Translater

17 اکتوبر 2020

بالی ووڈ کو بدنا م کرنے سے ٹی وی چینلوں کو روکو!

بالی ووڈ کو گندا میلا اور نشے کا اڈا بتانے والے کچھ نیوز چینلوں کے ساتھ دہلی ہائی کورٹ میں فلم سازوں نے ایک اپیل دائر کی ہے یہ چاربالی ووڈ کی چار انجمنوں اور 34بالی ووڈ پروڈیوسروں کی طرف سے اپیل میں کہا گیا ہے کہ بالی ووڈ کے خلاف غیر ذمہ دارنہ وتوہین آمیز خبریں دکھانے اور کئی مسئلوں پر فلمی دنیا سے وابستہ لوگوں کے خلاف میڈیا ٹرائل روکنے کی درخواست کی مانگ کی گئی ہے پیر کو ٹیلی ویژن نیوز چینل ریپبلک ٹی وی ،ٹائمس ناو¿ کے خلاف دہلی ہائی کور ٹ کا رخ کیا ۔ انہوں نے مختف اشو پر ٹی وی چینلوں پر ان کے انجمنوں کے ممبروں کا میڈیا ٹرائل روکا جائے ان فلم ہستیوں میں شاہ رخ خان ،سلمان خان ،عامر خان ،کرن جوہر ،اور روہت سیٹی جیسے سرکردہ جیسے فلم ستاروں کے پروڈیکشن ہاو¿س کے نام شامل ہیں ۔ اد اکار شوشانت سنگھ راجپوت کے خودکشی کے بعد سے ہندوستانی فلم صنعت کے کئی اداکار نشیلی چیزوں اور دیگر معاملوں میں ٹی وی نیوز میں نشانے پر لئے جارہے ہیں ۔ چاروفلم انڈیسٹری انجمنوں اور فلم سازوں کے ذریعے دائر مقدمے فلم انڈسٹری سے جڑے افراد کے راز کے حق میں مداخلت کرنے سے بھی انہیں روکے جانے کی درخواست کی گئی ہے ۔ ریپبلک ٹی وی اور اس کے چیف ایڈیٹر ارنب گوسوامی اور پترکار پردیپ بھنڈاری اور ٹائمس ناو¿ کے چیف ایڈیٹر راہل سیو شنکر اور گروپ ایڈیٹر نویتا کمار سمیت نامعلوم فریقوں کے ساتھ شوشل میڈیا اسٹیج کو بالی ووڈ کے خلاف غیر ذمہ دارانہ اور توہین آمیز کمینٹ کرنے یا شائع کرنے بچنے سے متعلق حکم دینے کی درخواست کی گئی ہے ۔یہ چینل بالی ووڈ کےلئے انتہائی توہین آمیز الفاظ اور گالیوں جیسے گندا ،میلا ،ڈرگی ،نشیڑی کا استعمال کررہے ہیں ۔ یہ بالی ووڈ ہے جہاں گندی کو صاف کرنے کی ضرور ت ہے بالی ووڈ کی بدبو کو دور نہیں کرسکتے یہ دیش کی سب سے گندگی صنعت ہے اگر یہ چینل ان الفاظ کا استعمال کررہے ہیں ان پر فوراًروک لگنی چاہئے ۔ (انل نریندر)

آپ کی بیٹی ہوتی تو کیایوںہی انتم سنسکار کردیتے!

ہاتھرس کے چندپا علاقے کے ایک گاو¿ں میں ایک بیٹی کے ساتھ ہوئی درندگی اور اس کے قتل کے معاملے میں الہٰ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو¿بینچ نے کہا کہ اے ڈی جے پرشانت کمار بد فعلی قانون میں ترمیم کے بارے میں جانتے ہیں پھر بھی انہوں نے سیمن ناملنے والی فورنسک رپورٹ کی بنیاد پر بد فعلی نا ہونے کا بیان دیا ہم نے ان سے یہ سوال اس لئے کیا تھا کیونکہ وہ قانون و نظم اور ڈی ایم نے جانچ سے سیدھے نا جڑے ہونے کے باوجود رپورٹ کے حوالے سے پبلک تبصرہ کیا تھا بنچ کا کہنا تھا اے ڈی جے قانون و نظام کے بارے میں بتایا تھا کہ ہاتھرس انتظامیہ نے مزید سیکورٹی فورس نہیں مانگی تھی اگر مانگ کرتے تو انہیںمہیا کرائی جاتی ہائی کورٹ نے سوال کیا کہ ہاتھرس کے ایس پی کو معتل کردیا گیا اور ڈی ایم کو کیوں وہاں برقرار رکھا تھا؟ عدالت نے مزید نے کہ ہم ریاستی حکومت سے امید کرتے ہیں کہ وہ منصفانہ فیصلہ لیں گے ۔ عدالت میں موجود اپر چیف سیکریٹری ہوم اونیش اوستھی سے پوچھا کہ موجودہ حالات میں جب کی انتم سنسکار کے معاملے میں ڈی ایم کا ایک رول تھا ۔ ایسے میں کیا انہیں ہاتھرس میں ڈیوٹی پر لگائے رکھنا مناسب ہے؟ متاثرہ کے خاندان ، اپر چیف سیکریٹری ،ڈی جی پی ،اے ڈی جے قانون و نظام اور ہاتھرس کے ڈی ایم پروین کمار سے مفصل بات چیت سننے کے بعد عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ دلائل سے ثابت لگتا ہے کہ متوفی کا چہرہ دکھانے کے پریوار والوں کی درخواست پر انتظامیہ نے صاف طور سے انکار نہیں کیا ہوگا۔ معاملہ کا خود نوٹس لیتے ہوئے عدالت نے تمام معاملے سے متعلقہ تمام افسروں کو عدالت میں طلب کیا تھا ان کے علاوہ متاثرہ کے خاندان کے پانچ لوگوں کو بھی بلایا تھا اور عدالت نے یوپی سرکار کو متاثرہ کے خاندان کی مرضی کے بغیر تمام معاملوں پر جم پر پھٹکار لگائی جج صاحب نے ڈی ایم اور اے ڈی جے کو پھٹکار لگاتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کی بیٹی ہوتی تو کیا آپ یوں ہی انتم سنسکار کردیتے ؟اور متاثرہ کا انتم سنسکار ایسے کیوں کیا گیا ؟ اسے لیکر یوپی حکومت کوئی تسلی بخش جواب نہ دے پائی اور معاملے کی سماعت پھر دو نومبر کو مقرر کرتے ہوئے سبھی کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہاتھرس کانڈ کی متاثرہ لڑکی کے خانداد کے ساتھ مشہور وکیل سیما کشواہا نے ہائی کورٹ میں تمام دلیلں رکھی عدالت نے مانا یہ اہم ایشو ہے جو پولس یا سی بی آئی کی طرف سے اس معاملے کو مجرمانہ جانچ سے ہمارے سامنے آیا ہے کہ کیا گھر والوں کو چہرہ دکھائے بنا رات میں انتم سنسکار کرنا آئین کی دفع 21اور 25کے تحت بنیادہ یا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ؟ اگر ایسا ہے تو اس کا قصور وار کون ہے؟اس کے لئے متاثرہ کے خاندان کے اس نقصان کی کیسے تلافی ہوسکتی ہے ؟اس معاملے میں ہماری پریشانی کی دو وجہیں ہیں پہلی کیا متوفی اور اس کے گھر والوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے؟ دوسرا اس معاملے کا اہم ایشو ان حقوق سے وابستہ ہے جو سبھی شہریوں کو ملے ہوئے ہیں اور اس سے بھی دست یاب ہیں تاکہ انمول آئینی حقوق سے نا تو سمجھوتا کیا جائے نا ہی ذرہ بھر فیصلوں میں انہیں دبایا جائے ۔ (انل نریندر)

16 اکتوبر 2020

بالی ووڈ کو بدنا م کرنے سے ٹی وی چینلوں کو روکو!

بالی ووڈ کو گندا میلا اور نشے کا اڈا بتانے والے کچھ نیوز چینلوں کے ساتھ دہلی ہائی کورٹ میں فلم سازوں نے ایک اپیل دائر کی ہے یہ چاربالی ووڈ کی چار انجمنوں اور 34بالی ووڈ پروڈیوسروں کی طرف سے اپیل میں کہا گیا ہے کہ بالی ووڈ کے خلاف غیر ذمہ دارنہ وتوہین آمیز خبریں دکھانے اور کئی مسئلوں پر فلمی دنیا سے وابستہ لوگوں کے خلاف میڈیا ٹرائل روکنے کی درخواست کی مانگ کی گئی ہے پیر کو ٹیلی ویژن نیوز چینل ریپبلک ٹی وی ،ٹائمس ناو¿ کے خلاف دہلی ہائی کور ٹ کا رخ کیا ۔ انہوں نے مختف اشو پر ٹی وی چینلوں پر ان کے انجمنوں کے ممبروں کا میڈیا ٹرائل روکا جائے ان فلم ہستیوں میں شاہ رخ خان ،سلمان خان ،عامر خان ،کرن جوہر ،اور روہت سیٹی جیسے سرکردہ جیسے فلم ستاروں کے پروڈیکشن ہاو¿س کے نام شامل ہیں ۔ اد اکار شوشانت سنگھ راجپوت کے خودکشی کے بعد سے ہندوستانی فلم صنعت کے کئی اداکار نشیلی چیزوں اور دیگر معاملوں میں ٹی وی نیوز میں نشانے پر لئے جارہے ہیں ۔ چاروفلم انڈیسٹری انجمنوں اور فلم سازوں کے ذریعے دائر مقدمے فلم انڈسٹری سے جڑے افراد کے راز کے حق میں مداخلت کرنے سے بھی انہیں روکے جانے کی درخواست کی گئی ہے ۔ ریپبلک ٹی وی اور اس کے چیف ایڈیٹر ارنب گوسوامی اور پترکار پردیپ بھنڈاری اور ٹائمس ناو¿ کے چیف ایڈیٹر راہل سیو شنکر اور گروپ ایڈیٹر نویتا کمار سمیت نامعلوم فریقوں کے ساتھ شوشل میڈیا اسٹیج کو بالی ووڈ کے خلاف غیر ذمہ دارانہ اور توہین آمیز کمینٹ کرنے یا شائع کرنے بچنے سے متعلق حکم دینے کی درخواست کی گئی ہے ۔یہ چینل بالی ووڈ کےلئے انتہائی توہین آمیز الفاظ اور گالیوں جیسے گندا ،میلا ،ڈرگی ،نشیڑی کا استعمال کررہے ہیں ۔ یہ بالی ووڈ ہے جہاں گندی کو صاف کرنے کی ضرور ت ہے بالی ووڈ کی بدبو کو دور نہیں کرسکتے یہ دیش کی سب سے گندگی صنعت ہے اگر یہ چینل ان الفاظ کا استعمال کررہے ہیں ان پر فوراًروک لگنی چاہئے ۔ (انل نریندر)

آپ کی بیٹی ہوتی تو کیایوںہی انتم سنسکار کردیتے!

ہاتھرس کے چندپا علاقے کے ایک گاو¿ں میں ایک بیٹی کے ساتھ ہوئی درندگی اور اس کے قتل کے معاملے میں الہٰ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو¿بینچ نے کہا کہ اے ڈی جے پرشانت کمار بد فعلی قانون میں ترمیم کے بارے میں جانتے ہیں پھر بھی انہوں نے سیمن ناملنے والی فورنسک رپورٹ کی بنیاد پر بد فعلی نا ہونے کا بیان دیا ہم نے ان سے یہ سوال اس لئے کیا تھا کیونکہ وہ قانون و نظم اور ڈی ایم نے جانچ سے سیدھے نا جڑے ہونے کے باوجود رپورٹ کے حوالے سے پبلک تبصرہ کیا تھا بنچ کا کہنا تھا اے ڈی جے قانون و نظام کے بارے میں بتایا تھا کہ ہاتھرس انتظامیہ نے مزید سیکورٹی فورس نہیں مانگی تھی اگر مانگ کرتے تو انہیںمہیا کرائی جاتی ہائی کورٹ نے سوال کیا کہ ہاتھرس کے ایس پی کو معتل کردیا گیا اور ڈی ایم کو کیوں وہاں برقرار رکھا تھا؟ عدالت نے مزید نے کہ ہم ریاستی حکومت سے امید کرتے ہیں کہ وہ منصفانہ فیصلہ لیں گے ۔ عدالت میں موجود اپر چیف سیکریٹری ہوم اونیش اوستھی سے پوچھا کہ موجودہ حالات میں جب کی انتم سنسکار کے معاملے میں ڈی ایم کا ایک رول تھا ۔ ایسے میں کیا انہیں ہاتھرس میں ڈیوٹی پر لگائے رکھنا مناسب ہے؟ متاثرہ کے خاندان ، اپر چیف سیکریٹری ،ڈی جی پی ،اے ڈی جے قانون و نظام اور ہاتھرس کے ڈی ایم پروین کمار سے مفصل بات چیت سننے کے بعد عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ دلائل سے ثابت لگتا ہے کہ متوفی کا چہرہ دکھانے کے پریوار والوں کی درخواست پر انتظامیہ نے صاف طور سے انکار نہیں کیا ہوگا۔ معاملہ کا خود نوٹس لیتے ہوئے عدالت نے تمام معاملے سے متعلقہ تمام افسروں کو عدالت میں طلب کیا تھا ان کے علاوہ متاثرہ کے خاندان کے پانچ لوگوں کو بھی بلایا تھا اور عدالت نے یوپی سرکار کو متاثرہ کے خاندان کی مرضی کے بغیر تمام معاملوں پر جم پر پھٹکار لگائی جج صاحب نے ڈی ایم اور اے ڈی جے کو پھٹکار لگاتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کی بیٹی ہوتی تو کیا آپ یوں ہی انتم سنسکار کردیتے ؟اور متاثرہ کا انتم سنسکار ایسے کیوں کیا گیا ؟ اسے لیکر یوپی حکومت کوئی تسلی بخش جواب نہ دے پائی اور معاملے کی سماعت پھر دو نومبر کو مقرر کرتے ہوئے سبھی کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہاتھرس کانڈ کی متاثرہ لڑکی کے خانداد کے ساتھ مشہور وکیل سیما کشواہا نے ہائی کورٹ میں تمام دلیلں رکھی عدالت نے مانا یہ اہم ایشو ہے جو پولس یا سی بی آئی کی طرف سے اس معاملے کو مجرمانہ جانچ سے ہمارے سامنے آیا ہے کہ کیا گھر والوں کو چہرہ دکھائے بنا رات میں انتم سنسکار کرنا آئین کی دفع 21اور 25کے تحت بنیادہ یا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ؟ اگر ایسا ہے تو اس کا قصور وار کون ہے؟اس کے لئے متاثرہ کے خاندان کے اس نقصان کی کیسے تلافی ہوسکتی ہے ؟اس معاملے میں ہماری پریشانی کی دو وجہیں ہیں پہلی کیا متوفی اور اس کے گھر والوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے؟ دوسرا اس معاملے کا اہم ایشو ان حقوق سے وابستہ ہے جو سبھی شہریوں کو ملے ہوئے ہیں اور اس سے بھی دست یاب ہیں تاکہ انمول آئینی حقوق سے نا تو سمجھوتا کیا جائے نا ہی ذرہ بھر فیصلوں میں انہیں دبایا جائے ۔ (انل نریندر)

15 اکتوبر 2020

کورونا وائرس بھی پریشان ،جنہیں نہیں ہوا وہ بھی تناو ¿ میں!

کووڈ وائرس اور بغیر کووڈ انفیکشن دونوں طرح کے لوگوں میں ذہنی تناو¿ بڑھتا جارہا ہے ۔جن کو کووڈ ہو گیا ہے وہ بھی فکر مند ہیں اور جنہیں نہیں ہوا وہ بھی اب تک تعجب کی بات یہ ہے کہ انفیکشن ہونے کے بعدتناو¿ میں جارہے ہیں تو دوسرے بغیر انفیکشن کے صرف یہ سوچ کر اس بیماری میں سن کر سوچ کر پریشان ہو جاتے ہیں ان کی زندگی ذہنی کشیدگی میں مبتلا ہو جاتی ہے ایسے کئی معاملے سائکیٹرک اور سائیکولوجسٹ کے سامنے تیزی سے آرہے ہیں کورونا سے متاثر لوگوں میں ذہنی نوعیت پوری طرح سے متاثر ہو رہی ہے کورونا پازیٹو رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ میریض ڈپریشن میں جارہے ہیں ایمس کے ڈاکٹروں کے ذریعے کی گئی ایک اسٹڈی میں کورونا سے متاثر 21فیصدی مریض ڈپریشن میں پائے گئے وہیں 22.8فیصدی مریض کشیدگی میں ہیں ایمس کے ڈاکٹر کہتے ہیں کہ ذہنی دباو¿ اور ڈپریشن میں گئے مریضوں کا علاج چیلنج بنا دیتا ہے ۔ایمس کے ڈاکٹروں نے 461مریضوں پر یہ اسٹڈی کی ہے جنہیں کورونا ہونے پر علاج کے لئے اسپتال میں بھرتی کیاگیا تھا ۔ایمس کے ڈاکٹروں کا یہ بھی کہنا تھا کہ گھر میں آئی سیولیشن میں رہ رہے مریضوں کو ذہنی پریشانی ہونے پرعلاج زیادہ مشکل ہوتاہے کیوں کہ سائیکلولجسٹ ہر جگہ نہیں ملتے اس لئے ذہنی دباو¿ اور ڈپریشن سے بچنے کے لئے ہوم آئی سیولیشن میںرہنے والے مریضوں کی سانس سے جڑی ورزش کرنی چاہیے اس کشیدگی سے تناو¿ دور ہوتا ہے سائیکلوجسٹ ڈاکٹر راگنی سنگھ نے بتایا کہ سنیچر کو ورلڈ ہیلتھ ڈے تھا ہم سبھی جانتے ہیں کووڈ وبا نے کس طرح کے لوگوں کی زندگی تباہ کر دی ہے ایک طرف بیماری کا ڈر تو دوسری طرف زندگی کو پھر سے پٹری پر لانے کی چنوتی ایسے میںپورے دیش میں ڈیڑ ھ لاکھ سے دو لاکھ مریضوں میں ایک سائیکلوجسٹ یا سائیکیٹرک ہیں ایسے میں پریشانی کی بات یہ ہے کہ ان لوگوں کا علاج ممکن نہیں ہے بڑے شہروں میں تو ایسی پریشانی کا علاج مل رہا ہے ۔وہیں ڈاکٹرثمیر پاریکھ کا کہنا ہے کہ کووڈ وبا ایسی بیماری ہے جس کو لیکر خوف ہونافطری ہے یہاں تال میل بٹھانا ضروری ہے ۔بغیر وجہ ایسی فکر نہیں کرنی چاہیے ہمارا مشورہ تو یہ ہے مست رہو جب کورونا ہوگا تب دیکھا جائیگا۔ویسے بھی اب کورونا متاثرین کے ٹھیک ہونے کی تعداد بڑھ رہی ہے ہوگا بھی تو ٹھیک ہو جائیگا۔انگریزی میںکہاوت ہے” کروس دی برجی ایس بھین ٹویو کم ٹو اٹ“۔ (انل نریندر )

اظہارِ رائے کی آزادی کا بیجا استعمال!

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی حالیہ دنوں میں سب سے زیادہ بیجا استمال ہونے والا حق مان لیا گیاہے ۔بڑی عدالت نے یہ سخت تبصرہ جمعرات کو تبلیغی جماعت سے وابسطہ ایک عرضی پر سماعت کے دوران کیا دہلی کے نظام الدین میں واقع مرکز میں کورونا پابندی کی خلاف ورزی کر منعقد تبلیغی جماعت کے اجتماع کی میڈیا رپورٹنگ کے متعلق معاملہ میں یہ ریمارکس کسے ایک سینئر افسر کے ذریعے عدالت میں جواب داخل کرنے کے لئے سپریم کورٹ نے مرکزی سرکار کی بھی کھینچائی کی ہے اور اس کے جواب کوانتہائی جارحانہ اور بے شرمی سے بھرا قرار دیا ۔چیف جسٹس شرد اروند بووڑے جسٹس اے ایس بوپنہ و جسٹس بی سبرا منیم کی سربراہی والی بنچ نے کہا عدالت سب سے زیادہ بیجا استعمال اظہار رائے آزادی کا ہو رہا ہے ۔مرکز نظام الدین میں تبلیغی جماعت کے جلسہ کو لیکر نفرت پھیلانے کے لئے میڈیا کے خلاف کاروائی کئے جانے سے متعلق داخل عرضیوں پر عدالت نے یہ رائے زنی کی واضح ہو اس سال مارچ میں تبلیغی جلسہ کو لیکر خاصہ تنازعہ کھڑا ہواتھا اور اسے کورونا وائرس پھیلانے کا قصوروار ٹھہرایا گیا تھا اس وجہ سے دیش کے مختلف حصوں سے آئے تبلیغی جلسہ میں شامل ہوئے کچھ لوگوں کو وائرس انفیکشن ہواتھا ۔سپریم کورٹ میں جماعت کے بارے میں میڈیا کی رپورٹنگ کو نفرت پھیلانے والی بتاتے ہوئے یہ عرضیاں جمیعة علمائے ہند اور کچھ دیگر انجمنوں نے دائر کی تھیں ۔مرکز نے اس معاملے میں میڈیا کا بچاو¿ کیا اور دلیل دی کہ اسے خراب رپورٹنگ کا کوئی معاملہ نہیں دکھا اس حلف نامہ پر سپریم کورٹ نے مرکز کی خاصی کھچائی کی اور کہا کہ ہمیں خراب رپورٹنگ کی تفصیلات بتانی ہوں گی اور یہ بھی کہ کیا کاروائی کی گئی بنچ نے سولیسیٹر جنرل تشار مہتا کو ہدایت دی کہ سرکار کی طرف سے نیا جوابی حلف نامہ وزارت اطلاعات و نشریات کے سکریٹری خود داخل کریں جس میں کوئی غیر ضروری اور بے تکی بات نہ ہو ۔معاملے کی اگلی سماعت دو ہفتہ کے بعد ہونے کا حکم دیتے ہوئے ناراض چیف جسٹس نے مرکزی حکومت کے وکیل سے سوال کیا کہ آپ عدالت کے اس ساتھ اس طریقہ سے سلوک نہیں کر سکتے جیسے آپ نے کیا ہے کسی ماتحت افسر نے حلف نامہ داخل کیا ہے اور یہ بچکانہ ہے ۔آپ بھلے ہی متفق نا ہوں لیکن آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ آپ کو خراب رپورٹنگ کا کوئی معاملہ نہیں دکھائی دیا ان کا کہنا ہے انفورمیشن سکریٹری کو بتانا ہوگا کہ عرضی گزار نے جن دفعات کی طرف اشارہ کیا ہے وہ ان کے بارے میں کیاسوچتے ہیں ؟ ہمیں تو سرکار کی طرف سے داخل حلف نامہ جواب دہی سے بچنے کی کوشش لگتا ہے ۔نفرت پھیلانے والے کچھ ٹی وی چینلوں کے بارے میں عرضی گزاروںکے الزامات پر حلف نامہ میں کوئی صفائی نہیں دی گئی ہے ۔بنچ نے سماعت کے دوران کہا صرف تیلی ویزن نیٹ ورک ایکٹ 1995اور اس کی دفعہ 20کے تحت مفاد عامہ میں کیبل ٹی وی پر پابندی لگائی جا سکتی ہے اس میں کیا سرکار کے پاس ٹی وی سگنلوں پر پابندی لگانے کا اختیار ہے ؟ (انل نریندر)

14 اکتوبر 2020

کورونا مریضوں کی سیوا میں جان کی بازی لگا دی !

کورونا یودھا محمد عارف (55سالہ )آخری دم تک کورونا مریضوں کی سیوا میں لگے رہے طبیعت خراب ہونے کے ایک دن پہلے وہ اسپتا ل میں مریضوں کی لاشیں لیکر آئے تھے اس کے اگلے دن ان کی طبیعت خراب ہونے پر انہیں ہندوراو¿اسپتال میں بھرتی کرایا گیا لیکن اگلے ہی دن سنیچر کو ان کی موت ہوگئی کورونا مریضوں کی خدمت کے خاطر اپنے گھر بھی نہیں جاتے تھے ۔گھر پر آئے تو باہر سے ہی گھر والوں کی خیریت جان کر ہی ڈیوٹی پر چلے جاتے تھے عارف کی موت سے ان کی بیگم سلطانہ بیگم کا شوہر کی موت پر رو رو کر برا حال ہے عارف پچھلی تین دھائی سے شہید بھگت سنگھ سیوا دل میں بطور ڈرائیور لگے تھے وہ خاندان میں ایکلوتے کمانے والے فرد تھے ان کا پریوار ویلکم لوہا منڈی میں کرائے پر رہتاہے اس کا کرایہ 9ہزار روپئے بتایا جاتا ہے عارف صاحب کے بڑے بیٹے عاصف نے بتایا کورونا وبا سے پہلے ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد گھر آجاتے تھے لیکن کورونا وباءکے دوران وہ کورونا لاشوں کو شمشان گھاٹ یا قبرستان پہونچانے میں لگے رہتے تھے اور مصروفیت کے سبب گھر بھی کئی کئی دن نہیں جاپاتے تھے اپنی موت سے کچھ دن پہلے وہ ہندوراو¿ اسپتال سے کورونا سے ہوئی مریض موت کی لاش لیکر آئے تھے اور ڈیوٹی ختم کرنے کے بعد شہید بھگت سنگھ سیوا دل کی پارکنگ میں ہی سو جاتے تھے کیونکہ انہیں پتا تھا رات بے رات ان کو ڈیوٹی پر لگا دیا جائے بہر حال سنیچر کی صبح کورونا کی وجہ سے موت ہوگئی سیوا دل کے بانی جتیندر سیٹی نے بتایا کی عارف پوری ایمانداری اور لگن کے جذبے سے اپنی ڈیوٹی کررہے تھے اور عارف خود باڈی اٹھانے سے لیکر انتم سنسکار کرنے تک ہر کام پوری ایمانداری سے کر رہے تھے ۔ ہم دہلی سرکار سے اپیل کرتے ہیں عارف کے خاندان کی مالی مدد کرے اور ان کو کورونا یودھا کا خطاب دیا جائے کیونکہ انہوں نے مریضوں کے خاطر اپنی جان تک کی بازی لگا دی اس سے بڑی سیوا اور کیا ہوسکتی ہے ۔ (انل نریندر)

ہندوراو ¿اسپتال !کارپوریشن اور دہلی سرکار کی لڑائی میں پستے ڈاکٹر و مریض!

ہندو راو¿ اسپتا ل انتظامیہ کی کوتاہی سرخیوں میں ہے لیکن اس کورونا دور میں ڈاکٹروں (کورونا یودھاو¿ں )کو چار مہینے سے تنخاہ نہیں مل سکی ہے اور اسپتال میں جہاں سیکورٹی سازوسامان جیسے ماسک ،سینیٹائزر اور پی پی سوٹ کی کافی قلت ہے ۔ جس وجہ سے بڑی تعداد میں اسپتال کے عملہ کے لوگ استعفہ دینے کے فراق میں ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کورونا دور میں اب تک 56سے زیادہ اور نرسنگ اسٹاف و دیگر کرمچاری کورونا کی گرفت میں آچکے ہیں اسپتال کے سینئر آفسر نے بتایا کہ در اصل ہندو راو¿ اسپتال میں 70فیصد ملازم ٹھیکے پر ہیں ان میں ڈاکٹر بھی شامل ہیں اب کورونا کے دور میں یہ لوگ نوکری چھوڑ رہے ہیں ۔ نارتھ دہلی کارپوریشن کے اس اسپتال میں اتوار کو ریزیڈینٹ ڈاکٹروں کی ہڑتال کی وجہ سے ایمرجنسی خدمات ٹپ پڑی ہے ہمیں سمجھ میں نہیں آتا اور نارتھ ایم سی ڈی کی لڑائی میں سب سے بڑے اسپتال کے عملے کو تنخاہ نہ ملنے کی وجہ سے ڈاکٹروں میں ناراضگی ہے اور وہ ہڑ تال پر ہیں اس درمیان دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین نے ایم سی ڈی کے کستورباگاندھی اور ہندو راو¿ اسپتالوں کے ڈاکٹروں کی ہڑتال کی دھمکی کو دیکھتے ہوئے دہلی سرکار کے اسپتالوں میں منتقل کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ وزیر صحت نے ایم سی ڈی سے کہا کہ اس کو تنخاہ جاری کرنی چاہئے ناتھ ایم سی ڈی کو فنڈ دینے کی جگہ دہلی سرکار سیاست کر رہی ہے ۔ یہ الزام ایم سی ڈی کے میئر جے پرکاش نے لگایاہے انہوں نے کہا جب اسپتال کوڈ اسپتال میں بدلاگیا تھا تب سے ہمیں کوئی پیسہ نہیں دیا گیا ہے اور ہم نے دہلی قدرتی آفت مینجمینٹ آتھارٹی کے ساتھ ملاقات میں بھی اس بات کو اٹھا یا تھا کہ ہندوراو¿اسپتال میں کورونا مریضوں کی تعداد کافی کم ہے جسے دیکھتے ہوئے کئی فیصلہ لینے کی ضرورت ہے اسپتال میں کورونا مریضوں کی کم تعداد کو دیکھتے ہوئے انہیں دہلی سرکار کے اسپتالوں میں منتقل کردیا جائے اور ہندو راو¿ اسپتال میں جنرل مریضوں کا علاج ہو بہر حال دہلی سرکار اور نارتھ ایم سی ڈی کی اس لڑائی میں ڈاکٹر مریض پس رہے ہیں ۔ بہرحال دہلی سرکار کو ہڑتالی ڈاکٹروں کو تنخواہ کے لئے پیسہ دینا چاہئے تاکہ ڈاکٹر و عملہ کام پر لوٹ سکے ۔ (انل نریندر)

ہاتھرس اور بین الاقوامی سازش ؟

حالانکہ اس نہ تو پختہ ثبوت ملے ہیں اور نہ ہی سرکاری طور پر اس کی تصدیق ہوئی ہے پولس جس تنظیم پی ایف آئی پر تشدد بھڑکانے اور شہریت ترمیم کے خلاف پچھلے دسمبر میں مظاہروں کےلئے بھی اس کو ذمہ دار کیا گیا تھا اور اس دوران 100لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ سیاسی ماہرین کہتے ہیں ہاتھرس میں جو کچھ ہوا ہے وہ انتظامیہ کی ناکامی اور غیر سنجیدگی کا نتیجہ ہے سپریم کورٹ نے اس ناکامی پر پردہ ڈالنے کے بارے میں جو حقائق دیئے ہیں وہ بے سر پیر کے ہیں ۔ کیونکہ انتظامیہ کی ناکامی آخر کار سرکار کی ہی ناکامی مانی جاتی ہے اس لئے اس پر پردہ ڈالنے اور اب بین الاقوامی سازش بتانے کی تیاری ہے ۔اتر پردیش کے علاقے ہاتھرس میں دلت لڑکی کے ساتھ ہوئے مبینہ آبرو ریزی اور پھر قتل کے معاملے میں لڑکی کے رشتے دار جوڈیشیل جانچ کی مانگ پر اڑے ہیں وہیں یوپی پولس اس واردات کو اتنا طول دینے کے پیچھے بین الاقوامی سازش بتا رہی ہے۔ الزام ہے کی ریاست میں نسلی اور فرقہ وارانہ دنگے کرانے اور وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ کو بد نام کرنے کے لئے بین الاقوامی سازش رچی گئی تھی ۔ہاتھرس کے معاملے میں ایک اور نئی ایف آئی آر درج کی گئی تھی جس میں کچھ نا معلوم افراد کے خلاف ملک کی بغاوت کی جیسی دفعات لگائی گئی ہیں اس معاملے میں چار لوگوں کو متھرا کو سے گرفتار کیا گیا جس میں ملیالم زبان کا ایک صحافی بھی شامل ہے اس معاملے میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی کہا تھا کہ ہمارے مخالف غیر ملکی پیسے کے ذریعے نسلی اور فرقہ وارانہ دنگوں کی بنیاد رکھ ہمارے خلاف سازش کررہے ہیں ۔ پولس نے ریاست بھر میں کم سے کم 19ایف آئی آر درج کی ہیں تقریبا 400لوگوں کے خلاف ملک کی بغاوت سازش ریاست میں امن بگاڑنے کی کوشش اور مذہبی نفرت کو بڑھاوا دینے جیسے الزامات لگائے گئے ہیں ۔ یہ بھی دعویٰ کیا جا رہاہے کہ نسلی اور فرقہ وارانوں دنگوں میں بدلنے کے لئے مورسس سے قریب 100کروڑ روپیہ آیا ہے حالانکہ اس نہ تو پختہ ثبوت ملے ہیں اور نہ ہی سرکاری طور پر اس کی تصدیق ہوئی ہے پولس جس تنظیم پی ایف آئی پر تشدد بھڑکانے اور شہریت ترمیم کے خلاف پچھلے دسمبر میں مظاہروں کےلئے بھی اس کو ذمہ دار کیا گیا تھا اور اس دوران 100لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ سیاسی ماہرین کہتے ہیں ہاتھرس میں جو کچھ ہوا ہے وہ انتظامیہ کی ناکامی اور غیر سنجیدگی کا نتیجہ ہے سپریم کورٹ نے اس ناکامی پر پردہ ڈالنے کے بارے میں جو حقائق دیئے ہیں وہ بے سر پیر کے ہیں ۔ کیونکہ انتظامیہ کی ناکامی آخر کار سرکار کی ہی ناکامی مانی جاتی ہے اس لئے اس پر پردہ ڈالنے اور اب بین الاقوامی سازش بتانے کی تیاری ہے ۔یوپی کے ڈائریکٹر جنرل رہ چکے آفسر ڈاکٹر وی این رائے ہاتھرس کے پیچھے بین الاقوامی سازش کو مسترد کرتے ہیں انہوں نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا کہ اس میں کوئی ثبوت نہیں ہے صرف گمراہ کرنے کی کوشش ہے آپ دیکھئے دو چار ہفتے کے بعد یہ معاملہ لٹک جائے گا اور سب بھول جائیں گے اور بین الاقوامی کے جو ثبوت دیئے جارہے ہیں وہ کھوکھلے ہیں اور عدالت پہونچ نے سے پہلے ہی ان کی ہوا نکل جائے گی سیمن پر پایا جانا ہی ریپ ہوتا ہے؟ لیکن سوال اٹھتا ہے کہ ایسے معاملے سازش کی بات کہنے کے پیچھے سچ میں لوگوں کو گمراہ کرنا ہے یا وقت کو کاٹناہے یا پھر اس کے پیچھے کچھ سیاسی نفع نقصان کا حساب بھی کام کرتا ہے ؟ (انل نریندر)

13 اکتوبر 2020

ڈاکٹرہرش وردھن کاآیوروید کو فروغ دینا قابل خیر مقدم!

کورونا انفیکشن کے علاج کے لئے حکومت ہند کے وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن نے دیش کی قدیمی طریقہ علاج آیوروید کو تسلیم کرکے اس وبا سے نمٹنے کی سمت میں جو اہم ترین قدم اٹھایا ہے ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں انہوں نے اس کے لئے طور طریقوں سے متعلق جو گائڈ لائنس جاری کی ہین ان سے اب پورے دیش میں آیوروید سے کورونا کا علاج ممکن ہو سکے گا ۔جب سے کورونا انفیکشن شروع ہوا تبھی سے ایلو پیتھی کے طریقہ علاج پر انحصار بنا ہوا تھا مریض کو طے قواعد کے مطابق سرکاری وپرائیویٹ اسپتالوںمیں عالم تنہائی میں بھیجا جارہاتھا اس سے لوگوں کے من میں خوف بڑھ گیاتھا اور لوگ بدنامی سے بچنے کے لئے اپنی بیماری کو چھپانے لگے تھے مزے دار بات یہ بھی کہ سرکار ہومیو پیتھی کے طریقے کو بھی اس طرح کے طریقہ کو منظوری دے چکی ہے ۔آیوروید بھارت ہی نہیں دنیا بھر میں زمانہ قدیم سے ناپ تولی ہوئی اور پرکھا ہوا علاج ہے دھن وتری سے لیکر چرک اور سمرت جیسی آیوروید کی جڑی بوٹیوں نے بنو انسان کے لئے ہر طرح سے اسے خوش آئین بنایا ہے امراض کے ازالہ کے لئے تعمیر تک یہ روایت آج بھی جاری ہے بھارت آج آیوروید میڈیکل کی شکل میں پھر سے زندہ ہو چکی ہے سب سے بڑی بات اس کے حق میں یہ ہے کہ دیگر میڈیکل طریقہ علاج کے مقابلے میں کافی سستا ہونے کے سبب لوگوں میں یہ آج بھی زندہ ہے اب کورونا سے جنگ میں آیوروید کی اہمیت کو تسلیم کئے جانے سے لوگ بہت سستا علاج کراسکیں گے ۔حالانکہ آیوروید کا علاج صرف ہلکہ اور درمیانہ طبقہ کے کورونا سے متاثر لوگوں کے لئے زیادہ کارگر ہے زیادہ تشویشناک معاملوں میں علاج ایل او پیتھک میڈیسن سے کووڈ اسپتالوں میں ہی کرانا چاہے کورونا کا ٹیکہ کی دوا آئے گی جب آئے گی لیکن تب تک اس کے بعد بھی کورونا سے جنگ میں آیوروید کا علاج بڑا کارگر ثابت ہوگا۔ (انل نریندر)

جھوٹی ٹی آر پی ریکٹ گھوٹالہ!

24گھنٹے سب کی خبریں دینے والے ٹی وی نیوز چینل کچھ دنوں سے خود ہی خبروں میں آگئے ہیں اس سے بڑی حیران کن خبر اور کیا ہوگی لیکن آج کل ایسا ہی زیادہ دیکھنے کو مل رہا ہے دراصل سوشانت سنگھ راجپوت کی خود کشی سے متعلق خبروں کے ٹیلیویزن پر خبروں کے ٹیلی کاسٹ کو لیکر ممبئی پولیس نے بڑا چوکانے والا انکشاف کیا ہے اس کی کرائم برانچ نے ٹیلی ویزن ریٹنگ پوائنٹ (ٹی آر پی ) گھوٹالے کا انکشاف کیا ہے ۔اور اس میں ہیر پھیر کرنے والے گروہ کا پردہ فاش کر چار لوگوں کو گرفتار کیا ہے اس میں مراٹھی نیوز چینل فقط مراٹھی اور بوکس سنیما کے مالک کے ساتھ ہی ہنس کمپنی کے دو ملازم شامل ہیں ۔ممبئی پولیس کمشنر پرم ویر سنگھ نے کہا ریٹنگ کھیل میں دو مراٹھی چینلوں کے علاوہ ریپبلک ٹی وی بھی شامل ہے ریپبلک ٹی وی نے پیسہ دے کر اپنے ریٹنگ بڑھوائی حالانکہ ٹی وی چینل نے بیان جاری کرکے پولیس کمشنر کے الزمات کو مسترد کر دیا ہے چینل کے چیف ایڈیٹر ارنب گوسوامی نے کہا ان کا چینل ممبئی پولیس کمشنر کے خلاف مجرمانہ ہتک عز ت کا مقدمہ کرے گا ۔ٹی وی دنیا میں ٹیلی ویزن ریٹنگ سسٹم (پوائنٹ )کہتے ہیں ٹی آر پی سے یہ پتہ چلتا ہے کس چینل کاکونسا شو سب سے زیادہ دیکھا جارہا ہے اور یہ جاننے کے لئے الگ الگ شہروں کے کچھ چنندہ گھروں میں خاص طرح کے میٹر لگے ہیں جسے پیپول میٹر کہتے ہیں ۔براڈ کاسٹنگ ریسرچ کونسل (بی آر سی )و دیگر ایجنسیوں کی مدد سے اس کی نگرانی کرتی ہے ۔ممبئی میں یہ کام ہنسانام کی ایجنسی کے پاس ہے ۔ہنسا کو اپنے کچھ سابق ملازمین پر شک ہوا کہ ان کادعویٰ ہے کہ جن گھروں میں ٹی آرپی میٹر لگے ہیں وہاں خاص چینل دیکھنے کے لئے چار سو سے پانچ سو روپئے دئیے جاتے تھے پولیس نے ایک ملزم کے پاس سے بیس لاکھ روپئے نقد اور 8لاکھ بینک لاکر سے برآمد کئے ہیں دیش بھر میں 44ہزار گھرو ںمیں ٹی آر پی جانچنے کے لئے میٹر لگے ہیں ۔اسی ٹی آر پی کی بنیاد پر ٹی وی چینلوں کو اشتہار ملتے ہیں پولیس کمشنر نے ٹی آر پی ریٹنگ بڑھانے کے اس گھوٹالے کو جھونٹی ٹی آر پی کہا ہے ۔اس گھوٹالے سے جڑے لوگ کروڑوں روپئے کی کمائی کررہے ہیں اور ساتھ ہی ان کروڑوں کی ناظرین کی عقیدت کے ساتھ دھوکہ کررہے ہیں جو ٹی وی میڈیا پر یقین کرتے ہیں عام خیال ہے ٹی آر پی دیش کے سبھی ٹی وی والے گھروں کی نمائندگی کرتی ہے لیکن یہ سچ نہیں ہے کہ ٹی آڑ پی کی اس ٹھگی کے بارے میں باقی سبھی کو تو چھوڑئیے اپنے آپ کو بہت چالاک ماننے والا میڈیابھی بہت عزت دیتا ہے ایسا لگتا ہے ٹی وی میڈیا ٹی آرپی میں اپنے رول کو ٹھیک سے نہیں نبھارہا ہے اس لئے ابوقت آگی ہے کہ ٹی آر پی کے اس چکرویو ہ سے باہرنکلیں اور یہ کام خود ٹی وی سے جڑے صحافی و بڑے ادارے کرسکتے ہیں ٹی وی چینلوں کو چاہیے کہ وہ حقیقت میں اپنی فرائض کا صحیح طرح سے عمل کریں اور ذمہ داری نبھائیں تاکہ ناظرین کا ان پر بھروسہ بنا رہے ۔ (انل نریندر)

کیا چراغ والد کی وراثت سنبھال سکیںگے؟

سرکردہ دلت لیڈر رام ولاس پاسوان کی موت کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ سوال کھڑا ہوگیا ہے کیا ایل جے پی صدر چراغ پاسوان امکانی ہمدردی کے سہارے اپنے والد کی وراثت سنبھال پائیں گے حالانکہ پاسوان کی موت کے بعد جے ڈی یو اور بھاجپا کے لئے اب ایل جے پی پر سیدھی تنقید کرنا آسان نہیں ہوگی رام ولاس پاسوان دلتوں کے قابل احترام اور سب سے قد آور لیڈر رہے ہیں ۔ان کی موت سے ایل جے پی کے تئیں دلتوں میں ہمدردی ہونا فطری ہے حالانکہ اس کے بعد ان کے ایم پی صاحبزادے چراغ کے لئے چیلنج کا دور شروع ہونے والا ہے اور ان کا سیاسی مستقبل بہت حد تک اس چناو¿ کے نتیجہ پر منحصر کرے گی چناو¿ میں پارٹی کا بہتر پردرشن نا صرف چراغ کے سیاسی دبدبہ کو نئی اونچائیاں دے گا بلکہ پاسوان کی وراثت پر ان کے نام کی مہر لگ جائےگی ۔اس کے برعکس اگر پارٹی کی چناو¿ میں اچھی پرفارمنس نہیں رہی تو چراغ کے لئے مشکلوں کا دور شروع ہو جائےگا اور دہلی بھی دورہوتی جائے گی ۔چناو¿ میں بھاجپا کےساتھ جے ڈی یو کے خلاف حکمت عملی خود چراغ کی تھی جیسے سال2014میں ہوئے لوک سبھا چناو¿ میں چراغ کے ہی مشورے سے پاسوان این ڈی اے میں شامل ہوئے حالانکہ تب پارٹی کی کمان پاسوان کے پاس تھی۔ اور پاسوان کے رہتے پارٹی کی وراثت پر سوال اٹھانے کی پوزیشن نہیں آنی تھی ۔اب پاسوان کی موت کے بعد حالات بدلے ہوئے ہیں ۔پاسوان کے بھائی پشو پتی پارس سے چراغ کے اختلافات ہیں اور وہ پارٹی کی کمان پشو پتی کو دینے سے خوش نہیں تھے ظاہری طور پر پارٹی کے اندر اختلاف تیز ہو گیا ۔چناو¿ سے ٹھیک پہلے پاسوان کی موت سے جے ڈی یو کی پریشانی بڑھ گئی ہے ۔وزیر اعلیٰ نتیش نے بے حد چالانکی سے مہا دلت کارڈ کھیل کر ریاست میں دلتوں کے درمیان ایل جے پی کی مقبولیت کم کی تھی ہم کے چیف جتن رام مانجھی کو آخری وقت میں پارٹی میں لانے کی وجہ ایل جے پی کے دلت ووٹوں میں بنیاد نا بنانے دینے کی تھی اب پاسوان کی موت سے پیدا ہمدردی دلت برادری کے سبھی کنبوں کو ایل جے پی کے حق میں کر سکتی ہے جے ڈی یو کی دوسری پریشانی بھاجپا کی طرف سے ایل جے پی پر سیدھا حملہ بولنے سے بچنے کی رہی ہے اتحاد کے اعلان سے پہلے بھاجپا نے نتیش کو پاسوان کی صدارت کا حوالہ دیتے ہوئے ایل جے پی کو این ڈی اے سے باہر کرنے کی مانگ ٹھکرا دی تھی اب پاسوا ن کی موت سے بھاجپا اور جے ڈی کو ایل جے پی پر تنقید سے بچنا ہوگا ۔ایل جے پی کے ایک سینئر لیڈر نے کہا کہ بھہار میں قریب ڈیڑ ھ درجن سیٹ پر ایل جے پی ووٹروں کی تعداد کافی زیادہ ہے اس کے ساتھ تقریباً پچاس سیٹوں پر بھی پاسوان ووٹر ہین ایسے میں ایل جے پی پاسوان کے ساتھ بھاجپا حمایتی ووٹ کاٹنے میں کامیاب رہتی ہے تو جیت کی دہلیز پر ایل جے پی پہونچ سکتی ہے ۔ (انل نریندر)

11 اکتوبر 2020

شوشل میڈیا میں جاری ہیں سازشیں!

شوشل میڈیا پر جاری طرح طرح کی افواہیں نا صرف کورونا وبا کا سنکٹ بڑھا رہی ہیں بلکہ دنگے بھی بڑھا رہی ہیں امریکہ و یوروپی ملکوں میں کیو اینان تحریک سے جڑے لوگ ایسی سازشوں کو انجام دے رہے ہیں اسطرح کی حرکتوں کے بعد فیس بک انسٹاگرام میں ان کے سبھی کھاتہ بند کر دئیے ہیں ٹوئیٹر پہلے ہی ان کھاتوں کو بند کرنے کا اعلان کر چکا ہے امریکی ایجنسیوں کے مطابق کئی جگہ ان لوگوں کی وجہ سے دنگے بھڑکے کورونا دور میں یہ سب سے بڑی مشکل بن کر سامنے آئے ہیں پچھلے سال امریکی خفیہ ایف بی آئی نے کہا تھا کہ منظم جرائم گروہ کے یہ ممبر ہیں ۔جو دہشت گردی کے خطرے کی وجہ بن سکتے ہیں ۔پارلیمنٹ کی جوڈیشیل کمیٹی کے این پی ٹرسٹ پینل نے لمبی جانچ کے بعد منگل کو 450صفحوں کی رپورٹ جاری کی ہے کمیٹی نے پایا ان کمپنیوں کے پاس بہت زیادہ طاقت ہے جس سے سرکار کو ان کی طاقت کا مناسب معائنہ اور قانونی کاروائی کرنی چاہیے ۔اب اس رپورٹ کو بنیاد بنا کر پارلیمنٹ میں ان کمپنیوں کے کاروبار پر یکطرفہ حق کی سازش کے خلاف قانون بنے گا ۔فیس بک ،ٹوئٹر ،گوگل کے سی ای او 28اکتوبر کو سینٹ کی تجارتی کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے ۔ (انل نریندر)

دہلی کے شہری اگلے دو تین مہینے چوکس رہیں !

کووڈ19-کو لیکر بنی ماہرین کی کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ سردی میں کورونا کے روزانہ پندرہ ہزار مریض سامنے آسکتے ہیں ۔ابھی تک دہلی میں 16ستمبر کو ایک دن میں 4473مریض سامنے آئے تھے ۔اس لئے سردیوں میں یہ تعداد چار گنا بڑھ جائے گی ۔ماہرین کی کمیٹی کے مطابق سردی کے مہینوں میں سانس کی بیماریاں بڑھ جاتی ہیں اور تیہواروں میں بھی انفیکشن مریضوں کی تعداد بڑھنے کا اندیشہ ہے ڈاکٹر وی کے پرب کی رہنمائی والی کمیٹی نے کہا کہ دہلی کی سردیوں میں روزانہ پندرہ ہزار مریضوں کے سامنے آنے سے روکنے کے لئے احتیاطی قدم اٹھا لینے چاہیے اور باہر کے مریضوں کی تعداد بھی بڑھ سکتی ہے کووڈ پینل نے دہلی سرکار کو صلاح دی ہے کہ وہ 20فیصد مریضوں کو بھرتی کے لئے انتظامات کے لئے تیار رہیں یہ رپورٹ دہلی آفت منجمنٹ اتھارٹی کو سونپ دی گئی ہے ۔تیہواروں کے سیزن میں پینل نے بڑی تقریب میں جانے سے منع کیا ہے ۔کیرل میں اونم اور مہاراشٹر میں گنیش چتھرتی کے چلتے وبا سنگین طور پر بڑھی ہے دہلی میں ایسا نہیں ہوناچاہیے معاملے کم کرنے میں ہم نے جو اچھی رپورٹ حاصل کی ہے وہ ان سب تیوہاروں اور بازار محلوں میں بھڑ جمع ہونے سے بیکار ہو جائے گی ۔پینل نے یہ بھی کہا کہ تیوہار چھوٹے سطح پر منائیں جس پر گھر والے بھی شامل ہوں اور اگلے تین مہینہ دہلی کے لئے بہت اہم ہیں تجویز یہ ہے مائیکرو کنٹین منٹ زون پر بھی توجہ دینی چاہیے کورونا کے اثرات والے لوگوں کا پی سی آر ٹسٹ ہو اور ان کی ٹسٹنگ کو نگرانی کے سہارے چلانے اور بیحد نگرانی بڑھانے کی ضرورت ہے ۔تیہواروی سیزن کو دیکھتے ہوئے باقاعدہ مہم چلائیں اور ہیلتھ کئیر ورکرس کے درمیان موتوں میں بھی کمی لانے کی سفارش کی ہے ۔یہ دو تین مہینے ایسے ہیں جس میں احتیاط برتیں کورونا پروٹوکول پر سختی سے تعمیل کریں سب مل کر اس کورونا کو ہرائیںگے ۔ (انل نریندر)

ریا نشیلی چیزوں کی اسمگلر نہیں:کورٹ

ایکٹر سوشانت سنگھ راجپوت کی موت معاملے میں ڈرگس اینگل سے چل رہی جانچ میں گرفتار اداکارہ ریا چکرورتی کو 28دن بعد آخر کار بومبے ہائی کورٹ سے ضمانت مل گئی ۔عدالت میں ریاچکرورتی کی ضمانٹ کا مخالفت کررہی نارکوٹکس کنٹرول بیورو کو سخت پیغام دینے سمیت دیگر دلیلوں کی دھجیاں اڑتی نظر آئی اورر یا کی ضمانت خارج کرنے کی اپیل کی دلیل کو سرے سے مسترد کرتے ہوئے سماعت کو سخت سندیش دینے کے لئے عدالت نے کہا کہ قانون کے سامنے سب برابر ہیں اور ریا چکرورتی نشیلی چیزوں کی اسمگلر نہیں ہیں ۔ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل انل سنگھ کے ذریعے این بی سی نے کہا کہ سماج خاص کر لڑکوں کو سخت سندیش دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ نشیلی چیزوں کا استعمال نا کریں اس پر بنچ نے کہا کہ عدالت اس سے متفق نہیں ہے ۔چونکہ قانون سب کے لئے برابر ہے ہر معاملے کا فیصلہ اس کے خوبی اور قصور کی بنیاد پر ہوگا ۔ملزم کا درجہ چاہے جو بھی ہو کسی بھی ہستی یا راہے عمل کو عدالت میں مخصوص اختار نہیں ملتے ایم بی سی میں ریاکو نشیلی اشیاءانسداد قانون کی سخت دفع 27Aکے تحت گرفتار کرکے ملزم بنایا تھا یہ دفع نشیلی چیزوں کی اسمگلنگ کے لئے پیسہ اکھٹاکرنا اور پناہ دینے سے متعلق ہے ۔اس دفع کے تحت دس سال تک کی سزا ہے اور ضمانت دینے پر بھی یہ دفعہ رو ک لگاتی ہے جسٹس سارن وی کوتوال کی بنچ نے کچھ اس طرح این بی سی کو دلیلوں کی ہوا نکال دی ۔اس نے کہا کہ ریا کو ممنوع نشیلی چیزوں کی اسمگلنگ کے معاملے میں پیسہ داکھٹاکرنے یا پناہ دینے والا نہیں کہا جا سکتا جیسا کہ این بی سی نے الزام لگایا ہے ۔کسی خاص نشیلی چیز کے لئے ادائیگی کرنا یہ مالی کفالت کے دائرے میں نہیں آئیگا ۔الزام ہے کہ اس سے سوشانت سنگھ راجپوت کے لئے نشیلی چیزیں خریدنے کے لئے پیسہ خرچ کیا گیا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ریا اسمگلر ہے یا انہوں نے ناجائز اسمگلنگ کو مالی کفالت دی ابھی کافی حد تک صاف ہوگیا ہے شوسانت سنگھ راجپوت کے ساتھ تقریباً ایک سال لیو ان ریلیشن میں رہیں ۔ان کی گلفرنڈ ریا چکرورتی پر کچھ ایسے الزام لگائے گئے جس کا کوئی ٹھوس ثبوت ابھی تک نہیں مل پایا قتل اور پیسہ کی ہیرا فیری کے الزامات کی جانچ کے سلسلے میں کچھ پرانے وائٹ اس ایپ چیٹ کے ذریعے ان پر ڈرگس خریدنے میں برائے راست یا غیر بالواسطہ رول نبھانے کے لئے الزام لگے جن میں ان کی گرفتاری ہوئی ضمانت ناملنے کی وجہ سے اس کو ایک مہینہ جیل میں رہنا پڑا ۔ریا کے پاس سے نا تو کوئی ڈرگس ملا باوجود اس کے ان کے خلاف قانون کی اتنی بڑی دفعات لگادی گئیں جس سے نچلی عدالتوں کے لئے ان کو ضمانت دینا مشکل ہوگیا این بی سی نے اشارہ دیا ہے کہ اس فیصلے کے خلاف کورٹ میں اپیل کرے گی ۔بیشک اسے اختیار ہے لیکن ایک ذمہ دار جانچ ایجنسی کو اپنے کاموں سے سماج کو کوئی ایسا پیغام دینا نہیں چاہیے کہ وہ کسی خاص شخص کے پیچھے پڑی ہوئی ہے ۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...