Translater

05 ستمبر 2020

GDPمیں 23.9فیصدکی ریکارڈ گراوٹ

کورونا وائرس وباءکے قہر اور اس کی روک تھا م کے لئے لگائے گئے لاک ڈاو¿ن کے تین مہینے اپریل جون کے سہہ ماہی میں GDPاینڈکس میں23.9فیصد گراوٹ پریشان کرنے والی ضرور ہے ورلڈ بینک سمیت دنیا کے سبھی نام ور اداروں نے گراوٹ کو لیکر 1سے6فیصد کی کمی کی پیش گوئی کی تھی در اصل اس اندیشے سے الگ گراوٹ اس لئے بھی اہم ہے کی دونوں کسان اور ذراعت مزدوروں نے مشکل میں قابل قدر محنت کی اور کھیتی کو پہلے سے زیادہ بڑھایا لیکن کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کا الزام اس معنیٰ میں صحیح ہے کہ سرکار کی طرف سے غیر منظم طریقے کروڑوں مزدوروں کی پریشانیاں کم کرنے دے ،روز گار کے راستے کھولنے کے سمت میں کچھ نہیں ہوا راہل گاندھی نے GDPترقی شرح میں بھاری گراوٹ کو لیکر سرکار کو آڑے ہاتھو ں لیا اور دعویٰ کیا کی معیشت کی بربادی نوٹ بندی سے شروع ہوئی تھی اور اس کے بعد ایک غلط پالیسی اپنائی گئی جس کی وجہ سے ترقی شرح کا گرنا بدستور جاری ہے ایسے ہی کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے الزام لگایا کہ سرکار نے دیش کی معیشت کو ڈبا دیا آج حالت دیکھئے کہ GDP 23.9 فیصد تک گر گئی ہے پارٹی کے چیف ترجمان سرجے والا نے کہا کہ مودی جی اب تو مان لیجئے جسے آپ نے ماسٹر اسٹروک کہا تھا بلکہ وہ اصلی معنیٰ میں تباہی کا جھٹکا ہے ۔نوٹ بندی غلط GSTاور لاک ڈاو¿ن کے سبب یہ حالت بنی ہے کہ آج ہماری معیشت بری طرح بیٹھ گئی ہے ۔نیشنل انڈیکس ٹیلی آفس نے پہلی سہ ماہی میں اعداد شمار جاری کئے اس دوران ذراعت کو چھوڑ کر تعمیرات اور سرویس سمیت سبھی سیکٹروں کی پرفامنس خراب رہی سہ ماہی اعداد شمار 1996سے جاری ہو رہے ہیں ۔ اس وقت سے اب تک کی سب سے بڑی گراوٹ ہے اتنا ہی نے تجزیہ نگار جو اندازہ لگا رہے تھے یہ گراوٹ اس سے بھی بڑی ہے ۔فی الحا ل دو کروڑ نوکریاں چلی گئی ہیں اور غیر منظم سیکٹر کے دس کروڑ سے زیادہ لوگ گھر بیٹھے ہیں ۔اور جب غیر منظم سیکٹر کے اعداد شمار سامنے آئینگے تو چنوتی کہیں اور زیادہ بڑھ سکتی ہے سرکار کے سامنے اس وقت دو تین چنوتیاںہیں ۔پہلی تو دیش میں پیداوار کیسے بڑھائی جائے ؟کورونا انفیکشن کی تعداد میں بے تحاشہ اضافے کو کیسے روکا جائے؟ تیسرا ہے کھپت بڑھانا ؟ (انل نریندر)

سبھی کے نشانے پر فیس بک !

سوشل میڈیا پر فرضی خبریں پھیلانے کا معاملہ بھار ت سمیت کئی ملکوں میں زور پکڑتا جا رہا ہے۔ فیس بک پر اظہار رائے پر لگام اور اظہار رائے کی آزادی وغیرہ ایشو ز پر بھار ت ہی نہیں بلکہ پوری دنیا بھر میں تشویش کا موضوع بنا ہوا ہے۔حکمراں فریک ہو یا اپوزیشن دونوں ہی فیس بک سے ناراض ہیں اور ان کو اس سے شکایت ہے در اصل یہ سب امریکہ کے ایک اخبار میں پچھلے دنوں شائع ایک خبر میں کہا تھا کی فیس بک میں بھارت کے بھاجپا نیتاو¿ں کے مبینہ استعال انگیز بیانوں کو لیکر ڈھیلارویہ اپنایا اور اپنے قواعد کو ہی نظر انداز کیا اخبار نے بھاجپا اور فیس بک حکام کے درمیاں ملی بھگت کی بات کہی بھارت میں کمپنی کے چیف پر سوال اٹھائے گئے اس کے بعد سیاسی گھماسان مچنا فطری تھا ۔ بھارت سمیت دنیا بھر میں فیس بک پر اٹھ رہی انگلیاں اب معاملے کی جانچ ہوگی اور امریکہ کے 17ماہرین کی ٹیم یہ پتا لگائے گی کی چناو¿ کو متاثر کرنے میں فیس بک کا کوئی رول ہے یا نہیں ؟ اس ٹیم میں سیاست اور جمہوریت اور سماج اور شوشل میڈیا سیکٹر سے ماہرین شامل ہونگے خود فیس بک نے اس کی جانکاری دی ہے اور بتا یا گیا ہے نیو یارک یونیورسٹی و ٹیکساس یونیورسٹی کے ریسرچر شامل ہونگے جو کہ پوری طرح آزاد ہونگے ہم ان کی مدد کرنے کو تیا ر ہیں اتنا ہی نہیں ریسرچ میں آنے والا فیس بک ہی دے گا۔ اور بتا یا گیا ہے نیو یارک یونیورسٹی و ٹیکساس یونیورسٹی کے ریسرچر شامل ہونگے جو کہ پوری طرح آزاد ہونگے ہم ان کی مدد کر نے کو تیا ر ہیں اتنا ہی نہیں ریسرچ میں آنے والا فیس بک ہی دے گا ۔پرکمپنی نے کہا کی ریسر چ کے لئے وہ اپنے انٹرنل ڈاٹا کو اسٹڈی کنندگان سے شیئر کرے گی تاکہ وہ اس کے ذریعہ شوشل میڈیا کے سیاسی اثر کی پڑتال کرسکے بڑی اپوزیشن پارٹی پچھلے کئی دنوں سے مسلسل فیس بک کی شکایت کرتی آرہی ہے اور سابق صدر راہل گاندھی نے امریکی اخبار کی حالیہ رپورٹ کو ٹیوٹر پر شیئر کرتے ہوئے فیس بک اور بھاجپا کے درمیان ساٹھ گاٹھ ہونے کا الزام لگا یا ہے انہوں نے دعوہ کیا کہ بینل الاقوامی میڈیا نے ہندوستانی جمہوریت اور سماجی بھائی چارہ پر فیس بک اور واٹس ایپ کے کھلے حملے کو نے نقاب کردیا ہے وہیں مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ نے بھی فیس بک پر حملہ کیا دہلی اسمبلی کی امن اور بھائی چارہ کمیٹی کی طرف سے اس مسئلے پر میٹنگ ہوئی کمیٹی کے چیئر مین راگھو چڈھا نے کہا کی کاروائی کے دوران تین گواہوں نے اپنا بیان درج کرایا دہلی دنگوں میں فیس بک کا ہاتھ تھا اور فیس بک پر جس طرح کے پروپیگنڈے کے طور پر ڈالا گیا کوشس یہی تھی کی دہلی اسمبلی کے چناو¿ سے پہلے دنگے ہوجائیں ۔مرکزی سرکار نے سرکاری طور سے اپنی ناراضگی کے اظہار کیا ہے بدھ کے روز انفورمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق کمیٹی نے فیس بک کے ہندوستانی چیف کو بلا کر سوال جواب کئے کل لب لبا ب یہ ہے کی سبھی کو فیس بک سے شکایت ہے اور سبھی چاہتے ہیں کی اسے کنٹرول میں رکھا جائے جہاں تک فیس بک کو سوال ہے اس کےلئے سب سے بڑی کامیابی یہی ہوگی کہ وہ جہاں تک فیس بک کا سوال ہے اس کے لئے سب سے بڑی کہ وہ پیسے کے غیر ضروری دباو¿ میں اپنا بیجا استعمال کرے اور نہ ہی کسی کو کرنے دے ۔ (انل نریندر)

04 ستمبر 2020

گورودوارہ بنگلہ صاحب میں پریتم دوا خانہ !

شری گورو گرنتھ صاحب جی کی سمپورڑتا دوس گرو پرب پر دہلی سکھ گورو دوارہ پربندھک کمیٹی نے ایک انوکھی پہل کرتے ہوئے گورو دوارہ بنگلہ صاحب کمپلیکس میں بالا پرتیم دوا خانہ شروع کیا ہے ۔وہاں بازار سے بے حد سستی دوائیں ملیں گی ۔اس دوا خانے کا افتتاح کمیٹی کے صدر منجندر سنگھ سرسا جنرل سیکریٹری ارمیت سنگھ کالکا نے مشترکہ طور پر افتتاح سے پہلے گورو مہاراج کے شکرانے کی ارداس گوردوارے کے ہیڈ گرنتھی بھائی رنجیت سنگھ نے کی ۔اس موقعہ پر سرسا نے کہا کہ پرب دوس یہ دوا خانے کی شروعات کی گئی اور اس میں فارمیسی کمپنیوں سے سیدھے دوا آئیں گی ۔اور جو سستی دی جائیں گی ۔اور کوئی منافہ نہیں لیا جائے بالا پریتم دوا خانے کا فائدہ اب سنگت پورہ فائدہ اُٹھا رہی ہے ۔یہاں دوائیں 70سے80فیصد ڈسکاﺅنٹ پر مل رہی ہیں ۔لوگوں کے لئے راحت کی بات ہے افتتاح کے دن ہی دواﺅں کے لئے لمبی لائن لگی تھی پہلے دن دوا خانے میں ایک لاکھ روپئے سے زیادہ کی سیل ہو گئی بہر حال یہ بہت نیک اور اچھی شروعات ہے جس کا ہم تہہ دل سے خیر مقدم کرتے ہیں سکھ سنگت نے ہمیشہ دیش سیوا میں پہل کی ہے کوئی بھی سیکٹر ہو سکھ سب سے آگے ہوتے ہیں ان کے سیوا کے جذبے کو سلام ۔جے واہے گورو۔ (انل نریندر)

چین اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہا!

مشرقی لداخ کے پینگونگ تسو علاقہ میں 29-30اگست کی رات چینی فوجیوں نے پھر سے قبضے کی ناکام کوشش کی ہے اس سے یہ صاف ہے کہ چین بھارت کو اکسانے اور کسی نہ کسی طرح سے جنگ کے حالات پیدا کرنے میں لگا ہے فو ج کے ترجمان کرنل آنند نے بتایا کہ پی ایل اے کے جوانوں نے مشرقی لداخ میں جاری تعطل کے درمیان دونوں ملکوں کے بیچ امن قائم کرنے کے لئے فوجی اور ڈپلومیٹک بات چیت کی خلاف ورزی کی ہے اور موجودہ پوزیشن کو بدلنے کے لئے اکسانے اور فوجی سرگرمیاں جاری رکھتے ہوئے دراندازی کی اس دغابازی اور بزدلانہ حرکت کو ہندوستانی جوانوںنے ناکام کر دیا ،حالانکہ اس دوروان کسی طرح کی کوئی جھڑپ نہیں ہوئی ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریبا دو سو چینی فوجی رات کی تاریکی میں ہندوستانی سرحد میں ساﺅتھ پینگونگ جھیل کے جنوبی خطے میں پوری طرح ڈٹے رہنے کی تیاری کے ساتھ ٹینک اور گولا بارود لے کر دراندازی کے لئے آگے بڑھے لیکن ہمارے مستعد جوانوںنے انہیں نہ صرف روکا بلکہ پیچھے کھدیڑ دیا بتایا جاتا ہے کہ واقعہ کے بعد لداخ کے ایل جی رادھا کرشن ماتھر نے نئی دہلی کے وزارت داخلہ میں وزیر مملکت جی کشن ریڈی سے ملاقات کر وہاں کے تمام حالات واقف کرایا ۔ہندوستانی فوج نے چین کو اسی کی شرارت کھیل کو مات دی ہے اسی کی زبان میں ۔بھارت کے فوجی اب ساﺅتھ بیک آف پینگونگ میں اونچائی پر بھی تعینات ہیں ۔جس میں وہ چین کے مقابلے آگے کی پوزیشن میں ہیں ۔ذرائع کے مطابق جب چین کی گھس پیٹھ کی کوشش کی خبر ملی تو ہندوستانی فوجی پہلے ہی پہنچ گئے اور اپنے مورچوں پر پوزیشن مضبوط کر لی جس پر دونوں دیش اپنا اپنا دعوی کرتے ہیں ۔بھارت نے اب یہی کیا 29-30اگست کی رات کو ہوئے واقعہ سے صاف ہے کہ چینی جوان سردیوں میں بھی کشیدگی جاری رکھنے کے موڑ میں ہیں حالانکہ چین کے لئے مشکل ضرور ہوگا کیونکہ چینی فوجیوں کی اس کی عادت نہیں ہے جب وہ ہندوستانی فوجیوں کو اونچی چونٹیوں پر سال بھر ڈٹے رہنے کی عادت ہے اسی حساب سے ان کو ٹرینگ بھی دی گئی ہے ،ہندوستانی فوج نے چین کو اسی کی چال سے مات دے دی ہے ۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جون میں گلوان وادی میں ہندوستانی فوجیوں پر حملے کے واقعہ کے بعد اکچول کنٹرول لائن سمیت پورے علاقہ میں بھارت میں جس تیزی سے فوجی تیاریاں کی ہیں اس سے بھی چین بوکھلایا ہو اہے ۔اور چین ساغر میں ہندوستانی فوجیوں کے جنگی بیڑے کی تعیناتی سے اس کی نید اُڑ گئی ہے ۔بھارت حالانکہ پوری کوشش کر رہا ہے کہ فوجی کوششوں اور سفارتی کوششوں سے الگ آگے نہ بڑھ پاے اور جنگ کی نوبت نہ آئے لیکن چین کے ارادے کچھ اور ہی ہیں ۔ (انل نریندر)

الہٰ آباد ہائی کورٹ کے حکم سے ڈاکٹر کفیل کو رہائی مل ہی گئی

الہٰ آباد ہائی کورٹ نے گورکھپور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج میں پروفیسر ڈاکٹر کفیل خان پر لگا این ایس اے اور اسے بڑھانے کے حکم کو ناجائز قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا ہے۔شہریت ترمیم قانون کو لے کر علیگڑھ میں اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزام میں ڈاکٹر کفیل خان کو این ایس اے کے تحت پچھلے سال مہینے سے متھرا جیل میں بند رکھا ہو ا تھا الہٰ آباد ہائی کورٹ نے الزامات کو منسوخ کرنے کے ساتھ علیگڑھ ضلع مجسٹریٹ کی کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا چیف جسٹس گووند ماتھر جسٹس سوم متر دیال سنگھ کی بنچ نے منگل کو کہا کہ ڈاکٹر خان کی تقریر نفرت یا تشدد کو بڑھاوا نہیں دیتی اس تقریر میں قومی یکجہتی اور شہریوں سے اتحاد کی اپیل کی گئی تھی ہائی کورٹ نے ڈاکٹر خان کی والدہ نزہت پروین کی جانب سے داخل عرضی پر یہ فیصلہ سنایا یوپی پولیس نے ڈاکٹر خان کو سی اے اے ،این آر سی ،اور این پی اے کے احتجاج کے دوران اے ایم یو میں 13دسمبر2019کو بڑھکیلی تقریر کرنے کے الزام میں اس سال جنوری میں ممبئی سے گرفتار کیا گیا تھا اس کے بعد علیگڑھ ضلع کلکٹر نے نفرت پھیلانے کے الزام میں یہ ڈاکٹر کفیل پر این ایس اے کی کارروائی کی جس کے بعد پولیس نے فوری 2020کو انہیں گرفتار کیا ۔انہیں تب سے متھرا جیل میں رکھا ہوا تھا ۔ہائی کورٹ کے حکم کو سپا ،بسپا ،اور کانگریس نے یوگی آدتیہ ناتھ سرکار کے منھ پر قرارہ تمانچہ مارا ہے ۔سپا نے کہا کہ ڈاکٹر کفیل کی رہائی کچلنے اور ظلم کے منھ پر تمانچہ ہے ۔حاکم بھول جاتے ہیں کہ عدالت انصاف کے لئے کھلی ہے ۔کانگریس جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا کہ امید ہے کہ سرکار اب ان کو جو ٹارچر کیا گیا اور دوسری تنخواہیں روکی گئی ہیں بلا تاخیر انہیں بحال کر ے گی ۔خود ڈاکٹر کفیل نے کہا کہ میں یوگی سرکار کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ مجھے انہوںنے زندہ چھوڑ دیا ۔ (انل نریندر)

03 ستمبر 2020

وزارت خارجہ میں جاسوسی جال بچھانے میں لگا تھا !

جموں کشمیر پولیس سے معطل ڈی ایس پی دیوندر سنگھ کو اس کے پاکستانی آقاو¿ں نے جاسوسی سرگرمیوں کے لئے وزارت خارجہ میں روابط قائم کرنے کا کام سونپا تھا دہشت گرد تنظیم حزب المجاہدین کو مدد مہیا کرانے پر این آئی اے نے دیورند ر سنگھ کے خلا ف اپنی چارشیٹ داخل کی جموں کی اسپیشل عدالت کے سامنے پیش ایجنسی کی چارشیٹ کے مطابق دیوندر سنگھ پاکستانی ہائی کمیشن میں اپنے آقا کے رابطے میں تھا جسے بعد میں اسلا م آباد بھیج دیا گیا ۔دیوندر سنگھ جموں کشمیر پولیس کی اینٹی ہائی جیکنگ یونٹ میں تعینات تھا اس کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں روک تھا م قانون اور آئی سی سی کی مختلف دفعات کے تحت 3064پیج کی چارشیٹ داخل کی گئی ہے ۔اس میں دہشت گرد تنظیم کے دہشت گردوں کو پناہ دینے میں پولیس افسر کی تفصیل بھی رکھی گئی ہے ۔اس نے پاکستانی ہائی کمیشن میں اپنے رابطے کا نمبر پاک بھائی کے نام سے سیو کر رکھا تھا اس کا رابطہ اسے فورسز میں تعیناتی اور کشمیر وادی میں اہم شخصیتوں کی آمد و رفت سمیت کئی کاموں کی ذمہ داری دیتاتھا ۔ہذب المجاہدین کے تئیں اپنی وفاداری رکھانے کے بعد پاکستانی آقا نے وزار ت خارجہ میں رابطہ قائم کرنے کو کہا تاکہ وہاں سے جاسوسی شروع کر سکے ۔حالانکہ سنگھ کو پاکستانی سفارت خانہ کے حکام کے ناپاک منصوبوں کو پوراکرنے میں کامیابی نہیں ملی اور جولائی کے پہلے ہفتہ داخل چارشیٹ میں سنگھ اور دیگر پاکستانی دہشت گردوں اور دہلی میں پاکستان ہائی کمیشن کے افراد کی مدد سے بھارت کے خلاف جنگ چھیڑنے کا الزام لگایا گیا ہے ۔چارشیٹ میں ہذب المجاہدین کے خود ساختہ کمانڈر سید نوید مشتاق عرف نوید بابو اس کے بھائی سید عرفان احمد کے ساتھ گروپ کے ورکر وغیرہ کے نام شامل ہیں ۔سازش کی تفصیل بتاتے ہوئے این آئی اے نے الزام لگایا ہے پولیس ڈی ایس پی دیوندر سنگھ شوشل میڈیا کے ذریعے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے کچھ افسران کے ساتھ رابطے میں تھا جانچ سے پتہ چلا ہے کہ حساس اطلاعات حاصل کرنے کے لئے پاکستانی حکا م نے اسے تیار کیا تھا ۔معاملے کی جانچ میں سامنے آیا پاکستانی ادارے ہذب المجاہدین کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کو بنائے رکھنے کے سلسلے میں پیسہ اور ہتھیار دینے سے لیکر سبھی ممکن طریقے اپنا رہاتھا ۔دیوندر سنگھ کو نوید بابو راٹھوراور میر کے ساتھ اس سال 11جنوری کو گرفتار کیا گیاتھا ۔وردی میں ایسے دیش کے غدار کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے ۔ (انل نریندر)

پرنب دا کا جانا !

سابق صدر پرنب مکھرجی کے ندھن کے ساتھ ہندوستانی سیاست کے ایک دور کا خاتمہ ہوگیا ۔ان کی موت پرانی پیڑھی کے ایک ایسے قد آور سیاست داں کی نا قابل بھلانے والی ہے ۔جن کے سیاسی اشتراک کو آسانی سے بھلایا نہیں جا سکتا ۔اپنی خوبی اور سادگی اور دور اندیشی و جمہوری برتاو¿ کے نظریہ سے وہ جو خلاءچھوڑ گئے ہیں اس کو پر کرنا ناممکن ہے ۔چھ دہائی سے زیادہ سیاسی کیرئیر میں پرنب مکھرجی نے اندرا گاندھی سے لیکر منموہن سنگھ سرکار (راجیو گاندھی کو چھوڑ کر )تک میں کام کیا ۔ان سبھی وزرائے اعظم کے دور میں وہ اہم رول میں رہے ہیں ۔بہترین سیاسی سوجھ بوجھ اور آئین پر پکڑ مشکل حالات سے نمٹنے میں سمجھداری کے چلتے وہ وقتا و فوقتاً کانگریس کے لئے سنکٹ موچک ثابت ہوئے ۔پرنب مکھرجی کا دیہانت فوجی اسپتال میں ہوا ۔ان کو کورونا ہوگیا تھا ۔جس وجہ سے دس اگست کو بھرتی کرائے گئے ان کے دماغ کا آپریشن بھی ہوا تھا ۔حالت بگڑنے پر انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا بعد میں پھیپھڑوں کے انفیکشن کی وجہ سے انہیں بجلی کے شاٹ بھی لگائے گئے اس سے بلیٹ پریشر نے کام کرنا بند کر دیا ۔اور آکسیجن ملنی بند ہوجاتی ہے ۔سورگیہ کچھ دنوں سے وہ بیماریوں سے جس طرح لڑتے رہے وہ ان کی ہمت کا حصہ ہی تھا ۔1968-69کے دوران کانگریس سیاست میں جڑنے والے پرنب دا نے عام زندگی میں نا صرف لمبا سفر طے کیا بلکہ 2012میں صدر بننے سے پہلے وہ وزارت داخلہ کو چھوڑ کر ڈیفنس خارجہ وغیرہ ذمہ داریاں سنبھال چکے تھے ۔اس سے گریز نہیں کیا جاسکتا کہ وہ ایک اچھے وزیر اعظم بھی ثابت ہو تے اگر انہیں موقع دیا جاتا مگر سیاست کا کچھ کھیل ایساہی تھا 1984میں پہلی بار ابدرا گاندھی کے قتل اور اس کے بعد 2004میں یو پی اے کے اقتدار میں آنے پر وہ وزیر اعظم بنتے بنتے رہ گئے ۔اپنے لمبے سیاسی اشتراک میں انہوں نے مرکزی وزیر اور اپوزیشن لیڈر کے ساتھ ساتھ صدر کی شکل میں جس لگن اور ایمانداری سے کام کیا وہ نیک پیڑی کے نیتاو¿ں کے لئے ایک مثال ہے ۔اپنے سیاسی تجربہ اور ٹیلنٹ کے نتیجہ سے انہیں وزیر اعظم کے عہدے کے لئے بہتر مانا گیا ۔لیکن انہیں نہیں بنایا گیا وہ فیصلے لینے کے لئے بھی جانے جاتے تھے مشکل سے مشکل حالات میں وہ سامنا کرنے کے لئے بھی آگے کھڑے ہوتے تھے بیشک پرنب دا کوئی مائنڈٹ والے نیتا بھلے نہیں تھے لیکن ان میں آئینی تقاضوں اور پارلیمانی سیاست کی گہری سمجھ تھی ۔حقیقت میں تاریخ ان کے کاموں کو ہمیشہ یاد رکھے گی ۔ایک ایسے سیاست داں کی شکل میں یاد کریگا ۔جس کی زندگی پوری طرح سے سادگی اور ہندوستانیت سے لبریز تھی ان کے انہیں اقتدار کو بنائے رکھنا انہیں سچی شردھانجلی ہوگی ۔ (انل نریندر)

02 ستمبر 2020

عمران سرکار کے لاڈلے جنرل کی کروڑوں کی املاک!

مالی مشکل سے لڑ رہے پاکستان میں ایک ویب سائٹ نے پاکستانی فوج کے سابق جنرل عاصم سالم باجوا کو لے کر بڑا انکشاف کیا ہے ۔فوج میں رہنے کے دوران سے اب تک 99کمپنیاں اور 133ریسٹورینٹ بنا لئے ہیں ان کا عربوں کا کاروبار ہے ۔جو پاکستان امریکہ،یو اے ای،کناڈا میں پھیلا ہوا ہے ۔باجوا کے اس کام میں ان کا خاندان بھی شامل تھا ۔باجوا پاکستانی فوج کے ترجمان تھے ۔بعد میں ریٹائر ہونے پر چین سے قریبی کو دیکھتے ہوئے انہیں پاکستان اکنامک کوریڈور پروجکٹ کا چیرمین بنا دیا گیا باجوا چھ بھائی اور تین بہنیں ہیں ۔کورونا دور میں اس انکشاف کے بعد پاکستان میں کھلبلی مچ گئی ہے ۔پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان پر جنرل باجوا کو ہٹائے جانے کے لئے دباﺅ بڑھتا جا رہا ہے ۔ایک اور ویب سائٹ فیکٹ فوکس نے جب یہ خلاصہ کیا اس کے تھوڑی دیر بعد یہ ویب سائٹ ہیک ہو گئی حالانکہ تھوڑی دیر بعد میں اسے ٹھیک کر لیا گیا ،جیسے جیسے فوج میں عاصم باجوا کا قد بڑھتا گیا ان کا اور ان کے خاندان کا قد بھی بڑھتا گیا ۔ویسے باجوا نے اپنے حلف میں کہا تھا کہ ان کی بیوی پاکستان کے باہر کوئی بجنس نہیں کرتی لیکن اصلیت اس کے الٹا نکلی باجوا اس وقت سی پی ای سی جے چیرمین ہیں جس کے تحت چین عربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے ۔اسی سال جنرل عاصم اس وقت کے چیف پرویز جنرل مشرف کے پاس ایل جی کرنل کے شکل میں تعنیات تھے ۔باجوا کے خاندان نے 5کروڑ 22لاکھ ڈالر یعنی قریب382کروڑ روپئے اپنے بجنس کو بنانے میں خرچ کیا ساتھ ہی ایک کروڑ 45لاکھ ڈالر امریکہ میں پراپرٹی خریدنے میں خرچ کیا ۔ (انل نریندر)

پانچ دن میں ختم ہوگا پانچ ماہ کا انتظار!

آخر کار ان لاک4میں میٹرو کا لاک ڈاﺅن ختم ہونے والا ہے ،اور 169دن بعد ا س کے پھر سے چلنے کی اچھی خبر آئی ہے ۔یہ 7ستمبر سے شروع ہونے جا رہی ہے میٹرو کے نہ چلنے سے لاکھوں لوگ بری طرح سے پریشان ہوئے ہیں ۔بسوں کا تو اتنا انتظام نہیں ہو سکا اور دہلی کی جنتا کا آنا جانا بری طرح سے متاثر ہو اہے میٹرو کا چلن مرحلے وار طریقے سے یعنی محدود مسافروں کے ساتھ ہوگا اگر یہ سسٹم کامیاب رہتا ہے تو مسافروں کی تعداد بڑھائی جائے گی ۔مرکزی شہری وزارت کی جانب سے توسیع میں ایس او پی جاری کی جائے گی ڈی ایم آر سی کے لئے ایک بڑی راحت دینے والی خبر ہے لیکن اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ آپ پہلے کی طرح آسانی سے میٹرو میں سفر کر سکیں گے اور کہیں بھی آجا سکیں گے تو ایسا نہیں ہے شروعات میں ہر کسی کو میٹرو میں سفر کرنے کی اجازت شاید نہیں ملے گی ۔وہیں میٹرو کا چلن بھی محدود رہے گا ۔میٹرو سروس شروع کرنے کی منظور پر دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے بھی خوشی ظاہر کی ہے ۔میٹرو میں سب سے بڑی چنوتی اسٹیشنوں پر بھیڑ نہ بڑھنے دینے کی ہوگی اس کے لئے کئی تبدیلیاں کی گئی ہیں ۔پہلا 671میٹرو اسٹیشن انٹری میں سے محض 38فیصدی یعنی 257انٹری گیٹ کھلیں گے اگر میٹرو کو لگا اسٹیشن پر بھیڑ ہے تو فوراََ لوگوں کی انٹری کو روکا جا سکتا ہے اس لئے اسپیشل ڈیوٹی پر ملازم تعنیات رہیں گے میٹرو کا محصول کا اہم ذریعہ میٹرو کا چلانا ہے کیونکہ میٹرو بند ہونے سے اس کا مالی گھاٹہ بڑھتا جا رہا تھا لاک ڈاﺅن کے چلتے میٹرو کے سامنے قرض چکانے کی چنوتی تھی ۔میٹرو نے مالی تنگی کے چلتے اگست سے میٹرو ملازمین کی تنخواہ بھی کاٹنے کا فیصلہ لیا تھا میٹرو چلن سے جہاں مسافروں کو تھوڑی راحت ملے گی وہیں خسارے میں بھی کمی آئے گی لاکھوں میٹرو مسافروں کے لئے یہ راحت بھری خبر ضرور ہے ۔ (انل نریندر)

کانگریس میں لیٹر بم تنازعہ بڑھتا جا رہا ہے!

کانگریس میں پارٹی صدر سونیا گاندھی کو ناراض نیتاﺅں کی طرف سے دئے گئے خط پر تنازعہ بڑھتا جا رہا ہے ۔پارٹی لیڈر شپ اس بات کو لے کر ناراض ہے کہ سی ڈبلیو سی کی میٹنگ میں اس مسئلے پر وسیع تبادلہ خیال ہو ا تھا تو اس کے بعد خط لکھنے والے نیتا پبلک اسٹیج پر پھر کیوں باتیں اُٹھا رہے ہیں ؟پچھلے کچھ دنوں سے جس طرح غلام نبی آزاد نے کئی ٹی وی چینلوں کو انٹر ویو دیئے اور کپل سبل ششی تھرور اور منیش تیواری سوشل میڈیا پر مسلسل انہیں باتوں کو دہرا رہے ہیں جن کو خط میں لکھا گیا تھا اس سے کانگریس کے کان کھڑے ہوئے ہیں انٹر ویو میں کہا تھا کہ پارٹی کے بڑے عہدوں کے لئے چناﺅ نہیں کرائے گئے تو کانگریس اگلے پچاس سال تک اپوزیشن میں ہی بیٹھے گی اور چنندہ لوگوں کے پاس صدارتی عہدہ رہنے سے پارٹی میں اُٹھی ناراضگی کی لہر خطرناک ہو سکتی ہے ۔پارٹی اس طرح کی پبلک اسٹیج سے آواز اُٹھانے کو ڈسیپلن شکنی کی لکشمن ریکھا پار کرنے کی شکل میں دیکھ رہی ہے ،نہرو خاندان کے وفاداروں کا کہنا ہے کہ پارٹی کی سپریم پالیس ساز کمیٹی میں جن باتوں کو رکھا گیا ان کو بار بار دہرانے کا مطلب پارٹی لیڈر شپ پر دباﺅ بنانے کی حکمت عملی ہے ۔اُدھر خط لکھنے کے طور طریقوں سے ناراض پارٹی کا ایک بڑا طبقہ باغیوں کے غلاف سامنے آگیا ہے ۔اور کارروائی کی مانگ کر رہا ہے ۔دوسری طرف کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ کے بعد رد و بدل کو لے کر ناراض نیتاﺅں کی دھڑکنیں تیز ہیں ۔پارٹی نیتاﺅں اور ورکروں کو سب سے زیادہ غصہ راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد کو لے کر ہے ۔یوپی سمیت کئی ریاستوں کے نیتا ان کے خلاف کھڑے ہو گئے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ آزاد نے کانگریس کے لئے کوئی سنگھرش نہیں کیا ۔اور خود مسلسل 23سال تک سی ڈبلیو سی میں نامزد ہوتے رہے ہیں اور اب چناﺅ کی بات کر رہے ہیں ۔پارٹی صدر کو لکھے خط اور سی ڈبلیو سی کے چناﺅ کو راہل گاندھی کی مخالفت کے طور پر دیکھ رہے ہیں ۔راہل گاندھی نے دوبارہ راجیہ سبھا میں نہیں بھیجیں گے اس لئے وہ ان کی واپسی کی مخالفت کر رہے ہیں حالانکہ خط لکھنے والے نیتا بار بار کہہ رہے ہیں کہ وہ گاندھی پریوار کے خلاف نہیں ہیں ۔کانگریس صدر سونیا گاندھی نے صاف کر دیا ہے کہ سبھی مسئلوں پر ایک پریوار کی طرح غور و خوض ہوا ہے اب ہمیں آگے چلنا ہے ۔اس کے بعد ہی اگر کوئی سرخیوں میں بنے رہنے کے لے اس مسئلے پر با ت کرتا ہے تو یہ اس کی اپنی پسند ہے ،اُدھر خط لکھنے کے طور طریقوں سے ناراض کانگریس لیڈر شپ نے خط مہم کی رہنمائی کرنے والے نیتاﺅں کو الگ تھلگ کرنے کی حکمت عملی پر کام شروع کر دیا ہے ۔ان لوگوں کو ایک کے بعد ایک جھٹکے دئے جا رہے ہیں ۔لیکن لیڈر بم تنازعہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔ (انل نریندر)

01 ستمبر 2020

بھارت پاک سرحد پر سرنگ!

پاکستان بھارت کے خلاف نئی نئی سازشیں رچنے سے باز نہیں آتا تازہ قصہ پاکستان سرحد پر لمبی سرنگ کا پتہ چلا ہے ۔جموں و کشمیر میں پاکستان سے لگی بین الا اقوامی سرحد پر بی ایس ایف نے 20فٹ لمبی سرنگ تلاش کر کے بڑی سازش کا پتہ لگایا ہے ۔حکام نے بتایا کہ بی ایس ایف کے جوانوں کو گشت کے دوران سرحدی علاقے پر باڑ کے پاس اس سرنگ کا پتہ چلا اس کا ایک سرا پاکستان میں دوسرا سرا بھارت میں ہے ۔یہ سرنگ تین سے چار فٹ چوڑی ہے اور 25فٹ گہرائی میں بنی ہوئی ہے ۔اس کے موہانے پر ریت کی بوریاں بھی ملی ہیں بی ایس ایف کے ڈائرکٹر جنرل این ایس جےوال نے موقع کا دورہ کیا اور بتایا کہ یہ سرنگ وہیل بیک سرحد چوکی کے قریب کھلتی ہے ۔حال ہی میں بارش کے بعد کچھ علاقوں میں زمین دھنسنے سے بی ایس ایف کو اندیشہ ہو اتھا اور سرنگ کا پتہ لگانے کے لئے فوراََ مشین منگائی ۔یہ سرنگ زیر تعمیر تھی اور اس کا استعمال ممکنہ گھس پیٹھیوں کو بھیجنے میں اور نشیلے سامان و ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے لئے کیا ہوگا سرنگ کا پکڑنا بی ایس ایف کا یہ شاندار کارنامہ ضرور ہے ۔ (انل نریندر)

جاپان کے پی ایم رہے شنزو آبے کا استعفیٰ!

جاپان میں طویل عرصے تک وزیر اعظم رہے اور مقبول لیڈر شنزو آبے نے اپنے استعفیٰ کا اعلان کر کے چونکا دیا ہے ان کی دلیل ہے کہ وہ ایک پرانی بیماری کے دوبارہ پیدا ہو جانے کے چلتے استعفیٰ دے رہے ہیں ،وہ اسی ماہ اچانک بیمار پڑ گئے تھے جب وہ چھٹی لے کر اسپتال میں بھرتی ہوئے تو انہیں آنت کی بیماری تھی ان کے اس اعلان سے دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت کی قیادت کو لے کر دوڈ دھوپ شروع ہو جائے گی ۔65سالہ آبے نے کہا کہ اب ان کا پھر سے علاج جاری ہے اور با قاعدہ نگرانی کی ضرورت ہے ۔میں لوگوں کی توقعات کو پورا کرنے میں اہل نہیں ہوں اس لئے فیصلہ کیا کہ پی ایم کا عہدہ چھوڑ دوں حکمراں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی جب تک ان کے جانشین نہیں چنتی تب تک وہ اپنی ذمہ داری نبھاتے رہیں گے ۔شنزو کی طبیعت پچھلے کئی ہفتوں سے خراب ہے ۔جاپان میں سب سے لمبے عرصے تک وزیر اعظم رہ کر آبے نے جاپان کی معیشت سے لے کر خارجہ پالیسی تک جو حوصلہ افزا قدم اُٹھائے انہیں لمبے عرصے تک ضرور یاد کیا جائے گا ۔گھریلو سطح پر مانگ بڑھائی گئی اور اقتصادی اصلاحات کی گئی اور مانیٹری پالیسیوں کو آسان کیا گیا ۔جس سے جاپان کو فائدہ پہنچا،آبے نے عالمی پس منظر پر بھی برکس کے طور پر انہیں یاد کیا جائے گا آئین کے آرٹیکل نو میں جس کے تحت جاپان صرف اپنی حفاظت کےلئے فوج رکھ سکتا ہے ۔وسائل کی کوشش ان کی سب سے بڑی اہم کوشش تھی وہ بے شک کامیاب نہیں ہوئے لیکن سیلف ڈیفنس فورس کو زیادہ طاقتور بنانے کے نشانے کو ضرور حاصل کیا ڈیفنس معاملے میں جاپان خود کفیل اور طاقتور بننے کی سمت میں یہ بڑا قدم تھا خارجہ پالیسی کے سیکٹر میں آسیان ،بھارت اور آسٹریلیا سے بہتر تعلقات بنانے کی ان کی پالیسی کو چین کا دبدبہ قائم رکھنے کےلئے دیکھا گیا ۔شنزو آبے کا بھارت سے رشتے بڑھانے میں کافی اشتراک رہا ہے ۔انہوںنے 2007میں امریکہ اور بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان سمندری جنگی ریہرسلوں کےلئے سمجھوتے کی شروعات کی ۔وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ بھی ان کی اچھی دوستی رہی ۔2014میں پی ایم مودی نے جاپان اور 2015میں آبے نے بھارت کا دورہ کیا تھا وزیر اعظم نے شنزو آبے کی خراب طبیعت پر دکھ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی لیڈر شپ کے چلتے بھارت جاپان ساجھیدار ی پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئی ہے پی ایم مودی نے ٹوئٹ کے ذریعہ ان کی جلد صحتیابی کی پراتھنا کی ہے ۔شنزو آبے 2016میں ریلو اولمپک کے اختتامی تقریب میں سپر ماریو کی شکل میں مقبول ہوئے تھے لیکن اب کورونا کی وجہ سے منقل ہوئے 2020کے اولمپک نے اب وزیر اعظم آبے شاید ہی طبیعت کی وجہ سے شرکت نہ کرسکیں گے ۔ (انل نریندر)

حکومت آربی آئی کی آڑ لے کر ذمہ داری سے نہ بچے!

کورونا وبا کے درمیان ای ایم آئی کی ادائیگی میں مہلت کے اعلان سے قرض داروں سے راحت محسوس کی تھی اور سرکار نے بھی ایسا کر کے واہ واہی لوٹی تھی ۔اس مہلت کی معیاد ختم ہونے والی ہے ابھی سرکار سود کے معاملے پر اپنا موقوف نہیں بتایا سپریم کورٹ نے اس مسئلے کو بار بار ٹالنے پر مرکزی حکومت کو جھاڑ پلائی اور پانچ دن میں جواب مانگا ہے ۔جسٹس اشوک بھوشن اور آر سبھاش ریڈی اور مکیش کمار شاہ کی بنچ نے مرکزی سرکار کو 31اگست تک حلف نامہ دائر کرنے کی ہدایت دی ہے ۔اور سماعت کی تاریخ منگل کو مقرر کر دی ہے ۔عدالت نے صاف الفاظ میں کہا کہ آر بی آئی کی آڑ لے کر سرکار ذمہ داری سے نہیں بچ سکتی بنچ کا کہنا تھا کہ بحران آپ کے ذریعہ لگائے گئے لاک ڈاﺅن سے کھڑا ہو اہے ۔اور اسے آپ کو ختم کرنا ہوگا۔اور آپ کا موقوف آر بی آئی کا نظریہ دکھاتا ہے ۔اس پر سرکاری وکیل تشار مہتا نے کہا کہ عدالت کے ایسے ریمارکس سے سرکار کے خلاف غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں جبکہ سرکار آفت مینجمٹ ایکٹ کے تحت ضروری گائڈ لائن جاری کر چکی ہے ۔عدالت کا کہنا ہے کہ ایسا ہے تو سرکار کو اپنا موقوف صاف کرنا چاہیے ۔دراصل عرضی گزار کے وکیل کپل سبل نے 31اگست کو ختم ہوئی موروٹوریم معیاد آگے بڑھانے کی مانگ کی کورونا اور لاک ڈاﺅن کی وجہ سے آر بی آئی نے 27مارچ کو قرض کی ای ایم آئی کی تین مہینے کی سہولت دی تھی پھر اس میں تین ماہ توسیع کر کے 31اگست تک کر دی گئی آر بی آئی کا کہنا تھا کہ قرض کی قست چھ مہینے نہیں چکائیں گے تو اسے ڈیفالٹر نہیں مانا جائے گا اس سے پہلے آر بی آئی کی طرف سے کہا گیا تھا کہ اسے 133کروڑ دہندگان کی فکر ہے اگرسودنہ لیا گیا تو اس کا نا مناسب اثر پڑے گا جنہوں نے پہلی بار اس سہولت کا فائدہ نہیں اُٹھایا تو وہ دوسری بار اس متبادل کو بھنا کر صنعتوں کے لاکھوں کروڑ کے ڈوبتے قرض کو سرکار اور بینک برداشت کرتے آئے ہیں وبا کے دور میں عام آدمی کو معمولی راحت دینے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے ۔ (انل نریندر)

31 اگست 2020

رنجن گوگوئی ہو سکتے ہیں وزیر اعلیٰ کے عہدے کے امیدوار؟

کانگریس کے سینئرلیڈر ترون گوگوئی نے دعویٰ کیا ہے آیودھیا زمین تنازعہ سمیت مختلف اہم معاملوں میں فیصلے دینے والے سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی اگلے سال آسام میں ہونے والے اسمبلی چناو¿ میں بھاجپا کی طرف سے وزیر اعلیٰ کے امید وار ہو سکتے ہیں ۔حالانکہ تین بار وزیر اعلیٰ رہ چکے ترون گوگوئی کے دعووں کی بھاجپا نے تردید کی ہے ۔اور کہا کہ ان کو رجیہ سبھا میں نامزد کیا ہے ۔میں نے کئی ذرائع سے سنا ہے کہ رنجن گوگوئی وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لئے دعویداروں کی لسٹ میں ہیں ۔کانگریس نیتا نے دعویٰ کیا سابق وزیر اعلیٰ گوگوئی کے لڑکے رنجن گوگوئی آسانی سے انسانی حقوق کمیشن و دیگر کمیشن کے چئرمین ہو سکتے ہیں ۔بھاجپا ایودھیا زمین تنازعہ کے نپٹارے سے رنجن گوگوئی سے خوش تھی ۔اگر وہ بھاجپا کی طرف سے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے امیدوار کے لئے راضی ہو جاتے ہیں تو یہ تعجب خیز نہیں ہوگا ۔حالانکہ پردیش صدر رندیپ کمار داس نے کہا لوگ جب بزرگ ہو جاتے ہیں تو کئی بے مطلب کی چیزیں بولتے ہیں ۔ترون گوگوئی نے سابق چیف جسٹس بھاجپا کے مکھیہ منتری امید وار بننے کے بارے میں جو کچھ کہا وہ سچ نہیں ہے ترو ن گوگوئی نے کہا کہ وہ کانگریس کے وزیر اعلیٰ عہدے کے امیدوار نہیں بننے جارہے ہیں ۔ (انل نریندر)

پلوامہ حملہ :این آئی اے نے داخل کی چارشیٹ !

پلوامہ میں 14فروری 2019کو سی آر پی ایف قافلے پر ہوئے خود کش حملے کے ماسٹر مائنڈ جیش محمد کے سرغنہ مسعود اظہر اور اس کا بھائی رو¿ف اظہر تھے حملے میں 200کلو دھماکو سامان کا استعمال کیا گیا تھا اس میں 35کلو آرڈی ایکس تھا جو پاکستان سے لایا گیاتھا ۔این آئی اے کی چارشیٹ میں پڑوسی دیش کی سازش کا انکشاف کیا گیا ہے ۔ایجنسی نے منگل کے روز جموں کی اسپیشل عدالت نے حملے کے ڈیڑ ھ سال بعد ساڑے تیرہ ہزار صفحات کا چارشیٹ سماعت کے لئے قبول کر لیا ۔سولہ مہینے کی جانچ کے بعد مسعوواظہر سمیت 19آتنکی ملزم بنائے گئے ہیں ۔14فروری 2019کو آتنکی حملے میں سی آر پی ایف کے چالیس جوان شہید ہوئے تھے مقدمہ کی سماعت پہلی ستمبر سے شروع ہوگی ۔این آئی اے نے دعویٰ کیا کہ پلوامہ حملے کے فوراً بعد جیش محمد ایک اور آتنکی حملے کی تیاری میں تھا لیکن بالا کوٹ ائیر اسٹرائک کو دیکھتے ہوئے اس نے حملہ روک دیا ۔چارشیٹ کے مطابق اب مسعود اظہر نے عمر فاروق کو پیغام بھیج کر حملہ نہ کرنے کو کہا تھا اس کے ڈیڑ ھ مہینے بعد فاروز مڈبھیڑ میں مارا گیا ۔پلوامہ حملہ جیش محمد کی ایک سوچی سمجھی بڑی سازش کا نتیجہ تھا جس کا تانا بانا حملے سے دو سال پہلے ہی بناجا رہاتھا ۔اس کے لئے باقاعدہ دہشت گردوں کو ٹریننگ لینے کے لئے افغانستا ن بھیجا گیا ۔طالبان آتنکی کیمپ میں دھماکہ کرنے کی ٹریننگ دی گئی ۔شاکر ،بشیر وغیرہ نے دہشت گردوں کی مد د کی تھی شاکر نے اپنے گھر میں ان دہشت گردوں کو پناہ دی تھی اور مدثر احمد خاں کے آتنکی نے شاکر کو بارودی چھڑیں بچھانے کو دیں ۔جنوری 2019میں سجاد احمد منڈو نے ایکو کار خریدی اسے شاکر ،بشیر کے گھر رکھا گیا ۔بارود کے دو بیگ بنائے گئے ایک افسر نے بتایا تھا جانچ ایجنسی کے سامنے سب سے بڑی چنوتی کار کا مالکانہ حق ثابت کرنا تھا ۔دھماکہ کے بعد گاڑی کے پرکچھے اڑ گئے تھے اور سیرئیل نمبر کے آخری دو نمبر بھی ٹوٹ گئے ۔حلہ آور عادل کی پہچان بھی ڈی این اے پروفائلنگ کے ذریعے ہوئے جیش کے ترجمان محمد حسن نے ایک ویڈیو میں حملے کی ذمہ داری لی تھی اس کا آر پی ایڈرس پاکستان میں پتہ لگا ۔پلوامہ کے حملہ آوروں کی کس کس نے مدد کی تھی اگر پلوامہ حملے میں مسعود اظہر پر لگے الزامات صحیح ثابت کئے جا سکیں تو پاکستان پر نئے سرے سے دباو¿ بنانے میں کامیابی ملے گی مناسب رہے گا دہشت گردانہ واقعات سے جڑے معاملوں کی سماعت ایک طے میعاد کے اندر ہو جس کے لئے صرف قومی جانچ ایجنسی کے ساتھ ساتھ ان عدالتوں کو بھی تیزی دکھانی ہوگی جن پر ایسے معاملوں کی سماعت کی ذمہ داری ہے دیکھیں عدالت میں این آئی اے کتنا کچھ ثابت کر سکتی ہے ۔ (انل نریندر)

سڑک پر صحافی کی لاش رکھ کر مظاہرہ !

اتر پردیش کے جنگل راج میں ایک اور صحافی غنڈوں کے ہاتھوں شہید ہوگیا ۔بلیا میں پیر کی دیر شام ایک چینل کے صحافی رتن سنگھ کو گولی مار کر ہلاک کر دیاگیا ۔پولیس نے بدمعاشوں کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن وہ بھاگ نکلے ۔ایس پی دیوندر ناتھ سمیت کئی اعلیٰ افسر تحقیقات میں مصروف ہیں اب تک چھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ یوگی نے صحافی کے رشتہ دار کو دس لاکھ روپئے کی مالی مدد دینے کا اعلان کیا ہے ۔اعظم گڑھ کے ڈی آئی جی چند ردوبے نے بتایا کہ معاملے میں دس لوگوں کو ملزم بنایاگیا ہے ۔باقی لوگوں کی تلاش جاری ہے واضح ہو صحافی رتن سنگھ گاو¿ں میں کسی کے یہاں مل کر پیدل گھر واپس جارہے تھے تبھی کچھ لوگوں نے ان پر فائر کر دیا ۔جان بچانے کے لئے گاو¿ں کے پردھان کے گھر میں گھس گئے لیکن حملہ آوروں نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا اور ان پر تین گولیاں ماری۔ جس سے رتن سنگھ کی موقع پر ہی موت ہو گئی ان کے قتل کے ناراض دیہاتیوں اور صحافیوں نے منگل کو لاش سڑک پر رکھ کر مظاہر ہ کیا اورتین گھنٹے تک جام کر دیا ۔اس دوران انتظامیہ نے پانچ لاکھ کی فوری امداد اور متوفی کی بیوی کو فوری نوکری دینے کا اعلان کیا تھا ۔تھانہ انچارج کو معطل کر دیا گیا ہے تمام نیتاو¿ں نے پریوار کو پچا س لاکھ روپئے کا معاوضہ اور بیوی کو سرکار ی نوکری اور ملزمان پر نیشنل سکیورٹی ایکٹ لگانے کے ساتھ ان کے گھر کو زمین دوز کیا جائے اور معاملہ فاسٹریٹ عدالت میں چلے ۔ہم سورگیہ رتن سنگھ کو اپنی شردھانجلی پیش کرتے ہیں ۔امید کرتے ہیں سورگیہ کی آتما کو شانتی ملے گی ۔ (انل نریندر)

30 اگست 2020

اب ڈئیزائن دار ماسک کا زمانہ ہے !

پچھلے کچھ عرصے سے کورونا وائرس سے بچنے کے لئے ماسک پہننے کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے اب وہ نئے فیشن ٹرینڈ کی شکل لیتا جا رہا ہے اور ماسک بنانے والے زمانے کے حساب سے نئے نئے ڈئزائن کے ماسک بنانے لگے ہیں آنے والے دنوں میں اس کی مانگ بڑھ جائے گی کیونکہ اب لیڈیز اب سوٹ کے ساتھ میچنگ والے ماسک بنوا رہی ہیں آج کل اس طرح کے جو ک سوشل میڈا پر کافی مقبول ہو رہے ہیں لیکن اب مذاق حقیقت میں بدل رہا ہے ۔ماہرین کے لئے آپ کا لک کیسا لگے سکھانے میں لگے ہوئے ہیں اس کی تازہ مثال پاکستان میں حال ہی میں دلہن کا ماسک لانچ کیا گیا ۔اور یہ ڈریس سے میچ کے ساتھ شیشے اور موتیوں سے بھی سجایا گیا ہے اب لوگ سیفٹی کے ساتھ اسٹائل بھی چاہتے ہیں اس لئے انہیں میچنگ ماسک پسند آرہے ہیں۔فیشن ڈئزائنگ کا کورس کرنے والی ایک عورت پرنجلی کہتی ہیں ماسک کو لے کر جتنا کمپین چل رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے لگ رہا ہے کہ آنے والے وقت میں شادی اور جنم دن جیسے موقعوں پر لو گ ڈئزائر لیبل فیس ماسک بھی استعمال کریں گے وہیں ایک بینک میں کام کرنے والی عورت کا کہنا ہے کہ جب ماسک روز ہی پہننا ہے تو میچنگ کر کے ہی پہننا پڑے گا ۔میں نے بھی چار سے پانچ ماسک تیار کئے ہوئے ہیں ۔ (انل نریندر)

لاک ڈاﺅن کے چلتے دو کنبے اور تباہ ہوئے!

لاک ڈاﺅن کی وجہ سے ہم نے دیہاڑی مزدوروں ،فیکٹری ورکروں اور چھوٹے کسانوں کے ذریعہ خود کشی کے بارے میں سنا اور پڑھا تھا لیکن ایک درمیانے طبقہ سے تعلق رکھنے والے پریوار بھی خود کشی کرنے پر مجبور ہوئے دہلی کے چاندنی چوک علاقے میں دو سکے جوہری تاجر بھائیوںنے فائنسل کے دباﺅ میں بدھوار کو دوپہر ایک ساتھ پھانسی لگا کر خود کشی کر لی ۔فائننسر کے باﺅنسر مسلسل ان کاروباری بھائیوں سے پیسہ مع سود لوٹانے کےلئے دباﺅ ڈال رہے تھے انہوںنے اپنی دوکان میں ہی راڈ کے سہارے دھوتی سے گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کر لی ان کے نام انکت گپتا اور ارپت گپتا ہے ان کی مالیواڑہ میں دکان ہے ۔پولیس کو موقع واردات سے ایک خودکشی نامہ ملا ہے جس میں مالی تنگی کے سبب خود کشی کی بات کہی گئی ہے ۔ڈی سی پی نارتھ مونیکا بھاردواج کے مطابق دونوں بھائی ایک ساتھ جوہری کا کام کرتے تھے اور بازار سیتا رام میں رہتے تھے دونوں بھائیوں نے جوہری کی دکان کھول رکھی تھی ارپک گپتا نے شادی نہیں کی تھی گھاٹے سے نکلنے کےلئے ان کے بھائیوںنے چاندنی چوک کے کسی جوہری سے 15فیصدی سود پر لاکھوں روپئے کا قرض لیا تھا قرض چکانے میں دیری ہوئی تو سود خور پچھلے تین مہینے سے ان کو پریشان کر رہا تھا اس کے باﺅنسر مار پیٹ بھی کر چکے تھے اس بات سے دونوں بھائی بہت دکھی تھی آخر کار دھمکیوں سے پریشان ہوکر بدھوار کی دوپہر دونوں بھائیوں نے کاٹر کے سہارے دھوتی ڈال کر پھانسی لگا لی فی الحال کوتوالی پولیس معاملے کی جانچ کر رہی ہے لاک ڈاﺅن سے پریشان دو اورپریوار بھی تباہ ہو گئے ہیں ۔ (انل نریندر)

دنیا بھر میں سب سے زیادہ کورونا کے مریض بھارت میں!

بھارت اُن ملکوں میں شامل ہو گیاہے جنہوں نے کورونا انفیکشن کی رفتار کو روکنے کے لئے سخت قاعدے نافذ کئے ،خاص طور سے لاک ڈاﺅن نافذ کرنے کے معاملے میں بھارت نے دوسرے دیشوں کے مقابلے زیادہ سختی اور احتیاط برطی لاک ڈاﺅن مارچ میں شروع ہو کر اب بھی جاری ہے اور اس کا اثر معیشت پر پڑنے لگا ہے ۔اب عام لوگوں کے سامنے روزی روٹی کی چنوتی کھڑی ہوجانے کے پیش نظر لاک ڈاﺅن میں مرحلے وار راحت دی جا رہی ہے ۔اور آہستہ آہستہ عام زندگی پٹری پر لوٹ رہی ہے لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اس نرمی کو انفیکشن نہ روکے جانے کی وجہ بھی مانا جانے لگا ہے ۔حالانکہ سچائی یہ ہے کہ سب سے زیادہ قاعدے لاگو کرنے کے باوجود کورونا کو روکا نہیں جا سکا ۔اب سو دنوں میں معاملے 35لاکھ کو پار کر گئے ہیں سوال یہ بھی ہے کہ جس دور میں ہر طرف کاروبار ی و صنعتی سرگرمیاں بند تھیں لوگ گھروں سے نہیں نکل رہے تھے آج حالت یہاں پہنچ گئی ہے دیش میں ایک دن میں ریکارڈ75ہزار 760مریض سامنے آگئے ہیں ۔یہ دنیا کے کسی بھی دیش میں ایک دن میں ملنے والے نئے مریضوں کا ریکارڈ بھی ہے ۔جمعرات کو دیش میں کل ایک دن میں وائرس کی وجہ سے 1023لوگوں کی جان گئی۔ اور مرنے والوں کی تعداد 60ہزار سے اوپر چلی گئی ہے اور مریضوں کی تعداد کے معاملے میں بھارت نے برازیل کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔اور دنیا میں دوسر ے نمبر پر آگیا ۔اس درمیان دہلی میں کوڈ کے پھر سے بڑھتے مریضوں کے بارے میں ایسپرٹ کا کہنا ہے کہ اگر یہ انفیکشن لوگوں کی لاپرواہی کی وجہ سے بڑھ رہا ہے تو یہ فکر کی بات ہے ۔ابھی اور زیاد ہ الرٹ رہنے کی ضرورت ہے ۔انسٹی ٹیوٹ آ ف لیور اینڈ بلیری سائنس کے ڈائیکٹر ڈاکٹر ایس کے سرین نے کہا کہ جس طرح دہلی میں پھر سے انفکیشن کے معاملے بڑھ رہے ہیں وہ بھلے ہی تشویش کی بات نہ ہو لیکن اس پر توجہ دینی ہوگی ۔دہلی کی آبادی میں ایٹی باڈیز اچھی طرح پیدا ہو گئی ہے اس لئے بہت زیادہ ڈرنے کی بات نہیں اور دس سے پندرہ دن میں کنٹرول کر لیا جائے گا ۔جانچ کا دائرہ بڑھانے سے انفیکشن کے مریضوں کی پہچان تو ہو سکتی ہے لیکن اس پر پوری طرح قابو پانے کا یہ اکیلا راستہ نہیں ہو سکتا توجہ دینے کی ضرورت ہے جب تک وبا کو لے کر لوگ خود چوکس نہیں ہوں گے تو وائرس کے توڑ کے اقدامات کو سنجیدگی سے نہیں لیں گے تب تک انفکیشن پر قابو پانا مشکل ہے ۔ (انل نریندر)

ایران-امریکہ ،اسرائیل جنگ : آگے کیا ہوگا؟

فی الحال 23 اپریل تک جنگ بندی جاری ہے ۔پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں لگا ہوا ہے ۔پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران م...