Translater

08 ستمبر 2018

اپوزیشن کے ساتھ ساتھ اپنوں نے بھی دے ڈالی وارننگ

پیٹرول۔ ڈیزل اور گیس کی بے تحاشہ بڑھتی قیمتوں کو لیکر ابھی مودی سرکارکو اپوزیشن کے ذریعے نشانے پر لئے جانے کے ساتھ ساتھ اب ان کی اپنی اتحادی پارٹیاں بھی ناراض ہوگئی ہیں۔ بین الاقوامی بازار میں کچے تیل کے دام میں اچھال اور ڈالر کے مقابلہ روپے میں ریکارڈ گراوٹ سے درآمدات مہنگی ہوجانے کی وجہ سے پچھلے دس دنوں سے پیٹرول۔ ڈیزل کے دام مسلسل بڑھتے جارہے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے کنوینر و دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی پہلے پیٹرول۔ ڈیزل کے دام بڑھنے اور روپے کی قیمت گرنے پر منموہن سرکار پر سخت حملے کیا کرتے تھے لیکن اب ویسے ہی حالات ان کی سرکار کے عہد میں ہوئے تو وہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ چار سال تک مودی سرکار میں شامل رہی تیلگودیشم پارٹی کے چیف اور آندھرا پردیش کے وزیر اعلی چندربابو نائیڈو نے کہا کہ وہ دن دور نہیں ہے جب دیش میں پیٹرول کے دام 100 روپے فی لیٹر کو چھو لیں گے اور ایک ڈالر کی قیمت بھی 100 روپے تک پہنچ جائے گی۔ واجپئی سرکار میں وزیر مالیات رہے یشونت سنہا نے اپوزیشن پارٹیوں سے قیمتوں میں اضافہ کے خلاف سڑکوں پر اترنے کی اپیل کی ہے۔ منگلوار کو ٹوئٹ کر لکھا ہے کہ پیٹرول۔ ڈیزل اور رسوئی گیس کے داموں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور دام روزانہ نئی اونچائیوں کو چھو رہے ہیں۔ این ڈی اے کی اتحادی پارٹی جنتا دل (یو) کے سکریٹری جنرل کے سی تیاگی نے ایندھن کے بڑھتے داموں پر فوری روک لگانے کے لئے سرکار سے مداخلت کی مانگ کی ہے۔مرکزی سرکار میں شامل لوک جن شکتی پارٹی کے پارلیمانی بورڈ کے چیئرمین چراغ پاسوان نے بھی پیٹرول۔ ڈیزل کے داموں کو لیکر تشویش جتائی ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل کی آسمان چھوتی قیمتوں کے خلاف کانگریس سڑکوں پر اترنے اور ملک گیر تحریک شروع کرنے کی حکمت عملی پر غور کررہی ہے۔ کانگریس کے ترجمان منیش تیواری نے منگلوار کو اخباری کانفرنس میں کہا کہ پیٹرول ڈیزل کے داموں میں بے تحاشہ اضافے سے دیش کا عام شہری پریشان ہے۔ انہوں نے کہا مودی سرکار لوگوں کی کمر توڑنے کے لئے مسلسل ان سے دھوکہ ر رہی ہے۔ وہیں مودی سرکار نے پیٹرول ۔ ڈیزل کے بڑھتے داموں میں صارفین کو کسی طرح کی راحت دینے سے صاف منع کردیا ہے۔ سرکاری ترجمان نے کہا کہ راحت دینے کے لئے ایکسائز ٹیکس میں کسی طرح کی کٹوتی کے امکانات کم ہیں۔ سرکار نے کہا کہ محصول وصولی میں ابھی کسی طرح کی کٹوتی کی گنجائش نہیں ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل میں آئی تیزی اور صارفین کو اس کی مار سے بچانے کے لئے ایکسائز ٹیکسوں میں کٹوتی کی مانگ سرکار نے سرے سے مسترد کردی ہے۔
(انل نریندر)

ریئل اسٹیٹ میں امرپالی جیسی دھوکہ دھڑی نہیں دیکھی

لوگوں سے پیسہ لیکر اپنی رہائشی اسکیموں کو ادھورا چھوڑ کر ہاتھ کھڑے کرنے والی ریئل اسٹیٹ کمپنیاں بڑھتی ہی چلی جارہی ہیں۔ سپریم کورٹ نے ایسے تمام بلڈروں کو بار بار پھٹکار لگائی ہے لیکن اس کا ان پر کوئی اثر نہیں ہورہا ہے۔ تازہ مثال ریئل اسٹیٹ کمپنی امرپالی گروپ کی ہے۔ 42 ہزار خریداروں کو فلیٹ دینے میں ناکام رہی امرپالی گروپ کو سپریم کورٹ نے پھٹکار لگاتے ہوئے کہا یہ بہت بڑی دھوکہ دھڑی ہے۔ ریئل اسٹیٹ میں ہم نے پہلے کبھی ایسی جعلسازی نہیں دیکھی۔ اگر 100 لوگوں کو بھی جیل بھیجنا پڑا تو ہم بھیجیں گے۔ جسٹس ارون مشرا اور یو یو للت کی بنچ نے صاف کہا ایک بھی قصوروار کو بخشا نہیں جائے گا۔ امرپالی گروپ کے ادھورے پروجیکٹ پورے کرنے کے لئے نیشنل بلڈنگ کنسٹرکشن کارپوریشن (این بی سی سی) نے کورٹ کے سامنے حامی بھر لی ہے لیکن اس میں وہ پیسہ خرچ نہیں کرے گی۔ این بی سی سی کی طرف سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل پنکی آنند نے بنچ کو بتایا کہ سبھی پروجیکٹ پورے کرنے کے لئے 8500 کروڑ روپے کی ضرورت پڑے گی۔ جسٹس مشرا نے امر پالی گروپ کے وکیل سے پوچھا کہ کیا آپ ساری پراپرٹی این بی سی سی کو سونپ سکتے ہیں؟ امرپالی گروپ کی ساری پراپرٹیوں کو بیچنے کے بعد بھی 2038 کروڑ روپے کم پڑیں گے۔سپریم کورٹ نے این بی سی سی سے کہا کہ ہم آپ کو پروجیکٹ شروع کرنے کے لئے ضروری فنڈ مہیا کروائیں گے۔ ساتھ ہی امرپالی سے کہا کہ وہ این بی سی سی کی تجویز کے بارے میں جواب داخل کرے۔ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل نے عدالت کو بتایا فلور اسپیس انڈکس (ایف ایس آئی) بیچنے سے قریب 2100 کروڑ روپے آسکتے ہیں۔ ایسا کرنے سے پروجیکٹس پورے ہوسکتے ہیں۔ ان ڈیفالٹر بلڈروں کے مقدمات کی سماعت کی تاریخ پر تاریخ کی مثال نہیں بننی چاہئے کیونکہ غیر ذمہ دار ریئل اسٹیٹ کمپنیوں کی منمانی کے شکار لوگ صبر کھو رہے ہیں۔ وہ جن امیدوں کے ساتھ سپریم کورٹ پہنچے ہیں وہ فوری طور پر پوری ہونی چاہئیں۔ وقت پر اپنے پروجیکٹ پورا نہ کرنے والی ریئل اسٹیٹ کمپنیوں میں کئی ایسی ہیں جو اپنے اپنے فلیٹ، ویلا(بنگلہ) وغیرہ کا انتظار کررہے لوگوں کے ساتھ ساتھ بینکوں کے پیسے ہڑپ گئی ہیں۔ ان سبھی کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے۔ مانا جارہا تھا کہ ’’ریرا‘‘ کے نام سے مشہور ریئل اسٹیٹ سے متعلق قانون کے لاگو کے ہونے کے بعد لوگوں کو اپنے گھر کے سپنے دکھا کر منمانی کرنے والی کمپنیوں پر لگام لگے گی، لیکن یہ مایوس کون ہے کہ ایسا ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ریئل اسٹیٹ کمپنیوں نے اس قانون سے بھی بچنے کے لئے خامیوں کا توڑ نکال لیاہے۔ ایک اعدادو شمار کے مطابق دہلی این سی آر ، ممبئی سمیت سات بڑے شہروں میں پانچ لاکھ سے زیادہ فلیٹ طے میعاد گزر جانے کے بعد بھی پورے نہیں ہو پائے ہیں۔
(انل نریندر)

07 ستمبر 2018

طے تھی رابرٹ واڈرا اور ہڈا کی گھیرا بندی

سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ واڈرا اور ہریانہ کے سابق وزیراعلی بھوپندر سنگھ ہڈا کی گھیرا بندی طے تھی۔ سینئر آئی اے ایس افسر ڈاکٹر اشوک کھیمکا نے واڈرا کی جس کمپنی کا پٹہ منسوخ کیا تھا اسی کو اشو بنا کر بھاجپا ہریانہ میں اقتدار پر قابض ہوئی تھی۔ ہڈا اور واڈرا کی گھیرا بندی کے لئے ریاستی حکومت نے جسٹس اے این ڈھنگڑا کی قیادت میں کمیشن بنایا تھا۔ کیس درج کرنے کے لئے شایدمعقول وقت کا انتظار تھا۔ نوح کے رویداس کے باشندے سریندر شرما کی شکایت پر سنیچرکو واڈرا اور ہڈا کے خلاف کرپشن اور دھوکہ دھڑی کا مقدمہ کھیڑکی دولہ تھانہ میں درج کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ریئل اسٹیٹ کی کمپنی ڈی ایل ایف اوکارو پراپرٹیز کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ واڈرا اور ہڈا کے خلاف ایف آئی آر آئی پی سی کی دفعہ 420، 120V، 467 ، 448 اور 471 کے تحت درج کیا گیا ہے۔ سرکار دعوی کررہی ہے اس میں قریب پانچ ہزار کروڑ روپے کی منافع خوری کا کھیل ہے۔ واڈرا اور ہڈا کے خلاف مقدمہ درج ہونے کے ساتھ ہی سیاسی طوفان کھڑا ہونا فطری ہی تھا۔ جہاں کانگریس ایک طرف رافیل سودے سے توجہ ہٹانے کی بات کررہی ہے وہیں بھاجپا اسے واڈرا و ہڈا کی کرتوت بتا رہی ہے۔ خود رابرٹ واڈرا نے ایف آئی آر کو چناوی اسٹنٹ بتایا ہے۔ کہا کہ آخر اس میں نیا کیا ہے؟ چناؤ کا موسم ہے ، تیل کے دام بڑھے ہوئے ہیں، اصلی پریشانیوں سے توجہ بھٹکانے کے لئے یہ ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ میرے دہائی پرانے معاملہ کو اچھالا جارہا ہے۔ ہریانہ کے وزیر اعلی منوہر لال کھٹر نے کہا کہ کرپشن کے خلاف پہلے دن سے ہی ہم لڑائی لڑ رہے ہیں۔ پولیس معاملہ کی جانچ کررہی ہے جو قصوروار ہوگا اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ قانون اپنا کام کرے گا۔ جانچ افسران کو الزامات ثابت کرنے کی اب چنوتی ہے۔ معاملہ پرانا ہونے اور دیری کے سبب پولیس کی راہ آسان نہیں ہے۔ ملزمان کو سزا دلوانے کے لئے دستاویزاتی ثبوتوں کے ساتھ ساتھ گواہوں کو کھرا اترنا ہوگا۔ ایک واقف کار کا کہنا ہے کہ زمین گھوٹالہ سے جڑے سبھی دستاویز سرکار کے پاس تھے لیکن سرکار نے اس معاملہ میں خود ایف آئی آر کرنے کی پہل نہیں کی جبکہ پولیس نے ایک دیگر شخص کی شکایت پر ایف آئی آر درج کی اور اس شخص کا متنازع زمین سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ایک جانکار وکیل کا یہ بھی کہنا ہے کہ پولیس نے زمین گھوٹالہ میں درج ہوئی ایف آئی آر میں کئی دفعات ایسی جوڑی ہیں جن کا کوئی جواز ہی نہیں ہے۔ ان دفعات کے چلتے ملزمان کو راحت ملنے کی امید ہے۔ اب سارا دارومدار پولیس پر ہے۔ انہوں نے عدالت میں ثابت کرنا ہوگا کیس کرپشن اور دھوکہ دھڑی سے جڑا ہے جس میں ہزاروں کروڑ رکا گھپلہ ملی بھگت سے ہوا ہے اور یہ سیاسی اغراز پر مبنی بدلے کے جذبے سے نہیں کیا گیا ہے۔
(انل نریندر)

گیارہ بڑے فیصلے دے کر ریٹائرڈ ہوں گے چیف جسٹس دیپک مشرا

تمام اختلافات کے باوجود سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دیپک مشرا نے جاتے جاتے روایت کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے ریٹائرڈ ہونے کے بعد سپریم کورٹ کے سب سے سینئر جج جسٹس ترون گگوئی کو اگلا چیف جسٹس بنانے کی سفارش کی ہے۔ اگر مرکزی حکومت اس پر مہر لگادیتی ہے (جسے ایک خانہ پوری مانا جاتا ہے) تو دیش کے 46 ویں چیف جسٹس کی حیثیت سے گگوئی کو 3 اکتوبر کو حلف دلایا جائے گا۔ موجودہ چیف جسٹس دیپک مشرا 2 اکتوبر کو ریٹائر ہورہے ہیں۔ جسٹس گگوئی کی میعاد ایک سال سے کچھ زیادہ کی ہوگی۔ قریب ترین ذرائع نے ایک ستمبر کو اس بات کی تصدیق کی تھی کہ تمام اختلافات کے باوجود چیف جسٹس گگوئی کے نام کی سفارش کر روایت کی تعمیل کریں گے۔ جسٹس گگوئی سمیت سپریم کورٹ کو چار سینئر ججوں نے اس برس جنوری میں ایک پریس کانفرنس کر مختلف اشوز کو لیکر چیف جسٹس دیپک مشرا کی تنقید کی تھی۔ چاروں جج صاحبان نے خاص طور سے کچھ بنچوں کو معاملہ میں الاٹمنٹ کا اشو اٹھایا تھا۔ سپریم کورٹ میں جج صحابان کی تقرری سے متعلق ایک عرضداشت کے مطابق بھارت کے چیف جسٹس کے عہدہ پر سپریم کورٹ کے سب سے سینئر جج کی تقرری ہونی چاہئے جو اس عہدہ کے لئے موزوں مانا جائے۔ موجودہ چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشرا کے کام کے دنوں میں سپریم کورٹ کئی اہم فیصلے دے سکتی ہے۔ ان اشوز کی بنیاد پر ایودھیا کا مقدمہ ، سبریمالا مندر میں ماسک دھرم والی عورتوں کی اینٹری امتیاز پر مبنی بالغ قانون اور ایس سی ایس ٹی کے لئے پرموشن میں ریزرو یشن شامل ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور اہم مقدمہ ہے جس میں طے کیا جا نا ہے کہ جرائم کے مقدموں کا سامنا کررہے سیاستدانوں کے مقدمے کس اسٹیج پر ہیں۔انہیں چناؤ لڑنے کے لئے نا اہل ٹھہرایا جائے گا یہ فیصلہ بیحد اہم ترین ہے کیونکہ اس سے بھارت کی سیاست کو صحت مند بنانے میں بہت برا یوگدان ہوگا۔ سیاست میں بڑھتے جرائم کرن کو روکنے میں اگر یہ فیصلہ آتا ہے تو بہت مدد ملے گی۔ یہ سبھی اہم ترین اشو ان آئینی بنچ کے پاس ہیں جن کی چیف جسٹس دیپک مشرا سماعت کررہے ہیں۔ جسٹس مشرا کے عہد میں باقی بچے دنوں میں عورتوں کے سبریمالا مندر میں داخلہ ،داؤدی بوہرا مسلم فرقہ کی عورتوں کے ختنے کااشو، ہندو سے شادی کرنے پر پارسی عورتوں کو اپنے والد کی آخری رسوم میں شامل نہ ہونے کی روایت جیسے اہم ترین اشو پر سماعت پوری ہوسکتی ہے۔ ایودھیا معاملہ میں اس بات پر فیصلہ ہوگا کہ2010 کے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کی سماعت تین ججوں کی بنچ کرے گی یا کوئی بڑی بنچ۔
(انل نریندر)

06 ستمبر 2018

ریزرو بینک کے اعدادو شمار ثابت کرتے ہیں کہ نوٹ بندی کتنی خطرناک رہی

آخر کار ریزرو بینک نے نوٹ بندی کے بعد واپس آئے نوٹوں کی گنتی پوری کرلی ہے۔ بینک نے بتایا کہ بند ہوئے 500 اور 1000 روپے کے نوٹوں میں سے 93.3 فیصدی نوٹ بینکوں میں واپس آگئے ہیں۔ صرف 10720 کروڑ روپے کی رقم واپس نہیں آئی۔ سرکار کی طرف سے اقتصادی معاملوں کے سکریٹری سی ایس گرگ نے بتایا کہ نوٹ بندی کافی حد تک اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ انہوں نے دعوی کیا نوٹ بندی سے بلیک منی پر لگام لگی ہے۔ آتنک وادیوں کی فنڈنگ رکی، ڈیجیٹل لین دین بڑھا اور نقلی نوٹوں کا مسئلہ ختم ہونے جیسے مقصد پورے ہوئے۔ کانگریس ترجمان منیش تیواری نے کہا کہ پی ایم مودی نے نوٹ بندی سے آتنک واد پر چوٹ اور نقلی نوٹوں پر لگام اور کالے دھن کی واپسی کا دعوی کیا تھا لیکن اب آر بی آئی کے اعدادو شمار کے بعد سوال اٹھتا ہے کہ اس جگل بندی فرمان کا نتیجہ کیا نکلا؟ بھائیوبہنوں میں نے صرف دیش سے 50 دن مانگے ہیں، 30دسمبر تک مجھے موقعہ دیجئے۔ بھائیو بہنوں اگر 30 دسمبر کے بعد کوئی کمی رہ جائے ، کوئی میری غلطی نکل آئے، کوئی میرا غلط ارادہ نکل آئے تو آپ جس چوراہے پر مجھے کھڑا کریں گے ۔۔۔دیش جو سزا طے کرے گا وہ سزا بھگتنے کو تیار ہوں۔ یہ الفاظ وزیر اعظم نریندر مودی کے ہیں۔ 8 نومبر 2016 کو رات 8 بجے نوٹ بندی کا اعلان کرکے 500 اور 1000 کے نوٹ کے چلن کو بند کرنے کے ٹھیک پانچ دن بعد گوا میں ایک ایئرپورٹ کے سنگ بنیاد پر نوٹ بندی کے بارے میں بول رہے تھے۔ لیکن ایک سال اور 9 مہینے بعد سوال یہ اٹھ رہے ہیں کیا مودی کی نوٹ بندی سے جڑے سبھی دعوؤں کی ہوا نکل گئی ہے؟ نوٹ بندی کو لاگو کرنے سے دیش کوکیا فائدہ ہوا یہ سوال عام لوگوں سے لیکر سیاسی گلیاروں میں گھوم رہا ہے لیکن حکمراں فریق کی طرف سے نوٹ بندی کی کامیابی کو لیکر کوئی دمدار دلیل اب تک سامنے نہیں آئی ہے۔ 8 نومبر 2016 کو وزیر اعظم نے نوٹ بندی کے کئی فائدہ گنائے۔ اب ریزرو بینک نے نوٹ بندی کے دوران بینکنگ سسٹم میں واپس لوٹے نوٹوں کے بارے میں پوری جانکاری سامنے رکھ دی ہے۔ اس کے مطابق 500 اور 1000 کے 99.3 فیصدی نوٹ بینکوں میں لوٹ آئے ہیں۔ اس سے کالے دھن پر لگام لگنے کی بات سچ نہیں ثابت ہوئی۔ نوٹ بندی لاگو کئے جانے کے دو ہفتے بعد اس وقت کے اٹارنی جنرل مکل روہتکی نے سپریم کورٹ میں نوٹ بندی کا بچاؤ کرتے ہوئے کہا تھا سرکار نے یہ قدم نارتھ ایسٹ اور کشمیر میں بھارت کے خلاف دہشت گردی کو بڑھاوا دینے میں استعمال ہورہے 4سے5 لاکھ کروڑ روپے تک کے چلن کو باہر کرنے کے لئے اٹھایا ہے۔ روہتکی سرکار کا موقف رکھ رہے تھے لیکن ان چار لاکھ سے پانچ لاکھ کروڑ روپے تک کے نوٹ بینکنگ سسٹم میں واپس آگئے۔ 2017 کو اپنی تقریر میں پی ایم مودی نے کہا تھا کہ تین لاکھ کروڑ روپے بینکنگ سسٹم میں نہیں آتے تھے وہ آئے ہیں ، کہ اس بیان کو یاد دلاتے ہوئے سابق وزیر مالیات پی چدمبرم نے سوال کیا کہ کیا انہوں نے جھوٹ بولا تھا؟ جعلی نوٹوں کا چلن اب بھی بنا ہوا ہے۔ جعلی نوٹوں پر لگام پانے میں یہ سرکار بھی کامیاب نہیں ہو پائی ہے۔ ریزرو بینک کے مطابق 2017-18 کے دوران جعلی نوٹوں کے پکڑے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ نوٹ بندی کے اعلان کے بعد اپنی پہلی ’من کی بات‘ میں 27 نومبر2016 کو وزیر اعظم نے نوٹ بندی کو کیش لیس اکنومی کیلئے ضروری قدم بتایا تھا۔ لیکن نوٹ بندی کے دو سال بعد ریزرو بینک کے اعدادو شمار کے مطابق لوگوں کے پاس موجودہ وقت میں سب سے زیادہ نقدی ہے۔ کیش لیس معیشت کی سچائی تو یہ ہے کہ 9 دسمبر 2016 کو ریزرو بینک کے مطابق عام لوگوں کے پاس 7.8 لاکھ کروڑ روپے تھے جو جون 2018 تک بڑھ کر 18.5 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ موٹے طور پر عام لوگوں کے پاس نقدی نوٹ بندی کے وقت سے دوگنی ہوگئی ہے۔ نوٹ بندی کے اثر سے ہماری اقتصادی ترقی شرح بھی متاثر ہوئی ہے۔ 2015-16 کے دوران جی ڈی پی کی گروتھ ریٹ 8.01 فیصدی کے آس پاس تھی جو 2016-17 کے دوران 7.11 فیصدی رہ گئی اور اس کے بعد جی ڈی پی کی گروتھ ریٹ 6.1 فیصدی پر آگئی۔ اس کو لیکر مودی سرکار پر نکتہ چینی کرتے ہوئے پی چدمبرم نے ٹوئٹ کیا ہندوستانی معیشت کو گروتھ کے ٹرم میں 1.5 فیصدی کا نقصان ہوا۔ اس سے ایک سال میں 2.5 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔100 سے زیادہ جانیں گئیں۔ اتنا ہی نہیں 15 کروڑ دیہاڑی مزدوروں کے کام دھندے بند ہوئے ہیں۔ ہزاروں صنعتیں بند ہوگئی ہیں۔ ایک لاکھ لوگوں کی نوکریاں چلی گئی ہیں۔ ویسے نوٹ بندی کی وجہ کے چلتے 100 سے زیادہ لوگوں جن کی موت ہوئی ان کے خاندان تو نوٹ بندی کو شاید کبھی بھولیں۔ ریزرو بینک کے اعدادو شمار جاری کرنے سے پہلے مالی امور کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی اس رپورٹ کو بھی بھاجپا نے کمیٹی کے اندر اپنی اکثریت کا استعمال کرتے ہوئے اسے باہر آنے نہیں دیا جس میں نوٹ بندی پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔سینٹر فار مانیٹرننگ انڈین اکانومی کے کنزیومر پیرا مینٹس سروس( سی پی ایس ایس) کے اعدادو شمار کے مطابق 2016-17 کی آخری سہ ماہی میں قریب 15 لاکھ نوکریاں گئی ہیں۔ ہندوستانی عوام پارٹی کی اتحادی تنظیم بھارتیہ مزدور فیڈریشن نے بھی نوٹ بندی پر یہ کہا ہے کہ غیر منظم سیکٹر کی ڈھائی لاکھ یونٹیں بند ہوگئی ہیں اور ریئل اسٹیٹ پر بہت برا اثر پڑا ہے۔بڑی تعداد میں لوگوں نے نوکریاں گنوائی ہیں۔ نوٹ بندی کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے دیش کے اندر نکسلیوں اور دیش سے باہر فنڈنگ پانے والے آتنکی حرکتوں پر نوٹ بندی سے لگام لگانے کا دعوی کیا تھا لیکن جس طرح سے حال ہی میں پانچ انسانی حقوق رضاکاروں کو گرفتار کیا گیا ہے ان پر نکسلیوں سے تعلق رکھنے کے الزام لگے ہیں اور اربن نکسلیوں کی بات کو پھیلایا جارہا ہے اس سے تو یہ ہی سوال اٹھتا ہے کیا نوٹ بندی کے بعد بھی نکسل حمایتی اتنے مضبوط ہوگئے ہیں۔ نوٹ بندی سے جموں و کشمیر میں کٹر پسندی حملوں پر لگام لگانا تو دور کی بات یہ حملے اور تیز ہوگئے ہیں۔ راجیہ سبھا ایم پی نریش اگروال کے پوچھے ایک سوال کے جواب میں وزیر مملکت داخلہ ہنسراج اہیر نے ایوان میں بتایا تھا کہ جنوری سے جولائی 2017 کے درمیان کشمیر میں 184 آتنکی حملے ہوئے جو 2016 میں اسی دوران ہوئے 155 آتنکی حملوں کے مقابلے میں کافی زیادہ تھے۔ وزارت داخلہ کی 2017 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر میں 342 شدت پسند حملے ہوئے جو 2016 میں ہوئے 322 حملوں سے زیاد تھے۔ اتنا ہی نہیں 2016 میں جہاں صرف 15 لوگوں کی موت ہوئی تھی 2017 میں 40 عام لوگوں کی ان حملوں میں جان گئی۔ کشمیر میں آتنکی حملے 2018 کی شروعات سے ہی جاری ہیں۔ نوٹ بندی سے فائدے کے الٹ اسے لاگو کرنے میں ریزرو بینک کو ہزاروں کروڑ کا نقصان اٹھایا پڑا ہے۔ نئے نوٹوں کی پرنٹنگ کے لئے ریزرو بینک کو 7965 کروڑ روپے خرچ کرنے پڑے۔ اس کے علاوہ نقدی کی قلت نہ ہو اس کے لئے زیادہ نوٹ بازار میں جاری کرنے کے چلتے 17426 کروڑ روپے کا سود بھی چکانا پڑا۔ بہرحال سابق وزیر اعظم اور ماہر اقتصادیات ڈاکٹر منموہن سنگھ نے 7 نومبر 2017 کو پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ ایک ان آرگنائزڈ(غیر منظم) لوٹ ہے ۔ لیگالائزڈ بلنڈر (قانونی ڈاکہ ) ہے ۔ منموہن سنگھ کے اس الزام کا بھارت کی عوام نریندر مودی سے جواب کا ابھی بھی انتظار کررہی ہے۔
(انل نریندر)

05 ستمبر 2018

شرد پوار اپوزیشن کے اہم سوتر دھاربنیں گے

اپوزیشن اتحاد کا 2019 کے سیاسی سنگرام میں بیشک ابھی کون اسے لیڈ کرے گااس کا فیصلہ چناؤ بعد ہو لیکن اس کے لئے گوٹیاں پھر بچھائی جانی لگیں۔بزرگ مراٹھا لیڈر شرد پوار کی اپوزیشن اتحاد کی سمت میں سنجیدہ شروعات سے تو یہی لگتا ہے کہ پوار اہم حکمت عملی ساز کا رول نبھا سکتے ہیں۔ اپوزیشن اتحاد بنائے رکھنے کی اہم حکمت عملی کے ساتھ ابھی تک کسی خیمے کا حصہ نہیں بنی علاقائی پارٹیوں کو منانے کا دارومدار بھی پوار پر ہوگا۔ اگلے کچھ مہینوں میں ہونے والے عام چناؤ کو ذہن میں رکھیں تو علاقائی پارٹیوں کو کھل کر مودی سرکار کے خلاف ہونے والے نفع نقصان کا جائزہ لینا ہے۔ ایک ایک سیٹ پر برابر کے دعویداروں میں اتحاد ہو اور دوسرے کو نہ کہنا پڑے کہ حکمراں پارٹی کے برعکس دیش کو ایک کارگار متبادل کا احساس کرانا ہے اور اعلی سطح پر ایک دوسرے سے ٹکراؤ والی توقعات میں توازن بنانا سب سے بڑی چنوتی ہوگی۔ وزیر اعظم کے خلاف بن رہے ماحول میں اپوزیشن اتحاد میں سب سے بڑا سوال جو اٹھایا جاتا ہے وہ ہے اس خودساختہ اپوزیشن کا لیڈر کون ہوگا، وزیر اعظم امیدوار کون ہوگا؟ کانگریس صدر راہل گاندھی نے حال ہی میں کہا تھا کہ مودی سرکار نے اچھے دن کاوعدہ پورا نہیں کیا ۔ کرپشن مٹانے ، مہنگائی روکنے، اچھا انتظامیہ دینے میں پوری طرح ناکام رہنے کے سبب دیش کی جنتا کو امیدیں بنائے رکھنے اور اس سرکار کا مضبوط متبادل دینے کے لئے کانگریس پوری طاقت سے مقابلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا دیش کی جنتا اب چاہتی ہے تبدیلی۔ اپوزیشن کا لیڈر کون ہوگا یہ بھی چناؤ بعد طے ہوجائے گا۔ سماجوادی پارٹی کے چیف اکھلیش یادو نے سنیچر وار کو کہا کہ 2019 کے لوک سبھا چناؤ میں جنتا بھاجپا کے خلاف ووٹ ڈالنے کی تیاری کررہی ہے اور وہ وزیر اعظم کا نیا چہرہ چاہتی ہے۔ اگلے چناؤ میں (2019) بی جے پی 30 سے40 سیٹیں گنوا سکتی ہے۔ حالانکہ اقتدار میں واپسی این ڈی اے کی ہی ہوگی یہ کہنا ہے مرکزی وزیر رامداس اٹھاولے کا۔ چناؤ سے پہلے ان کے اس بیان کے کئی سیاسی معنی بھی نکالے جارہے ہیں۔ وہیں آر ایل ڈی اور سپا کے صدر و مرکزی وزیر مملکت اوپیندر کشواہا نے کسی پارٹی یا نیتا کا نام لئے بغیر کہا کہ این ڈی اے میں کچھ ہی لوگ ہیں جو نریندر مودی کو دوبارہ پی ایم نہیں بننے دینے کا سازش کررہے ہیں۔ پچھلے دنوں کے کھیر والے بیان پر صفائی دی، میں نے تو آر جے ڈی سے دودھ مانگا اور نہ ہی بھاجپا سے چینی۔ ریاستی سطح پر تال میل کے تحت اپوزیشن پارٹیوں میں سیٹوں کے تال میل پر بات چیت جلد شرو ع ہوگی۔ خود شرد پوار اگلے 15 روز میں تمام اپوزیشن پارٹیوں سے بات چیت شروع کریں گے اور دیش کے نظریاتی سیاسی تقسیم کا ایک خاکہ انہوں نے کھینچ دیا ہے۔ چناؤ کے نتیجے جو بھی ہوں لیکن شرد پوار اپوزیشن اتحاد کے سوتردھار بن سکتے ہیں۔
(انل نریندر)

عمران خاں کو امریکہ سے ملا بڑا جھٹکا

امریکی فوج و امریکی وزارت دفاع پینٹاگان نے پاکستان کو ملنے والی 30 کروڑ ڈالر کی مدد روکنے کا فیصلہ کرکے عمران خاں کو بڑا جھٹکا دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس لئے کیا کیونکہ پاکستان کٹر پسند گروپوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پاکستان ان کٹر پسندوں کے لئے آج بھی محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے جو پڑوسی دیش افغانستان میں پچھلے17 سالوں سے جنگ چھیڑے ہوئے ہیں۔ دہشت گردی کو لیکر ٹھیک یہی الزام بھارت بھی لگاتا آیا ہے۔ دہشت گردی کے مسئلے پر امریکہ اور پاکستان کے درمیان لمبے عرصے سے رشتوں میں کڑواہٹ بنی ہوئی تھی۔ امریکہ نے اس سال شروع میں ہی جنوری میں پاکستان کو خبر دار کیا تھا اگر دہشت گردی سے لڑنے کے اس کے ابھیان میں پاکستان تعاون نہیں کرے گا تو وہ اس کی فوجی مدد روکنے پر مجبور ہوگا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے اگر پاکستان اپنا رویہ بدلتا ہے تو آگے امریکی حمایت پھر سے حاصل ہوسکتی ہے۔ پہلے بھی اس سال کی شروعات میں پاکستان کو 50 کروڑ ڈالر کی اقتصادی مدد دی تھی حالانکہ پینٹاگان کے اس فیصلے کو ابھی امریکی پارلیمنٹ کی منظوری ملنا باقی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نئے سال کے پہلے دن کئے گئے ایک ٹوئٹ میں پاکستان پرجھوٹ بولنے اور شدت پسندوں کو پناہ دینے کے الزامات لگائے تھے۔ٹرمپ نے کہا تھا کہ پاکستان امریکہ سے اربوں ڈالر کی مدد لینے کے باوجود شدت پسندوں کو پال رہا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ نے پچھلے 15 برسوں میں پاکستان کو 33 ارب ڈالر سے زیادہ کی مدد دی اور اس نے بدلے میں جھوٹ اور چھل کے سوا کچھ نہیں کیا۔ وہ سوچتا ہے کہ امریکی نیتا بیوقوف ہیں ۔ ہم افغانستان میں جن دہشت گردوں کو تلاش رہے ہیں انہیں اس نے پناہ دی ہوئی ہے۔ اب اور نہیں۔ امریکہ کے اس قدم سے پاکستان کے نئے وزیر اعظم عمران خاں کی مشکلیں بڑھیں گی۔ عمران خاں نے پچھلے مہینے ہی پاکستان کی کمان سنبھالی ہے۔ اقتصادی محاذ پر انہیں لڑنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان کا غیر ملکی کرنسی ذخیرہ مسلسل گھٹ رہا ہے۔ مئی 2017 میں جہاں پاکستان کی غیر ملکی کرنسی اسٹاک 16.4 ارب ڈالر تھا اب یہ 10 ارب ڈالر نیچے آگیاہے۔ امریکہ کی طرف سے کل کتنی اقتصادی مدد پر روک لگے گی ابھی اس کا اعلان ہونا باقی ہے۔ لیکن ڈیفنس ماہرین کی مانیں تو یہ روک 900 ملین ڈالر سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔ بیشک اس وقت چین پاکستان کے ساتھ کھڑا نظر آرہا ہے لیکن وہ بھی امریکہ کی ناراضگی زیادہ وقت تک جھیل نہیں سکتا۔ پاکستان کی اصل طاقت پاک فوج ہے دیکھنا یہ ہے کہ اگر امریکی امدادی رقم رکتی ہے تو اس کا کیا ردعمل ہوگا۔تازہ قدم پاکستان کی مشکلیں ہی بڑھائے گا۔
(انل نریندر)

04 ستمبر 2018

جمہوریت کا پریشر کوکر پھٹنے والا ہے

سرخیوں میں چھائے بھیما کوریگاؤں معاملہ میں جس طرح سے پونے پولیس نے الگ الگ شہروں سے چھاپہ ماری کر پانچ جانے مانے انسانی حقوق رضاکاروں کوگرفتار کیا ہے اس پر عزت مآب سپریم کورٹ نے سخت رخ دکھایا ہے۔ سپریم کورٹ نے رومیلا تھاپر اور نامورکہانی نگار دیوکی جین ، ستیش دیش پانڈے اور مازادارووالا کی گرفتاری کو چنوتی دینے والی عرضی پر تبصرے پر نا اتفاقی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کی سیفٹی والو ہے اگر آپ (سرکار) اس کی اجازت نہیں دے گی تو سیفٹی والو پھٹ جائے گا۔ کورٹ نے ساتھ ہی پانچوں رضاکاروں کو اگلی سماعت تک گھر میں نظر بند رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔ وہ اب پولیس کی نگرانی میں اپنے گھروں میں ہی رہیں گے۔ پونے پولیس نے گزشتہ منگلوار کو حیدر آباد سے تیلگو شاعر ورور کی لاش ممبئی سے ورنانے گوجاولز اور ارون گھریڑا ، فرید آباد سے سدھا مہادیواور دہلی سے صحافی گوتم نولکھا کو گرفتار کیا تھا۔ ان کی گرفتاری کے خلاف اپنی عرضی میں چیف جسٹس کی رہنمائی والی بنچ پر عرضی گزاروں کی طرف سے پیش ہوئے ابھیشیک منو سنگھوی سمیت نامی وکیل سے گرفتاری کے خلاف دلیل دی تھی کہ بھامو کا کوریگاؤں تشدد سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ایف آئی آر میں ان کے نام تک نہیں ہیں پھر بھی 9 مہینے کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا یہ پولیس پاور کا بیجا استعمال ہے جو غیر مناسب ہے۔ انہیں دبانے کی کوشش ہوئی ہے۔ پونے پولیس نے پچھلے جون میں جب پانچ لوگوں کو گرفتار کیا تھا تب بھی احتجاج ہوا تھا لیکن اس وقت کے تیور ایسے نہیں تھے۔ دراصل پونے پولیس اس برس کے شروع میں بھیما کوریگاؤں سے شروع ہوئے تشدد اور اس کے بڑھنے کی جانچ کرتی ہوئی اس نتیجے پر پہنچی کے اس کے پیچھے شہروں میں سماجی اور کلچرل انجمنوں کے نام پر کام کررہے ماؤوادیوں کا رول ہے۔ انہی گرفتاریوں میں سے ایک ملزم کے میل سے جو خط ملا اس میں وزیر اعظم نریندر مودی کی سورگیہ راجیو گاندھی کی طرح ہتیا کرنے کے منصوبے کا ذکر تھا۔ اس کے بعد پولیس اور سرگرم ہوئی۔ جانچ کے بعد اس کے پاس کچھ نام آئے جس میں گرفتاریاں ہوئیں۔ ان میں ورورا راؤ جیسے مصنف اور کوی نے ماؤ وادیوں کا حمایت ہونے کو کبھی چھپایا بھی نہیں۔ بتادیں بھیما کوریگاؤں واقع سے پہلے چلگار پریشد منعقد کی گئی تھی جس میں کافی بھڑکیلی تقریریں ہوئیں تھیں۔ اس کے شوریہ دیوس منا اس میں بھی کچھ نیتاؤں پر ایسی تقریریں کرنے کا الزام ہے۔ پولیس کا ماننا ہے کہ یہ سب سوچی سمجھی سازش کا حصہ تھی جس کے پیچھے شہروں میں فرضی نام سے رہ رہے ماؤوادیوں کا ہاتھ تھا۔ بھیما کوریگاؤں معاملہ میں ہوئی تازہ کارروائی کو وزیر اعظم نریندر مودی اور دیگر بڑے نیتاؤں کے قتل کی سازش سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے اور سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ نکسلی لیڈروں کے درمیان جن دو خطوں کا تبادلہ ہوا تھا اس میں پردھان منتری مودی بھاجپا صدر امت شاہ اور وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کے قتل کے پلان سے جڑی تفصیل تھی۔ ان پانچوں کی گرفتاری اسی جانچ کی سمت میں ایک قدم ہے۔ ان میں ایک خط 2016 کا ہے جس میں مودی، شاہ اور راجناتھ کے قتل کی سازش کا ذکر ہے جبکہ2017 کے خط میں سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی جیسی قتل کی واردات انجام دینے کا تذکرہ ہے۔ مہاراشٹر کے گڑھ چرولی میں اپریل میں 39 نکسلیوں کے مارے جانے کے بعد چلی کارروائی میں ان خطوں کا پتہ چلا۔حکام کے مطابق دوسرے خط میں پلان کو انجام دینے کے لئے امریکی ایم ۔4 رائفل اور دیگر ہتھیاروں کو بھی حاصل کرنے کا تذکرہ ہے۔ اس میں وکروں سے ایسے ہتھیار خریدنے کے لئے کروڑوں روپے اکٹھا کرنے کو کہا گیا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر و سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم نے کہا وہ انسانی حقوق رضاکاروں اور ایک وکیل اور ایک کوی کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا میں ان لوگوں سے قطعی اتفاق نہیں رکھوں گا جو کٹر پسندی یا انتہا پسندی کا نظریہ رکھتے ہیں لیکن میں وہ نظریات ظاہر کرنے سے اس کے حق کی حفاظت کروں گا۔ یہاں آزادی کا مطلب ہے کٹر پسندی رکھنے والے کسی بھی شخص کو تبھی سزا دی جاسکتی ہے جب وہ تشدد میں شامل ہو یا تشدد بھڑکانے کی حمایت میں ہو یا تشدد کو اکسانے میں مدد کرے۔ ششی تھرور نے کہا کہ انہیں ماؤ واد سے کوئی ہمدردی نہیں ہے لیکن نظریات ،بھروسہ و اظہار رائے کی آزادی کسی جمہوریت میں بنیادی حق ہے۔ اگر پولیس جو دعوی کررہی ہے وہ سچ ہے تو ہماری رائے میں فرضی نام سے رہ رہے 6 ماؤ وادیوں کے تئیں کسی طرح کی ہمدردی ظاہر نہیں کی جاسکتی۔ اگر شہروں میں فرضی بھیس میں بیٹھے ماؤوادی تشدد برپا رہے ہیں تو یہ ایک انتہائی خطرناک صورتحال ہے اور اس مکینزم کو ہر حالت میں تباہ کیا جانا چاہئے۔ اس کیس میں پچھلی جون میں ہوئی گرفتاریوں کی بنیاد پر ہی مزید گرفتاریاں ہوئیں اور پولیس کے مطابق کچھ وقت تک نظر رکھنے کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود پولیس انہیں ٹرانزٹ ریمانڈ پر نہیں لے پائی اس کے لئے وہ خود ذمہ دار ہے۔ بیشک عدالت کا فیصلہ آنے سے پہلے تک اس معاملہ میں کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن یہ سوال تو اپنی جگہ ہے کہ ٹھوس ثبوت اور درکار تیاریوں کے باوجود پونے پولیس اپنے مقصد میں کامیاب کیوں نہیں ہوئی؟ سپریم کورٹ کا تبصرہ ہے کہ ٹرانزٹ ریمانڈ مانگتے ہوئے پولیس نے درکار خانہ پوری کی تعمیل نہیں کی لہٰذا پونے پولیس کے لئے اب یہ بڑی چنوتی ہے کہ وہ عدالت کے سامنے ٹھوس ثبوت و دستاویزات پیش کرے اور یہ ثابت کرے کہ پردھان منتری اور دیگر سینئر وزرا کے قتل کی سازش واقعی تھی اور اس میں کون لوگ شامل تھے اور یہ بھی بتائے کہ یہ کارروائی کسی سیاسی مقصد سے تو نہیں کی گئی؟
(انل نریندر)

نہیں رہے کڑوے پروچن دینے والے منی ترون ساگر

پچھلے کچھ دنوں سے پیلیا کے مرض سے بیمار راشٹر سنٹا منی108 ترون ساگر جی مہاراج کا 1 ستمبر کو صبح سویرے قریب 3 بجکر 18 منٹ پر مشرقی دہلی کے کرشنا نگر میں واقع رادھا پوری جین مندر سے اپنی اننت یاترا پر چلے گئے۔ غور طلب ہے کہ51 سالہ بڑبولے مقرر جین منی ترون ساگر پچھلے کچھ دنوں سے پیلیا کی بیماری میں مبتلا تھے۔ انہوں نے اپنے آخری وقت میں دوائیاں بھی لینے سے منع کرکے سمادھی لے لی تھی۔ جین روایت کے مطابق انہوں نے اپنے انتم وقت میں کھانا پانی چھوڑ کر اپنے پران تیاگ دئے۔ جین منی کے انتم وقت میں راجدھانی میں آرام کررہے دوسرے جین سنت بھی منی جی کے پاس پہنچ گئے تھے۔ جین منیوں کے سمجھانے پر انہوں نے تھوڑا بہت کھانا کھایا۔ گزشتہ 29 اگست کو منی ترون ساگر کے ذریعے تحریر خط بھی سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے تمنا ظاہر کی تھی کہ میں بنا دکشا کے نہیں جانا چاہتا اس لئے سبھی جین منی گپتی ساگر کے پاس لے چلیں وہیں میرا آگے کا جیون دیکھیں، سمادھی دیں۔ آگے بھی انہوں نے کافی کچھ لکھا ہے۔ حالانکہ ان کے چیلے اس خط کی تردید کررہے ہیں۔ جین منی ترون ساگر جی کی انتم یاترا پر پارتھک شریر کو ان کے سنہاسن پر رکھا ہوا تھا جسے لوگوں نے اپنے کندھوں پر اٹھایا ہوا تھا۔ اس انتم یاترا میں دیش کی الگ الگ ریاستوں سے آئے شردھالو جن میں بزرگ، نوجوان ، عورتیں، بچے و جین منی شامل ہوئے۔ جین منی ترون ساگر اپنے بیانات کو لیکر اکثر سرخیوں میں رہا کرتے تھے۔ دگمبر جین منی تلخ پروچن کے نام سے سماج کو سندیش دیتے تھے۔ وہ سماج اور قومی زندگی کے اہم اشوز پر تلخ الفاظ میں اپنی رائے دیتے تھے۔جین منی نے ہریانہ اسمبلی میں پروچن دیا جس پر کافی تنازع کھڑا ہوا تھا۔ اس کے بعد گلوکار وشال ڈڈلانی کے ایک ٹوئٹ نے کافی ہنگامہ کھڑا کردیا تھا۔ معاملہ بڑھتا دیکھ وشال کو جین منی سے معافی مانگی پڑ گئی۔ اس تنازع کے بعد عام آدمی پارٹی سے وابستہ گلوکار ڈڈلانی نے اپنے آپ کو سیاست سے الگ کرلیا۔ مدھیہ پردیش میں 1967 میں پیدا ترون ساگر مہاراج کا اصلی نام پون کمار جین تھا۔ جین سنت بننے کے لئے انہوں نے 1981 میں گھر چھوڑ دیا تھا۔ قریب20 سال کی عمر میں انہوں نے آچاریہ پشپدنتھ ساگر جی سے منی دکشا لی تھی۔ حال ہی میں انہوں نے اپنی دگمبر دکشا کے20 سال پورے کئے تھے۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ چھٹی کلاس میں پڑھائی کے دوران جلیبی کھاتے کھاتے سنیاسی بن گئے تھے۔ اس مشہور واقعہ پر منی ترون ساگر جی نے بتایا تھا بچپن میں مجھے جلیبی کا بہت شوق تھا ایک دن اسکول سے واپس لوٹتے وقت ایک ہوٹل میں جلیبی کھا رہا تھا تبھی میرے پاس میں آچاریہ پشپدنتھ جی کا پروچن چل رہا تھا۔ وہ کہہ رہے تھے تم بھی بھگوان بن سکتے ہو۔ یہ بات میرے کانوں میں پڑی۔ میرے سنت پرمپرا اپنالی۔ ہم ان کی پوتر اسمرتی میں جینندر شردھانجلی دیتے ہیں۔
(انل نریندر)

02 ستمبر 2018

بیٹیوں کے دم پر جکارتہ میں انچیونگ کا ریکارڈ ٹوٹا

جکارتہ میں جاری ایشیائی کھیلوں میں ہندوستانی کھلاڑیوں نے اس بار کئی نئے ریکارڈ بنائے۔ بیٹیوں کی لاجواب کارکردگی کے بوتے پر بھارت نے 2014 کے انچیونگ ایشیائی کھیلوں میں جیتے میڈل کا ریکارڈ تو ڑدیا۔ ساؤتھ کوریا کے انچیونگ میں بھارت نے 11 گولڈ سمیت 57 میڈل جیتے تھے۔ ابھی تک (یعنی جمعہ تک ) بھارت نے کل 65 میڈل جیت لئے ہیں۔ ا ن میں 13 گولڈ،23 سلور اور 29 تانبے کے میڈل شامل ہیں۔ بھارت8 ویں مقام پر ہے۔ جکارتہ کھیلوں میں کئی کھلاڑیوں کی تاریخی پرفارمینس رہی۔نیرج چوپڑا نے ایشیائی کھیلوں کی تاریخ میں پہلی بار مردوں کے بھالا پھینک مقابلے میں 28.06 میٹر تھرو کرکے نہ صرف گولڈ میڈل جیتا بلکہ ایک نیا قومی ریکارڈ بھی بنایا۔ سلور اور تانبے کے میڈل حاصل کرنے والے نیرج سے کافی پیچھے رہے۔اس مقابلہ میں گولڈ میڈل جیتنے والی سپنا برمن کی الگ کہانی ہے۔ باپ رکشہ چلاتا ہے ، ماں چائے کے باغوں میں کام کرتی ہے۔ انتہائی غریب خاندان کی اس چھوٹی کے دونوں پیروں میں 6 انگلیاں ہیں۔ جلپائی گوڑی کے قریب پریوار کی سپنا درد کے درمیان ہیپٹاتھلم کے سات ایونٹ کرتی ہے۔ اس کو جوتے بھی بیرونی ملک سے منگوانے پڑتے ہیں۔ اب گولڈ میڈل جیتنے کے بعد بھارت کی لیبارٹی کمپنی نے وعدہ کیا ہے کہ وہ سپنا کے لئے اسپیشل جوتے بنوا کر دے گی۔ چار گنا 400 میٹر ریلے ریس میں ہیما داس ، ایم آر پورما ، ساکشتا بین گائیکواڑ اور وسما ویلوا کورتھن نے گولڈ میڈل جیتا۔ وہیں چکا پھینکنے میں سیما پنیا نے اپنا سب سے بہترین پرفارمینس دکھاتے ہوئے تانبے کا میڈل جیتا۔ بھارت کی بیٹیوں نے اب تک 29 میڈل جیت لئے ہیں۔ مہلا ہاکی ٹیم نے 36 سال بعد سنہری تاریخ رقم کر ڈالی جب وہ ہاکی فائنل کھیلیں ورلڈ کی نویں نمبر کی ہندوستانی مہلا ٹیم نے ایشیائی کھیلوں کے ہاکی مقابلے میں 20 سال بعدپہنچنے کا کارنامہ حاصل کیا۔ بیشک وہ فائنل میں ہار گئیں لیکن پھر بھی ان کا کارنامہ کم نہیں مانا جاسکتا۔ مردوں کی ہاکی ٹیم سے ہمیں گولڈ میڈل کی بہت امید تھی۔ ملیشیا سے سڈن دیٹھ میں 7-6 سے بھارت کے ہارنے سے سارے دیش کے ہاکی شائقین کا دل ٹوٹ گیا۔ چمپئن کا رتبہ اور 2020 ٹوکیو اولمپک میں اینٹری کا موقعہ بھی گنوا دیا۔ 2018 کے اس ایشین گیمس میں بھارت کے کھلاڑیوں نے ٹیک اینڈ فیلڈ میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا۔ میں نے بھالا تھرو میں نیرج چوپڑہ کی تاریخی کارنامے کا ذکر کیا لیکن جانسن گروندرسنگھ ، 800 میٹر کی ریس میں ڈبل میڈل کی تاریخی کارناموں کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے۔ جانسن نے 800 میٹر کی دور میں سلور کے بعد مردوں کی 1500 میٹر کی دوڑ میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔ جنسن جانسن نے اس گولڈ میڈل کے لئے جیسی پرفارمینس دکھائی اس کا موازنہ اگر 2016 میں ہوئے ریو اولمپک سے کیا جائے تو انہیں وہاں بھی گولڈ میڈل مل جاتا۔ جانسن نے 1500 میٹر کی دوڑ میں گولڈ جیتنے کے لئے 3:44:72 سیکنڈ کا وقت لیا۔ ریو اولمپک میں اس مقابلے کے ونر میتھیو نے 3:50:000 سیکنڈ کا وقت نکال کر گولڈ میڈل جیتا تھا۔ ٹرپل جمپ میں اروند نے 48 سال بعد دیش کو گولڈ دلایا۔ مردوں کی 800 میٹر کی دوڑ میں دونوں گولڈ اور سلور میڈل جیت کر نئی تاریخ بنائی۔ ایشیائی کھیلوں میں یہ صرف دوسرا موقعہ ہے جبکہ بھارتیہ ایتھلیٹ 800 میٹر دوڑ میں پہلے دو مقام پر رہے۔ ان سے پہلے نئی دہلی نے ایشیائی کھیلوں میں منجیت سنگھ اور کلونت سنگھ نے یہ کارنامہ انجام دیا۔ منجیت سنگھ اور جنسن جانسن نے یہ تاریخ دوبارہ رقم کردی۔ جکارتہ میں وہ ایشیائی گیمس اب اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ان کھیلوں کے شاندار انعقاد پر منتظمین کو بدھائی۔ یہ کھیل ہمارے لئے تو کم سے کم بہت اچھے رہے۔ چین۔ جاپان جیسے ملکوں کے کھلاڑیوں کو پچھاڑنا بہت بڑا کارنامہ رہا۔ اب نظریں 2020 کے ٹوکیو اولمپک پر لگ جائیں گی جہاں جکارتہ کے اس شاندار پرفارمینس کی ایک زبردست چنوتی ہوگی۔ اس ایشیارڈ میں بھارت کی جیسی پرفارمینس رہی اس سے تو لگتا ہے کہ ٹوکیو اولمپکس میں بھی بھارت کی پرفارمینس پچھلے سالوں سے بہتر رہے گی۔ سبھی کھلاڑیوں کو بدھائی۔
(انل نریندر)

تاج محل کو ہر قیمت پر بچانا ہوگا

تاج محل کو آلودگی اور قبضوں سے بچانے کی سبھی کو فکر ہے۔ عزت مآب سپریم کورٹ نے اس قومی وراثت کی حفاظت اور رکھ رکھاؤ اور سبز زاری زون جیسے اشوز کو دھیان میں رکھتے ہوئے وسیع دستاویزات اور رپورٹ تیار کرنا چاہئے کیونکہ اس وراثت کے تحفظ کے لئے کوئی دوسرا موقعہ نہیں ملے گا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ یقینی ہی اس معاملہ میں تاج محل کو مرکز میں رکھتے ہوئے غور کرنا ہوگا لیکن اس کے ساتھ ہی ایک ویژن ڈاکومینٹ تیارکرتے وقت گاڑیوں کی آمدورفت اور تاج ڈرائی پونیزیم زون میں کام کررہے صنعتوں سے نکلنے والی آلودگی اور جمنا ندی کی آبی سطح جیسے اشو پر بھی غور کرنا چاہئے۔ تاج کے قریب 1400 مربع کلو میٹر علاقہ ہے جس کے دائرہ میں اترپردیش کا آگرہ ، فیروز آباد، متھرا، ہاتھرس ا ور ایٹہ و راجستھان کما بھرت پور ضلع لگا ہوا ہے۔ جسٹس مدن لوکر ایس عبدالنظیر و دیپک گپتا کی بنچ نے ویژن ڈوکومنٹ تیار کرنے کی کارروائی میں شامل پروجیکٹ کوآرڈینیٹر سے کہا کہ اگر تاج محل ختم ہوگیا تو آپ کو دوسرا موقعہ نہیں ملے گا۔ عدالت نے کہا کہ تاج محل کو محفوظ کرنے کے لئے افسران کو بہت سے نکتوں پر غور کرنا ہوگا۔ بنچ نے ہرت زون کے ساتھ اس علاقہ میں چل رہی صنعتوں اور ہوٹل اور ریستوراں کی تعداد کے بارے میں بھی جانکاری مانگی ہے۔ اترپردیش سرکار اور مرکزی سرکار دونوں نے عدالت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ایک وسیع پلان پر غور کررہی ہیں۔ مرکز کی طرف سے ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل اے این ایس نٹکرنی نے کہا کہ عدالت کے حکم کے بعد سے آغا خاں فاؤنڈیشن ، انٹیک اور قومی یادگار و غیر ملکی اہل اداروں سے بھی اس بارے میں نظریات و تجاویز ملے ہیں نٹکرنی نے کہا کہ مرکز میں آگرہ کو وراثتی شہر اعلان کرنے کے لئے ایک پرستاؤ بھیجنے کے لئے مرکز کو خط لکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آثار قدیمہ بھی تاج محل کے لئے وراثتی پلان تیار کرنے میں لگا ہوا ہے جسے تین مہینے کے اندر یونیسکو کو بھیج دیا جائے گا۔ مفاد عامہ کی عرضی دائر کرنے والے ماحولیاتی ماہر وکیل مہیش چندر مہتہ نے کہا یہاں ہرت زون کم ہوگیا ہے اور جمنا ندی کے کنارے قبضے ہورہے ہیں۔ سپریم کورٹ کے 1996 کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس علاقہ میں بہت سی صنعتیں شروع ہوگئی ہیں جن میں سے بہت سی اپنی اہلیت سے زیادہ کام کررہی ہیں۔ ہم عزت مآب سپریم کورٹ کے ممنون ہیں کہ آخر کسی نے تو اس قومی وراثت کو بچانے کے لئے قدم بڑھائے ہیں۔ اب اس معاملے میں اگلی سماعت 25 ستمبر کو مقرر کی گئی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ اگلی سماعت میں کچھ اور تجاویز آئیں گی اور تاج کو صحیح معنوں میں بچانے کے لئے قدم اٹھائے جائیں گے۔ اسے ہر قیمت پر بچانا ہوگا۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...