13 جولائی 2019

جب کروڑوں بھارتیوں کی مین چیسٹر میں امیدیں ٹوٹیں

کروڑوں ہندوستانیوں کی تب امیدیں دھری کی دھری رہ گئیں جب بھارت بدھوار کو نیوزی لینڈ سے ہار کر ورلڈ کپ سے باہر ہو گیا ۔ایک ہی جھٹکے میں بھارت کی امیدیں ورلڈ کپ میں چو رچور ہو گئیں ،جب ہم سیمی فائنل تک پہنچ کر نیوزی لینڈ سے محض 18رن سے ہار گئے ۔240رن کا ٹارگیٹ ویسے تو کوئی بڑا نہیں تھا ،300بالوں میں 240رن بنانے پر ٹیم انڈیا نے انتہائی خراب بیٹنگ پرفارمینس کے چلتے کل 221رن پر ہی ڈھیر ہو گئی ہمارے گیند بازوں نے شاندار کام کیا اور نیوزی لینڈ کو 240رنوں میں سمیٹ دیا ۔یہ ٹوٹل شاید اور بھی کم ہو سکتا تھا اگر محمد سمیع کو ہم سیمی فائنل میچ میں کھیلاتے ،جسپریت بمراہ ،رویندر جڈیڈا اور چہل نے اچھی بالنگ کی ،ٹیم کے پچھلے ریکارڈکو دیکھتے ہوئے 240رن کا ٹارگیٹ کچھ خاص نہیں لگ رہا تھا ۔لیکن اوور کاسٹ کنڈیشن میں نیوزی لینڈ کو اوپنگ بالر میٹ ہینری ،ٹوینٹ بولٹ ،نے قہر برپا دیا ۔26مارچ 2015کو سڈنی میں آسٹریلیا کے خلاف دوسرے سیمی فائنل میں ملی 95رنوں کی ہار کے بعد بھارت نے 2019ورلڈ کپ کی تیاریاں شروع کر دی تھیں ان میں چوتھے نمبر کے بلے باز کی تلاش بھی شامل تھی لیکن چار سال بعد کا یہ سفر نیوزی لینڈ کے تیز گیند بازوں کے شروعاتی 45منٹ کے قہر کے آگے دھر ا شاہی ہو گیا ۔وراٹ کوہلی کی ٹیم نو لیگ میچوں میں 7 مقابلے جیتنے والی ٹیم انڈیا نیوزی لینڈ سے 18رنوں سے ہار گئی ۔1983اور 2011کی ورلڈ کپ چیمئن ٹیم انڈیا کو ایک خطاب جیتنے کے لئے اب کم سے کم 2023میں بھارت میں ہونے والے ورلڈ کپ تک کا انتظار کرنا ہوگا ۔آخر جس کا ڈر تھا وہی ہوا ۔سیلکشن کے کڑوے سچ نے پلٹی ماری بھی تو سیمی فائنل میں ورلڈ کپ سے پہلے اور ٹورنارمینٹ کے دوران سبھی کی زباں پر یہی سوال تھا کہ کہیں روہت شرما اور وراٹ کوہلی کی جوڑی نہیں چلی تو مڈل آرڈر کو کون سنبھالے گا؟اب تک اس کڑوی سچائی پر روہت اور وراٹ کی پرفارمینس نے پردہ ڈال رکھا تھا جس کے چلتے مڈل آرڈر نے مسلسل کوششوں سے فرق نہیں پڑا ۔لیکن یہ باتیں لیگ اسٹیج کی تھیں جہاں ایک یا دو ہار سے فرق نہیں پڑنے والا تھا لیگ سطح کے میچوں میں روہت ،راہل اور وراٹ یہ تینوں ایک ساتھ فیل ہو گئے تھے ۔منگل کے روز بارش کے سبب میچ روکنا پڑا تھا نیوزی لینڈ نے بیٹنگ شروع کی اور 46.1اوور میں 211پر پانچ سے آگے کھیلنا شروع کیا اور 239رنوں پر سمٹ گئی ۔ویسے یہ بھی ایک وجہ تھی ہماری ہار کی اگر منگلوار کو بارش سے پہلے کھیل نہ رکتا تو ٹیم انڈیا اس وقت پورے جوش میں تھی اور پچ بھی نیوزی لینڈ کی بیٹنگ کے بعد سوکھ گئی تھی اگلے دن اوور کاسٹ کنڈیشن میں بال سویم کرنے لگی اور پہلے تین ہندوستانی بلے باز اوپنر روہت شرما اور کے ایل راہل اور پھر وراٹ کوہلی 3.1اوور میں ٹوٹل بورڑ پر 5رن بنا کر ہی آﺅٹ ہوگئے ۔محض 240رن کا ٹارگیٹ ٹیم انڈیا نہیں حاصل کر سکی اور 221رن پر ڈھیر ہو گئی ۔صرف رویندر جڈیڈا (59)گیند پر 77رن ہی چھٹا وکٹ گرنے پر چوکے چھکے لگا کر بلے باز کی شکل میں اپنا دھر م نبھا سکے مہندر دھونی نے اوور ڈفنسنگ کھیلتے ہوئے 72گیندوں پر 50رن بنائے لیکن ان کے وکٹ پر ٹکنا ضروری تھا اور انہوںنے یہ کام نبھایا باقی ٹیم کی بلے بازی نے بیڑا غرک کر کے رکھ دیا دیکھنے میں تو ہار محض18رن کی تھی لیکن دو بار کے ورلڈ چیمئن کے لحاظ سے یہ بہت بڑی ہار تھی ۔انگلینڈ میں تمام کرکٹ ناظرین اور پوری دنیا میں ٹیم انڈیا کے پرستاروں میں مایوسی چھا گئی ٹیم کی ہار کو لے کر بہت کی وجوہات سامنے آرہی ہیں میری رائے میں ہماری ہار کی کئی وجوہات رہی ہوں ٹیم انڈیا کا جائزہ شروع سے کرتے ہیں ۔پچھلے چار برسوں میں ہم اپنا مڈل آرڈر صحیح نہیں بنا پائے ۔رویندر جڈیڈا کو لیگ میچوں سے دور کیوں رکھا گیا ؟جبکہ وہ بیٹنگ و بالنگ اور فلڈنگ میں ماہر ہیں ۔جیسے انہوںنے سیمی فائنل میں ثابت کر دکھایا ،ورلڈ کپ میں ٹیم انڈیا پہلی ایسی ٹیم ہوگی جس میں چار چار وکٹ کیپر کھیل رہے تھے ۔دنیش کارتک کو کس حیثیت سے سیمی فائنل میں کھلایا گیا ؟امبتی رائیڈومایوس ہو کر کرکٹ سے سنیاس لینے پر مجبور ہو گئے اور بھی بلے باز دستیاب تھے ۔محمد سمیع جو لگاتار اچھی پرفارمینس دے رہے تھے انہیں باہر کیوں بٹھایا گیا ؟دنیش کارتک کو ڈراپ کر کے سمیع کو ٹیم میں لیتے تو نیوزی لینڈ کا اسکور اور کم ہو جاتا اوور کاسٹ کنڈیشن میں بوالنگ ہو رہی تھی اور سمیع کی خطر ناک گیند بازی کر سکتے تھے ہم ٹاپ آرڈر پر زیادہ منحصر رہے ۔روہت،راہل،اور کوہلی نے مل کر تین رن بنائے جبکہ لیگ میچوں میں ٹاپ تین بلے بازوں نے ٹیم کے 69فیصد رن بنائے تھے مڈل آرڈر کے خراب شاٹ :پنت اور ہاردیک پانڈیا خرا ب شاٹ بن کر آﺅٹ ہو گئے یہ جانتے ہوئے کہ ان کا کریچ پر ہنا انتہائی ضروری تھا ۔لیگ میچوں میں بھارتیہ مڈل آرڈرنے صرف دو بار 50پلس کا اسکور کیا ہے پہلے دس اوور کے پاور پلے میں ٹیم انڈیا صرف چوبیس رن ہی بنا پائی یہ ورلڈ کپ میں سب سے کم اسکور تھا ۔ناٹ آﺅٹ میچ میں ٹارگیٹ کا پیچھا کرنا مشکل ہوتا ہے نیوزی لینڈ نے ٹاس جیتا اور اس لئے بلے بازی چنی کیونکہ بارش سے اگلے دن گیند بازی کے لئے اچھی کنڈیشن ملی اور 208رن کے اسکور پر رویندر جڈیڈا آﺅٹ ہوئے اور امید تھی کہ کیونکہ دھونی کریچ پر تھے ۔48ویں اوور کی پہلی گیند پر زور دار چھکہ جمایا لیکن اسی اوور کی تیسری گیند پر جب دھونی رن آﺅٹ ہوئے تو یہیں سے میچ جیتنے کی امیدیں مدھم پڑ گئی تھیں ۔اور وہ پانی پانی ہو گئیں ۔سوربھ گانگولی اور وی وی ایس لکشمن سمیت ثابت کرکٹ کھلاڑیوں نے سیمی فائنل میں دھونی کو ساتویں نمبر پر بلے بازی کے لئے بھیجنے کو حکمت عملی میں خامی قرار دیا ہے ۔ہاردک پانڈیا اور کارتک پٹیل کو دھونی سے پہلے بھیجا گیا ۔جبکہ ٹاپ آرڈر بری طرح سے لڑکھڑا گیا ۔ورلڈ کپ 2011کے فائنل میں بھی وہ خود یوراج سنگھ سے اوپر چوتھے نمبر پر آئے تھے اور ورلڈ کپ جتانے میں کامیاب رہے ۔دراصل ہماری رائے میں اس ٹیم میں زیادہ کھلاڑی ٹی 20کے ہیں ۔ون ڈے میں کھیلنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ٹیم مینج مینٹ میں اب رد و بدل ہونی چاہیے ۔اور کوچ روی شاشتری کو باہر کا راستہ دکھانا چاہیے وراٹ کوہلی کو فری کھیلنے کے لئے ان سے کپتانی چھین لینی چاہیے اور کسی اور کو موقعہ دینا چاہیے اس ہار سے سبق لیتے ہوئے اگلے ورلڈ کپ کی تیاری ابھی سے شروع کرنی ہوگی ۔

(انل نریندر)

12 جولائی 2019

جج کو بلیک میل کر نواز شریف کو دلائی سزا !

ان دنوں پاکستان میں پاکستان مسلم لیگ (ن)کی لیڈر مریم نواز کی ایک ویڈیو کا چرچا زوروں پر ہے اس ویڈیو میں مریم نواز نے الزام لگا یا ہے کہ جج کو بلیک میل کرنے اور ان کے والد نواز شریف کو سزا دلائی گئی اس ویڈیو میں جواب دہی عدالت کے جج مبینہ طور پر تسلیم کرتے دکھائی دے رہے ہیں نواز کو کرپشن کے معاملہ میں قصوروار ٹھہرانے کے لئے جج کو بلیک میل اور ان پر دباو ¿ ڈالا گیا تھا لاہور میں پی ایم ایل (ن)کے سینئر لیڈر وں کے ساتھ پریس کانفرنس کے خطاب میں مریم نے کہا کہ ان کے 69سالہ والد کے معاملے کو لیکر پوری عدلیہ کارروائی سنگین طور سے متاثر کیا گیا ۔واضح ہوکہ نواز شریف العزیزیہ اسٹیل مل معاملہ میں کرپشن کے یہ قصور وار ٹھہرائے جانے کے بعد 24دسمبر 2018سے جیل میں بند ہیں انہیں 7سال کی جیل کی سز ا ہوئی ہے انکے پریوار نے کچھ بھی غلط ہونے سے انکا رکیا ہے اور انکے خلاف مقدمات سیاسی اغراض پر مبنی ہے ۔مریم کا دعوی ہے کہ جواب دہی عدالت اسلام آباد کے جج ارشد ملک نے ان کی پارٹی کے ورکر نصیر بھٹ کے ساتھ بات چیت میں یہ قبول کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف فیصلہ لینے کے لئے انہیں نامعلوم لوگوں کے ذریعے بلیک میل اور مجبور کیا گیا ۔جج موصوف کا کہنا تھا کہ شریف کے خلاف پیسہ کمانے یا غیر قانونی مالی لین دین معاملہ کا کوئی ثبوت نہیں ہے جج کا کہنا تھا کہ شریف کو جیل بھیجنے کے حکم کے لئے پچھتارہے ہیں ۔وہیں جواب دہی عدالت کے جج ملک نے مریم کے الزامات کو مستر د کردیا او رسابق وزیر اعظم کو ثبوت کے بنیاد پر ہی قصوروار ٹھہرایا گیا تھا ۔پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھرٹی نے 21ٹی وی چینلوں کو مریم کی پریس کانفرنس کو بغیر ایڈٹ کئے سیدھا دکھانے پر نوٹس جاری کردیئے ہیں ا ن سے سات دن میں جواب مانگا گیا ہے حکمراں عمران خان کے کہا کہ ویڈیو کو کاٹ چھانٹ کر کے تیار کیا گیا ہے ۔یہ جواب دہی عدالت کے بھروسے کو ٹھیس پہنچانے کی سازش ہے دیکھیں مریم کے اس ویڈیو کا کوئی اثر ہوتا ہے یا نہیں ؟مشکل ہی لگتا ہے کیونکہ نا تو پاک فوج اور نا ہی عمراں خاں سرکار اب نواز شریف کو چھوڑنے کا کوئی خطرہ مول نہیں لے سکتی ہے ۔
انل نریندر

بجٹ سے ابھری نراشا!

بجٹ تقاضوں سے مایوس گھریلو اکویٹی بازار میں پیر کو اس سال کی بڑی گراوٹ دکھائی دی سینسکس793اور نفٹی 253گر کر بند ہوا فیصدی کے حساب سے یہ اپریل 2016کے بعد بڑی گراوٹ ہے ۔پانچ اسباب سے بازا ر میں غوطہ لگایا ۔بجٹ تجاویز :اندراج شدہ کمپنیوں میں پبلک حصہ داری 25فیصدی سے بڑھاکر 35فیصدی کرنے ،شیئر واچ بیک اور 20فیصدی ٹیکس لگانا اور سرچارج بڑھانے سے غیر ملکی سرمایہ کاروں پر سیدھا اثر پڑے گا ۔سب سے بڑی معیشت میں روزگار کے اعداد شمار جون میں کافی مضبوط رہے جس سے فنڈ ریزرومیں سود شرح گھٹنے کی امید ختم ہوگئی ۔کمپنیوں کا منافع :گھریلو کمپنیوں کے جون کے نتیجے سے پہلے سرمایہ کار احتیاط برت رہے ہیں ۔ٹی ایس ایس منگل کے روز انفوسس جمعہ کو یعنی آج اپنے نتیجہ جاری کرے گا ۔کچا تیل :ایران کے ساتھ کشید گی کے چلتے پیر کے روز کچا تیل 026فیصد ی بڑھ کر 64.40ڈالر فی بیرل ہوگیا ۔تکنیکی وجہ :نفٹی 50دن اوسط کاروباری سطح 11722پوائنٹ کے ساتھ نیچے آگیا جس سے بکری شروع ہوگئی اس مرتبہ بجٹ سے عام لوگوں کو یہی امید تھی کہ حکومت درمیانہ طبقہ اور غریب کا خیال رکھے گی اور ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائی گے جسم سے لوگوں پر مہنگائی کا بوجھ او ر بڑھے لیکن ایسانہیں ہوا ۔الٹے لوگوں کو بجٹ سے نراشا ہی ہوئی کسی طرح کی راحت دینا تودور ،حکومت نے پیٹرول ڈیزل پر جس طرح سے سب ٹیکس لگا یا وہ حیرت میںڈالنے والی ہی بات ہے سرکار جب جب پیٹرول ڈیزل مہنگا کرتی ہے تو اس کے پیچھے بین الاقوامی بازار میں کچا تیل مہنگا ہونے کی دلیل دی جاتی ہے ۔لیکن ابھی توبین الاقوامی بازار میں کچے تیل کے دام کافی نیچے ہیں ۔غریب کے لئے تو مہنگائی سے بڑی کوئی مار نہیں ہوتی ایسے میں پیٹرول ڈیژل مہنگاہونے کا مطلب ہے ہرچیز مہنگی ہونا دودھ پھل سبزی سے لیکر روز مرہ کے کام میں آنے والی ساری چیزوں کے دام بڑھ جائےں گے پبلک ٹرانسپورٹ سیوائیں مہنگی ہوجاتی ہے آٹو ٹیمپو تک کا کرایہ بڑھ جاتا ہے وزیر اعظم نریندر مودی نے پھر اگلے چند برسوں میں بھارت کو پانچ لاکھ ڈالر کی معیشت بنانے کے تئیں اپنے عز م کو جگہ جگہ دہرایا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ وکاس سے اس کا کوئی سیدھا تعلق نہیں ہوسکتا جب تک حکومتیں بڑھتی معیشت کا فائدہ عام آدمی تک نہ پہنچائے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اعداد شمار بتاتے ہیں کہ اضافے کا فائدہ ہیلتھ تعلیم اور آمدنی کی شکل میں غریبو ں یا درمیانی طبقوں تک نہیں پہنچ رہاہے ۔اس کے ٹھیک الٹ تمام دیش جن کی جی ڈی پی بھارت سے کافی کم ہے ،ہم سے بہتر آرام دہ سہولیات شہریوں کو دے رہے ہیں جب تک حکومتیں خاص طور پر ریاستی حکومتیں ،ڈلیوری اور کرپشن سے نجات اور پاکدامنی کو صرف تک نہیں لاتی تب تک معیشت میں اضافے کا عوام کے لئے کوئی مطلب نہیں ہے سرکار کو اسکیموں کا فائدہ جب تک نچلے طبقے کو نہیں ملتا تب تک بیشک سرکار اچھی سے اچھی اسکیمیں لائے اور اس کا فائدہ عام آدمی کو نہیں ہوگا ۔کانگریس نے نریندر مودی سرکار کے دوسرے عہد کے پہلے بجٹ کو معلق بجٹ قرار دیتے ہوئے ایم پی ششی تھرور نے کہا کہ وزیر خزانہ محترمہ سیتا رمن نے بجٹ کے ذریعہ معیشت کی سنہری تصویر پیش کرنے کی کوشش کی لیکن پچھلے پانچ برسوں کی اقتصادی بد انتظامی کی وراثت میں ان کی کوششوں کو جھٹکا دے دیا ۔ان کا کہنا ہے کہ کرکٹ ورلڈ کپ چل رہا ہے اور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سرکار نے معیشت کے محاذ میں دفاعی بلے بازی کی ،کیچ چھوڑے اور نوبال پھینکی ۔
(انل نریندر)

11 جولائی 2019

حادثات کا ہائیوے بنا جمنا ایکسپریس وے

عام طور پر یہ مانا جاتا ہے کہ زیادہ تر سڑک حادثات انسانی لاپرواہی کا نتیجہ ہوتے ہیں لیکن سچ یہ بھی ہے کہ ایسے واقعات ہمارے کئی سسٹمز کی پول بھی کھولتے ہیں یمنا ایکسپریس وے پر پیر کو صبح سویرے ہوئے بس حادثے نے پولس و انتظام کی پول کھول دی ہے ریاست کے وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ یوگی مسلسل روڈ سیفٹی کی میٹنگیں کر یمنا ایکسپریس وے کی حفاظت اور حادثو ں پر لگام لگانے کے لئے احکامات دیتے رہتے ہیں ۔لیکن حادثے رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں ایکسپریس وے پر حادثات کو لے کر سپریم کورٹ بھی ناراضگی ظاہرکر چکی ہے ۔اترپردیش کے آگرہ میں پیر کو بس میں سوار 29لوگوں کی موت کا گواہ بنا یمنا ایکسپریس وے در اصل حادثوں کا ہائیوے بن گیا ہے۔ایکسپریس وے پر اسی سال اب تک مختلف سٹرک حادثوں میں 70لوگوں کی جان جا چکی ہے سال 2011میں اس پر ٹریفک شروع ہونے کے بعد سے اب تک 4895سڑک حادثوں میں 780لوگوں کی موت ہو چکی ہے ۔بھارتیہ قومی شاہراہ اتھارٹی ،زمینی ٹرانسپورٹ قومی شاہراہ وزارت کے ذریعہ آر ٹی آئی کی درخواست کے جواب میں سیو لائف فاﺅنڈیشن کو دی گئی جانکاری کے مطابق آگرہ اور گرئٹر نوئیڈا کو جوڑنے والے تقریباََ165کلو میٹر لمبے اس ایکسپریس وے پر 9اگست 2012کو اس پر ٹریفک شروع ہونے سے لے کر 31جنوری 2018کے درمیان الگ الگ اسباب سے 4880سڑک حادثے ہوئے جن میں 703لوگوں کی موت ہوئی اور 7488لوگ زخمی ہوئے ۔مختلف میڈیا رپورٹوں کے مطابق اس سال اب تک یمنا ایکسپریس وے پر ہوئے 15حادثوں میں کل 77لوگوں کی موت ہوئی اور دیگر 114زخمی ہوئے ہیں ۔پیر کو حادثے کی وجہ فی الحال بس ڈرائیور کو نید کی آئی جھپکی بتائی جا رہی ہے ۔اگر آخری طور پر یہی وجہ بتائی جاتی ہے تو کیا وجہ ہے کہ تیز رفتار والی سڑکوں پر ایسے سسٹم اور نگرانی نہیں یقینی کی جاتی کہ گاڑی چلاتے وقت نید کی جھپکی جیسی حالت میں ڈرائیور کسی طرح کی معمولی بھول چوک نہ کریں اور مقرر رفتار اور دوسرے تمام قواعد کو پوری طرح عمل میں لانے کی ذمہ داری کس کی ہے ؟اچھی اور بلا اڑچن سڑک دیکھ کر ایسے تمام ڈرائیور ہوتے ہیں جو رفتار کی مقرر حد کو توڑ کر تیز گاڑی چلانے سے نہیں قباحت کرتے انہیں نہ تو دوسروں کی جان کی فکر ہوتی ہے اور نہ اپنی کچھ پہلے یمنا ایکسپریس وے اس وقت سرخیوں میں آیا تھا جب انڈین ائیر فورس نے مراج2ہزار بمبار کو یہاں اتارا تھا کاش جنگی معیار کے سطح کے کوالٹی کے ایکسپریس وے کی سیکورٹی انتظامات بھی جنگی سطح کے ہوتے ۔اس وقت جب پورے دیش میں جدید ترین سڑکوں اور ایکسپریس وے کی تعمیر تیزی سے ہو رہی ہے تو ضروری ہے کہ سیکورٹی کے بھی جدید ترین طریقہ اپنائے جائیں تیز رفتار سے ایسی سڑکوں پر چلنے کو روکنا ہوگا اور رفتار ہی حادثوں کی سب سے بڑی وجہ ہے ۔

(انل نریندر)

سکون کی زندگی جی رہے ہیںعلیحدگی پسندوں کے بچے

کشمیر کے یہ علیحدگی پسند لیڈر کشمیر میں ہڑتال ،بند،کا اعلان کرتے ہیں و مقامی لڑکو ں کو سیکورٹی فورس پر پتھر برسانے کےلئے اکساتے رہتے ہیں یہ نوجوان بھی ان کی باتوں میں آجاتے ہیں اور پتھر بازی کرتے ہیں اور بند بھی کرواتے ہیں ۔سب سے چونکانے وا لی بات یہ ہے کہ ان علیحدگی پسند لیڈروں کے بچے بیرونی ممالک میں محفوظ طور پر تعلیم حا صل کر رہے ہیں اور ان کی کوئی بھی اولاد کشمیر کی علیحدگی پسندانہ سرگرمیوں میں شامل نہیں ہوتی ۔وزارت داخلہ نے 200علیحدگی پسند لیڈروں کی لسٹ جاری کی ہے کشمیر کے علیحدگی پسند لیڈر اپنے بچوں اور پریوار کے افراد کو بیرونی ملک بھیجنے کے چلتے سرکار کی نگاہ میں آگئے ہیں ۔ان کے بچے پڑھائی کر رہے ہیں یا پھر نوکریاں کر رہے ہیں وزیر داخلہ امت شاہ نے حال میں پارلیمنٹ میں ان علیحدگی پسند لیڈروں کی تفصیل رکھی ہے کشمیر کے نام پر سیاست کرنے والے حریت اور علیحدگی پسند لیڈروں کو بھلے ہی عام کشمیریوں کے مستقبل سے کچھ لینا دینا نہ ہو لیکن اپنے بچوں کے مستقبل کو لے کر وہ کافی چوکس ضرور ہیں ۔کشمیری نوجوانوں کے ہاتھوں میں کتابوں کی جگہ بندوق اور پتھر بازی کو بڑھاوا دینے والے و انہیں اکسانے والے نیتاﺅں کے 210بچے بیرونی ممالک میں اپنا مستقبل سنوار رہے ہیں ۔اس فہرست کے مطابق تحریک حریت کے چیر مین اشرف سہرائی کے دو بیٹے خالد اور عابد اشرف سعودی عرب میں کام کرتے ہیں اور وہیں بس گئے ہیں ۔جماعت اسلامی کے صدر غلام محمد بٹ کا بیٹا سعودی عرب میں ڈاکٹر ہے ۔دختران ملت کی لیڈر آسیہ اندرابی کے دو بیٹے ملیشیا اور آسٹریلیا میں پڑھتے ہیں ۔اسی طرح سید علی شاہ گیلانی کا بیٹا نعیم گیلانی نے نہ صرف پاکستان سے ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کی بلکہ اب وہ وہیں راولپنڈی میں پریکٹس کر رہا ہے ۔گیلانی کی بیٹی سعودی عرب میں ٹیچر اور داماد انجینر ہے ۔جبکہ گیلانی کی نواسی ترکی میں جنرلسٹ اور دوسری پاکستان میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہی ہے ۔گیلانی کے ایک دوسرے داماد ظہور گیلانی کا بیٹا سعودی عرب میں ہے اور ائر لائنس میں ملازم ہے ۔حریت نیتا میرواعظ عمر فاروق کی بہن روبیہ فاروق ایک ڈاکٹر ہیں ۔اور امریکہ میں بس گئی ہیں ۔اسی طرح بلال لون کے بیٹی داماد لندن میں رہ رہے ہیں ۔اور ان کی چھوٹی بیٹی آسٹریلیا میں زیر تعلیم ہے ۔علیحدگی پسند محمد رفیع کا بیٹا امریکہ میں پی ایچ ڈی کر رہا ہے ۔اشرف لایہ کی بیٹی پاکستان میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہی ہے ۔مسلم لیگ کے نیتاﺅں محمد یوسف میر اور فاروق کی بیٹیاں بھی پاکستان میں میڈیکل میں زیر تعلیم ہیں اسی طرح ڈموکیر ٹک مومینٹ خواجہ فردوس وانی کی بیٹی پاکستان میں میڈیکل کی پڑھائی کر ہی ہے ۔وحدت اسلامی نیتا نصار حسین راٹھور کی بیٹی ایران میں کام کرتی ہے۔اور اپنے شوہر کےساتھ وہیں مقیم ہے۔ان علیحدگی پسند لیڈروں اور حریت نیتاﺅں کی حقیقت یہی ہے خود کے بچے بیرون ممالک میں محفوظ اور کشمیر کے نوجوانوں کو بھڑکانے کا کام کرتے ہیں ۔ان نیتاﺅں کو بے نقاب کرنا ہوگا وہیں وزارت داخلہ نے یہ ایک اچھا کام کیا ہے ایسے نیتاﺅں کی فہرست جاری کر جو کشمیر وادی میں ہر ممکن وقت میں آگ لگانے کا کام کر رہے ہیں ان کے خلاف قانون کے حساب سے سخت کارروائی ہونی چاہیے ۔تاکہ ان کو پتہ چلے کہ دوسروں کو بربادی کے راستے پر لے جانے والوں کا خود کا کیا حشر ہوتا ہے ۔

(انل نریندر)

10 جولائی 2019

آدھار کا استعمال اہم لیکن ضروری نہیں ہے

آئے دن آپ کے پاس کریڈٹ کارڈ کمپنیوں اور بینکوں سے فون آتا ہوگا کہ آپ کا کارڈ اور کھاتہ آدھار کار ڈ سے نہیں جڑا ہے اس لئے براہ کرم آدھار کارڈ سے جڑاوا لیں ۔آدھار کارڈ بینک اکاﺅنٹ اور کریڈیٹ کارڈ سے جوڑنا اب ضروری نہیں ہے ۔لوک سبھا نے گرووار کو آدھار اور دیگر قانون (ترمیم )بل کو منظوری دے دی ہے ۔مرکزی مواسلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی روی شنکر پرساد نے یہ بل پیش کیا ۔اس میں بینک میں کھاتہ کھولنے ،سم لینے کے لئے آدھار کو مرضی مانا گیا ہے ۔نچلے ایوان میں وزیر موصوف روی شنکر پرساد نے آدھار کو محفوظ بتاتے ہوئے یقین دلایا کہ سرکار جلد ہی ڈاٹا تحفظ بل لائے گی ۔اور اس کی خانہ پوری جاری ہے۔ انہوںنے کہا کہ آدھار ترمیمی بل سپریم کورٹ کے فیصلے کے پس منظر میں لایا گیا ہے ۔اس میں یقینی بنایا گیا ہے کہ کسی کے پاس آدھار نہ ہونے کی صورت میں اسے سروسز سے محروم نہیں کیا جاسکتا ۔مرکزی وزیر نے صاف کیا کہ پرائیوٹ کمپنی کو آدھار کا کور ڈاٹا حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہے اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اس کے لئے سزا اور جرمانہ کی سہولت ہے ان کا کہنا تھا کہ آدھار یو پی اے سرکار کے وقت میں ضرور شروع ہوا تھا ،لیکن اس وقت وہ بے اثر تھا اور مودی سرکار نے اس کے لئے قانون بنایا تھا پرساد کا کہنا ہے دیش کی 130کروڑ آبادی میں 123.8کروڑ رولوگوں کے پاس آدھار کارڈ موجود ہے ۔دیش میں 69کروڑ موبائل فون کنیکشن آدھار سے جڑے ہیں آدھار کو محفوظ قرار دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ دیش کی عوام نے آدھار کی ضرورت کو تسلیم کیا ہے ۔وزیر قانون کے مطابق ٹیلی کوم کمپنیاں آدھار کا استعمال گراہکوں کی رضا مندی پر ہی کر سکتی ہیں ۔ساتھ ہی آدھار رکھنے والوں کو متابادل انتظام دیا گیا ہے ۔جس میں پاسپورٹ ،راشن کارڈ کی کاپی دے سکتے ہیں۔آدھا رکے فائدے بتاتے ہوئے انہوںنے کہا کہ آدھار کے ذریعہ سرکار کے 1.41لاکھ روپئے بچے ہیں اور لوگوں تک سرکار ی خدمات آسانی سے پہنچی ہیں ۔اس دیش میں ایماندار سرکار ہوگی تب تک لوگوں کو ضرور سہولت ملے گی ۔بنا پن کارڈ کے صرف آدھار کارڈ کے ذریعہ انکم ٹیکس فائل کرنے کو لے کر کانگریس کے لیڈر پی چتمبرم نے تلخ طنز کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ آپ کو یاد ہوگا کہ جب آدھار کو آئی ٹی آر فائل کرنے کے لئے ضروری کیا گیا تو سوال اُٹھا کہ جب پین کارڈ ہے تو آدھار کی کیا ضرورت ہے ؟اب آپ کہہ رہے ہیں کہ بنا پین نمبر کے آدھار سے ہی ریٹرن فائل کر سکتے ہیں یہ کیا کمیڈی ہے ؟

(انل نریندر)

آخری پڑاﺅ پر سب کو تحفہ دے رہے ہیں دھونی

مسٹر کول اور سابق کپتان و ٹیم انڈیا کے ورلڈ کپ جتانے والے مہندر سنگھ دھونی اگر کھیل کے میدان میں عظیم ہیں تو فیلڈ کے باہر اس سے بھی اچھے انسان ہیں ۔مہندر سنگھ دھونی اپنے کیرئیر کے آخری پڑاﺅ پر ہیں ۔اور اس لمبے سفر میں جس نے بھی ان کا ساتھ دیا ان کو کسی نہ کسی انداز میں پارٹنگ گفٹ یعنی ریٹرائرمنٹ کا تحفہ دے رہے ہیں وہ پریکٹس کے دوران میدان میں صحافیوں کے ساتھ سیلفی کھینچوا رہے ہیں تو پرستاروں کو جم کر آٹو گراف دے رہے ہیں ۔یہی نہیں اس ورلڈ کپ میں انہوںنے ہر اس کمپنی کے لوگوں کو فری میں استعمال کیا جس میں ان کو ابھی تک ساتھ رکھا اور عزت دستیاب کرائی دھونی اپنے بلے اور دستانوں میں کسی کمپنی کا لوگو لگا کر پبلیسٹی کرنے کے لئے عموماََ 7سے آٹھ کروڑ روپئے سالانہ لیتے ہیں لیکن اس ورلڈ کپ میں انہوںنے کسی بھی کمپنی سے معاہدہ نہیں کیا بلکہ انہوںنے فیصلہ کیا کہ اب تک جتنے بھی لوگوں نے ان کی مدد کی ہے ان کو وہ اپنی طرف سے تحفہ دیں گے دھونی اس ٹورنامنٹ میں کبھی پیس ملٹری فورس کے لوگوں کی قربانی کے ساتھ اترے تو کبھی انہوںنے ایس جی ایس ایس ،بی اے ایس کمپنیوں کے لوگو لگا کر بلے بازی و وکٹ کیپنگ کی ۔بلیدان لوگو لگا کر وہ اس فوج کو سمان دینا چاہتے تھے جس میں انہیں لیفنیٹ کرنل کا اعزازی عہدہ دیا ہے ۔حالانکہ اس کے سبب انہیں تنازعہ کا بھی سامنا کرنا پڑا اور آئی سی سی نے انہیں اپنے وکٹ کیپنگ دستانے میں اس کا استعمال کرنے سے منع کر دیا ۔ماہی کا ایک دوست بتاتا ہے کہ وہ شروعاتی دور میں بلے بنانے والی کمپنیاں بمشکل ایک بلا دیتی تھیں ۔آج کوتھا بورا سمیت کئی کمپنیاں انہیں 50سے 100بلے بھیجنے کو تیار ہیں اس لئے ماہی نے طے کیا کہ وہ ان سب کو تحفہ دیں گے جنہوں نے ان کی شروعاتی دور میں مدد کی ان کے اس قدم کی اہمیت اس لئے بھی ہے کہ ماہی چاہتے ہیں کہ کھیلوں کا سامان بنانے والی کمپنیاں آگے بھی اسی طرح نئے ہنر وں کی ہمایت کرتی رہیں کل کو کیا پتہ کہ کسی دور دراز علاقہ سے ایک اور دھونی و وراٹ مل جائے ۔ٹیم انڈیا کے موجودہ کپتان وراٹ کوہلی کا کہنا ہے کہ جب وہ پہلی بار ٹیم انڈیا کے ڈریسنگ روم میں گئے تھے تب دھونی ان کے کپتان تھے ۔اور اسی وجہ سے وہ (دھونی ہمیشہ)من میں ان کے کپتان رہیں گے ۔آئی سی سی نے دھونی کے کارناموں پر ان کے جنم دن (7جولائی)سے ایک دن پہلے ٹوئٹر پر ایک ویڈیو جاری کیا جس میں کوہلی نے یہ بات کہی ہے کہ ان کا کہنا ہے کہ دھونی باہر سے جیسے دکھائی پڑتے ہیں اندر سے وہ بالکل الگ ہیں ۔دھونی اس لئے بھی مھان ہیں کہ دباﺅ میں بھی صحیح فیصلہ لے سکتے ہیں ۔ان میں مشکل سے مشکل حالات میں بھی خود کو خاموش رکھنے کا غضب کا ہنر ہے اس لئے وہ مہان ہیں ۔ان سے کافی کچھ سیکھا جا سکتا ہے ۔

(انل نریندر)

09 جولائی 2019

ہیرن پانڈیا کیس میں سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا فیصلہ پلٹ دیا !

سرخیوں میںچھائے گجرات کے سابق وزیر اعلی ہیرن پانڈیا کے قتل میں ایک نیا موڑ آگیا ہے ۔سپریم کورٹ نے جب اس معاملہ میں مختلف جرائم کی دفعات کے تحت 12ملزمان کو قصور وار ٹھہرائے جانے کے نچلی عدالت کے حکم کو بحال کرتے ہوئے کہا کہ قتل کے الزام سے 9ملزمان کو گجرات ہائی کورٹ کے ذریعہ بری کیا جانا بے دلیل اور غلط موقوف پر مبنی تھا سپریم کورٹ نے 2003میں وزیر داخلہ رہے ہیرن پانڈے کے قتل معاملے میں 9لوگوں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے واضح ہوکہ نچلی عدالت نے معاملے میں 12لوگوں کو قصوروار ٹھہراکر ان میں سے 9کو عمر قید باقی قصور واروں کو پانچ سے سات سالوں کی سز ا سنائی گئی تھی ۔جسٹس ارون مشرا کی رہنمائی والی دونفری بنچ نے معاملے میں ہائی کورٹ کے 2011کے اس حکم کو درکنا ر رکردیا جس میں ملزمان کے قتل کے الزام سے بری کیا گیا تھا سی بی آئی اور ریاستی حکومت نے فیصلہ کو بڑی عدالت میں چنوتی دی تھی اس نے جنوری میں اپیل پر اپنا فیصلہ محفو ض رکھ لیا تھا وہیں معاملے کی دوبارہ جانچ کرانے کی مانگ والی ایک مفا د عامہ کی عرضی کو خارج کرتے ہوئے غیر سرکار انجمن سینٹر فارپبلک لیٹگشن پر 50ہزار کا جرمانہ بھی لگا یا اور عدالت نے صاف کیا کہ اس معاملہ میں کسی طرح کی عرضی پر غور نہیں کیا جائے گا بتادیں ہیرن پانڈیا اس وقت گجرات سرکار میں وزیر داخلہ تھے ۔26مارچ 2003کو احمد آبادمیں ایک باغیچہ میں سیر کے دوران پانڈیہ کو گولی ماردی تھی سی بی آئی کے مطابق ان کا قتل گجرات دنگوں کا بدلہ لینے کے لئے کیا گیا تھا ۔پانڈےہ سے پہلے ملزمان نے 11مارچ 2003کو وی ایچ پی کے نیتا جگدیش تیواری کوقتل کرنے کی کوشش کی تھی معاملہ میں اصغر علی محمد عرف پرویز ،عبدالقیوم شیخ ،پرویز خان عرف اطہر پرویز ،محمد فاروق ،شاہنواز گاندھی ،کلیم احمد عرف کلیم اللہ ،ریحان پتھروالا ،ریاض اور انیس وغیرہ وغیرہ کو قصور وار قرار دیا تھا ۔خصوصی عدالت نے 2007میں اپنے فیصلہ میں پوٹا قانون کے تحت سبھی 12ملزمان کو قصور ورا ٹھہراتے ہوئے انہیں عمر قید کی سزا سنائی تھی ۔

(انل نریندر)

کرناٹک بحران سے کمل کھلنے کی امید !

کرناٹک میں جو کچھ بھی ہورہا ہے اس پر شاید ہی کسی کو تعجب ہو ۔دراصل 2018میں کرناٹک اسمبلی چناو ¿ نتائج کے بعد بی جے پی کور وکنے کے لئے ڈرامائی واقعے کے درمیان جے ڈی ایس اور کانگریس نے مل کر بھلے ہی سر کار بنالی تھی لیکن ایک تو دونوں پارٹیوں کے درمیان جو کیمسٹری ہونی چاہئے تھی وہ کبھی نہیں رہی دوسرے یہ کسی سے پوشیدہ نہیں تھا کہ بی جے پی اس سر کار کو زیادہ چلنے نہیں دے گی ۔خود وزیر اعلی کمار سوامی کھے طور پر بے میل اتحاد کی بات تسلیم کرچکے ہیں کئی کانگریس ممبران اسمبلی مسلسل اس اتحاد کو لیکر ناراضگی ظاہر کرچکے تھے ۔ان آپسی لوک سبھی چناو ¿ میں اتحاد کی ضرورت کے بعد کہہ کر دونوں پارٹیاں اتحاد کے بچانے میں کامیاب ہوگئی تھی ۔لیکن لوک سبھی چناو ¿ میں بی جے پی نے ریاست میںکی 28میں سے 26سیٹیں جیت کر اتحاد میں آخری کیل ٹھوک دی ۔کانگریس جے ڈی ایس دونوں ایک دوسرے کو اس اتحاد کی بڑی کمزوری بتانے لگے ۔اسکے علاوہ کانگریس کے اند ر لیڈر شپ بحران اور خیمے بازی کا بھی اثر صاف دکھنے لگا ہے ۔سابق کانگریس وزیر اعلی سدارمیا گروپ اس اتحاد کی صاف مخالفت میں تھا وہیں مالکا ارجن کھڑگے حمایت میںتھے حکمراں جے ڈی ایس اور کانگریس کے 11ممبران اسمبلی جس طرح استعفی دیکر ریاست سے باہر نکل گئے تھے اس سے یہ صاف ہے کہ وہ اپنا فیصلہ آسانی سے بدلنے والے نہیں ہیں ۔کمار سوامی کی قیادت والی اتحادی سرکار اقلیت میں آتی نظر آرہی ہے اور ایک آزاد ممبر اسمبلی وزیر کے استعفے سے ریاست میں بحران گہرا ہوگیا ہے ۔اوریہ دیکھتے ہوئے بھاجپا نے جس طرح سے اپنی سرگرمی بڑھادی ہے اس کا یہ نتیجہ نکالنا مشکل نہیں کہ یہ استعفے کیوں دیئے گئے ہیں ؟اور کس کے اکسانے پر دیئے گئے ہیں ؟کرناٹک اسمبلی میں 224سیٹیں ہیں اس میں جنتادل ایس کے 37اور کانگریس کے پاس 78بسپا کے پا ایک اور دو آزاد کمار سوامی حکومت کو حمایت دے رہے ہیں وہیں بھاجپا کے پاس 105ممبراسمبلی ہیں ۔چار ناراض ممبران اسمبلی نے یہ بھی شرط رکھی ہے کہ اگر سدا رمیاوزیر اعلی بنتے ہیں تو وہ اپنا استعفی واپس لے لیں گے وہیں اسپیکر رمیش کمار نے کہا کہ ہاو ¿س میں طاقت آزمائی کا امتحان ہوگا اور اس میں طے ہوگا کہ سرکار گرے گی یا نہیں اس کا فیصلہ اسمبلی میں ہی ہوگا ۔بھاجپانے سنیچر کے روز کرناٹک کے حالات کے پیش نظر کہا ہے کہ وہ ریاست میں سرکار بنانے کے لئے تیار ہے اور اگلی وزیر اعلی بی ایس یدی یروپا ہونگے ۔بیشک اس وقت بھلے ہی بی جے پی سرکار بنالے لیکن اس کی مضبوطی پر سوالیہ نشان لگارہے گا بہتر متبادل یہ کہ کرناٹک اسمبلی چناو ¿ تھوڑی دیر بعد پھر کرائی جائےں۔

(انل نریندر)

08 جولائی 2019

تشویشناک :8سے 11 سال کے بچے نشے کی لت کے شکار

راجدھانی دہلی کے مونسپل کارپوریشن کے اسکولوں میں عموماََ سہولیتا کی کمی اور عدم تحفظ کے معاملے تو اکثر سامنے آتے ہی رہتے ہیں لیکن اس مرتبہ جو معاملہ سامنے آیا ہے اس نے پورے سسٹم اور طریقہ کار پر ہی سوالیہ نشان لگا دیا ہے ۔اگر انتظامیہ کے لئے نہیں بلکہ ماں باپ اور پورے سماج کے لئے زبردست تشویش کا موضوع ہونا چاہیے صر ف ایسٹ مونسپل کارپوریش کے اسکول کی بات کریں تویہاں پر زیر تعلیم ہر ساتواں بچہ نشے کا عادی ہو چکا ہے یہ رپورٹ کسی غیر سرکار ادارے نے نہیں بلکہ خود ایم سی ڈی نے تیار کرائی ہے ۔ایسے میں اسے غلط ٹھہرانے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا ای ڈی ایم سی نے اپنی رپورٹ پیش بھی کر دی ہے ۔کارپوریشن اسکول میں پڑھنے والے بچے صرف تمباکو ہی نہیں بلکہ افیم تک استعمال کرتے ہیں اگر رپورٹ پر نظر ڈالیں تو ای ڈی ایم سی کے کل 369اسکولوں میں ایک لاکھ 71ہزار 449بچے پڑھتے ہیں ان میں 75037بچے منشیات کا استعمال کرتے ہیں جبکہ 12627بچے با قاعدہ طور سے نشہ لیتے ہیں ان میں سے 8182طالبعلم چھالی کے ساتھ افیم ملا کر کھاتے پائے گئے ۔وہیں 62613طلباﺅ تمباکو کھاتے ملے اور 1410طلباءبیڑی سیگریٹ پیتے پائے گئے اس کے علاوہ 231بچے شراب پیتے پائے گئے تو 191پیٹرول اور سلوچن (صنعتی گوند )اور سنرج سے نشہ کرتے ملے سروے ٹیم کی قیادت کرنے والے مشرقی دہلی مونسپل کارپوریشن کے ڈپٹی ہیلتھ افسر ڈاکٹر اجے لیکھی نے کہا کہ اس سروے کے دوران ہم نے کئی خطرناک چیزیں دیکھیں ان میں کافی مقدار میں منشیاتی گولیاں اور لکویڈ رقیق دوا بچوں کے بیگ اور اسکول میں پایا جانا چونکانے والی بات تھی سال 2012میں ہائی کورٹ نے دہلی کے مونسپل کارپوریشنوں کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنے اسکول میں زیر تعلیم بچوں کی کونسلنگ کرائے چونکہ ان دنوں زیادہ تر بچے نشے کے عادی ہو رہے ہیں اور اسی پر نوٹس لیتے ہوئے ای ڈی ایم سی اپنے یہاں 80ہیلتھ کونسلروں کی بھرتی کی تھی یہ سبھی بچوں کو نشے سے دور رہنے کے لئے ان کو صلاح مشورہ دے رہے ہیں یہ معاملہ جمعرات کو راجیہ سبھا میں بھی اُٹھا تھا ۔توجہ دلاﺅ تحریک پر بحث کا جواب دیتے ہوئے سماجی و انصاف و اختیارات وزیر تھاور چند گہلوت نے بتایا کہ بچوں و نو عمر لڑکوں کو نشے سے دور رکھنے کے لئے سرکار ایک اسیکم تیار کرئے گی اس کے لئے دس شہروں کے اسکول اور کالجوں میں طلباءکے درمیان نشے کی عادت پر سروے کرایا جا رہا ہے اس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوںنے بتایا کہ دیش میں سولہ کروڑ لوگ شراپ پیتے ہیں اور گہلوت کا کہنا تھا کہ دہلی ،شری نگر،چنڈی گڑھ ،لکھنﺅ ،رانچی ،ممبئی ،بینگلور،حیدرآباد،اور امفال اور ڈیبرو گڑھ شامل ہیں ۔سروے کی رپورٹ اس سال نومبر تک مل جائے گی سرکار جو کرئے گی سو کرئے گی لیکن اسکول کے ٹیچروں اور ماں باپ کو اپنے بچوں پر دھیان رکھنا چاہیے دیکھنا چاہیے کہ وہ کیوں نشے کو لے رہے ہیں اور انہیں اس سے کیسے روکا جائے ۔

(انل نریندر)

خطاب جیتنے سے بس دو قدم دور ٹیم انڈیا

بنگلہ دیش کو ولڈ کپ مقابلہ میں 28رن سے ہرا کر ٹیم انڈیا سیمی فائنل میں پہنچ گئی ہے ۔اب وہ خطاب سے محض دو قدم دور ہے ۔وراٹ کوہلی کی ٹیم سے پورا دیش امید لگائے بیٹھا ہے وہ تیسری بار بھارت کو ولڈ کپ ونر بنائیں گے ۔روہت ،وراٹ بلے سے دھوم مچا رہے ہیں تو بمراہ کی یارکر بھی کما ل کر رہی ہے ۔اس کے باوجود کئی چنوتیاں بھی ہیں جو بھارت کے خطابی سفر کو مشکل بنا سکتی ہیں ۔یعنی منزل تک پہنچنے کے لئے ٹیم انڈیا کو اپنی خامیاں دور کرنی ہوں گی اگر ہم اوپنگ کی بات کریں تو بے شک کے ایل راہل نے پچھلے میچ میں ہاف سینچری بنائی ہیں لیکن ابھی بھی ان میں خود اعتمادی کی کمی دکھائی دے رہی ہے ۔چار سے سات نمبر پر بلے بازی کرتے ہوئے کوئی ہندوستانی سنچری نہیں بنا پایا ہے اس سال جنوری سے جولائی تک 90رن سب سے زیادہ سکور رہا جو امباتی رائیڈو نے فروری میں نیوزی لینڈ کے خلاف بنایا تھا بد قسمتی سے رائیڈو کو ٹیم میں نہیں چنا گیا اور اب انہوںنے دکھی ہو کر کرکٹ سے ریٹائر ہونے کا اعلان کر دیا ہے ۔دس سنچریاں لگ چکی ہیں ایک سے تین نمبر کے بلے باز اس سال اب تک ٹیم انڈیا کی بلے بازی کا پورا دارومدار پہلے بلے بازوں پر رہتا ہے اس کے بعد سلسلہ ابھی مضبوط نہیں ہے خاص کر سابق کپتان اور سب سے عمدہ فنیشر مانے جانے والے مہندر سنگھ دھونی کا اپنے انداز میں نہیں کھیل پانا پریشانی کی بات ضرور ہے ایسا امکان ہے کہ ٹیم انڈیا کا موجودہ ولڈ کپ میں آخری میچ میں مہندر سنگھ دھونی کے لئے بھی آخری مقابلہ ہو سکتا ہے ۔اگر ٹیم انڈیا فائنل کے لئے کوالیفائی کرتی ہے اور لاڈس میں 14جولائی ولڈ کپ میں کامیاب ہوتی ہے تو ٹیم انڈیا کے مہان کرکروں میں سے ایک کے لئے یہ مثالی الوداعی ہوگی۔آخر چوتھے نمبر پر کون کھیلے گا یہ سوال بنا ہوا ہے ۔رشب پنتھ اچھا کھیل کھیلتے ہیں او ر تیزی سے رن بناتے ہیں لیکن لمبی پاری نہیں کھیل پاتے کیدار جادھو ،وجے شنکر،جہاں تک گیند بازی کا سوال ہے تو ہمارے تیز گیند بازوں نے قہر ڈھا رکھا ہے جسپریت بمراہ ،عبدالسمیع اور بھونیشور اس وقت سب سے اچھی تکونی جوڑی میں سے ایک ہیں ۔بمراہ کی یکدم یارکر اور گیند کی اسپیڈ اور صحیح نشانہ بہت کام آرہا ہے چہل ،کلدیپ دونوں اسپینروں نے اس ورلڈ کپ میں اچھی پرفارمینس دی ہے حالانکہ ایک میچ میں کلدیپ مہنگے ثابت ہوئے ٹیم انڈیا میں چھٹے بالر کی کمی کھلتی ہے ۔انگلینڈ کے خلاف یوجندر چہل ،اور محمد سمیع اور کلدیپ کے مہنگے ثابت ہونے کے باوجود بھارت نے چھٹے گیند باز سے بالنگ نہیں کرائی ۔بنگلہ دیش کے خلاف سمیع کی بالکل سٹیک گیند بازی نہیں ہو رہی تھی تو اگر چھٹا گیند باز ہوتا تو بہتر رہتا مجھے یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ رویندر جڈیجا کو ٹیم میں کیوں شامل نہیں کیا جا رہا ہے ۔اپنی فلیڈنگ سے بچا لیتے ہیں اسپن بالنگ کر لیتے ہیں اوربیٹنگ بھی کر لیتے ہیں انہیں ٹیم میں شامل کرنے بلے بازی اور گیند بازی دونوں کو ہی مضبوطی ملتی اب کیونکہ واپسی کا کوئی موقعہ نہیں ملے گا اس لئے کمزور کڑی بن چکی مدھیہ کرم کے مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنے کی سخت ضرورت ہے ۔ٹیم انڈیا میں سب سے اچھا اور ٹاپ نمبر ،ٹاپ آرڈر کی گیند بازی ،عمدہ فیلڈنگ ،ٹیم کے پاس سب کچھ ہے ولڈ کپ جیتنے کے لئے کل ملا کر خطاب جیتنے کے مضبوط دعویدار وراٹ کوہلی کی ٹیم انڈیا میں گہرائی اور کوالٹی دونوں ہیں بس کچھ نقطوں کا ازالہ کر ٹیم انڈیا تیسری بار تاریخ رقم کر سکتی ہے ۔

(انل نریندر)