Translater

05 نومبر 2011

پہلے سے ہی مہنگائی میں دبی جنتا پر اب پیٹرول کے دام بڑھنے کی مار



Published On 5th November 2011
انل نریندر
دیش میں گذشتہ کئی دنوں سے پیٹرول کے دام بڑھائے جانے کی قیاس آرائیاں جاری تھیں اور آج سبھی قیاس آرائیوں پر لگام لگ گئی ہے۔ سرکاری کمپنی انڈین آئل نے پیٹرول کی قیمت پر1.82 پیسے کا اضافہ کردیا ہے۔انڈیا آئل کے اس اضافے کے بعد ہی سبھی تیل کمپنیوں نے اپنی مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ بڑھی ہوئی قیمت کے بعد ممبئی میں ایک لیڈر پیٹرول 73.74 روپے ، دہلی میں68.66 روپے، کولکتہ میں73.10 روپے تو چنئی میں 72.64 روپے فی لیٹر ملے گا۔ خیال رہے کہ پیٹرول کی قیمت میں پہلا اضافہ ستمبر کے مہینے میں ہوا تھا۔ واقف کاروں کی مانیں تو ابھی پیٹرول کے دام میں اور آگ لگنے والی ہے۔ تیل کمپنیاں جون2010 کے بعد سے ابھی تک دس بار پیٹرول مہنگا کرچکی ہیں۔ پچھلے دو مہینے میں دو بار قیمتیں بڑھائی جا چکی ہیں۔ کچے تیل کی قیمت ہم ہی نہیں بلکہ سبھی ملکوں کو متاثر کرتی ہے لیکن دیگر دیشوں میں آج بھی پیٹرول ہمارے دیش سے کافی سستا ملتا ہے۔مختلف ملکوں میں پیٹرول کی خوردہ قیمتوں کو ہندوستانی کرنسی میں تبدیل کرکے دیکھیں تو پائیں گے کہ یہاں پیٹرول کے دام دنیا کے زیادہ تر ملکوں کے مقابلے زیادہ ہیں۔ بھارت میں پیٹرول کی اوسط قیمت 70 روپے فی لیٹر ہے جبکہ چین میں 48 روپے ،پاکستان میں 50 روپے، بنگلہ دیش میں49 روپے، سری لنکا میں 54 روپے فی لیٹر ہے۔ یہاں تک کہ امریکہ ، ہانگ کانگ، ملیشیا، آسٹریلیا، کینیڈاجیسے خوشحال ملکوں میں بھی پیٹرول بھارت کے مقابلے سستا ہے۔ جن ملکوں میں پیٹرول پر ٹیکس جاتا ہے جیسے سنگاپور، نیوزی لینڈ، تھائی لینڈ، برازیل ان میں بھی بھارت سب سے اوپر ہے۔ دنیا میں سب سے سستا تیل کچا تیل اور برآمد کرنے والے ملکوں میں ان میں سعودی عرب، ایران، وینیزویلا، کویت جیسے ملک شامل ہیں۔ واقف کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں پیٹرول مہنگا ہونے کے پیچھے کئی وجوہات ہیں۔ بھارت اپنی کل کھپت کا قریب تین چوتھائی کچا تیل باہر سے منگاتا ہے۔اس کے علاوہ بھارت نے پیٹرولیم مصنوعات پر زبردست ٹیکس ہے۔ ایکسائز ڈیوٹی، امپورٹ ڈیوٹی ،ویٹ کو ملا کر دیکھیں تو تیل کی قیمتوں میں آدھے سے زیادہ اضافہ صر ف ٹیکس کے چلتے ہی ہوجاتا ہے۔اگر وزیر پیٹرولیم کی مانیں تو رسوئی گیس سلنڈر، ڈیزل، مٹی کے تیل کا بوجھ بھی بڑھنے والا ہے۔ وزیر محترم کہتے ہیں کہ سرکار اس معاملے میں کچھ نہیں کرسکتی۔ پورا دیش چند تیل کمپنیوں کے رحم و کرم پر ٹکا ہوا ہے۔ مہنگائی سے پہلے ہی سے پریشان عوام آج عاجز آچکی ہے۔ یہ سرکار عام آدمی کا دم نکالے پر تلی ہوئی ہے۔ حکومت نہ تو اپنی کھپت پر ہی کوئی کنٹرو ل کرتی ہے اور نہ ہی مٹھی بھر تیل کمپنیوں کے اناپ شناپ خرچوں پر لگام لگانے کی کوشش کرتی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تیل کمپنیوں کو سی اے جی سے اپنے کھاتے چیک کرانے چاہئیں۔ یہ کوئی نجی معاملہ نہیں ان کے فیصلوں سے پورا دیش براہ راست متاثر ہوتا ہے۔ اپنے عیش و آرام کے لئے چند کمپنیاں غریب آدمی کی کمر توڑتی رہتی ہیں اور یہ نکمی سرکار کہتی ہے کہ ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے۔ عام آدمی جائے تو کہاں جائے؟ پتہ نہیں کوئی آدمی عدالت میں پی آئی ایل کیوں نہیں ڈالتا جس سے دیش کو پتہ چلے کہ ان تیل کمپنیوں کی اصلیت کیا ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Inflation, Petrol Price, Vir Arjun

کنی موجھی کی ضمانت عرضی منسوخ ہوناکانگریس کیلئے بھاری پڑسکتا ہے



Published On 5th November 2011
انل نریندر
ڈی ایم کے چیف کروناندھی کو بہت امید تھی کہ اس مرتبہ ان کی بیٹی کنی موجھی کو عدالت ضمانت دے دے گی۔ انہوں نے اس کی زمین بھی تیار کی تھی۔ حال ہی میں ایم کروناندھی اسی کام کے لئے دہلی آئے تھے۔ انہوں نے کانگریس صدر سونیا گاندھی سے ملاقات بھی کی تھی جس کے بعد مرکزی حکومت کی کنٹرول والی سی بی آئی نے کنی موجھی کی ضمانت عرضی کی مخالفت نہ کرنے کی بات عدالت میں رکھی تھی۔ اس کے باوجود عدالت نے کنی موجھی سمیت دیگر افراد کی عرضی کو خارج کردیا۔ عدالت نے کنی موجھی کرلگینار ٹی وی کے منیجنگ ڈائریکٹر شرد کمارفروٹس اینڈ ویجی ٹیبل کے ڈائریکٹر آصف بلوا اور راجیو اگروال و بالی ووڈ فلم پروڈیوسرکریم مورانی کی ضمانت عرضیاں خارج کردی ہیں۔ ملزم پچھلے 9 مہینوں میں سے5 مہینے جیل میں گذار چکے ہیں۔ کنی موجھی 20 مئی سے جیل میں بند ہیں۔ 5 ملزمان کے علاوہ عدالت نے سابق ٹیلی کام سکریٹری سدھارتھ بیہورا، سابق وزیر مواصلات اے راجہ کے سابق سکریٹرآ ر کے چندولیا اور سوان ٹیلی کام کے شاہد عثمان بلوا کی ضمانت عرضیوں کو خارج کردیا۔ عدالت نے کہا معاملے سے وابستہ حقائق اور ملزمان کے خلاف الزام بہت سنگین قسم کے ہیں جن کا دیش کی معیشت پر برا اثر پڑا ہے۔ جسٹس اوپی سینی نے خاتون ہونے کے ناطے چھوٹ دینے کی کنی موجھی کے وکیل کی دلیل پر کہا کہ عام طور پر مانا جاتا ہے کہ خواتین سماجی و اقتصادی طور پر کمزور ہوتی ہیں اس لئے سی آر پی سی کی دفعہ437 کے تحت خواتین کو کچھ رعایتیں دی جاتیں ہیں۔ لیکن کنی موجھی ایم پی ہیں اور سماج کے اوپری طبقے سے ہیں ایسے میں ان کے ساتھ امتیاز جیسی بات نظر نہیں آتی۔ مقدمہ 11 نومبر سے شروع ہوگا۔ کنی موجھی کی ضمانت نہ ہونے پر ان کے وکیل رام جیٹھ ملانی نے اسے انصاف کی ناکامی قراردیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جسٹس نے ممکنہ طور پر طے کرلیا ہے کہ کوئی راحت نہیں دی جانی چاہئے۔ صرف ہائی کورٹ کے ذریعے ہی راحت ملے تو ملے۔ انہوں نے کہا مجھے امید ہے کہ ہائی کورٹ جلد ہی صحیح فیصلہ کردے گی۔

کنی موجھی کی ضمانت عرضی خارج ہونے کا کانگریس ڈی ایم کے رشتوں پر سیدھا اثر پڑسکتا ہے۔ دونوں پارٹیوں کی دوستی خطرے میں پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ معاملے کی سنجیدگی کو بھانپتے ہوئے جمعرات کو ہی تاملناڈو کے کانگریس انچارج غلام نبی آزاد نے پارٹی صدر سونیا گاندھی اور ان کے سیاسی سکریٹری احمد پٹیل سے پورے معاملے پر بات چیت کی ہے۔ حالانکہ کانگریس نے رسمی طور پر فی الحال اتحاد پر کوئی اثر پڑنے کا امکان نہیں ہے لیکن ذرائع کا کہنا ہے ڈی ایم کے نیتاؤں کواس بات کا ملال ہے کہ سرکار کی جانب سے کنی موجھی کے بچاؤ میں مضبوط کوشش نہیں کی گئی۔ ایک طرح سے ان کو انہی کے حال پر چھوڑدیا گیا ہے۔ اس بات کو ڈی ایم کے نیتا وعدہ خلافی مان رہے ہیں۔ ممکن ہے ڈی ایم کے جلد کانگریس کے ساتھ رہنا ہے یا نہیں ،فیصلہ کرسکتی ہے۔ یہ بھی غور طلب ہے کہ ڈی ایم کے کوٹے کے دونوں وزرا کی جگہ ابھی کوئی وزیر مقرر نہیں کیا گیا ہے۔ لاکھ کوششوں کے باوجود ڈی ایم کے نے نئے نام نہیں بھیجے ہیں۔ لہٰذا کانگریس کو ابھی بھی اس بات کا اندیشہ ہے کہ نئے کیبنٹ نے بھی ڈی ایم کے نیتاؤں سے بات کرنے کو کہا گیا ہے۔اس بات کے لئے بھی حکمت عملی بن رہی ہے کہ ڈی ایم کے کی حمایت واپسی کی صورت میں نئی سیاسی پارٹیوں سے بات چیت کی جائے۔ 6 ایم پی والی راشٹریہ لوکدل سے تقریباً بات چیت پکی ہے۔ چودھری اجیت سنگھ کو نئی کیبنٹ میں جگہ ملنا طے ہے۔ اس کے علاوہ سپا ،بسپا، کانگریس کے پاس متبادل ہیں۔ اگر ڈی ایم کے حمایت واپس لیتی ہے اوپرسے ممتا بنرجی بھی پیٹرول کے داموں میں اضافے کو لیکر احتجاج میں حمایت واپس لیتی ہیں تو کانگریس کے لئے مشکلیں کھڑی ہوسکتی ہیں۔ مایاوتی بھی آسانی سے ماننے والی نہیں ہیں۔ ان کا ایسے وقت میں حمایت دینا جب یوپی اسمبلی چناؤ سر پر ہیں، ایک چیلنج بھرا فیصلہ ہوگا۔ بھگوان رام کو گالی دینا کروناندھی پر بھاری پڑ رہا ہے۔ 
 2G, Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, DMK, kani Mozhi, Karunanidhi, Shahid Balwa, UPA, Vir Arjun

04 نومبر 2011

محض پابندی سے نہیں سخت سزا سے ہی فکسنگ پر لگام ممکن



Published On 4th November 2011
انل نریندر
پاکستان کرکٹ کے لئے منگلوار کا دن بیحد شرمناک ثابت ہوا۔ اس کے دو کرکٹروں سابق ٹیسٹ کپتان سلمان بٹ اور تیز گیند باز محمد آصف کو لندن کی عدالت نے اسپارٹ فکسنگ کا قصوروار قراردیا ہے۔ ساؤتھ ورک کراؤن کورٹ کی 12 نفری جیوری نے 27 سالہ بٹ کو غلط طریقے سے پیسہ لینے کی سازش اور دھوکہ دھڑی کا قصوروار پایا ہے۔ وہیں آصف کو دھوکہ دھڑی کی سازش کا قصوروار مانا گیا ہے۔ مقدمے کی سماعت کے 20 ویں دن عدالت نے انہیں قصوروار ٹھہرایا۔ سزا جلد سنائی جائے گی اور تب تک وہ ضمانت پررہیں گے۔ بٹ کو زیادہ سے زیادہ سات سال کی سزا اور آصف کو زیادہ سے زیادہ دو سال کی سزا ہو سکتی ہے۔ اس معاملے میں تیسرے ملزم محمد عامر کو مقدمے کا سامنا نہیں کرنا پڑا کیونکہ اس نے پہلے ہی جرم قبول کرلیا تھا۔ عامر کو سکینڈل میں اس کے کردار کے لئے سات سال قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔ معلوم ہو کہ بند ہوچکے برطانوی جریدے 'نیو آف دی ورلڈ 'نے اسٹنگ آپریشن کرکے اس اسکینڈل کا خلاصہ کیا تھا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ آصف اور بٹ نے سٹے باز مظہر مجید سے مل کر انگلینڈ کے خلاف لارڈس میں ہوئے ٹیسٹ میچ میں نو بال پھینکنے کی سازش رچی تھی۔ اس خلاصے کے بعد ان تینوں کے ہوٹل کے کمروں میں چھاپے مارے گئے جس میں نقدی برآمد ہوئی تھی۔ آصف پر غلط طریقے سے پیسہ لینے کے لگے الزام پر جیوری بٹی ہوئی تھی جس کے بعد اس پر پھر سے غور کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسپارٹ فکسنگ معاملے میں جیوری کے فیصلے سنانے کے ساتھ ہی سلمان بٹ اور محمد آصف عدالت کے اندر بغیر کوئی رد عمل ظاہر کئے اپنی جگہ پر ایسے بیٹھے رہے جیسے کے پتھر کی مورتی بن گئے ہوں۔ برطانوی میڈیا اور عدالت میں موجود دیگر لوگ دونوں کے چہرے پر آئے اثرات پڑھنے کیلئے ان کی طرف دیکھ رہے تھے لیکن تب تک ان دونوں کے چہرے اتر چکے تھے اور وہ بس جیوری کی طرف دیکھے جارہے تھے۔ یہ بھی عجیب و غریب اتفاق رہا کہ جب جیوری نے بٹ کو قصوروار قراردیا اس سے کچھ ہی دیر پہلے ان کی اہلیہ گل حسن نے دوسرے لڑکے کو جنم دیا۔
اسپارٹ فکسنگ کے اس معاملے میں فیصلہ آنے کے بعد عالمی کرکٹ دنیا میں رد عمل ہونا فطری ہے۔ حالانکہ پی سی بی یعنی پاکستان کرکٹ بورڈ اس فیصلے پر خاموش ہے۔ اس کا کہنا ہے یہ قانونی معاملہ ہے اور آئی سی سی اس کی جانچ کررہی ہے لیکن آئی سی سی کے سابق سی ای او احسان مانی نے کہا کہ لندن کی عدالت کا فیصلہ پی سی بی کے لئے سخت سندیش ہے اور آصف اور بٹ اسی کے لائق تھے۔ متنازعہ دورے پر پاک ٹیم کے منیجر رہے یاور سعید نے اس پورے معاملے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا مجھے بہت دکھ محسوس ہورہا ہے کیونکہ اس وقت ایک منیجر کے طور پر میں نے سبھی کھلاڑیوں کو برے لوگوں سے دور رہنے اور صرف کھیل پر توجہ مرکوز کرنے کی صلاح دی تھی۔ انہیںیہ سمجھناچاہئے جب اگر دیش کی نمائندگی کرتے ہوئے آپ ایسی بدتر حرکت کریں تو اس کے آپ کو برے انجام کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ ٹیم انڈیا کے کپتان مہندر سنگھ دھونی نے کہا صرف کھلاڑی ہی میچ فکسنگ نہیں کرتے کبھی کبھی امپائر بھی پرستاروں کی ملی بھت سے ایسا کرتے ہیں لیکن اس رپورٹ کو دبادیا جاتا ہے۔ یہ کرپشن کی سب سے بڑی مثال ہے اس کے آگے سب پھینکے ہیں۔ سابق آئی پی ایل چمپئن للت مودی نے ٹوئیٹر پر لکھا ہے کہ مجھے اس پر کبھی شبہ نہیں رہا کہ پاک کرکٹر میچ فکسنگ میں شامل رہتے ہوں۔ انہیں جیل میں ڈال دینا چاہئے تاکہ باقی کھلاڑیوں میں خوف پیداہو۔ ویسے قارئین کو بتادیں کہ اسپارٹ فکسنگ کے ریٹ اتنے زیادہ ہیں کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں کرکٹروں کو کوئی خاص بڑی رقم بطور فیس نہیں ملتی ان کے لئے اس سے اوپر اٹھنا مشکل ہے۔ ایک ٹیسٹ میچ کے لئے فکسنگ ریٹ 7.5 کروڑ روپے ہے۔ ٹی ٹوئنٹی کا0.3 کروڑ روپے۔ 10 اوور کا 60 لاکھ روپے اور نو بال کا 7.5 لاکھ روپے۔ پاکستانی کھلاڑی جب پڑھتے اور سنتے ہوں گے کہ بھارت کے کرکٹروں کو کتنا پیسہ ملتا ہے تو ظاہر ہے وہ اپنے آپ کو چھوٹا محسوس کرتے ہوں گے۔ حال ہی میں بی سی سی آئی نے ٹیم انڈیا کے لئے نئے گریڈ کا اعلان کیا ہے۔ گریڈ اے میں سالانہ 1 کروڑ روپے، بی گریڈ میں50 لاکھ روپے، سی گریڈ میں 25 لاکھ روپے۔جب پاکستانی کھلاڑی یہ دیکھتے ہیں کہ بھارتیہ کھلاڑیوں کو اتنا پیسہ ملتا ہے تو وہ بھی زیادہ سے زیادہ کمائی کرنے کی سوچتے ہیں اور کرکٹ میں لمبی پاری نہیں کھیلی جاسکتی۔ کچھ ہی برسوں کے لئے آپ ٹاپ پر ہوتے ہیں اس لئے جلدی سے جلدی پیسہ کمانے کی دوڑ لگی رہتی ہے۔ دراصل اس سے بھارت میں اچھوتا نہیں رہا، محمد اظہرالدین، اجے شرما، منوج پربھاکر، اجے جڈیجہ ان کھلاڑیوں میں ہیں جن پر تاحیات پابندی لگی ہوئی ہے۔اس کے علاوہ سٹے باز جان کو موسم اور پچ کی جانکاری دینے پر آسٹریلیائی کرکٹ بورڈ نے مارکوا اور شین وارن پر جرمانہ لگایا تھا۔ نومبر2010 ء میں پاکستان کے وکٹ کیپرذوالقرنین حیدردوبئی میں جنوبی افریقہ کے خلاف پانچواں ونڈے میچ چھوڑ کر آگئے اور الزام لگایا کہ انہیں خراب کارکردگی کے لئے دھمکی دی جارہی ہے۔ اسی کی بنیاد پر انہوں نے ریٹائرڈ منٹ مانگی ہے۔ پیسہ کا لالچ کبھی کبھی کھلاڑی کو ساری حدیں توڑنے پر مجبور کردیتا ہے۔ اس میں سٹے بازوں اور دلالوں کا بھی بڑا یوگدان ہے اور بھارتیہ سٹے باز تو اس میں ماہر ہیں۔ یہ سخت قانون اور سخت سزا سے ہی رک سکتا ہے۔ بی سی سی آئی نے 2000 ء میں کرکٹ سے فکسنگ کو' آؤٹ' کرنے کی سمت میں سخت قدم اٹھائے اور اپنے کھلاڑیوں پر پابندی لگائی۔ اس کے اچھے نتیجے رہے کم سے کم اس کے بعد کسی ہندوستانی کرکٹ کھلاڑی پر فکسنگ کا الزام تو نہیں لگا۔ حالانکہ سابق کرکٹروں کا کہنا ہے پابندی تو ٹھیک ہے لیکن اس کے ساتھ سزا بھی ہونی چاہئے۔ انگلینڈ کی عدالت نے راستہ دکھا دیا ہے اب دنیا کے سبھی کرکٹ بورڈوں اور سرکاروں کو بھی ایسا کرنا چاہئے۔ مجھے محمد عامر پر ضرور تھوڑا دکھ ہورہا ہے۔ اچھا نوجوان بالر ہے ۔ان کے چکر میں وہ پھنس گیا ہے اور اپنا شاندار مستقبل چوپٹ کرلیا ہے۔ ان تینوں کے ایجنٹ اور مبینہ سٹے باز مظہر مجید نے سٹے بازی معاملے کا حصہ ہونا نہ صرف قبول کرلیا ہے بلکہ ساتھ ساتھ یہ بھی مانا ہے کہ اس نے ان تینوں کھلاڑیوں کو 77 ہزار پاؤنڈ اسٹرلنگ دی تھی
Anil Narendra, Cricket Match, Daily Pratap, London, Match Fixing, Pakistan, Vir Arjun

دارالعلوم دیو بند کی نیک تجویز



Published On 4th November 2011
انل نریندر
 ہم دارالعلوم دیوبند کے تازہ بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ چناؤ اصلاحات کی سمت میں اسے ایک بڑا قدم مانا جاسکتا ہے۔ ایتوار کو لکھنؤ میں شیعہ عالم اور مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر مولانا کلب صادق نے کہا کہ مسلمان ایماندار امیدواروں کو جتانے کی کوشش کریں۔ اگلے ہی دن دارالعلوم دیوبند اپنا نظریہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ووٹ ڈالتے وقت مسلمان یہ نہ دیکھیں کہ امیدوار کس مذہب یا کس برادری کا ہے انہیں صرف یہ دیکھنا چاہئے کونسا امیدوار علاقے کی ترقی کرسکتا ہے۔ اسلامی تعلیم کے اس مشہور مرکز کا یہ نظریہ اس لحاظ سے بیحد اہم ہے کہ مسلم ووٹ کے طلبگار لیڈر ہر چناؤ میں اپنی آرزو لیکر فتوے کے لئے دیوبند میں دستک دیتے ہیں۔ دوسرا مسلم ووٹ بینک حاصل کرنے کی خواہش میں مسلم اکثریتی والی سیٹوں پر مسلمانوں کو ٹکٹ دئے جاتے ہیں۔ اگر اس نظریئے روشنی میں دیکھیں تو مسلم امیدواروں کے سامنے خود کو غیروں سے بہتر ثابت کرنے کی چنوتی کھڑی ہوگئی ہے۔ دارالعلوم کے مہتمم مولانا ابوالقاسم نعمانی نے کہا یہ اہم نہیں کہ امیدوار کس مذہب کا ہے۔ لوگوں کو دیکھنا چاہئے کہ کونسا امیدوار ان کے حلقے میں سب سے زیادہ ترقی دلا سکتا ہے اور کون ان کی سب سے زیادہ خدمت کرسکتا ہے؟ انہوں نے کسی بھی سیاسی پارٹی کا نام لئے بغیریہ بھی جوڑدیا کہ ووٹ دیتے وقت یہ خیال رکھا جائے امیدوار کسی فرقہ پرست پارٹی کا نہ ہو، سیکولر پارٹی کا ہونا چاہئے۔ غور طلب ہے دارالعلوم دیوبند نے پچھلے سال بھی ایک فتوی جاری کیا تھا۔ چناؤ میں مسلمان مذہب کو نہیں ملک کی ترقی کا خیال رکھیں۔ ادھر بریلی میں اعلی حضرت خاندان کے سینئر ممبر اور منتظم مدرسہ جامعہ نوریہ رضویہ کے منانی میاں نے کہا کہ ایم ایل اے، ایم پی چناؤ میں مذہب کے بجائے اہلیت اور کردار پر توجہ دینی چاہئے ۔ اگر مسلم لیڈر یا مذہبی پیشوا یہ بات آر ایس ایس کے ایک منچ پر آکر کہتے ہیں تو یہ خراب بات ہے۔ ظاہر ہے وہ کلب صادق اور سدرشن کی بات چیت کا حوالہ دی رہے تھے جو پچھلے دنوں ان سے ملے تھے۔
مسلم سماج کے بارے میں ایک عام رائے یہ ہے کہ وہ ایک دقیانوسی اکیلاسماج ہے۔اس خیال کو ووٹوں کی یا مذہب کی سیاست کرنے والے خوب بھناتے ہیں۔ چاہے وہ ہندو کٹر پنتھی ہو یا خود ساختہ مسلم لیڈر ۔ لیکن سچ یہ ہے کہ مسلم سماج میں مسلسل تبدیلی اور ذی شعوری آتی جارہی ہے جیسی کسی بھی سماج میں ہونی چاہئے۔ مسلم سماج اپنی حالت سے واقف ہے اور اسے بہتر بنانے کی کوشش میں ہے اسی نظریئے سے دارالعلوم دیوبند کے اس نظریئے کو دیکھا جانا چاہئے جو سیاسی اور مذہب کے بارے میں اس نے پیش کیا ہے۔ دارالعلوم کا یہ نظریہ اس کے نظریات میں سیکولرازم کی جھلک دکھاتا ہے۔ اسی طرح کی باتوں سے ان مسلم لیڈروں کو ضرور پریشانی ہو سکتی ہے جو مذہب اور ووٹ کی سیاست کرتے ہیں۔ ہم دارالعلوم دیوبند اور کلب صادق کے بیانوں کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Deoband, Elections, Kalbe Sadiq, Religion, Vir Arjun

03 نومبر 2011

منموہن سنگھ کی آخری سیاسی پاری؟




Published On 3rd November 2011
انل نریندر
وزیراعظم منموہن سنگھ پچھلے کافی عرصے سے چوطرفہ حملے جھیل رہے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ اب منموہن سنگھ کو ان حملوں کی پرواہ بھی نہیں ہے۔ وہ ان سے بے چین نہیں ہوتے اور انہوں نے طے کرلیا ہے کہ وہ جتنے دن اور ممکن ہو وزیر اعظم کی کرسی پر چپکے رہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے یہ ان کی بطور وزیر اعظم آخری پاری ہے۔ اس کے بعد تو انہیں موقعہ ملنا نہیں ہے۔ تبھی تو وہ کسی بھی تنقید کو ان سنا کردیتے ہیں۔ تازہ حملہ دیش کے ایک عزت دار اور غیر جانبدار صنعتکار نے کیا ہے۔ آئی ٹی سیکٹر کی بڑی کمپنی وپرو کے چیئرمین عظیم پریم جی نے کہا ہے کہ اس وقت حکومت میں فیصلہ لینے کی صلاحیت میں کمی ہے اور صحیح قدم نہیں اٹھائے گئے تو اقتصادی ترقی کی رفتار متاثر ہوسکتی ہے۔ جب پریم جی سے اخبار نویسوں نے پوچھا کہ ان کے حساب سے اس وقت دیش کے لئے سب سے بڑی پریشانی کی بات کیا ہے تو انہوں نے کہا سب سے بڑی تشویش راج کاج چلانے سے وابستہ معاملوں کو لیکر ہے۔ سرکار کے لیڈروں میں فیصلہ لینے کی صلاحیت کا پوری طرح کا احساس ہے۔ غور طلب ہے کہ پریم جی سمیت کئی سرکردہ صنعتکاروں جیسے مہندرا گروپ کے کیشور مہندرا، ایچ ڈی ایف سی کے دیپک پارکھ نے بھی اسی مہینے قومی لیڈروں کو لکھے خط میں سلسلہ وار گھوٹالوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے سرکاری کام کاج چلانے میں پریشانی ہورہی ہے۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ بدعنوانی جیسی چنوتیوں سے شہری تحریک یا پوسٹر بازی سے نہیں نمٹا جاسکتا۔ ادھر جنتا پارٹی کے پردھان سبرامنیم سوامی نے کانگریس صدر سونیا گاندھی پر راہل گاندھی کو دیش کی باگ ڈور سونپنے کے لئے وزیر اعظم منموہن سنگھ پر استعفے کا دباؤ بنانے کا الزام لگایا ہے۔
سوامی نے پیر کے روز بلیا میں کہا کانگریس چیف سونیا گاندھی وزیر اعظم منموہن سنگھ پر استعفیٰ دینے کا دباؤ بنا رہی ہیں۔ وہ جلد سے جلد راہل کو وزیر اعظم بنانا چاہتی ہیں لیکن راہل کا اس عہدے پر بیٹھنا ملک کے مفاد میں نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ راہل کے وزیر اعظم بننے سے دیش اور بربادی کی طرف بڑھے گا۔منموہن سنگھ کو عہدے سے ہٹانے کے لئے آپریشن سونیا اور راہل کے چاپلوس چلا رہے ہیں ۔سوامی نے کانگریس سکریٹری جنرل دگوجے سنگھ کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ میں کسی بھی شخص کو کچھ بھی کہہ ڈالنے والے کانگریس جنرل سکریٹری دگوجے سنگھ کو چنوتی دیتا ہوں کہ وہ میرے خلاف بیان دیں۔ جس دن انہوں نے میرے خلاف منہ کھولا ان پر کئی مقدمے درج ہوجائیں گے۔ کیونکہ میرے پاس ان کے خلاف کئی ثبوت ہیں۔ انہوں نے نصیحت دیتے ہوئے کہا ''دگوجے سنگھ پردھان منتری بننے کا خواب دیکھنا بند کردیں کیونکہ نوکر کبھی مالک نہیں بن سکتا۔'' سوامی نے الزام لگایا کہ کانگریس سکریٹری جنرل راہل گاندھی دگوجے سنگھ کو وزیر اعظم بننے کا خواب دکھا دیا ہے لیکن انہیں یہ جان لینا چاہئے کہ نہرو گاندھی خاندان اپنے ہی پریوار میں سے کسی کو وزیر اعظم بنائے گا۔
راہل گاندھی کے قریبی ذرائع کے حوالے سے خبر مل رہی ہے کہ سرکار اور کانگریس پارٹی میں جلدی ہی بڑی تبدیلی متوقع ہے۔ وزیر اعظم کے سطح پر بھی 2012ء میں تبدیلی ہوگی اور اس کے نتیجے میں منموہن سنگھ کو گدی چھوڑنی پڑ سکتی ہے۔ راجیو گاندھی کے قریبی دوست اور راجیو گاندھی فاؤنڈیشن کے ممبرسمن دوبے کے لڑکے امیتابھ دوبے نے تجزیئے کی بنیاد پر اقتصادی روزنامے میں خبر شائع ہوئی ہے کہ امیتابھ دوبے کو راہل گاندھی کے قریبی دوست کے طور پر جانا جاتا ہے اور کچھ وقت پہلے راہل گاندھی کیرل بھی ان کی شادی میں شرکت کرنے گئے تھے۔ امیتابھ دوبے مالیات کے ماہر ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امیتابھ مانتے ہیں کہ بدعنوانی کے الزامات کے سبب منموہن سنگھ سرکار کی اقتدار سے پکڑ کمزور ہوچکی ہے۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ منموہن سنگھ اب پائیدار لیڈر شپ نہیں دے پا رہے ہیں۔ اس کا تجزیہ کیا گیا ہے کہ بھارتیہ سیاست کی شکل کیسی ہونے والی ہے۔ وسط مدتی چناؤ کے امکانات کم ہیں لیکن سیاسی عدم استحکام اور لیڈر شپ کے پنگو ہونے کی وجہ سے سرکار ٹھہر سی گئی ہے۔ منموہن سنگھ کی اپنے ساتھیوں پر لگام کسنے کی صلاحیت کمزور ہوچکی ہے اس کی وجہ سے منموہن سنگھ کی بھی لاچاری ہے تو اس کے پیچھے دوسری وجہ بدنظمی کے سبب سونیا گاندھی کی غیر موجودگی بھی رہی ہے کیونکہ منموہن سنگھ عوامی لیڈر نہیں ہیں اس وجہ سے ان میں سیاسی عزم کی بھی کمی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کانگریس پارٹی کے پاس لیڈر شپ کا بحران حل کرنے کے لئے تین متبادل ہیں۔ پارٹی موجودہ حالات کو ٹھیک ٹھاک رکھ سکتی ہے لیکن بہترین کرنے کی کوشش جاری ہے۔ پارٹی چاہتی ہے کرپشن مخالفت تحریک کمزور پڑنی چاہئے اور مہنگائی کم ہونا چاہئے۔ پارٹی کا شخص کو بٹھانا دوسرا متبادل ہوسکتا ہے۔ اس میں سے ایک شخص وزیر دفاع اے کے انٹونی ہوسکتے ہیں جنہیں پورے طور پر ایماندار مانا جاتا ہے۔ لیکن ڈیفنس سیکٹر میں انٹونی کو سست فیصلہ لینے والا مانا جاتا ہے۔ ایک متبادل لوک سبھا اسپیکر میرا کمار ہوسکتی ہیں لیکن ان کی انتظامی اہلیتوں کی پرکھ ابھی باقی ہے۔ پرنب مکھرجی اور پی چدمبرم مضبوط امیدوار ہوسکتے ہیں لیکن ان کے حالیہ برتاؤ نے ان کے امکانات کو کمزور کردیا ہے۔ راہل تیسرے متبادل ہوسکتے ہیں لیکن وہ دخل دینے کو تیار نہیں ہوں گے کیونکہ وہ پارٹی کی یوتھ ونگ کو مضبوط کرنے اور اترپردیش کے اہم انتخابات میں مصروف ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر وہ ابھی تک پرکھے نہیں گئے ہیں اور انہوں نے ابھی کوئی وزارت بھی نہیں سنبھالی ہے۔ امیتابھ دوبے کے ذریعے بھیجی گئی رپورٹ کافی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ وہ راہل گاندھی کے بہت قریبی اور ان کے محکمے کو سنبھالتے ہیں۔ اس لئے اسے بھارت کی سیاسی حالت کا پوری طرح سے تجزیہ مانا جارہا ہے۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Digvijay Singh, Manmohan Singh, Sonia Gandhi, Vir Arjun

نیراراڈیا دیش سے فراری کی تیاری میں ہیں؟



Published On 3rd November 2011
انل نریندر
ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے کی اتنی باریکی جانکاری اگر نیرا راڈیہ کے ٹیپ اجاگر نہ ہوتے تو شاید کبھی پتہ نہ چلتا۔ نیرا راڈیا کے رتن ٹاٹا، مکیش امبانی، ویر سنگھوی، برکھا دت سے ہوئی بات چیت کواگر ٹیپ نہیں کیا جاتا تو اتنی تفصیلات کا پتہ نہیں لگ پاتا۔ اس نقطہ نظر سے نیراراڈیا کا اس گھوٹالے کو اجاگر کرنے میں اچھا تعاون رہا ہے۔ اب خبر آئی ہے کہ نیرا راڈیا نے اچانک اس کاروبار کو ترک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نیرا راڈیا نے اپنی مقبول ترین کنسلٹنٹسی دینے والی اپنی کمپنی ویشنوی کمیونی کیشن کو بند کرنے کا بھی فیصلہ لیا ہے۔ پچھلے سال راڈیا کی بات چیت افشا ہونے کے بعدوہ سرخیوں میں رہیں۔ حالانکہ ان کے خلاف کوئی چارج شیٹ تو نہیں داخل ہو پائی لیکن سی بی آئی نے انہیں بھی گواہ بنایا ہے۔ نیرا نے یہ بیان میں کہا کہ خاندان کے تئیں جوابدہ اور صحت کو ترجیح دیتے ہوئے میں نے کسی بھی گراہک کے ساتھ معاہدہ یا تجدید نہ کرنے اور کنسلٹنٹسی سروس کاروبار سے ہٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔ خبر ہے کہ نیرا راڈیا نے تمام ویشنوی کمیونی کیشن کے ملازمین کو 10 سال کا تحفہ کمپنی بند ہونے کی شکل میں دیا ہے۔ کمپنی کے قیام کے 10 سال پورے ہورہے تھے ایک دن پہلے ہی راڈیا بزنس بند کرنے کا ای میل بھیج دیا۔ اب زیادہ تر ملازمین کو نئی نوکری کے لئے پریشانی ہوسکتی ہے۔ راڈیا کی کمپنی ویشنوی کمیونی کیشن پرائیویٹ لمیٹڈ 2001 میں بنائی گئی تھی۔ بعد میں اسے صرف ٹاٹا گروپ کا پی آر ورک دیکھنے کا ذمہ دے کر تین کمپنیاں اور بنائی گئیں۔ مکیش امبانی کی ریلائنس کا کام دیکھنے کے لئے نیوکام اور باقی کمپنیوں کا کام دیکھنے کے لئے وٹ کام اور نوئیسیس چاروں کمپنیوں کے قریب200 ملازمین کو اب نئی نوکری تلاشنی ہوگی۔ گروپ کے ساتھ پہلے سے جڑے رہے کچھ لوگوں کو اس سارے معاملے میں کوئی لمبا پلان نظر آرہا ہے جسے سمجھنے میں وقت لگ سکتا ہے۔
نیرا راڈیا کے فیصلے سے سی بی آئی الجھن کی حالت میں ہے۔ سی بی آئی نے نیرا راڈیا کو ایک گواہ بنا رکھا ہے۔ سی بی آئی کا کہنا ہے کہ راڈیا کو عدالت کو اپنے فیصلے کے بارے میں بتانا پڑے گا۔ حالانکہ سی بی آئی اپنے گواہوں پر کسی طرح کا دباؤ تو نہیں بنا سکتی لیکن آخری فیصلہ تو عدالت میں ہی ہوگا۔ سی بی آئی کو یہ بھی شبہ ہے کہ نیرا راڈیا دیش چھوڑ کر بیرونی ملک میں بس سکتی ہیں۔ قابل ذکر ہے انکم ٹیکس محکمے نے 2008-09 میں نیرا راڈیا کی باتوں کو ٹیپ کرکے معاملے کا پردہ فاش کیا تھا۔ انکم ٹیکس محکمہ بھی راڈیا کے بھاگنے سے پریشان اور حیران ہے کیونکہ ابھی تو انہیں انکم ٹیکس کی چوری کے معاملے کا جائزہ بھی لینا ہے کہ نیرا راڈیا کو کتنا ٹیکس جمع کرانا ہے۔ ممکن ہے کہ عدالت انہیں ملک چھوڑنے سے منع کردے یا کوئی سرکاری ایجنسی انہیں دیش چھوڑ کر بھاگنے سے روکے۔
2G, Anil Narendra, CBI, Daily Pratap, Neera Radia, Ratan Tata, Vir Arjun

02 نومبر 2011

میڈیاکا گلا گھونٹنے کی تیاری



Published On 2nd November 2011
انل نریندر
جب ہمارے دادا جی سورگیہ مہاشہ کرشن جی نے پرتاپ اخبار شروع کیا تھا تو اس وقت صحافت ایک مشن ہوا کرتی تھی۔ اس وقت مشن تھا بھارت کی آزادی۔ اس مشن کو لیکر انہوں نے اپنا تن من دھن سب کچھ لگادیا۔ لیکن آج میں دیکھتا ہوں کہ صحافت ایک مشن نہیں بلکہ ایک پیشہ بن گیا ہے۔ خاص طور پر ان الیکٹرانک چینلوں کے آنے سے آج وہ زیادہ تر ایک تجارتی پیشہ بن گئی ہے۔ ہر پیشے یا کاروبار کے کچھ قاعدے اور پیمانے ہوتے ہیں۔ اسی بات کو ذہن میں رکھ کر بھارتیہ پریس کونسل کا قیام عمل میں آیا تھا۔ اس نے ڈیڑھ دہائی پہلے اخبارات ،جریدوں اور خبر رساں ایجنسیوں کے لئے قواعدو ضوابط تیار کئے تھے اور کچھ سال بعد ان میں ترمیم بھی کی۔ اس دفعہ میں دی گئی ہدایتیں وسیع طور پر مفاد عامہ سے وابستہ رہی ہیں۔ مثال کے طور پرفرقہ وارانہ واقعات کی خبر دیتے وقت کس طرح کی ہوشیاری برتی جائے۔ تشدد کو کسی بھی صورت میں ہوا نہ دی جائے۔ کسی کے ذاتی معاملوں سے بچا جائے۔ خبر یا الزام سے متاثرہ شخص کو وضاحت کرنے کی جگہ دی جائے۔ آبروریزی کا نشانہ بنی لڑکی کا اصل نام یا پتہ نہ دیا جائے وغیرہ وغیرہ۔ ان پیمانوں کو پرنٹ دنیا نے بڑی سنجیدگی سے قبول کیا ہے لیکن الیکٹرانک میڈیا کے آنے سے یہ تصویر بدل گئی ہے۔ ٹی آر پی کی دوڑ میں ایک چینل دوسرے چینل کو مات دینے کے چکر میں لگ گئے ہیں اور کئی بار مقررہ ضابطوں کی حدود کو پار کرگئے۔ پھر جب گھوٹالوں کا دور آیا تو الیکٹرانک چینلوں نے ایک کے بعد ایک گھوٹالے کو ہائی لائٹ کیا اور متاثرہ پارٹیاں روز روز کے نئے انکشافات کرنے سے پریشان ہوگئی ہیں۔ ان میں سرکار سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ اچانک پریس کونسل نے ایسی رائے ظاہر کی ہے جس سے اس کے اور میڈیا کے درمیان کٹھاس پیدا ہوسکتی ہے۔ غور طلب ہے پریس کونسل کے چیئرمین جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے پچھلے دنوں کہا کہ حکومت نجی سیکٹر اور دانشورانہ طبقے میں یہ تصور مضبوط ہوتا جارہا ہے کہ میڈیا کا ایک حصہ بیحد غیر ذمہ دارانہ ڈھنگ سے کام کررہا ہے۔ غلط اور گمراہ کن رپورٹنگ کرنے ، واقعات کو ذاتیات کے نظریئے سے پیش کرنے اور سنسنی پھیلانے کا ٹرینڈ بڑھ رہا ہے۔ اسے سنجیدگی سے لینے اور قصورواروں پر لگام کسنے کی ضرورت ہے۔ ایک ٹی وی چینل کو دئے گئے ایک انٹرویو میں جسٹس کاٹجو نے بتایا کہ انہوں نے وزیر اعظم کو خط لکھا ہے کہ میڈیا کو پریس کونسل کے دائرے میں لایا جانا چاہئے۔ انہوں نے پریس کونسل کا نام بدل کر میڈیا کونسل کرنے کی بھی صلاح دی ہے اور اسے زیادہ اختیار دینے چاہئیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم کا جواب مل گیا ہے جس میں انہوں نے کہا اس پر غور کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس سلسلے میں لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج سے بھی ملے ہیں۔ سشما جی نے ان سے کہا کہ ممکنہ طور پر اس بارے میں اتفاق رائے ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پریس کونسل کو غیر ذمہ دارانہ ڈھنگ سے برتاؤ کرنے والے میڈیا اداروں کا لائسنس منسوخ کرنے اور اسے ملنے والے سرکاری اشتہارات بند کرنے کا بھی اختیار دیا جانا چاہئے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ میڈیا کی آزادی پر اس سے آنچ تو نہیں آئے گی۔ جسٹس کاٹجو نے کہا کہ جمہوریت کے تئیں ہر کوئی جوابدہ ہے۔ کوئی بھی آزادی بے لگام نہیں ہوتی ہے۔ میں بھی جوابدہ ہوں ، آپ بھی جوابدہ ہیں۔ ہم سب جنتا کے تئیں جوابدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی وی چینلوں پر ہونے والے مباحثے بے تکے ہیں۔ یہ کوئی شور مچانے کا مقابلہ نہیں ہے۔ انہو ں نے تلسی داس کی چوپائی ''بھے بنو ہوئے نہ پریت '' کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کو بھی کچھ ڈر ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا میڈیا کبھی کبھی مفاد عامہ کے خلاف کام کرنے لگ جاتا ہے۔ مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب کبھی ممبئی ، دہلی، بنگلور میں کہیں بھی بم دھماکے ہوتے ہیں تو کچھ ہی گھنٹوں میں ہر چینل یہ دکھانے لگ جاتے ہیں کہ انہیں ای میل یا ایس ایم ایس ملا ہے جس میں انڈین مجاہدین، جیش محمد یا حرکت الانصار یا مسلم نام والی کسی بھی تنظیم نے اس دھماکے کی ذمہ داری لی ہے۔ انہوں نے کہا آپ کو جو ای میل یا ایس ایم ایس ملتا ہے وہ کسی شرارتی عناصر کا کام بھی ہوسکتا ہے لیکن ٹی وی چینل پر اس طرح دکھائے جانے لگتے ہیں جیسے کہ سارے مسلمان ہی آتنکی ہوں یا بم پھینکنے والے ہوں۔ جسٹس کاٹجو نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ سب جان بوجھ کر جنتا میں تلخی پیدا کرنے کی کوشش کے لئے کیا جاتا ہے۔ یہ حرکت پوری طرح ملک دشمن ہے۔
ہم جسٹس کاٹجو کا بہت احترام کرتے ہیں لیکن ان سے معافی مانگیں گے کہ ہم ان کے نظریات اور تبصروں سے متفق نہیں ہیں۔ میڈیا کا کام ہے سچائی دکھانا چاہے وہ کتنی کڑوی کیوں نہ ہوں۔ یہ کہنا کہ میڈیا جان بوجھ کر فرقہ وارایت کو ہوا دے رہا ہے، سرکار کا رویہ غلط اور افسوسناک ہے۔ ہم بتانا چاہیں گے کہ پریس کونسل کو سرکارکا بھونپو نہیں بننا چاہئے۔اس کی تشویش وہی ہونی چاہئے جو سرکار کی ہے۔ یہ تشفی کی بات ہے کہ دونوں ہی زبان اور لہجے میں ایک ہی نظریہ اپناتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ سرکار کو جہاں پورا میڈیا غیر ذمہ دار نظر آتا ہے وہیں جسٹس کاٹجو نے میڈیا کے ایک حصے الیکٹرانک میڈیا کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔ کاٹجو ایسے اقدامات تجویز کررہے ہیں جو میڈیا کی آزادی کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ کیا اب سرکار ہر اخبار، ہر چینل کو ان کے حساب سے چلائے گی؟ اگر ایسا نہیں ہوتا تو اس کو نقصان پہنچانے کے لئے اشتہارات روکنے کی دھمکی دی جائے گی؟ جسٹس بھی مانتے ہیں کہ میڈیا کو ہانکا نہیں جاسکتا مگر وہ جو تجویز دے رہے ہیں وہ اگر قانونی شکل میں آجائے تو منموہن سنگھ کی یوپی اے سرکار ان کا ڈنڈے کی طرح استعمال کرنے میں ہچکچائے گی نہیں۔ صحافت کے پیمانوں کی تعمیل ہر اخبار اور چینل کو یقینی کرنی ہوگی مگر ایسی کسی بھی تجویز کے بارے میں نہ سوچا جائے جو سرکار کے لئے میڈیا پر اپنی مرضی تھونپنے کا ایک ذریعہ بن جائے۔ سرکار کو میڈیا کا گلا گھونٹنے سے بچنا چاہئے۔ بہتر ہو کہ وہ تاریخ سے کچھ سبق ہے۔ پہلے بھی ایسا کرنے کی ناکام کوشش ہوچکی ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Justice Katju, Press Council of India, Role of Media, Vir Arjun

01 نومبر 2011

آبادی اور بھارت کی چنوتیاں



Published On 2nd November 2011
انل نریندر
 اقوام متحدہ کی ویب سائٹ میں دو دن پہلے بھارت کو بے تحاشہ آبادی بڑھانے کے معاملے میں آگاہ کیا گیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ آبادی بڑھنے کی رفتار یہ ہی بنی رہی تو اگلی چار دہائیوں میں بدحالی کے جال میں پھنس جائے گا۔فلپین کی راجدھانی منیلا میں سات ارب ویں بچے کی پیدائش ایتوار کو درج کی گئی۔ پہلے اندازہ لگایا گیا تھا سات ارب کی آبادی کی علامت بچہ اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں پیدا ہوگا۔ اس کے لئے غیر سرکاری تنظیموں نے ماں بننے والی خواتین کی بھی نشاندہی کی تھی اور ان کی نگرانی بھی شروع کردی گئی لیکن طے وقت سے کچھ سیکنڈ پہلے لکھنؤ کو یہ وقار حاصل نہیں ہوسکا۔ اقوام متحدہ کے مبصرین نے یہ وقار منیلا کے ایک ہسپتال میں پیدا بچے کا نام درج کیا ہے۔اقوام متحدہ نے اپنی ویب سائٹ میں آبادی کے اس دھماکے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ کہا گیا ہے کہ اس طرح سے شہری پھیلاؤ کی رفتار تیز ہے اس سے 2050 تک آبادی کا 70 فیصد حصہ شہروں میں بس جائے گا۔ خیال رہے تاریخ میں پہلی بار صرف13 سال میں آبادی 1 ارب بڑھ گئی ہے تو اس کی وجہ دیگر شہروں میں انسان کی کامیابیاں ہیں۔ صحت کی بہتر دیکھ بھال، بنیادی چیزوں کی زیادہ دستیابی اور غیر فطری موتوں میں کمی کے اسباب آج انسان کی اوسط زندگی 68 سال ہے جبکہ1950 میں یہ عمر حد48 سال ہوا کرتی تھی۔ زیادہ لوگوں کا مطلب غذائیت ،پانی اور دیگر سہولیات کے ساتھ ساتھ گلوبل وارمنگ کا اندیشہ بھی ہے جس سے آب و ہوا کی تبدیلی کی چنوتی زیادہ ہوسکتی ہے۔دنیا کا ہر چھٹا آدمی ہندوستانی ہے۔ اگر دنیا میں اناج یا پانی کی کمی سنگین رخ اختیار کرلیتی ہے تو اس کا سیدھا اثر بھارت کی زندگی اور ترقی کی توقعات پر پڑے گا۔ اس لئے ہمارے منصوبہ کاروں کو نئے حالات کے لئے تیار رہنا ہوگا۔ ویسے بھی یہ چنوتی ختم ہونے والی نہیں ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق جو ایجادات اور انسانی سماج میں بڑھتی ذمہ داری نے آبادی کے اضافے کو گھٹا دیا ہے۔ آج دنیا کی آبادی ہر سال 1 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے جبکہ 1960 ء کی دہائی کے آخر تک یہ2فیصدی تھی۔ 1970ء میں دنیا میں فی خاتون 4.45 بچوں کا جنم ہوتا تھا جو شرح اب گھٹ کر2.45 تک آچکی ہے۔ یہ امید ایک حقیقی ہے لیکن فی خاتون2.1 بچے کی پیدائش کا نشانہ حاصل کرلیا جائے گا جس سے آبادی مستحکم ہوسکتی ہے۔ یعنی اگر مستقبل قریب کے حالات کو سنبھال لیا گیا تو پھر انسانیت کی خوشحال مستقبل کی امیدوں کو تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ ہندوستان میں اس سمت میں کام ہورہا ہے لیکن ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ کبھی کبھی یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ مذہب فیملی پلاننگ کا راستہ روک دیتا ہے۔ ہمیں ان باتوں سے اوپر اٹھنا ہوگا اپنے لئے نہ سہی لیکن اپنی آنے والی نسلوں کے لئے ہی سہی۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Population, UNO, Vir Arjun

فارمولہ 1- کی دنیا میں اب بھارت بھی شامل ہوا



Published On 1st November 2011
انل نریندر
 گریٹر نوئیڈا میں ایتوار کا دن کھیلوں کی دنیا میں انتہائی اہمیت کا حامل اور تاریخی رہا۔ یہاں بودھ انٹرنیشنل سرکٹ پر پہلی انڈین گراپری کا فائنل مقابلہ ہوا۔ اسی کے ساتھ ہی دیش کا نام گراپری تاریخ کے ان سنہرے اوراق میں درج ہوگیا ۔ فارمولہ۔1 کی تاریخ کی جڑیں1947 ء سے بھی پہلے یوروپین گراپری موٹر ریسنگ سے وابستہ ہیں۔ 1920 اور 1930ء میں گریٹر دوڑ منعقد کی گئی تھی۔ حالانکہ فارمولہ۔1 کا آغاز 1946 ء میں فیڈریشن انٹرنیشنل آٹو موبائل کے قواعد کے مطابق ہوا۔ 1950 ء میں ورلڈ ڈرائیورس چیمپئن شپ منعقد کی گئی تھی۔ برطانیہ میں1960-70 میں اس ریس کا انعقاد ہوا اور جنوبی افریقہ میں 1983ء میں ایسی ریس کا انعقاد کیا گیا۔ پھر بڑھتی مقبولیت کے چلتے میکسیکو اور ابوظہبی اور سنگاپور فارمولہ 1- ریسنگ شہر کے طور پر سامنے آئے۔ دراصل یہ کھیل موٹر اسپورٹس کا حصہ ہے۔ فارمولہ1- موٹراسپورٹس کا سب سے اوپری مرحلہ ہے۔ یہ ریس آدمی اور مشین مل کر کھیلتے ہیں۔ دونوں میں تال میل سے ہی ہار جیت کا فیصلہ ہوتا ہے۔ یہ تکنیکی و رفتار اور ہنر کا انوکھا سنگم ہے۔
ایتوار کو منعقدہ پہلی انڈین گراپری ریس میں پچھلے سال کے ورلڈ چمپئن اور اس سال خطاب پہلے ہی اپنے نام کرچکے ریڈ بل ریسنگ ٹیم کے ویٹل نے بودھ انٹر نیشنل سرکٹ میں کسی کو موقعہ تک نہیں دیا اور بی آئی سی سی کے لیپ انہوں نے ایک گھنٹہ30 منٹ میں 35.00 دو سیکنڈ میں پورا کرکے جیت درج کرلی۔ دو بار ڈرائیورس چمپئن شپ جیتنے والے ویٹل نے یہ کارنامہ سب سے کم عمر میں کرنے کا نیا ریکارڈ بنا کر دکھایا۔ ریس میں حصہ لینے والے ڈرائیورس نے ریس کے بعد کہا کہ بودھ انٹرنیشنل سرکٹ دنیا کے بہترین سرکٹوں میں سے ایک ہے۔ ایتوار کے دن ہندوستان ہی نہیں پوری دنیا نے F-1 ریسنگ میں گلیمر، چمک دمک ، جشن اور رفتار کا حیرت انگیز مزہ لیا۔ ریسنگ ٹریک جے پی اسپورٹس انٹرنیشنل کمپنی نے چار کروڑ ڈالر کی لاگت سے تیار کیا تھا۔ فارمولہ1- ریس محض رفتار کا ہی ایک تفریح نہیں بلکہ یہ بھارت کی رفتار ہے۔ بھارت کا وقار اور شان ہے۔ کامن ویلتھ کھیلوں، گھوٹالوں سے بدنام ہوئے ہندوستان کو اس مائنڈ گلوئنگ ریس کے کامیاب انعقاد سے بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی ہے۔ ہندوستانی فلم صنعت کے ذریعے کئے جانے والے شاندار انعقاد کی طرح ایتوار کو فلمی ستاروں، کھلاڑیوں کا گلیمر کا زبردست تڑکا لگا۔ بھارت ایک بہت بڑا بازار ہے اور دنیا کی سبھی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں بھارت میں اپنے پیر جمانا چاہتی ہیں۔ اس ریس سے بھارت کی ساکھ کو بین الاقوامی سطح پر انڈیا کے طور پر مقبولیت ملے گی۔ کئی بین الاقوامی ایجنسیوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ وقت پر یہ ٹریک تیار نہیں ہوگا۔ اس میں کئی خامیاں گنائی گئیں لیکن بھارتیوں نے دکھا دیا ہے کہ اگر وہ چاہے تو وہ کچھ بھی حاصل کرسکتے ہیں۔
Anil Narendra, Buddha Circuit, Daily Pratap, F1, Greater Noida, India, JP Group, Vir Arjun 

کانگریس کا بہن جی پر تازہ حملہ منریگا میں لوٹ کھسوٹ



Published On 1st November 2011
انل نریندر
جیسے جیسے اترپردیش میں اسمبلی چناؤ قریب آتے جارہے ہیں ویسے ویسے یہاں کی سیاست کی رفتار تیز ہوتی جارہی ہے اور کانگریس نے مایاوتی کی سرکارپر حملے تیز کردئے ہیں۔ اترپردیش کی وزیر اعلی مایاوتی کے ذریعے وزیراعظم کو لکھے 100 سے زیادہ خطوط کے جواب میں کانگریس کے ایک خط نے بسپا کو شش و پنج میں ڈال دیا ہے ۔ سو سنار کی بنام ایک لوہار کی کہاوت صادق آرہی ہے۔کانگریس نے اس خط کے ذریعے بہن جی کو بیک فٹ میں لانے کی کوشش کی ہے۔ کسی بھی ریاست میں کسی بھی گھوٹالے کی سی بی آئی جانچ حکمراں پارٹی کو پریشانی میں ڈالنا کانگریس کو اچھی طرح سے آتا ہے۔ سی بی آئی کے ذریعے سے اپنے سیاسی داؤ کھیلنے سے کانگریس قباحت نہیں کرتی۔ اترپردیش میں بسپا کے ممبران و ممبران پارلیمنٹ اور وزرا سے وابستہ کئی معاملوں میں چل رہی ہے ان میں قومی گرامین ہیلتھ مشن یعنی این آر ایم ایم کا بڑا گھوٹالہ بھی شامل ہے۔ اس میں ایک ہسٹری شیٹر ممبر پارلیمنٹ ، دو داغی وزیر کے ساتھ کئی اور لیڈر بھی گھیرے میں ہیں۔ لیکن منریگا کا گھوٹالہ اسمبلی چناؤ کو دیکھتے ہوئے زیادہ اہم ہے کیونکہ اس کا دائرہ کافی بڑا ہے اور اس کا سیاسی اثر بھی زیادہ پڑے گا۔ اس وقت تقریباً درجن بھر ضلعوں میں منریگا کو لیکر سنگین شکایتیں سامنے آئی ہیں۔ چناؤ مہم کے دوران سرکاری لوٹ کھسوٹ کا اشو کانگریس زور شور سے اٹھائے گی، یہ ہی سوال بسپا کو الجھن میں ڈال سکتا ہے۔ کیونکہ اس کا مینڈیڈ سیاست کے جرائم کرن کے ساتھ لوٹ اور وصولی کے چلتے کھسک رہا ہے۔ مایاوتی جب2007 ء میں برسر اقتدار آئیں تھیں تو آپ نے206 سیٹیں جیتی تھیں اور بسپا کو30.43 فیصدی ووٹ ملا تھا لیکن اس کے بعد کانگریس نے بڑھت لی اور 2009 ء کے لوک سبھا چناؤ میں بسپا کا ووٹ بینک تین فیصدی گر کر 27.42 فیصدی رہ گیا۔ اسمبلی کے سیٹوں میں اسے تبدیل کرنے پر لوک سبھا چناؤ میں بسپا تقریباً اپنی آدھی صلاحیت پر پہنچ گئی ہے۔
کانگریس کچھ عرصے تک تو انا ہزارے کی تحریک سے بیک فٹ پر رہی لیکن اب وہ اس سے باہر نکلتی دکھائی دے رہی ہے۔ کیونکہ ٹیم انا میں اختلافات اور تقسیم سامنے آگئی ہے۔ سرکاری لوٹ کھسوٹ اور سیاسی غنڈہ گردی کے خلاف کانگریس گاؤں گاؤں میں لوگوں کو منظم کرے گی ۔ وہ یہ سوال ضرور اٹھائے گی کہ بسپا نے پردیش کو کہاں پہنچا دیا ہے۔ مرکزی سرکار نے اترپردیش کے بلرام پور ، گونڈا، مہوبہ، سون بھدر، سنت کبیر نگر، مرزا پور اور کشی نگر سمیت سات ضلعوں میں منریگا کے تحت کرپشن کی سی بی آئی جانچ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مرکزی وزیر زراعت فروغ جے رام رمیش نے وزیراعلی کو خط لکھ کر اس پر رضامندی مانگی ہے۔ رمیش نے وزیر اعلی کو لکھے خط میں کہا ہے کہ اترپردیش میں مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار گارنٹی یوجنا (منریگا) کا سالانہ بجٹ پانچ ہزار کروڑ روپے سے زیادہ ہوگیا ہے۔ دیگر ریاستوں کے مقابلے میں منریگا کا حال خراب ہے۔ مرکز کی جانب سے منریگا کے کاموں کی نگرانی کے لئے مقرر قومی مونیٹروں کی 22 رپورٹوں میں سنگین بے قاعدگیاں پائی گئی ہیں۔ بہن جی کانگریس کے اس تازے حملے سے کیسے نمٹتی ہیں یہ دیکھنا باقی ہے۔
Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, CBI, Congress, Daily Pratap, Jairam Naresh, MANREGA, Mayawati, Uttar Pradesh, Vir Arjun 

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...