01 فروری 2020

جے ڈی یو سے پرشانت کشو راور پون ورما کی چھٹی

جنتا دل یو نے اپنے قومی نائب صدر و چناﺅ حکمت عملی ساز پرشانت کشو ر اور قومی سیکریٹری جنرل پون ورما کو پارٹی سے برخواست کر دیا ہے ۔جے ڈی یو کے دوسرے نیشنل جنرل سیکریٹری کے سی تیاگی نے دونوں کی تمام ذمہ داریاں لے کر انہیں جے ڈی یو کی پرائمری ممبر شپ سے ہٹائے جانے کا حکم جاری کر دیا ۔چناﺅی حکمت عملی ساز پرشانت کشو ر جب جے ڈی یو میں شامل ہوئے تھے تو انہیں پارٹی کا نائب صدر کا عہدہ دے کر نوازہ گیا تھا ۔لیکن شہریت ترمیم قانون اور این آر سی پر مسلسل احتجاج کی وجہ سے دونوں کے درمیان خلیج بڑھتی چلی گئی حالیہ دنوں میں کئی اشو کو لے کر نتیش اور پرشانت میں زبانی جنگ بھی ہوئی آخر کار یہ جوڑی ٹوٹ گئی پارٹی کے جنرل سیکریٹری پون ورما کو بھی انہیں وجوہات سے پارٹی سے باہر کا راستہ دکھا دیا گیا بتا دیں کہ پون ورما نے دہلی میں جے ڈی یو بھاجپا اتحاد پر سوال اُٹھائے تھے ۔اور خط لکھ کر اس فیصلے پر نتیش سے سوال پوچھے تھے انہوںنے خط کو جنتا کے سامنے لا دیا تھا جس کو لے کر نتیش نے ناراضگی جتائی تھی اس سے پہلے بھی پون ورما نے سی اے اے پر وزیر اعلیٰ سے کئی سوال پوچھے تھے پرشانت کشور سی اے اے ،این آر سی ،اور این پی آر کی مخالفت کر رہے ہیں ۔انہوںنے سی اے اے کی مخالفت کرنے کے لئے کانگریس صدر سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو شکریہ کہا تھا ۔کیونکہ انہوںنے کہا تھا کہ بہار میں این آر سی اور سی اے اے لاگو نہیں ہوگا ۔ایک دن پہلے ہی نتیش نے کہا تھا کہ ہم کسی کو پارٹی میں لائے تھے امت شاہ کے کہنے پر پرشانت کشور کو پارٹی میں شامل کیا گیا تھا ۔اب وہ جانا چاہتے ہیں تو جائیں اس پر پرشانت نے ٹوئٹ کیا کہ آپ مجھے پارٹی میں کیوں اور کیسے لائے اس پر اتنا گر ا ہوا جھوٹ بول رہے ہیں پی کے کا جے ڈی یو کے ساتھ سفر پچاس دنوں تک رہا جبکہ پون ورما چھ سال تک جے ڈی یو کے ممبر رہے اگر پرشانت اور ورما کی مخالفت صرف اشوز پر مرکوز ہوتی تو الگ بات تھی لیکن ان دونوں سے سیدھے سیدھے نتیش کمار پر حملہ بولا گیا جو پارٹی کی ڈسی پلن شکنی کے خلاف تھا یہ دونوں نہ تو مائنڈیٹ والے نیتا ہیں اور نہ ہی ان کے جانے سے جے ڈی کو کوئی زیادہ نقصان ہونے والا ہے تب تو اور نہیں جب پرشانت کم وقت میں ہی نمبر دو کی حثیت بن جانے سے پارٹی کے پرانے سینر لیڈر ان سے خار کھائے بیٹھے تھے اس کے باوجود دونوں کو باہر کرنے کا نتیش کمار کے بارے میں یہ تصور مضبوط ہوگا کہ وہ اپنی نکتہ چینی برداشت نہیں کر سکتے ۔نتیش نے سی اے اے کے مخالفوں کو تو خاموش کر دیا لیکن پارلیمنٹ میں سی اے اے کی حمایت کرنے کے باوجود این آر سی این پی آر پر وہ خود بھی بھاجپا سے پوری طرح متفق نہیں ہیں ۔ایسے بھی اگر امت شاہ کے کہنے پر نتیش نے پرشانت کو پارٹی میں شامل کیا اور سیدھے نائب صدر بنا دیا تھا تو یہ خود ان کی سمجھ کا بھی سوال ہے کچھ سال پہلے عآپ میں بھی لیڈر شپ پر سوال کھڑے کرنے والے یوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن کی بھی اسی طرح سے عآپ سے وادی ہوئی تھی یہ پارٹی ڈسی پلین کی خلاف ورزی کی مثال کے ساتھ سیاسی پارٹیوں میں جمہوری اقدار کے مضر اثرات کو ظاہر کرتے ہیں جہاں لیڈ شپ پر سوال کرنا بھاری پڑتا ہے ۔

(انل نریندر)

کیا امت شاہ ووٹوں کی پولرائزیشن کرانے میں کامیاب ہوں گے؟

بی جے پی نے دہلی اسمبلی چناﺅ کو اپنی ساکھ کا سوال بنا لیا ہے پارٹی صدر سے لے کر مرکزی وزراءتمام ایم پی کو چناﺅ پرچار میں لگا دیا ہے ۔وزیر داخلہ امت شاہ نے جس دھواں دھار انداز میں دہلی چناﺅ میں کمپینگ شروع کی ہے اور جس طرح سے انہوںنے پور ی چناﺅ مہم کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے اسے دیکھ کر ہر کوئی حیران ہے ۔عام طور پر امت شاہ کسی بھی چناﺅی کمپین میں اتنی جلدی اور اس قدر سرگرم نظر نہیں آتے تھے جتنے ان انتخابات میں نظر آرہے ہیں ۔23جنوری سے چناﺅ میدان میں اترنے کے بعد سے انہوں نے درجنوں پبلک ریلیوں کو خطاب کیا ہے پد یاترا اور روڈ شو کیے جس رفتار سے وہ کمپینگ کر رہے ہیں اسے دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ چناﺅ مہم ختم ہونے تک (6فروری کی شام )وہ دہلی کی سبھی اسمبلیوں کو کور کر لیں گے ۔وہ فی الحال ان علاقوں پر زیادہ توجہ دے رہیں جہاں غیر منظور کالونیا اور جھکی بستیاں آباد ہیں ۔شاہ کے دہلی چناﺅ میں اس قدر شامل ہونے کے کئی معنی نکالے جا سکتے ہیں بی جے پی کے ذرائع کے مطابق بطور وزیر داخلہ امت شاہ کے لے یہ چناﺅ اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ بھاجپا حالیہ ریاستوں کے چناﺅ میں مسلسل ہار رہی ہے دہلی چناﺅ میں کئی اہم ترین واقعات کا اثر ہے ۔مثلاََ شہریت ترمیم قانون اور این آر سی کو لے کر جس طرح دہلی سمیت دیش بھر میں ہنگامہ مچا ہوا ہے سرکار پر دباﺅ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ایسے میں دہلی اسمبلی چناﺅ امت شاہ کے لے کہیں نہ کہیں اس مسئلے پر اپنا اور سرکار کا موقوف اور ایجنڈا صاف کرنے اور راشٹر واد کا حوالہ دے کر سی اے اے میں لوگوں کو یکجا کرنے کے ایک سنہرے کے موقع کی طرح ہے جہاں تک اپوزیشن پارٹیوں کا سوال ہے انہیں امت شاہ کے ذریعہ دہلی چناﺅ میں شاہین باغ کی مخالفت میں ،جے این یو کے سابق طالب علم شرجیل امام کے دیش مخالف بیان کو بھی اُٹھانے کے بعد اس کی دھار کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے کانگریس اور عآپ پارٹی میں شاہ کے وار کے خلاف کارگر حکمت عملی ضروری ہو گئی ہے ۔وہیں بی جے پی کا کہنا ہے کہ شاہ نے پہلے ہی دور میں دونوں پارٹیوں کو گھیر لیا ہے ۔جانکار مانتے ہیں کہ شاہ کے چناﺅ پرچار میں دو فرقوں کے درمیان لڑائی کروانے میں وہ لگے ہیں وہ کامیاب ہوتے ہیں تو عآپ اور کانگریس دونوں کو مشکل آ سکتی ہے ۔شاہ کے وار پر اروند کجریوال اور دیگر عآپ نیتا جواب دے رہے ہیں ۔شاہین باغ میں حال میں یوم جمہوریت پر اکٹھی بھیڑ نے بھی اپوزیشن پارٹیوں کا حوصلہ بڑھایا ہے ۔پھر شاہین باغ سے وہ ماحول تیار نہیں ہوا جس کو امت شاہ تیار کرنا چاہتے ہیں ۔وہ ووٹوں کا پولرائزیشن ابھی تک نہیں ہو پایا جو وہ چاہتے تھے ۔

(انل نریندر)

31 جنوری 2020

دہلی چناﺅ بساط پر شہریت ترمیم قانون

شہریت ترمیم قانون (سی اے اے)کو لے کر پیدا تحریک کی آواز دن بدن رکنے کے بجائے الٹی تیز ہو رہی ہے دہلی اسمبلی چناﺅ کے مشکل سے چند دن بچے ہیں اور جس طرح شاہین باغ سرخیوں میں چھایا ہوا ہے اس سے تو یہ نہیں لگتا کہ اس تحرک کی آنچ دہلی اسمبلی چناﺅ تک نہیں پہنچے گی خاص کر مسلم ووٹر اور دہلی اسمبلی کی مسلم اکثریتی سیٹوں پر اس کا اثر ضرور دکھائی دینے والا ہے ۔حالانکہ سیاسی پارٹیوں کی آغازکے مطابق اپنی حکمت عملی پر چل رہی ہیں۔دہلی کی چناﺅی بساط پر مسلم ووٹروں کی تعداد بارہ فیصد سے زیادہ ہے اور انہیں نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے ۔دہلی کی سیاست میں 70اسمبلی سیٹوں میں سے 8سیٹوں کو مسلم اکثریتی مانا جاتا ہے اس میں بلی ماران شیلم پور ،اوکھلا،چاندنی چوک،مصطفی آباد ،مٹیا محل ،بدر پور،اور کراڑی شامل ہیں ۔یہ ایسی سیٹیں ہیں جہاں امیدواروں کا مستقبل طے کرنے میں مسلم ووٹر کا اہم رول ہوتا ہے ۔مسلم ووٹروں کے لحاظ سے ترلوک پوری ،سیما پوری،بھی کم اہم نہیں ہیں ۔یہاں بھی مسلم ووٹر چناﺅ نتیجوں کو متاثر کرنے میں اہل ہیں ۔دہلی اسمبلی بھلے ہی ستر سیٹوں والی ہو یہ لیکن یہ چناﺅ قومی سیاست پر اثر ڈالنے والا ہے ۔سی اے اے کو لے کر شاہین باغ کی سرخیاں جہاں تیزی سے دیگر ریاستوں میں پھیل رہی ہیں ۔اس لحاظ سے دہلی اسمبلی چناﺅ کافی اہم ہو گیا ہے ۔حالانکہ دہلی مسلم ووٹر ایک یقینی طریقے سے ووٹ کرتا آرہا ہے اور اس کا جھکاﺅ جگ ظاہر ہے وہ کدھر جائے گا ۔دوسری طرف شہری ترمیم قانون جیسے اشوز کو لے کر اقلیتوں میں ناراضگی کے پیش نظر دہلی میں بھاجپا مخالف پارٹیوں کو بھاجپا کے حق میں اکثریتی طبقے کے پولرائزیشن ہونے کا بھی ڈر ستا رہا ہے ۔جس طرح سی اے اے کو لے کر مسلم ووٹروں کا پولرائزیشن ہوتا دکھائی دے رہا ہے اس کا تلخ رد عمل ہندو ووٹروں کے ایک بڑے طبقے میں ہونے لگا ہے ۔جس سے اپوزیشن پارٹیاں فکر مند ضرور ہو گئی ہیں ۔چونکہ ووٹروں کا یہ گروپ بھاجپا کے حق میں کھڑا ہوا تو یقینی طور سے چناﺅ میں بھاجپا مخالفین کے لئے مشکل ہو جائے گی دیش کی ریاستوں کے اسمبلی چناﺅ ہوں یا پھر لوک سبھا کے ،اکثریتی مسلم ووٹوں کا پورائزیشن بھاجپا کی مخالفت میں دکھائی پڑتا ہے ۔چناﺅ میں مسلم ووٹروں کی حمایت اکثر اسی پارٹی و امیدوار کو دکھائی دیتی ہے جو امیدوار بھاجپا کو ہرانے میں اہل ہو دہلی میں 2013کے اسمبلی چناﺅ میں دہلی کے مسلم ووٹروں کو عآپ کی مضبوطی کا اندازہ نہیں تھا اس لئے انہوںنے کانگریس کے حق میں ووٹ دے دیا ۔2015کے اسمبلی چناﺅ میں یہ عام آدمی پارٹی کے ساتھ کھڑے ہوئے تو دونوں کانگریس اور بھاجپا کا صفایا ہو گیا اس مرتبہ مسلم ووٹر عام آدمی پارٹی اور کانگریس میں بٹتے دکھائی پڑتے ہیں ۔

(انل نریندر)

عدنان سمی کو پدم شری ایوارڈ

پاکستانی نژاد گلو کار عدنان سمی کو پدم ایوارڈ کے لئے چنے جانے کو لے کر سیاسی بحث چھڑی ہوئی ہے سیاسی پارٹیوں میں 2016میں ہندوستانی شہری بنے تھے ۔بھارت میں ان کے یوگدان کو لے کر بحث چھڑنا فطری ہی ہے کانگریس اور این سی پی نے جہاں انہیں یہ اعزاز دینے پر اختلاف کیا ہے وہیں بھاجپا اور اس کی ساتھی پارٹیوں نے کہا کہ عدنان سمی اس اعزاز کے زیادہ حقدار ہیں ۔کانگریس پارٹی کے ترجمان جے ویر شیرگل نے سمی کو پاک فوج کے سابق افسر محمد صنا اللہ کا بیٹا بتایا عدنان کے پائلٹ والد نے 1965میں بھارت کے خلاف جنگ لڑی تھی اور اس جنگ میں سمی کے والد پاکستانی ایئر فورس کے پائلٹ تھے پاکستانی ائیر فورس میوزیم کے سرکاری ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ ،پائلٹ لیفننٹ خان نے بھارت کے ساتھ جنگ کے دوران زیادہ تر جنگی آپریشن میں اڑانیں بھری تھیں انہوںنے پورے راہ عمل او ر مسم ارادے سے جنگی میدان میں ہوائی ٹکڑی کی قیادت کی تھی اور بے جوڑ نتیجے حاصل کئے پاکستان کے فیلڈ مارشل ایوب خان نے 1965کی جنگ میں ایک شاندار کارکردگی اور ہمت کا ثبوت دینے کے لئے عدنان سمی کے والد کو ستارہ جرت نے نوازہ تھا ۔یہ ایوارڈ کا پاکستان کا تیسرا بڑا ایوارڈ مانا جاتا ہے عدنان کے والد نے بعد میں تین پاکستانی صدور کے معاون کی شکل میں کام کیا اور وہ ڈپلومیٹ بھی بنے عدنان کے والد کا سال 2009میں کینسر کی بیماری سے انتقال ہو گیا تھا۔مہاراشٹر کے اقلیتی ترقی امور اور این سی پی ترجمان نواب ملک نے چٹکی بھرے انداز میں کہا کہ اب کوئی بھی پاکستانی گلو کار بھارت کی شہریت لے سکتا ہے ۔لندن میں پاکستان ائیر فورس کے ایک سابق افسر کے یہاں پیدا عدنان سمی نے 2015میں ہندوستانی شہریت کے لئے درخواست دی تھی اور وہ منظوری کے بعد جنوری 2016میں ہندوستان کے شہری بن گئے تھے ۔نواب ملک نے کہا کہ بھارت کے بہت سے مسلم اس ایوارڈ کے حقدار ہیں ۔عدنان سمی کو اس وقاری پدم شری ایوارڈ دینا 130کروڑ ہندوستانیوں کے بے عزتی ہے ۔این ڈی اے سرکار سی اے اے ،این آر سی ،اور این پی آر کے اشو پر ہندوستانیوں اور دنیا بھر کے لوگوں کے سوالوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ملک نے کہا کہ اب کوئی بھی پاکستان گلو کار جے مودی کا نعرہ لگا کر بھارت کی شہریت لے سکتا ہے ۔سنیچر کو پدم ایوارڈ کے لئے اعلان کردہ 118لوگوں کی فہرست میں ان کانام بھی ہے ۔وزارت داخلہ کی فہرست میں ان کی آبائی ریاست مہاراشٹر بنائی گئی ہے ۔ملک نے کہا کہ اگر پاکستان سے آکر کوئی جے مودی کوئی بھارت کی شہریت کے ساتھ ساتھ دیش کا اہم ترین اعزاز پدم شری بھی پا سکتا ہے ۔

(انل نریندر)

30 جنوری 2020

ریاست ایک ،راجدھانیاں تین،تین

آندھرا پردیش کی راجدھانی معاملے میں ایک نیا باب جڑنے جا رہا ہے ۔آندھرا پردیش کی وائی ایس جگن موہن ریڈی حکومت نے اپوزیشن کی بھاری مخالفت کے درمیان ریاست کی تین راجدھانی بنانے سے متلعق سہولیت والا بل پیر یعنی 20جنوری کو اسمبلی میں پیش کیا اور اس کو ہنگامے کے درمیان ایوان میں پاس بھی کر لیا گیا اس بل میں امراوتی کو آئینی ،وشاکھا پٹنم کو ایگزکیٹو اور کرنول کو جوڈیشل راجدھانی بنانے کی سہولیت ہے ۔ریاستی حکومت کے مطابق تین راجدھانی بنانے کا ریاست میں لاءمرکزیت اور سبھی سیکٹروں میں برابر ترقی کو یقینی کرنا ہے ریاست کے وزیر شہری ترقی بی ستیہ نارائن نے اپوزیشن کے بھاری ہنگامے کے بیچ آندھرا پردیش لاءمرکزیت سبھی سیکٹروں کے یکساں ڈبلوپ مینٹ کے لئے ایکٹ 2020پیش کیا ۔قریب چھ سال پہلے ریاست کی تقسیم کے وقت اس ریاست نے اپنی راجدھانی کھو دی تھی موجودہ راجدھانی حیدرآباد کو ریاست سے الگ کر بنائے گئے ریاست تلنگانہ کے حصے میں آگئی تھی اور تقسیم نے آندھرا پردیش کو ایک نئی راجدھانی کے بنانے کی منظوری دے دی تھی اس وقت کے وزیر اعلیٰ چندر بابو نائیڈو نے امراوتی کو ایک جدید میٹرو سٹی کی شکل میں راجدھانی بنانے کا بڑا خواب دیکھا تھا ۔اسے انہوںنے اپنی ساکھ کا اتنا بڑا سوال بنا لیا تھا کہ جب امراوتی پروجکٹ کے لئے مالی مدد دینے کے معاملے میں مودی سرکار نے ہاتھ کھڑے کئے تو نائیڈو نے نہ صر ف این ڈی اے حکومت سے حمایت واپس لے لی تھی بلکہ بھاجپا سے بھی اپنے پرانے رشتے توڑ لئے تھے لیکن پچھلے اسمبلی چناﺅ میں جب ان کی پارٹی کو اقتدار نہیں ملا تھا تو امراوتی کا مستقبل بھی کھٹائی میں پڑنے لگا ریاست کے نئے وزیر اعلیٰ جگن موہن ریڈی نے وہاں چل رہے تمام پروجکٹوں پر روک لگا دی جس سے یہ لگنے لگا کہ امراوتی اب ریاست کی راجدھانی نہیں ہوگی ۔اس سے نہ صرف کئی پروجکٹ پر روک لگنے کا خطرہ پیدا ہو گیا بلکہ ضلع کے وہ کسان بھی ناراض ہو گئے جن سے ان کی زمین کے بدلے اچھی قیمت دینے کا وعدہ کیا گیا تھا سوال یہ ہے کہ کیا سچ مچ آندھرا پردیش کو تین راجدھانیوں کی ضرورت ہے ایک راجدھانی سے چلے انتظامیہ نے ہی آندھرا پردیش کو دیش کا ایک ایڈوانس راجیہ بنا دیا تھا ۔جس کی وجہ سے خوشحالی اور صنعتوں کے دھندے کے معاملوں میں ریاست نے کافی ترقی کی تھی علاقائی عوام کے جذبات کو دیکھتے ہوئے کئی ریاستوں نے دو راجدھانیوں کے تجربے کئے ہیں ۔اور یہ سب لوگوں کے جذبات کو مطمئن کرنے کے علاوہ ان کے دیگر فائدے کبھی سامنے نہیں آئے لیکن تین راجدھانیوں کے بننے سے خرچہ بھی بڑھے گا جس کا سیدھا اثر ریاست کی ترقی اور جن جاتیوں پر پڑنا لازمی ہے ۔

(انل نریندر)

شاہین باغ اہم اشو بنتا جا رہا ہے

دہلی کے اقتدار کا بنواس ختم کرنے کی کوشش میں بی جے پی کے لئے شاہین باغ کا اشو سب سے اہم ہو گیا ہے اور پارٹی نیتاﺅں کا سارا زور اسی پر لگا ہوا ہے ۔پچھلے کچھ دنوں سے پارٹی کا چناﺅ پرچار شاہین باغ کے ارد گرد گھوم رہا ہے ۔شہریت ترمیم قانون کو لے کر شاہین باغ میں پچھلے چالیس دنوں سے احتجاجی مظاہرے اور نعرے بازی کر رہے لوگ۔بھاجپا کا سارا زور شاہین باغ کے ذریعہ دیش کی سرکشا اور راشٹرواد کے مسئلے سے جوڑ رہی ہے ۔پیر کے روز وزیر قانون روی شنکر پرساد نے دہلی بھاجپا دفتر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ شاہین باغ میں لوگ بھارت کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔شاہین باغ کی شہریت ترمیم قانون کی مخالفت نہیں بلکہ پی ایم مودی کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے ۔دہلی اسمبلی چناﺅ میں کمپین میں چناﺅ ضابطے کو در کنار کر کے بگڑے بول کی اوچھی سیاست شروع ہو گئی ہے ۔مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے پچھلے سوموار کو ریٹھالا میں ایک نکڑ سبھا میں مبینہ طور پر گولی مارو کے لوگوں سے نعرے لگوائے انہوںنے شاہین باغ کا خاص ذکر کرتے ہوئے نعرہ دیا کہ دیش کے غداروں کو ....اور ان کے حمایتوں نے نعرہ شروع کرتے ہوئے کہا گولی مارو...۔کیا ایک مرکزی وزیر اس طرح کی زبان استعمال کرنا زیب دیتا ہے ؟اس بات کو چھوڑئیے کہ چناﺅ کمیشن اس کا نوٹس لے کر کیا کارروائی کرتا ہے معلوم ہوا ہے کہ اس نے مرکزی وزیر کو نوٹس دے کر جواب مانگا اور اگلے ہی دن بھاجپا کو ان کو اسٹار کمپینر کی لسٹ سے ہٹانے کا حکم دیا ۔خیر لیکن کیا ایک وزیر کو ایسے اشتعال انگیز زبان کا استعمال کرنا چاہیے ؟بھاجپا کے نیتا تو آج کل اپنے بیانوں کے ذریعہ ساری حدیں پار کر رہے ہیں ۔چناﺅ تو آتے جاتے ہیں ۔لیکن ہمیں اخلاقیات اور تہذیب کے دائرے میں رہنا چاہیے ۔مغربی دہلی سے بھاجپا کے ایم پی و سابق وزیر اعلیٰ صاحب سنگھ ورما کے بیٹے پرویش ورما نے شاہین باغ کا موازنہ کشمیر سے کر ڈالا اور یہاں تک کہہ ڈالا کہ اگر ان کی پارٹی اقتدار میں آئی تو ایک گھٹنے کے اندر شاہین باغ کو خالی کرا دیا جائے گا ۔ورما نے مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر کے متنازعہ بیان گولی مارو کا بھی بچاﺅ کیا اور کہا کہ دیش کی جنتا بھی ایسے غداروں کے ایسا ہی سلوک چاہتی ہے ۔دہلی کی جنتا چاہتی ہے کہ ایک آگ کچھ سال پہلے کشمیر میں لگی تھی وہاں کشمیری پنڈتوں کی بہن بیٹیوں کے ساتھ ریپ ہو اتھا اس کے بعد وہ آگ یوپی ہے حیدرآباد ،کیرل میں لگتی رہی اب وہ آگ دہلی کے ایک کونے میں لگی ہوئی ہے ۔وہاں پر لاکھوں لوگ اکٹھے ہو جاتے ہیں ۔اور وہ آگ دہلی کے گھروں تک پہنچ سکتی ہے دہلی کے لوگوں کو سوچ سمجھ کر فیصلہ لینا ہوگا یہ لوگ آپ کے گھروں میں گھسیں گے اور آپکی بہن بیٹیوں کو اُٹھائیں گے ریپ کریں گے اور ان کو ماریں گے اس لئے آج وقت ہے کل مودی اور امت شاہ نہیں آئیں گے بچانے انہوںنے کہا کہ شاہین باغ میں کون لوگ مظاہرہ کر رہے ہیںاور انہیں کون حمایت دے رہا ہے سب کو پتہ ہے اگر بی جے پی اقتدار میں آتی ہے تو ہم ایک گھنٹے میں شاہین باغ کو خالی کرا دیں گے اس کے بعد انہوںنے یہ بھی کہا کہ میں کسی بھی صورت میں بیان واپس نہیں لوں گا ۔پرویش ورما کو وزیر ہونے کے ناطے اس طرح کے متنازعہ بیانوں سے بچنا چاہیے کیونکہ وہ ایک ذمہ دار آئینی عہدے پر فائض ہیں ۔

(انل نریندر)

29 جنوری 2020

یہ غدار آئی ایس آئی کے ایجنٹ

حال ہی میں دیش سکتے میں آگیا جب جموں کشمیر پولیس کا ڈی ایس پی دیوندر سنگھ آتنک وادیوں کے ساتھ پکڑا گیا اس کے پلوامہ حملے تک میں تار جڑنے کی بات کہی جارہی ہے ۔وردی والا غدار دیوندر سنگھ کیا پاک خفیہ آئی ایس آئی کے لئے کام کرتا تھا ؟ا ن تمام باتوں کا انکشاف دیوندر سنگھ آین آئی اے کے سامنے کررہا ہے ۔اس کی گرفتاری کے بعد کئی سوال کھڑے ہو گئے مثلاً کیا پہلے سے اس پر کسی کو کسی طرح کا شک نہیں تھا ۔دیوندر سنگھ کے اس راز کا کوئی تو رازدار نہیں ہے جو اسے بار بار بچاتا رہا ہے ۔فی الحال این آئی اے نے برخواست ڈی ایس پی کا پکڑے گئے دہشت گردوں سے آمنا سامنا نہیں کروایا ہے ایک ہندی اخبار دینک بھاشکرکی ایک تفتیشی رپورٹ میں دیوندر جیسے دیگر وردی دھاری غداروں کی پڑتال میں کئی چوکانے والے ثبوت سامنے آئے ہیں ۔پچھلے 9برسوں میں 32دیگر فوجی ملازم اور بی ایس ایف کے جوان پاکستان کیلئے جاسوسی کرتے پکڑے گئے یا پاکستانی خفیہ ایجنسی کے ہنی ٹریپ میں پھنسے ان میں سے زیادہ تر معاملوں میں یہ جوان اسمارٹ فون اور شوشل میڈیا کے چکر میں ہنی ٹریپ میں پھنسے ہیں جاسوسی کے الزام میں پکڑے گئے ان سروس ملازمین میں پندرہ فوج کے ،7بحریہ کے ،2ائیر فورس کے ہیں۔ان کے علاوہ ڈی آر ڈی او کی ناگپور میں واقع برہموس میزائل یونٹ کا انجینئر سول ڈیفنس کا ایک اور بی ایس ایف کے 4جوان اور3سابق سروس مین شامل ہیں ۔اس بات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے فوج کے ریٹائرڈ برگیڈئیر روندر کمار بتاتے ہیں بھرتی کے وقت سے ہی دشمنوں کی نظر جوانوں پر رہتی ہے ۔کچھ لوگ پہلے سے ہی آتنک وادیوں و آئی ایس آئی کے رابطوں میں رہتے ہیں ۔فوج میں بھرتی ہو جاتے ہیں جن کا پتہ نہیں چلتا ۔لیکن اب زیادہ تر لوگ ہنی ٹریپ کے ذریعے نشانہ بنائے جاتے ہیں ۔پولیس وپہرہ و ملٹری فورس کے فوج ہی ان کے نشانے پر ہوتی ہے ۔اسلئے زیادہ غدار فورس سے ہی نکلتے ہیں ۔برگیڈئیر ٹوئیٹ کرتے ہیں کشمیر و نکسلی متاثرہ علاقوں پر پولیس پر لوکل سیاست کا زیادہ اثر ہوتا ہے اور وہ پیرا ملیٹری فور س میں ڈیپوٹیشن پر آجاتے ہیں ۔حالانکہ پندرہ لاکھ کی فوج میں غداروں کی یہ تعداد سمندر میں ایک بوند کے برابر ہے لیکن جس طرح سے ایک مچھلی پورے تالاب کو گندہ کرتی ہے ۔زہر کی ایک بوند بھی آدمی کو مار ڈالتی ہے ۔فوجی عدالتیں اسلئے بھی سخت مانی جاتی ہے کہ وہاں ایسے جرائم میں 100فیصد سزا ملتی ہے سول کوٹ کی طرح قانونی پینترے بازی ان عدالتوں میں زیادہ نہیں چل پاتی ۔2010سے 2018تک پکڑے گئے دیش کے غداروں میں 12قصورواروں کو سزا ہو چکی ہے ۔باقی بچے 5یا 16قصور وار نوکری سے برخواست ہو چکے ہیں وہ جیلوں میں ہیں ۔

(انل نریندر )

راشٹرپتی نوٹیفکیشن جاری نہیں کر سکتے تھے ؟

جموں کشمیر میں ارٹیکل 370بے اثر کرنے سے متعلق مرکزی حکومت کے فیصلہ کےخلاف گذشتہ منگل کو سپریم کورٹ کے 5ججوں کی سماعت آئینی بنچ کے سامنے دن بھر چلی عرضی گزاروں نے دعویٰ کیا کہ جموں کشمیر کو لیکر5اور 6اگشت کے نوٹیفکیشن جاری کرنے کے آئینی اختیار صدر جمہوریہ کے پاس نہیں تھے ۔بھارت کا پورا آئین جموں کشمیر پر نافذ نہیں ہوتا اسی درمیان عرضی گزاروں کے وکیل نے معاملہ بڑی بنچ کے پاس بھیجنے کی مانگ کی وہیں مرکزی سرکار نے اس کی مخالفت کی ۔جسٹس این وی رمنا اور جسٹس سنجے کشن کال ،جسٹس سبھاش ریڈی اور سوریہ کانت و وی آر گوی پر مشتمل بنچ معاملے کی سماعت کر رہی تھی اس نے بدھ کو صاف کیا کہ آرٹیکل 370کا اشو فی الحال 7نفری بڑی آئینی بنچ کو نہیں بھیجا جائے گا ۔بنچ نے کہا کہ جب تک عرضی گزاروں کی طرف سے آرٹیکل 370سے جڑے عدالت کے دونوں فیصلوں ،1959کا پریم ناتھ قول بنام جموں کشمیر اور 1970کا سنپت پرکاش بنام جموں کشمیر کے درمیان کوئی سیدھا ٹکراو ¿ ثابت نہیں ہوتا ۔وہ اس اشو کو سینئر بنچ کو نہیں بھیجے گی ۔بتادیں کہ دونو ںہی فیصلے پانچ نفری آئینی بنچ نے ہی سنائے تھے ۔بنچ نے عرضی گزاروں کے وکیلوں کو پچھلے دونوں فیصلوں کے درمیان سیدھا ٹکراو ¿ نا ہونے سے جڑے ثبوت داخل کرنے کا حکم دیا اور سماعت کو ملتوی کر دیا اب اگلی سماعت جلد ہوگی ۔سپریم کورٹ میں آٹارنی جنرل کے کے مینو گوپال نے جمعہ کو کہا کہ آرٹیکل 370کو ختم کرنے کا فیصلہ واپس لینا ممکن بھی ہے ۔بحث کے دوران اٹارنی جنرل نے کورٹ میں اسے ہٹائے جانے کی پوری تفصیل رکھی اس دوران کہا کہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی میں بتانا چاہتا ہوں کہ جموں کشمیر کی سرداری حقیقت میں عارضی تھی ہم ریاستوں کے ایک فیڈریشن ہیں ۔اس سے پہلے عرضی گزاروں میں سے ایک کی طرف سے پیش ہوئے وکیل ڈاکٹر راجیو دھون نے کہا کہ پہلی بار بھارت کے آئین کے آرٹیکل 3کا استعمال کرتے ہوئے خود کو ایک مرکزی حکمراں ریاست کا درجہ دیا گیا اگر وہ (مرکز ایک ریاست کے لئے ایسا کرتے ہیں ،یا کرسکتے ہیں تو یہ ٹھیک نہیں )سپریم کورٹ نے بدھوار کو صاف کہا کہ اس مسئلے کو 7نفری ججوں کی ایک بڑی بنچ کو تبھی سونپا جائے جب سپریم کورٹ کے پہلے 2فیصلوں میں تضاد ثابت ہو ۔بدھوار کو اس سلسلے میں بات سن کر جموں کشمیر بار ایسو سی ایشن کے ذریعے جسٹس این وی رمنا کی سربراہی میں ججوں کی آئینی بنچ کو بتایا گیا کہ پچھلے سال پانچ اگست کو آڑٹیکل 370کو منسوخ کرنے کا مرکز کا فیصلہ ناجائز تھا جسٹس رمنا کی بنچ سماعت کر رہی ہے ۔اب معاملہ اگلی سماعت تک جاری رہے گا ۔

(انل نریندر)

28 جنوری 2020

اسپیکر کے اختیارات پر غور کریں

دیش کے الگ الگ ریاستوں کی اسمبلیوں میں اکثر اس بات پر بحث ہوتی ہے کہ ممبران کے برتاﺅ یا فیصلوں کو لے کر ایوان کے اسپیکر نے جو فیصلہ لیا وہ کتنا صحیح ہے اور کتنا انصاف پر مبنی ہے ؟ممبران میں ساجھیداری کرنے والی پارٹیوں کی طرف سے ایسے الزام لگتے رہتے ہیں کیونکہ اسمبلی اسپیکر کسی خاص پارٹی کے ممبر کی شکل میں ہے اس لئے ان کا فیصلہ اس سے متاثر ہوتا ہے ۔منی پور کے ایک وزیر کو ڈسکوالی فالی کئے جانے سے متعلقہ کانگریس ممبران اسمبلی کی ایک عرضی کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے متعلقہ اسمبلی اسپیکر کو چار ہفتے میں اس پر فیصلہ لینے کے لئے کہا ہی ہے ساتھ ہی عدالت نے دل بدل معاملوں پر فیصلہ لینے کے لے ایک مختار نظام قائم کرنے کا پارلیمنٹ کو جو مشورہ دیا ہے وہ زیادہ اہم ترین ہے عدالت کا کہنا تھا کہ ممبران اسمبلی اور ممبران کو ڈسکوالی فائی کرنے سے متعلق ایوان کے اسپیکر کے پاورس پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے ۔صاف طور پر عدالت کا مقصد ہے کہ اسپیکر سے مکمل طور پر منصفانہ حیثیت کی امید نہیں کر سکتے کیونکہ وہ بھی کسی سیاسی پارٹی کا ممبر ہوتا ہے عدالت کا یہ تبصرہ قابل غور ہے آئین کے دسویں سیکشن کے تحت دل بدل قانون کی حفاظت کرنا جمہوریت کے لئے بے حد اہم ترین ہے ۔دراصل منی پور کے وزیر جنگلات ٹی شیام کمار 2017میں کانگریس کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے لیکن وزیر بننے کے لے بھاجپا میں شامل ہو گئے تھے کانگریس نے دل بدل قانون کے تحت انہیں ڈسکوالی فائی کرنے کے لئے اسپیکر کے سامنے کم سے کم دس عرضیاں دی تھیں لیکن کوئی سماعت نہیں ہوئی اسی معاملے کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس روہت ٹن پھلی نریمن کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ ممبران نے پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کو ڈسکوالی فائی کا فیصلہ لینے کے اسپیکر کے اختیارات پر پارلیمنٹ کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کیونکہ سیاسی پارٹی سے جڑے ہونے کے سبب اسپیکر کے فیصلے میں جانبدارانہ پہلو اپنانے کی گنجائش ہوتی ہے ۔ہر نکتہ سے معاملے کو دیکھنے اور سمجھنے کے بعد عدالت نے کچھ اہم تجاویز دی ہیں جس سے ایوان کی اہمیت اور بھروسہ نہ ختم ہو مثلاََ عدالت نے مرکزی سرکار سے غور کرنے کو کہا ہے کہ کیا ممبران اسمبلی اور ممبران پارلیمنٹ کو ڈسکوالی فائی پر فیصلہ لینے کا حق اسپیکر کے پاس ہے یا اس کے لئے ریٹائرڈ ججوں کا پینل جیسی آزاد اتھارٹی قائم ہو فطری ہے ہندوستانی جمہوریت کے کردار کو بنائے رکھنے میں ایوان کے اسپیکرس کا چہیتا رول ہے لیکن اس عہدے میں آتے ہی بے لوث اور متضادات نے ہمیں شرمندہ کیا ہے بڑی عدالت نے اس معاملے کی حساسیت کو سمجھتے ہوئے کئی برسوں سے غور و فکر ہو رہا تھا کہ اسپیکر کے عہدے کو کیسے پاک و صاف اور غیر منصفانہ رکھا جائے؟آپ نے جو تجاویز پیش کی ہیں اب مرکزی سرکار کو آگے فیصلہ کرنا ہے جمہوری نظام کو برقرار رکھنے کے لئے اسپیکر کا رول اہم ترین بن جاتا ہے ۔

(انل نریندر)

برانڈ مودی بنام برانڈ کجریوال

حالانکہ بی جے پی نے دہلی کے اسمبلی چناﺅ کو اپنی ساکھ کا سوال بنا لیا ہے ۔لیکن سچ تو یہ ہے پارٹی کو دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال کی کاٹ نہیں مل پار ہی ہے پارٹی صدر امت شاہ ایک ایک دن میں درجنوں نکڑ سبھائیں کر رہے ہیں ورکروں کے گھر کھانا کھا رہے ہیں لیکن اس کے باوجود عام آدمی پارٹی کو ہرانا مشکل لگ رہا ہے ۔دیش کی سیاست کو ہمیشہ متاثر کرنے والی دیش کی راجدھانی دہلی ساتویں مرتبہ اسمبلی کے چناﺅ کے لے چند دن بچے ہیں سال 2013کے چناﺅ کی طرح یہ چناﺅ بھی بے حد خاص ہے تب اناّ ہزارے کے بھرسٹا چار آندولن کے سبب متبادل سیاست کی ہوا نے کانگریس کی سیاسی صحت خراب کر دی تھی تو اس مرتبہ ایک دو لوک سبھا چناﺅ میں بھاجپا کو دھماکے دار جیت درج کرانے والے برانڈ مودی ہیں ۔دوسری طرف 2014کے لوک سبھا چناﺅ نے کراری ہار کے بعد پچھلے اسمبلی چناﺅ میں عآپ کو 67سیٹیں دلانے والے برانڈ کجریوال کونسہ برانڈ سیاست کے بازار میں کھرا اُترتا ہے یہ وقت ہی بتائے گا ۔دہلی کے چناﺅ نتائج کو متاثر کرنے والے خاص طور سے تین پہلو ہوں گے پہلا پہلو مودی ہوں گے مثلا کیا دہلی کی جنتا لوک سبھا چناﺅ کی طرح برانڈ مودی پر بھروسہ کریں گے ؟اگر اس کا جواب ہے تو چناﺅ نتیجے کا سارا طلسم یہیں بکھر جاتا ہے ۔پچھلے لو ک سبھا چناﺅ میں بھاجپا کو 57فیصدی ووٹ حاصل ہوئے تھے جو کانگریس اور عام آدمی کے ووٹ فیصد سے 35اور 39فیصد ی زیادہ ہے۔حالانکہ لوک سبھا چناﺅ کے مقابلے بھاجپا کے ووٹوں میں ہریانہ میں 22فیصدی ،جھارکھنڈ میں 17فیصدی ووٹوں کی گراوٹ درج کی گئی ۔2014کے لوک سبھا چناﺅ میں کلین سوئپ کرنے کے بعد دہلی اسمبلی چناﺅ میں محض 3سیٹوں تک سمٹنا بتاتا ہے کہ محض مودی کے سارے چناﺅی نیا پار کرنا اتنا آسان نہیں ہے دوسرا اہم پہلو کانگریس کی پرفارمینس ہے قریب قریب ایک ہی ووٹ بینک کے سبب آپ کی ساری امیدیں کچھ حد تک اس بار کانگریس کی پرفارمینس پر بھی ٹکی ہیں مضبوط کانگریس بھاجپا کو تو کمزور اور کانگریس عآپ کو ناکام بناتی رہی ہے ۔2014اور2019کے لوک سبھا چناﺅ میں کانگریس کی پرفارمینس میں معمولی بہتری میں ساتوں سیٹوں کو بھاجپا کی جھولی میں ڈال دیا تھا ۔ایسے میں سوال ہے کہ دو سرکردہ ہستیوں شیلا دکشت کے چلے جانے اور اجے ماکن کے غائب ہونے کے سبب بے قیادت کانگریس اس چناﺅ میں اپنی صحت میں کتنی بہتری لائے گی ۔کانگریس نے حالانکہ کئی سرکردہ ہستیوں کو چناﺅ لڑنے پر مجبور کیا ہے ۔ان کی پرفارمینس پر کانگریس کا مستبقل منحصر کرے گا تیسرا اہم پہلو متبادل سیاست ے سہارے سیاست میں کھڑا ہوا برانڈ کجریوال ہے پارٹی کا نظریاتی پہلو رکھنے والے یوگیندر یادو،پرشانت بھوشن،کمار وسواش سمیت تمام سرکردہ نیتاﺅں نے یا تو عآپ سے توبہ کر لی ہے یا انہیں باہر کا راستہ دکھا دیا گیا ۔یہ پہلا عآپ پارٹی کا چناﺅ ہے اب پرانی ٹیم نہیں ہے اس لئے سارا دارومدار برانڈ کجریوال پر ہے ۔

(انل نریندر)

26 جنوری 2020

چار مینا ر میرے باپ نے بنویا ہے ،تیرے باپ نے نہیں

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے لیڈر اور ایم ایل اکبرالدین اویسی نے ایک بار پھر متنازعہ بیان دیا ہے حیدرآباد کے ایک جلسے میں اویسی نے شہریت ترمیم قانون کی مخالفت کرتے ہوئے مرکز کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ جو لوگ کاغذ دیکھنے کے لئے گھر آئیں ان سے کہہ دو کہ ہم نے اس دیش میں 800سال راج کیا ہے ۔یہ چار مینا ر میرے باپ دادا نے بنوایا ہے تیرے باپ نے نہیں ۔اویسی نے ریلی سے خطاب میں کہا کہ کسی کو بھی ڈرنے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ہم کو ان کی باتوں میں آنے کی ضرورت نہیں ہے ۔جو لوگ پوچھ رہے ہیں ۔مسلمان کے پاس کیا ہے میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ کہ تو میرے کاغذ دیکھنا چاہتا ہے میں نے 800سال تک اس ملک میں حکمرانی اور جانبازی کی ہے یہ ملک میرا تھا میرا ہے میرا رہے گا ۔میرے دادا نے اس ملک کو چار مینا ر دیا ،قطب مینار دیا ،جامع مسجد دی ،ہندوستان کے پی ایم جس لال قلع پر جھنڈا لہراتا ہے اس نے بھی ہمارے آبا واجداد نے بنوایا ہے ۔بتا دیں کہ اکبرالدین اویسی اس سے پہلے بھی کئی متنازعہ بیان دے چکے ہیں میں حلوا نہیں لا ل مرچی ،حلوا عربی کا لفظ ہے وزیر خزانہ نے حلوئے کی پوجا کی اویسی نے کہا کہ بی جے پی بھی انہیں حلوہ سمجھنے کی بھول کرتی ہے لیکن حلوہ نہیں لال مرچی ہے ۔کیا یہ لوگ اس کا بھی نام بدلیں گے کیا ؟بتا دیں کہ مودی سرکار کی دوسری پاری کا پہلا بجٹ یکم فروری کو آنے والا ہے ۔اس کے لئے حلوا سیرمنی کے ساتھ بجٹ چھپائی کے ساتھ کام شروع ہوتا ہے اویسی نے وزیر داخلہ کو بدھوا ر کو چنوتی دی کہ وہ اپوزیشن کے نیتاﺅں کے بجائے سی اے اے پر ان کے ساتھ بحث کریں ۔شاہ نے اپوزیشن پر سی اے اے کے خلاف لوگوں کو گمراہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے راہل گاندھی،ممتا بنرجی،اکھلیش یادو،مایاوتی کو کھلے اسٹیج پر بحث کرنے کی چنوتی دی تھی ۔شاہ کی چنوتی پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ ہوں میرے ساتھ بحث کریں ان لوگوں کو این آر سی پر بحث اور بات کریں گے انہوںنے کہا کہ بھاجپا والے کہتے ہیں کہ وہ نام بدلیں گے ۔انشاءاللہ دیش کے لوگ آپ کو بدلیں گے یا د رکھیں حلوہ نہیں لا مرچی ۔

(انل نریندر)

اور اب کورونا وائرس

چین میں کورونا وائرس کا دائرہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے ۔اس نے اب بھارت میں بھی دستک دے دی ہے چین سے حال کے دنوں میں بھارت لوٹے سینکڑوں لوگوں میں سے دس کو خطرناک کورونا وائرس سے متاثر جانچ کے لئے اسپتالوں میں نگرانی میں رکھا گیا ہے ۔ان میں سے سات کیرل سے دو ممبئی سے ایک حیدرآباد میں ہے اس وائرس کو روکنے کے لے چین سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شہروں وہان ،ریجھاﺅ سے لوگوں کو باہر جانے پر روک لگا دی ہے ۔اور حکام کے مطابق حالات میں بہتری تک یہاں سے باہر جانے والی بسوں،ٹرینوںپروازوں پر بھی روک رہے گی ۔چوکسی اس لے برتی جا رہی ہے کیونکہ سنیچر کو یہاں نیا سال شروع ہو گیا ۔چین میں ملک و بیرون ملک کے چالیس کروڑ لوگ تہوار مناتے ہیں اِدھر چین کے بیجنگ شہر میں 3سے نو فروری تک ومین اولمپک فٹبال کوالیفائی میچ اب دوسری جگہ ہوں گے ۔چین میں 31دسمبر سے اب تک کورونا وائر س کے 630مریض سامنے آئے ہیں ۔اب تک 19لوگوں کی موت ہو چکی ہے اس کا اثر امریکہ سمیت نو ملکوں میں ہے ۔کورونا وائرس عام طور پر پالتوں جانوروں سے پیدا ہوتا ہے ۔کئی بار ان میں میوٹیشن ہوتا ہے ۔اور وہ انسانوں کو اپنی زد میں لےنے لگتے ہیں وہان میں یہی ہوا ۔یہ کسے شروع ہوا اس کا ابھی پتہ نہیں لگ پایا ۔فی الحال مانا جا رہا ہے کہ یہ سی فوڈ کے ذریعہ پھیلا پچھلے کچھ عرصے سے جانوروں اور پرندوں سے انسان میں پھیلنے والے وائرس بڑھے ہیں ۔سارس اور ربوتا سوائن فلو ،برڈ فلو اسی کٹیگری کے انفیکشن ہیں ۔ان سبھی نے دنیا کو خوف زدہ کر دیا ہے ابھی سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا وہان کو چاروں طرف سے بند کرنے سے اس وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکے گا خاص کر تب جب یہ امریکہ تک پھیل چکا ہے اور یہ چین کا دورہ کرنے والے ڈیڑہ درجن امریکی اس بیماری سے متاثر پائے گئے ہیں ۔ظاہر ہے کہ انفیکشن چین کے دوسرے حصوں میں پھیل چکا ہوگا ۔اس لئے اسے روکنے کے ہنگامی قدم شاید ابھی سے اُٹھانے ہوں گے اور چنوتی اس وائرس کو دنیابھر میں پھیلنے سے روکنے کی ہے ۔

(انل نریندر)

نصیرالدین شاہ بنام انوپم کھیر!

نئے شہریت ترمیم قانون کو لے کر پورے دیش میں آندولن چل رہا ہے کچھ لوگ اس کے حق میں ہیں تو کچھ لوگ اس کی مخالفت میں اس تنازعہ سے ہماری فلم انڈسٹری بھی اچھوتی نہیں رہ سکی ۔بالی ووڈ کے دو بڑے اداکار وں میں خطرناک لفظی جنگ چھڑ گئی ہے ایک طرف ہیں انوپم کھیر اور دوسری طرف نصیرالدین شاہ اس لفظی جنگ کا آغاز ایک انٹر ویو میں نصیرالدین شاہ کے انوپم کھیر کو جوکر کہنے سے ہوا تھا ۔انہوںنے ایک ویب سائٹ کو دئے انٹر ویو میں شہریت قانون پر اپنی رائے رکھی ۔جس کو لے کر نریندر مودی والی مرکزی سرکار کے خلاف پورے دیش میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں ۔بتا دیں کہ انوپم کھیر کی اداکارہ بیوی کرن کھیر بھاجپا سے ایم پی ہیں نصیرالدین شاہ نے انٹر ویو میں کہا تھا کہ انوپم کھیر بہت بولتے آئے ہیں ۔مجھے نہیں لگتا کہ انہیں زیادہ سنجیدگی سے لینا چاہیے وہ ایک جوکر ہیں اور این ایف ڈی و ایف ٹی آئی کے ان کے ساتھی ان کی چاپلوسی کے گواہ ہیں یہ ان کے خون میں ہے ۔اور اس میں ان کا کوئی قصور نہیں ہے لیکن باقی جو لوگ ان کی حمایت کر رہے ہیں انہیں فیصلہ کرنا چاہیے آخر وہ کس کی حمایت کر رہے ہیں ۔بالی ووڈ ہستیوں میں انوراگ کشیپ ،وشال بھاردواج،رچا چڈھا،اور دیگر کئی لوگ بھی سی اے اے کو لے کر اپنی تشویش جتا چکے ہیں ۔وہ سیدھے طور پر اس کی مخالفت کر رہے ہیں ۔انوپم ان دنوں امریکہ میں اپنے نئے شو نیو ایمس ٹریڈم کی شوٹنگ میں لگے ہوئے ہیں ۔نصیرالدین شاہ سے سوال اُٹھایا کہ بھارت میں 70سال سے رہنا کیا یہاں کا شہری ہونے کا ثبوت کافی نہیں ہے ؟ساتھ ہی کہا کہ دوسرے لوگوں کی طرح میں بھی اپنا ثبوت نامہ نہیں دکھا سکتا اس کے بعد انوپم کھیر نے ٹوئٹر پر اپنا ویڈیو پوسٹ کے ذریعہ معاون ایکٹر کو قرارہ جواب دیا ۔ان کا کہنا تھا کہ پیارے نصیر جی میں نے آپکا دیا انٹر ویو دیکھا آپ نے میری تعریف میں کچھ باتیں کہیں آپ نے کہا میں جوکر ہوں مجھے سنجیدگی سے نہیں لےنا چاہیے ۔یہ میرے خون میں ہے اس تعریف کے لئے شکریہ لیکن میں آپ کو ان باتوں کے لئے بالکل سنجیدگی سے نہیں لیتا آپ نے اپنی پوری زندگی کامیابی ملنے کے بعد بھی تلاشتے ہوئے بتائی ہے انوپم کھیر نے آگے کہا اگر آپ ایک سے ایک سرکردہ ہستیوں کی تنقید کر سکتے ہیں تو میں کیا چیز ہوں کھیر کا کہنا تھا کہ آپ ایسے تبصروں سے صرف ایک دو دن سرخیوں میں رہ سکتے ہیں ۔میرے خون میں صرف ہندوستان ہے ۔انوپم نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا :جناب نصیر الدین شاہ صاحب کے لئے میرا پیار میرا پیغام وہ مجھ سے عمر میں اور تجرے میں بڑے ہیں میں ہمیشہ سے ان کے فن کی عزت کرتا آیا ہوں اور کرتا رہوں گا ۔لیکن کبھی کبھی ایک دو باتوں کا جواب دے دوں یہ بہت ضروری ہوتا ہے ۔میرا جواب انوپم نے آگے کہا آپ نے اپنی پوری زندگی اتنی کامیابی ملنے کے باوجود گمنامی میں گزاری ہے ۔اگر آپ دلیپ کمار صاحب امیتابھ بچن صاحب راجیش کھنہ ،شاہ رخ خان، وراٹ کوہلی ،کی تنقید کر سکتے ہیں تو مجھے اس بات کا یقین ہے کہ میں اچھی سنگت میں ہوں ۔


(انل نریندر)