Translater
05 دسمبر 2020
ڈوبتے بینکوں نے پریشانی بڑھائی !
بین الا قوامی مالیاتی ٹیسٹنگ ایجنسی موڈیز نے حال میں ابھرتے بازاروں کی مالیا تی اداروں کی حالت پر تازہ رپورٹ پیش کی ہے اس نے کہا ہے کہ آنے والے دو برسوں میں بھارت اور سری لنکا میں بینکوں کے سرمایہ سطح میں گراوٹ دیکھنے کو ملے گی اس کی وجہ یہ ہے کہ بینکوں کو نیا سرمایا نہیں ملا تو سرمایہ میں گراوٹ ہونے کے سبب بینکوں کے پاس قرض دینے کے وسائل کم رہیں گے جب بینک قرض نہیں دے گا تو بینک مشکل میں پھنسیں گے بھارت کے کئی سرکاری بینک اس مشکل میں پہلے ہی پھنس چکے ہیں ڈوبتے بینکوں میں اور زیادہ سرمایا ڈا ل کر سرمائے کو ڈوبونے کی طرف دھکیلنے کا اندیشہ پیدا ہوجا تا ہے دیکھنے میں آیا ہے کہ پیسہ ڈالنے کے بعد بھی بینکوں کی مالیاتی پوزیشن میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے کل ملاکر کورونا نے تمام چیلینج پیش کردئے ہیں اور بینکنگ دنیا کی چنوتی ان میں سے ایک ہے وسائل محدود ہیں ڈوبتے بینکوں میں جھوکا جائے اور ان کو بریک کرکے وسائل حاصل کیئے جائیں سرکار کو جلد اس مسئلے پر گہرا محاسبہ کرنا ہوگا ۔
(انل نریندر)
کیجریوال سرکار کا زرعی قانون لاگو کرنے پر چھڑا تنازعہ!
مرکزی سرکار کے تین نئے زرعی قوانین کے خلاف چل رہی تحریک درمیان دہلی حکومت نے ایک قانون کو نوٹی فائی کردیا ہے اس قانون کے تحت اب دہلی کے کسان منڈی کے باہر بھی اپنا اناج پھل سبزی بیچ سکتے ہیں ۔ دراصل دہلی میں پہلے سے ہی زرعی اجناس بازار کمیٹی قانون نافذ ہے ۔ اس ایکٹ کے تحت 2014سے ہی منڈی کے باہر پھل سبزی وغیرہ بیچنے کی سہولت تھی حکام کا کہنا ہے دہلی میں نیا قانون لاگو ہونے سے کسان اب اپنی دوسری فصل بھی منڈی کے باہر بیچ سکتے ہیں ۔ اس کا خاص اثر اناج پر پڑے گا نئے نوٹیفیکشن میں کسانوں کو منڈی سے باہر اپنا سامان بیچنے کی سہولت ہوگی ادھر پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے کسان آندولن کو لیکر دہلی میں آپ سرکار کے دوہرے رویہ پر حیرانی ظاہر کی ہے ۔ عآپ حکومت کی جانب سے زرعی قانون کو نافذ کرنے سے اس کے ساتھ اس کے کسان کے ساتھ کھڑے ہونے کے دعووں سے پردہ اٹھ گیا ہے ۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن نے کہا کہ ایک طرف عآپ سرکار آندولن چلا رہے کسانوں کی حمایت کا دعوی ٰ کر رہی ہے وہیں دوسری طرف گزٹ نوٹیفیکیشن جاری کر ان کالے قوانین کو نافذ کر دیا گیا ہے ۔ امریندر سنگھ کا کہنا تھا کیجریوال گونمنٹ نے مرکزی قوانین کو بے اثر کرنے کے لئے پنجاب کی طرز پر دہلی میں کوئی ترمیم بل پاس کرنے میں ناکام رہے ۔ دہلی سرکارکی طرف سے اس قدم سے عآپ کی نیت اور آئیڈیولوجی کا پردہ فاش ہوگیا وہیں دہلی سرکار طرف سے نافذ ہونے پر بھاجپا بھی حملہ آور ہے پارٹی کے ایم پی منوج تیواری کا کہنا کہ نوٹیفیکشن کیجریوال سرکارک ی عقل کوا جاگر کرتی ہے اب وہ کسانوں کو گمراہ کرکے فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے وہیں عآپ نے کہا بھاجپا ملک مخالف مہم کونہیں سلجھا پارہی ہے انہوں نے کہا کہ وہ کسانوں کو گمرا ہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے عآپ کا کہنا ہے کہ کسانوں سے گھرنے کے بعد بھاجپا کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ ملک گیر سطح پر جاری تحریک سے کیسے نمٹیں ؟ اس کے چلتے وہ اشو سے بھٹکانے کے کام کر رہی ہے ۔دہلی سرکارکا جو نوٹیفیکشن ہے وہ کسانوں کو باہر کہیں بھی سبزی بیچنے کا حق دیتا ہے ۔ دہلی میں سبزیوں کو لیکر پہلے سے ہی یہ سسٹم رائج ہے اب اناج پر بھی یہ لاگو کردیا گیا ہے سرکار منڈی نہیں ختم کرنے جارہی ہے کسان اس کے خلاف ہیں ۔
(انل نریندر)
تنازعہ خاتمے کےلئے سو دیشی جاگرن منچ کے چار سجھاو!
نئے زرعی قوانین پر مرکزی سرکار اپنی اتحادی جماعت اکالی دل کو نہیں منا پائی اس وجہ سے اس نے این ڈی سے باہر ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ اس کے بعد این ڈی کی دوسری اتحادی جماعت راشٹریہ لوک تانترک پارٹی نے بھی کسان آندولن کے درمیان مرکزی سرکار کو دھمکی دے ڈالی ہے پارٹی کے ایم پی ہنومان بینی وال نے این ڈی چھوڑنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اس کی طاقت کسان اور فوجی ہیں اگر مودی سرکار کوئی فوری کاروائی نہیں کرتی ہے تو مجھے این ڈی کے اتحادی ہونے پر نظر ثانی کرنی پڑ سکتی ہے ۔ اس درمیان خبر ہے آر ایس ایس سے وابستہ دو تنظیمیں بھارتی کسان سنگھ اور سو دیشی جاگرن منچ نے بھی زرعی قوانین سے پوری طرح مطمئن نہیں ہے ۔منچ کے قومی کنوینر اشونی مہاجن نے کہا کہ ہمیں بھی نئے زرعی قوانین میں کچھ خامیاں نظر آرہی ہیں انہیں لگتا ہے کہ اس میں اصلاح ہونی چاہئے کسان آندولن کا کیسے حل نکلے گا اس مسئلے پر بی بی سی نے منگل کے روز ویبنا رکے ذریعے مباحثے کا انعقاد کیا تھا۔ اس مباحثہ میں سو دیشی جاگرن منچ کے قومی معاون صدر اشونی مہاجن نے کہا کہ یہ نئے قوانین کسانوں کے مفاد میں تو ہیں لیکن کوئی بھی نیا قانون آئے تو اس میں اصلاح کی گنجائش رہتی اس سلسلے میں وہ چار اصلاحات بتاتے ہیں اصلاح نمبر۱۔اگر سرکار کسان کو اناج منڈی سے الگ کر رہی ہے تو نئے پرائیویٹ تاجر جو کسانوں کی اجناس خریدیں گے وہ اپنے کرٹل نہ بنا لیں اس کو روکنے کے لئے قانون میں اصلاح ضروری ہے اصلاح نمبر ۲۔بھارت کو غذائی سیکورٹی یقینی بنانی ہے تو سرکار کو کساکو بھی محفوظ رکھنا ہوگا اس لئے کسان کو اپنی اجناس کی لاگت سے بیس سے تیس فیصدی اونچے دام ملیں سرکار کو یہ یقینی بنانا چاہئے یہ سسٹم قانون کے ذریعے ہی یقینی ہوپائے گا۔ مرکزی سرکار کو اس کے لئے فلور پرائز طے کرنی چاہئے ۔اصلاح نمبر ۳۔نئے زرعی قوانین میں کنٹریکٹ فارمنگ کا انتظام کیا گیا ہے لیکن کسان کسی بھی تنازع کی صورت میں معاملے کو اے ڈی ایم کے پاس لے جاسکتا ہے لیکش اشونی مہاجن کی رائے میں کنٹریکٹ فارمنگ میں اگر کوئی تنازع کھڑا ہوتا ہے تو اے ڈی ایم کے پاس جانے کے بجائے الگ سے کسان عدالت ہونی چاہئے اس کے پیچھے دو وجہ بھی بتاتے ہیں ان کے مطابق عام کسان ایس ڈی ایم تک پہونچ نہیں ہوتی ۔اصلاح نمبر ۴۔کنٹریکٹ فارمنگ میں کسان کو اپنی فصل کی قیمت تب ملتی ہے جب فصل کی کٹائی ہوجاتی ہے ۔مرکزی سرکار کو ایسا سسٹم کرنا چاہئے کہ کچھ وقت کے بعد قستوں میں کل طے قیمت کی ادائیگی کسان کو ہوتی رہے ۔ اس لئے ایک بار جب کسان اور پرائیوٹ پارٹی کے درمیان کنٹریکٹ ہوجاتا ہے تو بیج بونے ،کیڑے مار دوا کے چھڑکا و سے اور سینچائی تک میں کسان کو بہت پیسہ خرچ کرنا پڑتا ہے ایک نئے سسٹم میں اب دلال نہیں جنہیں خود بی جے پی نیتا کسان کا اے ٹی ایم کہتے آئے ہیں تو سرکار کو ان کے لئے نئے اے ٹی ایم سسٹم طے کرناچاہئے ایم ایس پی کوئی فارمولہ سرکار نکال سکتی ہے اشونی نے اصلاح نمبر دو میں جس فلور پرائز کی بات کہی ہے دراصل کسان اسے ہی کم سے کم مارجنل قیمت کہہ رہی ہے ۔ کسانوں کی مانگ ہے کہ مرکزی سرکار تحریر میں انہیں یقین دہانی کرائے کی ایم ایس پی جاری رہے گی اور سرکار ی خرید بھی اسی مسئلے پر مرکزی سرکار اور کسانوں کے درمیان سب سے زیادہ اختلافات ہیں امید کی جاتی ہے وہ کسانوں کی جائز مانگوں پر غورکرکے نئے قانون میں ترمیم کرے گی اگر ایسا ہوتا ہے تعطل ختم ہوسکتا ہے۔
(انل نریندر)
04 دسمبر 2020
آ ر ٹی پی سی آر جانچ اب 800روپئے میں !
راجدھانی دہلی میں کورونا انفیکشن کے حالات سنگین ہونے کے دیکھتے ہوئے پرائیوٹ لیب اور اسپتالوں میں آ ر ٹی پی سی آر جانچ اور ٹیسٹ کے دام کم کرنے کے دہلی سرکار کے فیصلے کا خیر مقدم ہے اب یہ ٹیسٹ 2400روپئے سے گھٹا کر 800روپئے کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے اب زیادہ سے زیادہ لوگ ٹیسٹ کراسکیں گے اگر گھر میں بلاکر سیمپل دیا جائے گا تو اس کے لئے 1200روپئے ادا کرنے ہونگے دہلی سرکار کے اس حکم کا فائدہ ان لوگوں کو ضرور ہوگا جو پرائیوٹ لیب میں جانچ کرواتے ہیں اس کے علاوہ لیب کو اپنے یہاں جانچ کی قیمت دیئے جانے کا حکم دکھانے کا بھی کہا گیا ہے قابل ذکر ہے کووڈ جب شروع ہواتھا تب آر ٹی پی سی آر جانچ کی قیمت 4500روپئے تھی عدالت نے بعد میں اس کی قیمت 2400طے کردی تھی ۔ دہلی میں جس طرح کورونا انفیکشن پھیلا ہوا ہے اسے کنٹرول کرنے کے لئے ضروری ہے سرکاری لوگ اس کی بھروسہ مند جانچ کرائیں اگر ایسا ہوتا ہے تو انفیکشن پر کنٹرول کیا جاسکے گا ۔
(انل نریندر)
کورونا مریضوں کے گھر پر پوسٹر لگانا منا سب نہیں!
سپریم کورٹ نے کہاکورونا مریضوں کے گھروں کے باہر پوسٹر چپکانے سے غلط نظریہ بن جاتا ہے ۔ دوسرے لوگ ان کے ساتھ اچھوت جیسا رویہ اپنا نے لگتے ہیں عدالت کا یہ تبصرہ اس عرضی پر سماعت کے دوران آیا جس میں پوسٹر نہیں لگانے کو لیکر گائیڈ لائنس دیکھنے کی مانگ کی گئی تھی اب معاملے کی اگلی سماعت 3دسمبر طے کی گئی تھی اداریہ لکھے جانے تک عدالت نے کیا فیصلہ دیا ہے اس کی رپورٹ نہیں آسکی تھی جسٹس اشوک بھوشن جسٹس آر شبھاش ریڈی اور جسٹس ایم آر شاہ کی بنچ نے کہا کہ جب ایک بار یہ پوسٹر کسی کے گھر پر لگ جاتا ہے تو بنیاد ی سطح پر کچھ اور ہی حقیقت دکھائی پڑتی ہے مرکزی سرکارکی طرف سے پیش وکیل تشا ر مہتا نے کورٹ کو بتایا کہ یہ قاعدہ مرکزی سرکار نے نہیں بنایا اور اس کی کورونا مریض کو داغ دار کرنے کی کوئی منشا نہیں ہے بلکہ پوسٹر لگانے کا مقصد لوگوں کی حفاظت کرنا ہے اگر اس سے ان کے وقار کو ٹھینس پہونچتی ہے تو سرکار اس کے حق میں نہیں ہے بنچ نے عرضی گزار کو مرکز کے جواب کا محاسبہ کرنے کے بعد اپنی رائے رکھنے کو کہا عرضی گزار کے وکیل کشل کالرا نے عرضی میں کہا ہے کہ ایسے پوسٹر لگانا پرائیویسی کے علاوہ باوقار زندگی گزار نے کے حق کی خلاف ورزی ہے عرضی میں درخواست کی گئی ہے کہ سبھی ریاست اور مرکزی حکمراں ریاستوں کو پوسٹر لگانے کے فیصلے کومنسوخ کرنے کی ہدایت دی جائے ۔ ساتھ ہی ریجیڈینٹ ویل فیئر اشوشیشن نوکے ذریعے کووڈ 19سے متاثر مریضو ں کے نام واٹسپ گروپ پر ڈالنے پر بھی پابندی لگائی جائے عرضی گزار کہنا ہے گھروں کے باہر پوسٹر لگانے کی وجہ سے لوگوں کی توجہ اس طرف مرکوز ہوجاتی ہے اور لوگ اس گھر کے مکینوں سے بچنے لگتے ہیں ۔ عدالت نے مرکزی سرکار سے پوچھا تھا کہ کیوں نہ ملک گیر گائیڈ لائنس لاکر مریضو ں کے گھروں کے باہر پوسٹر چپکانے کے رواز کو ختم کردیا جانا چاہئے بنچ نے اس دن عرضی کے طئیں سرکاری وکیل مہیا کرانے کو کہا تھا جس سے مرکزی سرکار کا اس معاملے میں موقف رکھ سکیں۔ہم سپریم کورٹ کی رائے سے متفق ہیں پوسٹر لگانے سے نہ صرف دہشت کا ماحول پیدا ہوتا ہے بلکہ مریض کو اچھوت ماننے کے ایک ٹرینڈ پیدا ہو جاتا ہے ۔
(انل نریندر)
کسانوں کے آندولن پر کینڈا کے وزیر اعظم کا غیر مناسب تبصرہ!
یہ انتہائی بد قسمتی کی بات ہے کہ کینڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے نئے زرعی قانون کے احتجاج پر نا مناسب تبصرہ کیا ہے ۔ ٹروڈو نے بھار ت میں جاری کسانوں کی تحریک کی حمایت کی ہے اور کہا کینڈا پر امن مظاہروں کے حق کا ہمیشہ بچاو¿ کرے گا گرونانک دیو کی 551ویں سالہ جینتی کے موقع پر ایک آن لائن پروگرام کے دوران کہا کہ حالات بے حد قابل تشویش ہیں اور ہم پریوار اور دوستوں کو لیکر پریشان ہیں ۔ہمیں پتہ ہے کہ یہ کئی لوگوں کے لئے سچائی ہے ۔ آپ کو یاد دلا دوں پر امن مظاہرے کے حق کی حفاظت میں کینڈا ہمیشہ کھڑا رہے گا کینڈا میں بھاری تعداد میں ہندوستانی رہتے ہیں زیادہ تر ان میں پنجاب سے ہیں ۔ ٹروڈو نے اپنے ٹویٹراکاو¿نٹ میں پوسٹ کئے گئے ویڈیو میں کہا ہم بات چیت میں یقین کرتے ہیں اور ہم نے ہندوستانی حکام کے سامنے اپنی تشویشات رکھی ہیں ۔ واضح ہو ٹروڈو پہلے بھی سیاسی وجوہات کے سبب بھارت کے اندرونی معاملوں میں دخل اندازی کرچکے ہیں اس کا دونوں ملکوں کے رشتوں پر اثر پڑ رہا ہے ۔خاص بات یہ ہے کہ ورلڈ ٹریڈ ارگنایزیشن(WTO) کی میٹنگ میں کینڈا بھارت سرکار کی ایم ایس پی دینے کی پالیسی کی مخالفت کرتا رہا ہے ،جبکہ کسانوں کی بڑی مانگ رہی ہے کہ آگے بھی ایم ایس پی کی گارنٹی چاہئے ٹروڈو کے کیبنٹ ساتھی و وزیر دفاع ہر جیت سجن نے بھی ایک دن پہلے ٹویٹ کیا تھا کہ کسانوں کے پر امن مظاہروں کو بھارت کی طرف سے کچلنا کافی تشویش ناک ہیں ہم اپنے پریوار کی حفاظت کو لیکر فکر مند ہیں انہوں نے جمہوری اقدار کی دوہائی دی تھی اس کے چلتے وہ بھارت کے رویے سے بھی دو چار ہوچکی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ مقامی سیاسی تجزیوں کو اپنے حساب سے بنانے کے زور میں کینڈا کو بھارت سے رشتوں کی پرواہ نہیں ہے کینڈا سرکار کی رویئے جتنی بھی نقطہ چینی کی گئی وہ اس کے لئے خود ہی ذمہ دار ہیں وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے جس طرح اپنی ڈپلیومیٹک حدود سے آگے جاکر تبصرے کئے وہ بھارت کے اندرونی معاملوں میں غیر مناسب ہی نہیں بلکہ ایک اقتصادی اور سیاسی معاملے کو ایک کٹر مذہبی نظریہ سے دیکھنے کی نیت بھی ہے اس سے ٹروڈو کے بچنا چاہئے تھا اور ایسے غیر مناسب تبصروں سے صرف دونوں ملکوں کے رشتوں کے خراب ہونے کے علاوہ کوئی فائدہ نہیں ہوگا اپنے گھریلو سیاسی نفع نقصان کے لئے کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملوں میں اس طرح کی دخل اندازی صحیح نہیں ہے ۔
(ان نریندر)
03 دسمبر 2020
کیا ولادیمیر پوتن کو کینسر ہو گیا ؟
اگر میڈیا کی رپورٹوں پر یقین کیا جائے تو کینسر کی وجہ سے پوتن صدر کاعہدہ چھوڑنے پر مجبور ہوسکتے ہیں؟روسی صدر ایک آئینی ترمیم کے ذریعے 2036اس عہدے پر بنے رہنے کے لئے اہل ہوگئے تھے حالانکہ ایک سیاسی تجزیہ نگار نے ان کے مستقبل کے بارے میں حیران کن دعویٰ کیا ہے کہ پوتن اگلے برس کے آغاز میں صدر کا عہدہ چھوڑ دیں گے ۔یہ اس کی وجہ ان کی صحت ہے پوتن کی کٹر سیاسی حریف ویرلی سلوی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ کینسر سے متاثر ہیں ۔ اب زراعے کے حوالے سے دعویٰ کی تصدیق کی گئی ہے واقعی ان کی طبیعت خراب ہے انہوں نے ایک اخبار کو بتایا کہ ان کو دو بیماریا ں ہیں اب انہیں اخلاقی طور سے بتانے کا حق نہیں ہے لیکن اس سال فروری میں پوتن کا آپریشن ہواتھا جس وجہ سے انہیں ستمبر میں نگرانی میں رکھا گیا تھا وہ اپوزیشن پارٹی کی ممبر ورلی کا کہنا ہے کی سرکی گرفتاری کے احتجاج نے وہ لوگوں کے ساتھ مارچ کر رہے تھے ہم امید کرتے ہیں کہ یہ خبرغلط ہو اور پوتن کی لمبی عمر ہو بہر حال آنے والے دنوں میں پوتن کی صحت کے بارے میں اصلیت سامنے آجائے گی ۔
(انل نریندر)
ایشیا میں سب سے زیادہ رشوت شرح بھار ت میں ہے؟
کرپشن پر نظر رکھنے والے ادارے ٹرانس پیرنسی انٹر نیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق ایشا میں سب سے زیادہ رشوت شرح بھارت میں ہے اور پبلک سیواو¿ں کا فائدہ حاصل کرنے کے لئے شخصی تال میل کا استعمال کرنے والے لوگوں کی تعداد یہاں سب سے زیادہ ہے جے ٹی بی ایشا کے مطابق رشوت لینے میں لینے والوں میں سے تقریبا 50فیصد لوگوں سے ایسا کرنے کے لئے کہا گیا وہیں پرائیویٹ مراثم کا استعمال کرنے والوں میں 32فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ رشوت نہ دینے پر انہیں سیوا نہیں ملے گی ۔اور ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں 13جون سے 17جولائی کے درمیان باقاعدہ ایک سروے کیا گیا جو دو ہزار لوگوں پر مشتمل تھا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خطے میں رشوت کی اونچی شرح 39فیصد کے ساتھ بھارت میں لوگوں کی تعداد بھی 46فیصد ہے جو پبلک سیواو¿ں کا فائدہ حاصل کرنے کے لئے نجی مراثم کا استعمال کرتے ہیں قومی اور ریاستی سرکاروں پبلک سیوا کے لیے انتظامی عمل میں بہتری لانے اور رشوت خوری بھائی بھتیجہ واد پر قابو کےلئے بااثر اقدام کو نافذ کرنے اور ضروری پبلک سیواو¿ں کو جلد وا موثر ڈھنگ سے پہونچانے کے لئے لوگوں کے مباسب آن لائن پلیٹ فارم میں سرمایا لگانے کی ضرورت ہے رپورٹ میں آگے کہا گیا ہے کہ کرپشن پر قابو پانے کے لئے اقدام کی جانکاری دینا بہت اہم ہے۔بھار ت میں زیادہ تر شہریوں کا خیال ہے کہ اگر وہ کرپشن کی رپورٹ کریں گے تو انہیں بدلے کی کاروائی کا تو سامنہ کرنا ہی پڑے گا لیکن ساتھ ساتھ کام کبھی نہیں ہوگا ۔ رپورٹ کے مطابق بھارت ، ملیشیا،تھائی لینڈ،سری لنکااور انڈونیشا سمیت سیکس ہراسانی کی شرح بھی زیادہ ہے اور خاص کر اس بنیاد پر کرپشن پر قابو کرنے کے لئے کافی کچھ کرنے کی ضرورت ہے ۔ بھارت میں89فیصد لوگوں کو لگتا ہے کہ سرکاری کرپشن ایک بڑا مسئلہ ہے 18فیصد لوگوں کو ووٹ کے بدلے رشوت کی پیشکش کی گئی تھی ۔ان کا ماننا ہے کرپشن سے نمٹنے کے لئے سرکار اچھا کام کر رہی ہے کل ملا کر بھار ت کے بعد دوسرا مقام کرپشن کے معاملے میں کمبوڈیا کا ہے جہاں کرپشن شرح 37فیصد ہے وہیں انڈونیشیا میں 30فیصد مالدیپ اور جاپان میں سب سے کم رشوت شرح 2فیصد ہے جبکہ ساو¿تھ کوریا میں 10فیصد اور نیپال میں12فیصد ہے ۔ پہلے کے مقابلے بھارت میں رشوت خوری بڑھتی جارہی ہے ۔ چھوٹے چھوٹے انتظامی کام سے لیکر بڑے سے بڑے ٹھیکے رشوت کے زور پر ملتے ہیں ۔ پورا سسٹم ہی کرپٹ ہوگیا ہے بھارت تو چھوٹا سا طبقہ ہے جسے چھوٹے چھوٹے کام کے لئے رشوت دینی پڑتی ہے ہمیں امید تھی کہ رشوت کا یہ سلسلہ کم ہوگا ۔ لیکن یہ تو پیر پسارتا جا رہا ہے۔
(انل نریندر)
مظاہرین کسان کی سنئے! ہم فیصلہ کن جنگ لڑنے آئے ہیں
نئے زرعی قوانین کے مسئلے پر کسانوں کی تحریک کا دائرہ بڑھنے کے ساتھ اور سرکار کے سامنے یہ بڑی چنوتی ہورہی ہے کہ وہ اب اس مسئلے کو کیسے سلجھائے گزشتہ سات دنوں سے راجدھانی کی سرحدپر ڈٹے پنجاب ہریانہ سمیت کئی ریاستوں کے کسانوں نے لمبی لڑائی کا اعلان کیا ہے ۔ سندھو بارڈر پر پنچایت کے بعد کسانوں نے ایک آواز میںکہا کہ وہ یہاں فیصلہ کن جنگ لڑنے کےلئے آئے ہیں اور جب تک مانگیں مان نہیں لی جاتی یہ لڑائی جار ہے گی سرکار نے منگل کے روز نئے زرعی قوانین کے خلاف تحریک چلا رہے کسانوں کے مطالبات پر غور کرنے کےلئے ایک کمیٹی بنانے کی پیشکش کی تھی جسے کسانوں نے مسترد کردیا یہ کسان انجمنیں تینوں نئے زرعی قانون کو پوری طرح منسوخ کرنے پر اڑے ہوئے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم چاہتے ہیں کہ وزیر اعظم ہماری بات سنیں ہم اپنی مانگوں پر سمجھوتا نہیں کریں گے اگر حکمراں پارٹی ہماری تشویش پر غور نہیں کرتی تو اسے بھاری قیمت چکانی پڑے گی ۔کسان لیڈر گرونام سنگھ چندنی نے کہا کہ کسان لیڈر گرونام سنگھ چندنی نے کہا کہ ان کے آندولن کا دبانے کے لئے مظاہرین کے خلاف ایکیس مقدمے درج کئے جاچکے ہیں ۔ زرعی قانون کے خلاف کسانون کے سوال کتنے جائز ہیں اور سرکاری دعوے کتنے کھوکھلے ہیں اتوار کو پریس کانفرنس میں ایک ایک کرکے سرکار کے پورے ایجنڈے کو بے نقاب کردیا ہے رہی سہی کثر اپوزیشن اور خود سرکار نے اپنی منشاظاہر کردی ہے اور ناراض کسانوں نے سوال کہ سرکار بتائے نئے زرعی قانون کو کیوں لانا پڑا ؟یہ بھی بتائے کسان انجمنیں اور کن کسانوں نے سرکار سے ان زرعی قوانین میں نام نہاد اصلاحات کو لانے کی مانگ کی تھی ؟ سرکارکے ان زرعی قوانین کے خلاف آندولن کے درمیان دہلی مارچ کرنے والے کسان گروپ کے نمائندوں نے کہا کہ سرکارصرف کارپوریٹ کمپنیوں کی بہبود میں دلچسپی رکھتی ہے اسی وجہ سے اس طرح کے کالے قانون بنائے جا رہے ہیں اگر ایسا نہیں ہے تو سرکار کسانوں کے سوالوں کا جواب دینے سے کیوں بھاگ رہی ہے ؟ وزیر داخلہ امت شاہ کے پرستاو کو مسترد کرنے کے بعد کسان لیڈروں نے کہا کہ ہم سرکار لیڈروں سے پوچھتے ہیں کہ کس کسان انجمن نے سرکارسے اپنا بھلا کرنے کی مانگ رکھی تھی دوسرا سرکار یہ بھی بتائے کون سے بچولیوں کو نکالنے کی بات کررہے ہیں ۔بچولیے سرکار کے ڈیفنس عہدوں میں بچولیے ہوتے ہیں منڈی میں صرف آڑتی سروس پرووائیڈر ہوتا ہے ۔ادھر پنجاب سے آئے احتجاجی کسان جتھے میں شامل 55سالہ سجن کی موت ہوگئی یہ کس کے سر پر ڈالی جائے ؟مشترکہ کسان سنگھرش کمیٹی کے ساتھ اب کیرل مہاراشٹر اتر پردیش اور راجستھان وغیرہ دوسری ریاستوں سے بھی کسان اکٹھے ہورہے ہیں۔ ادھر ہریانہ کی خاک پنچایتوں کے بعد دہلی ٹیکسی یونین نے بھی کسانوں کو ہمایت دینے کا وعدہ کیا ہے کسانوں اور کسان تحریک میں آہستہ آہستہ دوسری انجمنیں بھی شامل ہونے لگی ہیں تاکہ سرکار پر دباو¿ بنایا جاسکے ۔تاکہ سرکار قوانین واپس لے ادھر سیاسی نفع نقصان کے پیش نظر اس خطے کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہم تو یہ مشورہ دیں گے کہ کسان انجمنوں کو یقین دلائے وہ ان قوانین کو فی الحال ملتوی کرنے کو تیار ہے کسانوں کی جائز مانگوں کو قوانین میں شامل کریں ۔
(انل نریندر)
02 دسمبر 2020
بڑی مشکل سے ملتی ہے منریگا مزدوری !
مرکزی سرکار کی یوجنا منریگا میں کام کر رہے امزدوروں کو اپنی مزدوری کے لئے بینکوں کے چکر لگانے پڑ رہے ہیں یہی نہیں ان مزدوروں کو نہ صرف بائیو میٹرک اتھانٹی فیکیشن کے فیل ہونے سے مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے مزدوری کے پیسہ نکالنے کےلئے بینک پہونچنے کے قریب چار گھنٹے کے بعد پیسے ہاتھ لگتے ہیں عظیم پریم جی یونیورسٹی اورلیب ٹیگ کے مشترقہ سروے میں یہ جانکا ری سامنے آئی ہے یہ سروے آندھرپردیش،جھارکھنڈ،اور راجستھا میں کیا گیا ہے ۔اس میں 1947لوگوں سے منریگا مزدوری بینکنگ سسٹم کے ذریعے پیسہ نکالنے پر رائے مانگی گئی تھی زیادہ تر لوگوں کے ذریعے رقم نکالنے کو بائیومیٹرک اتھانٹی فیکیشن کی مشکلات سے دو چار ہونا پڑا ہے اعداد شمار کے مطابق چالیس فیصد مزدوروں کو پانچ میں سے ایک لین دین میں اتھانٹی فیکیشن فیل ہونے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہیں سات فیصدی لوگوں کا یہ کہنا ہے انکے پچھلے پانچ لین دین فیل ہوئے ہیں ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ سات فیصدی مزدوروں کو اپنے بینک کھاتے کو آدھار سے جوڑنے میں مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اس سروے کے دوران یہ بھی پتہ چلا ہے کہ مزدوروں میں بینک سے متعلق بہت سی معلومات کیا علم نہیں تھا آندھرپردیش میں 65فیصدی جھارکھنڈ میں 50فیصدی راجستھا میں 97فیصدی لوگوں کو پتہ ہی نہیں تھا کہ وہ مہینے میں کتنی بار لین دین کر سکتے ہیں کھاتا جاری رکھنے لئے کم سے بیلینس جیسی ضروی جانکا ری بھی نہیں تھی ۔
(انل نریندر)
ممتا بنرجی کو جھٹکا !
مغربی بنگا ل میں اسمبلی چناو¿ سے قریب چھ مہینے پہلے ترنمول کانگریس کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے چوٹی کے نیتا شبھیندر ادھیکاری نے ہوگلی ریور برج کمشنر کے چیئر مین کے عہدے کے ساتھ ساتھ وزیر ٹرانسپورٹ کے عہدے سے استعفیٰ دیکر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو سختی چنوتی دی ہے ظاہر ہے شاردہ چٹ فنڈ اور نارد گھوٹالے میں نام آنے اور پارٹی میں ابھیشیک بنرجی کے بڑھتے قد کے سبب لیڈر شپ سے شبھیندر کی جو دوری بنی تھی وہ زیادہ ہوگئی ہے ۔ میل میلاپ کا امکان تاریخ لگتے ہیں کچھ دنوں سے ممتا بنرجے سے ناراض چل رہے ادھیکاری کو ایک دن پہلے ہی ہوگلی ریور برج کمشنر کے صدر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا ۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ پارٹی کے ممبر سپ سے بھی جلد ہی استعفیٰ دینگے یا نہیں ؟ پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے شبھیندر ادھیکاری نے کچھ وقت سے ترنمول چیف ممتا سے دوری بنا لی تھی مغربی بنگال چناو¿ کے کچھ مہینے ہیں ایسے وقت پر انہوں نے اس ہفتے ایک غیر سیاسی بینر کے تحت مشرقی مدنا پور کے کھجوری علاقے میں ایک بڑی ریلی نکا لی تھی ۔ اور وہ کچھ مہینوں سے پارٹی نیتاو¿ں سے دوری رکھنے اور کیبنیٹ کی میٹنگ میں بھی حصہ لینے نہیں آئے اس لئے قیاس آرئیاں تیز ہوگئی تھیں کہ وہ پارٹی میں رہیں گے یا نہیں حالانکہ ابھی صاف نہیں ہے کہ شبھیندر کہاں جائیں گے لیکن انہوں نے وزیر اعلیٰ کے ساتھ گورنر کو جس تیزی سے ٹویٹ کیا پھر ان کے استعفیٰ پر ریاستی بھاجپا صدر وا نچارج نے ان پر جیسی رائے زنی کی اس سے صاف اشارہ ملتاہے کہ شبھیندر کے بھاجپا میں جانے کی امیدیں بڑھیں ہیں اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو ترنمول کے لئے ایک بڑا جھٹکا ہوگا ۔ مکل رائے پہلے ہی پارٹی چھوڑ چکے ہیں ۔ مشرقی مدنا پور میں ترنمول کے شبھیندر کا متبادل نہیں ہے اس کے ساتھ کئی ممبران اسمبلی کے پارٹی چھوڑنے کی بھی اطلاعات ہیں اسمبلی چناو¿ سے پہلے ترنمول میں لگ رہی سیندھ ممتا بنرجی کیلئے پریشانی کا باعث ہانا چاہئے کیونکہ اس کا فائدہ بھاجپا کوہو گا ۔
(انل نریندر)
کیا بھاجپا توڑ پائےگی اویسی کا گڑھ ؟
حیدرآباد میونسپل کارپوریشن چناو¿مہم کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا روڈ شو کرنے اترنا ہی یہ بتانے کےلئے کافی کی بھاجپا اس چناو¿ کو کتنی سنجیدگی سے لے رہی ہے چناو¿ لوک سبھا کا ہو،اسمبلی کا ہو،یا کارپوریشن سطح کے ہوں،بھاجپا پوری طاقت لگاتی ہے کشمیر کے بعد اس کا ثبوت اب حیدرآباد میں مل رہا ہے۔ وہاں یکم دسمبر کو گریٹر حید رآباد میونسپل کارپوریشن کے چناو¿ مکمل ہوگئے ۔ چناو¿ کمپین کے لئے بھاجپا کے مرکزی وزیر امت شاہ بی جے پی صدر جے پی نڈا یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور یوا مورچہ کے صدر تیجسوی سوریا کی چناو¿ یاترا سے حید رآباد کا چناوی ماحول گرم ہوگیا تھا خاص کر یوگی اور سوریا کے بڑ بولے تقریر اور شاہ کو ملی لوگوں کی طرف سے زبردست حمایت سے بی جے پی کی امیدیں بڑھیں ہیں وہیں اپوزیشن پارٹیاں اندرونی مورچہ بندی میں لگ گئیں تھیں ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ یہ کارپوریشن کے چناو¿ میں قومی نیتاو¿ں کو گلی گلی گھما کر اسد الدین اویسی کے گڑھ کو کتنا توڑ پائے گی؟حیدرآباد کے چناو¿ پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ایسی بھیڑ اور ہل چل حالیہ برسوں میں کم دیکھنے کو ملی ہے ۔اسمبلی چناو¿ سے بھی زیادہ اہمیت گریٹر حید را ٓبادمیونسپل کارپوریشن کے چناو¿ نے پید اکی ہے ۔ ہر گلی کوچے میںچوراہے ،دکانوں اور دفتروں میں بھاجپا کے بڑے لیڈروں کے کمپین کے بارے میں بحث ہوتی ہے لیکن آل انڈیا اتحاد المسلمین کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اویسی کے رتبے اور گڑھ پر ان نیتا و¿ںکی کمپین کا کوئی اثر پڑنے والا نہیں ہے۔ بتادیں کہ حید رآباد کارپوریشن کی 150سیٹوں میں سے 60سیٹیں پرانے شہر میں ہیں اور پرانہ شہر اویسی کا گڑھ مانا جاتا ہے وہاں کی ساٹھ میں سے51سیٹیں اتحاد المسلمیں کے پاس ہیں اورپرانے شہر کی باقی نو سیٹیں اور باقی نوے سیٹوں پر بی جے پی اس مر تبہ کافی کچھ حاصل کرنے کی امید لگائے بیٹھی ہے ۔ ریاست میںحکمراں ٹی آر ایس بی میدا ن میں ہے واقف کار مانتے ہیں پولورائزیشن میں جاتے دکھائی پڑ رہے چناو¿ میں ٹی آر ایس کو کچھ اور کانگریس کو کافی نقصان ہوسکتا ہے کیونکہ ہندو ووٹ بی جے پی کی طرف جاسکتا ہے ۔ یکم دسمبر کو پولنگ سے پہلے اتوار کے روز امت شاہ کے تلخ تیور کا جواب اسد الدین اویسی نے زور دار طریقے سے دیا ہے اور کسانوں کا ایشو اٹھا تے ہوئے ان کہنا تھا کی امت شاہ چناو¿ کے لئے حید رآباد تو آسکتے ہیں تو کسانوں سے بات کرنے کیوں نہیں جا سکتے ؟ دنیا کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی ہونے کے دعویٰ کرنے والی بھاجپا آہستہ آہستہ کارپوریشن کے چناو¿ کو لیکر اتنا فکر مند کیوں ہے ؟ کیا اس کی وجہ ہر چناو¿ کو سنجیدگی سے لینے کی بھاجپا کی عاد ت ہے یا کوئی بڑی حکمت عملی ہے ؟ پچھلے چناو¿ میں ننوے سیٹیں جیت کر ٹی آر ایس پچھلی بار اپنا میئر بنا چکی ہے 94سیٹ اویسی کے پارٹی کو ملی تھی اور چار سیٹ سے تسلی کرنے والی بھاجپا اس مرتبہ کوئی موقع نہیں گنوانا چاہتی پچھلے چناو¿ میں بھاجپا کو چار اور اویسی کی پارٹی کو 44سیٹیں ملیں تھیں اب بہار میں اے آئی ایم آئی ایم کو پانچ سیٹیں ملنے کے سبب بھاجپا اسد الدین کی پارٹی کو سنجیدگی سے ملنے لگی ہے ۔پارٹی نے بھوپیندر یادو کو حید ر آباد میونسپل کارپوریشن چناو¿ کا انچارج بنا کر ایسے اشارے دیئے ہیں ۔ اس لئے بھا جپا اویسی کو ان کے گھر میں ہی گھیر نا چاہتی ہے ایسا لگتا ہے بھاجپا میونسپل کارپوریشن چناو¿ کو ریاست کا اقتدار ہتھیا نے کا ذریعہ سمجھتی ہے سال 2108ہریانہ میونسپل چناو¿ میں بھاجپا نے پانچ میونسپل کارپوریشنوں پر قبضہ کر لیا ہے ۔پارٹی کے ورکروں کا اس سے حوصلہ بڑھا ہے اور اسی وجہ سے 2019کے لوک سبھا چناو¿ میں جیت ملی ہے ۔ دیکھیں کہ اس بار حید رآباد میں کیا ہوتا ہے ۔
(انل نریندر)
01 دسمبر 2020
دام کم ہونے کا فائدہ پبلک کے بجائے سرکا ر نے اٹھا لیا !
کورونا دور میں اب لوگوں کو مالی پریشانی سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے تب سرکار اور تیل کمپنیاں کچے تیل کی قیمتوں میں آئی کمی کا فائدہ گراہکوں کو دینے کے بجائے اپنی جیبیں بھر رہی تھی ۔ستمبر کی سہہ ماہی میں تیل کمپنیوں کا اصل منافع تین گنا بڑھ کر 10951کروڑ تک پہونچ گیا ۔وہیں سرکا ر کو کیش کی سکل میں 18741کروڑ روپے کا فاضل محصول حاصل ہوا ۔پٹرولیم چیزوں کی 80فیصد لاگت کچے تیل کی ہوتی ہے ۔پچھلے سال جولائی سے ستمبر کی سہہ ماہی میں ہندوستان میں کچے تیل کی فی بیرل لاگر 4100سے 4400کے درمیان تھی ۔یہ اپریل میں دو ہزار فی بیرل پر آگئی اس وقت پٹرول ڈیزل کی قیمت کم کونے کے بجائے حکومت نے چھ مئی سے پٹرول پر دس روپے اور ڈیزل پر تیرہ روپے فی لیٹر فاضل اکسائز ڈیوٹی لگا دی ۔بڑھے ٹکس نے سرکار کو جہاں ستمبر 2020کی سہہ ماہی میں فاضل 18741کروڑ روپے کی اکسائز ڈیوٹی ملی وہیں دیش کی سب سے بڑی کمپنی انڈین آئل منافع بھی 2019کی سہہ ماہی میں 563.42کروڑ روپے سے 10گنا بڑھ کر 6227کروڑ تک پہوچ گیا ۔جو فائدہ پبلک کو ہونا تھا وہ سرکار تیل کمپنیاں کھا گئیں ۔
(انل نریندر )
ایران کے جوہری سائنسداں فخری زادہ کا قتل !
ایران نے خفیہ نوکلائی پروگرام کے روح رواں اور سینئر سائنسداں محسن فخری زادہ کو جمع کے روز تہران کے قریب گھات لگا کر ہلاک کر دیا گیا ۔اس واردات سے تلملائے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خوینی کے فوجی مشیر اور کمانڈر حسین نے فخری زادہ کے قاتلوں پر قہر برپانے کی دھمکی دی ہے ۔اس سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے عہدکے آخری کچھ ہفتوں میں ایران اور اس کے دشمنوں کے درمیان ٹکراو¿ کے آثار بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں اس قتل نے دیش کو بری طرح سے ہلا دیا ہے ۔یہاں تک کہ آیت اللہ خوینی کے فوجی مشیر حسین نے قتل کا بدلا لینے کا بھی تحیہ کر لیا ہے ۔اور دھمکی دی ہے کہ اس کے قصورواروں پر بجلی بن کر قہر برپائیں گے ایسے میں سوال ہے کہ آخر فخری زادہ تہران کے لئے اتنے اہم کیوں تھے ؟ فخری کو مغربی اور اسرائیلی خفیہ ایجنسیاں 2003میں بند ہوئے دیش کے نوکلیائی بم پروگرام کے خالق سیکریٹ لیڈر مانتی آئی ہے ۔ایران پر الزام لگتے رہتے ہیں کہ وہ اس پروگرام کو دوبارہ کیوں کرنے کی کوشش کررہا ہے جبکہ ایران کے نوکلیر سے ہتھیار بنانے کی تردیدکی ہے اور اس کاکہنا ہے نیوکلیائی توانائی پر امن مقاصد کے لئے استعمال کررہے ہیں ایران کا یہ پروگرام اتنا خفیہ ہے کہ فخری زادہ کے مقاصد کی شاید ہی کوئی پبلک پروفائل حالانکہ اقوام متحدہ واچ ڈوگ اور امریکی خفیہ ایجنسیاں انہیں ایران کے نیوکلیر پرگرام کا ہیڈ ہی مانتی ہیں ۔وہ اکیلے ایسے سائنسداں تھے جن کا نام انٹر نیشنل اٹامک اینرجی ایجنسی کے 2015کے فائنل تجزیہ میں تھا اور اس میں ایران کے نیوکلیر پروگرام پر کھلے طور پر سوال کئے گئے تھے رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ فاخری ایسی سرگرمیاں چھپا کر دیکھ رہے تھے جو ایران کے نیوکلیر پروگرام کے فوجی دور کی حمایت میں تھی ۔2018میں ایران پر نیوکلیائی ہتھیار بنانے کا الزام لگاتے ہوئے اسرائیل کے پی ایم نیتن یاہو نے فخری زادہ کا خاص طور سے ذکر کیا تھا ایران کے وزیرخارجہ نے اس حملے کے پیچھے اسرائیل کاہاتھ ہونے کا شبہہ ظاہر کیا ہے وہیں اسرائیل نے اس بارے میں کچھ کہنے سے انکار کیا ہے ۔اسرائیل ایک دہائی پہلے ایرانی نیوکلیر سائنسدانوں کا سلسلہ وار قتل کرنے کے لئے طویل عرصہ سے مشتبہہ رہا ہے ۔سرکاری میڈیا نے جمعہ کو ذرائع کے حوالے سے سائنسداں کی موت کی تصدیق کی تھی ۔پیر اسرکاری فورس نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ ا س نے پہلے ایک دھماکہ ہوا اور پھر اس کے بعد مشین گن چلنے کی آوازیں سنی جس کار پر حملہ ہوا اس میں محسن زادہ سوار تھے حملے میں ان کے باڈی گارڈ بھی زخمی ہوئے ہیں حالانکہ ابھی تک کسی بھی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری نہیں لی ہے ۔
(انل نریندر )
عدلیہ سرکاری اذیت کے خلاف شہری آزادی کی حفاظت کریں !
دیش کی عدالتوں نے شہری کی آزادی پر دو اہم فیصلے سنائے ہیں ارنب گوسوامی اور کنگنا رنوت سے متعلق فیصلوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ عدلیہ سرکار کے ذریعے چنندہ اذیت رسانی کےخلاف شہری آزادی کی حفاظت کریں کیوں کہ اس کے نتیجے بہت سنگین ہیں جسٹس ڈی وائی چندر چور اور اندرا بینرجی کی ڈویزن بنچ خود کشی کے لئے اکسانے کے معاملے میں رپبلک ٹی وی کے ایڈیٹر اینڈچیف ارنب گوسوامی کی انترم ضمانت بڑھانے کے معاملے میں سماعت کررہے تھے ۔سپریم کورٹ نے جمعہ کو کہا دیش کی سبھی عدالتیں چاہے وہ سپریم کورٹ ہو یا ہائی کورٹ یا ضلع عدالت ہو سبھی کی ذمہ داری یہ یقینی بنانا ہے کہ مجرمانہ قانون کو شہری اذیت کا ہتھیار نا بنایا جائے ۔عدالت نے کہا عدلیہ سرکار کے ذریعے چنندہ اذیت رسانی کے خلاف شہری آزادی کی حفاظت کریں چونکہ اس کے نتیجے بہت سنگین ہو سکتے ہیں ۔عدالت نے کہا کسی کو ایک دن بھی آزادی سے محروم رکھنا بہت زیادہ ہے خوکشی کے لئے اکسانے کے معاملے میں ارنب کو دی گئی ضمانت کی مفصل وجہ پیش کی گئیجس کے مطابق مہاراشٹر پولیس کے ذریعے درج ایف آئی آر کا پہلی نظر میں تجزیہ ان کے خلاف الزام قائم نہیں کرتا ۔عدالت نے اپنے 33صفحات پر مبنی فیصلے میں صاف کیا ہے کہ ارنب کو ملی انتم ضمانت ممبئی ہائی کوڑٹ میں ان کی زیرا لتو ا عرضی کے نپٹارے تک جاری رہے گی اتنا ہی نہیں اگر ہائی کورٹ کا فیصلہ ارنب کے خلاف آتا ہے تو بھی اس فیصلے دن سے ہفتہ بھر کی میعاد تک انہیں انتم ضمانت میں رہنا ہوگا ۔وہیں ممبئی ہائی کورٹ نے جمعہ کو ہی کہا کہ وہ ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی )کے ذریعے اداکارہ کنگنا رنوت کے بنگلہ کے حصہ کو گرانے کی کاروائی ایک طرح سے اداکارہ کو نقصان پہوچانے کے لئے کی گئی تھی ۔عدالت میں گرانے کے حکم کو ناجائز قرار دیا اور اسے منسوخ کر دیا عدالت نے یہ بھی کہا کہ کوئی عدالت کسی بھی شہری کے خلاف انتظامیہ کو دوہری طاقت استعمال کرنے کی منظوری نہیں دیتا ۔عدالت ایس کے کا ٹھوالا اور جسٹس آر آئی منگلہ کی بنچ نے کہا سٹی کارپوریشن کے ذریعے کی گئی کاروائی ناجائز تھی اور اس میں کوئی شبہہ نہیں ہے ۔بنچ نے کنگنا رنوت کے نو ستمبر کو باندرا میں واقع پالی ہل بنگلہ مین بی ایم سی کے ذریعے کی گئی کاروائی کے حکم کو چیلنج دینے والی عرضی پر سماعت کررہی تھی حالانکہ بنچ نے صاف کیا کہ وہ کسی بھی شہری کے ذریعے کسی بھی ناجائز تعمیل کو نظر انداز کرنے کی حمایتی نہیں ہے اور نا ہی اس نے رنوت کو صحیح ٹھہرایا جس کی وجہ سے یہ پورا واقعہ ہوا ۔ہائی کورٹ نے کہا کہ عدالت ناجائز کاموں یا سرکار کے خلاف یا فلم صنعت کے خلاف دئیے کسی بھی غیر ذمہ دارانہ بیان کی تائید نہیں کرتی اپنے حکم میں کنگنا رنوت کو پبلک طور سے اپنے اظہار رائے سے تحمل برتنے کا حکم بھی دیا وہیں کنگنا رنوت نے کہا جب ایک شخص سرکار کے خلاف کھڑا ہوتا ہے اور کامیاب ہوتا ہے تو یہ اس شخص کی جیت نہیںہے بلکہ پوری جمہوریت کی جیت ہے ۔
(انل نریندر )
29 نومبر 2020
میکرو ں بولے اسلامی پیشوا جمہوری اصولوں کو تسلیم کریں !
فرانس کے صدر ایمینول میکروں نے دیش بھر کے مسلم لیڈروں کو پندرہ دن کا الٹی میٹم دیا ہے ۔اور کہا کہ اس میعاد میں سبھی اسلامی پیشوا کٹر پشند اسلام کے خلاف ملک گیر مہم بن جائے اس شکل میں جمہوری اصولوں کے چارٹر کو تسلیم کر لیں ۔میکروں نے فرانچ کونسل آف دی مسلم فیتھ نامی تنظیم سے کہا کہ جمہوری اصولوں کے چارٹر کو تسلیم کرتے ہوئے لکھیں کہ اسلام مذہب ہے یہ کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے اس کا مقصد مسلم گروپوں میں غیر ملکی مداخلت کو روکنا بھی ہے ۔یہ قدم دیش بھر میں ایک مہینہ سے کم وقت میں تین اسلامی دہشت گردانہ حملوں کے بعد اٹھایا گیا ہے ۔صدر میکروں نے اسلام کو بطور مذہب مشکل میں بتایا تھا اسلامی علیحدگی پسندی سے نمٹنے کا بھی عزم کیا تھا اس پر ترکی سمیت کئی مسلم اکثریتی ممالک نے سخت ناراضگی ظاہر کی تھی ۔پاکستان سرکار کے مرکزی وزیر سراج مزاری نے میکروں کے خلاف سخت تبصرہ کر دیاتھا پاکستان کو ایک بار پھر عالمی سطح پر اس وقت شرمشار ہونا پڑا جب فرانسیسی صدر پر کئے گئے تبصرہ کے لئے مزاری کو ناصرف اپنا متنازع ٹوئٹ واپس لینا پڑا بلکہ اپنے کئے پر معافی بھی مانگنی پڑی ۔واضح ہو مزاری نے کہا تھا کہ صدر ایمینول میکروں کی سرکار مسلمانوں پر نازی حکومت میں یہودیوں پر ڈھائے ظلم کی طرح ظلم ڈھا رہی ہے ۔پاکستانی وزیر کے اس ٹوئٹ پر صدر میکروں ناراض ہو گئے اور مزاری سے اپنی کمانڈ واپس لینے کی مانگ کی ۔دو دن پہلے شری مزاری نے ایک آرٹیکل کا حوالہ دیتے ہوئے ٹوئٹ کیا تھا میکرو ں سرکار مسلمانوں پر نازیوں جیسا برتاو¿ کررہی ہے اس پر فرانس سرکار نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یا تو وزیر اپنے دعوے کے حق میں ثبوت پیش کرے ورنہ معافی مانگے ۔فرانس کے سخت رویہ کے آگے پاکستان کی عمران سرکار کو جھکنا پڑا اور وزیرکو اپنے بیان کے لئے معافی مانگنی پڑی ۔شری مزاری نے لکھا کہ میں اپنی غلطی کو سدھارتے ہوئے اپنا ٹوئٹ ڈیلٹ کررہی ہوں اور اس غلطی کے لئے معافی بھی مانگتی ہوں ۔
(انل نریندر )
مقامی بلدیاتی اداروں کے چناو ¿ میں مودی کا سہارا!
جموں کشمیر کے ڈسٹرکٹ ڈولپمنٹ کونسل (ڈی ڈی سی )کے پہلی بار ہو رہے چناو¿ میں بھاجپا کو مودی کے نام کے سہارے سے اپنی سیاسی منزل تک پہونچنے کی امید ہے ۔جموں کے پاس نگروٹہ میں زبردست دہشت گردانہ واقعے نے بھی اس چناو¿ پر توجہ مرکوز کر ا دی ہے اس معاملے نے اس کی بھی یاد دلائی کہ دفعہ 370 کے خاتمہ کے بعد اور سابقہ ریاست کو توڑ کر تشکیل دونوں مرکزی حکمراں خطوں میں حکمرانی سیدھے مرکزی سرکار کے اپنے ہاتھ میں لینے کے سو سال بعد بھی جموں کشمیر میںدہشت گردی کی کوئی چنوتی ختم نہیں ہوئی ہے پھر بھی براہ راست چناو¿ سے ضلع کونسل کی تشیکیل کے اس پہلے چناو¿ کیلئے صرف دہشت گردی کی ہی چنوتی ہے بلکہ اس سے بھی بڑی چنوتی ان حالات میں آزادانہ اور غیر منصفانہ چناو¿ کرانے کی ہے ۔اس مرکزی حکمراں ریاست کا انتظامیہ سوا سال تک سیدھے سنبھالنے کے بعد اگر مرکزی سرکار نے نئی شکل دے کر ضلع کونسل کے چناو¿ کرانے کافیصلہ کیا ہے تو یہ حکمرانی کے ذریعے کی شکل میں مقامی چنے گئے نمائندوں اور بلدیاتی اداروں کی ضرورت پہچانے جانے کو ہی دکھاتا ہے ۔ضلع کونسل کے اس انفیکشن کے دور میں منتخب اسمبلی کے التو ا کی شکل میں کارگر ہونے نا ہونے کی بحث اپنی جگہ ۔جنتا کی نمائندگی کرنے والے بلدیاتی ادارے کی شکل میں ان سے مسائل کو سلجھانے میں مددگار ہونے کی امید ظاہر کی جاتی ہے کشمیر کے نتیاو¿ں کے لمبے عرصہ تک نظر بندی ختم ہونے کے بعد ان انتخابات کی خاص اہمیت ہو جاتی ہے ۔ڈی ڈی سی میں چئیرمین کی شکل میںمنتخب شخص کو ریاستی وزیر کا درجہ دیاجائیگا جس طرح راجہ سبھامیں اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد اور کانگریس پردیش صدر جی اے میر کے درمیان لمبے عرصہ سے چلی آرہی تلخی کے سبب یہاں کانگریس تنظیم مضبوط دکھائی نہیں دیتی جس کا فائدہ جموں سماج میں بھاجپا کو مل سکتا ہے اس چناو¿ میں بھاجپا نے اپنے امیدواروں کے حق میں بھی بڑی تعداد میں اسٹار کمپینرس کو میدان میں اتارا ہے ۔28نومبر سنیچر کے روز ڈی ڈی سی چناو¿ کا پہلے مرحلے کی پولنگ ہو گئی ۔ریاست کی سبھی 22ضلع کی 280ضلع کونسل کے لئے آٹھ مرحلوں میں پولنگ رکھی گئی ہے ۔بھاجپا کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلی بار ہونے جارہے یہ چناو¿ وزیراعظم نریندو مودی کی قیادت کے لئے بے حد اہم ہے پارٹی کی مضبوط کوششیں کہ بھاجپا ان چناو¿ میں اکثریت لے کر دیش و دنیا کے سامنے یہ ثابت کر دے گی کہ خصوصی درجہ والے رہے جموں کشمیر سے آرٹیکل 370و 35Aکو مفاد عامہ میں ختم کیا جانا کتنا ضروری تھا ۔وادی میں بنا گپکار اتحاد جموں کشمیر کاخصوصی درجہ و مکمل ریاست کو درجہ پھر سے بحال کئیے جانے کا اشو اچھالا ہے کشمیر وادی میں نامزدگی پرچہ بھرنے کے ساتھ ہی سبھی امیدواروں کو سکیورٹی دستیا ب کرانے کی ضرورت سے سرکار کی کوششوں سے مشکلوں کا اندازہ لگایا جا سکتاہے لیکن محفوظ رہنے کے نام پر امیدواروں کے برتاو¿ کو ان کے رویہ میں قید کررکھنا تو الٹا ہی کام کرے گا ۔اور اگر صرف انتظامیہ کی مہربانی یافتہ امیدواروں کو سکیورٹی کے ساتھ چناو¿ کمپین کا موقع ملتا ہے تو یہ پورے چناوی عمل کو ہی ناکارہ کر دے گا اور مین اسٹریم کی علاقائی پارٹیوں کے اتحاد ،گپکار گروپ نے خاص طور پر ایسے الزام لگائے ہیں کہ ان پارٹیوں کا موجودہ حالت میں بائیکاٹ کرنے کے بجائے ان انتخابات میں حصہ لینا اس پوری کوشش کا وزن بھی بڑھتا ہے ۔
(انل نریندر )
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...