Translater

23 جون 2018

نودن میں چلے اڑھائی کوس

نو دن میں چلے اڑھائی کوس۔ جی ہاں بالکل یہ کہاوت دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال اور ان کے وزرا پر کھری اترتی ہے۔ دہلی کے سیاسی گلیاروں میں 9 دنوں تک چلی آرہی ہٹ یوگ تو ختم ہوگئی لیکن اس نے اس کہاوت کو پوری طرح صادق کردیا کہ واقعی دہلی سرکار 9 دن میں چلی اڑھائی کوس۔ اس سیاسی ڈرامے میں ہر کوئی اپنی جیت کے دعوے کررہا ہے لیکن سوال وہی ہے کہ اس 9 دن کے دھرنے سے آخر حاصل کیا ہوا؟ جو اپیل ان 9 دنوں کے دھرنے کے بعد حکام سے کی گئی وہ چار مہینے پہلے کیا نہیں ہوسکتی تھی؟ یہ سب پہلے بھی ہوسکتا تھا پرپھر دہلی سرکارکو ایل جی کے صوفے پر پاؤں پسارنے کا موقعہ بھلا کیسے ملتا۔افسران بھی تو اپنی اہمیت سمجھاتے تو بھلا کیسے؟ چلو دیر آید درست آید۔ نہ تو یہ ان سیاسی گلیاروں کا پہلا ایٹیٹیوٹ پلے تھا اور نہ ہی آخری ۔دہلی میں اس وقت اس بات کی بحث ہورہی ہے کہ کام کون کررہا ہے؟ سرکار کام نہیں کررہی جس کی وجہ سے افسر کام نہیں کررہے۔ ایک ہندی اخبار رونامہ ’جاگرن‘ کی رپورٹ کے مطابق مختلف محکموں میں 180 فائلیں وزرا کے پاس منظوری کے لئے پینڈنگ پڑی تھیں جو ان کے ٹیبل میں دھول چاٹ رہی تھیں۔ ان میں ٹرانسپورٹ محکمہ میں 81 اہم ترین فائلیں شامل ہیں۔ اس محکمہ کے وزیر کیلاش گہلوت ہیں۔ جب یہ منتری بنے تھے تو دعوی کررہے تھے کہ ٹرانسپورٹ کے سیکٹر میں انقلاب لائیں گی مگر ان کی حالت سب سے خراب ہے۔ غور طلب ہے کہ دہلی کے وزیر بار بار الزام لگا رہے ہیں کہ افسر ان کے ساتھ تعاون نہیں کررہے ہیں جبکہ کئی اہم منصوبوں کی فائلیں انہی کے پاس پڑی ہیں۔ اب فائلیں کلیئر ہونا شروع ہوئی ہیں لیکن پینڈنگ فائلوں کے نپٹارے میں بھی تو وقت لگے گا۔ اب بات کرتے ہیں خود وزیر اعلی اروند کیجریوال کی۔ دھرنے کے دوران مبینہ طور پرکھانے پینے میں گڑ بڑی سے ان کی شوگر بڑھ گئی ہے لہٰذا علاج کے لئے بنگلورو چلے گئے۔ وزیر اعلی شوگر کے مریض ہیں اور پہلے بھی ان کا علاج بنگلورو میں واقع نیچرل میڈیکل سینٹر، جندل فارم میں ہوتا رہا ہے۔ پارٹی کے باغی ممبر اسمبلی کپل مشرا نے بھی ٹوئٹ کر وزیر اعلی کے علاج کے لئے 10 دنوں کے لئے شہر سے باہر جانے کی بات لکھی ہے۔ انہوں نے مکھیہ منتری پر دہلی کے لوگوں کو ٹھگنے کا الزام لگایا۔ دوسری طرف اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر وجیندر گپتا نے بھی طنز کسا کہ وزیر اعلی نے دہلی کی جنتا کا بھروسہ توڑا ہے۔ انہوں نے کہا یہ بڑا دلچسپ ہے کہ ادھر دھرنا ختم ہوا ادھر چھٹی شروع ہوگئی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پچھلے ساڑھے چار مہینے میں وزیر اعلی محض 15 دن کے لئے اپنے دفتر آئے۔ دوسری طرف عاپ سرکار کو لیکر افسرشاہی کی ناراضگی اب بھی برقرار ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ ڈپٹی سی ایم کے ساتھ میٹنگ کریں گے۔
(انل نریندر)

مہنگائی: دوائیں 1500 فیصدی مہنگی بکنے لگیں

مئی میں تھوک مہنگائی کا 4 فیصد سے اوپر یعنی 4.43 فیصد پر پہنچنے سے عام آدمی کی مشکلیں اور بڑھ گئی ہیں۔ خوردہ مہنگائی اس سے زیادہ ہی ہوگی۔ صارفین کا واستہ خوردہ قیمتوں سے زیادہ ہی پڑتا ہے۔ گذشتہ جمعرات کو جاری تھوک افراط زر کے اعدادو شمار بتارہے ہیں کہ تھوک مہنگائی کی یہ شرح پچھلے 14 مہینوں میں سب سے زیادہ ہے۔ پچھلے سال مئی میں تھوک مہنگائی کی یہ شرح 2.26 فیصد رہی تھی۔ چین 14 مہینوں میں تھوک مہنگائی کی وجہ سے دوگنی مہنگی ہوگئی ہے۔ اس سال اپریل سے مئی کے درمیان مہنگائی کا گراف تیزی سے بڑھا ہے۔ اپریل میں غذائی اجناس کی مہنگائی شرح 0.87 فیصدتھی جو پچھلے مہینے یعنی مئی میں 1.60 فیصد تک پہنچ گئی۔ اسی طرح ایندھن، بجلی سیکٹر میں مہنگائی شرح مئی میں 11.22 فیصد درج کی گئی تھی ، مئی مہینے میں ہی پھلوں اور سبزیوں کے داموں میں بھی لوگوں کا بجٹ بگڑ گیا۔ آلو کی مہنگائی شرح18.93 فیصد رہی۔ پھلوں کی مہنگائی شرح15.40 فیصد درج ہوئی۔ ایک سیکٹرجہاں اس مہنگائی کی مار نے صارفین کی کمر توڑ دی ہے وہ ہے دواؤں کی بے تحاشہ قیمتیں بڑھنا۔ دیش میں اس وقت دوائیں 1500 فیصد تک زیادہ داموں پر بک رہی ہیں۔ یہ خلاصہ دیش کی سب سے بڑی پرائیویٹ دوا بنانے والی کمپنی کی رپورٹ سے ہوا ہے۔ یورین سے متعلق بیماری کی 9 روپے کی دوا سنڈنیفل 149 روپے میں بیچی جارہی ہے، وہیں ہڈیوں کو مضبوط کرنے والی 7 روپے کی دوا کیلشیم کاربونیٹ 120 روپے میں میں ، شوگر کی7 روپے کی دواگلیپرائڈ 97 روپے میں، امراض قلب میں استعمال ہونے والی 11 روپے کی ایٹورویسٹن 31 روپے میں بیچی جارہی ہے۔ دواؤں کی یہ فہرست لمبی ہے رپورٹ تیار کرنے والی پرائیویٹ کمپنی دیش میں 15 فیصد دوا بناتی ہے۔ دیش میں صرف 850 طرح کی دوائیاں ایسی ہیں جنہیں سرکار نے ضروری دوا کے زمرے میں رکھا ہوا ہے۔ انہی دواؤں کی قیمتوں پر سرکاری کنٹرول ہوتا ہے۔ دوا بنانے والی کمپنی نے بتایا کہ 12 فیصدی جی ایس ٹی اور 20 فیصدی منافع کے بعد جس دوا کی قیمت 9 روپے ہوتی ہے وہ دوا اب بازار میں 150 روپے تک بک رہی ہے۔ دیش میں ڈھائی لاکھ کروڑ روپے کا کاروبار ہے اور دوائیوں کی فروخت کے معاملے میں بھارت دنیا میں تیسرے مقام پر ہے۔چوطرفہ مہنگائی کی مار سے عام آدمی کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ نہ تو وہ ڈھنگ سے جی سکتا ہے اور نہ ہی بیماری میں ڈھنگ سے صحیح علاج کراسکتا ہے۔ امید ہے کہ بھارت سرکار اور متعلقہ حکومتیں عام آدمی کی اس مشکلوں کو دور کرنے کی بلا تاخیر کوشش کریں گی۔
(انل نریندر)

22 جون 2018

مشن 2019 کیلئے قربان ہوئی جموں کشمیر حکومت

یہ تو ہونا ہی تھا کہ بھاجپا نے پی ڈی پی سے اتحاد توڑلیا۔ محبوبہ مفتی نے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ جموں و کشمیر میں صدر راج نافذ ہوگیا۔ شروع سے ہی یہ ایک غیر فطری اور غیر معمولی اتحادتھا اور پہلے دن سے ہی کہا جارہا تھا کہ یہ گٹھ بندھن چلنے والا نہیں ہے۔ منگلوار کی دوپہر اس اتحاد کے خاتمے کا اعلان ہوگیا۔ جموں و کشمیر میں قریب ساڑھے تین سال تک نوک جھونک آپسی ٹکراؤ کے ساتھ سرکار چلانے کے بعد بھاجپا۔ پی ڈی پی کا بے میل اتحاد ٹوٹنا ہی تھا۔ اسمبلی کے معلق نتیجہ کے بعد جب کوئی سرکار نہیں بن رہی تھی تو بھاجپا نے پی ڈی پی کے ساتھ سرکار بنانے کا جو خطرہ مول لیا تھا وہ پی ڈی پی سے زیادہ بھاجپا کو بھاری پڑنے لگا۔ بھاجپا کو لگنے لگاتھا کہ اس سرکار سے بھاجپا کا ہندو ووٹ بینک متاثر ہورہا ہے۔ جموں خطہ جس کے بلبوتے پر بھاجپا نے سرکار بنائی تھی اسی کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔محبوبہ کا سارا زوروادی پرتھا۔ جموں خطہ میں نہ تو کوئی ترقی ہورہی تھی اور نہ ہی بھاجپا حمایتیوں میں پارٹی کی ساکھ بن رہی تھی۔ پاکستان نے سیاسی طور پر جموں کے سرحدی دیہات کو نشانہ بنا کر وہاں سے ہجرت شروع کرادی تھی۔ محبوبہ سرکار نے جموں کے لوگوں کی کوئی مدد نہیں کی۔ یہاں تک کہ سرحدی گاؤں میں پاک فائرنگ کے شکار لوگوں کو اپنے رشتہ داروں کی لاشیں تک اپنے ٹریکٹروں میں لانی پڑ رہی تھیں۔ اب تو نوبت یہاں تک آچکی تھی کہ جموں شہرسے ہندو ہجرت کرنے پر مجبورہوگئے تھے۔ بھاجپا اعلی کمان کو یہ ڈر ستانے لگا تھا کہ کہیں دیش کے باقی حصو ں میں جموں کی وجہ سے ان کا ہندو ووٹ بینک متاثر نہ ہوجائے اس لئے انہوں نے بہتر سمجھا کہ اس سرکارسے چھٹکارہ پائیں۔ بیشک کئی وجوہات گنائی جارہی ہیں اس میں سے کچھ میں دم بھی ہے۔ محبوبہ کی ضد پر نہ چاہتے ہوئے بھی بھاجپا کورمضان کے مہینے میں یکطرفہ جنگ بندی کرنی پڑی۔ اس یکطرفہ کارروائی پر روک سے آتنکیوں کے خلاف فوجی کارروائی کو زبردست جھٹکا لگا جبکہ آتنکی برابر حملہ کرتے رہے اور آتنکی تشدد میں کوئی خاص کمی نہیں آئی۔ اس طرح پاک فوج کے ذریعے کارروائی نہ چلانے سے اس ایک مہینے میں 52 دہشت گرد بچ گئے۔ ایک طرفہ کارروائی پرروک کے دوران کل 46 آتنکی حملہ ہوئے جبکہ اس کے پہلے مہینے کے دوران55 واقعات ہوئے۔ محبوبہ تو رمضان کے بعد بھی جنگ بندی بڑھانے پر زور دے رہی تھیں لیکن بھاجپا نے کہا بہت ہوچکا ہے اب آگے نہیں کیونکہ تین برسو ں میں سکیورٹی فورس کے ہاتھ باندھنے اور علیحدگی پسندوں کے تئیں نرمی برتنے کے سبب حالات بے قابو ہوگئے اور جموں و کشمیر کی اندرونی حالت تقریباً 90 کی دہائی میں پہنچ گئی۔ دراصل ریاست میں سرکار تو اتحادی تھی لیکن سارے فیصلہ وزیر اعلی محبوبہ مفتی لیا کرتی تھیں محبوبہ کا ہمیشہ رجحان علیحدگی پسندوں کی طرف تھا جبکہ مفتی محمد سعید کے عہد میں علیحدگی پسند کنٹرول میں تھے۔ پتھر بازی اور دہشت گردی کے واقعات تو بڑھ رہے تھے پتھر بازو کے خلاف سخت قدم اٹھانے سے محبوبہ فوج کو روکتی رہیں،فوجی پٹتے گئے اس سے فوج میں بھاری ناراضگی پیدا ہونے لگی۔ محبوبہ نے الٹے پتھربازوں کا ساتھ دیا اور 11 ہزار ایف آئی آر واپس لے لی گئیں۔ بعد میں محبوبہ بھی لاچار ہوگئیں اور حالات بگڑتے ہی چلے گئے۔ اس دوران مسلح فورسز اسپیشل ایکٹ (افسپا) کو کمزور کرنے اور نیم فوجی فورس کا حوصلہ توڑا گیا۔ پتھر بازوں کے چکر میں پوری دنیا کا دھیان وادی پر لگ گیا جبکہ جموں اور لداخ کے لوگ اپنے آپ کو بے سہارا محسوس کرنے لگے۔ اسمبلی چناؤ میں بھاجپا کو کشمیروای سے کچھ نہیں ملا۔اس کا مینڈیٹ جموں تک محدود تھا یہاں تک کہ 37 میں سے25 سیٹیں بھاجپا کو ملی تھیں جبکہ لداخ میں کانگریس کو بڑھت ملی تھی۔ آ ر ایس ایس اوربھاجپا کیڈر نے مرکزی لیڈر شپ کوصاف طور پر جتادیا تھا کہ پی ڈی پی کو حمایت دیتے رہے تو جموں ہاتھ سے نکل جائے گا۔ پچھلے سنیچر کی رات کو وزیر اعظم نریندر مودی اور بھاجپا صدر امت شاہ اور آر ایس ایس کی کور کمیٹی کی میٹنگ دیر رات بلائی گئی جس میں پی ڈی پی سے حمایت واپس لینے کا فیصلہ لیا گیا۔ بھاجپا نے دراصل مشن 2019 کی راہ کے کانٹے دور کرنے کے لئے پی ڈی پی سے ناطہ توڑنے کا فیصلہ لیا۔ بھاجپا کو امید ہے کہ اس فیصلے کا مثبت سندیش جائے گا۔ دراصل آر ایس ایس تو دو برس پہلے ہی ناطہ توڑنے کے حق میں تھی حالانکہ تب سرکار اور پارٹی کو حالات اپنے حق میں کرلینے کی امید تھی۔ جنگ بندی کے اعلان کے بعد فوجی جوان اورنگ زیب اور صحافی شجاعت بخاری کے قتل اور فوج کے افسروں پر ایف آئی آر جیسے معاملوں کے سبب بھاجپا ۔ پی ڈی پی کے رشتے خراب ہوئے نتیجتاً مرکز نے محبوبہ کی عید کے بعد بھی جنگ بندی ضروری رکھنے کی صلاح مسترد کردی۔ پچھلے ہفتے سورج کنڈ میں ہوئی آر ایس ایس سے جڑی تنظیموں اور بھاجپا تنظیم کے عہدیداروں کی میٹنگ میں اس مسئلے پر گہرائی سے غور و خوض ہواکہ جموں و کشمیر میں صدر راج لگادیا جائے۔ فی الحال تو یہاں گورنر کا راج چلے گا۔گورنر ایم این ووہرا جے اینڈ کے میں گورنر کی شکل میں قریب دس برسوں سے کام کررہے ہیں۔ ان کی سبھی فریقین میں مقبولیت ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بھاجپا ۔ پی ڈی پی سرکار کے زوال کے بعد مرکزی سرکار نے ان کی میعاد بڑھانے کا فیصلہ لیا۔
(انل نریندر)

21 جون 2018

دہلی میں خون سستا پانی مہنگا

دہلی میں خون سستا اور پانی مہنگا ہوگیا ہے۔ پچھلے دو مہینے میں پانی کو لیکر تین لوگوں کو قتل کردیا گیا۔ دہلی کی تاریخ میں اس طرح کے حالات پہلی بار بنے ہیں جب لوگ پانی کے لئے ایک دوسرے کی جان لے رہے ہیں اور پانی کا منتری بھوک ہڑتال پر ہے یا لیفٹیننٹ گورنر کے ایئر کنڈیشن کمرے میں دھرنے پر رہا۔ دہلی اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر نے کہا گرمی کے دنوں میں دہلی میں 1200 ایم جی ڈی (ملین گیلن پانی کی یومیہ) ضرورت ہے لیکن سپلائی 870 ایم جی ڈی سے بھی کم ہورہی ہے۔ عام آدمی پارٹی سے نکالے گئے نیتا کپل مشرا نے کہا دہلی جل بورڈ کی کوئی فائل ایل جی و مرکزی سرکار کے پاس نہیں جاتی۔ جل بورڈ کا پورا بجٹ ایک بار میں پاس ہوتا ہے اسے کوئی نہیں روک سکتا لیکن جل بورڈ کے چیئرمین اروند کیجریوال اپنا کام چھوڑ کر دھرنے پر اے سی کمرے میں بیٹھ گئے تھے۔ مرکزی وزیر وجے گوئل نے بھی مانا ہے کہ دہلی کے سنگم وہار میں زیادہ تر لڑائی جھگڑے کی وجہ پانی کی قلت ہے۔ وہ سنگم وہار میں جمعرات کی رات پانی کے کنکشن کے تنازعہ میں جان گنوانے والے ایک شخص کشن بڑھانا کے رشتے داروں سے ملنے ایتوار کو پہنچے تھے۔ انہیں کشن بڑھانا کے رشتے داروں نے بتایا کہ کچھ دبنگ لوگ علاقہ میں دہلی سرکار کی ملی بھگت سے پانی کی کالا بازاری کرتے ہیں۔ سرکاری پائپ لائن سے بھی کسی کو کنکشن جوڑنے نہیں دیتے۔ اس بات پر سنگم وہار میں اکثر لڑائی ہوتی ہے۔ پریشانی کی بات یہ ہے کہ سنگم وہار میں جہاں ایک طرف پانی کے لئے لوگ ایک دوسرے کا خون بہا رہے ہیں وہیں مافیہ سرکاری ٹینکروں کا پانی بلیک میں بیچ کار چاندی کررہا ہے۔ پانی مافیہ جل بورڈ کے ٹینکروں کا پانی پہلے اپنے انڈر گراؤنڈ ٹینک میں اسٹور کرتے ہیں پھر اپنے پرائیویٹ ٹینکروں میں بھروا کر لوگوں کو بلیک کرتے ہیں۔ دہلی سرکار بھلے ہی لوگوں کو مفت پانی دستیاب کرانے کا دعوی کررہی ہو لیکن کم سے کم سنگم وہار میں تو اس کی بوند بوند کی قیمت وصولی جارہی ہے۔لوگوں کا ایسا کہنا ہے کہ مقامی جنتا کے نمائندہ اور دہلی جل بورڈ کے حکام کے ساتھ ملی بھگت سے پانی مافیہ سرکاری پانی بیچ رہا ہے۔ اس سے بھی بڑی پریشانی کی بات دہلی کے شہریوں کے لئے یہ ہے کہ اگلے مہینے دہلی میں پینے کے پانی کی قلت بڑھ سکتی ہے کیونکہ ہریانہ میں 30 جون تک ہی زیادہ پانی سپلائی کی بات کہی ہے۔ ایسا ہوا تو کئی علاقوں میں لوگ بوند بوند پانی کے لئے ترس جائیں گے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے جل بورڈ نے اترپردیش سے درخواست کی ہے لیکن ابھی وہاں سے بھی فاضل پانی ملنے کی امید بہت کم ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ پانی کے مسئلہ کا جلد حل نکل آئے گا۔
(انل نریندر)

اور اب کیجریوال کے بہانے اپوزیشن اتحاد کا مظاہرہ

حال ہی میں دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کے دھرنے نے ایک بار پھر اپوزیشن پارٹیوں کو ایک اسٹیج پر آنے کا موقعہ دے دیا ہے۔ اپوزیشن اتحاد کے پیروکار چندرابابو نائیڈو، ممتا بنرجی اورمارکسوادی پارٹی کا ساتھ آنااس کا اشارہ تھا۔ اس لئے چاروں پارٹیوں کے وزرائے اعلی کی مہم کو امکانی اپوزیشن اتحاد کی شکل میں دیکھا جاسکتا ہے۔ سامنے جو بھی رہا ہو لیکن پردے کے پیچھے مغربی بنگال کی وزیر اعلی ترنمول کانگریس کی لیڈر ممتا بنرجی ہی ان کوششوں کو آگے بڑھا رہی ہیں۔ اپوزیشن اتحاد کو لیکر وہ کافی دنوں سے سرگرم ہیں۔ ان کی کوشش صرف کیجریوال کو حمایت دینے تک محدود نہیں ہے۔ وہ بیجو جنتادل کے صدر نوین پٹنائک، این سی پی کے سربراہ شرد پوار و کانگریس کے سینئرلیڈروں سے بھی رابطہ میں ہیں۔ دراصل این ڈی اے سرکار کی گھیرا بندی کے لئے اپوزیشن دوہری پالیسی اپنا رہی ہے۔ پہلی حکمت عملی یہ ہے کہ لوک سبھا اور اس سے پہلے ہونے والے انتخابات ریاستوں میں علاقائی پارٹیاں مل کر لڑیں جس سے بھاجپا مخالف ووٹوں کا بٹوارہ نہ ہو۔ حکمت عملی تو یہ ہے چاہے وہ ودھان سبھا چناؤ ہوں یا لوک سبھا جہاں تک ممکن ہوسکے آمنے سامنے کی ٹکر ہو۔ اگر اسمبلیوں میں انہیں کامیابی ملتی ہے تو علاقائی پارٹیاں قومی سطح پر تیسرے مورچے یا دیگر کسی متبادل اتحاد کا خاکہ تیار کریں گی۔ ادھر نیتی آیوگ کی گورننگ کونسل کی دوروزہ میٹنگ میں شامل ہونے بہار کے وزیراعلی اور جنتادل یونائیٹڈ کے صدر نتیش کمار نے نیتی آیوگ کی میٹنگ میں وزیر اعظم نریندر مودی کو زور دار جھٹکا دیتے ہوئے نہ صرف آندھرا پردیش کے وزیر اعلی ایم چندرابابو نائیڈو کی حمایت کی بلکہ بہار کے لئے مخصوص ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ کرڈالا۔ اس میٹنگ میں چندرابابو نائیڈو نے ریاست کی تقسیم اور ریاست کو خصوصی کیٹگری کا درجہ دینے اور پولاشورم پروجیکٹ سے متعلق اشو کو اٹھایا۔ نوٹ بندی ، جی ایس ٹی کا اشو بھی نیتی آیوگ کے سامنے اٹھایا۔ ممتا بنرجی نے بھی نائیڈو کی مانگ کی حمایت کی۔ ادھر کانگریس نے کہا کہ اگر بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار بھاجپا کا ساتھ چھوڑنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو انہیں مہاگٹھ بندھن واپس لینے کے لئے اتحادی پارٹیوں کے ساتھ غور کرے گی۔ کانگریس کا یہ بیان اس وقت آیا جب حالیہ دنوں میں اگلے لوک سبھا چناؤ میں سیٹوں کے تال میل کے سلسلے میں جے ڈی یو اور بھاجپا کے درمیان کچھ تلخی دیکھنے کو ملی ہے جس وجہ سے یہ قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ دونوں پارٹیوں کے درمیان سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ اپوزیشن مودی سرکار کے خلاف اتحاد کا مظاہرہ کرنے کا کوئی موقعہ نہیں چھوڑ رہی ہے۔
(انل نریندر)

20 جون 2018

ہندوستانی بھگوڑوں کا پسندیدہ دیش برطانیہ بن گیا

ہماری خفیہ ایجنسی اتنی چوکس ہیں کہ وزارت خارجہ کے نیرومودی کا 24 فروری کو پاسپورٹ منسوخ کئے جانے کے باوجود مودی 15-30 اور 31 مارچ میں امریکہ ، برطانیہ اور ہانگ کانگ کے چار ملکوں کے دورہ اسی پاسپورٹ پر کرتارہا اور ہماری ایجنسیوں کو خبر تک نہیں لگی۔ یہ تب چونکے جب انٹرپول نے انہیں خبردی۔ دراصل ایک طرح سے دیکھا جائے تو شاید ہماری ایجنسیوں کی بھی غلطی نہیں کیونکہ اب پتہ چل رہا ہے کہ نیرو مودی کے پاس کم سے کم آدھا درجن ہندوستانی پاسپورٹ ہیں۔ ایجنسی کے حکام نے پایا کہ نیرو کے پاسپورٹ منسوخ کئے جانے کے بعد بھی وہ مسلسل دورہ کررہا ہے۔ اس دوران اس کے پاس چھ پاسپورٹ ہونے کا بھی انکشاف ہوا۔ ان میں سے دو پچھلے کچھ عرصے سے چالوں ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ چار دیگر پاسپورٹ اسکرین نہیں ہوپائے جو استعمال میں ہیں ان میں سے ایک پر نیرو کا پورا نام لکھا ہوا ہے جبکہ دوسرے میں صرف اس کا پہلا نام درج ہے اور اس پاسپورٹ پر اسے برطانیہ کا 40 مہینے کا ویزا ملا ہوا ہے۔ ممکنہ طور پر اس طرح وہ بھارت کے ذریعے نامعلوم پہلے پاسپورٹ کو منسوخ کئے جانے کے باوجود مسلسل دورہ کررہا ہے۔ کانگریس نے نریندر مودی سرکار پر نیرو مودی کو چپ چاپ ڈھنگ سے تعاون کرنے کا الزام لگایا اور سوال کیا کہ اگر نیرو مودی کا پاسپورٹ منسوخ کردیا گیا تھا تو پھر اس نے کچھ ایک مہینے پہلے تین دیشوں کا دورہ کیسے کیا؟ اس معاملہ پر کانگریس کے چیف ترجمان رندیپ سرجے والا نے ٹوئٹ کر الزام لگایا کہ مودی سرکار کے نیرو کا پاسپورٹ منسوخ کئے جانے کے بارے میں دوسرے ملکوں کی سرکاروں کو جان بوجھ کر مطلع نہیں کیا گیا۔ پچھلے دنوں خبر آئی تھی کہ نیرو مودی پچھلے چھ مہینے سے بیرونی ملک میں چھپا رہا۔ نیرو مودی اس وقت برطانیہ میں ہے۔ وہاں اس بہانے سیاسی پناہ لینے کی کوشش میں ہے کہ بھارت واپس جانے پر اس کا سیاسی ٹارچر ہوگا۔ برطانیہ بھگوڑوں کے لئے پسندیدہ جگہ بنتا جارہا ہے۔ 13500 کروڑ روپے کا چونا لگانے والے نیرو مودی برطانیہ پہنچ گئے ہیں۔ نیرو سے پہلے برطانیہ میں بھارت کے کئی بھگوڑے پناہ لے چکے ہیں۔ ان میں للت مودی ، وجے مالیہ، میوزک ڈائریکٹر ندیم سیفی، ٹائیگر حنیف، سندیپ چاولہ ، روی شنکر ،لاڈ سدھیر چودھری، راج کمار پٹیل،راجیش کپور،عبدالشکور جیسے نام شامل ہیں۔ 2013 سے اب تک بھارت سے گئے 5500 سے زیادہ لوگوں نے برطانیہ میں سیاسی پناہ کے لئے عرضی دی تھی۔ حالانکہ یہ سبھی جرائم پیشہ نہیں ہیں۔ ہندوستانی بھگوڑوں کا سب سے پسندیدہ دیش برطانیہ ،امریکہ، متحدہ عرب امارات، کینڈا ہیں۔70 فیصد یعنی 83 بھگوڑے یہاں چار دیشوں میں رہ رہے ہیں۔ یہ جانکاری وزارت خارجہ کی ایک آئی ٹی آئی کے جواب میں ملی ہے۔
(انل نریندر)

اعلی عہدوں پربراہ راست تقرری، سرکار کی پہل

مرکزی سرکار نے انتظامی اصلاحات کی کچھ سفارشوں کو ترمیم کے بعد اب لاگو کردیا ہے۔ یوپی ایس سی کے سول امتحان میں بغیر بیٹھے ہیں اب مرکزی حکومت میں سینئرافسر بنائے جاسکتے ہیں۔ اس کے لئے مرکز نے پچھلے دنوں لیٹرل اینٹری سسٹم لاگو کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ اس کے تحت 10 اہم محکموں میں اسپیشل جوائنٹ سکریٹری کے لئے 30 جولائی تک درخواستیں مانگی گئی ہیں۔ درخواست کے لئے زون خاص میں وسیع ترجمہ اور اسپیشیالٹی اہم پیمانہ ہوگی۔ اب پرائیویٹ کمپنیوں کے سینئر افسر بھی آسکیں گے۔ اسے افسر شاہی میں پیراشوٹ افسران کی اینٹری کے لئے بڑی تبدیلی مانا جارہا ہے۔ بڑے اخباروں میں شائع اشتہار میں کہا گیا ہے بھارت ڈولپمنٹ میں سانجھیداری کے خواہشمند اہل امیداور اپلائی کرسکتے ہیں۔ اس میں ریزرویشن کی کوئی سہولت نہیں ہے۔ سرکار نے جن 10 وزارتوں کے جوائنٹ سکریٹری کے لئے درخواستیں مانگی ہیں وہ مالیاتی سروس ، اکنامک افیئرس، ایگریکلچر، روڈٹرانسپورٹ، جہاز رانی، ماحولیات و اربن ڈیولپمنٹ انرجی اور شہری ہوابازی و کمرشل شامل ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ مالیات ،داخلہ، خارجہ جیسی وزارتوں کے لئے لیٹرل اینٹری نہیں ہوگی۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے جب مرکزی سرکار کے اندر جوائنٹ سکریٹری سطح کے اعلی افسران کے عہدوں پر سینٹرل سول سروس سے باہر کے لوگ بیٹھیں گے۔ جوائنٹ سکریٹری حکومت کے سینئر مینجمنٹ کا اہم عہدہ ہے۔ یہ پالیسی سازی اور مختلف پروگراموں اور یوجناؤں کو لاگوکرنے میں اہم ترین رول نبھاتے ہیں ایک عرصے سے یہ محسوس کیا جارہا تھا کہ افسر شاہی میں ایسے بااثر پیشہ ور لوگوں کی اینٹری ہونی چاہئے جو اپنے اپنے میدان میں ماہرانہ صلاحیت کے ساتھ تجربہ بھی رکھتے ہوں۔ لیکن کسی وجہ سے اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں لیا جاسکا۔ ابھی تک آئی پی ایس، آئی اے ایس اور دیگر متعلقہ خدمات سے جوائنٹ سکریٹری کی تقرری کی جاتی رہی ہے۔ ظاہرہے کہ مرکزی افسر شاہی میں کریکٹر میں تبدیلی کی یہ اہم شروعات ہوگی۔ حالانکہ سرکار کے اس فیصلہ کی مخالفت بھی ہورہی ہے۔ سابق آئی اے ایس پی ایل پنیا نے کہا کہ مرکز کی طرف سے 10 جوائنٹ سکریٹریوں کی تقرری کرنے کے لئے جاری اشتہار غلط ہے۔ بہار کے سابق وزیر اعلی تیجسوری یادو نے ٹوئٹ کرکے کہا کہ یہ آئین اور ریزرویشن کی زبردست خلاف ورزی ہے۔ مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے سکریٹری سیتا رام یچوری نے کہا یوپی ایس سی اور ایس ایس سی کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ افسر شاہی اس قدم کو ان کے خلاف پرائیویٹ ایک سازش مان رہے ہیں۔ نوجوان آئی ایس کو اتنے ناراض ہیں کہ وہ کورٹ جانے کے متبادل تلاشنے لگے ہیں۔ مودی سرکار نے غلط وقت پر فیصلہ لیا کیونکہ نئے لوگوں کی تقرری کے عمل میں چھ مہینے لگ جائیں گے۔ اس کے بعد عام چناؤ ہونے ہیں۔ آئی ایس افسر بھی اس بات کو نہیں سمجھ پا رہے ہیں کہ آخر سرکار کے چوتھے برس میں ایسا فیصلہ کیوں لیا گیا ۔ دراصل چوتھا برس چناوی سال ہوتا ہے اور سرکار اپنی پوری مشینری کو چناؤ کی تیاریوں میں جھونک دیتی ہے۔ اگر یہ مشینری ناراض ہوگئی تو حکمراں سیاسی پارٹی کے سامنے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ سرکار بیک ڈور سے آر ایس ایس اور بھاجپا کے ورکروں کو اینٹری دینا چاہتی ہے۔ صنعت کاروں کے نمائندہ بھی اس بہانے سرکار میں آکر پالیسیوں کو متاثر کرسکتے ہیں۔ ہماری رائے میں بیشک یہ ایک اچھا قدم ہوسکتا ہے لیکن اس کو کرنے کا وقت غلط ضرور ہے۔
(انل نریندر)

19 جون 2018

اور اب داتی مہاراج پر لگا بد فعلی کاالزام

چھتر پور دہلی کے شنی دھان مندر کے بانی مہاراج عر ف مدن لال کے خلاف ایک عورت نے بدفعلی کا الزام لگا کر ان کے بھکتوں حیرت میں ڈالدیا ۔ داتی مہاراج پر درج بدفعلی کے معاملے میں متاثرہ لڑکی کو دہلی پولس کے ڈی سی پی راجیش دیوکی رہنمائی میں ٹیم لڑکی کو ساتھ لیکر شنی دھان مندر پہنچی اور لڑکی نے اس کمرے کی پہچان کی جس میں داتی مہاراج نے آبروریزی کی تھی ۔پولس ٹیم نے کمرے کے کونے کونے کی چھان بین کی لیکن ثبوت کے نام پر کچھ نہیں ملا ۔اس کے بعد متاثرہ پولس ٹیم کو اسٹیج کے پیچھے بنے ایک بڑے ہال میں لیکر گئی اس نے بتایا کہ اس کے ساتھ دوتین دوسرے لوگوں نے بھی ریپ کیا تھا ۔پولس حکام نے بتایاکہ لڑکی نے جس خود اعتمادی کے ساتھ ایک ایک کر کے شنی دھان مندر کے اندر کی جگہوں کو پہچانا جہاں پر اس کے ساتھ بد فعلی ہوئی تھی۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی باتوں میں سچائی ہے پولس نے اس کے بعد ریپ معاملے میں اہم ملزم داتی مہاراج کو شامل ہونے کیلئے نوٹس جاری کیا ۔اس پر درج بدفعلی کے معاملے میں معلومات اور دیگر چار لوگوں کے بارے میں پوچھا جائے گا جنہو ں نے لڑکی کے ساتھ مبینہ ریپ کیاتھا ۔
ریپ کے دوران ساکیت کورٹ میں ڈیوٹی میٹرو پولٹین مجسٹریٹ کے سامنے 164کے تحت بیان درج کرایا جس میں بتایاکہ ملزمان نے اسے پیشاب بھی پلایا ۔ وہیں میڈیکل کرنے والے ڈاکٹروں نے پولس کو لکھ کر دیاہے کہ لڑکی ڈپٹریشن کا شکار ہوگئی ہے کرائم برانچ کے حکام کے مطابق لڑکی سنیہا(بد لا ہوانام)کے بیان میں کہاگیاہے کہ 09جنوری 2016کو ادارے کی ایک لڑکی اسے چرن سیوا کے لئے داتی مہاراج کے پاس لے گئی ۔جہاں مہاراج ،اشوک ،ارجن اور نیما جوشی نے اس کے ساتھ الگ الگ بد فعلی کی ۔26-28مارچ کو اسے پالی کے آشرم میں لے جایا گیا جہاں داتی مہاراج نے اس کے ساتھ واردات کی ۔جیسے ہی دہلی پولس کی کرائم برانچ نے کارروائی تیز کی تو داتی مہاراج عر ف مدن لال غائب ہوگیا ۔آشرم کے ذرائع نے بتایا کہ جمعہ سے ہی مہاراج غائب ہیں ۔کسی کو پتہ نہیں کہ کہاں گئے مہاراج کا موبائل بھی بند ہے ملز م مہاراج کی گرفتاری جلد ہوسکتی ہے ۔ادھر الزام سے گھیرے داتی مہاراج کا کہنا ہے کہ وہ کہیں نہیں جائے گا پولس کے سامنے پیش ہونے کیلئے کچھ وقت چاہئے کیونکہ اس کے آشرم میں رہ رہے بچوں کے لئے کھانا وغیرہ کا سال بھر کے لئے انتظام کرنا ہے ۔پالی کے آشرم میں داتی مہاراج شکر وار کو پھر نظر آیا ۔اس کا کہنا ہے کہ مجھے بھاگناہوتا تو پہلے ہی بھاگ جاتا لیکن معاملہ سامنے آنے کے بعد سے میں لگا تار یہیں ہوں میں جلد ہی پولس کے سامنے پیش ہونگا ۔میں جین کی سازش کا شکار ہوا ہوں اور اس شخص نے مجھے برباد کرنے کی دھمکی دی تھی ۔
(انل نریندر)

گوری لنکیش کی قتل کی گتھی سلجھی

صحافی اور رضاکار گوری لنکیش کے بے رحمانہ قتل نے نہ صرف صحافی برادری کو ہی ہلادیا تھا بلکہ سماجی رضاکاروں خواتین برادری کو بھی حیرت زدہ کردیا تھا ۔جمعہ کو معام لے کی چانچ کررہی ایس آئی ٹی نے بتایا پرشورام واگھمرے نے گوری کے قتل کو انجام دیا تھا ۔گوری لنکیش کے سلسلے میں گرفتار چھ مشتبہ افراد میں واگھمرے بھی تھا ۔اس نے ہی گوری کو گولی ماری اور فورنسک چانچ سے تصدیق ہوتی ہے ایک شخص گوند پنسارے ،ایم ایم کلبرگی اور گوری کے قتل ایک ہی ہتھیار سے کیا گیا انھوں نے بتا یا کہ ہتھیار برآمد نہیں ہوسکا ۔ایس آئی ٹی کا کہنا ہے کہ جب تک فورنسک چانچ کا نتیجہ نہیں آتا جب بندوق کے ٹریگر سے گولی پچھلے حصہ پر نشان بنا ہوا ملتاہے ۔ایک سینئر افسرنے بتایاکہ واگھمرے ساؤتھ پنتھی گروپ کے لوگوں کو شامل کر بنائے ایک گروہ سے جڑا ہے اس کے ساٹھ افراد ہیں ۔جو پانچ ریاستوں میں سرگرم ہیں اس نے کہا مدھیہ پردیش ،گجرات ،مہاراشٹر ،گوااور کرناٹک میں اس کانیٹ ورک ہے ۔
اس گروہ نے مہاراشٹر کی ہندو جاگرتی سمیتی اور سناتن دھرم انجمن جیسی ہند و آئڈیا لوجی جیسی تنظیموں سے لوگ بھرتی کئے تھے ۔26سالہ پرشو رام واگھمرے نے دعوی کیا ہے کہ وہ گولیا چلاتے وقت یہ نہیں جانتے کہ وہ کس کو قتل کررہے ہیں ۔اس نے گوری کو 5ستمبر 2017کو چار گولیا ماری تھی ۔مجھے مئی 2017میں کہا گیا تھا تمہیں اپنا دھرم بچانے کیلئے کسی کا قتل کرناہے میں ما ن گیا ۔ اب مجھے لگتا ہے کہ مجھے اس عورت کو نہیں مار نا چاہئے تھا ایسا دعوی ایس آئی ٹی کررہی ہے ۔ آگے پرشورام نے بتایاکہ انھیں 3ستمبر کو بنگلورو لایا گیا اور بیلا گاوی میں گولی چلانے کی ٹریننگ دی گئی تھی مجھے گوری کا گھر دکھایا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ اب تم گوری کا کام تمام کردو ۔یہ تسلی کی بات ہے کہ صحافی اور سماجی رضاکار گوری لنکیش کا قاتل آخر کار پکڑ اگیا ۔اب کورٹ میں جب مقدمہ چلے گے تو اور مزید تفصیلات پتہ لگیں گی یہ بھی پتہ چلے گا کہ گوند پنسارے ،اورایم ایم کلبرگی اور گوری کے قتل کس ہتھیار سے کیا گیا ۔
(انل نریندر)

17 جون 2018

بے لاگ ۔جانباز مدیر پر بز دلانہ حملہ

دہشتگردوں کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے اور نہیں وہ مذہب کو ماننے والے لوگوں کو بخشتے ہیں ۔ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ہے جس میں اللہ کے ماننے والے روزے تک رکھتے ہیں۔ عید پر گھر جا رہے جوان اور افطار کیلئے جارہے مدیر کو گولیوں سے بھون دیا ۔اسلام کے نام پر جہاد چھیڑ نے والے ان ہتھیاروں کو اسلام سے کتنا پیار ہے ۔ ان کی حرکات سے ثابت ہوتا ہے. نہ تو ان دہشت گردوں کیلئے اور نہ ہی پاکستان میں بیٹھے ان کے آقاوں کے لئے عیدکی کوئی اہمیت ہے. سینئر صحافی اور ایزنگ کشمیر کے ایڈیٹر شجاعت بخاری کو ان کو آفس کے سامنے (محفوظ مانے جانے والے پریس ایریا) میں تین موٹر سائیکل سوار ہتھیاروں نے گولیاں سے چھلنی کردیا ۔ ان کے ساتھ دو بوڈی گائڈوکی بھی موت ہوگئی ۔ بھارت ۔ پاک کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کیلئے کشمیر میں بحالی کے عمل میں شامل تھے. وہ انگریزی روزہ نامہ رایزنگ کشمیر کے علاوہ اردو روزہ نامہ ساگر وال اور اردو اخبار بلند کشمیر مدیر. ان کے بڑے بھائی بشارت بخاری پی ڈی پی ۔ بی جے پی اتحاد حکومت میں باغبانی کے وزیر تھے۔ صحافی برادری اور ایڈیٹر گلڈس نے اس بزدلانہ حملے کی سخت مذمت کی ہے اور کہاکہ کہ پوری صحافی براردی غم زدہ ہیں کشمیر میں تقریبا تین دہائیوں کی تشدد میں بخاری چوٹے ایسے صحافی ہیں، جن کودہشت گرد وں نے قتل کیا ہے. اس سے پہلے 1991 میں الاسفا کے ایڈیٹر محمد شبن وکیل کو حزب المجاہدین کے دہشت گردوں نے موت کی گھاٹ اتار دیا تھا. بی بی سی کے سابق صحافی یوسف جمیل اپنے دفتر میں بم دھماکے میں زخمی ہو گئے تھے لیکن اس واقعے میں اے این آئی کے کیمرامین مشتاق علی کا انتقال ہوا گیا تھا . سال 2003 میں 'نافا کے مدیر پرویز محمد سلطان کو ان کے دفتر میں پریس انکلومیں حزب المجاہدین کے دہشت گردوں نے گولی مار دی تھی ۔شجاعت بخاری کو بھی دہشت گردوں نے 1996 اور 2006 میں اغوا کر لیا تھا. 1996میں 19صحافیوں شجاعت بخاری کو 7گھنٹے بعد رہا کردیا تھا 2006 میں انہیں مارنے کی کوشش کی گئی تھی، لیکن اس کوشش کے بعد انھیں سیکورٹی بھی دی گئی تھی ان کے خاندان میں بی بی اور دوبچے ہیں شجاعت کئی برسو ں تک جموں وکشمیر میں اخبار دہ ہندو کے بیروہ چیف تھے وہ ایک بے لاگ تحریر یں لکتھے تھے اور بولتے بھی تھے یہ حملے کا اظہار رائے کی آزادی اور جمہوریت پر . بخاری پر ایسے وقت حملہ ہوا ہے جب رمضان میں فوجی کارروائیاں روکی ہوئی تھی انھوں نے جموں کشمیر میں بحالی امن میں کافی اہم کوششیں کی جس دن ان کا قتل ہوا سی دن صبح حز ب کے کمانڈر سمیر ٹائی گر کو مار گرایا اس کارروائی میں شامل ہوئے 44 قومی رائیفلز کے ایک جانباز جوان گ اورنگ زیب کو دہشتگردوں نے اغوا کر لیا اور شام ہوتے ہوتے قتل کر دیا. اس سے ایک روز پہلے سرحدپار سے فائرنگ میں ہمارے چار جوان شہید ہوگئے یعنی ایک طرف جموں وکشمیر میں آتنکی قہر اور دوسری طرف سرحد پر جنگ بندی . یہ دونوں چیزیں مختلف نہیں ہو سکتی کیونکہ ان دونوں کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے. پاکستان ظاہر ہے کہ جموں وکشمیر میں امن نہیں چاہتا. کشمیر کے جو لوگ دہشت گردوں کے تئیں ہمدردی رکھتے انہیں بھی سمجھنا چاہئے کہ ان دہشت گردوں کیلئے انسانیت کوئی معنی نہیں رکھتی. ایک ایک کشمیری کو آ تنکیوں اور سر حد پار بیٹھے ان کے آقاؤں کی سخت الفاظ میں مذمت کرنا چاہئے. حکومت کو بھی سمجھ آ جانی چاہئے کہ ان دہشت گردوں اور ان کے آقاؤں کے تئیں کسی رعایت یا ہمدردی کا کوئی مطلب نہیں شجاعت شہید ہو گئے، لیکن ان کی لکھی باتیں اور انکی یاد ہمیشہ ہمیشہ تازہ رہی گی. ہم انکو خراج عقیدت اور اور انکے خاندان کے تئیں اپنی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔
(انل نریندر)

سینولی میں ملے 4000 سال پرانی تہذیب کے باقیات

اترپردیش کے باغپت کے سینولی علاقے میں کھدائی کرنے پر نارتھ ویدیک کال و ہڑپپا تہذیب کے درمیان کا پتہ چلتا ہے.سینولی میں جس جگہ پر کھدائی ہوئی ہے، اس سے 120 میٹر دوری پر 2004-05میں جو کھدائی ہوئی تھی. وہاں بھی باقیات ملے ہیں . یہ کچھ ایسے ثبوت ہیں جو انگریزوں کی لکھی تاریخ کو تبدیل کر سکتے ہیں. سینولی میں کھدائی کے دوران راج پریوار کے ساتھ 8 نرکنککال ملے ہیں ان کے علا وہ کھدائی میں پہلی بار ملی تین باقیات آثار قدیمہ کیلئے ریسرچ کا موضوع بن گئے ہیں ۔. یہ تمام واقعات 3800 سے 4000 سال پرانے ہو ہو سکتا ہے زمانہ قدیم کے نقطہ نظر سے یہ میعاد اتر ویدیک دور کی ہے سندھو گھاٹی کی تہذیب کی اہم مقام بالی بنگا اور لوتھل میں کھدائی میں کنکال کو مل چکے ہیں ۔لیکن رتھ پہلی بار ملا ہے کھدائی میں راج پریوار کے ملے تابوت کی لکڑی خراب ہوچکی ہے اس پر صرف تانبے کی نقاشی بچی ہے جس میں پھو ل پتیاں وغیر بنی ہیں ۔ فیکلٹی آف آر چرڈ کورسزریسرچ ،نئی دہلی کے فیلو ڈاکٹر امت پاٹھک کا کہنا ہے کہ انگریزوں نے ابھی تک یہ ثابت کیا تھا کہ آریوں نے 1500۔2000 سال قبل عیسوی میں بھارت پر حملہ کیا تھا. وہ رتھ سے آئے تھے اور یہاں کی تہذیب کو روندتے ہوئے نئی تہذیب کی بنیاد رکھی تھی گھوڑا گاڑی نہیں تھی . جبکہ اس کھدائی سے رتھ نے آثار قدیمہ اور تاریخ دانوں کو پھر سے حوصلہ دے دیا ہے ۔ . اے ایس آئی کے سپرنٹنڈنٹ آرکیہ لوجسٹ رہے کمل کشور شرما کہتے ہیں کہ یہ ایک بڑی ڈسکوری ہے اور آثار قدیمہ کے ماہر بی لال کے ساتھ کام کرنے والے شرما کے مطابق ماضی میں آتنکیوں جینٹکس بھی واضح کر چکے ہیں کہ ہمارے ڈی این اے، کروموزوم میں گزشتہ 12 ہزار سالوں میں کوئی تبدیل نہیں ہوا. اوپر سے اب ملا یہ آثار قدیمہ ثبوت نئی تاریخ کو پھر سے زندہ کر رہا ہے. تاریخ دانوں اور آثار قدیمہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک سندھو گھاٹی کی تہذیب سے متعلق مواد اس وقت کے نشا نات مٹی کے برتن، کنکال، زیورات اور کاپرہورڈ کی تہذیب سے متعلق مواد مختلف جگہوں پر تو ملاتھا. لیکن اب تک کوئی ایسا موقع پہلے نہیں آیا تھا جہاں دونوں کے نشان ایک ساتھ ملے ہیں. سینولی کی کھدائی میں تین کنکال اور انکے تین تابوت آس پاس رکھے برتن پر جہاں سندھوتہذیب کے نشان ملے ہیں وہیں لکڑی کے رتھ بڑے پیمانے پر تانبے کا استعمال اور مٹھی والی تلوار وغیر ہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ شودھان کیندر کسی راج شاہی کا رہا ہوگا اور وہ تقریبًا 5ہزار قبل تانبے کا استعمال کرتے تھے اس نئی کھوج پر بدھائی۔ 
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...