Translater
27 اکتوبر 2022
کیا تیجسوی دور شروع ہو گیاہے؟
کیا راشٹریہ جنتا دل میں اب ساری طاقت باقاعدہ طور سے بہار کے نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو کے پاس آ گئی ہے؟ کیا پارٹی میں لالو دور ختم ہوگیا ہے پارٹی کو کیوں اپنی آئین سے جڑے تمام مسئلوں پر فیصلہ لینے کا اختیار تیجسوی کو دینے کی ضرورت محسوس ہوئی ہے؟ یہ تما م سوال اس وقت اٹھے جب پچھلے دنوں آر جے ڈی کی قومی ایگزیکٹیو میٹنگ میں پارٹی نے اپنے آئین میں تبدیلی کرکے تمام فیصلے لینے کیلئے تیجسوی یادو کو آتھارائز کیا ۔ اب تک لالو پرساد یا دو کے پاس پارٹی کے سارے اختیارتھے پارٹی نے لالو پرساد یادو کو بارہویں مرتبہ پارٹی کا قومی صدر ضرور چنا لیکن پارٹی سے جڑوے فیصلے لینے کا پورا اختیا ر تیجسوی یادی کو دے دیا ۔لالو پر ساد یادو نے ایک مرتبہ اسٹیج سے اہم بات کہیں تھی کہ اب کسی بھی اہم پالیسی سزا مسئلوں پر صر ف تیجسوی ہی بولیں گے۔ یہ بات انہوں نے پارٹی کے کئی لیڈروں کے متضاد بیانوں سے اتحادی حکومت کو پریشانی کی وجہ سے کہی تھی۔اس بیان کے بعد آر جے ڈی کے اندر ان کے فیصلے کے معنی ٰ تلاش کیے جانے لگے اور خبر ہے کہ آر جے ڈی اور جے ڈی یو میں اگلے کچھ مہنیوں میں انضمام ہو سکتا ہے جس کے لئے زمین تلاش کی جارہی ہے ۔اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ 2024میں عام چناو¿ میں نتیش کمار قومی سیاست میں جا سکتے ہیں ۔اور تیجسوی یاو کو ریاست کی کمان سونپ سکتے ہیں ساتھ ہی مستقبل میں آر جے ڈی اور جے ڈی یو کے درمیان الضمام کو لیکر خبریں زور پکڑ رہی ہےں ۔ آر جے ڈی کے سینئر لیڈوں کے مطابق جے ڈی یو کے تھا کوئی ملنے کا امکان نہیں ہے اوریہ بحث غلط ہے ۔آر جے ڈی کے ایک سینئر لیڈر نے کہا کہ بحث مستقبل میں بھاجپا کے سرکار ی اداروں کا بے جا استعمال کر بہار میں ان کی پارٹی میں شیو سینا کی طرح بغاوت نہ کروائیں اس لئے دونوں پارٹیا کو ضم کرنے کا فیصلہ لیا ہے گیا ہے ۔پارٹی کو لگتا ہے کہ بی جے پی عام چناو¿ سے پہلے ان کی لیڈروں و بغاوت کیلئے اکسا سکتی ہے ایسے حالت سے بطنے کیلئے ایک سیکورٹی کور کے طور آر جے ڈی تیجسوی یادو کو تمام اختیار دئے ہیں ۔ 2015جب لالو پرساد یادو اور نیتش کمار نے مل بہار میں بڑی جتی حاصل کی تھی ۔اس کا اثر پٹنہ سے لیکر پورے دیش میں دیکھا گیا تھا۔اور ایک بڑی پہل کے تحت پرانے سبھی سماجوادیوں کے پارٹیو ں کو ضم کرنے کی تجویز رکھی تھی اور اس کیلئے آر جی ڈی ،جی ڈیو ،سپا ،جے ڈی ایس رضامند ہوئی تھی۔اور کئی دور کے بعد آگے بڑھی ۔نتیش کمار اور لالو پرسا د نے ضم کیلئے باقاعد ہ اعلان ،کامن ایجنڈا ،جھنڈے اور آگے کی حکمت عملی کی ذمہ داری اس وقت کے سپا چیف مولائم سنگھ یادو کو دے دی تھی۔ اب پرشانت کشور بیان دے رہے ہیں کہ نتیش کمار بھاجپا کے ساتھ تال میں ہیں۔یہ گڑھی ہوئی نیوز یا اس میں کچھ سچائی ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔
(انل نریندر)
رشی سونک نے کی تاریخ رقم!
چاہے ماریشش کو ،گوانا ہو،آئرلینڈ ،پرتگال یا فیجی ہندوستانی نژاد لیڈروں کی ایک لمبی فہر ست ہے جو ان دیشوں کے یا تو وزیر اعظم یا صدر رہ چکے ہیں۔ دنیا میں بھارت کے علاوہ ایسا کوئی دیش نہیں ہے جس کے نژاد لوگ 30سے زائد ممالک پر یا تو راج کرتے ہیں یا کر چکے ہیں۔ 42سالہ رشی سونک کا نام اس فہرست میں شامل ہو چکا ہے ۔کنزرویٹیو نیتا پینی مارڈر نے اپنی دعوےداری واپس لے لی ۔سونک اس سے پہلے اپنی حریف لیز ٹرس سے پچھڑ گئے تھے ۔ہندوستانی نژا رشی سونک کا برطانیہ کی سیاست میں بہت تیزی عروج ہوا ہے ۔انہوں نے 35سال کی عمر پہلی مرتبہ پارلیمنٹ کا چناو¿ جیتا تھا صرف سات برسوں میں وہ برطانیہ کے وزیر اعظم بن گئے ۔وہ پہلے ہندوستانی نژا اور بلیک نسل کے وزیر اعظم ہوںگے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رشی سونک کا وزیر اعظم بننا ایک تاریخی لمحہ ہے ۔ٹھیک اسی طرح سے جس طرح امریکہ میں 2008میں براک اوبامہ کے صدر چنے جانے کے وقت ہواتھا ۔سونک سے پہلے ساو¿تھ ایشیا کے نژاد لیڈ ر بڑے عہدوں پر آئے اور وزیر اعظم بھی اور میئر بھی جیسے پریٹی پٹیل اس دیش کی پہلی وزیر داخلہ ہیں اور صادق خان لند ن کے میئر ہیں لیکن وزیر اعظم کے عہدے کا دعویدار اب تک کوئی نہیں ہوا تھا ۔سیاسی مبصرین کے مطابق رشی کا عروج ایشائی برادریوں کی کامیابی سے جڑا ہے ان کا کہنا ہے کہ برطانوی سماج میں ویراثت بھی رشی جیسے لیڈوں کا عروج ہے ۔ ڈاکٹر نیلم رینا مڈل سیکس یونیورسٹی میں پڑھاتی ہیںان کا کہنا ہے کہ تاریخ تو ہوگی ہی ان کے بھارت کے موازنے میں یہاں پارلیمنٹ میں مذہبی نسلی ،اقلیتی فرقوں کی نمائندگی کہیں زیادہ ہے ۔تاریخی اس لئے ہے کیوں کہ انکی نسلی پہچان الگ ہے رشی ہندوستانی نژاد کی تیسری پیڑھی کے ہیں ان کے دادا دادی نے بھارت کی تقسیم سے پہلے ہی پاکستانی پنجاب کے گونجرا والہ شہر سے ایسٹ افریقہ کیلئے ہجرت کی تھی وہ بہت برسوں بعدا نگلینڈ کے ساو¿تھ کیپٹن آکر بس گئے تھے جہاں 1980میں رشی سونک کی پیدائش ہوئی اسی شہر میں پلے بڑھے برطانیہ میں عام تصور ہے کہ رشی سونک بہت امیر ہیں جو عام لوگوں سے ان کی دوری کی اہم وجہ بن گئی ہے ۔حالیہ ایک سروے کے مطابق ان کی برطانیہ کے 250سب سے امیر خاندانوںمیں شمار ہوتا ہے لیکن کیا وہ پیدائشی امیر تھے؟اس کی جانکاری تو ان کے وطن سے ہی مل سکتی ہے جہاں ان کا بچپن گزرا ۔ویدک سوسائٹی ٹیمپل ساو¿تھ کیپٹن میں ہندو فرقے کا ایک بڑا مند ر ہے جس کے بانیوں میں رشی سونک کو ان کے پرکھو ں سے جانا جاتا ہے ۔جب سونک چھوٹے بچے تھے تو وہ مند ر آیا کرتے تھے ان کے والدین اور دادا،دادی کے ساتھ رہ کر پلے بڑھے ۔ان کے والد یشویر سونک پیشے سے ڈاکٹر ہیں اور ان کی والدہ اوشہ سونک ابھی تک کیمسٹ کی دکان چلاتی تھیں وہ اب بھی اس شہر میں قیا م پذیر ہیں ۔رشی اسی طرح عام مذہبی ہندو دھرم کو ماننے والے لوگوں میں سے ہیں ۔خاندان میں پڑھائی اور کریئر پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے اس لئے ان کے والد نے انہیں ایک پرائیویٹ اسکول میں پڑھایا ۔اپنی ویب سائٹ پر رشی سونک لکھتے ہیں کہ میرے والدین نے بہت محنت اور جد جہد کی تاکہ میں اچھے اسلو ل جا سکوں میں خوش قسمت تھا کہ مجھے آکسفورڈ یونیورسٹی اور اسینفورڈ یونیورسٹی میں پڑھنے کا مو قع ملا ہم مسٹر رشی سونک کو مبارکباد دیتے اور ان سے امید کرتے ہیں کہ وہ برطانیہ کے کامیاب وزیر اعظم ثابت ہوں گے ۔
(انل نریندر )
26 اکتوبر 2022
گرے لسٹ سے ہٹتا پاکستان !
منی لانڈرنگ اور شدت پسندی کو ملنے والی مالی مدد پر نظر رکھنے والی ورلڈ آرگنائزیشن فائیننشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف )نے پاکستان کو گرے لسٹ سے ہٹا دیا ہے اب اس بات کو امکان جتایا جا رہا ہے کہ اس اہم ترین قدم سے پاکستان کو فائدہ ہوگا اور اس کیلئے سہولتیں پیدا ہوں گی ۔ شدت پسند اور ٹیرر فائننسنگ کی نگرانی میں لگی ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو چار سال بعد جمعہ کے روز آخر کار اپنی گرے لسٹ سے نکال دیا ہے ۔ سرکار ی سطح پر اس اعلان خیر مقد م کیا گیا ہے اور اسے پاکستان کی بڑی کامیابی بتایا گیا ۔پاکستان جون 2018سے اس لسٹ کا حصہ رہا ہے اور کئی مرتبہ اس کے اشارے ملے ہیں کہ شاید پاکستان بلیک لسٹ میں ڈال دیا جائے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب آگے کی کاروائی کیا ہوگی ؟یا پاکستان کیلئے کئی سہولیات دی جا سکتی ہیں؟ماہرین کے مطابق اس لسٹ سے نکلنے کے بعد پاکستان کیلئے بین الاقوامی سطح پر دیش کی معیشت میں بہتری کیلئے سرمایہ کاری کا راستہ کھلے گا۔ گر لسٹ میں رہنے کے سبب دنیا کی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کرنے یا بینکوں پر بھروسہ کرنے سے کتراتی تھی ۔ حالاںکہ اس بھروسہ کو بحال کرنے میں تھوڑا وقت لگ سکتا ہے کیوں کہ ساری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان میں کئی دہشت گرد تنظیمیں سر گرم ہیں جو بھارت کے خلاف اپنی ناپاک سرگرمیو ں سے باز نہیں آتی اور آئے جموں کشمیر اور دیش کے الگ الگ حصوں میں دھماکے کراتی رہتی ہیں۔اب پاکستان کیلئے شاندار موقع ہے کہ پاکستان کا بینکنگ سیکٹر خود کو مضبوط کرے لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب پاکستان میں ایف اے ٹی ایف کی سفارشوں کے تحت بنائے گئے قوانین کی تعمیل کرے اور پاکستان کو سیلا متاثرین کی مدد کیلئے دی جانی والی مدد اب سیدھے مقامی بینکوں میں آسکے گی ۔ اس لئے ان پیسوں کی جانچ پڑتا ل کم ہوگی اور تجارت پر پابندیاں لگائی گئیں تھی وہ ہٹنے لگیں گی ۔ وہیں پاکستان کے وزیر مالیات ہارون شریف نے کہا کہ ویسے تو گرے لسٹ سے ہمیں اے ٹی ایف کی پچھلی میٹنگ نکالا جانا چاہیے تھا۔ جون 2018سے لیکر اکتوبر 2022تک پاکستان کو ان سبھی سفارشوں پر عمل کرنا جس بارے میں ایف اے ٹی ایف نے پورا پلان تیار کرکے دیا تھا۔ پاکستان میں شدت پسندوں کو مالی مدد روکنے کیلئے قانون تو بنا لیکن اس عمل کیسے ہوگا؟وزیر موصوف نے کہا کہ اداروں کے اندر بہتری لاکر ان کو طاقتور بنانے ضرورت ہوگی؟تاکہ کہیں بھی مشتبہ لین دین نہ ہوسکے ۔تو اگر ملے تو اس گروپ یا شخص یا کمپنی کے خلاف فوری کاروائی کی جائے ۔بی بی سی سے پاکستان انیشیٹیو ڈائریکٹر عزیز یونس نے کہا جب کوئی اے ٹی ایف کی لسٹ میں ہوتا ہے تو غیر ملکی کمپنیاں اور ادارے اس دیش میں سرمایہ کاری کرنے کیلئے کتراتے ہیں کیوں کہ ایف ٹی اے ایف کی گرے لسٹ میں ہونے کی وجہ سے مالی لین دین میں دشواریاں کھڑی ہو جاتی ہیں ۔ اب یہ پاکستان سرکار پر منحصر ہے کہ وہ گر ے لسٹ نکلنے کا کتنا فائدہ اٹھاتا ہے۔
(انل نریندر )
کنگ کوہلی نے دیا دیش کو ویراٹ تحفہ !
پل پل بدلتے میچ کے تجزیہ ،ہر گیند پر ٹینشن اور سرحد کے آ ر پار تھمی ہوئی سانسیں آخر کا ویراٹ کوہلی کا بیٹ شاہین شاہ افریدی اینڈ کمپنی پر بھاری پڑا ۔اتوارکو ورلڈ کپ میں بھارت پاکستان کا جو میچ ہوا وہ ایسا دلچسپ میچ بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے آخری بال تک سسپنس بنا رہا ۔ کبھی لگ رہا تھا کہ پاکستان آسانی سے جیت سکتا ہے تو کبھی لگا جب تک ویراٹ کوہلی میدان میں ڈٹے ہیں کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔ بھارت پاکستان کے میچ دوران اگر آپ نے جوہانسبرگ ،کولمبو ،کولکاتا، برمنگھم ،ایڈلیڈ ،لنڈن اور مینچیسٹر جن گن من سنا ہے تو آپ بات کو مانیںگے ۔ اتوار کو میلبورن میں کرکٹ گراو¿نٹ ورلڈ فیمس ایم سی جی میں ماحول کچھ الگ ہی تھا ۔ میدان میں موجو د 90293لو گوں میں کم سے کم 60000ہندوستانی تھے اور جے ہو جے ہو ہی نے ایسا ماحول بنایا جیسے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا ۔ ایسے ماحول میں کوئی بھی جذباتی ہو سکتا ہے پھر چاہے وہ کپتان روہت شرما ہی کیوں نہ ہوں ۔جن کے چہرے پر جذبات کا ابال صاف دکھائی دے رہا تھا ۔پل پل بدلتے میچ میں آخری اوور میں بھارت کو جیت کیلئے 16رن چاہئے تھے ۔نواز کی پہلی گیند پر ہاردک پانڈیا لمبا شاٹ لگانے کے چکر میں آو¿ٹ ہو گئے پھر دنیش کارتک آئے اور ایک رن لیا اور اسٹرائک کوہلی کے پاس آگئی اور تیسری بال پر کوہلی نے دو رن لئے نواز کی چھوتی بال کو ویراٹ کوہلی نے ڈیپ اسکوائر لیگ کے اوپر سے اسٹیدیم میں پہنچا یا اور شاندار چھکا مار دیا ۔ کمر سے اوپر ہونے کی وجہ سے نو بال قرار دی گئی اوراس پاک کپتان بابر اعظم امپائر سے بھڑ گئے اور بحث بازی کرنے لگے ۔میچ کچھ لمحوں کیلئے رک گیا ۔ پاکستان ٹیم کے م طابق یہ نو بال نہیں تھی۔ویراٹ کوہلی کے چھکے نے میچ کا رخ ہی بدل دیا نوبال دینے کی وجہ سے نواز نے پھر نو بال پھنیکی یعنی وہ فری ہٹ برقرار رہی اورکوہلی اس میں بولڈ ہو گئے لیکن فری ہٹ ہونے کی وجہ سے وہ آو¿ٹ نہیں ہوئے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ تھرڈ پر گیند گئی اس سے پہلے کہ فیلڈ ہوتی کوہلی اور کارتک تین رن پورے کر لئے ۔پانچویں دنیش کارتک سویپ کیلئے گئے اورچوکے رضوان گلیاں بکھیر دیں اس دوران کچھ منٹ تک میچ رکا رہا ہے چھٹی بال نواز سے پھر وائڈ بال ڈالی اور اسکور برابر ہو گیا ۔اب بھارت کو صرف ایک رن چاہئے تھا ۔اور کریز پر تھے رویچندرن اشون اسٹرائک تھے اور انہوں نے نواز کی گیندر مڈ آف کھیل کر میچ جیتا دیا ۔یہ وننگ اسٹرائک تھی ۔ میں نے بہت سے میچ دیکھے ہیں ایسا میچ اور رن کا پیچھا کرتے دیکھا ہے ایک وقت پاکستان کے 160کے جواب میں بھارت 31رن پر ہی چار وکٹ گنواں چکا تھا لیکن ویراٹ ہمت نہیں ہارے اور ہاردک پانڈیا کے ساتھ مل کر بھار ت کو جیت کے قریب لا دیا ۔ کوہلی نے طلسمائی پاری میں 53گیندوں پر 6چوکے 4چھکے لگا کر ناٹ آو¿ٹ 82رن بنائے جبکہ پانڈیا نے ان کا ساتھ دیتے 37گیندوں پر 40رن بنائے ۔ یہ ویراٹ کوہلی سب سے شاندار بیٹنگ پر فارمنس میں سے ایک تھی۔
(انل نریندر )
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...