Translater

04 جولائی 2020

جان ہتھیلی پر رکھ کر معصوم کو بچایا

کشمیر کے سوپور علاقے کی مسجدمیں چھپے دہشت گردوں نے سی آر پی ایف کے ایک دستہ پر حملہ بول دیا ۔دہشت گردوں کی فائرنگ کے دوران گولا باری کے درمیان پھنسے تین سالا معصو م بچہ چند سکنڈ پہلے اس کے نانا دہشت گردوں کی گولیوں کے شکار ہوگئے لیکن نشانہ فوج اور سی آر پی ایف تھی ۔سی آر پی ایف اور جموں کشمیر پولیس کی ایک مشترکہ ٹیم کیلئے جوابی کاروائی کے دوران تین سال کے بچے کو بچانے کا چیلنج تھا لیکن فوج کے جوانوں نے جان ہتھیلی پر رکھ کر اس ننے معصوم بچے کو بچا لیا ۔جموں کشمیر کے سوپور میں مڈبھیڑ کے دوران کھینچی گئی اس بچے کی تصویریں وائرل ہو گئیں اور شوشل میڈیا پو خوب چھائی رہیں دل دہلا دینے والی تصویریں سکیورٹی ملازمین کی گشتی ٹیم پر حملہ کرنے پہونچے دہشت گردوں نے سامنے آئے نواسے اور نانا پر گولیا ں برسائیں اس شخص کی تو موقع پر موت ہو گئی ان کے ساتھ موجود تین سالا بچہ اپنے نانا کی لاش کے پاس بیٹھا روتا رہا اس معصو م بچے کو شاید یہ نہیں پتا تھا کہ اس کے نانا کی جان چلی گئی ہے وہ تو اپنے نانا کے اٹھنے کا انتظار کر رہاتھا لیکن اسے کیاپتا تھا کہ اس کے نانا اس دنیا سے جا چکے ہیں اسی دوران اس نے ایک جوان کو دیکھا اس معصومیت سے ظاہر ہو رہاتھا کہ کچھ کہہ رہاہے کہ میرے نانا کو اٹھا دو ۔آنا فانا میں اس جوان اور اس کے ساتھیوں نے بچے کو بچانے کیلئے مورچہ سنبھالا کئی بار جوان کے اشارے کئے جانے پر بچہ آہستہ آہستہ جوان کی طرف بڑھا اورجوان نے اسے گودمیں آٹھا لیا مڈبھیڑ میں شامل سوپور کے پولیس افسر عالم خان کے مطابق مڈبھیڑ کی جگہ پر مسجد کی بالائی منزل سے گولیاں چل رہی تھیں ۔بچے کو بچانے کے لئے ہم لوگوں نے سب سے پہلے دہشت گردوں اور بچے درمیان ایک بختر بند گاڑی لگا دی تاکہ فائرنگ کی زد میں بچے کو آنے سے بچایا جا سکے ۔اور اس کے بعد ہم بچے کو وہاں سے نکال لائے ۔بتایا جاتا ہے کہ یہ بچہ اپنے نانا کے ساتھ دودھ خریدنے کے لئے آیا تھا بچے کو اس کے گھر پہونچایا گیا ۔جموں کشمیر میں فوج کو بدنام کرنے کیلئے فوج کی یہ رحم دلی ایک مثال ہے ۔ (انل نریندر)

چینی سرکار کے خلاف فوجیوں میں غصہ ،بغاوت کی حالت

لداخ کی گلوان وادی میں ہندوستانی فوجیوں کے ساتھ الجھنا چین کی کمیونسٹ پارٹی سرکار کے لئے بہت بھاری پڑ رہاہے ۔بھارت نے جہاں اس خلاف اقتصادی موچہ بندی شروع کر دی ہے وہیں اسے اپنے دیش کے لوگوں کو بھی گلوان وادی کی جھڑپ پر جواب دینا نہیں بن پڑ رہا ہے ۔حکمراں چائنیز کمیونسٹ پارٹی سچائی چھپا رہی ہے جس میں پیوپلس لبریشن آرمی کے سابق نیتاو¿ں اور سربراہوں اور موجودہ جوانوں کے درمیان اس قدر ناراضگی بڑھتی جارہی ہے کہ وہ کبھی بھی سرکار کے خلاف بغاوت کر سکتے ہیں یہ کہنا ہے چین کے ایک باغی نیتا جیالی یانگ کا کیونکہ سٹیزن پاور انیشیٹو فار چائنا نامی تنظیم کے بانی و صدر یانگ نے واشنگٹن پوسٹ میں شائع اپنے آرٹیکل میں لکھا ہے کہ بیجنگ کو ڈر ہے کہ اگر یہ مان لیا جائے کہ مخالفوں سے زیادہ اس کے اپنے فوجی مارے گئے تو دیش میں شورش پھیل سکتی ہے ۔اور سی سی پی کا اقتدار بھی داو¿ پر لگ سکتا ہے یانگ نے آگے لکھا ہے کہ سی سی پی کی سرکار کے لئے پی ایل اے نے اب تک ایک مضبوط ستون کی طرح کام کیا ہے ۔اگر پی ایل اے کے موجود فوجیوں کے جذبات کو ٹھینس پہونچتی ہے تو وہ لاکھوں سرکردہ (پی ایل اے )کے ممبران ہیں جو چینی صدر شی سے ناراض ہیں جن میں پی ایل اے کو کمرشل سرگرمیوں سے الگ کرنے کی شی کی مہم کے مخالف ہیں کے ساتھ آجاتے ہیں تو وہ شی کی قیادت کو مضبوطی کے ساتھ چیلنج دے سکتے ہیں انہوں نے آگے لکھا ہے کہ شی شی وی کی قیادت والی سرکار کے خلاف سابق فوجیوں کی اجتمائی اور مسلح کاروائی کی صلاحیت کو ہلکے میںلینے کی غلطی نہیں کر سکتا ۔سی سی پی کے ڈر کو صاف کرنے کیلئے یانگ گلوان وادی میں بھارت اور چین کے فوجیوں کے درمیان ہوئی پرتشدد جھڑ پ کا حوالہ دیتے ہیں کا کہنا ہے چینی وزارت خارجہ کے ترجمان جھاو¿ لیزیان سے جب پوچھا گیا کہ اس جھڑپ میں کتنے فوجی مارے گئے تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ اس بارے میں ان کے پاس کوئی جانکاری نہیں ہے ۔اگلے دن جب ان سے ہندوستانی میڈیا کی خبروں کا حوالہ دیاگیا جس میں چین کے 40فوجیوں سے زیادہ مارے جانے کی بات تھی تو انہوں نے اسے غلط خبرقرار دے دیا ۔یانگ لکھتے ہیں کہ چین نے یہ نہیں مانا کہ اس کے کتنے فوجی مارے گئے جبکہ بھارت نے اپنے فوجیوں کے شہید ہونے کی بھات کھلے طور پر قبول کی ہے ۔اور فوجی اعجاز کے ساتھ ان کا انتم سنسکار بھی کیا ۔گلوان میں مارے گئے چینی فوجیوں کی تعداد بتانا تو دور رہا ان کی لاشیں بھی ان کے رشتہ داروں کو نہیں دی گئیں ۔اور ناہی ان کے آخری رسوم ہو سکیں ۔ (انل نریندر)

کورونا انفیکشن کے گھٹتے معاملوں سے امید جاگی

کورونا جانچ کے حساب سے پچھلے 8دنوں میں انفیکشن شرع میں 11فیصدی کی کمی آئی ہے ۔ان آٹھ دنوں میں 23سے 30جون تک انفکشن شرع مسلسل کم ہوئی ہے حالانکہ یہ کہنا جلد بازی ہوگی کہ راجدھانی دہلی میں کوروناانفیکشن ڈھلاو¿ کی طرف ہے ۔ماہرین کا خیال ہے کہ اس نتیجے پر پہونچنے سے پہلے ہمیں کم سے کم ایک ہفتہ انتظارکرنا ہوگا ۔انڈین اسکول آف بزنس وزیٹنگ پروفیسر رادھیکا راوی نے ٹیوٹر پر گراف کے ذریعے سمجھایا کہ 7دن کی جانچ کے مقابلے پازیٹو کیس کا فیصد کم ہوا ہے ۔آنے والا ہفتہ ایسا ہی رہتا ہے تو راحت مل سکتی ہے ۔پرانی دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے بدھوار کوکہا کہ اب دہلی میں کورونا کے مریض بڑھنے بجائے گھٹ رہے ہیں ۔راجدھانی میں 30جون تک ایک لاکھ کورونا مریض ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا لیکن آج صرف اس اعداد شمارکے ایک تہائی کسی ہی ہیں ۔اس طرح 30جون تک 60ہزار ایکٹو کیس ہونے اور ہسپتال میں مریضوں کو 15ہزار بیڈ کی ضرورت کا اندیشہ ظاہر کیا تھا لیکن دہلی میں صرف 26ہزار ایکٹو کیس ہیں اور 5ہزار آٹھ سو بیڈ کی ضرورت پڑی ۔اسپتالوں میں مریضوں کے بڑھنے کے بجائے 450مریض کم ہوگئے ہیں پہلے 100سیمپل کی جانچ میں 31پازیٹو کیس سامنے آتے تھے ۔لیکن اب صرف 13کیس ہی سامنے آرہے ہیں کورونا کے یومیہ اوسط 60سے 65لوگوں کی موت ہو رہی تھی جس سے اور بھی کم کرنا ہے ۔ایک ماہ پہلے دہلی میں 38مریض ٹھیک ہو رہے تھے لیکن آج 67فیصدی ٹھیک ہورہے ہیں وزیراعلیٰ نے کہا دہلی میں کورونا سے موت کم ہونے لگی ہے ایک دن میں 132لوگوں کی موت ہوئی تھی لیکن آج 60لوگوں کی موت ہو رہی ہے ۔کیجریوال نے کہا کہ کچھ ماہرین لکھ رہے ہیں کہ دہلی میں کورونا انتہا تک پہونچ چکا ہے آپ لوگوں سے گزارش ہے کہ ماہرین کی طرف دھیان نا دیں ماسک پہنے رہیے اور شوشل دوری بنائے رکھیں اور بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں جانے سے بچیں اپنی میونٹی بڑھانے پر خاص دھیان دیں ۔ (انل نریندر)

03 جولائی 2020

شادی کے دوسر ے دن دولہے کی موت

سمجھ میں نہیں آتا کچھ لوگ کورونا وبا کی سنگینی کو کیوں نہیں سمجھتے اس نا سمجھی کی بھاری قیمت ایسے لوگوں کو چکانی پڑٹی ہے ۔ایک ایسا قصلہ بہار کی راجدھانی پٹنہ میں ایک شادی تقریب کا ہے ۔بتایا جاتا ہے پٹنہ سے 55کلو میٹر دور پالی گنج میں ہوئی شادی محکمہ صحت کیلئے مصیبت بن گئی ۔ہیلتھ افسروں کے مطابق ایک شخص جو ہریانہ کے شہر گروگرام میں چل رہی کمپنی سافٹ وئیر انجینئر کی شادی تھی مئی کے آخری ہفتہ میں وہ شادی کیلئے گھر آیاتھا اور شادی 15جون کو طے تھی لیکن تلک ہو جانے کے کچھ دن بعد اس میں کورونا وائرس کے اثرات ظاہر ہونے لگے اس کے بعد وہ کچھ دنوں کیلئے شادی ٹالنا چاہتا تھا حالانکہ گھر والوں نے تیز بخار کے باوجود پیرا سیٹا مول کی گولیا ں کھلا کر شادی کرا دی ۔شادی کے دوسرے دن ہی دولہے کی موت ہو گئی ۔جبکہ بارات میں شامل دولہے کی وجہ سے 100سے زیادہ لوگ انفکشن میں مبتلا ہوگئے ۔حیران کی بات یہ ہے کہ کورونا کے اثرات ظاہر ہونے کے باوجود دولہے کی شادی کرا دی گئی اور موت کے بعد بنا جانچ کرائے اس کا انتم سنسکار بھی کر دیا گیا ۔بتایاجاتا ہے شادی کے دو دن بعد 17جون کو دولہے کی اچانک طبیعت بگڑ گئی ۔گھر والے اسے پٹنہ ایمس لے جارہے تھے لیکن راستے میں ہی وہ دم توڑ گیا اس کیلئے نا تو انہوں نے انتظامیہ کی پکڑ اور جلد بازی میں اس کا انتم سنسکار بھی کردیا ۔اس کے بعد کچھ لوگوں نے ضلع مجسٹریٹ کو فون کرکے جانکاری دی اس کے بعد حکام نے بتایا کورونا کو ررکنے کیلئے دولہے کے گاو¿ں میں اسپیشل ہیلتھ کیمپ لگایا گیا تھا اس میں 364لوگوں کی جانچ کی گئی ۔ (انل نریندر)

چین کی مسلم آبادی پر بھی سخت قدم اٹھائے جانے لگے

چینی حکومت مسلم آبادی پر لگام کسنے کے اپنی مہم کے تحت ایگر اور دیگر مسلم اقلیتوں کے درمیان پیدائشی شرع کو گھٹانے کیلئے سب سے سخت قدم اٹھارہی ہے اتنا ہی نہیں دیش کے ہان شہری اکثریتی افراد کو زیادہ بچے پیدا کرنے کے لئے راغب کیا جا رہا ہے سرکاری اعداد و شمار اورماضی میں حراستی کیمپوں میں رکھے گئے 30لوگوں اور ان کے خاندان کے افراد کیلئے دی گئی جانکاری کی بنیا دپر یہ نتیجے سامنے آئے رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ کبھی کبھی کوئی خاتون زبردستی اسقاط حمل انسدادکے بارے میں بولتی تھی لیکن یہ چلن پہلے کے مقابلے زیادہ بڑے پیمانے پر اور منظم طریقے سے شروع ہو چکا ہے شنگ زیان صدر مغربی علاقے میں چلائی جارہی مہم کو کچھ ماہرین ایک قتل عام قرار دے رہے ہیں جانچ کے دوران لئے گئے انٹر ویو اور اعداد شمار بتاتے ہیں کہ اس صوبے میں اقلیتی فرقے کی عورتوں کو باقاعدہ طور پر حمل کی جانچ کرانے کیلئے کہا جاتا ہے اتنا ہی نہیں انہیں پراپرٹی جیسی اعلیٰ لگوانے و نس بندی کرانے اور لاکھوں عورتوں کا حمل گرانے کیلئے مجبور کیا جاتا ہے دیش میں جہاں آئی یو ڈی کے استعمال اور نس بندی می کمی آئی ہے وہیں سینگ زیان صوبے میں یہ تیزی سے بڑھ رہی ہے پتہ چلتا ہے کہ زیادہ بچے ہونا حراستی کیمپوں میں لوگوں کو بھیجے جانے کی بڑی وجہ ہے ۔حراستی کیمپوں میں چین یا اس سے زیادہ بچوں کے ماں باپ کو ان کے خاندانوں سے تب تک الگ رکھا جاتا ہے جب تک وہ بڑا جرمانہ نہیں بھر دیتے ماں باپ کو اس بات سے واقف کرایا جاتا ہے کہ زیادہ بچے پیدا ہونے پر انہیں حراستی کیمپوں میں بھیج دیا جائیگا شنگ زیان کے جن علاقوں میں اوئی گر آبادی اکثریت میں وہاں 2015سے 2018کے درمیان شرع پیدائش میں 60فیصدی گراوٹ ائی ہے پورے شنگ زیان صوبے کی بات کریں تو پچھلے سال زیادہ تر آبادی 24فیصدی گھٹی ہے ۔ (انل نریندر)

چین کو لگا جھٹکا 3لاکھ کروڑ تک گھٹ سکتا ہے کاروبار!

چین سے بڑھتی کشیدگی کے درمیان بھارت سرکار نے پیر کی رات بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ٹک ٹاک ،یو سی براو¿سز ،شیرٹ ،جیسے انسرٹ چینی ایپ پر پابندی لگا دی ان ایپ کے ذریعے یوزرس کی جانکاری لی جار ہی ہے یہ دیش کی سلامتی ،سرداری اور اتحاد کیلئے بڑا خطرہ ہے ۔انفارمیشن ٹیکنالوجی وزارت نے آئی ٹی ایکٹ 2009کی دفع 59Aکے تحت چینی ایپ پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا ۔حکومت کا کہنا ہے کہ پچھلے کچھ برسوں میں بھارت بڑا ڈیجیٹل بازار بن گیا ہے اس کے ساتھ ہی ہندوستانیوں کے ڈاٹا کی حفاظت سے وابسطہ تشویش سامنے آتی رہی ہیں ۔حکومت نے پایہ کے چینی ایپ دیش کیلئے خطرہ ہیں انسرٹ چینی ایپ پر پابندی لگنے کے 24گھنٹے کے اندر ہی چینی رد عمل سامنے آگیا ۔چین کے وزارت خارجہ کے ترجمان یاو¿ لیزیان نے بھارت میں چینی ایپ پر روک کے بارے میں کہا کہ چین کے ذریعے جاری نوٹس سے زیادہ فکر مند ہے ۔اور کہا کہ بھارت سرکار پر بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے جائز اور قانوی اختیارات کی ذمہ داری ہے ۔دراصل بھارت اور چین کے درمیان جاری ٹکراو¿ میں ان ایپ کے بند کرنے سے ہندوستانی سرکار کے ذریعے ہائی وے پروجیکٹ کے ٹھیکے ختم کرنے کے فیصلے سے گھبراہٹ پیدا ہوگئی ہے ۔چینی حکومت کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمس سے لکھا ہے کہ دونوں ملکوں میں ٹکراو¿ کی وجہ سے کاروبار 50فیصدی تک گھٹ کر 3لاکھ کروڑروپئے تک ہو سکتاہے ۔ایک شائع رپورٹ کے مطابق بھارت میں چین کے خلاف بڑھ رہی ناراضگی کے سبب دونوں ملکوں کے درمیان تجارت میں اچھی خاصی کمی آسکتی ہے اس خبر کے مطابق جب سے لداخ میں کشیدگی بڑھی ہے بھارت میں قومیت کا جزبہ کافی تیزی سے پھیلتا جارہا ہے ہندوستانی لیڈر اور اخبارات ،ٹی وی چینل چین پر نکتہ چینی میں لگے ہیں اس وجہ سے اس سال دونوں ملکون میں باہمی تجارت میں 30سے 50فیصدی تک کاروبار میں گراوٹ آسکتی ہے ۔بھارت سرکارکے ذریعے چینی ایپ کو بند کرنے کے قدم کو دیر آئد درست آئد کا فیصلہ مانا جا سکتا ہے کیونکہ چین کے خلاف این ایپ پر روک لگانے کے بار ے میں پہلے بھی کافی مظاہرے ہوئے ہیں اور دلیلیں بھی دی گئی ہیں ۔مگر یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب چین کے خلاف ملک میں کافی ناراضگی ہے اور سرکار پر بھی اس بات کو لیکر کافی دباو¿ ہے کہ اسے چین کے خلاف ایسے قدم اٹھانے چاہیے جس سے جنتا کا غصہ ٹھنڈا ہو سکے حالانکہ حکومت یہ مانتی ہے کہ چینی ایپ پر پابندی لگانے کا اس کا فیصلہ بہت فیصلہ کن یا مستقل نہیں ہے اس کے باوجود اس نے اگر پابندی کے راستے پر قدم بڑھائے ہیں تو یہ آگے چل کر دیش کے مفاد میں ہی ہوگا اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے کہ چین نے اس ایپ کے ذریعے کافی سیند ماری ہمارے یہاں کر رکھی تھی ۔تشویش کی بات یہ ہے کہ سرکار کا نوٹس جاری ہونے کے 24گھنٹے کے اندر پلے اسٹور ایپ اسٹور سے یہ سارے ایپ ہٹ جانے چاہیے ۔ان سب کے علاوہ سرکار کو اس بات کیلئے بھی چوکنہ رہنا ہوگا کہیں یہ ایپ چور دروازے سے تو بھارت میں پھر سے گھسنے کی کوشش میں تو نہیں ہیں ۔ (انل نریندر)

30 جون 2020

گلوان وادی چین کا داو ¿ الٹا پڑا

مشرقی لداخ میں ایل اے سی پر ٹکراو¿ اور تعطل ختم کرنے کے لئے پچھلے پیر بھارت اور چین کے کور کمانڈروں کی میٹنگ بھلے کامیاب رہی لیکن پیچھے ہٹے گا وہ بھی جو بھی حالت مئی سے پہلے تھی اس پر تو شبہ ہے۔ چین کی تاریخ دھوکے بازی کی رہی ہے۔ خیال رہے اسی طرح کا اتفاق رائے 6جون کو بھی ہوا تھا لیکن سب کو پتا ہے کہ 15جون کو جو کچھ ہوا وہ منظم طریقے سے حملہ تھا۔ امریکی خفیہ فوجی رپورٹ میں چین کے ان الزامات کو بے نقاب کردیا ہے جس میں اس نے ہندوستانی فوجیوں پر ایل اے سی کراس کر حملہ کرنے کا الزام لگایا تھا۔ ساتھ بھارت کے ان دعوو¿ں کو صحیح بتایا کہ بڑی تعداد میں پی ایل اے کے فوجیوں نے منظم ڈھنگ سے لوہے کی راڈ، نوکیلے ہتھیاروںسے حملہ کیا۔ یہ اچانک نہیں تھا بلکہ چینی فوج نے بے حد ٹھنڈے دماغ یہ پلان تیار کیا تھا۔ بھارت کی سخت مظاہمت سے بوکھلائے چینی افسران نے یہ سازش رچی اور سیٹلائٹ تصویروں سے یہ پہلے ہی سامنے آچکی ہے کہ چین لداخ میں ایل اے سی کے قریب وسیع پیمانے ہتھیار اور فوجیوں کو جمع کررہا ہے۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ چین بھارت کو دیگر ملکوں سے الجھائے رکھنا چاہتا ہے تاکہ امریکہ دیگر ملکوں کے ساتھ قربت قریبی آئے اور لڑائی میں بھارت کے20چین کے 35فوجی شہید ہوئے تھے۔ بھارت کے کرنل سنتوش بابو بھی شہید ہوئے تھے۔ چین کے دوافسران کو بھی جان گنوانی پڑی تھی۔ مغربی ویسٹرن کمانڈ کے چیف جھاو¿ جانگ کی اور چینی فوجی کمیشن میں شامل کچھ ریٹائرڈ افسروں کا دماغ مانا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس واقعہ کی تصویروں کو سینسر کردیاگیا تاکہ ایسے واقعات کو چھپایاجاسکے۔ گلوان وادی میں چینی فوج کی دھوکہ بازی اگر کچھ بتارہی ہے تو یہی کہ چین بالکل بھی بھروسے لائق نہیں ہے۔ دھوکہ دینا اور تعاون کی فرضی باتیں کرنا اس کی عادت بن گئی ہے۔ ایسے کسی بھی مکار دیش کی باتوں پر یقین کرنے کا مطلب ہے خود کو دھوکے میں ڈالنا۔ چین صرف بھارت کے معاملے میں ہی سمجھوتوں اور سوجھ بوجھ کی میٹھی میٹھی باتیں کرنے میں ماہر نہیں ہے بلکہ وہ دنیا بھر میں منمانی کرنے کے لئے بدنام ہے۔ دھوکہ دینا اور دادا گیری کرنا چینی حکمرانوں کی اصل پہچان ہے۔ چین کی ساکھ ایک غنڈہ دیش کے طورپر سامنے آئی ہے لیکن وہ بڑی طاقت بننے کے غرور میں مبتلا ہے اور بھارت کو چین سے نہ صرف ہوشیار رہنا ہوگا بلکہ ایل اے سی پر بھی چوکسی برتنی ہوگی۔ حیرت نہ ہوگی اگر چینی فوج اسی طرح کی حرکت پھر کرے جیسا کہ اس نے لداخ اور سکم میں کی تھی۔ بھارت کو چین سے ہوشیار رہنے کے ساتھ اس کے فروغ وادی وجہ سے چوکس رہنا ہوگا۔ (انل نریندر)

کجریوال بنام امت شاہ:مرتے تو دہلی کے شہری ہیں

دہلی میں گزشتہ24گھنٹے میں کورونا وائرس انفیکشن کے2948مریض سامنے آئے۔ اس سے پہلے دن 3390سامنے آئے۔ اسی ساتھ دہلی میں کورونا انفیکشن کے کل مریضوں کی تعداد 80000کے پار ہوگئی ہے۔ دہلی سرکار کا کہنا ہے کہ راجدھانی میں کورونا کے مریض اس لئے بڑھ گئے ہیں کیونکہ ٹیسٹ کی تعداد تین گنا بڑھادی گئی ہے۔ جمعہ کے روز ایک پریس کانفرنس میں وزیراعلیٰ اروند کجریوال نے بتایا تھا کہ پہلے جب 5سے6ہزار ٹیسٹ ہوا کرتے تھے، لیکن کورونا پوزیٹیو معاملے قریب 2000 کے آس پاس رہتے تھے۔ لیکن اب دن میں 18000 ٹیسٹ ہورہے ہیں توکورونا کے 3000سے 3500 کے قریب ہیں۔ یعنی ٹیسٹ بڑھے ہیں لیکن کورونا پوزیٹیو معاملے بہت زیادہ نہیں بڑھے ہیں۔ مسلسل بڑھ اعدادودشمار کو لے کر دہلی سرکاراور مرکزی حکومت کے درمیان تکرار بھی وجہ مانی جارہی ہے۔ اس بے تحاشہ اضافے کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ دہلی سرکار کورونا سے نمٹنے میں ناکام رہی تو آخر میں مرکز کو دخل دینا پڑا۔ جبکہ دہلی وزیراعلیٰ اور عام آدمی پارٹی ممبران اسمبلی کا خیال ہے کہ ان کی سرکار اس مشکل گھڑی سے نمٹنے کے لئے ہر ممکن کوشش کررہی ہے حالانکہ مرکزی سرکار کی جانب سے کوئی بھی اڑچن آنے یا لیفٹیننٹ گورنر کی طرف اس قواعد کو بدلنے کو لے کر سوال اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ خاص کر ہوم آئیسولیشن اور کووڈ کیئر سینٹر کے اشو دہلی سرکار اور مرکزی حکومت کے درمیان اختلاف نظر آیا ہو، دہلی حکومت نے فیصلہ لیا جس میں دہلی کے اسپتالوں کو صرف دہلی کے کورونا مریضوں کے علاج کے لئے ریزرو کرنے کی بات کہی۔ لیکن ایک دن بعد ایل جی نے اس فیصلے پر روک لگادی۔ کجریوال کے اس فیصلے کی بھی سیاسی پارٹیوں نے بھی مخالفت کی تھی۔ دہلی ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے چیئرمین کے ناطے دہلی کے ایل جے کے پاس فیصلہ لینے کی طاقت ہے لیکن کجریوال سرکار سے ان کے اختلافات صاف نظر آئے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ ہوں، یا بی جے پی کے ترجمان کسی نے بھی دہلی سرکار کو کوسنے کا موقع نہیں چھوڑا۔ بی جے پی ترجمان نے جہاں ٹی وی چینلوں پر سرکار کی اسکیم کی نکتہ چینی کی وہیں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ٹوئیٹر پر دہلی میں کورونا کی پوزیشن کو لے کر اپنا رخ صاف کیا اور ایکشن میں آئے۔ دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کجریوال نے جب امت شاہ کو 10000 بیڈ والے کووڈ کیئر سینٹر کے معنی کی دعوت دی تو انہوں نے ٹوئیٹر پر جواب دیا: پریہ کجریوال جی! تین پہلے ہوئی ہماری ملاقات میں یہ پہلے ہی طے ہوچکا ہے کہ کووڈ کے سینٹر کو چلانے کا کام آئی ٹی بی پی کو سونپ دیا ہے۔ عام طورپر واقف کاروں کا خیال ہے کہ دہلی کے حالات کے لئے کجریوال سرکار ذمہ دار ہے کیونکہ انہوں نے ہیلتھ انفراسٹرکچر میں پچھلے سال ضروری کام نہیں کیا۔ لاک ڈاو¿ن اس لئے کیاگیا تاکہ کورونا انفیکشن کی چین کو توڑا جاسکے۔ دوسرا مقصد تھا ریاستی سرکاروں کو اپنی تیاریاں پوری کرنے کے لئے وقت مل جائے۔ وہ اپنے ہیلتھ ڈھانچے کو درست کرلیں اور لاک ڈاو¿ن کھلنے کے بعد مریضوں کو علاج مل سکے۔ جو اس وقت انفراسٹرکچر تیار ہوا ہے وہ پچھلے ڈھائی مہینے میں کیوں نہیں ہوسکا۔ پہلے بھی ہوسکتا تھا۔ آپ حمایتی لوگوں کا کہنا ہے کہ بھلے ہی دہلی میں کورونا کے حالات بگڑے ہوں اور انفیکشن کے معاملے بڑھے ہوں اس سے مرکزی سرکار بنام دہلی سرکار یا بنام بھاجپا بنام عام آدمی پارٹی کہنا ٹھیک نہیں ہے۔ دہلی ہسپتالوں میں کس طرح علاج چل رہا ہے ان کا منیجمنٹ سنبھالنا دہلی سرکار کی ذمہ داری ہے۔ وہ مرکز سے تعاون مانگیں مرکز تعاون نہ کریں تو ذمہ دار مانا جائے آخر مرکزی سرکار کو دخل دینا پڑا۔ کیونکہ دہلی دیش کی راجدھانی ہے۔ یہاں حالات بگڑتے ہیں تو پوری دنیا میں دیش کی بے عزتی ہوتی ہے اس لئے مرکز نے اس میں دخل دیا۔ دونوں سرکارون کے بیچ اختلافات ہوتے ہیں، کبھی کبھی اگر ساری دنیا میں کووڈ کے بارے میں بات کریں تو ہرجگہ وہاں کے مملکت سربراہ ہی جواب دہ مانے جاتے ہیں۔ لیکن بھارت میں ریاست گیر اعدادوشمار دیکھے جارہے ہیں اور ریاستوں پر سوال اٹھائے جارہے ہیں۔ اس درمیان دہلی کے شہری پریشان ہیں اور کورونا انفیکشن کے مریض بڑھتے جارہے ہیں۔ (انل نریندر)

28 جون 2020

سونونگم نے ٹی سریز کے مالک کو مافیا سے تشبیہ دی

اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کے بعد بالی ووڈ میں بھائی بھتیجا واد اور گروپ بندی رکنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ اب تازہ کیس گلوکار سونونگم نے ایک نئے ویڈیو میں ٹی سریز کے مالک بھوشن کمار پر نکتہ چینی کی ہے۔ اس ویڈیو میں کہا ہے کہ پچھلے بار میں نے کسی کا نام نہیں لیا تھا لیکن اب مافیا تو مافیا کی چال ہی چلے گا۔ میرے خلاف کچھ بولا جارہا ہے اس لئے اب مجھے بھوشن کمار کا نام لینا ہی پڑے گا۔ تم نے غلط آدمی سے پنگا لیا ہے۔ سونو نے ویڈیو میںمزید کہاکہ تم وہ ٹائم بھول گئے جب تم میرے گھر آٹے تھے اور مجھ سے اپنی البم کرنے کے لئے منتیں کرتے تھے، تم نے مجھ سے کہا تھا کہ بھائی ایک بار سمتا ٹھاکرے اور بال ٹھاکرے سے ملوادو۔ مجھے اب ابوسالم سے بچالو کیا تمہیں یہ سب یاد ہے؟ میں خبردار کرتا ہوں کہ مجھے بدنام مت کرو، مجھ سے پنگا لیا تومیں یوٹیوب پر تمہارا سارا راز کھول دوں گا۔ اس سے پہلے سشانت کی موت کے بعد سونونے ایک ویڈیو میں کہاتھا کہ میوزک انڈسٹری میں بھی کئی مافیا ہیں۔ جلد ہی میوزک انڈسٹری سے بھی سنگر یا نغمہ نگار کی خودکشی کی خبر سامنے آسکتی ہے۔ سونو نے ویڈیو میں کہاکہ مجھے امید ہے کہ تمہیں مریناکنور کا نام یاد ہوگا، مجھے نہیں پتہ اس نے کیوں قدم پیچھے کھینچے۔ اگر مجھ سے الجھوگے تو میں وہ سب بات چیت کا ویڈیو یوٹیوب پر ڈال دوں گا۔ غورطلب ہے کہ مریناکنور نے بھوشن کمارپر بھی دھوکا دھڑی کے الزام لگائے تھے۔ اس درمیان بھوشن کمار کی بیوی دیویا کمار کھوسلا نے سونونگم پر جھوٹی کمپین چلانے کا الزام لگاتے ہوئے کہاکہ احسان فراموش بتایا اور یاددلایا ہے کہ ان کی کمپنی ٹی سریز نے ہی انہیں بریک دیا تھا۔ آنے والے دنوں میں اور بھی خلاصے ہوسکتے ہیں۔ بالی ووڈ کی زندگی آہستہ آہستہ سامنے آرہی ہے۔ گلیمر کی اس دنیا میں اندرخانے کیا چل رہا ہے وہ آہستہ آہستہ سب کے سامنے آرہا ہے۔ (انل نریندر)

پہلی بار پیٹرول سے مہنگا ڈیژل

گھریلو بازار میں ڈیژل کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے۔ پتا نہیں یہ کہاں جاکر رکے گا۔ پیٹرول۔ ڈیژل کے یہ دام دہلی میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ڈیژل پیٹرول سے مہنگا ہوگیا ہے۔ 18ویں دن بھی اس کی قیمت بڑھی ہوئی ہے۔18دنوں میں 10.48روپے مہنگا ہوا ہے۔ پیٹرول 8.50روپے اور ڈیژل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے سے ٹرانسپورٹ کی لاگت میں قریب 15فیصدی اضافہ ہوا ہے۔ اس بڑی لاگت کا حوالہ دے کر ٹرانسپورٹ کرایہ بڑھانے کی تیاری میں لگے ہیں۔ ایسا ہوا تو اس کا سیدھا اثر مہنگائی پر پڑے گا۔ لاک ڈاو¿ن کے سبب پہلے سے ہی پریشان مزدور، غریب طبقہ کی دشواری اور بڑھ جائے گی۔ آل انڈیا ٹرانسپورٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن کے چیئرمین پروین سنگھل بتاتے ہیں کہ ڈیژل کے دام بڑھنے سے ہی ٹرانسپورٹ کی لاگت تقریباً15فیصد بڑھ گئی ہے۔ جس وجہ سے بیمہ اور دوسری لاگت میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ کورونا کی وجہ سے ڈرائیوروں کو زیادہ پیسہ دے کر کام پر بلانا پڑرہا ہے اور ریٹرن بھی نہیں مل رہی ہے۔ کل ملاکر ٹرانسپورٹ کی لاگت قریب 20فیصدی بڑھ گئی ہے۔ ٹرانسپورٹ میں لاگت میں 65فیصد حصہ ڈیژل کا ہوتا ہے۔ اندور سے چننئی تک اگر ایک ٹرک 65ہزار میں بک ہوتا ہے تو اس میں قریب چالیس ہزار روپے کا ڈیژل لگ جاتا ہے۔ ٹرانسپورٹر کے پاس 25ہزار روپے ہی بچتے ہیں۔ جس میں ڈرائیور کی تنخواہ، قرض کی قسط،دھلائی وغیرہ کا خرچ نکلتا ہے۔ اب ڈیژل کا خرچ 8000سے بڑھ کر 48ہزار ہوجائے گا۔ ایسے ہی کھیتی میں جتائی پر 10سے 12لیٹر ڈیژل خرچ ہوتا ہے۔ کھرپتوار صاف کرنے کے لئے ٹریکٹر کی ضرورت ہوتی ہے۔ فصل کی کٹائی اور نرائی میں ڈیژل کام آتا ہے۔ اس طرح کھیت کی جتائی سے لے کر فصل منڈی پہنچانے تک ڈیژل کا استعمال ہوتا ہے۔ اس کے مہنگا ہونے سے کسان کی فصل میں منافع کم ہوجائے گا۔ مثال کے طورپر ایک بیگھہ زمین میں سات سے آج کوئنٹل باجرا پیدا ہوتا ہے۔ اس کی قیمت منڈی میں 14سے 16ہزار روپے ملتی ہے۔ منڈی تک پہنچانے میں 51روپے خرچ کرنے پڑتے تھے اب 550روپے خرچ کرنے پڑیں گے۔ ڈیژل کی قیمتوں سے پھل سبزی اور دیگر ضرورت کی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ پہلے سے ہی غریب مزدور، او درمیانی طبقے کی کمر ٹوٹ رہی ہے۔ اب اور مار پڑے گی۔ ہماری سرکار سب خاموشی سے ہوتا دیکھ رہی ہے۔ (انل نریندر)

کورونا وبا سے زیادہ جان لیوا ڈپریشن ہورہا ہے!

پوری دنیا کورونا وبا سے لڑرہی ہے، مگر اس وائرس سے بھی زیادہ خطرناک اور جان لیواثابت ہورہا ہے ڈپریشن جو کورونا وائرس کی وجہ سے بدلی طریقہ¿ زندگی اور لاک ڈاو¿ن سے آئی اقتصادی مندی کی دین ہے۔ کچھ ریاستوں میں اس کا خطرناک اثر دیکھنے کو ملا ہے۔ جھارکھنڈ میں کورونا کا پہلا مریض 31مارچ سامنے آیاتھا۔ تب سے اب تک اس وبا سے 15لوگوں کی موت ریاست میں ہوئی جبکہ 24مارچ سے لاگو لاک ڈاو¿ن کے بعد اب تک کل 64لوگ خودکشی کرچکے ہیں۔ ان میں سے 38لوگوں نے مئی اور اپریل میں کی تھی۔ جبکہ جون ماہ میں اب تک صرف رانچی میں 26لوگ خودکشی کرچکے ہیں یعنی لاک ڈاو¿ن کے دوران یہاں ہر 1.6 دن میں ایک شخص نے خودکشی کی۔ وہیں ان لاک۔1میں رانچی میں ہر 24گھنٹے میں ایک خودکشی کا کیس درج ہوا۔ لاک ڈاو¿ن سے پہلے اعدادوشمار پر نظرڈالیں تو 2020 ابتدائی تین مہینے میں ہر 2اعشاریہ 6دن میں ایک خودکشی کا کیس درج ہوا تھا۔ جنوری۔ فروری اور مارچ میں کل 35خودکشی کے کیس درج ہوئے۔ صاف اشارہ ہے کہ لاک ڈاو¿ن کے بعد بدلے حالات اور بیماری کے ڈر کے سبب لوگوں میں ڈپریشن بڑھا ہے اور ساتھ ہی ریاست میں خودکشی کے معاملوں کی تعداد بھی بڑھی ہے۔ سی ایم آئی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سنجے کمار منگل نے بتایاکہ لاک ڈاو¿ن کے دوران ڈپریشن سے لڑرہے قریب 12ہزار لوگوں نے سی آئی پی میں کال کرکے اپنی پریشانی بتائی اور اس سے نکلنے کا طریقہ بھی پوچھا۔ منگل کا کہنا ہے کہ روزانہ 200-300لوگوں کے فون آتے تھے، ان میں سے 15سے 20فیصدی لوگ ایسے تھے جنہوں نے جینے کی امید چھوڑ دی تھی اور خودکشی کرنا چاہتے تھے۔ ایسے ہی ایچ او ڈی سائیکلوجی شعبے کے ڈاکٹر اجے کمار باکھلا کہتے ہیں کہ اس کورونا انفیکشن کے دور میں لاک ڈاو¿ن کی وجہ سے لوگوں میں ڈپریشن بڑھا ہے اور لمبے وقت تک لوگوں کو گھروں میں ایک ساتھ رہنا ہوا ہے اس کی وجہ سے گھریلو جھگڑے بڑھے ہیں۔ کئی لوگ بے روزگار ہوئے ہیں۔ گھر میں اکیلا پن محسوس کرتے ہیں۔ اگر خودکشی کرنے والے شخص کو صرف دو منٹ روک دیا جائے تو اس سے بات کرلیجئے تو ایسے واقعات رک سکتے ہیں۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...