Translater

25 اپریل 2015

Pakistan gets dual advantage

I am talking about my neighbour Pakistan. China has given Pakistan such a gift bigger than US. The gift was presented by Chinese President XI Chinfing while arriving on his two day visit on Monday. During this 51 bilateral agreements including China-Pak Economic Corridor (CPEC) and Energy projects costing 46 billion dollars were signed between two countries. China-Pakistan has started million dollar pipeline crossing slave Kashmir putting aside the objections of India. Railway network and net of roads will be laid in slave Kashmir under this 46 billion dollar (approx. Rs 2,89,500 crores) project connecting Pakistan's Gwadar port to Xin Ziang state of China. Chinese President announced this agreement within starting hours of arriving Pakistan on Monday. Solar Wind Mills, dams etc. will also be constructed under this project with the help of China. On completion of these projects China will have direct access to Gulf of Arabia and Gulf of Hormuz. This way is near to the oil dispatching ways from West Asia. India mostly imports oil from West Asia. China will be able to use Gwadar as naval centre also. The 46 billion dollar rail network connecting Kashgar in China to Gwadar port situated in Arabian Sea of Pakistan is called China-Pakistan Corridor that crosses POK. Approx. 3 thousand kilometre long road (slip road) rail and pipeline network will be laid under this plan. This agreement of China is much more than total US investments in past years (approx. 31 billion dollars). Significantly it is the first visit of any Chinese President in last nine years. India fears that China can use Gwadar port as naval base in future. Moreover China will have access to Hormuz and Gulf of Arabia wherefrom it can reach nearer to oil dispatch ways of West Asia. These are the ways India imports most of its oil. The way Chinese president XI Chinfing has signed 51 agreements in his first visit, it appears that Pakistan has double advantage.  If US is there to help in open, China is also here. In this context, Pakistan’s foreign policy will be called as success. Leaving aside the basic infrastructure, this corridor alone is sufficient for making India worry. China is bent on setting up nuclear plants of Pakistan and supplying Uranium without consent of supplying countries in lieu of this. Besides talks are also on for supply of military items. In words it will be used against terrorism but will be used on the front of India. China is busy on covering India from all four sides. Let’s see what our Prime Minister Narendra Modi achieves in his proposed China visit next month?

-        Anil Narendra

 

گجندر سنگھ کے پھندے میں پھنستی عام آدمی پارٹی

راجستھان کے کسان گجندر سنگھ کی خودکشی کا اشو جمعرات کو سڑک سے لیکر پارلیمنٹ تک گرم رہا۔ ایسا لگتا ہے یہ معاملہ عام آدمی پارٹی کے گلے کی پھانس بن گیا ہے۔ مرکزی حکومت اور دہلی پولیس کسان گجندر سنگھ خودکشی کیس میں جو ایف آئی آر درج کی ہے اس میں عام آدمی پارٹی کے لیڈروں اور ورکروں پر خودکشی کیلئے گجندر سنگھ کو اکسانے کا الزام لگایا گیا ہے۔ پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے میں درج ایف آئی آر میں موقعہ پر موجود رہے انسپکٹر ایس ایس یادو کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ ’آپ‘ کے نیتا بھاشن دے رہے تھے اور لوگ تالی بجا رہے تھے، ایک آدمی پیڑ پر ہاتھ میں جھاڑو لئے ہوئے چڑھا ہوا تھا، میں نے تالی بجا رہے ورکروں سے اسے نہ اکسانے کو کہا تو اسٹیج پر بیٹھے ’آپ کے لیڈروں اور نہ ورکروں نے تعاون دیا۔ پولیس ان لوگوں کو اس آدمی کو محفوظ اتارنے میں تعاون دینے ،جگہ خالی کرنے اور ایمرجنسی گاڑی کو وہاں تک آنے دینے کو کہتی رہی، وہ لوگ تعاون نہ دیکر کہتے رہے کہ پولیس عام آدمی پارٹی کے خلاف ہے۔ پولیس نے خودکشی کیلئے اکسانے کی دفعہ306، سرکاری کام کاج میں رخنہ ڈالنے کی دفعہ186 اور ایک ارادے سے کام کرنے کی دفعہ34 کے تحت مقدمات درج کئے ہیں۔ کسان گجندر سنگھ کے رشتے داروں نے موقعہ سے ملے خودکشی نامے پر سوال اٹھائے ہیں۔ گجندر سنگھ کے چاچا گوپال سنگھ، اس کی بہن نے جمعرات کو کہا کہ اس میں گجندر سنگھ کی لکھائی نہیں لگ رہی ہے۔ گوپال نے بھی عام آدمی پارٹی کے نیتاؤں پر گجندر سنگھ کو خودکشی سے نہ روکنے کا الزام لگایا ہے۔ لوک سبھا میں بحث کے دوران وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے دہلی پولیس کا موقف دوہرایا اور ریلی میں آئے لوگوں پر تالی بجا کر گجندر سنگھ کو خودکشی کیلئے اکسانے کا الزام لگایا۔ راجناتھ سنگھ نے ان الزامات کی تردید کی کہ گجندر سنگھ کو بچانے کیلئے پولیس نے کچھ نہیں کیا۔ گجندر کے بھائی بجندر نے کہا کہ گجندر منیش سسودیا سے ملنے جارہے تھے۔ گجندر کی منیش سسودیا سے فون پر بات ہوئی تھی یہ نہیں پتہ کہ سسودیا نے انہیں فون کرکے بلایا تھا یا نہیں؟ادھر عام آدمی پارٹی کے ترجمان سنجے سنگھ نے پریس کانفرنس کر کہا وزیر داخلہ جھوٹ بول رہے ہیں اور گمراہ کرنے والا بیان دے رہے ہیں اور پولیس کا استعمال کرکے ’آپ‘ کو نشانہ بنانے کی مرکزی سازش ہے۔ کمار وشواس نے بھی ایسی باتیں کہیں گجندر سنگھ کے رشتے داروں نے اس کے لئے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا۔ ان کا کہنا ہے ایک کسان پھانسی لگا رہا تھا اور کیجریوال تقریر کرنے میں مصروف تھے اگر ان کا اپنا بیٹا ان کے سامنے پھانسی لگاتا ،کیا تب بھی وہ تقریر کرتے رہتے؟ ہمیں لگتا ہے کہ گجندر خودکشی کرنے کے ارادے سے نہیں آیا تھا دہلی میں اس کے ذریعے کسی شادی میں صافہ باندھنے کی بات بھی ہورہی ہے۔ گجندر کسان کے ساتھ ساتھ ایک کاروبار بھی تھا۔ اس کا صافہ باندھنے کا دھندہ تھا۔ اس کی اپنی ایک ویب سائٹ بھی تھی صافہ باندھنے کے ہنر کیلئے انہیں قومی اعزازات بھی ملے تھے۔ گجندر 32 طرح سے صافے باندھنے میں ماہر تھے۔ایک منٹ میں 7 پگڑی باندھنے کا ریکارڈ بھی ان کے نام تھا۔ گجندر کے بچپن کے دوست شکتی سنگھ نے بتایا کہ وہ 25 سال سے پگڑی باندھتے آرہے تھے۔ جیسلمیر کے چورو میلے میں گجندر نے رعوب دار موچھے اور پہناوے کیلئے چورو شری ایوارڈ بھی جیتا تھا۔ وہ جے پور کے سابق مہاراج بھیوانی سنگھ کے سکیورٹی افسر بھی رہے۔ راشٹرپتی اور وزیر اعظم کے لئے بھی صافہ باندھ چکے تھے۔ فلم ’یہ فاصلے‘، ’ویر‘ اور ’گلال ‘ کے آرٹسٹوں کی بھی پگڑیاں باندھی تھیں۔ ان کے والد کے پاس17 بیگھ زمین ہے۔ بیشک اولے اور باش کی وجہ سے50 فیصدی فصل برباد ہوگئی تھی لیکن وہ خودکشی کرنے والوں میں سے نہیں تھے۔ اخباروں میں جو فوٹو شائع ہوئی ہیں اور ٹی وی پر جو موقعہ واردات کی فوٹیج دکھائے گئے ان سے صاف ہے کہ وہ عام آدمی پارٹی کے ورکر تھے جو جھاڑو (آپ کا چناؤ نشان) لیکر پیڑ پر چڑھے تھے۔ کہانی کچھ اور تھی نیچے اترتے ہوسکتا ہے ان کا ہاتھ پھسل گیا ہو اور وہ ٹہنی پکڑ نہیں پائے اور نتیجتاً وہ خود کے بنائے پھندے سے لٹک گئے اور بعد میں نیچے آگرے۔ کیونکہ معاملے کی باریکی سے جانچ ہورہی ہے امید کی جاتی ہے کہ کہانی کیا تھی اس کا پتہ چل جائے۔
(انل نریندر)

اگر سلمان قصوروار پائے گئے تو ہوسکتی ہے 10 سال کی سزا!

13 سال پرانے ہٹ اینڈ رن کیس میں غیر ارادتاً قتل کے معاملے میں پھنسے ملزم فلم اداکار سلمان خاں کی قسمت کا فیصلہ6 مئی کو آئے گا۔ ممبئی میں سیشن جج ڈی ڈبلیو دیش پانڈے نے فیصلے کی تاریخ کا اعلان کیا تھا اس دوران سلمان کورٹ میں نہیں تھے۔ انہیں فیصلے کے دن کورٹ میں موجود رہنے کو کہا گیا ہے۔ بچاؤ اور مخالف فریق نے گذشتہ پیر کو اس معاملے میں اپنی دلیلیں پوری کر لی تھیں۔ قصوروار ثابت ہونے پر سلمان کو10 سال تک کی جیل ہوسکتی ہے۔ سب سٹی باندرہ میں بیکری کی دوکان میں کار چڑھانے کے 13 سال پرانے معاملے میں سلمان خاں مجرم ہیں۔42 سالہ سلمان خاں پر الزام ہے کہ انہوں نے28 ستمبر 2002ء کو باندرہ میں سڑک کے کنارے بنی ایک بیکری میں اپنی ٹوئٹا لینڈ کروزر کار چڑھا دی تھی۔ واردات میں باہر سو رہے ایک شخص کی موت ہوگئی تھی دیگر 4 زخمی ہوئے تھے۔ مخالف فریق کا الزام ہے کہ سلمان نے شراب پی رکھی تھی اور بغیر لائسنس گاڑی چلا رہے تھے۔ حالانکہ سلمان کا دعوی ہے کہ حادثے کے وقت سلمان نہیں بلکہ ان کے ڈرائیور اشوک سنگھ گاڑی چلا رہے تھے۔ بچاؤ فریق کے گواہ کے طور پر پیش اشوک سنگھ نے یہ بات قبول کی تھی حالانکہ مخالف فریق کا الزام ہے کہ سلمان خاں شراب پی کر گاڑی چلا رہے تھے وہیں سلمان کی دلیل ہے وہ پانی پی رہے تھے شراب نہیں۔ مخالف وکیل کی دلیل ہے کار میں تین لوگ سلمان اور ان کے پولیس باڈی گارڈ رویندر پاٹل اور گلوکار دوست کمال خان سوار تھے۔اداکار نے کہا کہ چوتھا شخص اشوک سنگھ بھی گاڑی میں تھا۔ ایک عدالت نے سال2013ء میں غیر ارادتاً قتل کے معاملے میں خان کے خلاف نئے سرے سے ہوئی سماعت میں الزام طے کئے تھے۔سرکاری فریق نے اپنا معاملہ ثابت کرنے کے لئے27 گواہوں سے پوچھ تاچھ کی تھی۔ اس کے مطابق خان کی لاپروائی سے گاڑی چلانے سے نور اللہ محبوب شریف کی موت ہوگئی جبکہ کلیم محمد پٹھان، منا ملائی خان، عبداللہ رؤف شیخ اورمسلم شیخ زخمی ہوگئے تھے۔ سلمان خان نے دعوی کیا تھا کہ ان کا ڈرائیور اشوک سنگھ گاڑی چلا رہا تھا۔ یہ بھی الزام ہے کہ خان بغیر لائسنس کے گاڑی چلا رہے تھے۔ سرکاری فریق نے آر ٹی او دستاویز پیش کرکے یہ ثابت کیا کہ ایکٹر نے حادثے سے دو سال بعد 2004ء میں لائسنس حاصل کیا تھا۔ حالانکہ سلمان کا کہنا تھا کہ ان کے ذریعے حاصل پہلا لائسنس نہیں تھا۔ اب سلمان کا مستقبل جج موصوف کے ہاتھ میں ہے کیونکہ معاملہ کورٹ میں ہے اس لئے فی الحال کسی طرح کی رائے زنی نہیں کی جاسکتی۔
(انل نریندر)

24 اپریل 2015

گجندر کی خودکشی نے دکھا دیاکہ کسان کتنا مایوس ہے

دھرنے اور مظاہروں کے لئے دیش بھر میں مشہور جنتا منتر پر عام آدمی پارٹی کی کسان ریلی بدھ کے روز کالا باب لکھ گئی ہے۔ ژالہ باری، بارش سے برباد ہوا ایک کسان ریلی میں اسٹیج سے محض کچھ قدم کے فاصلے پر نیم کے پیڑ پر پھانسی پر لٹک گیا اور اسٹیج پر بیٹھے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال سمیت پارٹی کے دیگر تمام لیڈر اسے دیکھتے رہے۔ تکلیف دہ یہ ہے کہ کسان کی خودکشی کے بعد بھی ریلی جاری رہی، لیڈر تقریر کرتے رہے، کیجریوال بھی تقریر کے دوران کسانوں سے وعدے کرتے رہے لیکن اسے بچانے کیلئے خود اپنا قدم آگے نہیں بڑھایا۔ راجستھان کے دوسہ کا باشدہ گجندر سنگھ کلیانوت(41 سال) کسان ریلی میں شامل ہونے آیا تھا۔ ہزاروں نگاہوں کے آگے ایک بے بس عام آدمی نے پیڑ پر پھندے سے لٹک کر زندگی کو الوداع کہہ دیا۔ اس کی لاچار آنکھیں سامنے چل رہی سیاسی ریلی کو دیکھتی رہیں جہاں عام آدمی پارٹی کے چیف اروند کیجریوال اس حادثے کی ذمہ داری بھی دہلی پولیس اور مودی سرکار پر مڑھتے ہوئے گرج رہے تھے۔ راجستھان کے دوستہ ضلع کا بدقسمت گجندر سنگھ بھی کھیتوں میں اپنی ڈوبی قسمت کا غم سمیٹے دہلی آیا تھا لیکن واپس لوٹا اس کا بے جان جسم جس سے لپٹ کر اس کے تین معصوم بچوں کی آنکھوں کا باندھ ٹوٹ گیا ہوگا۔ پبلک مقام پر ایسا واقعہ چونکانے والا ہے۔ دیش بھر کے کسانوں کے بحران کے نام پر بلائی گئی اس ریلی میں شاید ایک بدقسمت کسان کیلئے کسی کے پاس وقت نہیں تھا۔گجندر باقاعدہ اپنے خاتمے کا اعلان کرتا ہوا بھیڑ کے بیچ نیم کے پیڑ پر چڑھا اور سرپر باندھی پگڑی کا پھندہ ڈال کر لٹک گیا لیکن موجود عام آدمی پارٹی کی ریلی کے مزاج پر اس کا کوئی اثر نہیں دکھائی دیا۔ ایک بڑا سوال یہ بھی ہے کہ گجندر سنگھ کی خودکشی کے بعد بھی عام آدمی پارٹی کے لیڈروں کی تقریر جاری کیوں رہی؟ یہ تو غیر ذمہ داری اور بے حساسی کی ایک علامت ہے۔ اس بدقسمت شخص کی موت کے بعد عام آدمی پارٹی کے لیڈروں نے جس طرح کے بے تکے بیان دئے اس سے تو یہی لگا کہ وہ بھی دوسری سیاسی پارٹیوں کی طرح سیاسی ہتھکنڈے اپنانے لگی ہے۔ تمام لوگوں کے سامنے خودکشی کا واقعہ جتنادہلانے والا ہے اتنا ہی شرمسار کرنے والا بھی کیونکہ اس کے بہانے سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے کو کھلنائک ثابت کرنے کے گندے کھیل میں جٹ گئی ہیں۔ کسانوں کی خراب حالت کے لئے کسی نہ کسی سطح پر سبھی پارٹیاں ذمہ دار ہیں۔ آج ضرورت کسانوں کو یہ بتانے کی نہیں کہ ان کی حالت خراب ہے بلکہ انہیں بھروسہ دلانے کی ہے کہ وہ صبر رکھیں ان کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔ بلا شبہ یہ تب ہوگا جب سیاسی پارٹیاں تو تو میں میں کرنے کے بجائے مل بیٹھ کر ان اقدامات کے بارے میں سوچیں جن سے کسانوں کو فوری اور ساتھ ہی طویل المدت مدد مل سکے۔ گجندر سنگھ نے اپنی قربانی دے کر ساری دنیا کو دکھا دیا کہ آج بھارت کا کسان کتنا مایوس ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مرکزی سرکار اور ریاستی سرکاروں کو کسان مسئلے پر ہنگامی بحث کرنے کے لئے فوری راستہ نکالے۔
(انل نریندر)

عام آدمی پارٹی میں چھڑی آر پار کی جنگ

آخر کار دہلی کی حکمراں عام آدمی پارٹی ’آپ‘ میں بغاوت کرنے والے نیتاؤں پرشانت بھوشن، یوگیندر یادو، آنند کمار اور اجیت جھا کو پارٹی سے باہر کا راستہ دکھا دیا۔ ویسے ان کے اخراج کی خبر تو پچھلے کئی دنوں سے چل رہی تھی لیکن اگر اس فیصلے کے اعلان میں غیر متوقع دیری ہوئی ہے تو صرف اس لئے کہ آپ لیڈر شپ یہ دکھانا چاہتی تھی کہ ان لیڈروں کا اخراج انتقام کے جذبے سے کی گئی منمانی کارروائی نہیں ہے بلکہ پارٹی کی ڈسپلن کے عمل کی تعمیل کرتے ہوئے فیصلہ لیا گیا ہے۔ اندرونی گھمسان آخر کار اپنے انجام تک پہنچ ہی گیا۔ ادھر آپ کے باغی لیڈر یوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن نے پیر کو اروند کیجریوال اور پارٹی کے دو بڑے عہدیداران پر حملہ بولتے ہوئے ڈسپلن کمیٹی کے وجہ بتاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے الزام لگایا کہ پارٹی اپنے ہی آئین کی خلاف ورزی کررہی ہے۔ یوگیندر یادو نے تو کیجریوال کے دور کا موازنہ روسی تاناشاہ اسٹالن سے کرڈالا۔ یادو نے کہا کہ اپنے من کے فیصلے لینا اور بدلہ لینے جیسی کارروائی اسٹالن کے عہد سے میل کھاتی ہے۔حالانکہ نکالے گئے چاروں لیڈروں کے خلاف کارروائی کی بنیاد پچھلے دنوں سوراج میٹنگ کے انعقاد اور اس میں ورکروں سے نئی پارٹی بنانے پر رائے مانگے جانا بتایا جارہا ہے۔ لیکن عام آدمی پارٹی سے جس طرح سے پچھلے ایک ڈیڑھ مہینے میں تھوک میں لیڈروں کا اخراج ہوا ہے اسے دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ یوگیندر ، پرشانت وغیرہ کے خلاف کارروائی کیلئے بنائی گئی بنیاد محض ایک بہانہ ہے۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ کیجریوال ہٹلری انداز سے کام کررہے ہیں جو اپنے خلاف کسی طرح کی کھلی تنقید برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے۔ جو ان کے خلاف آواز اٹھائے گا اس کا وہی حشر ہوگا جو پرشانت، یادو کا ہوا ہے۔ باقی جو بھی الزام لگائے جاتے ہیں وہ باغی نیتا کی ساکھ بگاڑنے اور اسے الگ تھلک کرنے کیلئے ہوتے ہیں۔ ورنہ کیا وجہ رہی کہ دہلی اسمبلی چناؤ میں تاریخی جیت کے بعد پارٹی کے سینئر لیڈروں کو ان کی صفائی کا انتظار کئے بغیر باہر نکال دیا گیا۔ بہرحال اخراج کے بعد دونوں فریقوں میں جس طرح سے ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشیاں جاری ہیں وہ دونوں کی مشکلیں بڑھانے والی ہیں۔ پرشانت بھوشن نے آشیش کھیتان پر پیڈ نیوز چھاپنے اور پارٹی پر انہیں بڑھاوا دینے کا الزام لگایا تو آشیش کھیتان نے پلٹ کر پرشانت بھوشن سے ہی پوچھ لیا کہ ان کے خاندان نے500 سے700 کروڑ روپے کی املاک آخر کیسے اکھٹی کی ہے؟ اتنا صاف ہوچکا ہے کہ اروند کیجریوال اب پارٹی پر اپنا پورا قبضہ چاہتے ہیں۔ سرکار پر تو ان کا قبضہ ہو ہی چکا ہے اب وہ پارٹی پر بھی اپنا پورا اختیار چاہتے ہیں اور ایسے کسی بھی شخص کو برداشت نہیں کریں گے جو پارٹی میں انہیں چیلنج دینا چاہتا ہے۔ عام آدمی پارٹی کی اندرونی کھینچ تان سے جنتا کو کچھ لینا دینا نہیں ہے وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ آپ پارٹی سرکار اپنے وعدوں پر کھری اترے۔ جس میں اب شبہ ہونے لگا ہے کہ خود کیجریوال کہہ رہے ہیں کہ اب آدھے وعدے ہی پورے ہوں گے۔
(انل نریندر)

101st BIRTH ANNIVARSARY OF LATE SHRI K NARENDRA

23 اپریل 2015

پاکستان کے تو دونوں ہاتھوں میں لڈو ہیں

میں تو بات کررہا ہوں ہمارے پڑوسی دیش پاکستان کی۔ چین نے تو پاکستان کو امریکہ سے بھی بڑا تحفہ دیا ہے۔ یہ تحفہ چین کے صدر شی جنپنگ نے پیر کو دو روزہ دورہ پر دیا ہے۔ اس دوران دونوں ملکوں کے درمیان 46 ارب ڈالر کے چین۔ پاک اقتصادی گلیارے(سی پی ای سی)اور توانائی پروجیکٹوں سمیت 51 باہمی معاہدوں پر دستخط کئے گئے۔ بھارت کے اعتراضات کو درکنار کرتے ہوئے غلام کشمیر سے گزرنے والی اربوں ڈالر مالیت کی شاہراہ کی تیاری چین ۔ پاکستان نے شروع کر دی ہے۔ چین کے شنگ زیانگ صوبے کو پاکستان کی گوادر بندرگاہ سے جوڑنے والی 46 ارب ڈالر (یعنی289500 کروڑ روپے) کے اس پروجیکٹ کے تحت غلام کشمیر میں ریل نیٹ ورک اور سڑکوں کا جال بچھایا جائے گا۔ پیر کو پاکستان گئے چینی صدر نے ابتدائی کچھ گھنٹوں میں ہی اس سمجھوتے کا اعلان کردیا۔ اس پروجیکٹ کے تحت شمسی پون چکیاں، باند وغیرہ کی تعمیر بھی چین کی مدد سے کی جائے گی۔ پروجیکٹوں کے پورے ہونے پر چین کو عرب خلیج اور ہومرز کی خلیج سے سیدھی اینٹری ملے گی۔ یہ راستہ مغربی ایشیا سے تیل درآمد کرتا ہے۔ چین گوادر کا استعمال بحری مرکز کے طور پر بھی کر سکے گا۔ چین کی کاشگر بندرگاہ سے پاکستان کے عرب ساگر میں واقع گوادر بندرگاہ تک جوڑے جانے والے 46 ارب ڈالر کے اس نیٹ ورک کو چین ۔پاکستان کوریڈور کہا جاتا ہے جوپی او کے سے ہوکر گزرے گا۔منصوبے کے تحت قریب 3 ہزار کلو میٹر لمبی سڑک (اسلک روڈ) ریل اور پائپ لائن نیٹ ورک بچھایا جائے گا۔ چین کا یہ معاہدہ پاکستان میں گزرے سالوں میں کی گئی کل امریکی سرمایہ کاری (قریب31 ارب ڈالر) سے کہیں زیادہ ہے۔ قابل ذکر ہے کہ چینی صدر کا یہ پچھلے9 برسوں میں پہلا دورہ ہے۔بھارت کا اندیشہ ہے کہ مستقبل میں چین گوادر بندرگاہ کو بحریہ ٹھکانے کی شکل میں استعمال کرسکتا ہے۔ ساتھ ہی چین کیلئے ہرمز اور خلیجی عرب کے دروازے کھل جائیں گے جہاں سے وہ مغربی ایشیا کے تیل بھیجنے کے راستوں کے بیحد قریب پہنچ سکتا ہے۔ یہ وہ راستے ہیں جہاں سے بھارت اپنا زیادہ تیل برآمد کرتا ہے۔ چینی صدر شی جنپنگ نے اپنے پہلے دورے میں جس طرح سے51 سمجھوتے کئے ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے دونوں ہاتھوں میں لڈو ہیں۔ ادھر امریکہ کھل کر مدد کررہا ہے ادھر چین بھی ۔ اس لحاظ سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کامیاب مانی جائے گی۔ بنیادی ڈھانچے کو چھوڑ بھی دیں تو اکیلے یہ ہی گلیارہ بھارت کیلئے تشویش ظاہر کرنے کیلئے کافی ہے۔ چین اس کے عوض میں پاکستان کے نیوکلیائی ایندھن ری ایکٹر بنانے اور اس کے لئے سپلائی ۔ دونوں دیشوں کی رضامندی کے بغیریورینیم دینے پر اڑا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ فوجی سامان کی سپلائی کی بھی بات ہورہی ہے۔ اس کا استعمال کہنے کیلئے دہشت گردی کے خلاف ہونا ہے لیکن ہوگا یہ بھارت کے محاذ پر۔ چین بھارت کو چاروں طرف سے گھیرنے میں لگا ہے دیکھیں اگلے مہینے ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی اپنے مجوزہ دورۂ چین میں کیا حاصل کریں گے؟
(انل نریندر)

بات بات پر آپا کھوتے دہلی کے گاڑی ڈرائیور

بھاگ دوڑ بھری زندگی میں راجدھانی کے لوگ چھوٹی موٹی باتوں پر اپنا آپا کھورہے ہیں۔ کوئی کار۔ اسکوٹی سے ٹکرا جانے پر شارے عام بچوں کے سامنے باپ کو مار دیا جاتا ہے تو کوئی پارکنگ تنازع پر جان لینے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ کچھ لوگ بائک میں کھرونچ لگنے پر دوسری گاڑی والے کو مار مار کر ادھ مرا کردیتے ہیں۔ وہیں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو کار کو چھو جانے پر عام انسان کو اپنی گاڑی سے کچل کر مارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جی ہاں یہ ہے راجدھانی کی صورتحال۔ بھارت میں سڑک حادثوں کی وجہ سے ہر 4 منٹ میں 1 شخص کی جان چلی جاتی ہے۔ روڈ ریج کے ساتھ ساتھ سڑک حادثات میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ سڑک حادثوں سے کافی لوگوں کو بچایا جاسکتا ہے بشرطیکہ سرکارگڈسمریٹن قانون کو بنیادی شکل دے دے۔ پہلے بات روڈ ریج کی کرتے ہیں۔ دیش کی راجدھانی دہلی میں روڈ ریج کے واقعات عام ہوگئے ہیں۔ عالم یہ ہے کہ معمولی بات کو لیکر ہورہے روڈ ریج کے واقعات میں پولیس ملازم سے لیکر عام آدمی بھی اس کے شکار ہورہے ہیں۔ ایسی بھی بات نہیں کہ اس طرح کے واقعات میں گرم مزاج کے عام لوگ ہی روڈ ریج کے شکار ہوتے ہیں۔ پچھلے دنوں دہلی پولیس کے ایک اے سی پی رینک کے افسر امت کمار کے ڈرائیور نے ایک بچے کو لودھی روڈ،نظام الدین علاقے میں غلط ڈھنگ سے گاڑی چلانے سے روکا،کے بچے سمیت ان کے ماں باپ نے مار پیٹ کے واقعات کو انجام دیا۔ ان لوگوں نے ذرا بھی نہیں سوچا کہ ایک پولیس افسر کے سامنے لااینڈ آرڈر کو اپنے ہاتھ میں لے رہے ہیں۔ حقیقت میں اب حالات بگڑ چکے ہیں۔ لوگ اپنے برتاؤ پر کنٹرول نہیں رکھنے کی وجہ سے خود کوتو مشکل میں ڈالتے ہی ہیں بے قصورلوگوں کی جان سے بھی کھیل رہے ہیں۔ مشرقی دہلی کے میوروہار علاقے میں کچھ دن پہلے ایک خاتون صحافی اور اس کے ساتھی کی روڈ ریج میں جم کر پٹائی کردی گئی۔ رات کی شفٹ ختم کرنے کے بعدچنچل اپنے نوئیڈا میں واقع آفس کے ساتھی دلیپ پانڈے کے ساتھ اپنی کار سے لکشمی نگر میں واقع اپنے گھر جا رہی تھی ، جیسے ہی نوئیڈا سے نکل کر ان کی کار دہلی کی سرحد میں پہنچی پیچھے سے ریت کے لدے ڈمپر نے تیزی کے ساتھ ان کی کار کو اوور ٹیک کیا، اس سے ان کی کار حادثے کا شکار ہوتے ہوتے بال بال بچ گئی۔ اس کے بعد جیسے ہی ان کی کار تھوڑی آگے بڑھی تو غلط سائٹ سے ایک سفید رنگ کی اسکارپیو کار آئی اور ان کی کار کے آگے کھڑی ہوگئی۔ اسکار پیو سے لڑکا نکل کر آیا اور ان سے جھگڑا کرنے لگا، تبھی ریت سے لدے ٹرک کا ڈرائیور بھی وہاں پہنچ گیا، دونوں نے مل کر چنچل اور دلیپ کے ساتھ مار پیٹ شروع کردی۔ پٹائی کی وجہ سے دلیپ کو کافی چوٹیں آئیں۔ سائیکٹریکٹ سائنس سے وابستہ ماہر بڑھتے روڈ ریج کے واقعات کی کچھ وجوہات بتاتے ہیں۔ بڑھتے روڈ ریج کے واقعات کے پیچھے ایک وجہ سے ڈرائیوننگ ویل کے پیچھے بیٹھے ڈرائیوروں کی بڑھتی ٹینشن۔ دنیا بھر میں ہوئے سروے سے پتہ چلا ہے کہ ہندوستانی ڈرائیور آسٹریلیا، چین، تھائی لینڈ اور فلپائن جیسے ملکوں کے مقابلے ڈرائیونگ میں زیادہ وقت گزارتے ہیں۔ اتنا وقت سڑک پر گزرنے سے نہ صرف ٹینشن بڑھنے سے روڈ ریج کا ماحول بنتا ہے بلکہ سڑکوں کی بری حالت اسے اور بڑھا دیتی ہے۔ اس پر کہا جاتا ہے کہ ہندوستانی گاڑی چلاتے وقت موبائل پر بات کرتے، سیلفی لیتے یا نیٹ سرفنگ کرنے میں اول ہیں۔اسی طرح کے نتیجے ایشیائی فیسیفک خطے میں کار بنانے والی کمپنی فورڈ کے ایک سروے میں سامنے آیا ہے مسلسل ڈرائیونگ کے علاوہ اسٹریس بڑھانے میں ٹریفک جام، موسم، سڑکوں کی حالت، بھیڑ ،شور اور ڈرائیور کی تھکان بھی ذمہ دار ہے۔ یہ سارا ماحول غصے اور جنون کی ایسی ریسیپی تیار کرتا ہے جو انسان کو کچھ بھی کرنے پر آمادہ کردیتی ہے۔ روڈ ریج سے بچنے کیلئے کچھ تجاویز۔ اپنی لائن میں چلیں اور صبر بنائے رکھیں، لیول کراسنگ کا خیال رکھیں، اپنی باری کا انتظار کریں، اپنا ایک منٹ بچانے کیلئے باقیوں کے گھنٹے برباد نہ کریں، روڈ سیفٹی، روڈ ایجوکیشن و روڈ سینس کو اپنایا جائے، 24 گھنٹے میں جب وقت ملے تو تھکان دور کرنے کیلئے اچھے سے ایک گھنٹے سیر سپاٹا، ورزش اور مراقبہ میں دھیان میں دلچسپی کے مطابق کچھ نہ کچھ ضرور کریں۔ عام زندگی میں ضروری عام قواعد کو سمجھیں اور ان کا احترام کریں۔ ہروقت چوکس رہیں، ہر واقعے کو مثبت نظریئے کے ساتھ لیں۔ چاہے غلطی سامنے والے کی ہو لیکن تحمل کا ثبوت دیں اور تنازعوں میں پھنسنے سے بچیں۔ منفی حالات میں تنگ دل ہونے کی مثال پیش نہ کریں۔ دوسروں سے جو آپ توقع کرتے ہیں اسے اپنے برتاؤ میں پہلے سے عمل میں لائیں۔ آپ کو اس کا اچھا اور واجب فائدہ ملے گا۔جب تک گاڑی ڈرائیور چاہے وہ کار ہو یا بائیک ہو چاہے بس یا ٹرک اپنے غصے پر کنٹرول نہیں رکھتے، روڈ ریج پر قابو پانا مشکل ہے۔
(انل نریندر)

22 اپریل 2015

مودی جی بیرونی ممالک میں ہندوستان کی ساکھ نہ گرائیں

وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے غیر ملکی دورے کے دوران عالمی برادری کو یہ یقین دہانی کرانا کہ وہ پچھلی حکومتوں کے ذریعے چھوڑی گئی گندگی کی صفائی کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور اس سے صاف کرکے ہی رہیں گے۔ کانگریس کو یہ بات بہت ناگوار گزری ہے۔ اپنے غیر ملکی دورہ کے دوران انہوں نے کئی اہم معاہدوں پر دستخط کئے۔ اپنی مقبول تقریروں سے دیش کی شان بڑھائی اور جشن کے ماحول میں تارکین وطن ہندوستانیوں کو خطاب کر ان کی چھاتی چوڑی کی۔ افسوس کے اتنے اچھے کاموں کے علاوہ اس دورہ کے دوران انہوں نے ایک چھوٹا سا ایسا کام کردیا، جس سے دیش کا کوئی فائدہ نہیں ہونے والا ۔ الٹے کچھ نقصان اور تنازعہ ضرور کھڑا ہوگیا ہے۔ مثلاً ایک جگہ انہوں نے یہ کہا کہ پہلے لوگ بھارت کو ’اسکیم انڈیا‘ کی شکل میں جانتے تھے، لیکن آگے سے وہ ’اسکلڈ انڈیا‘ کی شکل میں جانیں گے۔ اپنی تنقید سے ناراض کانگریس نے جوابی حملہ کیا ہے۔ مودی پر بھڑکی کانگریس نے اعلان کیا ہے کہ اب جس دیش کے دورہ پر مودی جائیں گے ان کے پیچھے پارٹی اپنے ترجمان یا سینئر لیڈر بھی بھیجے گی جس سے اس کا سخت جواب اسی سرزمیں پردیا جاسکے۔اگر اس طرح کی روایت شروع ہوتی ہے تو اس سے دیش کی ساکھ ملیامیٹ ہوگی۔ مودی نے فرانس، جرمنی اور کینیڈا کے اپنے حالیہ دورہ میں وہاں رہ رہے تارکین وطن ہندوستانیوں کی ایک میٹنگ میں اپنی تقریروں کے دوران کچھ ایسے طنز کئے جو سابقہ یوپی اے سرکار کے خلاف تھے۔ سابق مرکزی وزیر آنند شرما کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے غیر ملکی دوروں کے دوران تارکین وطن ہندوستانیوں کے سامنے کانگریس کے علاوہ سابق یوپی اے سرکار پر کیچڑ اچھالنے کا کام کرکے اپنے عہدے کی ساکھ اور وقار و دیش کا سنمان گھٹایا ہے۔ ایسا کرنے والے وہ پہلے وزیر اعظم ہیں۔ عموماً چناؤ کے وقت اس طرح کے الزامات درالزامات لگائے جاتے ہیں لیکن بیرونی ممالک میں پبلک اسٹیج پر اس طرح کے بیان ٹھیک نہیں ہوتے۔ آنند شرما نے یہ بھی الزام لگایا کہ مودی اپنے دوروں میں سچ نہیں بولتے۔انہوں نے مودی کے اس دعوے کو بھی مسترد کردیا جس میں انہوں نے کہا پچھلے42 سال سے بھارت کا کوئی وزیر اعظم کینیڈا نہیں آیا۔ شرما کا کہنا تھا کہ اس بات کے ثبوت ہیں کہ پانچ سال پہلے ہی وزیر اعظم منموہن سنگھ وہاں گئے تھے۔ سال2010ء میں مسٹر سنگھ کینیڈا کے پی ایم اسٹیفن ہارپر کی دعوت پر گئے تھے۔ اس دوران دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کی جانب سے مشترکہ بیان بھی جاری کیا گیا تھا۔ ہمارا خیال یہ بھی ہے کہ بیرونی ممالک میں بھارت کی ساکھ بڑھانے کی ضرورت ہے نہ کے گھٹانے کی۔ ہمیں اپنی کمزوریوں اور غلطیوں کو بیرونی ممالک میں اچھالنا نہیں چاہئے۔ اتنے سارے غیر ملکی سیاستداں بھارت کا دورہ کرتے ہیں، کیا ایک بار بھی ہم نے انہیں دیش کی پچھلی سرکار کے بارے میں کچھ کہتے ہوئے سنا ہے؟ امریکہ میں جارج ڈبلیو بش جتنا غیر مقبول لیڈر ہیں کوئی اور نہیں ہوا۔ ان کا تو پہلا چناؤ ہی فرضی بتایا گیا تھا، اس کے باوجود براک اوبامہ نے جارج بش کے بارے میں کوئی قابل اعتراض بیان نہیں دیا۔غیر ملکی سرزمیں پر مودی جی یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ وہ وہاں بھاجپا نیتا کی حیثیت سے نہیں گئے بلکہ وہ وہاں دیش کے وزیر اعظم کی حیثیت سے گئے ہیں اور انہیں عہدے کے وقار کا خیال رکھنا چاہئے۔
(انل نریندر)

مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے نئے سکریٹری جنرل سیتا رام یچوری

ایتوار کے روز مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی نے اتفاق رائے سے مسٹر سیتا رام یچوری کو پارٹی کا سکریٹری جنرل چن لیا ہے۔اتحاد کی عام سیاست میں اچھی پکڑ رکھنے والے سیتا رام یچوری کو پارٹی کی 21 ویں کانگریس کے آخری دن ایتوار کو 91 ممبری سینٹرل کمیٹی اور 16 ممبری پولٹ بیورو کے چناؤ کے ساتھ ساتھ پارٹی سکریٹری جنرل چنا گیا۔ 62 سالہ سیتا رام یچوری نے 2005ء سے سکریٹری جنرل رہے پرکاش کرات کی جگہ لی ہے۔ یچوری کے انتخاب کے بعد پرکاش کرات نے بھی میڈیا کو اس بارے میں جانکاری دی۔ انہوں نے بتایا پارٹی نے بلا اختلاف جنرل سکریٹری چننے کی روایت کو برقرار رکھا۔ یچوری نے ایسے وقت پارٹی کی کمان سنبھالی ہے جب پارٹی کے ستارے گردش میں ہیں۔ ایک طرح سے پارٹی اپنے وجود اور سیاسی اہلیت کو بچانے کیلئے جدوجہد کررہی ہے۔ پرکاش کرات کی لیڈر شپ میں پارٹی کا کافی زوال ہوا۔ مغربی بنگال جیسی ریاست میں جہاں سورگیہ جیوتی بسو نے 33 سال تک حکومت چلائی، مارکسوادی پارٹی کو ممتا بنرجی کے ہاتھوں اس کو منہ کی کھانی پڑی۔سیتا رام یچوری ایک سلجھے ہوئے شخص ہیں جن کا ہندوستانی سماج اور سیاست احترام کرتی ہے اور ان کے وقت میں ان کے سیاسی حریف بھی قائل رہے ہیں۔وہ پرکاش کرات کی طرح دقیانوسی نظریئے کے نہیں ہیں۔ سنگھرش کو لیکر ان کی لمبی تاریخ ہے۔ ان کے رویئے میں لچیلا پن ہونا بھی ان کی خوبی ہے۔ دہلی سے سیتا رام یچوری کا قریبی رشتہ رہا ہے وہ جے این یو اسٹوڈینٹ فیڈریشن کے صدر بھی رہے اور آج بھی ان کا جے این یو میں بہت احترام ہے۔ بیشک پرکاش کرات کے مقابلے میں سیتا رام یچوری زیادہ خوش مزاج اور سادہ مانے جاتے ہیں لیکن انہوں نے پارٹی کی کمان ایسے وقت میں سنبھالی ہے جب مارکسوادی پارٹی سمیت سبھی لیفٹ پارٹیاں حاشیے پر نظر آتی ہیں۔ اس لئے انہیں دو طرفہ چنوتیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایک تو چناوی حکمت عملی میں پارٹی کو جیت دلانا دوسرا نوجوانوں کو بھی پارٹی سے جوڑنا۔ پچھلی ایک دہائی میں پرکاش کرات نے پارٹی کی لٹیا ڈوبادی۔ 2005ء میں مارکسوادی پارٹی کے لوک سبھا میں 43 ممبر ہوا کرتے تھے جو گھٹ کر محض9 رہ گئے ہیں۔ لیفٹ پارٹیوں کی تین ریاستوں میں سرکاریں تھیں لیکن اب صرف تریپورہ میں ہی ہے، وہ بھی تریپورہ کے وزیر اعلی کی بدولت۔ سیتا رام یچوری کے صنعت کاروں سمیت سماج کے ہر طبقے کے ساتھ بہتر تعلقات ہیں۔ پارٹی لیڈروں کے ساتھ اچھے تعلقات خاص کر مغربی بنگال کے لیڈروں کے ساتھ۔12 اگست1952ء میں مدراس میں پیدا ہوئے سیتا رام یچوری نے حیدر آباد سے اسکولی تعلیم حاصل کی اور دہلی کے پریسیڈنٹ اسٹیٹ اسکول میں اسکول کی تعلیم پوری کی۔ سی بی ایس ای امتحان میں ٹوپر رہے۔ دہلی کے سینٹ اسٹیفن کالج میں معاشیات میں ڈگری حاصل کی اور وہ ہر مضمون میں اول رہے۔ جے این یو سے ایم اے کیا لیکن ایمرجنسی کی وجہ سے پی ایچ ڈی نہیں کرپائے۔ بیحد ملنسار، خوش اخلاق مزاج کے یچوری کے چاہنے والے راجدھانی میں بڑی تعداد میں ہیں۔ ان کو مارکسوادی پارٹی کا سکریٹری جنرل چنے جانے پر دہلی یونیورسٹی ، جے این یو اساتذہ ہی نہیں طالبعلم بھی زبردست طریقے پر مبارکباد دے رہے ہیں۔2016ء میں مغربی بنگال میں اسمبلی چناؤ ہونے ہیں، سیتا رام یچوری کی پہلی چنوتی ہوگی یہاں پارٹی کو اقتدار میں دوبارہ لانا۔ چیلنج بھرے اور مشکل وقت میں سیتا رام یچوری نے کمان سنبھالی ہے۔ ان کے سکریٹری جنرل چنے جانے پر ہم بھی اپنی مبارکباد دینا چاہتے ہیں۔
(انل نریندر)

21 اپریل 2015

اپنوں کے ساتھ ساتھ اب اسمرتی ایرانی اپوزیشن کے نشانے پر

وزیر انسانی وسائل ترقی اسمرتی ایرانی ایک بار پھر سرخیوں میں چھائی ہوئی ہیں۔ اپنے طریقۂ کار کو لیکر بھاجپا اور حکومت کے اندر احتجاج جھیل رہی اسمرتی ایرانی کے خلاف اب اپوزیشن بھی کھل کر سامنے آگئی ہے۔ بھاجپا کی قومی ایگزیکٹو میں جگہ نہ ملنے کے بعد اسمرتی ایرانی کو دوسرا جھٹکا اپنی پارٹی سے ہی لگا ہے۔ مسلسل10 مہینے کی کوشش کے باوجود اب ان کی پسند کے اسپیشل آفیسر آن ڈیوٹی (او ایس ڈی) کو سرکار نے منظوری نہیں دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہی 10 مہینے سے رسمی طور پراس عہدے پر کام کررہے سنجے کائرو کو وزارت آنے سے بھی منع کردیا گیا ہے۔ تقریباً 10 مہینے پہلے بھی اسمرتی ایرانی کی طرف سے یہ درخواست بھیجی گئی تھی لیکن تب بھی اس سے انکار کردیا گیا تھا۔ اس تقرری کو این ڈی اے سرکار کی سب سے نوجوان کیبنٹ وزیر بنی اسمرتی ایرانی کی اہمیت کے ساتھ جوڑ کر اس لئے دیکھا جارہا ہے کیونکہ پچھلی بار کائرو تقرری کی اجازت نہ ملنے کے باوجود انہوں نے کائرو کو اپنے دفتر میں بنائے رکھا تھا۔ حکومت اور بھاجپا کے اندر ہی اس پر سوال اٹھ رہے تھے۔ اب تک ان سوالوں کے درمیان اتنے مہینوں تک کائرو وزارت میں باقاعدہ طور پر بنے رہے۔ اگر اس بار سرکار میں دوسری سطح پر یہ کہہ دیاگیا ہے کہ کائرو کو وزارت سے دور رکھا جائے۔ پسندیدہ سنجے کائرو کے معاملے میں پی ایم او کے سخت احکام سے اپوزیشن ممبران کا حوصلہ بڑھ گیا ہے۔ اسمرتی ایرانی کے طریقۂ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے چار راجیہ سبھا ممبران پارلیمنٹ جنتا دل (یو) کے کے۔ سی تیاری، کانگریس کے راجیو شکلا، ماکسوادی پارٹی کے ڈی ۔ راجہ اور این سی پی کے ڈی پی ترپاٹھی نے مشترکہ طور سے ایک خط لکھا ہے۔ خط میں صدر اور وزیر اعظم سے اسمرتی کی وزارت میں مداخلت کرنے کی مانگ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جنتا کے مفادات کی ہمیشہ حفاظت ہونی چاہئے۔ نالندہ، تکشلا جیسے اہم دیش کے قدیم تعلیمی اداروں کا حوالہ دیتے ہوئے ممبران پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ دیش کی ترقی اور اس کی افادیت تعلیمی سسٹم پر ہی منحصر کرتی ہے۔ اس معاملے پر کے۔ سی تیاگی کا کہنا ہے کہ دہلی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا معاملہ ہو یا آئی آئی ایم کے ڈائریکٹر کی تقرری کا معاملہ ، ہر جگہ گڑ بڑ گھوٹالہ ہورہا ہے۔ آئی آئی ٹی کے ڈائریکٹروں کی تقرری میں بھی لوگوں کو نیچا دیکھنا پڑ رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسمرتی کے طریقہ کار کی وجہ سے انسانی وزارت ترقی کے سینئر افسر بھی دہشت میں رہتے ہیں۔ 10 ماہ کے عہد میں ان کے محکمے سے جوائنٹ سکریٹری سطح کے 7 افسر انفارمیشن اینڈ پبلسٹی محکمے کے 2 اور ان کے نجی اسٹاف میں سے ایک افسر اپنا تبادلہ کروا چکے ہیں۔ ادھر اسمرتی ایرانی کی تعلیم کا معاملہ بھی عدالت میں پہنچ گیا ہے۔دائر عرضی میں ان پر چناؤ کے دوران داخل حلف نامے میں اپنی تعلیم کے بارے میں غلط جانکاری دینے کا الزام لگایا ہے۔ پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں میٹروپولیٹن مجسٹریٹ آکاش جین کے سامنے داخل عرضی پر مختصر سماعت ہوئی عدالت نے شکایت دیکھنے کے بعد کہا کہ معاملہ ہائی پروفائل ہے معاملے میں کیس فائل کی اسٹڈی کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا وہ فائل کو دیکھنے کے بعد معاملے میں مفصل سماعت کریں گے۔اس معاملے میں25 اپریل کو سماعت ہوگی۔ یہ عرضی اے۔ خان نامی شخص نے دائر کی ہے۔ شکایت کنندہ کا الزام ہے کہ اسمرتی ایرانی نے جو لوک سبھا چناؤ کے دوران حلف نامہ پیش کیا تھا اس میں انہوں نے اپنی تعلیم کے بارے میں غلط جانکاری دی ہے۔
(انل نریندر)

سینٹ اسٹیفن کالج میں طالبعلم بنام پرنسپل لڑائی

پچھلے کچھ دنوں سے دہلی کا نامور کالج سینٹ اسٹیفن ان دنوں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔میرے اور ہزاروں سینٹ اسٹیفن کالج میں پڑھے لوگوں کے لئے یہ انتہائی دکھ کا موضوع ہے۔ اگر ہمارا کالج کسی شاندار کارنامے کے لئے سرخیوں میں رہتا ہے تو بھی بات تھی لیکن یہاں تو پرنسپل بنام طالبعلم لڑائی کی وجہ سے کالج سرخیوں میں چھایا ہوا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے سینٹ اسٹیفن کالج کے پرنسپل والسن تھمپو کو جھٹکا دیتے ہوئے آن لائن میگزین سینٹ اسٹیفن ویکلی کے معاون بانی و مدیر اوردرشن شاستربی ۔ اے سال سوم کے طالبعلم دیبانش مہتہ کی معطلی کے حکم پر روک لگادی ہے۔ اتنا ہی نہیں عدالت نے مہتہ کو رائے صاحب بنارسی داس میموریل ایوارڈ سے محروم کرنے کے معاملے میں بھی ان کو نظرانداز کر یہ ایوارڈ کسی دوسرے کو دینے سے بھی منع کردیا گیا ہے۔ غور طلب ہے کہ 15 اپریل کو سینٹ اسٹیفن کے پرنسپل کے ذریعے مقرر ایک نفری جانچ کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر 23 اپریل تک مہتہ کو معطل کردیاگیاتھا۔ کمیٹی نے اسے ڈسپلن کی خلاف ورزی کا قصوروار ٹھہرایا تھا۔ جسٹس راجیو شکدھر نے مہتہ کے ذریعے اپنی معطلی کو چیلنج کرنے والی عرضی کی بنیاد پر دہلی یونیورسٹی و پرنسپل تھمپو و پروفیسر سنجے شاہ کو نوٹس جاری کر 21 مئی تک عدالت میں جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ ہمارے کالج کے افسران نے جس طریقے سے اس معاملے سے نپٹا ہے وہ یہ دکھاتا ہے کہ ہماری اظہار آزادی کو دبایا جارہا ہے۔ سماعت کے دوران دیبانش مہتہ کی تعریف سے کورٹ کو بتایا گیا کہ کالج نے دیبانش کو صرف اس وجہ سے معطل کیا کیونکہ دیبانش نے کالج سے وابستہ ایک میگزین نکالی تھی۔ اس میگزین کیلئے کالج کے پرنسپل والسن تھمپو کا انٹرویو بھی کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ انٹرویو دکھا کر چھاپنا۔ لہٰذ ا ان کو چھاپنے سے پہلے انٹرویو کی کاپی بھیجی گئی لیکن کئی گھنٹے کے بعد بھی ان کا اس پر کوئی جواب نہیں آیا جس کے بعد وہ انٹرویو جوں کا توں چھپ گیا۔ تھمپو کو یہ بات ناگوار گزری اور انہوں نے دیبانش کے خلاف ایک نفری کمیٹی بنا دی۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں دیبانش کو قصوروار قراردیا۔ دیبانش نے اس کے خلاف اپنی بات میڈیا میں رکھی اس کے بعد کالج نے دیبانش کے خلاف ڈسپلن شکنی کی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے اسے کالج سے 23 اپریل تک معطل کردیا۔ معاملے کی سماعت کے دوران یونیورسٹی کے وکیل نے دلیل پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں دیبانش قصوروار ہے۔ اس کو کوئی راحت نہیں دی جانی چاہئے کیونکہ اس نے کالج کے ڈسپلن کو توڑا ہے۔ عدالت نے اس دلیل کو خارج کردیا اور دیبانش کی حمایت میں گذشتہ جمعہ کو کئی طلبا انجمنوں نے سینٹ اسٹیفن کالج کے باہر مظاہرہ کیا۔ اس دوران طلبا نے کالج کے پرنسپل اور کالج کے انتظامیہ پر منمانی کا الزام لگاتے ہوئے جم کر نعرے بازی کی۔ کافی تعداد میں پہنچے طلبا اورطالبات نے کافی دیر تک بینر پوسٹر لیکر مظاہرہ کیا۔ دیبانش اظہار آزادی کی لڑائی جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ مانتے ہیں کہ کورٹ سے ملی راحت کے بعد اب معاملہ تقریباً سلجھ گیا ہے۔ ادھر پرنسپل تھمپو نے کہا کہ وہ کورٹ کے حکم کی تعمیل کریں گے۔ ہم سابق سینٹ اسٹیفن کے طالبعلموں کیلئے یہ لڑائی تکلیف دہ ہے۔
(انل نریندر)

19 اپریل 2015

جموں و کشمیرمیں بھاجپا کا تجربہ فیل ہوتا دکھائی دینے لگاہے

دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی لیڈر شپ میں جموں و کشمیر میں مفتی محمد سعید کی پارٹی پی ڈی پی کے ساتھ سرکار بنا کر خودکشی کا قدم اٹھایا ہے۔ پی ڈی پی کی حکومت کے آنے سے علیحدگی پسندوں کے حوصلے بڑھ گئے ہیں۔ دیش میں یہ تصور خواب میں بھی نہیں کیا ہوگا کہ ایک دن جموں وکشمیر کی حکومت میں بھاجپا سانجھے دار بنے گی اور اس کے زمانے میں سرینگر میں کھلے عام پاکستان زندہ باد کے ساتھ وہاں کا جھنڈا بھی لہرایا جائے گا۔ حالانکہ اس کے اشارے تبھی مل گئے تھے جب وزیر اعلی بننے کے بعد مفتی محمد سعید نے پہلا کام پاکستانی آتنکیوں اور علیحدگی پسندوں کی شان میں قصیدہ پڑھنے اور پورے دیش کی فکر کو نظر انداز کرتے ہوئے دہشت گرد مسرت عالم کو سلاخوں سے آزاد کرنے کا کام کیا تھا۔ قبر میں پاؤں لٹکائے حریت نیتا گیلانی کو جانشین کی سخت ضرورت تھی اور مفتی نے مسرت کا تحفہ سونپ کر یہ کسر پوری کردی۔ پوری دنیا میں متوقع طور پر بھارت اکیلا ایسا دیش ہوگا جو کھلے عام ملک دشمن حرکت کرنے والوں اور بھارت کے خلاف دہشت گردی کی حمایت و پاکستان نواز نعرے لگانے والے لیڈروں کی جماعت کو نہ صرف سکیورٹی فراہم کرتا ہے بلکہ انہیں پانچ ستارہ ہوٹل کی سہولیات بھی مہیا کراتا ہے۔ حریت کانفرنس میں شامل تنظیموں کے لیڈروں کو بھارت سرکار پچھلی دو دہائی سے بھی زیادہ وقت سے وہ ساری سہولتیں دیتی ہے جو کسی بھی قومی سطح کے حب الوطن نیتا کو فراہم کرائی جاتی ہیں۔ ان علیحدگی پسندوں کے مفتی کے آنے کے بعد حوصلے آسمان چھو رہے ہیں۔ ان پاکستانی پٹھوؤں کو مفتی کے دوہرے چہرے کا بخوبی اندازہ ہے۔ ابھی پچھلے دنوں دختران ملت نام کی علیحدگی پسند تنظیم نے مٹھی بھر عورتوں کو جمع کر اسی طرح سرینگر کو پاکستانی جھنڈے سے ناپاک کیا تھا۔ مفتی اپنے ایجنڈے پر چل رہے ہیں۔ سوال تو یہ ہے کہ بھاجپا کیا کررہی ہے؟ وہ سرکار میں حصے دار تو ہے لیکن لگتا ہے اس سے کچھ بھی نہیں پوچھا جاتا اور مفتی بغیر صلاح مشورہ کئے ایک کے بعد ایک قدم اٹھاتے جارہے ہیں جس سے ان پاکستانی پٹھوؤں کے حوصلے بڑھتے جارہے ہیں۔ جموں خطے میں بھاجپا نمبرون پارٹی ہے لیکن دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ سب سے زیادہ نظرانداز جموں خطے کو کیا جارہا ہے۔ بھاجپا کو بھی جموں خطے کی کوئی فکر نہیں ۔ وہاں کی عوام نے اس امید سے بھاجپا کو جتایا تھا کہ وہ خطے کی ترقی اور ڈولپمنٹ پر توجہ دے گی لیکن پی ڈی پی کی پچھل پنگو بن کر بھاجپا لیڈر شپ اپنی حمایتیوں کے پاؤں پر کلہاڑی مار رہی ہے۔ آج جس طریقے سے جموں و کشمیر میں اتحادی حکومت چل رہی ہے اس سے تو بھاجپا کے تمام حمایتی بہت مایوس ہیں۔ کیا مودی شاہ کی جوڑی نے یہ اتحادی سرکار اس لئے بنائی تھی کہ منظم سازش کے تحت بھیڑ اکھٹی کر دنیا کے سامنے بھارت کے آئین اور سرداری کی دھجیاں اڑائی جائیں؟ بھاجپا مودی سرکار کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔ اس کے سیاسی استعمال جموں و کشمیر کی ان کامیابیوں کو نہ چھیننا شروع کردیں جو ہمارے جوانوں نے خون بہا کر حاصل کی ہیں۔ مرکزی سرکار کا رول بھی محض ناخوشی کا اظہار کرنے سے ختم نہیں ہوجاتا۔ انہیں عمل میں آتا دیکھنا ہوگا۔
(انل نریندر)

کیا راہل گاندھی پارٹی کو اس بحران کے دور سے نکال سکتے ہیں

محاسبہ کرنے کیلئے چھٹی پر گئے کانگریس نائب صدر راہل گاندھی 58 دن کی چھٹی کے بعد جمعرات کو لوٹ آئے۔ پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن سے پہلے ہی کانگریس نائب صدر چھٹی لیکر بیرون ملک چلے گئے تھے۔ صبح11.15 بجے راہل بنکاک سے تھائی ایئر ویز کی فلائٹ لیکر دہلی آئے۔ ایئرپورٹ سے وہ سیدھے سرکاری رہائشگاہ پہنچے جہاں کانگریس صدر سونیا گاندھی اور ان کی بہن پرینکا گاندھی واڈرا پہلے سے ہی موجود تھیں، حالانکہ اس دوران انہوں نے میڈیا سے کوئی بات نہیں کی۔ کافی عرصے سے راہل حمایتی ان کے لوٹنے اور کمان سنبھالنے کا بے صبری سے انتظارکررہے تھے۔لیکن دوسری طرف کانگریس میں ایسے لیڈروں کی تعداد مسلسل بڑھتی دکھائی دے رہی ہے جن میں سے کچھ اشاروں میں تو کچھ کھل کر راہل کی صلاحیتوں پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ اس فہرست میں تازہ نام دہلی کی وزیر اعلی شیلا دیکشت کا جڑ گیا ہے۔ شیلا جی نے راہل گاندھی کی لیڈر شپ پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا کہ سونیا گاندھی کو ہی پارٹی کی قیادت سنبھالے رکھنا چاہئے۔ حال ہی میں پنجاب کے سابق وزیر اعلی کیپٹن امرندر سنگھ نے بھی اس طرح کے الزام لگائے تھے۔ یہ دونوں ہی گاندھی خاندان کے بیحد قریبی مانے جاتے ہیں۔ شیلا دیکشت نے سونیا گاندھی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ذمہ داریوں سے نہیں بھاگتیں۔ پارٹی اپنے آپ کو اقتدار میں دوبارہ واپسی کے لئے انہی پر منحصر رہ سکتی ہے۔ ان کے بیٹے سابق ایم پی سندیپ دیکشت نے بھی کچھ دن پہلے راہل کے خلاف بیان دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ راہل قابل ہیں لیکن سونیا بیسٹ ہیں۔ شیلا کے الفاظ بھلے ہی نرم گو ہوں لیکن ان کا احساس اتنا ہی تلخ ہے جتنا راجستھان، کرناٹک اور گجرات کے ان کانگریسیوں کا تھا جو لوک سبھا چناؤ کی کراری شکست کے بعد راہل کی لیڈر شپ پر سوال اٹھا کر پارٹی سے باہر کا راستہ دیکھ چکے ہیں۔شیلا کی بات کا بھی لب و لباب یہی ہے کہ جمہوریت میں لیڈر شپ کی کسوٹی چناؤ میں پارٹی کو کامیابی دلانا ہی ہے۔ اس مورچے پر راہل کا اشتراک کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ لوک سبھا چناؤ میں تاریخی ہار کے صدمے میں مبتلا رہی پارٹی کے لئے یہ ایک ایسا موقعہ تھا جب وہ پارلیمنٹ سے لیکر سڑک تک مودی سرکار کو گھیر سکتی تھی مگر راہل گاندھی کے اچانک پس منظر سے غائب ہوجانے کے سبب پارٹی کی ساری یوجنا پر پانی پھر گیا۔ انہوں نے تحویل اراضی بل پر اپوزیشن کو متحد کیا اور شمالی بھارت میں ربیع کی فصل پر قہر کی شکل میں زالہ باری، آندھی طوفان اور بارش سے متاثرہ ریاستوں کا دورہ کر متاثرہ کسانوں کو تسلی دینے کا کام بھی سونیا گاندھی کو ہی کرنا پڑا۔ ان کے سینئر کانگریسیوں کا طبقہ سونیا کو ہی پارٹی کا صدر بنائے رکھنے کا حامی ہے۔ ان کے مطابق پارٹی تاریخ کے مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ ایسے میں سونیا جیسی سلجھی لیڈر ہی پارٹی کو بحران سے نکال سکتی ہے۔ راہل میں تجربے کی کمی ہے اور ہجرت کر جانے کی عادت ہے اس لئے ان کے ہاتھوں میں پارٹی کی باگ ڈور سونپنا ٹھیک نہیں ہوگا۔ فی الحال راہل کے حمایتیوں کی امید یں19 اپریل یعنی آج ہونے والے پارٹی کے پروگرام میں ان کی موجودگی پر ٹکی ہیں۔ مودی کو راہل ٹکر دے پائیں گے اس میں شبہ ہے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...