Translater
26 اگست 2022
اور اب پھنسی جیکلین فرنانڈیز !
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے جال ساز سکیش چندر شیکھر کو 215کروڑ روپے کی وصولی سے وابسطہ منی لانڈرنگ معاملے میں فلم اداکارہ جیکلین فرنانڈیز کو ملزم بنایا ہے ۔ای ڈی نے اسپیشل پی ایم ایل اے عدالت میں بد ھ کے روز ضمنی چارج شیٹ داخل کی اس میں اداکارہ جیکلین اکیلی نئی ملزم ہیں ۔ ای ڈی کے مطابق سکیش نے پنکی رانی کے ذریعے جیکلین کو 5.71کروڑ روپے کے تحفے دئے تھے جیکلین کے رشتہ داروں کو امریکی ڈالر میں 1.3کروڑ روپے اور آسٹریلیائی ڈالر میں قریب 14لاکھ روپے دئے تھے ۔ یہ رقم حوالہ آپریٹر اوتار سنگھ کے ذریعے جیکلین کے رشتہ داروں تک پہچائی گئی ۔ ذرائع کے مطابق جیکلین کو شروع سے معلوم تھا کہ سکیش چندر شیکھر ایک ٹھگ ہے اور وہ جبراً وصولی کرنے والا ہے ۔ ایجنسی نے اپنی جانچ میں پایا کہ پچھلے سال فروری سے لیکر 7اگست تک دہلی پولیس کے ذریعے گرفتار کئے جانے تک جیکلین کے ساتھ باقاعدہ ٹکراو¿ میں تھاچا رج شیٹ کے بعدجیکلین نے سوشل میڈیا پر لکھا ’میں طاقتور ہوں میں خود کو تسلیم کرتی ہوں سب ٹھیک ہو جائےگا ،میں مضبوط ہوں اور اپنے مقاصد اور خوابوں کی تعمیل کروںگی ‘۔ ای ڈی کی پوچھ تاچھ میںجیکلین نے مکیش کےساتھ ریلیشن کی بات مانی تھی ۔ رپورٹ کے مطابق اداکارہ نے پوچھ تاچھ میں بتایا کہ اس نے سکیش سے کروڑ وں روپے لئے تھے۔ سکیش نے اسے ہیرے کی انگوٹھی دیکر پروپوز کیا تھا اس انگوٹھی میں جے اور ایس بنا ہوا تھا سکیش نے اداکارہ کو ایسپولا نام کا ایک پچاس لاکھ روپے کا گھوڑا اور نو نو لاکھ روپے کی بلیا ں بھی گفٹ کی تھی ۔ اس کے علاوہ عمدہ بیگ اور دو جم ویئر اور ایک جوڑی جوتے اور ہیرے کی دوجوڑی بالیاں اور بریسلیٹ اور ایک مینی کار دی تھی۔
(انل نریندر)
تیسری طاقت بننے کی کوشش میں کیجریوال !
2024کے لوک سبھا چناو¿ میں این ڈی اے اور یو پی اے کے درمیا ن کیجریوال تیسری طاقت بننے کی تیاری میں ہیں کچھ لوگوں کو تو خیال ہے کہ وہ 2024میں مودی کا متبادل بھی بننا چاہتے ہیں ۔ ان کی پارٹی کے لوگ تو کھلے عام یہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ اگلے لوک سبھا چناو¿ میں کیجریوال مودی کو سیدھی ٹکر دیں گے ۔اس کے لئے عام آدمی پارٹی توسیع کرنے میں لگ گئی ہے پنجاب کی جیت میں عام آدمی پارٹی کو نئی طاقت دی ہے ،گوا میںملی دو اسمبلی سیٹیں اورسورت کارپوریشن جیسی چناو¿ میں ملی کامیابی نے عآپ کے جوش کو بڑھاوا دیا ہے ۔بھاجپا کے ایجنڈے کا جواب کیجریوال اپنے طریقے سے دے رہے ہیں ۔ مفت تعلیم ،صحت کی وکالت کے ساتھ دہلی میں پانچ سو ترنگے لگا کر دیش بھگتی کا پاٹھ اور ہر ہاتھ ترنگا پروگرام کے ذریعے وہ اپنی قومی پہچان بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ 10برس کے سفر میں عآپ نے کئی اتار چڑھاو¿ دیکھے ہیں اپنی غلطیوں سے سبق لیکر عآپ قومی سطح کی پارٹی بننے کی کوشش میں ہے ۔ 2013کے دہلی اسمبلی چنا و¿ میں عآپ کو 28سیٹیں ملی تھیں اور پارٹی بنانے کے محض ایک سال کے اندر عآپ نے دہلی میں کانگریس کے ساتھ مل کر سرکار بنائی یہ حکومت محض 49دن چلی لیکن عآپ پارٹی کو دہلی میں مضبوط کر اس کے بعد اب اس نے قومی سطح پر مورچہ کھولا تب نریندر مودی کے سامنے بنارس سے کیجریوال اترے لیکن عآ پ صر ف پنجاب میں چار لوک سبھا سیٹیں جیت سکی ۔ 2017کے پنجاب اور گوا اسمبلی چنا و¿ میں توقع کے مطابق کامیابی نہ ملنے سے عآپ نے دہلی پر توجہ دی 2019لوک سبھا چنا و¿ سے پہلے عآپ نے جم کر مرکز اور مودی سرکار پر نکتہ چینی کی لیکن بھاجپا دو بار چنا و¿ جیتنے کے بعد سیدھے ٹکراو¿ سے دوری بنائی لوک سبھا چناو¿ میں محض ایک سیٹ ملنے کے بعد عآپ نے روجیوں میں تنظیم کو مضبوط کرنے میں لگی ۔ پنجاب میں راگھو چڈھا کو عآپ پارٹی کا انچارج بنا یا گیا یہاں عآپ کی سرکار بن گئی ۔ گوا میں بھی دو اسمبلی سیٹ ملنے کے بعد عآپ کو ریاستی سطحی پارٹی کا درجہ ملا ۔ سورت میونسپل کارپوریشن چنا و¿ کے جیت نے حوصلہ بلند کیا اور پارٹی ہماچل اور گجرات کی تیاری میںلگ گئی ۔ ابھی 2024لوک سبھا چناو¿ میں وقت ہے مرکز کی مودی سرکار کے خلاف بے روزگاری ،مہنگائی بڑے اشو بنتے جا رہے ہیں۔ بہار میںبھا جپا کی ہار سے بھی پارٹی کی ساکھ متاثر ہوئی ہے دیکھیں آگے آگے کیا ہوتا ہے؟
(انل نریندر)
23 اگست 2022
نتن گڈکر ی کو ہٹانے کے پیچھے ؟
بھاجپا کی سپریم پالیسی بنانے والی کمیٹی سینٹرل پارلیمانی بورڈ سے نتن گڈ کری کا باہر ہونا بھاجپا کی آئندہ کی حکمت عملی سے جڑا لگتا ہے ۔ یہ فیصلہ پارٹی کے اندرونی حالات کو بھی متاثر کرنے والا ہے نیا واقعہ پارٹی کے اندر ان کے سیاسی وجود و رسوخ کوتو متاثر کرے گا ہی ساتھ ہی ان کی چناوی حکمت عملی پر بھی اثر ڈالے گا، مہاراشٹر کی سیاست سے 2009میں بھاجپا صدر بنکر قومی فلک پر ابھرے نتن گڈکر ی اب بھاجپا کے مرکزی بورڈ اہم رول سے بھی باہر ہیں جو فی الحال حکومت میں وزیر ہیں اور پارٹی کی قومی ایگز یکٹیو کے بھی ممبر ہیں لیکن وہ سینٹرل پالیمانی بورڈ اور مر کزی چنا و¿ کمیٹی سے باہر رہیں گے اس سے پارٹی کے اند ر ان کوا قد چھوٹا ہونا لازمی ہے۔ گڈکری اپنے بیانوں کو لیکر اکثر مباحثوں میں چھائے رہے ہیں اور سیاست کو لیکر ان کا اپنا نظریہ بھی جگ ظاہر ہو تا جا رہا ہے ۔ میں نے اسی کالم میں ان کا ایک تازہ بیان قلمبند کیا تھا انہوں نے ایک پروگرام میں موجودہ سیاست پر سوال کھڑے کئے تھے اور اشارہ بھی دیا تھا کہ اب سیاست ان کیلئے زیادہ دلچسپی نہیں رکھتی اپنے طریقہ کار کی وجہ سے کئی مر تبہ وہ سب کے ساتھ تال میل قائم کرنے میں کامیاب بھی نہیں رہے ۔ مودی حکومت میں مر کزی وزیر کی شکل میں ان کے کام کی سب سے زیادہ تعریف ہو رہی ہے ۔ دیش بھر میں بنی قومی شاہراہوں کے جال کو لیکر ان کی تعریف ان کے سیاسی حریف بھی کرنے سے کتراتے نہیں ہیں لیکن پارٹی کے اندرونی تجزیوں میں ان کی مشکلیں بڑھیں ہیں ۔اپنے بے لوث انداز سے بھی وہ تنازعہ میں رہے ہیں ان کے کچھ حمایتی تو یہاں تک کہنے سے گریز نہیں کرتے کہ مودی جی کا اگر کوئی متبادل ہو سکتا ہے تو اس میں نتن گڈکری کا نام بھی شامل ہے ۔ مرکزی لیڈرشپ میں نتن گڈ کری کو پارلیمانی بورڈ مر کزی چناو¿ کمیٹی میں شامل نہ کر ایک بڑا پیغام دیا ہے ۔ پارٹی شخصیت کے بجائے نظریا ت مبنی ہے ۔ اس کی توسیع میںجو بھی ضروری ہو گا وہ کیا جائے گا اس کے پہلے پارٹی و مارگ درشک منڈل بناکر سینئر لیڈروں لال کرشن اڈوانی ،ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی جیسے دانشوروںکو پارٹی کی سرگرم سیاست سے الگ کر مارگ درشک منڈل میں شامل کر لیا تھا ۔ مہاراشٹر کے سیاست میں بھی گڈ کری کے بارے پارٹی کے اس قدم کا اثر پڑ سکتا ہے ۔پارٹی میں گڈ کری کی جگہ ان کے آبائی شہر سے آنے والے دیویندر فڑنویس کو آگے کر کے گڈ کری کے قد کو چھوٹا کیا جا رہا ہے ۔ حالاںکہ نتن گڈکری آر ایس ایس کے بھی قریبی ہیں لیکن امت شاہ مودی کی جوڑی کے سامنے ان کی ایک بھی نہ چلی یہ بھی دبے الفاظ میں کہا جا رہا ہے کہ گڈ کری کی صحت اب اچھی نہیں ہے ۔ حال ہی میں ایک پروگرام میںوہ بے ہوش ہو گئے تھے ۔ وجہ جو بھی رہی ہو یہ دکھ کی بات ہے کہ ایک بہت کامیاب وزیر جن کے کام کی سبھی تعریف کرتے ہیں انہیں کیوں یوں بے عزت کیا جائے ۔
(انل نریندر)
ہر یانہ ترقی :اہل لیڈرشپ و ان کی ٹیم !
چاہے وہ مر کزی سرکار ہو یا ریاستوں کی حکومتیں ہوں یا پھر کوئی بھی تنظیم ہو اس کی کامیابی کیلئے ایک مظبوط لیڈرشپ جو کہ واضح ہدایت دے ۔ انتظامی حکام جو سرکار کی پالیسیوں کو پوری ایمانداری سے زمین پر اتاریں انتہائی امیدا فزا ہے اگر پالیسیاں صحیح ہیں لیکن ان کے عمل میں کمی رہ جاتی ہے تو اس کا فائدہ ان لوگوں تک نہیں پہنچتا جنہیں ملنا چاہئے ۔ دیش کی سب سے کامیاب ریاستوں میں ہر یانہ کا نمبر بہت اونچا ہے ۔وزیر اعظم نریندر مودی کے ترقیاتی کاموں کو ہر یانہ ریاست نے جس بخوبی و ایمانداری کے ساتھ جنگی سطح پر نافذ کرکے ایک نئی مثال قائم کی جا رہی ہے اس کا اہم کریڈٹ جہاں وزیر اعلیٰ منو ہر لال کھٹر کو جاتا ہے وہیں ان کی انتظامیہ ٹیم جس میں چیف سیکریٹری سنجیو کوشل (آئی اے ایس ) وزیر اعلیٰ کے اڈیشنل پرنسپل سیکریٹری و اطلاعات رابطہ عامہ و لینگویج ، ہر یانہ ،چنڈی گڑ کے جنرل ڈائریکٹر امت اگروال (آئی اے ایس) سمیت بھاجپا کے پر دیش صدر اوم پرکاش دھنکڑ کو جاتا ہے جن کے آپسی تال میل سے جہاں ہر یانہ میں آزادی کے امرت مہوتسو کو جنگی سطح پر مشتہر کر اس کی دھاک دنیا کے ملکوں میں بیٹھ گئی ہے وہیں اطلاعات رابطہ عامہ و لینگویج محکمہ کے جنرل ڈائریکٹر امیت اگروال نے پرائیویٹ سبھی کو لیکر پرنٹ میڈیا و الیکٹرونک اور سوشل میڈیا میں بہتر کوریج کر وایا ۔ یہ کم ہی دیکھا گیا ہے جب کوئی سینئر آئی اے ایس افسر ریاست و دیش کے ترقیاتی و اہم ترین کوریج کر وانے کیلئے خود اتنی دلچسپی لیں ؟ اسی سیریز میں ہریانہ میں ہر ایک شخص کو ٹائلنٹ بنا نے کیلئے وزیر اعلیٰ منو لال کھٹر کے ذریعے اپنی کوششوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اپنے سینئر افسران کے ساتھ مل کر وزیر اعلیٰ انتودے اتتھا ن پریوار یوجنا تیار کی ہے اس اسکیم کے تحت سماج کے ہر شخص کے آمد نی کو ایک لاکھ اسی ہزار روپے کر نے کیلئے روزگار موقع مہیا کر وائے جا رہے ہیں اس کے لئے گاو¿ں گاو¿ں کے وارڈوں میں جاکر انتودے میلوں کا انعقاد کر قرضے وغیرہ کی سہولیات دستیاب کر وائی گئیں ہیں۔ منوہر لال نے دیش میں سب سے پہلے فیملی شناختی کارڈ کو ضروری کیا اور اس فیملی شناختی کارڈ کے ساتھ ہی سرکار کی سبھی اسکیموں کو جوڑنے کا کام بھی کیا گیا ہے ۔اس اسکیم سے اب لوگوں کو گھر بیٹھے بڑھاپا پینشن ،ودوا پینشن ، قرض جیسی سہولیات پسماندہ طبقے کے سرٹیفیکٹ کے ساتھ درج فہرست برادری کا سرٹیفیکٹ گھر بیٹھے پا رہے ہیں سرکار نے کسانوں کے مفادات کو دھیا ن میں رکھتے ہوئے فصل بیمہ اسکیم میری فصل میری تفصیل ،سسٹم کو لاگو کیا ہے ۔ کسانوں کو ایم ایس پی دیکر خطرے کو کم کرنے کا کام کیا ہے ۔ وزیر اعلیٰ منوہر لال ،وزیر کھیل سندیپ سنگھ کی قیادت میں نئی کھیل پالیسی تیار کی گئی ہے اس پالیسی سے بین الاقوامی سطح پر دیش کیلئے میڈل جیتنے والے کھلاڑیوں کو کروڑوں روپے کے انعام رقم کے ساتھ سرکار ی محکموں میںکھیل کوٹے سے پہلی فرسٹ کلاس نوکریاں بھی دی گئیں ہیں اس کھیل پالیسی سے متاثر ہو کر ہر یانہ کے کھلاڑیوں نے ٹوکیو اولمپک اور کامن ویلتھ گیمز میں اور دیش کے کھلاڑیوں نے 20میڈل جیت کر دیش کا نام روشن کیا ہے۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...