Translater

27 ستمبر 2014

214 کول بلاکوں کا الاٹمنٹ منسوخ!

آخر کار سپریم کورٹ نے کوئلہ کھانوں کی وہ سبھی الاٹمنٹ منسوخ کردی ہیں جن کومنمانے ڈھنگ سے سال1993 سے لیکر2010 تک بانٹا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے 218 کول بلاکوں میں سے سرکاری کمپنیوں سے وابستہ4 کوئلہ کانوں کو چھوڑ کر باقی214 کو کھلی اور مقابلہ جاتی نیلامی کیلئے راستہ صاف کردیا ہے۔ جن 46 کھانوں کو ان سے کوئلے کی پیداوار شروع ہونے کی بنیادپر راحت ملنے کی تھوڑی امید تھی سپریم کورٹ نے انہیں کوئی بھی رعایت نہیں دی۔ حالانکہ ان کھانوں سے وابستہ کمپنیوں کو آئندہ چھ مہینے تک پیداوار جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے تاکہ کوئلے کی موجودہ قلت اور نہ بڑھ جائے کیونکہ ان کھانوں کے الاٹمنٹ میں منمانی ایک گھوٹالے کی شکل لیکر سامنے آچکی تھی اس لئے اسی طرح کے فیصلے کی امید کی جارہی تھی اس لئے اور بھی کیونکہ خود مرکزی سرکار نے یہ کہا تھا کہ ایسے کسی فیصلے سے اسے اعتراض نہیں ہوگا۔ ایک ساتھ اتنی بڑی تعداد میں کوئلہ کھانوں کی الاٹمنٹ منسوخ ہونا پالیسیوں کو نافذ کرنے میں منمانی برتنے کے مضر اثرات کی علامت ہے۔ قدرتی وسائل کے معاملے میں اس طرح کی منمانی اور جانبدارانہ رویہ تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے پہلے ہی بحران میں پھنسی معیشت کے لئے اور بھی مشکلیں کھڑی ہوسکتی ہیں۔ کوئلہ بلاک الاٹمنٹ گھوٹالے میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے پچھلے 21 برس کے دوران اقتدار اعلی میں رہی پانچ حکومتوں کے چہرے پر سیاہی پوت دی ہے کیونکہ ان برسوں میں13 سال تک کانگریس یا اس کی رہنمائی والی سرکار رہی ہے اس لئے فیصلے کی سیاہی سب سے زیادہ اسی کے حصے میں آئی۔ سپریم کورنے بے قاعدگیوں کی وجہ سے جن 14 کول بلاکوں کی الاٹمنٹ منسوخ کی ہے ان میں سب سے زیادہ الاٹمنٹ نرسمہا راؤ اور منموہن سنگھ سرکار کے دور عہد میں ہوئیں۔ اس دوران لمبے وقت تک اس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ کے پاس کوئلہ وزارت کی بھی ذمہ داری تھی اور تقریباً دو تہائی کوئلے بلاکوں کا الاٹمنٹ بھی اسی دور میں ہوا۔ اس کوئلہ گھوٹالے میں جب سی اے جی نے انکشاف کیا اور 1.86 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا معاملہ سامنے آیا تو دیش کو بہت حیرت ہوئی لیکن زیادہ حیرت دھاندلی کے بعد حکمرانوں کی سینا زوری کو دیکھ کر ہوئی۔ زخموں پر نمک چھڑکنے کے انداز میں دلیلیں دی گئیں۔ جب کوئلہ زمین سے نکلا ہی نہیں تو نقصان کیسا؟ کانگریس کے لیڈروں اور وزرا نے اس وقت کے سی اے جی ونود رائے پر شخصی حملے کئے لیکن اس وقت کے وزیر اعظم سے سوال ہوئے تو انہوں نے ہزاروں جوابوں سے بہتر خاموشی اختیار کرنا ہی بہتر سمجھا۔ جب سول تنظیموں کی کوشش سے جانچ شروع ہوئی تو بعد میں یہ شرمناک انکشاف ہوا۔ ایک مرکزی وزیر اور پی ایم او میں افسر سی بی آئی کی جانچ رپورٹ میں تبدیلی کرانے میں لگے رہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے یہ فیصلہ مودی سرکار کے لئے آفت ثابت ہوسکتا ہے ۔ جب دیش کی معیشت میں کوئی بہتری کے آثار دکھائی دے رہے ہوں تب اس طرح کی چوٹ سے بڑا نقصان ہو سکتا تھا۔ کوئلہ الاٹمنٹ منسوخ ہونے کا اثر چوطرفہ ہوگا۔ بینکوں، فولاد اور بجلی سمیت کئی نجی اور پبلک سیکٹر کی کمپنیوں پر سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا اثر پڑے گا کیونکہ کوئلہ سیکٹر اور ان کے 7.65 لاکھ کروڑ روپے کا داؤ لگا ہے۔ سب سے زیادہ اثر بینکوں پر ہوگا۔ یہ ٹھیک ہے کوئلہ کھانوں کے الاٹمنٹ منسوخ ہونے کے بعد مرکزی سرکار نے ایک نئی شروعات کرنے کی بات کہی ہے لیکن اس کام میں دیری نہیں ہونی چاہئے۔ اگر حکومت کو ایسا کوئی راستہ نکالنا ہوگا جس سے معیشت متاثر ہونے کے اندیشات کو دور کیا جاسکے۔ بہرحال ابھی اس بندر بانٹ کی سازش کی جانچ جاری ہے۔ ضروری ہے بڑے عہدوں پر رہے ان لوگوں کو بھی پوچھ تاچھ کے دائرے میں لایا جائے جن پر دیش کے وسائل کی حفاظت اور ان کے صحیح استعمال کا دارومدار تھا لیکن ان کے سامنے ان کی کھلی لوٹ ہورہی تھی۔
(انل نریندر)

کیا چین میں اقتدار کی لڑائی چل رہی ہے؟

مشرقی لداخ کے چمارمیں جس طرح سے چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے جوانوں کی سرگرمیاں جاری ہیں ، اس سے ان کے صدر جنپنگ کے دورہ بھارت سے پیدا جوش ہوا میں اڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ جنپنگ کی زبان پھر سے بدلی ہوئی ہے۔ بھارت کا نام لئے بنا وہ اپنی فوجوں کو علاقائی جنگ جیتنے کے لئے تیار رہنے کی صلاح دے رہے ہیں۔ یہ وہ ہی شی ہیں جنہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے چمار میں چینی فوجیوں کی دراندازی اور وہاں اڈے جمانے پر اعتراض پر اپنے فوجیوں کو فوراً واپس لوٹنے کے اشارے دئے تھے۔ حالانکہ آدیش کے باوجود چینی فوجی پوری طرح سے نہیں لوٹے ہیں۔ جن ملکوں میں برائے نام جمہوریت ہے وہاں فوج کا رول بہت مضبوط رہا ہے چاہے وہ پاکستان ہو یا چین۔دونوں ملکوں کی حکومتوں اور وہاں کی فوج کے درمیان فرق صاف دکھائی پڑتا ہے اور یہ فرق کہیں نہ چاہ کر بھی پیدا کیا جاتا ہے۔ پاکستان جمہوری حکومت اور بھارت سے تعلقات کو لیکر بہت سنجیدہ ہے۔ نواز شریف چاہتے ہیں کہ بھارت سے ان کا تعلق اچھا ہو۔ انہوں نے پچھلے مہینے اس بات کو صاف طور پر کہا تھا کہ بھارت سے تعلقات بہتر بنانا بہت ضروری ہیں ۔ مگر پاکستانی فوج مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتی آرہی ہے۔ سرحد پر اس کے جوان گولیاں برسا رہے تھے اور آخر میں ان کی بندوقیں خاموش ہوئیں جب ہندوستانی فوجیوں نے انہیں زبردست جواب دیا۔ دراصل وہاں کی فوج اور پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی بے لگام رہی ہے۔ جمہوری حکومتیں ان کے رحم و کرم پر چلتی ہیں۔ چین کے صدر سے وابستہ باتوں کے باوجود ان کے فوجیوں کے ذریعے امتیاز کا رویہ اپنانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ چینی سرکار اور فوج میں کتنا اختلاف ہے۔ جنپنگ کا اپنی فوج کو حکمراں کمیونسٹ پارٹی کے تئیں پوری وفاداری رکھنے اور سبھی احکامات کی تعمیل کرنے کی نصیحت دینا اس کا ثبوت ہے۔ چینی سرکاری اخبار ، ایجنسی زنہوا کے مطابق پیپلز لبریشن آرمی کے فوجی کمانڈروں کی میٹنگ میں جنپنگ نے فوج سے ڈسپلن کی سختی سے تعمیل کرنے اور بین الاقوامی اور گھریلو سلامتی کے تئیں بہتر سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کرنے کو کہا۔ انہوں نے چین آف کمانڈ کو درست رکھنے کی بھی صلاح دی۔ خیال رہے جنپنگ فوج پر کنٹرول رکھنے والے مرکزی فوجی کمیشن کے چیف اور حکمراں کمیونسٹ پارٹی کے سکریٹری جنرل بھی ہیں۔ ایسے میں ہم نہیں مان سکتے کہ ان کی فوج ان کے احکامات کو نظر انداز کرے۔ کیا اس کا یہ مطلب نکالا جاسکتا ہے کہ جنپنگ اور چینی فوج کے کمانڈروں میں اختلاف ہے اور چینی فوج ایک طرح سے اقتدار کی لڑائی میں لگی ہوئی ہے۔ یہ ماننا مشکل لگتا ہے کہ ہندوستانی سرحد میں چینی فوجیوں کی حرکتیں چینی سرکار کی جانکاری کے بغیر جاری ہیں؟ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ بھارت سے لوٹنے کے بعد جنپنگ نے پی ایل اے کے کچھ جنرلوں کو ترقی دے دی ہے۔ اور پی ایل اے کی تعریف کرنے کے ساتھ اس علاقے میں جنگ میں کامیاب ہونے کے لئے تیار رہنے کو کہا ہے۔ آخر کار شی جنپنگ کا علاقائی جنگ میں مطلب کیا ہے؟ کیا ان کا اشارہ چمار سیکٹر میں جاری کشیدگی کی طرف ہے؟ حیرانی کی بات یہ ہے کہ ان کے اس بیان کو بنیاد بنا کر پیدا خدشات کو چینی وزارت نے ان کو محض قیاس آرائیاں قراردیا ہے۔ موجودہ صدر بھی جنپنگ وہاں کے حکمراں نائک ہونے کے ساتھ ساتھ وہاں کی فوج کے چیف بھی ہیں۔ ایسے میں ممکن نہیں لگتا کہ ان کی فوج ان کے احکامات کی خلاف ورزی کرے۔ سرحد پر تقسیم کی صحیح نشاندہی نہ ہونے کی وجہ سے جنگ کی صورتحال کھڑی ہوسکتی ہے۔ مگر اسے الجھائے رکھنا چین کی حکمت عملی ہوسکتی ہے۔ یہ چین کی سیاسی منشا رہی ہے بیشک اس بات کا اندیشہ بالکل نہیں ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان پیدا کشیدگی جنگ میں تبدیل ہوجائے لیکن اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ چین کی اندرونی سیاست یا اقتدار کی جنگ تشویش کا باعث ہوسکتی ہے ساتھ ہی یہ چینی برتاؤ یہی بتاتا ہے کہ ان کی نیت میں کھوٹ ضرور ہے۔
(انل نریندر)

26 ستمبر 2014

افغانستان کا باعث تشویش مستقبل!

ایک پڑوسی ملک دوست ہونے کے ناطے بھارت کو افغانستان کی اندرونی سیاست پر گہری نگاہ رکھنی ہوگی۔ ویسے بھی اگر امریکہ وہاں سے جاتا ہے تو اس کے نتائج سے بھی ہندوستان کو اثر انداز ہونا پڑے گا۔ افغانستان میں مہینوں سے جاری سیاسی تعطل آخر کار مثبت سمجھوتے کے ساتھ ختم ہوگیا ہے۔ صدر کے دونوں امیدواروں کے درمیان اقتدار کی تقسیم کا معاہدہ کروا کر امریکہ نے افغانستان میں اپنا مقصد حاصل کرلیا ہے لیکن اس عمل میں جمہوری طریقے پر چناؤ کی توقعات کو ضرور دھکا لگا ہے۔ سمجھوتے کے تحت اشرف غنی صدر بنیں گے جبکہ ان کے حریف عبداللہ عبداللہ کو سرکار کے چیف ایگزیکٹو کا عہدہ ملے گا۔یہ عہدہ وزیر اعظم جیسا ہوگا جسے کافی اختیارات حاصل ہوں گے۔ لیکن کیا قومی اتحاد کی سرکار کی جمہوری ساکھ بھی ہوگی یہ تو آنے والا وقت بتائے گا۔ اپریل میں ہوئے چناؤ کی طالبان نے مخالفت کی تھی اس کے باوجود عام لوگوں نے بھاری تعداد میں حصہ لیا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ افغانستان کی عوام میں اپنی سرکار کو چننے اور جمہوری نظام کے قائم ہونے کی کتنی قوت خواہش ہے۔ لاکھ ٹکے کا سوال ہے کیا نئی سوال افغان عوام کی توقعات پر کھری اتر سکے گی؟ حقیقت یہ ہے کہ حامد کرزئی بھلے ہی ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک اقتدار میں رہے لیکن کابل سے ان کا کنٹرول نہ کے برابر تھا۔ ساتھ ساتھ ان کے انتظامیہ میں کرپشن بھی پھلا پھولا اور بے روزگاری بھی بڑھتی گئی۔ امریکہ اور نیٹو فوجوں کی واپسی کے اشو پر امریکہ کے ساتھ ان کی تلخی بڑھتی گئی۔ حالت یہاں تک بگڑ گئی کہ امریکہ چور دروازے سے طالبان سے بات کرنے کو تیار ہوگا۔ حقیقت میں افغانستان میں جمہوری سرکار بھلے ہی چل رہی ہے لیکن طالبان نے بھی ان برسوں میں پھر سے خود کو مضبوط کیا ہے اور جب امریکی فوج وہاں سے لوٹ جائے گی تو طالبان کے اور مضبوط ہونے کا اندیشہ ہے۔ غور طلب ہے کہ جون میں صدارتی چناؤ کے دوسرے دور کی پولنگ کے بعد جب ووٹوں کی گنتی میں غنی کو آگے بتایا گیا تھا تب عبداللہ عبداللہ نے چناؤ میں بھاری دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے نتائج کو ماننے سے انکار کردیا تھا۔ تب غنی اور عبداللہ کے حمایتیوں میں خون ریز جھڑپیں ہوئیں۔ یہ امریکہ کے لئے بری خبر تھی۔ اس کی امکانی تشویش افغانستان میں تعینات 31 ہزار امریکی اور 17 ہزار دیگر نیٹو فوجیوں کو نکالنے کی ہے۔ سیاسی اتھل پتھل کے درمیان یہ کام زیادہ مشکل ہوجاتا ہے۔ اس سال کے آخر تک امریکہ کا اپنی باقی فوج واپس بلانے کا پلان ہے۔ ایسے میں سیاسی تعطل کا پیدا ہونا، اقتدار کو کمزور کرنا اور طالبان کو اپنا اثر بڑھانے کا موقعہ ملے گا۔ افغان مسئلہ بھارت کے لئے بھی تشویش کا باعث ہے کیونکہ بھارت کا بہت کچھ داؤ پر ہے۔ یہاں کی حالت سے بھارت ، پاکستان اور یہاں تک کہ پوری دنیا کے لئے تشویش کا موضوع بن رہی ہے کیونکہ یہ دیش القاعدہ اور اس کے سرغنہ بن لادن کی سرگرمیوں کا ٹھکانا بنا رہا۔ آج بھی طالبان افغانستان کو سب سے محفوظ جگہ مانتا ہے۔ امید کرتے ہیں کہ نئی سرکار طالبان پر کنٹرول بنائے رکھنے میں کامیاب رہے گی۔
(انل نریندر)

بروقت اور صحیح مدد ملتی تو مقصود شاید بچ جاتا!

راجدھانی میں واقع چڑیا گھر میں منگل کو ایک انتہائی تکلیف دہ حادثہ ہوا۔ دوپہر قریب1 بجے ایک نوجوان جو چڑیا گھر گھومنے آیا تھا۔ سفید شیر کی تصویر لینے کے لئے اس کے باڑے کی دیوار پر چڑھا اور اندر پھسل گیا اور سوکھی کھائی میں گر گیا۔ 20 سالہ نوجوان مقصود شیر سے بچنے کیلئے قریب10 منٹ تک سفید شیر کے سامنے ہاتھ جوڑ کر امید کرتا رہا کہ شاید وہ بچ جائے اور اسے بچا لیا جائے۔ لیکن جب آس پاس کے لوگوں نے شیر کو اس سے دور کرنے کی کوشش میں پتھر بازی شروع کی تو شیر بگڑ گیا اور مقصود پر حملہ کرکے اس کی گردن پکڑ کر دور لے گیا۔ وہاں اس نے اسے بڑی بے رحمی سے مار ڈالا۔ ایک چشم دید نے سارا سین بیان کرتے ہوئے بتایا ہم سب لوگ چڑیا گھر گھوم رہے تھے۔ تبھی ہم نے دیکھا کہ ایک لڑکا سفید شیر وجے کے باڑے میں جھانک رہا ہے۔ وہ آگے کی طرف بار بار جھک رہا تھا۔ وہاں باڑے کی اونچائی کم تھی اتنے میں وہ لڑکا باڑے کے اندر جا گرا جو نالہ بنا ہوا ہے اس میں پانی نہیں تھا لڑکا اسی میں گرا۔ اتنے میں سفید شیر لڑکے کے پاس آٹپکا۔ لڑکا چپ چاپ بیٹھا رہا اور ہاتھ جوڑ کر معافی مانتا رہا یا اوپر والے سے دعا کرتا رہا کہ اسے بچا لے۔ تھوڑی دیر انتظار کرنے کے بعد شیر نے پہلے پنجا مارا پھر دور جاکر کھڑا ہوا لیکن تبھی کسی نے شیر پر پتھر ماردیا۔ اس پر شیر غرایا اور لڑکے کے پاس آکر جھپٹ پڑا۔ اس نے لڑکے کو گردن سے پکڑا اور گھسیٹ کر دور لے گیا۔ اسی درمیان سکیورٹی گارڈ بھی آگئے اور باڑے کی گرل پر ڈنڈے مارنے لگے۔ اس کے بعد شیر لڑکے کو گھسیٹنے لگا جس سے اس کی موت ہوگئی۔ لڑکے کی گردن سے خون بہہ رہا تھا۔ اس کی گردن کی ہڈی بھی دکھائی دے رہی تھی شاید وہ ٹوٹ چکی تھی۔ مقصود کو اگر بروقت مدد ملتی تو شاید اس کی جان بچائی جاسکتی تھی۔ شیر کے باڑے میں گرنے سے لیکر نوجوان کی موت کے درمیان 15 منٹ کا وقت تھا لیکن اسے بچانے کے لئے چڑیا گھر کے انتظامیہ کی طرف سے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔چڑیا گھر انتظامیہ شیر کو بیہوش کرنے کے ٹریکولائزر بندوق کا استعمال کرتا تو مقصود بچ جاتا۔ یہ بندوق موقعے کے قریب250 میٹر دور چڑیا گھر کے ہسپتال میں رکھی تھی لیکن اسے استعمال نہیں کیا۔ قاعدے کے مطابق خطرناک جانوروں کے باڑے کے پاس ٹریکولائزر( بے ہوش کرنے والی) بندوق کے ساتھ تین ملازم کی تعیناتی ہونی چاہئے۔ وہ تب تک تعینات رہیں گے جب تک چڑیا گھر عام جنتا کے لئے کھلا رہتا ہے۔ لیکن واقعے کے وقت کوئی بھی کرمچاری وہاں موجود نہیں تھا۔ ایک شیر ماہر کا کہنا ہے کہ شیر نے تو اس نوجوان کو چھوڑدیا تھا مگر لوگ پتھر نہ پھینکتے تو وہ بچ جاتا۔رنتھمبور فاؤنڈیشن کے ماہر پی ۔ کے سین نے بتایا کہ جنگل میں رہنے والے شیروں میں ضرور لوگوں کو مارنے یا شکار کرنے کی عادت ہوتی ہے لیکن وجے یہیں پیدا ہوا تھا اور اسی ماحول میں پلا بڑھا ہے،اس میں عام لوگوں کو مارنے کی نیت نہیں ہوسکتی۔ 
مقصود جب باڑے میں گرا تو شیر اس کے پاس آیا اور اس کو چاٹ کر چھوڑدیا اور مڑ کر جانے لگا تبھی لوگوں نے پتھر مارنے شروع کئے اور وہ غصے میں آگیا۔ ایسے میں خطرہ بھانپ کر اس نے نوجوان پر ہی حملہ کردیا۔کہیں نہ کہیں اس میں غلطی ان لوگوں کی بھی جنہوں نے شیر کو پتھر مارے۔ چڑیا گھر میں رہنے والے شیرعام طور پر غصے والے نہیں ہوتے تبھی تو دیش بھر میں کسی چڑیا گھر میں اس طرح کا حادثہ پہلے نہیں ہوا۔ مارا گیا لڑکا دہلی کے آنند پربت علاقے کا رہنے والا تھا اور وہ12 ویں کلاس کا طالبعلم تھا۔ چڑیا گھر کیوریٹر ریاض احمد خاں نے بتایا کہ سفید شیر کو دیکھنے کے لئے روزانہ ہزاروں لوگ چڑیا گھر آتے ہیں اور اطلاعاتی بورڈ پر صاف صاف لکھا ہے کوئی بھی سیاح جانوروں کو کسی طرح سے پریشان نہ کرے، خطرناک جانوروں سے ضروری دوری بنائے رکھیں، سفید شیر کو قید کرنے کیلئے چڑیا گھر انتظامیہ نے لوہے کی اونچی جال دار دیوار بنائی ہوئی ہے لیکن مقصود بے چارے کی موت آئی تھی اس لئے وہ دیوار پر چڑھا اور فوٹو کھینچنے کے چکر میں سفید شیر وجے کے باڑے میں جاگرا اور موت کا شکار ہوگیا۔
(انل نریندر)

25 ستمبر 2014

اسرو کی تاریخی کامیابی ہے’’ منگل مشن‘‘!

بدھ کے روز یعنی 24 ستمبر کی صبح جب دیش نیند کے خمارسے اٹھا ہی تھا کہ بھارت منگل کی دہلیز تک پہنچ چکا تھا۔ یہ خوشی اور فخر کی بات ہے کہ بھارت دنیا کا پہلا دیش ہے جو اپنی پہلی ہی کوشش میں ایسا کرنے میں کامیاب رہا۔ مریخ تک پہنچنے والے امریکہ ، روس اور یوروپ کی کئی کوششوں کے بعد ہی منگل کے مدار میں کئی علامتیں پائی گئی تھیں۔ تین سال پہلے چین بھی ایسی کوشش میں ہار چکا ہے۔ اس لئے اس کامیابی تک پہنچنے والے ہم پہلے ایشیائی ملک ہیں۔ زمین سے مریخ کی اوسطاً دوری تقریباً22 کروڑ50 لاکھ کلو میٹر ہے۔ اس دوری کو منگل یان (مریخ شٹل) نے قریب 80 ہزار کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے اس سفر کو طے کیا۔ منگل یا ن کو پچھلے سال5 نومبر کو 2 بجکر36 منٹ پر اسرو نے سری ہری کوٹا خلائی مرکز سے روانہ کیا تھا۔ اسے کولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل (پی ایس ایل وی) C25 کی مدد سے چھوڑا گیا تھا۔ اس پر 450 کروڑ روپے کی لاگت آئی ہے۔ اس منگل یان کا وزن 1350 کلو ہے۔ اس کو چھوڑے جانے کے بعد سے اس کے سفر میں 7 تبدیلیاں کی گئیں تاکہ یہ منگل کی سمت میں اپنا سفر جاری رکھ سکے۔ اس مہم کے پیچھے بھارت کا مقصد ہے کہ اس مشن کے تحت خلائی سائنس کے معاملے میں بھارت اپنا دبدبہ قائم کرے۔ حقیقت یہ ہی ہے کہ اگر بھارت اس مہم میں کامیاب ہوتا ہے تو اسے خلائی سائنس کے معاملے میں دنیا میں نیا مقام حاصل ہوجائے گا۔ منگل یان کے ذریعے بھارت مریخ ستارے پر زندگی کی علامتیں تلاشنے کے ساتھ وہاں کی آب و ہوا کی بھی جانچ کرنا چاہتا ہے۔ وہ یہ بھی پتہ لگانا چاہتا ہے کہ اس سرخ سیارے پر بھی میتھین موجود ہے یا نہیں؟ میتھن گیس کی موجودگی انسانی سرگرمیوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس کے لئے منگل یان کو قریب15 کلو وزن کے کئی انتہائی جدید ترین آلات سے نصب کیا گیا ہے۔ اس میں کئی پاور فل کیمرے بھی لگے ہیں۔میتھن کے علاوہ معدنیات کے بارے میں بھی پتہ چل سکے گا۔ اس سے ان اسباب کا بھی پتہ چل سکے گا جن کے چلتے کبھی زندگی کیلئیبہتر یہ سیارہ خوشک سالی کا شکار بن گیا۔ کیا ہماری زمین پر بھی کبھی ایسا زندگی اور موت کا خطرہ آیا تو کیا مریخ ہماری پناہ گاہ بن سکتا ہے؟ انسان کے وجود سے سیدھے جڑے ایسے سنگین سوالوں کے جواب اس مریخ سیارے سے وابستہ ہیں۔ ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ پچھلے دنوں خلائی مہم پر ہالی ووڈ میں ’’گریویٹی‘‘ نامی ایک فلم بنی تھی جس کا بجٹ ہماری اس منگل مہم سے دوگنا تھا۔ جو کام امریکہ4026 کروڑ روپے لگا کر ناسا نے کیا وہ ہم نے صرف450 کروڑ روپے میں کردکھایا۔ گریویٹی فلم کی لاگت بھی 600 کروڑ تھی۔ سستی لاگت لیکن بھروسے مند کوالٹی والی ہماری خلائی صنعت دنیا کو غریب اور ترقیافتہ ملکوں کے خوابوں کی تکمیل کرنے کا ذریعہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کامیاب مشن کا ایک اقتصادی فائدہ غیر ملکی سیٹیلائٹ لانچ کرنے میں ملے گا۔ ظاہر ہے خلائی بزنس کے معاملے میں بھی بھارت نئی چھلانگ لگا سکتا ہے۔ ویسے اب بھی بھارت کو غیرملکی سیٹلائٹ چھوڑنے کے کئی آرڈر مل چکے ہیں۔ اس انتہائی شاندار کامیابی پر اسرو اور تمام ہندوستانی سائنسدانوں کو بہت بہت مبارکباد۔ بھارت کی سنہری تاریخ میں ایک اور کامیابی جڑ گئی ہے۔
(انل نریندر)

چدمبرم اور ان کی بیوی تفتیشی ایجنسیوں کے راڈار پر!

مرکز میں تبدیلی اقتدار سے یوپی اے عہد میں ہوئے گھوٹالوں کی جانچ میں تیزی آنا فطری ہی بات ہے۔ یوپی اے حکومت میں جانچ ایجنسیوں پر حکمراں فریق کا دباؤ بنا ہوا تھا جو اب ختم ہوگیا ہے۔ جانچ ایجنسیاں بغیر کسی دباؤ کے اپنا کام کر سکتی ہیں اس کے نتیجے اب سامنے آنے لگے ہیں۔ پہلے نشانے پر ہیں سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم اور ان کا خاندان۔ ایئرٹیل میکسس معاملے میں چل رہی سماعت کے دوران سی بی آئی نے بتایا کہ سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم کے ذریعے ٹو جی سودے میں ایک آئی پی بی کو منظوری دی تھی۔ یہ منظوری دینا غلط تھی۔ معاملے کی جانچ افسر نے اسپیشل جج اوپی سینی کو بتایا کہ 80 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری جو 3500 کروڑ روپے بنتی ہے، ایک آئی پی بی کو منظوری دینا غلط تھا۔ اس کی جانچ ہورہی ہے کہ 2006ء میں ایئر ٹیل میکسس سودے میں چدمبرم نے کیسے غیر ملکی سرمایہ کاری ریگولیٹری بورڈ کو منظوری دے دی؟ اس نے کہا کہ وزیر خزانہ کو 600 کروڑ روپے تک کی منظوری دینے کا اختیار تھا لیکن چدمبرم نے80 کروڑ ڈالر کی منظوری دے دی جو قریب3500 کروڑ روپے بنتی ہے۔ چدمبرم نے یہ منظوری کیوں دی اس پر جانچ چل رہی ہے۔ ادھر کروڑوں روپے کے شاردا چٹ فنڈ گھوٹالے کی جانچ کی آنچ اب ان کے گھر تک پہنچ گئی ہے۔ جانچ کے سلسلے میں سی بی آئی نے سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم کی بیوی اور سپریم کورٹ کی وکیل نلنی چدمبرم سے پوچھ تاچھ کی ہے۔ ویسے جانچ ایجنسی کھل کر نلنی سے پوچھ تاتھ کے بارے میں نہیں بتا رہی ہے لیکن مانا جارہا ہے کہ ان سے گھوٹالے میں کڑی کے طور پر وابستہ ہونے کیلئے ایک کروڑ روپے فیس لینے کے بارے میں سوال پوچھے گئے ہیں۔ حالانکہ نلنی اس سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جانچ ایجنسی نے ان سے صرف کاروباری اشو پر ہی بات چیت کی۔ دراصل گھوٹالے کے انکشاف کے بعد شاردا گروپ کی چیف سدپتی سین نے سی بی آئی کے ڈائریکٹر کو ایک خط لکھا تھا جس میں بتایا تھا کہ قانونی صلاح کے لئے نلنی چدمبرم کو ایک کروڑ روپے کی فیس دینی پڑی تھی۔ سین کے مطابق سابق مرکزی وزیر منگل سنگھ کی بیوی منورنجنا سنگھ نے نارتھ ایسٹ کے ایک ٹی وی چینل کو لینے کے سلسلے میں نلنی سے قانونی رائے لینے کو کہا تھا۔ سی بی آئی کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ ایک قانونی صلاح کے لئے اتنی زیادہ فیس لینے کے بارے میں نلنی چدمبرم سے سنیچروار کو چنئی میں پوچھ تاچھ کی گئی۔ وہیں نلنی کا کہنا ہے کہ سی بی آئی نے مجھ سے کوئی پوچھ تاچھ نہیں کی۔ وہیں اڑیسہ میں سرمایہ کاروں کو کروڑوں روپے کا چونا لگانے والی پونجی کمپنی’’ارتھ تتو گروپ‘‘ کے ساتھ وابستہ ہونے کے الزام میں اڑیسہ کے سابق سرکاری وکیل اشوک موہنتی کو سی بی آئی نے گرفتار کرلیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ موہنتی کو کٹک میں ان کے گھر سے پکڑا گیا۔ حالانکہ موہنتی نے دعوی کیا کہ ارتھ تتو گروپ کے سی ایم ڈی پردیپ سیٹھی سے ایک مکان خریدنے کے علاوہ ان کا کمپنی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ جیسا میں نے کہا کہ تبدیلی اقتدار کے ساتھ دبے ہوئے گھوٹالوں میں ان بڑے لیڈروں کے رول کا شاید پردہ فاش ہوجائے؟
(انل نریندر)

24 ستمبر 2014

اور اب پاکستان میں بھی پیدا ہوا ایک ’پپو‘ بلاول بھٹو!

پاکستان پیپلز پارٹی کے نوجوان چیئرمین بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری کے بیٹے بلاول بھٹو نے کشمیر کے بارے میں ایک ایسا بیان دیا ہے جس وجہ سے وہ مذاق کا موضوع بن گئے ہیں۔ بلاول نے جمعہ کو ملتان میں پارٹی کے ورکروں سے خطاب میں کہا تھا میری پارٹی بھارت سے پورا کا پورا کشمیر حاصل کرے گی۔ میں اس کا ایک انچ حصہ بھی نہیں چھوڑوں گا۔ دیگر صوبوں کی طرح پورا کشمیر پاکستان کا حصہ ہے، ہم اسے بھارت سے واپس لے کر رہیں گے۔ اس دوران سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔ لگتا ہے کہ اب پاکستان کوبھی ایک ’’پپو‘‘ مل گیا ہے۔ ایک وقت تھا کہ بلاول کے نانا ذوالفقار علی بھٹو نے بھی کہا تھا پاکستان ہندوستان سے ایک ہزار سال تک جنگ جاری رکھے گا۔ دراصل پاکستانی لیڈروں کے سر پر سے کشمیر کا بھوت اترتا نہیں دکھائی پڑ رہا ہے۔ ایسا شاید اس لئے بھی کہ کٹر پسندوں اور آئی ایس آئی اور فوج کی تکڑی میں پھنسا اصلی اقتدار تک جمہوری پارٹی اور سرکاروں کی ویسی پکڑ نہیں بن پائی جیسی بھارت میں ہے جبکہ کٹر پسند آئی ایس آئی اور فوج کا گٹھ جوڑ بھارت مخالف تیوروں سے عوام کو ورغلائے رکھنے کے ساتھ ہی ذاتی مفاد کی تکمیل میں کامیاب دکھائی پڑتی ہے۔ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی کمان سنبھال رہے ان کے بیٹے بلاول نے کشمیر پر یہ متنازعہ بیان دے کر پاکستان کی سیاست پر پیٹ جمانے کا داؤ کھیلا ہے۔ ناتجربہ کاری اور بچکانی حرکتوں کے لئے بلاول پہلے بھی تنازعات میں رہے ہیں۔ غور طلب ہے کہ پاکستان کی سیاست اور فوجی تیاری بھارت اور کشمیر کے ارد گرد گھومتی ہے۔ پاکستان فوج اور سرکار کو اپنے زیر اثر رکھنے کو اس اشو کو استعمال کرتی ہے اور سیاسی پارٹی بھی کشمیر اشو کو ہوا دے کر اقتدار میں پہنچنے کے لئے کسرت کرتے رہتے ہیں۔ نانا ذوالفقار علی بھٹو ایک ہزار سال تک لڑنے کی بات کرتے کرتے پھانسی کے پھندے پر لٹک گئے۔ ممی بے نظیر بھٹو کشمیر کی آزادی کی بات کرتے کرتے اور اسے واپس لینے کی بات کرتے ہوئے گولی کا شکار بن گئیں۔پیڑھیاں بدلی ہیں مگر ذہنیت نہیں بدلی۔ پاکستان میں اگلے چناء میں ابھی چار سال باقی ہیں اور اپوزیشن کی تحریک سے تازہ تعطل کے بعد سیلاب سے بے حال اس ملک کے بڑے حصے کو راحت کی ضرورت ہے۔ ایسے میں کشمیر پر بولنے کے بجائے اگر بلاول بھٹو ملک کی بہتری کے بارے میں کچھ بولتے تو اس سے ان کی سنجیدگی کا پتہ چلتا۔ پاکستان کی سیاسی پارٹیوں نے بھی اس فارمولے کو اپنا لیا ہے کہ بھارت کے خلاف زہراگلو اور حمایت حاصل کرو۔ کبھی کبھی توبھارت مخالف بیانوں کی ایسی باڑلگتی ہے کہ مانو اپنا پکوڑا زیادہ کرکرا ثابت کرکے ہی رہنا ہے۔ بلاول کی اس تقریر کو بڑبولے پن کے سوائے اور کیا کہا جائے؟ بلاول شاید یہ بھول گئے کہ ان کے نانا کے بڑ بولے پن کی وجہ سے مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) بن گیا۔ بلاول اقتدار سے دور ہیں انہیں یہ احساس ہونا چاہئے کہ اس بار حماقت کی تو مقبوضہ کشمیر کی بات کرتے ہیں اور کشمیر کا اشو اٹھا کر وہاں کی عوام کو لمبے عرصے تک بیوقوف نہیں بنایا جاسکتا ہے۔ یقین ہے کہ بلاول کے اس بیان کو کسی نے بھی سنجیدگی سے شاید لیا ہو۔
(انل نریندر)

پرشانت بھوشن نے سی بی آئی ڈائریکٹر سنہا کو بری طرح پھنسایا!

ٹو جی اور کوئلہ گھوٹالے کے ملزمان سے اپنی سرکاری رہائش گاہ پر ملنے کے الزام میں بری طرح پھنس گئے سی بی آئی کے ڈائریکٹر رنجیت سنہا۔ متنازعہ گیسٹ رجسٹر میں درج ناموں کی فہرست میں خامیوں سے ہی بچاؤ کا راستہ نکالنے کی کوشش میں ہیں۔ اس دوران یہ الزام سنہا پر لگانے والی رضاکار تنظیم سی پی آئی ایل نے اطلاع دینے والوں کا نام بتانے سے انکار کردیا۔ تنظیم نے وسل بلوور کی سکیورٹی حوالہ دیتے ہوئے اس کی پہچان اجاگر کرنے سے منع کردیا۔ حالانکہ مفاد عامہ کی دوہائی دیتے ہوئے کورٹ سے درخواست کی ہے کہ رنجیت سنہا کو ٹو جی معاملے کی جانچ سے الگ کیا جائے۔ سی پی آئی ایل نے یہ بات سپریم کورٹ میں داخل اپنے حلف نامے میں کہی۔ عدالت میں جمعہ کو کشیدہ صورتحال اس وقت بن گئی جب سی بی آئی ڈائریکٹر کے وکیل کے رویئے سے بری طرح جھلائے چیف جسٹس نے انہیں سخت وارننگ دے ڈالی۔ ججوں نے کہا کہ سماعت 17 اکتوبر تک ٹال دی ہے تاکہ ہم دونوں معاملوں پر مرکزی حکومت کا نظریہ جان سکیں۔ رنجیت سنہا کے خلاف عرضی پر قریب ڈیڑھ گھنٹے تک سماعت کے دوران دونوں فریقین کے بیچ تلخ الفاظ کا استعمال ہوا۔ جانچ ایجنسی کے ڈائریکٹر کے وکیل کو تیز آواز میں اعتراض اٹھاکر اور ڈائریکٹر کے خلاف عرضی گزار کو اپنی دلیل پیش کرنے میں رکاوٹ ڈال کر اس معاملے کی ایک طرح سے سماعت ٹھپ کرنے کے لئے کورٹ کی پھٹکار سننی پڑی۔ غور طلب ہے کہ سی بی آئی کے ڈائریکٹر پر پرشانت بھوشن نے الزام لگایا تھا کہ انہوں نے ٹوجی معاملے میں مشتبہ ملزمان کا بچاؤ کیا اور کیس کو کمزور کیا۔ بھوشن نے اس کے لئے سی بی آئی ڈائریکٹر کے گھر کے باہر رکھے وزیٹر رجسٹر میں درج ناموں کا حوالہ دیا۔ ادھر رنجیت سنہا نے گھر کی وزیٹر ڈائری کی سچائی اور اس کے اندر جو کچھ تھا انکشاف نہ کرنے پر سوال کھڑے کرتے ہوئے چیف جسٹس کی کورٹ سے بھی اپنے خلاف نوٹس رکوالیا۔ سنہا کے وکیل نے کہا متنازعہ ڈائری کے ذریعے کا معاملہ جسٹس دوت کی کورٹ میں التوا میں ہے۔ ایسے میں اس مسئلے پر ان کے فیصلے کے بغیر کارروائی نہیں کرنی چاہئے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ کورٹ کو اس معاملے کو تین ہفتے کے لئے ملتوی کردینا چاہئے۔ اس دوران جسٹس دوت کی عدالت کے رخ کا بھی پتہ چل جائے گا۔ چیف جسٹس اور آر ایم لوڈھا کی ججوں کی بنچ کے سامنے جمعہ کو سنہا کے وکیل وکاس سنگھ نے کہا کہ پرشانت بھوشن اس ڈائری کے بارے میں بات کررہے ہیں جس کی سچائی پر ایچ۔ ایل دوت کی بنچ پرشانت بھوشن سے جواب مانگ چکی ہے۔ سی بی آئی ڈائریکٹر کو ٹو جی معاملے میں 15 اور کوئلہ گھوٹالہ معاملے میں اپنے اوپر لگے الزامات کا جواب دینا ہے۔ سنہا اپنی بیوی کے ساتھ 8 سے 17 اپریل تک اٹلی اور ویٹکن سٹی کے دورے پر گئے ہوئے تھے لیکن گیسٹ لسٹ میں ملاقات کرنے والوں کی اینٹری کو بنیاد بنایا جاسکتا ہے۔ وکیل پرشانت بھوشن کی طرف سے سپریم کورٹ کو سونپی گئی مبینہ لسٹ میں ویسے بھی کچھ لوگوں کے نام موجود ہیں۔ ان کی موجودگی میں سنہا کے سرکاری مکان پر گئے اور قریب دو گھنٹے کا وقت گزارا۔ یہ ہائی پروفائل معاملہ ہے اور سپریم کورٹ میں زیر سماعت بھی ہے اس لئے اس پر کوئی رائے زنی نہیں کی جاسکتی۔
(انل نریندر)

23 ستمبر 2014

اسکاٹ لینڈ کی’ نا‘، علیحدگی پسندوں کیلئے ایک سبق ہے!

ہندوستانی بر صغیر سمیت دنیا کے مختلف علاقوں میں مملکتوں کو تقسیم کرنے والا برطانیہ خود ٹوٹنے سے بال بال بچ گیا۔ اگرچہ صرف چار لاکھ اسکوائٹش باشندے یعنی لکھنؤ کے کسی محلے کے برابر آبادی والے اسکاٹ لینڈ کی آبادی کے حق میں رائے دیتے تو گریٹ برطانیہ ٹوٹ جاتا۔ اسکاٹ لینڈ نے ریفرنڈم میں 55 فیصدی لوگوں نے ’نہیں‘ ووٹ دیا۔ یعنی وہ اسکاٹ لینڈ سے الگ نہیں ہونا چاہتے۔ برطانیہ ہی نہیں پورے یوروپ کی سانس اس بات کو لیکر اٹکی ہوئی تھی کہ اگر اسکاٹ لینڈ الگ ہوگیا تو کیا ہوگا؟ یہ پچھلے کافی وقت سے لگ رہا تھا کہ حکمراں اور اپوزیشن کی طاقت تقریباً برابر ہے اس لئے آزادی چاہنے والوں اور انگلینڈ کیحمایتی رائے رکھنے والوں کا یہ مقابلہ کانٹے کا تھا۔ 10 دن میں ایسی تبدیلی آئی کہ ’ہاں‘ کو ’نہیں‘ میں ووٹ دے دیا۔ وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی جذباتی اپیل نے ماحول کو بدلنے میں کافی مدد کی۔کیمرون ملی بینڈ اور نک استک نے انگلینڈ کو زیادہ اختیارات دینے کے عہد نامے پر دستخط کئے۔السٹریل گارلنگ کے ساتھ برطانوی میڈیا نے بھی اس معاملے میں زور دار مہم چلائی۔ مہارانی ایلزبتھ نے بہت سوچ سمجھ کر ووٹ دینے کی اپیل کی تھی۔ نوجوانوں کولالچ دیا گیا کہ برطانیہ سے آزادہوکر اپنی نوکری، پنشن اور صحت سہولیات اور مستقبل کو خطرے میں مت ڈالئے۔ اگر اکثریت میں علیحدگی پسندی کے حق میں ووٹ دیا ہوتا تو برطانیہ امپائر یعنی یونائیٹڈ کنگ ڈم باقاعدہ طور سے ختم ہوجاتی۔ جس اسٹیٹ کا کسی دور میں آدھی دنیا پر راج ہوا کرتا تھا اور جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اس کی حکومت میں سورج کبھی غروب نہیں ہوتا تھا اس سامراجیہ کا نظام کا مکمل خاتمہ ہوجاتا۔ وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کو اس بکھراؤ وہونے سے بچانے کا سہرہ ضرور جاتا ہے۔ انہوں نے اپنا بہت کچھ داؤ پر لگادیا تھا۔ یہ ریفرنڈم برطانیہ کی عمدہ تھیوری کا جواب ہے جو دوسروں کو کمتر دیکھتی ہے۔ اسکاٹ لینڈ میں لندن کے خلاف غصہ نہیں پنپتا مگر اس کے ضمیر کی وکالت کرتا ہے۔ مائیگریٹ تھیچر کے وقت میں ان کی پارٹی اسکاٹ لینڈ میں ایک سیٹ بھی حاصل نہیں کرپائی تھی اسی کے مقابلے میں تھیچر نے وہاں کمیونٹی ٹیکس لگانے کا فیصلہ لیا تھا۔ ڈیوڈ کیمرون کی پارٹی کے صرف ایک ایم پی اسکاٹ لینڈ سے ہیں اس کے باوجود اس کا طور طریقہ بالادستی والا ہے۔ امید کی جانی چاہئے کہ ریفرنڈم کا یہ نتیجہ برطانوی رکاوٹوں پر لگام لگانے کے ساتھ دنیا بھر کے دیشوں کے رویئے میں لچیلا پن آئے گا۔ ویسے یہ ریفرنڈم اپنے آپ میں ایک مثال ہے۔ اس اشو کو کس طرح سے پر امن اور دلیل آمیز طریقے سے سلجھایاگیا ہے ۔ بھارت میں جو لوگ کٹر راشٹروادی ہیں اور اس کے ہمنوا ہیں اور جو علیحدگی پسند ہیں ان سب کے لئے یہ سبق ہیں۔ کٹر حب الوطنی اور اصلاح پسند رویئے کی وجہ سے علیحدگی پسندی کمزور ہوتی ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ علیحدگی پسندی سے الگ ہوئے دیش کے شہریوں کا بھلا ہی ہو یہ ضروری نہیں۔ چھوٹے دیش اقتصادی اور فوجی سیکٹر میں دوسری طاقتوں پر منحصر رہتے ہیں اور ان پر ایسی طاقتوں کا کھیل کا ہتھیار بن جاتے ہیں۔ اسکاٹ لینڈ کے لوگوں نے بہت ہی سنجیدگی کے ساتھ اپنی رائے دی ہے۔ دونوں اسکاٹ لینڈ اور برطانیہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔
(انل نریندر)

بال وواہ آبروریزی سے بھی بدتر لعنت،اس کا سماج سے خاتمہ ضروری!

دیش میں سماجی برائیوں کی فہرست میں بال وواہ ایک بڑی لعنت ہے۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ اس سے نجات پانے کے لئے تمام سرکاری کوششیں فیل ہوگئی ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے تمام قوانین کے چلتے آئے دن بال وواہ کے معاملے اکثر سامنے آتے رہتے ہیں۔ بال وواہ ہو آبروریزی سے بھی بدتر برائی بتاتے ہوئے دہلی کی ایک عدالت نے کہا کہ اسے سماج سے پوری طرح سے ختم کیا جانا چاہئے۔ اس میں کم عمر کی بچیوں کی شادی کرنے کے لئے لڑکی کے والدین کے خلاف معاملہ درج کرنے کوکہا۔ میٹرو پولیٹن مجسٹرین شیوانی چوہان نے لڑکی کے والدین کے ذریعے اس کے شوہر اور سسرال والوں کے خلاف جہیز کے لئے اذیت کے معاملے کی سماعت کے دوران یہ ہدایت دی ہے۔ جہیز دینا اور لینا قانون کے تحت جرم ہے۔ عدالت نے پولیس کو ہدایت دی کہ کم عمری میں شادی کی روک تھام قانون اورج ہیز انسداد قانون کی ضروری شقات کے تحت 14 سالہ لڑکی کے والدین اور اس کے سسرال والوں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔ سسرال والوں کے خلاف گھریلو اذیتوں کا معاملہ پہلے سے ہی درج ہے۔ میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ نے کہا بال وواہ آبروریزی سے بھی بدتر برائی ہے اورا سے سماج سے پوری طرح ختم کیا جانا چاہئے۔ اگر سرکارجیسے فریق کے طور پر اس طرح کے جرم کرنے والوں کے خلاف مناسب کارروائی نہیں کرے گی تو ایسا کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ انہوں نے ساؤتھ دہلی پولیس کے ڈپٹی کمشنر کو19 اکتوبر تک کارراوئی رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ عدالت تماشائی بن کر رہنے اور اس برائی کے ہوتے رہنے کے معاملے کو نظر انداز نہیں کرسکتی۔ عدالت نے لڑکی کے والدین کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بھی سنگین جرم کیا ہے۔ کم عمری میں شادی کے سنگین نتائج ہوتے ہیں۔ یہ بچوں کے تئیں اور کنبے کے ذریعے نہیں بلکہ ان کے اپنے ماں باپ کے ذریعے گھریلو تشدد کو فروغ دینے کی علامت ہے۔ حقیقت میں اس سماجی برائی کا خمیازہ ایک کمسن بچی کو ہی نہیں بلکہ پورے خاندان اور آخر کار سماج کو بھگتنا پڑتا ہے۔ بال وواہ کسی بھی بچی کی زندگی میں ایسا سیاہ پہلو ہے جس کا دیش اور اسے اپنی صحت کی بربادی کی شکل میں زندگی بھر بھگنا ہوتا ہے۔ کم عمر میں ماں کی ذمہ داری نبھانے کے لائق نہ ہونے کے سبب وہ اپنے بچوں کے مستقبل کو ذمہ دارانہ طریقے سے نہیں نبھا سکتی۔ اکثر ایسے شادیاں ناکامیاب رہتی ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ قانونی شقات کے باوجود بنیادی طور سے غربت، ناخواندگی اور جنسی اختلاف کے سبب کی گئی اس برائی سے یونیسیف بھی فکر مند نظر آیا۔ اس کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں کم عمر میں ہونے والی شادیاں 40 فیصد اکیلے بھارت میں ہوتی ہیں اور49 فیصد بچوں کی شادی 18 سال سے کم عمرمیں کردی جاتی ہے۔ اس کے مطابق راجستھان، بہار، مدھیہ پردیش، اترپردیش، مغربی بنگال میں تو 82 فیصد بچیوں کی18 سال سے پہلے شادی کردی جاتی ہے۔ یہ مسئلہ اکیلے قانون سے دور ہونے والا نہیں۔ اس میں سماج کی ذہنیت بھی بدلنے کی ضرورت ہے۔
(انل نریندر)

21 ستمبر 2014

یاد رہے چین کے دو چہرے ہیں دوستی کرو پر ساودھانی سے!

ایسا بھارت کی تاریخ میں کم ہی ہوا ہے جب کسی دیش کا راشٹرپتی اپنے بھارت کادورہ کسی دوسرے بھارتیہ شہرسے کرے۔ میں بات کررہا ہوں چین کے راشٹرپتی شی جنپنگ کی جنہوں نے اپنی بہت ہی اہم بھارت یاترا احمد آباد سے شروع کی۔ عام طورپر کوئی بھی راشٹرپتی جب بھارت دورہ پر آتا ہے تو وہ سب سے پہلے نئی دہلی آتا ہے پر یہ نریندر مودی کا کرشمہ ہی ہے جس نے دنیا کے سب سے طاقتور دیش کے صدر کو سب سے پہلے احمد آباد آنے کے لئے تیار کرلیا۔بھارت اور چین کے اعلی رہنماؤں میں جس طرح احمد آباد میں جھولا جھولا اس سے ایک دوسرے کے تئیں بھروسہ جتایا ہے۔وہ ایشیا کے ہی لئے نہیں پوری دنیا کیلئے اہم ہے۔جس طرح چین کو بھارت سے تمام امیدیں ہیں اسی طرح بھارت کو بھی اس سے ہیں۔ پردھان منتری نریندر مودی کی شکھر بیٹھک میں پیغام بہت صاف تھا۔ دنیا کے دوسب سے بڑے ترقی پذیر ملکوں کے نیتا آپسی تعلقات میں موجودہ حالات کو بنائے ہوئے نہیں رکھنا چاہتے۔ باجود اس کے کہ جنپنگ کے دورے کے دوران لداخ کے چمار سیکٹر میں پیپلز لبریشن آرمی کے گھس آنے سے تناؤ بنا ہوا ہے دونوں نیتاؤں نے آپسی رشتوں کو مضبوط کرنے پر زور دیا۔ جس دن جنپنگ دہلی آئے تھے اسی وقت لیہہ کے چمار میں چینی فوجی دو کلو میٹر اندر گھس آئے تھے۔ چینی فوجی چمار میں300 کی تعداد میں اور دمچک میں قریب40 چینی فوجی بھارت کی زمین پر موجود تھے۔فوج کے اعلی کمانڈر ہونے کے باوجود ہوسکتا ہے کہ چینی راشٹرپتی کو سرحد پر ہورہے چھوٹے موٹے واقعات کی جانکاری نہ ہو لیکن ان کی فوج کے لوگوں کو تو اپنے راشٹرپتی کے دورہ کی جانکاری یقیناًہی رہی ہوگی۔اس بار تو چینی فوج کے گلے میں باہیں ڈالے اس کے شہری بھی ہمیں آنکھیں دکھاتے صاف چلے آئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ چین اپنے ان دونوں چہروں کے ساتھ بھارت کی نئی سرکار کو ٹٹولنے کی کوشش کررہا ہے۔ اطمینان کی بات ہے کہ اسے ہماری طرف سے سیدھا جواب مل رہا ہے۔ ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے صاف لفظوں میں جنپنگ سے کہا کہ سرحد پر امن کے بغیر وکاس کر تصور کیسا کیا جاسکتا ہے۔ یہ پہلی بار تھا جب بھارت کے کسی وزیر اعظم نے چینی راشٹرپتی کو اتنے کھلے لفظوں میں سرحد پر چل رہی چینی سرگرمیوں کا مدعا اٹھایا ہے۔ اس سے پہلے دو لائنوں کا رسمی بیان آجاتا تھا اور رسم پوری کر لی جاتی تھی۔ شی جنپنگ اور نریندر مودی کی بات چیت کے بعد مشترکہ بیان کی جگہ دونوں نیتاؤں کا اپنا الگ بیان پڑھنا رشتوں میں پیچ کی کہانی بتا رہا تھا۔ نریندر مودی نے مہمان نوازی کا پورا خیال رکھتے ہوئے بے جھجھک دیش کی تمام چنتاؤں کو چینی راشٹرپتی کے سامنے انڈیل کر رکھ دیا۔ سرحد پر مستقل طور سے ہونے والی ایسی اکساؤ حرکتیں کہیں لڑائی والے حالت نہ بنادیں۔ اس پر قابو پانے کے لئے دونوں ملکوں کے بیچ9 سال پہلے باقاعدہ سمجھوتہ ہوا تھا اور اس پر خصوصی نمائندوں کو لگایابھی گیا تھا۔ وقت کے ساتھ چین اس کو بھولتاگیا۔ لداخ کی تازہ گھس پیٹھ اس کی مثال ہے۔ بھارتیہ شہریوں کو نتھی والا ویزا دیکر بھارت کے اقتدار اعلی پر سوال کھڑا کرنے اور برہمپتر جیسی ندیوں سے چھیڑ چھاڑ کر بھارت کے لئے مسئلہ کھڑا کرنے جیسے گمبھیر مدعوں پر فکر جتانے سے بھی مودی نہیں چوکے۔ دراصل دونوں دیشوں کے رشتوں کی راہ میں سرحد سے متعلق معاملہ سب سے بڑا روڑا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ1990 ء کی دہائی سے کئی دور کی بات چیت کے باوجود ایل اے سی کاتعین نہیں ہوسکا۔ مودی نے جب یہ معاملہ اٹھایا تو جنپنگ نے اسے جلدی سلجھانے کا وعدہ کیا۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ باہمی تعلقات اب صرف اسٹریٹیجک ہی نہیں بلکہ معاشی ہتوں کی بنیادپر طے ہوتے ہیں۔ چین فی الحال بھارت میں20 ارب ڈالر کا نویش کرے گا۔شکھر وارتا میں دونوں دیشوں کے درمیان 12 سمجھوتے ہوئے جن میں 5 سال کے فائننشل پلان پر ہوا قرار بیحد اہم ہے۔ کیلاش یاترا کیلئے نیا روٹ، آڈیو ویڈیو میڈیا ، ریلوے کی جدید کاری ، اسپیس، صحت اور ثقافت میں تعاون کولیکر بھی سمجھوتہ ہوا۔ممبئی کو شنگھائی کی طرح وکست کرنے میں چین مدد کرے گا اور گجرات اور مہاراشٹر میں دو انڈسٹریل پاکر بنائے گا۔ ظاہر ہے کہ بھارت کی تیز ترقی اور جدید کاری میں چین کا اہم رول ہوگا۔ بیشک اس کا فائدہ چینی اکانومی کو بھی ملے گا۔ حالانکہ مودی کے جاپان دورہ جس میں انہیں 33 ارب ڈالر کے نویش کا بھروسہ ملا ، کے بعد جنپنگ کے بھارت دورہ کو لیکر قیاس تھے کہ چین سے بھارت کو بھاری بھرکم نویش مل سکتا ہے۔ اس کے برعکس جنپنگ کی موجودگی میں ہوئے سمجھوتوں کے تحت اگلے پانچ سالوں میں بھارت میں صرف20 ارب ڈالر کے نویش کے اعلان سے تھوڑی مایوسی ضرور ہوئی۔
غور کرنے کی بات یہ بھی ہے کہ چین جہاں بحرہندمیں اپنے مفاد دیکھ رہا ہے وہیں بھارت دکشنی چین ساگرمیں اپنے۔ یہ اتفاق نہیں ہے کہ جنپنگ بھارت آنے سے پہلے سری لنکا سے ہوکر آئے ہیں جہاں انہوں نے بھارتیہ سرحد سے محض200 کلو میٹر دور ایک سمندری پروجیکٹ میں نویش کو منظوری دی تو بھارت کے راشٹرپتی پرنب مکھرجی ویتنام کے ساتھ دکشنی چین ساگر میں تیل کے امکانات تلاشنے کیلئے قرار کر لوٹے ہیں۔ پاکستان کے سیاسی حلقوں میں اور پاک میڈیاکی نگاہیں جنپنگ کے دورہ پر ٹکی ہوئی تھیں۔ جنپنگ نے اپنا پاکستان دورہ ملتوی کردیا ہے۔ انہیں وہاں بھی جانا تھا۔ یہ بھی بحث کا موضوع بنا ہوا تھا۔ بھارت کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ چین اور پاکستان کے درمیان بہت مضبوط رشتے ہیں۔ چین کے سرکاری میڈیا اور وزارت داخلہ نے صاف کردیا ہے کہ جنپنگ کے پاک دورہ کو آگے بڑھایاگیا ہے اور اس کی تاریخیں پھر سے طے ہوں گی۔ کل ملاکر شی جنپنگ کا بھارت دورہ کامیاب رہا۔ بھارت کے پردھان منتری نے بین الاقوامی ڈپلومیسی میں اپنی پہچان بنا لی ہے۔ نیپال، جاپان، آسٹریلیا، چین اور تھوڑے دنوں میں امریکہ کے دورہ پر جانے والے نریندر مودی اب صحیح معنوں میں ورلڈ لیڈر بن گئے ہیں۔ بیشک چین سے سرحدی مدعوں پر اتفاق رائے نہ ہوئی ہو پر معاشی میدان میں مودی نے کامیابی ضرور پائی ہے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...