Translater

13 اپریل 2024

بہار کی انتائی مقبول ترین لوک سبھا سیٹ !

بہار کی سارن لوک سبھا سیٹ پر نہ صرف بہار کی بلکہ پورے دیش کی نگاہیں لگیں ہیں وجہ یہ ہے یہاں کے دو بنے امیدوار ۔بہار کی سارن لوک سبھا سیٹ پر آر جے ڈی نے لالو پرساد یادو کی بیٹی روہنی اچاریہ کو چناﺅ میدان میں اتارا ہے قریب ڈیڑھ سال پہلے والد لالو پرساد یادو کو اپنا گردہ دینے کے بعد رونہ اچاریہ سرخیوں میں آئی تھی اب روہنی کے سامنے سارن کی اس سیٹ کو جیتنے کی چنوتی ہے جہاں سے لالو پہلی مرتبہ ایم پی چنے گئے تھے لیکن وہ چناﺅ میں اس سیٹ پر بی جے پی کا قبضہ ہے روہنی کا اس سیٹ پر سیدھا مقابلہ بی جے پی کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر راجیو پرتاپ روڑی سے ہے روڑی سال 2014 سے مسلسل اس سیٹ سے ایم پی ہیں خاص بات یہ ہے کے سارن سیٹ کو لالو پرساد یادو کا گڑ مانا جا تا ہے وہ 4 بار اس سیٹ سے ایم پی رہے ہیں ۔سارن سیٹ سے لالو کی بیوی رابڑی دیوی اور سمدھی چندریکا رائے بھی روڑی کے خلاف چناﺅ میدان میں اتر چکی ہیں لیکن دونوں ہی چناﺅ ہار گئے تھے اس لہاز سے سارن سیٹ پر روڑی کا مقابلہ لالو یا ان کے خاندان کے کسی ممبر سے رہا ہے اسی سلسلہ میں اب لالو کی بیٹی روہنی اچاریہ پہلی بار چناﺅ میدان میں ہے روہنی اچاریہ نے بات چیت میں کہا کے سیاست میرے لئے نئی چیز نہیں ہے میں بچپن سے یہیں سب دیکھتی آئی ہوں میں سیاسی پریوار سے ہوں وہاں پتاجی اور بھائی پہلے سے سیاست میں ہیں مجھے سارن کی چنتا جو پیار ملا ہے اس سے میں حیران ہوں اس تیز دھوپ میں اتنے لوگ سواگت میں آئے ہیں اس سیٹ پر دیہاتی علاقوں میں لالو پرساد یادو کی حمایت صاف طور پر دکھائی پڑتی ہے یہاں روہنی اچاریہ کو دیکھنے کے لئے سڑکوں پر لوگوں کی بھیڑ بھی نظر آتی ہے اور ان میں روہنی کو لیکر خاص کر مہیلا ووٹروں کے درمیان خاصہ جوش دکھائی پرٹا ہے سال 1977 میں پہلی بار لالو پرساد یادو اسی علاقے سے لوک سبھا چناﺅ جیت کر پہلی بار پارلیمنٹ پہنچے تھے ۔اس وقت یہ سیٹ چھپرا لوک سبھا سیٹ کہلاتی تھی ۔سال 2004 میں لوک سبھا سیٹ سے لالو پرساد یادو نے بی جے پی کے راجیو پرتاپ روڑی کو ہرا کر کامیابی درج کی تھی سال 2008میں حد بندی کے بعد اس سیٹ کا نام سارن لوک سبھا سیٹ ہو گیا تھا سارن لوک سبھا حلقہ میں 6 اسمبلی سیٹیں ہیں ۔پچھلے چناﺅ میں 4 سیٹوں پر آر جے ڈی کامیان ہوئی تھی اور 2 بھاجپا کے خاتے میں گئی تھی ۔روہنی اچاریہ کی شادی 24 مئی 2002کو سمریش سنگھ سے ہوئی تھی سمریش سنگھ سنگا پور میں ہی آئی ٹی سیکٹر میں نوکری کرتے ہیں شادی کے کچھ وقت بعد سے ہی روہنی اپنے شوہر کے ساتھ سنگا پور میں رہ رہی تھی سارن لوک سبھا حلقہ کے سون پور علاقہ میں روہنی کا شاندار استقبال ہوا ۔یہاں گنگا کے کنارے یادو کے بڑے دیہات کا علاقہ ہے روہنی کو دیکھنے کے لئے یہاں کی عورتیں بڑی تعداد میں سڑکوں چھتوں گلیوں میں جمع ہوتی ہیں مانا جاتا ہے کے لالو کو اپنا گردہ سینے کے بعد روہنی اچاریہ کے تئیں لوگوں کی ہمدردی ہو سکتی ہے راجیو پرتاپ روڑی بھی روہنی اچاریہ کےلئے کافی سوچ سمجھ کر الفاظ کا استعمال کرتے ہیں روڑی کہتے ہیں کے جو 2-3 دن پہلے چناﺅ میدان میں آیا ہو اس کے بارے میں مجھے بہت معلومات نہیں ہے ہر والد کو ایسی بیٹی (روہنی )ملنی چاہئے بیٹیاں سب سے خوبصورت اور پیاری ہوتی ہیں۔ (انل نریندر)

پھر تو کتنو ں کو جیل بھیجتے رہیں گے !

بات جیت اور کمیونی کیشن کے اداروں کی شکل میں سوشل میڈیا اسٹیج کے فروغ کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ابھرا ہے کے اس پر اظہار رائے تو کس شکل میں دیکھا جائے ایسا دیکھا گیا ہے کی کئی مرتبہ یوٹیوب ،فیس بک ،ایکس ،جیسے سوشل میڈیا جیسے اسٹیجوں پر کسی مسئلے کو لیکر ظاہر رائے کو کچھ لوگوں نے قبال اعتراض میٹر کے طور پر دیکھا اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی ۔مگر سوال پھر یہ اٹھتا ہے کے اگر مختار اسٹیجوں پر ظاہر کئے گئے خیالات کو اس طرح روکا جائیگا تو اظہار رائے کے حق کا کیا مطلب رہہ جائیگا پھر ایسے الزامات میں لوگوں کو گرفتار کرنے کی کارروائی ایک چلن بن گئی تو کہا جاکر رکے گی ؟سپریم کورٹ نے تامل ناڈو کے وزیراعلیٰ ایم کے اسٹالن کے خلاف رائے زنی کرنے کے الزام سے وابستہ معاملے میں یوٹیوبر اے درائی مرگن کے خلاف دی گئی ضمانت بحال کر دی ۔سپریم کورٹ نے یو ٹیوبر درائی مرگن کی ضمانت بحال کرتے ہوئے کہا کے سوشل میڈیا پر ایلزام لگانے والے ہر شخص کو جیل میں نہیں ڈالا جا سکتا ہے۔یوٹیوبر پر 2021 میں تامل ناڈو کت وزیراعلیٰ ایم کے اسٹالن کے خلاف قابل اعتراض رائے زنی کرنے کا الزام ہے جسٹس ابھے سرینواس کو کا اور جسٹس اجول موئیا ں کی بینج نے تامل ناڈو حکومت کی جانب سے سرکاری وکیل مکل روہتگی سے کہا اگر چناﺅ سے پہلے ہم یوٹیوبر پر الزام لگانے والے ہر شخص کو سلاخوں کے پیچھے ڈالنا شروع کر دیں گے تو تصور کیجئے کے کتنے لوگ جیل میں ہوں گے ؟عدالت نے ملزم درائی مروگن کی ضمانت منسوخ کے حکم کو منسوخ کر دیا سپریم کورٹ نے کہا کے ملزم نے احتجاج اور اپنے خیالات ظاہر کرکے اپنی اظہار رائے کی آزادی کا بیجا استعمال نہیں کیا ۔عدالت نے ریاستی حکومت کی اس درخواست کو بھی خارج کر دیا جس میں یوٹیوبر ستائیں پر ضمانت کت دوران قابل مزمت تبصرہ کرنے سے پرہیز کرنے کی شرط لگانے کی مانگ کی گئی تھی ۔عدالت مدراس ہائی کورٹ کے ایک حکم کو چنوتی دینے والی ستی¿ کی عرضی پر سماعت کر رہی تھی جس میں ان کی ضمانت منسوخ کر دی گئی تھی کیوں کے انہوںنے عدالت میں دئے گئے حلف نامے کی خلاف ورضی کرنتے ہوئے اسٹالن کے خلاف قابل اعتراض تبصرہ کیا تھا ۔تمل ناڈو پولس نے کورونا کے دوران قوائد کے خلاف ورضی کرکے احتجاجی مظاہرے میں حصہ لیا تھا اس میں تاملی ،دھاپی پارٹی کے ممبروں نے مظاہرہ کیا تھا مظاہرے کے دوران ستی¿ پر وزیراعلیٰ کے خلاف قابل اعتراض تبصرہ کرنے کا الزام لگایا گیا تھا ۔ڈی ایم کے کی شکایت پر پولس نے امن بھنگ کرنے کی ایف آئی آر درج کی تھی اور اکتوبر 2021 میں اسے گرفتار کر لیا گیا ۔مدراس ہائی کورٹ نے 2021 میں ستی¿ کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا لیکن بینج نے ضمانت منسوخ کردی سچ یہ ہے کے آج سوشل میڈیا پر کئی بار کچھ لوگ غیر مہذب اور قابل اعتراض الفاظ کا استعمال کرتے ہیں جس سے کسی کے وقار کی خلاف ورضی ہوتی ہے مگر ایک جمہوری سماج اور حکومت میں خاص کر سرکاروں کی زیادہ حد تک تحمل برتنے کی ضرورت ہے نکتہ چینی سے سرکار کو اپنا نظریہ سدھارنے کا موقع ملتا ہے ۔جب کی ہر شخص کو جمہوریت میں اپنے نظریات رکھنے کا آئینی حق ملا ہوا ہے ۔ (انل نریندر)

11 اپریل 2024

دو نشاد چہرے اب مہا گٹھ بندھن میں !

مکیش ساہنی کی پارٹی وی آئی پی کے انڈیا میں آجانے سے اتحاد کا سائز بڑا ہوگیا ہے ۔اب این ڈی اے و انڈیا دونوں گٹھ بندھنوں میں چھ چھ پارٹیاں ہو گئی ہیں ۔حالانکہ این ڈی اے اتحاد میں جنتا دل یو ،بھاجپا،ایل جے پی رام ولاس پاسوان ، ہم اور آر ایل ڈی ، چناو¿ لڑ رہی ہیں ۔پشو پتی پارس کی آر ایل ڈی کی حمایت میں کھڑی ہے ۔وہیں بہار کے مہا گٹھ بندھن میں پانچ پارٹیوں کے درمیان سیٹوں کا بٹوارہ ہوا۔آر جے ڈی ،کانگریس،ماکسی پارٹی ، بھارتی کمیونسٹ پارٹی ،بھارتی کمیونسٹ پارٹی مالے اب آر جے ڈی نے اپنے کوٹے سے تین سیٹ دے کر وی آئی پی کو بھی اس میں جوڑ لیا ہے ۔مکیش ساہنی سنیچر کو اپنی پارٹی کے ساتھ مہا گٹھ بندھن میں شامل ہوئے تو اسی دن مظفر پور کے بھاجپا ایم پی اجے نشاد نے اچانک کانگریس کی ممبر شپ لے لی ۔بہار کے دو بڑے نشاد چہرے اب مہا گٹھ بندھن میں شامل ہو گئے ہیں ۔واضح ہو کہ نشاد ریزرویشن کو لیکر پچھلے کئی برسوں سے تحریک چلا رہے ہیں ۔مکیش ساہنی سن آف ملاح کی شکل میں پہچانے جاتے ہیں ۔وہیں اجے نشاد سابق ایم پی و جین نارائن نشاد کے لڑکے ہیں ۔جے نارائن نشاد سماج کا ایک بڑا چہرہ رہے ۔2004-09 میں جے ڈی کے عہد کو چھوڑ دیں تو سنہ 1996 سے 2024 تک مظفر پور سیٹ پر باب بیٹے کا قبضہ رہا ہے ۔پھر سے ان کے اس سیٹ پر کانگریس کے سمبل پر اترنے کی قیاس آرائی ہے مکیش اور اجے کے مہا گٹھ بندھن میں آنے سے نارتھ بہار کی کئی سیٹوں پر فائدہ مل سکتا ہے ۔ویسے این ڈی اے کے پاس بھی دو نشادوں کی جوڑی ہے ۔بھاجپا کے پاس ہر ی ساہنی ہیں تو جے ڈی یو کے پاس مدن ساہنی ہیں ۔دونوں ہی ریاستی سرکار میں ابھی بھی وزیرہیں ۔نارتھ بہار سے آتے ہیں ۔آبادی میں ملاحوں کا حصہ 2.60 فیصد ہے اور یہ فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے خاص کر نارتھ بہار کی ایک درجن سیٹوں پر ۔11 برسوں کے سفر میں دوسری مرتبہ مہا گٹھ بندھن میں آئے مکیش ساہنی بہار کی سیاست میں 2013 میں آئے وہ کبھی این ڈی اے ،کے حصہ ہونے کے بعدبھی بہار کی سیاست میں اہم کردار بن کر ابھرے ہیں ۔مکیش ساہنی نے 2013 میں فلمی دنیا میں سائٹ ڈیزائنر سے بہار کی سیاست میں قدم رکھا ۔ اور 2015 میں انہوں نے نشاد وکاس فیڈریشن بنا کر ملاحوں کو متحد کرنا شروع کیا ۔2014 کے لوک سبھا چناو¿ اور 2015 کے اسمبلی چناو¿ میں انہوں نے بھاجپا کا ساتھ دیا ۔لوک سبھا میں بھاجپا کو کامیابی ملی لیکن اسمبلی چناو¿میں این ڈی اے کو کراری ہار ملی ۔اس کے بعد مکیش ساہنی سے بھاجپا کی دوری بڑھنے لگی ۔2018 میں مکیش ساہنی نے وکاس شیل انسان پارٹی بنائی ۔اور مہاراشٹر میں مہا گٹھ بندھن میں شامل ہو گئے ۔لیکن کھٹ پٹ شروع ہو گئی ۔اب چار سال بعد مہا گٹھ بندھن میں پھر ان کی واپسی ہوئی ہے ۔مہا گٹھ بندھن کا حصہ بنی وی آئی پی آر جے ڈی کوٹے کی تین سیٹیں گوپال گنج ،موتیہاری اور جھنجھار پور میں امیدوار اتارے گی ۔جمعہ کو آر جے ڈی دفتر میں نیتا اپوزیشن تیجسوی یادو نے اس کا اعلان کیا ۔اس موقع پر مکیش ساہنی نے بھاجپا پر الزام لگایا کہ جب ان کی مجبوری ہوتی ہے تب وہ نشادسماج کا ساتھ چاہتے ہیں بعد میں بھول جاتے ہیں ۔انہوں نے اتحادی پارٹیوں کا بھی شکریہ ادا کیا ۔ (انل نریندر)

اویسی کی سلطنت کو دیں گی چنوتی !

لوک سبھا چناو¿ میں کچھ سیٹوں پر سب کی نگاہیں ہوتی ہیں ۔چناو¿ کے اعلان سے لیکر نتائج تک یہ سیٹیں اپنے امیدواروں کی وجہ سے سرخیوں میں رہتی ہیں ۔ایسی ہی ایک لوک سبھا سیٹ حیدرآباد کی ہے اس سیٹ پر قریب چار دہائی سے اویسی پرویوار کے قبضے میں ہے ۔فی الحال اس سیٹ سے اے آئی ایم آئی ایم کے چیف اسد الدین اویسی ۴بار سے ایم پی چنے جار ہے ہیں ۔اس سیٹ پر اویسی کے والد سلطان صلاح الدین اویسی سال 1984 سے 2004 تک ایم پی رہے تھے ۔سات اسمبلی سیٹ والی حیدرآباد لوک سبھا پارلیمانی سیٹ میں قریب 19 لاکھ ووٹر ہیں ۔اگر ان 2024 کے چناو¿ میں یہ سیٹ بھاجپا کی جانب سے میدان میں اتری امیدوار مادھوی لتا کی وجہ سے بھی سرخیوں میں ہے ۔مادھوی لتا نے حال ہی میں ٹی وی شو آپ کی عدالت میں اینکر رجت شرما سے بات کی ۔مادھوی لتا کی تعریف کرتے ہوئے پی ایم مودی نے شوشل میڈیا پر پوسٹ بھی لکھا ۔بی جے پی کا ٹکٹ ملنے سے پہلے مادھوی لتا کے بارے میں لوگ غیر متوقع طور پر کم ہی واقف تھے ۔سوال اس بات پر بھی اٹھے کہ بی جے پی نے اویسی کے خلاف مادھوی لتا کو کن وجوہات سے چنا ۔رپورٹس کے مطابق مادھوی لتا 49 سال کی ہیں ۔اور حیدرآباد کی ہی رہنے والی ہیں ۔مادھوی لتا کے والد ملٹری انجینئرنگ سروس میں اسٹور انچارج تھے ۔مادھوی لتا کو اچھا مقرر بھی مانا جاتا ہے ۔سناتن کے خلاف جارحانہ رہنے والے اسد الدین اویسی کے خاندان کا چالیس سال پرانا سیاسی قلعہ ڈھانے کے لئے بھاجپا نے اس فائر بینڈ مادھوی لتا کو اتار کر اویسی کے قلعے کو اپنے سر کرنے کی کوشش کی ہے ۔مادھوی لتا کٹر ہندو وادی ہوتے ہوئے بھی مدرسوں کی مدد کرتی ہیں ۔وہ کہتی ہیں کہ انسانیت سے بڑا کوئی کرم نہیں لیکن سناتن کے خلاف غیر ضروری بیان بازی کرنے والوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔مادھوی کے ارادے صاف ہیں ۔پہلی بار چناو¿ میں اتری مادھوی مانتی ہیں کہ بھاجپا نے سناتن کی حفاظت کا ذمہ جو سونپا ہے اسے بغیر کسی مشکل کے پورا کریں گی ۔حالانکہ وہ سیاست میں نئی ہیں اور یہ ان کا پہلا چناو¿ ہے لیکن وہ حیدرآباد میں اویسی کو زبردست ٹکر دینے والی ہیں ۔ایسا ان کے حمایتی کہتے ہیں ۔مادھوی لتا نے ٹکٹ ملنے کے بعد یہاں تک دعویٰ کیا کہ اویسی کو ان کے ہی گڑھ میں ڈیڑھ لاکھ ووٹ سے ہرا کر پارلیمنٹ سے باہر کریں گی ۔اور جمہوریت مندر میں حیدرآباد کی نمائندگی کرنے جائیں گی۔ان کا کہنا ہے کہ اب تک اویسی جس دھوکہ سے اب تک کامیاب ہوتے ہیں اس بار ان کا وہ بوکس ووٹ بینک کام نہیں آئے گا ۔ہندو ،بھائی بہن ایک ہو گئے تھے اسد بھائی کے لئے بھی بہت مشکل ہو جائے گی ۔وزیراعظم نریندر مودی مادھوی لتا کی خوب تعریف کرتے ہیں ۔پی ایم مودی نے اتوار کو شوشل میڈیا پر ٹی وی شو عآپ کی عدالت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ مادھوی لتا غیر معمولی شخصیت ہیں انہوں نے بہت ٹھوس اشو اٹھائے ہیں اور پوری دلیل اور جنون کے ساتھ انہوں نے اپنی بات رکھی ۔مادھوی لتا کہتی ہیں کہ پی ایم مودی نے مجھے جانے بنا ٹکٹ دے دیا ہے ۔انہیں بھروسہ ہے کہ میں اویسی کوٹکر دے سکتی ہوں اس سے زیادہ شفاف سیاست اور کیا ہوسکتی ہے ۔ (انل نریندر)

09 اپریل 2024

سنجے سنگھ کی دہاڑ !

عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا ممبر سنجے سنگھ نے کہا کہ جیل میں چھ مہینے گزارنے کے بعد ان کا حوصلہ بڑھا ہے ۔اور ساتھ ہی ناانصافی اور تاناشاہی کے خلاف لڑنے کا عزم مضبوط ہوا ہے ۔ضمانت ملنے کے بعد تہاڑ جیل سے باہر آئے عآپ نیتا سنجے سنگھ نے کہا جیل میں وہ دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال سابق نائب وزیراعلیٰ منیش سسودیا اور سابق وزیر ستیندر جین بھی جلد رہا ہوں گے ۔تہاڑ سے نکلتے ہی سنجے نے اپنے ورکروں سے کہا کہ یہ وقت جشن کا نہیں بلکہ جد و جہد کا ہے ۔اپنے خطاب میں بی جے پی اور وزیراعظم نریندر مودی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ جیل کا جواب جنتا دے گی ۔اپنے ووٹ سے ۔واقف کار مانتے ہیں کہ سنجے سنگھ کی رہائی مشکل سے دو چار عام آدمی پارٹی کے لئے سکون لے کر آئی ہے یہ نہ صرف ورکروں اور دیگر لیڈروں میں جوش بھرنے کا کام کرگے گی ۔بلکہ آنے والے لوک سبھا چناو¿ میں بھی عام آدمی پارٹی کا فائدہ ہوگا ۔سنجے سنگھ عام آدمی پارٹی کے بانی ممبروں میں سے ایک ہیں ۔اور ان کی پارٹی کے عہدیداران ، ممبران پارلیمنٹ نیتاو¿ں ،ورکروں کے درمیان مضبوط پکڑ مانی جاتی ہے جب تک سنجے سنگھ رہا نہیں ہوئے تھے تب تک پارٹی کے چار بڑے نیتا اروند کیجریوال ،منیش سسودیا ،ستیندر جین ، اور خود سنجے سنگھ جیل میں تھے ۔پارٹی ایک طرح سے لیڈر لیس ہو گئی تھی ۔سنجے سنگھ کے آنے سے پہلا فائدہ تو یہ ہوگا کہ پارٹی کو ایک مضبوط لیڈرشپ ملی ہے ۔سنجے سنگھ عام آدمی پارٹی کے ان لوگوں میں سے ہیں جو سیاسی طور پر کافی منجھے ہوئے ہیں ۔ان کی پارٹی کے کیڈر میں عہدیداران ،ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی میں اچھی پکڑ ہے ۔ساتھ ہی انہوں نے پنجاب میں بھی کام کیا ہے ۔تو دہلی اور پنجاب دونوں ہی جگہ پارٹی یونٹ ان کی بہت عزت کرتی ہے ۔اس لحاظ سے وہ بھی پارٹی کو بہت فائدہ پہونچا سکتے ہیں ۔سنجے سنگھ جیل سے رہائی کے وقت تہاڑجیل کے باہر جو ماحول تھا وہ شاید عام آدمی پارٹی کے کسی نیتا کے لئے کبھی نہ ہو ۔اس میں نائب وزیراعلیٰ رہے منیش سسودیا یا ستیندر جین ہوں ۔جس دن ارند کیجریوال تہاڑ جیل پہونچے تھے ان کے لئے بھی ایسا ماحول نہیں تھا۔جس وقت سنجے سنگھ جیل سے باہر آئے تو ان کے حمایتیوں میں غضب کا جوش تھا ۔اور شیر آیا شیر آیا کے نعرے سے ماحول کو پوری طرح گرما دیا تھا ۔جو بولنے کا انداز سنجے سنگھ کا ہے وہ کسی کے پاس نہیں ہے ۔سوال یہ اٹھ رہا تھا کہ جب سارے بڑے نیتا جیل میں ہیں تو پارٹی کون سنبھالے گا ۔پارٹی میں لیڈرشپ کی لائن میں کون ہے؟ لیکن جب سنجے سنگھ باہر آئے تو یہ ہمت جاگی کہ کم سے کم کوئی نیتا تو ساتھ ہے جو واقعی مفادات کی حفاظت کرنے والا ہے ۔جب لوک سبھا چناو¿ آگئے ہیں تب پارٹی کے سارے سینئر لیڈر جیل میںہیں ۔کیجریوال کی بیوی سنیتا کیجریوال بھلے ہی آنے والے دنوں میں وزیراعلیٰ کی کمان مل جائے لیکن وہ نپا تلا ہی بول سکتی ہیں ۔چونکہ سیاست میں سیاست کی پاٹھشالہ میں وہ ابھی اے بی سی ڈی سیکھ رہی ہیں جبکہ سنجے سنگھ اس میں مہارت حاصل کر چکے ہیں ۔جس کے چلتے ہر اسمبلی حلقے میں جب ان کی ریلی ہوگی تو الگ ہی نظارہ ہوگا ۔کہیں نہ کہیں ان کا قد عام آدمی پارٹی میں تیزی سے بڑھے گی ۔اس وقت جتنے بھی نیتا باہر ہیں ان میں وہ سب پر بھاری پڑتے ہیں ۔سنجے سنگھ کے باہر آنے سے انڈیا کو فائدہ ہوگا ۔یاد رہے سنجے سنگھ بی جے پی کے رحم و کرم پر تو نہیں چھوٹے ہیں ان کے خلاف کیس اتنا کمزور تھا کہ ان کو چھوٹنا ہی تھا ۔ (انل نریندر)

مدرسہ قانون پر سپریم کورٹ کی روک!

اتر پردیش مدرسہ ایکٹ 2004 کو غیر آئینی قرار دینے والے الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو¿ بنچ کے حکم پر سپریم کورٹ میں جمعہ کو روک لگا دی ۔چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ ،جسٹس جے وی پاردیوالہ ،جسٹس منسوج مشرا کی بنچ نے اتر پردیش سرکار اور دوسرے فریقین کو اس معاملے میں نوٹس جاری کر 31 مئی تک جواب دینے کو کہا ہے ۔معاملے کی اگلی سماعت جولائی کے دوسرے ہفتے میں ہوگی ۔الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو¿ بنچ نے گزشتہ 22 مارچ کو اپنے فیصلے میں سرکاری گرانٹ پر مدرسوں کو چلانے کے لئے سیکولرزم کے خلاف مانا تھا ۔ساتھ ہی ریاستی حکومت سے مدرسہ میں پڑھ رہے طلباءکا داخلہ عام اسکولوں میں کروانے کو کہا تھا اس کے بعد ریاست کے چیف سیکریٹری درگا شنکر مشرا نے پچھلے جمعہ کو اس حکم کی تعمیل کرنے کے احکامات دئیے تھے ۔اس معاملے میں جمعہ کو سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے پوچھنے پر اتر پردیش سرکار کے وکیل نے کہا کہ انہوں نے ہائی کورٹ کے حکم کو منظور کر لیا ہے اس لئے اپیل نہیں کی ہے مدرسوں کے سبب سرکار پر سالانہ 1096 کروڑ روپے کا خرچ آرہا تھا ۔مدرسوں کے طلباءکو دوسرے اسکولوں میں داخلہ دیا جائے گا ۔وہیں عرضی گزاروں کی دلیل تھی کہ اس حکم سے 17 لاکھ طلباءاور 10 ہزار اساتذہ بے روزگار ہو جائیں گے ۔بنچ نے کہا مدرسہ ایکٹ کا اہم مقصدمدرسہ تعلیم کو باقاعدہ تسلیم کرنا ہے ۔لہذا جو سیکولرزم کے اصولوں کے خلاف نہیں مانا جاسکتا۔ہائی کورٹ کے حکم پر روک کا مطلب یہ ہے کہ فی الحال اتر پردیش میں مدرستے چلتے رہیں گے ۔مدرسہ منتظمین نے ہائی کورٹ کے 22 مارچ کو آئے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چنوتی دی گئی تھی ۔بنچ نے کہا ہائی کورٹ کا یہ نتیجہ کہ مدرسہ بورڈ کا قیام ہی سیکولرزم کی خلاف ورزی ہے ۔مدرسہ تعلیم کو بورڈ کی ریگولیٹری پاور کے ساتھ ملانے جیسا ظاہر ہوتا ہے ۔مگر تشویس اس بات کی ہے کہ مدرسوں کے بچوں کو کوالٹی تعلیم ملے تو اس کا حل مدرسہ قانون ختم کرنے میں نہیں ہے اس کے لئے ہدایت جاری کرنی چاہیے۔بنچ نے کہا ہائی کورٹ نے مدرسہ قانون کو منسوخ کرتے وقت طلباءکے دوسرے مدرسوں اور اسکولوں میں بھیجنے کو کہا ہے اس سے 17 لاکھ طلباءمتاثر ہوں گے ۔ہمارا خیال یہ ہے کہ طلباءکو دوسرے اسکولوں میں منتقل کرنے کی ہدایت مناسب نہیں ہے ۔بڑی عدالت نے معاملے کی سماعت کے دوران کہا کہ الہ آباد ہائی کورٹ کا حکم پہلی نظر میں صحیح نہیں ہے ۔بنچ نے کہا اگر مفاد عامہ کی عرضی دائر کرنے کا مقصد یہ یقینی کرناہے کہ مدرسوں کو ریاضی ،سائنس ،تاریخ اور زبان سے اہم مضامین میں سیکولرزم تعلیم فراہمی کی جاتی ہے ۔تو اس کا قدم مدرسہ ایکٹ 2004 کے تقاضوں کو منسوخ کرنا نہیں ہوگا ۔عرضی گزاروں کی جانب سے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی ،مکل روہتکی ،پی ایس پٹوالیہ اور سلمان خورشید اور مینکا گروسوامی نے ہائی کورٹ کے فیصلے پر سوال کھڑے کئے تھے ۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...