11 جولائی 2015

چاول بابا پر36 ہزار کروڑ کے گھوٹالے کا الزام

آج کل الزامات کا دور جاری ہے اور نشانے پر ہیں بھاجپا حکمراں ،وزرائے اعلی۔ لیکن مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیو راج سنگھ چوہان راجستھان کی وزیر اعلی وسندھرا راجے کے بعد اب کانگریس کے نشانے پر چاول بابا یعنی ڈاکٹر رمن سنگھ چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی ہیں۔ چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی رمن سنگھ بطور چاول بابا کے طور پر مشہور ہیں۔ ریاست میں اے پی ایل ، بی پی ایل کنبوں کو ایک روپے اور دو روپے فی کلو کی شرح سے ہر مہینے35 کلو چاول دیا جاتا ہے۔ اس لئے چاول آدی واسی لوگ وزیر اعلی کو چاول والا بابا بھی کہتے ہیں۔ رمن سنگھ کے دوبارہ ریاست میں برسر اقتدار آنے میں ان کے چاول بانٹنے کا اہم رول رہا ہے لیکن اب یہی چاول ان کے اوپر آنچ بن کر ابھرا ہے۔ اب کانگریس نیتا ان کو چاول چرانے والے بابا کہہ کر ان پر نکتہ چینی کررہے ہیں۔ وزیر اعلی رمن سنگھ پر کانگریس پارٹی نے 36 ہزار کروڑ روپے کے چاول گھوٹالے کا الزام لگایا ہے۔ کانگریس کا الزام کچھ اس طرح ہے: پی ڈی ایس اسکیم میں1 روپے فی کلو قیمت سے چاول فراہم کرانے کے بہانے رمن سنگھ نے چاول مل مالکوں کے ساتھ مل کر کرپشن کا ایک ایسی مکینزم تیارکی ہے جس سے پی ڈی ایس دکان مالکوں اور افسروں کو ہزاروں کروڑ روپے کا کمیشن مل رہا ہے۔ کانگریس نے کہا کہ فروری2015 میں اے سی بی نے 12 فروری 2015 کو اسٹیٹ سول سپلائز کارپوریشن کے 36 دفاتر پر چھاپہ مار کر سول سپلائی کارپوریشن کے دفتر سے 36463320 روپے اور کئی مشتبہ دستاویزات ضبط کئے۔ کانگریس نے وزیر اعلی رمن سنگھ سے سیدھے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کی بیوی اور سالی پر بھی پیسے لین دین کا الزام لگایا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے چھتیس گڑھ میں دیش کا سب سے بڑا گھوٹالہ سامنے آیا ہے۔ کا دعوی ہے کہ جانچ ایجنسی کو چھاپے کے دوران ایک ڈائری ملی ہے جس میں وزیر اعلی، ان کی بیوی، سالی سمیت کئی بڑے وزرا کے نام شامل ہیں۔ کانگریس کی چھتیس گڑھ یونٹ نے مارچ کے مہینے میں اس معاملے کو زور شور سے اٹھایا تھا۔ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر بھوپیش بھگیل نے الزام لگایا تھا کہ ریاست میں لاکھوں فرضی راشن کارڈ بنائے گئے ہیں جس کے سہارے ایک بڑے گھوٹالے کو انجام دیا گیا ہے۔ کانگریس کے ترجمان اجے ماکن نے کہا کہ وزیر اعلی رمن سنگھ کا خاندان اس گھورکھ دھندے میں سیدھے ملوث ہے اس لئے انہیں استعفیٰ دے دینا چاہئے اگر وہ نہیں ہٹتے تو مودی سرکار کو انہیں فوراً برخاست کرنا چاہئے۔ اے سی پی کے ذریعے ضبط کی گئی ڈائریاں اور دستاویز میں جنوری سے دسمبر2014 کے درمیان گھوٹالے سے کمائے گئے پیسوں کی تفصیلات درج ہیں۔ اس میں وزیر اعلی ڈاکٹر رمن سنگھ ان کی بیوی اور سالی رینو کا کے ساتھ کئی وزراکے نام ہیں، کانگریس نے کہا کہ گھوٹالے میں خود وزیر اعلی رمن سنگھ اور ان کے خاندان کے لوگ شامل ہیں، اس لئے اس معاملے کی جانچ سپریم کورٹ کی نگرانی میں اسپیشل جانچ ٹیم یعنی ایس آئی ٹی سے کرائی جانی چاہئے۔ کانگریس کے ترجمان نے کہا کہ گھوٹالے میں بیورو نے گذشتہ 6 جون کو چالان پیش کیا ہے۔ بنیادی ملزم سے بیورو نے 113 صفحات کا دستاویز حاصل کیا ہے لیکن ان میں سے صرف 6 صفحات کی چالان میں لگائے گئے ہیں۔ کانگریس کے ترجمان کا کہنا ہے گھوٹالے میں جو بھی ملزم ہے اس کے نام گواہ کی شکل میں دئے گئے ہیں اس لئے چالان میں کسی کا نام نہیں ہے۔ ایک دوسری ڈائری کے دستاویز کا ذکر کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ رمن سنگھ 16-16 کروڑ روپے بھاجپا ہیڈ کوارٹر اور ناگپور میں آر ایس ایس دفتر کو دئے۔ ڈاکٹر رمن سنگھ کی ساکھ ایک ایماندار لیڈر کی ہے۔ الزامات کے اس دور میں ہر الزام کو تب تک صحیح نہیں مانا جاسکتا جب تک کوئی آزاد اور بھروسے مند جانچ نہیں ہوتی اور یہ ثابت نہیں ہوتا کہ چھتیس گڑھ میں اتنا بڑا گھوٹالہ ہوا ہے تب تک یہ محض الزام ہے۔ ڈاکٹر سنگھ کے خود کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ ایک آزادانہ اور غیر جانبدار طریقے پر بھروسے مند جانچ کراوئیں۔
(انل نریندر)

دنیا کے 100 کھلاڑیوں میں سب سے امیردھونی

دنیا کی مشہور میگزین ’فوربیس‘ نے حال میں سالانہ کمائی کے معاملے میں دنیا کے 100 سب سے امیر کھلاڑیوں کی جاری فہرست سے پتہ چلتا ہے کہ کھیلوں میں پیسہ کتنا بڑھ چکا ہے۔ اس فہرست میں جگہ بنانے والے ٹیم انڈیا کے ونڈے کپتان مہندر سنگھ دھونی واحد ایسے کھلاڑی ہیں ۔ دھونی 198 کروڑ روپے کی کمائی کے ساتھ 23 ویں مقام پر ہیں جبکہ امریکی مکے باز پلائیڈمویدر ریکارڈ1915 کروڑ روپے کے ساتھ سب سے اونچے مقام پر بنے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ روجرفیڈر، ٹائیگروڈز ، کرشچنو رونالڈو بھی فہرست میں شامل ہیں۔ دھونی پچھلے سال اس فہرست میں 22 ویں مقام پر تھے۔ ونڈے کرکٹ ٹیم کے کپتان دھونی کو198 کروڑ روپے کی کمائی میں سے قریب173 کروڑ روپے اشتہارات سے ملے ہیں جبکہ25 کروڑ روپے انہیں تنخواہ یا جیت حاصل کرنے پر ملے ہیں۔اس فہرست میں کھلاڑیوں کی جون 2014 ء سے جون 2015ء کے درمیان تنخواہ ، ایوارڈ رقم ، بونس اور اسپانسروں، اشتہارات سے ہونے والی آمدنی کو شامل کیا گیا ہے۔ خواتین میں روسی ٹینس بیوٹی ماریا شراپووا 190 کروڑ روپے کی کمائی کے ساتھ 26 ویں مقام پر ہیں جبکہ امریکی ٹینس سینئر سیرینا ویلمس 47 ویں مقام پر153 کروڑ روپے کی کمائی کے ساتھ ہیں۔ کھیلوں میں اتنے پیسوں سے متاثر ہوکر ہندوستانی مکے باز اسٹار وجندر سنگھ نے بھی اب پروفیشنل بننے کا فیصلہ کیا ہے۔ مکے بازی تو ہوگی لیکن ساتھ ساتھ ہوگی کروڑوں ڈالر کی چمک دمک اور شہرت۔ اسی چمک دمک کے سبب باکسروجندر سنگھ نے امیچیور باکسنگ کو الوداع کہا۔ پروباکسنگ کا رخ کرلیا۔ یہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ پروفیشنل باکسنگ میں باکسر کے پنچ ہی اس کی شہرت طے کرتے آئے ہیں۔ پیسوں کی بات کریں تو آئی او ایس اور ناہی کوئنس بیری نے ڈیل کی رقم کا خلاصہ کیا ہے۔ لیکن اطلاع کے مطابق وجندر اگر اچھا کھیلتے ہیں تو وہ ہر سال 4 سے6 کروڑ روپے کما لیں گے۔ وہ پرو باکسنگ کا اگر کوئی مقابلہ جیت جاتے ہیں تو رقم 20 سے25 کروڑ تک جا سکتی ہے۔ حالانکہ اس میں کوئنس بیری اور آئی او سی کا بھی حصہ ہوگا جو ونر کی پرموٹر کمپنیاں ہیں۔ اس دوسران ان کی ٹریننگ کا خرچہ ان کی پرموٹر کمپنیاں آئی او سی اٹھائے گی۔ ابھی وجندر کی سالانہ کمائی قریب20 سے40 لاکھ تک ہے۔ اس لحاظ سے یہ ایگریمنٹ وجندر کے لئے کافی فائدمند ثابت ہوسکتا ہے۔ اگر وہ ٹھیک سے کھیلتے ہیں۔ اس سے دوسرے باکسروں اور کھلاڑیوں کو بھی حوصلہ ملے گا۔ بھارت کے پہلے پروباکسر راجکمار سانگوان کہتے ہیں کہ اگر مکے باز میں دم خم ہے تو پیسوں کو برسنے سے کوئی روک نہیں سکتا۔
(انل نریندر)

10 جولائی 2015

بن بیاہی ماں کے حق میں تاریخی فیصلہ

ایک وقت اداکارہ نینا گپتا نے اپنی بیٹی مسابا کی بن بیاہی ماں بن کر شادی کے ضروری ہونے کے خلاف آواز اٹھائی تھی ۔ تب شاید ہی کسی نے سوچا ہوگا کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا جب سپریم کورٹ ایسی سبھی ماؤں کو بچے کی کفالت کا قانونی حق دے دے گا۔ خاتون امپاور منٹ کے دور میں خواتین کے حق میں ایک سے بڑھ کر ایک فیصلہ بتاتے ہیں کہ مستقبل میں ان کی سماجی اصلیت اور ساکھ اور عزت میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ دیش کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے اپنے ایک تاریخی فیصلے میں کہا ہے کہ بن بیاہی ماں کو اپنے بچے کی گارجین شپ پانے کے لئے بچے کے والد کی رضامندی ضروری نہیں ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ اکیلے سرپرست یا بن بیاہی ماں اگر بچے کے برتھ سرٹیفکیٹ کے لئے درخواست دیتی ہے تو متعلقہ اتھارٹی کو برتھ سرٹیفکیٹ دینا ضروری ہے۔ عدالت عظمیٰ کا فیصلہ عورت کی پرائیویسی کے احترام کے ساتھ ہی جنسی امتیازدور کرنے کی سمت میں واقعی میل کا پتھر ہے۔ایک غیر شادی شدہ ماں کے اپنے بچے کی سرپرستی کا حق حاصل کرنے سے متعلق معاملے میں دئے گئے اس فیصلے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ متعلقہ ماں بچے کو بچے کے والد کا نام عام کئے بنا ہی یہ حق حاصل کرسکتی ہے۔ اگر وہ حلف نامہ داخل کر تنہا سرپرستی لینے کی بات کہتی ہے تو برتھ سرٹیفکیٹ دینا ہوگا۔ موجودہ قانون کے مطابق گارجین اینڈ وارڈس ایکٹ اور ہندو ، مائینریٹری اینڈ گارجن شپ ایکٹ کے تحت والد سے رضامندی کے لئے اسے نوٹس بھیجنا ضروری ہوتا تھا۔ جسٹس وکرم جیت سین کی سربراہی والی بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ گارجین شپ سے وابستہ چنندہ عرضیوں میں ماں کیلئے بچے کے والد کی پہچان عام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
عرضی میں والد کو پارٹی بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ آج کا سماج بدل گیا ہے، ایسی خواتین کی تعداد بڑھ رہی ہے جو خود بچوں کی کفالت کرنا چاہتی ہیں۔ ایسے میں اس طرح کی شرط رکھنا کہ ماں کو گارجین شپ دینے کے لئے والد کی اجازت ضروری ہے ،وہ بھی جب والد نہ تو بچے کو اپنے پاس رکھنے کا خواہشمند ہے اور نہ ہی اسے بچے سے کوئی مطلب ہے۔ مناسب نہیں ہے۔ ڈویژن بنچ کا کہنا ہے کہ ایک غیر ذمہ دار والد کے حق سے کہیں زیادہ ضروری ہے کہ کسی معصوم بچے کی بہبودی جو اسے ماں کی آغوش اور سرپرستی میں ہی مل سکتی ہے۔ اس فیصلے کا سب سے غور طلب پہلو یہ ہے کہ اب سرکار کو یہ یقینی کرنا ہوگا کہ برتھ رجسٹریشن نہ ہونے کی کسی وجہ سے کسی شہری کو پریشان نہ ہونا پڑے۔ ماں کی ممتا کو اس فیصلے کے ذریعے ایک بڑا مطلب ملا ہے کیونکہ غیر ذمہ دار باپ کو عام طور سے نوٹیفائی کئے جانے کی ضرورت نے الگ کردیا ہے۔ بن بیاہی ماں کے حق میں آیا فیصلہ قانونی جیت کی نشاندہی کرتا ہے۔ ضرورت اس کے مطابق سماج کو بدلنے کی بھی ہے۔
(انل نریندر)

’اب تک83‘ دیانائک کی دلچسپ کہانی

کچھ برس پہلے بالی ووڈ کی ایک فلم ’ اب تک 56 ‘ آئی تھی۔ اس میں ہیرو کا رول نانا پاٹیکرنے نبھایا تھا۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ فلم ممبئی کے انکاؤنٹر اسپیشلسٹ دیانائک پر مبنی ہے۔ خبر آئی ہے کہ انکاؤنٹر اسپیشلسٹ دیانائک کو معطل کردیا گیا ہے۔ ناگپور میں تعیناتی کے بعد دیانائک نے خاندان کی حفاظت کا حوالہ دیتے ہوئے جوائن کرنے سے انکار کردیا تھا۔نائک کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان سے پولیس سکیورٹی ہٹا لی گئی ہے ایسے میں وہ اپنے خاندان کو اکیلا نہیں چھوڑ کر جاسکتے۔ ممبئی انڈرورلڈ کے 80 سے زیادہ جرائم پیشہ کا انکاؤنٹر کرنے والے دیانائک پچھلے کچھ برسوں میں خاصے تنازعات میں گھرے رہے ہیں۔ اب اثاثے سے زیادہ املاک کو لیکر ان کے خلاف جانچ شروع کی گئی تھی۔ دیانائک کی سوانح حیات بھی کم دلچسپ نہیں ہے۔ کرناٹک کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ممبئی پولیس تک کی دیانائک کی زندگی بھی کم دلچسپ نہیں ہے۔ ساتویں کلاس کی پڑھائی ختم کرنے کے بعد بڈڈا اور رادھا نائک کا یہ سب سے چھوٹا بیٹا قریب تین دہائی میں ممبئی پولیس کا سب سے بڑا دبنگ اور مشہور و متنازعہ افسر بن گیا۔
دیانائک کا خاندان جب گاؤں چھوڑ کر ممبئی آیا تھا تب ان کا ٹھکانہ ایک ہوٹل پورٹیکو ہوا کرتا تھا، جہاں دیا کے پڑھنے کیلئے اسٹریٹ لائٹ کی بھرپور روشنی ہوا کرتی تھی۔ دیا نے گورے گاؤں سے 12 ویں کلاں اور اندھیری میں ایک کالج سے گریجویشن کی تعلیم حاصل کی۔پڑھائی ختم کرنے کے بعد دیا نے پلمبر اپرینٹکس کا کام کرنا شروع کردیا۔ بس یہی وہ موڑ تھا جہاں سے دیا نائک کی زندگی بدلنے والی تھی۔ پلمبرنگ کے کام کے دوران ہی دیا نائک کی ملاقات نارکوٹکس محکمے کے کچھ افسران سے ہوئی۔ بس اسی ملاقات نے دیا کو یونیفارم پہننے کا شوق پیدا ہوگیا اور آخر کار1995 میں دیا جوہو میں سب انسپکٹر کے طور پر مقرر ہوئے۔ یہ وہ دور تھا جب ممبئی میں انڈر ورلڈ سرگرم تھا اور سڑکوں پر گینگ وار عام بات ہوا کرتی تھی۔ بس اس کے بعد سے ہی نائک کی رفتار اتنی تیز ہوگئی کہ اس نے پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔1996 میں نائک نے پہلا انکاؤنٹر کیا تھا جو اب تک87 تک پہنچ چکا تھا۔ نائک کے رسوخ کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2002 میں غلط طریقے سے پراپرٹی بنانے کے الزام لگنے کے دوران ہی نائک نے اپنے گاؤں میں اپنی ماں کے نام پر ایک اسکول کھولا تھا جس کے افتتاح پر کرناٹک کے وزیر تعلیم سمیت دیش کی کئی ہستیاں موجود تھیں۔ اس کے بعد سال2004 میں مکوکا کورٹ نے اینٹی کرپشن برانچ کو دیا نائک کی پراپرٹی کی جانچ کے احکامات دئے تھے۔
(انل نریندر)

09 جولائی 2015

للت مودی پر کستا قانونی شکنجہ

ٹوئٹ ماسٹرللت مودی پچھلے کچھ دنوں سے موضوع بحث سے غائب ہیں، وجہ ہے کہ دیش میں کئی دیگر اہم واقعات رونما ہوئے ہیں۔ پھر ہر روز ٹوئٹ کرکے نئے نئے نام لیکر للت مودی نے اپنی ساکھ کوگھٹا لیا ہے۔ اب ان کے الزامات کو زیادہ توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ دوسری طرف حکومت نے بھی ان کے خلاف جوابی حملے کرنے شروع کردئے ہیں۔ للت مودی کے کچھ ٹوئٹ ان کے لئے مصیبت کا سبب بن سکتے ہیں کیونکہ ایسے ہی ایک ٹوئٹ کو لیکر اس بار ان کے خلاف سیدھے راشٹرپتی بھون نے دہلی پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔ راشٹر پتی بھون نے جو شکایت غیر رسمی طور پر درج کرائی ہے اس کے مطابق مودی کو 30 جون کے اس ٹوئٹ کی کاپی بھی نتھی کی ہے جس میں انہوں نے راشٹرپتی کی سکریٹری امیتا پال کے بارے میں اعتراض آمیز رائے زنی کی تھی۔ راشٹرپتی بھون نے اس مسئلے پر کوئی رائے زنی کرنے سے انکار کردیا ہے لیکن بتا دیں راشٹرپتی بھون نے اس معاملے میں پہلے ہی ایک بیان جاری کر للت مودی کے 30 جون کے ٹوئٹ کو بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی قراردیا تھا۔دہلی پولیس کے کمشنر بی ۔ایس۔ بسی نے راشٹرپتی بھون سے شکایت ملنے کی تصدیق کی ہے۔ دوسری طرف انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے للت مودی کوپیسہ کی خوردبرد ازالہ ایکٹ (پی ایم ایل ایل) کے معاملے میں نوٹس جاری کیا ہے۔ اس محض ایک مجرمانہ معاملے میں جاری نوٹس میں تین ہفتے کے اندر پیش ہونے کو کہا ہے۔ پیش نہ ہونے پر ان کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا جاسکتا ہے۔ وزیر خارجہ سشما سوراج اور راجستھان کی وزیر اعلی وسندھرا راجے پر اٹھے سوال کے بعد انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے آئی پی ایل ٹورنامنٹ میں مبینہ طور پر اقتصادی بے قاعدگیوں اور سابق کمشنر للت مودی کے خلاف جانچ کو آگے بڑھانے کیلئے سنگا پور اور مارشس سے قانونی مدد مانگی ہے۔ ساتھ ہی ایجنسی نے عدالت سے دو درخواستیں حاصل کرنے کے لئے قانونی کارروائی شروع کردی ہے۔ ممبئی زون آفس نے اپنی ایک پارٹی کو سنگا پور بھیجا ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ایک افسر کے مطابق ممبئی دفتر سے ہی مودی کو پیشی کا نوٹس بھیجا گیا ہے۔ للت مودی کے خلاف انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے فیما کے تحت کئی معاملے یوپی اے سرکار میں درج کرائے تھے۔ یہ صرف مالی بے ضابطگیوں کے خلاف جرمانے وصولنے کی سہولیات تک محدود تھے۔ حالانکہ سال کے آغاز میں پی ایم ایل ایل کے تحت درج معاملے میں سخت سزا کی سہولت ہے۔ پی ایم ایل ایل میں قصوروار قرار ملزم کو قید مشقت 3 سے7 سال تک کی جیل کے ساتھ بھاری جرمانہ وصولے جانے کی بھی سہولت ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ذرائع کے مطابق للت مودی کو پچھلے ہفتے ہی سمن سونپا گیا ہے۔ مودی کا وکیل فیصلہ کن سماعت کے لئے ممبئی آیا تھا۔ مودی کو تین ہفتے میں پیش ہونے کیلئے کہا گیا ہے۔ دراصل 2008 میں آئی پی ایل کے ٹیلیویژن ٹیلی کاسٹ کے حقوق کے لئے 425 کروڑ روپے کے ٹھیکے دئے گئے تھے۔انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے اس معاملے میں2009 میں فیما کے خلاف ورزی کی جانچ شروع کی۔ للت مودی پر سرکاری شکنجہ تیزی سے کس رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان معاملوں کی جانچ میں تیزی لاکر انفورسمنٹ کے افسر مودی کے خلاف انٹر پول کا ریڈ کارنر نوٹس جاری کروانے کی سمت میں بڑھ رہا ہے۔
(انل نریندر)

ٹوٹا لیکن جھکا نہیں یونان، پیکیج مسترد

یونان یوروزون کا حصہ بنا رہے گا یا اس سے باہر نکلے گا اور اپنی روایتی کرنسی کی طرف لوٹ جائے گا۔ پچھلے دو برسوں سے جاری اس دلچسپ قیاس آرائی کا قصہ پچھلے ایتوار کو ختم ہوگیا۔ اقتصادی بحران سے لڑ رہے یونان میں ایتوار کو عوامی ریفرنڈم میں ووٹروں نے یوروپی فیڈریشن کے بیل آؤٹ پیکیج کے ریزولیوشن کو نامنظور کردیا۔ اب یونان کا یوروزون سے باہر نکل جانا تقریباً طے ہوگیا ہے۔ یوروپی یونین اور بین الاقوامی کرنسی فنڈ نے یونان سے قرض کے بدلے خرچوں میں کٹوتی کی سخت شرط رکھی تھی۔ اسے مانیں یا نہیں اسی پر ریفرنڈم کرایا گیا۔قرضے کے لئے سخت شرطوں کو مسترد کریونان کی عوام نے پی ایم سپرس پر بھروسہ جتایا ہے۔وزیر اعظم نے عوام سے No پر ووٹ ڈالنے کی اپیل کی تھی۔ یونان کو2018 تک 50 ارب یورو یعنی 5.5 ارب ڈالر کے نئے اقتصادی پیکیج کی ضرورت ہے۔ یوروپی یونین اور آئی ایم ایف نے اس کے لئے خرچوں میں کٹوتی کی سخت شرط رکھی تھی۔ اس سے پہلے بھی یونان کو2008 میں اور2010 میں بیل آؤٹ پیکیج دئے گئے تھے۔ 2010ء میں ای سی بی، آئی ایم ایف ، یوروپی یونین کمیشن نے قاہرہ کی مدد کے لئے اپنے خرچوں میں کٹوتی لانے کی شرط رکھی تھی۔معیشت کو خود کفیل بنانے کیلئے ٹیکس بڑھانے کی تجاویز رکھی گئی تھیں مگر یونان کے لوگوں کو یہ منظور نہیں تھا۔ اقتصادی بحران سے نکلنے کے لئے ملے بیل آؤٹ پیکیج کے باوجود یونان کی معیشت میں بہتری نہیں آئی۔ یونان کی بدحالی کے پیچھے اس کی تاریخ اور سیاست مانی جارہی ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ دیش لیفٹ اور ساؤتھ لیفٹ لوگوں کے درمیان تقریباً 30 سال تک چلی لمبی خانہ جنگی میں پھنس گیا تھا جس کا اثر معیشت کے ساتھ ساتھ سیاست پر بھی پڑا۔حالات تب اور بگڑ گئے جب1949 میں دیش میں معیشت اور سیاسی طور پر دیش کو کمزور کردیا گیا۔ تازہ بیل آؤٹ پیکیج میں جو شرطیں رکھی گئی ہیں وہ یونان کیلئے جان لیوا ثابت ہورہی ہیں۔ جہاں50 فیصدی سے زیادہ لوگ بے روزگار ہوں ،جن کے پاس نوکری ہے انہیں بھی تنخواہ کٹ کر مل رہی ہو، بوڑھے لوگوں کی پنشن مسلسل گھٹ رہی ہے اور جو بھی ملے وہ خیرات کی طرح۔ اتنے مایوس کن ماحول میں کوئی سماج کب تک جی سکتا ہے؟ جرمنی اور فرانس جیسے یوروزون کی بڑی طاقتوں کا کہنا ہے کہ قرض لیکر ہضم کرجانا کوئی راستہ نہیں ہے لہٰذا یونان تو ٹیکسوں کی وصولی بڑھا کر اور اپنے سرکاری خرچوں میں کٹوتی کرکے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ اور یورو پی یونین کمرشل بینک سے لئے قرضوں کی ادائیگی کرے یا پھر خود کو دیوالیہ اعلان کرکے اپنے حال پر جینا سیکھے۔ اس دھمکی کو جھیلتے رہنا یونان کی جنتا کے لئے ایک میعاد کے بعد ناممکن ہوگیا۔ انہوں نے طے کیا کہ آگے جو بھی ہوگا سو ہوگا ابھی اقتصادی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے اگر انہوں نے اپنی خود اعتمادی کو بچا کر رکھا تو ان کے بچے امیروں میں سے نہ صحیح غریبوں میں سر اٹھا کر جی سکیں گے۔ دیش میں خدشات اور غیر یقینی ماحول ہے۔کھانے پینے کی چیزوں کی قلت بھی شروع ہوگئی ہے۔ سرکار کی طرف سے بینکوں کو بند کرنے کے اعلان کی وجہ سے دیش میں اے ٹی ایم پر لوگ قطاروں میں کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہی نہیں لوگ یونان کے مستقبل کو لیکر اس قدر اندیشات کا شکار ہیں کہ وہ کھانے پینے کی چیزیں جم کر خریداری کر انہیں جمع کررہے ہیں۔ یونان کے اس واضح مینڈیڈ کے بعد ایک راستہ یونان کو چپ چاپ یورو زون سے باہر کردینے کا ہے۔ ایسا ہوا تو اس دیش کے زیادہ تر بینک بیٹھ جائیں گے اور یہاں کی معیشت اور بگڑے گی۔ یورو زون کو اس کا نقصان یہ ہوگا کہ اس کی ساکھ مزید خراب ہوجائے گی۔ اگلا نمبر کس کا ہو سکتا ہے؟ بلغاریہ، رومانیہ، مخدونیہ کا یا پھر اسپین، پرتگال، اٹلی کا؟ دوسرا راستہ یونان کے لوگوں کے دل کی بات سننے ، ان کی مشکلیں کم کرنے اور یونان کو یورو زون میں بنائے رکھنے کی شرطیں نرم بنانے کا ہے۔ امید کی جاتی ہے یوروزون کے مہارتھی اس دوسرے راستے پر بڑھیں گے تاکہ عالمی معیشت میں اندیشات کی موجودگی کا دور ختم ہو۔
(انل نریندر)

08 جولائی 2015

آخر سی بی آئی جانچ میں حرج ہی کیا ہے؟

مدھیہ پردیش کا ویاپم گھوٹالہ سنگین شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ ویاپم کے ذریعے سب انسپکٹر عہدے میں بھرتی ہوئی انامیکا خوشواہا نے خودکشی کرلی ہے۔ متوفی ساگر واقع جواہر لال نہرو پولیس ٹریننگ اکیڈمی میں ٹریننگ لے رہی تھیں۔ اس کی بھرتی فروری میں ہوئی تھی۔یہ ویاپم معاملے سے منسلک 46 میں موت ہے۔ سنیچر کو انڈیا ٹوڈے گروپ کے رپورٹر اکشے سنگھ کی مشتبہ حالت میں موت ہوگئی تھی ۔ اس کے بعد ایتوار کو دہلی کے ایک ہوٹل میں میڈیکل کالج کے ڈین کی لاش ملی جوویاپم گھوٹالے کی جانچ کررہے تھے۔ اترپردیش اور ہریانہ میں بھی ناجائز بھرتیوں کے معاملے ہوئے ہیں لیکن ایسی موتیں نہیں ہوئیں۔ اس لحاذ سے یہ اپنے آپ میں انتہائی سنگین گھوٹالہ ہے جس میں مسلسل اموات ہوتی جارہی ہیں۔ یہ موتیں کئی سنجیدہ سوال کھڑے کرتی ہیں۔ یہ سوال اس لئے اور بھی زیادہ سنجیدہ ہوجاتے ہیں کیونکہ اس گھوٹالے میں شامل یا ملزم اور گواہ رہے کئی لوگوں کی مشتبہ حالات میں موت ہوئی ہے۔ ایسے لوگوں کی تعداد 25 سے 46 تک بتائی جاتی ہے۔ مشکل یہ ہے کہ اس بارے میں کوئی ٹھیک ٹھاک معلومات دینے کو تیار نہیں ہے لیکن گھوٹالے سے کسی بھی طرح وابستہ رہے کتنے ہی لوگ حقیقت میں مشتبہ حالات میں مرے ہیں اور کتنی موتیں فطری نوعیت کی ہوئی ہیں؟ تکلیف دہ پہلو یہ بھی ہے کہ ابھی بھی اس گھوٹالے کی جانچ کررہی ایس ٹی ایف کے افسر کوئی تشفی بخش وضاحت دینے کی ضرورت نہیں سمجھ رہے ہیں۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیو راج سنگھ چوہان نے حالانکہ خود کو وہسل بلوور بتایا ہے اور سی بی آئی جانچ کرانے سے منع کردیا ہے۔ تازہ ترین اطلاع ہے کہ وزیر اعلی سی بی آئی جانچ کی سفارش کیلئے ہائیکورٹ سے اجازت لے سکتے ہیں۔کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیاں سپریم کورٹ کی نگرانی میں معاملے کی سی بی آئی جانچ کی مانگ کررہی ہیں۔ شیو راج چوہان کی مشکلیں بڑھتی دکھائی دے رہی ہیں۔ دہلی میں اعلی کمان کے کئی سرکردہ لیڈروں کو فون پر شیو راج کو صفائی دینی پڑ رہی ہے۔ وہیں دہلی اور مدھیہ پردیش دونوں جگہوں پر اپوزیشن پارٹیوں کے ذریعے مسلسل ان کے استعفے کی مانگ ہورہی ہے۔ دہلی میں عام آدمی پارٹی کے نیتا سنجے سنگھ نے ٹوئٹ کرکے شیو راج کو یمراج سے تشبیہ دے ڈالی۔ انہوں نے لکھا ہے شیوراج یا یمراج ویاپم گھوٹالے میں وزیر اعلی سے لیکر گورنر تک شبہ کی دائرے میں ہیں۔40 لوگ اپنی جانچ گنوا چکے ہیں یہ کیا ہورہا ہے؟ ویاپم گھوٹالے میں اب تک دو درجن سے زائد لوگوں کی پراسرار حالت میں موت ہوچکی ہے۔ وزیر اعلی نے سی بی آئی جانچ سے انکار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے یہ فیصلہ ہائی کورٹ کرے گی۔ کانگریس اور باقی پارٹیوں نے معاملے کی جانچ سی بی آئی سے کرانے کی جانچ کی ہے۔ اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر ستیہ دیو کٹارا کا الزام ہے کہ ان سبھی لوگوں کو راستے سے ہٹایا جارہا ہے جن کے پاس اہم معلومات ہیں یا پھر وہ کئی چہرے بے نقاب کرسکتے ہیں۔ جانچ ایجنسی پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ پچھلے ہفتے اندور جیل میں بند ویٹنری ڈاکٹر نریندر سنگھ تومر کی اچانک موت سے یہ معاملہ اور گرماگایا ہے۔ جس دن نریندر سنگھ کی موت اندور میں ہوئی اسی دن ویاپم سے وابستہ ڈاکٹر راجندر شرما آریہ کی گوالیار میں موت ہوگئی۔ تب ریاستی حکومت نے یہ دعوی کیا تھا کہ اب تک ویاپم گھوٹالے سے وابستہ 25لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ سرکار کے مطابق ان میں 11 لوگ مقدمہ درج ہونے سے پہلے ہی مر چکے تھے ۔ اب تک 6 سڑک حادثات میں تو 6 بیماری سے مر چکے ہیں جبکہ 2 نے خودکشی کی ہے۔ مرنے والوں کی جو فہرست میڈیا میں دکھائی جارہی ہے اس کے مطابق اب تک44 سے زائد لوگ اپنی جانچ گنوا چکے ہیں۔ سارا معاملہ کیا ہے؟ الزام ہے کمپیوٹر لسٹ میں گڑ بڑی کر کے سفارشی لوگوں کو بھرتی کرایا گیا۔ گھوٹالے میں اب تک 2000 لوگ گرفتار ہوچکے ہیں۔600 سے زیادہ کی تلاش جاری ہے۔ اس میں کئی لیڈر، افسر اور ان کے رشتے داروں کے نام ملزمان کی فہرست میں شامل ہیں۔ اچھی بات ہے کہ دیر سے ہی صحیح مرکزی سرکار نے اس معاملے کی سنجیدگی کو سمجھا اور مرکزی وزیر خزانہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اس گھوٹالے سے وابستہ لوگوں کی مشتبہ حالت میں اموات کی غیر جانبدارانہ جانچ کرائیں گے۔ اچھا ہو کہ جلد ہی یہ بھی طے ہوجائے کہ یہ غیر جانبدارانہ جانچ کیسے ہوگی؟ یہ ممکن ہے کہ اس معاملے کی جانچ سی بی آئی کو سونپی جائے لیکن پھر سے یہ سوال اٹھے گا کیا وہ سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہو؟ اس کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ موجودہ حالات میں ایس ٹی ایف کی طرف سے جو جانچ جاری ہے وہ وہاں کے ہائی کورٹ کی نگرانی میں ہورہی ہے۔ ضروری محض یہ نہیں کہ جانچ منصفانہ ہو بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ منصفانہ دکھائی بھی دے۔ اس لئے جو بھی ضروری قدم اٹھانے ضروری ہیں ان میں دیر نہیں کی جانی چاہئے۔ وزیر اعلی شیو راج سنگھ چوہان کو معاملے کی سنجیدگی کو سمجھنا چاہئے اور اپنی خاطر اگر جانچ سی بی آئی کرے تو اس میں حرج ہی کیا ہے؟ بار بار انکار کرنے سے عوام میں غلط پیغام جا رہا ہے۔ وہ کہنے لگی ہے کہ پتہ نہیں کیوں وزیر اعلی سی بی آئی جانچ کے خلاف اڑے ہوئے ہیں۔ ضرور کچھ چھپانے اور دبانے کیلئے سی بی آئی جانچ کے لئے تیار نہیں ہو رہے ہیں۔ کچھ حد تک شیو راج سنگھ کا سیاسی مستقبل اسی معاملے پر ٹکا ہوا ہے۔جتنی دیر ہوگی اتنا ہی شبہ بڑھے گا اور عوام میں اس کا غلط پیغام جائے گا۔
(انل نریندر)

شیعوں پر بڑھتے حملوں سے خلیجی ممالک پریشان!

یہ مقدس رمضان کا مہینہ ہے لیکن دہشت گردوں کیلئے اس مقدس مہینے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ حالانکہ کہنے کو یہ اسلام کے نام پر لڑ رہے ہیں۔ چاہے جموں و کشمیر ہو چاہے کویت ہو، پاکستان ہو سعودی عرب ہو چاہے نائیجریا ہو سبھی مقامات پر بے قصوروں کو قتل کرکے یہ دہشت گرد پتہ نہیں اسلام کو کیسے بچا رہے ہیں؟ آئے دن خبر آتی رہتی ہے کہ دہشت گردوں نے مساجد پر حملہ کیا یا نماز پڑھتے ہوئے بے قصور شیعہ مسلمانوں پر حملہ کرکے ان کو قتل کردیا۔ دہشت گرد تنظیم بوکو حرام نے شمال مشرقی نائیجریا کے دیہات میں گھس کر گھروں اور مساجد پر حملہ کرکے قریب 150 لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ بوکوحرام کے قاتلوں نے گھروں پر موجود خواتین اور مساجد میں نماز ادا کررہے نمازیوں اور بچوں کو گولی کا نشانہ بنایا۔50 سے زائد بندوقچی آتنک وادیوں نے بدھ کے روز بورینو ریاست کے 3 دور دراز دیہات پر حملہ بول دیا۔ انہوں نے مقامی لوگوں کو قتل کرنے کے بعد ان کے گھروں کو آگ بھی لگادی۔ اس حملے کو پچھلے دو مہینوں میں کیا گیا سب سے بڑا حملہ بتایا جارہا ہے۔ مئی میں صدر محمد بہاری کے برسر اقتدار آنے کے بعد پہلی بار دہشت گردوں نے اس طرح سے موت کا خونی کھیل کھیلا ہے۔ لاشوں کی گنتی کرنے والے اوکابا گاؤں کے پولو نام کے ایک شخص نے بتایا کہ دہشت گردوں نے ان کے چچا کے پورے خاندان کو ختم کردیا ہے۔ ان کے ساتھ ان کے پانچ بچوں کو بھی ماردیا گیا۔ ادھر آئی ایس نے پہلی بار ایک خاتون کا سر قلم کیا۔ خلیجی ممالک کے وزرا نے شیعہ مساجد کو نشانہ بنا کر کئے جارہے حملوں کے خلاف متحد ہونے کا عزم ظاہر کیا ہے۔اسلامک اسٹیٹ کے جہادی گروپ نے ان حملوں کی ذمہ داری لی ہے۔ پچھلے جمعہ کو کویت میں ہوئے ایسے ہی حملے میں 26 لوگ مارے گئے تھے۔ خلیج اشتراک کونسل (جی سی سی) کے وزرا نے کویت میں ایک ہنگامی میٹنگ بلائی جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ یہ حملے خطے کے استحکام کیلئے خطرہ ہیں۔ پچھلے دو مہینے میں سعودی عرب اور کویت میں شیعہ مساجد پر ہوئے تین خودکشی حملوں میں قریب50 لوگ مارے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوگئے۔ سبھی حملوں کی ذمہ داری آئی ایس نے لی ہے۔ سنی جہادی گروپ شیعوں کو مذہب مخالب مانتے ہیں اور وسطی ایشیا میں انہیں آئے دن نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ میٹنگ کے بعد جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزرا نے اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کیلئے اٹھائے جانے والے قدموں کے لئے تال میل اور تعاون کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ مسئلہ ارب ممالک کی سلامتی و عدم استحکام کے لئے خطرہ ہے اس لئے وزرا نے اس سے مقابلہ کرنے کیلئے متحد ہونے کا فیصلہ کیا ہے لیکن مسئلہ سنگین ہے۔
(انل نریندر)

07 جولائی 2015

دیہی ہندوستان کی اصلیت بتا رہے ہیں اعداد وشمار

جس مردم شماری کا انتظارپچھلے 84 برس سے ہورہا تھا آخر کار اس کے اعداد وشمار مودی حکومت نے جاری کردیئے ہیں۔ لیکن یوپی اے حکومت کی شروع کردہ ذات پر مبنی مردم شماری پوری ہوگئی ہے لیکن اس کے اعداد وشمار جاری نہیں ہوپائے تھے اب مودی سرکار نے پورے دیش کے دیہات اور شہروں کو ملا کر کل 24.39 کروڑ گھروں اور کنبوں میں بانٹا ہے اس میں دیہاتی گھروں کی تعداد 17.91 کروڑ ہے جو تصویر سامنے آئی ہیں اسے لے کر ہمارے سبھی پالیسی سازوں کو سنجیدگی سے غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ دستیاب اعداد وشمار ظاہر کررہے ہیں جن دیہات غریبوں کسانوں اور مزدوروں کو لے کر بڑی بڑی باتیں کی جاتیں ہیں ان کی حالت ایک طرح سے تسلی بخش نہیں ہے آزادی ملنے کے بعد سے ہی دیش میں غرباء اور کسانوں کی حالت بہتر بنانے کی باتیں کی جاتی رہی ہیں۔ بھارت کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے سب کی بہتری کے لئے پانچ سالہ منصوبوں کا آغاز کیا تھا ۔ اندرا گاندھی غریبی ہٹاؤ کانعرہ دیا تھا تو لال بہادر شاستری کا نعرہ دیا تھا جے جوان جے کسان کا نعرہ دیا تھا۔ آج سے قریب دہائی پہلے اصلاحاتی پالیسی کاآغاز کرنے کے پیچھے یہ بھروسہ تھا کہ اصلاحات کی لہر دیہی بھارت میں تبدیلی لائے گی لیکن زمینی حقیقت کچھ اور ہی دکھا رہی ہے۔ درمیانی طبقہ کی بڑھتی آبادی پر اتراتے اس دیش کے دیہات میں ابھی غریبی ہے اعداد وشمار کے مطابق دیش میں کل 24.39 کروڑ خاندان ہیں جس میں 17.91 کروڑ خاندان بھارت میں رہتے ہیں اور باقی شہروں میں ۔ ان میں 17.91 کروڑ دیہی خاندانوں میں سے 10کروڑ خاندان ہر طرح کے تجربات سے مقابلے آرا ہیں ان میں تقریبا آدھے خاندان پوری طرح سے بے زمین ہے یعنی ان کی زندگی مزدوری کرکے ہورہی ہیں یہ ان 18کروڑ خاندان میں سے ہے جوگاؤں میں رہتے ہیں صاف ہے کہ گاؤں کا دیش بدحال پوزیشن میں ہے قریب 18 کروڑ خاندان جو دیہات میں رہتے ہیں ان میں سے 5.39کروڑ یعنی 20.10 فیصدی کھیتی پر منحصر ہے دیہاتوں کی آدھی آبادی یعنی 9.16کروڑ خاندان یومیہ مزدوری پر زندہ ہے 44.84لاکھ خاندان دوسرے کے گھروں میں کام کرتے ہیں۔4.08لاکھ خاندان کچڑا اور کوڑا بنتے ہیں 6.68 خاندان بھیک مانگنے پر مجبور ہے بے شک اس آبادی سے کچھ غلط فہمی دور ہوگئی ہے مثلا یہ صاف ہوگیا ہے کہ کل دیہی خاندانوں کے قریب30 فیصدی زندگی کے لئے گزر بسر زراعت پر منحصر ہے یعنی زراعت پر آبادی کے کا بوجھ کچھ کم ہوا ہے حالانکہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کھیتی پر کم توجہ دی جائے بلکہ فی الحال سب سے ضروری دیہی بھارت کی تصویر بدلنا ہے ۔10 کروڑ محروم خاندانوں کو ترقی کی قومی دھارا میں لایا جاسکے ایک لمبے عرصے سے یہ محسوس کیاجارہاہے سرکاری پالیسیوں کو صحیح ڈھنگ سے نافذ کرنے اور خاص طور سے ان کافائدہ سماج کے آخری نکڑ پر کھڑے لوگوں تک پہنچانے کے لئے انتظام اور حکمرانی کے طور طریقے میں تبدیلی کی جائے لیکن ایسا کرنے کے لئے نہ تو کوئی ٹھوس کوشش ہورہی ہے اور نہ ہی زمینی حقیقت بدل رہی ہیں بھارت ایک زراعتی انحصار دیش ہے جب تک ہم دیہات کی حالت کونہیں بہتر بناتے تو صحیح معنوں میں بھارت آگے نہیں بڑھ سکتا ہے۔ وزیراعظم دیہی آنچل کی حالت بدلنے کے لئے ٹھوس کوشش کریں گے اور کسانوں کی حقیقی پوزیشن بدلیں گے۔
(انل نریندر)

پھڑنویس حکومت: مدرسے اسکول نہیں

مہاراشٹر حکومت مدرسوں میں اسکولی تعلیم ضروری کرنے کے لئے ایک بڑی چال چلی ہے جن مدرسوں میں ریاضی اور سائنس اور انگریزی نصاب نہیں پڑھائے جاتے انہیں اسکول ماننے سے انکار کردیا ہے۔ سرکار کا پیغام صاف ہے کہ اگر سرکاری گرانٹ چاہتے ہیں تو مدرسوں کو اپنے نصاب میں باقاعدہ طور پر اسکولی نصاب کو شامل کرنا ہوگا۔ حکومت کے اس فیصلے سے ایک نیا سیاسی بکھرا شروع ہوگیا ہے لیکن مہاراشٹر کے وزیرتعلیم ونود تاوڑے کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں کرنے سے تعلیم کا حق قانون کے تحت مدرسوں میں پڑھنے والوں بچوں کو اسکولی تعلیم علم نہیں مانا جاسکتا ہے۔ اس وقت مہاراشٹر 1900 مدرسے ہیں جن میں ایک لاکھ 80 ہزار سے زیادہ بچے پڑھتے ہیں اور مذہبی تعلیم حاصل کرتے ہیں اس فیصلے کو حمایتی مل رہی ہیں اور احتجاج بھی ہورہے ہیں اکھل مہابھارت ہندو مہاسبھا کے قومی سکریٹری جنرل منا کمار شرما نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے شرما نے کہا ہے کہ اس سے مدرسوں کے تعلیمی معیار میں بہتری ہوگی اور مسلم بچوں کو عمدہ تعلیم فراہم کرنے میں مدد ملے گی انہوں نے مسلم انجمنوں و مولاناؤں سے اپیل کی ہے کہ مدرسوں کو جدید اور اعلی سطح کے تعلیمی ادارہ بنانے میں مہاراشٹر حکومت کی کوششوں میں تعاون دیں ۔ دوسری طرف اے آئی ایم آئی ایم کے چیئرمین اسعدالدین اویسی نے سرکار کی پہل کے جواز پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ویدک تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کو بھی اسکول کے دائرے سے باہر مانا جائے گا؟ انہوں نے کئی مدرسے ہے جو ریاضی انگریزی اور سائنس پڑھاتے ہیں مدرسو میں پڑھنے والے کئی طلباء آگے بڑھیں ہے۔ اور سول سروس امتحان میں بھی کامیاب رہے ہیں جمعیتہ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے کہا ہے کہ جو بھی ہوا ہے وہ نہ قابل قبول ہے اس قدم کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کانگریس کے ترجمان سنجے نروپم نے کہاہے مذہب کی بنیاد پر مبنی کسی تعلیم علم کے ساتھ امتیاز نہیں ہوناچاہئے ہم اس مسئلے کو مہاراشٹر اسمبلی میں اٹھائیں گے۔ تقریبا آٹھ مہینوں میں پھڑنویس سرکار کا یہ تیسرا فیصلہ ہے جسے متنازعہ ماناجارہا ہے اس سے پہلے مسلم ریزرویشن ختم کرنے ، گؤ نسل ہتیا و گؤ ماس پر پابندی لگانے کے پھڑنویس سرکار کے فیصلوں پر مسلم سماج میں سخت رد عمل سامنے آیا ہے مرکزی حکومت نے اس فیصلے سے پیدا ہورہے خدشات کو دور کرنے کی کوشش کی ہے مرکزی وزیرمختار عباس نقوی نے کہا ہے کہ مدرسے بھارت کی حقیقت ہے اور اس مسئلے پر کوئی سیاست نہیں ہونی چاہئے۔ ممبئی میں ایک افطار پارٹی میں شامل ہونے گئے مرکزی وزیرمملکت اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے کہا ہے کہ میں نے مدارس کو یقینی دہانی کرائی ہے کہ سرکار سبھی کے لئے تعلیم کے حق میں ہے اور میں انہیں یقین دلاناچاہتا ہوں کہ پیسے کی کمی نہیں ہوگی۔ حکومت ہند اسلامی تعلیمی اداروں کو تعلیم کے حق قانون کے تحت قومی دھارا کی تعلیم سسٹم میں شامل کرنے پر غور کرے گی۔ مہاراشٹر سرکار میں وزیراقلیتی امور اکناتھ کھڑ سے کا کہنا ہے کہ سرکار سبھی غیررسمی تعلیم حاصل کررہے بچوں کو قومی دھارا میں لاناچاہتی ہے تاکہ وہ بھی ترقی کی دوڑ میں پیچھے نہیں رہ جائیں۔
(انل نریندر)

05 جولائی 2015

ممبر پارلیمنٹ کی تنخواہیں و مراعات بڑھانے کا مسئلہ

جیسے جیسے ہمارے عوامی نمائندوں کے برتاؤ اور کام میں گراوٹ آرہی ہے ویسے ویسے ان کی سہولیات کے مطالبے بڑھتے جارہے ہیں۔میں بات کررہا ہوں ہمارے ممبران پارلیمنٹ کی۔ بی جے پی ایم پی یوگی آدتیہ ناتھ کی سربراہی والی جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی نے ممبران کی تنخواہیں اور دیگر سہولیات بڑھانے کی سفارش کی ہے۔ اس وقت ممبران پارلیمنٹ کو ماہانہ 50 ہزار روپے ملتے ہیں۔ بات یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ممبران کا یومیہ بھتہ 2000 سے زیادہ کرنے اور سابق ایم پی کو پنشن بھی 75 فیصدی بڑھانے کی تجویز ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے ممبران پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافہ سال2010 میں ہوا تھا۔اس وقت ہوائی سفر میں 25 فیصد کرائے کی سہولت سے بھی ایم پی خوش نہیں ہیں۔کمیٹی نے 20 سے25 فیصد ہوائی سفر سمیت قریب60 سفارشات کی ہیں ان میں پرائیویٹ سکریٹری کیلئے فرسٹ کلاس اے سی ریل پاس کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ ایم پی گرام یوجنا کے تحت کچھ بھلا نہ ہوا عام لوگوں کے اچھے دن آئے نہ آئے لگتا ہے ممبران پارلیمنٹ کے تو آ ہی جائیں گے۔ سفارش کہتی ہے ممبران پارلیمنٹ کی صحت سہولیات میں ان کے بچوں کے علاوہ پوتے پوتیوں کو بھی شامل کرلیا جائے۔ غور طلب ہے کہ اپنے حلقے میں کام کرنے کیلئے ہر ایک ایم پی 45 ہزار روپے کا بھتہ ہر مہینے پانے کا حقدار ہے۔ آفس خرچ کیلئے بھی ماہانہ اتنی ہی رقم ملتی ہے۔ کپڑے اور پردے دھلوانے کے لئے ہر تیسرے مہینے50 ہزار روپے ملتے ہیں۔ سڑک کے راستے سفر کا استعمال کرنے والے ایم پی کو 16 روپے فی کلو میٹر کے حساب سے سفر بھتہ ملتا ہے لیکن یہ سب انہیں کم لگتا ہے۔ عام لوگوں کا خیال ہے کہ ایم پی کچھ کام نہیں کرتے اور وقت وقت پر اپنے پیسے بڑھوا لیتے ہیں۔ دوسرا رد عمل یہ ہوتا ہے کہ الگ الگ پارٹیوں کے ایم پی کسی بات پر متفق نہیں ہوتے صرف اپنے پیسے ،سہولیات بڑھانے کے اشو پر متحد ہوجاتے ہیں۔ اس کے باوجود یہ ماننا ہوگا کہ ممبران پارلیمنٹ کی تنخواہ اور بھتے وقتاً فوقتاً بڑھنے چاہئیں۔ ابھی بھارت کے ایم پی کو جو تنخواہ ملتی ہے اتنی تنخواہ تو ہمارے یہاں سرکاری یا غیر سرکاری سیکٹر کے درمیانے درجے کے افسر کو ملتی ہے اور ایم پی بھی اس کے حقدار تو ہیں ہی کچھ سوال ضرور اٹھتے ہیں پہلا یہ کہ ممبران پارلیمنٹ کی تنخواہ طے کرنے کا اختیار ممبران پارلیمنٹ کو ہی کیوں؟ جمہوری نظام کا اصول ہے کہ کسی ادارے کے بارے میں اس طرح کے فیصلے میں غیر جانبدار اور واقف کارلوگوں کی سانجھے داری ہونی چاہئے۔ عام بات یہ ہے کہ جب اپنی تنخواہ خود طے کرنے کا حق نہیں تو ممبران پارلیمنٹ کو کیوں ہو؟ کیوں نہ ایسی کمیٹی میں ممبران پارلیمنٹ کے علاوہ نامور ماہرین قانون داں انتظامیہ کے ریٹائرڈ افسران اور شہریوں کو بھی لیا جائے۔ ممبران پارلیمنٹ کو پارلیمنٹ سیشن کے دوران کیا بھتہ اس لئے ملتا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کا کام ٹھپ کریں؟ ہمیں نے دیکھا ہے پارلیمنٹ کے کئی سیشن پوری پوری میعاد میں کوئی کام کام نہیں ہواصرف ہنگامہ ہوتا رہا۔ ایم پی اپنی تنخواہ ضرور بڑھائیں لیکن جوابدہی بھی بڑھائیں تب شاید اتنا تلخ رد عمل نہیں ہوگا۔
(انل نریندر)

چھوٹا راجن جہاں ملے گا ، مار ڈالوں گا

ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں نے داؤد ابراہیم کا دائیاں ہاتھ مانے جانے والے چھوٹا شکیل اور چھوٹا راجن کے ایک گرگے کے درمیان اپریل میں کراچی میں ہوئی فون کال پکڑی تھی۔اس بات چیت میں شکیل اور راجن کے دبنگی کواس کی لوکیشن سے جڑی ہوئی معلومات دینے کے بدلے میں پیسوں کی پیشکش کررہا تھا۔چھوٹا شکیل نے اپنے دشمن چھوٹا راجن کو ختم کرنے کا آخری پلان بنایا تھا۔کئی بار راجن کو مارنے میں ناکام رہے شکیل نے اس جگہ کا بھی پتہ لگا لیا تھا جہاں ’’ہندو ڈان‘‘ چھپا ہوا تھا۔ مگر آخری وقت میں اس کا پلان فیل ہوگیا۔ راجن کو کسی نے اس بارے میں جانکاری دے دی تھی کہ ڈی کمپنی ایک بار پھر اسی طرح کا حملہ کروانے کی تیاری میں ہے جیسا کچھ سال پہلے بینکاک میں کیا گیا تھا۔ خبر ملتے ہی چھوٹا راجن ایک بار پھر روپوش ہوگیا۔ خفیہ اطلاع کے مطابق چھوٹا شکیل اسی طرح سے راجن کو مارکر اپنے باس داؤد کا خواب پورا کرنے کے فراخ میں تھا۔ شکیل نے راجن کو مارنے کے لئے اپنے ایک بہترین شوٹروں کی ٹیم آسٹریلیا بھیجی تھی کیونکہ اسے یہ جانکاری ملی تھی کہ راجن آسٹریلیا میں چھپا ہوا ہے۔ ڈی کمپنی کے شوٹروں کے راجن کے نیو کیسل میں اڈے پر پہنچنے سے پہلے وہ وہاں سے بچ نکلنے میں کامیاب رہا۔ سوال اٹھ رہا ہے کہ شکیل کو راجن کے ٹھکانے کے بارے میں کس نے جانکاری دی؟ کچھ مہینے پہلے میڈیا میں خبر آئی تھی کہ چھوٹا راجن گردے میں تکلیف کی وجہ سے مر گیا ہے۔کرائم برانچ کے ایک افسر نے بتایا یہ خبر چھوٹا شکیل کے کہنے پر اس کے لوگوں کے ذریعے جان بوجھ کر اڑائی گئی تھی کیونکہ شکیل کو راجن کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا۔ جیسے ہی راجن کی موت کی خبر پھیلی راجن نے زندہ ہونے کی اطلاع دیتے ہوئے کئی واقف کاروں کو فون کیا تھا اور خود کے آسٹریلیا میں موجود ہونے کی اطلاع دی تھی۔ انہی واقف کاروں میں سے ایک نے چھوٹا شکیل کو راجن کا پتہ بتا دیا۔ چھوٹا راجن پر چھوٹا شکیل نے 15 سال پہلے بھی گولیاں چلوائی تھیں۔ اس گولہ باری میں چھوٹا راجن کا ایک ساتھی روہت ورما مارا گیا تھا لیکن راجن بری طرح زخمی ہونے کے باوجود اس میں زندہ بچ گیا تھا۔ راجن کے آسٹریلیا کے شہر نیو کیسل میں ہونے کی خبر ملتے ہی شکیل نے میڈل ایسٹ کے ایک ملک سے شوٹرس آسٹریلیا روانہ کئے تھے۔ شکیل کا ارادہ پکا تھا کہ اس بار راجن کو کسی بھی قیمت پر ختم کرانا ہے۔ مگر اس بار بھی قسمت نے شکیل کا ساتھ نہیں دیا کیونکہ راجن کا کوئی پراسرار خیرخواہ بھی شکیل کے ارادوں کی جانکاری لے رہاتھا۔ اس نے راجن کو خبر دے دی اور وہ روپوش ہوگیا۔ کچھ ہی گھنٹوں میں چھوٹا راجن آسٹریلیا چھوڑ کر ایسی جگہ چلا گیا جس کے بارے میں شکیل کو جانکاری دینے والے بھیدی کو بھی پتہ نہیں چل سکا۔ قابل ذکر ہے ممبئی سلسلہ وار دھماکوں کو لیکر داؤد اور چھوٹا راجن کے درمیان اختلافات ہوگئے تھے۔ کیونکہ راجن نہیں چاہتا تھا کہ ممبئی میں اس طرح کے دھماکے ہوں تبھی سے داؤد راجن کو قتل کرانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ اب شکیل کہہ رہے ہیں چھوٹا راجن جہاں ملے گا مار ڈالوں گا۔
(انل نریندر)