Translater

21 جون 2014

اچھے دنوں کے سپنے توڑنے لگی مہنگائی!

اچھے دن لانے کا وعدہ کر اقتدار میں آئی مودی سرکار کیلئے مہنگائی بڑی مصیبت بنتی دکھائی دے رہی ہے۔تھوک مہنگائی شرح مئی میں 6 فیصد سے اوپر پہنچ گئی ہے جو پچھلے پانچ مہینوں میں سب سے اونچی سطح پر ہے۔ اپریل میں یہ5.2 فیصد تھی۔ پچھلے سال مئی میں قریب ساڑھے چار فیصد تھی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے دیش کی مالی حالت کو پٹری پر لانے کے لئے سخت فیصلے لینے کے اشارے دئے ہیں مگر مہنگائی کے تازہ اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ ان کی پہلی اقتصادی چنوتی بے قابو ہوتی قیمتوں پر قابو کرنے کی شکل میں سامنے کھڑی ہے۔ جہاں تھوک مہنگائی شرح دو نمبروں کے قریب پہنچ گئی ہے۔ مودی سرکارکو اقتدار میں آئے ایک مہینہ بھی نہیں ہوا لہٰذا اس کے لئے اسے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا مگر یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ مہنگائی ایک ایسا اشو ہے جو سیدھا عام آدمی کومتاثر کرتا ہے اور یہ کسی بھی سرکار کوغیر مقبول بنا سکتا ہے۔ مودی سرکار کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ یوپ ی اے سرکار کے جانے کی ایک بڑی وجہ یہ ہی مہنگائی تھی اور اس کی چوطرفہ مخالفت بھی ہوئی۔ غور طلب ہے کچھ دن پہلے جاری اعدادو شمار کے مطابق مئی میں خوردہ مہنگائی مسلسل تین مہینے میں کم از کم سطح پر پہنچ گئی تھی۔ اس سے امید جاگی تھی کہ مہنگائی کا زور کم ہوگانتیجتاً جلد ہی سود کی شرحوں میں کٹوتی کا راستہ صاف ہوگا۔ لیکن خوردہ مہنگائی میں کمی سے جاگی امیدکو تھوک مہنگائی اضافے نے چکنا چور کردیا۔ زیادہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں خاص کر کھانے پینے کی چیزوں کے دام میں مسلسل اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے خاص کر آلو، پیاز ، ہری سبزیوں کے دام مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ مودی سرکار کی مصیبت یہ ہے کہ عراق میں جاری خانہ جنگی کے سبب کچے تیل کے دام بھی گذشتہ 9مہینے کے اندر سب سے اونچی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ کچے تیل کی قیمتوں میں آئی گرانی کو روپے کی قیمت میں گراوٹ کی وجہ مانا جارہا ہے۔ صاف ہے اگر عراق کا بحران جلد نہیں سلجھا توپیٹرو مصنوعات کی قیمتیں مہنگائی بڑھانے میں اور معاون بن جائیں گی۔ عراق بھارت کا دوسرا بڑا تیل سپلائی کرنے والا دیش ہے لہٰذا اگروہاں بحران کھڑا ہوتا ہے تو اس کا اثر بھی آخر کار ہماری معیشت پر پڑے گا۔ اس کے علاوہ پیاز کولیکر ناسک اورلاسلپور منڈی سے آرہیں خبریں بھی عام آدمی کی مشکلیں بڑھاتی دکھائی دے رہی ہیں۔ ریزرو بینک کے گورنر رگھو رام راجن کا کہنا ہے غذائی نظم کے ذریعے مہنگائی پر کنٹرول کیا جاسکتا ہے حقیقت میں سرکار مہنگائی کے لئے عراق بحران یا کمزور مانسون کی آڑ میں اپنی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتی ، خاص کر غدائیت کے معاملے تو یہ کہا جاسکتا ہے کیونکہ ہمارا اصل بحران اس کے رکھ رکھاؤ اور تقسیم ہے۔ بیشک جب مودی سرکار اپناپہلا بجٹ پیش کرے گی تو اس کا اقتصادی روڈ میپ سامنے آئے گا لیکن اس وقت مودی سرکار کی پہلی ترجیح مہنگائی کنٹرول کرنے کی ہونی چاہئے۔ مہنگائی کی ماری جنتا کو فوراً راحت ملنی چاہئے۔ ایسے میں وعدہ کاروبار روکنا اور جمع خوری، خالا بازاری کو قابو رکھنا ضروری ہے۔
(انل نریندر)

کچھ این جی او کے گورکھ دھندے!

دیش کی ترقی میں روڑا بن رہی غیر سرکاری انجمنوں(این جی او) پر بجلی گر سکتی ہے۔ وزارت داخلہ ایسی این جی او کو غیر ملکی مدد لینے کے لئے دی گئی اجازت کا جائزہ لے سکتی ہے۔ وزیر اعظم کے دفترکو بھیجی گئی انٹیلی جنس بیورو کی ایک خفیہ رپورٹ میں غیر ملکی پیسہ حاصل کرنے والی رضاکارانہ انجمنوں کو دیش کی اقتصادی سلامتی کے لئے خطرناک قراردیتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا گیا ہے کہ جی ڈی پی میں دو سے تین فیصد کی کمی کیلئے وہ ذمہ دار ہیں۔ خفیہ بیورو کی اس رپورٹ کے عام ہونے سے ہلچل مچنا فطری ہے۔ نئی حکومت بننے کے بعد جس طرح یہ رپورٹ سامنے آئی ہے اس سے یہ صاف ہے کہ اسے پہلے ہی تیار کرلیا گیا تھا۔ تعجب نہیں کہ اسے جان بوجھ کر دبائے رکھا گیا ہو۔ این جی او کو غیر ملکی مدد لینے کے لئے غیر ملکی امداد ریگولیٹری قانون کے تحت وزارت داخلہ سے اجازت لینی ہوتی ہے اس کے لئے این جی او کو بتانا پڑتا ہے کہ غیر ملکی پیسے کا استعمال سماجی کاموں کے لئے کیا جائے گا۔ آئی بی کی رپورٹ سے صاف ہے کہ کچھ این جی اوغیرملکی مدد کا استعمال سماجی کاموں کیلئے نہ کرکے دیش کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے کررہی ہیں۔ انٹیلی جنس بیورو کی رپورٹ میں جن این جی او پر الزام لگائے گئے ہیں انہیں ملی ایف سی آر اے کیلرینس کاجائزہ لیا جاسکتا ہے۔ ان این جی او کو اپنی صفائی دینے کا موقعہ بھی دیا جائے گا۔ آئی بی کی رپورٹ وزیر اعظم کے دفتر کو3 جون2014 ء کو سونپی گئی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اپنے دیش میں غیر سرکاری انجمنیں بنانا ایک کاروبار سا بن گیا ہے۔ زیادہ تر تنظیمیں ایسی ہیں جو بنائی کسی اور کام کیلئے جاتی ہیں لیکن وہ کرتی کچھ ہیں۔ شاید ان کی ایسی ہی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ نے کچھ وقت پہلے یہ کہا تھا کہ 90 فیصد این جی او فرضی ہیں اور ان کا واحد مقصد پیسہ بنانا ہے۔ خفیہ بیورو کی رپورٹ ایک اورگہری بات کررہی ہے ۔ اس کے مطابق کئی غیر سرکاری انجمنیں بیرونی ملک سے پیسہ لے کر ترقی سے جڑی اسکیموں کی مخالفت کرتی ہیں۔ گرین پیس انٹرنیشنل کی ہندوستانی شاخ گرین پیس انڈیا کو کوئلہ اور نیوکلیائی توانائی پر مبنی پروجیکٹوں کی مخالفت کیلئے ہی جانا جاتا ہے۔ اسی طرح کچھ اور انجمنوں ایسی ہیں جو ہر بڑی اسکیم کی مخالفت کرتی ہیں۔ ان تنظیموں کی مانیں تو نہ تو بڑے باند اور بجلی گھر بنانے کی ضرورت ہے اور نہ ہی بڑی اسکیموں پر کام کرنے کی۔ ماحولیات کے تحفظ کی آڑ میں غیر سرکاری انجمنیں جس طرح ہر بڑے پروجیکٹ کی مخالفت میں کھڑی ہوجاتی ہیں وہ کوئی اچھا اشارہ نہیں ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ماحولیات کا تحفظ ضروری ہے لیکن ان کے نام پر صنعتی کرن کو ٹھپ کردینا کا بھی کوئی مطلب نہیں ہے۔ رپورٹ میں آگے کہا گیا ہے سات ایسے سیکٹر ہیں جنہیں نشانہ مختص کر یہ این جی او اقتصادی ترقی شرح کو منفی سمت میں لے جائیں گی۔ قریب24 صفحات کی اس رپورٹ کے مطابق ذات۔ پات امتیاز اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور بڑے باند کے خلاف مورچہ بندی سے این جی او سارا زور ترقی کو دھیما کرنے میں لگی ہیں۔ ان میں کھدائی صنعت اور فصلوں اور کھاد اور تبدیلی ہوا اور نیوکلیائی اشو کو ہتھیار بنایا گیا ہے۔ قومی مفاد سے جڑے ان منصوبوں کی مخالفت کرنے والی ان این جی او کو امریکہ، انگلینڈ، جرمنی، نیدرلینڈ کے علاوہ ناروے، سوئیڈن، فن لینڈ اور ڈنمارک جیسے ملکوں یا اس سے جڑے اداروں سے مالی مدد ملتی ہے۔ اس پیسے کا استعمال تاملناڈومیں برنجن کلم نیوکلیائی بجلی گھر، کوئلہ وآکسائیڈ کھدان و ندیوں کو جوڑنے کی اسکیموں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرنے میں کیا جارہا ہے۔ رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ ایک این جی او کے غیر ملکی ورکر کے لیپ ٹاپ میں بھارت کا نقشہ ملا ہے جس میں موجودہ اور مجوزہ16 نیوکلیائی بھٹیوں اور 5 یورینیم کانوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ وزارت داخلہ کے غیر ملکی سیل نے گرین پیس کو غیر ملکی چندے اور اس کے خرچ کرنے کے مقصد سے جڑے سوالات کا جواب دینے کے لئے بھیجے ہیں۔اس معاملے میں سچائی جتنی جلدی سامنے آئے اتنا ہی بہتر ہے کیونکہ ہمارے دیش کو ایک بڑی تعداد میں غیر سرکاری انجمنوں کے ترقی مخالف رویئے کی بھاری قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔
(انل نریندر)

20 جون 2014

یوپی اے سرکار کے مقرر گورنروں کو ہٹانے پرمچا گھماسان!

مرکز میں تبدیلی اقتدار کے بعد دیش بھر کی ریاستوں کے راج بھونوں میں بیٹھے گورنروں کی تبدیلی ہونا فطری ہی ہے۔ مرکزی حکومت نے سابقہ یوپی اے سرکار کے ذریعے مقرر کچھ گورنروں کو بدلنے کا ارادہ کرلیا ہے۔ جن گورنروں کی میعاداس سال یا اگلے برس جنوری میں ختم ہورہی ہے ان کے لئے انتظار کیا جاسکتا ہے مگر اتنا طے ہے کہ بڑی ریاستوں میں یا ان ریاستوں میں جہاں اسی سال اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں وہاں کے گورنروں کو بدلا جائے گا۔ جن گورنروں کو مودی سرکار بدلنا چاہتی ہے ان میں خاص کر ہیں شیلا دیکشت(کیرل) ڈی وائی پاٹل (بہار) وی وی وانچو (گووا) سید احمد (جھارکھنڈ ) رام نریش یادو (مدھیہ پردیش) ایس سی جمیر(اڑیسہ)کے روسمیا (تملناڈو) عزیز قریشی (اترکھنڈ) دویندر کنور (تریپورہ) وغیرہ وغیرہ۔ غور طلب ہے کہ ہوم سکریٹری کے ذریعے 7 گورنروں کو استعفیٰ دینے کا سندیش بھیجا گیا۔ اترپردیش کے گورنر بی ۔ایل۔ جوشی نے تو مرکزی حکومت کے ارادے کو بھانپ کر استعفیٰ دے دیا۔ ممکن ہے دیگر گورنر بھی ایسا کریں۔ گورنروں کو بدلنے کا معاملہ بہت ہی حساس مانا جاتا رہا ہے۔ مرکزی حکومتیں انہیں اپنے نمائندے کے طور پر وہاں رکھتی ہیں اس لئے ہر جگہ اپنے وفادارشخص کو بٹھانا ضروری سمجھتی ہیں۔ دوسری بات یہ ہے گورنر کا عہدہ سیاسی لیڈروں کو ایک ایڈجسٹ کرنے کا ذریعہ بھی بن گیا ہے۔ مرکزی سرکار کے گورنروں سے استعفے پر کانگریس مشکل میں پھنس گئی ہے۔ پارٹی چاہ کر بھی مودی سرکار کے اس فیصلے کی مخالفت نہیں کرپارہی ہے کیونکہ 10 سال پہلے2004ء یوپی اے I سرکار بننے کے بعد کانگریس نے این ڈی اے کے عہد میں مقرر ہوئے گورنروں کوعہدے سے ہٹایا تھا۔ پارٹی آئینی عہدے کا حوالہ دیتے ہوئے گورنروں کو استعفیٰ دینے پر سیاست نہ کرنے کی وکالت کررہی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جن گورنروں کو ہٹائے جانے پر ناراضگی جتاتے ہوئے سپریم کورٹ کے جس حکم کا حوالہ دے رہی ہے وہ حکم بھی یوپی اے سرکار کے گورنروں کو ہٹانے کے معاملے میں آیا تھا۔ کانگریس جنرل سکریٹری اجے ماکن نے کہا کہ پارٹی اس معاملے کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہتی۔ ہم چاہتے ہیں کہ سرکار آئینی تقاضوں کی تعمیل کرے۔ 2010ء میں آئے سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام تو 2004 ء میں اقتدار میں آتے ہی یوپی اے سرکار نے بھاجپا حکومت کے دور میں بنائے گئے چار گورنروں کو ایک دم ہٹا دیا تھا۔اس وقت کے وزیر داخلہ اور موجودہ پنجاب کے گورنر یہ کہنے پر بھی نہیں چوکے تھے کہ وہ گورنروں سنگھ کی آئیڈیا لوجی والے ہیں۔ گورنروں میں اترپردیش کے وشنو کانت شاستری، گوا کے کیدار ناتھ ساہنی، گجرات کے کیلاش پتی مشرا اور ہریانہ کے بابو پرمانند شامل تھے۔اس قدم کی مخالفت ہوئی اور معاملہ سپریم کورٹ پہنچا تھا۔ عدالت نے مئی2010ء میں دئے اپنے فیصلے میں کہا کہ گورنر کو ہٹانے کے لئے سرکار کے پاس واضح دلیل ہونی چاہئے۔ عدالت نے یہ بھی جوڑا کہ گورنر کو پہلے ثابت کرنا ہوگا کہ اسے بد نیتی کے طریقے سے ہٹایا گیا ہے۔مگر یہ ثابت کرنا مشکل ہے۔ بدقسمتی دیکھئے کہ 2004ء میں ہٹائے گئے گورنروں کے مرکزی سرکارکے فیصلے کو چنوتی دینے والے بی جے پی کے کچھ ایم پی رہے وی پی سنگھل نے سپریم کورٹ میں اس کو چیلنج کیا تھا۔ اس پر2010ء میں فیصلہ آیا۔ کانگریس سے یہ ضرور پوچھا جانا چاہئے کہ عوام کے ذریعے سرے سے مسترد کی گئی شیلا دیکشت کو چناؤ ہارنے کے 10 دن کے اندر کیرل کا گورنر مقرر کرکے اس نے کیا اشارہ دینا چاہا تھا؟ آئین کی دفعہ156.1 میں گورنروں کو ہٹانے کی کوئی خانہ پوری نہیں رکھی گئی۔ اگر مرکزی سرکار کیبنٹ کا نوٹ لاکر یہ کہہ دے کہ وہ گورنر میں اعتماد کھو چکی ہے تو صدر کے پاس اسے منظوری دینے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں ہوگا۔ یوپی کے گورنر بی ایل جوشی نے منگل کو استعفیٰ دیا مگر کچھ گورنر اب بھی اڑے ہوئے ہیں۔ کچھ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں تحریر میں ہٹنے کو کہا جائے تب سوچیں گے۔ ایسے میں گورنروں کا تبادلہ کرنے کا بھی مرکز کے پاس حق ہے۔ بعد میں انہیں کوئی بھی سبب بتا کر ہٹایا جاسکتا ہے۔ بہرحال یہ طے کہ تقریباً ڈیڑھ درجن نئے گورنر مقرر ہوں گے۔
(انل نریندر)

دنیا بھر میں دہشت کے نئے دور کی آہٹ!

خطرناک آتنکی تنظیم القاعدہ کا وہ ویڈیو پریشان کرنے والا ہے جس میں کشمیر کی آبادی کیلئے یہاں کے مسلموں سے لڑائی چھیڑنے کی اپیل کی گئی ہے اور کہا گیا ہے افغانستان سے اس کام کیلئے جہادی کشمیر آرہے ہیں۔ حالانکہ اس ویڈیو میں جو پیغام ریکارڈ ہے اس کا اندیشہ پہلے سے ہی سکیورٹی کے ماہرین ظاہر کرتے رہے ہیں۔ بار بار کہا جاتا ہے کہ امریکی فوجیوں کی افغانستان سے واپسی کے بعد القاعدہ اور طالبان کی ساری توجہ بھارت کی طرف مرکوز ہوگی۔ وزیر دفاع ارون جیٹلی نے دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے اس ویڈیو سے ہندوستانی سکیورٹی کے لئے درپردہ خطرے سے آنکھ نہ چرا کر واجب چوکسی دکھائی ہے۔ اس درمیان طالبان کے مالی وسائل کے بارے میں اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ پریشانیاں بڑھانے والی ہے۔ القاعدہ کی افغانستان یونٹ نے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو میں بھارت کے خلاف پر زور جہاد کی اپیل کی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں آگے بتایا گیا ہے نشیلی دواؤں کی اسمگلنگ ، لوٹ مار، قدرتی وسائل کی نا جائز سپلائی سے طالبان کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔ جہاں تک دہشت کی بات ہے وہ صرف بھارت ہی نہیں دنیا کے تمام ملکوں میں اس وقت دہشت گردی کا نیا ٹرینڈ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ عراق میں القاعدہ اسلامک موومنٹ آف عراق اینڈ لیویرنٹ نام پر پورے دیش میں قبضہ کرنے کی فراق میں ہے۔ نائیجریا میں انتہا پسند تنظیم بوکوحرم کی دہشت بڑھتی جارہی ہے۔ کینیا کے پیکیٹونی شہر میں جدید ہتھیاروں سے مسلح درجنوں صومالی دہشت گردوں نے حملہ کرکے48 لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا۔ حملے کے وقت مقامی لوگ فٹبال ورلڈ کپ دیکھ رہے تھے۔ ان دہشت گردوں نے دو ہوٹلوں ، ایک پولیس اسٹیشن کو بھی آگ کے حوالے کردیا اور سڑکوں پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس حملے کے لئے القاعدہ سے وابستہ صومالی دہشت گرد تنظیم الشباب کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ عراق میں آئی ایس آئی ایل آتنکیوں نے1700 لوگوں کو بے رحمانہ طور پر قتل کردینے کا دعوی کیا ہے۔ کینیا سے لیکر عراق تک دو ملکوں میں ہورہے مظالم سے بربریت دہشت کی کالی چھایا دنیا پر پڑتی جارہی ہے۔ پچھلے قریب ایک مہینے میں عالمی میڈیا میں عراق، افغانستان ، پاکستان، کینیا، فلسطین اور شام کو لیکر جو خبریں یا تصویریں سامنے آئی ہیں ان میں دہشت گردوں کی بڑھتی طاقت اور بربریت دکھائی دیتی ہے۔ اس سے دنیا میں دہشت گردی کا نیا گھناؤنا انداز ابھرکر سامنے آیا ہے۔ یہ حالات دیکھ کر کہنے میں کوئی گریز نہیں آتنکی نظریہ اور تنظیم دنیا کی سردردی بڑھاتے لگ رہی ہے۔ عراق میں جس طریقے سے آئی ایس ایل بڑھ رہی ہے اس نے تو ایران اور امریکہ کو قریب لاکر کھڑا کردیا ہے۔ عراق کی شیعہ نوری المالکی حکومت کو دونوں امریکہ اور ایران بچانا چاہتے ہیں اگر دونوں دیش مل کر کام کرتے ہیں تو یہ بہت بڑی بات ہوگی۔ خبروں کے مطابق خفیہ بیورو نے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کو جو رپورٹ دی ہے اس سے نتیجہ نکلتا ہے کہ امریکہ اور نیٹو فوجیوں کے جانے کے بعد بھارت کے سامنے یہ جہادی سب سے بڑی چنوتی کے طور پر سامنے آئیں گے اور بھارت کوخطرہ دو مورچوں پر ہے۔ پہلا کشمیر میں جہاں جہادی نئے سرے سے شورش پھیلانے کی کوشش کریں گے ساتھ ہی یہ عناصر بھارت کے مختلف حصوں میں دہشت گردی گروپوں کو ہتھیار اور پیسہ مہیا کرانے کی کوشش کریں گے تاکہ دیش کی اقتصادی اورخوشحالی و سماجی اسٹیٹ پر حملہ کیا جاسکے۔ دہشت گردوں کی بڑھتی طاقت بھارت کے لئے چنوتی ہے۔ دنیا کے دیگرملکوں میں بھی ان کی بڑھتی طاقت پریشانی کا سبب بنتی جارہی ہے۔
(انل نریندر)

19 جون 2014

وزیر اعظم نریندر مودی کے بھوٹان دورے سے ایک تیر سے کئی شکار!

وزیر اعظم نریندر مودی کا پہلا غیر ملکی دورہ کامیاب رہا ۔ انہوں نے اپنے دورے کے لئے بھوٹان ہی کیوں چنا؟ یہ ایک سوچی سمجھی دوررس نتیجے کا انتخاب تھا۔ بھوٹان بھارت کا اکیلا ایسا پڑوسی ہے جس کے ساتھ آپسی رشتوں میں کسی طرح کی کوئی تلخی نہیں ہے۔ پاکستان ،نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا سبھی کے ساتھ چھوٹی بڑی دشواریاں ہیں ،مسائل ہیں لیکن بھارت اور بھوٹان کے درمیان موٹے طور پر ایسا کچھ بھی نہیں ہے پھر چین کی جانب سے بھوٹان کو لبھانے کی کوشش تیز ہوتے دیکھتے نریندر مودی نے اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے لئے ہمالیہ کی گود میں بسے اس چھوٹے سے دیش کو چنا۔ اس وقت پورے برصغیر میں بھوٹان بھارت کے لئے کئی طرح سے اہمیت کا حامل ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب چین تقریباً ہر طرف سے ہندوستان کو گھیرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ وہ سری لنکا میں بندرگاہ بنا رہا ہے تو نیپال میں سڑکیں بنا رہا ہے۔ میانمار کے تیل کاروبار پر اپنی بالادستی قائم کرنے کی کوشش تو وہ پچھلے ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے کررہا ہے ۔ بنگلہ دیش کے بازار میں اس کا اچھا خاصہ دخل ہے اورپاکستان کو تو وہ اپنا سدا باہر دوست مانتا ہے۔ ایسے میں اکیلے بھوٹان ہی جہاں چین کی دال ابھی زیادہ نہیں گل سکی ہے۔ ہندوستانی خارجہ پالیسی کے لئے بھوٹان میں چین کے داخلے کو روکنے کے لئے فی الحال سب سے بڑی چنوتی ہے اور وزیر اعظم نے اپنے کامیاب دورہ سے اس میں کافی حد تک کامیابی پائی ہے۔ وزیر اعظم نے شمال مشرقی ہندوستان اور بھوٹان کے درمیان رابطے کے نئے پل بنانے پر بھی زور دیا ہے۔ بھوٹان کی پارلیمنٹ سے خطاب کرنے کے بہانے مودی نے پیغام دیا کہ مضبوط بھارت ہی پڑوسی سارک ملکوں کی پریشانیوں میں مددگار ہوسکتا ہے۔ وزیر اعظم مودی کی تعریف کے لئے بھوٹانی پارلیمنٹ نے اپنی روایت بھی توڑ دی۔ پیر کو جب مودی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ہندی میں اپنی ولولہ انگیز تقریر ختم کی تو بھوٹانی ممبران پارلیمنٹ نے تعریف میں زور دار تالیاں بجا دیں۔ بھوٹان میں کسی کی تعریف یا خیر مقدم میں تالیاں نہیں بجائی جاتیں۔بس وہاں بری روحوں کو بھگانے کے لئے تالیوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسے ہی مودی نے اپنی تقریر ختم کی تو بھوٹانی وزیر اعظم شورنگ توپگے اور نیشنل اسمبلی اور نیشنل کونسل کے ممبران نے تالیوں سے ان کا خیر مقدم کیا۔ اپنے خطاب میں وزیر اعظم مودی نے ثقافتی وراثت کو باہمی رشتوں کی بنیاد بتایا جانا یقینی ہی پڑوسی ملکوں کوباآور کرانے والا ہے۔ بھارت کی ثقافتی روایت میں کنبے کا سب سے چھوٹا ممبر سب سے زیادہ پیارا ہوتا ہے۔ بھوٹان ہمارا سب سے چھوٹا پڑوسی ہے اس لئے اسے زیادہ اہمیت دیتے ہوئے مودی نے اپنے دل کی آواز پر بھوٹان جانے کا فیصلہ کیا۔ پڑوسیوں میں زیادہ تر بھارت کی کشیدگی رہی ہے اور اسی کا فائدہ اٹھا کر چین چودھری بننا چاہتا ہے۔ مودی نے اپنی حلف برداری تقریب میں سارک ممالک کے سربراہ مملکت کو بلا کر نہ صرف کشیدگی اور خیر سگالی بھائی چارے کی اور فوجی اہمیت کے حامل خطے کے سب سے بڑے نیتا کی شکل میں خود کو پیش کیا۔ بھارت مخالف طاقتیں ان کے پڑوسیوں کو یہ کہہ کر بھڑکاتی تھیں کہ بھارت کی فروغ والی پالیسی ہے۔ مودی نے سب سے چھوٹے پڑوسی دیش کو جذباتی اتحاد کا پیغام دیا اور اس گمراہ کن پروپگنڈے کو دور کرنے کے لئے پیغام دیا۔ بھارت خوشحال اور مضبوط رکھنے کے لئے اپنے پڑوسیوں کو بھی ویسا ہی بنانے میں معاون ہوگا۔دہلی لوٹنے کے بعد وزیر اعظم اس دورے کو بیحد کامیاب قراردیا۔ انہوں نے خود ٹوئٹ کرکے کہا یہ دورہ میری یادوں میں بسا رہے گا۔ انہوں نے ایک بات اور اچھی کہی کہ بھوٹان کو بھارت کی پوری مددکی یقین دہانی اور سمجھوتوں کے تئیں اس کا عزم برقرار رہے گا۔ اس کے بدلے بھوٹان نے وعدہ کیا کہ وہ اپنی زمین کا استعمال بھارت کے خلاف نہیں ہونے دے گا۔ کل ملاکر کہا جائے گا کہ وزیر اعظم کا یہ پہلا دورہ کامیاب رہا۔
(انل نریندر)

عمدہ طبی سہولیات کی دستیابی ڈاکٹر ہرش وردھن کی ترجیح!

10 برس بعد بھی عوام کو صحت اور میڈیکل سروس دینے میں ناکام رہی یوپی اے سرکار کی ناکامی سے نمٹنے کے لئے مودی سرکار کو اس خطے میں ایک ٹھوس پالیسی پیش کرنی ہوگی۔ وزارت صحت کو ایسی اسکیمیں بنانی ہوں گی جس سے عام جنتا کو سستا اور پائیدار علاج مل سکے۔ عام آدمی تک صحت کی پالیسیوں کا سیدھا فائدہ پہنچانا ہوگا۔ نئی حکومت سے ہر سماج کے طبقے کو کافی امیدیں ہیں۔ مودی سرکار کی کمان سنبھالنے کے بعد اپنے محکمے کولیکر خاصے سرگرم وزرا میں ایک ہیں وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن۔ وہ دیش کی خستہ حال ہیلتھ سروسز میں اچھے دن لانے کا دعوی کررہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی کوشش ہے کہ مریضوں کو سستی دوائیں دستیاب کرائی جائیں۔ دہلی بھاجپا کے پردھان و دہلی کے ایک واحد وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن عہدہ سنبھالنے کے بعد خستہ حال طبی خدمات میں بہتری لانے کا ایجنڈا بنانے میں لگ گئے ہیں۔ دہلی میں میڈیکل سروسز میں بہتری خاص طور سے یمنا پار کی گھنی آبادی والے علاقوں میں دہلی کے دیگر علاقوں کی بہ نسبت صرف آدھا درجن ہسپتال ہیں اور اسے وہ میڈیکل ہب کی شکل دیتے ہیں لیکن یہاں بھی انتظامی لاچاری ہی مریضوں پر بھاری پڑنے لگی ہے۔ لمبی قطاریں، جانچ کیلئے لمبی تاریخ ملنا، وارڈ میں صفائی سسٹم کے علاوہ دوا نہ ملنے سے مریض پریشان رہتے ہیں۔ نئی سرکار سے سماج کے ہر طبقے کو کافی امید ہے۔ ایسے میں کیا سرکار کے پاس عوام کو مہنگی دواؤں سے چھٹکارا دلانے کا کوئی متبادل ہے؟ جب یہ سوال ڈاکٹر ہرش وردھن سے پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا ہیلتھ سیکٹر میں عام جنتا کو بہتر سہولیات مہیا کرانے کے لئے وزارت ایک ساتھ کئی ایجنڈے پر کام کررہی ہے۔ ان میں سے ایک ہے سستی اور کوالٹی دوائیں دستیاب کرانا۔ اس سلسلے میں جینیرک دواؤں کا استعمال بڑھانے اور آسانی سے دستیاب کرانے کے لئے وزارت ایک پالیسی بنا رہی ہے۔ اچھے سرکاری ہسپتالوں کی کمی اور سرکاری سپر اسپیشلٹی سینٹر کی کمی کے سبب عام آدمی کو مہنگے پرائیویٹ ہسپتالوں کی طرف رخ کرنا پڑتا ہے۔ کیا مودی سرکار کے آنے کے بعد یہ تصویر بدلے گی؟ اس کے جواب میں ڈاکٹر ہرش وردھن کا کہنا ہے دیش میں چھ آل انڈیا میڈیکل انسٹی ٹیوٹ ہاسپٹل بنانے کا کام پہلے سے ہی چل رہا ہے لیکن اس سے ضرورت پوری نہ ہوگی۔ نئی حکومت اسی طرز پر 10 نئے ایسے ہی ہسپتال کھولنے کی تجویز پر کام کررہی ہے۔ کینسر کے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے لیکن اس بیماری کے علاج کے لئے قومی کینسر انسٹی ٹیوٹ کی تیاری ابھی تک نہیں ہوسکی اس لئے دیش میں پہلی بار نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ کھولا جائے گا۔ الگ الگ ریاستوں میں 20 کینسر ادارے اور 50 سپر اسپیشلٹی کیئر سینٹر کھولنے کی پلاننگ ہے۔ غریب طبقے کے مریضوں کے لئے اچھے دن کیسے آئیں گے؟ پرائیویٹ اور سرکاری ہسپتالوں میں غریبوں کو فری بیڈ کی سہولت ملنی چاہئے لیکن ایسا نہیں ہورہا ہے۔ سرکار کواسے سختی سے لاگو کرنا ہوگا۔ وہیں غریبوں کی مدد کے لئے اسپیشل ہیلتھ بیمہ اسکیم شروع کرنے پر بھی سبھی پہلوؤں پر غور ہورہا ہے۔ ڈاکٹر ہرش وردھن سے امید کی جاتی ہے کہ اب ضروری ہیلتھ سروسز کیلئے جنتا کو کسی کا محتاج رہنا نہیں پڑے گا۔ کچھ جنرل بیماریوں کا علاج اور ایمرجنسی دوائیں اور بنیادی صحت کے بارے میں سستی سہولیت ہر شخص کو گارنٹی کے ساتھ دستیاب ہوگی۔
(انل نریندر)

18 جون 2014

کیاسونیاگاندھی کانگریس پارٹی کو دوبارہ مضبوط کر پائیں گی؟

لوک سبھا چناؤ میں شرمناک شکست کے بعد کانگریس میں ابھی طوفان تھما نہیں۔ دراصل مہاراشٹر، جموں و کشمیر، دہلی، ہریانہ میں اس سال ہونے والے اسمبلی چناؤ میں پارٹی کو ہار کا ڈر ستانے لگا ہے۔ سونیا اور راہل کے چناوی ریاستوں میں کئی لیڈر اور ورکروں سے مسلسل اطلاعات مل رہی ہیں کہ چناوی ریاستوں میں پارٹی کو بڑی ہار کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دہلی کے ممبران اسمبلی نے سونیا گاندھی سے ملاقات کر انہیں کہا کہ اگر اس وقت دہلی میں چناؤ ہوتے ہیں تو پارٹی کا کھاتہ کھلنا بھی ممکن نہیں ہے۔ حالیہ عام چناؤ میں ہوئی کانگریس کی بری ہار کے بعد اب سب جگہ سے پارٹی کے ورکروں کا غصہ اپنے مقامی اور ریاستی لیڈر شپ کے خلاف پھوٹنے لگا ہے جہاں کئی جگہ لوگوں نے مرکزی لیڈر شپ کے خلاف آواز اٹھانی شروع کردی ہے وہیں مہاراشٹر کے کئی وزرا ریاست میں پارٹی کی خراب ہوتی حالت کے بارے میں راہل گاندھی کو بتا چکے ہیں۔ بغاوت کی کچھ آوازیں اب مہاراشٹر میں بھی اٹھنے لگی ہیں۔ وہاں لوگ وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان کے استعفے کی مانگ کررہے ہیں۔ نارائن رانے اور سرکار منتری نتن راوت جیسے لیڈروں نے نہ صرف بابلند احتجاج کیا ہے بلکہ اس کی شکایت دہلی آکر ہائی کمان سے بھی کی تھی۔ پچھلے دنوں مدھیہ پردیش کے اندور میں پردیش کانگریس چیف ارون یادو کے گھر پر ہوئی میٹنگ میں پردیش کے کچھ لیڈر وں کے حمایتی آپس میں لڑ پڑے اور ہاتھا پائی کے ساتھ ساتھ اپنے لیڈروں کو بھی اپنی زد میں لے لیا۔ ایسے ہی واقعات ہریانہ میں بھی سامنے آرہے ہیں جہاں وزیر اعلی بھوپندر سنگھ ہڈا کے حمایتیوں اور وہاں کی سرکردہ لیڈر کماری شیلجا اور چودھری وریندر سنگھ کے حمایتیوں کے درمیان آئے دن زور آزمائش ہوتی رہتی ہے۔ کماری شیلجا نے تو سونیا گاندھی سے یہاں تک کہہ دیا کہ ریاست میں ہڈا کی قیادت میں اگر چناؤ لڑا جائے گا تو پارٹی کو دو درجن سے زیادہ سیٹیں نہیں مل پائیں گی۔ دوسری طرف ہڈا کے حمایتیوں نے کہا کہ ریاست میں اتنی ترقی ہوئی ہے کہ وہ پارٹی کو جتانے میں اہل ہیں۔ جارکھنڈ کانگریس کے انچارج بی ۔ کے ہری پرساد نے سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو پردیش میں جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے ساتھ اتحاد میں بندھی کانگریس کو آنے والے اسمبلی چناؤ میں نقصان ہونے کی رپورٹ دے دی ہے۔ وہیں جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کے ساتھ حکومت میں شامل کانگریس کو سنکٹ کا سامناکرنا پڑ رہا ہے۔ ریاست کے کئی سینئر کانگریسی نیشنل کانفرنس سے ناطہ توڑنے کی پیروی کررہے ہیں۔ ادھر کانگریس کے بزرگ لیڈر اے۔ آر انتولے نے لوک سبھا چناؤ میں پارٹی کی ہار کی ذمہ داری اعلی کمان پر ڈال دی ہے۔ ان کا کہنا ہے اعلی کمان کی وجہ سے کانگریس آج اس حالت میں پہنچی ہے۔ اس کی نا اہلیت کی وجہ سے پارٹی کو یہ دن دیکھنے پڑ رہے ہیں۔ چوطرفہ ہو رہے حملوں کے سبب اب سونیا گاندھی نے لگتا ہے طے کرلیا ہے کہ وہ کمان خود سنبھالیں گی۔ رائے بریلی میں فیروز گاندھی کالج میدان میں کانگریس کے یوتھ سطح کے ورکروں کی کانفرنس میں سونیا گاندھی نے کہا وہ کانگریس کو دوبارہ مضبوط کرنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گی۔ کانگریسیوں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا ہم اپنی سخت محنت میں ضرور کامیاب ہوں گے۔ سونیا نے لوک سبھا چناؤ میں ہارے لیڈروں سے کہا کہ وہ مایوس نہ ہوں اور اپنے اپنے حلقوں میں سرگرم رہیں،وقت ضرور پلٹے گا۔
(انل نریندر)

نیس کی سنئے !تم معمولی اداکارہ ہو پریتی غائب کرادوں گا

کبھی دیش بھر میں لَو برڈ کے طور پر مشہور فلم اداکارہ پریتی زنٹا اور نیس واڈیا کی لو اسٹوری آخر نفرت کی کہانی میں کیوں بدل گئی؟ لو اسٹوری ایسی بگڑی کے پریتی زنٹا کو نیس واڈیا کے خلاف پولیس تھانے جاکر باقاعدہ ایف آئی آر درج کرانی پڑی؟ سب سے پہلے بتا دیں کہ یہ نیس واڈیا کون ہیں؟ نیس واڈیا کاروبار سمیت فیشن دنیا کا جانا مانا نام ہے۔ وہ نسلی واڈیا اور مورین واڈیا کے صاحبزادے ہیں۔ وہ محمد علی جناح کاپڑپوتے ہیں۔پریتا زنٹانے اپنے پرانے دوست نیس واڈیا کے خلاف مقدمہ درج کرایا ہے۔ ایف آئی آر میں پریتا کا کہنا ہے کہ نیس نے مجھے بھدی گالیاں دیں ، دھمکی دیتے ہوئے کہا تم ایک معمولی اداکارہ ہو میں بہت طاقتور ہوں ، تمہیں غائب کرا دوں گا۔ پریتی کی شکایت پر ممبئی کے مرین ڈرائیور تھانے میں جمعہ کی رات مقدمہ درج کیا گیا۔ سنیچر کو پریتی نے صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کسی کو نقصان پہنچانے کا ان کا کوئی ارادہ نہیں ہے بس اپنی سلامتی کی فکر ہے۔ معاملہ30 مئی کا ہے ، ممبئی کے وانکھڑے اسٹیڈیم میں پریتی (39 سال) اور نیس واڈیا (44 سال) کی ٹیم کنگس الیون پنجاب کا چنئی سپر کنگس سے میچ تھا۔ شکایت کے مطابق واڈیا سے تنازعے کے وقت آئی پی ایل کے سی ای او سندر رمن کنگس الیون کے کچھ کھلاڑی اور وانکھڑے اسٹیڈیم کے کئی اسٹاف ممبر موجود تھے۔ پریتی اور ان کے سابق محبوب کا رشتہ تو کچھ وقت پہلے ہی ختم ہوچکا ہے لیکن ابھی تک دونوں آئی پی ایل ٹیم کنگس الیون پنجاب میں ساتھی مالک کے طور پر قائم ہیں۔ پریتی کا یہ بھی کہنا ہے کہ نیس واڈیا نے کئی موقعوں پر انہیں ٹارچر کیا۔ یہ ہی نہیں یہ بھی افسوسناک ہے کہ اس وقت وہاں موجود لوگوں نے ان کی کوئی مدد نہیں کی۔ جھگڑے کی آخری بار گذشتہ 30 مئی کو اس وقت سامنے آئی تھی جب نیس واڈیا اور ان کا خاندان تھوڑی دیر سے اسٹیڈیم پہنچا تھا۔ ٹیموں کے مالکان کے لئے سیٹیں ریزرو ہوتی ہیں لیکن اس دن شاید نیس کے کنبے کو کچھ دیر تک سیٹوں کے لئے انتظار کرنا پڑا۔ نیس اس بات سے ناراض ہوگئے۔ بتایا جاتا ہے کہ پریتی کے مہمان آگے کی لائن میں سبھی ریزرو سیٹوں پر بیٹھ گئے اور انہیں انتظار کرنا پڑاتھا۔ اب نیس کی طرف سے بھی بیان آیا ہے کہ پریتی کے لگائے گئے الزام غلط اور بے بنیاد ہیں وہ اس کے خلاف مقدمہ اور شکایت کریں گے۔ نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر واڈیا کے قریبی نے بتایا نیس خاندان نے پویلین میں 14 سیٹیں بک کرائی تھیں وہ اسی وقت ناراض ہوگئے جب انہوں نے دیکھا کے ان کی ماں مورین واڈیا کھڑی تھیں اور سبھی سیٹوں پر پریتی اور ان کے مہمان بیٹھے ہوئے تھے۔ اس کے بعد واڈیا کی اپنی ماں کے تئیں خیر سگالی نہ دکھانے کولیکر پریتی سے ان کی بحث ہوگئی جسے چھیڑ چھاڑ کے معاملے کی شکل دے دی گئی۔اصل میں معاملہ کیا ہے یہ تو پولیس جانچ کے بعد ہی پتہ چلے گا۔ ممبئی پولیس نے اس معاملے میں دو لوگوں کے بیان درج کئے ہیں۔ پریتی دیش سے باہر ہیں اس لئے ان کا بیان نہیں ہوسکا۔ جن دولوگوں کے بیان درج کئے گئے ہیں وہ 30 مئی کو اس مبینہ واردات کے وقت پویلین میں موجود تھے۔ پولیس سی سی ٹی وی فوٹیج بھی دیکھنا چاہتی ہے۔ پولیس افسروں کا کہنا ہے کافی کچھ ثبوت اکٹھے کرنے کے بعد ہی نیس واڈیا کو سمن جاری کیا جائے گا۔ پولیس نے 354 (چھیڑ چھاڑ) 504 (بے عزت کرنا) 506 (دھمکانا)509 (فحش حرکتیں کرنا) کے تحت کیس درج کیا ہے۔ اگر یہ الزام ثابت ہوجاتے ہیں تو ان کو تین سال کی سزا ہوسکتی ہے۔
(انل نریندر)

17 جون 2014

پاکستان کواینٹ کا جواب پتھر سے دینا ہوگا!

پاکستانی فوجوں نے جمعہ کے روز پھر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی اور اس ضلع میں کنٹرول لائن سے لگی ہندوستانی چوکیوں پر فائرننگ کردی۔ نریندر مودی سرکار کے لئے یہ ایک چنوتی ہے۔ خطے میں جنگبندی کی خلاف ورزی اور فائرننگ پاکستان کے ارادوں پر نئے سرے سے سوالیہ نشان بھی لگتا ہے۔ جمعہ کو پاکستانی فوج نے جموں وکشمیر کے اس سیکٹر میں گولے داغے اور فائرننگ کی۔ قریب آدھے گھنٹے چلی فائرننگ میں فوج کی چوکی کے ساتھ لگے رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا اور دو آئی ڈی دھماکے بھی ہوئے اس میں فوج کا جوان شہید ہوگیا تھا اور میجر سمیت پانچ جوان زخمی ہوئے تھے۔ سرحد پر ہو رہے ان واقعات کے درمیان قریب10 بجے وزیر اعظم نریندر مودی فوج کے ہیڈ کوارٹر پہنچے انہوں نے وار روم دیکھا اور قریب پونے تین گھنٹے تک فوج کے چیف جنرل وکرم سنگھ سے فوجی تیاریوں اور ضرورتوں پر رپورٹ لی۔ یہ واقعہ پاکستان کے ارادوں پر نئے سرے سے سوالیہ نشان لگاتا ہے۔ یہ فائرننگ ایسے وقت ہوئی ہے جب پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف اور ہندوستان کے وزیر اعظم کے درمیان خطوط کی ادلا بدلی ہورہی ہے اور دونوں طرف سے امن کی پہل کی جارہی ہے۔ پاکستان کی طرف سے فائرننگ کی کئی وجہ ہو سکتی ہیں۔ پاکستانی فوج اور دہشت گرد تنظیم شاید یہ نہیں چاہتی کہ شریف ۔مودی امن بات چیت کامیاب ہو۔ بوکھلاہٹ میں وہ ماحول خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ کچھ ہی دنوں میں امرناتھ یاترا شروع ہونے والی ہے۔ اس یاترا کے دوران آتنک وادی یاترا میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے حملے کرتے ہیں۔ پاکستان امرناتھ یاترا سے پہلے آتنک وادیوں کی گھس پیٹھ کرانے کی بھی کوشش کرتا ہے۔ 4 اپریل کے آخری ہفتے سے15 مئی تک پاکستان کی طرف سے 19 بار فائرننگ ہوچکی ہے۔ پچھلے سال فائرننگ کے 149 واقعات ہوئے تھے جس میں ہمارے12 جوان شہید ہوئے تھے۔ بھارت سرکار اس کو نظر انداز نہیں کرسکتی۔ گذشتہ دنوں سرحد پار سے گولیاں برسائے جانے کے کچھ ہی گھنٹے پہلے پونچھ سرحد پر بارودی سرنگ سے دھماکے کئے تھے جس میں ایک فوجی شہید ہوا اور میجر سمیت 6 دیگر جوان زخمی ہوئے۔ ادھر ارون جیٹلی (وزیر دفاع) پہلی بار سلامتی انتظامات کا جائزہ لینے پہنچتے ہیں اور ان کے پہنچنے سے پہلے یہ واقعات ہوتے ہیں تو کیا یہ سمجھا جائے سرحد پار سے اکسانے والی حرکتوں کو جان بوجھ کر انجام دیا جاتا ہے؟ وزیر دفاع نے سنیچر کو بتایا دیش کی مسلح فورس کنٹرول لائن پر پاکستان کے ذریعے کئے جانے والی جنگ بندی کی خلاف ورزی کا جواب دینے کا اہل ہے۔ قابل ذکر ہے مودی کے پی ایم بننے کے بعد سے اب تک کنٹرول لائن پر پاکستانی فوج چار بار جنگبندی کی خلاف ورزی کرچکی ہے۔ پاکستان سرکار اس سے اچھی طرح واقف ہے کہ جنگبندی کی خلاف ورزی کے واقعات عام طور پر آتنک وادیوں کی گھس پیٹھ کرانے کے مقصد سے ہوتی ہیں مشکل یہ ہے پاکستان سرکار نہ تو آتنک وادیوں پر کوئی روک لگانا چاہتی ہے اور نہ ہی اپنی فوج پر۔ بھلے ہی نواز شریف دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے ہوں لیکن نہ تو پاکستانی فوج اور نہ ہی دہشت گردانہ تنظیمیں اس میں روڑا ڈالنے سے باز نہیں آرہی ہیں۔ دیش نریندر مودی کی طرف دیکھ رہا ہے وہ کیا پالیسی اپناتے ہیں۔ اپنی چناؤ مہم میں تو مودی نے بہت کچھ کہا تھا اب دیکھنا یہ ہے کہ ان میں سے کتنی باتوں پر عمل کر پاتے ہیں۔ امن مذاکرات اور سرحد پر فائرننگ اور دھماکے دونوں ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ یہ ضروری ہے کہ پاکستان کی جانب سے وہاں کی سرکار کے سامنے یہ صاف کردیا جائے کہ سرحد پر امن قائم رکھنا اس کی ذمہ داری ہے اور وہ اپنی ذمہ داری کو ٹھیک طرح سے نبھا نہیں رہا ہے۔ ہندوستان کو سرحد پر اپنی تیاری پوری رکھنی چاہئے اور فوج کو صاف حکم دینا ہوگا کہ وہ پاکستان کو معقول جواب دے۔ پچھلے 10 سالوں میں یوپی اے سرکار نے کچھ ٹھوس نہیں کیا۔ پاکستانی آ کر ہمارے جوانوں کے سر کاٹ کر لے جاتے ہیں اور ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھے سوائے خبردار کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کرتے۔ اب مودی سرکار کو اپنے وعدوں پر پورا اترنا ہوگا۔ پاکستان کی اینٹ کا جواب پتھر سے دینا ہوگا تبھی جاکر یہ جہادی تنظیمیں اور پاک فوج ہندوستان کو سنجیدگی سے لیں گی۔
(انل نریندر)

کیدار وادی میں قدرتی آفت کے زخم ابھی ہرے ہیں،شردھالو لاچار!

زندگی کی تکلیفوں سے جدوجہد کرتی کیدار وادی پچھلے سال 16-17 جون کی آسمانی آفت آنے کا ایک سال گزر جانے کے بعد بھی برسات ہونے سے گھبرا اٹھتی ہے۔ کیدار وادی کے لئے یہ طے کرنا مشکل ہے کہ یہ بارش کی بوندیں زندگی دینے والی ہیں یا موت کی آہٹ۔وجہ کیدار وادی کے لوگوں اور شردھالوؤں کو یقین نہیں ہوتا کہ وہ پہاڑوں میں محفوظ ہیں۔ کیدار وادی اور اتراکھنڈ کے دیگر حصوں میں آسمانی آفت سے ہوئی تباہی کو ایک سال گزر چکا ہے مگر اس ٹریجڈی کے زخم ابھی بھی ہرے دکھائی پڑتے ہیں۔ قدرت کے قہر سے تباہ ہوئے دیہات میں نہ تو ابھی تک زندگی پٹری پر لوٹ پائی ہے اور نہ ہی تباہ حال سڑکیں ، پل، اسکول و ہسپتال پوری طرح سے ٹھیک ہوسکے ۔ اس ٹریجڈی میں مرے لوگوں کے ورثاء اور رشتے داروں کو فوری راحت بھلے ہی مل گئی ہو مگر قدرتی آفت کی مار سے بے گھر ہوئے ہزاروں کنبوں کو ایک سال بعد بھی نئی چھت نصیب نہیں ہو پائی۔ چار دھام یاترا شروع کرنے کے لئے مسلسل ہاتھ پیر مارتی رہی صوبے کی حکومت نے اب تک ان 337 دیہات کی خبرگیری بھی کرنا مناسب نہیں سمجھا جو خطرے کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ 16-17 جون 2013ء کی قدرتی آفت میں بے گھر ہوئے قریب ڈھائی ہزار کنبوں کو ایک سال بعد بھی نئی چھت مہیا نہیں ہو پائی ہے۔ قدرتی آفت سے نمٹنے کے وعدے تو بہت ہوئے لیکن یہ زمینی طور پر کھرے نہیں اترے۔ خطرے سے پہلے وارننگ کی مشینری قائم نہیں ہوسکی۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر گذشتہ سال جیسی آفت پھر آئی تو پھر پہلے جیسا تباہی کا منظر دیکھنے کومل سکتا ہے۔ حکومت کے پاس خطرے کا اندازہ لگانے کی کوئی تکنیک نہیں ہے اور نہ ندی نالوں کے کنارے آباد لوگ کتنے تھے ابھی تک اس کا کوئی تجزیہ نہیں ہوپایا۔ ندیاں ،نالے اگر خطرناک شکل اختیار کر جائیں تو کتنا نقصان ہو سکتا ہے نہ اس بات کی پڑتال ہوئی کہ قدرتی آفت کے لحاظ سے کون کونسے گاؤں، شہر خطرے کی زد میں ہیں اور نہ ہی علاقے میں متبادل سڑک بن پائی اور نہ ہی پل نہ ہی ندیوں کاملبہ ہٹ پایا اور نہ سیلاب کنٹرول کے کام پورے ہوپائے ، نہ اترپردیش کا قدرتی آفت مینجمنٹ مشینری قائم ہوپائی ، نہ راڈار لگ پایا، نہ گلیشیئر،جھیلوں کی نگرانی کی مکینیزم قائم ہوپائی۔ قدرتی آفت مینجمنٹ کی زیادہ تر اسکیمیں کاغذوں پر ہیں اور وقت آنے پر ان کا کتنا استعمال ہو پائے گا یہ بھی صاف نہیں ہے۔ قدرتی آفت مینجمنٹ حکام کے بھروسے ہے لیکن ان افسروں کی مصیبت یہ ہے کہ ضلع سطح پر یہ پولیس اور دیگر محکموں کے رابطے میں کم ہی رہتے ہیں۔ باز آبادکاری پروگرام فائلوں میں بند ہیں۔اتراکھنڈ سرکار کے مطابق کل لاپتہ اور متوفی افراد کی تعداد3890 ہے ان میں سے کل 574 لاشیں مل پائی ہیں،42000 گاؤں والے متاثر ہوئے۔ فوج کی بچاؤ کارروائی 16 دن چلی اور فوج نے 10900 شردھالوؤں کو نکالا۔نقصان کا اندازہ ہے 40 ہزار کروڑ۔ لاشوں کے ملنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ کیدار ناتھ پیدل راستے پر جنگلوں میں پچھلے سنیچر کو 17 اور انسانی ڈھانچے ملے ہیں۔ بھیروں ناتھ مندر کے اوپر بسے جنگلوں سے 8 انسانی ڈھانچے ملے۔ جمعہ کو بھی جنگل سے 12 ہڈیوں کے ڈھانچے ملے۔ سب کا انتم سنسکار کردیا گیا ہے۔ اس درمیان وزیر اعلی ہریش راوت نے سون پریاگ سے وشوناتھ تک لاپتہ لوگوں کی تلاش کیلئے پھر سے گہری کارروائی شروع کرنے کے احکامات دئے ہیں۔ یہ آپریشن 20 دنوں تک چلے گا ا س کے لئے اسپیشل ٹاسک فورس بنائی گئی ہے۔
(انل نریندر)

15 جون 2014

ورلڈ کپ کی شاندار شروعات!

سانبا کی دھن پر تھرکتی رقاصاؤں،پٹ بل اور جنیفر لوپیزکی آواز کے جادو اور فٹبال کے لئے برازیل کی دیوانگی بیاں کرتی رنگا رنگ موسیقی ریزپیشکش کے درمیان اگلے ایک مہینے تک چلنے والے فٹبال کے مہاسمرکا آغاز ہوگیا۔اولے۔اولے انہی دو الگ الگ الفاظ کو ایک خوبصورت دھاگے میں پروتے ہوئے برازیل نے دنیا کے سب سے مقبول کھیل کے مہا کنبھ کا جمعرات کو زبردست سواگت کیا۔ ساؤپاولوکاکورن کیوئن ارینا اسٹیڈیم فٹبال کے چاہنے والوں سے پوری طرح سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ آخر برازیل فٹبال پریمیوں کے لئے یہ خاص لمحہ 64 سال کے لمبے انتظار کے بعد آیاتھا۔ امریکی سنگر جنیفر لوپیز امریکہ کے مشہور ریپر پٹ بل اور برازیل سنگر کلاؤڈیا لٹی نے مل کر جب فیفا ورلڈ کپ2014 کاباضابطہ گانا اولے اولے گایا تو اسٹیڈیم ہی نہیں بلکہ ٹی وی پر دیکھ رہے تمام فٹبال کے دیوانے بھی اپنے پیر تھرکنے سے نہیں روک سکے۔اس گیت کے ختم ہونے کے ساتھ ہی2014ء ورلڈ کپ کا آغاز بھی ہوگیا۔ ورلڈ کپ 2014ء میں 32 ٹیمیں شرکت کررہی ہیں۔ برازیل کے12 شہروں میں میچ کھیلے جائیں گے۔ 32 دن تک چلے گا یہ ورلڈ کپ۔ کل 64 میچ کھیلے جائیں گے۔ کل انعامی رقم576 ملین ڈالر ہے جو گذشتہ ورلڈ کپ کے مقابلے37 فیصد زیادہ ہے۔ ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والی سبھی ٹیموں کو 1.5 ملین ڈالر (لگ بھگ9 کروڑ روپے) ملیں گے۔ چوتھے مقام پر رہنے والی ٹیم کو20 ملین ڈالر (لگ بھگ118 کروڑ روپے) ملیں گے۔ تیسرے مقام پر رہنے والی ٹیم کو22 ملین ڈالر (لگ بھگ 130 کروڑ روپے) ملیں گے۔ ٹورنامنٹ میں جو ٹیم دوسرے نمبر پر رہے گی اسے انعام میں 25 ملین ڈالر (لگ بھگ148 کروڑ روپے) ملیں گے اور جیتنے والی ٹیم کو چمچماتی ٹرافی کے علاوہ 35 ملین ڈالر(لگ بھگ207 کروڑ روپے) ملیں گے۔فٹبال ورلڈ کپ کے رنگ میں بھارت کے پردھان منتری نریندر مودی بھی رنگے دکھائی دے رہے ہیں۔ جمعرات کو انہوں ن ے2014ء فیفا ورلڈ کپ پر یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔اس موقعہ پر انہوں نے دیش کو نعرہ بھی دیا (جو کھیلے وہ ہی پلے) انہوں نے کہا امید ہے کہ فیفا ورلڈ کپ دنیا کے دیشوں کو جوڑنے میں کارگر ثابت ہوگا۔ ورلڈ کپ میں32 ٹیموں کے 736 کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں۔اس میں حصہ لینے والی 32 ٹیموں کو چار ۔چار کے آٹھ گروپوں میں بانٹا گیا ہے۔ ٹورنامنٹ میں کل64 میچ کھیلے جائیں گے ۔فیفا ورلڈ کپ میں تکنیک اہم رول نبھائے گی کیونکہ اس میں استعمال ہونے والی برازکا نامی فٹبال میں چھ ایچ ڈی کیمرے فٹ ہوں گے جو میدانی ایکشن کے 370 ڈگری کے سین دکھائیں گے۔ اس گیند کے ڈیزائن میں نیلے، سنتری اور ہرے رنگ کا استعمال کیا گیا ہے۔بھارت واسیوں کو بہرحال تھوڑی مایوسی یوں ہے کہ برازیل میں کھیلے جارہے میچوں کے ٹائم ہمارے حساب سے صحیح نہیں ہیں۔ زیادہ تر میچ دیر رات کھیلے جائیں گے اور اتنی دیر جاگنا آسان نہیں ہوگا۔ بہرحال فٹبال کا مہا سمر شروع ہوچکا ہے اور اگلے 30 دن اس کا خمارہ ساری دنیا پر چڑھا رہے گا۔ مقابلہ کڑا ہے، برازیل، چین،ارجنٹینیا اہم دعویدار ہیں۔ برازیل کو پوری امید ہے کہ وہ ہی ورلڈ چمپئن ہوگا۔
(انل نریندر)

عراق میں ابو بکر البغدادی دوسرے اسامہ بن لادن!

عراق میں سنی دہشت گردوں نے دیش کے دوشہروں پر قبضہ کرلیا ہے۔ دو سال پہلے امریکی فوج عراق سے ہٹ گئی تھی اس کے بعد کے سب سے بڑے سنکٹ سے عراق روبرو ہے۔ عراق کے دوسرے سب سے بڑے شہر موسل پر سنی دہشت گردوں نے منگلوار کو اور بدھوار کو بغداد کے نزدیک واقع بیزی اور صدام حسین کے آبائی شہر تکرت پر اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ لاوینٹ(آئی ایس آئی ایل) نے قبضہ کرلیا ہے۔ بغداد سے محض130 میل دور تیل ریفائنری کے لئے مشہور بیجی شہرکے لوگ جب صبح اٹھے تو دیکھا کہ 60 گاڑیوں میں آئے آتنکیوں نے شہر پر قبضہ کرلیا ہے اور فوجی چیک پوسٹ اور دیگر ادارے چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔ بیجی شہر کے جس پاور پلانٹ سے بغداد کو بجلی سپلائی ہوتی ہے وہ بھی آتنکیوں کے قبضے میں ہے۔ قریب6 مہینے پہلے آتنکیوں نے فالوجا شہر پر قبضہ کرلیا تھا، تب امریکہ نے کئی طرح کے فوجی سازو سامان عراق سرکار کو مہیا کرائے تھے لیکن بتاتے ہیں کہ ان میں سے زیادہ تر ہتھیاروں پر آتنکیوں کا قبضہ ہوچکا ہے۔واشنگٹن تازہ حالات سے فکرمند ہے۔وہ ڈرون حملے سمیت دوسری فوجی مدد دینے کیلئے کئی متبادلوں پر غور کررہا ہے۔ امریکی وزارت داخلہ کی ترجمان جین پساکی نے کہا کہ امریکہ آئی ایس آئی ایل کے حملوں کے خلاف عراقی سرکار اور عراق کے نیتاؤں کے ساتھ مل کر مدد کرنے کے لئے کام کرنے کو پر عہد ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوجیوں کو عراق بھیجنے کی کوئی یوجنا نہیں ہے۔ موسل پر آتنکی قبضے اور عراقی فوج کے بنا لڑے ہتھیار ڈال دینے سے پشچمی دیشوں کے سرکشا ماہرین فکرمند ہیں۔ آتنکیوں سے لوہا لینے کی جگہ فوجیوں نے اپنی وردی اتار کر عام لوگوں جیسے کپڑے پہن لئے اور بھاگ رہی بھیڑ کا حصہ ہوگئے۔ امریکہ نے عراقی فوج کی ٹریننگ پر لاکھوں ڈالر خرچ کئے ہیں۔ امریکہ سمیت پشچمی دیش تازہ واقعات سے حیران ہیں۔ آتنکیوں کا اگلا نشانہ بغداد ہے۔اس علاقے میں پھراشانتی ہونے کی آشنکا ہے۔ عراق میں راجدھانی بغداد کے بعد دوسرے سب سے بڑے شہر موسل پر قبضہ کرنے والی آتنکی تنظیم اسلامک اسٹیٹ ان عراق اینڈ سیریا (آئی ایس آئی ایس) کے نیتا ابوبکر البغدادی کو ٹائم میگزین نے دنیا کا سب سے خطرناک آدمی قراردیا ہے۔ موسل پر قبضے کی رن نیتی تیار کرنے والے اس شخص کو فرانسیسی اخبار ’’لی مونڈے‘‘ نے نیا اوسامہ بن لادن کہا ہے۔ یہ تنظیم القاعدہ سے جڑی ہوئی مانی جاتی ہے۔اسی سے جڑے آتنکیوں نے موسل پر قبضہ کیا ہے۔ فالوجا شہر پر پہلے سے ہی اس تنظیم کا قبضہ ہے۔ سیریا میں اسعد سرکار کو سب سے بڑی چنوتی یہ ہی سنگٹھن دے رہا ہے۔ سنی آتنکیوں کے سنگٹھن کا نیتا ابوباکر البغدادی ہے اور اس کے پاس ہزاروں لڑاکا ہیں جن میں کئی ودیشی بھی ہیں۔ممکن ہے کہ کچھ سمرتھک القاعدہ سے بھی زیادہ خطرناک ہو جائیں۔ موسل کی گھٹنا سے صاف ہے کہ کیسے سیریا میں چل رہی خانہ جنگی عراق تک پہنچ گئی ہے۔ماہرین اس واقعہ کونوری المالکی کی شیعہ اکثریت والی سرکار کے لئے خطرہ مان رہے ہیں۔ مالکی کے لئے خطرے کی گھنٹی بج رہی ہے۔ اتنا طے ہے کہ ایک بار پھر علاقے میں اشانتی کا دور آگیا ہے۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...