Translater

15 ستمبر 2018

این پی اے مہا گھوٹالہ: اس حمام میں سبھی ننگے ہیں

بینکوں کا قرض کیوں ڈوبتا چلا گیا اور وہ کیسے بدحال ہوتے گئے اس کا تازہ انکشاف ریزرو بینک کے سابق گورنر رگھو راجن نے کیا ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کی تجزیاتی کمیٹی کے جواب میں بتایا کہ کس طرح دریادلی برتی گئی جو بھاری پڑی۔ این پی اے کے معاملہ پر جو خلاصہ رگھوراجن نے اب کیا ہے وہ کئی سنگین سوال کھڑے کرتا ہے۔ این پی اے کے مسئلہ نے بینکنگ سسٹم کے کھوکھلے پن کو اجاگر کر کے رکھ دیا ہے۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ بینکوں کا اندرونی مینجمنٹ مشینری کس طرح سے چلتی ہے اور چلائی جارہی ہے۔ راجن کے انکشافات سے الزام در الزام تراشی کا دور شروع ہونا فطری ہی تھا۔ یوپی اے اور این ڈی اے دونوں ہی آج کے حالات کے لئے ذمہ دار ہیں۔ بینکوں کے ڈوبے قرض یعنی این پی اے کو لیکر جہاں راجن نے یوپی اے سرکار کو ذمہ دار ٹھہرایا وہیں انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ بینکوں کی دھوکہ دھڑی سے وابستہ ہائی پروفائل معاملوں کے خلاف مشترکہ کارروائی کیلئے اس کی فہرست پی ایم او کو بھیجی گئی تھی۔ حالانکہ راجن نے یہ نہیں بتایا کہ کس پی ایم او کو یہ فہرست بھیجی گئی تھی۔ یوپی اے کے پی ایم او کو یا این ڈ ی اے کے پی ایم او کو؟ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ 2016 میں این ڈ ی اے کی سرکار تھی اس لئے یہ فہرست مودی جی کے پی ایم او کو بھیجی گئی ہوگی۔ تجزیاتی کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی کو بھیجے گئے نوٹ میں راجن نے کہا کے سرکاری بینکوں کے بینکنگ سسٹم میں دھوکہ دھڑی کے معاملہ بڑھتے جارہے ہیں لیکن یہ ڈوبے ہوئے قرض کی رقم کے مقابلے اب بھی کم ہے۔ انہوں نے بتایا میں نے دھوکہ دھڑی نگرانی کمیٹی بنائی تھی تاکہ جانچ ایجنسیوں تک شروع میں ہی ان معاملوں کو جانکاری پہنچ جائے۔ میں نے ہائی پروفائل معاملوں کی فہرست پی ایم او کو بھیج کر اپیل کی تھی کہ کم سے کم ایک یا دو ملزمان پر مقدمہ درج کر مشترکہ کارروائی کی جائے۔ مجھے اس بارے میں نہ تو کوئی جواب ملا اور ظاہر ہے نہ کوئی ٹھوس کارروائی ہوئی؟ سرکار ایک بھی ہائی پروفائل دھوکہ باز کے خلاف مقدمہ چلانے کو لیکر بے پرواہ رہی۔ بینک افسر جانتے تھے کہ جب کسی لین دین کو دھوکہ دھڑی مانا جائے تو جانچ ایجنسیاں اصل گناہگاروں کو پکڑنے کے بجائے انہیں ہی ٹارچر کریں گی لہٰذا انہوں نے اپنا کام دھیما رکھا۔ بینکوں کے ڈوبے قرض یعنی این پی اے کو لیکر راجن نے یوپی اے سرکار کو ذمہ دار ٹھہرایا جس کے بعد کانگریس نے صفائی دی کہ این پی اے کے لئے بھاجپا سرکار ذمہ دار بھی ہے وہیں بھاجپا نے کہا کہ یوپی اے سرکار کے وقت مافیا راز تھا اور کانگریس کے ترجمان رندیپ سرجے والا نے کہا کہ 2014 میں جب یوپی اے اقتدار سے باہر ہوئی ،تک کل این پی اے 2.83 لاکھ کروڑ روپے تھا۔ این ڈی اے سرکار کے آنے کے بعد گزشتہ چار سالوں میں دس لاکھ تیس ہزار کروڑ روپیہ ہوگیا۔ بیشک 2.83 لاکھ کروڑ کے این پی اے کی ہماری ذمہ داری بنتی ہے، لیکن مودی سرکار کے چار سالوں میں دس لاکھ تیس ہزار کروڑ کا این پی اے ہے اس کا ذمہ دار کون ہے؟ وہیں اس اشو پر بھاجپا کی مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی نے کہا کہ راجن نے جو کہا ہے وہ حقیقت صرف کانگریس سرکار کے ذریعے سیاست میں مافیا راج کو ہی نہیں بتاتی بلکہ یوپی اے سرکار نے دیش کو ان چنوتیوں سے لڑنے کے لئے چھوڑدیا۔ کیا یہ بات سنجیدہ نہیں ہے۔ بنیادی پروجیکٹوں کے لئے ہزاروں کروڑ کا قرض دیتے وقت بینک یہ یقینی کیوں نہیں کر پائے کہ ان موٹے قرضوں کی واپسی کیسے ہوگی؟ ایک طرح سے یہ کھلے ہاتھ پیسہ لٹانے جیسی بات ہوئی ہے۔ کئی معاملوں میں تو بینکوں نے قرض لینے کیلئے انفورسمنٹ کے سرمایہ بینک کی رپورٹ کی بنیاد پر معاہدہ کرلیا تھا اور اپنی طرف سے جانچ پڑتال ذرا بھی ضروری نہیں سمجھی۔ دنیا میں شاید ہی کوئی قرض دہندہ ایسا ہوتا ہوگا جو اس کی واپسی کے طریقے یقینی نہیں کرتا لیکن بھارت میں کمرشل بینکوں نے اتنی زبردست لاپروائی برتی ایسے میں کیا یہ ماننا غلط ہوگا کہ بھارت میں بینکنگ سسٹم بالکل ٹھپ حالت میں ہے؟ رگھو راجن نے اپنے تحریری بیان میں کہاں کہ اس کی سچائی پر کوئی بھی سوال نہیں اٹھاسکتا ہے اس سے کانگریس اوربھاجپا دونوں ہی کٹہرے میں کھڑی ہوتی ہیں۔ حالانکہ معیشت اور بینکنگ سسٹم پر نظر رکھنے والوں کے لئے ان میں کچھ بھی نیا نہیں ہے۔ راجن کے کہنے سے ان ساری باتوں کی تصدیق ہوجاتی ہے جو این پی اے کے سلسلے میں کہی جارہی تھیں۔ این پی اے کے بوجھ سے ہمارا بینکنگ سسٹم چرمرا رہا ہے اور نریندر مودی سرکار کو اب انہیں بچانے کے لئے موٹی رقم لگانی پڑ رہی ہے۔ بینکوں کا قرض دینے میں جوش تو صاف دکھائی پڑتا ہے لیکن اس کی وجہ کیا ہوسکتی ہے یہ جاننے کی ضرورت بھی ہے۔ کیا سرکار کی طرف سے بینکوں کو اس کے لئے اشارے دئے جاتے تھے اور دئے جارہے ہیں؟ بینک اپنے خطرے مول لینے کی بنیاد پر سارے قرض دے دیں گے یہ عام سمجھ سے پرے ہے۔ اس میں بینک افسران کا کرپشن میں ملوث ہونا بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ الزام یہ ہے کہ بینک حکام کے ذریعے قرض کی یاد دلانے پر انہیں دھمکی تک ملتی تھی۔ ایسا ماحول آخر کیوں بن گیا تھا اس کی جانچ تو ہونی چاہئے۔ کانگریس کو یہ کہنے سے اس کا قصور کم نہیں ہوجاتا کہ جب ہم گئے تو این پی اے صرف دولاکھ کروڑ تھا۔ آج نو لاکھ کروڑ ہوگیا ہے۔ یہ اس لئے ہوگیا کہ موجودہ سرکار نے پورے این پی اے کو سامنے لانے کی کوشش کی ہے تاکہ بینکنگ سسٹم کی اصل پوزیشن سمجھی جاسکے۔حقیقت تو یہ ہے کہ کوئی بھی سرکار رہی ہو اگر وہ وقت پر مناسب پالیسی ساز فیصلہ نہیں لے پاتی ہے تو اس کے سنگین نتیجے بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔ این پی اے کی وجہ سے کنگالی کے دھانے پر پہنچے بینکوں کو فوری خوراک کے طور پر پیکیج تو دے دئے گئے ہیں لیکن بنیادی بیماری جوں کی توں بنی ہوئی ہے۔ این پی اے کا نمبر بڑھتا جارہا ہے اور آج یہ دس لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے۔ رگھو راجن نے اشارے دئے ہیں یہ تعداد اور آگے بڑھ سکتی ہے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے چاہے وہ یوپی اے کی سرکار ہو چاہے این ڈی اے کی ہو دونوں نے ہی کمرشل بینکوں کی لاپروائی پر کس قدر آنکھیں بند کی ہوئی تھیں۔ اگر ریزرو بینک بھی شروع سے کمرشل بینکوں کے چلانے اور لین دین پر سخت نظر رکھتا تو نیرو مودی، میہول چوکسی اور وجے مالیا جیسے بڑے گھوٹالے بازوں سے بینکوں اور دیش کو بچایا جاسکتا تھا۔ این پی اے پر شور مچنے کے بعد سرکار اور آر بی آئی بھلے ہی ٹھوس قدم اٹھانے کے دعوے کریں لیکن حالات امیدوں کے بجائے اندیشات ہی پیدا کردیتے ہیں۔ ہمارا تو یہی کہنا ہے کہ این پی اے کے مہا گھوٹالہ کا پردہ فاش ہونا چاہئے تاکہ قصوروار قانون کے شکنجے میں آسکیں۔
(انل نریندر)

14 ستمبر 2018

کیوں خاموش ہیں وزیر اعظم نریندر مودی

ڈیزل اور پیٹرول کی مسلسل بڑھتی قیمتوں سے دیش بھر میں طوفان مچ گیا ہے۔ کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن پارٹیوں نے بھارت بند کا انعقاد کیا۔ کانگریس کی قیادت میں پیر کو دہلی کے رام لیلا میدان میں منعقدہ زبردست مظاہرے میں راشٹروادی کانگریس پارٹی ، راشٹریہ جنتادل، راشٹریہ لوکدل، لوک تانتر جنتا دل، عام آدمی پارٹی سمیت 16 پارٹیوں کے نیتاؤں نے شرکت کی اور پیٹرول ۔ ڈیزل کے مسلسل بڑھتے داموں کے لئے مودی سرکار کی جم کر نکتہ چینی کی۔ سبھی پارٹیوں نے ایک آواز میں مودی حکومت کو بے حس قرار دیا اور کہا کہ چار سال میں ان کی پالیسیوں کے سبب دیش کی عوام پریشان ہے۔ اترپردیش کے سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو نے ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل ہورہے اضافے اور مہنگائی کو لیکر بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی سرکار پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بھاجپا کے لوگوں کا غرور ہے کہ جنتا مہنگائی سے پریشان ہے اور بھاجپا کہہ رہی ہے کہ وہ اگلے 50 سال تک اقتدار میں رہے گی۔ راہل گاندھی نے کہا کہ 2014 میں نریندر مودی نے وزیر اعظم بننے سے پہلے عورتوں کی حفاظت اور کسانوں کی آمدنی دوگنا کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ جنتا نے بھروسہ کر ان کی سرکار بنوائی۔ اب لوگوں کو صاف احساس ہوگیا ہے کہ انہوں نے ساڑھے چار سال میں کیا کیا؟ مودی جی کہتے ہیں کہ انہوں نے ساڑھے چار سال میں وہ کیا جو 70 سال میں نہیں ہوا۔ اب لوگوں کو پتہ چل جائے گا کہ انہوں نے ساڑھے چار سال میں ہندوستانیوں کو آپس میں لڑوایا، عورتوں پر مظالم ہورہے ہیں لیکن وزیر اعظم خاموش ہیں۔ پورے دیش میں مودی جی پیٹرول۔ ڈیزل اور گیس پر اپوزیشن میں رہتے ہوئے خوب بولتے تھے لیکن اب ایک لفظ نہیں بولتے، آخر مودی جی خاموشی کیوں ہیں؟ راہل گاندھی نے کہا مودی جی صرف بھاشن دیتے ہیں۔ دیش ان کے بھاشنوں سے تنگ آچکا ہے۔ سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے مودی سرکار پر تلخ حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی عوام مخالف پالیسیوں کے سبب دیش کا کاروباری اور کسان پریشان ہوگیا ہے۔ نوجوان روزگار تلاش کررہے ہیں سرکار صرف عوام مخالف کام کررہی ہے اور اس نے ساری حدود پار کردیں ہیں۔ راشٹروادی کانگریس پارٹی کے شرد پوار نے کہا کہ مودی سرکار کی پالیسیاں عوام مخالف ہیں اور اس کے سبب دیش کی عوام الناس پریشان ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ عوام کے مفاد میں سوچنے والی سیاسی پارٹیوں کو متحد ہوکر دیش کی جنتا کو بھروسہ دینا چاہئے اسے سرکار سے جلد نجات دلائی جائے گی۔ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے استھی کلشوں کا ذکر کرتے ہوئے پوار نے کہا کہ اسے جس طرح سے پروپگنڈہ کیا جارہا ہے وہ ان کی خدمات کو یاد کرنے کا طریقہ نہیں ہے۔ بیشک بی جے پی اس بند کو ناکام بتانے کی کوشش کرے لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جو اشو اپوزیشن پارٹیوں نے اٹھائے ہیں وہ برننگ اشو ہیں جس پر مودی سرکار کو جواب دینا چاہئے۔ ایندھن کے مسلسل بڑھتے دام سے جنتا پریشان ہے۔
(انل نریندر)

اب تک 33 قتل قبول کئے

بھوپال کے ٹرک ڈرائیوروں اور کنڈکٹروں کا سیریل کلر آدیش کھا مر کو یاد نہیں کہ اس نے اب تک کتنے بے قصوروں کا قتل کیا ہے۔ تفتیش میں اس کا ہر انکشاف پولیس کو حیران کررہا ہے۔پیر کو دیر رات جب آدیش سے سخت پوچھ تاچھ کی گئی تو اس نے بتایا کہ تین اور بے قصوروں کی اس نے جان لے لی ہے۔ تین میں دو سگے بھائی ہیں جبکہ تیسرا ٹرک ڈرائیور ہے۔ ان تینوں کو ملا کر وہ اب تک 33 قتل کرچکا ہے اور ان 33 قتلوں کا گناہ بھی قبول کرچکا ہے۔ ان 33 قتلوں میں 22 ایسے واقعات ہیں جنہیں پولیس کبھی سلجھا نہیں پائی تھی۔ ہرقتل پر آدیش کے حصے میں محض 25سے30 ہزار روپے ہی آتے تھے۔ ان 33 قتلوں میں سے 1 قتل تو اس نے 25 ہزار روپے کی سپاری لے کر بھی نہیں کیا ہے۔ سنیچر کو دیر رات سخت پوچھ تاچھ میں اس نے 16 قتل اور قبولے جن میں 8 کے الزام میں جیل بھی جاچکا ہے۔پوچھ تاچھ کے ساتھ ایس پی ساؤتھ راہل لوڈھا کو رائے پور پولیس کا کال آیا۔ انہوں نے بتایا کہ راج نند گاؤں کے پاس الگ الگ مقامات پر جنگل میں تین ڈرائیوروں، کنڈکٹروں کی لاشیں ملی تھیں۔ وہیں بیترا کے پاس پلیا کے نیچے ایک اور بلاسپور کے پاس ایک ندی میں لاش ملی ہے۔ اس بنیاد پر پولیس نے آدیش کھا مر سے سوال کئے تو اس نے ان پانچوں بے قصوروں کے قتل کا پورا واقعہ بھی پولیس کے سامنے اگل دیا۔ پولیس کا دعوی ہے کہ وہ اگلی واردات کے بارے میں تبھی بتا رہا ہے جب اس سے جڑے سوال کئے جائیں۔ اس لئے دیش بھر کی پولیس کو اس کے پکڑے جانے کی جانکاری بھیج دی گئی ہے تاکہ دیش بھر میں ہوئے ان قتلوں کا بھی پتہ چل سکے جنہیں وہ اب بھی چھپا رہا ہے۔ کچھ ایسے جڑتے گئے آدیش کے کالے کارنامے :15 اگست کو جھاگریا پٹھار میں ڈرائیور مکھن سنگھ کی لاش ملی۔ 22 اگست کو پولیس نے شانو رتیش اور وجے کو پکڑا۔ رتیش اور وجے نے لوٹا گیا سریا شانو کو دلوایا تھا۔ پوچھ تاچھ میں جے کرن ، واحد نور اور صابر کالا کے نام سامنے آئے ہیں۔ جے کرن و صابر نے مہیش راٹھور و نفیس کے بارے میں بتایا۔ اسی درمیان سسرو تھانہ میں موکل اقرار سمیت ٹرک کی چوری کی شکایت آئی۔ اس میں جے کرن کا ہاتھ ہونے کی جانکاری ملی۔ پوچھ تاچھ میں جے کرن نے اپنے ساتھیوں تکارام بنجارا اور آدیش کھامر کا نام بتایا۔ پوچھ تاچھ ابھی جاری ہے اور بھی کئی معمہ کھل سکتے ہیں۔ پیسوں کی خاطر اتنے بے قصوروں کا قتل کرنے والے اس خونخوار سیریل کلر نے نہ جانے کتنے پریوار تباہ کردئے؟ آخر سزا بھی اسے کڑی سے کڑی ملنی چاہئے۔ اپنے آپ میں اتنے بے قصوروں کا قتل کرنے کا یہ بہت بڑا قصہ ہے۔ کئی ان سلجھے قتلوں کا پتہ چلے گا۔
(انل نریندر)

13 ستمبر 2018

مودی پر برسے کیجریوال، شتروگھن اور یشونت سنہا

وزیر اعلی اروند کیجریوال نے سنیچر کو صبح جمنا ندی کے کنارہ عثمان پوتیسرا پشتہ کے گڑھی مانڈو سے میگا شجرکاری مہم کا آغاز کیا۔ انہوں نے دہلی کے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ دہلی کی آلودگی سے لڑنے کے لئے اس مہم کو جن آندولن بنادیں۔ ہر دہلی کے باشندے اپنے گھر کے آس پاس ایک پودا ضرور لگائیں۔ دلچسپ یہ ہے کہ دہلی میں چلے اس ایک روزہ میگا ابھیان میں ایک ساتھ 643 مقامات پر پودے لگائے گئے۔ سرکار کی کوشش تھی کہ ایک دن میں پانچ لاکھ پودے لگائے۔ اس میں سرکار کی طرف سے نشان زد جگہوں پر آر ڈبلیو اے، اسکولی بچوں، بازار کی انجمنوں نے بھی حصہ لیا۔ حکام کا کہنا ہے اکیلے گڑھی مانڈو و اس کے قریبی علاقوں میں پروگرام میں 8 لوگوں نے قریب 6 ہزار پودے لگائے۔ ادھر مشن 2019 کیلئے زمین تیار کرنے میں لگے اروند کیجریوال اور ان کی عام آدمی پارٹی کی سہارنپور سے شروع ہوئی جن ادھیکار پد یاترا سنیچر کو ہی نوئیڈا آکر ختم ہوئی۔ رم جھم بارش کے درمیان کیجریوال وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف جم کر برسے۔ وہیں فلمی ایکٹر و بھاجپا ایم پی شتروگھن سنہا اور سابق وزیر مالیات یشونت سنہا نے بھی کیجریوال کے ساتھ اسٹیج شیئر کرتے ہوئے سرکار پر جم کر نکتہ چینی کی۔ شتروگھن سنہا نے کیجریوال کے ساتھ اسٹیج شیئر کرتے ہوئے اپنی ہی پارٹی کے خلاف مورچہ کھول دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے پاس 56 انچ کا سینا ہے اور نہ ہی میں من کی بات کرتا ہوں میں تو صرف اپنی دلی کی بات کرتا ہوں۔ جنتا پوچھتی ہے کہ آپ بھاجپا کے خلاف کیوں بولتے ہیں تو میں جواب دیتا ہوں بھلے ہی بھارتیہ جنتا پارٹی میں ہوں لیکن اس سے پہلے میں بھارت کی جنتا کا ہوں۔ میں جنتا ہوں پارٹی سے پہلے دیش ہوتا ہے۔ مودی سرکار نے کالا دھن واپس لانے کا وعدہ کیا تھا، نوٹ بندی کی گئی تو99.3 فیصد پیسہ بینکوں میں واپس آگیا ہے لیکن کالا دھن کہاں ہے؟ کالا دھن تو واپس نہیں آیا دوستوں کے پاس چلا گیا۔ بھاجپا چھوڑ چکے سابق وزیر یشونت سنہا نے بھی پی ایم مودی کا نام لئے بغیر کہا کہ دیش کی سیاست بدل رہی ہے۔ سب سے بڑی تبدیلی کچھ نیتاؤں کی جھوٹ بولنے کی عادت سے آئی ہے۔ دیش کی جنتا اب جھوٹ کو برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ دیش کے اعلی عہدہ پر بیٹھے شخص حالات کو جانتے ہوئے بھی جان بوجھ کر جھوٹ بول رہا ہے۔ ایسا تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔ اروند کیجریوال نے کہا کہ دیش آج تبدیلی چاہتا ہے۔ وزیر اعظم جنتا کو یہ بتائیں کہ 540 کروڑ روپے کے جنگی جہاز 1600 کروڑ روپے میں کیوں خریدا گیا۔ ہم شری کیجریوال کے شجرکاری مہم کی تعریف کرتے ہیں آخر کسی نیتا نے تو آلودگی سے لڑنے کے لئے ٹھوس قدم اٹھائے۔ دہلی کی جنتا کو اس مہم کو کامیاب بنانا ہوگا۔ ہر شخص اپنے گھر کے پاس ایک پودا لگائے تاکہ ہماری دہلی میں اور ہریالی ہو اور آلودگی گھٹے۔
(انل نریندر)

راہبہ آبروریزی کیس پر کیرل ہائی کورٹ سخت

ایک راہبہ (نن) کے آبروریزی کے الزام میں جالندھر کے بشپ فرنکو ملکل کو پوچھ تاچھ کے لئے اسی ہفتہ بلائے جانے کا امکان ہے۔ کیرل ہائیکورٹ نے ریاستی سرکار سے ایس آئی ٹی کی جانچ رپورٹ طلب کی ہے۔ ساتھ ہی ہائی کورٹ نے پوچھا کہ متاثرہ راہبہ اور اس کے خاندان کو سکیورٹی کیوں نہیں دی گئی۔ کیرل کیتھولک چرچ کے ریفارمیشن مومنٹ کے جارج جوسف کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے جانچ میں ہوئی پیش رفت اور اٹھائے گئے قدموں کی جانکاری مانگی ہے۔ نن کا الزام ہے پادری ملکل نے ان کے ساتھ 2014 سے 2016 تک کئی بار بدفعلی کی۔ اس کی شکایت ڈھائی ماہ پہلے کی گئی تھی لیکن کیرل پولیس کی ایس آئی ٹی نے اب تک بشپ سے صرف ایک بار بات چیت کی ہے جبکہ متاثرہ سے 12 بار بیان لئے جاچکے ہیں۔ وہیں پولیس نے اشارے دئے ہیں کہ ملزم کو پوچھ تاچھ کے لئے اسی ہفتے نوٹس دیا جاسکتا ہے۔ نیشنل وومن کمیشن نے راہبہ کے خلاف قابل اعتراض بیان دینے والے آزاد ممبر اسمبلی پی سی جارج کو بھی سمن جاری کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ راہبہ ، گواہوں اور جالندھر ڈایوسس بشپ فرنکو ملکل کے دئے بیانوں میں کافی تضاد ہے اس لئے شبہ دور کرنے کے بعد آگے کی کارروائی کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ حالانکہ افسر نے نن کے لئے انصاف کی مانگ کررہے مظاہرین کے اس الزام کو مسترد کردیا کہ پولیس ملزم بشپ کی مدد کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں ایک آزادانہ اور منصفانہ جانچ جاری ہے۔ اس درمیان کوٹایم سے موصلہ خبروں کے مطابق آزاد ممبر اسمبلی پی سی جارج کے خلاف بھی کارروائی شروع کی ہے جنہوں نے متاثرہ کے خلاف قابل اعتراض تبصرہ کیا تھا۔ کیرل اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر رمیش چنیملا نے کہا کہ یہ الزام ہے کہ جانچ بہت دھیمی رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے۔ معاملہ درج ہونے کے 76 دن گزر جانے کے بعد بھی پولیس جانچ پوری نہیں کرسکی اور انہوں نے طے وقت کے حساب سے جانچ پوری کرنے کی درخواست کی وہیں کیرل کیتھولک چارج ریفارمیشن مومنٹ سمیت کیتھولک اصلاحات انجمنوں نے نن کے لئے انصاف کی مانگ کرتے ہوئے کیرل میں اپنا مظاہرہ جاری رکھا ہے۔ کیرل میں بھاجپا اور سنگھ پریوار سے وابستہ انجمنوں نے متاثرہ کو انصاف دلانے کے لئے مظاہرہ کررہی راہباؤں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی ہے۔ آزاد ممبر اسمبلی پی سی جارج نے متاثرہ اور اس کی ساتھی راہباؤں کے خلاف ایک بیان میں کہا ہے کہ اصلی متاثرہ کو لیکر کچھ شبہ ہے۔ انہوں نے پوچھا اصلی متاثرہ کون ہے؟ نن یا بشپ؟ نن کے خلاف بیہودہ زبان کا مبینہ طور پر استعمال کئے جانے کو لیکر نیشنل وومن کمیشن کے ذریعے ان کے خلاف شروع کی گئی کارروائی کے بارے میں پوچھے جانے پر جارج نے کہا کیاوہ لوگ ان کی ناک کاٹ لیں گے؟
(انل نریندر)

12 ستمبر 2018

اپوزیشن کو بیک فٹ پر لانے کیلئے راؤ کا ایک اور داؤ

تلنگانہ کے وزیر اعلی چندر شیکھر راؤ نے جب 2 ستمبر کو حیدر آباد میں اپنی پوری طاقت کے ساتھ پرگتی نویدن سبھا کی تھی تبھی صاف ہوگیا تھا کہ وہ اسمبلی توڑ کر جلد چناؤ کرانے کی سفار ش کرسکتے ہیں۔ سبھی قیاس آرائیوں کو دور کرتے ہوئے تلنگانہ سرکار نے اسمبلی بھنگ کرنے کی سفارش کردی ہے۔ وزیر اعلی چندرشیکھر راؤ کی صدارت میں ہوئی کیبنٹ کی میٹنگ میں ایوان کو بھنگ کرنے کی سفارش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے فوراً بعد راؤ راج بھون گئے اور ریزولوشن گورنر ای ایس ایل نرسمہن کو سونپ دیا۔ گورنر نے سفارش منظور کرلی ہے اور کے سی آر کو نگراں وزیر اعلی بنے رہنے کو کہا ہے۔ چناؤ کمیشن نے تلنگانہ کے نگراں وزیر اعلی کے سی آر کی پارٹی پر وقت سے پہلے اسمبلی چناؤ کیلئے دباؤ ڈالنے پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔ راؤ نے شاید جمعرات کو مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ سمیت چار ریاستوں کے ساتھ چناؤ کرانے کے مقصد سے تلنگانہ اسمبلی کو 8 مہینے پہے ہی بھنگ کردیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر اوپی راوت نے بتایا کہ چناؤ کمیشن وقت پر چناؤ کی تاریخ کا فیصلہ لے گا۔ راوت کا کہنا ہے چناؤ کو لیکر چندر شیکھرراؤ کے خیالات بیحد مایوس کن اور بے یقینی کی علامت ہیں۔ ہمیں سپریم کورٹ کے ذریعے جلد سے جلد چناؤ کرانے کے مجاز کیا گیا ہے اور اس میں کوئی تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے آگے کہا کہ سال 2002 میں سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا تھا کہ اسمبلی بھنگ ہونے کے بعد نگراں سرکار کو چھ ماہ سے زیادہ وقت نہیں دیا جاسکتا تاکہ اقتدار میں بیٹھی سرکار کو اس کا فائدہ نہ مل پائے۔ اسمبلی بھنگ ہونے سے پہلے ہی موقعہ میں چناؤ کرانے کی سہولت ہے۔ حالانکہ چناؤ کمیشن نے صاف کیا کہ وہ کسی بھی دباؤ میں فیصلہ نہیں لے گا۔ تلنگانہ گورو اور جن کلیان کاری یوجناؤں کو کامیابی سے عمل درآمد کے بہانے چندر شیکھرراؤ نے وقت سے پہلے (8 مہینے) اسمبلی بھنگ کرنے کا اعلان کی ہمت دکھائی ہے۔ شاید چندر شیکھر راؤ کا خیال ہے کہ وہ وقت سے پہلے چناؤ کی وجہ سے اپوزیشن کی تیاریوں کو جھٹکا دے سکیں گے۔ وہ پردیش میں کانگریس اور بھاجپا کے فروغ کی حکمت عملی کو موقعہ نہیں دینا چاہتے تھے۔ لوک سبھا چناؤ میں ملک گیر ماحول کا اثر ریاست کے چناؤ پر پڑنے کے اندیشے سے وزیر اعلی بچنا چاہتے تھے۔ تلنگانہ بننے کے بعد اس علاقہ میں پی ڈی پی کی بنیاد کمزور پڑ گئی ہے۔ اسمبلی میں ٹی آر ایس کے 90 ممبران اسمبلی ہیں۔ بڑی اپوزیشن پارٹی کی شکل میں کانگریس کے13 اور بھاجپا کے5 ممبر اسمبلی ہیں۔ اویسی کی جماعت اے آئی ایم آی ایم کے 7 ممبر اسمبلی ہیں۔ ٹی آر ایس کے آس پاس کوئی نظر نہیں آتا۔ کانگریس کا رد عمل کچھ یوں تھا۔ اس کے ترجمان رندیپ سرجے والا نے کہا کہ راؤ نے تلنگانہ کی جنتا کے ساتھ دھوکہ کیا ہے وہ بھاجپا اور وزیراعظم کی کٹھ پتلی ہیں۔ ظاہر ہے کہ راؤ بہت مضبوط دکھائی دے رہے ہیں۔ اس کے بعد راؤ کیا راؤ کا داؤ کامیاب ہوگا؟
(انل نریندر)

میڈل جیتنے والا چائے بیچنے کو مجبور

ہمارے دیش کے ریکارڈ یافتہ اور ہونہار کھلاڑیوں کو کتنی عزت ب سہولیات ملتی ہیں یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ دوسرے ملکوں میں یہاں تک کہ بھارت سے بہت چھوٹے ملکوں میں بھی نوجوانوں کو اتنی سہولیات دی جاتی ہیں تاکہ وہ ایک دن اپنے دیش کے لئے بین الاقوامی مقابلوں میں میڈل دلا کر دیش کا جھنڈا اونچا کریں۔ ایک چونکانے والی حقیقت سامنے آئی ہے۔ گھروں پہ نام تھے ناموں کے ساتھ عہدہ تھے بہت تلاش کیا کوئی آدمی نہ ملا۔بشیر بدر کی یہ شاعری انڈونیشیا میں حال ہی میں ختم ہوئے ایشن گیمس میں سخت محنت کر تانبے کا میڈل جیتنے والے 23 سال ہریش کے حالات کو بیاں کرتی ہے۔دیش کا نام روشن کرنے والا یہ ہونہار کھلاڑی مفلسی کی زندگی بسر کرنے کو مجبور ہے لیکن بڑے بڑے دعوے کرنے والی بھارت سرکار کی وزارت کھیل اور دہلی سرکار اس کھلاڑی کے گھر خوشیوں کا ایک چراغ تک نہیں جلا پارہی ہے۔ مجنوں کا ٹیلا میں واقع چائے اسٹالوں کو جمعہ کو ایک دم جدا نظارہ تھا۔ وہاں گراہک چائے کی چسکیوں کے ساتھ ساتھ چائے بیچنے والے کے لڑکے کے ساتھ سیلفی بھی لے رہے تھے۔ یہ لڑکا کوئی اور نہیں بلکہ ایشین گیمس میں تانبے کا میڈل جیتنے والے ہریش کمار تھے۔ ہریش کمار جکارتہ سے لوٹتے ہی ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر اپنے والد کی چائے کی دوکان پر پہنچ گئے۔ مجنوں کا ٹیلا میں واقع چائے کی دوکان پر ہی ان کے گھر کا گزر بسر ٹکا ہوا ہے۔ ایشن گیمس میں دیش کے لئے تانبے کا میڈل جیتنے والے ہریش کمار نے بتایا کہ ان کا خاندان بڑا ہے اور آدمی کا ذریعہ کم ہے۔ 23 سالہ ہریش نے کہا کہ وہ چائے کی دوکان پر اپنے والد کی مدد کرتا ہے اور اس کے ساتھ ہی روزانہ دوپہر دو بجے سے شام چھ بجے تک چار گھنٹے کھیل کی پریکٹس کرتا ہے۔ ہریش نے بتایا کہ سال2011 میں انہوں نے اس کھیل کو کھیلنا شروع کیا تھا وہ ٹائر کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔ کوچ ہیمراج نے انہیں دیکھا اور وہ انہیں اسپورٹ اتھارٹی آف انڈیا لے گئے جہاں ان کے ہنر کو تراشا گیا۔اسپیکٹرا کھیل کو 1982 میں دہلی ایشن گیمس کے دوران منظوری ملی۔ اسے والی بال کی طرح کھیلتے ہیں۔ بس فرق اتنا ہے کہ اس میں ہاتھ کی جگہ پیروں کا استعمال ہوتا ہے۔ اس سے پہلے ایشن گیمس میں کشتی میں تانبے کا میڈل جیتنے والی دہلی کی کھلاڑی دویا کاکس نے بھی سہولیات کو لیکر ناراضگی جتائی تھی۔ انہوں نے کہا تھا غریب کھلاڑیوں کی مدد نہیں کی جاتی۔ بس میڈل ملنے پر ہی انہیں پوچھا جاتا ہے۔ ہریش نے کہا کہ تمام حالات کے باوجود وہ دیش کے لئے اور زیادہ میڈل حاصل کرنے کے لئے ہر دن پریکٹس کرتے رہیں گے۔ 2020 میں ٹوکیو اولمپک ہونے والا ہے۔ سرکاروں کو ان میڈل ونروں کو پہلے سے پوری سہولیات دینی چاہئیں۔
(انل نریندر)

11 ستمبر 2018

کانگریس اسمبلی چناؤ میں طاقت آزمائے گی

سال کے آخر میں ہونے والے چار ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کو دیکھتے ہوئے سبھی بڑی سیاستی پارٹیوں نے زور شور سے تیاریاں شروع کردی ہیں۔ راجستھان، مدھیہ پردیش میں بھاری منفی نظریات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ راجستھان میں تو وزیر اعلی وسندھرا راجے کی تو ہر ریلی میں مخالفت ہورہی ہے۔ ان کی گورو یاترا پر بھاری پتھراؤ بھی ہوا ہے۔ کانگریس کو لگتا ہے کم سے کم ان دو ریاستوں میں تبدیلی اقتدار ہوسکتا ہے۔ وہیں کچھ پارٹیاں تیسرا مورچہ بنانے میں لگ گئی ہیں۔ غیر بھاجپائی اور غیر کانگریسی نیتا پردیش میں تیسرا مورچہ بنانے کو لیکر سرگرم ہیں۔ راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اسمبلی چناؤ میں کانگریس اپنی شکتی آزمائے گی۔ پارٹی پہلی بار اس طاقت کو مرکز میں رکھ کر چناؤ حکمت عملی کا خاکہ تیار کررہی ہے۔ ان ریاستوں کے انتخابا ت میں اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو لوک سبھا چناؤ حکمت عملی کی بنیاد پر طاقت کی ہوگی۔ لوک سبھا کا سیمی فائنل مانے جانے والے مدھیہ پردیش ، راجستھان ، چھتیس گڑھ چناؤ میں کانگریس کوئی خطرہ مول لینا نہیں چاہتی۔ ان ریاستوں میں بھاجپا کی سرکاریں ہیں۔ شروعاتی رجحان کانگریس کے حق میں لگ رہے ہیں۔ ایسے میں پارٹی بوتھ پر موجود ورکروں کی پہچان کر انہیں تیار کررہی ہے۔ شکتی پروگرام اس میں اہم رول نبھا رہی ہے۔ کانگریس کے ڈاٹااینالیٹکس شعبے کے مطابق راجستھان میں قریب 50 ہزار ، مدھیہ پردیش میں 60 ہزار، چھتیس گڑھ میں تقریباً22 ہزار بوتھ ہیں۔ ان سبھی بوتھوں پر پارٹی کو اپنی پوزیشن کا تجزیہ کر چناؤ حکمت عملی بنا رہی ہے۔ کیا ہے شکتی: کانگریس نے حال ہی میں بوتھ سطح پر پارٹی کے ورکروں کو جوڑ کر کیڈر بنانے کیلئے ’شکی‘ نام سے موبائل ایپ لانچ کیا ہے۔ اس کے ذریعے پارٹی کے ورکروں سے جڑے ڈاٹا اکھٹے کرنے کے ساتھ کسی بوتھ پر کانگریس کی پوزیشن کا تجزیہ کیا جارہا ہے ساتھ ہی پرانے چناؤ میں وہاں کے حالا سے ملان کر حکمت عملی کو آگے بڑھایا جارہا ہے۔ ادھر عام آدمی پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ راجستھان کی سبھی سیٹوں پر چناؤ لڑے گی۔ قومی ترجمان الکا لامبہ نے سنیچر کو اجمیر میں بتایا پارٹی نے اجمیر ضلع کے پشکر اسمبلی حلقہ سے ریاض احمد اور تھاور سے منجیت سنگھ کو پارٹی کا سرکاری امیدوار اعلان کیا ہے۔انہوں نے کہا سال کے آخر میں ہونے والے اسمبلی چناؤ میں راجستھان کی سبھی 200 سیٹوں پر پارٹی امیدوار کھڑے کرے گی۔ راجستھان اور چھتیس گڑھ میں کانگریس کے لئے فصل تو تیار ہے لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا وہ اسے کاٹ پائے گی؟ یہ اچھی بات ہے کہ کانگریس نے اپنی سب سے بڑی کمزوری اور کمزور تنظیم پر توجہ دینا شروع کردی ہے۔ پارٹی کے پاس دو ریاستی سطح کے نیتا اشوک گہلوت اور سچن پائلٹ انتہائی مضبوط اور مقبول لیڈر موجود ہیں لیکن کیا یہ بھاجپا کی سرکار کو اقتدار سے ہٹا پائیں گے؟
(انل نریندر)

جو جیسا ہے، اسی شکل میں تسلیم کیا جانا چاہئے!

ہم جنس پرستی اب بھارت میں جرم نہیں ہے۔ دیش، دور اور حالات بدلنے پر کس طرح قیمتی اقدار و قاعدے قوانین بدلے جاتے ہیں اس کی ہی مثال ہے ہم جنس پرستی پر سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ۔ عدالت عظمیٰ کی آئینی بنچ کے تازہ فیصلہ کے بعد تین دہائی سے بھی زیادہ عرصہ سے چل رہی قانونی لڑائی اب ختم ہوگئی ہے۔ جو کچھ لوگوں نے ذاتی زندگی کے متبادل کو جرم کے دائرہ سے باہر رکھنے کے لئے شروع کی تھی۔ یہ فیصلہ ہم جنس پرستوں کے ساتھ ساتھ دوست جنسی خواہش والے دیگر لوگوں کے لئے بھی ایک بڑی راحت لیکر آیا ہے۔ یہ فیصلہ اس لئے بھی قابل غورہے کہ جس سپریم کورٹ نے آئی پی سی کی دفعہ377 کے اس حصوں کو ختم کیا جو بالغوں کے درمیان رضامندی سے بنائے گئے ہم جنس پرستی کے رشتوں کو جرم قرار دیا کرتے تھے اسی نے 2013 میں ایسا کرنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا تھا ، یہ کام پارلیمنٹ کا ہے۔ اتنا ہی نہیں اس نے اس فیصلہ پر نظرثانی عرضی کو بھی خارج کردیا تھا۔ 2013 میں سپریم کورٹ نے دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے سال2000 میں دئے گئے اس فیصلہ کو پلٹنے کا کام کیا تھا جس میں دفعہ377 کو غیر آئینی قرار دیا گیا تھا۔ بیشک سپریم کورٹ نے آخر کار ہم جنس پرستی کے سلسلہ میں جو فیصلہ سنایا ہے وہ تاریخی اور اصلاح کن فیصلہ ہے جس کا ایل جی بی ٹی ہی نہیں بلکہ اصلاح پسند جمہوری سماج کو طویل عرصہ سے انتظار تھا۔ اس کے باوجود یہ سوال آج بھی اپنی جگہ برقرار ہے کہ دقیانوسی کی غلامی سے بری طرح جکڑاور اسی سلسلہ میں اپنی ماضی گزشتہ کی تشریح کرنے پر آمادہ ہمارا سماج کیا اسے دل سے قبول بھی کر پائے گا؟ عدالت نے دو بالغوں کے درمیان ہونے والے جنسی رشتوں کو جرم بتانے والی آئی پی سی کی دفعہ سے باہر نکلتے ہوئے جو اصول بنائے ہیں ان کی تشریح گہری اور دور تک جانے والی ہے۔ قانون شخص ، سماج اور دیش کے مفادات کو دھیان میں رکھ کر بنائے جاتے ہیں۔ اس لئے شاید بدلے حالات کے مطابق ان میں ترامیم ہوتی رہتی ہیں۔ حالانکہ تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ان تبدیلیوں کو لیکر سماج اور دیش کے سبھی لوگ متفق اور مطمئن ہوں یہ ضروری نہیں ہے۔ اس لئے اکثر قانونی تبدیلیوں کو لیکر اختلافی آوازیں بھی اٹھتی رہتی ہیں۔ہم جنس پرستی کے معاملہ میں سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کو نامناسب ٹھہرانے سے پہلے ٹرانسجینڈر کے معاملہ میں عدالت پہلے ہی فیصلہ دے چکی ہے۔سماج میں ٹرانسجینڈروں (ہیجڑوں)کو لیکر بھی اچھا نظریہ نہیں تھا۔ انہیں قانونی طور سے سرکاری حق بھی حاصل نہیں تھا۔ وہ ناپسندیدگی کی علامت تھے۔ اسی زمرے میں گنے جانے وال ہم جنس پرستوں کو بھی سماج میں حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ انہیں قانونی منظوری ملنے سے ایل جی بی ٹی کہے جانے والے لوگوں کو اب عام شہریوں کی طرح حق مل سکیں گے۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستی رشتوں کو منظوری فراہم کر ہندوستانی سماج کو پیغام دیا ہے کہ وہ دوستی کی جنسی علامت والے بھی احترام اور عزت سے جینے کے مجاز ہیں لیکن سماج کے اس حصے کا نظریہ بدلنے میں وقت لگے گا جو الگ جنسی برتاؤ کرنے والوں سے اپنے سے دوری بنانے اور ان کو عام انسان منافی مانتا چلا آرہا ہے۔ شاید انہیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ الگ جنسی برتاؤ والے بھی انسان ہیں اور انہیں اپنی پسند کے حسا سے زندگی جینے کا حق ہے۔ ہمارے مذاہب میں اس طرح کے رشتوں کو اچھا نہیں مانا گیا۔ یہاں تک کہ قرآن شریف میں تو اس پر پابندی ہے لیکن وقت اور حالات بدلتے ہیں اور سماج کو بھی اس کے مطابق بدلنا پڑتا ہے۔ اپنے اس تاریخی اور دور رس نتیجے والے فیصلہ میں چیف جسٹس دیپک مشرا نے کہا کہ ہر بادل میں اندردھنش تلاش کیا جانا چاہئے۔ ان لوگوں کو شخصی پسند کی اجازت دی جانی چاہئے۔ ایل جی بی ٹی کے پاس بھی عام شہروں کے برابر حق ہیں۔ (اندردھنش ،جھنڈا) ایل جی وی ٹی کی علامت ہے۔ جسٹس وائی چندرچوڑ نے کہا کہ دفعہ 377 کے سبب ایل جی وی ٹی فرقے کا استحصال کیا جاتا ہے۔ ان کو بھی آئینی حق ہے۔ ہم تاریخ کو نہیں بدل سکتے لیکن بہتر مستقبل کے لئے راستہ نکال سکتے ہیں۔ وہیں جسٹس اندو ملہوترہ کا کہنا تھا تاریخ میں ایل جی وی ٹی فرقہ سے ان کی اذیت کے لئے معافی مانگنی چاہئے۔ یہ فرقہ ڈر کے سائے میں جینے کو مجبور تھا۔ انہیں جرم کے بوجھ سے نجات پا کر زندگی کا حق ہے۔ جسٹس نریمن نے کہا ہم جنس پرستی بیماری نہیں ہے بلکہ فطری دین ہے۔ سرکار اس فیصلہ کو ٹھیک طریقے سے سمجھائے تاکہ ایل جی وی ٹی فرقہ کو چھل پرست نہ سمجھا جائے۔ پارلیمنٹ کے ذریعے پاس ایکٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ ہم جنس پرستی دماغی وبا نہیں ہے۔ وہیں آر ایس ایس کے میڈیا چیف ارون کمار کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس جنس پرستی کو جرم نہیں مانتی لیکن ایک لنگ کے دو لوگوں کی عادت کی ہم حمایت نہیں کرتے۔ حقیقت میں ہندوستانی سماج اتنی وراثت والا ہے کہ اس نے کبھی جنسی رجحانوں کی بنیاد پر سماج میں سزا کی کوئی سہولت نہیں طے کی۔ اس لئے اپنی حقیقتوں کو بھول کر دقیانوسی اقدار میں جینے والے ہندوستانی سماج کے لئے سپریم کورٹ کے اس فراخدلانہ اور ترقی پسند فیصلہ کو قبول کرکے اس کے مطابق آزادی کا مطلب سمجھانے کی چنوتی ہے جو ایسے رشتوں کے مخالف ہیں انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ الگ جنسی برتاؤ والے بھی انسان ہیں اور اپنی پسند کے حساب سے انہیں اپنی زندگی جینے کا پورا حق ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہمارا سماج کتنا بدلنے اور اسے سمجھنے کو تیار ہے؟
(انل نریندر)

09 ستمبر 2018

پالیسیاں نہیں بدلیں تو سرکار بدل دی جائے گی

دیش بھر سے بڑی تعداد میں دہلی پہنچے کسانوں اور مزدوروں نے بدھوار کو مرکزی حکومت کو کسان دہاڑی پالیسیوں کو بدلنے کی دو ٹوک چیتاونی دے دی ہے۔سیٹو کے بینر تلے لیفٹ حمایتی ریلی میں بدھوار کو پاس ریزولیشن میں مرکزی سرکار سے کسانوں اور مزدوروں کے مفادات کو بری طرح سے متاثر کررہی پالیسیوں کو بدلنے کی اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ اگر مرکزی حکومت نے پالیسیاں نہیں بدلیں تو سرکار بدل دی جائے گی۔ مزدور کسان سنگھرش ریلی رام لیلا میدان سے شروع ہوئی اور قریب ڈیڑھ گھنٹے بعد یہ پد یاترا پارلیمنٹ اسٹیٹ پر جاکر ختم ہوئی۔ مزدور انجمنوں نے جاری میمورنڈم میں کہا کہ روزمرہ کی چیزوں کی بے لگام قیمتوں ،غذائی اجناس کا تقسیم و نظام تباہ ہوتا اور روز گار سمٹتے دائرہ سے کسان مزدور کے لئے 18 ہزار روپے ماہانہ کم از کم محنتانہ یقینی کرنے ، لیبر قوانین میں مزدور مخالف پالیسیوں میں تبدیلی نہیں کرنے، کسانوں کے لئے سوابھیمان کمیٹی کی سفارشیں لاگو کرنے اور کھیتی مزدوروں اور کسانوں کا قرض معاف کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔ پارلیمنٹ مارگ پر منعقدہ ریلی کو خطاب کرتے ہوئے کسان سبھا کے نیتا تپن سنہا نے کہا کہ سماج کے سبھی طبقوں میں ناراضگی مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔ مرکزی سرکار کی غلط اقتصادی پالیسیوں کے سبب پورے دیش میں ناراضگی ہے۔ دیش کے سبھی طبقے کسی نہ کسی مسئلہ کو لیکر پریشان ہیں۔ کسانوں کی خودکشیوں کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے سبب آج ہزاروں صنعتیں بند ہوچکی ہیں اور ان میں کام کرنے والے ہزاروں لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں۔ مزدور اپنے شہروں کومجبوری میں چھوڑنے لگے ہیں۔ کرپشن کا بول بالا ہے۔ بڑے عہدوں پر بیٹھے نیتا ،افسر سبھی کرپشن میں ملوث ہیں۔ پیٹرول۔ ڈیزل کے بڑھتے دام نے مہنگائی کو ریکارڈ سطح تک پہنچا دیا ہے۔ سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ یہ سرکار ان کی کسی بھی بات یا مسئلہ کو سننے کو تیار نہیں ہے۔ غرور اتنا بڑھ گیا ہے کہ آج یہ چاہے وہ معمولی ورکر ہو یا سرکاری ملازم ہو سب اس سرکار سے کٹتے جارہے ہیں۔ کسان دیش کا ان داتا ہے اگر دیش کا یہ ان داتا مطمئن نہیں ہے تو دیش میں خوشحالی کیسے آئے گی۔ بینکوں میں مٹھی بھر لوگوں کے ذریعے لوٹ رکنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ بینکوں میں ایم پی اے مسلسل بڑھتا جارہا ہے۔ آج بینکوں میں جنتا کی گاڑھی کمائی کا پیسہ محفوظ نہیں ہے۔ بینکوں کی دھاندلی دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ کل ملاکر آج چاہے وہ کسان ہو یا مزدور ہو سبھی سرکار کی پالیسیوں سے پریشان ہیں۔ جہاں تک سرکار کا سوال ہے وہ ان کو اس لئے نظرانداز کرتی ہے کیونکہ وہ سمجھتی ہے کہ آج کی تاریخ میں جنتا کے پاس کوئی متبادل نہیں ہے۔ مجبوری میں اسے اس کے دروازہ کو کھٹکھٹانا پڑے گا۔
(انل نریندر)

اب پورا دھیان ٹوکیو اولمپک پر ہونا چاہئے

انڈونیشیا کی راجدھانی جکارتہ میں ختم ہوئے ایشیائی گیمس بھارت کے لئے قابل قدر رہے کیونکہ جہاں کل تمغوں کے لحاظ سے یہ ہماری شاندار کارکردگی رہی وہیں گولڈ میڈلوں کے معاملہ میں ہم نے 1951 کی اپنی شاندار پرفارمینس کی برابری کی تھی۔ بھارت نے اس بار 15 گولڈ اور 24 سلور وغیرہ سمیت69 میڈل جیتے ہیں۔ اس سے پہلے سب سے زیادہ میڈل جیتنے کا ریکارڈ 2010 میں گوانگچھو کھیلوں میں 65 میڈل کا ریکارڈ تھا۔ ان 15 گولڈ میڈل جیتنے میں ہمیں 67 سال لگ گئے ہیں۔ ان کھیلوں سے دو مثبت پہلو سامنے آئے ہیں پہلا ہندوستانی پرفارمینس کا آگے بڑھتا ٹرینڈ اور دوسرا اس بار نوجوان کھلاڑیوں نے مورچہ سنبھال کر دیش کو اس مقام تک پہنچایا ہے۔ان کھیلوں میں بھارت کی شاندار پرفارمینس ایتھلیٹ میں رہی ،جہاں ہمارے کھلاڑیوں نے 7 گولڈ سمیت19 میڈل جیتے ہیں۔ ایسے ہی نشانے بازی میں دو گولڈ سمیت 9 میڈل ہماری جھولی میں آئے۔ حالانکہ ناکامیاں بھی کم نہیں رہیں جیسے کبڈی میں ہماری بادشاہت ایران نے چھین لی ہے۔ کشتی میں دو بار اولمپک میں میڈل جیتنے والے پہلوان سشیل کمار پہلے ہی راؤنڈ میں باہر ہوگئے۔ مردوں کی ہاکی میں تمام لیگ میچ جیتنے کے بعد وہ بھی ریکارڈ گولوں سے ہم فائنل تک نہیں پہنچ پائے اور تانبے سے ہی تسلی کرنی پڑی۔مہلا ہاکی ٹیم نے شاندار پرفارمینس دکھائی لیکن فائنل میں جاپان کے ہاتھوں ہارنے سے افسوس ہوا کیونکہ گوانگچھو کے ایشن گیمس میں بھارت کی بہتر پرفارمینس کا اثر دو سال بعد ہوئے اولمپک میں دکھائی دیا۔ ایسے میں جکارتہ میں قابل قدر پرفارمینس کی چھاپ دو سال بعد ہونے والے ٹوکیو اولمپک میں دکھائی دینے کی امید رکھنی چاہئے۔ بھارت نے اس بار 20-22 ایسے کھیلوں میں قریب 228 کھلاڑی بھیجے۔ یہاں تک ایک بھی میڈل نہیں ملا۔ اس معاملہ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ بھارت سے کئی چھوٹے ملکوں نے ہم سے زیادہ میڈل جیتنے میں کامیابی پائی؟ چین کی بات چھوڑدیں تو جاپان، ساؤتھ کوریا، انڈونیشیا، ازبکستان، ایران اور چین ، تائپے نے ہمارے سے زیادہ میڈل جیتے ہیں۔ میڈل ٹیلی میں بھارت کا 8 واں مقام رہا۔ اگر یہ دیش کھیل کی دنیا میں اتنا شاندار کھیل دکھا سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں کرسکتے؟ فرق صرف سہولیات میں ہے، ٹیلنٹ ہمارے پاس بھی ہے لیکن ہمیں درکار سہولت کی کمی ہے۔ زیادہ تر میڈل جیتنے والوں کی اپنی خود کی اہلیت اورٹریننگ تھی جس کی وجہ سے وہ یہ میڈل جیتے۔ ٹیم میں یکسوئی کی کمی ہے۔ سرکار اور کھیل فیڈریشنوں کو اس طرف خاص توجہ دینی ہوگی۔ ابھی سے ٹوکیو اولمپک کی تیاری میں لگ جانا چاہئے۔ ان ہونہار کھلاڑیوں کو پوری سہولیت ملنی چاہئے۔ جیتنے والے سبھی کھلاڑیوں کو بدھائی۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...