17 مارچ 2012

اکھلیش کی اگنی پریکشا تو اب شروع ہوئی ہے



Published On 17 March 2012
انل نریندر
اترپردیش میں اکھلیش یادوکی پاری کا آغازگیا ہے۔ جمعرات کوکھانٹی ،گنوئی رنگ ڈھنگ میں اور نئے تیور اورفلیور کے ساتھ اپنے بلبوتے پر اترپردیش میں پہلی بار اکثریت کے ساتھ قابض ہوئی سپا کے 38 سالہ نوجوان چہرہ اکھلیش یادو اور ان کے کیبنٹ ممبران نے عہدراز داری کا حلف لیا۔ ریاست کے گورنر بی ایل جوشی نے مقامی لا ماٹینیئر کلب میدان میں منعقدہ ایک شاندار تقریب میں ریاست کے نوجوان وزیر اعلی کی پاری کا آغاز ہوا۔ اکھلیش کے ساتھ19 وزراء نے بھی حلف لیا۔ اکھلیش کے ساتھ ان کے وزراء نے بھی حلف لیا۔ حالانکہ اس سیپہلے اکھلیش کے والد شری ملائم سنگھ یادوتین مرتبہ ریاست کے وزیر اعلی بنے لیکن انہیں ہر مرتبہ دوسرو ں کی حمایت کی بیساکھی پر کھڑا ہونا پڑا لیکن اس بار اقتدار کے لئے واضح مینڈیٹ ملا ہے تو نئے وزیر اعلی کے لئے چنوتیوں کا پہاڑ سامنے ہے۔ تقریب سے ہی تنازعات کا آغاز ہوگیا ہے کیونکہ آزاد ممبر اسمبلی رگھوراج پرتاپ سنگھ عرف راجہ بھیا کو کیبنٹ وزیر بنانا چونکانے والا تھا۔ راجہ بھیا کے خلاف اقدام قتل، ڈکیتی، اغوا سمیت 8 مجرمانہ معاملے درج ہیں۔ اکھلیش نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ راجہ بھیا کے خلاف لگے الزامات سیاسی سازش کے تھے۔ اکھلیش اور ریاست میں بہت فرق آگیا ہے۔ یہ وہی اکھلیش ہیں جنہوں نے ڈی پی یادو کے پارٹی میں داخل ہونے پر اعتراض کیا تھا۔ اکھلیش کیلئے ایک بڑی چنوتی غنڈہ راج نہ لوٹنے کی ہے۔ ادھر اکھلیش حلف لے رہے تھے تو ادھر ان کی پارٹی والے گریٹر نوئیڈا کے دادری علاقے میں بسپا کنبے کو مارنے پیٹنے لگے تھے۔ قابل غور ہے اسی علاقے میں سابق وزیر اعلی مایاوتی کا گاؤں بادل پور بھی ہے۔ ان کے راج میں سپا ورکروں کی بہت پٹائی ہوئی تھی اب فطری ہے وہ بدلہ لینا چاہیں گے۔ اسی پر اکھلیش کو لگام لگانی ہوگی۔ ان کی کیبنٹ اور پارٹی میں بہت سینئر لیڈر ہیں۔ ان پر بھی لگام لگانا آسان نہیں ہوگا۔بچہ کہہ کرکچھ وزیر، سنتری، اپنی منمانی کرنا چاہیں گے۔ دیکھیں اکھلیش اس مسئلے کا حل کیسے نکالتے ہیں اور سینئروں کی منمانی کو کیسے روکتے ہیں۔ 11 لاکھ نوجوانوں کی امیدوں پر کھرا اترنا آسان نہیں ہوگا۔ بے روزگاری بھتے کا چناوی وعدہ پورا کرنے کے لئے اکھلیش کو ڈیڑھ ہزار کروڑ روپے اکٹھے کرنے ہوں گے۔ پارٹی نے اس سے پہلے کے عہد میں جہاں 500 روپے مہینہ بھتہ دیا تھا وہیں اب وہ بے روزگار نوجوانوں کو 1ہزار روپے دینے جارہی ہے۔ اکھلیش نے دو برس میں گاؤں کے لئے 20 گھنٹے اور شہر کو22 گھنٹے بجلی دینے کا وعدہ کیا ہے۔ کسانوں کی طرح غریب بنکروں کو بھی مفت بجلی دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ صنعت اور زراعت کو بھرپور بجلی دینے کے ساتھ پرائیویٹ و سرکاری سیکٹر میں بجلی پیداوار کو ترجیح دیتے ہوئے نئے بجلی گھر بنانے اور پرانے ٹھیک کرانے اور بجلی چوری روکنے کے اقدام کا اعلان کیا ہے۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ابھی بجلی پیداوار اور دستیابی کی جو حالت ہے اس سے زیادہ تر شہروں کو 16-18 گھنٹے بجلی نہیں مل پاتی جبکہ گاؤں میں تو اوسطاً محض9 گھنٹے بجلی کی سپلائی ہوتی ہے کیونکہ بجلی گھر قائم کرنے میں چار برس لگتے ہیں اس لئے فی الحال بجلی کی حالت میں قابل قدر بہتری لانا اکھلیش کے لئے چنوتی ہوگی۔ مفت بجلی دینے سے ڈیڑھ ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا فاضل بوجھ اس پاور کارپوریشن پر پڑے گا جو پہلے ہی سے 8 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کے خسارے میں چل رہی ہے۔ اب باری آتی ہے ٹیبلیٹ اور لیپ ٹاپ دینے کے مسئلے کی۔ سپا نے ہائی اسکول اور انٹر پاس طلباء کو مفت لیپ ٹاپ و ٹیبلیٹ ٹی سی بانٹنے کا وعدہ کیا ہے اور اس پر عمل کے لئے ریاستی کیبنٹ نے اپنی مہر لگا دی ہے۔ اس برس ہائی اسکول پاس طالبعلم کو تعداد25 لاکھ اور انٹر پاس 11 لاکھ رہنے کا اندازہ ہے۔ اگر ٹیبلیٹ پی سی کی کم از کم قیمت 50 ڈالر یعنی 2500 روپے مانی جائے تو ہائی اسکول پاس طلبا کو دینے کیلئے اسے سالہ625 کروڑ روپے خرچ آئیں گے۔ دونوں کو ملا کر اکھلیش کو 3800 کروڑ روپے کا انتظام کرنا ہوگا۔ ماہرین نے اندازہ لگایا ہے اگر سپا سرکار اپنے وعدوں پر عمل شروع کرنے لگی تو اسے قریب 66 ہزار کروڑ روپے سالانہ کا انتظام کرنا پڑے گا جبکہ دنیا جانتی ہے کہ ریاست کی اقتصادی حالت کافی کھوکھلی ہے۔ پچھلے مالی سال میں یہ 18959 کروڑ رکے خسارے کا بجٹ تھا۔ اس برس یہ خسارہ اور بھی چھلانگ لگاسکتا ہے۔ ایسے میں اکھلیش کی سرکار کو اپنے چناوی وعدے پورے کرنا آسان نہیں ہوگا۔ لیکن اتنا طے ہے کہ اگر اکھلیش سرکار نے واقعی پختہ سیاسی عزم دکھایا تو اس نشانے کو پانا مشکل بھی نہیں ہے۔ ہمیں اکھلیش کو مبارکباد دینے کے ساتھ امید کرتے ہیں کہ وہ ریاست کی عوام کی امیدوروں پر کھرا اتریں گے۔
Akhilesh Yadav, Anil Narendra, Daily Pratap, Mulayam Singh Yadav, Samajwadi Party, Uttar Pradesh, Vir Arjun

اور اب امریکی فوجی نے افغانستان میں کیا قتل عام



Published On 17 March 2012
انل نریندر
افغانستان میں لگتا ہے امریکی فوجی اپنا صبر وتحمل کھوتے جارہے ہیں۔ ان فوجیوں کو اب نہ تو ڈسپلن میں رہنے کی پرواہ ہے اور نہ ہی دنیا داری کی۔ کچھ ہی دن پہلے مقدس کتاب قرآن شریف کو جلانے کا واقعہ ہوا تھا اور اب بے قصور افغانیوں کے قتل عام کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار میں ایتوار کو سویرے ایک امریکی فوجی گہری نیند میں سو رہے لوگوں پر قیامت بن کر ٹوٹ پڑا۔ اس نے اندھا دھند فائرننگ کرکے القاضی گاؤں میں 16 لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا۔ قندھار کے گورنر کے ترجمان احمد جاوید فیصل کے مطابق یہ واردات صبح تین بجے ہوئی جب ایک امریکی فوجی نیٹو کے فوجی ٹھکانے سے باہر نکلا اور پاس کے گاؤں نجیبن اور القاضی میں گہری نیند سورہے افغانیوں پر اندھا دھند گولی چلانے لگا۔ واقعے میں 9 بچے اور 3 عورتوں سمیت 16 افراد کی موت ہوگئی۔ اس قتل عام سے ایک نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ امریکی صدر براک اوبامہ نے اپنے افغان ہم منصب حامد کرزئی کو ٹیلی فون کرکے قندھار کے اس واقعے کی تیزی سے جانچ کرانے کا وعدہ کیا ہے۔ امریکہ کے وزیر دفاع لیون پینیٹا نے کہا افغانستان میں16 شہریوں کا قتل کرنے والے فوجی کو اگر قصوروار پایا جاتا ہے تو اسے سزائے موت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ انہوں نے صاف کیا کہ اس فوجی نے اپنا جرم قبول کرلیا ہے۔ انہوں نے اسے ایک معمولی واقعہ قرار دیتے ہوئے کافی افسوس جتایا ہے۔ ابھی تک اس فوجی کا نام نہیں بتایا گیا ہے۔ اس کیمپ میں فوجیوں کے ذریعے تشدد کی پرانی تاریخ رہی ہے۔ پینیٹا نے کہا ''جنگ ایک جہنم ہے '' لیکن اس بات سے انکار کیا کہ اس طرح کے واقعے پچھلے دس سال سے رونما ہورہے ہیں۔ جنگ کی وجہ سے امریکی فوجیوں کا حوصلہ ٹوٹنے کا اشارہ ہے۔ ادھر افغان طالبان نے منگلوار کو دھمکی دی کہ اس واقعے کا بدلہ لینے کے لئے وہ امریکی فوجیوں کے سر قلم کردیں گے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک ای میل کے ذریعے سے اپنے پیغام میں کہا ہم امریکی جانوروں کو بتا دینا چاہتے ہیں مجاہدین ان سے بدلا لے کر رہیں گے۔ اللہ کے رحم و کرم سے ہم تمہارے ظالم فوجیوں کا سردھڑ سے الگ کردیں گے۔ 16 دیہاتیوں کے قتل پر افسوس جتائے گئے ایک افغان نمائندہ وفد جس میں کرزئی کا بھائی بھی شامل تھا، طالبان کے حملے کا شکار ہوگیا۔ نمائندہ وفد کی حفاظت کررہے ایک افغان فوجی کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔ حملے میں ایک اور فوجی وکیل زخمی ہوگیا۔ اس واقعے کا افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ اس طرح کے واقعہ سے امریکہ الٹا طالبان پر زور دے رہا ہے۔ قرآن پاک جلانے اور 16 بے قصوروں کے قتل سے اوبامہ انتظامیہ کی افغانستان سے 2014ء کے لئے بنائی گئی واپسی کی اسکیم مشکل میں پڑ جائے گی۔ امریکی فوجی اور انتظامی حکام کا خیال ہے کہ اس طرح کے واقعات طالبان کے اندر کٹر پسندی کو مضبوط کریں گے جو سکیورٹی فورس کے ساتھ بات چیت کی مخالفت کررہے ہیں، جو دیش چھوڑ رہے ہیں۔ قرآن پاک جلائے جانے کے بعد اب اس واقعے نے اوبامہ انتظامیہ کی ساری کوششوں پر پانی پھیردیا ہے۔ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
Afghanistan, America, American Army, Anil Narendra, Daily Pratap, Kiling of Innocent Afghan Citizen By American Soldiers, USA, Vir Arjun

15 مارچ 2012

مایاوتی اب آگے کیا کریں گی؟



Published On 15 March 2012
انل نریندر
بہوجن سماج پارٹی کی چیف و اترپردیش کی سابق وزیر اعلی مایاوتی کے مستقبل کو لیکر سبھی کو پریشانی تھی کہ اب آگے وہ کیا کریں گی؟ چناؤ میں کراری ہار کے بعد بہن جی کے سیاسی مستقبل میں بے یقینی ضرور پیدا ہوگئی تھی۔ فی الحال لگتا ہے کہ بہن جی مرکز کی سیاست کریں گی۔ انہوں نے راجیہ سبھا کے لئے پرچہ داخل کردیا ہے۔ اس سے پہلے پیر کو لکھنؤ میں ایک ایسا منظر سامنے آیا جس کا تصور کرنا بھی کچھ وقت پہلے تک ناممکن تھا۔ مایاوتی کے سامنے جب وہ وزیر اعلی تھیں کسی کی مجال تھی کہ برابر کی کرسی پر کوئی اور بیٹھ سکتا ہو ۔ چاہے وہ ایم پی ہو، یا پارٹی کا سینئر عہدیدار ہو یا ممبر اسمبلی ہو سبھی کو زمین پر بیٹھنا پڑتا تھا۔ مایاوتی اکیلی کرسی پر بیٹھتی تھیں۔ہار کے بعد پیر کو بسپا ممبران اسمبلی کی میٹنگ ہوئی تو راجیہ سبھا میں پارٹی کے امیدواروں کا انتخاب ہونا تھا۔ راجیہ سبھا کی 10 سیٹوں کے لئے پیر کو نامزدگی کا کام شروع ہوگیا ہے۔ بسپا کے ممبران اسمبلی کی تعداد کے حساب سے 2 سیٹیں بسپا جیت سکتی ہے۔ ایک سیٹ پر تو خود بہن جی کھڑی ہورہی ہیں دوسری پر وہ چاہتی تھیں کہ مایاوتی سرکار میں کیبنٹ سکریٹری ششانک شیکھر پرچہ بھریں ۔ لیکن ان کے نام پر بسپا ممبران اسمبلی نے اختلاف جتا دیا۔ کیونکہ مایاوتی سرکار میں وہ وزراء اور ممبران اسمبلی پر بھاری تھے۔
وزیر اعلی سے ملاقات سے لیکر ان کی سفارشوں پر عمل تبھی ہوتا تھا جب کیبنٹ سکریٹری اس پر اپنی حامی بھردیا کرتے تھے اور اپنے کو نظرانداز کرنے سے بسپا ممبران میں ناراضگی تھی۔ پیر کو جب راجیہ سبھا کے لئے امیدواروں پر اتفاق رائے بنانے کیلئے بسپا ہیڈ کوارٹر میں پارٹی ممبران اسمبلی کی میٹنگ بلائی تو انہوں نے ششانک شیکھر پر اختلاف پیش کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جس افسر نے گدی پر رہتے ہوئے ان لوگوں کی نہیں سنی اسے کیسے راجیہ سبھا کے لئے ووٹ دلوا سکتے ہیں۔ ممبران کے ذریعے بتائے گئے کاموں کو نظرانداز کرنے کے چلتے ہی وہ جنتا کے مسائل دور نہیں کرسکے۔ ناراض جنتا نے پارٹی امیدواروں کو اسمبلی چناؤ میں ہرادیا۔
ذرائع کا کہنا ہے بسپا چیف مایاوتی نے نیتاؤں کی اس ناراضگی کا نوٹس لیتے ہوئے دعوی کیا ۔ پارٹی کسی دھنا سیٹ یا افسر شاہ کو راجیہ سبھا بھیجنے کی پہل نہیں کرے گی بلکہ مسلم سماج یا پسماندہ طبقے کے کسی شخص کو راجیہ سبھا میں بھیجے گی۔ اس طرح منقاد علی کا فیصلہ ہوا۔ ہار سے پہلے کیا کوئی تصور کرسکتا تھا کہ بہن جی کی بات کی کھلی بغاوت ممکن ہے۔ مایاوتی نے مرکز کی سیاست کا فیصلہ اس لئے بھی کیا کہ انہیں لگتا ہے لوک سبھا کے وسط مدتی چناؤ ہونے والے ہیں۔ مایاوتی 2003ء میں اپنی سرکار کے زوال کے بعد راجیہ سبھا کی ممبر بنی تھیں کیونکہ ریاست میں اب سپا کی سرکار کی تشکیل 15 مارچ یعنی آج ہوجائے گی اور مایاوتی نے صاف کردیا ہے کہ ان کی پارٹی بلدیاتی چناؤ میں حصہ نہیں لے گی۔ ایسے میں بسپا کے لئے ریاست میں سیاسی سرگرمیوں کی اب زیادہ گنجائش نہیں بچی ہے۔ سپا کے راجیہ سبھا ممبران کی رداد ابھی 5 ہے اور بڑھ کر 10 ہوجائے گی۔ بسپا آنے والی اپریل میں ودھان پریشد کے چناؤ میں بھی اپنے ممبر اتارے گی۔ ودھان پریشد کی 100 سیٹوں کی کل تعداد میں بسپا کے 65 ممبر ہیں۔ دیکھیں دہلی میں مایاوتی کیا گل کھلاتی ہیں۔
Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Daily Pratap, Mayawati, Samajwadi Party, Vir Arjun

وجے بہوگنا نے وزیر اعلی کے عہدے کا حلف تو لے لیا لیکن آگے کیا ہوگا؟



Published On 15 March 2012
انل نریندر
کافی جدوجہد کے بعد منگل کے روز ممبر پارلیمنٹ وجے بہوگنا نے دہرہ دون میں بطور اتراکھنڈ کے وزیر اعلی حلف لے لیا۔ دہرہ دون کے پریڈ گراؤنڈ میں جب بہوگنا وزیر اعلی کا حلف لے رہے تھے تو وہاں کانگریس کے محض15 ممبران اسمبلی موجود تھے۔ وزیر اعلی نہ بنائے جانے پر اتراکھنڈ کانگریس میں بغاوت ہوگئی ہے۔ اترپردیش کے طاقتور لیڈر ہریش راوت سخت ناراض ہیں ۔ انہوں نے پارلیمنٹ سے اپنا استعفیٰ دے دیا ہے۔ الموڑہ سے چنے گئے ایم پی اور ہریش راوت حمایتی پردیپ ٹمٹا نے پریس کانفرنس کی اور کہا کہ وجے بہوگنا انہیں قطعی قبول نہیں ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ بھلے ہی بہوگنا وزیر اعلی بن گئے ہیں لیکن اسمبلی کا منہ نہیں دیکھ پائیں گے۔ اسی وجہ سے بہوگنا نے اکیلے حلف لیا اور کسی اور وزیر کو حلف نہیں دلایا جاسکا۔ کہا تو یہ جارہا ہے کہ ہریش راوت نے پیر کی رات استعفیٰ دینے سے پہلے بی جے پی صدر نتن گڈکری سے ملاقات کی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ انہوں نے بھاجپا سے کہا کہ وہ ان کے ساتھ آسکتے ہیں بشرطیکہ بھاجپا ان کو وزیر اعلی بنائے۔بھاجپا اس حکومت کو باہر سے حمایت دے سکتی ہے۔ غور طلب ہے کہ اپنی دعویداری کمزور پڑنے کے بعد ہرک سنگھ راوت نے بھی ہریش راوت کو حمایت دے دی تھی۔ ہرک سنگھ راوت نے بغاوتی انداز میں کھلے عام کہا کہ اتراکھنڈ میں جو کچھ ہورہا ہے وہ غلط ہے۔ ایسے حالات میں سرکار بن بھی جاتی ہے تو زیادہ دن نہیں چلے گی۔ وزیر اعلی نہ بنائے جانے سے ناراض ہریش راوت نے صبح سے ہی پارلیمانی وزیر مملکت کے عہدے سے اپنا استعفیٰ وزیر اعظم کو بھیج دیا تھا۔انہوں نے کانگریس صدر کو بھی خط بھیجا ہے خط میں انہوں نے کہا کہ ان کے حمایتیوں کے جذبات کا احترام کرنا چاہئے۔ اس سے پہلے 2002ء میں بھی راوت وزیر اعلی کے طاقتور دعویدار تھے لیکن عین وقت پر اعلی کمان نے نارائن دت تیواری کو وزیر اعلی بنا دیا تھا۔ کانگریس اعلی کمان کو شاید یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ وزیر اعلی کے انتخاب پر پارٹی کے ممبران اسمبلی بغاوت کرسکتے ہیں۔ اسی لئے بغیر وزیر اعلی بنے ہی ممبران کی اکثریت کا دعوی گورنر کے سامنے پیش کردیا۔ اکثریت تو ثابت کردی تھی گورنر نے تب کہا کہ آپ کے پاس نمبر تو ہے آپ پہلے نیتا چنے جائیں، ویسے شری وجے بہوگنا پڑھے لکھے قابل شخص لگتے ہیں۔ 65 سالہ وجے سابق یوپی کے وزیر اعلی ہیموتی نندن بہوگنا کے بیٹے ہیں اور یوپی کانگریس نیتا ریتا بہوگنا کے بھائی ہیں۔ پہاڑی علاقوں میں بہوگنا خاندان کی اچھی پکڑ ہے۔ وجے ایک سابق ہائی کورٹ جج ہے اور ان کی ساکھ صاف ستھری ہے۔ ان کا انتخاب اس لئے بھی ہوا ان سے پہلے بھاجپا کے وزیر اعلی بھون چندر کھنڈوی کی ساکھ بھی صاف ستھری تھی۔ کانگریس چاہتی تھی کہ صاف ستھری ساکھ والا ہے شخص کھنڈوری کا جانشین بنے۔ گولف کے شوقین بہوگنا نے 2007ء میں بھاجپا کی آندھی کے وقت بھی اپنی پارلیمنٹ کی سیٹ نکال لی تھی۔ اس اسمبلی چناؤ میں بھی وجے کانگریس چناؤ کمیٹی کے چیئرمین تھے۔ انہوں نے کافی محنت کی تھی لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہریش راوت اینڈ کمپنی کو اعلی کمان منا پائے گا؟ منا بھی لیا تو یہ حکومت کتنے دن چلے گی اور مضبوط رہے گی؟ ابھی تو وزرا کے انتخاب اور محکموں کے انتخاب پر خانہ جنگی شروع ہوگی۔
بھاجپا کو تو اپوزیشن میں ہی بیٹھنا چاہئے۔ جن آدیش تو آخر ان کے خلاف ہی تھی ۔جوڑ توڑ کر سرکار بنانے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔اکثریت سے چار سیٹیں کم لاکر اتراکھنڈ میں کسی طرح سرکار بنانے کی پوزیشن میں پہنچی کانگریس کے ہریش راوت کی ناراضگی اچھا اشارہ نہیں ہے۔ بھلے ہی پارٹی راوت کو منا لے یا فی الحال ان کی ناراضگی کو دبا دے لیکن ان کے مینڈیڈ کو نظرانداز کرنا کانگریس کا قدم دوراندیشی نہیں مانا جاسکتا۔ ویسے بھی جب نمبروں کا کھیل صحیح نہ ہو تو کانگریس کو اپنا سب سے مضبوط گھوڑا آگے کرنا چاہئے تھا۔ راوت صرف وزیر اعلی کے عہدے کے دعویدار نہیں تھے بلکہ سب سے زیادہ ممبران اسمبلی بھی ان کے ہی ساتھ ہیں۔ ان کی تعداد کا اندازہ 17 سے20 لگایا جاسکتا ہے۔ معاملے کے پیش نظر پورے حالات ریاست کی کانگریس حکومت کے استحکام کو لیکر سوال کھڑا کرنے والے ہیں۔اسے دیکھتے ہی ریاست میں اپنی ہار قبول کرچکی بھاجپا کو سنجیونی مل گئی ہے۔ بھاجپا نیتا اب یہ غور کرنے لگے ہیں کہ آخر کار اتراکھنڈ میں بھاجپا کی ہی سرکار بنے گی۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Harish Rawat, Uttara Khand, Vijay Bahuguna, Vir Arjun

14 مارچ 2012

موہالی سیمی فائنل فکس تھا: اخبار کاسنسنی خیز خلاصہ



Published On 14 March 2012
انل نریندر
کرکٹ میچ میں فکسنگ کا جن بوتل سے باہر آگیا ہے۔ انگلینڈ کے مشہور اخبار ' دی سنڈے ٹائمس' نے انکشاف کیا ہے کہ 2011ء ورلڈ کپ موہالی میں کھیلا گیا بھارت ۔ پاک سے سیمی فائنل فکس تھا۔برطانوی اخبار نے دہلی کے ایک سٹوریہ سے بات چیت اور اپنی جانچ کی بنیاد پر دعوی کیا ہے۔ دی سنڈے ٹائمس بہت ہی مقبول اخبار ہے جس کے بھروسے پر کم ہی شبہ ہوتا ہے۔ ایسی سنسنی خیز رپورٹ وہ بغیر ٹھونس ثبوت اور جانچ کے نہیں شائع کرسکتا۔ضرور انہوں نے اپنے ثبوت اور ان کے بارے میں تصدیق کی ہوگی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے سٹے بازوں نے کھلاڑیوں کو لاکھوں روپے کی پیشکش کی تھی۔ فکسنگ کے اس بھنور میں ایک بالی ووڈ اداکارہ کے شامل ہونے کا دعوی کیا گیا ہے۔ میچ پچھلے سال30 مارچ کو موہالی میں کھیلا گیا تھا اور اس میچ میں بھارت نے پاکستان کو ہرایا تھا۔ سٹے بازوں کا دعوی ہے کہ وہ انگلش کاؤنٹی انٹرنیشنل ٹی ٹوئنٹی ٹیسٹ میچ آئی پی ایل اور جہاں تک بنگلہ دیش پریمئر لیگ تک کے مقابلے فکس کرتے ہیں۔ اخبار نے فکسنگ سے متعلق سبھی اطلاعات اور ثبوت آئی سی سی کو سونپ دئے ہیں۔ اس کے ترجمان نے اس پر کہا کہ ہم اطلاعات فراہم کرانے کے لئے اخبار کے شکر گذار ہیں۔ ہم ان الزامات کی جانچ کریں گے۔ جائز ناجائز بازاروں میں کرکٹ میں سٹے بازی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ جس طرح ہر میچ پر لاکھوں ڈالر سٹے پر لگتے ہیں اس سے سٹے بازوں کو میچ سے متاثر کرنے کے اندیشے سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ برطانیہ کے اخباروں نے پہلے بھی میچ فکسنگ، اسپاٹ فکسنگ کے دعوے کئے ہیں۔ 2010ء میں نیوز آف دی ورلڈ نے تین پاکستانیوں سلمان بھٹ، محمد آصف اور محمد عامر پراسپاٹ فکسنگ کے الزام لگائے۔ جانچ کے بعدتینوں کو لندن کی ایک عدالت نے قصوروار قراردیا اور جیل بھیجا۔ ایک دوسرے معاملے میں پچھلے مہینے ایک سابق گیند باز مارون ویسٹ فیلڈ کو اسپاٹ فکسنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ موہالی کے میچ میں شبے کی کئی وجوہات نظر آتی ہیں۔ سچن تندولکر(85) رن کے چار کیچ چھوڑنا۔ مہیندر دھونی (85) رن کا کیچ بھی چھٹا تھا۔ پاک گیند باز عمر گل کی انتہائی خراب کارکردگی، مصباح الحق کے 56 تن76 گیند کی دھیمی بلے بازی اور پاکستانی کپتان شاہد آفریدی کا تیسرا پاور پلے دیر سے لینا۔ آخر بالی ووڈ حسینہ کون ہے جسے بنیادبنا کر ورلڈ کپ 2011ء کا بھارت۔ پاک میچ فکس کیا گیا تھا۔ پتہ چلا ہے کہ بالی ووڈ میں ایک فلم کرچکی یہ حسینہ اور کچھ ماڈلنگ بھی کرتی یہ اداکار ہ دہلی کی ہے۔ یہ ملان اور پیریس وغیرہ میں ریمپ واک کرچکی ہے۔ سنڈے ٹائمس نے اس کا چہرہ چھپاتے ہوئے اس کی بکنی میں ایک فوٹو بھی چھاپی ہے۔ اخبار کے مطابق اس نے دلالوں کے اشارے پر کھلاڑیوں سے رابطہ قائم کیا اور انہیں اپنے جال میں پھنسا لیا۔ اخبار کے مطابق پیسہ اور حسن کا جال ہی وہ نیٹ ورک ہیں جس کے ذریعے سے دلال یہ سب کرتے ہیں۔ اخبار نے دلال کے حوالے سے دعوی کیا ہے آخر سچن کے چار کیچ کیوں چھوڑے گئے؟ کیوں عمرگل نے آٹھ ہی اوور میں68 رن دئے؟اس الزام میں کچھ تو دم ہے کے کچھ کھلاڑی پیسے کے لئے ایمانداری کا سودہ کرلیتے ہیں اور کچھ چھوٹی موٹی اطلاعات جیسے پچ کا مزاج کیسا رہے گا، موسم کیسا رہے گا، ٹاس کون جیتے گا وغیرہ اطلاعات لینے کے لئے پیسہ لیتے ہیں لیکن ان سے میچ کے نتیجوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ میچ کے نتیجے پر سیدھے سیدھے تب اثر پڑتا ہے جب ایک یا کئی کھلاڑی مل کر سٹے بازوں کا ساتھ دیں۔ میچ فکس کرنے یا دلال کے مطابق نتیجے نکالنے کے لئے یہ کھلاڑی دھیمی رفتار سے بیٹنگ کرسکتے ہیں، کیچ ڈراپ کرسکتے ہیں، ڈھیلی گیندے پھینک کر زیادہ رن دے سکتے ہیں، اب یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ کیا پاکستانی (یا ہندوستانی) کھلاڑی کچھ پیسوں کے لئے ایسے ہی ہائے وولٹیج میچ فکس کرسکتے ہیں؟ جواب نہیں بھی ہوسکتا ہے،کیونکہ ٹورنامنٹ جیتنے پر انہیں کہیں زیادہ رقم ملتی جو دلالوں نے انہیں پیشکش کی تھی۔بلے بازی کو دھیمی رفتار سے رن بنانے کے لئے 34.30 لاکھ روپے دئے گئے جبکہ گیند بازوں کو زیادہ رن لٹانے کے لئے39 لاکھ روپے دئے گئے۔ 5 کروڑ 54 لاکھ روپے کی بھاری بھرکم رقم اس کھلاڑی یا افسر کو دینے کی پیشکش کی گئی جو میچ کے نتیجے کی گارنٹی دے سکے۔ اس میچ میں شبے کی گنجائش اس لئے بھی پیدا ہوئی ہے کیونکہ شعیب اختر کے کیریئر کا یہ آخری میچ تھا لیکن کپتان شاہد آفریدی نے مقابلے سے کچھ دیر پہلے انہیں باہر بٹھا دیا۔ پاکستان کی جانب سے چار کھلاڑی کامران اکمل،عمر اکمل،وہاب ریاض اور یونس خان کھیلے جن پر پہلے ہی سے فکسنگ کے الزام تھے۔ میچ سے کچھ وقت پہلے ہی پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے پاکستان ٹیم کو فکسنگ کی وارننگ دی تھی۔ موہالی میں کھیلے گئے اس سیمی فائنل میں بھارت نے 260/9 اور پاکستان 231/10 نتیجہ بھارت29 رن سے جیتا تھا۔
Anil Ambani, Daily Pratap, Match Fixing, Sunday TImes, Vir Arjun

پھر شروع ہوئی تیسرے ،چوتھے فرنٹ کی آہٹ



Published On 14 March 2012
انل نریندر
اترپردیش میں سماجوادی پارٹی کی سرکار بننے سے مرکز میں نئی ہلچل شروع ہوگئی ہے۔ ملائم سنگھ یادو نے ایک جھٹکے میں نوجوان اکھلیش کو نریندر مودی، نتیش کمار، ممتا بنرجی، جے للتا، پرکاش سنگھ بادل، بھوپندر سنگھ ہڈا، عمر عبداللہ، شیلا دیکشت، نوین پٹنائک، شیو راج سنگھ چوہان، رمن سنگھ، پرتھوی راج چوہان جیسے سینئر وزرائے اعلی کو نہ صرف برابر بلکہ اترپردیش جیسے دیش کے سب سے بڑے صوبے کا مکھیہ بنا کر ان سے آگے کھڑا کردیا ہے۔ ہمیشہ سیاست میں خطرہ مول لینے والے ملائم نے اکھلیش کو کمان سونپ کر سب سے پہلے اپنے خاندان میں وراثت کے سوال کا حل تو نکال لیا ہے ساتھ ساتھ انہوں نے سماجوادی پارٹی کو بھی اپنا مستقبل کا نیتا دے دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اب ملائم سنگھ کیا کریں گے؟ ظاہر ہے کہ وہ اب مرکز کی سیاست کریں گے۔ اس کی آہٹ بھی شروع ہوگئی ہے اب تھرڈ فرنٹ ،چوتھے فرنٹ کی بحث شروع ہوگئی ہے۔ ترنمول کانگریس کی صدر ممتا کے ذریعے چوتھا مورچہ بنانے میں سرگرمیں دکھانے سے لیفٹ پارٹیوں کی تشویش بڑھنا فطری ہی ہے۔چناؤ میں کانگریس اور بھاجپا کی ناکامی کے بعد لیفٹ پارٹیاں تھرڈ فرنٹ کو ایک بار پھر سنجیونی دینے میں لگ گئی ہیں۔ سی پی آئی کے سکریٹری جنرل اے بی بردھن نے کہا کہ وقت آگیا ہے اب تیسرے مورچے کو ایک بار پھر سرگرم کیا جائے۔ انہوں نے کہا بھاجپا کو گووا اور کانگریس کو منی پور میں کامیابی حاصل ہوئی لیکن بھاجپا نے یوپی میں منہ کی کھائی۔ پنجاب میں7 سیٹیں پچھلے کے مقابلے کم ملیں۔ اتراکھنڈ میں دوسرے نمبر پر پہنچ گئی۔ اسی طرح کانگریس یوپی میں چوتھے نمبر پر رہی۔ پنجاب میں اقتدار کی واپسی نہیں کرپائی۔ اس لئے اب لوک سبھا چناؤ میں ان دونوں پارٹیوں کا دبدبہ مرکزی سیاست میں کم ہوگا۔ بردھن نے کہا یہ صحیح وقت ہے کہ2014ء کے عام چناؤ کے لئے ابھی سے تھرڈ فرنٹ کو سرگرم کیا جائے۔ دراصل لیفٹ پارٹیوں کو ممتا کی بڑھتی سرگرمی ستانے لگی ہے۔
ممتا اڑیسہ ، بہار، پنجاب، تاملناڈو کے وزرائے اعلی سے رابطہ قائم کرکے چوتھے مورچے کو قائم کرنے کی تیاری میں لگی ہیں۔ اسی مقصد سے ممتا نے کہا کہ وہ پنجاب اور یوپی کے وزرائے اعلی کی حلف برداری تقریب میں حصہ لیں گی لیکن گھبرائی کانگریس دھمکیوں پر اترآئی ہے۔ کانگریس کے ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے ممتا کو وارننگ تک دے ڈالی کہ وہ لکشمن ریکھا پار نہ کریں اور اپنی حد میں رہیں۔ کانگریس کی سختی سے ممتا پر اثر بھی فی الحال نظر آرہا ہے کیونکہ ممتا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اب وہ پنجاب اور یوپی کے وزراء اعلی کی حلف برداری میں نہیں جائیں گی۔ کانگریس ۔بھاجپا کو چھوڑ کر باقی سبھی پارٹیوں کو متحد کرایک تیسرا ، چوتھا مورچہ بنانے کی ایک بار پھر سرگرمی دکھائی پڑنے لگی ہے۔ فی الحال کانگریس اتحاد نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں اس کے پاس کافی نمبر ہیں اور انہیں کسی کی پریشانی نہیں۔ بجٹ اجلاس شروع ہوگیا ہے دیکھیں کیا رنگ کھلاتا ہے یہ بجٹ اجلاس۔ تیسرے ،چوتھے مورچے کی کوشش رنگ لائے گی یہ آگے پتہ چلے گا؟
Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Mamta Banerjee, Third Front, Uttar Pradesh, Vir Arjun

13 مارچ 2012

اسرائیلی سفارتکار پر حملے میں فری لانس صحافی کی گرفتاری



Published On 13 March 2012
انل نریندر
13 فروری کو نئی دہلی کے انتہائی سکیورٹی والیعلاقوں میں سے اورنگ زیب روڈ پر واقع اسرائیلی خاتون سفارتکار ٹال یوہوشوا کی کار کے پچھلے حصے میں ایک موٹر سائیکل سوار نے میگنیٹک ڈوائز بریکٹ میں اسٹکی بم چپکا دیا تھا۔ اس کے فوراً بعد ہوئے دھماکے سے کار میں آگ لگ گئی تھی۔ خاتون سفارتکار و کارڈرائیور منوج زخمی ہوگئے تھے۔ تین دیگر گاڑیاں میں اس کی ضد میں آئی تھیں۔ دہلی پولیس نے اس دھماکے کے سلسلے میں ایران سے وابستہ ایک شخص کو گرفتار کیا ہے۔اس شخص نے اپنے آپ کو ایک نیوز ایجنسی کا صحافی بتایا ہے۔ اس کا نام سید محمد کاظمی 50 برس ہے اور وہ ایرانی نیوز ایجنسی کے لئے کام کرتا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے سید محمد کاظمی کی گرفتاری کے سراغ بینکاک سے ملے تھے۔ خیال رہے جس دن دہلی میں کار بم لگایا گیا تھا ٹھیک اسی دن بینکاک میں بھی ایک دھماکہ کرنے کی ناکام کوشش کی گئی تھی۔ دہلی میں ہوئے دھماکے کے تار نہ صرف بینکاک سے جڑے ہیں بلکہ جارجیہ سے بھی جڑے ہیں۔ دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ سفارتکار کی کار پر بم دھماکے کی پہلی کامیابی بھی اسی کا نتیجہ ہے ۔ فی الحال پولیس اس حملے کے پیچھے شامل تنظیم کا نام نہیں بتا رہی ہے لیکن کہیں نہ کہیں اس حملے کے پیچھے ایرانی تنظیم کنڈس (کیو یو ڈی ایس) کے ہاتھ ہونے کا اندیشہ ضرور ظاہر کیا جارہا ہے۔ دراصل بینکاک میں ہوئے دھماکے کے بعد وہاں سے کچھ مشتبہ ایرانی فرار ہوگئے تھے جن میں ایک خاتون بھی شامل تھی۔ بینکاک پولیس کو اس خاتون کے گھر کی تلاشی میں ایک ٹیلی فون ڈائری ملی جس میں کاظمی کا موبائل نمبر تھا۔ کاظمی کے خلاف کئی اہم ثبوت ملے ہیں۔ اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ حملوں کے پیچھے ایرانی فوج کی اسپیشل فورس ہے جسے خاص طور سے ایران۔ عراق جنگ کے وقت بنایا گیا تھا۔ محمد کاظمی کو اطلاعات اکھٹی کرنے کے لئے ڈالر میں ادائیگی کی گئی تھی۔ دھماکے میں جس موٹر سائیکل کا استعمال کیا گیا تھا وہ قرولباغ علاقے سے کرائے پر لی گئی تھی۔ حملہ آور بیرون ملک سے آکر پہاڑ گنج کے ایک ہوٹل میں ٹھہرے تھے۔ بتایا جارہا ہے کہ اسٹیکی بم اسی ہوٹل میں تیار کیا گیا۔ پورے معاملے کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ غیر ملکی بمبار جس نے اورنگ زیب روڈ میں کار پر بم لگایا تھا وہ وزارت داخلہ کی لاپروائی کے سبب اسی دن اندرا گاندھی ہوائی اڈے سے جنوبی ایشیا کی کسی ملک کی فلائٹ میں سوار ہوکر بھاگ گیا۔ تین بجے کے قریب دوپہر کو بم لگانے کے آٹھ گھنٹے بعد وہ ہندوستان سے نکل گیا۔ وزارت داخلہ یا کسی اور سرکاری ایجنسی سے ہوائی اڈے پر امیگریشن کو مطلع نہیں کیا کہ مشتبہ افراد کو روکا جائے، پوچھ تاچھ کی جائے۔ وزارت داخلہ کی یہ چوک اس لئے بھی تشویش کا باعث ہے کہ بم دھماکہ ہونے کے فوراً بعد اسرائیل نے کہہ دیا تھا کہ حملے کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے۔ امیگریشن میں ہر ایرانی کی روک کر تلاشی لی جانی چاہئے تھی، جو نہیں لی گئی اور حملہ آور بھاگنے میں کامیاب رہا۔ اس معاملے میں گرفتار محمد احمد کاظمی کے رشتے داروں نے دہلی کے پریس کلب میں پریس کانفرنس کرکے کہا ہے کہ دہلی پولیس کے ذریعے برآمد اسکوٹی ان کے ایک رشتے دار کی ہے۔ قریب دو سال سے وہ ان کے گھر پر کھڑی تھی۔ خاندان کا کوئی ممبر اس اسکوٹی کا استعمال نہیں کرتا ۔ محمد کاظمی کے دوسرے بیٹے شوزیب کاظمی نے گرفتارمیمو پر دستخط کے لئے پولیس پر دباؤ بنانے کا الزام لگایا ہے۔ اپنے گھر پر کسی ایرانی کے آکر ٹھہرنے سے بھی انکار کیا۔ رشتے داروں کا یہ بھی کہنا تھا کہ کربلا معاملے میں ان کے والد نے سرگرم رول نبھایا تھا۔ بی کے دت کالونی میں ان کا اکیلا مسلم خاندان رہتا ہے۔ پیشے سے صحافی محمد احمد کاظمی بنیادی طور سے میرٹھ کا باشندہ ہے۔ سینئر صحافی سعید نقوی نے محمد کاظمی کی گرفتاری کو لیکر دہلی پولیس کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے امریکہ۔ اسرائیل کے اشارے پر صحافی کو اسرائیلی سفارتخانے کار دھماکے میں زبردستی گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس کی بنیاد بھی پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا امریکہ کے اشارے پر ارب ملکو ں میں بغاوت ہورہی ہے اس کی سچائی کو سید محمد کاظمی نے دنیا کے سامنے رکھا اور اسی وجہ سے امریکہ اسرائیل کے دباؤ میں دہلی پولیس نے انہیں گرفتار کیا ہے۔ دہلی پولیس کو اپنا کیس مضبوط کرلینا چاہئے کیونکہ اس کیس پر نہ صرف دیش کے اندر ہی بلکہ دنیا دیکھ رہی ہے۔ اس معاملے میں دہلی پولیس کا وقار ایک بار پھر داؤ پر لگا ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Delhi, delhi Police, Iran, Israil, Mohd. Ahmed Kazmi, Terrorist, Vir Arjun

ایک اور ایماندار افسر کھدان مافیا کا شکار بنا



Published On 13 March 2012
انل نریندر
مرینہ ضلع میں ایک نوجوان آئی پی ایس افسر نریندر کمار کے بے رحمانہ قتل سے ایک بار پھر واضح ہوگیا کہ غیر قانونی کھدائی مافیہ سے ٹکرانا کتنا خطرے کا کام ہے۔ مافیہ سے ٹکرانے کی قیمت نریندر کمار جیسے ایماندار افسر کو اپنی جان گنوا کر چکانی پڑی ہے۔ مدھیہ پردیش کے بانمور میں جانباز پولیس افسر نریندر کمار سنگھ کے قتل سے وابستہ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ کرپٹ اور مجرمانہ عناصر کی سسٹم کے اندر کتنی گہری گھس پیٹھ ہے کہ وہ اپنا مفاد پورا کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ اس نوجوان افسر کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نے اس علاقے میں ہورہی اندھا دھند غیر قانونی کھدائی پر اعتراض کیا تھامگر بلوا پتھر سے لدی ایک ٹریکٹر ٹرالی کے ڈرائیور کو یہ ناگوار گذرااور اس نے انہیں روندھ ڈالا۔ وہ بھی پولیس چوکی سے محض 500 میٹر کی دوری پر۔ 2009ء بیچ کے آئی پی ایس افسر نریندر کمار سنگھ کی پوسٹنگ 16 جنوری کو مرینا کے بانمورمیں ایس ڈی او پی کی شکل میں ان کی تقرری ہوئی تھی۔ انہوں نے ایک مہینے میں ناجائز کھدائی کے 20 سے زیادہ معاملے درج کئے تھے۔ یہ کھدائی مافیا کی آنکھوں میں کرکری بن گئے تھے۔ اسی وجہ سے قتل کی سازش کی قیاس آرائیاں بھی لگائی جارہی ہیں۔ نریندر کمار جمعرات کو سرکاری جیپ میں گشت پر نکلے تھے۔ انہوں نے بولڈروں سے بھرا ایک ٹریکٹر اے بی روڈ پر دیکھا اس کا پیچھا کیا۔ ان کے کہنے پر ڈرائیور منوج گرجر نے ٹریکٹر روکا جیسے ہی نریندر ٹریکٹر کے پاس پہنچے ڈرائیور نے ٹریکٹر اسٹارٹ کرکے آگے دوڑا دیا۔ نریندر نے کسی طرح ٹریکٹر پر قبضہ جما لیا۔ منوج نے گاڑی کو کچے راستے پر اتاردیا۔ نریندر جھٹکا لگ کے نیچے گر پڑے اور پہئے کے نیچے آگئے اور کچھ دور جاکر ٹرالی بھی پلٹ گئی۔ شدید زخمی نریندر کو گوالیار کے ہسپتال لے جایا گیا جہاں انہیں مردہ قراردے دیا۔ نریندر کا نام اس فہرست میں ایک اور نام ہے جنہوں نے اپنی فرض کی ادائیگی کو دلیری سے انجام دیا لیکن سسٹم اور مافیا کے گٹھ جوڑ کے آگے وہ بھی شہید ہوگئے بدقسمتی سے پچھلے مہینوں میں ایسے درجنوں معاملے سامنے آئے ہیں جن میں سینئر سے اور کلرک کرمچاری کے یہاں انکم ٹیکس چھاپے میں کروڑوں روپے کی ناجائز املاک کر پردہ فاش ہوا ہے وہیں ایماندار سرکاری ملازمین کی پراسرار موتیں ہورہی ہیں۔ اس سب کی گھناؤنے مثال تو اترپردیش کا این ایچ آر ایم گھوٹالہ ہے جس میں اب تک 9 افسر کرمچاری کی جانیں جاچکی ہیں۔ 2003 ء میں بہار میں انجینئر ستیندر دوبے کے قتل سے شروع ہوا یہ سلسلہ آئی پی ایس افسر نریندر کمار تک جڑ گیا ہے۔ اسی دوران کرپٹ مشینری کی پول کھولنے والے کئی آر ٹی آئی ورکروں کے بھی قتل سے صاف ہے کہ کرپشن کے خلاف لوہا لینا مسلسل مشکل ہوتا جارہا ہے۔
شیوراج سنگھ چوہان بھلے ہی کسی سازش سے انکار کررہی ہے مگر جیسا کہ متوفی افسر کے والد نے الزام لگایا ہے کہ انہیں مقامی سطح پر پولیس اور دیگر محکموں کی مدد نہیں مل رہی تھی حال ہی میں نریندر سنگھ کی حاملہ آئی پی ایس بیوی کا تبادلہ بھی سیاسی دباؤ میں کیا گیا تھا اس لئے بھی تشویش کی بات ہے کیونکہ کھدائی مافیا نے جس طرح سے اپنا جال بچھایا ہے اس کا پتہ لگانا کسی بھی افسر کے لئے بہت مشکل ہے۔ اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ سیاسی سرپرستی کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔ مدھیہ پردیش سرکار آج کٹہرے میں کھڑی ہے ۔ جوڈیشیل انکوائری تو ٹھیک ہے لیکن ایماندار افسروں کی سلامتی کی ذمہ داری آخر کس کی ہے۔ کتنے اور نریندر سنگھ کی قربانی دینی پڑے گی؟
Anil Narendra, Corruption, Daily Pratap, IPS Officer Killing, Madhya Pradesh, Vir Arjun

11 مارچ 2012

پہلے سے ہی لاچار یوپی اے سرکار کیلئے چنوتیاں منہ پھاڑے کھڑی ہیں



Published On 11 March 2012
انل نریندر
یوپی اے کی سرکار کی میعاد 2014ء تک ہے۔ اب سے عام چناؤ کا وقت منموہن سنگھ حکومت کے لئے کانٹوں بھرا ہوگا۔ اترپردیش اسمبلی چناؤ نتائج نے یوپی اے حکومت کے لئے مشکلیں اور بڑھا دی ہیں۔ پچھلے کچھ دنوں سے تقریباً لاچار منموہن سرکار اگلے دو سال کس طرح سے طے کرے گی یہ کہنا مشکل ہے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ کوئی بھی سرکار اپنی میعاد کے آخری دو برسوں میں پوری طاقت جھونک دیتی ہے اور عوامی مفاد کے قدم اٹھاتی ہے تاکہ پچھلے برسوں کی عوام کو درپیش تکلیفیں بھول جائیں لیکن اس حکومت کے لئے اب زیادہ عوامی مفادی قدم اٹھانا بھی مشکل ہوجائے گا کیونکہ وہ اب لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں اپنی منمانی اتنی آسانی سے نہیں کر سکے گی۔ وہ اہم بل نہیں لا سکتی کیونکہ دونوں ایوان کی پوزیشن پہلے سے بھی کمزور ہوجائے گی۔ ایک طرح سے یہ کہیں کہ یوپی اے سرکار پر ضابطہ لاگو ہوگیا ہے۔ یوپی نتائج سے صاف ہے کہ علاقائی پارٹیاں مضبوط ہورہی ہیں اور مرکز کمزور۔ ایسے میں کانگریس اکثریت والی یوپی اے کے سامنے کئی چیلنج کھڑے ہوگئے ہیں۔ اس وقت منموہن سرکار کے سامنے کم سے کم پانچ چیلنج ہیں جن پر عبور کرپانا اس کے لئے ٹیڑھی کھیر ثابت ہوگا۔ بہار، مغربی بنگال، تاملناڈو، اترپردیش، گووا، مہاراشٹر ہر ریاست میں کانگریس کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے۔ آنے والی جولائی میں صدارتی چناؤ ہونا ہے۔ علاقائی پارٹیوں کے مضبوط ہونے کے بعد اب کانگریس کے لئے اپنی پسند کا صدر چننا اور اس کو منتخب کروانا آسان نہیں ہوگا۔الیکشن منڈل اور پانچ ریاستوں کے ممبران کے ووٹوں کو جوڑ کر صدارتی چناؤ کے لئے طاقت بنتی ہے۔ یوپی اے میں بھاری کامیابی کے بعد سماجوادی پارٹی کے 83824 ووٹ ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ ممتا کے 54640 ووٹ ، جے للتا کے 35392 ووٹ کی طاقت کانگریس کے خلاف متحد ہوگی۔ یہ صدارتی چناؤ کے لئے ضروری کچھ ووٹوں کا 16 فیصد ہے اس لئے کانگریس کو ایسا امیدوار لانا ہوگا جو بی جے پی سمیت سبھی علاقائی پارٹیوں کو منظور ہو۔ مارچ میں ہونے والے نائب صدر کاچناؤکانگریس کے لئے پہلی چنوتی ہوگی۔ یوپی اے کے سامنے پارلیمنٹ میں ایف بی آئی غذائی سکیورٹی بل جیسے درجنوں بل پاس کرانے کی چنوتی اب پہلے سے بھی زیادہ ہوگئی ہے۔ جوڑ توڑ کے سہارے سرکار لوک سبھا میں بیشک اہم بل پاس کروالے لیکن راجیہ سبھا میں شاید اتنا آسان نہ ہو۔ راجیہ سبھا میں تو ویسے ہی کانگریس اقلیت میں ہے اور اب اپوزیشن اور زیادہ مضبوط ہوجائے گی کیونکہ اسی ماہ راجیہ سبھا کے 10 ممبران کا چناؤ ہونے جارہا ہے۔ سپا کی بھاری کامیابی کے بعد ان کے پانچ چھ نئے ممبر آسکتے ہیں۔ ایسے میں سپا جیسی علاقائی پارٹیوں کا دبدبہ بڑھ جاتا ہے۔ کوئی بھی بل پاس کرانے کے لئے یوپی اے کو ملائم ، ممتا سمیت بھاجپا اور دیگر علاقائی پارٹیوں کی حمایت اور تجاویز لینی پڑیں گی۔ دیوالیہ ہونے کے دہانے پر کھڑا دیش منموہن سرکار کو نقصاندہ اقتصادی ترجیحات سے لڑ رہا ہے۔ اقتصادی خسارے کو کم کرنے کے لئے سخت بجٹ لانا اور پاس کروانا پرنب مکھرجی جیسے سلجھے لیڈر کے لئے بھی اب آسان نہیں ہوگا۔ پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس 12 مارچ سے شروع ہورہا ہے۔ اپوزیشن کے حملوں کے ساتھ ترنمول کانگریس سے چل رہی ان بن کے درمیان سرکار کو بجٹ پاس کرانا ہے۔ مہنگائی سے لڑتی جنتا پر بجٹ میں کسی بھی طرح کے سخت قدم تھونپنے کی بھاجپا سمیت یوپی اے کی تمام اتحادی پارٹیاں مخالفت کریں گی۔ نتیجہ آنے سے ٹھیک پہلے سی این جی کی قیمت بڑھا دی گئی ہے۔ پیٹرول کے دام بھی بڑھانے پر غور و خوص جاری ہے ایسے میں منموہن سرکار کے لئے اپنی عوامی مفاد کی اسکیموں کو پار لگانے کے لئے مزید بوجھ ڈالنا اب پہلے سے بھی مشکل ہوگا اور اگر وہ پیسہ نہیں دستیاب کراپائی تو ان عوامی مفاد کی اسکیموں کا کیا ہوگا؟ مرکز اور کانگریس میں این سی ٹی سی یعنی قومی انسداد مرکز کی تشکیل اس کے وقار کا اشو بنا ہوا ہے۔ وزیر داخلہ پی چدمبرم اس کے قیام پر تلے ہوئے ہیں اور اسے پاس کرانا چاہتے ہیں۔ مرکز کے اس فیصلے کی ممتا بنرجی ، نتیش کمار، نوین پٹنائک، شیو راج سنگھ چوہان، نریندر مودی، رمن سنگھ کی مخالفت میں اب ملائم سنگھ اور گووا کے وزیر اعلی بھی شامل ہوں گے۔ ایسے میں بغیر ان کی رضا مندی کے یہ بل پاس نہیں ہوسکتا۔ ان اسمبلی انتخابات سے صاف ہوگیا ہے کہ علاقائی پارٹیوں کے مقابلے کانگریس اور بھاجپا کمزور ہوئی ہے۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کیا ایک بار پھر چوتھے مورچے کی کوششیں شروع ہوں گی؟ ابھی لوک سبھا میں سپا کے 22 ایم پی ہیں جو حکومت کو باہر سے حمایت دے رہے ہیں۔ یوپی کے نتیجوں کے بعد مہنگائی، کرپشن، بے روزگاری وغیرہ جیسے اشوز پر سپا کا دوسری پارٹیوں کے ساتھ ایک چوتھا مورچہ کھڑا کرنے کے امکان سے کانگریس کے لئے چنوتیاں بڑھ گئی ہیں۔ اگلے دو سال میں منموہن سنگھ سرکار کے اور زیادہ لاچار ہونے کا امکان ہے۔ دیکھیں ان منہ پھاڑتی چنوتیوں سے وہ کیسے نمٹتی ہے۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Manmohan Singh, Mulayam Singh Yadav, UPA, Vir Arjun

یوپی کے مسلم ووٹروں نے بڑی سمجھداری و ہوشیاری سے ووٹ دیا



Published On 11 March 2012
انل نریندر
اترپردیش کے مسلمانوں نے یوپی اسمبلی چناؤ میں کچھ حد تک ٹیکنیکل ووٹنگ کی یہ کہیں تو یہ کہنا شایدغلط نہ ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں کے پہلی بار انہوں نے مسلم بڑی سمجھداری سے اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر ووٹنگ کی ہے۔ انہوں نے دیکھا کہ کونسی پارٹی سے کونسا مسلم امیدوار جیت سکتا ہے اسے ہی ووٹ دو نتیجوں نے مسلم مٹھادھیشوں کو دھول چٹانے میں بھی کوئی کثر نہیں چھوڑی۔ قومی علماء کونسل سے لیکر شاہی امام سید احمد بخاری کے سفارش کردہ امیدواروں کو نہ منظور کردیا۔ علماء کونسل تو ریاست میں اپنا کھاتہ تک نہیں کھول پائی۔ اپنے گڑھ اعظم گڑھ کی نظام آباد سیٹ پر کھڑے کونسل کے جنرل سکریٹری طاہر مدنی چوتھے مقام پر رہے۔ بہٹ سیٹ سے امام بخاری کے داماد اور سپا امیدوار علی خاں چناؤ ہار گئے ہیں وہیں لکھیم پور کھیری سے سپا امیدوار عمران ہار گئے۔ پیشے سے بلڈر عمران کو ٹیلے والی مسجد کے امام مولانا شاہ فضل الرحمن وحیدی ندوی نے ٹکٹ دلوایا تھا۔ مسلم ووٹروں کا یہ فیصلہ پارٹی نہیں بلکہ امیدواروں کے خلاف تھا۔ سماجوادی پارٹی زیادہ تر مسلم اکثریتی سیٹوں پر کامیاب رہی ہے۔ اس کا نمونہ ہے اعظم گڑھ کی 10 سیٹوں میں سے 9 پر سپا امیدوار کامیاب رہے۔ غور طلب ہے کہ یوپی کی چناوی بساط میں قریب150 سیٹیں ایسی تھیں جہاں مسلم ووٹ فیصلہ کن کردار میں تھے اس کے لئے سیاسی پارٹیوں ک ے درمیان رسہ کشی بھی خوب چلی۔ چناوی فائدے کے لئے مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کی دوڑ سے لیکر ادبی میلے میں سلمان رشدی کی آمد تک کے اشو اٹھائے گا۔ اترپردیش کی403 ممبروں والی اسمبلی میں اس مرتبہ63 مسلمان چن کر آئے ہیں 2007 میں یہ تعداد52 تھی۔ سپا کے کل 224 امیدوار جیتے ہیں جن میں مسلم امیدواروں کی تعداد40 ہے۔ بہوجن سماج پارٹی نے 83 تو سپا نے81 مسلم امیدوار میدان میں اتارے تھے۔ دونوں پارٹیوں نے سبھی403 سیٹوں پر امیدوار کھڑے کئے تھے ۔ کانگریس اپنے359 امیدواروں میں 58 مسلمانوں کو ٹکٹ دئے تھے۔ مسلم اکثریتی علاقے میں بھاری پولنگ ہوئی ان میں مسلم خواتین نے اچھا حوصلہ دکھایا۔ سہارنپور ،اعظم گڑھ کے مسلم اکثریتی علاقے میں 70 فیصدی سے زیادہ پولنگ ہوئی۔ بسپا کے 14 مسلم امیدوار جیت کر آئے۔ پچھلی بار 29 امیدوار جیتے تھے۔ پچھلے چناؤ میں سپا کے مسلم ممبران کی تعداد 17 تھی۔ پیس پارٹی کے4 امیدوار جیتیہیت جن میں 3 مسلمان ہیں۔ پارٹی کے صدر ڈاکٹر ایوب خلیل آباد سیٹ سے چناؤ جیتے ہیں۔قومی ایکتا دل کی طرف سے مافیہ سے سیاستداں بنے مختار انصاری مؤ سیٹ سے جیتے ہیں۔ سپا کے سینئر لیڈر اعظم خاں رامپور سے اور وقار احمد شاہ بہرائج سے جیتے ہیں۔ کانگریس کے قاضی علی خاں رامپور کی سیٹ سے جیتے ہیں کل ملاکر دیکھا جائے تو نوجوان طبقے کے مسلم ووٹروں نے بڑی سوچ سمجھ کر اور حساب سے پولنگ کی ہے جس نے یوپی کی سیاست کا نقشہ ہی بدل دیا ہے۔
Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Congress, Daily Pratap, Muslim, Muslim Reservation, Samajwadi Party, State Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun