Translater
22 اگست 2020
چینی مسلمانوں کی مسجد یں ڈھا کر پبلک ٹوائلٹ بنا
چین میں لگاتار چینی (اویگر)مسلمانوں کو نہ صرف نشانہ بنا کر حملے کئے جا رہے ہیں بلکہ ان کے حوصلوں کو بھی کمزور کیا جا رہا ہے اب تو ان کی مذہبی عقیدت پر بھی چوٹ کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔چینی ریاست شنگ جیان نے اویگرو کی مسجد ڈھا کر وہاں پبلک ٹوائلٹ بنا دیا گیا ۔ایک مقامی افسر کے مطابق شنگ زیانگ صوبے کے شہر اتش میں ایک مسجد توڑی گئی اور ٹوائلٹ بنایا گیا ۔اِدھر غیر ملکی مبصروں کا کہنا ہے کہ چین کا مقصد اویگر مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا ہے ۔حالانکہ حکام نے 2016میں یہ مسجدیں ڈھانے کا کام شروع کیا اور چین میں سے دو مسجدوں کو مسمار کر دیا تھا یہ مہم چینی صدر شی جنگ پنگ کی اُن کٹر پالیسیوں کی سریز کا ایک حصہ ہے جو 2017سے ملک میں 18کروڑ اویگر مسلمان اور دیگر مسلم فرقوں پر ازیتیں دی جا رہی ہیں۔چین میں نہ صرف ان کے مذہبی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا گیا بلکہ ان کی عورتوں سے بربریت آمیز سلوک کیا جا رہا ہے اویگر مختار علاقے کی ایک مشہور امریکی ورکر اور وکیل نے بتایا کہ اویگر خواتین چین میں قتل عام کا سامنا کر رہی ہیں ۔ ان کے ساتھ آبروریزی کے لئے برین واش کیا جا رہا ہے ۔اس جدید دور میں مشرقی ترکستان(شنگ زیانگ )میں اویگر خواتین اورمذہب اور ذات پات کے چلتے ان سے مجرم کی طرح سلوک کیا جا رہا ہے انہیں اپنی اولادیں پیدا کرنے کی صلاحیت کے چلتے اپنے لئے خطرہ مان رہی ہیں ۔اور ماﺅں کو زبردستی ان کے بچوں سے الگ رکھا جا تا ہے ۔
(انل نریندر)
چینی بینکوں کی ہندوستانی معیشت میں دراندازی!
سرحد پر چین سے بڑھتی کشیدگی کے درمیان بھارت کو چینی ہمایتی بینک ایشیائی انفرا انسٹرکچر انوسمنٹ بینک سے قریب 4.5ارب ڈالر کا قرض ملا ہے اتنا ہی نہیں بلکہ بھارت بیجنگ میں قائم اس بینک سے کورونا راحت فنڈ لینے میں سب سے بڑا فائدہ لینے والا ملک ہے اے آئی آئی بی کی پانچویں کونسل کا افتتاح کرنے کے موقع پر صدر شی جنگ پنگ نے ممبر ملکوں کے لئے کورونا راحت فنڈ قائم کرنے کو لے کر تعریف کی اور کہا کہ بینک کو عالمی یکساں ترقی کو مضبوط کرنے والا نیا کثیر علاقائی بینک بننا چاہیے ۔غور طلب ہے کہ یہ بینک کھولنے کی تجویز جنگ پنگ نے 2013میں کی تھی ۔اور2016میں یہ کھلا تھا ۔سب سے بڑے قرض دار کی شکل میں بھارت پر بینک قرضوں کا فائدہ اُٹھانے میں 25فیصد بوجھ ہے ۔چینی بینک سے بھارت کو جون جولائی میں 500ملین ڈالر اور 750ملین ڈالر کا قرضہ ملا ہے ۔اب تک بھارت اے آئی آئی بی سے 4.5ارب ڈالر قرض لے چکا ہے ۔اس کے علاوہ بھارت میں انفرا انسٹرکچر پروجکٹوں کے لئے قرض ملنے والا ہے ۔دیش میں کاروباریوں کی تنظیم کیٹ نے دیش میں چل رہی مخالفت کے ماحول کے باوجود بینک کے ذریعہ چین کے پیپلس بینک سے سرمایہ لئے جانے پر سخت اعتراض جتایا ہے ۔کیٹ نے آئی سی آئی سی آئی بینک کی سخت نکتہ چینی کی ہے اور کہا کہ آر بی آئی کے سسٹم میں گھس پیٹھ کی کوشش میں چینی بینک کی یہ دوسری مثال ہے ۔کیٹ نے وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن سے درخواست کی ہے کہ وہ آئی سی آئی سی آئی اور ایچ ڈی ایف سی بینک دونوں کو چینی بینک کا سرمایہ واپس کرنے کی ہدایت دی جائے ۔لیکن پتہ چلتا ہے کہ چین کس طرح سے ہندوستانی معیشت میں پاﺅں جما رہا ہے ۔سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ یہ کام بھارت سرکار کی منظوری سے ہی ہوا ہوگا۔
(انل نریندر)
توقع ہے سی بی آئی سوشانت کیس کی سچائی سامنے لائےگی!
تمام قیاس آئیائیوں پر روک لگاتے ہوئے سپریم کورٹ نے سشانت سنگھ راجپورت موت معاملے کی جانچ سی بی آئی کے سپرد کر دی ہے اور اس کے ساتھ اس نے تمام قیاس آرائیوں پر روک لگا دی ہے ۔اس فیصلے تک پہنچنے کے لئے سپریم کورٹ کی سنگل بنچ نے عدلیہ کی تاریخ میں پہلی بار جس طرح آئینی آرٹیکل 142کا استعمال کیا ہے وہ بھی اتنا ہی قابل غور ہے جس کے تحت عدالت کو کسی معاملے میں انصاف دلانے اور فیصلے کو پورا کرنے کا حکم دینے کی طاقت ملی ہے ۔سشانت سنگھ راجپوت خودکشی کو قریب دو مہینے ہو چکے ہیں لیکن ابھی بھی اس کی گتھی سلجھنے کے بجائے سوال کھڑا ہو گیا تھا اور معاملے کی جانچ کے اختیار کو لے کر تنازعہ بنا ہو ا تھا کہ مہاراشٹر پولیس ،بہار پولیس یا سی بی آئی اس کی جانچ کرئے ۔لیکن سپریم کورٹ نے مہاراشٹر سرکار کی دلیل کو خارج کر دیا ۔اور کہا کہ مہاراشٹر پولیس ہی اس معاملے کی جانچ کر سکتی ہے ۔ریا چکرورتی کی عرضی کو خارج کر دیا لیکن سشانت سنگھ کے والد کی ایف آئی آر کو ممبئی منتقل کرنے کی گذارش کی گئی تھی ۔عدالت نے اپنے 35صفحات کے فیصلے میں کہا کہ سشانت فلمی دنیا کے ایک ہنر یافتہ ایکٹر تھے اب معاملہ سی بی آئی کو چلا گیا ہے خاندان اور دوست اور ان کے چاہنے والے جانچ کے نتیجے کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ سچائی سامنے آسکے ۔شکایت کنندہ سشانت کے والد کو انصاف ملے جنہوںنے اپنا اکلوتا بیٹا کھویا ہے ریا کے لئے بھی یہ انصاف ہوگا کیونکہ وہ بھی سی بی آئی جانچ کے حق میں تھی اور ان بے قصور لوگوں کو بھی انصاف ملے جو گمراہ کن پروپگنڈے کا شکار ہوئے ہیں ۔بلکہ سورگیہ آتما کو بھی سکون ملے گا ۔ستیہ میو جیتے۔اب جب سی بی آئی اس معاملے کی جانچ کر رہی ہے حالانکہ اس کا بھی ٹریک ریکارڈ رہا ہے کیونکہ وقتاََ فوقتاََ اس کی جانچ پر بھی سوال اُٹھتے رہے ہیں ۔اس لئے اس پر منصفانہ جانچ کی ذمہ داری آگئی ہے ۔اور اس کو ایک طے وقت میں اپنی جانچ پوری کرنی ہوگی ۔یہ معاملہ کوئی عام معاملہ نہیں ہے ،لہذا سی بی آئی کو اس سچائی پر سے پردہ کو اُٹھانہ ہی ہوگا۔آخر وہ کون سے حالات تھے جس نے اداکار کو ہم سے چھین لیا ۔بلکہ اس کی منصفانہ جانچ سے ان لوگوں کی سچائی بھی سامنے آئے گی جو فی الحال نشانے پر ہیں ۔امید کرنی چاہیے سینٹرل جانچ ایجنسی سپریم کورٹ اور سشانت کے رشتہ داروں کی کسوٹی پر کھرا اترتے ہوئے معاملے کی منصافانہ جانچ کو انجام دے گی ۔اس لئے اب معاملے کی سچائی کو سامنے آنا ہی ہوگا۔اور میڈیا ٹرائل بند ہونا چاہیے ۔
(انل نریندر)
21 اگست 2020
شرمناک ،ڈھائی ماہ کی بچی تین بار بکی !
جشن آزادی کے دن ایک واقعہ نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ۔خبر ہے کہ دہلی کے ہی ڈھائی مہینے کی بچی کو تین مرتبہ بیچا گیا یہ وہ وقت ہے جب دیش میں گنجن سکسینا اور جانوئی کپور کا تذکرہ ہو رہا ہے ۔گنجن وہ اکلوتی مہیلا پائلٹ ہے جس نے کارگل کی جنگ میں حصہ لیا تھا اور کمال کی ہمت دکھائی تھی اور جانوئی کپور ایک اداکارہ ہیں جس نے فلمی پردے پر اس کا کردار نبھایا تھا ۔آپ اس فلم کو نیٹ فلکس پر دیکھ سکتے ہیں ۔وہیں دہلی کے اس معصوم بچی کو اس کے ماں باپ نے 60ہزار میں بیچ دیا گھر میں پہلے ہی دو بیٹیاں تھیں اس لئے تیسری بیٹی کی پیدائش سے والد خوش نہیں تھا ۔اس کے جعفرآباد میں بچی کو پیچ دیا حالانکہ کچھ دنوں کے بعد اسے اپنی اس حرکت پر شرم آئی تو وہ سیدھا ومین کمیشن کے پاس پہنچا جہاں سے شروع ہوئی بچی کو برآمد کرنے کی مہم ۔پولیس کے مطابق بچی کی ماں اور باپ نے جعفرآباد میں ایک منیشا نامی عورت کو اپنی بچی کو بیچا تھا بعد میں والد کی نشان دہی پر مہیلا کمیشن کی ٹیم جعفرآباد گئی اور وہاں پولیس سے ملی لیکن بتائے گئے پتہ پر اب وہ عورت نہیں ملی لیکن موبائل پر منیشا نے بتایا کہ بچی کو اس نے مادی پور میں دیپا اور سنجو کو 80ہزار روپئے میں بیچ دیا اس کے بعد ٹیم فوراََ مادی پور گئی وہاں ایک عورت اندو ملی اس نے بتایا منجو نے اس کے پاس بچی چھوڑی تھی اور وہ شکر پور میں ہے پولیس نے شکر پور میں منجو کو دبوچ لیا اس نے پوچھ تاچھ میں بتایا کہ اس نے بچی کو سنجے نام کے ایک کاروباری کو ایک لاکھ روپئے میں بیچ دیا ۔جو چاوڑی بازار میں رہتا ہے اور بے اولادی ہے ۔پولیس نے چھاپہ مار کر بچی کو سنجے سے برآمد کر لیا سنجے نے انسانوں کی اسمگلنگ کے الزام میں والد گردیپ ،اندو ،منجو،منیشا،اور بچی کو خریدنے والے سنجے کو گرفتار کر لیا ہے ۔دہلی مہیلا کمیشن نے بچی کی فوری برآمدگی کے لئے دہلی پولیس کی تعریف کی اور شکریہ ادا کیا ۔
(انل نریندر)
ایک اور دہلی پولیس کا انسپکٹر کورونا کا شکار ہوا!
کورونا وبا سے لڑتے ہوئے ایک اور کورونا یودھا شہید ہو گیا ۔دہلی پولیس کے ایک انسپکٹر سنجے شرما کی بیماری سے موت ہو گئی وہ پی سی آر ساﺅتھ زون میں تعینات تھے ۔سنجے کی موت پر پولیس کمشنر ایس این شریواستو سمیت دیگر افسران نے گہرا دکھ ظاہر کیا ہے ۔وہ 1997میں بطور سب انسپکٹر دہلی پولیس میں بھرتی ہوئے تھے اس سے پہلے اسپیشل سیل میں تعینات انسپکٹر سنجیو کمار یادو کی پچھلے مہینے کورونا سے موت ہو چکی ہے ۔اب تک اس بیماری سے 16پولیس والوں کی جان جا چکی ہے ۔جانکاری کے مطابق انسپکٹر سنجے شرما کورونا کے اثرات پائے جانے کے بعد انہیں اسپتال میں بھرتی کرایا گیا ۔اور 16اگست کو ان کی کورونا جانچ رپورٹ آئی جو پازیٹیو تھی اس کے بعد کئی پولیس والوں نے پلازمہ(خون)دیا جو انہیں چڑھایا گیا ۔حالانکہ اس کے بعد ان کی حالت بگڑتی چلی گئی اور ان کا منگلوار کو دیہانت ہو گیا ۔اپنے پیچھے بیٹا چھوڑ گئے ہیں پولیس افسر کے مطابق کورونا سے اب تک 2800پولس والے متاثر ہو چکے ہیں اور95فیصد ٹھیک ہو کر کام پر لوٹ چکے ہیں ۔حالانکہ پولیس ملازمین کو کورونا انفیکشن سے بچانے کے لئے پولیس کمشنر لگاتار کوشش کر رہے ہیں ۔اور تین افسران کو الگ الگ ذمہ داری سونپی گئی ہے ۔اس کے علاوہ علاج کے لئے اسپتالوں میں بستر ریزرو کئے گئے ہیں ۔ہم شہید سنجے شرما کو اپنی شردھانجلی پیش کرتے ہیں اور غم زدہ پریوار کو اس مشکل کی گھڑی میں صبر دینے کے لئے بھگوان سے پراتھنا کرتے ہیں ۔
(انل نریندر)
پی ایم کیئرس فنڈ کو گرین سگنل!
سپریم کورٹ نے پی ایم کیئرس کی رقم کو قومی قدرتی آفت،راحت فنڈ (این ڈی آر ایف)کو منتقل کرنے کی ہدایت دینے سے متعلق عرضی منگل کو خارج کر دی۔جسٹس اشوک بھوشن کی سربراہی والی ڈویژن والی بنچ نے کہا کہ پی ایم کیئرس فنڈ کو قومی آفت راحت فنڈ کو قومی راحت فنڈ میں منتقل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔سی پی آئی ایل نام کی تنظیم نے ایک عرضی دائر کر پی ایم کیئر فنڈ میں جمع رقم این ڈی آر ایف میں منتقل کی جائے بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ دونوں فنڈ میں عطیہ دے سکتے ہیں سماعت کے دوران کورٹ کے سامنے پی ایم کیئرس فنڈ کو لے کر پانچ سوال اُٹھے ان کے جواب یوں ہیں کیا حکومت کو کورونا وبا کے چلتے نئی نیشنل قدرتی آفت اسکیم بنانی چاہیے ؟کورونا وبا کے لئے اس اسکیم کی ضرورت نہیں ہے ۔نومبر2019میں بنی اسکیم کے تحت جاری راحت کے کم از کم پیمانے کافی ہیں ۔کیا سرکار قومی آفت مینجمنٹ ایکٹ کے تحت کم از کم پیمانے راحت دینے کے لئے مجبور ہیں ؟کورونا سے پہلے بنی اسیکم کو کورونا سے نمٹنے کے لئے کافی ہے ؟کیا پی ایم کیئرس فنڈ میں اشتراک دینے کے لئے کسی پر کوئی پابندی ہے ؟کوئی بھی ادارہ یا شخص پی ایم کیئرس فنڈ میں راحت دینے کے لئے ممنوع نہیں ہے ۔کیا پی ایم کیئرس فنڈ میں دی جانے رقم این ڈی آر ایف میں منتقل کی جانی چاہیے ؟پی ایم کیئرس فنڈ میں جمع عطیہ فلاحی ٹرسٹ کے لئے ہوتا ہے اور اسے این ڈی آر ایف میں منتقل کرنے کی ضرورت نہیں تھی ۔کیا قدرتی آفت کے وقت ملنے والی سبھی عطیہ صرف این ڈی آر ایف میں جمع کرانے چاہیں ؟عرضی گزار نے اپنی عرضی میں این ڈی آر ایف کے رہتے پی ایم کیئرس فنڈ بنائے جانے کو غلط بتایا تھا ۔پی ایم کیئرس فنڈ میں ایمانداری کی کمی کے بارے میں دلیل دی گئی تھی سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے ایک بار پھر سپریم کورٹ کے فیصلے پر نا خوشی ظاہر کی ہے ۔اور یہ فیصلہ تکلیف دہ ہے ۔بھوشن نے ٹوئٹ کیا کہ پی ایم کیئرس فنڈ ایک راز والا فنڈ ہے ۔اور یہ کووڈ 19کی آڑ میں پیسہ جمع کرنے کا ذریعہ ہے اور یہ غیر شفافی ہے اور اسے لے کر سرکار کی کوئی جواب دہی نہیں ہے ۔واضح ہو کہ پرشانت بھوشن کو حال ہی میں ایک ٹوئٹ پر توہین عدالت کا قصور وار ٹھہرایا ہے ۔سپریم کورٹ نے مرکز کی دلیل کو مان لیا ہے ۔جس میں کہا گیا ہے کہ پی ایم کیئرس ایک مرضی والا فنڈ ہے کوئی عطیہ دینا چاہے دے سکتا ہے ۔عرضی میں دلیل دی گئی تھی کہ پی ایم کیئرس کو آئینی جعلسازی بتایا گیا تھا اور اس میں کہا تھا کہ این ڈی آر ایف کا ایڈیٹ سی اے جی کے ذریعہ ہوتا ہے لیکن سرکار کہہ رہی ہے کہ پی ایم کیئر فنڈ کا آڈیٹ پرائیوٹ آڈیٹر سے کرایا جائے گا ۔اور اسے آر ٹی آئی کے دائرے سے باہر رکھنے پر اعتراض جتایا گیا تھا ۔کانگریس نے پی ایم کیئرس فنڈ کے بارے میں مایوسی جتاتے ہوئے کہا کہ یہ پردھان منتری کا پیسہ ہے اور وہ انہیں ملا ہے ۔آخر پردھان منتری کیا اسے چھپانا چاہتے ہیں انہیں کس بات کا ڈر ہے ۔شاید چینی کمپنیوں سے پیسہ لینے کی بات سننے کا ڈر ہے ۔
(انل نریندر)
20 اگست 2020
بیٹی سے چھیڑ چھاڑ کی مخالفت پر پتا کا قتل!
ہمارے سماج میں اتنا غیر مہذب ماحول پیدا ہو گیا ہے کہ چھوٹی سی بات پر خون خرابے کی نوبت آجاتی ہے بیٹی سے چھیڑ خانی کی مخالفت کرتے ہوئے بزرگ والد کو کرکٹ کے بلے سے پیٹ پیٹ کر مار ڈالا گیا ۔واردات میں متوفی کا بیٹا بھی شدید زخمی ہوا پولیس کا کہنا اور ہے کہ جھگڑا کتے کے بھوکنے کو لیکر شروع ہواتھا ۔براڑی تھانے میں قتل کا معاملہ درج کرتے ہوئے پولیس نے ملزم ماما بھتیجا کو دبو چ لیا ہے ۔متوفی کی پہچان کلدیپ کٹمل 68سال بتائی جاتی ہے ۔بزرگ کی بیٹی داماد کاجھگڑا پڑوسی سے ہوا تھا جس کا پتہ چلنے پر بڑے میاں وہاں پہونچ گئے پولیس کو شرعات میں کتے کولیکر جھگڑے کی اطلاع ملی تھی بعد میں بزرگ باپ کی بیٹی نے چھیڑ خانی کا الزام لگایا ۔کلدیپ اپنے بیٹے شیامو و خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ سنت نگر میں رہا کرتے تھے اور پاس والی گلی میں کلدیپ کی بیٹی اور اس کا شوہر رہتے ہیں ۔اس کی بیوی مالا نے بتایا کہ پڑوس کے بچے اس پر فحاشی کمنٹس کرتا رہتا تھا ۔بدھوار کی رات قریب ساڑھے گیارہ بجے مندر سے درشن کرکے لوٹ رہی تھی اسے دیکھ کر اس کے پڑوسی بکل کے گھر کے باہر کتا بندھا تھا جو بھوکنے لگا نشہ میں دھت بکل بھی وہاں آگیا اور غیر مہذب فقرہ کشی کرنے لگا جب مالا نے غصہ کیا تو مارپیٹ پر اترآیا یہ دیکھ اس کا بیٹا گگن نے گھر میں سو رہے اپنے والد اشوک کو بلا لیا اس کے بعد بکل و اس کے چاچا پہونچا اور وہاں اس نے کئی لوگوں کو بلا لیا اس طرح دوسری پارٹی نے بھی بلا لیا جھگڑا ہوا ۔لڑکی کے باپ کلدیپ کے سر پر کرکٹ بلے پر بیٹ بلا مارا اور گرتے ہی ملزم فرار ہو گئے رشتہ داروں نے زخمی باپ کو بابو جگ جیون رام اسپتال میں بھرتی کرایا ۔اس کے بعد حالت بگڑنے پر سب درج اسپتال لے جایا گیا ا س کے ان کی موت ہو گئی ۔پولیس چاچا بھتیجے کو گرفتارکرکے دیگر ملزما ن کی تلاش میں ہے ۔اور چھیڑ چھاڑ کے معاملے کی جانچ کر رہی ہے ۔
(انل نریندر)
”مائی لائف مائی چوائس“ ایمس ڈاکٹر نے خودکشی کر لی
اس کووڈ کے دور میں ڈاکٹروں کی کتنی اہمیت ہے یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ان کا آج کل درجہ بھگوان کے برابر مانا جاتا ہے ۔جب ایک ڈاکٹر خود ہی اپنی جان گنوا لے تو کیا کہا جائے ؟ایمس کے ایک ڈاکٹر نے خود کشی کرلی اس نے اپنے خودکشی نامہ میں لکھا ہے ”مائی لائف مائی چوائس“اس کا کسی کو پتہ نہیں چلا جب جمعہ کو ان کے گھر سے ظہر تک بدبو آنے لگی تو اس کی اطلاع حوض خاض تھانہ پولیس کو دی گئی اور پولیس کی موجودگی میں گھر کادروازہ توڑ تک اندر دیکھا تو ڈاکٹر کی گلی سڑی لاش پھندے سے لٹکی ہوئی ہے اور اس کی جیب سے ایک خودکشی نامہ بر آمد ہوا ۔ساو¿تھ دہلی پولیس کے ڈپٹی کمشنر اتل کمارٹھاکر کے مطابق متوفی ڈاکٹر پہچان چالیس سالہ موہت سنگلا کے طور پر ہوئی ہے جو اصل میں چنڈی گڑھ کے پنچکلا کے رہنے والے ہیں بتایا جاتا ہے ان کے بھائی اور بھاوج دونوں ایک پرائیویٹ اسپتال میں ڈاکٹر ہیں ۔ملے خودکشی نامہ میں ڈاکٹر نے اپنی زندگی سے جڑے تمام واقعات کا بھی ذکر کیا ہے ۔ان کی زندگی کتنی لمبی ہو اس کے لئے انہوں نے مائی لائف مائی چوائس کی تھیوری کی بات لکھی ہے ۔لکھتے ہیں 60سے 70سال کی عمر تک کیا جینا اب میں دوسروں سے اپنی ذہنی پریشانی کو نہیں چھپا سکتا ۔ڈاکٹروں کے معاملے میں حالت اس وقت مزید سنگین ہو جاتی ہے جب یہ خود کشی کا قدم اٹھایا جاتا ہے ۔گزشتہ ڈیڑھ ماہ میں ایمس کے تین ڈاکٹر اب تک پریشان ہو کر خود کشی کر چکے ہیں ۔اس سے پہلے ایمس ک دو ریزیڈینٹ ڈاکٹراسپتال کمپلیس میں واقع عمارت سے کود کر خودکشی کر چکے ہیں ۔اس طرح ٹینشن میں آنا اور اپنی جان دینا اپنے آپ میں کئی سوال کھڑے کرتا ہے اور ایمس انتظامیہ پر بھی سوالیہ نشان لگتا ہے وہ ان واقعات کو لیکر سنجیدہ کیوں نہیں ہیں ڈاکٹروں میں ٹینشن کی وجہ کیا ہے اس کا پتہ لگا کر دور کرنے کیلئے پتہ لگانا چاہیے ۔دیش کے سب سے بڑے ہیلتھ ادارے میں ایسے واقعات ہوں یہ دیش کے لئے اچھا نہیں ہے ۔
(انل نریندر)
بھاجپا اورآر ایس ایس کا فیس بک پر قبضہ؟
امریکہ کے اخبار داوال اسٹریٹ جنرل نے فیس بک کی غیر جانبداری پر سوال کھڑے کئے ہیں شوشل میڈیا کے جس اسٹیج کو دنیا بھر میں اظہار رائے کی آزادی کا سب سے بڑا المبردار مانا جاتا ہے وہ اس پوسٹ کے بعد تنازع میں گھر گیا ہے دا وال اسٹریٹ جنرل جیسے نامور اخبار نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ فیس بک نے بھاجپا نیتاو¿ں اور کچھ گروپوں کی نفرت آمیز تقریر والی پوسٹ کے خلاف کاروائی کرنے میں جان بوجھ کر کوتاہی برتی اسے جلد ہٹایا نہیں گیا جبکہ یہ پوسٹ تشدد بھڑکانے والی تھی بھارت میں فیس بک کی پالیسی ڈائرکٹر آربی داس نے بھاجپا نیتا کی راجہ سنگھ کے خلاف فیس بک کے ہیٹ اسپیچ قواعد کو لاگو کرنے کی مخالفت کی تھی انہیں ڈر تھا کہ اس سے کمپنی کے رشتے بھاجپا سے بگڑ سکتے ہیں ۔فیس بک کو بھارت میں کاروبار میں نقصان ہو سکتا ہے ۔ٹی راجہ تلنگانہ سے بھاجپا کے ممبر اسمبلی ہیں ۔ان پر اشتعال انگیز بیان بازی کے الزام لگتے رہے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ داس نے چناو¿ کمپین میں بھاجپا کی مدد کی تھی پچھلے لوک سبھا چناو¿ کے دوران فیس بک نے کہا تھا کہ اس نے پاکستانی فوج اور بھارت کی سیاسی پارٹی کانگریس کے غیر ویری فائی فیس بک پیج اور بھاجپا سے جڑی جھونٹی خبروں والے پیج کو ہٹا دیا ہے ۔جبکہ سنگھ اور بھاجپا ایم پی آنند کمارہیگڑے کی کئی فیس بک پوسٹ کو تب تک نہیں ہٹایا گیا تھا جب تک وال اسٹریٹ جنرل نے اشارہ نہیں دیا ۔مسلمانوں کے تئیں نفرت بھرے ہوئے تھے اس رپورٹ کے بعد کانگریس اور بی جے پی کے نیتاو¿ں میں ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کا شروع ہو جانا فطری ہے جو بات ٹھیک نہیں ہے وہ یہ ہے کہ بی جے پی اور سرکار کی پوری مشینری کانگریس اور راہل گاندھی کو جواب دینے تک سمٹ گئی ۔مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے راہل گاندھی کو بھی لوزر بتاتے ہوئے معاملے کو اپنے طور پر ختم کر دیا لیکن امریکی اخبار کی رپورٹ سے پیدا تشویشات کا تعلق صرف راہل گاندھی تک نہیں رہا فیس بک اور وائٹس ایپ کی پہونچ آج ہر شخص تک ہے ۔بھارت میں فیس بک یوزرس کی تعداد 35کروڑ سے بھی زیادہ اتنے بڑے بازار کو کمپنی نظرانداز نہیں کر سکتی کیوں کہ کسی بھی کمپنی کی ترقی میں ساخ کا بڑا اشتراک ہوتا ہے اس سے ہندوستانی جمہوریت کیلئے امکانی نقصان کو دیکھتے ہوئے سرکار ان کی کرتوت سے لاپرواہ نہیں رہ سکتی بہرحال یہ تو دیکھنا ہی ہوگا کہ کوئی باہری عناصر ہماری جمہوری عمل کو کسی طرح سے متاثر نا کرپائے شوشل میڈیا چلانے والی کمپنیاں کس طرح یہاں کمائی کررہی ہیں ۔یہ پورے دیش کی نظر میں ہونا چاہیے اس پر یہ قاعدے کے مطابق جگہ دے رہی ہے یا نہیں اور یہاں سے اکھٹے کئے جارہے ڈیٹا کا کیا کررہی ہے یہ بھی دیکھنا ضروری ہے اپنی سکیورٹی کے پیش نظر ہم نے چین کے درجنوں ایپس کو ہم نے ابھی حال میں بند کیا ہے فیس بک اور ٹیوٹر جیسے عوامی طاقتور ذرائع پر ہمیں ہر پل نظررکھنی چاہیے کوئی بھی سیاسی پارٹی عوامی رائے کو توڑ مروڑ کرنے ان کا بیزا فائدہ نا اٹھا پائے سرکار کو یہ یقینی کرنا چاہیے ۔
(انل نریندر)
19 اگست 2020
آزاد پریس کے لئے ہانگ کانگ میں لوگوں سے خریدے اخبار!
میم مختار چینی علاقہ ہانگ کانگ میں میڈیا کے بے تاج بادشاہ جمی لائیو کو چین کے ذریعہ اپنی کچلنے والی پالیسی کے تحت گرفتار کر لیا گیا ہے ۔اور ان پر غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ ملی بھگت کے شبہ کا الزام لگایا گیا ہے ۔پچھلے سال چین میں مخالف مظاہروں کے بعد قومی سلامتی قانون نافذ کئے گئے تھے اس کے تحت یہ سب سے بڑی اہم گرفتاری ہے ۔مقبول ٹیب لائیڈ اپیل ڈیلی کے مالک لائیے ہانگ کانگ میں جمہوریت کی حمایت میں آواز اُٹھانے والی تجربے کار شخصیت ہیں وہ مسلسل چین کی زیادتیوں والی حکمرانی کی تنقید کرتے رہے ہیں ۔نیشنل سیکورٹ ایکٹ 30جون کو لاگو ہوا تھا اور عدم اتفاقی نظریے کو دبانے کے طریقوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔ہانگ کانگ میں میڈیا کے سب سے بڑے مالک جمی لائیو کی گرفتاری کے بعد ان کے اخبار ایپل دہلی نے اسپیشل اشو نکالا اور اسے عنوان دیا ایپل ڈیلی کی لڑائی جاری رہے گی ۔اور لوگوں کو اس اسپیشل شمارے میں پہلے ہی خبردے دی گئی تھی اس لئے لوگ رات دو بجے سے ہی نیوز ایجنسی سینٹر پر لائن لگا کر کھڑے ہو گئے تھے اس اخبار کی روزانہ ایک لاکھ کاپیاں شائع ہوتی ہیں ۔لیکن جمی کی گرفتاری پر مفصل رپورٹ کے لئے 5لاکھ کاپیاں چھاپی گئیں اور صبح تک ساری بک گئیں اخبار نے لوگوں سے اتحاد کے لئے زیادہ سے زیادہ اخبار خریدنے کی اپیل کی اس کے بعد منگل کے رو ز ڈیلی ایپل خریدنے کے لئے لائین لگی ۔جمی کی گرفتاری پر امریکہ نے بھی ناراضگی ظاہر کی ہے وزیر خارجہ مائک پومیو نے چین سے فوراََ اپنا فیصلہ واپس لینے اور انہیں چھوڑنے کو کہا ہے ۔برطانیہ نے بھی اس کی سخت نکتہ چینی کی ہے ۔برطانیوی وزیر اعظم بورس جانسن نے ہانگ کانگ انتظامیہ کو لوگوں کی آزادی کی حفاظت کرنے کی صلاح دی ہے ۔ہم بھی جمی لائیے کی فوراََ رہائی کی حمایت کرتے ہیں اور چین کو بھی کچلنے والی پالیسی کو فوراََ روکنے کی مانگ کرتے ہیں ۔
(انل نریندر)
میں پل دو پل کا شاعر ہوں!
15اگست کو جب پورا دیش یوم آزادی کی 74ویں سال گرہ کے جشن میں ڈوبا ہوا تو اسی دن شام 7:29منٹ پر دنیا کے سب سے کامیاب کرکٹ کپتان مہندر سنگھ دھونی کے انسٹاگرام اکاﺅنٹ پر ایک ویڈیو پوسٹ ہوا میں پل دو پل کا شاعر ہوں دو پل میری کہانی ہے ....اس گانے کے سنائی دیتے ہی سمجھ میں آگیا کہ کپتان مہندر سنگھ دھونی اب انٹرنیشنل کرکٹ سے سنیاس لے رہے ہیں ۔اور اب وہ نہیں کھیلیں گے اس کے 15منٹ بعد ہی ان کے دوست اور ساتھی کھلاڑی سریش رینا بھی انسٹاگرام پر پوسٹ کر کے ان کے راستے پر چلتے ہوئے کرکٹ سے سنیاس کا اعلان کرتے ہیں ۔دنیا کے سب سے بہترین بلے بازی اور حکمت عملی بنانے میں ماہر کپتان جو کسی بھی میچ کو مشکل سے مشکل حالت کو بھارت کے حق میں پلٹنے والے 39سالہ دھونی نے لکھا ۔پیار اور سپورٹ کے لیئے بہت بہت شکریہ ساڑھے 5بجے کے بعد مجھے ریٹائر مان لیا جائے ۔اس لئے کئی دنوں سے وکٹ کیپر بلے باز کی سنیاس لینے کی قیاس آرائیاں جاری تھیں انہوںنے ورلڈ کپ کے بعد دو مہینے کا بریک لیا تھا ۔وہ ویسٹ انڈیز کے دورے پر ٹیم کے ساتھ نہیں گئے تھے اور ہندوستانی فوج میں کام کرنے چلے گئے تھے ۔دھونی نے ساﺅتھ افریقہ کے خلاف ٹی20سریز بھی نہیں کھیلی تھی ان کی کپتانی میں ہی بھارت نے پہلا ٹی 20ورلڈ کپ جیتا تھا ۔ 2007میں یوتھ ٹیم کے ساتھ انہوںنے یہ کرشما دکھایا تھا ۔اس کے بعد سری لنکا کے خلاف وانگ کھیڑے اسٹیڈیم میں 2اپریل 2011کو ان کی کپتانی میں 28سال بعد ورلڈ کپ ٹرافی پر قبضہ کیا تھا ۔فائنل میں شری لنکا کے خلاف چھکالگا کر ٹیم کو جتایا اسے کون بھول سکتا ہے ۔دھونی کے ریٹائر منٹ پر موجودہ ٹیم انڈیا کے کپتان وراٹ کوہلی نے ٹوئٹ کیا کہ سبھی کھلاڑیوں کو اپنی یاترا کا انت کرنا ہوتا ہے لیکن جب آپ کسی کو اتنے قریب سے جانتے ہو اور وہ فیصلے کا اعلان کرتا ہے تو یقینا آپ جذباتی ہو جاتے ہو بی سی سی آئی پرسیڈینٹ کپتان سوربھ گانگولی نے کہا کہ ون ڈے کرکٹ میں ابتدائی دور میں ایم ایس دھونی کی بلے بازی سے دنیا کو اپنے کھیل کا نوٹس کرایا ۔دھونی بلا شبہ بھارت کے سب سے مقبول کھلاڑی بنے جب وہ میدان میں اترتے تھے تو پوار اسٹیڈیم دھونی دھونی سے چلّا اُٹھتا تھا ۔ان کی کپتانی میں ٹیم انڈیا آئی سی سی ٹورنامنٹ رینکنگ میں نمبر ون پوزیشن پر تھی ۔تمام کرکٹ شائقین مہندر سنگھ دھونی کی کمی محسوس کریں گے ۔ان کی نئی پاری پر بدھائی جو کچھ انہوںنے کیا وہ سب تاریخ کے اوراق میں درج ہے ۔
(انل نریندر)
سپریم کورٹ پر اٹیک کرنا دیش کے ججوں کا بھروسہ ہلانا!
سپریم کورٹ نے وکیل پرشانت بھوشن کے دو ٹوئٹ کو عدالت کے لئے توہین آمیز مانتے ہوئے انہیں مجرمانہ توہین عدالت کا قصوروار قرار دیا ہے ۔اُس کا کہنا ہے کہ بھوشن نے سپریم کورٹ جیسے بڑے ادارے کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے انہوںنے ٹوئٹ کو مفاد عامہ میں عدلیہ کی صحت مند نکتہ چینی کے زمرے میں نہیں رکھا جا سکتا ۔انہوںنے کہا کہ عدلیہ پر افسوسناک حملے پر جج صاحبان کی فراخ دلی کو کمزروری نہیں مانا جانا چاہیے ۔اس معاملے میں 20اگست کو سزا کا علان ہوگا خیال رہے کہ پرشانت بھوشن نے ایک ٹوئٹ کی چیف جسٹس اروند بوبڑے کے بارے میں کیا تھا اور دوسرا سپریم کورٹ کے طریقہ نظام پر انگلی اُٹھائی تھی ۔عدالت نے دونوں ٹوئٹ کا نوٹس لیتے ہوئے توہین عدالت کی کارروائی شروع کر دی تھی ۔عدالت کی توہین قانون کے تحت توہین عدالت کے قصوروار شخص کو چھ مہینے کی معمولی قید یا دو ہزار روپئے جرمانہ یا دونوں سزا ہو سکتی ہے ۔جسٹس ارون مشرا ،جسٹس بی آر گوئی ،جسٹس کرشن مراری کی بنچ نے 108صفحات کے فیصلے میں کہا کہ بھوشن کے ٹوئٹ ایک ساتھ صرف دو ججوں پر حملہ نہیں تھا بلکہ عدالت کے پچھلے چھ برسوں کے کام کاج پر بھی نکتہ چینی ہے ۔ایسے حملوںسے سپریم کورٹ کے اخیتار کے تئیں نہ اتفاقی یا بے عزتی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے جسے بالکل نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ٹوئٹ غلط دلائل پر مبنی تھے ۔وکیل پرشانت بھوشن نے موجودہ اور تین سابق چیف جسٹس صاحبان کے خلاف بے بنیاد الزام لگائے تھے جو بلا شبہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے ۔عدلیہ پر منظم طریقہ سے نکتہ چینی کرنے والوں سے سختی سے نہیں نپٹا گیا تو دیش کے دوسرے ججوں کو بھی غلط سندیش جائے گا لہذا ایسا کرنے والوں سے سختی سے نمٹنا ضروری ہے ۔عدالت کا کہنا تھا کہ اس بات بھی امکان ہے کہ دیگر ججوں کو بھی لگے گا کہ جب سپریم کورٹ خود کو اپنی بے عزتی سے بچانے میں ناکام رہی ہے تو وہ ایسے معاملوں سے کیسے اپنے آپ کو بچا پائیں گے؟لہذا مفاد عامہ کی حفاظت کے لئے بڑی عدالت پر حملوں کی کوشش سے سختی سے نمٹنے کی ضرورت ہے ۔پرشانت بھوشن کی طرف سے سنیئر وکیل دشینت دوبے کی طرف سے بھوشن کا بچاﺅ کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ دونوں ٹوئٹ سپریم کورٹ کے خلاف نہیں تھے بلکہ ججوں کے خلاف تھے اور ان کی شخصی صلاحیت کے تحت ذاتی برتاﺅ کو لے کر تھے ۔وہ افسوسناک نہیں ہے ۔اور انصاف انتظامیہ میں رکاوٹ نہیں ڈالتے ہیں ۔اور عدلیہ کی ترقی میں بھوشن کا بہت بڑا یوگدان ہے اور کم سے کم پچاس فیصلوں کا کریڈیٹ انہیں جاتا ہے ۔بڑی عدالت نے بھی 2جی اسپیکٹرم الاٹ منٹ کوئلہ کھدان الاٹ منٹ گھوٹالے وغیرہ معاملوں میں ان کے اشتراک کی تعریف کی ہے ۔سپریم کورٹ نے کہا کہ پرشانت بھوشن 30سال سے وکیل ہیں اور عدلیہ کو ایک ذمہ دار افسر میں کام کرنے کی توقع تھی اور اس طرح کے توہین آمیز الزامات کی امید نہیں کی جاسکتی جو افسوسناک ہے ۔اور کورٹ کو بدنام کرنے کی ذہنیت رکھتے ہیں ۔
(انل نریندر)
18 اگست 2020
72سالہ دشمنی دور کرنے کےلئے تاریخی فیصلہ!
مغربی ایشیا کے دو بیحد طاقتور ملکوں اسرائیل اور متحدہ عرب عمارات کے درمیان 72سال سے چلی آرہی دشمنی اب ختم ہوگئی ہے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی کوششو ں کے بعد دونوں ملکوں کے رشتوں کے بہتر بنانے کے لئے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں اس معاہدے کے بعد اسرائیل اپنی طرف مغربی کنارے کے علاقے پر قبضہ کرنے کی متنازعہ اسکیم کو بند کر دیگا ۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کے بعد کہا کہ دونوں ملکوں نے اس تاریخی معاہدے اور امن کی سمت میں ایک بڑا قدم قرار دیا ہے اب تک اسرائیل کا کسی بھی خلیجی ملک کے ساتھ کوئی سفارتی رشتہ نہیں رہا حالانکہ ایران کو لیکر خلیج کے کئی ممالک جیسے سعودی عرب متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے ساتھ غیر سرکاری رابطہ میں بنے رہتے ہیں 1948میں مختاری ملنے کے بعد اسرائیل کا یہ عرب دیشوں کے ساتھ تیسرا معاہدہ ہے اس سے پہلے اس نے مصر اور یردن کے ساتھ معاہدہ کیا تھا اس معاہدے کو لیکر ایران اور ترکی نے اس پر گہری ناراضگی ظاہر کی اور کہا کہ دونوں ملکوں نے متحدہ عرب امارات پر الزام لگایا کہ اس نے فلسطینی اور سبھی مسلمانوں کی پیٹھ میں خنجر مار دیاہے اور کوئی اس کومعاف نہیں کریگا ۔ترکی کے وزارت خارجہ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کو فلسطین کی طرف سے اسرائیل سے معاہدہ کرنے کا کوئی حق نہیںہے اس معاہدے سے مصر اور یردن کے بعد اسرائیل سے سفارتی تعلق قائم کرنے والا تیسرا دیش بن جائیگا ۔بھارت کے وزیر خارجہ جے شنکر نے جعمہ کو متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زید فون پربات کی اور یو اے ای اور اسرائیل میں ہوئے تاریخی امن معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے یہ فیصلہ مشرق وسطیٰ میں حالات بدلنے والا دور رس فیصلہ ہے دیکھیں اس کا آنے والے دنوں میں کیا رد عمل سامنے آتا ہے ۔
(انل نریندر)
ریا کا الزام :بہار چناو ¿ کے سبب معاملہ اچھالا جارہا ہے !
اداکار شوسانت سنکھ راجپوت کی موت کے معاملے میں ایک مقدمہ پٹنا سے ممبئی ٹرانسفر کرنے کی درخواست کر چکی ریا چکرورتی نے سپریم کورٹ میں نیا حلف نامہ دائر کیا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ شوسانت کے والد شکایت پر بہار میں اس کے خلاف درج مقدمہ سیاسی اغراض پر مبنی ہے ۔14صفحات پر مبنی حلف نامہ میں انہوں نے کہا کہ بہار میں ان کے خلاف مقدمہ اس لئے درج کیا گیا ہے کیونکہ ریاست میں اسمبلی چناو¿ ہونے والے ہیں اب بہار کے دونوں کے جذبات شوسانت سنگھ راجپوت سے جڑے ہوئے ہیں ایسے میں لوگوں کے جذبات کو ووٹ کی شکل میں بنانے کے لئے جان بوجھ کر بہار حکومت سیاسی ایجنڈہ بنانے کیلئے اس معاملے میںکودی ہے معاملے کی جانچ کے لئے پہلے کیس درج کیا گیا اور بعد میں سی بی آئی جانچ کی سفارس کر دی ۔سی بی آئی جانچ کے لئے ویریفائی کرنے کا اختیاربہار حکومت کو نہیں تھا ممبئی پولیس جانچ کررہی ہے اوروہ اس جانچ میں تعاون بھی کررہی ہے اسے واردات ممبئی میں ہوئی اس لئے ممبئی معاملے میں جانچ کا پوار ااختیار ہے ۔ مہاراشٹر سرکار نے بھی اپنے جواب میں سی بی آئی جانچ پراعتراف ظاہر کیا ہے ۔بہار پولیس معاملے میں کوئی دائرہ اختیار نہیں ہے ۔بہار سرکار کے برعکس جاکر کام کررہی ہے ۔شوسانت کی چودہ جون کو ممبئی کے باندھرہ علاقے میں واقع گھر میں موت ہوئی تھی ریا چکرورتی کا کہنا ہے کہ اس پر لگائے گئے الزامات بے بنیا د ہیں اسے بدنام کرنے کے لئے میڈیا ٹرائل کیا جارہاہے سبھی ٹی وی چینل پبلک جانچ افسر بن کر گواہوں سے پوچھ تاچھ کر رہے ہیں اسے میڈیا ٹرائل کے ذریعے اسے شوسانت کی موت کا ذمہ دار ٹھہرا یا جارہا ہے ۔اور 2جی انسپکٹرم گھوٹالے عاروشی قتل معاملے میں اسی طرح میڈیا ٹرائل ہواتھا جس کی وجہ سے بے قصور ملزم جنتا کی نظر میں قصور وار قرار دئیے گئے لیکن بعد میں وہ کوٹ سے با عزت بری ہو گئے اس لئے اس کےخلاف چل رہے میڈیا ٹرائل پر روک لگانی چاہیے وہیں بہار پولیس کے سپریم کورٹ میں دائر حلف نامہ پر اگر یقین کیاجائے تو راجپوت کی موت کے معاملے میں اس کی محبوبہ ریا چکرورتی اور اس کے خاندان پر شبہہ ظاہر کیا جارہا ہے پولیس نے صاف طور پرکہا کہ شوسانت کے بینک کھاتے سے 15کروڑ روپئے ٹرانسفر کئے گئے ہیں ۔بہار پولیس نے ممبئی پولیس پر ابھی تک جانچ سے شوسانت کے والد کے ان الزامات کی تصدیق ہوئی ہے کہ ایکٹر کے بینک کھاتے سے پیسے ٹرانسفر کئے گئے ہیں پولیس اس کڑی کو جوڑنے میں لگی ہوئی ہے ۔کہ یہ رقم کس کو ملی اور کیا ہوا ؟ابھی تک اس کی تصدیق نہیں ہو پائی ۔
(انل نریندر)
جان لیو ا ٹی وی ڈبیٹ!
پچھلے کچھ برسوں سے نیوز چینلوں پر چل رہی بڑی بحثوں میں جس طرح کی گھٹیا ڈبیٹ ہوتی ہے اس کی ایک مثال ہمیں 12اگست کو انتہا پر دکھائی دی یہ زہریلا پن کس قدر نقصان پہونچاتا ہے ،دماغ اور صحت پر اس کا اثر ہوتا ہے اس کی بھی خوب باتیں ہوتی رہتی ہیں ۔زیادہ تر ان ٹی وی ڈبیٹس میں ڈبیٹ کے نام پر تماشہ ہوتا ہے ایک دوسرے پر الزام تراشیاں ہوتی ہیں اور چیخ اور چلاہٹ ہوتی ہے اور مقرر اپنی حدود بھول جاتے ہیں اور ذاتی حملوں پر اتر آتے ہیں ایسا ہی کچھ بدھوار کو کانگریس نیتا اور پارٹی کے ترجمان راجیو تیاگی کے ساتھ ایک پرائیویٹ چینل کی ڈبیٹ میں ہوا بھاجپا کے ترجمان نے ان پر ذاتی حملے کئے اور ساری حدیں پار کر دیں ۔بحث کے دوران راجیو تیاگی کو جے چند کہہ دیا گیا انہیں فرضی ہندو کہا گیا ان کے دھرم پر سوال اٹھائے گئے ڈبیٹ کی ویڈیو دیکھنے پر صاف لگتا ہے کہ راجیو تیاگی ان الزامات سے بہت پریشان ہو گئے تھے اور وہ سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ کیوں ان پر اس طرح کے الزامات لگائے جارہے ہیں ۔بھاجپا ترجمان حالانکہ خود بھی ڈاکٹر ہیں کو اتنا سمجھ نہیں آیا کہ راجیو تیاگی کی حالت بگڑ رہی ہے ۔انہیں چپ ہو جانا چاہیے تھا لیکن وہ لگاتار ان پر ذاتی حملے کرتے رہے راجیو پر ان کی باتوںکا اتنا برا اثر پڑا کہ انہیں وہیں دل کا دورہ پڑ گیا ۔چینل والوں انہیں اسپتال بھیجا جہاں ان کو مرا ہوا قرار دے دیا ۔جو ہوا اس کے لئے کون ذمہ دار ہے ؟اس موت پر سوال اٹھائے جارہے ہیں اور یہ بھی پوچھا جارہا ہے کہ نیوز چینلوں کے اینکروں اور مدیروں تک کو ۔پھر سے جنرلزم کی بنیادی تعلیم کی ضرورت ہے ؟دراصل 90کی دہائی کے دوران بھارت میں جب پرائیویٹ چینلوں کے لئے دروازے کھلے تو بڑی تعداد میں ان کے رجسٹریشن کا سیلاب آگیا لیکن اس کے مواد کو خود کنٹرول کرنے کے لئے سرکار نے جو سسٹم بنایا وہ دو برس 2011میں ہی لاگو ہو پایاجب انڈین بروڈ کاسٹنگ فیڈریشن نے بروڈ کاسٹنگ مواد مشاورتی کونسل بنائی اسے پریس کونسل آف انڈیا کے ترز پر بنایا گیا تھا لیکن یہ ادارہ کچھ نہیں کرتا ٹی وی پر ہونے والی مباحثوں کا معیار اتنا گرتا جا رہا ہے کانگریس ترجمان جے ویر شیرگل نے وزیر اطلاعات و نشریات پرکاش جاوڈیکر کو خط بھیج کر میڈیا اداروں کے لئے ایڈوائزری جاری کرنے کو کہا ہے تاکہ کوئی ضابطہ رول نافذ ہو جائے جس سے سنسنسی خیز منفی اور ذاتی اور زہریلی ٹی وی بحث کو کنٹرول کیا جا سکے انہوں نے کہا کہ کوڈ آف کنڈکٹ یقینی کیا جانا چاہیے تاکہ کوئی اینکر لکشمن ریکھا کو نا پار کر سکے سماج کا بہت بڑا طبقہ ایسا بھی ہے جسے ،لگتا ہے کہ چینلوں پر ہونے والی بحثوں میں مسلسل گراوٹ دیکھی جارہی ہے چیخ چلاہٹ گالی گلوج عام بات ہو گئی ہے کچھ ٹی وی چینل تو جان بوجھ کر ایسے مقررین کو بلاتے ہیں جو تلخ آوازوں کے ذریعے بے ہودہ باتیں صرف اس لئے کرتے ہیں تاکہ ٹی وی ناظرین کو کھینچ سکیں ٹی وی پروڈوسر اپنی ٹی آر پی بڑھانے کے چکر میں رہتا ہے ۔مجھے راجیو تیاگی کے دنیا سے جانے کا صدمہ ہے ۔ایک دوبار ٹی وی بحث میں میرے ساتھ بھی تھے وہ ایک نرم گو شخص تھے جو زوردار طریقے اور مہذب انداز میں اپنی بات رکھتے تھے انہیں ہم اپنی شردھانجلی دیتے ہیں ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...