Translater

02 اکتوبر 2021

افغان خاتون کےجاری ہوئےچھ ڈیتھ وارنٹ !

پچھلے چار سال سے دہلی کے بھوگل میں رہ رہی افغانستانی پناہ گزیں خاتون ایک جم ٹرینر ہے وہ اپنی 13-14سال کی بیٹیوں کو تعلیم دینے اور گزر بشر کے لئے وہ نوکری کرتی ہے لیکن یہ بات جب افغانستان میں طالبان آتنکی اور اس کے سابق شوہر کو پتہ چلی تو اس نے ایک ہفتے میں عورت کے نام سے چھ ڈیتھ وارنٹ جا ری کرو ا دیئے اس میں اس کے رشتہ دار نے کہا کہ دونوں بیٹیوں کو لیکر وہ افغانستان واپس نہیں آئے ورنہ طالبان اسے سزائے موت دے گا اس کے بعد سے یہ افغان خاتون بہت ڈری ہوئی ہے بھارت سرکار اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیشن سے مدد کی درخواست کر رہی ہے طالبان کے پچھلے عہد کے دوران جب وہ چودہ سال کی تھی تبھی اس کی شاد ی کر دی گئی تھی اس دوران افغانستان میں شادی سے پہلے لڑکیوں سے پوچھا تک نہیں جا تا تھا ان کا شوہر ان پر بڑا مظالم ڈھاتا تھا جب انہیں پتہ چلا کہ شوہر خود بھی طالبانی آتنکی ہے تو اس سے طلا ق لینے کی بات کہی تو اس پر شوہر نے گردن و ہاتھ پر چاقو سے کئی وار کئے جس کے گہرے نشان اس کے جسم پر آج بھی ہیں ۔ شوہر نے اپنی ہی دو بڑی بیٹوں کو طالبان آتنکی وادیوں کو بیچ دیا ۔ چار سال پہلے کسی طرح وہ اپنی جان بچا کر اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ بھارت آگئی اس خاتون نے بتایا کہ افغانستان میں تب لڑکیوں کو پڑھایا نہیں جا تا تھا اس لئے وہ پوری طرح سے جاہل ہیں لیکن وہ اپنی دونوں بیٹیوں کو وہ پڑھانا چاہتی تھی بھارت آنے پر اس کے پاس کوئی کام نہیں تھا بھوگل میں وہ کرائے پر رہنے لگی اور یہیں پر یہاں ایک افغانی اسکول میں اپنی بیٹیوں کا داخلہ کروایا اور پاس ہی میں ایک جم میں جھاڑو پوچھا کرنے لگی اس نے بتایا کہ کام سے نمٹنے کے بعد وہ لوگوں کو جم کرتے ہوئے دیکھتی تھی اور چیزوں کو باریکی سے سمجھتی تھی لڑکیوں کے اسکول سے لوٹنے کے بعد انہیں پڑھاتی تھی اس طرح ان کی معمولی تعلیم شروع ہوئی قریب ایک سال جھاڑو پوچھا کرنے کے بعد اس عورت کی لگن کو دیکھتے ہوئے جم کے مالک نے جم ٹرینر کا کاسونپ دیا جسے وہ بخوبی نبھا رہی ہے عورت نے بتایا کہ انہوں نے لوگوں سے شروع میں دیکھ کر اور لوگوں سے بات کرکے ہندی سیکھی ہے انہیں بھارت پسند ہے اور یہاں محفوظ محسوس کرتی ہے کہتی ہے کہ انہیں جم سے دس ہزار روپئے تنخواہ ملتی ہے اس میں بچوں کی پرھائی اور دیگر خرچے پورے نہیں ہوتے اس لئے اس کی مدد کی جائے ایک افغانی یوٹیوبر نے بھوگل میں افغانی دکانوں کے ویڈیو بنائے تھے جس میں عورت نے بات کی تھی یہ ویڈیو افغانستان میں ان کے سابق شوہر تک پہونچ گیا جس سے اسے پتہ چل گیا کہ وہ بھارت میں ہے اور کام بھی کرتی ہے اس کے بعد شوہر نے افغانستان میں اس کے والد کو چھ ڈیتھ وارنٹ بھجو ا دیئے یہ ایک مثال ہے کہ طالبان کے دور میں عورتیں کتنی محفوظ ہیں ۔ (انل نریندر)

پیرا ولمپک میں بھارت کی شاندار پر فارمینس!

ٹوکیو اولمپک میں جاری پیرا اولمپک میں بھارت نے تاریخ رقم کر دی ہے ۔ اولمپک ایونٹ میں بھارت نے اب تک کل سات میڈل حاصل کئے ہیں جو پیرا اولمپک میں ہماری شاندار پر فارمینس ہے اس سے پہلے 1984اور 2016میں سب سے زیادہ چار میڈل جیتے تھے 53سال میں بھارت نے کل 19میڈل جیت چکے ہیں اس میں چھ گولڈ ہیں خاص بات یہ ہے کہ ٹوکیو پیرا اولمپک کے اختتام میں ابھی کچھ دن بچے ہوئے ہیں اس لئے میڈل بڑھنے کی امید ہے ٹوکیو میں اونی نے گولڈ جیتنے کے لئے ورلڈ ریکارڈ کی برابری کی ہے دوسری طرف سمت انتل نے بھالا تھرو میں دو بار نیا ورلڈ ریکارڈ بنایا ۔پھر اگلے تھرو میں 68.55میٹر کے ساتھ پھینک کر گولڈ میڈل جیتا 19سالہ اونی جہاں پیرا اولمپک میں ایسا کمال دکھانے والی پہلی ہندوستانی ایتھلیٹ ہیں وہیں سمت نے 68.55میٹر بھالا پھینک کر نیا ورلڈ ریکارڈ بنایا ہے بارہ سال کی عمر میں ایک کار حادثے میں ریڈھ کی ہڈی کی چوٹ نے ان کے لئے چیلنج کھڑ اکر دیا تھا لیکن اس لڑکی اونی نے ہار نہیں مانی اور آج اس کارنامے کے ساتھ کروڑوں نوجوانوں کے لئے تلقین کا ذریعہ بن گئی ہیں ۔ دسکس تھرو میں سلور میڈل جیتنے والے یوگیش بکونیا یا پھر اونچی چھلانگ میں سولر میڈل جیتنے والے نشاد کمار یا بھالا پھینکنے میں تانبے کا میڈل جیتنے والے سندر سنگھ گوجر ہوں ان سب کے کارنامے بتاتے ہیں کہ محنت اور لگن کے ذریعے کتنی بھی بڑی چنوتیوں سے مقابلہ کیا جا سکتا ہے ۔ ٹوکیو پیرا اولمپک میں بھارت اب تک کا سفر بہت شاندار رہا کیونکہ سات میڈل جھولی میں اچکے ہیں ان کارناموں کا جشن منانے کے ساتھ یہ بھی غو ر کیا جا نا چاہئے کہ اپنے دیش میں معذروں کو آج بھی زندگی ہر میدان میں کیسی مشکلوں کا سامنہ کرنا پڑتا ہے۔ اس شاندار مظاہرے سے اور بھی معذور ایتھلیٹ اونچائی چھو سکتے ہیں ۔ہمیں ایسے ایتھلیٹس کو پوری سہولیات دینی چاہئے تاکہ مستقبل میں اور بہتر شاندار پر فارمنس دے سکیں ۔ (انل نریندر)

01 اکتوبر 2021

وزیراعظم کی تصویر و نعرہ ہٹانے کی ہدایت!

سپریم کورٹ نے بڑی عدالت کے سرکاری ای میل میں سب کا ساتھ سب کا وکاس کے نعرہ کے ساتھ وزیراعظم کی تصویر لگی ہونے پر تنازعہ ختم کرنے کے لئے نیشنل انفارمیشن سائن سینٹر کو انہیں ہٹانے اور بڑی عدالت کی تصویر لگانے کو کہا ہے ۔بڑی عدالت کے ذرائع نے بتایا کہ نعرہ اور تصویر انجانے میں این آئی ایس کے ذریعے ڈال دی گئی تھی ۔بڑی عدالت کو ای میل سروس فراہم کرتا ہے ۔کچھ لوگوں نے انجانے میںہوئی غلطی پر تنازعہ کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے ۔سرکاری ای میل میں نیچے کی طرف ایک تصویر ہے جس میں عدلیہ کے کام کاج سے کوئی تعلق نہیں ہے سپریم کورٹ سے آنے والے ای میل اس امیج کو ہٹانے کی ہدایت دی گئی ہے ۔جسے این آئی ایس نے انہیں بڑی عدالت کی تصویر سے تعبیر کر دیا ہے ۔وزیراعظم کی تصویر کی جگہ عدالت کی تصویر لگی تھی ۔ذرائع کے مطابق معاملے کے بعد سپریم کورٹ نے نیشنل انفارمیشن سائنس سینٹر کو اس بات کی سخت ہدایت دی کہ وہ اس اسٹیج پر کسی بھی سارکار ی تفصیلات کو شیئر نہ کریں اس بارے میں این آئی ایس سے پوچھا گیا تو اس نے کہا جمعہ کو اس سلسلے میں اطلاع ملنے و اسٹیج سے ایسی تفصیلات کو ہٹانے کی کوشش شروع کر دی ہے ۔ (انل نریندر)

بم سے اڑایا جنا کا مجسمہ!

پاکستان کی کچلنے والی پالیسیون کے سبب بلوچستان میں ناراضگی کا لاوااب دھماکوشکل اختیار کرنے لگا ہے ۔بلوچستان صوبہ کے گوادر میں پاکستان کے بانی محمد علی جنا کے مسجمے کو اتوار کی صبح ایک بم سے اڑا دیا گیا ۔یہ اسی سال مرین ڈرائیو پر لگایا گیا تھا ۔انگریز ی اخبار ڈان کے مطابق دھماکہ خیز شئی مجسمہ کے نیچے لگائی گئی تھی جس کی وجہ سے یہ مجسمہ پوری طرح تباہ ہو گیا ۔بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق بلوچ رپبلکن آرمی کے ترجمان بابر بلوچ نے ٹوئیٹ کرکے اس دھماکہ کی ذمہ داری لی ہے ۔گوادر کے ڈپٹی میجر عبدالکریم خاں کے حوالے سے بی بی سی اردو نے بتایا کہ معاملے کی اعلیٰ سطحی جانچ جاری ہے ۔جن لوگوں نے مجسمہ کے نیچے بارود لگایا تھا وہ سیاح کی شکل میں آئے تھے ۔ابھی کسی کی گرفتاری نہیں ہوئی ہے لیکن معاملے کی تفتیش پوری کر لی جائے گی ۔بلوچستان کے سابق وزیرداخلہ اور موجود ہ سینیٹر سرفراز بختی نے ٹوئیٹ کیا کہ قاعد اعظم کے مجسمہ کو تباہ کیا جانا پاکستان کے اصولوں پر حملہ ہے ۔میں حکام سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ واردات کو انجام دینے والے کو سخت سزا دی جائے ۔قومی زیارت میں جنا کے مقام پر حملہ کرنے والوں کو دی گئی تھی ۔سال 2013 میں جنا کے 121 سال پرانے گھر پر بم سے حملے کئے گئے تھے ۔جنا کے پوستینی سامان جل کر خاک ہو گئے ۔جنا نے اسی گھر میں اپنی زندگی کے آخری دن بتائے تھے ۔آل انڈیا مسلم لیگ کے لیڈر اور پہلے گورنر جنرل بنائے گئے تھے ۔قابل ذکر ہے کہ بلوچستان کے لوگوں کو اذیتیں وہاں کی معدنی وراثت کو دوہاں سے مقامی لوگوںمیں کافی غصہ ہے اور مقامی لوگ پاکستانی فوجیوں پر مارپیٹ وقتل جیسے الزام لگاتے رہتے ہیں ۔ان وجوہات سے بلوچستان سے پاکستانی فوجوں و سرکار کی مخالفت کرتے ہیں ۔بلوچستان صوبہ میں ایک بحری چوکی پرہوئے حملے میں دو پاکستانی فوجی مارے گئے تھے ۔ (انل نریندر)

یوپی میں کیبنیٹ توسیع کے سیاسی معنی!

اترپردیش کی یوگی سرکار کے ساڑے چار برسوں سے زیادہ وقت گزر چکا ہے ۔ایسے میں جب کچھ مہینے باقی رہ گئے تو کیبنیٹ توسیع کے کیا سیاسی معنی ہیں ؟ اتر پردیش میں یوگی کیبنیٹ کی دوسری توسیع میں بھاجپا نے اپنے سیاسی تجزیہ درست کرنے کی شاندار کوشش کی ہے ۔اتر پردیش اسمبلی چناو¿ کا نوٹیفکیشن جاری ہونے میں مشکل سے چار مہینے کا وقت بچا ہے ۔اس توسیع میں وزیراعلیٰ نے اپنی کیبنیٹ میں ایک کابینہ وزیرا اور چھ وزیرمملکت سمیت سات نئے چہرے شامل کئے ہیں ۔ان چہروں میں ایک براہمن او بی سی اور دو انتہائی پسماندہ طبقہ اور شیڈول ٹرائپ سے ہیں ۔اس توسیع کے بعد اب یوگی کیبنیٹ میں چوبسی کابینہ وزیر 9 آزاد ذمہ داری کے وزیر مملکت اور 27 وزیر مملکت ہو گئے ہیں ۔ان سبھی وزراءمیں تقریباً ہر طبقہ کی سماجی شراکت داری ہے ۔اب کیبنیٹ میں وزیراعلیٰ سمیت چوبیس کیبنیٹ اور 9 آزاد اور 27 وزیر مملکت شامل ہیں ۔دو اقلیتی فرقہ کے بھی نمائندے ہیں ۔اس توسیع میں 9 اور نوجوان چہروں کو ترجیح دی گئی ہے ۔پسماندہ اور دلتوں کی ساجھیداری بڑھا کر ووٹوں کی اچھی داو¿ پیج کی کوشش کی گئی ہے ۔یہ پہلی بار ہے جب کسی ایس پی کو کیبنیٹ میں حصہ داری ملی ہے ۔بیشک کیبنیٹ میں پروانچل کو زیادہ اہمیت ملی ہے وہیں بندیل کھنڈ کو چھوڑ کر ریاست کے سبھی حصوں کو جگہ دی گئی ہے ۔اتر پردیش میں بی جے پی کا اہم مقابلہ سپا اور بسپا سے ہے ۔بسپا برہمنوں کو لبھانے کے لئے اپنے روایتی ووٹوں کو پھر متحد کرنے کی کوشش میں لگی ہے ۔یوگی جی نے کانگریس سے آئے جتن پرساد کو وزیربنا کر برہمنوں کو بی جے پی کے ساتھ جوڑنے کا موقع دیاہے ۔مودی ماڈل کو مثالی ماننے والے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی کیبنیٹ توسیع میں اس کا عکس صاف دکھاءدیتا ہے ۔یوگی نے یہ اشارہ دینے کی کوشش کی ہے کہ ان دونوں محروم طبقوں کو اصلی ساجھیداری صرف انہوں نے دی ہے ۔بھاجپا کا فوکس بڑے ناموں پر نہ ہو کر مقامی اور توقع سے زیادہ نوجوانوں پر رہا ہے ۔2014 کے لوک سبھا کے چناو¿ میں دیگر پارٹیوں کے ساتھ انتہائی پسماندہ طبقوں کی چھوٹی چھوٹی برادریوں کو لیکر جو تجربہ کیا گیا تھا وہ 2017 کے اسمبلی چناو¿ میں زبردست جیت دلانے والا ثابت ہوا تھا اس بار بھی بھاجپا نے ویسے ہی گوٹیاں پھر چلنے کی کوشش کی ہے جیسا کہ ہوتا ہے بڑی اپوزیشن پارٹیوں نے کیبنیٹ توسیع پر یہ طنز کیا ہے کہ یہ کوشش کسی کام آنے والی نہیں ہے ۔وہ کہتی ہیں کہ ریاست میں حال ہی میں ہوئے پنچایت چناو¿ اس کا ثبوت ہیں ہمارا خیال ہے کہ پچھلے کچھ وزراءکو ہٹا کر وزیراعلیٰ نے ناراض سیکٹر کو کم کرنے کی کوشش کی ہے ۔نئے نوجوان وزیرآنے والے مہینوں میں ٹھوس کام کرکے سرکار کی امیج اور بہتر بنانے میں مدد کر سکتے ہیں کل ملا کر یوگی کے ذریعے یہ کیبنیٹ توسیع بھاجپا کے لئے سبھ ثابت ہو سکتی ہے ۔ (انل نریندر)

30 ستمبر 2021

فوج ہٹی تو کشمیر میں آئے گا طالبان راج!

برطانوی پارلیمنٹیرین باب بلیک مین نے خبر دار کیا ہے کہ کشمیر سے اگر ہندوستانی فوج ہٹی تو اسلامی کٹر پسند طاقتیں وادی کشمیر کا حال بھی افغانستان جیسا کر دیں گی انہوں نے کہا کہ اگر فوج ہٹی تو ان اسلامک شدت پسندو ں کو کوئی روکنے والا نہیں رہے گا ریاست میں طالبان راج جیسے حا لات بن جائےں گے کشمیر معاملے پر برطانوی پارلیمنٹ میں بحث کے دوران کہا کہ ہندوستانی فوج کا کشمیر میں جمہوریت قائم رکھنے میں اہم رول ہے ۔ اصل میں آل پارلیمانی گرو پ برائے کشمیر کی طرف سے ایم پی گیبی ابراہم و پاکستانی نژاد ایم پی یاسمین قریشی نے برطانوی پارلیمنٹ کے نچلے ایوان ہاوس آف کامنس میں کشمیر میں انسانی حقوق کے حالات پر تجویز رکھی تھی بحث کے دوران 20سے زیادہ ایم پی نے اپنی رائے رکھی تھی اس مسئلے پر تجویز کی مخالفت کو لیکر لیبر پارٹی ایم پی بیری گارڈنیئر نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کو پناہ دیتا ہے۔ بر سوں تک پاکستان نے طالبانیوں کو پناہ دی ۔ آئی ایس آئی نے دہشت گرد تنظیموں کی ہر طرح سے مدد دی نتیجہ امریکہ اور برطانیہ کو افغانستان کے ہٹنا پڑ ا۔ (انل نریندر)

روہنی شوٹ آوٹ :موقع پر چار شوٹر تھے !

روہنی عدالت میں شوٹ آوٹ کی تفصیلا ت آہستہ آہستہ سامنے آرہی ہے ۔حملہ آور کار پر وکیل کورٹ کا اسٹیکر لگاکر عدالت کمپلکس میں گھسے تھے جس وجہ سے داخل ہونے میں کوئی دقت نہیں آئی اور ساتھ ہی انہوں نے وکیل کی پوشاک بھی پہن رکھی تھی ۔ اسپیشل سیل نے ونے اور امنگ نام کے دو افراد کو گرفتای کے ساتھ ہی اس کار کو بھی ضبط کر لیا ہے ۔ امنگ نے تو وکالت پڑھ رکھی تھی اور اس کے پاس وکیل کا ڈریس پہلے سے ہی تھا وہ بھی کورٹ میں گیا تھا پولس کے حکام کے مطابق کورٹ سے واپس امنگ کار کو سیدھے گھر لے گیا اس نے داڑھی بڑھا رکھی تھی گھر پہنچتے ہی اس نے پولس سے بچنے کیلئے داڑھی کاٹ لی اس کے بعد وہ گھر نہیں رہا اسپیشل سیل کے انسپیکٹر ونود بڑولہ کی ٹیم نے امنگ کو شوٹ آوٹ کے کچھ وقفہ کے بعد ہی پکڑ لیا ۔ اب پتا لگا ہے کہ روہنی عدالت میں بدمعاش جیتندر عرف گوبی کے قتل کیلئے چار شوٹر پہنچے تھے اور اس کو ٹھکانے لگانے کے بعد جج صاحب کے سامنے سرینڈر کر نا تھالیکن بدمعاش کے پاس وکیل کی وردی میں کالی پینٹ نہ ہونے کے سبب عین وقت پر پلان بدلنا پڑ ا اس کے تحت دو بدمعاچ کورٹ کے باہر ہی رکگئے تھے جبکہ دو شوٹر ہی اندر داخل ہوئے جو واردات کے دوران مارے گئے ۔ معاملے میں گرفتار بدمعاش امنگ کافی عرصے سے ٹلوں گینگ سے جڑا ہے جبکہ ونے اس کا قریبی ساتھی ہے دونو ں ملزم کورٹ روم میں مارے گئے میرٹھ کے باشندے راہل تیاگی عرف نیتن و سونی پت کا باشندہ جگا کو واردات سے پہلے آئی 10کار سے کورٹ لیکر آئے تھے ملزم ونے نے واردات والے دن شوٹروں کے فون اور کپڑوں کو ٹھکانے لگایا تھا ۔ امنگ یادووغیرہ نے تین دن تک کورٹ کی ریکی کی تھی شوٹروں کو وکیلوں کے بھیس میں عدالت کے کمرے میں جانا تھا اور اس کے بعد بدمعاش گوبی کو مارکر جج صاحب کے سامنے سرینڈر کر نا تھا ۔اور پلان بنا تھا کہ سرینڈر کے بجائے بھاگ کر کار تک پہنچنا تھا بدمعاش امنگ اور ونے کورٹ کے باہر شوٹروں کا انتظار کر رہے تھے لیکن اچانک کورٹ میں افر تفری مچ گئی ۔ پتہ چلا کہ دونوں شوٹروں کو پولس کمانڈونے مار گرایا ہے اس کے بعد امنگ ونے وہاں سے فرار ہو گئے ۔ (انل نریندر)

نکسلیوں کے خلاف لڑائی فیصلہ کن مرحلے میں !

مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے اتوار کو نکسل متاثر ہ ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے اس مسئلے کے حل کے لئے ترجیح دینے کی درخواست کی ہے تاکہ ایک سال کے اندر اس خطرے کو کم کیا جا سکے ۔ نکسلیوں کو ملنے والے پیسے کو روکنے کے لئے ایک مشترکہ حکمت عملی بنانے کو کہا ہے ۔ سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ نکسلیو کے خلاف اب لڑائی آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہے وزیر داخلہ نے نکسل متا ثرہ وزرائے اعلی اور وزراء،اور سینئر حکام سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ کٹر پسندی کے سبب تشدد میں مرنے والوں کی تعداد ایک سال میں گھٹ گئی ہے یہ مٹینگ تین گھنٹے تک چلی اس دوران ماو¿وادیوں کی بڑی تنظیموں کے خلاف کاروائی ،سکورٹی کے زون میںخالی پن کوبھر نے اور انفورسمنٹ واین آئی اے اور ریاستی پولس کے ذریعے ٹھوس کاروائی جیسے دیگر مسئلوں پر قدم اٹھانے پر غور کیا گیا۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنر جی چھتیس گڑھ کے وزیراعلی بھوپیش بھگیل اور کیرل اور آندھرا کے وزیر اعلیٰ میٹنگ میں شامل نہیں ہوئے۔ لیکن ان چار ریاستوں کی نمائندگی وہاں کے سینئر حکام نے کی میٹنگ میں نکسلیوں کے خلاف لڑائی تیز کرنے اور ان کو ملنے والی مالی مدد روکنے اور نکسلیوں سے جڑی بڑی تنظیموں کے خلاف کاروائی کرنے اور ریا ستوں و ان کی خفیہ مشینری اور اسپیشل فورسیز میں تال میل پر بھی غور کیا گیا اور ان نکسلی متا ثرہ علاقوں میں تھانے بنانے پر بھی غور کیا گیا ۔ اور ترقی کی اسکیمو ں کا بھی جائزہ لیا ۔مرکزی وزارت داخلہ نے دیش میں نکسلی تشدد میں کمی آنے کا دعوی کیا اور بتایا کہ یہ خطرہ تقریبا ً 45ضلعوں میں ہے ۔ حلانکہ دیش کے 90فیصد ضلعوں کو ماو¿وادی متاثرہ ماناجا تا ہے ۔ یہ مسئلہ 2019سے شروع ہوا ہے دیش میں 2015-20تک کمیونسٹ ماو¿وادی متاثرہ علاقوںمیں مختلف تشدد کی وارداتوں کے سبب 380سیکورٹی جوان اور 1000شہری ،900نکسلی مارے گئے سرکاری تفصیلات میں بتا یا گیا کہ اس میعاد میں 4200نے خود سپردگی کی ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اب وزیر داخلہ امیت شاہ سے خود حکمت عملی سیکھ لی ہے تو اس برننگ مسئلے کا ضرور کوئی حل نکل سکے گا۔ (انل نریندر )

29 ستمبر 2021

ہاتھ پیر کاٹنے کی سزاشروع کرے گا طالبان !

پاکستان کی طالبان سرکار نے غیر انسانی طریقہ کو پھر شروعات کرے گا ۔وزیر جیل ملا نصرالدین ترابی نے اعلان کیا ہے جرائم پیشہ افراد کے ہاتھ پیر کاٹنے کی سزا طے کی گئی ہے ۔اس بار شریعت کے تحت سزا کو کھلے طور پر نہیں بتایا جائے گا ترابی کا کہنا ہے اس طرح کی کھلے عام سزا دینے پرلوگوں میں کسی طرح کی مخالفت نہیں ہے اس نے خبردار کیا۔سزا کے اس طریقہ پر دنیا کا کوئی دیش دخل نہ دے کیوں کہ یہ اسلام اور قرآن شریف سے جڑامعاملہ ہے ۔جب ہم دنیا بھر کے مختلف دیشوں میں سزا دینے کے طور طریقوں میں دخل نہی دیتے تو کسی کو بھی دیش کے معاملو میں دخل کا حق نہیں ہے ۔ترابی کا کہنا ہے فی الحال کچھ معاملوں میں خاتون ججوں کی بھی تقرری کی جا سکتی ہے لیکن سزا دینے کی بنیاد اسلامی قانون ہی رہے گی ۔تقریباً 60 سالہ ترابی پہلے بھی طالبان سرکار میں قانون منتری رہ چکا ہے ۔1980 کی دہائی مں سوبیت فوجوں سے لڑائی کے دوران اپنی ایک آنکھ اور ایک پیر گنوا چکا ہے ۔ترابی طالبان کے بانیوں میں سے ایک ہے پچھلی سرکار میں شر عام سزا شروع کرنے کے پیچھے اس کا ہی ہاتھ تھا اس کا کہناتھا ملزم کے ہاتھ پیر کاٹنے سے جرم کا برھاوا نہیںہوتا او ر قانون کابھی ڈر رہتا ہے ۔ (انل نریندر)

جان بوجھ کر جج کو ٹکر ماری گئی تھی !

دھنباد کے جج اتم آنند کے قتل کے معاملے کی جھارکھنڈ ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران سی بی آئی کے جوائنٹ ڈائرکٹر نے اپنا موقف رکھا کہا کہ سی بی آئی ہر پہلو کی جانچ کررہی ہے ۔اور کسی بھی پہلو کو چھوڑا نہیں جائے گا ۔سی بی آئی افسر نے کہا کہ پکڑے گئے ملزمان میں سے ایک پیشہ آور چور ہے ۔وہ جانچ ایجنسی کو ہر بار نئی کہانی بتا کر گمراہ کرنے کی کوشش کررہا ہے لیکن سی بی آئی کے بیس افسر اس سے سخطی سے پوچھ تاچھ کررہے ہیں ۔اب بالکل صاف ہے کہ جج کو جان بوجھ کر ٹکر ماری گئی تھی دس ستمبر کو ہوئی پچھلی سماعت کے دوران عدالت نے سی بی آئی تفتیش پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے سی بی آئی کے زونل ڈائرکٹر کو عدالت میں حاضر ہونے کے احکامات دئیے تھے ۔عدالت نے سی بی آئی کو ہر ڈولپمنٹ رپورٹ دینے کو کہا تھا ۔لیکن اس میں کچھ بھی نیا نہیں ہے اس معاملے میں لکھن اور راہل ورما کو پولیس نے 20 جولائی کوگرفتار کیاتھا ۔16 ستمبر کو عدالت نے کہا تھا کہ واردات کے وقت کے حالات بیان کررہے ہیں کہ یہ سوچی سمجھی سازش تھی ۔دن دہاڑے ایک جوڈیشیل افسر کو مار ڈالا گیا ہمیں رزلٹ چاہے صرف رپورٹ سے کام نہیں چلے گا ۔سی بی آئی صرف دو لوگوں سے آگے نہیں بڑھ سکی ہے آٹو ڈرائیور نے دھکا مار کر جج کوکیوں مار ڈالا ؟ یہ معمہ ابھی تک حل کیوں نہیں ہو سکا؟ بتا دیں دھنباج کے جج اتم آنند صبح ساڑھے پانچ بجے مارننگ واک پر نکلے تھے ۔اسی دوران پیچھے سے ایک آٹو نے ٹکر مار دی ۔وہ سڑک پر گرے وہیں ان کی موت ہوگئی ۔سی سی ٹی وی فوٹیج سے صاف تھا آٹو میں جج کو زبردستی ٹکر ماری تھی ۔ (انل نریندر)

پیگاسس کی منصفانہ تحقیقات کا سوال!

جمہوریت میں کسی بھی محاذ پر شبہہ کی گنجائش کم سے کم ہونی چاہیے اسی سمت میں سپریم کورٹ کی طرف سے آیا اظہار نامہ قابل خیر مقدم ہے کہ پیگاسس معاملے کی جانچ کے لئے سپریم کورٹ کے لئے ایک مخصوص کمیٹی تشکیل کرے گی ۔چیف جسٹس این وی رمن کی سربراہی والی بنچ سے اس معاملے میں آزادانہ جانچ کی درخواست کرنے والی عرضیوں پر اگلے ہفتے حکم جاری ہونے کی امید ہے ۔ویسے بہتر یہی ہوتا کہ مرکزی سرکار اپنے ہی سطح پر معاملے کو آگے بڑھنے نہیں دیتی اس تکنیکی ماہر کمیٹی کے ممبران کی تقرری بھی بڑی عدالت کے ذریعے کی جائے گی اس سلسلے میںبڑی عدالت کا ارادہ جانچ کمیٹی کے سلسلے میں حکم اسی سماعت میں پاس کرنے کا تھا ۔لیکن کچھ ان لوگوں کے جنہیں عدالت کمیٹی نہیں رکھناچاہتی تھی وہ شخصی وجہوں سے کمیٹی کا ممبر بننے سے انکار کر دینے کے سبب ایسا نہیں ہو پایا ۔چیف جسٹس اس بنچ کی رہنمائی کررہے ہیں جس کے پاس ان عرضیوں کا ایک پورا گروپ ہے جن میں غیر قانونی جاسوسی کی جانچ عدالت کی نگرانی میں کرانے کی مانگ کی گئی تھی ۔عدالت نے تین ستمبر کو اپنا حکم محفوظ رکھ لیا تھا.جہاں تک مرکزی سرکار کی بات ہے تو اس نے یہ سامنے لانے سے انکار کر دیا تھا کہ اس کی ایجنسیوں نے اسرائیل کے ساف وئیر کا استعمال کیا ہے یا نہیں ؟ سرکار کو ایسے جواب کے لئے سپریم کورٹ کے پاس کوئی متبادل نہیں رہ گیاتھا ۔وہ خود جانچ کمیٹی قائم کریں اب سپریم کورٹ کی بنچ اس پہل سے جہاں عدلیہ کے تئیں اعتماد میں اضافہ ہوگا وہیں سرکاری ایجنسیوں کے ساتھ ٹکراو¿ میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے ۔امید کی جانی چاہیے کہ کسی طرح کا آئینی بحران نہ پیدا ہو دھیان رہے سرکار اگر جانچ کو روکے گی تو ان لوگوں کو جواب دینا پڑے گا ۔بڑا سوال یہ نہیں ہے کہ ان لوگوں کی جاسوسی کی گئی بڑی تشویش یہ ہے کہ کیا غیر ملکی سافٹ ویئر کا من مانا استعمال ہوا ہے ۔سافٹ ویئر کا استعمال کا فیصلہ من مانا ہوا ۔سافٹ ویئر کا استعمال کس نے کیا ؟ چیف جسٹس کا اشارہ اس معنی میں اہم ہے کہ خود سرکار نے تین ستمبر کو ہی سماعت کے دوران پرائیویسی کی عدالی کے الزمات کے لئے اسپیشل کمیٹی بنانے کی تجویز رکھی تھی ۔سرکار کا کہنا تھا کہ وہ جو کمیٹی بنائے گی وہ سپریم کورٹ کے تئیں جواب دہ ہوگی ۔عرضی گزار کا کہنا تھا کہ سرکار کو خود جانچ کمیٹی بنانے کی اجازت کیوں کی جائے ؟ تب حکومت نے یقین دلایاتھا کہ کمیٹی سرکار کا کوئی کنٹرول نہیں ہوگا سرکار کی یہ پیشکش اس وقت سامنے آئی جب بڑی عدالت نے پرائیویسی کی خلاف ورزی کے الزامات پر سخت رخ اپناتے ہوئے اس سے مفصل حلف نامہ دینے کو کہا تھا ۔لیکن سرکار نے قومی سلامتی کا حوالہ دیتے ہوئے مفصل حلف نامہ دینے سے انکار کررہی تھی ۔اس معاملے میں سرکار پر اسرائیلی کمپنی این ایم او کے پیگاسس سافٹ ویئر کے ذریعے سیاست دانوں وکیلوں ،سرکاری افسروں اور صحافیوں کی ناجائز طریقہ سے جاسوسی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے جانچ کی مانگ کی تھی ۔سرکار نے سیکورٹی کا حوالہ دیتے ہوئے زیادہ تفصیل دینے سے انکار کر دیا ۔عدالت کا یہ نظریہ تھا کہ پرائیویسی کی عدالی کے الزام جن افراد نے لگایا ہے ان کے الزامات کی جانچ سے قومی سلامتی کا کوئی لینادینا نہیں ہے ۔اس معاملے میں شبہہ اس وقت بڑھا جب انٹرنیشنل میڈیا کی سرخیاںبننے کے بعد اسرائیلی کمپنی نے صاف کر دیا تھا کہ اس نے اپنا سافٹ ویئر سرکاری ایجنسیوں کے علاوہ کسی کو نہیں بیچا۔ (انل نریندر)

28 ستمبر 2021

پی ایم کیئرز فنڈ سرکاری نہیں ہے؟

پی ایم کیئرز فنڈ بھارت کا سرکاری فنڈ نہیں ہے۔ اس کے تحت جمع کی گئی رقم حکومت ہند کے جمع فنڈ (فنڈ) میں نہیں ڈالی جاتی۔ وزیر اعظم آفس (پی ایم او) نے دہلی ہائی کورٹ میں یہ معلومات دی ہے۔ یہ معلومات سمیپ گنگوال نامی شخص کی جانب سے اس فنڈ کو جمع کرنے کے لیے وزیر اعظم کے عہدے ، نام ، قومی علامت کے استعمال کی وجہ سے اسے سرکاری فنڈ قرار دینے کے لیے دائر درخواست کی سماعت میں دی گئی۔ پیم ان کے انڈر سکریٹری پردیپ کمار سریواستو نے حلف نامے میں بتایا کہ وہ پی ایم کیئرز ہیں۔ٹرسٹ میں اعزازی بنیادوں پر اپنی خدمات پیش کرنا۔ ٹرسٹ مکمل شفافیت کے ساتھ کام کر رہا ہے اور اس کے تمام فنڈز کے آڈٹ سی اے نے کیے ہیں جنہیں کنٹرولنگ آڈیٹر جنرل نے شامل کیا ہے۔ ان کا فریق سننے کے بعد جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس انل بنسل نے کیس کی اگلی سماعت 27 ستمبر کو مقرر کی ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے دہلی ہائی کورٹ میں پی ایم کیئرز فنڈ کو گورنمنٹ آف انڈیا فنڈ قرار نہ دینے کے ایک دن بعد ، اپوزیشن جماعتوں نے زیادہ شفافیت کا مطالبہ اٹھایا اور اگر ایسا ہے تو ، سرکاری ملازمین کو اس میں عطیہ دینے کے لیے کیوں کہا گیا اور حکومت ویب سائٹس پر اس میں چندہ کی جنس کیوں ہے؟ پی ایم کیئرز کو عطیہ کرنے کے لیے لنکس سرکاری سرکاری ویب سائٹس جیسے india.gov.in اور وزارت خزانہ کے تحت اخراجات کے طیارے پر دستیاب ہیں۔ ایک ہی وقت میں ، ڈاٹ gov.in پی ایم کیئرز فنڈ کا آفیشل پورٹل بھی ہے۔ تاہم ، مرکزی وزارتوں اور محکموں کی کئی ویب سائٹس نے اب پی ایم کیئرز کے لنکس کو ہٹا دیا ہے۔ سی پی آئی (ایم) کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری نے اپریل 2020 کے حکومتی حکم کو ٹویٹ کرتے ہوئے سرکاری ملازمین سے ایک دن کی تنخواہ عطیہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر پی ایم کیئرز فنڈ سرکاری فنڈ نہیں ہے تو پھر ایسا حکم کیسے جاری کیا جا سکتا ہے؟ کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے کہا کہ یہ ایک فنڈ ہے جو پی ایم اور پی ایم کے لیے چلتا ہے۔ وزیراعظم کے نام پر فنڈ کیا سرکاری فنڈ نہیں ہے؟ لوگوں کی ذہانت کا ایک مضحکہ خیز مذاق ہے۔ (انل نریندر)

کیپٹن امریندر سنگھ نے کی بغاوت

پنجاب میں اقتدار ہونے کے باوجود کانگریس میں اختلاف پچھلے کچھ عرصے سے ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ حالانکہ حال ہی میں ، وزیراعلیٰ کے عہدے سے بڑی تبدیلیاں کرتے ہوئے ، ایک کوشش کی گئی کہ کیپٹن امریندر سنگھ اور نوجوت سنگھ سدھو کے درمیان باہمی تنازعہ ختم ہوگا ، لیکن کیپٹن کو ہٹانے کے بعد ، دونوں کے درمیان یہ تنازعہ الٹ گیا . گاندھی خاندان کے خلاف محاذ کھولتے ہوئے کیپٹن امریندر سنگھ نے کہا کہ راہل-پریانکا بہت ناتجربہ کار ہیں اور ان کے مشیر انہیں گمراہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے نوجوت سنگھ سدھو پر غصہ بھی نکالا۔ انہوں نے دہرایا کہ وہ ملک کے لیے خطرناک ہیں۔ میں اسے کسی بھی صورت میں وزیراعلیٰ نہیں بننے دوں گا۔ میں ملک کو ایسے خطرناک آدمی سے بچانے کے لیے کسی بھی قربانی کے لیے تیار ہوں۔ قابل ذکر ہے کہ کانگریس کی پنجاب یونٹ میں دھڑے بندی اور اندرونی لڑائی کی وجہ سے کیپٹن امریندر سنگھ نے حال ہی میں ریاست کے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ امریندر سنگھ نے اپنے کئی انٹرویوز میں کہا: ” پریانکا اور راہل میرے بچوں کی طرح ہیں۔ اس طرح نہیں ہونا چاہیے تھا۔ میں ایم ایل اے کو ہوائی جہاز سے گوا یا کسی اور جگہ نہیں لے گیا۔ میں اس طرح کام نہیں کرتا ہوں۔ میں چال بازی نہیں کرتا اور گاندھی بھائی جانتا ہے کہ یہ میرا راستہ نہیں ہے۔ امریندر سنگھ نے اصرار کیا کہ گاندھی کے بچے بڑی حد تک ناتجربہ کار ہیں اور ان کے مشیر انہیں واضح طور پر گمراہ کر رہے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ امریندر سنگھ نے اپنے موقف کا غیر اعلانیہ فیصلہ کیا ہے۔ کسانوں کی تحریک کے پس منظر میں ، بی ایس پی نے اکالی دل کے ساتھ اتحاد کیا ہے ، جو نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج میں بی جے پی سے الگ ہو گیا ، دوسری طرف عام آدمی پارٹی بھی اس کے ساتھ میدان میں ہے۔ وعدہ ایسی صورت حال میں کانگریس کے لیے یہ چیلنج مزید گہرا ہو گیا ہے کہ وہ اسمبلی انتخابات میں اپنے لیے کتنا اور کیا بچا سکتی ہے ، وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کے بعد پیدا ہونے والے تناو¿ کے درمیان۔ (انل نریندر)

روہنی کورٹ میں شوٹ آو ¿ٹ

دہلی کی روہنی ڈسٹرکٹ کورٹ کے اندر گینگ وار اور پولیس کی فائرنگ چونکا دینے والی ہے ، لیکن حالیہ برسوں میں دارالحکومت اور اس کے آس پاس جرائم پیشہ گروہوں کے درمیان پرتشدد دشمنیوں کے پیش نظر غیر متوقع نہیں۔ یہ واقعہ مجرموں کے بڑھتے ہوئے حوصلے کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔ گینگسٹر جتیندر مان عرف گوگی ، جسے جمعہ کی سہ پہر روہنی عدالت میں لایا گیا تھا ، کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ معاملہ اس وقت پیش آیا جب گوگی کی پیشی اے ایس گگندیپ سنگھ کی عدالت میں ہو رہی تھی۔ گوگی کو اسپیشل سیل کے ذریعے کمرہ عدالت میں دوپہر 1 بجے کے قریب لایا گیا۔ اس وقت دو بدمعاش راہل ، یوپی بگواٹ کے رہنے والے اور جگدیش عرف جگا ، جو بکر والا کے رہائشی تھے ، کمرہ عدالت میں وکیل کے طور پر بیٹھے بیٹھے تھے ، جنہیں دیکھ کر گوگی نے ان پر فائرنگ کردی۔ افراتفری کے درمیان ، اسپیشل سیل کی ٹیم کے علاوہ ، تیسری بٹالین کی ٹیم نے بھی AK-47 سے فائرنگ کی۔ کمرہ عدالت کے اندر اس فائرنگ کے دوران پولیس نے دونوں شرپسندوں کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا۔ زخمی اور بے ہوش ، گوگی کو قریبی ہسپتال لایا گیا ، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ عدالت کے احاطے کے اس فائرنگ کے تبادلے میں بھگدڑ مچنے سے ایک خاتون وکیل بھی زخمی ہوئیں۔ اگرچہ سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ پولیس افسر نے بتایا کہ تہاڑ جیل میں بند گوگی کو پروڈکشن کے لیے دہلی پولیس کورٹ لایا گیا۔ دونوں شرپسند پہلے ہی وکیل کے لباس میں عدالت میں موجود تھے۔ پولیس نے بتایا کہ گینگسٹر گوگی کی پروڈکشن کے دوران مذکورہ کمرہ عدالت کو سیکورٹی کے لیے پیشگی خالی کر دیا گیا تھا۔ کسی کو بھی عدالت کے کمرے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی سوائے جج ، جج کے عملے ، وکلاءاور پولیس ٹیم کے۔ یہی وجہ ہے کہ شرپسندوں کی فائرنگ کے بعد پولیس کی فائرنگ میں صرف تین افراد ہلاک ہوئے۔ بصورت دیگر عام حالات میں زیادہ لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو سکتے تھے۔ دونوں شرپسند پہلے ہی روہنی کورٹ نمبر 207 وکیل کا لباس پہنے ہوئے تھے۔ جس نے گوگی کو دیکھ کر فائرنگ شروع کر دی۔ اس فائرنگ میں گوگی کو تقریبا eight آٹھ گولیاں لگیں جس میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ فائرنگ کے بعد دونوں شرپسندوں نے اس گیٹ سے باہر نکلنے کی کوشش شروع کردی جس سے ججز کمرہ عدالت میں داخل ہوتے ہیں۔ عدالت میں سپیشل سیل کے ساتھ تیسری بٹالین کے کمانڈوز نے شرپسندوں پر فائرنگ شروع کر دی لیکن پولیس نے انہیں ہلاک کر دیا۔ مجموعی طور پر جج کے سامنے تقریبا 40 40 راو¿نڈ فائر کیے گئے۔ تازہ ترین واقعے میں ، پولیس سکواڈ ، جسے عدالت لے جایا گیا تھا ، ضرور خوفزدہ تھا کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہو سکتا ہے ، اس لیے وہ مسلح ہو کر حملہ آوروں کو مارنے میں کامیاب ہو گئے۔ ایسے میں اسے دہلی پولیس کی بڑی کامیابی کہا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کے سامنے چیلنج یہ ہے کہ وہ اس طرح کے شرپسندوں میں خوف پیدا کر کے جرائم کو کیسے روک سکتا ہے۔ پچھلے کچھ دنوں سے دہلی میں مجرموں کے حوصلے بہت بڑھ گئے ہیں۔ وہ زمین پر تجاوزات ، بےپردگی سے سواری لے کر قتل کرنے جیسے واقعات کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس کو روکنا ضروری ہے۔ عصمت دری ، چھیڑ چھاڑ ، بھتہ خوری کرنے والے بھی خوفزدہ نہیں ہوتے۔ پولیس کی کامیابی اس حقیقت پر غور کی جائے گی کہ یہ مجرموں کے ذہنوں میں خوف پیدا کر سکتی ہے۔ (انل نریندر)

26 ستمبر 2021

کنڈلی نہ ملے تو نہیں توڑ سکتے شادی !

بامبے ہائی کورٹ نے ایک 32سالہ شخص کو بد فعلی اور دھوکہ دھڑی معاملے میں بری کرنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ ملزم کنڈلی نہ ملنے کا بہانہ بنا کر شادی کا وعدہ نہیں توڑ سکتا ہے ۔ بمبئی ہائی کورٹ کی بنچ نے پیر کو ایک عرضی گزار ابھییشیک مترا کو عرضی کو خارج کر دیا اس میں کورولی پولس تھانے میں درج بد فعلی اور دھوکے دھڑی کے مقدمے دے مترا کو بری کرنے کی مانگ کی گئی تھی مترا کی طرف سے وکیل راجا ٹھاکرے نے دلیل تھی شکایت کنندہ خاتون کے ساتھ ان کو موکل کنڈلی ملان نہ ہونے کے سبب رشتہ آگے نہیں بڑھا سکتا ہے ساتھ ہی یہ بھی دلیل دی تھی کہ معاملہ بد فعلی یادھوکہ دھڑی کا نہیں ہے بلکہ وعدہ توڑنے کا ہے حالانکہ بنچ نے وکیل کی ان دلیلوں کو مسترد کر دیا اور کہا کہ ثبوت صاف اشارہ کرتے ہیں کہ ملزم شکایت کنندہ سے شادی نہ کرنے کا وعدہ کا ارادہ نہیں تھا ملزم اور شکایت کنندہ دونوں ہی ایک دوسرے کو 2012جانتے ہیں دونوں نے جب ایک پانچ ستارہ ہوٹل میںکام کیا تو تب سے وہ ایک دوسرے سے رشتے میں رہے ہیں اس دوران ملزم نے شادی کا وعدہ کرتے ہوئے اس سے کئی بار جسمانی رشتے بنائے لیکن ملزاس کے بعد شکایت کنندہ جب ناراض ہوئی تو اس نے ملزم سے شادی کرنے کے لئے کہا لیکن ملزم نے شادی کرنے سے ہم دونوں شادی کے لئے مچو رنہیں ہیں جس کے بعد لڑکی نے الزام لگایا کہ اس نے زبردستی حمل گروایا دیا یہ شادی کا جھوٹے کا معاملہ ہے اور یہ صاف ہے کہ شکایت کنندہ مرضی کے خلاف ہے ،۔ (انل نریندر)

امریکہ ہوانا سینڈروم کو روس کی سازش بتا رہا ہے !

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی کے ڈائریکٹر ولیم برنس کے ساتھ اس مہینے بھارت دورے پر آنے والے ایک خفیہ افسر نے ہوانا سینڈروم کی طرح سازشوں کی شکایت کی ہے امریکی میڈیا رپورٹ میں یہ جانکاری دی گئی ہے یہ تب ہے جب برنس کا یہ دورہ بہت خفیہ تھا انہوں نے قومی سیکورٹی مشیر اجیت ڈوبھال کے ساتھ افغانستان بحران پر بہت ہی سنجیدہ بات چیت ہے ہوانا سینڈروم ایک پر اسرار بیماری ہے جس دیش اور بیرون میں امریکی سفارت کارون اور جاسوسوں و دیگر سرکار ی ملازمین کو اپنی زد میں لے لیا ہے سی این این نے نا معلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ افسر کو میڈیکل مدد لینی پڑی بتایا گیا کہ سی آئی کے کچھ افسران کا ماننا ہے کہ اس واردات کے ذریعے برنس کو سیدھے اشارہ دیا گیاہے خفیہ ایجنسی کے لئے کام کرنے والوں میں کوئی محفوظ نہیں ہے امریکہ کہ نیشنل اکیڈمی آف سائنس کی ایک اسٹڈی کے مطابق ہوانا سینڈروم کی وجہ مائیکرو ویب کی شکل میں کسی بھی ٹارگیٹ پر مار کر سکتے ہیں ایسے ہتھیار سب سے پہلے سو ویت یونین نے بنائے تھے کچھ ماہرین کے مطابق یہ آوازیں محذ ہسٹریا دوسروں سے سن کر خود کی چیخ محسوس کرنا کی وجہ ہو سکتا ہے مشی گن یونیورسٹی کے ماہرین نے اندیشہ جتایا تھا کہ یہ کیوبا میں جگہ جگہ لگائے نگرانی آلات کی آوازیں ہو سکتی ہیں اس میں سی آئی اے ڈائریکٹر ولیم برنس کہتے ہیں کہ ممکن ہے یہ سینڈروم انسان کے جسم میں ہوں تو اس کے پیچھے روس کا ہاتھ ہو سکتا ہے اس واقع کو لیکر امریکہ بہت سنجیدہ ہے اور یہ واقعہ بھارت کے لئے تشویش ناک ہے اس واقعہ کا ممکنہ پتہ لگانے کے لئے فوراً قدم اٹھانا چاہئے یہ اس لئے بھی سنگین ہے کی امریکی مخالفین دیش نے اس حرکت کےلئے بھارت کا استعمال کیا ہے ۔ (انل نریندر)

مہنت نریندر گری کی خود کشی پر تازہ ویڈیو سے شبہ گہرا ہوا !

اکھاڑ ہ پریشد کے صدر مہنت نریندر گری مشتبہ موت کی سی بی آئی جانچ کے لئے ریاستی سرکار نے سفارش کی ہے لیکن ان کی موت کا معمہ ابھی بنا ہوا ہے نریندر گری کی موت کے فوراً بعد کے ایک ویڈیو سے ان کے خودکشی کرنے پر شبہہ اور گہرا ہو گیا ہے ان کے قریبی اور اکھاڑہ سے وابستہ سادھو سنت پہلے ہی اس پر شبہہ ظاہر کر رہے تھے مہنت نریندر گری کی موت کے بعد کا قریب 1منٹ 45سیکینڈ کا اس ویڈیو کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ ٹھیک اس وقت کا ہے جب پولس وہاں پہونچی تھی اس سے پہلے وہاں موجود لوگوں نے کمرہ کا دروازہ توڑ کر مبینہ طور پر پھانسی پر لٹکے مہنت کو نیچے اتار لیا گیا تھا پریاگ راج میں پولس افسر سرکاری طورسے اس ویڈیو کے بارے میں کچھ نہیں رائے زنی کر رہے ہیں لیکن ایک افسر نے شک کے ساتھ بتایا کہ یہ ویڈیو کے ثبوت اور صحیح ہونے کی تصدیق کی ہے نریندر گری کی لاش جس کمرے میں لٹکی ملی تھی اس کمرے کا پنکھا تیزی سے چل رہا تھا اس کے اوپر نیلون کی پیلی رسی کا ایک ٹکڑا لٹکا ہوا تھا جب کہ باقی حصہ ٹوٹا پڑ ا تھا ویڈیو میں پولس کے افسران کے کمرے کے دروازے پر کھڑے مہنت کے چیلوں سے اس بارے پوچھ تاچھ کی اوروہ کہہ رہے ہیں کہ وہ دروازہ توڑکر لاش کیوں اتاری گئی ویڈیو میں مہنت گری کیلاش فرش پر رکھی دکھائی دے رہی ہے گردن میں نیلون کی پیلی رسی کا ٹکڑادکھائی پڑ رہا ہے باقی ٹکڑا میز پر پڑا ہوا ملا پولس سے پوچھ تا چھ میں وہاں کے سیوا داروں نے بتایا تھا کہ انہوں نے لاش کو اس لئے پنکھے سے اتارہ تاکہ لاش کو اسپتال لے جا یا جا سکے لیکن انہوں نے اسپتال نہیں لے گئے اور نہ ہی کسی ڈاکٹر کو بلا یا وہاں موجود لوگوں نے ہی ان کی موت کی تصدیق کر لی اور پولس کو خبر کر دی سوال یہ بھی اٹھ رہے ہیں کہ پنکھے کو بعد چلا گیا تو بھی اتنے بھاری بھرکم شخص کے پھانسی لگانے کے باوجود نہ تو پنکھے میں نہ ہی جس لوہے کی چھڑ میں پنکھا لگا ہوا تھا اسے کوئی نقصا ن نہیں ہوا یہاں تک کی لاش کو اتارنے میں بھی پنکھے کو کسی طرح کا نقصان نہیں ہوا ۔ مہنت کے جس خود کشی نامے کا تذکرہ ہو رہا ہے وہ اس ویڈیو میں نظر آرہا ہے کہ مہنت کی لاش کے پاس ان کا سو سائیڈ نوٹ بھی پڑا ہو ہے ۔ ویڈیو میں گیروا رنگ کے کپڑے میں ان کے قریب ایک سنیاسی بھی دکھائی دے رہا ہے بتایا جا رہا ہے یہ وہی بلویر ہے جنہیں مبینہ طور پر سو سائیڈ نوٹ میں مہنت گری نے اپنا جانشین اعلان کیا ہے حالانکہ اس بات کی کسی سے تصدیق نہیں ہو پائی کہ مہنت گری کے سو سائیڈ نوٹ سے سوال اٹھ رہے ہیں اور نرجن اکھاڑے کے کے انچارج بلویر پر مہنت اتنے مہربان کیوں تھے ؟مہنت گری کے سو سائیڈ نوٹ میں ان کا ذکر ہر کسی کے دل میں سوال کھڑ ا کر رہا ہے ؟آخر بلویر پوری میں ایسی کیا خاشیعت تھی جو مہنت نریندر گری نے مٹھ کے خاص چیلوں کی جگہ بلویر پوری کو اتنا بڑا ذمہ سونپ دیا اور مندر کا مہنت بنانے کو کہا ؟مہنت نریندر گری کے خود کشی نامے میں لکھا گیا ہے کہ بلویر گری ایک وفا دار سیوا دار تھا لیکن سوال اٹھ رہا ہے آخر یہ سیوا کب تھی ؟بلویر گری کو پریا گ راج میں نہیں رہتے تھے بلویر پوری نرجن اکھاڑے کے انچارج بنے تب سے وہ زیادہ تر وقت ہریدوار میں رہتے تھے اب سی بی آئی معاملے کیاجانچ کر رہی ہے کہ اب مہنت گری کی موت کے معمہ سے پردہ اٹھ سکے گا۔ (انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...