Translater
01 فروری 2025
مہاکمبھ میں بھیانک ٹریجڈی کا ذمہ دار کون؟
مہاکمبھ میں ہوئی بھگدڑ نے ایک بار پھر پرانے زخموں کو ہرا کر دیا ہے ۔آزادی کے بعد سے لے کر پریاگ راج کے مہاکمبھ میلوں میں کئی بار بھگدڑ ہو چکی ہیں ۔سینکڑوں شردھالوو¿ں کی موت ہو چکی ہے لیکن ان سبھی حادثوں سے کوئی سبق نہیں لیا گیا ۔بار بار انتظامیہ کے انتظامات پر سوالیہ نشان اٹھ رہا ہے ۔لیکن ہر بار لیپا پوتی کرکے اگلے حادثہ کا انتظار ہوتا ہے ۔اس بار پریاگ راج میں مونی اماوسیہ کے موقع پر ایک نہیں دو جگہوں پر بھگدڑ مچی تھی ۔سرکاری تفصیلات بتارہی ہیں کہ تیس لوگوں کی موت ہو گئی ہے ۔درجنوں زخمی ہوئے تھے ۔اس کے علاوہ اب تک دو بار مہاکمبھ میں آگ لگ چکی ہے ۔مرنے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے ۔سرکار انتظامیہ سچائی چھپانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن شوشل میڈیا میں کئی چینلوں کے نامہ نگاروں نے سچائی سامنے لا دی ہے ۔حادثہ کے کئی اسباب سامنے آئے ہیں ۔مہاکمبھ کو سیکورٹی کا ذمہ سنبھال رہے ذمہ دار لوگوں کو پتہ تھا کہ مونی اماوسیہ پر بڑی تعداد میں لوگ اسنان کے لئے آئیں گے تو اس کا انتظام اس کے مطابق کیوں نہیں کیا گیا ؟ شوشل میڈیا میلہ انتظام کا گڈگان کررہا تھا ۔اور شردھالوو¿ں کی بائٹ چلائی جارہی تھی بتایاجارہا تھا کہ کمبھ میں کتنا بڑھیا انتظام ہے ۔اب سوال اٹھتا ہے کہ جب میلہ انتظامیہ کو پہلے سے اندازہ تھا کہ دس کروڑ سے زیادہ شردھالو مونی اماوسیہ کے دن پریاگ راج آئیں گے تو انہوں نے پورے انتظامات کا جائزہ کیوں نہیں لیا ۔اور بھگدڑ کے کئی وجوہات سامنے آئی ہیں ۔ایک وجہ تھی سنگم کنارے شوبھ مہوت شروع ہونے کے ساتھ ڈبکی لگانے کا پونیہ لینے کے امید سے بڑی تعداد میں جاکر وہاں سو گئے تھے ۔جب بے کنٹرول بھیڑ کا ریلا بیریگیٹ توڑتا ہوا پہلے ڈبکی لگانے کے ارادے سے بڑھا تو وہاں پہلے سے آرام کررہے شردھالو ان کے پیر تلے کچل گئے ۔اور کوئی شبہ نہیں کہ زخمیوں کو فوراً طبی مدد پہنچائی گئی ۔پھر بھی سوال اٹھتا ہے زیادہ کنٹرول بھیڑ سنگم کی جگہ پر تمام انتظامات کے رہتے کیسے پہنچی ؟ اب بیریکیٹ توڑ سکی ۔جب اتنی بھیڑ سنگم استھل پر بڑھ رہی تھی تو پولیس انتظامیہ نے انہیں دور سے روکا کیوں نہیں ؟ واردات کے کچھ وقت بعد کمبھ پھر جوں کے توں چلنے لگا ہو لیکن شردھالوو¿ں کی موت کا داغ اس کمبھ پر لگ گیا ہے ۔کانگریس سمیت دیگر پارٹیوں نے اس بھگدڑ کو لے کر ریاست کی یوگی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا ہے ۔اور کہا ہے کہ اس واردات کے لئے بدانتظامی آدھا ادھورہ انتظام ذمہ دارہے ۔کانگریس ڈر ملکا ارجن کھڑگے نے شوشل میڈیا ایکس پر پوسٹ میں کہا کہ شردھالوو¿ں کے رشتہ داروں کے تئیں ہماری گہر ہمدردی ہے اور زخمیوں کے تئیں جلد صحتیابی کی کامنا کرتے ہیں ۔کھڑگے نے دعویٰ کیا کہ آدھا ادھورہ انتظام سے زیادہ پروپیگنڈہ پر دھیان دینا اور بدانتظامی اس کے لئے کون ذمہ دارہے ؟ لوک سبھا کے اپوزیشن لیڈر نے الزام لگایا کہ اس تکلیف دہ واردات کے لئے آئی پی موومنٹ پر انتظامیہ کی توجہ کو ذمہ دار بتایا ہے ۔انہوں نے کہا کمبھ کا ابھی کافی وقت بچاہوا ہے اور ابھی کئی اور اسنان ہونے ہیں ۔ایسی تکلیف دہ واقعات آگے نا ہون اس کے لئے سرکار کو انتظامی میں بہتری لانی چاہیے۔اور وی آئی پی کلچر پر لگام کسنی چاہیے ۔اور سرکار کو عام شردھالوو¿ں کی ضرورت پورا کرنے کے لئے بہتر انتظام کرنا چاہیے ۔وہیں عام آدمی پارٹی نے مہاکمبھ میں بھگدڑ جیسے حالات کے لئے انتظامیہ کے بد انتظامی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے اور وی آئی پی کلچر کو ختم کرنے اور بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے کئی انتظامات کرنے کی مانگ کی ہے عآپ کے سینئر لیڈر سنجے سنگھ نے پریس کانفرنس کے دوران دھارمک پروگراموں کے مناظر کو ڈھونگ بتایا ۔شیو سینا کے نیتا راجیہ سبھا ایم پی سنجے راوت نے یوگی سرکار پر تنقید کی ہے ۔اور کہا کہ وی آئی پی پہنچتے ہیں تو پورا گھاٹ بند کر دیا جاتا ہے اور میلوں میل ایک طرح کا کرفیو لگ جاتا ہے وزیردفاع اور وزیر داخلہ گئے تو پورے گھاٹ کو بند کر دیا گیا ۔اس سے انتظام پر دباو¿ بڑھا اس نے اس وجہ سے بھی بھگدڑ مچی ۔ایک دوسری وجہ یہ بھی رہی کہ شردھالوو¿ں میں اکھاڑوںکو خاص کر ناگا اور سادھوو¿ں اگھوری کو دیکھنے کے لئے دھکا مکی ہوئی ۔سبھی اکھاڑوں کا امرت اسنان دیکھنے کے لئے سنگم پہنچنا چاہ رہے تھے ایسے میں بھیڑ اکھٹی ہوتی گئی اور حادثہ کا ایک بڑا سبب بنی ۔سنگم میں نوز پر اینٹری ایگزٹ کے راستے الگ الگ نہیں تھے لوگ جس راستے سے آرہے تھے اسی سے واپس جارہے تھے ۔بیریگیٹ سے بھگدڑ مچی تو نکلنے کا موقع نہیں ملا ۔انتظامیہ نے اکھاڑوں کو امرت اسنان کے لئے لگاتار پیپا پل بند کر دئیے اس سے باہر جانے والے شردھالو اسنان کے بعد نکل نہیں پائے اس سے بھی بھگدڑ مچی ۔بہرحال معاملے کی جانچ ہو رہی ہے اور حادثہ سے سبق لیتے ہوئے کچھ قواعد میں بھی تبدیلی کی گئی ہے ۔نئی نئی پابندیاں بھی لگائی گئی ہیں ۔ہم متوفی لوگوں کے پریواروں کو اپنی شردھانلی ارپت کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ انتظامیہ میں ضروری تبدیلی کی جائے تاکہ آنے والے اسنانون میں کوئی ناخوشگوار واقعہ نا ہو پائے ۔
(انل نریندر)
30 جنوری 2025
40 سال میں سب سے زیادہ عورتیں چناوی میدان میں!
اس بار دہلی اسمبلی چناﺅ میں 3 بڑی سیاسی پارٹیوں میں سے بھارتیہ جنتا پارٹی اور عام آدمی پارٹی نے 9-9 عورتوں کو امیدوار میدان میں اتارا ہے ۔جبکہ کانگریس نے 7 عورتوں کو میدان میں اتارہ ہے 5 فروری کو ہونے والے دہلی اسمبلی چناﺅ میں میدان میں اترے ہیں ۔اترے 699 امیدواروں میں سے 96 عورتیں ہیں ۔سبھی پارٹیاں چناﺅ جیتنے کے لئے خواتین ووٹروں کو لبھانے کی کوشش کر رہی ہیں ۔تینوں پارٹیوں نے 2020 کے اسمبلی چناﺅ کے مقابلے میں اس بار زیادہ خواتین امیدواروں کو میدان میں اتاراہے ۔بتا دیں کی اس بار چناﺅ ں میں پچھلی 4 دھیایوں میں سب سے زیادہ خواتین امیدوار ہیں ۔آپ نے خواتین امیدواروں میں آتشی ،پوجا والیان ،پرمیلا ٹوکس اور راکھی برلان کے ساتھ ساتھ دیگر 5 خواتین امیدواروں کو میدان میں اتارہ ہے ۔جس میں سے آتشی ،ٹوکس اور دھنوتی چندیلا اور وندنا کماری اور سریتا سنگھ پھر سے میدان میں اتری ہیں وہیں بھاجپا کی خواتین امیدواروں میں ریکھا گپتا ،شکھر رائے ،پرینکا گوتم ہیں یہ تینوں ایم سی ڈی چناﺅ جیت چکی ہیں اور کانگریس کے ساتھ خواتین امیدواروں میں اہم طور سے الکا لامبا ،عریبہ خان،راگنی نائک ،ارونا کماری شامل ہیں ۔1993 میں 1316 امیدواروں کی فہرست میں صرف 58 خواتین تھیں جو صرف 4 فیصد تھا ان میں صرف 3 روتیں ہی چناﺅ چیت پائیں تھی۔عورتوں کی کامیابی دیکھتے ہوئے 1998 تک عورتوں کی ساجھداری تھوڑا کم ہو گئی تھی ۔لیکن اس کامیابی شرح میں بہتری آئی ہے 5 فیصدی سے بڑھ کر 16 فیصدی تک پہنچ گئی جو کی اب تک کا ریکارڈ بنا ہے اسی طرح 2003 میں خواتین امیدواروں کی تعداد بڑھ کر 78 ہو گئی لیکن صرف 9 فیصد امیدوار ہی چناﺅ جیت پائیں ۔اس لئے 2008 میں یہ بڑھ کر 81 ہوئی گئی لیکن کامیابی شرح گھٹ کر 4 فیصد رہ گئی ۔2013 میں خواتین امیدواروں کی تعداد گھٹ کر 70 ہوئی جبکہ کامیابی شرح میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔2015 میں 66 عورتیں میدان میں اتری جس میں 9 فیصدی نے ہی جیت حاصل کی ۔2020 میں 79 عورتوں نے چناﺅ لڑا 8 امیدواروں یعدی 10 فیصد جیت پائیں تھی ۔آپ نے لگاتار خاتون امیدواروں کی تعداد بڑھائی ہے اس کی جیت فیصد کافی اچھا رہا ۔2013 میں 6 عورتوں نے چناﺅ لڑا اور 3 کامیاب ہوئیں وہیں 2015 میں سبھی 6 عورتیں کامیاب رہیں ۔2020 میں پارٹی نے 9 عورتوں کو میدان میں اتارا جس میں سے 8 جیتیں ۔جیت شرح کو دیکھتے ہوئے اس سال پارٹی نے پھر سے 9 عورتوں کو میدان میں اتارا ہے ۔
(انل نریندر)
فیض آباد کی ہار کا بدلہ ملکی پور سے !
5 فروری کو ہونے جا رہے ایودھیا کی ملکی پور اسمبلی کے ضمنی چناﺅ پر بی جے پی اور سپا دونوں کی ساکھ داﺅ پر لگی ہے ۔وزیراعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ نے خود اس سیٹ کی کمان سنبھال لی ہے اور وہ پہلے ہی اس اسمبلی حلقہ میں 3 ریلیاں کر چکے ہیں ۔ایودھیا کا دورہ بھی ادھا درجن بار 2 مہنے کے اندر کیا ہے ۔جس میں چناﺅی اینگل پر تقریریں کی اس کے ساتھ ہی ریاستی حکومت کے ساتھ وزیر یہاں کی چناﺅ مہم میں لگے ہیں ۔بی جے پی کے پردیش تنظیم اور ضلع تنظیم کا ایک ہی ٹارگیٹ ہے --- ہر ہال میں ملکی پور ضمنی چناﺅ جیتنا ۔درحقیقت بی جے پی لوک سبھا چناﺅ میں یہاں ملی ہار کا بدلہ لیکر یہ بتانا چاہتی ہے سماجوادی پارٹی کے اودھیش پرساد اور سپا اور انڈیا بلاک کے چھوٹے پرچار اور لوگوں میں گمراہی پیدا کر کے ایودھیا کی فیض آباد لوک سبھا کی سیٹ جیتیں ہیں سپا میں سارے دیش میں فیض آباد میں جیت کا پرچار کر بی جے پی کی فضیحت کی تھی ایسے میں بی جے پی ان کمیوں کو دورانا نہیں چاہتی جو لوک سبھا کے چناﺅ میں ہار کا سبب بنی تھی ۔پارٹی کے ذرائع کہتے ہیں کے پچھلے چناﺅ کی ہار کا تجزیہ کر اب گھر گھر رابطہ مہم چل رہی ہے ۔بی جے پی امیدوار چندر بھانو پاسوان خود بھی ووٹ مانگ رہے ہیں ۔ملائم سنگھ کی بیٹے کی بہو اور بی جے پی نیتا اپرنا یادو یادو فرقہ کا ووٹ مانگ رہی ہیں ۔سپا کے کیمپئن میں لگے سابق وزیر تیج نرائن پانڈے پون اور علاقائی سپا نیتا کملا سن پانڈے برہم ووٹوں کو پکہ کرنے کے لئے رابطہ پروگرام چلا رہے ہیں ۔پون کا کہنا ہے اس وقت سپا کی روزانہ 6 چوپال لگائی جا رہی ہیں ۔ایم پی اودھیش پرساد بھی اپنے بیٹے کی چناﺅ مہم میں لگے ہیں ۔اب بھاجپا حکومت کی تانا شاہی کرپشن اور قانون و نظام کی بگڑتی حالت کا اشو بنایا جا رہا ہے ریزرو سیٹ ہونے کے سبب ملکی پور میں دلتوں کی تعداد زیادہ ہے 70 ہزار برہم 65 ہزار یادو 25 ہزار ٹھاکر اور 20 ہزار کے قریب مسلم ووٹر ہیں ۔یہاں کے برہمن یادو کوری اہم رول نبھاتے ہیں ۔پچھلے چناﺅ پر نظر ڈالیں تو بی جے پی کے جیت کے پیچھے وی ایس پی کے امیدوار کے ووٹ کا اہم رول رہا ہے ۔2017 کے چناﺅ میں یہاں سے بی جے پی کے بابا گورکھ ناتھ جیتے تھے اس چناﺅ میں سپا کے اودھیش پرساد کو 58684 ووٹ اور بی ایس پی کے رام گوپال کو 46027 ووٹ ملے تھے جبکہ پچھلے چناﺅ میں سپا کے اودھیش پرساد نے بھاجپا کے بابا گورکھناتھ کو ہرایا تھا ۔5 فروری کو ہونے والے ضمنی چناﺅ میں بی جے پی سے چندر بھان پاسوان اور ایس پی سے اجیت پرساد امیدوار ہیں ۔بسپا نے اپنا امیدوار نہیں کھڑا کیا ہے ۔چندر شیکھر آزاد کی آزاد سماج پارٹی نے سنتوش کمار کو اپنا امیدوار بنایا ہے جو آزاد ایس پی کے اودھیش پرساد کے قریبی رہے ہیں ۔ناراض ہوکر بھاجپا میں چلے گئے وہ دلیتوں کے ووٹروں میں کتنی پکڑ بناتے ہیں اس کا بھی چناﺅ نتیجے پر اثر پڑےگا ۔بی جے پی نے اس سیٹ کو اپنی وقار کا سوال بنا لیا ہے ۔ایودھیا کی ہار سے پارٹی کی پورے دیش میں کتنی کرکری ہوئی تھی کے شری رام کے مندر تعمیر کے بعد بی جے پی یہاں سے ہار گئی اب بدلہ لینے کا موقع ہے دیکھےں ووٹروں کا کیا رجھان رہتا ہے۔
(انل نریندر)
28 جنوری 2025
لالو نے سونپ ہی دی تیجسوی کو وراثت
پٹنہ میں ہوئی کچھ دنوں پہلے آر جے ڈی کی قومی ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں پارٹی آئین میں ترمیم کا پرستاﺅ پیش کر پارٹی کے سارے فیصلے لینے کے لئے لالو پرساد یادو کے ساتھ تیجسوی یادو کو بھی مجاز کر دیا گیا ہے ۔اس کے ساتھ ہی پارٹی میں تیجسوی یادو عہد کی شروعات ہو گئی ہے ۔پارٹی کے اتحاد سے لیکر چناﺅ نشان باٹنے تک کام اب تیجسوی کریں گے اس پرستاﺅ پر 5 جلائی 2024 کو پارٹی کے اوپن نیشنل اجلاس میں مہر لگائی گئی ساتھ ہی طے کیا گیا اتحاد اور پارٹی کی جانب سے بہار میں وزیراعلیٰ کا چہرا تیجسوی ہی ہوں گے ۔اس پر میٹنگ کے بعد تیجسوی یادو نے کہا انہیں جو ذمہ داری سونپی گئی ہے اس کو بخوبی نبھانے کے لئے بہار اسمبلی چناﺅ کے دوران کام کریں گے اس کے لئے انہوںنے سبھی کے طئیں شکریہ ادا کیا ۔لالو پرساد یادو کی قیادت میں ہی ان کی تحریک کو آگے بڑھانا ہے اور پارٹی کی خلا اجلاس 5 جلائی 2025 کو باپو اڈیٹورئم میں منعقد کرنے کا فیصلہ ہوا ہے ۔میٹنگ میں چناﺅ اور ممبر سازی کیمپئن پر بھی بات ہوئی بہار کی سیاست میں اس وقت 2 نوجوان چہروں کا تذکرہ ہو رہا ہے ان میں ہے چراغ پاسوان تو مرکز میں وزیر ہیں اس بار اسمبلی چناﺅ میں اترنے کا امکان نہیں ہے ایسے میں تیجسوی یادو کو پارٹی کمان سونپ کر آر جے ڈی کی ایک کوشش ہے پارٹی کو نئی طاقت دی جائے اور بہار میں نوجوان ووٹروں کو ساتھ جوڑا جا سکے ۔نائب وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے بہار سرکار کی جانب سے ہوئی تقرریوں کا کریڈٹ بھی تیجسوی یادو کو ہی جاتا ہے ۔ایسے میں پارٹی کو امید ہے نوجوانوں کے ووٹ سے انہیں چناﺅ میں فائدہ ملے گا ۔بہار اسمبلی چناﺅ اس سال کے آخری میں ہونے والے ہیں ۔او رایسے وقت میں پارٹی کے اندر بغاوت یا خاندانی اختلافات کے سامنے آنے سے ورکروں کے حوصلے پر اثر پڑتا ہے ۔ان سبھی حالات سے بچنے کے لئے تیجسوی یادو کو اعلانیاں طور پر جانشین بنا دیا گیا ہے ۔(انل نریندر)
امریکہ میں 538 غیر قانونی تارکین وطن کو باہر نکالا
ڈونالڈ ٹرمپ کے امریکہ کے 47 وے صدر کی حیثیت سے حلف لینے کے 4 دن بعد ہی غیر قانونی طور پر رہ رہے تارکین وطن کو لیکر اپنے وعدے پر عمل کرنا شروع کر دیا ۔امریکہ نے فوجی جہازوں کے ذریعہ ان تارکین وطن کےلئے جلا وطنی شروع کر دی ہے ایسے میں سوال کھڑا ہوتا ہے ٹرمپ کے اس قدم سے امریکہ میں مکیم ہندوستانی متاثر ہوں گے وائٹ ہاﺅس کے پریس سیکریٹری کیرولن لیوٹ نے بتایا کے ٹرمپ کی سرحدی پالیسیوں کے سبب پہلے ہی 538 ناجائز تارکین وطن کو گرفتار کیا جا جکا ہے اور ان کو جلاع وطن کر دیا ہے ۔ان میں ایک مشتبہ آتنکوادی بھی شامل ہے صدر ٹرمپ نے پوری دنیا کو ایک سخت اور صاف سندیش دے رہے ہیں کے اگر آپ غیر قانونی طور سے امریکہ میں داخل ہوتے ہیں تو آپ کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ٹرمپ کے اس مہم کو وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کی حمایت مل رہی ہے ۔سوشل میڈیا پر امریکہ سے غیر قانونی تارکین وطن کو ڈپورٹ کرنے کی تصویر سامنے آنے کے بعد ہندوستانی وزارت خارجہ نے کہا کے وہ اس ہندوستانیوں کو واپس لائےں گے جو بغیر مناسب دستاویزات امریکہ میں رہ رہے ہیں ۔حالانکہ بھارت نے اس میں ایک شرت بھی لگا دی ہے کے وہ ہندوستانی اب واپس لائیں گے جن کی قومیت کا سبوت ہوگا ۔امریکہ نومبر 2024 تک ٹرمپ انتظامیہ کے جلاع وطنی قدم سے 20000 سے زیادہ بغیر دستاویز والے متاثر ہو سکتے ہیں ۔ہندوستانی یا تو فائنل اخراج حکم کا سامنا کر رہے ہیں جس کا مطلب ہے انہیں ملک چھوڑنا ہوگا یا امکانی حراست یا مستقبل میں پھر ریاستی قانونی نتائج کا سامنا کرنا ہوگا ۔یا حال ہی میں آئی سی ای حراست مرکز میں ہے ان میں سے 17940 بغیر دستاویز والے ہندوستانی حراست میں نہیں ہیں بلکہ فائنل حکم کے تحت ہیں ۔قوائد کے مطابق غیر ملکی کلاسیفکیشن ایک غیر شہری جو ورنہ فوری طور پر اخراج کے تحت آتا ہے جو پناہ کے لئے درخواست دینے کا ارادہ رکھتا ہو یا کسی خاص اذیت رسانی کا ڈر ہے ۔جانے سے پہلے اس دعویٰ کو انظامیہ جائزہ کے حقدار ہے غیر مصدقہ خبروں کے مطابق اس وقت ہندوستانی نزادتارکین وطن کی تعداد 7 لاکھ سے اوپر بتائی جا رہی ہے جو مشکل میں پڑ سکتے ہیں ۔امیگریشن رضاکار اور این جی او کے مطابق 20 جنوری کو ٹرمپ کی حلف برداری تک 6 لاکھ غیر قانونی تارکین وطن امریکہ کے کیلیفورنیا اور نیویارک جیسی 2 درجن ریاستوں میں بسے ہوئے ہیں ۔اور ناجائز تارکینی وطن ان ریاستوں کو محفوض پناہ گاہ کہتے ہیں۔کیو ں کے یہ کملا ہیرس کی پارٹی ڈیموکریٹک میں شامل ہیں ۔یہ امریکی ریاستیں ان تارکین وطن کے بارے میں سخت رویہ نہیں رکھتی ہیں اور یہاں ان کو ڈرائیونگ لائسنس مل جاتا ہے اس کی بنیاد پر سوشل سکورٹی نمبر لی پاتے ہیں ۔غیر قانونی تاکین وطن ٹرمپ والی ریپبلکن پارٹی کے گڑ والی ریاستوں میں جانے سے بچتے ہیں بارڈر امیگریشن کے مطابق کناڈا بارڈر سے 2.25 لاکھ ہندوستانی امریکہ میں آئے اور امریکہ میں ان تارکین وطن ہندوستانیوں کی ورکفورس میں تقریبا 2 فیصدی کی حصہ داری ہے یہ ہوٹل ریسٹورنٹ اور کپڑے اسٹور اور ڈرائیوری کی نوکری کرتے ہیں ۔اور ان کو اچھی خاصی تنخواہ مل جاتی ہے ملازمت پر رکھنے والے بھی غیر قانونی تارکین وطن کو کم تنخواہ پر رکھواکر دلال خود بھی فائدہ اٹھاتا ہے۔(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...