Translater

01 دسمبر 2018

صحافی شجاعت بخاری کا قاتل نوید جٹ مارا گیا

کشمیر وادی میں سیکورٹی فورس کو منگل کی رات بڑی کامیابی ملی ۔9مہینے پہلے پولس حراست سے فرار پاکستانی آتنکی نوید جٹ کو دھیر کر دیا گیا ۔صحافی شجاعت بخاری کے قتل کے اہم ملزم اور کشمیر میں لشکر طیبہ کے سرغنہ نوید کے ساتھ ایک دوسرا آتنکی بھی مار گرایا گیا ۔اس مڈبھیڑ میں ہمارے 4جوان بھی زخمی ہوئے بخاری کے قتل کے بعد سے نوید جٹ کی تلاش کی جا رہی تھی 6بار پولس اور سیکورٹی فورس کو چکما دے کر بھاگنے والا پاکستان کے لشکر طیبہ کا آتنکی نوید جٹ کا مارا جانا ہماری سیکورٹی کا ایک بڑا کارنامہ ہے ۔پچھلے کچھ عرصے سے ہماری سیکورٹی فورس ان دہشگردوں پر حاوی ہو رہی ہے ۔جنتا کے تعاون سے سیکورٹی فورس کی سختی آتنکیوں پر قہر بن کر ٹوٹ رہی ہے یہی وجہ ہے کہ پچھلے دس دنوں میں 20آتنکوادی دھیر کئے گئے ہیں ۔اس میں لشکر اور حزب المجاہدین کے کئی کمانڈر شامل ہیں ۔ڈی جی پی دلباگ سنگھ نے کہا کہ پچھلے ایک ہفتے میں دو درجن سے زیادہ آتنکی مارے گئے ہیں وہ لڑکوں کو اُٹھاتے ہیں اور انہیں آتنکی بننے کو مجبور کرتے تھے ۔انکار کرنے پر ان کو ٹارچر بھی کرتے تھے ان آتنکیوں کی موت اچھی خبر ہے دو مہینے سے وادی میں کوئی نوجوان آتنکی نہیں بنا ہے ۔بڑ گاﺅں کے کپ پورا گاﺅں میں نوید کے موجودگی کی اطلاع ملی تھی سیکورٹی فورس نے منگل کی رات ہی تلاشی شروع کی تھی تو آتنکوادیوںنے ان پر فائرنگ شروع کر دی سیکورٹی فورس کی جوابی کاروائی میں دونوں آتنکی مارے گئے مڈبھیڑ کے دوران مقامی لوگوںنے سیکورٹی فورس پر جم کر پتھراﺅ کیا اس بھاری تشدد کے دوران ایک آتنکی بھاگ نکلا جبکہ 35سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ۔کشیدگی کو دیکھتے ہوئے وسیع تلاشی کاروائی اور سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے ۔پچھلے 10مہینوںمیں 230آتنکوادی مارے جا چکے ہیں اس دوران دو پولس والے شہید ہوئے ۔لشکر کا انتہائی مطلوب دہشتگرد نوید جٹ رائزنگ کشمیر کے مدیر شجاعت بخاری کے قتل سمیت کئی معاملوں میں شامل تھا ۔پاکستان کے آتنکی ٹرینگ کیمپ میں 26/11کے حملہ ور اجمل قصاب کے ساتھ ٹرینگ ہوئی تھی ۔پولس ریکارڈ کے مطابق نوید جٹ پاکستان کے شہر ملتان کا رہنے والا تھا ۔نوید جٹ کا 26/11ممبئی حملے میں بھی در بردہ طور سے ہاتھ تھا ۔کشمیر رینج کے پولس ڈائرکٹر جنرل سویم پرکاش نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ 2014میں ممبئی حملے کی حقیقت کو قبول کیا تھا وہ سیکورٹی فورس کی ہٹ لسٹ میں دسویں نمبر میں تھا ۔نوید جٹ پر بارہ لاکھ روپئے کا انعام تھا ۔بھارت نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ اپنے نوید کی لاش لے جائے ۔نوید جٹ کے مارے جانے سے صحافی شجاعت بخاری کے قتل کی گتھی سلجھ گئی ہے ۔یہ ہماری سیکورٹی فورس کے لئے بہت بڑی کامیابی ہے ۔

(انل نریندر)

کرتارپور:رشتوں کو بہتر بنانے کا پل بن سکتا تھاپر.....

شری کرتارپور صاحب کوریڈور کے لئے دونوں دیشوں بھارت اور پاکستان نے بنیاد کھ دی ہے پیر کو پنجاب کے گروداسپور ضلع کے مان گاﺅں میں ہندوستان کے نائب صدر وینکیا نائیڈو اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے اس کی بنیاد تو رکھی تو بدھ وار کو پاکستا نے اس کا سنگ بنیاد پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے رکھا اس کوریڈور کا سنگ بنیاد جس جذبے کے ساتھ رکھا گیا وہ خوش آئین ہے ۔چونکہ اگلے سال تک سکھ شردھالوں کے کرتارپور صاحب تک پہنچنے کا راستہ صاف ہو گیا ہے ۔امریکہ سے بے توجہی جھیل رہے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان بھارت سے رشتے بہتر بنانے کے لئے اس طرح کے مواقع کچھ اسی طرح ہی پرجوش لگتے ہیں جس طرح اپنے عہد کے آغاز میں بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے تھے ۔پاکستان بین الااقوامی برادری کے سامنے ہمیشہ اس طرح سے اپنے آپ کو پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے جیسے وہ اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان رشتوں میں بنے تعطل کو توڑنا چاہتا ہے لیکن بھارت اس تعطل کو ختم کرنے میں روڑا اٹکاتا ہے اور چاہتا ہے کسی نہ کسی طرح کا تعطل بنا رہے سکھ شردھالوں کے لئے یہ تو ایک تاریخی موقع تھا لیکن اس موقع پر پاکستان کے وزیر اعظم کی جو تقریر تھی وہ کچھ معنوں میں مایوس کرنے والی ضرور تھی جہاں ایک ہاتھ سے عمران خان نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا نو جوت سنگھ سدھو کی تعریفوںکے پل باندھے وہیں اس موقع پر اپنے حق میں ڈپلومیسی استعمال کرنے کے علاوہ دوہرے پن کا جس طرح سے ثبوت دیا اس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔پروگرام سے ایک دن پہلے ہی پاکستان کی جانب سے یہ پیغام دیا گیا کہ وہ سارک کانفرنس کےلئے بھارت کے وزیر اعظم کو مدعو کرئے گا ظاہر ہے اس پیغام کا کوئی مطلب نہیں تھا ۔کیونکہ ایک طرف تو سارک پروگرام ممبر ملکوں کی منظوری سے طے ہوتا ہے ،اور ابھی اس بارے میں کچھ طے نہیں ہو سکا ۔دوسرے بھارت کہہ چکا ہے اور وزیر خارجہ سشما سوراج نے سنجیدگی کے ساتھ پاکستان کو یاد بھی دلا دیا کہ دہشت گردی اور بات چیت ساتھ ساتھ ممکن نہیں ہے ۔کرتارپور کوریڈور کا سنگ بنیاد رکھنے کا پروگرام آپسی اتفاق رائے کی بنیاد پر طے ہوا ہے جس کی مانگ بھارت پچھلے 20سال سے کر رہا تھا ۔بے شک عمران خان کا سد بھاونا سندیش ہے لیکن کیا اسے بھارت پاک کے درمیان بات چیت شروع کرنے کی بنیاد مان لی جائے؟بے شک عمران خان کا یہ کہنا کہ دونوں دیش خود کفیل نیو کلیائی ملک ہیں اس لئے جنگ تو ہو نہیں سکتی جو ایسا سوچتا ہے وہ بے وقوف ہے ایسے میں صرف دوستی کا راستہ بچتا ہے انہوںنے یہ بھی کہا کہ بھارت سے مضبوط رشتوں کے لئے ان کی حکومت فوج و سیاسی پارٹیاں ایک ہی خیمے میں ہیں۔اگر فرانس جرمنی ایک ساتھ آسکتے ہیں تو پھر پاکستان ہندوستان بھی ایسا کیوں نہیں کر سکتے ؟انہوں نے کہا ہم نے ایک دوسرے کے لوگ مارے ہیں لیکن پھر بھی سب بھلا سکتے ہیں ۔انہوںنے یہ بھی کہا کہ ہمیشہ کہا جاتا تھا کہ پاکستان کی فوج دوستی نہیں ہونے دیے گی لیکن آج ہماری پارٹی ،وزیر اعظم اور فوج ایک ساتھ ہیں ۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بے دونوں ملکوں کے درمیان اختلاف کا سب سے بڑا مسئلہ صرف کشمیر ہے ۔پاکستان کے دوہرے کردار کو دکھاتا ہے ۔کرتارپور کوریڈور ہند پاک کے درمیان دوریوں کو کم کرنے کا بڑا ذریعہ بن سکتا تھا،لیکن دونوں طرف خدشات اتنے حاوی ہیں کہ یہ آسان نہیں ہے ۔بھارت مانتا ہے کہ پاکستان کی نیت اور دوہرے رخ رشتے بہتر بنانے کی راہ میں بڑا روڈا ہے اس موقع پر پاکستانی فوج کے سربراہ قمر باجوا کا خالستان کا انتہائی مطلوب گوپال چاولہ سے ملنا اور عمران خان کے ذریعہ کشمیر اشو کو اٹھانا پاکستان کے دوہرے رویئے سے جوڑ کر دیکھا جانا فطری ہے کشمیر کے تذکرے پر بھارت نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے ۔واقف کاروںکا کہنا ہے کہ کرتارپور سے دونوں دیشوںمیں بات چیت کی اچھی پہل ہو سکتی تھی لیکن پاکستان کا دوہرا کردار اور پالیسی شاید ایسا کرنے میں پھر رکاوٹ بنے گی خیر کرتارصاحب کوریڈور بننے کا خیر مقدم ہے۔

(انل نریندر)

30 نومبر 2018

سائنسدانوںایک نہیں ہو چمتکار

سائنسدانوںنے چمتکار ایک بار پھر کر کے دکھا دیا ہے وہ بھی ایک نہیں دو پہلا چین کے ایک سائنسداں نے دعوی کیا ہے کہ انہوںنے پہلی بار جین میں تبدیلی کر دو بچیوں کو پیدا کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔اور دوسرا مریخ پر ناسا کا ماسکی سطح پر کامیابی کے پہلے انسیٹ کا اترنا ۔پہلے بات کرتے ہیں چینی سائنسداںکے چمتکار کی :سائیکلوجی رسرچ کنندہ ہی جینکوئی نے دعوی کیا ہے کہ اس تکنیک سے پیدا بچوں میں ایڈس سے لڑنے کی قدرتی صلاحیت ہوگی ۔مانا جا رہا ہے کہ اس کامیابی سے نئے سرے سے زندگی قلمبند کی جا سکتی ہے ۔انہوں نے ساتھ میاں بیویوں کے بانجھ پن کے علاج کے دوران جرائم بدل ڈالے ایک میاں بیوی کو اسی ماہ جڑواں بچیاں پیدا ہوئی ہیں جس سے اس تبدیلی کی تصدیق ہوتی ہے ۔ایک امریکی سائنسداںنے بھی کہا ہے کہ انہوںنے چین میں ہوئی اس رسرچ میں حصہ لیا امریکہ میں اس طرح کے جین بدلنے پر پابندی ہے کیونکہ ڈی این اے میں تبدیلی آنے والی پیڑھیوں تک آثرات پہنچائیں گے اور پیدائشی جنس کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے منگلوار کو ہوئے جین ایڈیٹنگ کے ایک بین الااقوامی سمینار سے پہلے جین کوئی نے کہا کہ تجربے میں شامل میاں بیویوں نے پہچان ظاہر نہ کرنے سے منا کر دیا وہ یہ بھی نہیں بتایں گے کہ وہ کہاں رہتے ہیں اور یہ تجربہ کیسے ہوا حالانکہ اس دعوی کی آزادانہ طور سے کوئی تصدیق نہیں ہو سکی ہے وہیں کچھ سائنسداں اس خبر کو سن کر بھی حیران ہیں ۔حالانکہ ایک امریکن ڈاکٹر ایرک ویپولے نے کہا کہ ہمیں انسانوںکے اپریٹنگ ہدایات سے سمجھوتا کر رہے ہیں جو بڑی بات ہے وہیں پینے سلوینا یونیورسٹی کے ڈاکٹر کرن یسنوری نے کہا کہ انسانوں پر تجربے نے اخلاقی طور سے ٹھیک ثابت کیا ہے ۔اس کی مذمت ہو دوسرا چمتکار کہہ سکتے ہیں وہ ہے ناسا کی خلائی گاڑی کا میریخ پر پہنچنا مریخ کے نائاب عجوبے ظاہر کرنے کے لئے اس کی چٹانی سطح کو کھودنے کے لحاظ سے ڈزائن کیا گیا ناسا کا ربو انسائٹ خلائی گاڑی پیر کو کامیابی کے ساتھ لال سیارے کے سطح پر اتری ۔خلائی گاڑی سے بھیجے گئے سگنل سے اشارہ دیا گیا ہے کہ انہیں مریخ پر دھوپ مل رہی ہے ناسا کے مارواوڈیسی فریکوئیر نے سگنل بھیجے جو ہندوستانی وقت کے مطابق صبح 7بجے زمین پر پہنچے اور ڈی سی نے کچھ تصویریں بھیجی ہیں جس میں سیارے کی زمین پر اترتے دیکھا جا سکتا ہے 7مہینے کی مسلسل سفر کے بعد انسائٹ پیر کو لال سیارے کی سطح پر کامیابی کے ساتھ اتر گیا ۔انسائٹ پہلی بار مریخ سیارے کے دور دراز علاقہ میں خدائی کر کے سیارے کی زمینی بناوٹ کی رسرچ کرئے گا ساتھ ہی زلزلے کی سرگرمیوں کو بھی اس کے ذریعہ ریکارڈ کیا جا ئے گا ۔انسائٹ کو اسی سال پانچ مئی کو چھوڑا گیا تھا ۔2ہزار دو سو میل فی گھنٹے کی رفتارسے اس خلائی شٹل نے 301223981میل کی دوری اس نے طے کی ہے ۔

(انل نریندر)

ستپال ملک نے ثابت کیا وہ کسی کے ربڑ اسٹامپ نہیں

عام طور پر گورنروں کو مرکز کا ربڑ اسٹامپ کہا جاتا ہے جو ہر اہم ترین فیصلہ مرکز کی رائے کے مطابق کرتے ہیں ۔ان کی تقرری مرکزی سرکار سوچ سمجھ کر کرتی ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر وہ ان کی خواہش کے مطابق چلے لیکن کبھی کبھی ایسے گورنر بھی آجاتے ہیں جو چنوتی کا مقابلہ اپنے ضمیر کی آواز سے کر لیتے ہیں اور ایسا کرنے میں وہ مرکز کی خواہش کو نظرانداز کر ڈالتے ہیں اس لئے اکثر ایسے نیتاﺅں کو گورنر بنایا جا تا ہے جو یا تو ان کی پارٹی کے سنئیر لیڈر ہوں یا پھر بھروسے مند افسر ،جنرل ہوں ۔ایسا کام ہی ہوتا ہے کہ مرکز کسی سیاسی نیتا کو وہ بھی جو اس کی پارٹی کا نہ ہو کو گورنر بنائے لیکن جموں کشمیر میں مرکزی حکومت نے ایسا ہی کیا ہے شری ستپال ملک کو جموں کشمیر کا گورنر بنایا انہوںنے ایک ایسا فیصلہ کیا جس کی مرکز کو کبھی توقع نہیں تھی ۔معاملہ تھا صوبے میں نئی سرکار بنانے کا اور صدر راج ختم کرنے کا ۔مرکز چاہتا تھا کہ صوبے میں پیپلز کانفرنس کے سجاد لون کی قیادت میں سرکار بنے جس کی ہمایت بھاجپا کرے سجاد لون کئی دنوں سے پی ڈی پی کے ممبران اسمبلی کو توڑنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے ۔لیکن گورنر نے نہ تو لون کو چونکایہ بلکہ پی ڈی پی کانگریس اتحاد کو جس کو نیشنل کانفرنس باہر سے ہمایت دینا چاہتی تھی گورنر ستپال ملک نے اتوار کو گوالیر میں منعقدہ پروگرام میں 21نومبر کو اسمبلی بھنگ کرنے کے فیصلے پر اپنا موقوف رکھا ان کے اسمبلی بھنگ کرنے کے بیان پر سیاسی واویلا کھڑا ہونا فطری ہے گورنر نے پہلے یہ کہہ کر سب کو چونکا دیا کہ اگر میں دہلی کی طرف دیکھتا تو مجھے سجاد لون کو وزیر اعلیٰ بنانا پڑتا ایسا کرتا تو تاریخ مجھے بے ایمان کی شکل میں یاد کرتی اور میں بے ایمانی میں تاریخ میں درج نہیں ہونا چاہتا تھا ۔انہوںنے یہ بھی کہا کہ سرکار سوشل میڈیا کے ذریعہ نہیں بنتی جبکہ سجاد لون اور محبوبہ مفتی دونوں نے ان کا سہارا لیا گورنر نے کہا کہ لون کہہ رہے ہیں کہ واٹسپ پر اپنا خط مجھے بھیجا تھا اور محبوبہ نے کہا کہ انہوںنے سرکار بنانے کا دعوی ٹوئٹ کر کے پیش کیا انہوں نے کہا کہ یہ پتہ نہیں تھا کہ سرکاریں واٹسپ کے پیغام پر بنتیں ہیں؟جبکہ سرکار بنانے کا دعوی واٹسپ پر پیش نہیں ہوتا ۔گورنر نے کانگریس اور پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس کی نیت پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں سرکار بنانی ہی تھی تو دن میں ہی راج بھون آکر مجھ سے مل سکتے تھے ا س دن عید کی چھٹی تھی کیا وہ امید کرتے ہیں گورنر فیکس مشین کے پاس بیٹھ کر ان کے فیکس کا انتظار کرتے پی ڈی پی چیف محبوبہ اور نیشنل کانفرنس لیڈر عمر عبداللہ سرکار بنانے پر سنجیدہ ہوتے تو وہ مجھے فون کر سکتے تھے ۔یا خط بھیج سکتے تھے ۔بہر حال گورنر ستپال ملک نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ایک سیاسی گورنر ہیں کسی پارٹی یا سرکار کے ربڑ اسٹامپ نہیں ہیں ان کے اس فیصلے پر سیاسی واویلا ضرور کھڑا ہوگا۔

(انل نریندر)

29 نومبر 2018

کرتارپورکوریڈور کا فیصلہ قابل خیر مقدم ہے پر چوکسی بھی ضروری

یقینی طور پر گرو نانک جی کی585ویں جینتی پر کرتارپور پروجکٹ کا فیصلہ لائق خیر مقدم ہے قریب 7دہائی پہلے تقسیم نے سکھوں کے جن پوتر دھر م استھلوں کرتارپور صاحب کو شردھالوﺅں کی پہنچ سے دور کر دیا تھا وہاں تک اب کوریڈور تک پہنچانے کا اعلان ہی اپنے آپ میں بہت خوش آئین اور قابل خیر مقدم ہے ۔نہ صرف پچھلے 70سال ہی اس فیصلے کاانتظار کر رہے سکھ شردھالو اس فیصلے سے خوش ہیں بلکہ کچھ حد تک بھارت پاکستان کے ٹھنڈے پڑتے رشتوں میں بھی اس سے نئی گرماہٹ آسکتی ہے ۔کرتارپور صاحب پوتر استھلوں میں شمارکیا جاتا ہے یہ مقام ہندوستانی سرحد سے تقریبا چار کلو میٹر کی دوری پر ہے ۔اور اتنی ہی دوری کے چلتے ہندوستانی سکھوں کو دوربین سے اپنے اس پوتر گرودوارہ کرتارپور صاحب کے درشن دوربین سے ہی کر کے مطمئن ہو نا پڑتا تھا ۔سکھوں کے پہلے گرو کی زندگی میں کرتارپور کا فی اہمیت کا حامل رہا ہے ۔انہوں نے اپنی زندگی کے آخری 18سال یہیں گذارے تھے مشکل یہ ہے کہ کرتارپور پاکستان کے نرول ضلع میں پڑتا ہے کافی عرصہ سے یہ مانگ کی جا رہی تھی کہ سکھ تیرتھ یاتریوں کے لئے ایک کوریڈور بنایا جائے جس میں وہ بغیر کسی ویزا یا خاص اجازت کے درشن کے لئے وہاں جا سکیں ۔اس کوریڈور بننے کا مطلب ہوگا کہ اب سرحد کی کانٹے دار تار سکھ سنگت آڑے نہیں آنے دیں گے اور وہ دوربین سے درشن کرنے کے بجائے سیدھے وہاں کے گرو دوارے جا کر متھا ٹیک سکیں گے ۔بدھوار کو مرکزی کیبنٹ کے اس پروجکٹ کو ہر ی جھڈی دکھانے کے ٹھیک ایک دن پہلے پاکستان حکومت نے نہ صرف ہری جھنڈی دی تھی بلکہ یہ بھی اعلان کیا تھا کہ جلد ہی وزیر اعظم عمران خان اس پروجکٹ کا سنگ بنیاد کرنے کرتارپور جائیں گے ۔تازہ روپورٹ کے مطابق انہوں نے ایک تقریب میں اس پروجکٹ کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے ۔اس میں پاکستان کی پہل ضروری بھی تھی کیونکہ سارا کام اسی کے علاقہ میں ہونا ہے ۔بھارت کو تو صرف تیرتھ یاتریوں کے لئے راستہ کھولنا تھا ۔اس کے باﺅجود پاکستانی حکام نے ہندوستانی سفارتکاروں کو سکھ دھرم استھل پر جانے سے روکنے کی جو کوشش کی ہے وہ قابل مذمت ہے جبکہ پہلے وزارت داخلہ نے اس کی اجازت دے دی تھی اور وہ افسر اپنی ذمہ داری پوری کرنے گئے تھے ۔جمعرات کو ہندوستانی کیبنٹ کے فیصلے کے بعد طے ہوا تھا کہ پاکستان نے دوسری حرکت ننکانہ صاحب میں بھارت مخالف خالستان ہمائتی ناروں اور پوسٹروں کے ذریعہ سے کی ہے بد قسمتی یہ ہے کہ کرتارپور گلیارے کے ذریعہ سے ایک دوسرے کے قریب آنے لگے بھارت پاک کے درمیان اسی اشو پر تلخی پیدا ہونے لگی ہے ۔دراصل انتہا پسندی کو فروغ دینا اور اس کا سفارتی استعمال کرنا پاکستا ن کی فطرت میں ہے اور اس کا خمیازہ وہ خود بھگت رہاہے یہی وجہ ہے کہ کراچی میں چینی سفارتخانے پر بلوچستان کے انتہا پسندوںنے حملہ کیا اور دو پولس والوں کو مار گرایا پاکستان ایک طرف چین کے ساتھ ون بیلٹ ون روڈ پروجیکٹ اور اقتصادی گلیارے کی اسکیم پر کام کر رہا ہے تو دوسری طرف وسائل سے آراستہ اپنے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کو دمن استحسال کا شکار بنائے ہوئے ہے ۔یہی وجہ ہے کہ وہاں کی جنتا بلوچستان لیبریشن آرمی اور آزادی کی مانگ کر رہی ہے ۔حالانکہ کرتارپور کوریڈور دونوں ملکوں کے رشتوں کو نیا باب دے سکتا ہے لیکن اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کوریڈور کا استعمال سد بھاﺅ بڑھانے اور یہ بھارت کے لئے آتنکی کوریڈور نہ بن جائے۔اس کے لئے چوکسی ضروری ہوگی۔

(انل نریندر)

نوٹ بندی سے کھیتی برباد اور کسانوں کی کمر ٹوٹی

نوٹ بندی ایک خود کش قدم تھا یہ کسی سے چھپا نہیں اس سے دیش کی معیشت کو ایسا جھٹکا لگا ہے جس سے دیش اب بھی سنبھل نہیں سکا ۔لیکن مرکزی سرکار کے وزیر اس کا بچاﺅ کرتے نظر آئے خود وزیر اعظم نے تو اسے ایک چناﺅی اشو بنا دیا چھتیس گڑھ اسمبلی چناﺅ کے دوران بلاسپور کی ایک ریلی میں وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی تقریر میں نوٹ بندی نکسلواد اور وکاس اور کانگریس کا چناﺅی منشور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نوٹ بندی کی وجہ سے ماں بیٹا روپئے کی ہیرا پھیری میں اس ضمانت پر گھوم رہے ہیں ۔حالانکہ اس دوران انہوںنے راہل اور سونیا گاندھی کا نام نہیں لیا انہوںنے کہا کہ نوٹ بندی کا حساب مانگ رہے ہیں وہ یہ بھول گئے کہ نوٹ بندی کے چلتے ہی نقلی کمپنیاں بند ہو گئیں اور ان کا کھیل سامنے آگیا ان کو ضمانت لینی پڑی 2016میں مودی سرکار کے ذریعہ لئے گئے نوٹ بندی کے فیصلے پر دیش میں مسلسل بحث ہوتی ہے اپوزیشن اس فیصلے کو افسوس ناک قرار دیتی ہے اور سرکار اسے فائدہ مندبتاتی ہے اس نے 8نومبر2016کی رات کو بارہ بجے سے نوٹ بندی لاگو کی تھی ۔پہلی بار مرکزی سرکار کے وزارت زراعت نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ کسانوں پر نوٹ بندی کے فیصلے کا برا اثر پڑا تھا ۔وزارت سے وابسطہ پارلیمنٹ کی قائمہ کیمٹی کی میٹنگ میں وزارت زراعت نے مانا ہے کہ نقدی کی کمی کے چلتے لاکھوں کسان ربیع سیزن میں بوائی کے لئے بیج کھاد نہیں خرید سکے جس کا ان پر برا اثر پڑا وزارت نے نوٹ بندی کے اثر پر ایک روپورٹ سونپی ہے ۔کانگریس صدر راہل گاندھی نے اس روپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے مودی پر تنقید کرتے ہوئے دعوی کیا کہ اب تو مرکزی وزارت زراعت نے بھی مان لیا ہے کہ نوٹ بندی سے کسانوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے اور اس نے کروڑوں کسانوں کی زندگی تباہ کر دی ہے اب ان کے پاس بیج کھاد خریدنے کے لئے درکار پیسہ بھی نہیں ہے ۔لیکن آج بھی مودی ہمارے کسانوں کی بد قسمتی کا مذاق اڑاتے ہیں ۔سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے بھی سرکار پر تلخ نقطہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ نوٹ بندی و خامیوں پر مبنی جی ایس ٹی نے دیش کی معیشت کو تباہ کر دیا ہے ۔مودی سرکار شفافیت لانے اور کرپشن سے لڑنے کے وعدے پر اقتدار میں آئی تھی لیکن ہم کرپشن بڑھتا دیکھ رہے ہیں ۔ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ مودی سرکار کو یہ بتانا چاہئے کہ اس نے کو ن سا وعدہ پورا کیا ہے کسان قرض کے بوجھ کے تلے دبتا جا رہا ہے لیکن مودی سرکار ہر سال دو کروڑ لوگوں کوروزگار دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن یہ وعدہ محض جملہ بن کر رہ گیا ہے ۔بھارتی جنتا پارٹی کے ایم پی شتروگھن سنہا نے چتر کوٹ میں رائے ینتر میلا میدان میں منعقدہ کسان سبھا کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دیش کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کسانوں سے وعدہ خلافی کی ہے پانچ سال میں کوئی وعدہ پورا نہیں کیا کسانوں کو ان کی فصل کی لاگت تک نہیں مل پائی اچھے دن آنے کا سپنا دکھانے والی سرکار نے دیش میں برے دن لا دئے ایسے ہی منڈلا(مدھیہ پردیش)میں ایک چناﺅی ریلی میں راہل گاندھی نے نوٹ بندی کو دیش کا سب سے بڑا گھوٹالہ بتایا ۔انہوں نے کہا کہ پی ایم نے کہا تھا کہ یہ کالے دھن کے خلاف لڑائی ہے ایماندار لوگ بینک کے سامنے کھڑے دم توڑ رہے تھے چور بینک کے پیچھے سے کالے دھن کو سفید کر گئے۔پارلیمانی قائمہ کمیٹی کو سونپی رپورٹ میں وزارت زراعت نے مانا کہ نوٹ بندی کے فیصلے نے دیش کے 26کروڑ کسانوں پر برا اثر پڑا تھا ۔نوٹ بندی کے دوران کسان یا تو خریف کی فصل بیچ رہے تھے یا ربیع کے فصلوں بوائی کر رہے تھے ایسے میں نقدی کی بے حد ضرورت ہوتی ہے لیکن نقدی کی کمی کے چلتے لاکھوں کسان سردی میں ربیع کے سیزن میں بیج اور کھاد بھی نہیں خرید سکے ۔

(انل نریندر)

28 نومبر 2018

وجہ نہ گنائیں،بتایں کہ مندر کیسے بنے گا؟

ایودھیا میں شری رام کا مندر بنے یہ محض چناﺅی اشو نہیں ہے ،اس سے کروڑوں ہندوستانیوں کی آستھا جڑی ہے صرف ہندو ہی نہیں ،مسلمان سمیت سبھی مذاہب کے لوگ بھی شری رام کو مانتے ہیں ۔ایودھیا کے مسلمان تو اس تنازع سے تنگ آچکے ہیں اور وہ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ مندر بناﺅ اور اس تنازع کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کرو لیکن سوال یہ ہے کہ مندر بنے گا کیسے ،کون اسے بنائے گا؟جن کی دکانیں چل رہی ہیں وہ تو اس معاملے کو لٹکائے رکھیں گے جن نیتاﺅں کو رام مندر صرف چناﺅ کے وقت یاد آتا ہے ان سے اس کے حل کی امید کم رکھنی چاہئے ۔شیو سینا چیف ادھو ٹھاکرے نے ایودھیا میں رام للا کے درشن کرنے کے بعد پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ جب بھی چناﺅ آتے ہیں تو مندر کا اشو اٹھایا جاتا ہے چناﺅ کے دوران سب لو گ رام رام کرتے ہیں اور چناﺅ کے بعد آرام کرتے ہیں ۔ہم کب تک انتظار کریں گے؟ہندﺅوں کے جذبات سے اب کھیلنا بند کرو انہوں نے سوال کیا کہ رام مندر کب بنے گا ؟ادھو نے کہا کہ وزیر اعلیٰ یوگی نے کہا تھا کہ مندر تھا ،ہے اور رہے گا لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ مندر دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔اب چناﺅ میں کچھ دن باقی رہ گئے ہیں اور پارلیمنٹ کا یہ آخری سیشن ہوگا تو مندر تعمیر کے لئے اس میں آدیننس لاﺅ مندر بناﺅ ،آر ایس ایس کے چیف نے دو ٹوک کہا کہ وجہ نہ گنائیں سوچو کہ مندر کیسے بنے گا؟قانون کے ذریعہ رام مندر تعمیر کا دباﺅ بنانے کے مقصد سے ایودھیا میں منعقد کی گئی دھرم سبھا اتوار کو تقاریر کے ساتھ ختم ہو گئی ۔حالانکہ مندر تعمیر کی تاریخ کو لے کر بنائے جا رہے ماحول کے لئے صبر سے کام لینے کی باتیں کہیں گئیں اور کوئی بڑا اعلان نہ ہوا ،نہ پرستاﺅ پا س ہوا۔دوسری طرف وزیر اعظم نریندر مودی نے الور میں ایک چناﺅ ریلی میں کہا کہ رام مندر پر کانگریس سپریم کورٹ میں خطرناک کھیل کھیل رہی ہے سپریم کورٹ ایودھیا پر لوگوں کی باتیں سن کر فیصلہ کرنا چاہتا ہے لیکن کانگریس ان پر پارلیمنٹ میں امپیچمنٹ لا کر ججوں کو ڈرا رہی ہے۔قریب چار گھنٹے بعد وی ایچ پی کی ہنکار ریلی میں سنگھ چیف موہن بھاگوت نے مودی کو جواب دیا کہ کام نہیں ہونے کا سبب تو کوئی بھی بتا سکتا ہے اگر مصروفیت یا سماج کا احساس کو نہ سمجھنے کے سبب یہ معاملہ کورٹ کی ترجیحات میں نہیں ہے تو سرکار سوچے کہ مندر بنانے کے لئے قانون کیسے آسکتا ہے ۔جلد سے جلد یہ قانون لاگو کیا جائے کہ وہاں ادھو ٹھاکرے نے یہ بھی کہا کہ مرکز میں بھاجپا قیادت والی سرکار رہے یا نہ رہے مندر کی تعمیر ہر حال میں کی جائے گی اگر معاملہ عدالت میں ہی جانا ہے تو چناﺅ کمپین کے دوران لوگوں سے کہیں کہ بھائیوں بہنوں ہمیں معاف کرو ۔یہ بھی ہمارا چناﺅی جملہ تھا ۔پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں پہلی بار ایودھیا کا ذکر کیا گیا ۔اپنی الور چناﺅ ی ریلی میں وزیر اعظم نے کہا تھا کہ کانگریس انصاف ک عمل میں دخل دیتی ہے جب ایودھیا کا کیس سپریم کورٹ میں چل رہا تھا تو کانگریس کے نیتا و راج سبھا ایم پی نے کہا کہ 2019تک مقدمہ مت چلاﺅ کیونکہ اس سال میں چناﺅ ہیں ۔مودی نے نام تونہیں لیا لیکن غالبا ان کا اشارہ کپل سبل کی جانب تھا ۔جب سپریم کورٹ جج ایودھیا جیسے حسساس مسئلوں میں دیش کو انصاف دلانے میں سب کی رائے سننا چاہ رہے تھے تو کانگریس کے ایم پی وکیل سپریم کورٹکے جج صاحبان کے خلاف پارلیمنٹ میں مقدمہ چلانے کے لئے انہیں ڈرا دھمکا رہے تھے بتا دیں کہ کانگریس نیتا اور کپل سبل نے دسمبر2017 سنی وقف بورڈ کی طرف سے سپریم کورٹ میں 2019لوک سبھا چناﺅ تک رام مندر معاملے کی سماعت ٹالنے کی اپیل کی تھی سبل نے کہا تھا کہ مندر اشو پر جنوری سے لے کر نومبر 2018میں سماعت میں پیش نہیں ہو ا ہوں ۔مودی اس اشو کو چناﺅی مقصد سے اچھال رہے ہیں ۔وہیں بھاجپا صدر امت شاہ نے ایک تازہ بیان میں کہا کہ مندر معاملے میں کوئی فیصلہ لینے سے پہلے پارٹی اور سرکار اگلے سال سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کا انتظار کرے گی ۔ایک چینل کو دئے گئے انٹر ویو میں بھاجپا صدر نے امید جتائی کہ جنوری میں سپریم کورٹ میں سماعت ہوگی اور سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔شاہ نے شیو سینا چیف ادھو ٹھاکرے کے ایودھیا دورے پر بھی کٹاش کیا اور کہا کہ ادھو اپنی زندگی میں پہلی بار ایودھیا گئے ۔دھرم سبھا کے اسٹیج سے متنازع زمین پر اپنا دعوی کرتے ہوئے زمین بٹوارے کا فارمولہ نہ ماننے والے وی ایچ پی کے بیان پر فریقوں نے سخت رد عمل ظاہر کیا ہے ۔ بابری مسجد معاملے کے فریق حاجی محبوب نے پوچھا کہ وی ایچ پی کس حثییت سے زمین مانگ رہی ہے ؟وہ تو مقدمے میںفریق بھی نہیں ہے ۔رام جنم بھومی کے فریق نرموہی اکھاڑے کے نمائندے مہنت جتندر داس نے کہا کہ ہم 1885سے مقدمہ لڑ رہے ہیں ہائی کورٹ نے نرموہی اکھاڑہ ،رام للا اور سنی وقف بورڈ کو برابر حصہ کے بٹوارے کا فیصلہ کیا گیا تھا رام مندر کے لئے ہم نے سپریم کورٹ سے پوری زمین مانگی ہے مالکانہ حق ہمارا ہے وی ایچ پی کون ہوتا ہے؟وہ سیاست کر رہی ہے ۔فریق کار مہنت نے کہا کہ دھرم سبھا کے بہانے وی ایچ پی چناﺅی ڈرامہ کر رہی ہے ۔وہ زمین مانگنے والے کون ہیں ؟ان کی تاریخ کیا ہے؟بھیڑ جٹا کر کسی کا حق نہیں لے سکتے ،مدعی نہیں پارٹ نہیں ہے کس حیثیت سے زمین مانگ رہے ہیں ۔چناﺅ پا س آتا ہے تو شگوفا چھوڑنے ایودھیا چلے آتے ہیں وہیں شنکر آچاریہ سوامی سروپ آنند سرسوتی کا کہنا ہے کہ کوئی بھی سیاسی پارٹی کبھی بھی مندر نہیں بنائے گی ہاں مندر کے نام پر یہ پارٹیاں سیاست کرتیں ہیں ۔

(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...