Translater

21 دسمبر 2024

اسرائیل سے لوٹے مزدوروں کا تجربہ !

کانگریس ایم پی پرینکا گاندھی پچھلے پیر کو پارلیمنٹ میں فلسطین لکھا بیگ لے کر پہنچی تھیں ۔اگلے دن منگلوار کو اس کا ذکر اترپردیش اسمبلی میں بھی ہو گیا ۔یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کل کانگریس کی ایک نیتری فلسطین کا بیگ لے کر پارلیمنٹ میں گھوم رہی تھیں اور ہم یوپی کے نوجوانوں کو اسرائیل بھیج رہے ہیں ۔پرینکا گاندھی نے وزیراعلیٰ یوگی کے اس بیان کو شرم کی بات بتایا ۔پرینکا جو ہینڈ بیگ لے کر پہنچی تھیں اس پر فلسطین لفظ کے ساتھ فلسطینی لوگوبھی بنے ہوئے تھے ۔ا س وقعہ کے بعد بی بی سی نے یوپی کے لوگوں سے بات چیت کی جو اسرائیل کا م کرنے گئے تھے زیادہ تر مزدوروں کے لئے کام کے گھنٹے اور من چاہا کام نا ملنے کی بڑی پریشانی بتائی ۔مزدوروں کے دعووں کے مطابق یوپی سرکار کا موقف جاننے کے لئے متعلقہ محکموں سے رابطہ بھی قائم کیا گیا لیکن کوئی جواب نہیں ملا ۔اتر پردیش اسمبلی کا سرمائی اجلاس چل رہا ہے اجلاس میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ کل کانگریس کی ایک نیتری فلسطین کا بیگ لے کر گھوم رہی تھیں اور ہم نوجوانوں کو اسرائیل بھیج رہے ہیں اور یوپی کے اب تک تقریباً 5600سے زیادہ لڑکے اسرائیل میں کا م کررہے ہیں ۔رہنے کے لئے فری گھر اور ڈیڑھ لاکھ روپے مل رہے ہیں ۔پوری سیکورٹی کی گارنٹی بھی ہے ۔آپ اب یہ مان کر چلئے کہ وہ نوجوان جب ڈیڑھ لاکھ روپے اپنے گھر بھیجتا ہے تو پردیش کی ترقی میں یوگدان اور اچھا کام کررہا ہے ۔حماس اسرائیل جنگ کی وجہ سے اسرائیل میں مزدوروں کی تعداد میں کمی آئی ہے ۔اس لئے اس کمی کو پورا کرنے کے لئے اسرائیل حکومت بھارت سے مزدوروں کو بھیجنے کی پہل کرنے کو کہاتھا اس کے تحت یوپی کے علاوہ ہریانہ ،تلنگانہ سے بھی مزدور اسرائیل گئے ہیں یوگی کے بیان کے بعد پرینکا گاندھی نے شوشل میڈیا ایکس پر لکھا یوپی کے نوجوانوں کو یہاں روزگار دینے کی جگہ انہیں جنگ زدہ اسرائیل بھیجنے والے اسے اپنا کارنامہ بتا رہے ہیں ۔اپنے نوجوانوں کو جنگی علاقہ میں جھونک دینا پیٹھ میں خنجر گھونپنا ہی نہیں بلکہ شرم کی بات بھی ہے۔پردیپ سنگھ یوپی کے بارہ بنکی کے دیوا شریف کے پاس ایک گاو¿ں کا رہنے والا ہے ۔4 جون 2024 کو وہ اسرائیل گئے تھے ۔اسرائیل میں تقریباً چار مہینے رہے بی بی سی سے بات چیت میں پردیپ بتاتے ہیں ہم لوگ پیرا تقویٰ شہر میں تھے او ر وہاں سہولیات بھی ٹھیک تھیں لیکن کام تھوڑا زیادہ تھا ۔میں نے پلاسٹرنگ کٹیگری میں درخواست دی تھی لیکن وہاں دوسرا کام کرنا پڑا۔ہم لوگ ایک چینی کمپنی شٹرنگ اینڈ سریا میں مزدوری کا کام کررہے تھے طے وقت سے زیادہ کام کرنا پڑتا تھا ہم لوگوں کو صبح سات بجے سے شام سات بجے تک 12 گھنٹے کام کرنا پڑا اس میں آدھا گھنٹے کا وقفہ طے تھا ۔پردیپ واپس اسرائیل جانا چاہتے ہیں لیکن ان کے ہی علاقہ کے دیواکر سنگھ واس اسرائیل نہیں جانا چاہتے دیواکر کہتے ہیں چینی کمپنیوں میں وہاں 12 گھنٹے کا م کرنا ہوتا تھا بیچ میں آرام نہیں کر سکتے تھے میں نے آئیرن ویلڈنگ کے کام کا انٹرویو دیا تھا لیکن دوسرے کام کرنے پڑتے تھے کئی بار تو صاف صفائی کا کام بھی کرنا پڑتا تھا ۔دیواکر مئی 2024 میں اسرائیل گئے تھے ۔اور دو ماہ وہاں رہے بتاتے ہیں اس دوران انہوں نے دو سے ڈھائی لاکھ روپے کی بات طے کی تھی لیکن فی الحال دیواکر اپنے گھر کے پاس ایک پرائیویٹ کمپنی میں تیس ہزار روپے کی سروس کررہے ہیں ۔ (انل نریندر)

امبیڈکر پر سیاسی بھونچال!

ابھی ایک فیشن ہو گیا ہے ۔۔۔امبیڈکر ۔امبیڈکر۔امبیڈکر ۔امبیڈکر۔امبیڈکر ۔امبیڈکر۔اتنا نام اگر بھگوان کا لیتے تو سات جنم تک سورگ مل جاتی۔پارلیمنٹ میں مرکزی وزیر امت شاہ کے آئین پر بحث کے دوران ایک لمبی تقریر اس چھوٹے سے حصے کو لے کر ہوئی اور اس میں ہنگامہ ہوا اور پارلیمنٹ کی کاروائی ملتوی کرنی پڑ گئی اس بیان میں امبیڈکر کی بے عزتی دیکھ رہی حملہ آور اپوزیشن کو جواب دینے کے لئے امت شاہ کو بدھوار کو پریس کانفرنس کرنی پڑی جنہوں نے زندگی بھر بابا صاحب کا اپمان کیا ان کے اصولوں کو درکنار کیا ۔اقتدار میں رہتے ہوئے بابا صاحب کو بھارت رتن نہیں ملنے دیا۔ریزرویشن کے اصولوں کی دھجیاں اڑائی گئیں ۔وہ لوگ آج بابا صاحب کے نام پر دنگا پھیلانا چاہتے ہیں یہی نہیں وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کر بتایا کہ ان کی سرکار نے بھارت کے آئین کے معمار بی آر امبیڈکر کے سمان میں کیا کیا کام کئے ہیں لیکن اس کے باوجود ہنگامہ نہیں رکا ۔اب معاملہ پورے دیش میں آگ کی طرح پھیل چکا ہے ۔کانگریس صدر ملکا ارجن کھڑگے نے امت شاہ پر امبیڈکر کی بے عزتی کا الزام لگاتے ہوئے ان کے استعفیٰ تک کی مانگ کر ڈالی ۔ان کا کہنا تھا بابا صاحب کا اپمان کیا ہے تو یہ آئین کا بھی اپمان ہے ۔ان کی آر ایس ایس کی آئیڈیا لوجی ظاہر کرتی ہے کہ وہ خود بابا صاحب کے آئین کا سمان نہیں کرنا چاہتے ہیں۔پوری اپوزیشن امت شاہ کا استعفیٰ مانگ رہی ہے ۔وہیں شاہ کے اس بیان کو امبیڈکر کا اپمان اس لئے مانا جارہا ہے کہ اگر ایشور شوشن سے مکتی دینے والا ہے ڈاکٹر امبیڈکر ذات پات سسٹم میں بٹے ہندوستانی سماج کے ان کروڑوں لوگوں کو متحد رکھتا ہے جنہوں نے صدیوں تک سماجی اقتصادی سیاسی ،اور تعلیمی معاملے میں امتیاز جھیلا ہے ۔بھیم راو¿ امبیڈکر نے آئین میں برابری کا حق دے کر درج فہرست اور پسماندہ فرقوں کے استحصال سے نجات دلائی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ امبیڈکر کی آئیڈیا لوجی سے جڑے اور دلت سیاست میں جڑے لوگ امت شاہ کے اس بیان کو امبیڈکر کی بے عزتی کی شکل میں دیکھ رہے ہیں لیکن تلخ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ اس وقت سبھی سیاسی پارٹیوں میں امبیڈکر کو اپنانے کی دوڑ لگی ہوئی ہے ۔سیاسی پارٹیاں امبیڈکر کے نظریات کو فالو کرکے دلت ووٹروں کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کررہے ہیں ۔امت شاہ کے اس متنازعہ بیان کے بعد سے بی جے پی بچاو¿ میں ہے ۔سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امت شاہ کے منھ سے بھلے ہی نکل گیا ہو لیکن اس بات پر حیران نہیں ہونا چاہیے انہوںنے وہی بولا ہے جو محسوس کرتے ہوں گے ۔جو آر ایس ایس بھی محسوس کرتی ہے ۔امت شاہ کے بیان پر سیاسی شوروغل کے درمیان سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ بیان بی جے پی کو سیاسی نقصان پہنچا سکتا ہے ؟ کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے اس کا بڑا سیاسی نقصان نہیں ہوگا ۔اور دوسری طرف اپوزیشن اس مسئلے کو پارلیمنٹ سے لے کر سڑکوں تک لے جارہی ہے اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔دیش میں دلتوں اور پسماندہ او بی سی اقلیتوں کا خیال ہے کہ یہ بابا صاحب امبیڈکر جی کی بدولت آج انہیں عزت ملی ہوئی ہے اورحفاظت ملی ہے ۔بابا صاحب کے آئین ہی دیش کی آزادی اور برابری کی علامت ہے ۔ (انل نریندر)

19 دسمبر 2024

مہاراشٹر کی مہایوتی سرکار میں بڑھتی ناراضگی !

باوجود اس کے مہاراشٹر اسمبلی چناو¿ میں مہایوتی اتحاد کو زبردست اکثریت ملی لیکن اتحاد میں ناراضگی رکنے کا نام نہیں لے رہی ہے ۔پہلے تو بائیس نومبر کو چناو¿ نتیجے آنے کے بعد لمبی جدو جہد کے بعد 12 دن کے بعد دیوندر فڑنویس وزیراعلیٰ کی حلف لے پائے اس کے دس دن بعد کیبنٹ طے ہوئی ان کی حلف برداری ہوسکی ۔اب کیبنٹ میں محکموں کے بٹوارے کو لے کر نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے ۔راشٹر وادی کانگریس کے سینئر لیڈر چھگن بجھول نے پیر کو نئی مہایوتی سرکار میں شامل نا کئے جانے پر مایوسی ظاہر کی تھی اور کہا کہ وہ اپنے چناوی حلقہ کے لوگوں سے بات کریں پھر طے کریے گا کہ ان کی مستقبل کی راہ کیا ہوگی ۔وہیں شیو سینا ممبر اسمبلی نریندر موڈیکر نے مہاراشٹر کیبنٹ میں شامل نا کئے جانے پر ناراضگی ظاہرکرتے ہوئے پارٹی کے سبھی عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ۔دیوندر فڑنویس کی قیادت والی سرکار کے پہلے کابینہ توسیع میں اتوار کو مہایوتی کی اتحادی پارٹیوں بھاجپا ،شیو سینا ،این سی پی کے 19 ممبران اسمبلی نے حلف لیا تھا ۔کیبنٹ سے 10 سابق وزراءکو ہٹا دیا گیا ہے اور 16 نئے چہروں کو جگہ دی گئی ۔سابق وزیر چھگن بجھول اور این سی پی کے دلیپ وہاسے پاٹل و بھاجپا کے منتیور اور وجے کمار گوئل نئی کیبنٹ میں شامل نہیں کئے جانے سے نا خوش ہیں ۔اپنی مستقبل کے قدم کے بارے میں انہوںنے کہا کہ مجھے دیکھنے دیجئے اور اس پر غور کرنے دیجئے ۔سابق وزیردیپک کیسر کر کو بھی کیبنٹ میں شامل نہیں کیا گیا ہے ۔وہیں شیو سینا ممبر اسمبلی موڈیکر نے دعویٰ کیا کہ ان کی پارٹی کے چیف و نائب وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے نے انہیں کیبنٹ میں جگہ دینے کا وعدہ کیا تھا۔موڈیکر شیو سینا کے ڈپٹی لیڈر ہیں اور مہایوتی اتحاد میں رشہ کشی جاری ہے ۔شیو سینا ایکناتھ شندے کے لئے اتحاد میں اپنے دوسرے نمبر کی پوزیشن ہے ۔سسٹم کو پچانا اور اپنے حمایتیوں سے قبول کرانا مشکل ہورہا ہے ۔نائب وزیراعلیٰ وزارت کے لئے وہ بے شک بھلے ہی راضی تو ہوئے ہوں مگر وزراءکی کم تعداد کا سوال آڑے آرہا ہے اور اب محکموں کے بٹوارے کو لے کر بھی آخر پارٹیوں میں رسہ کشی بڑھ رہی ہے ۔تینوں پارٹیوں میں چل رہی اس وقت غیر ضروری رسہ کشی کی ایک شکل کہیے ۔ممبران اسمبل کی بڑی تعداد کا دباو¿ لیکن مہاراشٹر کے وزراءکے لئے ڈھائی سال کے عہد کا نیا فارمولہ کتنا کارگر ثابت ہوتا ہے یہ وقت ہی بتائے گا ۔دیوندر فڑنویس کو وزیراعلیٰ بنانے میں جہاں دہلی کی لیڈرشپ کوپیچھے ہٹنا پڑا وہیں آر ایس ایس کی جیت ہوئی اور انہوں نے اپنی پسند کا وزیراعلیٰ بنوایا ۔فڑنویس کے سامنے اتحاد اور انچارجی دونوں کو چلانا اور اچھی سرکار دینے کی چنوتی ہے ۔ (انل نریندر)

نئی دہلی اسمبلی سیٹ پر وراثت کی لڑائی!

نئی دہلی اسمبلی سیٹ پچھلے چھ اسمبلی چناو¿ سے دہلی کو مکھیہ منتری دیتی چلی آرہی ہے۔1998 سے لے کر 2002 تک یہاں سے کامیاب ممبر اسمبلی ہی دہلی کے وزیراعلیٰ بن رہے ہیں ۔پچھلی تین میعاد شیلاد کشت نے یہاں سے کامیابی حاصل کی تھی یہ سیٹ ان کی وراثت بن گئی تھی بعد میں یہ اروند کیجریوال کی سیٹ بن گئی وہ یہاں سے لگاتار تین چناو¿ جیت چکے ہیں لیکن اس بار 2025 اسمبلی چناو¿ میں لڑائی دلچسپ ہونے والی ہے یہاں کے ایم ایل اے اور سابق وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کے خلاف دہلی کے سابق وزرائے اعلیٰ کے بیٹوں نے تال ٹھوک رکھی ہے ۔دو سابق ایم پی میدان میں ہیں ۔دراصل نئی دہلی اسمبلی سیٹ ہمیشہ ہائی پروفائل رہی ہے ۔ 1998 سے 2008 کے درمیان تین بار شیلا دکشت یہاں سے ممبر اسمبلی رہی ہیں تینوں بار وہ وزیراعلیٰ بنیں ۔یہاں سے چھوتھے چناو¿ میں کیجریوال نے بازی پلٹی اور انہیں یہاں سے پہلی بار ہار کا سامنا کرنا پڑا ۔پھر 2013 اور 2015 اور 2020 میں ہوئے چناو¿ میں اروند کیجریوال ممبر اسمبلی بنے اور تینوں بار وزیراعلیٰ رہے ۔یہی نہیں ایک نیوز چینل میں کیجریوال نے اعلان کیا کہ نئی دہلی سیٹ سے ہی چناو¿ لڑیں گے اور جیتنے کے بعد وزیراعلیٰ بنیں گے ۔ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی صاف کر دیا کہ سابق وزیراعلیٰ کے سامنے اس بار دو سابق وزیراعلیٰ کے بیٹے میدان میں ہوں گے ۔ان میں شیلا دکشت کے بیٹے سندیپ دکشت کو کانگریس نے اپنا امیدوار بنایا ہے ۔سندیپ کے پاس اپنی پرانی وراثت کو پھر سے حاصل کرنے کی بھی چنوتی ہے ۔وہیں پوسٹر بازی اور شوشل میڈیا میں بی جے پی کے سابق ایم پی اور سابق وزیراعلیٰ سائب سنگھ ورما کے بیٹے پرویش ورما کو میدان میںاتارا ہے اس سے یہ قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ نئی دہلی سے بی جے پی کے امیدوار ہوسکتے ہیں۔اس لئے ان پر بھی اپنے والد سائب سنگھ ورما کی وراثت کو آگے بڑھانے کی چنوتی ہے ۔رہی بات اگر سندیپ دکشت یا پرویش ورما میں سے کوئی کامیاب ہوتے ہیں اور ان کی پارٹی اقتدار میںآتی ہے تو کیا ان کی پارٹی انہیں وزیراعلیٰ کے طور پر پیش کررہی ہے ؟ اس بار ذرائع کا کہنا ہے کہ مستقبل میں کیا ہوگایہ کہنا فی الحال مشکل ہے لیکن جس طرح دونوں کو ان کی پارٹیاں کیجریوال کے خلاف اتارنے کا فیصلہ کررہی ہیں اس سے تو یہی اشارے ملتے ہیں کہ دونوں خود کو سی ایم امیدوار مان رہے ہیں ۔کیونکہ ویسٹ د ہلی سے ایم پی رہ چکے پرویش ورما کو اپنے علاقہ کی دس اسمبلی سیٹیں چھوڑکر نئی دہلی سے کیجریوال کے خلاف اتارنے کے پیچھے کیا حکمت عملی ہو سکتی ہے؟ اس طرح ایسٹ دہلی سے ایم پی رہے سندیپ دکشت کسی بھی اسمبلی سیٹ سے چناو¿ لڑ سکتے تھے نئی دہلی اسمبلی ہی کیوں؟ نئی دہلی اسمبلی سیٹ پر اس بار کا اسمبلی چناو¿ اس لئے دلچسپ مانا جارہا ہے کیوں کہ اروند کیجریوال کے سامنے دونوں ہی پارٹیوںنے بڑے چہرے اتار رہی ہیں دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے ۔ (انل نریندر)

17 دسمبر 2024

اسد کے پاس 200 ٹن سونا!1.80 لاکھ کروڑ روپے !

سیریا کے تاناشاہ جن کا تختہ پلٹ دیا گیا ہے ۔ان کے بارے میں چونکانے والی معلومات سامنے آرہی ہیں ۔اسٹیل کے موٹے دروازے کے پیچھے کال کوٹھریوں کی قطاریں اور ان کے ٹارمر چیمبروں کی بات تو ہوتی رہی ہے ۔لیکن ان کے اثاثہ کی تفصیل ملنے سے اب سب چونک گئے ہیں ۔ایک بار بشر الاسد نے والد سے پوچھا کہ اقتدار کو مکمل طور سے کیسے مضبوط کیاجاسکتا ہے ۔تو والد حافظ الاسد نے جواب دیا کہ اپنی جنتا کو کبھی بھی پوری طرح خوش مت رکھو جب وہ تھوڑے ناراض رہیں گے تبھی وہ تمہاری طرف دیکھیں گے اور تمہیں ضروری سمجھیں گے ۔والد کی اس صلاح کوا س نے کچھ اس طرح اپنالیا کہ ان کے 24 سال کے عہد میں سیریا کی جنتا ہمیشہ ضرورتیں پوری کرنے کے لئے جدو جہد کرتی رہی ہیں ۔سعودی اخبار الہاب نے برٹس خفیہ سروسز نے ایم آئی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ سابق صدر اسد کے پاس قریب 200 ٹن سونا ہے اس کے علاوہ 16 ارب ڈالر اور پانچ ارب یورو ہے ۔جن کی روپے میں قیمت قریب قریب 1.80 لاکھ کروڑ روپے ہے ۔حالانکہ اسد اب دیش چھوڑ کر روس میں پناہ لے چکے ہیں ایسے میں سوا ل اٹھ رہے ہیں کیا وہ سب کچھ اپنے ساتھ لے گئے ہیں اور کتنا پیسہ چھوڑ گئے ہیں اس کا خلاصہ نہیں ہو پایا ۔بشر الاسد بچپن میں بہت خاموش طبیعت ،شرمیلے شخص کی شکل میںروس میں انہیں جاناجاتا تھا ۔اسد کی سیاست میں بالکل بھی دلچسپی نہیں تھی ان کی ایمیج کو مضبوط بنانے کے لئے والد حافظ الاسد نے انہیں ایک حکمت عملی کے تحت کرپشن انسداد محکمہ کا چیف بنایا ۔اسد نے اس دوران کئی بڑے حکام کو عہدے سے ہٹایا تاکہ ان کی ساکھ دبنگ حکمراں کی شکل میں سامنے آئے ۔انہیں مہنگی گاڑیوں کا شوق ہے ان کے قافلے میں اعلیٰ معیار کی کاریں شامل تھیں ۔بہرحال اسد کی پیدائش شام کی راجدھانی دمشق میں بشر الاسد کے گھرمیں ہوئی تھی ۔حافظ 29 سال تک سیریا کے صدر رہے۔ان کی پانچ اولادوں میں بشر تیسرے نمبر پر ۔شروع میں فوج اور سیاست سے دور رہ کر میڈیکل سیکٹر میں کیریئر بنانا چاہتے تھے ۔دمشق یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کرنے کے بعد میڈیکل میں خصوصیت کے لئے 1992 میں لندن چلے گئے ۔جنوری 1994 میں کار حادچہ میں ان کے بڑے بھائی اور اس وقت کے وارث کی موت ہو گئی تو انہیں واپس بلالیا ۔اور آزاد مانیٹرنگ گروپ سیرین نیٹورک ریکارڈ کے مطابق اس کےخلاف 2011 میں شروع ہوئے تحریک کے بعد پچھلی جولائی تک دیش کی جیلوں میں ٹارچر کی وجہ سے 15,102 موتیں ہوئیں ۔اندازہ ہے اس سال اگست تک 1 لاکھ تیس ہزار لوگ گرفتار کئے جا چکے تھے یا جبراً حراست میں لئے گئے تھے ۔ان کے دیش کی خفیہ ایجنسیوں کو غیر جوابدہی بتایا گیا ہے لیکن ہر تاناشاہ کا ایسا ہی حشر ہوتا ہے ۔مشکل سے دو تین ہفتے میں ان کا کھیل ختم ہو گیا۔اور راتوں رات انہیں بھاگناپڑا ایسے میں تاناشاہ کی لسٹ بہت لمبی ہے ۔جنہوں نے دیش کولوٹ لیا اور پھر بھاگنا پڑا۔اور شیخ حسینہ بھی تازہ مثال ہیں ۔ (انل نریندر)

لمبے عرصے بعد سنجیدہ مقرر کا بھاشن!

میں بات کررہا ہوں کانگریس کی وایناڈ کی ایم پی پرینکا گاندھی واڈرا کی پہلی پارلیمانی تقریر کے بارے میں بہت عرصہ بعد ایسی زبردست تقریر سننے کو ملی ۔پرینکا کے تقریر کرنے کا اپنا ہی اسٹائل ہے ۔وہ سادہ زبان میں اور سنجیدہ ڈھنگ سے اپنی بات رکھتی ہیں ۔مدعوں کو ایسے اٹھاتی ہیں جوآسانی سے جنتا کو سمجھ میں آجائیں ۔اپنی پہلی تقریر میں پرینکانے تقریباً سبھی اہم ترین اشو اٹھائے ۔جمعہ کو انہوں نے آئین ،ریزرویشن ،ذات پات پر مبنی مردم شماری کے اشواٹھائے ۔ان کا کہنا تھا کہ آئین سیکورٹی قدم ہے لیکن حکمراں پارٹی اسے توڑنے کی کوشش کررہی ہے ۔پہل بار پارلیمنٹ آئیں پرینکا نے کہا لوک سبھا چناو¿ میں بی جے پی کم سیٹیں اگر آئین کے بارے میں بات کرنے کے لئے مجبور کر دیا۔اگر لوک سبھا چناو¿ میں بی جے پی کا یہ حال نا ہوتا تو آئین کو بدلنے کا کام سرکار شروع کر چکی ہوتی ۔قریب 32 منٹ کی تقریر میں پرینکا نے آئیں ترمیم ،جواہر لال نہرو کے اچھے کاموں اور کسانوں کے تئیں دل بدل اور اڈانی پریم وغیرہ سبھی اشو پر سرکار کو نشانہ پر لیا ۔آئین کی بات کرتے ہوئے پرینکا نے کہا کہ سرکار کی ایک طرفہ انٹری سے آئیں کو کمزور کررہی ہے ۔لوک سبھا کے نتیجے ایسے نا ہوتے تو آئین بدل جاتا آج کے راجہ بھینس کو بدلتے ہیں ۔اورشوقین بھی ہیں لیکن کسی کی نکتہ چینی نہیں سنتے ہیں ۔دیش واسی کوحق ہے کہ سرکار بنا بھی سکتے ہیں اور بدل بھی سکتا ہے ۔نہرو پر بولتے ہوئے پرینکا نے کہا حکمراں فریق ماضی کی باتیں یاد کرتا ہے اور کہتا ہے نہرو نے کیاکیا حال کی بات تو چھوڑئیے آپ کیا کررہے ہیں ؟ اچھے کام کے لئے پنڈت نہرو کا نام نہیں لیتے ۔دیش کی تعمیر میں ان کا کردار کبھی بھی بھلایا نہیں جاسکتا ۔حکمراں فریق پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ آپ چنی ہوئی سرکاروں کو پیسوں کے دم پر گرا دیتے ہیں ۔پورا دیش جانتا ہے آپ کے پاس ایک واشنگ مشین ہے جو اپوزیشن سے اقتدار کی طرف جاتی ہے اور اس کے سارے داغ دھل جاتے ہیں ۔آپ بیلٹ پیپر پر چناو¿ کرا لیجئے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔مردم شماری کو لے کر سرکار کی سنجیدگی کا ثبوت یہ ہے کہ جب چناو¿ میں پوری اپوزیشن ذات پات پر مبنی مردم شماری کی بات لائی تو پی ایم مودی کہہ رہے تھے کہ اپوزیشن والے آپ کی بھینسیں چرا لیں گے ۔منگل سوتر چرا لین گے ۔تاناشاہی پر بولتے ہوئے پرینکا نے کہا دیش کا کسان بھگوان بھروسہ ہے ۔ہماچل میں سیب کے کسان رو رہے ہیں ۔دیش دیکھ رہا ہے ایک اڈانی کو بچانے کے لئے 142 کروڑ جنتا کو نظر انداز کیاجارہا ہے ۔بندرگاہ ایئر پورٹ ،سڑکیں ،ریلوے اور معدنیات سرکاری کمپنیاں صرف ایک شخص کو جارہی ہیں ۔انہوں نے پنڈت جواہر لال نہرو کی جم کر تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہندوستان ایئر ونوٹکس لمٹڈ ،بیل ایچ ایل ،سیل ،گیل او این جی سی ،ریلوے ،اینٹی پی سی ،آئی آئی ٹی اور آئل ریفائنری اور کئی پبلک سیکٹر کارخانہ لگائے ان کا نام کتابوں سے مٹایا جاسکتا ہے ۔تقریروں سے ہٹایاجاسکتا ہے لیکن دیش کی آزادی اور اس کی تعمیر میں ان کے رول کو کبھی بھلایا نہیں جاسکتا ۔پرینکا کی تقریر کے بعد بھائی راہل گاندھی نے کہا یہ تقریر میری پہلی تقریر سے کہیں زیادہ اچھی تھی۔دلچسپ بات یہ تھی کہ حکمراں فریق نے بھی بڑی توجہ سے پرینکا کی تقریر سنی اور تھوڑا ٹوکا ٹوکی کے علاوہ سبھی نے اسے بڑی توجہ سے سنا ۔شوشل میڈیا میں تو پرینکا نے تہلکا ہی مچا دیا۔کانگریس کو عرصہ کے بعد زبردست مقر رملا ہے ۔ (انل نریندر)

ایٹمی پلانٹ پر چوتھا حملہ کتنا خطرناک ہے !

ایران کے بشر نیوکلیئر سنٹر کے پاس چوتھی بار امریکی -اسرائیلی حملہ ہوا ہے ۔اس حملے میں ایک شخص کی موت ہو گئی ۔سنیچر کو ایران کے بے حد اہم تری...