Translater

31 دسمبر 2013

راہل کا بیان! ہم تو ڈوبیں گے ہی ساتھ کانگریس کو بھی ڈوبادیں گے!

کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے لگتا ہے کہ نئے اوتار کے روپ میں جنم لیا ہے۔ راہل گاندھی کے نئے اوتار کو نہ تو ہم سمجھ سکے ہیں اور نہ ہی پارٹی کے کئی سینئر نیتا۔ وہ کب کیا کہہ دیں ،کردیں اس سے پارٹی میں ہڑکم مچا ہوا ہے۔ راہل گاندھی کی برشٹاچارکے داغ سے خراب ہوچکی کانگریس کی ساکھ کو نکھارنے کی اسے کوشش کہاجائے یا پھر جنتا کی نظر پہچاننے کی حکمت عملی سمجھا جائے۔سزا یافتہ سانسدوں اور ودھایکوں کو بچانے کیلئے کیندر کے ایک آدیش کو بکواس و پھاڑنے لائق بتا کر سرکار کا فیصلہ بدلوا چکے راہل نے اس بار مہاراشٹر سرکارکو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ مہاراشٹر کے مکھیہ منتری پرتھوی راج چوہان کی موجودگی میں شکروار کو راہل نے کہا کہ آدرش گھوٹالے کی جانچ رپورٹ خارج کرنے کے فیصلے پر راجیہ سرکار کو دوبارہ غور کرنا چاہئے۔ کانگریسی حکومت والی ایک درجن ریاستوں کی بیٹھک کے بعد راہل گاندھی نے یہ ٹپنی کی۔ رپورٹ میں کئی سابق مکھیہ منتری و دیگر پھنسے ہوئے ہیں۔مہاراشٹر سرکار نے چوہان کی سربراہی میں کیبنٹ کی بیٹھک میں اسے سب کی منظوری سے رپورٹ کو خارج کیاگیا۔ راہل کی ٹپنی کے بعد اسہمت محسوس کررہے چوہان نے کہا کہ اپنے منتری منڈل سہیوگیوں سے اس بارے میں بات کریں گے۔ 
کیا راہل کو یہ سمجھ نہیں آرہا کہ ان کے اس اسٹنٹ سے اثر پارٹی کے بڑے نیتا سشیل کمار شندے اور سابق مکھیہ منتری اشوک چوہان پر بھی پڑ سکتا ہے۔ یہ دونوں مہاراشٹر کے مکھیہ منتری رہ چکے ہیں۔ دونوں نیتاؤں پر رپورٹ میں منفی ٹپنیاں ہیں۔آدرش جانچ سمیتی کی رپورٹ میں دونوں نیتاؤں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ شکروار کو اپنے سبھی مکھیہ منتریوں کی بیٹھک راہل نے خود اکیلے لیں جبکہ کانگریس ادھیکش سونیا گاندھی دہلی میں ہونے کے باوجود بیٹھک سے دور رہیں۔ آدرش جانچ سمیتی کی رپورٹ کو مہاراشٹر سرکار کے خارج کرنے کے فیصلے پر اعتراض جتایا اور دو ٹوک کہا کہ آدرش گھوٹالے میں کانگریس کی چوہان سرکار کے ملزم نیتاؤں کو نہیں بچا سکتی۔راہل کے غصے اور سخت انداز سے مکھیہ منتریوں اور سینئر پارٹی نیتاؤں میں ہڑکم مچ گیا ہے۔پارٹی کے اندر دو طرح کی سوچ چل رہی ہے۔ ایک سوچ یہ کہ کانگریس نائب صدر ایک طرف لوکپال بل کو اپنی کامیابیاں بتانا چاہ رہے ہیں وہیں دوسری طرف وپکش ان پر ملزموں کو بچانے کا الزام لگا رہا ہے،یہ کیسے چلے گا۔راہل گاندھی کی منشا کو دھیان میں رکھتے ہوئے اگر آدرش گھوٹالے کی جانچ رپورٹ نامنظور کرنے کا ٹھیکرا اگر مکھیہ منتری چوہان پر پھوٹا تو اس کا اثر ہونا لازمی ہے۔ اگر جانچ رپورٹ کے حساب سے کارروائی شروع ہوئی تو مہاراشٹر سے دہلی تک کانگریس کو اس کی آنچ میں جھلسنا پڑے گا۔مہاراشٹر کے مسٹر کلین کہے جانے والے مکھیہ منتری اشوک چوہان کی مصیبتیں اور کانگریس کی مصیبتیں کئی گنا بڑھ جائیں گی۔ راہل کے دہلی میں دکھائے تیوروں کے فوراً بعد مہاراشٹر بھاجپا کے جنرل سکریٹری ونود تاوڑے نے چوہان کے استعفے کی مانگ شروع کردی۔ کانگریس کے اندر ایک طبقے نے تو یہاں تک کہنا شروع کردیا کہ ’راہل کو ہٹاؤ ۔کانگریس بچاؤ‘۔ راہل گاندھی کے ’آپ‘ آدمی پارٹی کے سمرتھن کے حکم نامے کو تو کھلی چنوتی دہلی پردیش کانگریس کے نیتاؤں نے دی ہے جس سے پردیش کے نیتا دبے سر میں راہل گاندھی کے خلاف کامیاب ہوئے ہیں۔ کانگریس کے ایک سینئر ادھیکاری نے یہ حیرت انگیز خلاصہ کیا ہے کہ پارٹی سنگٹھن اور سرکار میں تین ایک جیسے ستا کیندر ادھیکش سونیا گاندھی ،نائب صدر راہل گاندھی اور پردھان منتری ڈاکٹر منموہن سنگھ ہونے سے آپسی نااتفاقی کی حالت پیدا ہوگئی ہے۔ یووراج راہل گاندھی کے غیر سیاسی نورتنوں کے فیصلے پارٹی کی جڑوں میں دیمک کا کام کررہے ہیں۔ اکھل بھارتیہ کانگریس کمیٹی کے ذرائع نے راہل گاندھی کو ہٹانے کے کھلے خط کے سماچار کی مخالفت کی ہے لیکن بھروسے مند ذرائع کے مطابق حال ہی میں ختم ہوئے راجستھان ،دہلی، آندھرا پردیش، چھتیس گڑھ ودھان سبھاؤں میں کانگریس کی بری طرح ہار کے لئے پارٹی کارڈر راہل گاندھی کو ہی ذمہ دار ٹھہرارہے ہیں۔یہ طبقہ کہہ رہا ہے کہ ’فی الحال دبے لفظوں میں‘ راہل گاندھی ہٹاؤ ۔کانگریس بچاؤ۔ اگر راہل اینڈ پارٹی کا رویہ ایسا ہی رہا تو یہ کانگریس پارٹی کو لے ڈوبیں گے۔
(انل نریندر)

اور اب راحت کیمپوں پر چلائے بلڈوزر!

مظفر نگر فساد اور غدر کے بعد پیدا ہوئے حالات نے اترپردیش کی سماجوادی سرکار کے ناک میں دم کررکھا ہے۔ ہمیں نہیں لگتا کہ اکھلیش سرکار اس موجودہ حالات سے نمٹنے میں کامیاب دکھائی دے رہی ہے۔ اس سرکار کا نہ تو اپنے کاریکرتاؤں پر کوئی کنٹرول ہے نہ منتریوں پر اور نہ ہی ادھیکاریوں پر۔ غیر سیاسی حالت بنی ہوئی ہے۔اگر ہم بات کریں مظفر نگر اور شاملی کے دنگا راحت کیمپوں کی بدانتظامی کی تو ان کیمپوں میں بچوں کی ٹھنڈ سے موت ہورہی ہے۔ ان کے ٹینکوں پر بلڈوزر چلائے جارہے ہیں۔ ان کیمپوں میں ٹھنڈ سے 74 بچوں کی موت ہوچکی ہے لیکن یوپی کے پرنسپل سکریٹری کا کہنا ہے کہ ٹھنڈ سے کوئی کبھی نہیں مرتا۔ اگر ایسا ہوتا تو سائبریا میں کوئی زندہ نہیں بچتا جو دنیا کا سب سے ٹھنڈا علاقہ ہے۔ محکمہ داخلہ کے پرنسپل سکریٹری اے ۔ کے گپتا جمعرات کو راحت کیمپوں میں بچوں کی موت سے متعلق سمیتی کی رپورٹ کی جانکاری دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ٹھنڈ سے کوئی نہیں مرتا۔ رپورٹ میں کچھ موتوں کی وجہ فوڈ پوائزنگ اور نمونیہ بتائی گئی ہے۔ نمونیہ گپتا صاحب ٹھنڈ سے ہوتا ہے۔ اس سے پہلے سپا پرمکھ ملائم سنگھ یادو نے کہا تھا کہ کیمپوں میں کوئی متاثر نہیں رہ رہا ہے جو ہیں بھاجپا اور کانگریس کے لوگ ہیں۔وہ سازش کے تحت وہاں ٹکے ہوئے ہیں حالانکہ پردیش کے ایک سینئر ادھیکاری نے بتایا کہ راحت کیمپوں میں اب بھی4785 لوگ رہ رہے ہیں۔ برہانہ میں واقع راحت کیمپ میں دیش بھر میں پردیش سرکار کی ہورہی بدنامی کے بیچ پرشاسن نے شکروار کو یہاں رہ رہے لوگوں پر خاصا دباؤ بنایا۔ اس پر یہاں رہ رہے 17 پریواروں کے قریب 100 لوگوں نے اپنے ٹینٹ ہٹا لئے۔ ٹینٹ لگی جگہوں کو بلڈوزروں سے برابرکردیا گیا۔ اس دوران متاثرہ پریواروں نے ورودھ بھی کیا لیکن پرشاسن کے سخت رویئے کے آگے وہ بے اثر رہا۔شاہ پور قصبے کے پاس تمبو میں رہ رہے 10 پریوار بھی تمبو اکھاڑ کر چلے گئے۔ ان سبھی کو راحت معاوضہ مل چکا ہے۔ مظفر نگر و شاملی کے راحت کیمپوں میں رہ رہے لوگوں کو پرشاسن نے صاف کردیا ہے کہ دوہرے معاوضے کی مانگ قابل قبول نہیں ہے۔ مکھیہ سچیو جاوید عثمانی نے کہا کہ انہیں رقم یا زمین نہیں دی جائے گی۔ انہیں واپس بسانے میں سرکار جو مدد کرسکتی ہے وہ کرے گی۔ جو لوگ ابھی کیمپ میں رہنا چاہتے ہیں انہیں سبھی سویدھائیں پہلے کی طرح ہی مہیا کرائی جائیں گی۔ مکھیہ سچیو نے راحت کیمپوں میں رہ رہے لوگوں کو ان کے گھر واپس بسانے کے لئے تیار کاریہ یوجنا پر بلائی گئی بیٹھک کی ادھیکشتا کرنے کے بعد میٹنگ سینٹر میں سرکار کا پکش رکھا۔ انہوں نے کہا کہ لوگ روپے یا زمین ملنے کی امید میں نہ رہیں۔ زمین نہیں مل پائے گی۔ مکھیہ سچیو نے کہا کہ سمبندھت ضلعوں کے ادھیکاریوں کو ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ لوگوں کو واپس گھر جانے کے لئے راضی کریں اور انہیں یقین دلائیں کے ان کی سرکشا و بہتری کے لئے سرکار کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کئی خاندان ایسے بھی ہیں جن کے مکھیہ پانچ لاکھ روپے کا معاوضہ لینے کے بعد کیمپ سے چلے گئے ہیں لیکن ان کے پتر کیمپ کو یہ کہتے ہوئے چھوڑنے سے انکارکررہے ہیں کہ وہ بالغ اور اپنے پریوار کے مکھیہ ہیں اس لئے انہیں بھی معاوضے کی رقم دی جائے۔ اس دوران پایا گیا کہ زیادہ تر لوگ ایسے ہیں جنہیں بھڑکادیا گیا ہے کہ کیمپ باغ باغیچے کی زمین پر بنے ہیں اور اگر وہ کیمپوں میں ہی رہیں گے تو وہاں کی زمین سرکار ان کے نام کردے گی۔ 
(انل نریندر)

28 دسمبر 2013

بھارت سرکار کے دیویانی معاملے پر موقف سے بوکھلایا امریکہ!

امریکہ میں ہندوستانی سفارتکار دیویانی کھوبراگڑے کے معاملے میں بھارت سرکار نے جس طرح کی کڑک مزاجی دکھائی ہے اس کے مثبت نتائج دوسرے ملکوں سے بھی سامنے آنے لگے ہیں اور بھارت ہی نہیں دنیا کے کئی ملکوں میں بحث شروع ہوئی ہے کہ آخر کب تک دنیا امریکہ کی دادا گیری برداشت کرے گی۔ پڑوسی ملک پاکستان سے بھی بھارت کے موقف کو حمایت مل رہی ہے۔ ’دی نیشن‘ اخبار نے اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ اس پر کس کو شبہ ہوگا؟ یہ مانا جاتا ہے کہ اس کی حکومت میں دنیا کے سب سے ذہین اور وسیع دماغ والے شخص شامل ہوں گے لیکن ہندوستان کے قونصل خانے کی سینئر افسر دیویانی کی گرفتاری اور ان کے ساتھ کی گئی بدسلوکی امریکی انتظامیہ کی سیاسی سوجھ بوجھ کس میں شک پیدا کرسکتی ہے۔ آخر یہ نوبت آئی کیسے؟ یہ پورا ڈرامہ جو ہوا اس سے تلخی پیدا ہوئی ہے اسے سوجھ بوجھ سے ٹالا جاسکتا تھا۔ پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ دیویانی کی گرفتاری میں شامل رہے امریکی وکیل مارشل اور ان کی گرفتاری پر دستخط کرنے والے محکمہ خارجہ کے حکام نے مبینہ طور پر گھریلو جرائم کو بین الاقوامی رنگ دے دیا ہے۔ انہوں نے امریکہ کو لاہور میں امریکی سفارتخانوں میں کام کررہے ریمنڈ ڈیوس معاملے کی یاد دلائی۔ پچھلے دو سال پاکستان شہریوں کے قتل کرنے والے امریکی سفارتکار ریمنڈ ڈیوس کے بارے میں بتایا کہ ہم نے ڈیوس کے معاملے میں پاکستان اور امریکہ کے رشتوں کو بنیاد بنایا تھا جبکہ یہ خون کا معاملہ تھا جو ایک سنگین جرم تھا۔ مجھے بھی کسی عام شخص کی طرح اس بات پر غصہ آیا تھا کہ ایک شخص نے بھرے بازار میں دو لوگوں کو مار ڈالا تھا جبکہ ان کی جان کو کوئی خطرہ نہیں تھا۔ بلا شبہ ڈیوس کے خلاف قانون کے تحت کارروائی ہونی چاہئے تھی۔ اس کارروائی سے امریکہ پاکستان کے تعلقات متاثر ہوسکتے تھے۔ دیویانی کے معاملے میں سخت ہوئی یوپی اے سرکار نے اسی سلسلے کو بڑھاتے ہوئے بحرین کے ایک سفارتکار کے خلاف اپنی ممبئی ہاؤسنگ سوسائٹی کی ایک خاتون منیجر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کو لیکر ایک معاملہ درج کرایا۔ حالانکہ انہیں سفارتکار کا اسپیشل افسر کے ہوتے ہوئے گرفتار نہیں کیا گیا۔ یہ دیویانی معاملے کے بعد آئے سخت رخ کا نتیجہ ہے۔ ادھر دیویانی کے والد اتم کھوبراگڑے نے الزام لگایا کہ ان کی بیٹی سابق نوکرانی سنگیتا رچرڈ امریکی خفیہ کی ایجنٹ ہوسکتی ہے۔ دیویانی کو تو بلی کا بکرا بنایا جارہا ہے۔ امریکہ کے دوہرے پیمانوں کی ایک مثال ہے سعودی عرب اور روس کے سفارتکاروں کی غلطیوں پر آنکھیں بند رکھنا۔سعودی فوجی اتاشی کے واشنگٹن میں واقع گھر سے ظلم و زیادتی سے تنگ فلپین کی دو عورتوں کو بچایا گیا تھا جبکہ روس کے سابق موجودہ49 سفارتکاروں اور ان کے رشتے داروں پرامریکی ہیلتھ اسکیم میں 15 لاکھ ڈالر کی دھوکہ دھڑی کے معاملے کا الزام لگا تھا اس میں11 تو اب بھی امریکہ میں تعینات ہیں۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میری ہرش اس سوال کا جواب نہیں دے پائیں کے دیویانی کے تئیں سختی برتنے والا امریکی انتظامیہ سعودی عرب اور روس کے سفارتکاروں کی غلطیوں پر کیوں آنکھیں بند کئے ہوئے ہے؟ ادھر نئی دہلی میں بھارت ۔ امریکی کانگریس کی مخالفت کے باوجود امریکی سفارتخانے کے آس پاس پھر سے حفاظت کے سخت انتظام کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ غور طلب ہے گذشتہ17 دسمبر کو امریکی سفارتخانے کے گیٹ اور سڑک سے سکیورٹی ہٹانے کے بعد پہلی بار امریکی کانگریس نے تلخ ناراضگی دکھائی تھی۔ بھارت نے صاف اشارہ دیا ہے کہ دیویانی کی گرفتاری کے معاملے میں وہ قابل قبول ہل نہ نکلنے تک اس کا امریکی سفارتخانے کے سامنے سکیورٹی تعینات رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ بھارت اس معاملے میں اپنے رخ پر قائم ہے۔ خبر اب یہ بھی ہے کہ امریکی سفارتخانے اور امریکی قونصل خانے اور اسکولوں و دیگر اداروں میں کام کرنے والے دیش کے لوگوں کو ملنے والی سہولیات و تنخواہ کی جانکاری مانگ کر امریکہ کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھنے والا قدم ہے۔ امریکہ اپنے ملازمین کو ان کی واجب تنخواہ کا آدھا بھی نہیں دیتا۔ سفارتکاروں کے یہاں کام کرنے والے گھریلو نوکروں کا تو امریکی سفارتخانے کے پاس کوئی ریکارڈ بھی نہیں ہے۔ بھارت کے پاس ان ملازمین کو رکھنے نکالنے کے دوران وزارت محنت قانون کی خلاف ورزی کے کئی ثبوت ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ امریکہ جہاں اس بارے میں جانکاری دستیاب کرانے میں زیادہ وقت مانگ کر معاملے کو ٹالنے کی کوشش میں ہے۔ آج پورا دیش اس اشو پر مرکزی سرکار کے ساتھ ہے۔ آپ بھلے ہی اڑے رہو اس کا فائدہ اسی جگہ نہیں کئی اور جگہوں پر بھی ملے گا۔ جھکانے والا چاہئے دنیا جھکتی ہے۔
(انل نریندر)

کانگریس مخالف لہر پر ٹکی ہیں بھاجپا کی امیدیں!

چار ریاستوں میں کامیابی سے گد گد بھارتیہ جنتا پارٹی اب لوک سبھا چناؤ سے پہلے کانگریس مخالف لہر کا پورا فائدہ اٹھانے میں لگ گئی ہے۔ بھاجپا کی کوشش ہوگی کہ اس لہر میں کوئی تقسیم نہ ہو۔ ’مودی فار پی ایم‘ کے نعرے کے ساتھ بھاجپا نے اپنے مشن2014 کا روڈ میپ تیار کرلیا ہے۔ عام چناؤ میں اب محض 4 مہینے باقی ہیں اور پارٹی نے 60 دن تیاری اور 60 دن پبلسٹی کے لئے طے کئے ہیں۔ نریندر مودی نے پارٹی کے وزراء اعلی مرکزی عہدیدار اور پردیش پردھانوں کو جیت کے لئے فارمولہ بتادیا ہے۔ پچھلے عام چناؤ میں کانگریس کو 206 سیٹیں بھاجپا کو116 سیٹیں ملی تھیں۔ کانگریس جن سیٹوں پر جیتی تھی ان میں زیادہ تر بھاجپا نمبر دو پر تھی۔ ایسی سیٹوں پر بھاجپا اور کانگریس میں ووٹوں کا فرق 8-9 لاکھ کا تھا۔ گذشتہ پانچ سال میں ایسے حلقوں میں 12 لاکھ نئے ووٹر جڑ گئے ہیں۔ مرکز میں کانگریس کے 10 سالہ عہد کے خلاف بھاجپا ایک چارج شیٹ لائے گی۔ پارٹی نے خود اپنے دم خم پر 272 لوک سبھا سیٹیں جیتنے کا نشانہ رکھا ہے۔ دیش بھر کی 400 لوک سبھا سیٹوں پر پارٹی اپنے امیدوار چننے سے پہلے ریلیاں کرے گی۔ پارٹی نے جن سنگھ کی روایت کو پھر زندہ کرتے ہوئے دیش بھر میں 10 کروڑ گھروں تک جاکر ایک ووٹ اور ایک نوٹ ( 10 روپے سے لیکر1 ہزارروپے) کے ذریعے چناوی چندہ جمع کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ دہلی میں ہوئی اس اہم میٹنگ کے بعد بھاجپا کے سکریٹری جنرل اننت کمار نے بتایا یہ کمپین ویسی ہی ہوگی جیسی1977 میں جے پرکاش نارائن کی لیڈر شپ میں چلائی گئی تھی۔ تب بھی مرکزی سرکار کے خلاف ایک مکمل انقلاب کا نعرہ دیتے ہوئے مہم چلائی گئی تھی۔ دہلی اسمبلی چناؤ کے دوران عام آدمی پارٹی نے جنتا سے ہی چندہ مانگا تھا۔ اس طرح اس نے عام ووٹروں کو اپنی مہم کا حصہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ بھاجپا کا بھی یہ ہی ابھیان شروع ہوگا۔ اسے مودی کی بنائی ہوئی حکمت عملی مانا جارہا ہے۔ خیال رہے کانگریس کی پچھلی سرکار تقریباً12 کروڑ ووٹروں کی حمایت سے بنی تھی جبکہ بھاجپا8کروڑ ووٹروں کے ساتھ116 سیٹوں پر رک گئی تھی۔ غور طلب ہے جن سیٹوں پر بھاجپا اور کانگریس نمبر دو پر رہی ان سیٹوں پر بھاجپا کوتقریباً90 لاکھ سے کم ووٹ ملے تھے۔2014 کے عام چناؤ میں ’کانگریس مکت بھارت‘ کا نعرہ بلند کرنے والی بھاجپا نے نوجوان ووٹروں خاص کر پہلی بار اپنے ووٹ کا استعمال کرنے والے نوجوانوں کو جوڑنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی کے ذریعے جاری مشن272 کے مرکز میں نوجوان ووٹروں کو ہی رکھا گیا ہے۔ نوجوانوں کو لبھانے کے لئے پہلے تو پارٹی کے پی ایم امیدوار نریندر مودی نے پولنگ کو دیش کی مہم کے ساتھ جوڑتے ہوئے نوجوانوں کو راغب کرنے کی کوشش کی ہے۔ دوسری طرف انڈیا 272 ڈاٹ کام کے ذریعے سوشل میڈیا و سرگرم نوجوانوں کو پارٹی سے جوڑنے کی مہم چھیڑی ہے۔ دراصل دہلی میں عام آدمی پارٹی کے حق میں نوجوانوں کے ذریعے ردوبدل کو دیکھتے ہوئے بھاجپا کو اپنی پوری حکمت عملی پرغور کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ بھاجپا کو دیکھنا یہ بھی ہوگا کہ عہدہ سنبھالنے کے بعد اروند کیجریوال اینڈ پارٹی کی کارگذاری کیسی رہتی ہے۔ یہ کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ’آپ‘ پارٹی بھاجپا کو گھیرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی اور ان کے نشانے پر نریندر مودی ہیں۔
(انل نریندر)

27 دسمبر 2013

مظفر نگر میں دونوں فرقوں میں بے اعتمادی کی خلیج کو کیسے بھرا جائے؟

کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے جب ایتوار کو اترپردیش کے فساد متاثرہ مظفر نگر اور شاملی اضلاع میں لگے راحت کیمپوں اور دیہات کا اچانک دورہ کیا تو ان کا سامنا اس گنا پٹی میں فساد کے بعد فرقوں کے بیچ بنی گہری کھائی کی گہری حقیقت سے ہوا۔ ایک طرف ایک ساتھ رہنے کی منشا ہے تو دوسری طرف فرقوں کے بیچ بے اعتمادی کی کھائی۔ اسی کے پیش نظر راہل نے ثالثی کی ضرورت پر زوردیا۔ انہوں نے کیمپوں میں بیحد خراب حالات کو بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زوردیا۔کیمپوں میں مقیم افراد نے اس بات کی شکایت کی کہ گرم کپڑوں کے دستیاب نہ ہونے سے23 بچوں کی موت ہوگئی ہے۔ زیادہ تر راحت کیمپوں میں ا سی طرح کی شکایتیں تھیں۔ ایک متاثرہ لڑکے نے تلخی بھرے انداز میںیہ بات بتائی تو راہل نے پوچھا کہ وہاں کتنے دبنگ ہیں؟ گاندھی نے متاثرین سے اپیل کی وہ اپنے گھروں کو لوٹ جائیں۔ جب راہل نے بار بار ان سے پوچھا کیا کیا جانا چاہئے جس سے وہ اپنے گھروں کو لوٹ سکیں ، تو الکپور کے مفتی اسلم نے کہا کہ یہ تب تک ممکن نہیں ہے جب تک جن لوگوں نے فساد کو انجام دیا ہے انہیں سلاخوں کے پیچھے نہیں بھیجا جاتا۔ دنگوں کو انجام دینے والے اب بھی کھلے عام گھوم رہے ہیں۔ شاملی میں ایک خاتون نے کہا میں نے بیٹا کھودیا ہے اور انہوں نے میرا گھر جلا دیا ہے میں وہاں جاکر کیا کروں گی؟ ایک کیمپ میں فساد متاثرین نے راہل کے قافلے کو روکنے کی کوشش کی اور اپنے مسائل کا حل کرنے اور وعدے کی مانگ کی۔ متاثرین کے نمائندوں نے ریاستی سرکار کے حکم کی ایک کاپی اور وزیر اعلی اکھلیش یادو کو سونپا گیا خط سونپا جس میں انہوں نے کہا کہ فرقے فساد متاثرین میں زیادہ تر کھیتی مزدور ،اینٹ بھٹا مزدور افراد ہیں۔ انہوں نے اب اپنا ذریعہ معاش کھو دیا ہے۔ وزیر اعلی اکھلیش یادو کو کیرانا کے آل انڈیا اتحادالمسلمین کی سونپی گئی مانگوں کی فہرست میں پہلی مانگ تھی کہ شاملی، مظفر نگر اور باغ پت میں جاٹھ فرقے کے ملازمین اور پولیس افسران اور دیگر افسران کا دیگر ضلعوں میں تبادلہ کیا جانا چاہئے۔ کیمپ چلانے والے لوگ بے لوث ہیں انہیں مختلف علاقوں کے فرقوں کے لئے آنے والی اقتصادی مدد سے فائدہ ہوتا ہے۔ شاملی ضلع کانگریس پردھان ایوب جنگ نے الزام لگایا کہ زیادہ تر راحت کیمپوں کو سماج وادی پارٹی کے ممبر چلا رہے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ کیمپ میں رہنے والے لوگ اپنے گھروں کو لوٹیں۔ فساد میں زندہ بچے لوگوں نے کچھ عرصے پہلے مظفر نگر کی سڑکوں مظاہرہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ریاستی سرکار ان پر اس بات کا اعلان کرنے کے لئے دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ اپنے گاؤں نہیں لوٹیں گے اور پانچ لاکھ روپے کے معاوضے کے بدلے اپنی پراپرٹیوں کے دعوے کو چھوڑدیں۔جاٹھ اکثریتی کنکر کھیڑا میں دیہاتیوں نے راہل گاندھی سے شکایت کی کہ مسلم فساد متاثرین کو ریاستی سرکار معاوضہ دے رہی ہے وہیں ان کے فرقے کے لوگوں کو کچھ بھی نہیں دیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا ریاستی انتظامیہ دباؤ میں کارروائی کررہی ہے۔ ایک خاص فرقے کے خلاف کارروائی نہیں کی جارہی ہے ۔ اس فرقے کے لوگوں نے ہی پہلے تشدد کا سہارا لیا۔ ایک دیہاتی جنگ لال نے بتایا کے اس سے پہلے وہاں کبھی جھگڑے نہیں ہوئے۔ سوال اٹھتا ہے کہ اس مسئلے کا آخر حل کیسے نکلے گا؟
(انل نریندر)

کانگریسیو !اب پچتائے ہوت کیا ، جب چڑیا چگ گئی کھیت

دہلی اسمبلی چناؤ میں سب سے بری طرح ہاری کانگریس نے داؤ تو کھیلا تھاعام آدمی پارٹی کو سرکار میں پھنسانے کا لیکن اسے حمایت دے کر خود پھنس گئی ہے۔ جب ہوش آیا تو بہت دیر ہوچکی تھی لہٰذا اب ’آپ‘ کو حمایت کے معاملے میں ہیں کانگریس میں گھمسان مچا ہوا ہے۔ دہلی کے سبھی لیڈر الگ پریشان ہیں اور ورکر دھرنے مظاہروں پر اتر آئے ہیں۔ بدھوار کی شام کو ہی صدر لیفٹیننٹ گورنر کی طرف سے ’آپ‘ پارٹی کو حلف لینے کو کہا گیا۔ صبح تک کسی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ حلف برداری کب ہوگی؟ کجریوال سرکار بننے پر بھی سسپنس کھڑا ہوگیا تھا۔ دراصل اس سسپنس کی بنیادی وجہ کانگریس کے اندر شروع ہوئی حمایت پر نظرثانی مانا جارہا تھا۔ ذرائع کا دعوی ہے کہ سابق وزیر اعلی شیلا دیکشت ’آپ‘ کی سرکار کی تشکیل کے لئے کانگریس کے ممبران اسمبلی کی حمایت مناسب نہیں مانتیں اور دن بھر اس کے لئے لابنگ کرتی رہیں اور بتا دیا کے کجریوال کی سرکار کیسے دہلی میں پارٹی کی سیاسی جڑیں کھودنے میں جٹ جائے گی۔ جو کام بڑی اپوزیشن پارٹی بھاجپا پانچ سالوں میں نہیں کرپائی وہ کام کجریوال اینڈ کمپنی ایک مہینے میں کرسکتی ہے کیونکہ وہ کرپشن کے نام پر کانگریس کے ساتھ مہم چھیڑ سکتی ہے۔ اس سے لوک سبھا چناؤ میں پارٹی کو بڑا نقصان ہوسکتا ہے۔ حالت تو یہ ہے کہ دہلی کانگریس کے سبھی لیڈر پارٹی ہائی کمان کے بغیر شرط حمایت دینے کے فیصلے کے خلاف متحد ہوگئے۔ اب کھل کر احتجاج کررہے ہیں۔ سینئر لیڈر شپ کی دقت یہ ہے کہ اب وہ عام پارٹی کو دی حمایت کو بغیر وجہ کے واپس نہیں لے سکتی۔ ذرائع کا کہنا ہے دہلی میں کانگریس ورکروں کے ذریعے حمایت کے خلاف مظاہروں کے پیچھے کئی بڑے نیتا ہیں جو اعلی کمان پر دباؤ ڈال رہے ہیں لیکن وہ منانے میں ناکام رہے اور اب امکانی خطروں کو بھانپتے ہوئے انہوں نے ہائی کمان پر دباؤ بنانے کا نیا پینترا چلا ہے۔ اتنا ہی نہیں کانگریس کے کئی بڑے سرکردہ جو اس حمایت کو مناسب ٹھہرا رہے تھے اب ان کی آوازیں بھی بدلنے لگی ہیں۔ اب و ہ مان رہے ہیں کہ ’آپ‘ کو حمایت دے کر بہت بڑی غلطی کردی ہے کیونکہ اب سرکار بنتے ہی کجریوال سب سے پہلے کانگریس کا پٹارہ کھولیں گے۔ انہوں نے باقاعدہ اس کا اعلان بھی کردیا ہے کہ ہر دن شیلا دیکشت سرکار کے ایک منتری کا کچا چٹھا کھولیں گے۔ان کا ارادہ اس بات سے بھی ظاہر ہوگیا ہے کہ کجریوال نے شیلا دیکشت سرکار کے چیف سکریٹری ڈی ایم سپولیا کو بدل کراپنے حمایتی افسر راجند کمار کا انتخاب کیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے لئے کانگریس پر حملہ ہونا اس لئے بھی ضروری لگتا ہے تاکہ جنتا ان پر کانگریس کے ساتھ سانٹھ گانٹھ کا الزام نہ لگا سکے۔ ’آپ‘ کو حمایت کے بعد اب کانگریس وہاں کھڑی ہے؟ حمایت کے احتجاج میں دہلی پردیش کانگریس دفتر پر دھرنا مظاہرے کے سوال پر کانگریس جنرل سکریٹری جناردن دویدی نے کہا کہ پارٹی میں ایک رائے یہ بھی ہے کہ حمایت کا فیصلہ شاید اس صورت میں مناسب نہیں تھا۔ دہلی کی جنتا نے ہمیں تیسرے نمبر پر رکھا ہے۔ پارٹی محض 8 سیٹیں جیتی ہے۔ ہمیں لیڈر اپوزیشن تک کا عہدہ نہیں ملا۔ اس لئے کانگریس کو کہنا چاہئے تھا کہ ہمیں مینڈیڈ نہیں ملا جس وجہ سے مل کر سرکار بنائی جائے اور چلائیں۔ مناسب یہ ہی ہوتا کہ کانگریس اپوزیشن کا رول نبھاتی۔ ہماری ذمہ داری یہ دیکھنا نہیں تھی کہ سرکار کون بنائے گا ،کون چلائے گا لیکن اب بہت دیر ہوچکی ہے، تیر کمان سے نکال چکا ہے۔ اب پچتانے سے کیا ہوگا؟
(انل نریندر)

26 دسمبر 2013

کرپشن میں ملوث ہی اس کیخلاف اپدیش دینے لگے؟

کانگریس پارٹی کا کرپشن اور گھوٹالوں میں قول و فعل میں ہمیشہ فرق رہا ہے۔ تازہ مثال پارٹی کے نائب صدر راہل گاندھی قدم اور مہاراشٹر میں آدرش گھوٹالے کی جانچ رپورٹ کو دفن کرنا۔ادھر راہل گاندھی کہہ رہے ہیں کہ کرپشن دیش کا سب سے بڑا اشو ہے جو لوگوں کو چوس رہا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ کچھ عناصر پروجیکٹوں کو روک رہے ہیں۔ مہنگائی پر قابو کرنے کی بات بھی کہی۔ ادھر کانگریس کی مہاراشٹر سرکار انہیں ٹھینگا دکھا رہی ہے۔ وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان نے صاف کردیا ہے کہ آدرش ہاؤسنگ سوسائٹی گھوٹالہ معاملے میں جانچ کمیشن کی سفارشیں نہیں مانی جائیں گی۔ چوہان نے کہا کہ یہ فیصلہ عوام کے مفاد کے نام پر کیا گیا ہے۔ اس کو لیکر سیدھے طور پر کانگریس کی نیت اور راہل گاندھی پر سیاسی حلقوں میں انگلیاں اٹھنے لگی ہیں۔ انہیں وجہ سے بھاجپا کے پی ایم امیدوار نریند ر مودی کو یہ کہنے کا موقعہ ملا کے جو کرپشن میں ڈوبے ہیں وہ ہی اب اس کے خلاف اپدیش دے رہے ہیں۔ مودی نے ممبئی میں ایک عزم الشان ریلی کو خطاب کرتے ہوئے کہا میں نے ایک کانگریس کے بڑے لیڈر کی تقریر دیکھی وہ کرپشن کے خلاف بول رہے تھے، ان کی ہمت تو دیکھئے کوئی دوسرا اتنی ہمت نہیں کرسکتا تھا۔ یہ لوگ کرپشن میں اتنے ڈوبے ہوئے ہیں اس کے باوجود معصوم چہرہ بناتے ہیں اور کرپشن کے خلاف بولتے ہیں۔ راہل گاندھی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا آدرش ہاؤسنگ کمیشن رپورٹ میں وزراء کو باقاعدہ ملزم بنایا گیا ہے۔ ایک طرف مہاراشٹر سرکار کرپٹ لوگوں کو بچانے کا فیصلہ کرتی ہے تو دوسری طرف کانگریس لیڈر نئی دہلی میں یہ اپدیش دے رہے ہیں۔ کانگریس بولتی کچھ ہے کرتی کچھ ہے۔ آدرش سوسائٹی گھوٹالے کا شمار پچھلے کچھ برسوں میں ہوئے کرپشن کے سب سے بڑے معاملوں میں ہوتا ہے۔ سال2010ء میں اس کا انکشاف ہوا تھا۔جس سے دیش کا سیاسی پارہ بڑھ گیا تھا۔ اس کی جانچ رپورٹ کا بے صبری سے انتظار کیا جارہا تھا۔ یہ بیحد افسوسناک ہے مہاراشٹر سرکار نے آدرش سوسائٹی کانڈ کی جانچ رپورٹ مسترد کردی ہے لیکن شاید یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے اگر مہاراشٹر سرکار نے یہ رپورٹ قبول کی ہوتی تو اسکے سامنے کیسے سیاسی مشکلیں آتیں اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ جسٹس جے ۔اے پٹیل کی سربراہی والے دو نفری کمیشن نے اپنی رپورٹ میں جن لوگوں کے کردار پر انگلی اٹھائی ہے ان میں چار سابق وزیر اعلی شامل ہیں۔ ان میں وزیر داخلہ سشیل کمار شندے بھی ہیں یہ سبھی کانگریس سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ ریاست کے دو کیبنٹ وزرا کا بھی نام ہے جن کا نیتا کانگریس کی اتحادی راشٹروادی کانگریس سے ہے۔مہاراشٹر میں کانگریس اور این سی پی اتحاد کی سرکار ہے اس کانڈ کی وجہ سے اشوک چوہان کو وزیر اعلی کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ رپورٹ میں سب سے تلخ تبصرہ انہیں کے خلاف ہے۔ کچھ مہینے بعد ہونے والے چناؤ کو دیکھتے ہوئے اس معاملے کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دینا آسان نہیں ہوگا۔ آدرش سوسائٹی کانڈ میں شامل وزراء اور کئی افسروں کے مخصوص اختیار کے بیجا استعمال کی دین ہے۔ راہل گاندھی نے چیمبرس آف کامرس کے ایک پروگرام میں کہا کہ ہم (ان کی پارٹی) کرپشن کے اشو پر زیرو ٹالارینس کی پالیسی اپنائے گی۔ کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا کیونکہ بڑے مسائل کی جڑ کرپشن ہے۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ کانگریس نے حالیہ اسمبلی چناؤ نتائج سے کوئی سبق نہیں لیا ہے۔ یہ اب بھی جنتا کو لاپروائی سے لے رہی ہے۔ جنتا بیدار ہوچکی ہے اب اسے کانگریس کے قول اور فعل میں فرق نظر آنے لگا ہے۔
(انل نریندر)

سلاخوں کے پیچھے تیج پال کیلئے سال کا خاتمہ اور نئے سال کا آغاز ہوگا!

اسمبلی چناؤ اور اس کے نتائج میں اتنے مصروف ہوگئے کہ ایک وقت پیج تھری کے ہیرو ترون تیج پال کو سبھی بھول گئے ہیں۔ وقت وقت کی بات ہے کبھی پیج تھری کے ہیرو آج پیج آٹھ میں ایک کالج میں سمٹ گئے ہیں۔ بہرحال ترون تیج پال پنجی جیل میں ہیں۔ انہیں سال کا آخر اور نئے سال کا آغاز بھی جیل سے ہی کرنا ہوگا۔ تہلکہ مدیر ترون تیج پال کی جوڈیشیل حراست 4 جنوری2014ء تک بڑھا دی گئی ہے۔ تیج پال کو پچھلے12 دن کی حراست ختم ہونے کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں مجسٹریٹ ساریکھا ڈیسائی نے ان کی حراست بڑھا دی۔ تیج پال کے وکیلوں نے ضلع عدالت کے سامنے ان کی ضمانت کے لئے مانگ کی تھی۔ اس عرضی میں کہا گیا تھا کہ جوڈیشیل حراست میں لئے جانے کے بعد سے پولیس کے ذریعے پوچھ تاچھ نہیں کی گئی ہے۔ تیج پال سے صرف اس وقت پوچھ تاچھ کی گئی جب وہ پولیس حوالات میں تھے۔ گووا کرائم برانچ نے اس دوران ساتھی خاتون ملازم کے ساتھ جنسی استحصال کے ملزم تیج پال کی مشکلیں بڑھاتے ہوئے ان کے خلاف فاضل الزام لگائے ہیں۔برانچ کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ تیج پال کے خلاف درج ایف آئی آر میں اب آئی پی سی کی دفعہ341 اور42 جوڑی گئی ہے۔تیج پال سے پوچھ تاچھ کررہے افسران نے کہا متاثرہ گواہوں کو بچانے اور ہوٹل کے سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنے کے بعد تیج پال کے خلاف فاضل دفعات لگائی گئی ہیں۔ دفعہ341 کسی کو غلط ڈھنگ سے روکنے، دفعہ342 کسی کو یرغمال بنانے سے وابستہ ہے۔ ادھر ترون تیج پال کی اپنی کہانی ہے۔ پوچھ تاچھ میں تیج پال نے بتایا کے لڑکی اور اس کے درمیان جو بھی کچھ ہوا اس میں ایک طرح سے رضامندی تھی۔ معاملے کی جانچ کررہے گووا پولیس کی کرائم برانچ کے افسر کا کہنا ہے جانچ صحیح سمت میں چل رہی ہے اور تیج پال سے مفصل جانچ کی جارہی ہے ، وہ تعاون دے رہے ہیں۔ انہوں نے جو بھی کچھ کیا اس میں رضامندی تھی وہ اپنے اس بیان پر قائم ہیں۔ اس پورے معاملے میں انہوں نے ملوث ہونے سے انکار کیا۔ حالانکہ تیج پال کے وکیل کہتے ہیں کہ اس بارے میں افواہ اڑ رہی ہے اور کہا کہ معاملے کی چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد پوری جانکاری مل جائے گی۔ متاثرہ لڑکی نے اپنی شکایت میں جو باتیں بتائیں تیج پال ان کی تصدیق کررہے ہیں لیکن یہ نہیں مان رہے کہ انہوں نے لڑکی کے ساتھ کسی طرح کی زور زبردستی کی۔ اس بنیاد پر وہ کہہ رہے ہیں جو کچھ ہوا اس میں اس کی رضامندی تھی۔ سوال یہ ہے کہ کیس ٹیڑھا ہے اور کیس ثابت کرنے کا بوجھ اب بچاؤ فریق پر ہے۔ ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جسٹس آر ۔ ایس۔ سوڑی کہتے ہیں کہ ریپ اور چھیڑ چھاڑ کے معاملے میں لڑکی کا بیان سب سے اہم مانا جاتا ہے،یہ سب سے بڑا ثبوت ہے۔ اگر لڑکی کے بیان میں جھول ہے اور عدالت کو لگتا ہے کہ یہ بیان بھروسے مند ہے تو وہ سب سے اہم ثبوت ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا اگر لڑکی کا بیان پختہ ہے اور بھروسے مند ہے تو کسی دوسرے ضمنی ثبوت کی ضرورت نہیں۔ جہاں تک میڈیکل صلاح کا سوال ہے تو ویسے شہادتیں ضمنی ثبوت ہیں اور میڈیکل میں اگر ریپ کی تصدیق ہوتی ہے تو کیس زیادہ ٹھوس مانا جاتا ہے۔ دیکھیں چارج شیٹ میں پولیس کیا کہتی ہے؟
(انل نریندر)

25 دسمبر 2013

’’آپ‘‘ پارٹی کی سرکارسیاست میں صفائی کی سمت میں ایک اہم قدم!

دہلی کے شہریوں نے راحت کی سانس لی ہوگی آخر کار عام آدمی پارٹی نے پچھلے15 روز سے جو سسپنس بنایا ہوا تھا وہ سرکار بنانے کے اعلان کے ساتھ ختم ہوگیا ہے۔عام آدمی پارٹی کی سیاسی معاملوں کی کمیٹی کی میٹنگ ہوئی جس میں ریفرنڈم کے نتائج کو دیکھتے ہوئے سرکار بنانے کی سمت میں آگے بڑھنے کا فیصلہ لیا گیا۔ پارٹی کے کنوینر اروند کجریوال دہلی کے لیفٹیننٹ گورنرنجیب جنگ کے سامنے سرکار بنانے کا دعوی پیش کیا۔ اب صاف ہوگیا ہے کہ اروند کجریوال ہی دہلی کے نئے وزیر اعلی ہوں گے جو رام لیلا میدان میں جنتا کے بیچ حلف لیں گے۔ ہم ’’آپ‘‘ پارٹی اور اروند کجریوال کو مبارکباد دینا چاہتے ہیں۔ معلق جن آدیش میں یہ تو ہونا ہی تھا جب بھاجپا نے سب سے بڑی پارٹی ہونے کے باوجود سرکار بنانے سے منع کردیاتھا۔ اس صورت میں دو ہی متبادل بچتے تھے ایک تو دہلی میں صدر راج لگادیا جائے، دوسرا آپ پارٹی سرکار بنائے یا پھر چناؤ کرانا ہی متبادل تھا۔ اگر صدر راج لگتا تو گھوم پھر کر کانگریس کی حکومت آجاتی کیونکہ مرکزی وزارت داخلہ سروے سروا ہوتا ہے۔ اب بھی اقتدار کی باگ ڈور ایک طرح سے کانگریس کے ہاتھوں میں ہے۔ ان کے 8 ممبران اسمبلی کے دم خم پر ہی یہ سرکار چلے گی۔ کانگریسی لیڈر اب یہ کہنے لگے ہیں کہ ہم نے بغیر شرط کے حمایت نہیں دی بلکہ اشو پر دی ہے۔ اسی لائن سے ’’آپ ‘‘ پارٹی کی سرکار کے مستقبل پر تھوڑی بے یقینی سی پیدا ہونے لگی ہے۔ پتہ نہیں کانگریس اس سرکار کو کتنے دن چلنے دے گی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کجریوال کو پھونک پھونک کر قدم بڑھانا ہوگا۔ کجریوال نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ میں اپنے بچوں کی قسم کھاتا ہوں میں کانگریس کی حمایت نہیں لوں گا۔ جنتا میں اس بات کو لیکر اندیشہ ہے کہ جو وعدے ’’آپ‘‘ پارٹی نے جنتا سے کئے ہیں جن میں بجلی ، پانی، کرپشن روکنے، گھوٹالوں کی جانچ کروانا، لال بتی کلچر کو ختم کرنا اور محلہ کمیٹیوں میں سیدھا پیسہ بانٹنا وغیرہ وغیرہ ان 18 میں سے کتنے وعدے پورے کرسکیں گے۔ مجھے لگتا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر اشو عام آدمی پارٹی پورا کر لے گی۔ ہوسکتا ہے 50 فیصد بجلی کے بل اور700 لیٹر پانی مفت ایک حد تک پورا نہ ہوسکے لیکن تب بھی جنتا کو کچھ تو راحت ملے گی۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ بھارت کی گرتی سیاست کے سطح پر روک لگے گی۔ سیاست میں تھوڑی شفافیت ضرور آئے گی۔ بھارت کی سیاست کو پاک کرنے کی سمت میں ایک صحیح قدم ضرور ہوگا۔ یہ دوسری پارٹیوں کو بھی بدلنے کیلئے مجبورہونا پڑے گا۔’’آپ‘‘ پارٹی اور کانگریس میں ٹکراؤ تب آسکتا ہے جب کجریوال کانگریس کے عہد کے دوران گھوٹالوں کی جانچ کرواتے ہیں اور جیسا کہ دو دن پہلے انہوں نے خود کہا بھی ہے کہ میں کرپٹ کانگریسی لیڈروں کو جیل بھیجوں گا۔ اگر انہوں نے ایسا کیا تو یقینی طور سے کانگریس جوابی کارروائی کرے گی۔ حالانکہ کچھ لوگوں کا دعوی ہے کانگریس اور کجریوال میں خفیہ سمجھوتہ ہوچکا ہے۔ وہ شیلا دیکشت عہد کی جانچ نہیں کروائیں گے۔ بھاجپا بیشک آج یہ کہے کہ آپ نے جنتا کو دھوکہ دیا ہے اور اسی کانگریس سے ہاتھ ملا لیا ہے جس کے خلاف چناؤ لڑے تھے۔ اپنا خیال ہے کہ اور کوئی متبادل نہیں تھا اگر ہم دوبارہ چناؤ سے بچنا چاہتے تھے اب ’’آپ‘‘ کی سرکار بن جانے کے بعد اس کے کام کاج کے بارے میں 15 دنوں کے اندر پتہ چل جائے گا کہ یہ سرکار لمبی پاری کھیلے گی یا نہیں؟ لیکن فی الحال اروند کجریوال اور ان کی پارٹی کو ہماری طرف سے شبھ کامنائیں اور ہم چاہتے ہیں کہ سارے تضاد کے باوجود ان کی سرکار چلے۔
(انل نریندر)

کیدار ناتھ حادثے میں مرے لوگوں کے وارثوں کو نہ تو معاوضہ اور نہ سرٹیفکیٹ ملا!

بڑے دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ اتراکھنڈ کے وزیر اعلی وجے بہوگنا بیشک ایک پڑھے لکھے اچھے انسان ہیں لیکن ان کی اپنی حکومت اور انتظامیہ پر پکڑ بہت کمزور ہے۔ اتراکھنڈ کے سیاسی ماحول اور اس سرد موسم کے باوجود حالات بہت ہی خراب ہیں۔ ذرائع کے مطابق لوک سبھا چناؤ میں اتراکھنڈ کی کانگریس والی پانچ لوک سبھا سیٹیں خطرے میں پڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔ اس لئے کانگریس اعلی کمان وزیر اعلی وجے بہوگنا کو ہٹانے کے بارے میں غور کررہا ہے اور ان کے جانشینوں میں مرکزی وزیر ہریش راوت کا نام سب سے اوپر چل رہا ہے۔ یہ تو سیاسی معاملہ ہے جس کا تعلق کانگریس پارٹی سے ہے۔ ہمیں تو دکھ اس بات کا ہے کیدارناتھ میں ماہ جون میں ہوئے قدرتی حادثے کے دوران لاپتہ ہوئے دہلی کے 237 لوگوں کی 6 ماہ بعد بھی کوئی تلاش نہیں ہوسکی اور نہ ہی ان کی موت کے بارے میں سرٹیفکیٹ یا معاوضہ ان کے عزیزوں کو ملا ہے۔ متوفین کے رشتے دار کبھی اتراکھنڈ کبھی دہلی کے محکمہ محصولات کا چکر لگا رہے ہیں۔ کل143 لوگوں کی موت کے بارے میں دیتھ سرٹیفکیٹ پچھلے ہفتے اتراکھنڈ سرکار نے دہلی کے محکمہ محصول کو بھیجے ہیں لیکن اب تک دہلی کے محکمہ محصول متوفی افراد کے رشتے داروں کی توثیق کرنے کے لئے کچھ قاعدے و ضابطے بنانے میں لگا ہوا ہے۔ لاپتہ 94 لوگوں کے بارے میں حکومت کی طرف سے کسی طرح کی خبر نہیں دی گئی ہے۔ کچھ لاپتہ لوگوں کے رشتے دار ایسے ہیں جو ابھی بھی اپنے عزیزوں کے اتراکھنڈ سے لوٹنے کا انتظار کررہے ہیں۔ کئی ایسے خاندان ہیں جو یہ مان چکے ہیں کہ ان کے رشتے داروں کی حادثے میں موت ہوگئی ہے اب وہ کبھی نہیں لوٹیں گے۔ کئی ایسے خاندان بھی ہیں جو ابھی بھی اپنوں کے لوٹنے کی آس لگائے ہوئے ہیں۔ دہلی کے محکمہ محصولات دفتر کے ایک اعلی افسر نے بتایا پچھلے ہفتے اتراکھنڈ حکومت کی جانب سے143 لوگوں کی موت کا سرٹیفکیٹ اور معاوضہ محکمہ محصول کو ملا ہے لیکن یہ آج تک متوفین کے عزیزوں کی ویری فکیشن نہیں کرا پایا۔ ابھی اس کے بارے میں توثیق کرنا باقی ہے۔ اس وجہ سے بغیر ویری فکیشن کے معاوضہ و سرٹیفکیٹ نہیں جاری کئے جاسکتے۔ نوٹری کے ذریعے تصدیق شدہ حلف نامہ یا کسی اخبار میں شائع گمشدہ کے بارے میں خبر کی کاپی مانگے جانے کے ساتھ ساتھ جانچ افسر کی رپورٹ مانگی جائے گی۔ اس کے بعد ہی انہیںیہ معاوضہ بانٹاجائے گا۔ ادھر موصولہ رپورٹوں کے مطابق کیدارناتھ مندر میں مستقبل میں کسی طرح کی قدرتی آفت سے بچانے کے لئے آثار قدیمہ حکومت ہند منداکنی ندی کا رخ بدلنے کی صلاح دے رہا ہے کیونکہ اس علاقے میں ندی کی کنارے بسے تلہٹی گاؤں کی زمین اونچی ہوگئی ہے۔ جون میں آئی تباہ کاری اور سیلاب کے بعد مندر کی تعمیر و تزعین کا کام ای ایس آئی کو سونپا گیا ہے۔ حالانکہ موسم اس میں مسلسل رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ وزیر ثقافت بھوپندر کمار کٹوچ نے بتایا کہ ہماری رپورٹ کے مطابق کیدارناتھ میں ندی کی تلہٹی اونچی ہوگئی ہے جس سے دیہی علاقے نیچے ہوگئے ہیں۔ اس لئے ہم ندی کا رخ بدلنے کا سجھاؤ دے رہے ہیں تاکہ مستقبل میں مندر کو کسی قدرتی آفت کی سمت میں کوئی نقصان نہ ہو یا پھر بھارتیہ جغرافیائی سروے یا محکمہ جنگلات صلاح دے گا کیسے کیدارناتھ مندر مستقبل میں محفوظ رکھا جائے سکے۔
(انل نریندر)

24 دسمبر 2013

کیا نریندر مودی کا پسماندگی کا فائدہ بھاجپا یوپی میں اٹھا پائے گی؟

بھاجپا کے پی ایم ان ویٹنگ نریندر مودی کا مشن لوک سبھا2014 کا راستہ اترپردیش سے ہوکر گزرتا ہے۔ 85 سیٹوں والی یہ ریاست بھارتیہ جنتا پارٹی کے گیم پلان میں بہت اہم حصہ ہے۔ تبھی تو نریندر مودی نے اپنے سب سے بھروسے مند حکمت عملی ساز امت شاہ کو لکھنؤ میں بٹھایا ہوا ہے۔ بھاجپا اترپردیش میں پارٹی کے پی ایم عہدے کے امیدوار نریندر مودی کے ذریعے ریاست کی80 سیٹوں کو حاصل کرنے کی کوشش میں لگی ہے۔ نریندر مودی کا چہرہ اور لیڈر شپ پارٹی کو اپنے سماجی تجزیات کے حساب سے اترپردیش میں بھارہی ہے۔پارٹی اس کوشش میں بھی لگی ہوئی ہے کہ نریندر مودی کی پسماندہ ذات ہونے کا فائدہ مل سکے۔ بھاجپا اترپردیش میں مودی کارڈ کھیل کر سیاسی سطح پر ایک تیر سے کئی نشانے لگانے میں لگی ہوئی ہے۔ بھاجپا کے حکمت عملی سازوں کولگتاہے کہ مودی کی وکاس پرش کے ساتھ ساتھ پسماندہ لیڈر کی ساکھ بھی بھاجپا کے لئے نہ صرف فائدے مند ثابت ہوگی بلکہ پارٹی ذات پات کے تجزیوں کو بھی طاقت دے گی۔ 80 سیٹوں والی اترپردیش ریاست میں بھاجپا 40 سے50 سیٹوں کے درمیان جیتنے کا نشانہ لیکر چل رہی ہے۔ نریندر مودی کی ریلیاں یہاں زیادہ تر کامیاب ہورہی ہیں۔ کاشی میں راج تالاب میں واقع کھجراؤ میں منعقد وجے شکھانند ریلی میں کافی بھیڑ سے مودی گد گد ہوئے اور کہا کہ چناؤ سے پہلے اس طرح کا ماحول کبھی دیکھنے کو نہیں ملا۔ یوپی صرف سیاست کا میدان ہی نہیں بلکہ ہندوستان کا بھاگیہ ودھاتا بن سکتا ہے۔ یہاں رام راجیہ بنانے کا کام آپ کے پوروجوں نے کیا تھا۔ رام راجیہ کے لئے جس طرح سے عوامی حمایت کی ضرورت چاہئے وہ آپ کے پاس ہے۔ مودی نے بنارس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھتے ہوئے یہاں کا موازنہ سورت سے کیا۔ کہا کہ بنارس کی طرح سورت میں بھی برسوں سے ساڑیاں خاص کاروبار بن چکی ہیں۔ یہاں کے کاریگر اور تاجر تباہ ہورہے ہیں جبکہ سورت میں ساڑی کاروبار اور شہر کی شکل بدل دی ہے۔ نیک ارادہ ہو تو بنارس کی ساڑی صنعت کو بھی اسی طرح فروغ دیا جاسکتا ہے۔ کاشی میں منعقدہ ریلی کو خطاب کرنے سے پہلے بابا ویشواناتھ کا درشن کرنے پہنچے مودی نے ودھی سے پوجا ارچنا کی ۔ پوجا کے دوران جب براہمنوں نے مودی کو سنکلپ دلانا شروع کیا تھا ہاتھ میں روپے لینے کو کہا۔ ہاتھ میں شہد لگا ہونے اور سوئٹر پہننے کی وجہ سے مودی نے جیب میں ہاتھ نہیں ڈالا۔ بغل میں راجناتھ سنگھ نے 100 روپے کا نوٹ نکال کر مودی کو دیا۔ بھاجپا کے ذریعے نریندر مودی کو بطور قد آور پسماندہ ذات کے لیڈر کی حیثیت سے پروجیکٹ کرنے سے سماجوادی پارٹی بھی اندر خانے فکر مند ہوگئی ہے۔ بھاجپا کو ایک دور میں پسماندہ طبقات کی حمایت مل چکی ہے۔ کلیان سنگھ اور ونے کٹیار جو کبھی ہندوتو کی علامت تھے وہ پسماندہ طبقے کے لیڈر کے طور پر سامنے آئے۔ بعد میں وہ نہ ہندوتو کے کام کے رہے اورنہ پسماندہ طبقات میں اپنا دبدبہ قائم رکھ سکے۔ پچھلے اسمبلی چناؤ میں بھاجپا نے بابو سنگھ کشواہا کی حکمت عملی کو لیکر تو اما بھارتی تک کو چناؤ لڑادیا لیکن معاملہ کچھ نہیں بنا۔ اب مودی کی نئی پہچان پسماندہ لیڈر کے طور پر بتائی جارہی ہے اور وہ پچھڑے طبقے کے لیڈرہیں یہ پیغام گاؤں گاؤں تک پہنچایا جارہا ہے۔ راجناتھ سنگھ۔ نریندر مودی کی جوڑی نے اترپردیش میں اپنے کیڈر کو لوک سبھا چناؤ کے لئے میدان میں اتار دیا ہے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے 90 کی دہائی میں اترپردیش کے سابق وزیر اعلی کلیان سنگھ کے سبب بھاجپا کو اونچی ذاتوں کے ساتھ پسماندہ طبقات کا بھی بھرپور ووٹ ملا تھا۔
(انل نریندر)

پبلک اسکولوں میں نرسری داخلے پرٹکراؤ!

نرسری داخلے کے لئے محکمہ تعلیم سے جاری گائڈلائنس کے بعد 15 جنوری سے راجدھانی کے تمام پبلک اسکولوں میں نرسری داخلے شروع ہونے جارہے ہیں لیکن اسکول سے چھ کلو میٹر تک کے دائرے میں آنے والوں کو زیادہ تر70 پوائنٹ دینے کی سہولت سے اسکول منتظمین جس طرح سے ناراض ہیں اس سے والدین کی پریشانی بڑھ سکتی ہے۔ دہلی کے پرائیویٹ اسکولوں میں داخلے ، فیس میں اضافہ وغیرہ سے متعلق گڑ بڑیوں اور منمانی کی شکایتیں پرانی ہیں۔انہیں دور کرنے کے لئے کئی بار کوشش ہوچکی ہے مگر کوئی پائیدار حل نہیں نکل پایا۔ ہر بار اسکول کے مالکان و منتظمین کوئی نہ کوئی پیچ ڈھونڈ کر قاعدوں کو تلانجلی دینے کا راستہ نکال ہی لیتے ہیں۔ ایسے میں نرسری کلاسوں میں داخلے سے متعلق نئے قواعد پر اسکولوں کی ناراضگی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ پہلے بھی حکومت نے داخلے کے لئے کچھ نکات کو مقرر کیا تھا جن میں اسکول سے گھر کی دوری اور متعلقہ اسکول میں بچے کا کوئی بھائی یا بہن پڑ ھ رہا ہے اگر بچے کے والدین میں سے کوئی اس اسکول کا طالبعلم رہ چکا ہو وغیرہ پہلو شامل ہیں۔ پہلے اسکول سے داخلہ پانے والے بچے کی دوری زیادہ سے زیادہ 14 کلو میٹر رکھی گئی تھی لیکن نئے قاعدے سے اسے گھٹا کر اب6 کلو میٹر کردیا گیا ہے۔ دوری کی بنیاد پربچے کے داخلے کے لئے 70 نمبر دئے جائیں گے۔ اسی طرح اگر اس کے خاندان سے کوئی بچہ پہلے سے اس اسکول میں پڑھ رہا ہے تو اسے 10نمبر ملیں گے۔ پھر لڑکیوں کے لئے 5 فیصدی اگر ماں باپ میں سے کوئی اس اسکول کا طالبعلم رہ چکا ہے تو اس کے پانچ فیصدی۔ اسکول کے ملازمین کے لئے پانچ فیصدی سیٹیں ریزرو کرنی ہوں گی۔ کوٹے سے داخلے کی سہولت ختم کردی گئی ہے۔ اس پر نجی اسکول منتظمین کی انجمنوں نے لیفٹیننٹ گورنر سے بات چیت کے لئے وقت مانگا لیکن انہوں نے ملنے سے انکار کردیا۔ نجی اسکولوں کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اگر لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملے گا تو ایسوسی ایشن عدالت میں جاکر محکمہ تعلیم کے ذریعے نرسری داخلے کے لئے گائڈ لائنس پر روک لگانے کی اپیل کرے گی۔وہاں بھی بات نہ بنی تو تمام اسکول منتظمین ان شرطوں پر داخلہ نہیں دینے پر غور کررہے ہیں۔ حالانکہ نرسری داخلے کی الٹی گنتی شروع ہونے کے ساتھ والدین یہ سوچ رہے ہیں کہ ان کے بچے کا داخلہ کیسے ہوگا؟ داخلے کے لئے کس کی سفارش لگائیں ان کے لئے بہتر یہ تجویز ہے کہ وہ یہ ساری پریشانی چھوڑ کر قریب کے اسکولوں میں اپنی پسند کی فہرست میں ترجیح دیں۔ ان اسکولوں میں بچوں کوکس طرح کی سہولت مل رہی ہے اس بارے میں جانکاری اکھٹی کریں اور جیسے ہی15 جنوری کو داخلہ فارم نکلیں تو قریبی اسکول میں جاکر داخلہ فارم بھر دیں۔ فیس اضافے کو لیکر جب تب والدین اور اسکولوں کے درمیان تکرار شروع ہوجاتی ہے لیکن ہائی کورٹ کی ہدایت کے باوجود اس معاملے میں اسکولوں کی منمانی رکی نہیں ہے۔ اگر اسکول واقعی داخلہ اور فیس وغیرہ کے متعین میں دلیل آمیز اور شفافیت اپناتے تو سرکار یا پھر عدالتوں کو ہر بار یوں مداخلت کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
(انل نریندر)

22 دسمبر 2013

اروندرسنگھ لولی نے پہنا کانٹوں بھرا تاج!

دہلی اسمبلی چناؤ میں کراری ہار کے لئے بلی کا بکرا بنایا گیا دہلی پردیش کانگریس پردھان جے پرکاش اگروال کو۔ انہیں اس عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔ اب یہ کانٹوں بھرا تاج 46 سالہ اروندر سنگھ لولی کو پہنایاگیا ہے۔ لولی نہ صرف سب سے کم عمر کے پردیش کانگریس کمیٹی کے چیف بنے ہیں بلکہ وہ پہلے سکھ لیڈر ہیں جنہیں اس اہم عہدے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ غور طلب ہے کانگریس میں اہم عہدوں پر نوجوان چہروں کو لانا راہل گاندھی کی ترجیحات میں شامل رہا۔ کانگریس ہائی کمان نے اپنے نوجوان ممبر اسمبلی لولی کو دہلی میں پارٹی کی کمان تھماکر صاف اشارے دئے ہیں کہ بھلے ہی اسمبلی چناؤ میں اس کی کراری شکست ہوئی ہے لیکن حریف پارٹیوں سے ٹکر لینے کا دم خم اس میں اب بھی باقی ہے۔ لولی اپنی تیز طرار ساکھ کے لئے جانے جاتے ہیں۔ دہلی اسمبلی سے لیکر سرکار تک میں ان کی دھاک محسوس کی جاتی رہی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ دہلی میں 45 سیٹوں سے گھٹ کر محض8 سیٹوں پر کانگریس پارٹی سمٹ گئی ہے۔ اس کو پھر سے اقتدار کے قریب پہنچاپانا لولی کے لئے آسان کام نہیں ہوگا۔ دہلی اسمبلی چناؤ میں کانگریس کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ اس وقت یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ پارٹی پچھلے 20 سال میں سب سے مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ بھاجپا اور عام آدمی پارٹی کے پاس کانگریس اسمبلی میں نمبر تین پر ہے۔ اسے اپوزیشن کا رول بھی نہیں ملا۔اگلے سال ہونے والے لوک سبھا چناؤ کے پیش نظر کانگریس کی پوزیشن بھی ڈانواڈول ہے۔ ان حالات میں یہ عہدہ اروندر سنگھ لولی کے لئے کانٹوں بھرے تاج سے کم نہیں ہے۔ کانگریس اعلی کمان نے پردیش کانگریس پردھان کے عہدے پر مشرقی دہلی کے نوجوان ممبر اسمبلی لولی کو چنا ہے تو اس کی وجہ ہے دراصل بھاجپا نے مشرقی دہلی کی ہی ایک سیٹ کرشنا نگر سے پارٹی کے ممبر اسمبلی ڈاکٹر ہرش وردھن کو وزیر اعلی کا دعویدار اعلان کیا تھا۔ کانگریس کے نئے پردیش صدر لولی ہرش وردھن کو چیلنج دینے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے لولی سابق وزیر اعلی شیلا دیکشت کے قریبی مانے جاتے ہیں۔ اجے ماکن کے بھی خاص دوست ہیں۔2013ء کی اس کانگریس مخالف لہر میں لولی کا اپنی سیٹ پر جیت پانایہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کی اپنے علاقے میں پکڑ مضبوط ہے۔ سکھ ہونے کے ناطے انہیں دہلی کا طاقتور سکھ فرقے کے بھی حمایت مل سکتی ہے۔ پارٹی کے سامنے اندرونی گروپ بندی سب سے بڑا چیلنج ہے۔ ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچا ،نیچا دکھانے کا ٹرینڈ بدلنا ہوگا۔ پارٹی کے سامنے اب نہ صرف بھاجپا بلکہ عام آدمی پارٹی بھی ایک زبردست چیلنج ہے۔ ایسے میں پارٹی کو پردیش پردھان کے طور پر ایسے لیڈر کی ضرورت تھی جو حریفوں سے کھل کر دو دو ہاتھ کر سکے۔ مانا جارہا ہے لولی اس کام میں ماہر مانے جاتے ہیں۔ ان کی ساکھ توبے داغ ہے لیکن شراب کاروباری پونٹی چڈھا قتل کانڈ کے بعد انہیں اس معاملے میں گھسیٹنے کی ضرور کوشش کی گئی۔ حالانکہ خود لولی کا کہنا ہے اگر قتل کا ملزم ہی کسی شخص کو ایسے معاملے میں گھسیٹنے کی کوشش کرے تو اس کا بھروسہ خودبخود مشتبہ ہوجاتا ہے۔ ہم اروندر سنگھ لولی کو مبارکباد دینا چاہتے ہیں ساتھ ساتھ یہ بھی کہنا چاہتے ہیں کہ تاج تو انہوں نے پہن لیا لیکن ہوشیاررہیں کیونکہ یہ تاج کانٹوں بھرا ہے۔
(انل نریندر)

لو ان ریلیشن کے بڑھتے ٹرینڈ سے کئی پریشانیاں درپیش!

دہلی میں لو ان ریلیشن کے معاملے بڑھنے لگے ہیں۔ لو ان ریلیشن یعنی سانجھہ زندگی جینا اور شادی کی رسم کے بغیر لڑکا لڑکی ایک ساتھ رہتے ہیں اور میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کرتے ہیں۔ اس سے سماجی مسئلہ تو کھڑا ہورہا ہے لیکن ساتھ ساتھ قانونی دشواری بھی بڑھ رہی ہے۔ راجدھانی میں لو ان ریلیشن میں رہنے والوں کے خلاف بدفعلی کے معاملے تین گنا بڑھے ہیں۔ اعدادو شمار کی مانیں تو ہر مہینے ایسے 23 معاملے مختلف تھانوں میں درج ہوتے ہیں۔ اس سال اکتوبر تک ایسے کل 228 معاملے درج ہوئے جو بدفعلی کی اور دوسری حرکات کا 16 فیصدی ہیں۔ یہ انکشاف دہلی پولیس کی ایک اندرونی رپورٹ سے ہوا ہے۔ یہ رپورٹ دہلی پولیس نے بدفعلی کے معاملے میں ملزمان کے الگ الگ زمروں کی پہچان کرنے کے لئے مختلف تھانوں میں درج معاملوں کی بنیاد پر تیار کرائی ہے۔ اس کے مطابق گزرے سال جہاں لو ان ریلیشن میں رہنے والوں کے خلاف بدفعلی کرنے کے 80 معاملے درج کئے گئے تھے وہیں اس سال اکتوبر تک یہ نمبر 228 تک پہنچ گیا ہے۔ حال ہی میں ایڈیشنل سیشن جج یوگیندر کھنہ کی عدالت میں ایک ایسا معاملہ آیا۔ لو ان ریلیشن میں رہنے والی اپنی پارٹنر کو شادی کا جھانسہ دیکر اس سے کئی بار آبروریزی کرنے کے الزام میں ایک ایم بی اے کے طالبعلم کو عدالت نے سات سال قید کی سزا سنائی۔ جسٹس موصوف نے ایل ایل بی کی ایک طالبہ سے آبروریزی کے قصوروار پائے گئے 31 سالہ ہری موہن شرما کو جیل بھیجا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے حقائق اور حالات کو دیکھتے ہوئے و جرم کے ٹرینڈ پر غور کرتے ہوئے ہری موہن شرما کو دہلی پولیس کی دفعہ 376 (آبروریزی ) کے تحت 7سال قید مشقت جیل کی سزا دیتا ہوں۔ اترپردیش کے باشندے شرما کو اپنی پارٹنر کی شکایت پر گرفتار کر مقدمہ چلایا گیا تھا جس میں متاثرہ نے الزام لگایا تھا کہ دسمبر2010 سے جنوری2011 کے درمیان شادی کا جھانسہ دیکر انہوں نے کئی بار اس سے آبروریزی کی۔ پولیس کا کہنا ہے لڑکی نے اگست2011ء میں تب شکایت درج کرائی جب وہ حاملہ ہوگئی تھی۔ شرما نے اس سے شادی کرنے سے منع کردیا ۔اس کے والدین اس کے پریم رشتوں کے خلاف تھے۔ 
سماعت کے دوران ملزم شرما نے آبروریزی کے الزامات سے انکارکرتے ہوئے کہا کہ انہیں غلط طریقے سے پھنسایا گیا ہے ۔ لڑکی اپنی مرضی سے ساتھ رہ رہی تھی اس لئے آبروریزی کا سوال کہاں سے پیدا ہوتا ہے؟ لیکن عدالت نے ملزم شرما کی دلیلوں کو و عرضی کو مسترد کرتے ہوئے کہا لو ان ریلیشن محض ساتھ ساتھ رہنا نہیں ہوتا بلکہ اس سے دو پریمیوں کے درمیان مستقبل کا عزم بھی جڑا ہوتا ہے۔ یہ لو ان ریلیشن موجودہ پیڑھی کی ایک جدید سوچ ہے جبکہ بھارت دقیانوسی دور میں جی رہا ہے۔ پرانی پیڑھی اپنی زندگی کو اہم مانتی ہے جبکہ یہ صاف ہے کہ نوجوان کے نظریئے میں فرق آگیا ہے۔ اصولوں سے کھلواڑ ہوا ہے۔ زیادہ کھلا پن اور روایات کو نہ ماننا اپنے حساب سے زندگی گزارنا آج کے نوجوانوں کی سوچ ہے۔ سماج کے لئے اس فرق کو سمجھنا ضروری ہے اور وقت کے ساتھ اس میں اصلاح ضروری ہوگی۔ پھر بھی غنیمت یہ ہے کہ مسئلہ صرف بڑے شہروں تک محدودہے یوپی ،ہریانہ وغیرہ کے دیہی علاقوں میں تو آج بھی اس طرح کے رشتوں کو کوئی تسلیم نہیں کرسکتا اور نہ ہی اسے برداشت کرسکتا ہے۔
(انل نریندر)

21 دسمبر 2013

کیجریوال کا نیا ڈرامہ! سرکار بنائے یا نہیں فیصلہ رائے شماری سے؟

عام پارٹی کے ذریعے سرکار بنانے یا نہ بنانے کاڈرامہ بدستور جاری ہے بگ باس کے ریئیلٹی شو کی طرح اب کیجریوال بھی ا پنے حمایتیوں سے بوجھ رہے ہیں وہ سرکار بنائے یا نہ بنائے؟ آپ پارٹی کے تھنگ ٹینک گروپ کے اہم ممبر یوگیندر یادو نے کہا کہ میں اس بات سے متفق ہوں کہ ہمارے پاس اخلاقی مینڈیٹ ہے حالانکہ سرکار بنانے کے لئے ضروری نمبر نہیں ہے اس لئے ہم جنتا سے معلوم کررہے ہیں کہ ہم کیا کریں؟ ایک دوسرے نیتا منیش سسودیا نے کہا ہمارا مقصد سرکار بنانے کا نہیں ہم چار لوگ ا ایک کمرے میں فیصلہ لے لیں ہمارے لئے جنتا کا فیصلہ ہی سرتسلیم ہے ۔ صحیح معنوں میں یہی جمہوری ڈھھنگ ٹھیک بھی ہے اگر اکثریت میں جنتا ہمیں حکوم دے گی تو ہم سرکار بنائے گے صرف ایک بار جنتا کو چناؤ کا موقع دے کر کامیاب لیڈروں کے فیصلے ان پر تھوپنا ٹھیک نہیں ہے ادھر بدھوار کو عام آدمی پارٹی کنوینر اروندر کیجریوال نے کہا کہ وہ شخصی طور سے دہلی میں مشترکہ سرکار کے خلاف ہے لیکن پارٹی کے اندر اس معاملے پر اختلاف کے بعد ہم نے دہلی کی جنتا سے رائے شماری کرانے کافیصلہ کیا ان کاکہنا ہے کہ وہ عوام کے فیصلہ کا احترام کریں گے چاہے وہ پارٹی کے لئے ہو یا اس کے خلاف۔ انہوں نے بتایا اس معاملے میں پارٹی میں اختلافات ہے اور ممبران اسمبلی کے میٹنگ کے دوران ایک گروپ کا خیال تھا کہ آپ کو سرکار بنانے سے بچنا نہیں چاہئے کیونکہ کانگریس اسے بغیر شرط حمایت دے رہی ہے کچھ ممبران کے مطابق پارٹی اپنا ایجنڈا لاگو کرپائیں گی اس لئے کانگریس کی طرف سے کوئی دخل اندازی نہیں ہونی چاہئے۔ کیجریوال کا کہنا ہے میں شخصی طور سے سرکار بنانے کے خلاف تھا کیونکہ ہم نے بار بار کہا کہ ہم کانگریس یا بھاجپا سے نہ تو حمایت لیں گے یا نہ دیں گے لیکن بعد میں لوگوں کے ایک گروپ نے یہ کہنا شروع کردیا کہ سرکار بنانی چاہئے جب کہ دوسرا گروپ اس کی مخالفت کررہا تھا۔ ہم نے اس بارے میں فیصلہ جنتا پر چھوڑ دیا ہے چاہے وہ ایس ایم ایس کو یا سوشل سائٹ ہوں کیجریوال کو ان پر زبردست حمایت مل رہی ہے 24گھنٹے کے اندر چار لاکھ میسیج آئے 100 گھنٹوں میں2362 خیالات 177 شیئر اور 2616 لائنز خود اروند کیجریوال پر 15000 ہزار604 مشورے 1709 مشترکہ رائے 14531 لائیکس ٹوئٹر پر زبردست رد عمل سامنے آیا ہے۔ کچھ تبصرے اس طرح ہے سچن کمار ’’ ارے بھائی سرکار بناؤ کام کرکے دکھاؤ اور پھر بھی کانگریس حمایت واپس لیتی ہے تو جنتا اس کا جواب دے گی ٹینشن کیوں لیتے ہو‘‘ اروندتیواری۔ صاحب بی جے پی اور کانگریس دونوں میں کرپٹ لوگ ہے وہ نہیں چاہتے کوئی اور ہمارے بیچ کھڑا ہو یہ سب کیجریوال کو پھنسانے میں لگے ہیں۔ اوم مارشل: میں آپ کے ساتھ ہوں ۔انل مہتہ: لکھا ہے کہ نمبردار پہلے خود کو بدلو پھر سسٹم بدلنا۔ منیش چودھری: سرکار نہیں تو پارٹی بھی گئیں۔ وکاس مہاجن :جی بالکل جائیے سرکار بنائیں ورنہ دوسرا موقع شاید سامنے آئے۔ رنکی شرما: آپ کو سرکار بنا کر مثال پیش کری چاہئے کچھ لوگوں نے اس رائے شماری یا ریفرنڈم کے طریقے پر سوال اٹھایا ہے یہ رائے شماری کتنی منصبانہ ہوگی؟اس کے لئے چلائی جارہی موبائل انٹر نیٹ پول پر سوال اٹھ رہے ہیں اس سے یہ کیسے یقینی ہوگا کہ وہ شخص دہلی کاووٹر ہے یا نہیں حالانکہ عام آدمی پارٹی کا کہناہے کہ اس کا انتظام اس نے پہلے ہی کرلیا ہے۔ پارٹی کے دہلی پردیش سکریٹری دلیپ پانڈے کہتے ہیں کہ بدھوار کی شام تک کل 4.10لاکھ لوگوں کی رائے مل گئی تھی۔ پارٹی نے اب تک اس بات کا خلاصہ نہیں کیا ہے کہ اس میں کتنے حمایت میں اور کتنے مخالفت میں تھے کہا تو یہ بھی جارہا ہے کہ کانگریس اور بھاجپائی بھی عام آدمی پارٹی کو الجھن میں ڈالنے کے لئے دھرا دھرا میسج بھیجوا رہے ہیں ا دھر دہلی کے سابق چیف سکریٹری اومیش سہگل نے آپ کے کنوینر کیجریوال کے ذریعے دہلی میں نئی سرکار کے قیام کے لئے جنتا کی رائے پوچھنے کے طریقے پر سوال اٹھایا ہے اور کہا ہے کہ پوری کارروائی پرعام آدمی کے قریب ایک کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ کیجریوال کو بھیجے گئے اپنے خط میں سہگل کاکہنا ہے کہ اگر دہلی کا ہرووٹر ماننے لیں ایک کروڑ ووٹر فون یا ایس ایم ایس کے ذریعے رائے بھیجتا ہے تو اس میں ایک کروڑ روپے خرچ ہوگا۔ایسے میں سوال ہے کہ آپ کو فیصلہ کرناہے کہ اور پیسے جنتا کے خرچ ہو؟ جتنا وقت نکلتا جارہا ہے اتنا ہی عام آدمی پارٹی کی نکتہ چینی ہوتی جارہی ہے۔ انا نے کیجریوال پر طنز کرتے ہوئے ان کی تحریک غیرملکی چندے پر نہیں چلتی اور لوگوں نے میرے انشن کے لئے دن رات محنت کی ہے اور پانچ پانچ روپے اکٹھے کرکے ڈیڑھ لاکھ روپیہ اکٹھا کیا ہے جس میں سے ایک لاکھ تو ٹینٹ کا خرچہ ہے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی عام آدمی پارٹی کے خلاف مورچہ کھول دیا ہے بھاجپا نیتا نتن گڈکری نے آپ پر تلخق حملہ کرتے ہوئے اروندر کیجریوال کی لیڈر شپ والی پارٹی کی سرگرمیوں کو جنوب پسندی ماؤ وادی قرار دیا ہے اورکہا ہے کہ دہلی میں سرکار بنانے کے لئے لوگوں کے خیالات اکٹھا کرنے کا قدم جمہوریت کا مذاق ہے گڈ کری کاکہناہے کہ آپ مقبولیت جنادیش کا مذاق اڑا رہے ہیں اور لوگوں سے پوچھ رہے ہیں کہ ان کا آگے کا کیا قدم ہونا چاہئے جب کانگریس نے بناشرط حمایت پیش کی ہے تو آپ سرکار کیوں نہیں بنارہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ پارٹی اور لیڈروں کا اہم کام صرف دیگر پارٹیوں پر حملہ کرنا بے بنیاد الزام لگاناہے بھاجپا میں 32 سیٹوں کی ساکھ سب سے بڑی پارٹی ابھری تھی لیکن فیریکچر مینڈیٹ کے چلتے وہ سرکار نہیں بنا سکتی بے شک آپ بھاجپا اسمبلی پارٹی کے نیتا ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا ہے کہ آپ کو28سیٹیں دے کر دوسرے بڑی پارٹی کے طور پر چنا ہے پھر ریفرنڈم کاڈھونگ کیوں رچا رہے ہو جب کہ اس کا نتیجہ پہلے ہی سے طے ہے عام آدمی پارٹی سے 14 سوال بھی پوچھے ہے آپ جنتا کو جواب دے ۔ دہلی میں سرکار بنائے گی یا نہیں؟ کانگریس کی حمایت لے گی یا نہیں؟ غیریقینی حالت میں دہلی کی ترقی رک رہی ہے اس کے لئے آپ قصوروار ہے یا نہیں؟ آپ کے ذریعے ایک طرف کانگریس پر الزام لگائے جارہے ہیں دوسری طرف کانگریس حمایت سے سرکار بنانے والی ہے؟ کیا یہ نورا کشتی ہے؟ دونوں پارٹیوں میں اندر خانے کیاسودے بازی ہوئی ہے؟ بھاجپا صاف کہہ چکی ہے سرکار نہیں بنائے گی تو ’’آپ‘‘ نے بھاجپا کو کیوں خط لکھا ہے سرکار بنانے کے لئے آپ کے ذریعے ڈرامہ کیوں رچا جارہا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔
(انل نریندر)

20 دسمبر 2013

آخر کار لوکپال بل کیلئے انا کا خواب پورا ہوا

46 سالوں کی کوششوں کے بعد آخر کار دیش کو اب ایک تاریخی لوکپال قانون مل گیا ہے۔ راجیہ سبھا میں پہلے ہی بل کو پاس کردیا تھا اور بدھ کو لوک سبھا نے بھی لوکپال و لوک آیکت بل 2013 کو صوتی ووٹ سے پاس کردیا۔ سماجوادی پارٹی کو چھوڑ کر باقی دیگر پارٹیوں خاص کر بھاجپا لیفٹ، بسپا وغیرہ نے بل کی حمایت کی ہے۔بل کا احتجاج کررہی سپا کے ممبران ایوان سے واک آؤٹ کرگئے۔2011ء میں جب انا ہزار اسی لوکپال کو لیکر دہلی کے رام لیلا میدان میں انشن پر بیٹھے تھے تبھی لگنے لگا تھا کہ وہ دن دور نہیں جب سرکار اور سیاسی پارٹیوں کو عوام کی مانگ کو ماننا پڑے گا۔ آج اگر یہ قانون بننے جارہا ہے تو اس کا سہرہ انا ہزارے کو جاتا ہے۔ یہ انہیں کی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ کانگریس بھاجپا نے بھی اس کی حمایت کرکے اچھا کیا ہے۔ ہمیں اس سلسلے میں کانگریسی ایم پی اور پارلیمنٹری سلیکٹ کمیٹی کے چیئرمین ستیہ ورت چترویدی کو نہیں بھولنا چاہئے اور ان کی تعریف کرنا سیاسی پارٹی بھی نہ بھولیں۔ اپوزیشن کے لیڈر ارون جیٹلی نے کہا کہ دو سال پہلے 27 دسمبر2011 کو اس سرکار نے لوکپال بل پر کنی کاٹ لی تھی۔ جیٹلی نے کہا بل پر عام رائے بنانے کے لئے سلیکٹ کمیٹی کے چیئرمین ستیہ ورت چترویدی نے پارٹی لائن سے بالاتر ہوکر سخت محنت کی۔ ان کی بعد سبھی مقررین نے چترویدی کی کوشش کی تعریف کی۔ دراصل جب سرکار نے اپوزیشن پارٹیوں کے خدشات کو دور کردیا اور ان کے تقریباً سارے سجھاؤ نئے بل میں شامل کرلئے تو بل روکنے کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔ بیشک لوکپال بل سے کرپشن پوری طرح سے نہیں رکے گا لیکن یہ صحیح سمت میں ایک صحیح قدم تو ہے ہی سب سے بڑی بات میری رائے میں اس بل سے ہر سطح پر پہلی بار لیڈروں اور افسروں وغیرہ کو جوابدہی ہوگی۔ اب تک تو کسی سطح پر جوابدہی طے نہیں تھی۔ جیسا کہ انا نے کہا اب میں خوش ہوں 50 فیصدی کرپشن تو مٹے گا۔ پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد بل کو صدر کو بھیجا جائے گا۔ ان کے دستخط کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔ ریاستوں میں لوکپال کی طرز پر لوک آیکت معمور ہوں گے۔ اس کے لئے متعلقہ ریاستوں کو قانون بنانے کیلئے ایک سال کا وقت دیا گیا ہے۔ ترمیم لوکپال بل میں اہم شقات اس طرح ہیں۔ لوکپال کی جانچ کے دائرے میں وزیر اعظم، ممبر پارلیمنٹ، مرکزی سرکار کے گروپ اے بی سی ڈی افسر اور عام ملازم آئیں گے۔ لوک آیکت کے دائرے میں وزیر اعلی ریاستی وزراء، ایم ایل اے اور ریاستی سرکار کے افسر ہوں گے۔ لوکپال کو کچھ معاملوں میں دیوانی عدالت کے بھی اختیار ہوں گے۔یعنی یہ سزا دے سکتا ہے۔ لوکپال کے پاس کرپٹ افسر کی پراپرٹی باقاعدہ قرق کرنے کا اختیار ہوگا۔ خاص حالت میں بدعنوانی سے کمائی پراپرٹی اور ان کی دوسری املاک یا دیگر فوائد کو ضبط کرنے کا حق ہوگا۔ مرکزی سرکار کو کرپشن کے معاملوں کی سماعت کے لئے اتنی ہی خاص عدالتوں کو قائم کرنا ہوگا جتنی لوکپال بتائیں گے۔ اگر ایک سال کے وقت میں معاملہ پورا نہیں ہوتا تو خصوصی عدالت اس کے بعد معاملے پر سماعت کرے گی اور سماعت تین مہینے میں پوری کرنی ہوگی۔ یہ میعاد تین تین مہینے کے حساب سے بڑھائی جاسکتی ہے۔ بہرحال یہ ایک تاریخی قدم ہے ، اس کا اثر ضرور ہوگا۔
(انل نریندر)

امریکہ کی داداگری اب بھارت کو قبول نہیں!

یہ پہلا واقعہ نہیں جب امریکہ کے ذریعے کسی ہندوستانی کو بے عزت کیا گیا ہو۔ یہ پہلی بار نہیں جب اپنے کسی ڈپلومیٹ کے نازیبہ برتاؤ کی وجہ سے بھارت کو نیچا نہیں دیکھنا پڑا ہو۔ نیویارک میں بھارت کی ڈپٹی ناظم العمور دیویانی کھوبرا گڑھے پر الزام ہے کہ انہوں نے نوکرانی کے ویزا درخواست میں جعلسازی کی اور امریکی قانون کے مطابق تنخواہ بھتے ، چھٹیاں وغیرہ نہ دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا لیکن اس کے بعد جو ہوا وہ نہ صرف غیر انسانی تھا اور بھارت کو بے عزت کیا گیا جو کسی بھی حالت میں قابل قبول نہیں۔ اپنی بچی کو اسکول چھوڑنے جارہی آئی ایف ایس افسر دیویانی کو امریکی پولیس نے پکڑ لیا اور کپڑے اتروا کر تلاشی لی۔ بدسلوکی کا سلسلہ یہیں نہیں رکا۔ اس کو جیل میں نشیڑیوں اور خطرناک قیدیوں کے ساتھ رکھا گیا اور طوائفوں کے ساتھ قطار میں کھڑا کیا گیا۔ وہ اپنی بچی کو اسکول سے لانے کی دہائی دیتی رہی مگر امریکی پولیس نے نہیں سنی۔ اب سوال یہ کھڑا ہوتا ہے کہ کیا بھارت دیش کی نمائندگی کرنے والی کسی افسر کے ساتھ قانونی کارروائی کا یہ عمل جائز ہے؟ دوسرا سوال انسانی حقوق کا جھنڈا اٹھانے کا دعوی کرنے والے امریکہ یہ غیر انسانی رویہ بین الاقوامی قانون کے خلاف نہیں ہے؟ بغیر دوسرے فریق کی بات جانے صرف شبہ کی بنا پر کسی دوسرے دیش کے افسر کو پکڑ کر اس کے ساتھ خطرناک جرائم پیشہ لوگوں جیسا سلوک کیا جانا کیا بین الاقوامی قانونی کی خلاف ورزی نہیں ہے؟سابق صدر ڈاکٹر کلام کو بھی سکیورٹی کے نام پر بے عزت کیا گیا تھا۔ این ڈی اے کے عہد میں وزیر دفاع رہے جارج فرنانڈیز سے بھی بد تمیزی کی گئی تھی۔ فلم اداکار شاہ رخ خان کو2001 میں محض مسلم نام کے سبب روک لیا گیا۔ اس سے زیادہ بدقسمتی کیا ہوگی کہ اس دہشت گردانہ واقعہ کے بعد بنی اپنی فلم ’مائی نیم اس خان‘ کے پرموشن کے لئے شاہ رخ خان وہاں گئے تھے اور بھی کئی معاملے ہیں فطری طور پر بھارت میں اس معاملے میں زبردست ناراضگی ہونی ہی تھی۔ پہلے معاملوں میں بھارت نے مناسب جواب نہیں دیا لیکن اس مرتبہ حکومت ہند نے وجہ جو بھی رہی ہو ، طے کیا ہے کہ امریکہ کو اسی زبان میں جواب دیا جائے جو وہ اچھی طرح سے سمجھتی ہے۔ بھارت نے سخت اعتراض جتاتے ہوئے امریکی سفارتخانے اور اس کے حکام ملازمین پر سختی برتنی شروع کردی ہے اور خاص مراعات بھی لے لی ہیں۔ امریکی کونسل خانے کے ڈپلومیٹ مرکزی سرکار کی طر ف سے جاری شناختی کارڈ بھی لوٹانے کو کہا گیا ہے۔ امریکی ملازمین اور رشتے داروں کو دیش کے ہوائی اڈوں کے اسپیشل پاس بھی منسوخ ہوں گے۔ امریکی سفارتخانے میں تعینات ہندوستانی اسٹاف کی سیلری کی بھی تفصیلات مانگی گئی ہیں۔ امریکی سفارتکاروں کے گھر کی نوکرانی اور نوکر کی تنخواہ کی جانکاری دینے کو کہا گیا ہے۔ اس سال کے علاوہ لوک سبھا اسپیکر میرا کمار اور وزیر داخلہ سشیل کمار شندے اور قومی صلاحکار شیو شنکر مینن، نریندر مودی اور راہل گاندھی نے امریکی نمائندہ وفد سے ملاقات کرنے سے انکار کردیا ۔ ان اقدامات سے بھارت نے صاف پیغام دیا ہے کہ وہ ہندوستانی سفرا کے ساتھ بدتمیزی کا برتاؤ امریکہ ہلکے میں نہ لے۔ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ پہلے امریکہ چوری کرے اور پھر سینا زوری۔ امریکی افسر اب بھی کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے قانونی خانہ پوری کے تحت کام کیا ہے۔ ویزا میں غلطی اور نوکرانی کو واجب تنخواہ نہ دینا وغیرہ کے الزام آپ کسی عورت و کسی ڈپلومیٹ خاتون کے کپڑے اتروا کر سڑک پر ہتھکڑی لگاکر گھمانا کونسی قانونی کتاب میں لکھا ہوا ہے؟ چاہے وہ لوک سبھا کا چناؤ کا دبدبہ رہا ہو یا چاہے بھاجپا کا دباؤ رہا ہو اس بار بھارت سرکار نے سخت رخ اپنایا ہے۔ ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ دنیا کے سب سے بڑے دادا سمجھے جانے والے امریکہ کے خلاف اتنی جرأت دکھانا واقعی میں کچھ حوصلہ تو دکھایا ہے۔ایسا ہی برتاؤپاکستان بھی ہندوستانی ڈپلومیٹ سے کرتا رہا ہے۔ امریکہ کو سخت پیغام دینے سے شاید پاکستان بھی سمجھ جائے۔ بس اب اور نہیں۔ جس طرح امریکہ اپنے قوانین کو سنجیدگی سے لیتا ہے اسی طرح اسے کارروائی کی مریادہ کا بھی دھیان رکھنا چاہئے۔ امریکہ کو بلا شرط معافی مانگنی چاہئے اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کرنی ہوگی۔
(انل نریندر)

19 دسمبر 2013

کبھی نہ ختم ہونے والے اروند کیجریوال کے ڈرامے!

دہلی کے باشندے ان دنوں چوطرفہ مسائل سے گھرے ہوئے ہیں۔ ایک تو دہلی میں بڑھتا کوہرا، صبح شام چھایا رہتا ہے کہ گھروں سے نکلنا دشوار ہوگیا ہے۔ جہازوں کی پروازیں منسوخ ہورہی ہیں۔ ٹرین منسوخ ہورہی ہیں یا گھنٹوں لیٹ چل رہی ہیں۔ مہنگائی پچھلے14 ماہ میں اپنی سب سے اونچی سطح پر پہنچ گئی ہے۔رہی سہی کثر کیجریوال اینڈ کمپنی نے اپنے ڈراموں سے نکال دی ہے۔ کانگریس کی بنا شرط حمایت کے بعد بھی ’آپ‘ پارٹی ڈرامہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ دہلی میں سرکار نہیں بن پارہی ہے۔ مشکلوں کے باوجود مرکز ی سرکار دہلی میں صدر راج لگانے میں جلد بازی میں دکھائی نہیں پڑتی اور وزارت داخلہ میں سرکار بنانے کے لئے متبادل پر غور خوض جاری ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عام آدمی پارٹی کے لیڈر اروند کیجریوال نے سرکار بنانے سے ابھی تک انکار نہیں کیا ہے بلکہ صلاح مشورہ کرنے کے لئے اور وقت مانگا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ کے ایک سینئر افسر نے بتایا دہلی میں جلد صدر راج لگانے کی کوئی آئینی مجبوری نہیں ہے۔ 10 دسمبر کو صدر نے کامیاب ممبران اسمبلی کی فہرست کو نوٹی فائی کر دیا ہے۔ اس سے اسمبلی وجود میں آگئی ہے۔ ان کے مطابق دہلی میں بدلتے سیاسی حالات پر نظر رکھی جارہی ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کسی پارٹی کی سرکار نہ بننے کی صورت میں اسمبلی کو معطل رکھتے ہوئے صدر راج لگانے کی سفارش کی ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے سنیچر کو ہی دہلی کی سیاسی صورتحال کے بارے میں مرکزی حکومت کو واقف کرادیا تھا۔ دہلی میں سرکار کی تشکیل کو لیکر اب گیند ایک پالے سے دوسرے پالے میں گھوم رہی ہے۔ کانگریس نے عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال کی گیند کو ایک بار پھر انہی کی عدالت میں ڈال دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ’آپ‘ کیا کرے گی؟ کانگریس سکریٹری جنرل اور دہلی کے انچارج شکیل احمد نے کیجریوال کو ایک خط لکھ کر بیحد سادگی اور نرم گوئی سے کیجریوال کو ان کی مانگیں مان لینے کا پیغام بھیج دیا ہے۔ اپنے خط میں شکیل احمد نے ان18 اشوز کا بھی تذکرہ کیا ہے جن کا ’آپ‘ پارٹی نے حوالہ دیا تھا۔ شکیل نے کہا ایک بار حکومت قائم ہوجانے کے بعد18 میں سے 16 اشوز پر عمل درآمد دہلی حکومت خود کرسکتی ہے۔ یعنی اگر کیجریوال حکومت بناتے ہیں تو ان کی سرکار ان اشوز پر تعمیل کرانے میں اہل ہے۔ اس میں پارلیمنٹ یا مرکزی سرکار کی مداخلت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ باقی بچے دو سوال جن میں جن لوکپال بل اور دہلی کو مکمل ریاست کا درجہ دینا شامل ہے، یہ معاملے دہلی سرکار کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔
مرکزی حکومت کے دائرے والے ان دونوں اشوز پر کانگریس پارٹی آپ کا ساتھ دے گی۔ جب کانگریس نے اتنی کھلی حمایت کردی ہے تو پتہ نہیں اور کیا چاہتے ہیں اروند کیجریوال۔ پھر بھی سرکار بنانے میں آنا کانی کررہے ہیں۔ کانگریس نیتا اور سابق وزیر اعلی شیلا دیکشت نے پیر کو بھاجپا و’آپ‘ پر سیدھے رائے زنی کرتے ہوئے کہا کہ چناؤ میں انہوں نے ووٹ پانے کے لئے ایسے وعدے کئے ہیں جو پورے نہیں کرسکتے۔اس وجہ سے وہ سرکار بنانے کے لئے آگے نہیں آ پارہے ہیں۔ محترمہ شیلا دیکشت نے کہا کہ اب دوبارہ سے چناؤ ہوتے ہیں تو کانگریس پھر اقتدار میں آجائے گی۰ چناؤ کے بعد سے ہی دہلی میں عدم استحکام کا خطرہ منڈرارہا ہے۔ اس دوران ارون کیجریوال اور ان کی ’آپ‘ پارٹی کے ڈرامے ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں اور یہ ان کی چال ہے۔ پچھلے 10 دنوں سے ’آپ‘ یہ طے نہیں کرپائی کے وہ سرکار بنائے گی یا نہیں؟ دہلی کے تیزی سے بدلتے سیاسی پس منظر میں کہیں نہ کہیں عام آدمی پارٹی پھنستی جارہی ہے۔ چاروں طرف سے یہ سوال اٹھنے لگے ہیں کہ آپ کو سرکار بنانے کے بعد کم سے کم بجلی کے دام گھٹانے اور ہر خاندان کو700 لیٹر پانی مفت دینے جیسے چناوی وعدوں پر کام شروع کرنا چاہئے۔ اب آپ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ایک بار پھر جنتا کے دربار میں جائے گی۔ آپ نیتا عام جنتا سے پوچھیں گے کیا ہم سرکار بنائیں یا نہیں؟ کیا کانگریس پارٹی سے حمایت لے لیں؟ سرکار بن گئی اور کانگریس پارٹی کو آپ کا ایجنڈہ پسند نہیں آیا تو وہ ایک دو ماہ میں حمایت واپس لے لے؟ مرکز کے جن اشوز پر کانگریس نے ساتھ دینے کی بات کہی ہے اس پر بھروسہ کریں یا نہیں؟ کہیں یہ حمایت آنے والے چناؤ میں خودکشی تو نہیں ثابت ہوگی؟ کرپشن کی فائلیں جب پلٹی جائیں گی تو نیتا جیل بھی جائیں گے ایسے میں کانگریس ان کا ساتھ چھوڑدے گی تو؟ ایک بار پھر وہیں پہنچ گئے ہیں جہاں سے یہ سیاسی دنگل شروع ہوا تھا۔ دیکھیں کیجریوال آگے کونسا ڈرامہ کرتے ہیں۔
(انل نریندر)

علماؤں کا انتہا پسندی و دہشت گردی کے خلاف فتویٰ لائق خیر مقدم!

ہم جمعیت العلمائے ہند کے ذریعے بلائی گئی سہ روزہ عالمی امن کانفرنس کی تعریف کرتے ہیں۔ رام لیلا میدان میں منعقدہ اختتامی ریلی میں سب سے زیادہ نمائندے پاکستان سے آئے تھے۔ دوسرے نمبر پر بنگلہ دیش، انگلینڈ، نیپال، سری لنکا، مال دیپ، میانمار کے نمائندے موجود تھے۔ شروعات کے دو دن تک یہ کانفرنس دارالعلوم دیوبند میں ہوئی اور ایتوار کو اس کا اختتام دہلی کے رام لیلا میدان میں ہوا۔ اختتام کے دن کئی اتفاق رائے سے ریزولوشن پاس ہوئے مگر سب سے خاص تھا دہشت گردی کی جم کر مذمت کرنا اور ا س کے خلاف ایک آواز میں فتویٰ جاری کرنا۔ یہ پہلا موقعہ ہے جب بھارت اور اس کے پڑوسی ملکوں کے اسلامی علماء دہشت گردی کے خلاف ایک اسٹیج پر جمع ہوکر ایک رائے پر متفق ہوئے۔ کانفرنس کی صدارت دارالعلوم دیوبند کے مہتمم اور جمعیت العلماء ہند کے صدر مولانا محمد سید عثمان منصوری نے کی تھی اور اس کو چلانے کا کام جمعیت العلماء ہند کے سابق ایم پی اورجنرل سکریٹری محمود اسد مدنی نے کی۔ فتویٰ جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نہ صرف تباہی ہورہی ہے بلکہ یہ پوری طرح سے اسلام کے خلاف ہے۔ پاکستان جمعیت العلمائے اسلام کے صدر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہمیں جنگ سے پرہیز کرنا چاہئے اور دونوں ملکوں کے سیاستدانوں کو چاہئے کہ وہ بات چیت کے ذریعے کشمیر مسئلے کا حل کریں تاکہ امن قائم ہوسکے۔سری لنکا کے مفتی ریاض صاحب نے کہا دہشت گردی کی وجہ سے ترقی میں رکاوٹ آرہی ہے۔ کئی مقررین نے کہا اس وقت دنیا ایک طرح سے گلوبن ولیج بن چکی ہے جس میں چھوٹی چھوٹی باتوں سے دشمنی بڑھتی ہے اور اگر اس میں بات چیت کی گنجائش ہو تو دشمنوں کو مات دی جاسکتی ہے۔ اسی طرح نیپال سے آئے مولانا خالد صدیقی اور مالدیپ سے شیخ فہمی اور میانمار سے مولانا نور محمد نے بھی دہشت گردی کے اسباب کا پتہ لگانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
کانفرنس میں مظفر نگر فسادات پر پاکستان سمیت تقریباً سبھی ملکوں سے آئے علمائے کرام نے نہ صرف افسوس ظاہر کیا بلکہ فسادات کے لئے اترپردیش سرکار کی جم کر کھنچائی کی۔ ایک برس پہلے دارالعلوم دیوبند نے دہشت گردی کے خلاف ریزولوشن پاس کیا تھا جس میں قریب دنیا بھر سے 800 علمائے کرام نے شرکت کی تھی لیکن ان تجاویز کو سختی سے نافذ کرنے کے لئے اس کانفرنس کو بلایا گیا تھا۔ ہم دارالعلوم دیوبند کو اس کامیاب امن کانفرنس اور اس میں لائے گئے ریزولوشن کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
(انل نریندر)

18 دسمبر 2013

آپ کی سنئے اناکورووں کے ساتھ ہیں:لوکپال بل پر اختلافات

لوکپال بل کے لئے ایک ساتھ تحریک چھیرنے والے انا ہزارے اور اروند کیجریوال کی اسی بل کو لیکر اختلافات سامنے آگئے ہیں یا یوں کہیں کہ اسکو لیکر دونوں میں ٹھن گئی ہے۔ اس کے پہلے بل راجیہ سبھا میں اتفاق رائے سے پاس ہو جس کے آثار اب بن گئے ہیں، عام آدمی پارٹی اور انا ہزارے کے درمیان تلخ بحث چھڑی ہوئی ہے۔ آپ نے تو لوکپال اشو پر خود کو پانڈو اور انا کو ایک طرح سے سنگھ سے جوڑ کر کورووں کا ساتھ دینے والا بتادیا۔ انا مرکزی سرکار کے لائے گئے لوکپال بل کی جہاں حمایت کررہے ہیں وہیں کیجریوال اسے اب جوگپال(مذاقیہ بل) بتا رہے ہیں۔ آپ پارٹی کے بڑبولے لیڈر کمار وشواس نے انا کے رخ پر فیس بک پر لکھا مہا سمر میں کبھی کبھی ایسا وقت آتا ہے جب بھیشم پتاما کے مون اور گورو درون کے سنگھاسن سے متفق ہوجانے پر بھی ٹکراؤ کے راستے پر چل کر پانچ پانڈوں کو جنگ جاری رکھنی پڑتی ہے۔ آپ پارٹی جنگ جاری رکھے گی۔ اسی درمیان اروند کیجریوال نے پھرموجودہ لوکپال کو جوگپال بتاتے ہوئے کہا کہ اس بل سے منتری تو چھوڑیئے چوہا بھی جیل نہیں جاسکے گا۔ اس بل سے کرپشن نہیں روکے گا بلکہ یہ بدعنوانوں کو بچانے کا کام کرے گا۔ دوسری طرف انا ہزارے نے کہا کہ لگتا ہے کہ اروند کیجریوال نے اس بل کو اب تک ٹھیک سے نہیں پڑھا ہے۔ انہیں ٹھیک سے پڑھنا چاہئے۔ اگر عام آدمی پارٹی کو سرکاری لوکپال پسند نہیں آرہا ہے تو وہ اس میں کمیاں دور کرنے کے لئے آندولن چھیڑیں۔ ادھر انا ہزارے کا انشن ابھی جاری ہے۔ اس دوران ان کا وزن بھی مسلسل گھٹ رہا ہے۔ بلڈپریشر لگاتار بڑھ رہا ہے۔ حمایت میں عوامی سیلاب بھی امڑ رہا ہے۔ دہلی سمیت کئی ریاستوں سے ہزاروں لوگ رالیگن سدھی پہنچے ہیں۔ ممبئی میں ڈبے والوں نے بھی انشن میں حصہ لیا۔ دونوں کے بیچ نااتفاقی کے 8 نکتے ہیں۔ تقرری، وزیر اعظم، لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر، اسپیکر، چیف جسٹس اور ایک اور عدلیہ کمیٹی چناؤ کرے گی۔ اس میں نیتاؤں کی اکثریت ہے جبکہ لوکپال کو ان کے خلاف ہی جانچ کرنی ہے۔ برخاستگی: اس کے لئے سرکار یا 100 ایم پی سپریم کورٹ میں شکایت کرسکیں گے۔ اس سے لوکپال کو درخواست کرنے کا حق سرکار اور نیتاؤں کے پاس ہی رہے گا۔جانچ : لوکپال سی بی آئی سمیت کسی بھی جانچ ایجنسی سے جانچ کرا سکے گی لیکن اس کے ہاتھ میں انتظامی کنٹرول نہیں رہے گا یعنی جانچ افسروں کا تبادلہ ، تقرری سرکار کے ہاتھ نہیں رہے گی۔ وہسل گلیمر پروٹکشن: سرکار نے کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے والے کو تحفظ دینے کے لئے الگ بل بنایا ہے۔ اسے اسی بل کا حصہ ہونا چاہئے۔ سٹی زن چارٹر:سرکار نے ضروری خدمات کے وقت میں پورا کرنے کیلئے الگ سے بل بنایا ہے جبکہ اسے بل کا حصہ بنانا چاہئے تھا تاکہ لوکپال افسروں کے خلاف کارروائی کرسکے۔ راجیوں میں لوک آیکت: لوک آیکتوں کی تقرریوں کا مسئلہ ریاستوں کے ضمیر پر چھوڑا گیا ہے۔ اگست2011ء میں پارلیمنٹ میں اتفاق رائے سے یہ یقین دہانی کرائی تھی ۔ فرضی شکایتیں:جھوٹی یا فرضی شکایتیں کرنے والے کو ایک سال کی جیل ہوسکتی ہے۔ اس کے ڈر سے لوکپال میں صحیح شکایتیں نہیں ہوں گی۔ جن لوکپال میں جرمانے کی سہولت ہے جیل کی نہیں آخری ہے دائرے کو لیکر عدلیہ کے ساتھ ممبران پارلیمنٹ کے پارلیمنٹ میں تقریر و ووٹ کے معاملوں کو الگ رکھا گیا وہیں جن لوکپال بل میں ججوں اور ممبران سمیت سبھی لوک سیوکوں کو رکھا گیا ہے۔
(انل نریندر)

ہم جنسی جرم یا حق؟

جنسی رشتوں کو جائز ٹھہرانے والے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ نے پلٹ کر اس مسئلے پر وسیع بحث اور توجہ مرکوز کردی ہے۔ جہاں ایک طرف ترقی پسند کہے جانے والے طبقے نے اسے خوش آئین قراردیا ہے وہیں مذہبی تنظیموں وا طفال حق کے لئے کام کررہیں انجمنوں نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں صاف کہا ہے کہ جب تک آئی پی سی کی دفعہ370 وجود میں ہے جنسی استحصال و رشتوں کو قانونی حیثیت نہیں دی جاسکتی۔ اگر پارلیمنٹ چاہے تو اس پر بحث کرکے مناسب فیصلے لے سکتی ہے۔ دیش کی سپریم عدالت نے دہلی ہائی کورٹ کے سال2009 کے فیصلے کو ٹال دیا۔ 1861 کے اس قانون کو نہ صرف جائز قراردیا بلکہ ہندوستانی معاشرے اور مذہبی جذبات کا بھی حوالہ دیا ہے۔ اصل میں جنسی رشتوں کو جائز قراردینے والی دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے پر بہت سی مذہبی اور کلچر تنظیموں نے چنوتی دی تھی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے یوگ گورو بابا رام دیو نے کہا کہ میں اس فیصلے کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ ہم جنسی انسانیت حق کی خلاف ورزی ہے اور غیر فطری ہے۔ یہ ایک دماغی شرارت کا حصہ ہے جس کا علاج ہے۔ بابا رام دیو نے ہم جنسی کو جینیٹک کہی جانے والی دلیل کو غلط بتایا۔ انہوں نے کہا اگر ہمارے ماں باپ ہم جنس ہوتے تو ہماری پیدائش نہیں ہوتی۔ یہ غیر قدرتی ہے اور ایک بری عادت ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کا سہارنپور ،دیوبند کی اسلامی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی عبدالقاسم نعمانی نے فیصلے کاخیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ انسانیت اور معاشرے کے تقاضوں کے مطابق ہے جس پر سختی سے عمل کیا جانا چاہئے۔ مذہب اسلام میں ہم جنسی جرم کی بہت بڑ ی سزا ہے اور دوسری طرف ہم جنسوں کی لڑائی لڑنے والی ریتو سین نے کورٹ کے فیصلے پر تعجب ظاہر کرتے ہوئے کہا فیصلے سے ہمارا حق ختم ہوگیا ہے جبکہ آئین میں ہم سبھی کو اپنے طریقے سے جینے کا حق ہے۔ہیجڑہ تنظیم استتو کی چیف لکشمی پانڈے نے کہا آج ہمیں ہندوستانی ہونے پر دکھ ہے کیونکہ ہمیں وہ حق نہیں ہے جو عام ہندوستانی شہری کو حاصل ہے۔ فیصلے سے ہیجڑوں اور ہم جنس افراد پر ظلم بڑھے گا۔ متر ٹرسٹ سے جڑی ایک ہم جنس عورت روپانی نے کہا کہ 2009 کے کورٹ کے فیصلے کے بعد لوگوں کی ہمارے بارے میں رائے بدلی تھی۔ پولیس بھی کم پریشان کرتی تھی لیکن اب پولیس ہمیں زیادہ پریشان کرے گی۔اگر ہم نمبروں کی بات کریں تو بھارت میں تقریباً 25 لاکھ ہم جنس ہیں جن میں 1.7 لاکھ ہم جنس HIV سے متاثر ہیں۔ کچھ دیشوں میں 1 سے14 سال تک کی سزا ہے اور کچھ دیشوں میں ہم جنسی کرنے والوں کو موت کی سزا تک دی جاتی ہے۔ تقریباً77ملکوں میں یہ جرم مانا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے آنے کے بعد جس طرح سے کانگریس صدر سونیا گاندھی اور نائب صدر راہل گاندھی نے ان لوگوں کی آزادی سے جڑا معاملہ بتایا ہے اس کے بعد اس اشو پر کانگریس پارٹی اور سرکار میں بحث تیز ہوگئی ہے کہ ہم جنسوں کو راحت پہنچانے کے لئے شاید سرکار ایک آرڈیننس لانے کی تیاری شروع کررہی ہے۔ غور طلب ہے راہل گاندھی نے کہا کہ ان کی نجی رائے میں ہائی کورٹ کا فیصلہ ٹھیک تھا۔ اس کے بعد وزیر قانون کپل سبل نے اس میں راحت کا اشارہ دیا اور وزارت قانون کے ذرائع کاکہناہے سرکار جلد ہی اس بارے میں آرڈیننس لا سکتی ہے۔ ادھر بھاجپا نے اپنا موقف صاف کرنے سے بچتے ہوئے گیند سرکار کے پالے میں ڈال دی اور کہا اگر سرکار اس بارے میں تجویز لانا چاہتی ہے تو وہ اس معاملے پر آل پارٹی میٹنگ بلائے۔ سشما سوراج نے کہا سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ پارلیمنٹ اس معاملے کو طے کر سکتی ہے۔ ہم جنسی کی وکالت کرنے والے کہتے ہیں کہ دو بالغ اگر تنہائی میں آپس میں تعلق بناتے ہیں تو موجودہ ترقی پسند دور میں اس میں قانونی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے۔ ویسے بھی ہمارے آئین کا یہ بنیادی حق ہے۔ آپ کی آزادی حد وہاں تک ہے جہاں سے دوسروں کی آزادی شروع ہوتی ہے۔ اس بنیاد پر اگر کچھ لوگ کورٹ کے فیصلے کی تلخ نکتہ چینی کررہے ہیں تو ان کی اظہار آزادی کا بھی احترام کیا جانا چاہئے لیکن اس بات کابھی خیال رکھا جانا چاہئے کہ نہ توبھارتیہ سماج اور نہ ہی ہمارے مذہب ایسے رشتوں کو جائز مانتے ہیں۔ فرض کیجئے اگر سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ٹھیک طریقے سے عمل ہوتا تب بھی اس کی اتنی ہی نکتہ چینی ہوتی۔ اب مناسب یہ ہی ہوگا کہ سپریم کورٹ نے 370 کو ہٹانے یا اس میں ضروری ردوبدل کرنے کی ذمہ داری پارلیمنٹ پر چھوڑی ہے تو اسے اپنا رول نبھانا چاہئے ۔ ساتھ ہی یہ بھی غور کرنا چاہئے آخر کیا وجہ ہے کہ جن اشوز پر پارلیمنٹ میں زبردست غور خوض ہونا چاہئے وہ عدالتی کارروائی کا اشو بنے ہی کیوں؟ 
(انل نریندر)

17 دسمبر 2013

آخر کب ملے گا نربھیہ کو انصاف؟

16 دسمبر 2012ء کی وہ سردی کی رات سڑک کنارے بغیر کپڑوں کے پڑے پیرا میڈیکل کی طالبہ و اس کا دوست وہ سین آنکھوں کے سامنے ابھی بھی لوگوں کے دلوں میں تازہ ہوگا۔ شاید ہو کبھی اسے بھول پائیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ کل ہی کو تو بات ہے۔ نربھیہ ٹریجڈی کو ایک سال ہوگیا ہے لیکن اس سال میں کیا بدلا؟ بیشک کئی سیکٹروں میں جیسے بہتر پولیسنگ عورتوں کی حفاظت کے لئے اٹھائے گئے اقدام، قانون وغیرہ وغیرہ میں ضرور تبدیلی آئی ہے لیکن درندگی میں کمی نہیں آئی۔ دیش کو ہلا دینے والی وسنت وہار گینگ ریپ کی واردات اور اس کے بعد اٹھائے گئے قدموں کے باوجود ہ دہلی والے نہیں سدھر پائے ہیں۔ دہلی میں اس کے بعد بہت سے بدفعلی کے واقعات ہوئے ہیں جن کی تعداد پچھلے ریکارڈ توڑ گئی ہے۔ یہ جان کار حیرانی ہوگی کہ نربھیہ معاملے کے بعد دہلی میں بدفعلی کے واقعات دوگنا ہوئے ہیں جبکہ چھیڑ خانی کے معاملوں میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ روزانہ تین چار ایسے واقعات، پانچ سات چھیڑ خانی کے کیس درج ہوتے ہیں۔ دوسری طرف اہم بات یہ بھی ہے کہ پہلے جہاں عورتیں لڑکیاں اپنے ساتھ ہوئی ذیادتی کی شکایت سے کترایا کرتی تھیں اور بچتی تھیں وہیں اب وہ اپنے ساتھ ہوئے واقعات کے بارے میں بتانے لگی ہیں۔ یہ نربھیہ معاملے کا ہی اثر مانا جاسکتا ہے کہ راجدھانی کے ہر تھانے میں لیڈیز ڈیکس نے کام کرنا شروع کردیا ہے جبکہ شراب خانوں، سنیما ہال، مال و بس اسٹاپ سے نکلنے والے لورس جوڑوں کو مانگ کے مطابق اب پی سی آر ان کے گھر تک چھوڑتی ہے۔ وہ بدنصیب جینا چاہتی تھی، ہسپتال میں علاج کے دوران گذرے 13 دن میں اس نے اس کا ثبوت بھی دیا لیکن دردناک حادثے نے اسے اتنے درد دئے کے اسے بچانا مشکل ہوگیا تھا۔ سنگاپور جانے سے پہلے اسنے محض تین بار اپنی بات لکھ کر سمجھانے کی کوشش کی۔ تینوں بار اس نے یہ ہی سوال کیا میرے پر حملہ کرنے والے قصورواروں کو سزا ملی یا نہیں؟ لیکن دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ اس واقعہ کو ایک سال گزرنے کے بعد بھی قصورواروں کے مقدمے عدالتوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ہائی کورٹ نے بھلے ہی سماعت روزانہ کرنے کا فیصلہ لیا ہو لیکن بچاؤ فریق کے رویئے کے چلتے سماعت لمبی کھنچتی جارہی ہے۔ ملزمان کے وکیل کبھی دستاویز کے ہندی ترجمے کو لیکر معاملہ لٹکا رہے ہیں تو کوئی دوسرا بہانا بنا کر عدالت سے غیر حاضر ہوجاتے ہیں۔ 23 ستمبر سے ہائی کورٹ کی سماعت شروع ہوئی لیکن مقدمہ درج ہونے کے بعد کارروائی نومبر سے شروع ہوپائی تھی۔ سرکاری وکیل نے محض8 دنوں میں جریح پوری کرلی لیکن بچاؤ فریق32 دنوں میں جریح شروع نہیں کرپایا تھا۔ ہائی کورٹ کی جلد سماعت کے فیصلے سے لگ رہا تھا کہ نومبر تک معاملے کا نپٹارہ ہوجائے گا اور 16 دسمبر سے پہلے نربھیہ کے قصورواروں کو سزا مل جائے گی مگر بچاؤ فریق نے ایسا قانونی داؤ چلا کہ اب تک مقدمے میں جریح نہیں ہوپائی۔ اس کے بعد ابھی سپریم کورٹ باقی ہے پتہ نہیں قصورواروں کو کب سزا ملے گی؟ نربھیہ کی قربانی بیکار نہیں جائے گی سسٹم میں بہتری ہورہی ہے لیکن ابھی کافی خامیاں ہیں ان پر سبھی کو توجہ دینی ہوگی۔ دہلی ریپ کیپیٹل آف انڈیا بنتی جارہی ہے۔ اکیلے پولیس قصوروار نہیں سماج بھی اتنا ہی ذمہ دار ہے۔ ضرورت لوگوں کی ذہنیت بدلنے کی ہے۔ عورتوں کے تئیں عزت بحال کرنے کی ہے، کچھ کا خیال ہے ایک بار نربھیہ کانڈ کے قصورواروں کو پھانسی پر لٹکادیا جائے تو شاید حالت میں بہتری آئے لیکن سوال یہ ہے کب لٹکیں گے یہ پھانسی پر؟ اور کب ملے گا نربھیہ کو انصاف؟
(انل نریندر)

دہشت گردوں پر کیس واپس نہیں لے سکتی اکھلیش حکومت!

یہ دکھ کی بات ہے کہ اترپردیش کی سماجوادی حکومت کو عدالتی جھاڑ سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور انہیں ان کی کوئی پرواہ بھی نہیں۔ اکھلیش سرکار کو اکثر پھٹکاریں لگتی ہی رہتی ہیں۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے جہاں دہشت گردی کے واقعات میں ملزمان پر مقدمے چل رہے ہیں ان کو واپس لینے کو لیکر یہ جھاڑ لگائی گئی وہیں سپریم کورٹ نے مظفر نگر اور شاملی فسادات کے بعد راحت کیمپ میں رہنے والے 39 بچوں کی موت کے معاملے میں تشویش جتاتے ہوئے یوپی سرکار کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ کیمپ میں رہنے والوں کے لئے سردی کے پیش نظر تمام سہولیات مہیا کرائے۔ چیف جسٹس پی ۔سداشیوم اور جسٹس رنجن گوگئی کی بنچ نے معاملے کو بیحد سنجیدگی سے لیتے ہوئے کہا بچوں کی موت کے سلسلے میں میڈیا رپورٹ کی سچائی کا پتہ لگایا جائے۔ دوسرا کرارا جھٹکا الہ آباد ہائی کورٹ کے ذریعے19 لوگوں کے خلاف دہشت گردی کے معاملے واپس لینے کے اس کے فیصلے کو منسوخ کرنا ، ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کے خلاف مرکزی دفعات کے تحت معاملے درج ہوئے ہیں اس لئے مرکزی حکومت کی اجازت کے بغیر ریاستی سرکار معاملے واپس نہیں لے سکتی۔ جسٹس دیوی پرساد سنگھ، جسٹس اجے لامبا اور جسٹس اشوک پال سنگھ کی بنچ نے یہ فیصلہ دیتے ہوئے صاف کیا کہ دہشت گردی کے واقعات یا ملک کی بغاوت کے الزامات کے مقدمے واپس لینے کے لئے ٹھوس اسباب ہونے چاہئیں۔ اگر سرکار بغیر کوئی وجہ بتائے مقدمے واپس لینے کا فرمان دیتی ہے تو سرکاری وکیل کو اپنی آزادانہ رائے رکھنی چاہئے۔ 96 صفحات کا یہ فیصلہ ایک بنچ کے معاملے سے جڑا ہے اس سے پہلے معاملے کی سماعت کررہی ایک بنچ نے چار قانونی سوال طے کرتے ہوئے جواب کے لئے معاملے کو سب بنچ کو بھیجا تھا۔ ریاستی سرکار کے لئے یہ ایک سیاسی جھٹکا تو ہے ہی کیونکہ وہ مظفر نگر فسادات کے بعد سماجوادی پارٹی اقلیتوں کا بھروسہ جیتنے کی پرزور کوشش کررہی ہے اس فیصلے سے اقلیتیں تو خوش نہیں ہوں گی ساتھ ہی سرکار مخالف طاقتوں کو اپنی سازشیں رچنے کا موقعہ ضرور مل جائے گا۔ ریاستی سرکار اقلیتوں کی خوش آمدی میں لگی ہوئی ہے کیونکہ اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ بے قصور مسلم لڑکوں کے خلاف درج معاملے واپس لے لے گی۔ اسی سلسلے میں اس نے2007ء میں لکھنؤ ، وارانسی اور فیض آباد میں ہوئے فسادات کے سلسلے میں گرفتار 19 لوگوں کے خلاف معاملے واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔ آتنک واد دیش کے لئے سب سے بڑے خطروں میں سے ایک ہے لیکن پورے کانڈ میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہماری سیاسی لیڈر شپ ووٹ بینک پالیٹکس کے چلتے ان برننگ اشوز سے نمٹنے کے لئے کتنی سنجیدہ ہے۔ یہ صحیح ہے کہ کسی بے قصور لڑکے کو محض فائل کی خانہ پوری کرنے کے لئے زبردستی کسی معاملے میں خاص کر آتنکی و ملک کی بغاوت کیس میں قطعی پھنسایا نہیں جانا چاہئے لیکن ملزم بے قصور ہے یا قصور وار یہ طے کرنا عدالتوں کا کام ہے۔ اکھلیش سرکار کی اپنی غیر جانبدارانہ ساکھ کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایسے معاملوں کو عدالتوں پر چھوڑ دیں۔ بار بار پھٹکار سے تو اترپردیش کی سماجوادی پارٹی بے نقاب الگ ہورہی ہے اور چاروں طرف سے وہ اپنے اوپر تھو تھو کروا رہی ہے۔
(انل نریندر)

15 دسمبر 2013

تیسری بار ڈاکٹر ہرش ودھن کے ہاتھ سے چیف منسٹر کی کرسی پھسلی!

اپنی اپنی رائے ہوسکتی ہے میری رائے میں بی جے پی نے دہلی میں مینڈیٹ کو ایک طرح سے انکار کردیا ہے۔بی جے پی کے سی ایم امیدوار ڈاکٹر ہرش وردھن نے لیفٹیننٹ گورنر کو آگاہ کردیا ہے کہ ان کی پارٹی کیونکہ اکثریت میں نہیں ہے اس لئے سرکار بنانے میں لاچار ہے اور انہوں نے دہلی کے شہریوں سے سرکار نہ بناپانے کے لئے معذرت کی اور کہا کہ صدر نے لیفٹیننٹ گورنر کو صاف ہدایتیں دی ہوئی ہیں کہ سرکار بنانے کا دعوی پیش کرنے والی پارٹی کو 7 دن کے اندر ایوان میں اکثریت ثابت کرنی ہوگی کیونکہ بھاجپا کے پاس اکثریت نہیں ہے تو وہ بھلا کیسے سرکار بنا سکتی ہے۔ سیاست میں نمبر اور شفافیت و صاف ستھری ساکھ کی دہائی دیتے ہوئے انہوں نے کہا بھاجپا کسی دیگر پارٹی میں توڑ پھوڑ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی اور نہ ہی ایسی سرکار میں۔ بھاجپا نے وسیع معیار اور اونچے سیاسی پیمانے تو قائم کردئے ہیں لیکن آئے ہوئے اقتدار کو ٹھکرادیا۔ دہلی میں 15 سال اپوزیشن میں بیٹھنے کے بعد شاید بی جے پی کو بیٹھنے کی عادت سی ہوگئی ہے ۔ یہ ہی تو فکر ہے کانگریس اور بی جے پی میں ۔ کانگریس تو اقتدار چھوڑنے کو تیار نہیں ہوتی چاہے اس کے لئے کچھ بھی کرنا پڑے۔ بی جے پی اقتدار لینے کو تیار نہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ ڈاکٹرہرش وردھن کے پاس اکثریت نہیں تھی لیکن اگر وہ اقلیتی حکومت بنا لیتے اور حلف لے لیتے تو شاید تاریخ میں اپنا نام درج کرا لیتے۔ سبھی چنے ہوئے نمائندے ممبر اسمبلی بن جاتے۔ حلف لینے کے بعد وہ لیفٹیننٹ گورنر کو خط لکھتے کہ ہم چاہتے ہیں کہ طاقت آزمائی کے بعد اگر ہمیں اکثریت ملتی ہے تو یہ دو تین قدم اٹھائے جائیں۔ بجلی کے شرحوں میں 30 فیصد کٹوتی ، پانی کے بلوں میں راحت اور 9 گیس سلنڈروں کی جگہ12 وغیرہ وغیرہ۔ اکثریت ثابت کرنے کی جب باری آتی تو ممکن تھا کچھ بھی ہوسکتا تھا۔ نہ تو کانگریس اور نہ ہی آپ کے ممبر اسمبلی اور نہ ہی دہلی کی جنتا 6 مہینے میں دوبارہ چناؤ چاہتی ہے۔ ممکن ہے پولنگ کے دن کانگریسی ممبران اسمبلی میں کسی نہ کسی بہانے واک آؤٹ کرجاتے۔ کچھ بھی ہوسکتا تھا مان لو اکثریت ثابت نہ ہوتی تو استعفیٰ دے دیتے اور جنتا سے کہہ سکتے تھے کہ ہم تو عوام کے مفاد میں بہت کچھ قدم اٹھانا چاہتے تھے لیکن کانگریس اور آپ نے ہمیں ایسا کرنے سے روکا۔ دوبارہ چناؤ میں پارٹی کی پوزیشن اور مضبوط ہوتی۔ بی جے پی کو سرکار بنانی چاہئے تھی۔ اس نظریئے کے بہت سے بی جے پی کے ممبران بھی ہیں۔ دہلی بی جے پی پردھان وجے گوئل تو کھل کر بول رہے ہیں بی جے پی کو راجدھانی میں سرکار بنانے کی کوشش رکھنی چاہئے۔ ان کا کہنا ہے پارٹی کے چنے ہوئے زیادہ تر نمائندہ چناؤ نہیں چاہتے۔ اس کے علاوہ جنتا بھی دوبارہ چناؤ کے موڈ میں نہیں۔اور آپ پارٹی سے بات کرنی چاہئے ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس چناؤ میں جیتے ہوئے زیادہ تر پارٹی امیدوار ان سے گزارش کررہے ہیں کہ دہلی میں دوبارہ چناؤ نہ ہونے دینے کے لئے کوشش جاری رکھنی چاہئے۔ بی جے پی کو سرکار بنانی چاہئے۔ اکثریت نہ ملنے کے باوجود بھاجپا کے ممبران کا یہ بھی دباؤ تھا کہ وہ سرکار بنائے لیکن پارٹی اعلی کمان کے آگے ان کی ایک نہ چلی۔ ایسے ممبران کی تعداد ایک درجن سے زیادہ بتائی جارہی ہے۔ بدھوار کی رات دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ کی دعوت پر جمعرات کو بھاجپا کے اسمبلی پارٹی کے لیڈروں سے رابطے میں رہے حالانکہ اسمبلی پارٹی کے لیڈر ڈاکٹر ہرش وردھن صبح ہی چھتیس گڑھ کے لئے روانہ ہوگئے تھے لیکن ممبران نے اپنے پردیش سطح کے لیڈروں سے خواہش ظاہر کی۔ا ن لیڈروں نے پردیش پردھان وجے گوئل سے کہا کہ سرکار بناکر بھاجپا کو جنتا کے وعدے پورے کرنے چاہئیں اور وہ اقلیتی سرکار میں بہتر انتظامیہ دے سکتے ہیں۔ جب اکثریت ثابت کرنے کی بات آئے گی تو ڈاکٹر ہرش وردھن یہ ایوان میں ثابت کردیں گے ۔دہلی کے شہریوں کو مہنگائی سے تھوڑی راحت دی جاسکتی تھی لیکن دوسری پارٹیوں کے ممبران نے ان کا ساتھ نہیں دیا اس لئے وہ استعفیٰ دینے پر مجبور ہیں۔ یہ تیسرا موقعہ ہے جب ڈاکٹر ہرش وردھن کے ہاتھ سے دہلی کے وزیر اعلی کی کرسی پھسلی ہے۔ اس سے پہلے بھی دو بار انہیں وزیر اعلی بننے کا موقعہ ملنے والا تھا لیکن آخری وقت میں پانسہ پلٹ گیا۔ پہلی بار ڈاکٹر ہرش وردھن کا مکھیہ منتری بننے کا موقعہ اس وقت آیا جب سال 1993 سے98 تک چلی بھاجپا سرکار کے حالات بگڑنے لگے تھے اس وقت صاحب سنگھ ورما کو کرسی گنوانی پڑی تھی۔ اس وقت طے ہوا تھا ڈاکٹر ہرش وردھن کو وزیر اعلی بنایا جائے گا لیکن آخری وقت پر پروفیسر وجے کمار ملہوترہ کو دہلی کے وزیر اعلی کا امیدوار اعلان کردیا گیا۔ اس وقت بھی پارٹی کی جیت کے پورے آثار تھے لیکن نتیجہ الٹا ہوا۔ دوسرا موقعہ 2008 ء میں آیا ۔ تب بھی ڈاکٹر صاحب کے ہاتھ سے کرسی کھسک گئی۔ سیاست کا آخری پڑاؤ اقتدار ہوتا ہے اس لئے تو آپ سیاست میں آتے ہو بھلے ہی آپ کی سرکار گر جاتی ہے لیکن آپ کو کوشش تو کرنی چاہئے تھے۔ تلخ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ کانگریس پارٹی چھ مہینے کے اندر دہلی میں پھر سے اسمبلی چناؤ نہیں کروانا چاہے گی۔ چناؤ میں زبردست ہار کے غم سے کانگریس ابھی نکل نہیں پائی ہے اور دوبارہ چناؤ کے اندیشے نے پارٹی کے لئے لیڈر شپ کا بحران کھڑا کردیا ہے۔ کانگریس کسی بھی قیمت پر چناؤ کے لئے عام آدمی پارٹی کو بغیر شرط کے حمایت دینے کی پہل بھی کررہی ہے۔ 
دراصل نگراں وزیر اعلی شیلا دیکشت سمیت پارٹی کے تمام سرکردہ لیڈروں کے چناؤ ہارنے کے سبب کانگریس پردیش یونٹ میں لیڈر شپ کا بحران کھڑا ہوگیا ہے۔ ذرائع کی مانیں تو شیلا جی کی لیڈر شپ میں پارٹی دوبارہ چناؤ میدان میں نہیں اترنا چاہتی۔ ساتھ ہی چار ریاستوں میں پردیش پردھانوں کو بدلنے کے پارٹی ہائی کمان کے فیصلے کو عمل میں لانے کے لئے دہلی راہ کا روڑا بن رہی ہے۔ کانگریس اعلی کمان موجودہ پردھان جے پی اگروال کی جگہ ایسا لیڈر بنانا چاہتی ہے جس کی لیڈرشپ میں چناؤ لڑا جاسکے۔ موجودہ حالات میں اگر دہلی میں مستقبل قریب میں اسمبلی چناؤ ہوتے ہیں تو کانگریس کو اتنی سیٹیں بھی نہ ملیں۔ رہی بات بھاجپا کی تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے دوبارہ چناؤ میں اسے واضح اکثریت مل جائے؟ اگر چھ مہینے بعد معلق اسمبلی آئی تو؟ دہلی کی گدی تک نریندر مودی کو پہنچانے کی خاطر بھاجپا لیڈر شپ نے ڈاکٹر ہرش وردھن اور پارٹی کی دہلی یونٹ کو داؤ پر لگادیا ہے۔ ہوسکتا ہے وہ صحیح ثابت ہوں اور یہ غلط ہے سیاست میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ اس غیر یقینی سیاسی حالات کے چلتے دہلی کی جنتا مہنگائی کی مار سے پس رہی ہے اور مہنگائی اور بڑھے گی۔
(انل نریندر)

14 دسمبر 2013

دہلی کی جنتا کے مینڈیٹ کی توہین کررہے ہیں کیجریوال!

یہ ٹھیک ہے اسمبلی چناؤ میں دہلی کی عوام نے کانگریس سرکار کے خلاف منفی مینڈیٹ دیا ہے اور ساتھ ہی ووٹ دیا ہے لیکن ووٹ دیتے وقت یہ نہیں سوچا کہ کانگریس کی جگہ کون لے گا؟ اگر وہ عام آدمی پارٹی کو اکثریت دے دیتے یا بھاجپا کوچار پانچ سیٹیں زیادہ دے کر جتاتے آج دہلی میں سیاسی شش و پنج کے حالات نہ دیکھنے پڑتے۔ آج سبھی پریشان ہیں جو جیتا ہے وہ بھی اور جو ہارا ہے وہ بھی۔ اسمبلی چناؤ میں کسی کو اکثریت نہ دے کر چناؤ جیتے ممبران اسمبلی کو تو الجھن میں ڈال دیا ہے ساتھ ہی وہ امید وار بھی کم پریشان نہیں جو چناؤ ہار گئے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے جیتے ہوئے امیدواروں میں کچھ تو ایسے بھی ہیں جن کو جیت کے بعد ان کے حمایتی جب مبارکباد دینے آتے ہیں تو ان کے پاس چائے پلانے کے لئے پیسہ تک نہیں ہے۔وہ امیدلگائے بیٹھے ہیں کہ ’آپ‘ پارٹی سرکار بنائے اور انہیں اقتدار کا ذائقہ لینے کو ملے گا۔ جو ہارے ہیں انہیں یہ پریشانی ستا رہی ہے کہ انہیں دوبارہ ٹکٹ ملے گی یا نہیں؟ سیاسی گلیاروں میں بڑی پارٹیاں سرکار بنانے کو لیکر گیند ایک دوسرے کے پالے میں ڈال رہی ہیں۔ بھاجپا نے تو لیفٹیننٹ گورنر کو لکھ کر دے دیا ہے کہ وہ سرکار نہیں بنانا چاہتی کیونکہ جنتا نے اسے واضح اکثریت نہیں دی۔ اب عام آدمی پارٹی کے پالے میں گیند ہے۔ ان سب کے درمیان جنتا ایک الگ ہی رائے لیکر چل رہی ہے کہ اکثریت نہ ملنے کے باوجوددہلی کی کرسی تو’ آپ‘ کو ہی دینے کے حق میں ہے۔ عام جنتا دہلی میں دوبارہ چناؤ کرانے کے حق میں نہیں ہے۔ لوگوں کی رائے ہے کہ سیاست میں تجربہ حاصل کرنے کے لئے عام آدمی پارٹی کوکرسی ضرور سنبھالنی چاہئے۔ اروند کیجریوال کے نہ حمایت لینے نہ دینے کابیان جنتا کے گلے نہیں اتر رہا ہے۔ نہ وہ حمایت دینے کو تیار ہے نہ لینے کو تیار اور نہ ہی اقلیتی حکومت بنانے کو تیار۔ یہ سیاست ہے یا لوگوں کو گمراہ کر ووٹ لینے کے بعد ذمہ داری سے بھاگنا ہے؟ یہ سوال آپ کے خلاف آنے والے دنوں میں دونوں کانگریس اور بھاجپا اپنے سوالوں کی لسٹ میں شامل کریں گی۔ جمہوریت میں مینڈیٹ سب سے اہم ہوتا ہے نہ صرف جنتا کی یہ مانگ ہے کہ بالکل آپ ہی کی آئینی ذمہ داری بنتی ہے آئین میں اقلیتی حکومت کا ذکر ہے لیکن صرف جنتا کی بھلائی کے مفاد کے لئے کام کرنے والی بھاجپا اور آپ دوبارہ چناؤ کی بات کر لوگوں کو کروڑوں روپے اور وقت اور وسائل کی بربادی کی طرف تو جھونک رہے ہیں بلکہ اپنے جنتا سے کئے وعدوں سے بھی بھاگ رہے ہیں۔ کانگریس کے سابق ایم ایل اے مکیش شرما کا کہنا ہے دونوں ہی پارٹیوں نے جنتا سے جھوٹے وعدے کئے تھے جنہیں وہ پورا نہیں کرسکتیں اس لئے سرکار بنانے سے بچ رہے ہیں۔ ان پارٹیوں کی ضد کی وجہ سے جنتا کو مہنگائی جھیلنی پڑے گی جو راحت کی امید لے کر انہوں نے عام آدمی پارٹی کو ووٹ دیا تھا وہ امید بھی ٹوٹتی نظر آرہی ہے۔ اگر سرکار بنا کر عام آدمی پارٹی محض دو یا تین وعدے بھی پورے کردے تو جنتا کو راحت مل جائے گی۔ بجلی کے داموں میں کٹوتی اور 700 لیٹر پانی مفت دستیاب کرانا ان میں شامل ہے۔ لیکن کیجریوال جانتے ہیں کہ بجلی کے بل 30 فیصد کم کرنا ، فری پانی دینا جیسے وعدے وہ پورے نہیں کرسکتے اس لئے اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ رہے ہیں۔ کانگریس نے بھی کہہ دیا ہے کہ وہ آپ کی سرکار کی حمایت کرسکتی ہے پھر انہیں سرکار بنانے میں قباحت کیوں ہے؟ 28 ممبروں کے باوجود وہ لوک سبھا چناؤ سے پہلے کام کرکے دکھائیں نہ کہ جنتا کی مینڈیٹ کی توہین کرے۔ 
(انل نریندر)

لال، نیلی بتی اسٹیٹس سمبل بن گئی ہے!

دیش کو آزاد ہوئے ساڑھے چھ دہائی گزر چکی ہیں لیکن انگریزوں اور سامنت شاہی کی علامت لال بتی کے رتبے کا چلن آج بھی چل رہا ہے۔ لال یا نیلی بتی والی گاڑیوں میں چلنا ایک اسٹیٹس سمبل بن گیا ہے جو ہمیں سامنتی کلچر کی یاد دلاتا ہے۔ یہ خوشی کی بات ہے سپریم کورٹ نے ایسی حکم دیا ہے جس سے عام شہری کو راحت اور خوشی محسوس ہوگی۔ حالانکہ اس کو لیکر سپریم کورٹ نے ناراضگی جتائی ہے۔ ویسے یہ پہلا موقعہ نہیں ہے اس سے پہلے بھی سپریم کورٹ دونوں مرکز اور ریاستی سرکاروں کو لال بتی اور سائرن والی گاڑیوں کے بیجا استعمال پر جھاڑ پلا چکی ہے ۔ اب اس نے ہدایت دی ہے کہ گاڑیوں میں لال بتی کا استعمال آئینی اور اعلی عہدوں پر بیٹھے لوگوں کو ہی کرنا ہوگا۔ ان میں صدر ، وزیر اعظم، کیبنٹ وزیر،کچھ سینئرافسر اور کچھ سینئر جج آتے ہیں۔ اس حکم کو سختی سے نافذ کرنے کے لئے سپریم کورٹ نے کہا ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ریاستی سرکاریں اس فہرست میں بدلاؤ نہیں کرسکتیں ۔ یعنی منمانی ڈھنگ سے لال بتی نہیں بانٹ سکتیں۔ اب تک ہوتا رہا ہے کہ ہر ریاستی سرکار اتنی فراغ دلی سے لال بتی بانٹتی تھی کہ تقریباً ہر سیاسی رسوخ والا آدمی چھوٹا بڑا سرکاری افسر لال بتی کی گاڑی میں گھومتا تھا۔ دراصل لال یا نیلی بتی رسوخ اور رتبے کی علامت بن گئی ہے۔ ایسی گاڑیوں میں بیٹھے لوگوں کو اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی کہ ان کی وجہ سے عام آدمی کو کبھی کبھی سخت پریشانی جھیلنی پڑتی ہے۔ دہلی میں تو غیر متوقع طور پر تھوڑی سختی کے سبب ڈر ہے ورنہ ریاستی اور ضلع سطح پر کسی بھی پارٹی کا ضلع پردھان یا کسی ضلع کا ڈپٹی کلکٹر بھی لال بتی کی گاڑی کا سائرن بجاتے ہوئے سڑکوں پر دکھائی دے جاتا تھا۔ سپریم کورٹ نے بھی وہی بات کہی ہے جو اس سے پہلے کئی بار کہی جاچکی ہے کہ گاڑی پر لال بتی دراصل ایک اسٹیٹ سمبل بن گئی ہے اور اس کا استعمال لوگ یہ دکھانے کے لئے کرتے ہیں کہ وہ عام آدمی نہیں بلکہ خاص آدمی ہیں۔ عدالت نے یہ ریمارکس دیا ہے کہ لال بتی انگریزوں کے راج کا بوجھ ہے جسے ہم آج تک ڈھو رہے ہیں۔ بھارت میں کرپشن کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ عام آدمی اور خاص آدمی یا وی آئی پی کے درمیان بڑا فرق موجود ہے جو جمہوریت کے بنیادی جذبے کے منافی ہے۔ حقیقت میں اس سسٹم نے آزاد بھارت کے شہریوں کو دو طبقوں میں بانٹ دیا ہے حالانکہ جب سے یہ معاملہ نوٹس میں آیا ہے یہ بحث چل رہی ہے کہ آخر کنہیں وی آئی پی یا اہم شخصیت مانا جائے۔ آئینی طور پر دیکھیں تو یہ دائرہ کافی بڑا ہوجاتا ہے کیونکہ اس میں صدر ،نائب صدر، لوک سبھا سپیکر،پردھان منتری، اپوزیشن لیڈر، کیبنٹ منتری، چیف جسٹس، چیف الیکشن کمشنر اور سی اے جی سمیت تمام آئینی اداروں کے سربراہ آجاتے ہیں۔ یہ ہی حال نیلی بتی والی گاڑیوں کا ہے جنہیں پولیس فوج ،فائر سروس سے متعلق گاڑیوں کے لئے مجاز کیا گیا ہے لیکن اس کا بھی بیجا استعمال نہیں روکا جاسکا۔ جس دیش میں ٹریفک قواعد کوتوڑنے والے 100-50روپے دیکر چھوٹ جاتے ہوں وہاں بہت کچھ بدلنے کی ضرورت ہے۔ اب یہ ضروری ہے کہ مرکزی سرکار آئینی ادارے اور تمام ریاستی سرکاریں دیش کے ہر حصے میں اس حکم کی سختی سے تعمیل کرائیں۔ تبھی بھارت کی جمہوریت سے اس سامنتی ملاوٹ کو دور کیا جاسکتا ہے۔
(انل نریندر)

13 دسمبر 2013

شکست کے بعدکانگریس میں اندر اور باہر لیڈر شپ پر اٹھے سوال!

جیسا کہ میں نے اسی کالم میں اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ چار ریاستوں میں کراری ہار سے کانگریس کے اندر اور اس کے ساتھیوں میں لیڈر شپ کے خلاف بغاوتی آوازیں اٹھنے لگیں گی۔ ویسا ہی اب دیکھنے کو مل رہا ہے۔ آخر ہار کی ذمہ داری کسی کو تو لینی پڑے گی اس سے بھی زیادہ اہم شاید یہ ہے کہ 2014ء کے عام چناؤ کے لئے کانگریس کی قیادت کون کرے گا؟ پہلے بات کرتے ہیں کانگریس کے اندر اس شرمناک ہار کے بعد اٹھی بغاوت کی آوازیں۔ اگر ہم دہلی سے شروع کریں تو سابق وزیر اعلی شیلا دیکشت نے ہار کی سب سے بڑی وجہ پارٹی کے سینئر لیڈروں سے تعاون نہ مل پانے کو بتایا۔ان کا اشارہ صاف طور پر دہلی پردیش کانگریس کے پردھان جے پرکاش اگروال کی جانب ہے۔ یہ صحیح ہے کہ دہلی اسمبلی چناؤمہم میں اکیلی شیلا جی ہی دن رات ریلیوں میں تقریر کرتی نظر آئیں۔ اس کے پیچھے جے پرکاش اور شیلا جی کے درمیان کافی عرصے سے 36 کا آنکڑا بھی ایک وجہ تھی۔ جے پرکاش کا کہنا تھا کہ شیلا جی ہمیشہ اپنی مان مانی کرتی تھیں اور کہیں بھی انہوں نے انہیں ساتھ لینے کی کوشش نہیں کی۔ راجستھان سے بھی اشوک گہلوت حمایتی اب کھل کر نائب صدر راہل گاندھی پر یہ کہتے ہوئے الزام لگا رہے ہیں کہ پولنگ سے ٹھیک پہلے سی پی جوشی کا نام آگے بڑھا کر وہ کیا سندیش دینا چاہتے تھے؟ لیکن سب سے تلخ حملہ پارٹی کے سینئر لیڈر منی شنکر ایئر نے کیا۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے 2014 کے لوک سبھا چناؤ میں خدشہ ظاہر کرتے ہوئے یہ کہہ کر سنسنی پھیلادی کے کچھ وقت پہلے اپوزیشن میں بیٹھنا پارٹی کے لئے اچھا رہے گا۔ ایئر نے پارٹی میں زبردست تبدیلی کی وکالت کر تنظیم میں انقلابی سطح پر قدم اٹھانے کی صلاح دی ہے۔ حالیہ ریاستی اسمبلی چناؤ میں زبردست شکست کے بعد کانگریس میں خود محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے اور اس تجویز کو ناکافی مانتے ہوئے ایئر نے کہا کہ اب کافی دیر ہوچکی ہے ان کا کہنا تھا دیش کے32 لاکھ پنچایت نمائندوں میں ایک تہائی کانگریسی ہیں۔ 10 لاکھ کیڈر کی پارٹی دیش میں دیگر کسی پارٹی کو دھول چٹا سکتی ہے لیکن جب اس کا استعمال نہیں ہوگاتو نتیجے اسی طرح کے آئیں گے۔ نچلی سطح کی لیڈر شپ تبدیلی کے لئے کارروائی ہونی چاہئے لیکن چاپلوسی کے کانگریسی کلچر کے چلتے ہمیں شبہ ہے کہ پارٹی میں کچھ خاص تبدیلی ہوگی۔لیکن معاملہ جوں کا توں رہے گا اور پارٹی دگوجے سنگھ جیسے چاپلوس لیڈروں کے دم خم پر چلتی رہے گی اور ٹوٹے گی۔ اب بھی دگوجے سنگھ کہہ رہے ہیں کہ اسمبلی چناؤ کے نتائج راہل گاندھی کے خلاف ریفرنڈم نہیں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا اسمبلی چناؤ عام چناؤ سے الگ ہوتے ہیں اور انتخابات میں کانگریس کو ہوئے نقصان کو 2014ء میں لوک سبھا چناؤ میں اس کی ہار کا اشارہ نہیں مانا جاسکتا۔ اشو الگ ہوتے ہیں۔ اسی درمیان ایک سرکردہ لیڈر ستیہ ورت چترویدی نے اپنا تلخ تبصرہ کیا ہے کہ کانگریس کے جو خراب حالات بنے ہیں اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ اعلی کمان چاپلوسوں کی زیادہ سنتا ہے۔ سبھی جانتے ہیں کانگریس میں اعلی کمان کا مطلب پارٹی چیف سونیا گاندھی ہیں۔ ایسے میں ستیہ ورت نے ایک طرح سے سونیا گاندھی کو ہی آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ متنازعہ تبصروں کیلئے مشہور ستیہ ورت کا مدھیہ پردیش کی سیاست میں کافی دبدبہ رہا ہے۔ اسی وجہ سے تنظیم کی قومی لیڈر شپ نے انہیں لگاتار نظر انداز کیا ہے۔ انہوں نے مدھیہ پردیش میں پارٹی کی ہار کی ذمہ داری سیدھے طور پر دگوجے سنگھ پر چھوڑی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فی الحال دو سال سے کانگریس لیڈر شپ سے بار بار کہا جارہا ہے کہ مدھیہ پردیش کی جنتا دگوجے سنگھ کو سب سے زیادہ ناپسند کرتی ہے لیکن کانگریس لیڈر شپ ان لوگوں کی بات نہیں سنتا جو کڑوی باتیں سنتے ہیں۔ مدھیہ پردیش میں کانگریس کو نقصان پہنچانے والے دگوجے سنگھ کو پورے چناؤ میں سب سے زیادہ اہمیت دی گئی۔ جس آدمی کو سب سے زیادہ ناپسند کیا جاتا ہے اسے سب سے زیادہ اہمیت دے کر آخر کانگریس لیڈر شپ کرنا کیا چاہتی ہے؟ ستیہ ورت کہتے ہیں کہ اگر جوتر ادتیہ سندھیا کو چناؤ مہم کی کمان سونپی جاتی تو بہتر نتیجے آتے۔ وہ کہتے ہیں کیا دگی کے نام کانگریس لیڈر شپ نے مدھیہ پردیش کی جاگیر لکھ دی ہے؟ ادھر مرکز میں بھی کانگریسیوں نے پارٹی لیڈر شپ کی ناک میں دم کردیا ہے۔ منموہن سرکار کے خلاف آندھرا پردیش کے ناراض ممبران نے اپنی ہی سرکار کے خلاف عدم اعتمادکا نوٹس دے دیا ہے۔ انہوں نے اس غیرمقبول سرکار کو گرانے کے لئے نمبر بھی اکھٹے کرنے کا کام شروع کردیا ہے۔ وجے واڑہ سے کانگریس ایم پی ایل راج گوپال نے کہا کہ ہمیں آندھرا پردیش اور ریاست کے باہر سے کچھ ایم پی کی حمایت ملی ہے۔ یہ تحریک عدم اعتماد ایک غیر مقبول سرکار کے ذریعے تلنگانہ بل کو پارلیمنٹ میں پیش ہونے سے روکنا ہے۔ اب بتا کرتے ہیں یوپی اے سرکار کی اتحادی اور حمایتی پارٹیوں کی ان میں ڈی ایم کے ، ترنمول کانگریس جیسی اتحادی پارٹیاں پہلے ہی الگ تھلگ وجوہات سے یوپی اے سے باہر ہوچکی ہیں۔ تمام کوششوں کے باوجود جنتادل (یو) بھی اب یوپی اے کنبے سے جڑنے سے کترارہی ہے۔ بیجو جنتا دل بھی یوپی اے سے دوری بنائے رکھنے کی سوچ رہی ہے۔ دہلی میں عام آدمی پارٹی کی تاریخی جیت سے تیسرے مورچے کے لئے حوصلہ پارہی علاقائی پارٹیوں کو نئی آکسیجن مل گئی ہے۔ این سی پی کے چیف شرد پوار اس بار بھی نہیں چوکے۔ انہوں نے کہا کانگریس جب سنکٹ کے دور میں آتی ہے تو وہ ایسی ہی چالیں چلتی ہے۔ انہوں نے بغیر نام لئے کانگریس کے یووراج پر طنز کسا اور کہہ دیا لیڈر شپ کی کمزوری کی وجہ سے کانگریس چناؤ ہارتی ہے۔ ایسے میں وقت رہتے کانگریس لیڈر شپ کے بارے میں دوبارہ سے نظرثانی کرنی چاہئے۔ دیش چاہتا ہے لیڈر شپ مضبوط اور پائیدار ہو۔ تاریخ انور نے راہل گاندھی کا نام لے کر کہہ دیا اس ہار پر راہل گاندھی کو منتھن کرنا چاہئے کیونکہ کانگریس نے چناؤانہی کی غیر اعلانیہ قیادت میں لڑے تھے۔ اس لئے ہار کی ذمہ داری انہیں لینی چاہئے۔ان چناؤ نتیجوں کے نفع نقصان کیلئے کانگریس تو ذمہ دار ہے ہی اور یہ ہی اب دیش کا موڈ ہے کہ لوگ کانگریس کے خلاف ہیں۔ ان چاروں ریاستوں میں لوگوں نے کانگریس کو مسترد کردیا ہے۔ لوگ بھلے ہی ماننے کو تیار ہوں نہ ہوں ان چناؤ کا بڑا اثر آنے والے2014ء لوک سبھا چناؤ میں پڑنے والا ہے۔ لیکن اس سیاسی واقعے سے یوپی اے کی کانگریسی اتحادی پارٹیاں سہم گئی ہیں۔ انہیں لگنے لگا ہے کانگریس کے ساتھ ہی چپکے رہے تو ان کا بھی سیاسی وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ اسی کے چلتے کانگریس کے کئی ساتھیوں نے اب الگ راستے پر چلنے کا متبادل تلاشنا شروع کردیا ہے۔کل ملا کر کانگریس کے اندر کانگریس کی اتحادی پارٹیوں نے کانگریس لیڈر شپ کی قابلیت پر سوال کھڑے کرنے شرو ع کردئے ہیں۔ دیکھیں 100 سال کی پرانی اس بڑی پارٹی کو مستقبل میں صحیح لیڈر شپ ملتی ہے یا یوں ہی یہ پارٹی دھرے پر چلتی رہے گی۔
(انل نریندر)

12 دسمبر 2013

حالیہ اسمبلی انتخابات میں بھاجپا کی جیت کیامودی فیکٹر کو جاتی ہے؟

چار ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتیجے آنے کے بعد اب یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ کیا یہ نتائج بی جے پی کے پی ایم اِن ویٹنگ نریندر مودی کی لہر کی وجہ سے آئے ہیں یا پھر اس کا سہرہ ان چار ریاستوں کے موجودہ وزرائے اعلی اور اِن ویٹنگ وزرائے اعلی کو جاتا ہے؟ یہ سوال اس لئے اٹھا ہے کیونکہ نریندر مودی نے ان چار ریاستوں میں زور دار طریقے پر چناؤ مہم میں حصہ لیا لیکن ایکطرفہ جیت تین ریاستوں میں ملی۔ چوتھی ریاست دہلی جہاں مودی نے بہت محنت کی۔ پارٹی اکثریت تک نہیں لاسکی۔ یہ ہی نہیں بلکہ دہلی میں تو پارٹی کا ووٹ فیصد پچھلے اسمبلی چناؤ سے بھی گھٹ گیا؟ سب سے پہلے تو ہمارا خیال ہے کہ لوک سبھا چناؤ نہیں جہاں مودی کی مقبولیت کا امتحان ہونے والا ہے یہ اسمبلی انتخابات ہیں جو ریاستی سرکاروں کی کارگزاری، ساکھ، وزیر اعلی کی مقبولیت ، مقامی اشوز پر لڑا گیا نہ کے نریندر مودی کی شخصیت پر لڑا گیا۔ کانگریس تو یہ کہے گی کہ بی جے پی مودی کی لہر کی وجہ سے نہیں کامیاب ہوئی۔ مدھیہ پردیش کے جوتر ادتیہ سندھیہ نے ریاست میں بی جے پی کی جیت کا سہرہ مودی کے سر باندھنے سے انکار کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جیت کی اصلی وجہ مودی نہیں شیو راج سنگھ چوہان ہیں۔ اسی طرح کی بات دگوجے سنگھ، نتیش کمار نے بھی کہی۔ حیرانی اس بات کی ہے امریکی ماہرین کا بھی ماننا ہے چار ریاستوں کے اسمبلی الیکشن کے نتائج سے اگلے سال ہونے جارہے عام چناؤ سے پہلے اپوزیشن بی جے پی کو بھروسہ ضرور فراہم کیا ہے لیکن اس میں نہ تو مودی کی لہر کا کوئی اشارہ دکھائی دیا اور نہ ہی اگلے سال ایسی ہی پرفارمینس کی گارنٹی ہے۔ 
ہندوستان کے انتخابات پر قریب سے نظر رکھنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ مدھیہ پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ اور دہلی جہاں عام آدمی پارٹی نے بہت سے لوگوں کو چونکا دیا، میں بھاجپا کی اچھی کارکردگی کی ایک واحد وجہ مودی نہیں ہیں۔ ساؤتھ ایشیا میکلارٹی ایسوسی ایسٹ کے ڈائریکٹر رچرڈ ایم روسو نے کہا کہ ان ریاستوں میں بی جے پی ہمیشہ مقابلے میں رہی۔ مرکز کے اقتدار کے سیمی فائنل سمجھے جانے والے ان اسمبلی انتخابات کے نتائج سے بی جے پی کا خیمہ کافی گدگد ہے۔ ووٹروں نے بہتر کام کاج کرنے والی سرکاروں کو نہ تو انعام دینے میں کنجوسی کی اور نہ ہی امیدوں پر کھری نہ اترنے والی پارٹیوں کو سزا دینے میں۔ ووٹروں نے چار ریاستوں میں کانگریس کا صفایا کرکے یہ طے کردیا کہ پارٹی 2014ء کے فائنل دوڑ میں بہت پیچھے چھوٹ گئی ہے۔ اس سیمی فائنل میں بھاجپا کا پرچم لہرانے سے بلا شبہ نریندر مودی کی پی ایم امیدواری کو اور پنکھ لگ گئے ہیں۔اسمبلی چناؤ سے پہلے گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو پی ایم امیدوار اعلان کرنے میں پارٹی کے اندر اختلافات تھے۔ اڈوانی خیمے کا کہنا تھا کیونکہ یہ ریاستی چناؤ ہیں اس لئے ان کے نتائج آنے کے بعد ہی مودی کی دعویداری دیش کے سامنے پیش کرنی چاہئے لیکن پارٹی پردھان راجناتھ سنگھ نے کہا نہیں ریاستی اسمبلی چناؤ سے پہلے ہی دعویداری پیش ہوجانی چاہئے۔ اس خیمے کا خیال ہے کہ ان کا فیصلہ صحیح تھا اور مودی کا داؤ اسمبلی چناؤ میں پارٹی کے لئے فائدے مند ثابت ہوا۔
مودی کی قیادت کو مرکز میں رکھ کر حالیہ اسمبلی چناؤ لڑا بھاجپا نے مودی کی امیدواری کا جم کر پروپگنڈہ کیا اور اس طرح اس نے ایک تیر سے دو نشانے لگانے کا کام کیا۔ ایک طرف بھاجپا نے مودی کو پی ایم امیدوار کی شکل میں پیش کیا تو دوسری طرف حکمت عملی کے تحت وزرائے اعلی کے عہدے کے امیدواروں کو مودی کے ساتھ مرکز میں رکھا لہٰذا چاروں ریاستوں میں بھاجپا کو مودی فیکٹر کا فائدہ ملا۔ اسے مہنگائی کا اثر کہیں یا پھر مودی کی لہر، جس سے راہل گاندھی بھی کانگریس کو نہیں بچاپائے اور مودی نے راہل گاندھی کو چناؤ مہم میں بری طرح بے نقاب کردیا۔آج یہ مودی کی وجہ سے ہی کانگریس میں لیڈر شپ کی صلاحیت کو لیکر خود کانگریسی اور ان کی حمایتی پارٹیاں آوازیں اٹھا رہی ہیں۔ حریف پارٹیاں دیش میں مودی کی لہر ماننے سے کترارہی ہیں لیکن اسمبلی چناؤ میں مودی فیکٹر کانگریس نائب صدر راہل گاندھی کے مقابلے بھاجپا کے امیدواروں کو جیت دلانے میں بھاری پڑا۔ طوفانی چناؤ مہم کے دوران نریندر مودی اور راہل گاندھی نے 11 اسمبلی حلقوں میں ریلیاں کیں۔ یہ ریلیاں بیکانیر، بانسواڑہ، جے پور، اجمیر، دکشن پوری، اندور، شہڈول، رائے پور، بستر، جگدلپور میں ہوئی تھیں۔ ان ریلیوں کا 27 سیٹوں پر سیدھا اثر تھا۔ دونوں پارٹیوں کے اسٹار کمپینروں کو ریلیوں کے اثر والے مقامات سے 9 سیٹیں ملیں۔ بیکانیر سے 2، بانسواڑہ سے1، اجمیر سے2، رائے پور کی3، اندور کی4 ،جگدلپور کی1 ، مندسور کی1 سیٹ پر بھاجپا امیدواروں کا جیتنا مودی فیکٹر کی وجہ رہا۔
اسمبلی چناؤ نتائج نے بی جے پی کا حوصلہ نہیں بڑھایا بلکہ اس نے اعتماد بھی مضبوط کیا۔ دراصل ایک نظریئے سے چناؤ نتائج نے عام چناؤ سے پہلے پارٹی کے اس فیصلے پر مہر لگادی جسے لیکر سب سے زیادہ تنازعہ اور ہائے توبہ مچی تھی۔ چار ریاستیں جو سبھی اہم ہیں، جنتا نے بھاجپا کو شاندار طریقے سے کامیابی دلا کر یہ پیغام دیا ہے کہ نریندر مودی کی لیڈر شپ پائیدار ہے اور انہیں وزیر اعظم امیدوار بنائے جانے کے فیصلے پر بھی مہر لگادی۔اب پارٹی اس مودی لہر کو طوفان میں بدلنے کی کوشش کرے گی۔ بلا شبہ نریندر مودی اور مضبوط ہوکر سامنے آئے ہیں۔ آخر میں نریندر مودی نے کانگریس کے چٹکی لیتے ہوئے کہا کہ سونیا گاندھی کی سربراہی والی پارٹی کو چاروں ریاستوں میں آئی کل سیٹیں بھاجپا کے ذریعے ایک ریاست میں جیتی گئی سیٹوں کے برابر بھی نہیں ہیں۔ ذرائع کے مطابق بھاجپا پارلیمانی بورڈ نے دہلی میں اکثریت نہ ملنے کے سبب مودی کو سامنے نہیں کیا اور مودی نے ٹوئٹر کا سہارا لیا۔ حالانکہ کچھ لوگ بی جے پی میں چاہتے تھے کہ مودی سامنے آکر جیت پر اپنی رائے رکھیں۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...