Translater

04 دسمبر 2021

چین اویغوروں کے اعضا ءبھیج کر اربوں روپئے کی کمائی !

تین اویغوروں کے انسانی حقوق اور زندگی بھر چین چاہے جتنا دعویٰ کر لے لیکن اس کی اب اصلیت دنیا کے سامنے آچکی ہے ایک حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شنگ جیان کے اندر انسانی اعضاءکی بلیک مارکٹنگ کر اربوں ڈالر کما رہا ہے رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ چین میں پندرہ لاکھ اویغوروں کو جیل میں رکھا گیا ہے جہاں ان کے اعضاءنکالے جا رہے ہیں اور ساتھ ہی ان کی نس بندی کی جا رہی ہے رپورٹ کے مطابق زندہ لوگوں کے لیور کو نکال کر بھی چین اربوں کی کمائی کر رہا ہے رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا کالا بازاری کر کے کم سے کم ایک ارب ڈالر کمائے ہیں رپورٹ کے مطابق کسی انسان کے جسمانی اعضاءمیں 1.60لاکھ ڈالر تک بیچا جا تا ہے ایک رپورٹ کے مطابق سال 2017سے 2019 کے درمیان قریب 80ہزار اویغور مسلمانوں کی اسمگلنگ کی گئی اور انہیں مختلف جگہوں پر بنے کارخانوں میں لے جایا گیا ان کے گھروں سے دور انہیں رکھا جاتا ہے جہاں ان پر سخت نگرانی رکھی جاتی ہے انہیں الگ الگ رکھا جاتا ہے کسی بھی مذہبی تقریب یا میں حصہ لینے نہیں دیا جاتا اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ماہر نے کہا کہ انہیں مخصوص جانکاری ملی ہے کہ مذہبی اقلیتوں کے اور دیگر ذاتوں کے درمیان انہیں ان کی رضا مندی کے بغیر ان کے الٹر ساو¿نڈ اور ایکسرے بھی کئے جاتے ہیں اویغور قیدیوں کی جانچ کے بعد ان کے اعضاءکے بارے میں ایک ڈاٹا رجسٹرڈ میں درج کیا جاتا ہے جہاں سے مبینہ طور پر ان کی بلیک مارکٹنگ ہوتی ہے تائیوان کے اخبار گجٹ میں شائع رپورٹ کے مطابق حالیہ برسوں میں اویغور وں سے 84ارب ڈالر کی کمائی ہوئی۔ (انل نریندر)

سرکاری اسپتال میں پیدا بنے ٹویٹر کے سی ای او!

ٹویٹر کے معاون بانی اور سی ای او جیک ڈورسی کے استعفیٰ کے بعد ہندوستانی نژاد پراگ اگروال کو ٹویٹر کا نیا سی ای او بنایا گیا ہے ۔ ورلڈ کی مشہور تکنیکی کمپنیوں میں سے ہندوستانی صلاحیت کی قیادت ثابت کر چکے مائیکرو سافٹ کے ستیہ نڈیلا اور گوگل کے سندر پچائی اور ایڈوبی کے شانت نوں نا رائن آئی بی ایم کے اروند کرشن کے ساتھ اب پراگ کا نام بھی جڑ گیا ہے آئی آئی ٹی ممبئی کے طالب علم رہے پراگ 2011میں ٹویٹر کیلئے کام رہے ہیں سی ای او بننے سے پہلے وہ بڑے نیٹورک کے افسر تھے 45سال کے ڈورسی نے ٹویٹر پر استعفیٰ سبھی سے شیئر کیا ہے انہوں نے لکھا ہے کہ عہدہ چھوڑنے کا یہ وقت سب سے مناسب ہے 16سال کمپنی کے معاون بانی اور سی ای او کی ذمہ داری نبھانے کے بعد میں نے ٹویٹر چھوڑنے کا فیصلہ لیا ہے مجھے لگتا ہے کہ کمپنی اب اپنے بانیوں میں سے آگے بڑھنے کے لئے تیار ہے نئے سی ای او پراگ پر بھروسہ جتاتے ہوئے ڈورسی نے کہا ہے کہ دس سال کی میعاد میں وہ کافی تبدیلی لائے اور وہ جی جان سے قیادت کر تے ہیں اب ان کا وقت ٹویٹر کے نئے سی ای او پراگ اگروال کی پیدائش راجستھان کے اجمیر شہر کے سرکار ی جواہر لال نہرو اسپتال میں ہوئی تھی ان کا خاندان بنیادی طور سے اجمیر کا ہی ہے 1984میں ان کے والد رام گوپال ممبئی میں کا م کر تے تھے لیکن بیوی کو ڈیلوری کے لئے اجمیر میں اپنے ماں باپ کے پاس بھیجا اس وقت ممبئی میں پرائیویٹ اسپتال میں ڈیلوری کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے تھے آج ان کی محنت اور لگن کا نتیجہ یہ ہے کہ پراگ آج دنیا کے سب سے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارم میں سے ایک ٹویٹر کے سی ای او بنے ٹویٹر کے ذریعے یہ جانکاری دی گئی اس کے مطابق پراگ کی تنخواہ 10لاکھ ڈالر یعنی 7.50کروڑ روپئے سالانہ ہوگی 37سالہ پراگ کو بونس اور 94کروڑ روپئے مالیت کے کمپنی کے رجسٹرڈ اسٹاف کو بھی دیئے جائیں گے دس سال کمپنی کی خدمت کرنے کے بدلے انہیں بھی اسٹاف دیئے دئے تھے ۔ (انل نریندر)

جب موت کا کوئی ریکارڈ نہیں تو معاوضہ کا سوال نہیں!

مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ میں کہا کہ تین زرعی قوانین کے خلاف کسان آندولن کے دوران کسانوں کی موت کے بارے میں اس کے پاس کوئی تفصیل نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ڈاٹا ہے ایسے میں معاوضے کا کوئی سوال ہی نیں اٹھتا لوک سبھا میں بدھ کو ایک تحریری جواب میں وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے یہ اطلاع دی اس پر کسان نیتاو¿ں نے کہا کہ وہ حکومت کو کسانوں کی اموات کی پوری تفصیل دینے کو تیار ہیں ۔ دہلی پولس ، مرکزی سرکار کے خفیہ ایجنسیوں کے پاس پورہ ڈیٹا ہوتا ہے کانگریس کے ایم پی منیش تیواری بسپا ایم پی دانش علوی اور اے آئی ایم ایم کے ممبر امتیاز ذلیل نے کسانوں کو معاوضہ دینے کی مانگ اٹھائی حالانکہ سرکار کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا تیواری نے وقفہ سفر کے دوران اس مسئلے کو اٹھاتے ہوئے کہا کہ آندولن کے دوران سات سو کسانوں کی موتیں ہوئیں اس لئے سرکار کسانوں کے پریوار کو پانچ پانچ کروڑروپئے کا معاوضہ دیے اس کے ساتھ ایم ایس پی کو بنا کر کسانوں کی مانگ کو پوری کرے پچھلے ایک سال سے زیادہ وقت سے جاری آندولن پر مبینہ حملوں سے مرکزی سرکار نے اپنا پلہ جھاڑتے ہوئے صاف کیا کہ آندولن کر رہے کسانوں کی حفاظت کی پہلی ذمہ داری کسانوں کی ہے ۔ راجیہ سبھا میں کانگریس کے ایم پی کیسی وینو گوپال کی طرف سے بدھ کو ایک سوال کے تحریری جواب میں وزیر مملکت داخلہ نتیا نند رائے نے جانکاری دی وینو گوپال نے جاننا چاہا تھا کہ دیش میں حالیہ وقت میں انتظامیہ کے ساتھ لوگوں اور کسانوں کے آندولن پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے تو اس کا کی تفصیل کیا ہے انہوں نے کہا کہ مظاہروں میں مارے گئے کسانوں کی ریاست وار تعداد کتنی ہے ان کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے رائے نے کہا کہ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورونے جرائم 2020میں 578646معاملے رپورٹ ہوئے ہیں لیکن اس میں کسانوں کے تحریک پر حملے کے سبب ان پر موٹے معاملے میں الگ تعداد موجود نہیں ہے در اصل آج کے وقت میں انتظامیہ ایسا ہو گیا کہ جو صرف سرکار کی طر ف سے پیش تعداد میں دلچسپی رکھتا ہے ۔ کوئی تعجب نہیں کہ اگر سرکار کسانوں کی موت کے بارے میں نہیں جانتی لیکن یہ ٹالنا والا اشو نہیں ہے ۔ ہمارے انتظامیہ کو دیش میں چل رہی اہم واقعات کی کتنی اطلاع ہے ممکن ہے کہ کسانوں کے نیتاو¿ں کے دعویٰ میں کوئی فرق ہو مگر ان کا دعویٰ ہے کہ سندھو اور ٹکری غازی پور بارڈر پر قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے سات سو کسانوں کی جانیں گئیں ۔ موسم کی مار اور دین داریوں اور گندگی و خود کشی کے چلتے یہ اموا ت ہوئی ہیں ان اموات کی جانچ کر کے تفصیل سامنے لائی جا نی چاہئے مقامی تھانوں کے پاس تفصیل نہیں ہے کیا کسانوں کی نگرانی کی ذمہ داری کسی افسر کو نہیں دی گئی تھی ؟آج ہم جس دور میں وہاں حکام کو یقینی کرنا چاہئے کہ کوئی بھی فرضی خبر یا تفصیل لوگوں میں شائع نہ ہو کسان کافی دنوں سے یہ تفصیل چلا رہے ہیں اور معاوضے کی مانگ کر رہے ہیں جب کسانوں سے بات چیت ہوگی تب حکام کو پورے اعداد و شمار کے ساتھ پیش ہونا ہوگا، دیش کی ترقی اور آگے کی ترقیاتی منسوبوں کے لئے بھی اعدادو شمار درست رکھنے کی ضرورت ہے دیکھیں ہماری رائے میں سرکار کو ایسا ٹکا سا جواب نہیں دینا چاہئے تھا یہ آگ میں گھی ڈالنے کے سمان ہے اگر کسان انجمنیں اس پر بگڑ گئیں تو سرکار مشکل میں پھنس جائے گی ۔ (انل نریندر)

03 دسمبر 2021

سال بھر سے کو رونا سے جان گنوانے والوں کی لاشیں پڑی ہیں !

کر نا ٹک میں ایک دل دہلانے والی واردات سامنے آئی ہے جہاں کووڈ 19-سے پچھلے سال 7جولائی کو جان گنوانے والے دو لوگوں کی لاش پچھلے ایک وسال سے زیا دہ شہر کے ای ایس آئی سی اسپتال کے مر دہ گھر میں پڑ ی سڑ رہی ہیں ۔ اسپتال کے ذرائع کے مطابق 40برس کی ایک خاتون اور تقریبا 55سال کے ایک مر د کو جون 2020میں کورو نا وائر س کے علا ج کیلئے راجہ جی نگر اسپتال میں بھر تی کر یا گیا تھا ۔ اور کچھ دن بعد اگلے ہی مہینے ان کی موت ہو گئی تھی تب سے ان لو گوںکی لاشیں مر دہ گھر میں پڑ ی ہیں چوںکہ نا معلوم اسباب کی وجہ سے ان کا انتم سنسکار نہیںکیا گیا ۔ اس سلسلے میں بھار تیہ جنتا پارٹی کے ممبر اسمبلی ایس سوریش کمار نے کر ناٹک کے وزیر محنت اے شیو رام دیوبار کو خط لکھ کر معاملے کی جانچ کرانے اور اس غیر انسانی واردات کیلئے ذمہ دار لوگوں کو سز ا دینے کی درخوا ست کی ہے ۔ صحا فیو ں کے ساتھ شیئر کئے گئے خط کی کا پی میں ان دو لوگوں کی مو ت کا ذکر کیا ہے اور کہا کہ ان کی لاشیں ابھی بھی اسپتال کے مر دہ گھر میں سڑ رہی ہیں ۔بنگلورو میٹرو پولیٹن اور ای ایس آ ئی سی حکام کا رول سنگین ہے ۔ اس سلسلے میں آپ سے درخواست ہے کہ اس بے رحمانہ حر کت کیلئے ذمہ دار لوگوں کے خلاف سخت کاروائی کریں تا کہ اسے واقعات آگے سے کہیں نہیں ہو نا چا ھئیں ۔ (انل نریندر )

مودی سرکار کی حکمت عملی کامیاب؟

سرکار کی حکمت عملی کے تحت ہی پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں زرعی قوانین کی واپسی کا اشو پیچھے چھوٹ گیا ہے اور راجیہ سبھا سے اپوزیشن کے ایک درجن ایم پی کی معطلی کا اشو حاوی ہو گیا ہے ۔ اس سے سرکار زرعی قوانین کی واپسی پر بحث کی نا گزیں صو رت حال سے فی الحال بچ گئی ہے۔ سیشن کے دوسرے دن بھی معطلی پر ہنگا مہ ہوا قابل ذکر ہے کہ اس سیشن سے پہلے اپوزیشن نے سرکار کو زرعی قانون کی واپسی پر گھیر نے کی حکمت عملی بنائی تھی لیکن سیشن کے پہلے ہی دن دونوں ایوان میں زرعی قوانین کو منسوخ کر نے والا بل پاس ہونے اور اسکے فورا بعد اپوزیشن ممبران کی معطلی کے بعد حالا ت بدل گئے ۔ اب مر کزی حکومت نے اپوزیشن کو معافی کی شرط کے ساتھ معطلی واپسی کی تجویز رکھی ہے لیکن اپوزیشن کے یہ شرط ماننے کی امید بہت کم ہے۔ ایسے میں معاملہ لمبا ہو سکتاہے۔ پارلیمنٹ کے مانسون سیشن میںبھی اچانک نظارہ بدل گیا تھا اپوزیشن سرکار کو کسان آندولن اور مہنگائی پر گھیر نا چاہتی تھی لیکن عین موقع پر پیگاسس جاسوسی کانڈ کے خلا صے کے بعد اچانک سب کچھ بدل گیا اور اپوزیشن نے اسے اہم اشو بنا لیا ۔ اس چلتے سیشن کو نہ صر ف پہلے ختم کر نا پڑا بلکہ پورے سیشن میںکام کاج نہیں ہو پایا اب اسی طرح رواں سیشن میںممبران پارلیمنٹ کی معطلی کا اشو گرما گیا ہے اس سے کئی طرح سوال بھی اٹھ رہے ہیں ۔ سوا ل ہے کہ طے حکمت عملی تحت ٹھیک اسی دن راجیہ سبھا کے 12ممبران کی معطلی کا اعلان کیا گیا جس دن زرعی قوانین واپسی کا بل لا یا گیا تھا ۔ اگر قانون واپسی پر بحث ہو تی تو سرکار کو کئی سوالوں سے دوچار ہو نا پڑ تا اور ان کا جواب دینا آسان نہیں ہو تا ۔ زرعی قوانین کی واپسی پر نا گزیں صور ت حال سے بچنے کیلئے مودی سرکا ر کی حکمت عملی کامیا ب ہو گئی ہے۔ (انل نریندر)

پی سی ایس سے ٹی ای ٹی امتحان تک نقل مافیا کی سیندھ !

انٹرینس اکزام اور ملازمتوں کیلئے ہو نے والے ٹیسٹ میں سوالنامہ کو پہلے ہی باہر حل کر کے امتحان میں بیٹھے امید واروں بیچ دینا اب ایک بڑا دھندھا بن گیا ہے ۔ حالاں کہ اسے روکنے کیلئے امتحان منعقد کرانے والے اداروں اور سرکاروں نے کافی پختہ انتظام کر نے کی کو ششیں کی ہیں حالا ں کہ دھاندھلی کر نے والے اس میں بھی سیندھ ماری کر لیتے ہیں ۔ آخر پیپر آوٹ ہو تے کیوں ہیں ؟ اس کا آسان جواب ہے کہ کرپٹ اناصر بہت اوپر تک اپنی پہونچ بنا چکے ہیں ۔ جواب تو آسان ہے لیکن حالات کو بدلنا آسان نہیں ہے ۔ پیپر لیک ہونے کا واقعہ کسی ایک واردات کی نہیں بلکہ رد عمل کا معاملہ ہے ۔ پوری امتحان کاروائی سے جوڑے سوال اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور امتحان کا عمل صا ف ستھرا ہو کئی سطحوں پر کنٹرول ہو یہ جتنا ضروری ہے اتنا ہی مشکل ہے ۔ ٹیچر اہلیت امتحان ٹی ای ٹی کا پیپر آوٹ ہو نے کی تازہ مثا ل ہے۔ قریب 20لاکھ امتحان دینے والے اس امتحان پیپر لیک ہونے کی وجہ سے اس پیپر کو منسوخ کر دیا گیا ۔ انہیں مایوس ہو کر واپس لوٹنا پڑا ۔ حالاں کہ اس معاملے میں سرکار نے فوری کاروائی کرتے ہوئے ممتحن کو راحت دینے کا اعلان کر دیا ۔ یہ امتحان ایک مہینے بعد دوبا رہ ہوگا ۔ اس کیلئے پھر سے فارم بھر نے کی ضرورت نہیں ہوگی ۔ انٹری کارڈ دکھا کر امتحان دینے والے اسٹیٹ ٹرانسپور ٹ سروس کی بسوں میں مفت سفر کر سکیں گے ۔ اسپیشل ٹا سک فور س نے مختلف شہروں میں چھاپہ ماری کر کچھ لوگوں کو گرفتا رکیا ہے ۔مگر اس کاروائی سے سسٹم کی جوابدہی ختم نہیں ہو جاتی یہ کوئی پہلی واردات نہیں ہے یہ پہلے بھی کئی موقعوں پر اس طرح کے امتحانات کو منسوخ کر نا پڑا ہے ۔ لاکھوں نوجوان امتحان دینے والے پیپر کے لیک ہونے سے پریشان ہوئے سیا سی طور پر انہیں نا راض رکھنا کسی بھی سیا سی پارٹی کیلئے ٹھیک نہیں ہے ۔ حکمراں پارٹی کو اس سلسلے میں سخت قدم اٹھانے چاہیے تاکہ قواعد ٹھوس اور موثر رہیں ۔ تازہ معاملے میں بہت سارے طلبہ ایک دن پہلے امتحا ن گاہوں پر پہونچ گئے ہوں گے لیکن انہیں مایو س ہو کر لوٹنا پڑا ۔ ان میں سے نہ جانے کتنے غریب طالب علم ہوں گے جنہوں نے بڑی مشکل سے اس امتحا ن کیلئے پیسے انتظا م کیا ہو گیا مہینو ں محنت کی ہوگی اس واقعے نے ایک بار پھر اشارہ کیا ہے کہ امتحا نات میں دھاندھلی روکنے کیلئے ابھی اور ضروری قدم اٹھا نے کی ضرورت ہے ۔ مرکزی سرکار اور ریا ستی سرکاروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ یہ یقینی کیا جائے کہ لاکھوں نوجوانون کے مستقبل سے کھلواڑ نہ ہو امید کی جانی چاہیے کہ یہ پیپر لیک ہونے کا آخری کیس ہوگا۔ (انل نریندر)

02 دسمبر 2021

شگر ایک مہنگی بیما ری -سبسڈی دینا ضروری !

نیشنل فیملی ہیلتھ سر وے 2020-21کے مطابق دہلی میں 14فیصدی مر د اور 12فیصدی عورتیں شگر کی بیماری سے دوچار ہیں ۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہاں 100میں 8-10لوگ پر ی شگر کی بیما ری سے دو چار ہیں اور جنہیں شگر ہونے کا امکان ہے ۔ سپریم کے چیف جسٹس این وی رمن نے کہا کہ شگر کے مریضوں کیلئے مالی امداد یا سبسڈی دینی چاہیے ۔زندگی بھر رہنے والی بیما ری کے علاج میں بے تحاشہ پیسہ خرچ ہو تا ہے ۔ یہ بیما ری مہنگی اور غریب دشمن ہے۔ انہوں نے ہندوستا نیوں پر مبنی شگر کے بارے میں اسٹڈیز پر بھی ضروت جتائی چیف جسٹس نے کہا کہ کووڈ 19-وبا ءنے شگر سے ہو رہے نقصا ن کو ہما رے سامنے زیا دہ بڑھا دیا ہے۔ جب بھار ت میں کووڈ 19-کا ٹیکہ بن جانے کی اطلاع ملی تو وہ ایک خوشی کا لمحہ تھا لیکن وہ چاہتے ہیں کہ شگر کا بھی علاج نکالا جائے ۔ یہ بد قسمتی ہے کہ اب تک سرکار اسٹنڈرڈ بلڈ شگر لیول بھی طے نہیں کر پا رہے ہیں دنیا بھر میں الگ الگ پیمانے ہونے سے ڈائبٹیز کو لیکر بہت سی غلط فہمیا ں بڑھی ہیں ۔ کم سے کم بھارتیوں کو لیکر وسیع ریسرچ اور پیمانے طے کر کیلئے سائنسدانو ں اور ڈاکٹروں کو کام کرنا چا ہیے ۔ ہم جسٹس این وی رمن کے نظریے اور تجا ویز کا خیر مقدم کر تے ہیں ۔ انہوں نے اپنے لیگ سے ہٹ کر عوامی صحت پر بھی تشویش ظا ہر کی ہے ۔ (انل نریندر )

بے شک چین سب سے امیر مگر چنیوں کی امیر ی کی کتنی اصلی !

پچھلے بیس سال میں دنیا کے اثاثے تین گنا ہو گئے ہیں ۔ خاص بات یہ ہے کہ دنیا کے کل پراپرٹی میں چین کی حصہ داری ایک تہائی ہے۔ اتنا ہی نہیں پچھلے دو دہائیوں کے دوران اثا ثے کے معاملے میں امریکہ کو چھوڑ کر بھی چین پہلے پائیدان پر آگیا ہے۔ دنیا کی 60فیصدی آمدنی کیلئے دمدار دیشوں کی بیلنس شیٹ پر نظر رکھنے والی منجمنٹ کنسلٹینٹ میکنگس اینڈ کمپنی کی رپورٹ میں یہ انکشاف ہو اہے۔ اس کے مطابق سال 2000میں چین کا کل اثا ثہ 7ارب ڈالر تھا جو 2020میں بڑ ھکر 120ارب ڈالر ہو گیا ۔ سال 2000کے ایک برس پہلے ہی چین کو ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں انٹری ملی تھی ۔یہ بتاتی ہے کہ چین کی معیشت میں جتنی تیزی سے اضا فہ کیا وہیں امریکہ کے اثاثے 90ارب ڈالر سے بڑھ کر تین گنا ہوگئے ۔ دنیا کی کل اثاثے سال 2000میں 156ارب ڈالر تھے جو اگلے 20برسوں میں یعنی 2020میں514کھرب ڈالر ہو گئے ۔ ایجنسی کے مطابق کمیو نیزم کا پجاری چین ہو یا دھرندر سر مایہ پرست امریکہ یہاں غریب ہو رہا ہے اور امیر یعنی سرمایہ دار امریکہ میں امیریت کی کھا ئی پہلے ہی بڑھی تھی اب اس میں زیا دہ سکڑ نے کی گنجائش نہیں تھی لیکن امریکہ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کے سب سے امیر بنے چین نے نئی عاملی معیشت میںاس کھا ئی کو دو دہائی میں کافی بڑھا دیا ہے۔ بھا رت کی معیشت بھی اسی را ہ پر گامزن ہے۔ حالاںکہ رپورٹ میں بھا رت کی تفصیل نہیں ہے لیکن ماضی گزشتہ کی رپورٹ بتاتی ہے کہ جتنا انڈیکس پر بھارت میں غریبی امیری کی کھا ئی مسلسل بڑ ھ رہی ہے جس میں کو رونا دور میں ایک صنعت کار کی آمد نی 90کروڑ ہی بڑھ سکی۔ (انل نریندر)

پا رٹی چھوڑنے والوں کی پہلی پسند ترنمول کانگریس !

ترنمول کانگریس لمبے عرصے تک کانگریس قیا دت والے یو پی اے اتحا د کا حصہ رہی ۔ ٹی ایم سی آج تاریخ میں کانگریس کے کیلئے ہی سب سے بڑی چنوتی بن گئی ہے اور یہ چنو تی اس معنی میں بنی کہ کانگریس کے نیتا و¿ں کی پہلی پسند ترنمول کاگریس ہی بنتی جا رہی ہے ۔ کانگریس کے جو بھی نیتا پارٹی چھوڑ رہے ہیں ان میں سے زیا دہ تر ٹی ایم سی میں جا رہے ہیں ۔ پہلے یہ سلسلہ مغربی بنگال میں دیکھا گیا تو کہا کہ ٹی ایم سی بنگال میں اقتدار میںہے اس وجہ ایسا ہو رہا ہے ۔ پھر ایسا ہی ٹرینڈ نا رتھ ایسٹ کی ریا ستوں میں نظر آ یا تو کہا گیا کہ وہ وہا ں پر ٹی ایم سی کا وجود پہلے سے ہے ۔ لیکن اب مشرقی یوپی ،بہار ، ہر یانہ جیسی ہندی ریاستوں میں جہاں ٹی ایم سی کا وجود نہیں ہے وہاں سے کانگریس نیتاو¿ں نے ٹی ایم سی میں جانا شروع کر دیا تو سیا سی گلیا روں نے اس پر تعجب ظاہر کیا ۔ یوپی میں کانگریس کا ایک بہت پرانا گھرانہ ہو ا کر تاتھا ۔ کملا پتی تر پاٹھی کا پر یوار ہے ۔ ترپا ٹھی یو پی کے وزیر اعلی رہ چکے ہیں ۔یہ خاندان بنارس کا بہت ہی مشہور خاندان مانا جاتا ہے۔ اس خاندان نے پچھلے دنو ں اپنی سیا سی وفاداری بدلی ہے ۔ یو پی کے لحاظ سے اس کے پاس بہت سارے متبادل ہو سکتے تھے مگر بی جے پی میں نہیں تو سپا ،بی ایس پی میں جا سکتے تھے لیکن اس خاندان نے ٹی ایم سی کو چنا اسی طرح ہر یانہ کے کانگریسی نتیا اشوک تنور کے پاس بھی ریاست کی سیا ست کیلئے کئی متبادل تھے لیکن انہوں نے بھی ٹی ایم سی کو چنا ۔بہار میں کرتی آزاد نے بھی ٹی ایم سی کو چنا ۔ اس سے پہلے میگھا لیہ میں کانگریس کے سینئر لیڈر مکل سنگما ایک درجن ممبران اسمبلی کے ساتھ ٹی ایم سی میں آگئے ممبران کی تعداد کے حساب سے کانگریس کو بڑی اپوزیشن پارٹی کا درجہ حاصل تھا جبکہ اب ٹی ایم سی کے پاس آگیا ہے ۔ اس سے پہلے تری پور ہ میں بھی سشمتا دیو جیسے بڑا چہرا کانگریس چھوڑ کر ٹی ایم سی میں آگیا ۔ اس طرح سے گو ا میں بھی کانگریس کے سابق وزیر اعلی فلیریا بھی ٹی ایم سی کے ساتھ ہو لیے حیران پریشا ن کا نگریس کو یہ کہنا پڑا ممتا کو اب سونیا گاندھی کی نہیں بلکہ نریندر مودی کی ضرورت ہے ۔ کانگریس کو توڑ نے کی سپاری انہیں بی جے پی سے ملی ہے۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سب کے پیچھے پر شانت کشور کی حکمت عملی چل رہی ہے۔ ممتا کا بڑھتا قد کانگریس کیلئے خطرہ ہے ۔پہلی وجہ تو یہ کہ وہ کہیں نہیں جا رہی ہیں ۔ ممتا بنر جی مودی کے خلا ف اپوزیشن کا بڑا چہر ا بن رہی ہیں ۔ کانگریس کے جن نتیا و¿ں کو اپنی پارٹی کی کوئی بڑی امید نہیں دکھائی دے رہی ہے انہیں اپنی ریاستوں میں پہلے سے مو جود کسی دیگر پارٹی میں سیدھے جانے پر تال میل میں مشکل آسکتی ہے۔ لیکن وایا ممتا بنر جی اس میں آسانی ہوگی ۔ جس بھی ریاست میں جس بھی پارٹی سے چا ہیں گی اپنے لوگوں کیلئے سیٹ چھڑوالیں گی دوسری بات کانگریس نے اپنی واپسی آسان ہوگی ۔ ٹی ایم سی کو کانگریس سے کچھ الگ نہیں مانا جاتا یہ کانگریس پریوار کی ہی پارٹی مانی جاتی ہے۔ جن بڑے چہروں نے حالیہ دنوں میں کانگریس سے پالا بدل کر ٹی ایم سی کا رخ کیا ہے اس سے زیا دہ تر ان کے رشتہ دار کبھی نہ کبھی ممتا کے ساتھ کام کر چکے ہیں ۔ اس وجہ سے ان کی ممتا کے ساتھ سانٹھ گانٹھ ہے ۔ کانگریس چھوڑ کر ٹی ایم سی میں آکر گھر جیسا اپنے پن کا احساس ہوا ۔ممتا بنر جی خود کانگریس سے نکلی ہیں اس وجہ سے آئیڈیو لوجی اور عمل ملتا جلتا ہے۔ پھر ممتا نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ مودی شاہ کی جوڑی کو مات دے سکتی ہے۔ (انل نریندر )

01 دسمبر 2021

پاکستان کو نارکو ٹیریرزم کا سہا را!

پاکستان مسلسل نارکو ٹیریرزم کوبڑھا وا دینے میں لگا ہے ۔پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اپنی پالتوں آتنکی تنظیم کے ذریعے سے کبھی ڈرگس کے ذریعے سے تو کبھی دیگر ذرائع سے جموں کشمیر ،پنجاب میں ڈرگس کی کھیپ بھیج رہا ہے ۔ اور یہ کام سلیپر سیل کے ذریعے آتنکی تنظیموں اور اسمگلروں کے اڈے پر پہونچ جاتی ہے ۔ افغانستان سے پاکستان اور پھر جمو ں کشمیر کے راستے نا رکو ٹیریرزم کا نیٹ ورک دہلی و دیش کے دیگر علاقوں تک پھیلتا ہے۔ یہ بات پھر کشمیر سے آرہے سیب سے لدے ٹرک میں چھپا کر لائی جا رہی قریب 52کلو گرام ہروئن کے پکڑے جانے سے ایک بات پختہ ہو گئی ہے کہ یہ ہروئن وادی سے ہر یانہ نمبر پلیٹ ٹرک سے سیب کی بھری پیٹیوں کے درمیا ن ایک ایک کلو گرام کی پیکٹ میں چھپا کر لائی جا رہی تھی ۔ ضلع جموں پولیس کے کوٹھلی کے تحت ناکے پر اس ٹرک کو جانچ کیلئے روکا گیا ۔موقع دیکھ کر ٹرک ڈرائیور بھا گ گیا لیکن اس میں سوار ایک شخص بھر ت شا ہی باشند ہ کروپ چھیتر ہر یا نہ کو پکڑ لیا گیا ۔ ضبط کر دہ ہروئن کی قیمت کروڑوں رپے کی بتائی گئی ہے پولیس کا دعوی ہے کہ نشہ آور چیز وں کے اسمگلنگ سے حا صل پیسے استعمال جموں کشمیر میں دہشت گردی کو بڑھا وا دینے کیلئے جا نا تھا ۔ ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے پر یس کانفرنس میں بتایا کہ پاکستان کے ذریعے لگا تار ہروئن اور دیگر نشے کی اسمگلنگ کے ذریعے نار کو ٹیریرزم پھیلا ئی جارہی ہے ۔ کشمیر کے کپواڑا ، جموں کے راجوڑی ،پونچھ ،سانبھا میں فرار دہشت گر دشخص کی آتنکی تنظیم نشے کی کھیپ بھیج رہے ہیں ۔ کھبی ڈرون سے ہتھیا ر تو کبھی نشے کی اسمگلنگ کا ساما ن پاکستان بھیج رہا ہے۔ (انل نریندر )

اور اب اومکرون کی دہشت !

کو رونا روئرس کی نئی شکل اومکرون کا پتا چلنے سے تما م دیشوں میں ڈر کا اندیشہ ایک بار پھر بڑھ گیا ہے ۔ سب سے پہلے ساو¿تھ افریقہ میں پائے جانے کے محض کچھ دنوں کے بعد کورونا کی نئی شکل اومکرون نے کئی یوروپین مما لک کو اپنی چپیٹ میں لے لیا ہے جس کے سبب دنیا بھر کی سرکاروں نے اسے کنٹرول کر کیلئے قدم اٹھا نے پر مجبو ر ہو نا پڑا ہے ۔ ساو¿ تھ افرقہ کو اپنی اڑان منسوخ کر نی پڑی اس درمیان ورلڈ ہیلتھ اورگنا ئزیشن نے اومکرون کو ڈیلٹا ویرینٹ کی طرح انتہا ئی انفیکشن بتاکر دنیا کے تما م دیشوں کی دھڑ کنے بڑھا دی ہیں ۔ محض دو ہفتوں میں ہی ساو¿تھ افریقہ میں نئے انفیکشن معاملے چار گنا بڑھ گئے ہیں دو سالوں سے جاری وباءکی وجہ سے پوری دنیا میں 50لاکھ سے زیا دہ لوگوں کی موت ہو چکی ہے اور اس خطرے کے تئیں دنیا کے دیش ہائی الرٹ پر ہیں ۔وزیر اعظم مودی نے سنیچر کو سینئر حکام کے ساتھ اس وباءپر اہم میٹنگ کی ہے وزیر اعظم نے تو چوکس رہنے کی ضرورت بتائی اور لوگوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ چوکس رہیں ۔ ماسک پہننے ،منا سب دوری رکھنے کے ساتھ کورونا انفیکشن کو روکنے کیلئے تما م تر احتیاطوں کو اپنائیں۔اس کے پہلے کورونا کا پھیلا و¿ ساو¿تھ افریقہ ہی میں دیکھنے کو ملا تھا ۔چوںکہ اومکرون کورونا نئی شکل ہے اس لئے کہا نہیں جا سکتا کہ کورونا لگوا چکے لوگوں پر اس اومکرون کا کیسا اثر رہے گا۔ حالاںکہ سائنسداں کہہ رہے ہیں کہ اومکرون سے کوئی بڑا خطرہ نہیں ہے پھر بھی ہمیں پوری احتیاط برتنی ہوگی ۔ ساو¿تھ افریقہ میں ٹیکہ لگوا چکے لوگ بھی اس کی زد میں آگئے ہیں ۔ اس لئے تما م دیشوں کو چوکس رہنا ہوگا۔ بھارت میں ویکسی نیشن کی پوزیشن تسلی بخش ہونے کے باوجود ضروری ہے کہ ہم کورونا پروٹوکال کی اپنائیں ۔ لاپر واہی بھار ی پڑ سکتی ہے۔ (انل نریندر)

جج صاحبان پر بڑھتے حملے!

چیف جسٹس این وی رمن نے پچھلے ہفتے کہا کہ حکام کی الگ لکشمن ریکھا کو پویتر مانا جاتا ہے اور کبھی کبھی عدالتیں انصاف کے مفاد میں مداخلت کر نے کیلئے مجبور ہوتی ہیں جس کا ارادہ انتظامیہ کو خبر دار کر نے کا ہوتا ہے تاکہ اس کے رول کو ہتھیا نے کیلئے اور نہ ہی اسے اس طرح پیش کیا جانا چاہئے کہ عدلیہ دوسرے اداروں کا نشانہ بن رہی ہے ۔انہوں نے عدلیہ میں مداخلت کو انتظامیہ کو نشانہ بنانے کی شکل میں پیش کر نے کی کسی بھی کو شش کو لیکر آگاہ کیا اور کہا کہ یہ پوری طرح سے غلط ہے ۔ وہ اگر اسے بڑھا دیا گیا تو یہ جمہوریت کیلئے نقصان دہ ثابت ہوگا ۔ سپریم کورٹ رجسٹری کے ذریعے منعقد یوم آئین تقریب میں جسٹس رمن نے خا ص طور سے سوشل میڈیا میں جج صاحبان اور عدلیہ پر حملوں کا اشو اٹھا یا اور کہا کہ وہ اسپانسر اور طے شدہ ہوتے ہیں اس تقریب میں وزیر اعظم نریند ر مودی بھی موجود تھے ۔ جج موصوف نے کہا کہ عدلیہ کیلئے سنگین تشویش کا موضوع ججوں پر بڑھتے حملے ہیں ۔ جوڈیشل فسروں پر فزیکل حملے ہو رہے ہیں میڈیا خا ص کر سو شل میڈیا میں عدلیہ کو نشا نہ بنا یا جا رہا ہے ۔ یہ حملے منظم محسوس ہوتے ہیں قانون لاگو کر والی ایجنسیوں خاص طور سے مر کزی ایجنسیوں کو ایسے پری پلان حملوں سے موثر طریقے نمٹنے کی ضرورت ہے ۔سر کاروں کو ایک محفوظ بنانے کی امید کی جاتی ہے تاکہ جسٹس اور عدلیہ افسر نڈر ہو کر کام کر سکیں ۔ جسٹس رمن نے خاص طور سے نچلی عدالتوں میں بڑی تعداد میں التوی مقدموں کے ٹرینڈ کو خطرناک قرار دیا وہیں عدالتیں تو صر ف اس کے ریکارڈ کو بنیا د بنا کر حل نکالتی ہیں ۔ متضاد طور سے مختلف پیچیدہ اسباب سے باقاعدہ نتیجہ نکالے جانے کیلئے برسوں تک جد جہد کر تی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے ذریعے کھینچی گئی لکشمن ریکھا پویتر ہے لیکن کبھی کبھی عدالتوں کو انصا ف کے مفاد میں مداخلت کر کیلئے مجبور ہو نا پڑ تا ہے جس کاارادتاً منتظمہ کو آگاہ کر نے کیلئے ہو تا ہے نہ اس کے روڈ نقصان پہونچانے کیلئے اور نہ ہی اسب اس طرح پیش کیا جانا چاہئے ۔ عدلیہ دوسرے اداروں کا نشا نہ بن رہی ہے۔ (انل نریندر)

30 نومبر 2021

دیش میں غرباءکی تعداد میں کمی آنے کا دعویٰ!

مر کزی سرکا ر کا خیا ل ہے کہ مالی برس 2016سے لیکر 2020کے درمیا ن سرکار کی جانب سے چلائی جا رہی بہبودی اسکیموں کی وجہ سے بھارت میں زمینی سطح پر بہتری دیکھنے کو ملی ہے ۔ سرکار کے ایک دستا ویز میں بتا یا گیاہے کہ قومی خاندانی ہیلتھ سروے کے پانچویں دور کے پختہ دستا ویز میں بتایا گیا ہے فلاحی نشانوں میں بہتری لانے کی تجویز کی ہے جو کمی میں کو دکھا تے ہیں یعنی غریبی دور کر نے کے پیمانوں میں بہتری آئی ہے ۔ سرکا ر کی طرف سے کہا گیا ہے جب ایم پی آئی یعنی غریبی انسداد انڈیکس کا اگلا ایڈیشن آئے گا تو اس میںبہتری دکھا ئی دے گی ۔ نیشنل ایم پی آئی 2015-16کے نیشنل ہیلتھ سروے چوتھے دور کی بنیا د پر تیا ر کیا گیا تھا ۔ این ایس ایف ایس 5- 2018-20,کے درمیا ن کیا گیا ۔ اس کے ابتدائی دور میں اعداد وشمار دیکھنے سے پتا چلتا ہے کہ نتیجے تسلی بخش رہے ہیں ۔ رپورٹ میں بتایا گیاکہ اچھا کھانا اور ہیلتھ و بجلی تک کی فرہمی میں بہتری کی سفارش کی گئی ۔گھریلومائکرو ڈاٹا پر مبنی آئندہ کا انڈیکس این ایف ایچ ایس کے چوتھے راو¿نڈ کے بعد سے اہم اسکیموں کے ذریعے مل رہے فیکٹ اور نیشنل ایم پی آئی میں سدھار آنے والی رپورٹ میں بھی دکھا ئی دیتی ہے۔ (انل نریندر)

داغی نیتاو ¿ں پر تا عمر پابندی لگانے کا سوال ؟

سپریم کورٹ نے مر کزی سرکار سے پوچھا ہے کہ وہ نیتا و¿ں کے چنا و¿ لڑ نے پر تا عمر پابندی لگانے پر غور کر نے کو تیا ر ہے جنہیں جرائم کیلئے قصور وار ٹھہرا یا گیا ہے چیف جسٹس این وی رمن کی بنچ نے وکیل اشونی اپادھیائے کی مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کر تے ہوئے مرکزی سرکار کی جانب سے پیش ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل ایس وی راجوسے یہ سوا ل پوچھا کہ جج صا حبان نے کہا جب تک مر کز چنا و¿ کمیشن کی رائے لینے کے بعد پبلک سز ا قانون میں تر میم کا فیصلہ نہیں لیتی ہے تب تک عدالت کیلئے اس مسئلے پر فیصلہ کر نا مشکل ہے سرکا ری وکیل نے جواب دیا کہ سر کار کی ہدایت لئے کچھ بھی نہیں کر سکتے اشونی اپادھیا ئے کی مفاد عامہ کی عر ضی میں قصور وار لیڈروں پر تا حیا ت پابندی لگاے کی مانگ کی گئی تھی ۔پبلک نمائندگان ایکٹ کی دفعہ 8کے دائرے کو اس حد تک چنو تی دیتی ہے جب یہ افراد کو چنندہ جرائم کیلئے سز ا دئے جانے پر صر ف کچھ برسوں کی میعاد کیلئے چنا و¿ لڑنے سے روکتی ہے ۔ عرضی گزار نے اپنی مفاد عامہ کی عرضی میں اٹھا ئے گئے اہم مسئلے پر سماعت کر نے کی درخواست کی تھی ۔ انہوں نے دلیل دی تھی کہ ایک قصور وار شخص کلر ک نہیں بن سکتاہے لیکن وزیر بن سکتا ہے ۔ یہ من مانی ہے جسٹس رمن نے چٹکی لیتے ہوئے کہا کہ اشونی اپادھیا ئے 18عرضیا ں دائر کی ہیں میں چاہتا ہوں اشونی اور ایم ایل شرما کے معاملوں پر سماعت کیلئے ہمیں ایک اسپیشل عدالت کی ضرور ت ہے ۔ عدالت میں موجود سابق ایم پی اور ممبران اسمبلی کے خلاف مقدموں کی سما عت کیلئے اسپیشل عدالتیں بنانے کیلئے حکم پاس گئے ہیں ۔ بنچ نے صاف کیا کہ اس کے احکامات کا غلط مطلب نہیں نکا لا جا سکتا ۔ مجسٹریٹ کے ذریعے زیر سما عت معاملوں کے سیشن عدالتوں کوسو نپا جا نا ہے ۔ عدالت کے احکا مات سابق اور موجودہ ممبران اسمبلی کے متعلق مجرمانہ معاملوں کو سیشن عدالت یا جیسا بھی معاملہ ہو مجسٹریٹ عدالتوں کو سونپنے اور الاٹ کر نے کا حکم دیتے ہیں یہ لاگو قانون کے خاصی سہولیت کے مطابق ہونا چا ہیے نتیجے کہ طور جہاں آئی پی سی کے تحت ایک مجسٹریٹ کے ذریعے معاملہ زیر سماعت ہے اسی کے دائرے اختیا ر والے مجسٹریٹ کو سونپنا ہوگا ۔ اور اس عدالت کے مورخہ 4دسمبر 2018کے حکم کو ایک ہدایت کی شکل میں نہیں مانا جا سکتاہے۔ (انل نریندر)

کسان آندولن کا ایک برس مکمل !

کسان آندولن کو ایک سال پورا ہونے پر جمعہ کے روز آندولن کی جگہ پر کسانوں نے جدو جہد اور جیت جشن منا یا ٹریکٹر ٹرالیوں میں بھر کر عورتین اور مر دپہونچے یو پی گیٹ پر ہوئی مہا پنچایت میں بھار تیہ کسان یونین کے لیڈر راکیش ٹکیت مر کزی سرکا ر کے خلاف جم کر بولے ۔ کسانوں سے خطاب میں ٹکیت نے کہا کہ تین زرعی قوانین بے شک واپس ہوئے گئے لیکن ابھی کئی اہم اشوز باقی ہیں انہوںنے کہا پارلیمنٹ چلنے پر ہی کسان آگے کی حکمت عملی بنائیں گے آندولن کے پہلے ہی سے اپنی فصلوں کے مناسب دام مانگ رہے ہیں مگر زرعی قوانین نے ڈیڑھ سال پیچھے کر دیا ۔ کورونا اور تینوں زرعی قوانین ایک بیماری تھے دونوں 2019-20میں اور اب دونوں ہی بھاگ گئے ۔ کسانوں نے ان کا ڈٹ مقابلہ کیا راکیش ٹیکت نے کہا کہ 2011میں وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے نریندر مودی مالی معاملوں کی کمیٹی کے صد ر تھے اور کمیٹی نے پچھلی سرکار کو رپورٹ دی تھی کہ ایم ایس پی پر گارنٹی قانون بنا نا چاہئے لیکن اب مودی وزیر اعظم ہیں اب کمیٹی کی رپورٹ بھی ان کے پاس ہے تو ایم ایس پی پر گارنٹی قانون بنانے سے کون روک سکتاہے ٹکیت نے کہا کہ کسان آندولن میں جان گنوانے والے 750کسانوں کے کنبوں کو معاوضہ دئے جانے لکھیم پور کانڈ میں بیٹے کے ملوث ہونے کے الزام کے بعد وزیر مملکت داخلہ اجے مشرا کو بر خاست کر نے ، کسانوں پر درج مقدموں کو واپس لینے سمیت دیگر کئی اشو ہیں جن پر سرکار سے بیٹھ کر بات ہوگی۔ یو پی گیٹ پر نریش ٹکیت نے کہا کہ پچھتا وا ہے کہ ہم نے بھاجپا کو ووٹ دیا اور پارٹی کو حمایت دینا ہماری بھول تھی ہم یہاں ودھان سبھا چنا و¿ کیلئے نہیں آئے لوگوں کو اختیا رہے کہ وہ اپنی پسند سے کسی بھی پارٹی کو ووٹ دیں ہم کسانوں کے ساتھ ہیں ان کے کیلئے بات کر نی ہے اب آگے سے کسی بھی پارٹی کو حمایت نہیں دیں گے ۔تین زرعی قوانین واپسی پر نریش ٹکیت نے کہا کہ ایک کہاوت ہے کہ ’نہ تم جیتے نہ ہم ہارے ‘ہم اسے سرکار کی ہار نہیں مان رہے ہیں ۔ اب پر دھان منتری ایم ایس پی پر گارنٹی کی بات کریں زرعی قوانین کی واپسی کیلئے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ کئی مہینے پہلے سرکار نے بات چیت کر بند کر دی تھی لیکن انہوں نے اچانک فیصلہ لیا ۔ قانون واپسی سے لوگوں کو خوشی ہے لیکن ایک سام سے چل رہے آندولن کو کچھ گھنٹوں میں کیسے ختم کردیں ۔ (انل نریندر)

28 نومبر 2021

کچے تیل کے ریزرو اسٹاک کھولنے کا اعلان !

کچے تیل کی قیمت میں ایک سال میںقریب 60فیصدی اضافے کو دیکھتے ہوئے بھارت اور امریکہ سمیت تیل درآمد کرنے والے ملکوں نے اپنے ریزرو کا ایک حصہ بازار میں جاری کر نے کا جو فیصلہ لیا ہے اس سے فوری طور پر تو تیل کے دام گھٹیں گے ہی اس سے اس تیل پیدا کرنے والے ملکوں پر دباو¿ بننے کی بھی امید ہے جو جان بوجھ کر تیل پیدا کرتے ہیں اور دام بڑھاتے ہیں ۔ تیل اور گیس کی اونچی قیمتوں سے لڑ تی دنیا کے بڑے تیل کی سپلائی بڑھانے کا جو فیصلہ کیا ہے یہ تاریخی ہے ۔ امریکہ نے 5کروڑ اور بھارت نے 55لاکھ اور جاپان نے 42لاکھ بیرل تیل نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ 1990میں خلیجی جنگ کے چلتے بین الاقوامی بازار میں کچے تیل کی قیمتوں میں بھار ی اچھال سے بھار ت کی غیر ملکی کرنسی اسٹاک میں بڑی گراوٹ آئی ہے ۔ تب ہمارے پاس صرف تین ہفتے کی درآمد کا پیسہ بچا تھا ۔ تیل کے امکانی بہران کو دیکھتے ہوئے اٹل بہاری واجپائی سرکار نے 1998میں ذخیرہ کرنے کی تجویز رکھی تھی۔ دنیا میں کافی لوگوں نے تیل کے حکمت عملی ریزرو ذخیرے کے بارے شاید پہلی بار سنا ہوگا اور یہ ضروری ہے کہ قدرتی آفات ،جنگ اور سپلائروں میں غیر متوقع رکارٹ سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی پیٹرولیم ذخائر بنائے جاتے ہیں ۔ بھار ت کے پاس مشرقی اور مغربی سمندری ساحلوں پر بنے زیر زمین ریزرو وائر میں 3.8کروڑ بیرل کچا تیل ایمر جنسی حا لات کیلئے ذخیرے کے طور رکھا ہے ۔ یہ بھنڈار آندھرا پردیش کے وشاکھا پٹنم اور کرناٹک کے منگلورو میں ہیں ۔ اب کر ناٹک کے پڈور میںدوسرے مرحلے کے بھنڈار بنانے کی منظور 2018میں مودی سرکار نے دے دی تھی ۔ کچا تیل ذخیر ہ زمین کے نیچے پتھروں کی غاروں میں کیا جاتاہے ۔ اور ایمر جنسی میں تیل ذخیرہ کھولنے کے اعلان کے بعد کچے تیل کے داموں میں گراوٹ دیکھی گئی ہے ۔ لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ سرکاروں کے ریزرو تیل نکالنے کے فیصلے سے کیا انہیں سستا پیٹرول ڈیژل ملے گا۔ لیکن اس کے پیچھے کئی پہلوں ذمہ دارہیں ۔ ریفائنریاں کچے تیل کی اڈوانس خرید کرتی ہیں ایسے میں وہ فی الحال مہنگا تیل کو ریفائن کرہی ہیں ۔ ابھی کچے کے دام زیادہ گھٹنے کے آثار ہیں لیکن چناوی موسم میں روز روز پیٹرول ڈیژل کے دام مہنگا کرنے کا خطرہ سرکار مول نہیں لینا چاہتی اسی وجہ سے حا ل میں ضمنی چنا و¿ کے نتیجے بھاجپا کے کیلئے مایوس کن تھے ۔ پچھلے دنوں اندھن پر زیادہ اکسائز میں رعایت دی گئی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہو ا اس لئے اب یہ قدم اٹھا یا جا رہا ہے کہ ہمار ی سرکار کیلئے ریزرو اسٹاک جاری کرنا اس لئے بھی آسان ہے کیوں کہ کووڈ دور اس نے قریب 19ڈالر فی بیرل کچا تیل خریدا اور اپنا ریزرو اسٹاک کر لیا تھا ۔ لیکن تیل کے پیدا کرنے والے ممالک کی مہنگائی کے خلا ف اٹھائے گئے قدم کی تعریف کرنی چاہیے ۔ تیسرا سب سے بڑا ایمرجنسی حالات بھارت اب سعودی عرب پر منحصر کے بجائے درآمد کے دوسرے متبا دل پر بھی غور کر رہاہے ۔ امید کی جانی چاہئے کہ تیل درآمد کرنے والے دیشوں کے اس قدم صحیح معنی میں لیتے ہیں اور اس پر سر کار سے رد عمل ظاہر کرتے ہیں ۔ (انل نریندر)

یوروپ میں کووڈ کی خطرناک ہو تی لہر !

یوروپ ایک بار پھر دنیا میںکورونا وباءکا مر کز بن گیا ہے اس مہینے دنیا بھر میں کورونا سے ہوئی کل اموات میں سے آدھی سے زائد یوروپی ممالک میں ہوئی ہیں ۔ یوروپ میں ہر ہفتے 20لاکھ سے زیادہ مریض سامنے آرہے ہیں جس وجہ سے وائر س کو روکنے کیلئے یو روپی حکومتیں پھر سے سخت کورونا گا ئڈ لاینز نا فذ کر سکتی ہیں ۔ آسٹر یا نے تو پوری طرح لاک ڈاو¿ن لگا دیا ہے جرمنی کے وزیر صحت جیمس اسپین نے خبر دار کیا کہ اس سال کے آخر تک جر منی میں سبھی لوگوں کو کورونا ویکسین لگ جائیں گی یا مر جائےں گے ۔ کیس بڑھنے کے سبب بیلجئم میں ماسک ضروری کر دیا گیا ہے اور اورسخت قواعد اور ویکسین لگانے کیلئے سرکاری اقداما ت کے خلاف آسٹر یا بیلجئم ،ڈینمارک ،اٹلی، نیدر لینڈ میں مظاہرے ہورہے ہیں ۔ مظاہر ین کا کہنا ہے کہ وہ پبلک ہیلتھ کے نام پر عام زندگی میں دو سال سے جاری پابندیوں سے تنگ آچکے ہیں ۔ ادھر فرانس کے وزیر اعظم انفیکشن کی زد آگئے ہیں اور وہ ورک فروم ہو م ہی دیکھیں گے ۔ ادھر ڈبلیو ایچ او نے اندیشہ جتایا ہے کہ یوروپ میں مارچ 2022تک کورونا سے امواتوں کی تعداد20لاکھ تک پہونچ سکتی ہے ۔ برطانیہ میں کورونا تیزی سے پاو¿وں پھیلا رہا ہے اس لئے وہاں کی حکومت نے 25دسمبر کرسمس پر شوپنگ کیلئے کووڈ ٹیسٹ کرانا ضروری کر دیاگیاہے اس کے بعد جنوری میںبرطانوی سرکار کورونا حالات کا جائزہ لیگی اٹلی میں دونوں ڈوز لے چکے لوگوں کے لیے بسٹر ڈوز شروع کر دی گئی ہے ۔دوسری ڈوز لینے کے پانچ مہنے بعد باقی ڈوز لگوا سکیں گے۔ (انل نریندر)

وزیر اعظم کے ایک تیر سے کئی نشانے!

راجدھانی دہلی سے لگے جیور علاقے میں ایک نئے انٹر نیشنل ایئر پورٹ کی تعمیر سے اتر پر دیش میں سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھلیں گے ۔اس سے دہلی این سی آر کی بڑی آبادی کو ہوئی سفر کا ایک اور بہتر متبادل مل سکے گا ۔ ہوئی اڈے نہ صر ف لوگوںکی آنے جانے کے سفر کو آرامدہ بنانے کیلئے ضروری ہوتے ہیں بلکہ یہ معیشت کو بھی اڑان بھرنے میںمدد کر تاہے۔ اس نظریہ سے قومی راجدھانی خطے میں ایک اور انٹر نیشنل ایئر پورٹ کا سنگ بنیاد سرکا ر کی دور اندیشی سمجھداری کی علامت ہے ۔دہل سے قریب 70کلومیٹر دوری پر واقع جیور میں دنیا کے چوتھے سب سے بڑے ہوائی اڈے کا وزیر اعظم نے سنگ بنیاد رکھ دیا ۔اور اس موقع کے بہانے وزیر اعظم نے ایک تیر سے نشانے لگائے اور سیدھے سیدھے دیکھیں تو انہوں نے ہوائی اڈے کے سنگ بنیاد پروگرام میں کوئی بڑا اعلان یا بات نہیں کی بلکہ انہوں نے تین منٹ کی تقریر میں مر کزی سرکار کے کام گنا ئے اور ریاستی سرکار کی تعریف کی اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنا یا اسی درمیان انہوں نے وکاس کی بات رکھنا نہیں بھولے اسٹیج پر موجود نیتاو¿وں میں کسی کے کندھے پر ہاتھ تو کسی کا حال چال معلوم کیا اپنے خطاب کئی طبقوں کا ذکر کیا اور ان کی بہبو د کیلئے اٹھا ئے گئے قدموں کے بارے میں بھی بتایا ۔ واضح ہو کہ یو پی میں ہونے والے اسمبلی چنا و¿ کے پیش نظر انہوں نے اپوزیشن پارٹیوں پر جم کر کٹاکش کیا ۔اور کہا کہ ہوائی اڈا بن جانے سے ہزاروں لوگوں کو روز گار ملے گا ۔ اور مغربی اتر پر دیش کے لوگوں کو سفر میں سہولت ملے گی انہوں نے کہا کہ سابقہ سرکاروں نے مغربی یوپی کو نظر انداز کرتے ہوئے ایئر پورٹ پروجیکٹ کو دو دہائی تک لٹکا ئے رکھا لوگوں کو جھوٹے سپنے دکھائے ۔ صرف سیاسی فائدے کیلئے پروجیکٹوں کے اعلان ہوتے تھے ۔ لیکن ہمار ی سرکار کا مقصد ہے پروجیکٹ لٹکے بھٹکے لیکن اٹکے نہیں ۔ ہمارے لئے وکا س سیا ست نہیں بلکہ حکمت عملی کا حصہ ہے۔ وہ یہ بھی گنانا نہیں بھولے کہ ایئر پورٹ صرف وزراءکیلئے ہی فائدہ مند نہیں ہو گا بلکہ یہ علاقے میں بڑا انقلاب بھی لائے گا۔ انہوں نے کہا ایئر پورٹ سے چھوٹے کسانوں کو فائدہ ہوگااب وہ اپنی اجناس کو آسانی اکسپورٹ کر سکیں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ آس پاس کے شہروں میں جو بھی چیزیں بنتی ہیں جیسے سہا رنپور میں فر نیچر ،مراد آباد میں پیتل کا سامان میرٹھ میں اسپورٹس کا سامان اور آگرہ کے پیٹھے کو بڑا با زار مل جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ مر کزی حکومت نے کنکنٹیوٹی پر زیا دہ کام کیا ہے ۔ پر وانچل اکسپریس وے نوئیڈا گریٹر نوئیڈا جمونا اکسپریس وے کا ذکر کیا ۔ پی ایم کو جواب میں بی ایس چیف مایا وتی نے کہا کہ جیور ایئر پورٹ شروع کر نے کی تیا ری تھی لیکن اس وقت مر کز کانگریس سرکار نے اڑنگا لگا دیا تھا اس وقت جو سرکار ہے وہ چنا وی فائدہ اٹھا نا چاہتی ہے سپا کے چیف اکھلیش یادو نے بھی ہی ایم پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسی سرکا ر ہے جو ایک طرف ایئر پورٹ بیچ رہی ہے تو دوسری طرف نیا بنا رہی ہے ۔ اگر ہم سیا سی نفع نقصان کے بجائے اصل فائدوں کے نظریہ سے دیکھیں تو یہ ہوائی اڈا بلا شبہ مر کز اور ریا ستی سرکار کا بڑا کارنامہ ہوگا۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...