03 مارچ 2017

مودی کی ساکھ، مایاوتی کی سوشل انجینئرنگ داؤں پر ہوگی

اترپردیش کے مہا سنگرام میں چھٹے مرحلہ کی جنگ بیحددلچسپ ہونے جارہی ہے۔ اس مرحلہ میں 7 اضلاع کی 39 سیٹوں پر 4 مارچ کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ جن سیٹوں پر ووٹ پڑنے ہیں ان میں ہے مہاراج گنج، خوشی نگر، گورکھپور، دیوریہ، اعظم گڑھ، مؤ اور بلیا شامل ہیں۔ 2012ء کے اسمبلی انتخاب میں سپا کو پوروانچل کے 6 اضلاع میں شاندار کامیابی ملی تھی۔ اعظم گڑھ، جون پور پر قبضہ جمایا تھا۔ ان سیٹوں کو برقرار رکھنے کے ساتھ ہی کمزور اضلاع میں اپنی تعداد بڑھانے کیلئے سماجوادی پارٹی۔ کانگریس اتحاد نے پوری طاقت جھونک رہی ہے۔ پردیش میں اب تک 313 سیٹوں پر چناؤ مکمل ہوچکا ہے۔ پوروانچل کی 89 سیٹوں پر 2 مرحلوں میں چناؤ ہونا ہے۔ چھٹے اور ساتویں مرحلہ میں 14 اضلاع کی جن 89 سیٹوں پر چناؤ ہونے ہیں وہاں بسپا چیف مایاوتی کے تجربات کی بھی اگنی پریکشا ہوگی۔ بہن جی نے اس آنچل میں کئی تجربے کئے ہیں۔ بسپا نے اسمبلی چناؤ کے لئے سب سے پہلے امیدواروں کا اعلان کیا تھا لیکن سپا۔ کانگریس اتحاد کے بعد مایاوتی نے مسلم ووٹروں کو راغب کرنے کے لئے پوروانچل کی قریب ایک درجن سیٹوں پر اثر رکھنے والے مافیہ مختار انصاری کی پارٹی قومی ایکتا دل کو بسپا میں ملا لیا، ساتھ ہی اپنے تین اعلان کردہ امیدواروں کے ٹکٹ کاٹ کر مختار انصاری کے بیٹے عباس انصاری و بھائی سبغت اللہ انصاری کو دے دئے۔ دیکھنا ہوگا کہ مایاوتی کا یہ تجربہ کتنا اثر دکھاتا ہے۔ دلت مسلم تجزیہ فٹ بیٹھتا ہے یا نہیں یا دلتوں میں بکھراؤ نظر آتا ہے۔ اسی طرح بسپا نے پوروانچل میں اثر رکھنے والے سپا سرکار کے دو سابق وزرا امبیکا چودھری و نارد رائے کو بھی چناؤ کے درمیان بسپا میں شامل کرلیا۔ انہیں بھی اعلان کردہ امیدواروں کا ٹکٹ کاٹ کر امیدوار بنایا۔ جانکارکہتے ہیں کہ تابڑتوڑ ٹکٹ کاٹ کر جس طرح چناؤ کے عین وقت باہری لوگوں کو موقعہ دیا گیا ہے اس سے کئی سیٹوں پر کاڈر کے اندر ناراضگی ہے۔ اس کے علاوہ بسپا نے پوروانچل کے کئی موجودہ ممبران اسمبلی کا ٹکٹ کاٹا ہے اور کچھ ایک کا حلقہ بدل دیا ہے۔ ادھر بی جے پی نے بھی ان آخری دو مرحلوں کے لئے بھی پوری طاقت جھونک دی ہے۔ یوپی فتح کے لئے پی ایم مودی اپنے طریقہ کار میں نائک بن کر ایک ایک ووٹ کے لئے جھولی پھیلارہے ہیں۔ مودی کی حکمت عملی سے سپا۔ کانگریس اتحاد، سپا و بسپا سبھی پارٹیاں پش و پیش میں ہیں۔ 3 مارچ کو وزیر اعظم مرزا پور اور 4 مارچ کو جونپور میں بھاجپا کی ریلی میں پہنچیں گے۔ جونپور میں ریلی کے بعد مودی اپنے پارلیمانی حلقہ وارانسی آجائیں گے۔ وارانسی میں پی ایم رات میں آرام کریں گے اور 5 مارچ کو مودی کی ریلی ہے ۔ اس کے علاوہ روڈ شو کی بھی تیاری ہے۔ اگر ایس پی جی و سکیورٹی ایجنسیوں نے گرین سگنل دیا تو روڈ شو تبھی ہوپائے گا۔ قابل ذکر ہے کہ آخری دور میں پارٹی کے قومی صدر امت شاہ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ، مرکزی وزیر کلراج مشرا، سادھوی اوما بھارتی، یوگی ادتیہ ناتھ سمیت کئی وزراء کی ریلیاں الگ الگ حلقوں میں ہونی ہیں۔ یہ بحث عام ہے کہ آخری دور میں بھگوا ٹولیاں جہاں بھی گھر گھر دستک دے رہی ہیں وہاں مودی کی ریلیوں سے ماحول کو بھاجپا کے حق میں کرنے کے لئے پوری طاقت جھونک رہی ہیں۔ پارٹی کا مشن فتح کے تحت سیدھا ٹارگیٹ ہے کہ بقایا 89 اسمبلی سیٹوں پر زیادہ سے زیادہ کمل کھلایا جاسکے۔ پوروانچل کے مورچے پر بھگوا ٹولی کو اس لئے بھی زیادہ پسینا بہانا پڑ رہا ہے کیونکہ اس میں پی ایم مودی کا پارلیمانی حلقہ بھی ہے اس کے علاوہ راجناتھ سنگھ و کلراج مشرا بھی بنیادی طور سے اسی علاقہ کے رہنے والے ہیں۔ یوگی ادتیہ ناتھ بھی پوروانچل میں رہتے ہیں۔ پارٹی کے لئے ساکھ کی لڑائی اس لئے بھی ہے کیونکہ بسپا کے ٹکٹ پر چناؤ لڑ رہے جرائم ساکھ والے مختار انصاری کا کنبہ بھی یہاں چنوتی دے رہا ہے۔آنے والے دن کئی پارٹیوں کیلئے اگنی پریکشا سے کم نہیں ہیں۔
(انل نریندر)

کیا بینکوں کے قرض وصولی میں کبھی کامیابی ملے گی

بینکوں کے پھنسے قرض (ایم پی اے) کی وصولی پر سپریم کورٹ کی سختی کا خیر مقدم ہے۔ کورٹ نے قرض وصولی ٹریبیونل (ڈی آر ٹی) میں ڈھانچہ بند وسائل کی کمی پر سرکار سے سوال کئے ہیں۔ عدالت نے پوچھا ہے کہ کیا موجودہ وسائل میں طے میعاد کے اندر قرض وصولی کی نشانہ حاصل کیا جاسکتا ہے؟ کورٹ نے سرکار سے قرض وصولی کی ساری مشینری کی جانکاری مانگی ہے۔ اس کے علاوہ قرض وصولی کے پرانے التوا میں پڑے معاملہ اور 500 کروڑ روپے سے زیادہ کی دیندار کمپنیوں کی فہرست بھی پیش کرنے کو کہا ہے۔وصولی کے معاملوں کے جلد نپٹارے کے لئے ٹریبیونل تشکیل ہونے کے باوجود مقدمہ برسوں سے التوا میں ہونے پر بھی عدالت نے سوال اٹھائے ہیں۔ ڈی آر ٹی کی تشکیل کے پہلے ستمبر 1990 ء تک عدالتوں میں قرض وصولی کے قریب15 لاکھ مقدمے التوا میں تھے۔ ان میں بینکوں کا 5622 کروڑ و مالیاتی اداروں کا 391 کروڑ کی رقم پھنسی تھی۔ 1993ء میں ڈی آر ٹی ایکٹ بنا اور ٹریبونل قائم ہوئے۔ دیش بھر میں 34 ڈی آر ٹی اور 5 اپیلیٹ ٹریبونل ہیں ان میں 2015-16ء میں 34ہزار کروڑ کی رقم سے وابستہ قریب16 ہزار معاملہ نپٹے۔ سپریم کورٹ نے پھنسے قرض کی وصولی کو لیکر سرکار پر جو سختی دکھائی ہے وہ بے وجہ نہیں ہے۔ سال در سال سرکاری سیکٹر کے بینک پھنسے قرض کی دلدل میں پھنستے جارہے ہیں۔ ان بینکوں کو قرض سے نکالنے کیلئے عام ٹیکس دہندہ کے پیسے کا استعمال ہورہا ہے۔ لیکن رسوخ داروں سے قرض وصولی کا کوئی ٹھوس راستہ نہیں نکالا جاسکا۔ پچھلے پانچ برسوں کے دوران سابق یوپی اے اور اب این ڈی اے سرکار قرض وصولی کا کوئی نیا طریقہ نہیں تلاش سکی۔ یہی نہیں بڑے رسوخ دار قرض داروں کی ضبط املاک کو بیچنے کا ریکارڈ بھی بیحد خراب ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال بیرون ملک فرار ہوچکے صنعت کار وجے مالیا کی پراپرٹی کی ہے۔ بینکوں کی تمام کوششوں کے باوجود انہیں اب تک بیچا نہیں جاسکا۔ 29 دسمبر 2016ء کو جاری آر بی آئی رپورٹ اس ناکامی کی پول کھول رہی ہے۔ سال2015-16 ء کی بات کریں تو لوک عدالتیں و قرض وصولی ٹربونل ڈی آر ٹی اور سرفیسی ایکٹ کے تحت بینک کل 4429.48 ارب روپے کے قرض میں پھنسے معاملے کو لیکر آئے تھے۔ اس میں صرف 453.36 ارب روپے کی ہی وصولی ممکن ہوپائے گی۔ یہی کہانی سال درسال دوہرائی جارہی ہے۔ ان وصولی مشینری کے پاس جتنی رقم کے پھنسے کیس لائے جاتے ہیں اس کا 10 سے20 فیصد ہی وصول ہوپاتا ہے۔ ستمبر 2016ء تک کے اعدادو شمار کے مطابق دیش یا بینکوں کا اصلی این پی اے 5.65 لاکھ کروڑ روپے کا ہے۔
(انل نریندر)

02 مارچ 2017

بھارت میں پہلی بار آئی ایس کا’ لون ولف‘

بھارت میں پہلی بار آتنکی تنظیم آئی ایس (اسلامک اسٹیٹ) کے دو ’لون ولف‘ حملہ آور گرفتار کئے گئے ہیں۔ دونوں مغربی ملکوں کی طرز پر بھارت کو دہلانے کی سازش رچ رہے تھے۔ گجرات کے دہشت گردی انسداد دستے (اے ٹی ایس) نے ایتوار کو راجکوٹ اور بھاؤ نگر سے دو مشتبہ آئی ایس دہشت گردوں کو دبوچا ہے۔ دونوں آتنکی چوٹیلا میں واقع چاؤ منڈا مندر اور دیگر مقامات پر حملہ کے فراق میں تھے۔ اے ٹی ایس کے ہتھے چڑھے وسیم اور نعیم رموڈیا سگے بھائی ہیں۔ ایک کی بیوی بھی ان سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ دونوں ضلع سطح کے کرکٹ امپائر عارف رموڈیا کے بیٹے ہیں۔ وسیم کے پاس بی ایس سی کی ڈگری ہے۔ گجرات کے اے ٹی ایس کے ڈائریکٹر جنرل جے کے بھت کے مطابق دونوں دہشت گردوں کے پاس سے دھماکو سامان کے علاوہ جہادی لٹریچربھی برآمد کیا گیا ہے۔ جب انہیں گرفتار کیا گیا وہ بم بنا رہے تھے۔ ان سے 90 گرام گن پاؤڈر اور بیٹری بھی برآمد ہوئی۔ دونوں آتنک وادی قریب دو سال پہلے آئی ایس کے آن لائن لٹریچر کے رابطے میں آئے۔ اس کے بعد آئی ایس کے متنازعہ پبلسٹی انچارج عبدالسمیع قاسمی سے بھی ان کی بات چیت شروع ہوگئی تھی۔ اسکائٹ ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا کے ذریعے آئی ایس ہینڈلروں کے رابطے میں تھے۔ دونوں پر پچھلے تین مہینوں سے نگاہ رکھی جارہی تھی۔ ان کا ارادہ بڑے پیمانے پر خون خرابہ کرنے کے علاوہ دیش میں خوف پیدا کرنا تھا۔ انہوں نے حملہ کا ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر جاری کرنے کا منصوبہ بنایا ہوا تھا۔ کئی مقامات پر حملہ کرنے اور گاڑیوں میں آگ لگانے کی بھی ان کی سازش تھی۔ لون ولف حملہ، بھیڑیئے کی طرح اکیلے حملہ کرنے کی طرح حکمت عملی کو ’لون ولف‘ حملہ کہتے ہیں۔ اس حملہ میں کوئی ہتھیار بم، چاقو، دستے بم وغیرہ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسے حملوں کو اکیلا آتنکی اس لئے انجام دیتا ہے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مار سکے۔ دراصل اس طرح کی سازش رچنے والے کا پتہ لگانا خفیہ ایجنسیوں کے لئے مشکل ہوتا ہے۔ کبھی کبھی یہ اتنا خطرناک ہوتا ہے حال ہی میں امریکہ کے شہر اولینڈو میں ایسے ہی ’لون وولف‘ حملہ میں ایک نائٹ کلب میں 49 لوگوں کی جان چلی گئی تھی۔ عمر متین کے نام سے مشہور آتنکی نے پچھلے سال جون میں یہ حملہ کیا تھا۔ فرانس کے نیس شہر میں پچھلی جولائی کوایک ایسے ہی آتنکی نے 86 لوگوں پر ٹرک چڑھا کر ہلاک کردیا تھا۔ امریکہ کی مشہور یونیورسٹی اوہویو میں ایک دہشت گرد نے فائرننگ کرکے 11 لوگوں کو زخمی کردیا تھا۔ آئی ایس بھارت میں داخل ہوچکا ہے اس میں شامل ہونے والا کیرل کا ایک نوجوان حفیظ الدین پچھلے جمعہ کو افغانستان میں ہوئے ڈرون حملہ میں مارا گیا تھا۔ حفیظ الدین ناگالینڈسے 2016ء میں لاپتہ ہوئے ان 17 لڑکوں میں سے ایک تھا جو آئی ایس میں شامل ہونے کیلئے گئے تھے۔
(انل نریندر)

ہوشیار! آپ جو دوا لے رہے ہیں وہ نقلی تو نہیں ہے

بھارت دنیا میں چند ایسے ملکوں میں سے ہے جہاں دواؤں میں بھی گڑبڑی کی جاتی ہے اور نقلی دوائیں چلائی جاتی ہیں۔ پیسوں کی خاطر بے قصور لوگوں کی جان سے کھیلنے والے ان لوگوں کو کسی کی پرواہ نہیں کہ جو دوا وہ مارکیٹ میں سپلائی کررہے ہیں وہ کتنی خطرناک ہے۔دیش میں بکنے والی دواؤں میں سے 0.3 فیصد تک نقلی ہیں۔ وہیں 4 سے5 فیصد دوائیں معیار پر کھڑی نہیں اترتی۔ نقلی دواؤں میں بازار میں سب سے زیادہ اینٹی بایوٹک بیچی جاتی ہیں اس لئے کے ان میں منافع موٹا ملتا ہے۔ مرکزی سرکار کے قومی سروے میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ دہلی میں انٹرنیشنل اتھانٹیکیشن کانفرنس میں سینٹرل ادویہ اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر رنگا چندرشیکھر نے بتایا کہ نقلی دواؤں کے بھروسے مند اعدادو شمار پر اب تک کوئی سرکاری سروے نہیں ہوا ہے۔ چندر شیکھر نے بتایا کہ سرکار نے دیش بھر سے 47 ہزار نمونے اکھٹے کئے۔ نقلی دواؤں میں اینٹی بایوٹک کے بعد اینٹی بیکٹیریل دواؤں کا مقام ہے۔ انہوں نے کہا ایکسپورٹس سے پہلے سبھی دواؤں کے نمونوں کی جانچ ہوتی ہے۔ ایسی ادویہ کیلئے ڈرگ اتھانٹیفکیشن اینڈ ویریفکیشن ایپلکیشن (دوا ایپ ) بھی بنایا گیا ہے۔ نقلی دواؤں کے کاروبار میں بھارت دنیا کا تیسرا سب سے بڑا بازار ہے۔یہ قریب 1 کروڑ10 لاکھ روپے کا دوا بازار ہے۔ ان میں دہلی، یوپی، بہار، ہریانہ، مدھیہ پردیش، گجرات شامل ہیں۔ دوا کے نام کا کاپی رائٹ نہیں ہوتا۔ رجسٹریشن بھی نہیں ہوتا۔ لیب میں جانچ کی بات تو چھوڑیئے مریضوں کو سستی دوا بیچنے والوں سے بچنا چاہئے۔ دوائیں صرف رجسٹرڈ اور آتھرائزڈکیمسٹوں سے ہی خریدیں اور دوا خریدنے سے پہلے ریپر پر دوا کا نام ، کمپنی کا نام اور دوا کی میعاد گزرنے کی جانچ ضرور کر لیں اور اس کی اسپیلنگ بھی چیک کرلیں۔ بھارت میں 10500 کے قریب دوا کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں۔ لمبے عرصے تک ایک ہی دوا کے استعمال سے اگر دوا اثر نہ کرے تو وہ نقلی ہوسکتی ہے۔ 
کچھ کمپنیوں نے کوڈنگ اور گیلولائز اسٹیکر کا استعمال شروع کیا ہے لیکن یہ تجربہ ابھی تک جینیرک دواؤں میں نہیں کیا گیا۔ تار کول سے بنی درد کش دوائیوں زہریلے آسنک والی بھوک مٹانے کی دوا مارکیٹ میں بیچی جارہی ہے ایسی دواؤں سے موت بھی ہوسکتی ہے۔ سینٹرل کیمیکل و کھاد منتری اننت کمار نے بتایا کہ لوگوں کی ہیلتھ گارنٹی یقینی کرنے ،غریبوں کو سستی شرح پر صحیح دوائیں دستیاب کرانے کے لئے ٹھوس قدم اٹھانے ہوں گے۔ جس کے تحت دوا انڈسٹری کو مافیہ سے آزاد کرایا جائے گا۔ دوا صنعت میں جگہ جگہ مافیہ حاوی ہے جس سے انہیں آزاد کرانے کی سخت ضرورت ہے۔
(انل نریندر)

01 مارچ 2017

نریندر مودی کے خلاف متحدہ مورچہ

2019ء کے لوک سبھا چناؤ میں نریندر مودی اور بھاجپا کی بڑھتی طاقت کے سامنے اپوزیشن اپنے آپ کو بونا محسوس کررہی ہے۔ وہ سمجھ رہی ہے کہ اکیلے اکیلے وہ مودی کا مقابلہ شاید نہ کرسکے۔ تبھی 2019ء کے عام چناؤ کیلئے مہا گٹھ بندھن کی پلاننگ کی کوشش ہورہی ہے۔ مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے سکریٹری جنرل سیتا رام یچوری نے کہا کہ این ڈی اے سرکار کی پالیسیوں کے خلاف لوگوں میں ناراضگی کو سمت دے کر 2019ء کے عام چناؤ میں بھاجپا کو چنوتی دینے کیلئے ایک راشٹریہ گٹھ بندھن بنائے جانے کی ضرورت ہے۔ یچوری نے کہا کہ ہم پالیسیوں اور پروگراموں کی بنیاد پر فیصلہ کریں گے کیونکہ صرف ایک ساتھ آنے کا مطلب ہی (اپوزیشن)اتحاد نہیں ہے۔ یہ صرف نمبروں کا کھیل نہیں ہے اور میرا خیال ہے کہ 2019ء میں ایک متبادل حکومت اور ایک سیکولر حکومت ہونی چاہئے۔ حال ہی میں بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار سے ملاقات کے بعد یچوری نے کہا حالانکہ بہارمیں بھاجپا کو اقتدار سے دور رکھنے والے گٹھ بندھن تجربے پر بات چیت ہوئی لیکن اس کا کوئی پہلے سے ہم جواب نہیں دے سکتے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس میں لیفٹ پارٹیاں اپنے دم پر فیصلہ کن کردار نبھائیں گی۔ یچوری کا کہنا ہے کہ اس لئے ہم نے ان سے (نتیش ) سے کہا کہ جواب بھی صاف ہے جو ہم دیکھ چکے ہیں1996 کی پوزیشن۔ ایک وہ بھی جواب ہے ۔ ہماری تاریخ آپ کو بتائے گی سال 1996ء میں چناؤکے بعد جنتادل ، سپا، ڈی ایم کے، تیلگودیشم پارٹی دی، آل انڈیا کانگریس کمیٹی (تیواری)، چار لیفٹ پارٹیوں ،تمل منیلا کانگریس، نیشنل کانفرس، مہاراشٹروادی گومنتک پارٹی نے 13 پارٹیوں کی مشترکہ حکومت بنائی تھی۔ اس اتحاد کا مستقبل کچھ حد تک اترپردیش میں کانگریس ۔سپا اتحاد کے نتائج پر ٹکا ہوا ہے۔ اب نگاہیں اس بات پر لگی ہیں کہ یوپی میں سماجوادی پارٹی اور کانگریس کی سوشل انجینئرنگ کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ اسمبلی چناؤ کے بعد دیش بھر میں سرگرمی بڑھانے کی یوجنا ہے۔ اترپردیش کے دھڑے پر دیش بھر میں تجزیہ نگاروں کی ٹیم اتارنے کی پلاننگ ہے۔ زمینی سطح پر حساب کتاب پر نظر رکھنے کے ساتھ ہی ریاستوں میں امکانی ساتھیوں کی تلاش کرنے کی اسکیم بن چکی ہے۔ممکنہ طور پر غیر بھاجپا محاذ میں جو پہلے سے آنے کے اشارے دے چکے ہیں ان کے علاوہ ابھی تک کہ گٹھ جوڑ یا بھگواہ خیمے میں شامل پارٹیوں کو توڑ لینے کی کوششیں ہوں گی۔ غیر بھاجپا مورچہ میں اڑیسہ کے وزیر اعلی نوین پٹنائک ، اترپردیش سے بسپا چیف مایاوتی کو بھی جوڑنے کی کوشش کی جائے گی۔ سپا نیتا اور وزیر اعلی اکھلیش یادو ایک کانگریس نیتا راہل گاندھی کے روڈ شو سے غیر بھاجپا اتحاد کی تیاریوں میں لگی پارٹیوں میں رسپانس دیکھ کر حوصلہ بڑھا ہے۔ لوک سبھا چناؤ میں کانگریس گٹھ بندھن کر میدان میں اترے گی۔ اس بات کے اشارے راہل گاندھی نے یہ کہتے ہوئے دئے کہ مستقبل میں اس کا امکان موجود ہے۔ اکھلیش نے راہل گاندھی کو وزیر اعظم کا چہرہ بنانے کے اشارے بھی دے دئے ہیں۔ مایاوتی کولیکر کانگریس نرمی برت رہی ہے۔ کانگریس سکریٹری جنرل غلام نبی آزاد نے راہل گاندھی کی طرز پر کہا ان سے (مایاوتی) کوئی سیاسی لڑائی نہیں ہے۔ ہماری لڑائی بھاجپا اور آر ایس ایس کی آئیڈیالوجی سے ہے جو دیش کا سیاسی نقصان کررہی ہے۔ بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار اترپردیش کے نتیجوں پر نظر لگائے ہوئے ہیں۔ حالانکہ جنتادل (یونائیٹڈ) کے لیڈر شرد یادو پہلے ہی سے کانگریس کے رابطے میں ہیں۔ یادو کے مطابق ہماری پارٹی اترپردیش میں اتحاد میں شامل نہیں ہے لیکن لوک سبھا چناؤ نزدیک آنے پر متبادل اتحاد کا امکان پر ہم ضرور بات کریں گے۔ بہار میں نتیش کمار کی سرکار میں شامل راشٹریہ جنتادل کھل کر متبادل اتحاد کے حق میں آگئی ہے۔ آر جے ڈی نیتا لالو پرساد یادو کئی بار کہہ چکے ہیں کہ نوٹ بندی کے اشو پر بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی کی بھی کانگریس کے ساتھ نزدیکی بڑھی ہے۔ بہت کچھ اترپردیش میں سپا۔ کانگریس اتحاد کی پرفارمینس پر منحصر کرتا ہے۔
(انل نریندر)

امریکہ میں بڑھتے نفرت آمیز کرائم

یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر چنے جانے کے بعد امریکہ میں جو مذہبی، نسلی اور ذات پات کی تقسیم کی لہر پھیل گئی ہے اس کے پہلے شکار حیدر آباد کے انجینئر شری نواس کچی بھوتلا بنے ہیں۔ انہیں اولوت (کنساس) کے مصروف ترین بار میں ادھیڑ عمر کے سابق بحری فوجی نے مشرقی وسطیٰ سے آئے پرواسی سمجھ کر گولی ماردی۔ اس فائرننگ میں شری نواس کے دوست بھی زخمی ہوئے ہیں جو حیدر آباد ہیں۔ شری نواس کا قتل ایک سر پھرے کی کرتوت بھر نہیں کہا جاسکتا۔ کہیں نہ کہیں اس کے پیچھے وہ ماحول ہے جو نہ صرف نفرت بلکہ نفرت سے وابستہ جرائم کو تیزی سے بڑھا رہا ہے۔ حملہ آور 57 سال کے ایڈم پرنٹین نے دونوں کو وسطی مشرق کا دہشت گرد بتا کر گولی چلائی۔ گولی چلاتے وقت وہ چلا رہا تھا میرے دیش سے نکل جاؤ۔ شری نواس 2014 ء میں گریمن کمپنی سے جڑے تھے۔ ان کی بیوی سنینا ڈومالا بھی وہیں ایک کمپنی میں کام کرتی ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ حالانکہ ایسے جرائم کی مذمت کرتے رہے ہیں لیکن پچھلے کچھ دنوں میں جس طرح سے ان جرائم میں اضافہ ہوا ہے وہ یہ بتاتے ہیں اس کی بڑی وجہ وہ سیاست ہے جو ٹرمپ نے امریکہ میں شروع کی ہے۔ جب سے ٹرمپ نے اقتدار سنبھالا ہے ایسے جرائم میں تیزی آئی ہے۔ امریکہ میں نفرت سے وابستہ جرائم کی تعداد جہاں پہلے انگلیوں پر گنی جاسکتی تھی وہ اب ہر روز 200 سے زیادہ اس طرح کے جرائم ہورہے ہیں۔ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے 9 دنوں کے اندر ہی امریکہ میں 867 نفرت سے جڑے جرائم درج ہوئے۔ خفیہ سروس کے چیف رابرٹ بائس نے بھی ٹرمپ کے صدر چنے جانے کے بعد ایسے جرائم میں 115 فیصدی اضافے کی بات قبول کی ہے۔ شری نواس کا قتل بتاتا ہے کہ جرائم صرف بڑھ ہی نہیں رہے ہیں بلکہ غنڈے زیادہ نڈر ہوتے جارہے ہیں اور زیادہ خطرناک حملے کررہے ہیں۔ موقعہ واردات پر موجود لوگوں کے مطابق قاتل چلا رہا تھا کہ میرے دیش سے دفعہ ہو جاؤ ۔ اس میں اس ماحول کی جھلک بھی دیکھی جاسکی جو ان دنوں امریکہ میں رچی جارہی ہے۔ ایک ایسا ماحول جس میں دنیا بھر سے امریکہ میں آکر بسنے والوں کے رول کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ یہ مانا جارہا ہے کہ وہ امریکہ کے لوگوں کا روزگار چھین رہے ہیں۔اس کو روکنے کے لئے کہیں ایچ بی ویزا کے قاعدے بدلے جارہے ہیں تو کہیں ہر سال جاری ہونے والے گرین کارڈ کی تعداد میں کٹوتی کی باتیں چل رہی ہیں۔ایسے دیشوں کی فہرست بن رہی ہے جہاں سے لوگوں کے آنے پر پوری طرح سے پابندی لگا دی جائے۔ صدارتی چناؤ نے اس ہیڈ کرائم کو پھر سے اوپر لادیا ہے۔
(انل نریندر)

28 فروری 2017

چناؤ کا پانچواں مرحلہ طے کرے گا یوپی اقتدار کا مالک کون

اترپردیش اسمبلی انتخابات کے چار مرحلوں میں ہوئی ووٹنگ سے 403 سیٹوں میں سے 262 سیٹوں پر چناؤپورا ہوچکا ہے۔ چوتھے مرحلہ میں 53 سیٹوں پر 60.37 فیصد پولنگ ہوئی جو 2012ء سے ان سیٹوں پر دو فیصدی زیادہ تھا۔ چار مرحلوں کے بعد پانچویں مرحلہ میں 27 فروری کو 11 اضلاع کی 52 سیٹوں پر پولنگ ہوئی۔ اسی مرحلہ میں بہرائج ضلع کی 7 اور بستی کی 2 ، بلرام پور ضلع کی 4، گونڈہ ضلع میں 7، سلطانپور میں 5، امیٹھی کی 4، فیض آباد ضلع کی5، امبیڈکر نگر کی 5، سدھارتھ نگر کی 5 اور ستبیر نگر ضلع کی3 سیٹوں پر پیر کو ووٹ ڈالے گئے۔ پانچویں مرحلہ کی 52 سیٹوں میں سے 2 سیٹیں ایسی ہیں جن پر سپا ۔ کانگریس کے امیدوار آمنے سامنے ہیں۔ یہ دونوں سیٹیں راہل گاندھی کے پارلیمانی حلقے امیٹھی و گوری گنج کی ہیں۔ ان دونوں سیٹ پر راہل اور اکھلیش اپنے اپنے امیدواروں کے لئے ووٹ مانگ چکے ہیں۔ حالانکہ دیگر سیٹوں پر اتحاد کے ساتھ چناؤ لڑا جارہا ہے۔
اس مرحلہ میں اکھلیش و راہل کی دوستی کا بھی امتحان ہوگا۔ سبھی کی نگاہیں اس پر لگی ہیں اتحاد اپنی ساکھ برقرار رکھ پائے گایا نہیں 2012ء میں اس مرحلہ میں ہو رہی ووٹنگ میں 52 سیٹوں میں سے 42 سیٹوں پر سپا۔ کانگریس کا قبضہ تھا۔ اود علاقہ و پوروانچل سے اکھلیش سرکار کے دو وزیر اور سدھارتھ نگر میں اسمبلی اسپیکر ماتا پرساد پانڈے کی قسمت کا فیصلہ بھی اسی مرحلہ میں ہوگیا ہے۔ پی ایم ، سی ایم اور کانگریس نائب صدر، بسپا چیف سمیت تمام سرکردہ لیڈروں کے دوروں سے اس علاقے کا چناوی ماحول پوری طرح گرمایا ہوا ہے۔ اپنے گڑھ میں سپا کو بھاجپا اور بسپا سے زبردست چنوتی ملی ہے۔ یہ مرحلہ سپا سے جھٹکا کھانے کے بعد بسپا میں شامل ہوئے انصاری بندھوؤں کا اصلی امتحان ہوگا۔ ویسے تو پوروانچل کے کئی اضلاع میں مختار انصاری اور افضل انصاری کا اثر ہونے کی بات کہی جارہی ہے لیکن اپنے آبائی ضلع غازی پور سمیت تین دیگر اضلاع کی قریب 26 سیٹیں ایسی ہیں جہاں پر انصاری بندھوؤں کا خاصا اثر مانا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انصاری بندھوؤں پر کبھی سپا تو کبھی بسپا ڈورے ڈالتی رہی ہے اس لئے اس بار بسپا نے مسلمانوں کو شیشے میں اتارنے کے لئے پھر سے انصاری بھائیوں کا ساتھ لیا ہے۔
دراصل پوروانچل کے قریب دو درجن اضلاع میں مسلم سماج پر انصاری بھائیوں کے اثر کو سبھی سیاسی پارٹیاں جانتی ہیں۔ حالانکہ یہ پہچان ان کی سیاسی ساکھ سے زیادہ دبنگ کے طور پر مانی جاتی ہے۔ پھر بھی سیاسی پارٹی ان کا سہارا لیکر چناوی تجزیئے بناتی رہتی ہے۔ لوک سبھا اور اسمبلی کے کئی چناؤ میں لگاتار جیت درج کر انصاری بندھو بھی اپنی قوم پر مضبوط پکڑ رکھنے کا سندیش دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے سپا اور بسپا ان کا سہارا لیتی رہی ہیں۔ اترپردیش کا یہ پورا علاقہ یعنی پوروانچل دہائیوں سے جھوٹے وعدوں کا دور جھیلتا آرہا ہے۔ یہاں کا نوجوان بے روزگاری کی وجہ سے در در بھٹکتا پھرتا ہے تو کسان کھیتوں سے لاگت بھی نہیں نکال پاتے۔ مشرقی اترپردیش کے اس علاقے میں بجلی ، پانی کا بحران ابھی تک بدستور قائم ہے۔ 24 گھنٹے بجلی دینے کے وعدے پر سرکار فیل رہی ہے۔ شہروں کو چھوڑ دیا جائے تو گاؤں میں بجلی مشکل سے 8سے10 گھنٹے آرہی ہے۔ 
بڑی صنعتوں کے دھندوں کی کمی میں پوروانچل کے کسان خودکشی کررہے ہیں۔نوجوانوں کی ہجرت دیگر بڑے شہروں کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ نیپال سے لگے ہونے کے سبب پوروانچل اسمگلنگ و جرائم کے لئے مفید مانا جاتا ہے۔ ہیروئن ، گانجا، چرس و روپے کی اسمگلنگ کی برابر یہاں وارداتیں ہوتی رہتی ہیں۔ یہاں تک نیپال سے عورتوں کی اسمگلنگ خوب ہوتی ہے۔ عوام کے نمائندوں کی بے توجہی کے چلتے اس جرم پر لگام نہیں لگ پارہی ہے۔ ہندوستانی سیاست کی سمت اگر یوپی کے اسمبلی چناؤ کے کسی حلقے کو جاتی ہے تو وہ یہ پانچواں مرحلہ ہے۔ اس بار بھی یوپی اسمبلی چناؤ کا پانچواں مرحلہ ہی طے کرے گا کہ کونسی پارٹی اترپردیش کے اقتدار پر قابض ہوگی۔ ایسا مانا جاتا ہے پانچویں مرحلے میں جس پارٹی یا اتحاد کو بھاری جیت ملتی ہے سرکار بھی اسی پارٹی یا اتحاد کی کسی نہ کسی طرح سے بنتی ہے۔ اس کے پہلے 2012ء کے چناؤ کے پانچویں مرحلہ کی 52 سیٹوں میں سے 37 سیٹیں اکیلی سماجوادی پارٹی کو ملی تھیں اور صوبے میں سرکار بھی سپا کی ہی بنی۔ پانچویں مرحلہ میں دیش کی نظریں فیض آباد ضلع کی ایودھیا اسمبلی سیٹ پر بھی ہیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے ایودھیا سیٹ شروع سے ہی وقار کا سوال بنی ہوئی ہے لیکن 2012ء میں بھاجپا 5405 ووٹ سے سپا سے ہار گئی تھی۔جہاں راہل گاندھی کا بھی امتحان ہونا ہے وہیں بغل کے ضلع سلطانپور کے ایم پی اور ان کے چچیرے بھائی ورون گاندھی کا بھی امتحان ہونے جارہا ہے حالانکہ ورون گاندھی فی الحال اس چناؤ میں علاقے میں کمپین کے لئے نہیں آئے ہیں۔ سلطانپور ضلع سے ہی کانگریس کے راجیہ سبھا ایم پی راجا سنجے سنگھ کی ساکھ بھی اس مرحلے سے جڑی ہوئی ہے۔ ان کی سابق رانی اور موجودہ رانی میں زبردست چناوی جنگ جاری ہے اس لئے جہاں بھاجپا کیلئے اس مرحلہ میں زیادہ سے زیادہ سیٹیں جیتنے کی چنوتی ہے وہیں سپا ۔ کانگریس اتحاد کیلئے بھی اگنی پریکشا ہے۔ بہن جی بھی یہاں پورا زور لگا رہی ہیں اور دیگر پارٹیوں کو سخت ٹکر دی رہی ہیں۔ دیکھیں اونٹ کس کرونٹ بیٹھتا ہے؟
(انل نریندر)

26 فروری 2017

مہاراشٹر بلدیاتی چناؤ کے نتائج کا سندیش

مہاراشٹر میں بلدیاتی انتخابات میں جب شیو سینا اور بی جے پی دونوں نے الگ الگ لڑنے کا فیصلہ کیا تو لگا شاید اس جھگڑے میں دونوں کو نقصان ہوگا لیکن جب نتیجے آئے تو الٹا ہی ہوا۔ شیو سینا کی ساکھ بچ گئی اور بی جے پی کی ساکھ بڑھ گئی۔ دونوں نے مل کر کانگریس اور این سی پی کا تقریباً پتتا صاف کردیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ شیو سینا اور بھاجپا نے یہ ڈرامہ کیا تھا بڑی سوچ سمجھ کر اسکرپٹ تیار کی گئی تاکہ کانگریس این سی پی کے ووٹ لے جائیں۔ بھاجپا اور شیو سینا بھلے ہی آج جشن نتیجوں کا جشن منائیں لیکن کانگریس اور راشٹروادی کانگریس پارٹی اور راج ٹھاکرے کی مہاراشٹر نو نرمان سینا کیلئے تو بڑا جھٹکا ہی ہے۔ اس بات کی کئی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ جب مقامی بلدیاتی چناؤ کے نتیجے لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات سے مختلف ہوں لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ مہاراشٹر میں شہری کارپوریشنوں کے چناؤ کی اہمیت دوسری ریاستوں کے مقابلے زیادہ رہی ہے اور ان پر قابض ہونے کا مطلب ریاستی سطحی سیاست میں بھی طاقت بڑھنا ہے۔ مہاراشٹر کے بلدیاتی چناؤعام طور پر بلا شبہ مقامی مانے جاتے رہے ہیں لیکن اس بار یہ پردیش بی جے پی لیڈر شپ اور خاص کر وزیر اعلی دیویندر پھڑنویس کے لئے وقار کا سوال بن گئے تھے۔ نہ صرف ان چناؤ سے ٹھیک پہلے بی جے پی سے شیو سینا نے اتحاد توڑنے کا اعلان کردیا بلکہ اس کے بعد بی جے پی کے پردیش اور قومی لیڈر شپ پر کھل کر حملے کرتی رہی ہے۔ حالانکہ ممبئی کا کنگ ایک بار پھر شیو سینا ہی ثابت ہوئی۔ کانگریس نیتا سنجے نروپم نے ہار کی اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے استعفیٰ کی پیشکش بھلے ہی کردی ہو لیکن کانگریس اور این سی پی دونوں کے لئے یہ غورو فکر کا وقت ہے کہ الگ الگ رہ کر چناؤ لڑنے کے فیصلے کے بعد ان کے نتیجوں نے دکھایا ہے دونوں کو سوچنا ہوگا کہ اب بھی نظریہ اور برتاؤ نہ بدلہ اور مل کر ساتھ چلنے کی حکمت عملی نہیں اپنائی تو دونوں کی سیاست کیلئے مستقبل کے راستے بند ہونے کو ہیں۔ اتنا توصاف ہے کہ اگر دونوں ساتھ کھڑے ہوتے تو انہیں یہ دن دیکھنا نہ پڑتا۔ یہ چناؤ شیو سینا اور بھاجپا کے درمیان تلخی کیلئے بھی جانا جائے گا۔ کچھ وقت سے اودھو ٹھاکرے بھاجپا اور مودی کو لگاتار نشانہ بناتے رہے ہیں۔ کیا وہ اب بھی ویسا ہی کریں گے، اگر کریں گے تو کیا بھاجپا خاموش رہے گی؟ یا یہ مانا جائے کہ اودھو ٹھاکرے کے حملے میونسپلٹیوں کے چناؤ کے پیش نظر تھے اور اب دونوں کے درمیان سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہوجائے گا؟ چناؤ ہوگئے ہیں اور کیا پتہ دونوں کی بولی بدل جائے اور دونوں پھرسے غلط فہمیاں دور کرلیں۔رہا سوال یہ چناؤ بھارتیہ جنتا پارٹی کیلئے 2017ء کی شاندار شروعات ہے۔ پہلے اڑیسہ میں غیرمتوقعہ حمایت اور اب مہاراشٹر میں شاندار کارکردگی 2014ء کے چناؤ میں کانگریس کے سیاسی زوال کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ اب بھی جاری ہے۔ بیشک کانگریس کے ممبئی چیف سنجے نروپم نے عہدہ چھوڑنے کی پیشکش کی ہے لیکن ساتھ ساتھ پارٹی کے نیتاؤں پر بھی ہروانے کا الزام عائد کردیا۔ یہ چناؤ این سی پی کے گھٹتے اثر کا بھی سندیش ہیں۔ پارٹی کو اور تو اور شرد پوار کے گھر میں بھی ہار ملی ہے۔ اب تک ممبئی میں بی جے پی کی پہچان شیو سینا کے چھوٹے بھائی کی تھی لیکن اب وہ اپنے دم پر شیوسینا کے برابر بڑی طاقت بن کر ابھری ہے۔ مہاراشٹر چناؤ نتیجوں نے کیا ایک بار پھر یہ ثابت کردیا ہے کہ نوٹ بندی کا منفی اثر بی جے پی کے لئے نہیں ہے؟ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس جیت کا اترپردیش اسمبلی چناؤپر کیا اثر پڑتا ہے؟ یوپی اسمبلی چناؤ کے تین مرحلے ابھی باقی ہیں۔ ممبئی میں پوروانچل کے بہت سے ووٹر ہیں وہ اس جیت کا سندیش یوپی میں دینے کی پوری کوشش کریں گے۔ جہاں تک شیو سینا کا سوال ہے اس کیلئے یہی بہتر ہوگا کہ وہ بی جے پی کے ساتھ مل کر ہی آگے بڑھے۔
(انل نریندر)

حج سبسڈی کے خاتمے کی مانگ

حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ حج سبسڈی ایک ایسا مسئلہ ہے جہاں مسلم لیڈر اس کے حمایتی ہیں کے اس سبسڈی کو ختم کردینا چاہئے لیکن مرکز میں حکمراں سرکار کانگریس کی ہو یا بی جے پی کی یا پھر تیسرے مورچے کی رہی ہو ، کوئی اسے ختم نہیں کرنا چاہتی۔ کہا یہ جاتا ہے اس کے پیچھے اس کے اپنے مفادات پوشیدہ ہیں۔ سال2012ء میں سپریم کورٹ نے بھی 10 برسوں کے اندر حج سبسڈی ختم کرنے کو کہا تھا اس عمل کیسے ہو اس کیلئے کمیٹی بنانے میں ہی مرکزی سرکار کو پانچ سال لگ گئے۔ اب مرکزی حکومت نے 6 نفری کمیٹی بنائی ہے۔ بھارت سے حج پر جانے والے عازمین حج کی تعداد پچھلے سال 1 لاکھ36 ہزار کے قریب تھی۔ اس بار کوٹہ بڑھایا گیا ہے۔ سعودی عرب حکومت نے حج کے لئے ہندوستانی کوٹہ 1 لاکھ70 ہزار 520 کردیا ہے۔ حج پر جانے والے عازمین کو دو کٹگری میں درخواست دینے کے متبادل ہوتے ہیں۔ ایک گرین کیٹگری کہلاتی ہے اور دوسری عزیزیہ۔ یہ فرق وہاں رہنے کے انتظام کے حقدار ہوتے ہیں۔ اس سال گرین کیٹگری کے لئے 125000 اور عزیزیہ کیٹگری کے لئے 219000 روپے طے کیا گیا ہے۔مرکزی سرکار حج سفر کے لئے جو سبسڈی دیتی ہے وہ آنے جانے کیلئے ہوائی ٹکٹ میں استعمال کی جاتی ہے۔ مسلم لیڈر کہتے ہیں کہ حج سبسڈی کی ضرورت ہی کہاں بچی ہے؟ عازمین جو رقم بطور کرایہ لی جارہی ہے وہ ہی کافی ہے۔ اس طرح مرکزی سرکار کے ذریعے عازمین حج کو سبسڈی کے نام پر دی جارہی اربوں روپے کی رقم کرپشن کی بھینٹ چڑھ رہی ہے۔ اس لئے مسلم لیڈر حج سبسڈی کو ختم کروانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گلوبل ٹینڈر کے ذریعے ایئرلائنز کو مدعو کیا جاتا ہے ۔ جس ایئرلائنزکو جتنے زیادہ مسافر ایک ساتھ ملیں گے وہ اتنے سستے ٹکٹ دینے کو مان جائے گی۔ عازمین حج کے بھی پیسے بچیں گے اور سرکار کو کسی بھی طرح کی سبسڈی دینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ مرکزی سرکار گلوبل ٹنڈر جاری کرنے کوراضی نہیں ہے۔ مرکزی سرکار پر الزام لگتا ہے کہ وہ انڈین ایئرلائنس کو منافع دلانے کے لئے مہنگے ٹکٹ خریدتی ہے اور سبسڈی والی رقم اس کے کھاتے میں چلی جاتی ہے۔ مرکزی سرکار کا کہنا ہے کہ سعودی ارب کے ساتھ ہمارا معاہدہ ہے جس کے تحت ہمیں 50 فیصد مسافروں کو سعودی ایئر لائنس سے بھیجنا ہوتا ہے اور 50 فیصد اپنی ایئر لائنس سے۔ سعودی ایئر لائنس کیا کرایہ لیتی ہے یہ اس پر دباؤ نہیں ڈالا جاسکتا اور نہ ہی ان پر دباؤ بنا سکتی ہے وہ حج سفر کے لئے گلوبل ٹنڈر کرے۔ اب دیکھیں کمیٹی کیا سفارش کرتی ہے؟
(انل نریندر)