Translater

14 مئی 2022

مہنگا ئی بڑھنے پر ہم وزن کم کردیتے تھے !

مہنگائی کی مار سے اب کمپنیا ں بھی دوچار ہونے لگی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ کنزیومر چیزیں بنانے والی کمپنیا ں بھی اپنے برانڈ کے پیکٹ کو چھوٹے اور وزن کم گھٹانا شروع کر دیا ہے ۔ پارلے جی بسکٹ بر طانیہ جیسی کمپنیاں بازاروں میں پکڑ بنائے رکھنے کیلئے چھوٹے پیکٹ میں سامان فروخت پر زیا دہ زور دیتے ہیں ۔ ان کی کل فروخت میں سامان کی 40سے 50فیصدی حصہ داری ہے ۔ حالاںکہ مہنگی غذائی اجناس تیل ،چینی اور گیہوں کی قیمت بڑھنے کے سبب ان کمپنیوں نے دو روپے سے لیکر دس روپے تک کے چھوٹے پیکٹ کے وزن میں کٹوتی کر دی ۔ پچھلے چھ مہینوں میں پارلے جی بسکٹ کے دس روپے والے سبھی پیکٹ کے وزن کو گھٹاکر 7سے 8فیصد مہنگا کر دیا ہے ۔ پارلے پروڈکٹس کے سینئر چیف ایگزیکٹو کرشن رام بودھ کا کہنا ہے کہ چھوٹے پیکٹ کا پرڈکشن کا فی چیلنج بھرا ہے کیوں کہ اس میں ہونی کمائی زیا دہ نہیں ہے۔ اور جہاں تک ممکن ہے ہم پیکٹ کا وزن کم کرتے ہیں اور اسی طریقے سے ہم بازار میں ٹکے ہوئے ہیں ۔ دس روپے سے زیا دہ قیمت والے پیکٹ کی قیمتوں میں ہم آہستہ آہستہ اضافہ کرتے ہیں ۔ اس مہنگائی سے کنبے والوں کے خرچ کا بوجھ بڑھ رہا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خوردہ کے مقابلے تھوک قیمتیں تیزی سے بڑھی ہیں۔یہی حال دوسری بسکٹ کمپنی پریا گولڈ فوڈ بنا نے والی کمپنی ایبرے کا کہنا ہے کہ مہنگا ئی کے سبب کمپنیوں کا چلانا مشکل ہو رہا ہے۔ کمپنی کے ڈائریکٹر شیفر اگروال کا کہنا کہ مہنگائی بڑھنے پر وزن کم کر دیتے تھے لیکن اب یہ طریقہ کارگر نہیں ہے ۔پانچ روپے والے پیکٹ کی قیمت بڑھا کر دس روپے کیا جا سکتا ہے یا اس قیمت کا بسکٹ پیکٹ بند ہی کر دیا جائے ۔ پارلے جی کا کہنا ہے کہ مارچ میں چینی کی قیمتوں میں سات فیصدی اضافہ ہوا ہے اور پیکٹ بنانے اور دوسرے سامان کے داموں میں 20سے 22فیصدی کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ (انل نریندر)

تاج محل یاتاجو محل ؟

الہ آباد ہائی کو رٹ کی لکھنو¿ بنچ میں ایک عرضی داخل کی گئی ہے جس میں آثار قدیمہ ہند (اے ایس آئی ) آگرہ میں وقع تاج محل کے اندر بنے 20کمروں کو کھولنے کا حکم دینے کی مانگ کی گئی ہے جس سے یہ پتہ لگا یا جا سکے کہ وہاں ہندوں مورتیاں اور نقاشی ہے یا نہیں ؟ یہ عر ضی بھاجپا کے ایودھیا ضلع کے میڈیا انچارج ڈاکٹر رجنیت سنگھ کی طرف سے داخل کی گئی تھی 10مئی یعنی منگلوار کو عرضی پر آگے سماعت ہوئی عرضی تاج محل کو تاجو محل بتاتے ہوئے سرکار سے اس حقیقت کی چھان بین کمیٹی قائم کرنے کی حکم دینے کیلئے مانگ کی گئی ۔ اس میں کہا گیا ہے کہ تاج محل کمپلکس کا سروے ضرور ی ہے جس میں شیو مندر ہونے کی اصلیت کا پتہ لگایا جا سکے ۔ کمیٹی ان کمروں کی جانچ کرے تاکہ صحیح تصویر سامنے آسکے کہ وہاں ہندو مورتیاں یا نقاشی ہونے کا ثبوت ہے یا نہیں؟ مورخوں کاحوالہ بھی دیا گیا ہے ۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ تاج محل کی چار منزلہ عمارت کی اوپری اور نچلے حصے میں 20کمرے ہیں جو مستقل طور سے بند ہیں ۔ اور کئی مورخوں کا خیال ہے کہ ان کمروں میں شیو کا مندر ہے ۔حالاںکہ یہ کمرے پہلے کبھی کھلے ہی نہیں اس بارے میںفی الحال کوئی جانکاری نہیں ہے ۔ تاج محل کو لمبے عرصے سے ہندوتو وادی تنظیم تاج محل کو تاجو محل ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں ۔ اور کئی ہندو تنظیموں کی طرف سے ساون کے مہینے میں تاج محل میں شیو آرتی کر نے کی بھی کوشش کی گئی ۔ پچھلے دنوں جگت گرو پرم ہمسہ چاریہ بھی تاج محل کو تاجو محل ہونے کا دعوے کے ساتھ وہاں پر شیو پوجا کرنے کی بات پر اڑے ہوئے تھے ۔ یہ اشو کافی تنا زعات کا مو جب بنا تھا۔ (انل نریندر)

پاکستان کی داغی نئی سرکار !

ہندوستان کے پڑوسی ملکوں میں سیا سی عدم استحکام کا دور جار ی ہے چاہے سری لنکا ہو یا پاکستان دونوں ہی ملکوں میں نئی حکومتیں بن گئی ہیں ۔پاکستان کی بات کر تے ہیں وہاں شہباز شریف کے دامن پر بھی داغ ہے اور وہ خود کئی گھوٹالوں اور بے ضابطگیوں سمیت چار بڑے الزامات ہیں ۔ ویسے شہباز خود کو بے گنا ہ بتاتے ہیں ۔لیکن ایک مجرمانہ کیس میں وہ ضمانت پر باہر ہیں ۔ پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر راجا پرویز اشرف پر پاور پروجیکٹ میں رشوت لینے کے الزام ہے ۔ شہباز کے بیٹے اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہمزہ شریف پر بھی کرائم معاملوں کی ایک لمبی فہرست ہے ۔ ہمزہ اور شہباز دونو باپ بیٹے پر کرپشن اور منی لانڈرنگ کے کیس ہیں۔پاکستان کے وزیر داخلہ رانا ثنا ءاللہ کو 2019میں ڈرگ معاملے میںگرفتار ہو چکے ہیں ۔ اور چھ مہینے سزا کاٹ چکے ہیں ۔ شہباز شریف کی سرکار میں وزیر پلاننگ مہتاب اقبال کو ایک اسپورٹس کمپکس کی تعمیر کے گھٹالے میں ملوث پاکر مقدمہ درج کیا گیا ۔ بعد میں انہیں عدالت سے ضمانت ملی ہوئی ہے۔شہباز شریف پر چار بڑ ے مقدمے چل رہے ہیں ان میں ہاو¿سنگ کا معاملہ بھی شامل ہے2010میں اس معاملے میںآشیا نہ اسکیم کے ٹھیکے کو ختم کر دیا جس کے سبب 19کر وڑ روپے کا نقصا ن ہوا ۔ پاکستان نیشنل اکاو¿نٹ بیورو میں شہباز کو اس کا قصوروار ٹھہرایا گیا ہے ۔ دوسرا معاملہ آمدنی سے زیا دہ اثاثے کا ہے ان کے خاندان کے دیگر افراد کے پاس بھی آمدنی سے زیادہ پروپر ٹی پائی گئی ہے ۔اور ان کے خاندان کی تقریباً 23پروپرٹیوں کو پروف کیا گیا ۔ تیسرا معاملے رمضان شوگر مل سے جڑا ہے ۔ نیشنل اکاو¿نٹبل بیو رو کے مطابق پنجا ب کا وزیر اعلیٰ رہنے کے دوران شہباز شریف نے اپنے بیٹو ں کو شوگر مل کے الاٹمنٹ میں گڑ بڑی کی تھی ۔بیو رو کے مطابق شہباز اور ان کے بیٹے ہمزہ نے پاکستان سرکار کے خزانے پر 21کروڑ کا نقصان کیا تھا۔ ایسے ہی چوتھا معاملہ ہودمبکا پیپر س ملز سے جڑا ہے ۔ اس میں شہبا ز شریف پر الزام ہے کہ انہیں نواز شریف کے سمدھی اسحاق ڈار سے اربوں روپے کی رقم غیر قانونی کھاتوں سے ملی ۔ ویسے لاہو ر ہائی کورٹ نے بعد میں شہباز شریف کے خلاف عر ضی کو خارج کر دیا تھا دل کش حقیقت یہ ہے کہ شہباز شریف نے بطور وزیر اعظم جس دن حلف لیا تھا انہیں اسی معاملے میںمقامی عدالت پیش ہونا تھا ۔عمران خاں نے پیپر ملز گھوٹالے میں شہباز کا نام آنے پر اشو بنا یا تھا کہ اس معاملے میں انہیں کیسے ضمانت ملی ۔پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے خاص مشیر حنیف عباسی جولائی 2018میں نارکوٹکس کے ایک معاملے میں کئی مہینے جیل کاٹ چکے ہیں۔ سمدھی کو نچلی عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی تھی ۔ ہائی کورٹ نے 2019میں عباسی کو رہا کر دیا ۔ عمران کی پارٹی نے عباسی کی تقرری کے خلاف کورٹ میں عر ضی لگائی ہوی ہے ۔ (انل نریندر)

12 مئی 2022

ٹینی اگرتحمل برتتا تو کسانوں کی جان نہ جاتی !

الہ باد ہائی کورٹ کی لکھنو¿ بنچ نے مرکزی وزیر مملکت داخلہ اجے مشرا عرف ٹینی کے لڑکے آشیش مشرا عرف مونو کی بینہ شمولیت سے لکھیم پور کھیر تشد د کے چا ملزمان : لو کش ، انکت داس ، سمت جیسوال اور شیشو پال کی ضمانت عر ضی کو خارد کر دیا ۔ اس درمیان آشیش مشرا کی عرضٰی پر سماعت 25مئی تک ملتوی کر دی گئی ۔ جسٹس ونیش کما ر سنگھ کی سنگل بنچ نے چاروں ملزما ن کی ضمانت عرضی خارج کرتے ہوا کہا کہ یہ سبھی اہم ملزم آشیش کے ساتھ سرگرم طور سے پروگرام بنانے اور گھنا و¿نے جرم کو انجا م دینے شامل رہے ۔ عدالت نے کہا کہ معاملے کے سبھی ملزم سیاسی طورسے خاص طور سے رسوخ والے ہیں اور یہ ضمات پر چھوٹنے کے بعد اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ثبوتوں سے چھیڑ چھاڑ نہیں کریں گے اور گواہوں پر دباو¿ نہین ڈالیں گے ۔ بنچ نے ایس آئی ٹی کے اس نتیجے کو بھی ذہن میں رکھا کہ اگر مر کز وزیر اجے ٹینی نے کچھ دن پہلے کسانوں کے خلاف جنتا کے بیچ کچھ تلخ بیان نہ دئے ہوتے تو ایسا واقعہ نہ ہوتا ۔ بنچ نے کہا کہ بڑے عہدوں پر بیٹھے سیا سی اشخاص کو بھی جنتا کے بیچ مہذب زبان میں بیان دینا چاہئے اور اپنے عہدے کے وقار کا خیال رکھنا چاہئے ۔جب نئے علاقے میں دفعہ 144لاگو تھی تو مرکزی وزیر کے گاو¿ں میں کشتی مقابلہ منسوخ نہ کیا جانا انتظام کوتاہی ہے ۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا ہے کہ نائب وزیر اعلی کے حلقے دفعہ 144کے لاگو ہونے کا احساس نہ ہوا ہوگا ۔پھر بھی مرکزی وزیر نے کشتی مقابلے میں شامل ہونے کا فیصلہ دوسری طرح معاملے کے اہم ملزم آشیش کی ضمانت عر ضی جسٹس کرشن بہل کی سنگل بنچ کے سامنے لگی تھی لیکن اس پر سماعت ٹل گئی ۔ واضح ہو کہ پچھلے سال 3اکتوبر لکھیم پور کھیری ضلع کے تینسکھیامیں تشدد کے دوران آٹھ لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ اس وقت مرکزی زرعی قانون کے خلا ف تحریک چلا رہے کسان اتر پر دیش کے نائب وزیر اعلی کیشور پر ساد موریہ کے علاقے میں دورے کی مخالفت کر رہے تھے ۔اس دوران چار کسانوں کو ایک کار نے کچل دیا ۔جس میں آشیش بیٹھا ہوا تھا۔ واردات سے آگ بگولہ کسانوں نے بھاجپا ورکروں کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا تھا۔اس تشدد میں کار ڈرائیور کی بھی موت ہو گئی تھی۔ (انل نریندر)

ہماچل میں خالصتانی جھنڈہ ، سیا ست دہلی میں!

ہماچل پر دیش اسمبلی کے باہر خالصتانی جھنڈے لگائے جانے کے معاملے میں عام آدمی پارٹی اور بی جے پی کے ایک دوسرے پر جم کر حملے بولے جا رہے ہیں اور جواب در جواب کی زبر دست سیاست چل رہی ہے ۔ دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسو دیا سے لیکر پارٹی ترجمان سوربھ بھاردواج ، ایم پی سنجے سنگھ و عآپ لیڈر آتشی نے بھاجپا کو گھیر تے ہوئے زور دار تنز کیا ہے۔ منیش سسو دیا نے ٹویٹ کر کے کہا کہ بے حد سخت حفاظت والے ہماچل پر دیش اسمبلی کمپکس پر خالصتانی جھنڈا لگانا سیکورٹی کی بہت بڑی ناکامی ہے ۔ ہماچل کے وزیر اعلیٰ کو فو راً استعفیٰ دے دینا چاہئے ۔ انہوں نے آگے کہا کہ پوری بھاجپا بگا کو بچانے میں لگی ہے۔ اور ادھر خالصتانی جھنڈے لگاکر چلے گئے ۔مگر سرکار اسمبلی نہ بچا پائی تو وہ جنتا کو کیسے بچائے گی ؟ بھاجپا سرکار پوری طرح سے فیل ہو گئی ہے ۔ عآپ کے چیف ترجمان سور بھ بھاردوج نے کہا کہ ہماچل اسمبلی کمپکس کے آس پا س خالصتانی جھنڈے لگانا دیش اور ہماچل پر دیش کیلئے شرم کی بات ہے ۔ بھاجپا اور پولیس جرائم پیشہ کو بچانے میں لگی رہے گی تو دہشت گرد اپنا جھنڈا لگانے سے کیسے رکیں گے ؟ اس مسئلے پر عآپ لیڈر آتشی کا کہنا تھا کہ اگر بھاجپا ایک اسمبلی کو محفوظ نہیں رکھ سکتی تو بھارت کے عوام کی حفاظت کیسے کر پائے گی۔ بھاجپا صرف اس میں لگی ہے کہ بلوائیوں کو کیسے بچایا جائے ۔اس لئے اسمبلی پر جو حفاظت ہونی چاہئے تھی وہ سیکورٹی نہیں ہے ۔ پارٹی کے سینئر لیڈر و راجیہ سبھا ایم پی سنجے سنگھ نے کہا کہ سب سے محفوظ جگہ ہماچل پر دیش اسمبلی ہے ۔یہاں جھنڈا لگا کے چلے جائیں یہ ریاستی سرکار اور بھاجپا کی ناکامی ہے ،بگا کو بچانے میںپور ی بھاجپا اور ان کی سرکاریں لگی ہیں تو وہ ہماچل پر دیش اور دیش کی حفاظت کیسے کریںگے۔ اسمبلی سب سے محفوظ جگہ ہوتی ہے اور خالصتانی جھنڈے لگاکر چلے گئے ،یہ واقعہ ہماچل کے لوگوں کیلئے تشویش بھرا ہے ۔خالصتانی جھنڈا لہرائے جانے کے وقعہ کے بعد کاروائی ہونی چاہئے تھی ۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ یہ صرف ہماچل پر دیش کی بات نہیں ہے ۔ پہلے جب بہار ایک تھا اور پٹنہ اور رانچی میں اسمبلی تھی ،ناگپور اور ممبئی میں ودھان سبھائیں تھیں یہ تو کئی بار ریاستوں میں اس طرح کا سسٹم ہے کہ الگ الگ جگہوں پر اسمبلی کے اجلاس چلتے ہیں ۔ اس کا مطلب اسمبلی ہے یا نہیں ؟ جے رمیش ٹھاکر پر مضحکہ خیز بات کہہ رہے ہیں ۔ کیبنٹ کے ایک وزیر کے پاس ہندستان میں جتنے گھر ہوتے ہیں اس کے سبھی گھروں پر حفاظتی انتظاما ت ہوتے ہیں ۔ اگر وزیر کیلئے سیکورٹی انتظام ہوتا ہے تو اسمبلی کیلئے بھی یہی ہوتاہے ۔جوابی حملہ کرتے ہوئے آدیش گپتا نے کہاکہ عام آدمی پارٹی کی پنجاب میں سرکار بننے کے بعد دیش کے اندر خالصتانی سر گرمیاں جس طرح سے بڑھتی جا رہی ہیں اس کا سیدھا کنیکشن پنجا ب سے نکلا ہے ۔ یہ دیش کیلئے خطرناک ثابت ہونے والا ہے ۔کیجریوال کی پارٹی ایک خالصتانی حمایتی پارٹی بن چکی ہے ۔خالصتان کے ایجنڈے پر چلنے والی سرکار آج دیش کے کئی ریاستوں میں خالصتانی سرگرمیوں کو انجام دے رہی ہے ۔ اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ جب سے عام آدمی پارٹ پنجاب میں بر سر اقتدار آئی ہے تب سے ہی خالصتانی تحریک پنجاب ودیگر ریا ستوںمیں یہ لوگ حاوی ہونے لگے ہیں۔سامنت وادی ذرائع نے تو کھلے عام الزام لگا یا ہے کہ عام آدمی پارٹی کو پنجاب چنا و¿ 2022جیتے کیلئے ہم نے غیر ملکی چندہ دیا ۔اور خالصتانی اب رنک دکھانے لگے ہیں ۔ پہلے پٹیالہ میں رنگ دکھایا اور آج دھرم شامہ میں امبلی کی دیوار پر خالصتانی جھنڈالگانا کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک تجربہ ہے۔ پنجاب سمیت دیش میں ہو رہی خالصتانی سرگرمیوں کو روکنے کی سخت ضرورت ہے۔ (انل نریندر)

11 مئی 2022

امریکی خفیہ سروس کی سیکورٹی میں سیندھ!

یہ واقعہ توڑا پرانا ضرور ہے لیکن بہت اہم ہے ۔ امریکہ میں پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے دو جاسوس گرفتار کئے گئے دونو ں امریکی حفاظت کاذمہ سنبھالنے والی سیکریٹ سروس سمیت خفیہ اور سیکورٹی مشینری میں سیندھ لگا چکے تھے ۔ دنیا کی سب سے تیز ترار ایجنسی میں سیندھ لگانے سے سنسنی پھیل گئی ۔ سیندھ پر ایک نظر ، سیکریٹ سروس نے 2012سے 2017تک وائٹ ہاو¿ س میں کئی خامیوں کا سامنا کر نا پڑا ۔ 2014میں ایک در اندازی یا باندھ سے کود کر وائٹ ہاو¿ س میں گھس گیا تھا ۔ بعد میں یہ پکڑ اگیا 2020میں فلوریڈا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ریزورٹ میں تین AK-47رائفل کے ساتھ تین لڑکے گھس گئے تھے ۔ حالاںکہ پولیس نے انہیں بھی گرفتار کر لیا تھا ۔ 2019میں چین کی یوزیانگ ڈونلڈ ٹرمپ کے یونٹ میں ناجائز طور سے داخل ہونے پر گرفتار کر لئے گئے تھے ۔ 2019میں چین کے صوبے شنگھائی کے باشندہ ایک عمر دراز بھی ٹرمپ کے ریزورٹ تک پہنچ گئی تھی اس نے کچھ فوٹو بھی لئے تھے اسے بھی گرفتار کر لیا گیا تھا ۔ واشنگٹن ڈی سی میں رہنے والے 40سالہ ایرین اور 75سالہ شخص حیدر علی سیکریٹ سروس کا ایجنٹ بن کر جاسوسی کر رہے تھے ۔ جاسوسوں میں ایف بی آئی ، بحریہ اور ڈیفنس حکام کو بھی جھانسا دیا تھا ۔ دونوں افراد وائٹ ہاو¿س اور پینٹاگان کے حساس ترین دستاویز چرانے کی فراق میں تھے ۔ ان کے پا س سے آئی فون سر ولانس سسٹم ، ڈرون ، ٹی وی اور رائفل اور بارودی چھڑیں بر آمد ہوئیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ خطرہ کتنا بڑا تھا ۔ واشنگٹن ڈی سی میں یہ جاسوس جہاں رہتے تھے اس اپارٹمنٹ میں ویڈیوں سرولانس میں لگا رکھا تھا ۔ وہاں رہنے والے ان کے جھانسے میں آ چکے تھے اور وہ کسی کا بھی فون استعمال کر سکتے تھے ۔ اور فلیٹ میں رہنے والے لوگوں کو مہنگے گفٹ دیتے تھے ۔ ایک جوسوس تارہ زادے ایرین نے بائیڈن کی سیکورٹی میں لگے ایجنٹ کو دو ہزار ڈالر کی اسالٹ رائفل خریدنے کی پیش کش کی تھی ۔ جاسوسی کین پارک والے اپنے چار ایجنٹوں کو معطل کر دیا تھا ۔ یہ کون ہیںملزم؟ ایرین اور حیدر کو فیڈرل جانچ بیورو(ایف بی آئی ) نے بدھوار کو گرفتار کیا تھا ۔ الزام ہے کہ انہوں نے بدھ کو امریکی افسر بتاکر غلط پہچان بتائی اور امریکہ کی سیکورٹی میں گھسنے کی کوشش کی ۔ ان دونوں کا پر دہ فاش اس وقت ہوا جب انہوں نے ایک حملے کی جانچ کر رہے امریکی ڈوپٹ انسپیکٹر کو قانون انفورسمنٹ کے ممبر ہونے کے بارے میں جھوٹا بیان دیا تھا ۔ 1865میں بنی یو ایس سیکریٹ سروس کا 1901سے صدر کی سیکورٹی میں پوری طرح تعیناتی کی گئی تھی۔ (انل نریندر )

نونیت رانا نے بھر ی ہنکار !

آزاد ممبر پارلیمنٹ نو نیت رانا نے اتوار کو مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کو ان کے خلاف چناو¿ لڑنے کی چنوتی دے ڈالی ۔ ہنو مال چالیسا کا پاٹھ پڑھنے کے تنازعہ کو لیکر پچھلے مہینے ممبئی پولیس کے ذریعے گرفتار کی گی نو نیت رانا کو حال ہی میں ضمانت ملی ہے ۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ممبئی کے لوگ اور بھگوان رام نگر میونسپل انتخابات میں شیو سینا کو سبق سکھائیں گے۔ شیو سینا کے صدر ادھو ٹھاکرے نے مئی 2020کو مہاراشٹر اودھان پریشد کے ممبر کے طور پر حلف لیا تھا ۔ وہ راشٹریہ وادی کانگریس اور کانگریس پارٹی کے ساتھ اتحاد کرنے کے بعد نومبر 2019میں وزیر اعلیٰ بنے تھے اس سے پہلے وہ ریاستی اسمبلی کے ممبر نہیں تھے ۔ مہاراشٹر میں امراوتی سے ایم پی نو نیت رانا اور ان کے شوہر ممبر اسمبلی روی رانا کو ممبئی پولیس نے 23،اپریل کو گرفتار کیا تھا ۔ میاں بیوی نے اعلان کیا تھا کہ وہ وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کو ذاتی مکان ماتو شری کے باہر ہنو مان چالیسا کا پاٹھ کریں گے جس سے شیو سینا کے ورکر آگ بگولہ ہو گئے تھے ۔ ممبئی کی ایک اسپیشل عدالت نے میاں بیوی کا 4مئی کو ضمانت دے دی تھی اور وہ 5مئی کو جیل سے باہر آئے تھے ۔ اس کے بعد ممبر پارلیمنٹ نونیت رانا کو ممبئی کے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں بھرتی کرایا گیا تھا ۔ ان کے وکیل نے بتایا تھا کہ نو نیت رانا کو ہائی بلیڈ پریشر اور جسم میں درد اور سپونڈ لائسس کی شکایت تھی۔ ان کو ہسپتال سے چھٹی ملنے کے بعد اتوار کو اخباری نمائندوں سے بات چیت میں نونیت رانا نے کہا کہ میں ادھو ٹھاکرے کو ایک حلقے کا چنا و¿ کرنے اور لوگوں کے ذریعے سیدھا منتخب ہونے کی چنوتی دیتی ہوں ۔ میں ان کے خلاف چنا و¿ لڑوںگی اور ایمانداری کے ساتھ سخت محنت کروں گی اور چناو¿ جیتوں گی اور چناو¿ جیتنے پر ادھو ٹھاکرے جی کو لوگوں کی طاقت کا پتہ چل جائےگا ۔ ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ میں نے کیا جرم کیا تھا کہ مجھے 14دن جیل میں رہنا پڑ ا ؟ آپ مجھے 14سال کیلئے جیل میں ڈال سکتے ہو۔ میں اور بھگوان رام میونسپل انتخابات میں شیو سینا کو سبق سکھاو¿ں گی ۔ نو نیت رانا نے یہ بھی کہ وہ ممبئی میں کمپین چلائیں گی اور شیو سینا کے کرپٹ حکومت کو ختم کرنے کیلئے رام بھکتوں کی حمایت کریں گی۔جے شری رام (انل نریندر)

10 مئی 2022

رسوئی گیس سلینڈر کی قیمت ریکارڈ سطح پر پہونچی!

گھر میں کھانا پکانے میں استعمال ہونے والے ایل پی جی گیس سلینڈر کے دام ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے ہیں ۔ اور سنیچر کو اس کے دام میں 50روپے کا اضافہ کیا گیا ہے اور اب یہ سلینڈر 999.50روپے کے ساتھ نے سارے ریکارڈ توڑ دئے ہیں۔پبلک سیکٹر کی ایندھن سپلائی کمپنیوں نے ایل پی جی کے سلینڈر کے دام میں اضافے کا فرمان جاری کر دیا ہے۔یہ اضافہ بین الاقوامی سطح پر گیس کے داموں میں تیزی آنے کی وجہ سے کیا گیا ہے ۔ اس سے پہلے مارچ 2020-22رسوئی گیس سلینڈر کے دام 50روپے بڑھائے گئے تھے وہیں 20مہنے کمرشل گیس کی قیمت 120روپے بڑھائی گئی تھی۔اب تازہ اضافے کے بعد دہلی میں ایل پی جی کا 14.2کلو گرام والا سلینڈر 999.50روپے میں ملے گا۔ مئی کی شروعات میںکمر شل استعمال والے 19کلو گرام کے گیس سلینڈر کی قیمت 2315.50روپے تک پہنچ چکی ہے ۔ ایسے ہی پانچ ریاستوں میںہوئے اسمبلی انتخابات کے بعد پیٹرول ڈیژل اور رسوئی گیس کے دام مسلسل بڑھ رہے ہیں۔دہلی میں کمرشل اور رسوئی گیس کے سلینڈروں کے بڑھتے داموں سے کمزور طبقے کو گھریلو بجٹ کو پورا کرنے میں کافی مشکل پیدا ہوگئی ہے۔ کھانا پکانا تک مہنگا ہو چکا ہے اس اضافے کے بعد پٹنہ میں رسوئی گیس سلینڈر 1089.50روپے کا ہوگیا ہے ، لکھنو¿میں یہ 1037.50کا ، پنجا ب 1035روپے کا سلینڈر ہو گیا ہے ۔ جس حساب سے پیٹرولیم مصنوعات کی چیزیں کے دام بڑھ رہے ہیں اس حساب سے کمزور طبقے کو تو کھانا بنا نا ان کیلئے نئی دشواری بڑھا رہا ہے ۔ بے روزگاری شباب پر ،کمائی کے وسائل کم ہوتے جا رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ دیگر اشیا ئے ضروریہ ،سبزی، دودھ ، دالیں بھی دن بدن مہنگی ہو رہی ہیں ۔ اگر سرکار نے اس کا جلد حل نہیں نکالا تو عوام کی مشکلیں بڑھ جائیںگی۔ (انل نریندر)

دیش بغاوت قانون کو بنائے رکھنا ضروری ؟

مر کزی حکومت نے سنیچر کو سپریم کورٹ میں کہا ہے کہ دیش بغا وت قانون کا جائزہ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ کیدا ر ناتھ سنگھ بنام بہار اسٹیٹ (1962)کیس میں آیا فیصلہ ایک اچھی نظیر ہے ۔جس پر آگے غور کرنے کی ضرورت نہیںہے ۔مر کزی حکومت نے سپریم کورٹ میں کہا کہ ججو ں کی بنچ نے دفعہ 124A(دیش بغاوت )کے سیکشن 14,19اور 21کے برابر لانے کیلئے اسے ہلکا کردیا گیا تھا ۔ اس لئے تین ججوں کی بنچ کیلئے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ آئینی جواز پرپھر سے جائیں ۔تین ججوں کی بنچ نے بڑی بنچ کی فیصلوں کا جائزہ نہیں لے سکتی ۔ مرکز نے یہ جواز عرضی گزاروں کی اس دلیل پر دیا ہے کہ معاملے کو بڑی بنچ کو سونپنے کی ضرورت نہیں ہے ۔اور تین ججوں کی بنچ کیدار ناتھ فیصلے میں غیر متوقع طور پر چھوٹ گئے معاملوں کے بعد آئے فیصلوں کے پس منظر میں غور کر سکتی ہے ۔ لیکن چیف جسٹس کی بنچ نے کہا تھا کہ کیا یہ صحیح ہوگا کہ تین ججوں کی بنچ پانچ ججوں کی بنچ کو نظر انداز کر سکتی ہے ۔ کیایہ جوڈیشل جواز ہوگا کہ معاملے کو بڑی بنچ میں سونپا جائے؟معاملے کی اگلی سماعت آج 10مئی کو ہونی ہے جس میں بنچ یہ طے کرے گی کہ کیا معاملے کو بڑی بنچ کو بھیجاجائے یا پھر تین ججوں کی بنچ ہی معاملے کو سنے ۔ معاملے کی سماعت کے دوران اٹا رنی جنرل کے کے وینو گوپال نے کہا تھا کہ کیدار ناتھ فیصلہ صحیح ہے اور اسے کورٹ کو ماننا چاہئے ۔ اس لئے دفعہ 124Aکا جائزہ لینا در کار نہیں ہے ۔ عدالت کچھ صحافیوں کی عرضیوں پر غور کر رہی ہے جس میں دفعہ 124A(ملک کی بغاوت ) کے جواز کو چنوتی دی گئی ہے۔ سرکاری وکیل تشار مہتا کے ذریعے داخل 38صفحات کے جواب میں کرمز نے کہا قانون کے بیجا استعمال کی بنیاد پر کبھی بھی آئینی بنچ کے جائز فیصلے پر نظرثانی کر نے پر یقینی نہیں ٹھہرا یا جا سکتا ہے ۔ چھ دہائی پہلے آئینی بنچ کے ذریعے دئے گئے فیصلے کے مطابق رائج قانون پر شبہ کرنے کے بجائے معاملے درمعاملے کے حساب سے اس طرح کے بیجا استعمال کو روکنے کیلئے انتظام کئے جا سکتے ہیں ۔ اورم کا اشو اٹھاتے ہوئے مرکز نے سینئر وکیل کپل سبل کی اس دلیل کی مخالفت کی کہ بدلی ہوئی صورت میں تین ججوں کی بنچ بھی ملک کی بغاوت قانون کے جواز پر جائزہ لے سکتی ہے ۔کہا کہ اس معاملے کو نہ تو کوئی بڑی بنچ کے پاس بھیجنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی تینوں ججوں کی بنچ کے ذریعے ان ہی تقاضوںپر آئینی جواز کا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ جسے پہلے جائز ٹھہرایا گیا ہے ۔ اپنے جواب میں مرکز نے یہ کہا کہ تینوں ججوں کی معاملے کو بڑی ججوں کو ریفر کئے بنا تب تک نظر ثانی نہیں کر سکتی جب تک وہ اس معاملے سے مطمئن نہیں ہوتی ہے ۔ فیصلے میں بڑی خامیاں ہیں بتادیں کہ پانچ جج صاحبان کی بنچ نے کیدار ناتھ سنگھ معاملے میں 1962میں سنا ئے گئے فیصلے میں ملک کی بغاوت قانون کے جواز کو بر قرار رکھتے ہوئے اس کے بیجا استعمال کے امکان کو بھی محدود کرنے کی کوشش کی تھی ۔ بڑی عدالت نے کہا تھا کہ سرکار کی نکتہ چینی تب تک دیش کی بغاوت نہیں مانا جا سکتا جب تک اس میں اکسانے کی بات نہ ہو یا جھگڑے بھڑکانے کی اپیل نہ کی گئی ہو۔ چیف جسٹس این وی رمن، جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس ہیما کوہلی کی بنچ نے پانچ مئی کو کہا تھا کہ وہ اس معاملے میں 10 مئی کو سماعت کرے گی کہ کیا دیش سے بغاوت سے متعلق انگریزوں کی قانون کو چنوتی دینے والی عرضیوں کو بڑی بنچ کے پاس بھیجا جا سکتاہے؟ سپریم کورٹ نے کیدار ناتھ سنگھ کیس میں ملک کی بغاوت سے متعلق آئی پی سی کی دفعہ 124کو برقرار رکھا تھا۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...