28 جولائی 2018

ان تین بچیوں کی موت کا ذمہ دار آخر کون

یہ کتنے دکھ اور شرم کی بات ہے کہ تین بچیوں کی موت بھوک سے تڑپ تڑپ کر ہوگئی۔ یہ دل دہلانے والا واقعہ مشرقی دہلی کے منڈاولی گاؤں کے پنڈت چوک کے پاس ایک مکان میں ہوا۔منگلوار کو مردہ ملی ان بچیوں کے پوسٹ مارٹم کے بعد لال بہادر شاستری اسپتال نے دیش کو شرمسار کرنے والا یہ انکشاف کیا کہ بچیاں شکھا، مانسی اور پارل کے پیٹ میں کھانے کی کسی بھی چیز کا حصہ نہیں ملا یعنی ان کی موت بھوک کے سبب ہوئی۔ ڈاکٹروں کے مطابق انہیں کئی دنوں سے کھانا نہیں ملا۔ دیررات جی ٹی بی اسپتال میں میڈیکل بورڈ نے دوبارہ پوسٹ مارٹم کرایا اس سے بھی بھوک سے موت ہونے کی تصدیق ہوئی۔ سینئر ڈاکٹروں نے بتایا کہ بچیوں کے پیٹ میں اناج یا کوئی چکنی چیز دونوں نہیں تھی۔ سب سے چھوٹی بچی کا جسم اتنا کمزور تھا کہ اس کے ہاتھ پیر ڈھانچے جیسے دکھائی دے رہے تھے۔ بچیوں کے والد منگل مکان مالک مکل مہرہ کا رکشہ چلاتا تھا۔ کچھ دن پہلے سماج دشمن عناصر نے نشیلی چیز سنگھاکر رکشہ لوٹ لیا۔ وہ کمرے کا کرایہ بھی نہیں دے پا رہا تھا۔ منگل کی بیوی وینا نے پولیس کو بتایا کہ سنیچر کو مکان مالک نے کمرے سے نکال دیا۔ اس کے بعد منگل بیوی اور بچے پنڈت چوک میں واقعہ دوست نارائن کے کمرے میں آگئے۔ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے کھانا نہیں ملا اس سے بچیاں بیمار ہوگئیں۔ سنیچر کو پڑوسیوں نے بچیوں کو کھانا دیا۔ وہ بیماری کے سبب کھا نہیں پائیں۔ دوپہر کو بچیاں بیہوش ہوگئیں تو وینا انہیں لے کر ایل بی ایس اسپتال پہنچی جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ 8 سال کی شکھا ،4 سال کی مانسی اور 2 سال کی پارل کی موت کا ذمہ دار آخر کون ہے؟ یہ دل دہلادینے والا واقعہ جہاں ایک طرف غریبوں کے لئے طرح طرح کی سہولیات دینے کا دعوی کرنے والی سرکاروں کو کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے وہیں سماج کے غیر سنجیدہ رویئے کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ یہ واردات لوگوں میں سماجی وابستگی ختم ہونے اور دوسروں کے دکھ درد سے منہ موڑنے کی پچھلے کچھ دنوں میں پیدا ہوئے ٹرینڈ کی جیتی جاگتی مثال ہے۔ ایسا کئی باردیکھا گیا ہے کہ سڑک حادثہ کا شکار تڑپتے ہوئے شخص کو اسپتال لے جانے سے بھی لوگ کتراتے ہیں۔ یہ حالت انتہائی مایوس کن ہے۔ اگر کسی کو پیٹ بھر کھانا مل رہا ہے اور اس کے پڑوس میں بھوک سے بچیاں مر رہی ہیں تو یہ مہذب سماج میں قطعی قبول نہیں کیا جاسکتا۔ اسے دیکھتے ہوئے مذہبی اور سماجی انجمنوں کو آگے آنا چاہئے اور سماج کو اور حساس رہنا ہوگا۔ یہ واقعہ تو دہلی کا ہے لیکن ایسے واقعات اور ریاستوں میں بھی ہوتے ہی ہوں گے لیکن خبریں نہیں آتیں۔
(انل نریندر)

جمہوریت میں دھرنا مظاہرہ کو روکا نہیں جاسکتا

سپریم کورٹ نے جنتر منتر اور بورڈ کلب علاقوں میں دھرنا، مظاہرہ اور ریلیوں کو این جی ٹی کے ذریعے لگائی گئی پابندی پیر کو ہٹا لی ہے اور کہا کہ ان علاقوں میں احتجاجی مظاہروں پر مکمل پابندی نہیں لگا جاسکتی۔ بڑی عدالت نے مرکزی سرکار سے کہا کہ وہ اس طرح کے پروگراموں کو منظوری دینے کے لئے دو مہینے کے اندر گائڈ لائنس تیار کرے۔ جسٹس اے کے سیکری اور جسٹس اشوک بھوشن کی بنچ نے کہا احتجاجی مظاہرہ کا حق اور شہریوں کو پرامن طریقے سے رہنے کا حق کے درمیان ٹکراؤ کے پیش نظر متوازن رویہ اپنانا ضروری ہے۔ قابل ذکر ہے کہ نیشنل گرین ٹربیونل پچھلی 5 اکتوبر کو جنتر منتر کے آس پاس کے علاقہ میں دھرنے مظاہروں پر روک لگادی تھی۔ اسے ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی بتاتے ہوئے این جی ٹی نے کہا تھا کہ شہریوں کو جنتر منتر روڈ ایریا پر آلودگی سے پاک ماحول میں رہنے کا حق ہے لیکن ریاستی سرکار اس کی حفاظت میں نا کام رہی ہے۔ دہلی کے وزیر اعلی سمیت کئی انجمنوں نے اس فیصلہ کا خیر مقدم کیا ہے۔ کیجریوال نے ٹوئٹ کرکے کہا کہ دہلی کو پولیس راج میں بدلنے کی کوشش جمہوریت کے لئے خطرناک ہے۔ سووراج انڈیا نے بھی فیصلہ کا خیر مقدم کیا ہے۔ پرشانت بھوشن نے کہا جنترمنتر پر لگی یہ روک غیر جمہوری اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی تھی۔ وہیں بھاجپا پردیش پردھان منوج تیواری نے کہا مرکزی سرکار کے قریب جنتا کا مظاہرہ اس کا حق ہے، روک ہٹانا کئی سماجی ،مذہبی و دیگر انجمنوں اور اداروں کے لئے خوشی دینے والا ہے۔ وہیں نئی دہلی آنے والے لوگوں کو اس سے کافی راحت ملے گی۔ دراصل انجمنوں اور اداروں کو دھرنا اور مظاہرہ کرنے کے لئے کوئی ادائیگی نہیں کرنی پڑے گی اور پارلیمنٹ اسٹیٹ کم بند ہونے سے لوگوں کو جام سے نجات ملے گی۔ این جی ٹی کی روک لگانے کے بعد تمام انجمنوں و اداروں کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کے سامنے بھی دقت آگئی تھی۔ اس کے لئے رام لیلا میدان طے کیا گیا تھا لیکن نارتھ ایم سی ڈی نے یہاں دھرنا مظاہرہ کرنے کے لئے مفت جگہ دینے سے منع کردیا۔ رام لیلا میدان کی ایک دن کی بکنگ فیس 50 ہزار روپے طے کردی تھی۔ سپریم کورٹ نے جنترمنتر اور بورڈ کلب دونوں ہی جگہ پوری پابندی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کچھ موقعوں پر پابندی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
(انل نریندر)

27 جولائی 2018

آخر رافیل جہاز کی سودے کی سچائی کیا ہے

رافیل جنگی جہازوں کی فرانس سے ہوئے حکومت ہند کے سودے پر پچھلے کئی دنوں سے مسلسل ہنگامہ جاری ہے۔ حکمراں بی جے پی اور بڑی اپوزیشن پارٹی کانگریس نے ایک دوسرے پر دیش اور پارلیمنٹ دونوں کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا ہے ۔ بی جے پی کے چار ممبران پارلیمنٹ نے کانگریس صدر راہل گاندھی کے خلاف مخصوص اختیار عدولی کا نوٹس دے دیا ہے۔ کانگریس نے بھی وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر دفاع نرملا سیتا رمن کے خلاف ایسے ہی نوٹس کی اجازت کے لئے باقاعدہ نوٹس دے دیا ہے۔ تنازع کی بنیادی جڑ ہے رافیل جنگی جہازوں کی قیمت۔ منگل کو یہ نوٹس اسپیکر کو ملکارجن کھڑگے نے دیا تھا۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ حکومت کے خلاف تحریک اعتماد کی تجویز پر بحث کے دوران وزیر اعظم اور وزیر دفاع نے سودے کے بارے میں غلط جانکاری دے کردیش کو گمراہ کیا ہے۔ کانگریس نے دعوی کیا کہ جنگی جہاز کی قیمت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بھارت ۔فرانس کے درمیان خفیہ معاہدہ کا حصہ نہیں تھی۔ جہاز کی قیمت بتائی جاسکتی ہے۔ معاہدے کے آرٹیکل ون میں لکھا ہے کہ دیش کی سکیورٹی سے جڑے معاملوں میں ایک کچھ اہم اطلاعات یا معلومات کو خفیہ زمرے میں رکھا گیا ہے۔ نوٹس کے مطابق ڈیفنس سکریٹری سبھاش بھاوڑے نے نومبر 2016 اور اس سال ایوان میں تحریری جواب میں بتایا تھا کہ ایک رافیل جنگی جہاز کی قیمت تقریباً 671 کروڑ روپے ہے۔ ادھر ایک ٹی وی چینل نے دعوی کیا ہے مودی سرکار نے اس مخصوص جنگی جہاز کے سودے میں دیش کا پیسہ بچایا ہے اور کانگریس سرکار کے مقابلہ میں ہر جنگی جہاز کا سودا 59 کروڑ روپے سستا کیا گیا۔ مودی سرکار میں جو سودا 59 ہزار کروڑ روپے میں ہوا ہے وہیں معاہدہ اس تازہ انکشاف کے مطابق یوپی اے کے دوران قریب 1.69 لاکھ کروڑ روپے کا ہواتھا۔ چینل کی خبر کے مطابق مودی سرکار نے ایک جنگی جہاز کا سودا 1646 کروڑ روپے میں کیا ہے جبکہ یوپی اے میں یہ سودا1705 کروڑ روپے کا ہوا تھا۔اس جنگی جہاز میں میزائلیں جو یوپی اے سرکار کے معاہدے کے تحت لئے جارہے جنگی جہازوں میں نہیں تھی اور دوسری طرف کانگریس ترجمان رندیپ سرجے والا نے دعوی کیا کہ یوپی اے سرکار نے 2012 میں اسی رافیل جہاز کو خریدنے کا سودا525.1 کروڑ روپے میں کیا تھا اور مودی سرکار نے اسی جنگی جہاز کی قیمت 1670.70 کروڑ روپے چکائی ہے کیا یہ سیدھے سیدھے گھوٹالہ نہیں ہے۔ آخر کار مودی سرکار نے ایسا کیوں کیا؟ دیش اس کا جواب چاہتا ہے۔ وہیں بتادیں کہ راز میں رکھنے کا حوالہ دیکر جس جنگی جہاز کی قیمت بتانے سے سرکار انکار کررہی ہے اس کا خلاصہ رافیل بنانے والی کمپنی نے خود ہی کردیا ہے۔ کمپنی ڈاسو نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت کو ہر ایک جہاز (رافیل) 1670.70 کروڑ روپے میں بیچا گیا ہے۔ پچھلے دو ماہ سے رافیل جنگی جہاز سودے میں گھوٹالہ کا الزام لگاتی آرہی کانگریس کے سکریٹری جنرل غلام نبی آزاد، چیف ترجمان رندیپ سرجے والا اور سابق مرکزی وزیر جتندر سنگھ نے کمپنی کی سالانہ رپورٹ کی کاپی جاری کی ہے۔ کانگریس صدر راہل گاندھی نے کچھ خاص (بزنس مین) کو سودے کا فائدہ پہنچانے کے لئے مہنگا سودا کرنے کے الزامات بھی لگائے۔ بوفورس گھوٹالہ تو محض 70 کروڑ روپے کا تھا جس کے سبب زبردست اکثریت والی راجیو سرکار 1989 میں چناؤ ہار گئی تھی، آج تک یہ ثابت نہیں ہو پایا کہ دلالی کی رقم کہاں گئی؟ یہ رافیل جنگی جہازوں کی خرید کا مبینہ گھوٹالہ تو ہزاروں کروڑ کا ہوسکتا ہے؟ انل امبانی کی کمپنی نے کبھی جنگی جہاز کے کھلونے تک بھی نہیں بنائے ان کو کس بنیادپر مودی جی نے سودا دلوا دیا، یہ پوری دنیا سمجھ چکی ہے جبکہ کانگریس کی یوپی اے سرکار نے سرکاری جنگی جہاز بنانے والی ایچ اے ایل کو یہ کام دلوایا تھا۔ اس کرپشن کے مبینہ گھوٹالہ کی پوری جانکاری دیش کو ملنی چاہئے۔ کانگریس کے الزامات کا مودی سرکار تبھی صحیح توڑ نکال سکتی ہے جب وہ کھل کر اس سودے کی پوری جانکاری دے۔ اب اسے چھپانے میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔ قومی سلامتی کے نام پر پیسوں کے گھوٹالے کو نظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ اس سے کوئی گھوٹالہ ہوا ہے لیکن اس کے پختہ ثبوت سامنے آنے چاہئیں۔
(انل نریندر)

کوئی بھی قانون اپنے ہاتھوں میں نہیں لے سکتا

دیش میں بھیڑ کے تشدد کے معاملہ بڑھتے جارہے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے سے تو آئے دن ایسی خبریں آرہی ہیں جن میں لوگوں کا مشتعل گروپ کسی مشتبہ یا بے قصور ،نہتے شخص کو اپنے حساب سے نپٹارہا ہوتا ہے۔ اس طرح کے واقعات میں لوگوں کی جان تک جا رہی ہے۔ پچھلے دنوں الور میں گؤ اسمگلنگ ہونے کے شبہ میں ایک شخص کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا گیا۔ اس سے پہلے بھی دیش کے کئی حصوں میں ایسے واقعات ہوچکے ہیں جن میں کسی کو بچہ چور ہونے کے شبہ میں پیٹ پیٹ کر مار دیا گیا یا دیگر اسباب سے ایسے واقعات قانون و نظام کی کھلی اڑانے والی اور ہندوستانی سماج کے چہرے کو داغدار کرنے کی شکل میں پیش کرنے والے ہیں۔پچھلے ہفتہ ہی سپریم کورٹ نے دیش کے الگ الگ حصوں میں بھیڑ تشدد کے ہاتھوں مارے جانے کے واقعات پر تشویش ظاہرکی تھی۔ سخت لہجے میں کہا تھا کہ جمہوریت میں کوئی بھی شخص قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا اور جمہوریت میں بھیڑ کو اس طرح کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ عدالت نے ان جرائم سے نمٹنے کے لئے سخت کارروائی کی گائڈ لائنس اور ہدایات جاری کی تھیں۔اسی لئے اس واقعہ کے بعد راجستھان سرکار کے خلاف توہین عدالت کی عرضی داخل کی گئی۔ اب اس معاملہ میں سپریم کورٹ سماعت کرے گا۔ سوال یہ ہے کہ اس طرح کی بدامنی کے خلاف جہاں سرکاروں کو اپنی طرف سے قصورواروں کے خلاف سختی برت کر حالات میں بہتری لانا چاہئے کیونکہ لا اینڈ آرڈر ریاستی حکومتوں کا اشو ہے اس لئے جرائم پیشہ کے خلاف کارروائی کی ذمہ داری انہیں کی ہے،مرکزتماشائی نہیں بنا رہ سکتا۔ مرکزی حکومت کی طرف سے ان ماب لنچنگ کے واقعات سے نمٹنے کے لئے آئی پی سی کے اندر الگ سے شق شامل کرکے نیا قانون بنایا جائے گا۔ اگر بھیڑ تشددسے نمٹنے کے لئے مخصوص قانون ہوجائے تو پولیس انتظامیہ کے لئے بھی اس کے تحت مقدمہ و قانونی کارروائی آسان ہوجائے گی۔ پولیس کو ابھی دیگر جرائم کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنا پڑتا ہے۔ کسی وجہ سے ایک ہی طرح کے جرائم کے لئے الگ الگ ضلعوں میں بھی یکساں دفعات نہیں لگائی جاتیں۔ نئے قانون کے بعد قانونی کارروائی میں ایک طرح کی تبدیلی آجائے گی۔ ایک دلیل یہ ہے کہ نئے قانون کی ضرورت نہیں ہے۔ پہلے سے ہی ایسے قانون موجود ہیں جن کے ذریعے بھیڑ کے تشدد کے رویئے والے معاملوں سے نمٹا جاسکتا ہے۔ بد قسمتی تو اس بات کی ہے کہ اب لوگ قانون اپنے ہاتھ میں لینے سے نہیں ڈرتے اور خود ہی فیصلے کرنے پر آمادہ ہیں۔ نہ تو انہیں قانون کا ڈر ہے اور نہ پولیس کا۔ یہ شاید اس لئے ہورہا ہے کیونکہ ان لوگوں کاقانون و انتظامیہ و سرکار سے بھروسہ اٹھ چکا ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ سرکار ، پولیس ہمارا کیا بگاڑ لے گا۔ جنتا میں قانون کا ڈر بٹھانا ہوگا، پولیس کی وردی کا ڈر پیدا کرنا ہوگا۔ یہ معاملہ صرف قانون سے نمٹنے والا نہیں ہے۔ عام جنتا کو اس کے لئے بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ کوئی بھی کسی کو سزا دینے کا کام اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا اور جو کرے گا وہ سخت سزا کا حقدار ہوگا۔
(انل نریندر)

26 جولائی 2018

70 years later Israel declared as Jewish State

The Parliament of Israel passed a law on Thursday which is historical in many ways. Despite, some people not liking it, this law defines Israel as the state of the Jewish people. After the passage of this law, the country has officially become the land of Jews. 
Let me tell you that it has been made a Jewish state 70 years after the formation of the Israel on May 14, 1948. In the Parliament, 55 out of 62 people voted in favor of the resolution. Hebrew has now become the national language of the country, and official status of Arabic has been abolished by giving it a special status. This law defines the Israel as the homeland of the Jews. 
After nearly eight hours of debate in parliament, this bill was passed. Two MPs abstained during the vote in Parliament. This legislation defined as the Basic Laws have constitutional status. 
The Israeli Arab MPs and the Palestinians condemned this bill and called the legislation racist. During his address, Ayman Odeh, head of the Arab Joint List Alliance, waving a black flag against this bill said, “This is an evil law,” “Today, I will have to tell my children, along with all the children of Palestinian Arab towns … that the state has declared that it does not want us here,” Odeh said in a statement later. “It has passed a law of Jewish supremacy and told us that we will always be second-class citizens.” In the bill the whole of Jerusalem is declared to be the capital of the country. On the other hand, the government supporting right-wing supporting the bill said that Israel is the historic homeland of the Jewish people.
They have unique right to national self-determination. On this bill, the Prime Minister of Israel Benjamin Netanyahu said, the move was “a ‎defining moment in the annals of Zionism ‎and the ‎history of the State of Israel.”‎ Netanyahu continued. “Today we made it ‎law. This is our nation, this is our language, this ‎is our anthem, and this is our flag. Long live the State ‎of Israel
Arabs comprise about 20 percent of country’s total population. They have been given equal rights under the law, but they have complained that they are being treated as second class citizen.
The long penance of the Jewish people has finally been answered.

-Anil Narendra 

ہندو طالبانی کہنے پر سپریم کورٹ کی پھٹکار

ایودھیا رام جنم بھومی سماعت کے دوران جمعہ 20 جولائی کو مسلم فریق کے وکیل کی ایودھیا میں متنازعہ ڈھانچے کو گرانے کے واقعہ کو ہندو طالبانی کارروائی بتانے پر جم کر ہنگامہ ہونا فطری ہی ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی والی تین ججوں کی بنچ نے اس معاملہ پر جیسے ہی سماعت شروع کی ہندو فریق کی جانب سے پیش وکیل وشنو شنکر جین نے بنچ سے کہا مسلم فریق کے وکیل راجیو دھون کا ہندوؤں کو ہندو طالبانی کہنا بیحد غیر ضروری تھا۔ انہوں نے ہندوؤں کی بے عزتی کی ہے۔ اس لفظ سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے اور اس سے ہندوؤں کی ساکھ خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے کورٹ سے ایسے لفظوں پر روک لگانے اور گائڈ لائنس دینے کی مانگ کی لیکن تبھی دھون کھڑے ہوگئے اور انہوں نے کہا وہ اپنی بات پر قائم ہیں۔ ان کی بات کو اس پس منظر میں دیکھا جائے جیسے بامیان میں مسلم طالبانیوں نے بدھ کی مورتی توڑی تھی ویسے ہی 6 دسمبر 1992 کو متنازعہ ڈھانچہ توڑنے والے ہندو طالبانی تھے۔ تبھی وکیل کشور چودھری دھون کی بات پر زور زور سے چلانے لگے۔ چودھری نے کہا کہ آپ پورے ہندو فرقہ کو ہندو طالبانی کیسے کہہ سکتے ہیں لیکن دھون الفاظ دوہراتے ہوئے اپنی بات پر قائم رہے۔ اس پر بھگوان رام للا کے وکیل سی ایس بیدناتھن نے کورٹ سے دھون کے رویئے پر لگام کسنے کی مانگ کی۔ کورٹ میں شور بڑھنے لگا تبھی چیف جسٹس دیپک مشرا نے کہا کہ وکیلوں کو کورٹ کے وقار اور زبان میں تحمل کا خیال رکھنا چاہئے۔ تجربہ کیا گیا کہ لفظ غیرضروری اور معاملہ سے بالکل الگ تھا۔ ایسے لفظوں کا استعمال نہیں ہونا چاہئے لیکن دھون نے کہا کہ وہ اس سے متفق نہیں ہیں اور انہیں غیر متفق ہونے کا حق ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کوئی اڑا رہے تو کیا کیا جاسکتا ہے۔ بعد میں جسٹس اشوک بھوشن نے دھون سے بات ختم کرنے اور اہم معاملہ میں بحث شروع کرنے کو کہا۔ ادھر مسجد کو اسلام کا اٹوٹ حصہ نہ ماننے والے 1994 کے جج اسماعیل فاروقی فیصلہ کے حصہ پر پھر سے غور کرنے کے لئے پانچ ججوں کی آئینی بنچ کو بھیجنے جانے کی مسلم فریق کی مانگ پر سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ رکھا ہے۔ راجیو دھون نے کہا کہ اس معاملہ کو آئینی بنچ کو بھیجا جانا چاہئے۔ اس پر ہندو فریق نے مانگ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اتنے برسوں بعد اس پر نظرثانی کی مانگ کرکے مسلم فریق ایودھیا تنازع کے اہم معاملہ کی سماعت میں تاخیر کرنا چاہتے ہیں۔ ایودھیا کے مسئلہ پر سماعت جاری ہے۔
(انل نریندر)

کیتھولک بیشپ پر آبروریزی کا مقدمہ

دیش میں آبروریزی کے واقعات کا سیلاب سا آگیا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں نکلتا جب دل دہلانے والی آبروریزی کی واردات کی خبر نہ آتی ہو لیکن ایسی واردات واقع ہوئی ہے جس کی ہم کم امید یا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ وہ ہے کیرل میں گرجا گھر کے بیشپ(پادری) کے خلاف بدتمیزی کا مقدمہ۔ کیرل میں کیتھولک گرجا کھر کے بیشپ کے خلاف آبروریزی کا مقدمہ درج ہوا ہے۔ ایک نن کا الزام ہے کہ بیشپ نے 13 بار اس سے جنسی استحصال کیا۔ ملزم بیشپ جالندھر میں واقع ڈایوسس کیتھولک چرچ میں کام کرتا ہے۔ پولیس کو دی گئی اپنی شکایت میں نن نے الزام لگایا کہ رومن کیتھولک چرچ کے جالندھر دھرم پرویش کے بیشپ نے چار سال پہلے پاس کے ایک قصبے میں کئی بار اس سے جنسی استحصال کیا۔ بیشپ فرینکو شرومنی اکالی دل کی لیڈر شپ کے کافی قریب مانے جاتے ہیں۔ 44 سالہ نن کا الزام ہے کہ سائرے مالابار کیتھولک چرچ سے بیشپ فرنکو ملکل کے خلاف شکایت کی گئی تو چرچ نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ اس کے بعد اسے پولیس کی مدد لینی پڑی۔ نن کا کہنا ہے کہ 2014 میں ضلع کے کراول گڑھ علاقہ میں ایک یتیم خانے کے قریب واقع گیسٹ ہاؤس میں پہلی بار اس سے جنسی بدفعلی کی گئی۔ متاثرہ نن پنجاب میں ڈایوسس کیتھولک چرچ کے تحت چلنے والے ایک ادارہ میں کام کیا کرتی تھی۔ اس ادارہ کے چیف بیشپ فرنکو (54 ) سال ہے۔ نن سے وابستہ قریبی ذرائع کے مطابق اس نے کیرل کے اس وقت کے چرچ کے چیف کاڈینل ایلن میری سے اس کی شکایت کی تھی لیکن چرچ کی طرف سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اس پر انہوں نے پولیس میں شکایت درج کرائی۔ کیرل پولیس کے حکام کی ایک ٹیم اس جنسی استحصال معاملہ میں نن کا بیان درج کیا۔ ڈپٹی پولیس سپرنٹنڈنٹ کی رہنمائی میں پولیس ٹیم کوٹاین کے قریب ایک کونوینٹ نن کا بیان بھی درج کیا۔ بیشپ نے ان الزامات سے انکار کیا ہے انہوں نے کہا انہیں نن کے خلاف کارروائی کرنے کے سبب پھنسایا جارہا ہے۔ بیشپ کے مطابق یہ مسئلہ 2016 میں تب شروع ہوا جب انہوں نے نن کے خلاف ایک شکایت پرکارروائی کی تھی۔ سوال یہاں یہ بھی اٹھتا ہے کہ متاثرہ نن نے اب چار سال بعد الزام کیوں لگایا؟ وہ چار سال تک کیا کررہی تھی؟ کیونکہ یہ معاملہ کیتھولک چرچ کی عزت اور وقار سے وابستہ ہے پولیس کو اس کی پوری تہہ تک جانا ہوگا اور سچائی کو سامنے لانا ہوگا۔
(انل نریندر)

25 جولائی 2018

70 برس بعد اسرائیل یہودی دیش قرار

اسرائیل کی پارلیمنٹ نے جمعرات کو ایک ایسا قانون پاس کردیاجو کئی معنوں میں تاریخی ہے۔بیشک کچھ عناصر کو یہ پسند نہ ہو لیکن یہ قانون اسرائیل کو خاص کر یہودیوں کے ملک کی شکل میں تشریح ضرور کرے گا۔ اس قانون کے پاس ہونے کے بعد یہ دیش سرکاری طور سے یہودیوں کا ملک بن گیا ہے۔ بتادیں کہ 14 مئی1948 کو اسرائیل کے دیش بننے کے70 سال بعد اسے یہودی ملک بنایا گیا۔ پارلیمنٹ میں 62 کے مقابلہ 55 لوگوں نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔ اب ہبرو دیش کی قومی زبان ہوگئی جبکہ عربی کو صرف خصوصی درجہ دے کر سرکاری زبان کا درجہ ختم کردیا گیا ہے۔ یہ قانون اسرائیل کو یہودیوں کے مادرِ وطن کے طور پر تشریح کرتا ہے۔ پارلیمنٹ میں قریب 8 گھنٹے چلی بحث کے بعد اس بل کو پاس کیا جاسکا۔ پارلیمنٹ میں پولنگ کے دوران دو ایم پی الگ رہے ، اس قانون کو بنیادی قانون کی شکل میں تشریح کیا گیا ہے جو اسے تقریباً آئینی حیثیت فراہم کرتا ہے۔ اسرائیل عرب ممبران اور فلسطینیوں نے اس بل کی مذمت کرتے ہوئے اسے نسلی جذبے پر مبنی بتایا ہے۔ عرب جوائنٹ لسٹ الائنس کے چیف آئیمن اودھو نے اپنے خطاب کے دوران اس بل کے خلاف کالا جھنڈا لہراتے ہوئے کہا کہ یہ ایک برا قانون ہے۔ آج مجھے فلسطینی عرب شہر کے تمام بچوں کے ساتھ اپنے بچوں کو کہنا پڑے گا کہ دیش نے اعلان کردیا ہے کہ ہمیں یہاں نہیں چاہتے اور دوسرے بل میں پورے یروشلم کو دیش کی راجدھانی بتایا گیا ہے۔ بل کی حمایت کرنے والی ساؤتھ پنتھی حکومت نے کہا کہ اسرائیل یہودی لوگوں کی تاریخی آبائی سرزمیں ہے۔ اس کے پاس دیش کے بارے میں خود فیصلہ لینے کا مخصوص اختیار ہے۔ اس بل پر اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نتن یاہو نے کہا کہ یہ اسرائیل کی تاریخ میں ایک بڑا فیصلہ کن پل ہے جس میں ہماری زبان ، قومی ترانا اور جھنڈے کوسنہرے الفاظ میں قلم بند کیا گیا ہے۔ نتن یاہو نے اس بل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ یہودیوں کی تاریخ میں اور اسرائیل ملک کی تاریخ میں ایک تاریخی پل ہے۔ بتادیں کہ اسرائیل کی کل آبادی میں 20فیصدی عرب نژاد لوگ ہیں۔ اس بل کے تحت انہیں یکساں اختیار دئے گئے ہیں لیکن لمبے عرصہ سے یہ الزام لگتے آئے ہیں کہ ان کے ساتھ دوسرے درجے کے شہری جیسا برتاؤ کیا جاتا ہے۔ اس بل سے برسوں سے یہودیوں کا مسئلہ آخر کار رنگ لایا ہے۔
(انل نریندر)

چدمبرم کیس میں سی بی آئی کی ساکھ داؤ پر لگی

سابق مرکزی وزیر خزانہ پی چدمبرم اور ان کے بیٹے کارتی چدمبرم کی مشکلیں بڑھ گئی ہیں۔ ماریشس کی کمپنی میکسسز میں سرمایہ کاری کرنے کے معاملہ میں ایف آئی بی پی (غیر ملکی سرمایہ چلن بورڈ) کے مبینہ مشتبہ کردار پر سی بی آئی نے پٹیالہ ہاؤس میں واقع خصوصی عدالت میں ایک ضمنی چارج شیٹ جمعرات کو داخل کردی ہے۔ مرکزی جانچ بیورو نے نہ صرف انہیں ملزم بنایا ہے بلکہ آئی پی سی اور کرپشن انسداد قانون کے تحت ان کے خلاف جو دفعات لگائی ہیں اگر وہ عدالت میں ثابت ہوجاتی ہیں تو انہیں سات سال تک کی سزا ہوسکتی ہے۔ اس معاملہ میں سی بی آئی نے سال 2006 کے دوران دو کمپنیوں کو غیر ملکی سرمایہ چلن بورڈ کی منظوری لیکر جانچ کی ہے۔ اس وقت چدمبرم وزیر خزانہ تھے۔ سی بی آئی کے مطابق انہی کے کہنے پر ان کمپنیوں کو ایف آئی بی پی کی منظوری ملی تھی جس میں بے ضابطگی برتے جانے کا پتہ چلا ہے۔ سی بی آئی نے یہ بھی کہا کہ 3500 کروڑ روپے کے ایئرٹیل۔ میکسسز سودے اور 305 کرو ڑ روپے کے آئی این ایکس میڈیا معاملہ میں جانچ ایجنسیاں کانگریس کے سینئر لیڈر کے رول کی جانچ کررہی تھی۔ ثبوت ملنے پر انہیں ملزم بنایا گیا ہے۔ بتادیں کہ جس ایئرسیل میکسسز سمجھوتے نے چدمبرم اور ان کے بیٹے کارتی کو پریشان کررکھا ہے اسی معاملہ سے جڑے الزامات میں سابق ٹیلی کمیونی کیشن وزیر دیا ندھی مارن اور ان کے بھائی کلا ندھی مارن کو خصوصی عدالت بری کرچکی ہے۔ سی بی آئی کی ساکھ کو دیکھتے ہوئے این ڈی اے سرکار کے خلاف اپوزیشن کے ذریعے تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے ایک دن پہلے اس کے ذریعے ایک ضمنی چارج شیٹ پر سوال اٹھنا لازمی ہے پھر یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ اسی معاملہ میں چارج شیٹ میں سی بی آئی نے دیاندھی مارن اور ان کے بھائی کو ملزم بنایا تھا لیکن عدالت میں سی بی آئی اپنا کیس ثابت نہیں کرسکی۔کانگریس نیتا پی چدمبرم نے الزام لگایا ہے کہ ان کے خلاف لگائے گئے بے تکے الزام کی حمایت میں کارروائی کو لیکر سی بی آئی پر دباؤ ڈالا گیا ہے۔ سی بی آئی نے ایئر سیل۔ میکسسز معاملہ میں چارج شیٹ داخل کرنے کے بعد یہ بات کہی۔ چدمبرم نے کہا کہ معاملہ اب عدالت کے سامنے ہے، وہ پوری مضبوطی کے ساتھ اس مقدمے کو لڑیں گے۔ ایسا پہلے شاید کبھی ہوا ہو کہ جب دیش میں سابق وزیر خزانہ پر کرپشن وغیرہ کا الزام لگا ہو۔ سی بی آئی کو یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ ان کے پاس درکار ثبوت ہیں بھی یا نہیں اور وہ سرکار کے دباؤ میں اپوزیشن کو محض پریشان تو نہیں کررہی۔
(انل نریندر)

24 جولائی 2018

چوکیدار نہیں بھاگیدار ہیں پردھان منتری!راہل گاندھی

نہ تو مودی سرکار کو ہٹانے کی فکر تھی نہ ہی اپوزیشن کو جیتنے کی امید۔ اپوزیشن جانتی تھی نمبر اس کے خلاف ہیں اور 15 سال بعد کسی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی نا منظور ہوجائے گی اس لئے یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ اپوزیشن یہ جانتے ہوئے بھی کیوں لائی تحریک عدم اعتماد کا ریزولوشن؟ یہ ابن الوقتی سیاست کا چوسر تھا جس میں سب نے اپنی گوٹیاں بڑے سلیقے سے کھیلیں۔ اب کس کی گوٹی کتنی دور تک اثر کرے گی یہ تو 2019 و مختلف ریاستوں میں اسی سال ہونے والے اسمبلی چناؤ ہی بتائیں گے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے سنجیدہ انداز میں بحث کے آخر میں جواب دئے وہ ڈیڑھ گھنٹے تک اپوزیشن کے ذریعے اٹھائے گئے سوالوں کا جواب دیتے رہے اور طنز کرتے رہے لیکن بحث میں ماننا پڑے گا کہ راہل گاندھی چھا گئے۔ ان کی تقریر بھلے ہی تاریخی نہ رہی ہو لیکن اس کے اشارہ دور رس تھے۔ راہل نے بیحد ٹیلنٹ لیڈر کی طرح اشارہ کردیا کہ اب وہ سنجیدہ ہوگئے ہیں۔ راہل نے جس طرح پہلی بار پونجی واد کے خلاف رائے رکھی ، وہ قابل تعریف ہے، امبانی ۔اڈانی کا نام لیا، پہلے کانگریس پر سرمایہ داروں کی سرپرستی کے الزام لگتے تھے اس بار پارلیمنٹ میں راہل نے جو اشارہ دئے وہ صاف تھے یہ سرکار سرمایہ داروں کی حکومت ہے۔ پچھلے دو دہائی سے حکومتوں نے عام آدمی کے بجائے کارپوریٹ لابی کے لئے کام کیا۔ اگر راہل اس روایت پر ہلکی سی روک لگانے میں کامیاب ہوئے تو بم بم ہوجائے گا۔ راہل گاندھی نے مودی سرکار کے خلاف اپوزیشن کے تحریک عدم اعتماد پر بہترین تقریر کی۔ انہوں نے وہی بولا جو لوگ سننا چاہتے تھے۔ دیش کے تمام مسائل واقعات اور سرکار کی ناکامیوں پر مودی سرکار کو جوابدہ ٹھہرایا۔ مودی ۔ امت شاہ کی جوڑی کو بڑی ہوشیاری سے باقی بی جے پی سے الگ خانے میں ڈال دیا۔ سب سے اہم بات ان کی پوری تقریر کی یہ رہی کہ جیو کے بہانے مکیش امبانی اور رافیل ڈیل کے بہانے انل امبانی دونوں بھائیوں کو پارلیمنٹ میں نشانہ بنایا۔ پارلیمنٹ میں امبانی بھائیوں پر اتنا کھلا حملہ کسی سیاستداں نے پہلے نہیں کیا۔ ان دونوں تاجر بندھوؤں کو ان کی جگہ بھی دکھائی دی۔ مکیش امبانی اب یہ پروپگنڈہ نہیں کرپائیں گے کہ اس کی جیب میں بی جے پی اور دوسری جیب میں کانگریس ہے۔ راہل گاندھی نے پارلیمنٹ میں بتادیا کہ امبانی کی دونوں جیبوں میں کون ہے؟ پارلیمنٹ میں امبانی پر حملہ کرتے ہوئے راہل کی جانب سے اٹھائی گئی باتوں پر غور کرنا ضروری ہے۔ امبانی کا میڈیا کے ایک بڑے حصہ پر قبضہ ہے اور میڈیا کا ایک حصہ پہلے سے ہی کانگریس اور پوری اپوزیشن کے خلاف پروپگنڈہ کرتا رہا ہے۔ اس کی سیاست کو فروغ دیتا رہا ہے۔ وہی دکھاتا ہے جو سرکار چاہتی ہے۔ انہوں نے بینکوں کو امبانی پر قرض اور ہزاروں کروڑ کی دینداری اور جہاز تک بہانے کا کوئی تجربہ ہونے کی بات بھی اٹھائی تھی۔ ان کا صاف اشارہ تھا کہ رافیل کا ٹھیکہ حال ہی میں ہندوستان ایروناٹیکل سے لیکر انل امبانی کی کمپنی کو دینا تھا جس نے آج تک ایک بھی جہاز نہیں بنایا۔ امبانی بھائیوں کے ساتھ ساتھ راہل نے مودی پر سیدھا الزام لگا یا کہ وہ 10-12 صنعت کاروں کو فائدہ پہنچانے کے لئے کام کرتے ہیں۔ لگتا ہے کہ راہل نے طے کرلیا ہے کہ اس سنڈیکیٹ سے کیسے نمٹنا ہے۔ اگر کانگریس اقتدار میں آتی ہے۔ راہل گاندھی صرف کانگریس کے صدر نہیں ہیں بلکہ اپوزیشن پارٹی کے لیڈر بھی ہوں گے اور اگلے چناؤ میں ان کا رول آگے کیا ہونے والا ہے؟ اس لحاظ سے راہل گاندھی کی تقریر دیش کی سیاست میں دور رس اور ہوا بدلنے میں اہم رول نبھا سکتی ہے۔ اگر ہم راہل کے ذریعے اٹھائے گئے اشو کی بات کریں تو انہوں نے جنتا سے جڑے کئی اشو سلسلہ وار اٹھائے۔ نوٹ بندی نے چھوٹے و منجھولی صنعتوں کو تباہ کردیا ہے۔ بیرونی ملک سے کالا دھن واپس لاکر ہر شخص کے کھاتے میں 15 لاکھ روپے ڈالنے کا اشو بھی انہوں نے اٹھایا۔ جی ایس ٹی کے الگ الگ ٹیکس شرحوں میں بھی انہوں نے سرکار کو کٹہرے میں کھڑا کیا۔ کسانوں کی دور دشا اور مودی سرکار کی کسان پالیسی پر سوال اٹھائے۔ تین صنعت کاروں کے کروڑوں اربوں روپے معاف کرنے پر بھی راہل گاندھی نے مودی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ملک میں بدفعلی کی واقعات پر پی ایم مودی کی خاموشی پر بھی سوال اٹھایا۔ راہل نے بولا کہ وزیر اعظم نے کہا تھا کہ میں چوکیدار ہوں دیش کا لیکن یہ پی ایم تو بھاگیدار نکلے۔ وزیر اعظم نے اپنی لچھیدار تقریر میں اور باتیں کہیں لیکن ان برننگ اشوز کا کوئی ٹھوس جواب نہیں دیا۔ حکمراں فریق کی طرف سے وزیر اعظم دوستی کا ہاؤ بھاؤ ضرور ظاہر کیا لیکن بھاجپا نے راہل گاندھی پرپارلیمنٹ میں غلط بیانی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے تحریک التوا کا نوٹس دے کر یہ جتا دیا کہ بھاجپا انہیں (کانگریس) کسی بھی شکل میں بڑھت دینے والی نہیں ہے۔ کانگریس نے جذباتی اشو اٹھانے کی جگہ اقتصادی اشوز پر زیادہ توجہ دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ موجودہ سرکار اپنے وعدوں کو نبھانے میں ناکام رہی ہے اور دیش کی حالت بہتر بنانے کے بجائے بگڑتی جارہی ہے۔ انہوں نے یہ جملے والی سرکار کو بے نقاب کیا ہے۔ دونوں نے اپنی اپنی باتوں اور زبان میں بہت صاف بتا دیا ہے کہ 2019 کی بازی دلچسپ ہونے والی ہے۔ راہل نے اپنی حکمت عملی بھی دکھا دی ہے کہ وہ بھاجپا کی جارحیت کے بجائے اس کی سرگرم مخالفت اور محبت کی سیاست پر چناؤ لڑنے والے ہیں۔ اس حکمت عملی سے انہوں نے اپنی بہتر ساکھ بھی قائم کی ہے اور ان کی یہ بات دیش کے موجودہ نفرت کے ماحول میں ایک دوائی کی طرح ہے۔ فی الحال خوش ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس کی شروعات ایک مثبت توانائی کے ساتھ ہوئی ہے۔ امید ہے کہ آنے والے دن بھی مثبت اور بہتر ثابت ہوں گے۔
(انل نریندر)

22 جولائی 2018

آخر اگنی ویش کیوں پٹے

مبینہ سوشل ورکر سوامی اگنی ویش کی گزشتہ دنوں پاکھوڑ (جارکھنڈ) کے مسکان ہوٹل کے سامنے بھارتیہ یووا مورچہ کے ورکروں نے جم کر پٹائی کی۔ ورکر پاکستان و عیسائی مشنری کے دلال سوامی اگنی ویش گو بیک کے نعرہ لگا رہے تھے۔ جہاں ہم اس حملہ کی سخت مذمت کرتے ہیں اور اپنی مخالفت میں تشدد کا سہارا لینے کو قبول نہیں کرتے وہیں ہم قارئین کو یہ بھی ضرور بتانا چاہیں گے کہ نوبت یہاں تک آئی کیوں؟ سوامی اگنی ویش نے ایسا کیا کہا جس سے بھارتیہ یووا مورچہ کے ورکر اتنے بھڑکے۔ پیش ہے لفظ بہ لفظ سوامی اگنی ویش کی وہ تقریر جس کے بعد مارپیٹ ہوئی۔ اگنی ویش :’’نریندر مودی بھاشن میں کیا بولتے ہیں ، ہمارے دیش میں ہمارے اتہاس میں بہت بڑا سائنس تھا اور وہ سائنس پلاسٹک سرجری کرتی تھی اور اس کا ادہارن دیا گنیش ،کی کیسے ہاتھی کا سر کاٹ کر ایک بچے کے اوپر لگا دیا ، یہ ہمارے بڑے بڑے ڈاکٹر لوگوں نے کرکے دکھا دیا ، بھارت کا پرائم منسٹر بول رہا ہے ، بولے کو رو پانڈو ون ہنڈریڈ کورو پانڈوس ،کورو لوگ سو کیسے ہو گئے ، بولے سٹیم سیل ریسرچ تھا سٹیم سیل ریسرچ۔ اتنا جھوٹ اتنا پاکھنڈ اتنا اندھ وشواس بھارت کا پردھان منتری اسکا پرچار کر رہا ہے ، اس سے دیش رساتل میں جائیگا۔ جب آپ جاتے ہیں نیپال از پرائم منسٹر آپ دو گھنٹے تک مندر کے اندر پشوپتی ناتھ مندر کے اندر گھس کرکے پوجا کرتے ہیں ایسا سب دال کرکے مالا شالہ ڈال پھر کنڈ ، ہوں تم کو پانڈا گری کرنا ہے تو جاؤ وہاں پر پانڈا گری کرو ، پرائم منسٹر کی کرسی پر بیٹھ کرکے یہ کام نہیں کرسکتے آپ ، آپ بنگلہ دیش جاتے ہیں ڈھاکہ ڈھاکیشوری کے مندر میں آرتی اتارتے ہیں آپ ، یہ ہمارے بھارت کے سنودھان کی بھاونا اور اسپیرٹ کے خلاف ہے ، میں نے اس کے خلاف سٹیٹمینٹ دیا ، دیہرادون میں پریس کانفرنس کرکے میں نے کنڈم کیا اس کو ،میں نے کشمیر میں سرینگر میں کھڑے ہوکر کہا ،امرناتھ امرناتھ بہت بڑا تیرتھ یاترا جاتا ہے ، آپ کے ادھر سبریمالا والے جاتے ہیں نہ ،سبریمالا ایپا ایپا ، یہ بھی اندھ وشواس ہے سارا کا سارا ،یہ ترپتی بھی اندھوشواس ہے اور یہ امرناتھ بھی اندھوشواس ہے ، میں نے سرینگر میں کہا ، مجھے ٹیلیوزن والوں نے پوچھا کی سوامی جی اس بار امرناتھ کی تیرتھ یاترا کو سرکار نے پندرہ دن کم کردیا ،آپ کو کیا ری ایکشن دینا ہے ، میں نے کہا پندرہ دن کیوں کم کیا اس کو پورا کر کردینا چاہئیے ، ختم کر دینا چاہئیے، بولے کیوں ؟ وہ تو برفانی بابا ہیں ، وہ تو شو لنگ ہیں ، میں نے کہا وہ تو کوئی شولنگ پرماتما وغیرہ نہیں ہیں وہ تو ساڑھے تیرہ ہزار فٹ پر پانی اوپر سے ٹپکتا ہے تو نیچے سے برف ایسے بن جاتا ہے ،ہم تو بھوگول میں پڑھتے تھے ایسٹلیک ٹائٹ اسٹالک مائٹ بولتے ہیں اسکو ، نیچے سے اوپر جو برف جاتا ہے اور اوپر سے جو نیچے لٹک جاتا ہے ،یہ تو ایک نیچرل پھینومینا ہے ، میں نے کہا nothing to do with anything divinity divine وہ اسکا ایشور کا پرماتما کا اتنا بڑا اسکو تم بنا رہے ہو شولنگ ، برفانی بابا ، اسکے لئے سب ساڑھے تیرہ ہزار فٹ پر جاتے ہیں ، گورنمینٹ کو اتنا انتظام کرنا پڑتا ہے کروڑوں کروڑ روپیہ ، سینا لگانی پڑتی ہے سرکشا کے لئے ، یہ سب دھوکہ ہے ، پاکھنڈ ہے ، میں نے یہ کہہ دیا ، میں نے یہ بھی کہا کی ایک بار یاترا شروع ہونے سے پہلے وہ سارا کا سارا شولنگ گلوبل وارمنگ میں پگھل گیا ،وہ غائب ہوگیا تو گورنر ، جنرل ایس کے سنہا ہیلی کاپٹر میں آرٹیفیشیل آئس لیکر گئے اور اسکو بنا کرکے تاکہ بھگت لوگ آئیں گے تو انکو سچ مچ کا ایک شیولنگ ،شیو جی ملنا چاہئے ، یہ کیا ہے ، یہ سرکار کا کام ہے ،کمبھ کا میلہ لگتا ہے ہری دوار میں لگتا ہے الہ آباد میں لگتا ہے آپ کے پڑوس ناندیڑ میں لگتا ہے، ابھی گوداوری کا بھی کیا کیا منایا ، لوگ مر جاتے ہیں اسکے اندر ، بھگدڑ مچتی ہے ،میں ہر بار جاتا ہوں کمبھ کے میلے میں پانچ سو ہزار لوگوں کو لیکر کے میں پوری یاترا نکالتا ہوں ، نعرے لگاتا ہوں ، اشتیہار بانٹتا ہوں کوئی گنگا میں ڈبکی لگانے سے پاپ نہیں دھل سکتے اور گندے ندی میں نالے کے پانی ڈبکی لگاؤ گے تو آپ بیمار ہو جاؤ گے‘‘۔ یہ تھا سوامی اگنی ویش کا وہ بھاشن جس سے بھارتیہ یووا مورچہ کے ورکر بھڑکے۔ بھارت ایک جمہوریت ہے جہاں سب کو اپنی بات کرنے کی چھوٹ ہے پر آپ کروڑوں لوگوں کی آستھا و وشواس پر یوں چوٹ نہیں لگا سکتے۔ آپ بھگوان پر وشواس کریں یا نہ کریں پر دوسروں کے دھرم، وشواس پر یوں نکتہ چینی نہیں کرسکتے۔ میں نے سلمان خورشید کی متنازع کتاب ’دی سٹینک ورسز‘ کی بھی اسی بنیاد پر تنقید کی تھی۔ سوامی اگنی ویش ایک ڈھونگی ہیں، ان کے خیالات نکسلی ہیں یہ سبھی جانتے ہیں۔ وہ ہندو دھرم پر ہزاروں اعتراضات کرچکے ہیں اور کئی بات پٹ بھی چکے ہیں۔ اگنی ویش کے نام کے آگے کرپیا سوامی نہ لگائیں۔ اس شخص کے نام میں سوامی لگانا سوامی لفظ کا اپمان ہے۔ چونکہ یہ ایک بڑا متبرک شبد ہے۔ اگنی ویش کے اعتراضات دیش ورودھی ہیں اور ہندو دھرم کے خلاف نفرت پھیلانے والے ہیں۔
(انل نریندر)

سونیا گاندھی کو پھنسانے کی سازش

اگستا ویسٹ لینڈ کی وی آئی پی ہیلی کاپٹر ڈیل کا معاملہ ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ اس ڈیل کے دوران مبینہ رشوت خوری میں اہم کردار نبھانے والے مشکوک کرشچن مشیل کی وکیل راس میری پیٹریجی اور بہن سایا اونیمین نے سنسنی خیز دعوی کیا ہے۔ ان دونوں نے الزام لگایا ہے کہ بھارتیہ جانچ افسران مشیل سے جھوٹے قبول نامہ پر دستخط لینے کی کوشش کررہی ہے۔ وکیل کے دعوے کے مطابق مشیل سے بھارتیہ افسران نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ قبول نامہ کے دستاویز پر دستخط کر دیتا ہے تو اسے قید سے آزادی مل جائے گی۔ مشیل کی وکیل پیٹریزی نے انگلینڈ سے الگ الگ انٹرویو میں یہ دعوے کئے۔ برٹش شہری مشیل پر اگستا ویسٹ لینڈ رشوت خوری گھوٹالہ میں 6 کروڑ یورو کی دلالی میں اہم کردار نبھانے کا الزام ہے۔ مشیل ایک مہینے سے بھی زیادہ وقت سے دوبئی میں حراست میں ہے۔ پیٹریزی کے مطابق ان کے کے موکل پر دباؤ ڈالا گیا کہ اگر رہائی چاہتے ہو تو اقبالیہ بیان پر دستخط کردو۔ کانگریس نے جمعرات کو الزام لگایا کہ مرکز کی این ڈی اے سرکار نے اگستا ویسٹ لینڈ معاملہ میں ملزم کرشچن مشیل پر دباؤ بنا کر پارٹی کی سینئرلیڈر سونیا گاندھی کو پھنسانے کی سازش رچی۔ کانگریس کے میڈیا سیل کے چیف رندیپ سرجے والا نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ اگستا ویسٹ لینڈ معاملہ میں ملزم کرشچن مشیل کو دو دن پہلے دوبئی میں گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ جیسی ایجنسیاں مشیل پر سونیا گاندھی کو سازش میں پھنسانے کے لئے دباؤ ڈال رہی ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ایجنسیاں مشیل پر سونیا گاندھی کا نام لیتے ہوئے ایک حلفیہ بیان دینے کے بدلے میں انہیں ہر قسم کے الزام سے آزاد کرنے کی سودے بازی کررہی ہیں، و دباؤ ڈال رہی ہیں۔ سرجے والا نے الزام لگایا کہ سی بی آئی او ای ڈی ایک طرف تو دوبئی کی عدالت میں کوئی بھی ثبوت پیش کرنے میں ناکام ہے اور دوسری طرف مشیل کو ایک سازشی پرزے کی طرح استعمال کر مخالف پارٹی کے نیتاؤں کے خلاف سازش کررہی ہے۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ ملک کے اتہاس میں پہلی بار کسی سرکار کی حسب مخالف کے لیڈروں کے خلاف بین الاقوامی سطح پر ایسی جھوٹی سازش جگ ظاہر ہوئی ہے۔ اگر کانگریس لیڈر کی بات صحیح ہے تو مخالف پارٹی کے نیتاؤں کو جبراً پھانسنے کی اس طرح کی سازش نہ تو سرکار کے مفاد میں ہے اور نہ ہی ملک کے۔ اپوزیشن لیڈروں پر حملے کرو پر وہ حقائق پر مبنی ہوں نہ کہ سازش پر۔ اگستا ویسٹ لینڈ ڈیل کی غیر جانبدار اور سچائی سے جانچ ہونی چاہئے۔
(انل نریندر)