگانے والے ایس پی امت کمار کا کردار اجے دیوگن نے نبھایا تھا۔ مزے کی بات یہ ہے ڈاکٹر اجے کمار نے سیاستدانوں کے دباؤ سے عاجز ہوکر پولیس کی نوکری سے توبہ کی تھی لیکن اچانک اب خود ہی سیاستداں کی شکل میں سیدھے لوک سبھا میں نازل ہوگئے ہیں۔ ایس پی رہتے ہوئے وہ پرکاش جھا کے ساتھ پٹنہ میں شطرنج کھیلا کرتے تھے۔ اسی دوران پرکاش جھا نے ان کی شخصیت کو شیشے میں اتارا اور پارکھی پرکاش جھا کسی فلم میں انہیں نہیں ڈھالتے یہ بھلا کیسے ہوسکتا تھا لیکن آج بھی ڈاکٹر اجے کمار کو اس بات کا ملال ہے کہ فلم تو بہت ہٹ ہوئی تھی یہ بات اتنی مقبول نہیں ہو پائی۔ بہرحال کبھی سیاستدانوں سے خار کھانے والے ڈاکٹر اجے کمار اب ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں وہ سسٹم پر سیدھا حملہ بول سکتے ہیں اور اپنے نظریات کو موثر ڈھنگ سے پیش کرسکتے ہیں۔ ہاں یہ تبھی ممکن ہے جب وہ خود اس سسٹم کے شکار نہ ہوجائیں؟ کہیں وہ بھی سیاست کے اس گندے دلدل میں نہ پھنس جائیں؟ قریب20 سال پہلے جب اسٹیل سٹی جمشید پور میں جرائم کی انتہا ہوگئی تھی تو اس وقت اس پر کنٹرول کے لئے رتن ٹاٹا کی مخصوص درخواست پر ڈاکٹر اجے کمار کو پٹنہ سے جمشید پور بھیجا گیا تھا۔ گنگا جل فلم میں بھی اجے دیوگن کو تیج پور میں جرائم پر قابو کرنے کیلئے بھیجا گیا تھا۔
Amitabh Bachchan, Anil Narendra, Arakshan, Daily Pratap, Films, Vir Arjun

سونیا کی غیر موجودگی میں پارٹی کو ٹھیک ٹھاک چلانا چنوتی ہے

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 11th August 2011
انل نریندر
عام طور پر یوم آزادی کے موقعہ پر 24 اکبر روڈ پر واقع کانگریس ہیڈ کوارٹر میں پارٹی پردھان ترنگا لہراتی ہیں لیکن اس سال پارٹی صدر سونیا گاندھی دیش میں نہیں ہیں اس لئے کسی اور کو ان کی غیر موجودگی میں جھنڈا لہرانا پڑے گا۔ سونیا گاندھی کے بعد امید تو یہ ہے کہ راہل گاندھی اس مرتبہ قومی پرچم لہرائیں گے۔ لیکن راہل گاندھی فی الحال امریکہ میں اپنی ماں کے ساتھ ہیں شاید وہ آج کل میں آجائیں گے۔راہل کا جلد لوٹ کرپارٹی کا کام سنبھالنا کانگریس کیلئے انتہائی ضروری ہے۔ خیال رہے کہ سرجری کے لئے بیرون ملک روانہ ہونے سے پہلے سونیا گاندھی نے پارٹی کی کمان کیلئے راہل گاندھی ، اے کے انٹونی، احمد پٹیل اور جناردھن دویدی کی چار نفری کمیٹی کو سونپ دی تھی۔ اگر چہ کسی وجہ سے 15 اگست تک نہیں لوٹتے تو ہوسکتا ہے موتی لال ووہرا جیسے پارٹی کا کوئی سینئر لیڈر ترنگا لہرائے۔ وہیں ایک ہفتے بعد بھی سونیا گاندھی کی بیماری کو لیکر معمہ برقرار ہے۔ 4 اگست کو سونیا گاندھی کی سرجری ہوئی تھی۔ ابھی تک سرکاری طور سے نہ تو یہ بتایا گیا ہے کہ کس بات کی سرجری ہوئی ہے اور کہاں ہوئی ہے؟ ہمیں یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ اس معمے کو کیوں پوشیدہ رکھا گیا ہے؟دکھ بیماری کسی کے بس میں نہیں ہوتی۔ چھپانے سے افواہیں جنم لیتی ہیں۔ آج سونیا گاندھی کی حالت کو لیکر جتنے منہ اتنی باتیں ہورہی ہیں۔ یہ نہ تو پارٹی کے لئے اچھی بات ہے نہ ہی نہرو خاندان کیلئے۔ اس سے کہیں زیادہ بہتر ہوتا کہ سونیا گاندھی کی بیماری اور علاج دونوں کے بارے میں باقاعدہ طور پر بتایا جاتا اور یومیہ ان کا صحت بلیٹن جاری ہوتا۔ سونیا گاندھی کا کچھ بھی اب پرائیویٹ نہیں رہا۔ وہ دیش کی جانی مانی عوامی شخصیت ہیں۔ ان کی صحت سے سارا دیش متاثر ہوتا ہے۔ ہر کوئی جاننا چاہتا ہے کہ وہ کب صحت یاب ہوکر واپس آئیں گی لیکن جب کوئی ٹھیک طرح سے بتاتا ہی نہیں تو جنتا کیا کرے؟ سونیا گاندھی کی علالت کے سبب اہم فیصلے زیادہ دن تک پارٹی نہیں ٹال سکتی۔ راہل کو جلد لوٹ کر کمان سنبھالنی ہوگی۔ بیشک روز مرہ کا کام کاج ٹھیک ٹھاک سے چلتا رہے اس کا انتظام تو ہوگیا ہے لیکن پارٹی کو متحدہ رکھنے کیلئے گاندھی خاندان کی غیر موجودگی کو پارٹی زیادہ وقت تک نہیں جھیل سکتی۔ پارٹی لیڈروں کی جھٹپٹاہٹ کو کانگریس کے سینئر لیڈر ماکھن لال فوطیدار نے یہ کہتے ہوئے بیان کیا ہے کہ سونیا گاندھی کے بغیر پارٹی ادھوری ہے لہٰذا پارٹی کے تمام نیتاؤں اشارہ دیا جارہا ہے کہ کانگریس صدر کی غیر موجودگی میں راہل جلد ہی واپس آکرکام سنبھالیں گے۔ ورکروں کو یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ سونیا گاندھی صحت یاب ہوکر جلد ہی دوبارہ پارٹی کی کمان سنبھالیں گی۔
راہل گاندھی ، اے ۔ کے انٹونی، احمد پٹیل اور جناردھن دویدی کو اگرچہ سونیا گاندھی نے اپنی غیر موجودگی میں پارٹی کا سروے سروا نامزد کیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ سونیا گاندھی اور راہل گاندھی دونوں کے بھروسے کا جو کور سات سال پہلے تھا وہ آج بھی ہے۔ اسے پھربخوبی سمجھ لینا چاہئے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ یہ چاروں پہلے بھی کور ٹیم میں تھے اور آج بھی دگوجے سنگھ یا چدمبرم کے بول بالے کا جو شور تھا اس کی اصلیت کھل گئی ہے۔ ایسے ہی پرنب مکرجی کی جیسے پہلے پوزیشن تھی وہ آج بھی ہے۔ گاندھی خاندان کے کور میں وہی بیحد بھروسے مند ہوتا ہے جو کم بولتا ہے۔ لوپروفائل رکھتے ہوئے خوداپنا کام کرتا رہتا ہے۔ احمد پٹیل پچھلے 34 سال سے ایم پی ہیں۔لیکن آج تک وزیر نہیں بنے۔ انہوں نے کبھی بھی اپنی پوزیشن کا غلط استعمال نہیں کیا۔ وہ پارٹی سرکار معاملے میں کتنے اہم ہیں یہ سبھی جانتے ہیں۔ اسی طرح اے ۔ کے انٹونی ہیں1977 میں صرف 37 سال کی عمر میں پہلی بار کیرل کے وزیر اعلی بنے تھے، تب سے وہ کل ملاکر تین بار (1995-2001) میں وزیر اعلی بن چکے ہیں۔ جب وہ وزیر اعلی تھے ان کی اہلیہ جو بینک میں کام کرتی تھیں، پبلک بس میں سفر کرتی تھیں۔ انہوں نے کبھی بھی کسی طرح کا مطالبہ نہیں کیا۔ اسی طرح جناردھن دویدی اتنے اہمیت کے حامل ہونے کے باوجود لوپروفائل رہنا پسند کرتے ہیں۔ اسی طرح کی کچھ خوبیاں وزیر اعظم منموہن سنگھ میں بھی ہیں تبھی تو انہیں سونیا گاندھی کی اتنی اہم ذمہ داری سونپی۔ کانگریس پارٹی کو فی الحال روز مرہ کے کاموں کو ٹھیک ٹھاک چلانے کے علاوہ ایک اہم فیصلہ یوپی میں ٹکٹ بٹوارے اور یوپی لیڈر شپ کو لیکر کرنا ہوگا۔ اس کیلئے اسکریننگ کمیٹی کی میٹنگ ہونی ہے۔ موہن پرکاش کی سربراہی میں ہونے والی میٹنگ تبھی ہوگی جب راہل گاندھی واپس آئیں گے۔ راہل کا یوپی مشن2012ء ان کی غیر موجودگی میں ادھورا ہے اور ان کے لوٹنے پر ہی اس میں رنگ بھرا جائے گا۔

10 اگست 2011

امریکی معیشت کے چرمرانے کا اثر ساری دنیا پرہوگا


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 10th August 2011
انل نریندر
جب دنیا کی سب سے مضبوط مانی جانے والی امریکی معیشت ڈگمگا جائے تو اس کا اثر باقی ملکوں پر پڑنا فطری ہی ہے۔ ساری دنیا کے معاشی جگت میں اتھل پتھل مچی ہوئی ہے۔ مالی ساکھ کے سب سے خاص AAA کلب سے امریکہ کو بے دخل کرنے کے بعد دنیا کی حکومتیں اور مالیاتی ریگولیٹری ہنگامی تیاریوں میں لگ گئی ہیں۔ امیر اور ابھرتے ممالک کے گروپ جی وزراء مالیات نے ایتوار کو ہی فون پر ہنگامی بات چیت شروع کردی۔ اس کا سب سے زیادہ اثر دنیا کے بازاروں پر پڑا ہے۔ پچھلے ہفتے دنیا کے بازاروں میں قریب 2500 ارب ڈالر کا چونا لگ چکا ہے۔ ادھر اپنے دیش میں شیئر بازار میں گراوٹ سونامی لہر بن کر آئی اور دیکھتے دیکھتے سینسکس غوطہ کھا گیا۔ بمبئی اسٹاک ایکسچینج کا سنسکس 540 پوائنٹ ٹوٹ کر کھلا اور 17 ہزار پوائنٹ کی سطح سے کافی نیچے چلا گیا۔نفٹی میں بھی 130 پوائنٹس کی گراوٹ آئی ہے اور یہ پانچ ہزار کا لیول توڑنے کے قریب پہنچ گیا۔ گراوٹ کی سب سے زیادہ مار انفورمیشن ٹکنالوجی کی بڑی کمپنیوں پر پڑی۔ انفورسز ،بندرا پانچ فیصدی سے زیادہ کے شیئر ٹوٹ گئے۔ ٹاٹا موٹرز ، ریلائنس انڈسٹریز، آئی سی آئی سی آئی بینک، بھارتیہ ایئر ٹیل جیسی بڑی کمپنیوں میں بھی زبردست بکوالی ہوئی۔ غور طلب ہے کہ سینسکس میں پچھلے چار دن میں ہی ایک ہزار پوائنٹس کی گراوٹ آچکی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پوری دنیا میں اب تک مختلف اسٹاک ایکسچینجوں میں 200 لاکھ کروڑ ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ کوئی دیش اس سے اچھوتا نہیں رہا۔ شیئروں کی گراوٹ کی ہلچل چین سے لیکر آسٹریلیا تک دیکھی گئی ہے۔
ادھر گرتے شیئر بازاروں کے درمیان بھارت میں سونے کی مانگ نے سارے پرانے ریکارڈ توڑ دئے ہیں۔ پیر کی صبح ایم سی ایکس پر کاروبار کے دوران سونا 25 ہزار روپے 10 گرام تک چلا گیا۔ امید کی جارہی تھی کہ دیوالی تک سونا ریکارڈ سطح تک جا سکتا ہے لیکن دنیا بھر کے بازاروں میں گراوٹ کے درمیان سرمایہ کاروں کی سیف زون کی تلاش نے سونے کو ابھی اس بلندی تک پہنچادیا۔
ایم سی ایکس پر کاروبار کی شروعات کے ساتھ ہی سونا 350 روپے یعنی 1.4 فیصدی اوپر چلا گیا۔ اشیائے ضروریہ کے ماہرین مانتے ہیں کہ اگلے کچھ دنو ں میں سونا 27 ہزار روپے فی 10 گرام تک کی سطح پر پہنچ جائے تو زیادہ تعجب نہ ہوگا۔ امریکی ڈالر کی کمزوری کے ساتھ ہی سونے میں تیزی بڑھتی جائے گی۔ دنیا بھر کے سرمایہ کار شیئر بازاروں سے پیسہ نکال کر محفوظ سمجھے جانے والے سونے میں پیسہ لگا رہے ہیں۔
دنیا بھر کے شیئر بازاروں میں بکوالی کے پیمانے سے پیر کی صبح کچے تیل کے دام کافی گرگئے۔ ماہ ستمبر کی ڈلیوری والے نیویارک مین لائٹ کروڈ کنٹریکٹ 2.86 فیصدی تک لڑھک تک84.55 فیصدی ڈالر فی بیرل پر آچکا تھا۔ اسی طرح پرینٹ نارتھ سیکروٹ بھی 2.66 فیصدی پھسل کر 106.48 ڈالر فی بیرل کی سطح پر کاروبار کررہا تھا۔اشیائے ماہرین کے مطابق، امریکی کریڈٹ کی دوبارہ ہوئی ریٹنگ میں بھی ڈاؤن گریڈنگ کے چلتے بازار میں غیر یقینی کا ماحول بنا ہوا ہے۔ سرمایہ کاروں کا بھروسہ ٹوٹ گیا ہے۔ اس سے تیل کی ڈیمانڈ بھی متاثر ہوگی۔ غور طلب ہے کہ امریکہ دنیا میں تیل کا سب سے زیادہ کھپت کرنے والا ملک ہے اور اس کی کریڈٹ ریٹنگ پچھلے70 برسوں میں پہلی بار AAA سے گھٹ گھٹ کرAA+ رہ گئی ہے۔ ایک بار پھر ہندوستانی معیشت کا امتحان ہوگا۔
AAA Rating, America, Anil Ambani, Daily Pratap, USA, Vir Arjun

فسادات کی زد میں آیا لندن

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 10th August 2011
انل نریندر
لندن میں پچھلے تین دنوں سے دنگوں کا دور دورہ جاری ہے۔ نارتھ لندن کے ٹوٹنہم علاقے میں جمعرات کو پولیس فائرنگ میں ایک شخص کی موت سے بھڑکے فسادات رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ خیال رہے جمعرات کو مبینہ طور پر پولیس فائرنگ میں 29 سالہ شخص مارگ ڈگن کی موت واقع ہوگئی تھی۔ جس کے بعد احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔ لیکن سنیچر کے بعد ان مظاہروں نے فساد کی شکل اختیار کرلی۔ افریقی نژاد کے سیاہ فام لوگوں نے پولیس پر جم کر پتھراؤ کیا۔ اخبار دی اسٹار کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کو مارگ ڈگن نامی شخص کے قتل کے بعد مقامی سیاہ فاموں نے انصاف کی مانگ کرتے ہوئے سنیچر کی شام پانچ بجے کے قریب ٹوٹنہم کے ہائی وے روڈ پر ایک پرامن مظاہرہ کیا۔ چشم دید گواہوں نے بتایا کہ لوگوں کا غصہ دیکھتے دیکھتے تشدد میں بدل گیا۔ موقعے پر سینکڑوں مظاہرین جمع ہوگئے۔
فسادیوں کو قابو کرنے کے لئے دنگا پولیس نے قابو پانے کی کوشش کی لیکن جب ایسا کیا تو فسادیوں نے پولیس کی گاڑیوں پر حملہ بول دیا اور ان کو آگ کے حوالے کردیا۔ معاملہ یہیں نہیں رکا، فسادیوں نے دکانوں کے شیشے توڑ کر اندر رکھا سامان لوٹنا شروع کردیا اور دیکھتے ہی دیکھتے کئی دکانیں لٹ گئیں۔ فسادیوں کو ٹرکوں میں سامان لاد کر بھاگتے دیکھا گیا۔ ٹوٹنہم میں بڑی تعداد میں افریقی اور کیربیا فرقے کے لوگ رہتے ہیں۔ اس خطے میں باقی لندن کے مقابلے میں بیروزگاری زیادہ ہے۔ ٹوٹنہم میں پہلی بار تشدد ہوا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ فسادات قریب 25 سال پہلے 1985 میں ہوئے برطانیہ کے خوفناک دنگوں سے ملتے جلتے ہیں۔پولیس افسر بلیک لاک کو قتل کردیا تھا۔500 سے زیادہ لڑکوں نے سڑکوں پر اترکر پولیس پر حملے ، بسوں میں آگ لگانے، دکانیں لوٹنے جیسی حرکتوں کو انجام دیا تھا۔ سڑکوں پر گشت لگا رہیں پولیس کی دو کاروں کو بھی نذر آتش کردیا تھا۔ اس بار کے فسادات حالانکہ 1985 کے فسادات جتنے خوفناک نہیں لیکن تقریباً اسی طرح کے ہیں۔
یہ فساد ابھی بھی جاری ہے۔ بی بی سی ٹی وی کے کچھ ملازمین اور سیٹلائٹ ٹرک بھی حملے کے شکار ہوئے ہیں۔ واقعہ پر موجودہ بی بی سی کے نمائندے نے بتایا کہ پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں جاری ہیں۔ فائر برگیڈ کی گاڑیاں بھی تشدد کا شکار بنی ہیں۔ ایک چشم دید گواہ نے کچھ یوں سڑک کا منظر بیان کیا ہے۔ یہ علاقہ اس وقت جنگ کا منظر پیش کررہا ہے۔ میں نے پانچ لڑکوں کو دیکھا جنہوں نے اپنے چہروں کو ڈھکا ہوا تھا۔ا نہوں نے کچرے کی ٹرالی کو آگ لگادی اور اسے پولیس کی طرف پھینک دیا۔ پولیس کے مطابق پولیس نے ایک گاڑی کو روکا جس میں لڑکا مارگ ڈگن بیٹھا ہوا تھا۔ پولیس کے مطابق مارگ نے پولیس پر بغیر وجہ فائرننگ شروع کردی۔ اس کے بعد پولیس نے گولی چلائی۔ یہاں سے معاملہ شروع ہوا۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ پولیس نے مارگ ڈگن کو بغیر وجہ مارا اور انہیں انصاف چاہئے۔ ٹوٹینہم سے بھڑکے تشدد این فیلڈ، بکسن، ڈاسٹون، اسلنگٹنگ، مستابو تک پھیل گئے ہیں۔ حملوں کے سلسلے میں اب تک100 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ حملوں میں تقریباً دو درجن سے زیادہ پولیس والے بھی زخمی ہوچکے ہیں۔ انگلینڈ ایک جوالہ مکھی پر بیٹھا ہوا ہے۔ پچھلے دنوں خبر آئی تھی کہ جہادیوں کا بھی برطانیہ سب سے بڑا اڈہ بن گیا ہے۔ کچھ دن پہلے میں نے پڑھا تھا کہ کچھ لندن کے شہریوں نے وہاں شرعی قانون نافذ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ امریکی نژاد سیاہ فام تشدد نظریئے کے ہوتے ہیں۔ یہ فسادات کہیں اور زیادہ نہ پھیل جائیں ابھی تک تو ہندوستانی ۔ پاکستانی نژاد کے لوگ بچے ہوئے ہیں لیکن اگر فساد بڑھتا ہے تو وہ بھی اس کی زد میں آسکتے ہیں۔
Tags: Anil Ambani, Daily Pratap, London, London Riots, UK, Vir Arjun

09 اگست 2011

طالبان نے لادن کے قتل کا بدلہ لیا


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 9th August 2011
انل نریندر
افغانستان میں طالبان نے امریکہ سے اسامہ بن لادن کی موت کا بدلہ لے لیا ہے۔ گذشتہ جمعہ کو طالبان نے ایک امریکی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا ہے۔ اس کارروائی میں 31 امریکی فوجی مارے گئے ہیں۔
یہ عام فوجی نہیں تھے۔ اس ہیلی کاپٹر میں 31 امریکی فوجیوں میں نیوی سیل کے کمانڈو، تین ایئرفورس کے کنٹرول، 7 افغان فوجی موجود تھے جو 22 نیوی سیل کمانڈو ہیں جو اس تباہ ہیلی کاپٹر میں مارے گئے ہیں یہ اس سیل ٹیم کا دستہ تھا جو160 ویں اسپیشل آپریشن ایوی ایشن ریجمنٹ کا تھا جس نے پاکستان میں ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو مارنے کی کارروائی میں حصہ لیا تھا۔ اسامہ کو مارنے کے بعد سے ہی امریکی فورسز کا یہ یونٹ طالبان کے نشانے پر تھا۔ سال 2001 ء میں افغانستان میں جنگ شروع ہوجانے کے بعد غیر ملکی فوجیوں کے لئے یہ سب سے بڑا نقصان تھا۔ اس ہیلی کاپٹر کو افغانستان کے مشرقی وارداک صوبے کے دہشت گردی سے متاثرہ ایک ضلع میں طالبان مخالف کارروائی کے دوران نشانہ بنا یا گیا۔ وار داک صوبے کے گورنر کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ طالبان کی جانب سے داغے گئے راکٹ نے ہیلی کاپٹر کو پوری طرح سے تباہ کردیا۔ اس واقعہ کے بعد ہیلی کاپٹر کے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے اور وہ پوری طرح تباہ ہوگیا۔
امریکی صدر براک اوبامہ نے اپنے فوجیوں کی موت پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہماری سکیورٹی فورسز کی بڑی قربانی کی ایک اور مثال ہے۔ افغان صدر حامد کرزئی نے بھی اوبامہ کو فون کر اس واقعہ پر افسوس ظاہر کیا۔ اس کارروائی کے ایک چشم دید گواہ محمد صابر نے بتایا کہ اس کے گاؤں میں دیر شام ہوئی کارروائی کے دوران ایک ہیلی کاپٹر اچانک گر گیا۔ اس نے قریب رات 10 بجے اڑتے دیکھا تھا۔ ہم گھر میں تھے، ایک ہیلی کاپٹر ایک طالبان کمانڈر کے گھر پر اترا اور تابڑ توڑ گولی باری شروع ہوگئی۔ ہیلی کاپٹر نے پھر اڑان بھری لیکن اڑان بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد وہ گر گیا۔ وہیں دوسرے ہیلی کاپٹر بھی اڑ رہے تھے۔ اس درمیان نیٹو کے ایک ترجمان نے بتایا کہ دراصل ہوا کیا ہے اس سلسلے میں وہ موزوں بیان وقت آنے پر دیں گے۔
ادھر طالبان کے ترجمان نجیب اللہ مجاہد نے کہا کہ اس کی تنظیم ہیلی کاپٹر کو مار گرانے کیلئے ذمہ دار ہے۔ اس نے کہا کہ یہ امریکی یونک (ہیلی کاپٹر) تھا ۔ اس نے امریکی کارروائی میں آٹھ دہشت گردوں کے مرنے کی بات کہی ہے۔ حالانکہ مغربی فوج کے ایک ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ ایک مخصوص قسم کا ہیلی کاپٹر ہے جس کا استعمال افغانستان میں نیٹو فوجیوں کو لانے اور مال لیجانے کے لئے کیا جاتا ہے۔
طالبان نے اسامہ بن لادن کی 2 مئی کو پاکستان کے ایبٹ آباد شہر میں کئے گئے قتل کا ایک طرح سے بدلہ لے لیا ہے۔ اس 160 ویں اسپیشل آپریش ایوی ایشن ریجمنٹ کے نیوی سیل کے فوجیوں نے لادن کو مار گرایا تھا۔ اسامہ کو مارنے والے اسکواڈرن کا نام گولڈ اسکواڈرن اور سیل ٹیم 6 بھی رکھا ہوا تھا۔ کہا جارہا تھا کہ یہ ہیلی کاپٹر کسی مخصوص مشن پر گیا تھا اس لئے اس میں امریکی فوج کے سب سے بڑے فوجی یونٹ کے نیوی سیل شامل تھے۔ طالبان نے اسے راکٹوں سے اڑایا۔ امریکہ کے لئے یہ بہت بڑا نقصان ہے۔ 2001ء سے اب تک یہ واحد سب سے بڑی ٹریجڈی مانی جائے تو شاید غلط نہ ہوگا۔
Tags: America, Anil Narendra, Daily Pratap, Osama Bin Ladin, Taliban, Vir Arjun

سترفیصدی آبادی گاؤں میں رہتی ہے اور زراعت سب سے بڑا پیشہ ہے

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 9th August 2011
انل نریندر
مردم شماری کے مطابق دیش کی قریب 70 فیصدی آبادی اب بھی گاؤں میں بستی ہے۔ ہندوستان کی آبادی121 کروڑ ہے۔ مرکزی داخلہ سکریٹری آر کے سنگھ کے ذریعے جاری دیہی شہری آبادی کے بارے میں ہندوستان کی مردم شماری 2011ء کے پختہ اعداو شمار بتاتے ہیں کہ شہروں کی آبادی شرح گاؤں کی بہ نسبت زیادہ بڑھی ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ بھارت دیہات کا دیش ہے یا بھارت کی روح گاؤں میں بستی ہے۔ ویسے تو اس طرح کے جملے کبھی کتابوں کا ضروری حصہ ہوا کرتے تھے لیکن پچھلی قریب ڈیڑھ دو دہائیوں سے جب سے یہ اقتصادی پالیسی اپنائی گئی ہے اقتصادی ماہرین کے دماغ سے گاؤں غائب ہونے لگے ہیں۔ اس کی حمایت میں کچھ زرخرید قسم کے اقتصادی ماہرین نئے نئے حقائق ڈھونڈکر پیش کرنے لگے ہیں۔ مثلاً کسی طرح گاؤں سے ہجرت اور کھیتی سے ان کی چاہت دور ہورہی ہے۔
دیش کی ترقی شرح میں زراعت کا اشتراک کم ہوتا جارہا ہے۔ ہندوستان ایک زرعی پردھان دیش ہے اور اس کی 70فیصدی آبادی ابھی بھی دیہات میں رہتی ہے لیکن ویسی اقتصادی پالیسیوں کی کمی ہے جو زراعت پر مبنی دیہی معیشت کو مضبوطی فراہم کرسکے۔ دیہی معیشت کی بد حالی کے لئے مرکز کے ساتھ ساتھ ریاستی حکومتیں بھی ذمہ دار ہیں۔ وہ نہ تو مرکزی انتظامیہ پر زرعی خطے کی بھلائی میں معاون بننے والی پالیسیوں کو بنانے کے لئے دباؤ بنانے میں اہل ہیں اور نہ ہی اپنی سطح پر ایسے قدم اٹھا پا رہی ہیں جس سے کسان خودکفیل ہو سکے۔ بھلے ہی سیاسی پارٹیاں خود کو کسانوں اور گاؤں ،غریبوں کا ہتیشی بتاتی ہوں لیکن سچائی تو یہ ہے کہ وہ دیہی آبادی کو محض ایک ووٹ بینک کی شکل میں دیکھتی ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ زرعی سیکٹر کی بھلائی کے لئے جو پالیسیاں بنتی بھی ہیں ان پر صحیح ڈھنگ سے عمل نہیں ہوتا۔ تمام برعکس حالات سے دوچار ہونے کے باوجود اگر کبھی کسان اناج کی پیداوار بڑھانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو انہیں اپنی پیداوار کی صحیح قیمت نہیں ملتی اور ان کی کڑی محنت کا فائدہ تو بچولئے ہی اٹھا جاتے ہیں۔
ایک شرمناک پہلو یہ بھی ہے کہ ذخائر کی کمی میں ہر برس لاکھوں ٹن اناج سڑ جاتا ہے ۔ ایسا آگے بھی ہوگا کیونکہ بار بار کی وارننگ کے باوجود مناسب پالیسیوں کو بنانے سے بچاجارہا ہے۔ پچھلی ایک دہائی میں گاؤں کی گذر بسر کی زندگی مشکل ہوتی گئی ہے کیونکہ تمام ترقیاتی اسکیموں کی توجہ شہروں پر دی جارہی ہے۔ ایک تو زرعی کام بے فائدہ ہوگیا ہے پھر پہلے سے موجود روزگار کے متبادل کے وسائل میں بھی کمی آئی ہے۔ یہ ایک اچھا اشارہ ہے کہ گاؤں سے اب ہجرت شرح میں کمی آئی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دیہات کے پاس ہی نوکریاں نکالی جائیں تاکہ روزگار کے ساتھ لوگ گاؤں میں ہی رہیں۔ شہروں کی طرف نہ بھاگیں۔
اب دیہات میں یہ تمام گلیمرس سہولیات تو آچکی ہیں ٹی وی، فلمیں وغیرہ اب گاؤں گاؤں پہنچ چکی ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ گاؤں کو زیادہ سے زیادہ خود کفیل بنایا جائے۔ صحت سہولیات کی بھاری کمی ہے، اسکولوں کی بھی کمی ہے۔
اسکول ۔ ہسپتالوں کی کمی کو دور کیا جائے لیکن یہ سب کرنے کے لئے ہمارے اقتصادی ماہرین کو اپنی ترجیحات میں تھوڑی تبدیلی لانی پڑے گی۔ دنیا یا گلوبل معیشت کی دن رات دہائی دینے والوں کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ بھارت کا اصل مطلب گاؤں ہے۔ بھارت گاؤں پردھان دیش ہے اور جب تک یہ بات انہیں سمجھ میں نہیں آتی تب تک گاؤں کو نظرانداز کیا جاتا رہے گا۔
Tags: Anil Narendra, Census of India, Daily Pratap, India, Population, Vir Arjun

07 اگست 2011

سونیا کی غیر موجودگی میں پارٹی اور حکومت

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 7th August 2011
انل نریندر
پچھلے کچھ برسوں سے شریمتی سونیا گاندھی نے کانگریس صدارت کی کرسی سنبھالی ہے۔ یہ پہلا موقعہ ہے جب وہ اتنے وقت تک پارٹی سرگرمیوں سے دور رہیں گی۔ سونیا جی کا امریکہ کے سلوآن کیٹرنگ کینسر میموریل میں ایک آپریشن ہوا ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق آپریشن کامیاب رہا اور اب وہ آئی سی یو سے باہر آگئی ہیں۔ ایسا لگتا ہے سونیا جی کو ہسپتال میں دو تین ہفتے رہنا پڑے گا۔ پھر اگر ڈاکٹروں نے اجازت دے دی تو وہ وطن واپس لوٹ آئیں گی اور انہیں لوٹنے کے بعد بھی کم سے کم ایک مہینہ آرام کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ آنے والے کچھ دنوں میں کانگریس پارٹی کو سونیا کی صلاح سے محروم رہنا پڑ سکتا ہے۔ جانے سے پہلے سونیا گاندھی نے چار نفری کمیٹی بنائی ہے جو پارٹی کا کام کاج دیکھے گی۔ راہل گاندھی ، احمد پٹیل، اے کے انٹونی، جناردھن دیویدی اس ٹیم کے ممبر ہیں۔ اس انتخاب پر بحث چھڑ گئی ہے۔ کچھ نیتاؤں کے منہ ضرور لٹکے ہوئے ہیں کہ میڈیم نے یہ ذمہ داری انہیں کیوں سونپی ہے۔
پرنب مکرجی نے جو پارٹی اور سرکار کے سنکٹ موچک ہیں ، کا نام نہ ہونا تعجب کی بات ہے۔ ویسے تو پارٹی یا سرکار کو کوئی بھی پریشانی ہو تو پرنب دا ہی اسے سلجھاتے ہیں۔ وزیر اعظم بھی اس میں شامل نہیں ہیں اور نہ ہی پی چدمبرم، دگوجے سنگھ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ سونیا نے پارٹی اور سرکار کا کام کاج چلانے میں فرق کیا ہو۔ وزیر اعظم ، کپل سبل ،چدمبرم سرکار چلا رہے ہیں تو احمد پٹیل ، جناردھن دیویدی پارٹی کو چلائیں گے۔ راہل گاندھی دونوں میں ہیں کامن ہوں گے۔ یہ ہی حال اے کے انٹونی کا بھی ہے۔
یہ پہلی مرتبہ ہے جب راہل گاندھی کو اتنی بڑی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ کچھ لوگ اسے ان کی تاج پوشی کی شروعات مان رہے ہیں۔ یعنی وزیر اعظم منموہن سنگھ کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے۔ دیر سویر راہل گاندھی کو وزیر اعظم تو بننا ہی ہے، اس لئے سونیا گاندھی چاہیں گی کہ اب یہ کام جلد سے جلد ہوجائے۔ آنے والے ایک دو مہینے بھارت کی سیاست میں اہم ہیں۔ سرکار اس وقت بحران سے گذر رہی ہے۔ ہر روز کوئی نہ کوئی نیا مسئلہ کھڑا ہوجاتا ہے۔ دہلی کی وزیر اعلی شیلا دیکشت سمیت کئی ایسے اشو ہیں جنہیں سونیا گاندھی کے لوٹنے تک ٹالنا شاید آسان نہیں ہوگا۔ اگر کسی بھی بڑے مسئلے کا فیصلہ لینا پڑے تو قطعی فیصلہ کون لے گا؟ راہل گاندھی؟ ہم دعا کرتے ہیں کہ سونیا جی جلدسے جلد ٹھیک ہوکر گھر لوٹیں۔ لیکن بیماری کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ابھی تو یہ کھلے عام معلوم نہیں کے انہیں بیماری ہے کیا اور کس بیماری کا آپریشن ہوا ہے۔
ساری قیاس آرائیاں ہسپتال کے نام سے لگائی جارہی ہیں لیکن اتنا ضرور ہے بیماری کچھ زیادہ سنگین ہے نہیں تو سونیا اتنے دن باہررہنے پر کبھی راضی نہ ہوتیں۔ ضرور ایسی کوئی مجبوری رہی ہوگی جو ہندوستان کے ہسپتالوں و ڈاکٹروں کو نہیں چنا گیا اور امریکہ جانا پڑا۔ سونیا جی کو طویل عرصے تک آرام کی ضرورت ہوگی اس لئے پارٹی کو بھی دوررس حکمت عملی اسی حساب سے طے کرنی چاہئے۔ پارٹی اور سرکار میں تال میل ضروری ہے۔ خاص طور پر اس سنکٹ کے وقت میں۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ سونیا کی غیر موجودگی میں یہ تال میل کیسا بیٹھتا ہے؟ ہم سونیا جی کی تیزی سے صحت یابی کی توقع کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ بھگوان انہیں جلدصحت یاب کرے۔
Tags: Anil Ambani, Congress, Daily Pratap, Memorial Sloan-Kettering Cancer Center, Rahul Gandhi, Sheila Dikshit, Sonia Gandhi, Vir Arjun

اناہزارے کچھ حد تک اپنے مقصد میں کامیاب رہے

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 7th August 2011
انل نریندر
جن لوکپال بل پر حکومت اور ٹیم انا میں جنگ کا اعلان ہوگیا ہے۔ یہ تو ہونا ہی تھا۔ کیونکہ دونوں فریقین میں کئی اہم نکتوں پر اختلافات تھے۔ ادھر جمعرات کو حکومت نے لوک سبھا میں لوکپال بل پیش کیا تو ادھر انا نے بیمار ہونے کے باوجود مہاراشٹر کے رالے سدھی گاؤں میں بل کی کاپیاں جلا کر اس کی مخالفت کا بگل بجادیا۔ اب ٹیم انا نے سادگی سے تحریک کی وارننگ دی ہے۔ بل جلانے کے بعد انا نے ایک بار پھر سرکار پر حملہ بول دیا ہے اور کہا کہ سبھی ملازمین افسران کو لوکپال کے دائرے میں لایا جانا چاہئے۔ انہوں نے سوالیہ لہجے میں کہا’’ہر ریاست میں لوک آیکت کی تقرری نہیں ہوئی تو بدعنوانی پر قابو کیسے پایا جاسکتا ہے؟ انہوں نے حکومت کی نیت پر سوال کھڑا کرتے ہوئے وارننگ دی تھی کہ سرکار کے لوکپال بل کی ہولی دیش کے گاؤں گاؤں میں جلے گی۔16 اگست تے انشن شروع کرنے پر انا نے کہا کہ اگر دیش سے بدعنوانی مٹانی ہے تو تحریک کا یہ ایک اچھا موقعہ ہے اور اسے ہاتھ سے نکلنے نہیں دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا نوجوانوں سمیت سبھی ملک کے شہریوں کو اسے آزادی کی دوسری لڑائی سمجھ کر16 اگست سے شروع ہو رہے انشن میں شامل ہونے کی اپیل کرتا ہوں۔
بڑی اپوزیشن پارٹی نے حکومت کے ذریعے پیش کئے گئے لوکپال بل کی تلخ تلقین کی ہے۔ بھاجپا نیتا اور لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج نے کہہ دیا کہ آخر وزیراعظم کو لوکپال کے دائرے سے باہر کیوں رکھا جارہا ہے؟ جبکہ وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ خود کہہ چکے ہیں کہ مجھے شخصی طور سے اس قانون کے دائرے میں لائے جانے سے کوئی پرہیز نہیں ہے۔ تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سشما سوراج نے سرکار سے پوچھا کہ آخر کار پھر وزیر اعظم کو وہ لوگ ’’پوترگائے‘‘ مان کر کیوں دائرے سے باہر رکھنے پر آمادہ ہیں؟ بھاجپا لیڈروں نے کہا کہ وہ لوگ اپنی مخالفت پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے درج کرا کر دباؤ ڈالیں گے کہ وزیراعظم کو لوکپال بل کے دائرے میں لایا جائے۔ مرکزی وزیر کپل سبل نے پلٹ وار کرتے ہوئے بھاجپا سے پوچھا کہ جب بھاجپا کے اٹل بہاری واجپئی وزیر اعظم تھے اس دور میں بھاجپا نے یہ قانون کیوں نہیں پاس کرادیا جبکہ این ڈی اے سرکار کے دور میں 2002ء میں لوکپال کا بل باقاعدہ لوک سبھا میں رکھا گیا تھا۔ اس وقت اس بل میں وزیر اعظم کو لوکپال کے دائرے میں رکھنے کی بات رکھی گئی تھی۔
قابل ذکر ہے کہ لوکپال بل پچھلے 42 سالوں سے لٹکا ہوا ہے۔ پارلیمنٹ میں اسے پہلے بھی 9 مرتبہ رکھا جاچکا ہے لیکن وقت اور میعاد ختم ہونے کے سبب یہ بے موت مارا جاتا رہا ہے۔ انا کی تحریک سے اتنی امیدیں تو ضرور بندھی ہیں کہ اس بار دیر سویر بل پارلیمنٹ میں پاس تو ہوہی جائے گا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ لوک سبھا میں پیش کیا گیا لوکپال بل انا اور عوامی توقعات کے مطابق نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی یہ ایک شروعات تو ہے۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ اسے آگے بڑھایا جائے۔ چاہے یہ لچر اور توقعات سے پورا نہ ہو لیکن اس کو لوکپال سمت کا وجود لینا ضروری ہے ۔ بلا شبہ سرکار چاہتیتو کہیں زیادہ پائیدارور عام لوگوں کو مطمئن کرنے والا لوکپال بل لا سکتی تھی۔ لیکن اس نے ایسا نہیں کیا اس سے مایوسی ہونا فطری ہی ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جمہوریت میں کئی بار کچھ اداروں کی تعمیر میں تھوڑی تاخیر ہوتی ہے۔ مرکزی اقتدار انا ہزارے اور ان کے ساتھیوں کو دہلی میں احتجاج کرنے کی اجازت دینے کے لئے آنا کانی کررہی ہے۔ اور اسے پارلیمنٹ کی توہین بتا رہی ہے۔ کیا عام جنتا کے احتجاج کے آئینی حق کی خلاف ورزی کرنا آئین کی توہین کرنا نہیں ہے؟ سرکار اپنے بل کی بیشک جتنی بڑائی کرے لیکن اسے یہ بھی خیال رکھنا چاہئے کہ انا کے مطالبات کو عام جنتا سے حمایت حاصل ہے۔ انا فیل نہیں ہوئے بیشک وہ اپنے مقصد میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوئے لیکن سرکار کو اتنا بھی مجبور کرنا ان کا ایک بڑا کارنامہ ہی ہے۔
Tags: Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Parliament, Price Rise, Vir Arjun