Translater

16 ستمبر 2020

باپ کے کھانے کا خرچ بھی نہیں اُٹھاتا بیٹا ،شرمناک

80سالہ ایک بزرگ کے معاملے نے دہلی کے سینکڑوں بزرگ شہریوں ،بچوں،اور خواتین کے لئے کورونا دور میں قانونی راہ کو آسان بنا دیا عدالت کا کہنا ہے کہ وہ ایسے معاملوں کو ترجیحاتی طور سے سنے گی اور یہ شرمناک ہے کہ بیٹا باپ کے کھانے پینے کا خرچ نہیں اُٹھاتا دراصل یہ بزرگ ایک غیر سرکاری انجمن کو بے سدھ حالت میں سڑک پر بیٹھا ملا تھا جسے لاک ڈاﺅن کے دوران بیٹے نے کھانا دینے سے انکار کر دیا تھا روہنی عدالت نے اس غیر سرکاری انجمن کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے بیٹے کو طلب کر پھٹکار لگائی اور حکم دیا کہ وہ اپنے والد کو ہر ماہ 8ہزار روپئے کا گزارہ بھتہ دے ساتھ ہی اسے اپنے والد کا علاج بھی کرانا ہوگا ۔روہنی عدالت میں اس معاملے میں پروٹکشن افسر کو کہا ہے کہ وہ ہر پندرہ دن میں اس بزرگ کی خیر و عافیت جاننے کے لئے وہاں جا کر دیکھیں ساتھ ہی یہ بھی دیکھیں کہ گھر میں اس بزرگ کے ساتھ کیسا برتاﺅ ہے اگر بد سلوکی کی شکایت ملتی ہے تو فوراََ عدالت کو بتایا جائے 17اگست کو باہر ی دہلی کے ایک گاﺅں کے باہر یہ شخص بیٹھا ملا تھا اس نے بتایا تھا کہ میرا بیٹا یہاں چھوڑ گیا بزرگ نے پوری بات بتائی تب جا کر گزارہ بھتہ کے لئے عرضی داخل کی گئی شرم کی بات یہ ہے کہ جس والد نے بیٹے کو پیدا کیا اور قابل بنایا کہ وہ ایک بڑی کمپنی میں افسر ہے اپنے باپ کے رہنے کھانے کا خرچ نہیں اُٹھا سکتا ایسے کسی بھی بزرگ کو یوں بد حال حالت میں نہیں چھوڑا جا سکتا یہ بزرگ ہمارے سماج کی وراثت ہیں ۔اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد اب سینئر جوڈیشل افسر نے فیصلہ لیا ہے کہ بزرگو ں عورتوں ،بچوں کے معاملوں کو ترجیحاتی بنیاد پر عدالت میں سنا جانا ضروری ہے ،اور جوڈیشیل افسر ایسے معاملوں کی روزانہ عدالت میں بھی رپورٹ کرے۔ (انل نریندر)

راہل گاندھی کا راستہ صاف

مضبوط قیادت کو لے کر اُٹھے تنازعہ کے بعد کانگریس تنظیم میں بھاری تبدیلی ہوئی ہے انترم صدر سونیا گاندھی نے بڑی تبدیلی میں پانچ جنرل سیکریٹروں کی چھٹی کر دی ہے ۔اس میں خط لکھنے والے 23باغی نیتاﺅں میں شامل غلام نبی آزاد شامل ہیں کانگریس میں ناراض لیڈروں کی طرف سے لکھے خط کو لے کر اُٹھے تنازعہ کے بعد پارٹی لیڈر شپ نے خط پر دستخط کرنے والے لیڈروں کو پیغام دینے کے ساتھ تنظیم میں بھی جگہ نہیں دی ہے ۔اس سے صاف ہے کہ تاریخ میں سیاسی طور پر اپنے سب سے مشکل دور سے پارٹی گزر رہی ہے اور خط کا تنازعہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے اور کانگریس ورکنگ کمیٹی کی سات گھنٹے تک میٹنگ چلی اور کئی فیصلے ہوئے جن سے باغی نیتاﺅں کے لئے اشارے صاف تھے کہ پارٹی شاید اس وقت خطرہ مول لینا نہیں چاہتی تھی اور اس لئے نئے صدر کے چناﺅ تک سبھی کو ساتھ لے کر چلنے کا عزم دھرایا تبدیلی کے ساتھ کانگریس نے صدر کے عہدے کے چناﺅ کے لئے سینٹرل چناﺅ اتھارٹی بھی تشکیل کر دی جس کے صدر مدھو سودن مشتری کو بنایا گیا ہے ۔اور سونیا گاندھی نے پارٹی صدر کو تنظیم سے جڑے کام میں صلاح دینے کے لئے کمیٹی بنائی حالانکہ یہ صاف کر دیا گیا ہے کہ یہ کمیٹی جنرل اجلاس تک کے لئے ہے اس رد وبدل میں کانگریس صدر کی پرانی ٹیم میں شامل بھروسے مند افراد کے ساتھ راہل گاندھی کے وفادار نوجوان لیڈروں کو جگہ دی گئی ہے ۔اگلے سال ہونے والے جنرل اجلاس میں صدر بنانے میں زیادہ کوئی ماتھا پچی نہیں ہوگی جو بھی نیتا ذمہ داری سنبھالے گا تو اپنی ٹیم میں زیادہ تبدیلی نہیں کرنی ہوگی چونکہ تنظیم میں نوجوانوں کو سینئر نیتاﺅں کے مقابلے زیادہ حصہ داری ملی ہے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی تو اب پارٹی کا دوبارہ سے صدر بنانے کا راستہ ہموار ہو گیا ہے ۔وہ حکمراں سرکار کے خلاف مورچہ کھول کر کانگریس میں جوش بھرنے کے کام میں لگے ہوئے ہیں ۔آگے چل کر راہل کی ٹیم اور مضبوط ہوگی وہیں پرینکا واڈرا کے یوپی کو لے کر اور قومی سیاست میں اور قد بڑھے گا سونیا گاندھی اس کو لے کر پہلے ہی چوکس رہیں لیڈر بم کے بعد کپل سبل نے اپنا ٹوئٹ اور غلام نبی آزاد نے اپنا استعفیٰ والا بیان واپس لے لیا تھا ۔آنے والے دنوں میں یہ جنرل سیکریٹر ی سے ہٹائے جانے والے لیڈروں کا کیا رول ہوگا اسے لے کر قیاس آرائیاں جاری ہیں ،ایسا کہا جا رہا ہے کہ سونیا گاندھی نے پھر سے راہل کو صدر بنانے کا راستہ صاف کر دیا ہے ۔ (انل نریندر)

کنگنا رناوت نے ادھو ٹھاکرے کا موازنہ راون سے کیا

کنگنا رناوت آج کل پھر سے سرخیوں میں ہیں اور مختلف معاملوں پر اپنی بے باک رائے اور زمانے بھر سے ٹکرانے کا ان کا حوصلہ دیکھ کر کچھ لوگ بھلے ہی اسے سیاست سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں لیکن اپنی اداکاری کے لئے تین قومی اور چار فلم فیئر حاصل کر چکی بالی ووڈ کی یہ اداکارہ اپنے کیرئیر کے ابتدائی دنوں سے ہی بالی ووڈ کی سرکردہ ہستیوں سے ٹکراﺅ مول لیتی رہی ہیں اس سے بھی بہت پہلے سے وہ بچپن سے ایک معاشرے کے برعکس بہتے ہوئے اپنا راستہ بناتی رہی ہیں 23 مارچ1987کو ہماچل پردیش کے ایک چھوٹے سے قصبے بھاولہ میں پیدا کنگنا باغیانہ رویہ انہیں کبھی راس نہیں آیا اور وہ اپنی مرضی کے لباس اور اپنے حساب سے پہننا اور جینا پسند کرتی ہیں ۔کنگنا نے احتجاج کے اپنے اس خوبی کو فلمی دنیا میں رہتے ہوئے بھی بنائے رکھا اور تمام طرح کے امتیاز کے خلاف کھڑی نظر آئیں چاہے وہ مرد ساتھی ہو یا سیاستداں ہو ۔تازہ معاملہ ان کا شیو سینا کے صدر اور وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کے خلاف رویے کا ہے کنگنا رناوت اور مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ٹھاکرے کی قیادت والی سرکار کے درمیان سرد جنگ جاری ہے ۔انہوںنے مہاراشٹر سرکار پر تازہ نکتہ چینی کرتے ہوئے ادھو کا موازنہ راون سے کر ڈالا ۔کنگنا نے دراصل اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر مراٹھی میں ایک پوسٹ شیئر کیا ہے یہ ان کے دوست اور فلم ہدایت کار وویک اگن ہوتری نے ڈالا تھا اس تصویر میں شیوا جی مہاراج کا کنگنا رناوت کو ایک تلوار دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے ۔اسی پینٹنگ کے پس منظر میں وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کے دس سر دکھا کر ان کا موازنہ راون سے کیا گیا ہے ۔اداکارہ نے اپنی پوسٹ کے کیپشن میں لکھا ہے کہ کئی بھیم ملے لیکن اس نے مجھے جذباتی بنا دیا وہ میرے دوست وویک اگن ہوتری نے مجھے بھیجی ہے ۔انہوںنے مراٹھی میں لکھا ہے کہ اگر انہوںنے مجھے ڈرانے کی کوشش کی تو میں مہارانی لکشمی بائی اور ویر شیوا جی کے نقش قدم پر چلوں گی میں جوش کے ساتھ آگے بڑھوں گی دوسری طرف کنگنا کا نام لئے بغیر شیو سینا نے کہا کہ پانی میں رہ کر مگرمچھ سے بیر نہیں کرتے شیو سینا نے اپنے اخبار سامنا میں کنگنا پر نکتہ چینی جاری رکھتے ہوئے اداریے میں لکھا ہے کہ ممبئی پاکستانی مقبوضہ کشمیر نہیں ہے جن لوگوںنے یہ تنازعہ کھڑا کیا ہے انہیں مبارک فلم سیکٹر نے ممبئی کو اپنی روزی کی سرزمین مانا ہے ۔ممبئی کے بنانے میں اہم اشتراک ہے پانی میں رہ کر مگرمچھ سے بیر نہیں کیا جاتا ۔خود شیشے کے گھر میں رہ کر دوسروں کے گھروں پر پتھر نہیں پھینکا کرتے انہیں ممبئی کا شراپ لگا ممبئی کو کم تر سمجھنے کا مطلب خود کے لئے گڈھا کھودنا ہی ہے ادھو ٹھاکرے نے اس معاملے میں آخر خاموشی توڑتے ہوئے کہا کہ میں سیاسی طوفان اور کورونا بحران دونوں کا سامنا کروں گا الزامات کا جواب دینے کے لئے مجھے وزیر اعلیٰ کا ماسک اتارنا پڑے گا میں بولتا نہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ میرے پاس جواب نہیں ہے یا میں کمزور ہوں۔ (انل نریندر)

15 ستمبر 2020

کاٹجو کی سنئے !نیرب مودی کو بھارت میں انصاف نہیں ملیگا

سپریم کورٹ کے سابق جج مارکنڈے کاٹجو نے مفرور ہرا تاجر نیرو مودی کی حوالگی کے معاملے میں جمع کو ویڈیو لنک کے ذریعے لندن کی عدالت میں نیرو مودی کے حق میں بیان دے کر سب کو چونکا دیا ہے ۔وہ بچاو¿ فریق کے گواہ کے طور پر پیش ہوئے تھے کہا نیرومودی کو حوالگی کئے جانے پر بھارت میں انہیں غیر جانب دارانہ انصاف نہیں مل پائےگا ۔130منٹ کے بیان میں کاٹجو نے الزام لگایا بھارت میں عدلیہ نظام چوپٹ ہو گیا ہے ۔جانچ ایجنسیاں سی بی آئی اور ای وی نیتاو¿ں کے اشاروںپر کام کررہی ہیں ۔کاٹجو نے اپنے الزام کی حمایت میں کئی اور کیس اور اشوز کو رکھا جن میں 2019میں سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی بنچ کی طرف سے ایودھیا پر دیاگیا فیصلہ شامل ہے جنہیں بعد میں راجیہ سبھا کا ممبر بنادیا گیا ۔حکومت ہند کی طرف سے بحث کرتے ہوئے برطانیہ کی کراو¿ن وکالت سیوا نے کاٹجو نے تحریری زبانی دعووں کی مخالفت کی کہا کہ نیرو مودی کی بھارت میں مسلمانہ سماعت نہیں ہوگی کیوں کہ عدالت میں زیادہ تر لوگ کرپٹ ہیں ۔بیرسٹر ہیلن میلکم نے سوال کیا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ آپ ایک خود پبلسٹی مین ہیں جو پریس کو بتانے کے مقصد سے کوئی غیر ذمہ دارانہ بیان دیں گے تو اس پر کاٹجو نے دلیل دی کہ آپ اپنی رائے دینے کے حقدار ہیں ۔کاٹجو نے سماعت کے دوران کئی بار بھارت موازنہ نازی جرمنی کے دور سے کیا ۔جس طرح نازی جرمنی میں اقتصادی بحران کے لئے یہودیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا اسی طرح نیرو مودی کو سیدھے طور سے ولی کا بکرہ بنادیاگیا ۔مفصل بیان سننے کے بعد معاملے کی اگلی سماعت 3نومبر تک ملتوی کردی گئی ۔ (انل نریندر)

پی ایم کئیر فنڈ میں مبینہ دھاندلی بازی مصیبت بن سکتی ہے

پی ایم کئیر فنڈ میں مبینہ دھاندلی جم کھانہ قلب منجمنٹ کے لئے مصیبت بن سکتی ہے ۔کلب نے پی ایم کئیر فنڈ کے نام پر جمع رقم کا ایک حصہ دہلی حکومت کے کھاتہ میں جمع کرا دیا ۔فائننس کمیٹی چئیرمین نے اس کے لئے کل جی سی کی اجازت لینا بھی ضروری نہیں سمجھا جس وجہ سے چئیرمین کے خلاف کاروائی ہوسکتی ہے ۔ادھر ایک دوسرے معاملے میں کلب کے چیف اور چار منیجروں کو ملی دھمکی سے دہشت کا ماحول بن گیا ہے ۔الزام ہے کلب کمیٹی ملزم کوبچانے میں لگی ہے ۔یاد رہے کورونا کے چلتے جم کھانہ کلب نے پی ایم کئیر فنڈ کے نام پر قریب 75لاکھ رپئے جمع کئے تھے لیکن پیسہ تین مہینہ تک فنڈ میں جمع نہیں کرایا ۔جب ایک اخبار نویس نے انکشاف کیا تو 18اگست کی جی سی میٹنگ میں بتایا گیا کہ پیسہ جمع ہو گیا ہے مگر حقیقت میں ساٹھ فیصدی رقم پی ایم کئیر فنڈ میں جمع کرائی گئی ۔واقف کاروں کی مانیںتو یہ معاملہ پیسہ جمع کرانے والے ممبران کے ساتھ دھاکھا دھڑی کی گئی ہے ۔قانون کہتا ہے مالی مدد دینے والوں کی رضامندی کے بغیر دیگر کھاتوںمیں پیسہ جمع کرنا صحیح نہیں ہے ورنہ ان کے خلاف مقدمہ درج ہوسکتا ہے ادھر ایک دوسری واردات کو لیکر کشش کا ماحول ہے ۔کلب کے ملازمین نے مینجروں کو ملی دھمکی کے بارے میں شکایت کی ہے ۔مگر کاروائی تو دور ملزم کو نوٹس تک نہیں دیا گیا ۔بتایاجاتا ہے کلب کے معاونین قریب دوسو گاڑیوں والی ٹول اینڈ ٹریولس کمپنی بھی چلاتا ہے قاعدوں کے مطابق کوئی بھی ملازم افسر کلب میں نوکری کرتے ہوئے دوسرا کاروبار نہیں کر سکتا اس درمیان منجمنٹ کے نئے فرمان بھی سرخیوں میں ہیں خیال رہے کہ کلب میں کمپنی امور وزارت سے چل رہے تنازعہ کے دوران سرکار پر الزام لگائے تھے کہ وہ کلب پر قبضہ کرنے کی سازش کررہی ہے اسی کلب کمیٹی نے قریب 60یومیہ اجرت والے ملازمین کو نوکری سے نکا ل دیاہے دلیل دی جارہی ہے کلب خسارے میں چل رہا ہے کمیٹی نقصان اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں ہے حقیقت یہ ہے کہ کلب تمام خرچوں اور آپریشن لائسنس کے باوجود سالانہ دس کروڑ روپئے کما رہی ہے ۔ (انل نریندر)

کنگنا رنوت جانے انجانے میں شیو سینا کو سیاسی فائدہ پہوچا رہی ہے

اداکارہ کنگنا رنوت اور شیو سینا کے نیتا سنجے راوت 3ستمبر سے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کررہے ہیں ۔دونوںمیں سے کوئی بھی اپنے قدم پیچھے نہیں کھیچنا چاہتا ۔ایسے میں اس تنازعہ کے سیاسی فائدے کیا ہیں؟کنگنا نے سیو سینا ایم پی سنجے راوت کی نکتہ چینی کرتے ہوئے ممبئی کو پی اوکے کہہ ڈالا ان کے اس بیان نے اس تنازعہ میں آگ میں گھی کاکام کیا ۔کانگریس اور این سی پی جو ریاست میں شیو سینا کی اتحادی پارٹیا ں ہیں اس لئے انہوں نے شیو سینا کی حمایت کی ہے لیکن مہاراشٹر میں بی جے پی نے پہلے ہی دن کنگنا رنوت کی حمایت کر ڈالی لیکن کنگنا کے پی او والے بیان کے بعد مہاراشٹر میں بھاجپا بیک فٹ پر آگئی ہے ۔کنگنا کی حمایت کررہے بھاجپانیتا رام قدم نے اچانک خاموشی اختیارکر لی ہے حالانکہ مہاراشٹر کے باہر بی جے پی نیتا ابھی بھی شوشل میڈیا پر کنگنا کی حمایت کررہے ہیں اس تنازعہ میں ایک بات سے سبھی کو تعجب ہو رہا ہے کہ پچھلے ایک ہفتہ سے شیو سینا کنگنا کے بیانات کو اتنی توجہ کیوں دے رہی ہے ؟اس سوال کا جواب تلاشتے ہوئے ہمیں کنگنا کے بیانوں سے شیو سینا کو ہونے والے امکانی درپردہ یا برائے راست سیاسی فائدے دکھائی دئیے ہیں ۔پہلا کنگنا نے تین ستمبر کو نیو انڈین ایکسپریس کی خبر پر ٹوئیٹ کیا اور سنجے راوت کی نکتہ چینی کی تھی ۔اور ممبئی میں موازنہ پی او سے بھی کرڈالا اس وقت ممبئی کے ممبر اسمبلی رام قدم اور سابق ترجمان ابدھوت وال جیسے بی جے پی نیتا شوشل میڈیا پر کنگنا کی حمایت میں آرہے ہیں ۔ٹوئٹر پر عام آدمی ممبئی ہیز ٹیگ وائر ل ہو گیا ہے ۔سیاست اور منورنجن کی دنیا کی کئی اہم ہستیوں نے کنگنا کے بیان کی ملامت کی ہے ۔اورممبئی کی تعریف کی وہیں بی جے پی نیتا رام قدم نے تو کنگنا کا موازنہ جھانسی کی رانی سے کر ڈالا ایسے میں لوگوں کا رخ بی جے پی خلاف ہونا شروع ہو گیا ۔بی جے پی نیتا اور سابق وزیر تعلیم آشیش نے فورا ً ایک پریس کانفرنس بلائی اور صفائی دی بھاجپا کنگنا کے بیان سے متفق نہیں ہے ۔لیکن مغربی دہلی کے بے جی پی ایم پی پرویس سنگھ ورما سمیت بہت سے بی جے پی نیتا ابھی بھی کنگنا کی حمایت میں ہیں تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے مہاراشٹر اور بی جے پی کی ریاست میں ایک منفی ساخ بن رہی ہے ۔اگر بی جے پی ساخ خراب ہوتی ہے تو اس سے شیو سینا کو فائدہ ہوگا کیوں کہ ممبئی میٹرو پوریٹن کونسلوں کے چناو¿ اب زیادہ دور نہیں ہیں اگرایسے میں بھاجپا کی منفی ساخ بنی رہتی ہے تو اس کافائدہ شیو سینا کو ہوگا ۔کنگنا کی توتڑاک پر شیو سینا کے نیتا سنجے راوت کا کہنا ہے کہ افسوسناک ہے کہ انہیں بھاجپا سپورٹ کررہی ہے کیوں دراصل کسی بھی سیاسی نیتا کا ایسی خاتون کو سپورٹ نہیں کرنا چاہیے جو مہاراشٹر کی عزت نہیں کرتا ہو ۔اگر مہاراشٹر میںبی جے پی اقتدار میں ہوتی تو تصویر کچھ اور ہوتی ۔اگر کوئی نریندر بھائی مودی امت شاہ دیوندر فڑنویس کو کسی چینل پر کچھ بولتا تو اسے فوراً جیل میں ڈال دیا جاتا جنہوں نے یوگی آدتیہ ناتھ کے کارٹون بنائے اور انہیں کچھ لکھا تو انہیں جیل میں ڈال دیا گیا ۔ممبئی میں رہنے والوں کے دماغ میں شیو سینا کا دبدبہ بیٹھا ہوا ہے ۔اس چھاپ سے تو شیو سینا کو فائدہ آنے والے نگر پالیکا چناو¿ میں ہو سکتا ہے کنگنا کی رائے زنی کسی مہاراشٹر کسی کے باپ کا نہیں ہے بھی رائے زنی اس کے خلاف جا سکتی ہے ۔کنگنا بہرحال کورونا اور دوسرے اہم ترین معاملوں سے توجہ ہٹانے میں کامیاب رہی ہے ۔کل ملا کر شیو سینا کے ہاتھوںمین لڈو لگ رہے ہیں ۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...