Translater

07 دسمبر 2019

لندن برج کا آتنکی حملہ آور پاکستانی نزاد تھا

برطانیہ کے مشہور لندن برج کے پاس گزشتہ جمعہ کو دوپہر میں آتنکی حملہ کیا گیا پہلے فائرنگ ہوئی بعد میں چاقو مارا گیا پولس نے موقعہ واردات پر ہی حملہ آور کو مار گرایا یہ ہے صحیح طریقہ دہشتگردوں سے پیش آنے کا نہ کوئی مقدمہ نہ کوئی عدالت کے چکر نہ کوئی مرثی رحم کی اپیل ،حملہ آور کی پہچان برطانیہ میں پیدا پاکستانی نزاد عثمان خان 28سال کی شکل میں ہوئی تھی خان کو سال 2012میں آتنکوادی سرگرمیوں میں قصور وار پاتے ہوئے سزا سنائی گئی تھی ،لیکن اسے 2018میں جیل سے رہا کر دیا گیا تھا ،خان پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں ایک مدرسہ کھول کر آتنک کی ٹرینگ کیمپ کرنا چاہتا تھا ،اس کے سابق اسکولی ساتھیوں نے دعوی کیا تھا کہ اسٹوک ٹرینر سے اسکول سے نکل جانے کے بعد عثمان کو آئی ایس آئی کے جھنڈے تلے نوجوانوں کو بھڑکانے کی کوشش کرتے ہوئے کئی بار دیکھا گیا تھا ۔آتنکی عثمان کے آباءو اجداد پاکستانی مقبوضہ کشمیر سے برطانیہ میں کچھ دہائی پہلے جا کر بس گئے تھے ،اس بات کا ذکر لندن کی پولس کراﺅن کورٹ کے اس فیصلے میں بھی ہے جس میں عثمان کو دہشتگرد کے سرگرمیوں کے سلسلے میں آٹھ سال کی سزا سنائی گئی تھی لندن برج پر ہوئے اس آتنکی حملے کی ذمہ داری اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس )نے لی ہے ۔حالانکہ آئی ایس کی طرف سے حملہ آور کے سلسلے میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا حالانکہ لندن برج وہی علاقہ ہے جہاں جون2017میں آئی ایس کے آتنکی حملے میں 11لوگ مارے گئے تھے حملہ آور نے نقلی دھماکو جیکٹ پہنی ہوئی تھی اس نے برج پر موجود جمع لوگوں خو دکو اُڑانے کی دھمکی دی تھی اس کے بعد پولس نے اسے گولی مار دی جس میں اس کی موت ہو گئی ۔لندن کے میر صادق خان نے لندن برج کے حملہ آور کو ختم کرنے والے لوگوں کا شکریہ ادا کیا ۔لندن پولس کے سربراہ میں حملہ آور کے مرنے کی تصدیق کی۔اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانس نے کہا کہ آتنکواد سنگین جرائم کے قصوروار لوگوں کے معاملے پر نظر ثانی کی بات سمجھ سے پرے ہے سنگین اور تشددپر آمادہ جرائم پیشہ کو جیل سے سزا پوری کرنے سے پہلے چھوڑنا غلطی ہے اور ہماری اس عادت کو چھوڑنا بہت اہم ہے ۔

(انل نریندر)

ملزم نتیآ نند اور اس کا کیلاس دیش

سیکس سی ڈی کانڈ میں سرخیوں میں آیا ساﺅتھ انڈیا کا متنازعہ دھر م گرو سوامی نتیآنند ایک بار پھر سرخیوں میں ہے ۔اس پر احمدآباد میں لڑکیوں کے اغو اسمیت کئی معاملے درج ہیں یہ بھی الزام ہے کہ واشروم چلانے کے لئے بچیوں کا اغوا کرتا تھا ،اور ان سے چندا وصولتا تھا سال 2010میں ایک سیکس سی ڈی سامنے آئی تھی جس میں تنیآنند ایک ساﺅتھ انڈین اداکار کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں دکھایا گیا تھا فورسنگ رپورٹ میں سی ڈی صحیح پائی گئی پولس نے اسے گرفتار کیا تھا اور قریب 52دن بعد اسے ضمانت ملی خود ساختہ سنت سوامی نتیآنند کے آشرم سے دو سگی بہنوں کو یرغمال بنا کر رکھنے کے الزام میں معاملہ درج کرنے کے بعد پولس اس کی تلاش میں تابڑ توڑ چھاپے مارے گئے ،اس کے بارے میں ابھی کوئی سراغ نہیں ملا ریپ کا الزام لگنے کے بعد سے فرار اس ڈھونگی بابا کے بارے اب بڑا خلاسہ ہوا ہے میڈیا رپورٹس میں دعوی کیا گیا ہے کہ نتیآنند نے ساﺅتھ امریکہ کے ایک دیش سے ایک آئی لینڈ خریدا ہے ،اس کو اس نے ایک آزاد دیش قرار دے دیا ہے ۔جس کا نام کیلاس رکھا گیا ہے ۔اس کے نام کی ایک ویب سائٹ بھی بنائی گئی ہے جس میں کیلاس کو ہندو راشٹر بتایا گیا ہے ،کیلاس کی ویب سائٹ کے مطابق یہ آئی لینڈ تری نداد اور ٹوبیکو دیشوں کے قریب ہے اس میں کسی ایک دیش کی طرح تمام سرکاری عہدوں پر لوگ مقرر کئے گئے ہیں ۔جیسے وزیر اعظم کیبنٹ ،وزیر ،فوج کے چیف،اور دیگر ،نتیآنند نے اپنے قریبی ماننے والی ماں کو وزیر اعظم مقرر کیا ہے ویب سائٹ پر آئین اور سرکاری ڈھانچے کی جانکاری دی گئی ہے کئی وزارتیں ،محکمہ اور ایجنسی بنانے کا دعوی ہے اتنا ہی نہیں نتیآنند نے اپنے دیش کا الگ جھنڈا بھی بنا لیا ہے ،یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگر کوئی یہاں کا شہری بننا چاہتا ہے تو ڈونیشن دے کر وہاں رہنے آسکتا ہے ،ویب سائٹ میں بتایا گیا کہ وہ کیلاس ایک غیر سیاسی دیش ہے اور انسانیت اس کا مقصد ہے یہ دیش ہندو مذہب کی تہذیب اور کلچر کے مطابق چلے گا جو کئی دیشوں سے ختم ہو رہی ہے گجرات پولس کے مطابق نتیآنند کا پاسپورٹ 30ستمبر 2018تک جائز تھا پولس ڈپٹی سپریم ڈینٹینٹ کے ٹی کمریا نے بتایا کہ بینگلورو دفتر پاسپورٹ دفتر میں ملزم کا پاسپورٹ رینیو نہ ہونے کی بات کی تصدیق کی ہے گجرات پولس کے ذرائع کے مطابق کچھ ایسی باتیں سامنے آئی ہیں کہ نتیا ٓنند پاسپورٹ کی تجدید کی تاریخ کافی پاس آنے سے پہلے ہی ساﺅتھ امریکہ کے کسی شہر میں جا کر چھپ گیا پولس اس کی تلاش کر رہی ہے ۔نتیآنند نے ایروڈ کے پاس اپنا مٹھ بنایا ہے ،اور اس کے یو ایس اور آسٹریلیا میں بھگت بن گئے ہیں تمل ناڈو میں بھی اس نے پندرہ آشرم بنائے صنعتکاروں نے اسے مفت زمین دی ان کے سیوکوں میں کئی دشمن پیدا ہو گئے ان میں سے ایک نے ان کے بیڈ روم میں کیمرہ لگا دیا ،عورتوں کو اس کے ساتھ سونے کے لئے راضی کرنے کی غرض سے مخصوص کورس ڈئزائن کے گئے ۔

(انل نریندر)

06 دسمبر 2019

اقتصادی مند ی پر اب اپنوں کے نشانے مودی سرکار

وزیر اعظم نریندر مودی نے سنیچر کو کہا کہ ان کی حکومت نے اپنے دوسرے عہد کے چھ مہینے پورے کر لئے ہیں اور اس دوران بھارت نے قابل قدر بہتری کے ساتھ رفتار کا گواہ بنے ہیں مودی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ آرٹیکل 370کو ختم کرنے سے لے کر اقتصادی اصلاحات تک اور پارلیمنٹ سے لے کر فیصلہ کن خارجہ پالیسی تک تاریخی قدم اُٹھائے ہیں ۔مودی سرکار کے تمام وزیر بھی 180دن کے کارنامے گنا رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دیش نہ بھولنے والی اقتصادی مندی کے دور سے گزر رہا ہے ،اور جی ڈی پی مسلسل گر رہی ہے بے روزگاری بڑھتی جا رہی ہے پیداوار گھٹ رہی ہے ،اور عوام میں ناراضگی بڑھتی جا رہی ہے ،ہماری بات تو چھوڑئیے اب تو بی جے پی کے اندر بھی ملک کی بد حال ہوتی معیشت پر بھی سوال اُٹھتے جا رہے ہیں اور یہ اقتصادی محاض پر مودی سرکار کی ناکامیوں کا ہی نتیجہ ہے مودی تو مالی سال کی دوسری سہہ ماہی میں دیش کی ترقی شرح پچھلے چھ سالوں کے مقابلے کم درج ہوئی اور یہ 4.5پر آگئی ہے اس مسئلے کو اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے جارہانہ حملوں کے درمیان اب سرکار کے سگے ساتھیوں اور اپنوں کے درمیان بھی بھاری بے چینی اور ناراضگی کا ماحول دکھائی پڑ رہا ہے جہاں ایک طرف تازہ اعداد و شمار کے سامنے آنے کے بعد بھاجپا کی طرف سے سرکار کی کھل کر بچاﺅ کرنے کی روایت کو اپنانے سے پرہیز کر رہی ہے وہیں دوسری طرف جے ڈی یو اکالی دل،جیسے این ڈی اے کی اتحادی پارٹیوں نے حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کو لے کر اپنی ناراضگی ظاہر کی ہے ۔اس سے نمٹنے کے لے نصیحتوں کی بڑی پوٹلی کھول دی ہے اکالی دل نے تو سیدھے طور پر سرکار کی ناکامی کا الزام لگا دیا ،دوسری طرف جے ڈی یو نے سرکار کی اقتصادی پالیسیوں کو بے اثر اور دیش کے لئے نقصاندہ قرار دیتے ہوئے ان میں فوری تبدیلی کرنے کی مانگ کر لی ہے یہاں تک کہ راجیہ سبھا ایم پی و اقتصادی معاملوں کے مشہو ر جانکار ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے دیش کے موجودہ اقتصادی پس منظر کو لے کر بھاری ناراضگی ظاہر کی ہے ۔اور یہاں تک کہہ دیا کہ اگر وقت رہتے اپنی پالیسیوں میں اصلاح نہیں کی تو مستقل قریب میں ترقی شرح اور تیزی سے گرے گی سوامی نے تو اقتصادی عدد و شمار کو مستر د کر دیا ،اور وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کی صلاحیت او ر کام کے طریقے پر بھی سیدھے طور پہ سوال کھڑ کر دئے ۔دوسری طرف جی ڈی پی کے موجودہ اعداد وشمار سے بھلے ہی اور ترقی شرح ساڑھے چار فیصدی بتائی جا رہی ہے لیکن حقیقت میں یہ ڈھیڑھ فیصدی پر آگئی ہے ۔جے ڈی یو نے اس مسئلے پر اقتصادی ماہرین و دیگر وقاف کاروں کی میٹنگ بلانے کی صلاح دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں سیاست نہیں کی جانی چاہیے اور مسئلے کا حل تلاشنے کے لئے اپوزیشن پارٹیوں کے سینر لیڈروں سے بھی صلاح لینے میں کوئی قباہت نہیں برتی جانی چاہیے ۔

(انل نریندر)

جہاں ناسہ ہار گئی وہیں انجینئر شن مگم سبرامنیم کامیاب ہو گئے

چاند پر بھیجے گئے ہندوستانی مشن چندریان 2-کا حصہ رہے لینڈر(وکرم )کا ملبہ تلاش نکالا گیا ،اور یہ کام نہ تو اسرو کر سکا اور نہ ہی ناسہ یہ تلاش چنئی کے ایک لڑکے اور شوقیہ جغرافیت کے ماہر 33سالہ انجیئر شن مگم سبرامنیم نے کر ڈالی وہ بھی بغیر کسی مخصوص لیبورٹی کے ،لینڈنگ جگہ سے قریب 700میٹر دور یہ مبلہ تلاش لیا ۔اس کی بنیاد پر ناسہ نے ملبے کے تین ڈھیر تلاش کر لئے اس کی تلاش میں ناسہ اور اسرو تین مہینے سے لگی ہوئی تھی ناسہ اور ائیری زونہ یونیورسٹی نے شن مگم کو اس تلاش کا کریڈیٹ دیا ہے ۔07ستمبر کو لینڈر وکرم کو کریش لینڈنگ کے بعد اسرو سے ناسہ تک سب نے تلاش کرنے کی کوشش کی پھر 17ستمبر کو ناسہ نے کریش سائڈ کی تصویر جاری کرتے ہوئے کہا کہ وکرم کا کچھ پتہ نہیں چل پایا ،32لاکھ پکسل والی اس تصویر کو چنئی کے 33سال کے ایپ ڈبلیپر رن مگم 17دن مسلسل 4-6گھنٹے چھانتے رہے ،اور تین اکتوبر کو انہیں مبلہ دکھائی دیا شن مگم نے تصویر کے ہر ایک پکسل کا موازنہ کر تلاش کر لیا ۔بتا دیں کہ لینڈر وکر م اور اس کے اندر رکھے رور پرگیان کو مشن کے تحت سات دسمبر کی رات قریب دو بجے چاند کے ساﺅتھ پول کے چھ سو کلو میٹر قریب ایک میدان میں سافٹ لینڈنگ کروائی جا رہی تھی بھارت ایسا کر لیتا تو دنیا کے چار چنندہ ملکوں میں شامل ہو جاتا لیکن اترنے سے چند منٹ پہلے ہی اس سے رابطہ ٹوٹ گیا تھا ۔اس کے ملبے کی تلاش میں دنیا بھر کے سائنسداں اور خلائی ایجنسیاں لگی تھیں ،چاند کا طواف کر رہے ناسہ کی شکل لونر رکنسینس اوربی ٹیر (ایل آر او)وکرم کو لینڈنگ جگہ سے کئی بار گزرا لیکن اسے بھی کامیابی نہیں ملی ،شن مگم بتاتے ہیں کہ میں صبح چار بجے اُٹھا تو دیکھا کہ فون پر ناسہ سے آئے ای میل کا نوٹیفیکشن پڑا ہے میں نے ای میل پڑھا اور اسے ٹوئٹ کیا اور ساتھ ٹوئٹر ہینڈل پر اسٹیٹس جوڑ دیا .....آئی فاﺅنڈ وکرم لینڈر آج ایک دن میں ہی میرے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر سات ہزار سے زیادہ فالور بڑھ گئے رن مگم نے بتایا کہ چاند پر وکرم لینڈر پر اترنے کی جگہ پر ناسہ کے ذریعہ لے گئی پرانی تصویروں کو انہوںنے اپنی چھوٹی سی لیب میں جمع کیا اور ان کا موازنہ کرتے ہوئے انہیں ایک جگہ سفید پوائنٹ نظر آیا جو پرانی تصویروں میں نہیں تھا شن مگم کا اندازے کی یہی سب سے بڑی بنیاد بنا کہ یہ لینڈر وکرم کا ہی ملبہ ہے مکینکل انجیر رن مگم سبرا منیم جغرافیائی سائنس میں کافی دلچسپی رکھتے ہیں روزانہ چار سے سات گھنٹے تک ایل آر او سے ملی چاند سطح کی تصویروں کاتجزیہ کرتے ہوئے کام سے لوٹ کر آتے ہی رات میں دو بجے تک وکرم کی تلاش میں لگے رہے یہ ممکن ہے کہ اسرو نے اسے لے کر کچھ تصویریں جاری کی تھیں لیکن سبرامینم کی پڑتال کے بعد جو تصویرں سامنے آئی ہیں وہ زیادہ صاف اور زیادہ ریزولیشن والی ہیں ۔ہم شن مگم کو مبارکباد دینے کے ساتھ دیش کے اس سیکٹر میں بھی نام اونچا کرنے کی سراہا کرتے ہیں ۔

(انل نریندر)

05 دسمبر 2019

گرہستنوں کی تھالی سے غائب ہوتی پیاز

غریب ،مزدو ر طبقے کے لئے پیاز کی بڑھتی قیمتوں نے ان کی گرہستیوں کے آنسو نکال دئیے پچھلے دنوں پیاز خوردہ دام سو سے 120روپئے کلو مل رہی ہے وہیں تھوک بازار میں پیاز کی قیمت ستر روپئے ہے آزادپور منڈی اور آس پاس کے خوردہ بازار میں سو روپئے کلو فروخت ہوتی بتائی گئی ہے ۔خودرہ تاجروں نے بتایا کہ پیاز کے دام بڑھنے کے بعد سے پیاز کی فروخت میں گراوٹ آئی ہے پہلے دن میں پانچ سو سے ایک ہزار کلو تک یومیہ پیاز کی فروخت ہوتی تھی لیکن اب دام بڑھنے کی وجہ سے ایک چوتھائی سے بھی کم رہ گئی ہے ۔آر کے پورم کی باشندہ ایک خاتون کا کہنا ہے کہ اب پیاز کے دام بڑھنے سے تھالی سے پیاز غائب ہوتی جا رہی ہے ۔کھانے کے دوران اب پیاز کا کثرت سے استعمال نہیں ہوتا دہلی کانگریس کا الزام ہے کہ مرکز کی مودی سرکار اور دہلی عام آدمی پارٹی سرکار میں نورا کشتی کے سبب پیاز کے دام آسمان چھو رہے ہیں دہلی این سی آر میں پیاز سو روپئے تک بک چکی ہے ۔کانگریسی مہیلا ورکروں نے پیاز کی مالا پہن کر وزیر اعلیٰ اروند کجریوال کے گھر کے باہر مظاہر ہ کیا کانگریس کے صدر سبھاش چوپڑہ نے اس مظاہرے کی قیادت کی مظاہرے میں شامل عورتیں نعرے لگا رہی تھیں جمع خوروں پر کسو لگام ،سستی کرو پیاز کے دام سو روپئے کلو پیاز مودی کجریوال کا اندھا راج کے نعرے بھی لگے اس موقع پر سبھاش چوپڑا نے الزام لگایا کہ سرکاری گوداموں میں 32ہزار ٹن پیاز سڑ رہی ہے جنتا اس کے لئے ترس رہی ہے انہوںنے مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ان کی بھی جمع خوروں کے ساتھ ملی بھگت ہے دوسری طرف منڈی تاجروں کا کہنا ہے کہ پیاز کے دام جتنے بڑھ چکے ہیں بڑھ گئے اب گرنا شروع ہو جائیں گے ۔راجستھان سے پیاز آنا شروع ہو گئی ہے اور سپلائی دہلی بہار بنگال تک ہو رہی تھی مہاراشٹر میں پیاز نہیں تھی اب وہ گجرات سے پیاز آنے لگی ہے امید ہے کہ دام کم ہوں گے اس مہینے کے آخر تک مہاراشٹر سے بھی پیاز آنے لگے کی اور دام گر جائیں گے کاروباریوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس مرتبہ دیش میں ڈھائی مہینے سے زیادہ بارش ہوئی جسے مہاراشٹر اور کرناٹک میں پیاز خراب ہو گئی یہ اچھا ہوا راجستھان کی پیاز بچ گئی تو نہیں برا حال ہو جاتا ۔بہر حا ل پیاز ہر گھر کی اہم ضرورت ہے سرکار کو چاہیے کہ وہ منڈیوں میں پیاز کی فراوانی لائے اور سیاست سے بچے ۔

(انل نریندر)

مشکل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

دنیا کے سب سے طاقتور شخص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف پارلمینٹ میں مقدمہ چلانے کی کارروائی کی جانچ آخری دو میں ہے اگر تحریک ملامت ایوان نمائندگان میں پاس ہونے کے بعد سنٹ میں بھی منظور ہو جاتی ہے تو پہلے ہی اپنے عہد میں ٹرمپ کی وادی ہونے کا خطرہ ہے اس سے پہلے 1974میں اس وقت کے صدر ریچلڈ مکسن نے مقدمہ چلائے جانے پر تجویز سے پہلے ہی استعفی دے کر عہدہ چھوڑ دیا تھا امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے مقدمہ چلانے کی کارروائی کو منظوری 24ستمبر 2019کو دے دی تھی ایوان کی عدلیہ کمیٹی میں پہلی سماعت 13نومبر سے شروع ہوئی مقدمہ چلانے کی الزامات کی جانچ ایوان نمائندگان کی عدلیہ کمیٹی کو دی گئی ہے وہ دسمبر میں معاملے درج کرنا شروع کر چکی ہے اس کے بعد ریپبلیکن اکثریت والے ایوان سنٹ میں جانچ اور آخری فیصلہ ہوگا ۔ٹرمپ کے خلاف مقدمہ چلانے کے فیصلے کے لے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوگی ،حالانکہ سنٹ میں ریپبلیکن کے پاس اکثریت ہے ایک وسل بلور نے الزام لگایا تھا کہ ٹرمپ نے یو کرین کے صدر بولوڈی نیہو جیلنسکی کو 25جولائی کو فون لگا کر سابق نائب صدر اور 2020کے صدارتی چناﺅ میں ڈیموکریٹک امیدواری کے اہم دعویدار جوے بیڈن کی ساکھ ملیا میٹ کرنے کے لئے کہا تھا بیڈن کے بیٹے رابرٹ ہنٹر یوکرین کی گیس کمپنی بورسما کے بورڈ میں 2014سے 2019تک کام کر چکے ہیں یوکرین کے کچھ ورکروں نے الزام لگائے کہ بیڈن کے بیٹے رابرٹ ہنٹر نے ملک کے مفاد کے خلاف کام کیا ہے وہیں بیڈن پر ٹرمپ نے الزام لگایا کہ انہوںنے بیٹے کی خاطر یوکرین میں سرکاری وکیل تک کو ہٹوا دیا یوکرین میں ان سبھی معاملوں کی جانچ چل رہی ہے ۔ٹرمپ پر الزام ہے کہ یوکرین کو اقتصادی و فوجی مدد کی رشوت دے کر اپنے سیاسی حریف جوے بیڈن کے ساتھ ساکھ خراب کرنے کی کوشش کی امریکی وسل بلور کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے ذریعہ یوکرین کے صدر کو فون کرنے کا مقصد دباﺅ ڈال کر جوے بیڈن کے نا پسندیدہ رول کو دکھا کر ان کی ساکھ کو امریکہ میں خراب کرنا تھا ۔کانگریس پینل نے ٹرمپ کو چھ دسمبر شام تک یہ بتانے کو کہا ہے کہ کیا وہ یا ان کے وکیل مقدمہ چلانے کی کارروائی میں اپنی طرف سے کوئی اور وقت دینے کو تیار ہیں ؟انہیں یہ بھی بتانا ہوگا کہ کیا وہ گواہوں سے بات کرنا چاہیں گے ؟اُدھر وائٹ ہاﺅس کے ایک بیان کے مطابق ٹرمپ مقدمہ چلانے کی کارروائی میں شامل نہیں ہوں گے ان کے وکیل بینادی کارروائی کی تعمیل نہ کئے جانے اور شفافیت نہ برتنے کے سبب امریکی صدر کے خلاف مقدمہ چلانے کی سماعت میں شامل نہیں ہوئے ۔

(انل نریندر )

ممتا کا این آر سی کو کرارا جواب

مغربی بنگال کی تین اسمبلی حلقوں میں ہوئے ضمنی چناﺅ کے نتائج کے بعد ترنمول کانگریس کی چیف ممتا بنرجی کو بڑی راحٹ ملی ہے تو وہیں بی جے پی کے لئے تشویش بڑھانے والا نتیجہ رہا ضمنی چناﺅ ان میں 2016میں بی جے پی ٹی ایم سی اور کانگریس نے ایک ایک سیٹ پر کامیابی حاصل کی تھی حالیہ مہینوں میں جس تیزی سے بی جے پی کا گراف وہاں بڑھا تھا اور ممتا بنرجی کے لئے خطرے کی گھنٹی بجنے لگی یہی وجہ ہے کہ لوک سبھا چناﺅ میں توقع کے خلاف خراب پرفارمینس کے بعد ممتا بنرجی نے ایک کے بعد ایک کئی قدم اُٹھائے تھے ۔انہوںنے قومی سطح پر جو ہار ہوئی تھی اسے روک لگا دی چناﺅ حکمت عملی ساز پرشانت کشور کو اپنے ساتھ لیا اور عام لوگوں سے زیادہ سے زیادہ حال چال پوچھا ان کے مسائل جانے اس کی وجہ سے ضمنی چناﺅ میں اچھے نتائج آئے لیکن انہیں پتا ہے کہ ضمنی چناﺅ نتائج اصل چناﺅ سے الگ ہوتے ہیں اشو الگ ہوتے ہیں ہوا کا رخ بھی متاثر کرتا ہے نتائج کو آنے والے دنوں میں بی جے پی اور طاقت جھونکے گی وہیں لوک سبھا چناﺅ میں 18سیٹوں پر کامیابی حاصل کرنے سے بی جے پی کے حوصلے بلند تھے ۔بی جے پی نے تب سے ہی 2012میں ہوئے اسمبلی چناﺅ کی تیاری شروع کر دی تھی ،بی جے پی نے اس ضمنی چناﺅ میں اپنی جیتی ہوئی سیٹ گنوا دی ،کھڑک پور سیٹ بھاجپا کے پردیش صدر دلیپ گھوش کے پارلیمانی حلقہ میں آتا ہے وہ اس کو نہیں بچا پائے ان کا کہنا ہے کہ اصل میں ضمنی چناﺅ میں عام چلن ہے جس پارٹی کی سرکار ہوتی ہے وہی کامیاب ہوتی ہے مغربی بنگال میں این آر سی کو لے کر بے چینی ہے ٹی ایم سی نے اسے اپنے حق میں بھنایا کالیا گنج سے بی جے پی امیدوار کمل چندر سرکار نے معنی کہ ہم اس لئے ہارے کیونکہ بنگال میں این آر سی لاگو کرنے کو لے کر جنتا میں غلط فہمی پیدا ہو گئی ہم اس اشو پر جنتا کو سمجھانے میں ناکام رہے ۔گھوش نے کہا کہ این آر سی اشو کیوں ہونا چاہیے ؟2019میں پارلیمانی چناﺅ میں بھی این آر سی اشو تھا لیکن ہم جیتے اس لئے ہماری ہار کے لئے این آر سی کو ذمہ دار بتانا صحیح نہیں ہے ۔ہو سکتا ہے امیدواروں کے انتخاب کو لے کر ناراضگی ہو وہیں ترنمول کانگریس ان تین سیٹوں کو جیت کر اپنے پیروں سے کھسکتی زمین کو بچانے کی کوشش کر رہی تھی اور مارکس وادی پارٹی نے ان ضمنی چناﺅ میں مل کر چناﺅ لڑنے کا فیصلہ کیا لیکن دونوں کو تیسرے نمبر پر ہی تسلی کرنی پڑی این آر سی کو لے کر نارتھ ایسٹ ریاستوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے جو بی جے پی پر بھاری پڑ سکتی ہے ۔مغربی بنگال کا یہ ضمنی چناﺅ نتیجہ اس بات کا صاف اشارہ ہے کہ بی جے پی کو مغربی بنگال میں اور زور لگانا پڑے گا ۔

(انل نریندر)

04 دسمبر 2019

بلٹ پر بیلٹ کی جیت

جھارکھنڈ اسمبلی چناﺅ کے پہلے مرحلے میں رکاوٹ ڈالنے کی تمام نکسلیوں کے ذریعہ تشدد برپا کرنے کے باوجود ووٹروں نے نہ صرف ایک انگلی کی طاقت سے دھماکوں کو خاموش کر دیا ووٹنگ کے دن بھی نکسلیوں نے گملا کے وشن پور میں چار دھماکے کئے لیکن خیر کی بات رہی کی کوئی زخمی نہیں ہوا اور لوگوں میں دہشت پھیلانے کے مقصد میں نکسلی بری طرح ناکام رہے چناﺅ محکمہ پولس و انتظامیہ کی مستعدی سے ان علاقوں میں 63.29فیصد پولنگ ہوئی اس مرتبہ اس میں 1.15فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور بلٹ پر بیلٹ کی جیت دیکھی گئی لوگوںنے ووٹ کی طاقت سے نکسلیوں کو منھ توڑ جواب دیا ۔لال آتنک کے گڑھ لاتیہار کے لکویہ گاﺅں میں بھی صبح ساڑھے چھ بجے ٹھٹھرتی ٹھنڈ کے باوجود دیہاتی ووٹ ڈالنے کے لئے اسکول میں ووٹ ڈالنے کی طرف کھڑے دیکھے گئے انہوںنے کام کاج چھوڑ کر ووٹ کو ترجیح دی صرف آٹھ دن پہلے ہی نکسلیوں نے لکویہ میں پولس عملے کو لے جا رہی گاڑی کو نشانہ بنایا اور چار پولس والوں کو مار ڈالا اندیشہ تھا کہ نکسلی حملے کا اثر اس گاﺅں میں ووٹنگ پر پڑے گا لیکن گاﺅں میں 72فیصدی ووٹنگ ہوئی گملا کے دشن پور ڈیوزن کے گھاگھرا اور نراسی پنچایت کے ہوشنگ ،سرگیدا و سدوورتی علاقوں میں نکسلیوں نے پوسٹر لگا کر لوگوں کو ووٹ نہ ڈالنے کا فرمان سنایا تھا لیکن ووٹروں نے اس فرمان کو مسترد کر زبردست طریقہ سے ووٹ ڈالا ووٹ کے لئے قطاروں میں کھڑے لوگوں کے چہروں پر ووٹ ڈالنے کے تیں دلچسپی جھلک رہی تھی شہید سکرا ارواں کی بیوی لیلا چنی دیوی نے گھاگھرا کے پولنگ مرکز پر ووٹ ڈالا رکشا پولر وجے نے بتایا کہ اس مرتبہ بدلاﺅ آئے گا ،ایسے ہی کوسوں دور رامگڑھ ڈیوزن کے نکسلی متاثرہ علاقوں میں تبدیلی کی لہر پر جمہوریت کا جوش دکھائی دیا ،کبھی نکسلیوں کی دخل اندازی کی وجہ سے ووٹ نہ ڈالنے والے لوگوں میں اس مرتبہ خوف نہیں تھا شہید پولس والے کی بیوی نیلم نے کہا کہ میں نے جمہوریت کی مضبوطی کے لے اس دکھ کی گھڑی میں بھی ووٹ ڈالا ہے نئی سرکار سے امید ہے کہ وہ ریاست سے نکسلیوں کا صفایا کر دے گی جہاں نکسلیوں نے دھماکے کئے وہاں چھ بوتھوں پر 4331ووٹر اورسطا 55.8فیصد پولنگ ہوئی ۔دھماکے ہو رہے تھے اور ووٹ ڈال کر نکل رہے تھے صحیح معنی میں یہ بلٹ پر بیلٹ کی جیت اور جمہوریت کی جیت ہے نئی سرکار کو نکسلی متاثرہ علاقوں کے عوام کی پکار سننی ہوگی یہ نکسلی مسئلے کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے موثر قدم اُٹھانے ہوں گے ۔

(انل نریندر)

راہل بجاج نے مودی سرکار کو آئینہ دکھایا

موقعہ تھا سنیچر کو ممبئی میں اکنامک ٹائمس ایوارڈ فار کارپوریٹ ایکسی لینس کا پروگرام اس میں صنعتکار راہل بجاج نے مودی سرکار کو بھری محفل میں آئینہ دکھا دیا ۔سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے دیش کی اقتصادی حالت خراب ہونے اور مندی کے جو اسباب گنائے تھے اس میں سب سے بڑی وجہ لوگوں میں پیدا خوف او ر بھروسے کی کمی بتایا تھا اگلے ہی دن لائیو ٹیلی ویزن کے سامنے بھی مودی سرکار کو کھر ی کھوٹی سنائی اورتلخ سوال پوچھے اس ایوارڈس پروگرام میں جس اسٹیج پر وزیر داخلہ اور وزیر داخلہ امت شاہ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن اور ریل منتری پیوش گوئل بیٹھے تھے اس وقت راہل بجاج نے کھل کر کہا کہ آپ سے ڈر لگتا ہے انہوںنے اپنی چھوٹی سی تقریری میں لڑکھڑاتی آواز میں کہا کہ بھلے ہی کوئی نہ بولے لیکن میں کہہ سکتا ہوں کہ آپ کی تنقید کرنے میں ہمیں ڈر لگتا ہے آپ اسے کیسے سمجھیں گے انہوں نے کہا کہ ہم یو پی اے 2-یو پی اے سرکار کو گالی دے سکتے تھے لیکن ڈرتے نہیں تھے تب ہمیں آزادی تھی لیکن آج سبھی صنعتکار ڈرتے ہیں کہ کہیں مودی سرکار کی نکتہ چینی مہنگی نہ پڑ جائے ۔ہمارے صنعتکار دوستوں میں سے کوئی نہیں بولے گا میں کھلے طور پر اس بات کو کہتا ہوں کہ ایک ماحول تیار کرنا ہوگا جب یو پی اے 2-سرکار اقتدار میں تھی تو ہم کسی پر بھی نکتہ چینی کر سکتے تھے کہہ سکتے تھے کہ آپ اچھے کام کر رہے ہیں اس کے بعد بھی ہم آپ کی کھلے طور پر نکتہ چینی کریں اتنا بھروسہ نہیں ،کہ آپ اسے پسند کریں گے اس کے ساتھ ہی بجاج نے ملک کی اقتصادی حالت کو لے کر بھی ملک کے ساتھ ہی صنعتکاروں کی تشویش کا ذکر کیا ہمیں ایک بہتر سرکار چاہیے صرف انکار نہیں چاہیے ۔میں صرف بولنے کے لئے نہیں بول رہا ہوں ایک ماحول بنانا پڑے گا میں آلودگی اور ماحولیات کی بات نہیں کر رہا ہوں میں غلط ہو سکتا ہوں ،لیکن وہ سب کو لگتا ہے کہ ایسا ہے میں سب کی طرف سے نہیں بول رہا ہوں اور مجھے یہ سب بولنا بھی نہیں چاہیے ۔کیونکہ لوگ ہنس رہے ہیں کہ چڑھ جا بیٹا سولی پر بجاج نے بی جے پی ایم پی پرگیہ ٹھاکر کے گوڈسے پر بیان کا بھی ذکر کیا جس نے گاندھی جی کا قتل کیا تھا ،اس میں کسی کو شک نہیں ہے کیا کسی کو پہلے بھی وہ بولی تھی صرف صفائی دی آپ نے اسے ٹکٹ دے دیا اور جیت گئی اور آپ کی ہمایت سے ہی جیتی ہے انہیں کوئی نہیں جانتا تھا پھر آپ نے انہیں ڈیفنس کمیٹی میں شامل کر دیا ،وزیر اعظم نے کہا کہ میں انہیں دل سے معاف نہیں کر سکتا پھر بھی وہ مشاورتی کمیٹی میں لے آئے اس موقع پر وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن وزیر تجارت پیوش گوئل بھی اسٹیج پر موجود تھے ۔راہل بجاج نے یہ سب باتیں کہیں ساتھ ہی مکیش امبانی کمار منگلم برلا سنیل بھارتی،متل جیسے بڑے صنعتکاربھی پروگرام میں شامل تھے ،راہل بجاج کا جواب دیتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ کسی کو بھی اپنی بات رکھنے سے ڈرنے کی ضرورت نہیں اور جیسا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ ڈر کا ایک ایسا ماحول بنا ہے تو ہمیں اسے بہتر بنانے کی کوشش کرنا چاہیے ۔میں صرف اتنا ضرور کہنا چاہوں گا کہ کسی کو ڈرنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی کوئی ڈرانہ چاہتا ہے راہل بجاج کے بیان کے بعد کانگریس بھاجپا میں بیان بازی بھی شروع ہو گئی کانگریس لیڈر ابھیشک منو سنگھوی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ راہل بجاج نے ای ٹی ایوارڈس میں کہا کہ آپ ایک غیر یقینی ماحول بنا رہے ہیں ....جو ڈر گیا وہ مر گیا ۔کئی برسوں کے بعد کارپوریٹ دنیا سے کسی نے جو اپوزیشن کو صلاح دی ہے وہ اقتدار سے کچھ سچ بولنے کی ہمت دکھائی بجاج کے بیان پر کانگریس ترجمان پون کھیڑا نے کہا کہ راہل بجاج نے جو کہا وہ دیش بھر میں ہر سکیٹر کے مشترکہ جذبات ہیں ،ہمارا بجاج نے بینڈ بجا دیا وہیں بی جے پی آئی ٹی سیل کے انچارج امت مالویہ نے راہل بجاج کا ایک ویڈیو ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کے راہل گاندھی کے لئے اتنے چاپلوسی بھرے نظریات ہیں تو یہ فطری ہے کیونکہ موجودہ انتظامیہ کے لے برا ہی کہنا پسند کرئے گا سچ کہا جائے لائسنس راج میں پھلنے پھولنے والے صنعتکار ہمیشہ کانگریس کے مشکور رہیں گے ۔

(انل نریندر)

03 دسمبر 2019

شاہ بنام پوار:اصلی چانکیہ تو پوار ہی ہوئے

مہاراشٹر کی سیاست کے بے تاج بادشاہ کہے جانے والے این سی پی چیف شرد پوار کے آگے بی جے پی چانکہ داﺅں چل نہ سکے اس سے ثابت ہو گیا ہے کہ مہاراشٹر کے چانکیہ نے بی جے پی کے چانکیہ بھاجپا صدر امت شاہ کو اپنی چال سے چت کر دیا ،اور صحیح معنوں میں یہ ثابت کر دیا کہ اصلی چانکیہ وہی ہیں ،وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی صدر کے آگے دیش کے ایک سے ایک بڑھ کر نیتا اپنا سیاسی وجود نہیں بچا سکے ۔مہاراشٹر کی سیاست میں ان دونوں نیتاﺅں کا سیاسی جادو فیل ہو گیا ہے ۔اسمبلی چناﺅ کے درمیان انفورسمینٹ ڈاکریٹریٹ نے جب این سی پی چیف شرد پوار پر کارروائی کے لئے قدم اُٹھایا تو مہاراشٹر کا یہ بوڑھا شیر جاگ اُٹھا جبکہ این سی پی کے تمام سرکردہ لیڈر جن میں اجیت پوار بھی شامل تھے ساتھ چھوڑ چکے تھے ،ایسے میں اکیلے پڑے 78سالہ شرد پوار نے دہلی بنام مہاراشٹر کی سیاسی لکیر کھینچ دی اور بارش میں بھیگتے ہوئے چناﺅ کمپین سے نہیں چوکے اور نتیجہ یہ رہا کہ این سی پی کنگ میکر بن کر ابھری حالانکہ بی جے پی شیو سینا کو واضح اکثریت ملی تھی لیکن دونوں کے درمیان کرسی کی لڑائی میں پوار نے اپنے سیاسی جوہر کا استعمال کیا اور خاموشی سے شیو سینا کے کندھے پر ہاتھ رکھا جس سے اس کے حوصلے اتنے بلند ہو گئے کہ اس نے بی جے پی سے تیس سال پرانی دوستی توڑ دی ،شیو سینا نے مہاراشٹر میں کانگریس این سی پی کے ساتھ آنے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھایا لیکن شرد پوار نے اپنے آخری وقت تک پتے نہیں کھولے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ گورنر کو مہاراشٹر میں صدر راج لگانا پڑا اور اس کے بھی کانگریس این سی پی شیو سینا کے درمیان سیاسی کھچڑی پکتی رہی کانگریس کی جانب سے بھی شیو سینا کے ساتھ شرد پوار ہی کرتے رہے تینوں پارٹیوں کے درمیان کئی دور کی میٹنگ کے بعد آخر 22نومبر کو سرکار بنانے کا فارمولہ طے ہوا کانگریس این سی پی اور شیو سینا سرکار بنانے کا گورنر کو دعوی پیش کرتی ہے ۔اس سے پہلے ہی دہلی کے چانکیہ نے سنیچر کو بی جے پی نے شرد پوار کے بھتیجے اجیت پوار کو اپنے ساتھ ملا کر سب کو حیرت میں ڈال دیا مہاراشٹر میں راتوں رات صدر راج ہٹانے کا فیصلہ کر لیا سنیچر کی صبح ممبئی کے لوگ صحیح سے جاگے بھی نہیں تھے کہ دیوندر فڑنویس نے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لے لیا اور اجیت پوار نے ڈپٹی سی ایم کا حلف لیا وزیر اعظم نریندر مودی سمیت بی جے پی کے تمام نیتاﺅں نے دیوندر فڑنویس سرکار کو مبارکباد دینا شروع کر دی ایک بار پھر مہاراشٹر کے چانکیہ شرد پوار نے دہلی کے چانکیہ امت شاہ کو مات دے دی اس کے بعد کیا ہوا یہ سبھی جانتے ہیں مہاراشٹر میں وزیر کے عہدے سے دیوندر فڑنویس کے استعفی کے بعد یہ بات این سی پی نیتا و ترجمان نواب ملک نے کی ہے بہرحال ادھو ٹھاکرے مہاراشٹر کے سی ایم بن گئے ہیں او ربھاجپا کو مات مل گئی ۔

(انل نریندر )

حیوانیت کی حدیں پا کرتے یہ درندے

سات سال پہلے سولہ دسمبر 2012کو دہلی کے وسنت بہار میں نربھیہ کے ساتھ وہ بے خوف درندی ہوئی تھی جس سے پورا دیش اُٹھ کھڑا ہو تھا اس گھناونے جرائم کے خلاف پورا دیش سڑکوں پر اتر آیا تھا جگہ جگہ کینڈل مارچ ہوئے تھے ،سرکار ،سماج و سبھی سیاسی پارٹیوں نے یہ عہد کیا تھا کہ بس اب اور نہیں یعنی اب کوئی نربھیا دوبارہ نہیں ہوگی ہم نے امید کی تھی کہ شاید اب کچھ بدلے لیکن کچھ بھی نہیں بدلہ بلکہ الٹے ریپ کے واقعات میں اضافہ ہو گیا آئے دن آبروریزی اور موت کے واقعات کی باڑھ سی آگئی سات سال گزرنے کے بعد بھی نربھیہ کے قاتلوں کو پھانسی پر نہیں لٹکایا جا سکا ہتھیارے کوئی نہ کوئی داﺅں پینچ چل کر بچتے جا رہے ہیں ۔جمعہ کو پٹیالہ ہاﺅس میں اس کیس کی تاریخ تھی اور امید تھی کہ آخر کار ڈیتھ وارنٹ جاری ہو جائے گا جمعہ کو جیل کے افسر نے عدالت کو مطلع کیا کہ ایک قصوروار نے اپنی پھانسی کی سزا کے خلاف صدر جمہوریہ سے رحم کی عرضی دی ہے اس پر پٹیالہ ہاﺅس کے اسپیشل جج جسٹس ستیش اروڑا نے دیگر قصورواروں سے پوچھا کہ وہ اپنے بچاﺅ کو لے کر کونسی کارروائی کو اپنائیں گے جج نے اگلی تاریخ 13دسمبر طے کی ہے ۔امید ہے کہ تب تک صدر جمہوریہ اپیل کو خارج کردیں گے اور چاروں قصورواروں کی پھانسی کا راستہ کھل جاے گا پچھلے چار دنوں کے اندر رانچی اور حیدرآباد میں ہوئے گھناونے اجتماعی آبروریزی بتاتے ہیں کہ حالات وہیں کے وہیں ہیں اور دیش میں لڑکیاں ابھی بھی محفوظ نہیں ہیں۔یہ واقعات کسی دور دراز کے علاقہ کی نہیں ہیں یہ دو بڑے ریاستوں کی راجدھانی کی ہیں رانچی میں ایک طالبہ کا اغوا کر کے لے گئے اور اس کے ساتھ اجتماعی آبروریزی ہوئی جبکہ حیدرآباد ویٹنری ڈاکٹر کی اسکوٹی کا ٹائیر پنکچر جان بوجھ کر اس لئے کیا تاکہ اس کا گینگ ریپ کیا جا سکے گینگ ریپ کرنے کے بعد اس کا گلا دبا کر مار ڈالا گیا اور جلا دیا گیا ایسے درندوں کا نہ تو کوئی مذہب ہوتا ہے او ر نہ ہی ذات اسے فرقہ وارانہ رنگ دینا اتنا ہی بڑا جرم ہے ۔دونوں ہی واقعات سیدھے طور پر بتاتے ہیں کہ نربھیاکانڈ کے بعد جوبھی قدم اُٹھائے گئے وہ ایسے واقعات کو روکنے کے لئے ناکافی ثابت ہوئے ہیں سوال یہ ہے کہ عورتوں کی حفاظت پر سرکار کب تک چپ رہے گی ؟کب تک حفاظت کے لئے اُٹھی تحریک کی چینخوں کو دکھاوٹی آنسوﺅں سے دبانے کی کوشش ہوگی ۔کب تک سڑکوں پر اکیلے نکلنے میں عورتیں ڈرتی رہیں گی اور کب تک جرائم پیشہ کھلے گھومتے رہیں گے؟اس میں پبلک کا بھی قصور کم نہیں ہے حید رآباد دیش کے بڑے شہروں میں شمار ہوتا ہے جہاں حادثہ ہوا وہ ائر پورٹ کا علاقہ ہے ۔کیا پولس اور سیکورٹی جیسی کوئی انتظام نہیں تھا ؟اگر مان بھی لیں کہ جو جرائم پیشہ جن کی عقل اور انسانیت ماری گئی تھی تو بھی انہیں روکنے کے لے وہاں ایک بھی انسان نہیں تھا کیا؟سماج مانتا ہے کہ جرائم پیشہ کے بچ نکلنے کے راستے بند کرنا اور سخت سزا دینا ضروری ہے اور یہ صحیح طریقے سے ابھی تک نہیں کیا گیا ۔

(انل نریندر)

01 دسمبر 2019

دس پندرہ ہزار لوگوں کی بھیڑ سے بھاجپا چناﺅ کیسے جیتے گی؟

مہاراشٹر اور ہریانہ کے بعد ایک طرف جہاں جھارکھنڈ اسمبلی چناﺅ پر سب کی نظریں لگی ہوئی ہیں اور سیاسی حلقوں میں سوال پوچھا جا ہارہا ہے کہ جھارکھنڈ میں بھی بی جے پی کا وہی حال تو نہیں ہوگا جیسا مہاراشٹر میں ہوا ہے ؟لیکن جھارکھنڈ میں اس مرتبہ کنگ بننے سے زیادہ کنگ میکر کی لڑائی ہے میدان میں صرف دو یودھا ہیں بھاجپا کی طرف سے وزیر اعلیٰ رگھور داس اور اپوزیشن اتحاد کی طرف سے جے ایم ایم کے نیا ہیمت سورین ہیں 181اسمبلی سیٹوں والی ریاست میں پانچ مرحلوں میں چناﺅ ہو رہا ہے ۔پہلے مرحلے کی پولنگ ہو چکی ہے جھارکھنڈ چناﺅی سمر میں امیدواروں کی بھرمار ہے۔سب سے زیادہ دھوم رگھوبر داس اور آل انڈیا اسٹوڈینٹ یونین کی ہے جو اب تک بھاجپا کے ساتھ چناﺅ لڑتی رہی ہے اور سرکار چلاتی رہی ،لیکن اس مرتبہ دونوں آمنے سامنے آگئے ہیں ۔آج سو سے صدر سدھیش مہتو حالانکہ اپنے فیصلے کے پیچھے مہاراشٹر کو وجہ نہیں مانتے اور بھاجپا سرکار سے اصولی اختلاف کی وجوہات بتاتے ہیں لیکن کوئی بھی سیاسی مبصر یہ ماننے کو تیا رنہیں ہے کہ دراصل آجسو کو لگتا ہے کہ زیادہ سیٹوں پر لڑ کر آدھا درجن سیٹوں پر بھی جیتنے میں اگر وہ کامیاب رہے تو سرکار کسی کی بھی بنے لیکن دبدبہ اور کنگ میکر کا رول انہیں کا ہوگا بھاجپا نے مہاراشٹر میں ہار کے بعد جھارکھنڈ میں اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے ۔بھاجپا صدر امت شاہ نے پہلے مرحلے کی پولنگ سے کچھ گھنٹے پہلے جھارکھنڈ کے چتر ااور گڑوا میں چناﺅ کمپین کے تحت ریلیاں کیں ۔اور دونوں ریلیوں میں کم بھیڑ دیکھ کر ناراضگی جتائی پہلے چترا میں کہا کہ دس پندرہ ہزار لوگوں سے بھاجپا کا امیدوار کیسے جیتے گا :؟ ©آپ مجھے بیو قوف مت بنائیے میں بھی بنیا ہوں اور حساب کتاب مجھے بھی آتا ہے میں آپ کو جیت کا راستہ بتاتا ہوں آپ سبھی کو وزیر اعلیٰ رگھور داس نے موبائل فون دیا ہے پھر جاﺅ اور 25-25لوگوں کو فون کرو کہ وہ بھاجپا کو ووٹ دیں شاہ نے اپوزیشن پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ جھارکھنڈ میں کانگریس جے ایم ایم کے ساتھ مل کر چناﺅ لڑ رہے ہیں ،کیا جھارکھنڈ مکتی مورچہ نے کانگریس سے بھی کبھی پوچھا ہےکہ اس نے جھارکھنڈ کی تشکیل کے لئے کیا کیا؟شاہ نے در اندازی کے اشو پر کہا کہ اب مونی بابا کا زمانہ نہیں ہے ۔مودی جی کی سرکار ہے پہلے مونی باباکی مٹھی سے آلیہ مالیہ جے جمالہ بھارت میں روز گھس آتے تھے ۔جموں و کشمیر میں ہم نے 370ہٹا کر اپنے ارادے بتا دئے ہیں اسمبلی چناﺅ کے لئے امت شاہ آٹھ دنوں میں دوسری مرتبہ جھارکھنڈ گئے ا س سے پتہ چلتا ہے کہ جھارکھنڈ مہاراشٹر کے بعد بھاجپا کے لئے کتنی اہم ترین ریاست ہوگئی ہے ۔جھارکھنڈ کی بیس سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ مضبوط سرکار بنی تھی اس کا سہرا مودی کو جاتا ہے یہ مضبوط سرکار آجسو کی حمایت سے بنی تھی اس سے پہلے چودہ سال کی تاریخ میں سات وزیر اعلیٰ بنے ایک بار تو آزاد امیدوار وزیر اعلیٰ بن گیا امید تو یہی ہے کہ ا س مرتبہ کسی کو بھی واضح اکثریت نہیں ملے گی اگر کھچڑی اکثریت آئی تو چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کا بھی اہم رول بن جائے گا ۔

(انل نریندر)

صبح کابھولا شام گھر لوٹ آیا،ساتھ کلین چٹ بھی لے آیا

مہاراشٹر کے ہائی ولٹیج ڈرامے میں اگر کسی کو فائدہ ہوا ہے تو وہ ہے اجیت پوار سوشل میڈیا میں ایک پوسٹ وائر ل ہوئی صبح کا بھولا شام کو گھر واپس آجائے اور ساتھ میں کلین چٹ بھی لے آئے تو اسے بھولا نہیں کہہ سکتے ۔اسے اجیت پوار کہتے ہیں ۔آنا فاننا میں این سی پی نیتا اجیت پوار (شرد پوار کے بھتیجے)کے بھروسے بی جے پی نے اقتدار میں واپسی کر لی اور پوار کو نائب وزیر اعلیٰ کا عہدہ دے کر سرکار بھی بنا لی لیکن 80گھنٹوں میں سیاسی ہلچل اتنی تیز ہوئی اور ایوان میں اکثریت ثابت کرنے سے ٹھیک پہلے اجیت پوار اور دیوندر فڑنویس کو استعفیٰ دینا پڑا ۔لیکن اجیت پوار نے بھاجپا سے سودے بازی کر کے اپنے خلاف انسداد کرائم بویورو کی طرف سے سینچائی گھوٹالے سے متعلق نو معاملے بند کروا لئے ۔آخر سینچائی گھوٹالہ کیا ہے ؟دیوندر فڑنویس اور بی جے پی ،ودرب سینچائی گھوٹالے کو لے کر ہمیشہ اجیت پوار پر نکتہ چینی کرتی رہی ہے فڑنویس ہی نہیں خود وزیر اعظم نریندر مودی نے چناﺅ کمپین کے دوران این سی پی کو نیچرل کرپٹ پارٹی کی تشبیہ دے ڈالی اور فڑنویس تو یہاں تک کہتے سنے گئے کہ کچھ بھی ہو جائے بی جے پی این سی پی کے ساتھ نہیں آئے گی ہم نے اسمبلی میں این سی پی کے کرپشن کا پردہ فاش کیا ہے 2014میں وزیر اعلیٰ بننے کے بعد جو پہلی کارروائی فڑنویس نے کی تھی انہوںنے سینچائی گھوٹالے میں اجیت پوار کے مبینہ رول کی جانچ کا حکم دینا ۔1999سے 2009تک سینچائی گھوٹالے کا معاملہ سامنے آیا تھا اور 2012میں الزام لگایا گیا کہ سینچائی کے لئے باندھ بنانے کی یوجنا میں بھاری گھوٹالہ ہوا ہے جس میں سیاستداں بھی شامل ہیں اس وقت ڈپٹی وزیر اعلیٰ رہے اجیت پوار پر قریب 70ہزار کروڑ روپئے کی دھاندھلی کا الزام لگا تھا ان پر تین مہینے کے اندر 32ٹھیکے دینے کا الزام ہے ۔بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد معاملے کی جانچ کے احکامات ہوئے اس معاملے میں این سی پی نیتا چھگن بھجبل اور سنیل تبکارے وغیرہ پر بھی الزامات تھے ۔اِدھر مہاراشٹر اسٹیٹ کواپریٹو بینک سے متعلق 25ہزار کروڑرو پئے کا گھوٹالہ منی لانڈرنگ میں دھوکہ دھڑی سے متعلق ہے مہاراشٹر این ٹی کرپشن بیورو نے حال ہی میں بتایا کہ اس نے 74ہزار کروڑر وپئے کے سنیچائی گھوٹالے کے نو معاملے بند کر دئے ہیں ۔اور ان میں سے کسی میں نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔دراصل کانگریس کے الزام کے بیان کے بعد یہ وضاحت سامنے آئی کہ مہاراشٹر میں بھاجپا کی سرکار بنتے ہی اجیت پوار کو الزام سے بری کر دیا گیا ؟کانگریس نے اس پر نریندر مودی پر جم کر تنقید کی اور دعوی کیا کہ اس سے مہاراشٹر میں جمہوریت پر قبضے کے باپ کی اصلیت اجاگر ہو گئی ہے اجیت پوار کے بھاجپا کے ساتھ مل کر سرکار بنانے کے بعد یہ معاملے بند کئے گئے ہیں یہ سب کچھ سرکار بنوانے کے عوض میں کیا گیا ۔

(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...