Translater

11 جنوری 2020

کیا دہلی میں بھاجپا کی ٹرپل انجن والی سرکار بن سکتی ہے؟

سینٹرل الیکشن کمیشن نے پیر کے روز دہلی اسمبلی انتخابات کے لئے بگل بجا دیا ۔ریاست کی سبھی ستر سیٹوں کے لئے آٹھ فروری کو ووٹ پڑیں گے جبکہ 11فروری کو ووٹوں کی گنتی کرائی جائے گی یوں تو دہلی مکمل ریاست نہیں ہے لیکن اس کے نتائج دیش کی سیاست کے لئے ایک بڑی اشارتی اہمیت رکھتے ہیں چناﺅ کے ساتھ دہلی میں تین بڑی سیاسی پارٹیاں اپنی اپنی سرکار بنانے کے دعوے کر رہی ہیں اب بھاجپا کی طرف سے مرکزی سرکار اور عآپ کی طرف سے راجیہ سرکار کے پروجکٹوں کا سنگ بنیاد اور افتتاح و اعلانات کا سلسلہ بند ہو گیا اب دہلی میں عآپ بھاجپا اور کانگریس کے درمیان چناﺅی دنگل شروع ہو گیا ہے ۔ایسے میں نیتا اپنے اپنے حساب کتاب لگانے میں لگ گئے ہیں2015میں اسمبلی انتخابات میں عام آدمی پارٹی نے اکیلے 54.34فیصد ووٹ کے ساتھ ستر میں سے 67سیٹیں جیت کر تاریخ رقم کر دی تھی جسے دہرانے کی چنوتی اروند کجریوال پر رہے گی دوسری نمبر کی پارٹی بھاجپا کو 32.19فیصد ووٹ ملے تھے لیکن وہ صرف 3سیٹیں جیت پائی تھی ۔ووٹ فیصد بے شک تھوڑا بڑھے لیکن سیٹ بڑھانے کے لئے بھاجپا کو طاقت لگانی ہوگی چونکہ 2013میں بھاجپا کے محض 33.74فیصد ووٹ تھے اور سیٹیں 31مل گئی تھیں اس میں کانگریس کو 24.55فیصد ووٹ ملے تھے اور آٹھ سیٹیں ملیں تھیں 2017میں دہلی کے ایم سی ڈی چناﺅ میں حالانکہ بھاجپا نے اچھی پرفارمینس دی تھی اور اس کو 272میں سے 181سیٹیں ملیں تھیں جبکہ عام آدمی پارٹی کو 26فیصد ووٹ اور 47سیٹیں ملیں تھیں کانگریس کو 21فیصد ووٹ اور 21سیٹیں ملیں تھیں اس چناﺅ میں بھاجپا اور کانگریس دونوں ہی بغیر اعلانیہ وزیر اعلیٰ کے چہرے کے بغیر میدان میں اتری ہوئی ہیں اس کا مطلب ہے کہ دہلی اسمبلی چناﺅ میں نریندر مودی بنام کجریوال چناﺅ ہوگا بھاجپا کو یہ سمجھنا چاہیے کہ دہلی اسمبلی چناﺅ مقامی اشوز پر لڑ ا جاتا ہے ۔مقامی وکاس اور کمیوں پر لڑا جاتا ہے ۔اس نظریہ سے مودی کے نام پر چناﺅ لڑنا بھاجپا کے لئے خطرہ ہو سکتا ہے چناﺅی مدثر مان رہے ہیں کہ شہریت ترمیم قانون اور جے این یو میں مظاہرے اور جامعہ میں احتجاج اہم اشو ہو سکتے ہیں شہریت قانون بنام کجریوال سرکار کی وکاس یوجناﺅں کی لڑائی میں فی الحال ہمیں لگتا ہے کہ کجریوال بھاری پڑ رہے ہیں ۔عآپ نے 2015اسمبلی چناﺅ میں ستر میں 67سیٹیں جیتیں تھیں ۔شاید اس مرتبہ اثر زیادہ نہ ہو عآپ کی سیٹیں گھٹنے کا امکان ہے لیکن پارٹی اپنے سرکار کے کام کاج کی بنیاد پر لوگوں سے ووٹ مانگ رہی ہے اور یہ چناﺅ عآپ کے کام کاج کی اگنی پریکشا بھی ہے کیونکہ اس نے اپنے عہد میں اسکولوں ،محلہ کلینک ،اور 200یونٹ تک بجلی فری اور فری تیرتھ یاترہ سمیت کئی نئے تجربے کئے یہ چناﺅ ثابت کریں گے کہ کیا جنتا عآپ سرکار کے گورنگ ماڈل سے مطمئن ہے ؟بھاجپا ،صدر امت شاہ نے وزیر اعظم نریندر مودی کی رہنمائی میں دہلی میں بھاجپا سرکار بنانے کا دعوی کیا ہے ۔وہیں مرکزی وزیر اور دہلی اسمبلی کے چناﺅ انچارج پرکاش جاویڈکر نے کہا کہ دہلی میں چناﺅ جیت کر دیش میں بی جے پی ٹرپل انجن کی سرکار لائے گی دہلی کو وکاس کی نئی سمت دے کر بلندیوں تک لے کر جائے گی ۔وہیں پردیش صدر موج تیواری نے کہا کہ 11فروری منگل کے دن اسمبلی چناﺅ کا نتیجہ آنا پارٹی کے لئے ایک اچھا اشارہ ہے ۔جاویڈکر نے کہا کہ سرجیکل اسٹرائک اور ائیر اسٹرائک کا ثبوت مانگنے والی اور ٹکڑے ٹکڑے گینگ کی حمایت کرنے والی عام آدمی پارٹی کی سرکار کو دہلی کے لوگ نکار چکے ہیں انہوںنے پانچ سال تک دہلی کو گمراہ کرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا ہے ۔اِدھر کانگریس پردیش صدر سبھاش چوپڑا نے کہا کہ یہ چناﺅ کانگریس شیلا دکشت کے عہد کے کاموں کو چناﺅی اشو بنائے گی ۔کانگریس ہمیشہ وکاس کے اشو پر سیاست کرتی ہے انہوںنے کہا کہ کانگریس کے پندرہ سالہ عہد میں شیلا دکشت نے دہلی کو وکاس کی بلندی پر پہنچا دیا اور دہلی کو نئی پہچان دی جو پچھلے پانچ سال میں پوری طرح مٹ گئی ہے چناﺅی جنگ شروع ہو گئی ہے دیکھیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ؟

(انل نریندر)

آسٹریلیا میں آگ تھمنے کا نام نہیں لے رہی

آسٹریلیا میں جنگل کی آگ تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے آسٹریلیا کے کچھ علاقے پوری طرح آگ کی زد میں ہیں اور لاکھوں ایکڑ علاقہ اس سے متاثر ہوئے ہیں ریکارڈ توڑنے والا درجہ حرارت اور مہینوں کی خشک سالی پورے آسٹریلیا میں جنگل میں آگ کا سبب بنی ہے آگ سے نمٹنے کے لئے کوششیں جاری ہیں اور ہزاروں آگ بجھانے والے عملے اور رضاکاروں کو بارش سے تھوڑی راحت ملی ہے لیکن پچھلے ہفتے آگ میں مزید تیزی آگئی اب تک 24افراد مر چکے ہیں جن میں تین فائر کرمچاری بھی شامل ہیں اس کے علاوہ 63لاکھ ایکڑ جنگل اور پارک آگ سے جل چکے ہیں آسٹریلیا میں سب سے زیادہ متاثر ریاست نیو ساﺅتھ ویلس ہے یہاں تقریبا پچاس لاکھ ایکڑ علاقے میں آگ لگ گئی ہے اور تیرہ سو گھر تباہ ہو گئے ہیں ہزاروں لوگ اپنا گھر چھوڑ کر کیمپوں میں پناہ گزیں ہیں ۔آسڑیلیا میں آگ پھیلنے کی ایک بڑی وجہ موسم بھی رہا ہے یہاں خشک موسم میں تیز ہوائیں آگ کے لئے بالکل موزوں حالات بنا رہی ہیں ۔آگ کے سبب چالیس ڈگری درجہ حرارت اور تیز ہواﺅں کے سبب آگ زیادہ بھڑکی جس وجہ سے آگ بجھانے والے عملے کے لئے بھی حالت پر قابو پانا مشکل ہو گیا وکٹوریہ ریاست مٰں آٹھ لاکھ ایکڑ زمین آگ سے جل چکی ہے یہاں نومبر 2019کے آخر میں شروع ہوئی آگ نے حالیہ کچھ دنوں میں زیادہ تباہی مچائی اس میں دو لوگوں کی جان چلی گئی اور متعدد زخمی ہو گئے ۔ایک سیوز گروپ ائیر ویزول کے مطابق آسڑیلیا کی راجدھانی کینبرا بڑے عالمی شہروں میں آب وہوا کی کوالٹی کے معاملے میں تیسری خراب جگہ پائی گئی ہے آگے موسم کے تیز ہوائیں چلنے آندھی بجلی گرنے سے بے حد گرم اور خشک ہونے کا اندیشہ ہے ۔جس وجہ سے آگ لگنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے ۔عام طور پر آگ لگنے والی جنگل کی آگ سے زیادہ بڑی لگی ہے ۔2019میں امیوزن کے جنگل میں لگی آگ میں نیو ساﺅتھ ویلس میں قریب نو لاکھ ایکڑ زمین کا نقصان ہوا تھا جبکہ 2018میں کیلیفورنیا کی آگ میں 2016لاکھ ایکڑ زمین کو نقصان پہنچا تھا ۔آگ لگنے کے لئے کئی بار لوگوں کو ذمہ دار مانا جاتا ہے لیکن اکثر یہ آگ قدرتی آفات کے سبب لگتی ہے ۔جیسے کہ سوکھی جھاڑیوں پر بجلی گرنے سے ایک بار جب آگ لگ جاتی ہے تو آس پاس کے علاقہ بھی خطرے میں آجاتے ہیں ۔ہوا کے ذریعہ آگ دوسرے جنگلوں تک پھیل جاتی ہے ۔اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ آسٹریلیا کا درجہ حرارت 1910کے بعد ایک ڈگری سیلسیز بڑھ گیا 1950کے بعد سے درجہ حرارت زیادہ گرم ہونا شروع ہوا ہے امید کی جاتی ہے کہ آگ پر جلد قابو پا لیا جائے گا۔

(انل نریندر)

10 جنوری 2020

ڈیتھ وارنٹ :7 سال22دن بعد انصاف

آخر کار سات سال 22دن بعد دیش کو ہلا دینے والے نربھیا کانڈ کے چاروں گنہگاروں کو پھانسی پر لٹکانے کا وقت آگیا ہے ۔پھانسی کی سزا پر پٹیالہ ہائی کورٹ نے منگ کے روز ان چاروں درندوں کے خلاف ڈیتھ وارنٹ جاری کر دیا ہے ۔اس کے مطابق گنہگار اکشے کمار،پون گپتا،مکیش،اور ونے شرما کو 22جنوری کو صبح 7بجے تہاڑ جیل میں پھانسی دی جائے گی ۔ایڈیشنل سیشن جج ستیش کمار اروڈا نے ڈیتھ وارنٹ جاری کرنے سے پہلے چاروں قصورواروں کا موقف جانا چاروں کو ویڈیو کانفرنسگ کے ذریعہ جج کے سامنے پیش کیا گیا جج نے ان کی عرضیوں کے خارج ہونے کی جانکاری دی ،اور انہیں ملی موت کی سزا کے خلاف ان کی کسی بھی اپیل اب کسی عدالت میں التوا میں نہیں ہے ۔حتیٰ کہ نظر ثانی عرضیاں سپریم کورٹ سے بھی خارج ہو چکی ہیں اب صدر جمہوریہ کے پاس ان چاروں کی رحم کی اپیل بھی نہیں ہے اس کے بعد جج نے قصورواروں سے پوچھا کہ کیا تم لوگوں کو کچھ کہنا ہے ؟تو ونے اور پون کی طرف سے جواب دیا گیا کہ ہماری طرف سے سپریم کورٹ میں کیوریٹیو پٹیشن دینے کی کارروائی چل رہی ہے اس پر جج نے انہیں بتایا کہ ڈیتھ وارنٹ جاری ہونے کے بعد بھی ان کے لئے قانونی متبادل کھلے ہیں یہ ساری باتیں شام چار بجے سے 4:45کے درمیان بند کمرے میں ہوئیں جب کورٹ کا دروازہ کھلا تو سب سے پہلے وہاں سے پھانسی کی تاریخ اور وقت طے ہونے کی خبر ملی حالانکہ قصورواروں کے وکیل نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ میں کیوریٹو پٹیشن داخل کریں گے لیکن واقف کار کہتے ہیں کہ یہ راستہ بھی تقریبا بند ہو چکا ہے ۔کیونکہ کیورٹیو پٹیشن کو کھلی عدالت میں سن کر خارج کر دیا گیا ہے ۔سماعت بند کمرے میں ہوتی تو کیوریٹو پٹیشن میں کہہ سکتے تھے کہ ان کی دلیل ٹھیک سے نہیں سنی گئی ۔چاروں قصورواروں کے پاس 22جنوری تک رحم کی اپیل داخل کرنے کا حق ہے اگر قصوروار پھر رحم کی عرضی دیتے ہیں تو عدالت ڈیتھ وارنٹ پر اب بھی روک لگا سکتی ہے کیونکہ صدر جمہوریہ کے سامنے اس کے نمٹارے کے وقت کی معیاد نہیں ہوتی لیکن ہمیں لگتا ہے کہ گنہگاروں کا بچ پانا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے ۔سب سے بڑی بات ہے کہ تاریخ کا جو وقت گنہگاروں کو اپیل کرنے کا ملتا ہے وہ ایک قانونی عمل کا ایک اہم ترین طریقہ ہے پر اب ان کا بچنا کسی بھی صورت میں ممکن نہیں ہے ۔نربھیا کے گنہگاروں کو پھانسی دینے کے لے تہاڑ جیل میں نیا پھانسی گھر بن کر تیار ہے جیل نمبر 3میں پرانے پھانسی گھر سے دس فٹ کی دوری پر نیا پھانسی گھر بنایا گیا ہے ۔نربھیا کے قصورواروں کو پھانسی دینے کے لے تہاڑ جیل میں کافی پہلے سے تیاریاں چل رہی ہیں ۔اس دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ تہاڑ جیل میں صرف ایک ساتھ دو قصورواروں کو ہی پھانسی دینے کا انتظام ہے اس کے بعد 25لاکھ روپئے کی لاگت سے ایک اور پھانسی گھر بنانے کی منظوری دی گئی جیل کے ڈائرکٹر جنرل سندیپ گوئل نے بتایا کہ چاروں قصورواروں کو ایک ساتھ پھانسی دینے کا انتظام کر لیا گیا ہے تین دن پہلے ان کے گنہگاروں کی ڈمی کو پھانسی پر لٹکایا جائے گا ایک وقت وہ بھی ہوگا جو 22جنوری کو کورٹ کی طرف سے مقرر کیا گیا ہے ۔بلیک وارنٹ جاری ہونے کے بعد پھانسی دینے تک کی ذمہ داری جیل انتظامیہ کی ہے جیل حکام کا کہنا ہے کہ جیل کے منویل کے مطابق پھانسی دینے سے پہلے ڈمی کے ذریعہ اسکی ریہلسل کی جاتی ہے ۔پھانسی کے دو گھنٹے بعد ڈاکٹر لاشوں کی جانچ کرتا ہے اور پھر سرٹیفکٹ دیتا ہے سزا مکمل ہو گئی ہے ۔جس دن پھانسی دی جاتی ہے اس دن قصورواروں کو پانچ بجے جگا دیا جاتا ہے ۔انہیں نہانے کے بعد قصوروار کو پھانسی گھر کے سامنے کھلے احاطے میں لایا جاتا ہے جہاں جیل سپریم ٹینڈیٹ ڈپٹی سپری ٹینڈینٹ میڈیکل آفیسر اور سب ڈویژنل مجسٹریٹ اور سیکورٹی عملہ موجود ہوتے ہیں اگر قصوروار خاص ظاہر کرئے تو وہاں ایک دھارمک شخص رہتا ہے اور پھر اسی وقت احاطے میں موجود مجسٹریٹ قصوروار سے اس کی آخری خواہش کے بارے میں پوچھتے ہیں جس میں وہ کسی رشہ دار کے نام خط وصیت لکھے یا اپنی جائیداد نام کرنے وغیرہ کی بات کہہ سکتا ہے کیونکہ قصوروار کے پاس صرف پندرہ منٹ کا وقت ہوتا ہے خواہشن جاننے کے بعد جلاد وہیں قیدی کو کالے کپڑے پہناتا ہے اس کے ہاتھ پیچھے کر کے اسے رسی یا ہتھکڑی کے باندھ دئیے جاتے ہیں اور یہاں سے پھانسی گھر تک قیدی کو لے جانے کی کاروائی شروع ہوتی ہے پھانسی گھر تک پہننے کے بعد سیڑھیوں کے راستے قصوروار کو چھت پر لے جاتے ہیں یہاں جلاد قصوروار کے منھ پر کالا کپڑا باندھ دیتا ہے اور گلے میں پھندا ڈال دیتا ہے ۔پھندا ڈالنے کے بعد قصورواروں کے پیروں کو رسی سے باندھ دیا جاتا ہے جب جلاد اپنے انتظام سے مطمئن ہو جاتا ہے تب وہ جیل سپرینٹینڈینٹ کو بتاتا ہے اور سپرین ٹینڈینٹ کے حکم کا انتظار کرتا ہے اور جیسے ہی جلاد کو اشارہ ملتا ہے وہ لیور کھینچ دیتا ہے ایک ہی جھٹکے میں قصوروار پھانسی کے پھندے پر جھول جاتا ہے ۔اور دو گھنٹے بعد میڈیکل افسر پھانسی گھر کے اندر جا کر یہ تصدیق کرتے ہیں کہ پھانسی پر جھول رہے شخص کی موت ہوئی یا نہیں ۔اس طرح سے قصوروار کو پھانسی کی سزا پر عمل کیا جاتا ہے ۔دیش کو 22جنوری کا بے صبری سے انتظار ہے جب نربھیا کے قصورواروں کو پھانسی ملے گی ۔

(انل نریندر)

09 جنوری 2020

امریکہ ایران میں ٹکراﺅ جنگ میں نہ بدل جایں

لمبے عرصے سے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری ٹکراﺅ سال2020میں کچھ کم ہونے کی امید تھی لیکن نئے سال کے پہلے ہفتے میں ہی امریکہ ایران کے درمیان جو حالات بن گئے ہیں اس سے خلیج میں حالات بگڑ سکتے ہیں کیونکہ تازہ اطلاعات کے مطابق ایران نے عراق میں امریکی بیس پر متعدد میزائلوں سے حملے کئے ہیں لیکن تا عدم تحریر ان میزائل حملوں میں کتنا نقصان ہوا ہے اس کا ابھی پتہ نہیں لگ سکا ۔ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد خلیج میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اورایران کے لوگ بدلہ لینے کی بات کر رہے ہیں ایسے میں ایران کی طرف سے مزید بڑی کارروائی سے خلیج میں حالات بگڑ سکتے ہیں کیونکہ اس کے جواب میں امریکہ اور اس کے اتحادی ملک ایران کی تنصیبات اور اہم مقامات پر حملہ کر سکتے ہیں امریکہ نے مشرقی وسطہ میں اپنے فوجیوں کی تعداد بڑھانا شروع کر دی ہے ساتھ ہی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بڑ ے حملے کی دھمکی دی ہے برطانیہ بھی خلیج فارس میں رائل نیوی کی تعیناتی کر رہا ہے وزیر خارجہ ہومنک نے کہا ہے کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہے ۔انہوںنے کہا کہ ایران کے ہلاک جنرل قاسم سلیمانی کی موت کو علاقائی خطرہ بتایا وہیں روسی صدر ولادی میر پوتن نے کہا کہ امریکی حملے کے بعد خطے میں حالات مزید خراب ہوں گے اس درمیان ایران کے سپریم لیڈر اور فوجی مشیر نے سلیمانی کی موت کے بدلے میں ہم بھی فوجی کارروائی کے جواب دیں گے ۔اور یہ امریکی فوجی ٹھکانوں پر ہوگی اور یہ ایران نے عراق میں میزائل باری کر کے ایک طرح سے اپنی دھمکی پر عمل کر دیا ہے ۔چین نے امریکہ کو اتوار کو آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اپنی طاقت کا بے جا استعمال بند کرئے چین کے وزیر خارجہ ڈونگچی نے اس سے پہلے ایرانی وزیر خارجہ محمد جاوید ظریف سے فون پر بات کی تھی اسی دوران ڈون نے کہا تھا کہ امریکہ کی اس کارروائی سے بین الا اقوامی رشتوں کے جو ضابطے ہیں وہ متاثر ہوں گے اور اس سے علاقائی خطے میں کشید گی بڑھے گی ۔یورپی یونین نے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ ظریف کو بروسیلز آنے کی دعوت دی یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے چیف جوسپ بوریل نے کہا کہ دونوں ملکوں کو کشیدی کم کرنے کی سمت میں آگے آنا چاہیے انہوںنے 2015کے ایران نیوکلیائی سمجھوتے کو بھی بنائے رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ۔اس وقت دنیا کے چھ دیش ایران کا ساتھ دے سکتے ہیں ان میں روس،چین،شام،لبنان،یمن،و عراق جنگ کے وقت ایران کی حمایت میں کھڑے ہو سکتے ہیں روس اور چین امریکہ کے خلاف ایران کے ساتھ دیتے رہے ہیں دیگر چار مسلم ملک ہیں جہاں ایران نے اپنی ملیشیاءطاقت کے ذریعہ اثر بنایا ہوا ہے اگر جنگ ہوتی ہے تو 80لاکھ ہندوستانیوں کو مغربی ایشیاءسے وطن لوٹنا پڑ سکتا ہے چالیس ارب ڈالر غیر ملکی کرنسی کا بھارت کو اس صورت میں نقصان اُٹھانا پڑ سکتا ہے بتا دیں کہ جب خلیجی جنگ ہوئی تھی تو بھارت سرکار نے ایک لاکھ ہندوستانیوں کو واپس بلا لیا تھا ۔اب اگر جنگ ہوئی تو اس سے کچے تیل کے دام پر سیدھا اثر پڑے گا فی الحال کچے تیل کے دام بین الا اقوامی بازار میں چار فیصد بڑھ گئے ہیں اس لئے آنے کچھ دن بے حد چنوتی بھرے ہوں گے امید کی جانی چاہیے کہ دونوں امریکہ اور ایران کسی بھی جنگ سے بچیں گے ۔

(انل نریندر)

2020میں بھی سب کی نگاہیں سپریم کورٹ پر لگی رہیں گی

06دسمبر 2012کو ہو ئے نربھیا اجتماعی بد فعلی معاملے میں چاروں مجرموں کی پھانسی پر عمل کی تیاری قطعی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے ۔مجرموں میں اب اکشے ،پون،ونے،اور مکیش کو پھانسی پر لٹکانے کے لے ڈیتھ وارنٹ پر پٹیالہ ہاﺅس کورٹ نے دستخط کر دئیے ہیں ۔مجرموں کو اب کیوریٹو عرضی سپریم کورٹ میں دائر کرنے کی بات تہاڑ جیل انتظامیہ کو لکھ کر دے د ہے ۔واضح ہو کہ 19دسمبر کو ان گنہگاروں کی نظر ثانی عرضی سپریم کورٹ نے خارج کر دی تھی اب انہیں ایک مرتبہ پھر سپریم کورٹ میں رحم کی اپیل کا متابادل کھلا ہوا ہے جو امکان ہے کہ ایک یا دو دن میں دائر کی جا سکتی ہے لیکن انہیں راحت ملنے کی امید کم ہے ۔2020میں سپریم کورٹ میں کئی ایسے معاملے ہیں جو سماعت سے سرکار تک کو نئی سمت دیں گے ۔2019میں ایودھیا رام جنم بھومی کو لے کر سپریم کورٹ پر پوری دنیا کی نگاہیں لگی تھیں اب ایک بار پھر 2020میں بھی کئی اہم معاملوں کی سماعت سپریم کورٹ کرئے گا جیسے جموں و کشمیر سے متعلق آرٹیکل 370کو منسوخ کرنے اور شہریت ترمیم قانون کو چیلنج دینے والی عرضیاں جو کورٹ میں زیر التوا ہیں ان پر بڑی عدالت سماعت کرئے گی ۔شہریت ترمیم ایکٹ اور مرکز آرٹیکل 370اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے شہریت ترمیم قانو ن کے سبھی پہلوﺅں کو لے کر مرکز سے جواب مانگا ہے ۔اس پر 22جنوری کو سماعت ہونی ہے عرضی میں کہا گیا ہے کہ یہ قانون آئین کے آرٹیکل 14.24.25کی خلاف ورزی کرتا ہے ۔ایس سی ایس ٹی کریمی لیر کو کالج میں داخل و نوکریوں میں ریزرویشن کی نظر ثانی عرضی پر بھی سماعت ہوگی ۔2018میں سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا تھا کہ فائدہ نہیں دیا جا سکتا مرکزی حکومت نے 3دسمبر کو سپریم کورٹ سے اپیل کی تھی کہ وہ اس معاملے پر دوبارہ سے غور کرے اس پر سپریم کورٹ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ امکان ہے کہ اس سال معاملے کا نپٹارہ کرکے فیصلہ دے دیا جائے گا ۔اس کے علاوہ سپریم کورٹ کی سات ججوں کی بڑی جج سبریمالا معاملے میں داخل نظر ثانی عرضیوں پر اسی ماہ سماعت کرئے گی ۔سپریم کورٹ اور دیگر مذاہب کے دھارمک استھلوں پر جنسی امتیاز ختم کرنے کے معاملے پر بھی سماعت کرئے گی سپریم کورٹ جنوری میں ہی نکاح ،حلالہ اور کثیر شادی جیسے معاملوں پر بھی سماعت کرئے گی ۔عرضی گزار نے اسے بد فعلی کے برابر جرم قرار دینے کی مانگ کی ہے اے ڈی آر اور کامن کوز نے پارٹیوں کے ایلکٹرول بونڈ سے ملنے والے چندے پر روک لگانے کی عرضی لگائی ہے ۔ان رضاکار انجمنوں کا کہنا ہے کہ اس سے بلیک منی کو سفید کیا جا رہا ہے ۔عدالت نے 12اپریل 2019کو اپنے فائنل حکم کے تحت روک لگانے سے منع کر دیا تھا اور سبھی سیاسی پارٹیوں کو ہدایت دی تھی کہ وہ سیل بند لفافے میں چناﺅ کمیشن کو بتایں کہ الکٹرول بانڈ سے کس کس نے کتنا چندا دیا؟کس کھاتے میں اسے جمع کرایا سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ وہ قانون میں کی گئی ترمیم کا تجزیہ کرئے گا ایسے میں نئے برس میں سپریم کورٹ ان اہم مسئلوں پر اپنا فیصلہ دئے گی جس کے دور رس نتائج ہوں گے بہر حال سبھی کی نگاہیں اس سال بھی سپریم کورٹ پر لگی رہیں گی ۔

(انل نریندر)

08 جنوری 2020

اس سال دہلی اور بہارمیں ہوگا بھاجپا کا اصلی امتحان

سال2019کل ملا کر بھاجپا کے لئے ملا جلا رہا بلکہ کہیں تو کچھ خاص اچھا بھی نہیں رہا بھاجپا نے 2019میں مرکز میں واپسی کرنے والی دوسری غیر کانگریسی سرکار بنا کر بیشک تاریخ رقم کر دی ہو لیکن ریاستی انتخابات میں ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔مہاراشٹر ،جھارکھنڈ میں اقتدار ہاتھ سے چلا گیا ہریانہ میںاپنی سرکار بچانے کیلئے اتحاد کا سہارا لینا پڑا 2020میں ایک با ر پھر بھاجپا کے سانس داو ¿ پر ہوگی اوراس کی اصلی چنوتی دہلی بہاراسمبلی انتخابات ہیں ۔وہیں اپنے سیاسی وجود کی جنگ لڑ رہی کانگریس کے ساتھ بھی بھاجپا کا مقابلہ ہوگا دہلی میں پارٹی لوک سبھا چناو ¿ کی کارگردگی کو دہرانہ چاہے گی کیونکہ ساتوں لوک سبھا سیٹیں اسی کے ہاتھوں میں ہیں لیکن اسمبلی چناو ¿ میں اس کو کراری ہار جھیلنی پڑی تھی ۔دہلی اسمبلی چناو ¿ بھاجپا کے لئے وقارکی لڑائی ہے کیونکہ وہ یہاں 20سال سے اقتدار سے باہر ہے یہاں حکمراں عام آدمی پارٹی کے علاوہ کانگریس سے تکونہ مقابلہ کیلئے اسے سیاسی بساط بچھانی ہوگی ۔دہلی میں بھاجپا کو کیجریوال کے سامنے وزیر اعلیٰ کا چہرہ اور ترقی کے اشو پر مقابلہ کرنا ہوگا ۔وہیں بہار پہلی ریاست ہے جہاں 2014میں مرکز کا اقتدار پانے کے بعد بھی بھاجپا کو ہارکا سامنا کرنا پڑا تھا حالانکہ بعد میں نتیش کمار نے جے ڈی یو بھاجپا اور ایل جے پی کو ملا کرسرکار بنائی تھی دونوں پارٹیوں کو ساتھ بنائے رکھنا بھاجپا کیلئے بڑی چنوتی ہے ۔جھارکھنڈ میں چناو ¿ ہارنے کا اثر بہار میں بھی پڑ سکتا ہے ۔مہاراشٹر میں سیو سینا سے علیحدگی اور جھارکھنڈ میں آجسو کے ساتھ اتحاد ٹوٹنے کے بعد بھاجپا نہیں چاہے گی کہ بہار میں اسی طرح کا معاملہ پیش آئے ۔شہریت قانون کو لیکر جے ڈی یو کے نائب صدر پرشانت کشور اور بھاجپا نیتا و نائب وزیر اعلیٰ سشیل مودی کے درمیان ہوئی جنگ میں بات سیٹوں کے بٹوارے تک پہونچ گئی تھی ۔کشور نے کہا تھا جے ڈی یو کو زیادہ سیٹوں پر چناو ¿ لڑنا چاہئے لیکن سشیل مودی نے کہا کہ دونوں پارٹیوں کی سینئر لیڈر شپ بٹوارے پر آخری فیصلہ لے گی اس سے اتحاد کے مستقبل کو لیکر پیدا ششو پنج پر بھاجپا صاف کر چکی ہے کہ بہار میں این ڈی اے نیتا نتیش کمارکی رہنمائی میںہی چناو ¿ لڑے گی لیکن سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق دہلی میں کیجریوال کی پوزیشن مضبوط مانی جارہی ہے ۔بھاجپا کامقصد سیاسی حالت میں سدھار ہونا چاہئے ۔بہار میںایک مشکل لڑائی ہوگی اور کسی بھی پارٹی کے لئے واک اوور نہیں ہوگا ۔

(انل نریندر)

جے این یو میں خونی ہنگا مہ :ذمہ دار کون؟

فیس اضافہ کے احتجاج سے پیداماحول کے درمیان جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں اس جنگ نے خونی رنگ لے لیا ۔لیفٹ پارٹی کی اسٹوڈینٹ ونگ آئیسہ نے جے این یو اسٹوڈینٹ یونین کے مفاد کی لڑائی نے خطرناک موڑ لے لیا الزام تراشیوں کے دور کے بع آئیسہ اور اے وی بی پی دونوں آپس میں ٹکر اگئے یونیورسٹی میں اتوار کی شام نقاب پوش بدمعاشوں نے 37سے زیادہ طلبہ اور دو ٹیچروں کی پٹائی کردی اور کیمپس میں توڑ فوڑ کی جے این یو کے مختلف ہاسٹل اور سابرمتی ڈھابے کے پاس بھی مار پیٹ ہوئی ٹکراو ¿ کے بعد آئی تصویروں میں صاف نظر آرہا ہے کہ کچھ نقاب پوش غنڈے اپنے ہاتھوں میں ڈنڈے او ر راڈ لیکر بغیر کسی روک ٹوک کے داخل ہو رہے ہیں اور چنے ہوئے اپنے نشانوں پر حملے کر رہے ہیں اس توڑ پھوڑ کی تصویروں کےساتھ جے این یو اسٹوڈینٹ یونین کے صدر آئیشی گھوش کی تصویربھی سامنے آئی جو بر ی طرح زخمی دکھائی دیں آیوشی گھوش کا کہنا ہے کہ انہیں نقاب پوشوں کے ذریعے بری طرح پیٹا گیا وہیں جے این یو اے وی بی پی کے صدر درگیش کمار کا کہنا تھا کہ جے این یومیں عائشہ کے ذریعے اے وی بی پی کے ورکروں کو بری طرح پیٹا گیا پچھلے کچھ برسوں سے کشیدہ دیش کے سب سے پرانے تعلیمی ادارے جے این یو میں خونی جھگڑ ے کا جوالہ پھوٹنی ہی تھی ۔ جے این یو سے تعلیم حاصل کر چکے متعدد طلبہ و طالبات ملک و بیرون ملک کے اہم تعلیمی اداروں میں کام کر رہے ہیں ۔یہاں کے زیادہ تر طلبہ او رٹیچر لیفٹ رجحان والے ہیں لیکن مرکز میں بھاجپا کی سرکار بننے کے بعدسے آر ایس ایس حمایتی تنظیم اے وی بی پی کی سرگرمی بڑھی ہے اس کو کہنے میں ہمیں کوئی قباحت نہیں اس کے بعد سے ہی جے این یومیں عالمی سطح پر مسلسل مخالف لیفٹ طلبہ انجمنیں اور اے وی بی پی آمنے سامنے ہیں پچھلے دنوں کئی ایسے مواقع آئے جب ان دونوں تنظیموں کے درمیان جم کر ٹکراو ¿ ہوئے ہیں اور اتوار کو جو جھگڑا ہوا اسے لیکر دونوں تنظیمیں ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرا رہی ہیں جبکہ اے وی بی پی نے دعویٰ کیا کہ لیفٹ اسٹوڈینٹ انجمنوں ایم ایف آئی ،عائشہ ،ڈی ایس ایف سے جڑے طلبہ نے ہم پر حملہ کیا ہے اس کے پیچھے سچائی کیا ہے اس کا پتہ تو جانچ پڑتال کے بعد ہی چل پائے گا لیکن کچھ سوال ایسے ہیں جن کا جواب پولس اور انتظامیہ کو ضرور دینا پڑے گا ۔تشدد برپا کرنے والے نقاب پوشوں کی تصویر وائرل ہو چکی ہے پولس اور انتظامیہ کا فرض بنتا ہے کہ وہ ان نقاب پوشوں کی فوراًپہچان کرے تاکہ ان کے خلاف عدالتی کاروائی ہو سوال یہ بھی ہے کہ یونیورسٹی کے مین گیٹ پر 24گھنٹے سکیورٹی گارڈ تعینات رہتے ہیں اس کے باوجود ہتھیار بند نقاب پوش دن دہاڑے کمپلیکس میں آخرکیسے داخل ہو گئے؟افسوس ناک بات یہ بھی ہے اس جھگڑے کو سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے ۔

(انل نریندر)

07 جنوری 2020

سی اے اے ،این آر سی نافذ کرنے سے انکار

معاملہ چاہے سی اے اے کا ہو یا این آر سی کا جس طریقہ سے دیش کی مختلف ریاستوں نے اسے لاگو کرنے کی مخالفت کی ہے اس سے ایک آئینی بحران کھڑا ہو سکتا ہے ۔پہلے بات کرتے ہیں سی اے اے کی اس کے خلاف کیرل اسمبلی کے ذریعہ ایک تجویز پاس کئے جانے کے ایک دن بعد وزیر اعلیٰ پن رئی وجین نے اس بارے میں بھاجپا کی نکتہ چینی کو مستر د کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی اسمبلی کے اپنے مخصوص اختیار ہوتے ہیں ایسے قدم کے بارے میں کہیں بھی سننے کو نہیں ملا لیکن ہم موجودہ حالات میں کسی بھی چیز سے انکار نہیں کر سکتے آج دیش میں جو غیر متوقعہ واقعات یاچیزیں ہو رہی ہیں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کیرل اس قانون کے خلاف پرستاﺅ پاس کرنے والی پہلی ریاست ہے ۔یہ قانون آئین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے اس کے فوراََ بعد راجستھان میں کانگریس کے اشوک گہلوت سرکار نے بھی اس قانون کو نافذ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس بارے میں کیبنٹ کی مہر لگی ۔شہریت ترمیم ایکٹ اور نیشنل پاپولیشن رجسٹر کے خلاف کانگریس مخالفت میں آگے آگے ہے ۔کسی بھی کانگریس حکمراں ریاست میں شہریت قانون لاگو کر پانا مرکزی سرکار کے لئے چنوتی بن گیا ہے ۔کانگریس کے کئی نیتا شہریت قانون کو مذہبی امتیاز پر مبنی اور آئین کے بنیادی وقار کے خلاف کہہ چکے ہیں ۔وزیر اعظم بے شک کہہ چکے ہیں کہ ان کی سرکار 2014کے بعد سے اب تک اس مسئلے پر کوئی غور خوض نہیں کیا لیکن انہوںنے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ دیش بھر میں این آر سی لاگو ہوگا یا نہیں دوسری طرف دس ریاستی حکومتیں اب تک این آر سی لاگو کرنے سے انکار کر چکی ہیں ان میں پنجاب مدھیہ پردیش ،راجستھان،چھتیس گڑھ ،مہاراشٹر کے علاوہ بہار ،اڑیشہ ،مغربی بنگال،آندھرا پردیش،اور کیرل بھی اس فہرست میں ہیں ان ریاستوں میں دیش کی 40فیصدی آبادی رہتی ہے مختلف ریاستوں کے ذریعہ شہریت ترمیم قانون نافذ نہ کرنے پر وزیر قانون روی شنکر پرساد نے بدھوار کو کہا کہ پارلیمنٹ کے ذریعہ پاس قوانین کو نافذ کرنا ریاستی حکومتوں کی آئینی فرض ہے ۔انہوںنے کہا کہ تعجب کی بات ہے کہ جو آئین کا حلف لے کر اقتدار میں آتا ہے وہ غیر آئینی بیان دے رہے ہیں اور یہ بیان کیرل اسمبلی کے ذریعہ شہریت ترمیمی قانون کو واپس لئے جانے کی تجویز کے بعد آیا ہے ۔انہوںنے کہا کہ پارلیمنٹ شہریت قانون سمیت مرکز کی فہرست کے تحت آنے والے امور پر قانون بنا سکتی ہے سوال یہ ہے کہ کیا پارلیمنٹ کے ذریعہ پاس قوانین کو لاگو کرنے سے ریاستی حکومتیں انکا رکر سکتی ہیں اس کا آخری فیصلہ کون کرئے گا؟ہمیں لگتا ہے کہ ان اختیارات کی لڑائی میں فائنل فیصلہ سپریم کورٹ کو ہی کرنا پڑ سکتا ہے ۔

(انل نریندر)

تیسری جنگ عظیم کے قریب پہنچے امریکہ اور ایران

امریکہ اور ایران کے درمیان پچھلے کافی وقت سے چلا آرہا ٹکراﺅ نئے سال کے شروع ہونے پہلے دو ایسے واقعات ہوئے جس وجہ سے حالات انتہائی دور میں پہنچ گئے ہیں 31دسمبر یعنی پچھلے منگلوار 2019کے آخری دن عراق کی راجدھانی بغداد میں امریکی صفارتخانے پر مشتعل مظاہرین کی بھیڑ نے حملہ کر دیا یہ لوگ ایران حمایتی ملیشیا ءکے خلاف امریکی ہوائی حملے سے خفا تھے ۔بغداد میں بین الا اقوامی ہوائی اڈے پر امریکی فورسیز کے راکیٹ حملے میں کم سے کم آٹھ لوگ مارے گئے اس غیر متوقعہ واقعہ میں ایران کی ٹرینگ قدوس فورس کے چیف میجر جنرل قاسم سلیمانی کو مار گرایا ۔ان کے ساتھ ایران حمایتی ملیشیا ءپاپولر موبلائزیشن فورس کے کمانڈر ابو مہدی المحدث بھی مارے گئے ۔بتایا جاتا ہے کہ اس وقت سلیمانی کا قافلہ بغداد ائیر پورٹ کی طرف بڑھ رہا تھا تبھی ایک ڈرون حملے میں سلیمانی مارا گیا یہ کوئی عام شخص نہیں تھا جنرل قاسم سلیمانی اپنے دیش کے مقبول اور اپنے دیش کے صدر حسن روحانی سے بھی زیادہ پاپولر تھا ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامعی کے سب سے قریبی اور رتبے میں نمبر دو کی پوزیشن رکھتے تھے ۔سلیمانی برسوں سے امریکہ اسرائیل اور سعودی عرب کے نشانے پر تھے سی آئی اے انہیں ایران کا جیمس بونڈ کہتی تھی ۔اس لئے سلیمانی امریکہ کے نشانے پر تھے امریکہ کا الزام ہے کہ جنرل سلیمانی عراق سمیت خلیجی ملکوں میں امریکی سفارتکاروں اور فوجی ملازمین پر حملے کی سازش رچ رہے تھے اس حملے کو عراق میں کچھ دن پہلے ایک امریکی ٹھیکیدار کی موت اور بغداد میں امریکی سفارتخانے کی گھیرا بندی سے جوڑ کر دیکھا گیا ۔امریکہ کا وزارت دفاع پیٹاگان نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی ہدایت پر امریکی فوج نے اپنے جوانوں کی حفاظت کے لئے جنرل قاسم کو مار گرایا واردات کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک ٹوئٹ بھی کیا جس پر امریکی جھنڈا بنا تھا امریکہ جنرل سلیمانی سے اس لئے بھی ناراض تھا کیونکہ 2003سے 2011کے درمیان عراق میں 603امریکی فوجیوں کی موت کا انہیں ذمہ دار مانتا ہے ۔سلیمانی پر عراق کے شیعہ باغیوں کو جنگ تکنیک سکھانے اور بم بنانے کی تکنیک دینے کا الزام ہے بغداد میں امریکی سفارتخانے پر ہوئے حملے کے پیچھے بھی اس کا ہاتھ مانتا ہے ۔عراق میں امریکی سفارتکاروں پر حملے کی تیاری میں تھا اس کے حکم دینے کے لئے بغداد آیا تھا تب اسے مار گرایا گیا اس کے باوجود بش اور اوبامہ جیسے امریکی صدور نے انہیں نشانہ بنانے سے گریز کیا تھا اب بغداد میں اپنے سفارتخانے پر حملے سے دکھی ٹرمپ سرکار نے سلیمانی کو ٹاگیٹ بنا کر ٹھیک نئے سال کی شروعات میں پوری دنیا کو ایک نئے خطرے میں ڈال دیا ہے ۔کہیں یہ تیسری جنگ عظیم کی شروعات نہ ہو جائے ۔ایران کی سڑکوں پر ہزاروں لوگ احتجاج میں اتر آئے ایرانی پیشوا خامعی سلیمانی کے قتل کا بدلہ لینے کی بات کہی ہے تو روس نے امریکہ پر نکتہ چینی کی ہے اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو کو یونان کا اپنا دورہ بیچ میں چھوڑ کر وطن لوٹنا پڑا امریکہ نے عراق میں رہ رہے اپنے شہریوں کو فورا وہاں سے نکلنے کو کہا ہے ۔اسرائیل میں تمام سیاحتی مقامات بند کر دئے گئے ہیں ۔ایران اس پر کیا رخ اپناتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن کہیں یہ تیسری جنگ عظیم کو جنم نہ دے دے ؟

(انل نریندر)

05 جنوری 2020

رئلائنس نے ہائی کورٹ میں سرکار کو سنائی کھری کھوٹی

ایشیا ءکے سب سے امیر شخص مکیش امبانی کی پراپرٹی میں 17ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے 2019میں اس کا کل اثاثہ بڑھ کر 61ارب ڈالر ہو گیا پچھلے سال مکیش امبانی کی قسمت چمکانے میں ان کی کمپنی رئلائنس انڈسٹریز کے شہروں میں سب سے زیادہ اچھال کا سہرا جاتا ہے ۔جس میں 40فیصدی تیزی درج کی گئی اور اس کی دوگنی تیزی سے رئلائنس انڈسٹریز کے شیئر بڑھے ایسا کم ہی سننے اور دیکھنے کو ملتا ہے کہ ایشیاءکے سب سے امیر شخص کسی طرح کے مقدمے میں پھنسے ہوں اور یہ بھی کم سننے کو ملتا ہے کہ رئلائنس اور مکیش امبانی نے کھل کر مرکزی حکومت کی مخالفت کی ہو رئلائنس نے دہلی ہائی کورٹ میں سعوری عرب کی کمپنی ارامکو کے ساتھ 15ارب ڈالر کے سودے پر روک لگانے کی مرکزی حکومت کی دائر عرضی کی مخالفت کی ہے قابل ذکر ہے کہ دہلی ہائی کورٹ نے رئلائنس انڈسٹریز اور اس کے ساجھیدار بریٹیش گیس کمپنی کو اپنے اثاثے کے بارے میں جانکاری دینے کو کہا ہے مرکزی سرکار نے ہائی کورٹ میں دائر عرضی میں دونوں کمپنیوں کو نہ بیچنے کے ہدایت دینے کی درخواست کی ہے سرکار ان دونوں کمپنیوں کو اپنے اثاثے بیچنے سے دور رکھنے سے متعلق حکم دینے کے لئے عدالت گئی ہے ۔مرکزی سرکار کا کہنا ہے کہ ان کمپنیوں نے اسے 3.5ارب ڈالر کی ادائیگی نہیں کی یہ رقم بغیر کاغذی اور تاپتی کے پروڈکشن ساجھیدادی ایگری منٹ معاملے میں ثالثی عدالت کے مرکزی سرکار کے حق میں دئے گئے فیصلے کے تحت کی جانی تھی مرکزی حکومت نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ رئلائنس بھاری قرض کے بوجھ میں ہے اور یہی وجہ ہے کہ کمپنی اپنے اثاثوں کو بیچنے یا منتقل کرنے کی کارروائی میں ہے ایسا وہ اس لئے کر رہی ہے کہ غیر منقولہ و منقولہ اثاثوں میں تیسرے فریق کو لا رہی ہے رئلانس اگر پراپرٹی کی فروخت کر دیتی ہے تو ثالثی عدالت کے فیصلے کو عمل میں لانا مشکل ہوگا ۔2019اگست میں آر آئی اے ایل نے کہا کہ تھا کہ سعودی کمپنی ارامکو نے 15ارب ڈالر میں کمپنی کے پیٹرولیم و کیمکل بجنس میں 20فیصد حصے داری خریدنے سے متعلق غیر مجاز معاہدہ کیا سرکار نے دہلی ہائی کورٹ کے سامنے دلیل دی تھی کہ رئلائنس اور اس کے حصہ داروں سے 3.5ارب ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا ہے ۔رئلائنس نے سرکار کو عرضی کی عرضی کے خلاف پیش حلف نامے میں کہا ہے کہ سرکار کا یہ دعوی غلط ہے کہ کسی بھی ثالثی یا عدلیہ نے کمپنی اور اس کے ساجھیداروں کے خلاف کوئی قطعی فیصلہ نہیں سنایا ہے مقدمہ چل رہا ہے دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے جیسے میں نے کہا کہ ایسا قدم بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے کہ رئلائنس اور مکیش امبانی کسی طرح کے قانونی تنازعہ میں پڑے اس معاملے میں رئلائنس کا سرکار کے خلاف جانا اور بھی چونکانے والی بات ہے ۔

(انل نریندر)

جنوری پریڈ میں مغربی بنگال مہاراشٹر،اور دہلی کی جھانکی نہیں ہوگی

یوم جمہوریہ تقریب میں مختلف ریاستوں کے ذریعہ مختلف ریاستوں کے ذریعہ نکالی جانے والی جھانکیوں پر تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے ۔ملی اطلاع کے مطابق وزارت دفاع کے پاس 26جنوری کی پریڈ کے لئے تقریبا 56جھانکیوں کا پرپوزل آیا تھا اس میں ڈپارٹمنٹ پرموشن انڈسٹری اینڈ انٹرنل ٹریڈ ،ڈپارٹمینٹ آف ڈرنکنگ واٹر،فائننس سروس این ڈی آر ایف،وزارت داخلہ ،سی پی ڈبلیو ڈی ،وزارت شہری ترقی امور،وزارت شپنگ کے علاوہ ریاست و مرکزی حکمراں ریاستوں میں آندھرا پردیش ،آسام،اڑیسہ ،پنجاب،راجستھان،تمل ناڈو،تلنگانہ،اور اترپردیش کا نام شامل ہے وزارت کے ذریعہ جاری لسٹ میں کل 22جھانکیاں شامل کی گئی ہیں ان میں 16ریاستیں و حکمراں ریاستوں کی ہیں ۔جبکہ 6مرکزی وزارتوں کی طرف سے ہوں گی یوم جمہوریہ پریڈ میں اس سال مغربی بنگال ،مہاراشٹراور دہلی کی جھانکیوں کو منظوری نہیں دی گئی ہے اس کے بعد سیاست گرما گئی ہے ۔ترنمول کانگریس نے مرکز کے اس فیصلے کو بنگال کی بے عزتی قرار دیا ہے وہیں بھاجپا نے کہا کہ پرپوزل بنانے میں لا پرواہی برتی گئی جس سے وہ پاس نہیں ہو پایا ۔مغربی بنگال کے وزیر پارلیمانی امور کے وزیر مملکت تپس رائے نے مرکزی سرکار پر بدلے کے جذبے سے کام کر نے کا الزام لگایا ہے ریاست کے ساتھ ۔سوتیلا برتاﺅ اس لئے کیا جا رہا ہے کیونکہ مغربی بنگال سرکار بھاجپا کی عوام مخالف پالیسوں کی مخالفت کرت ہے ہم نے شہریت ترمیم قانون کی مخالفت کی ہے اس لئے ہماری جھانکی کی تجویز کو مسترد کر دیا گیا اس بار مہاراشٹر کی جھانکی بھی نہیں ہوگی اور اس مرتبہ مراٹھی رنگ منچ کے 175 سال پورے ہو رہے ہیں اور یہ جھانکی اسی تھیم پر بنائی گئی تھی اب اس اشو پر شیو سینا اور این سی پی نے مرکز پر جانبداری برتنے کا الزام لگایا ہے ۔این سی پی نیتا جتیندر نے اور شیو سینا ایم پی سنجے راوت نے الزام لگاتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ مہاراشٹر کی ہمیشہ سے دیش میں کشش کا مرکز رہی ہے اگر یہی کانگریس کے عہد میں ہوتا تو واویلا کھڑا ہو جاتا اور بھاجپا سب سے آگے ہوتی این سی پی نیتا سپریا سلے نے کہا کہ مرکز نے یوم جمہوریہ پریڈ کے لئے غیر بھاجپا حکمراں اور مہاراشٹر اور مغربی بنگال کی جھانکی کو اجازت دینے کے منع کر دیا ہے۔یہ سرکار ایک سازش کے تحت برتاﺅ کر رہی ہے دونوں ریاستوں نے تحریک آزادی میں اہم ترین رول نبھایا تھا اور اس کی جھانکی کے لئے اجازت نہ دینے سے انکار کرنے کا فیصلہ لوگوں کی بے عزتی ہے ۔

(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...