Translater

17 نومبر 2018

چین سے ہووٹزر،پاک سے ورج توپیں مقابلہ کریں گی

کارگل کی جنگ میں اہم رول نبھانے والی بو فورس توپ کے بعد نئی نسل کی نوپ کے لئے ہندوستانی فوج کا تیس سال لمبا انتظار آخر کار ختم ہو گیا ہے ۔ہندوستانی فوج کو پچھلے دنوں دیوالی کا تحفہ ملا اس وقت وزیر دفاع نرملا سیتا رمن نے فوج کے سربراہ بپن راوت کی موجودگی میں کے۔9ورج توپ اور این۔777اے۔2الٹرا لائٹ ہووٹزرتوپ ہندوستانی فوج کے حوالے کی ۔اس سے تین دہائی پہلے بو فورس توپ فوج میں شامل کی گئی تھی۔کے۔9ورج توپ کی 28سے 38کلو میٹر تک مار کی صلاحیت ہے۔یہ تیس سیکنڈ سے تین منٹ میں 15گولیں داغنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔وزارت دفاع کے ترجمان کرنل امن آنند نے بتایا کہ کے9ورج کو 4366کروڑ روپئے لاگت سے بنا کر فوج میں شامل کیا گیا ہے۔کل 100توپوں میں سے دس توپوں کی پہلی کھیپ کی سپلائی ساﺅتھ کوریا سے آجائے گی۔باقی توپیں بھارت میں ہی بنائی جائیںگی۔40کے 9ورج توپیں نومبر2019میں اور باقی توپوں کی سپلائی 2020میں ہو جائے گی۔یہ پہلی ایسی توپ ہے جسے ہندوستانی پرائیوٹ کمپنی (لارسن ایڈ ٹبرو)نے بنایا ہے۔یہ پاکستان سے لگی دیش کی مغربی سرحد کے لئے بہت کارگر مانی جا رہی ہے۔کمپوزٹ گن ٹائنگ ویکل :130ایم ایم اور 155ایم ایم کی آرٹیلری بندوق لے جانے میں اہل یہ ویکل دو ٹن تک گولا بارود بھی لے جا سکتی ہے۔یہ کمپیکٹ گن ٹریکٹر ہے جس میں گن بھی لگی ہے۔یہ بھاری بھرکم گولا بارود اور ہتھیار لے جا سکے گی۔یہ 50کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے لے جائی جا سکے گی۔دیش میں تیار اس ویکل کو اشوک لی لینڈ نے بنایا ہے۔ہووٹزر توپ کی خاصیت یہ ہے کہ انہیں ہیلی کاپٹروں کے ذریعہ آسانی سے اونچائی والے علاقوں میں لے جایا جا سکتا ہے۔اس لحاظ سے یہ پہاڑی علاقوں جیسے چین سے لگی سرحد پر اہم کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔کارگل جنگ کے وقت بھی کافی اونچائی پر بیٹھے دشمنوں کو نشانہ بنانے کے لئے زیادہ تر توپوں کی ضرورت محسوس کی گئی عراق اور افغانستان کی جنگ میں بھی ان کا استعمال ہوا تھا۔اس وقت 50کیلی بر کی ایم 777توپ کا استعمال امریکہ ،کناڈا،آسٹریلیا میں کیا جا رہا ہے۔وزارت دفاع کے ترجمان کے مطابق فوج کو ان توپوں کی سپلائی سے بھارت دونوں سرحدوں پرہر طرح کے حملے کا جواب دینے میں اہل ہو جائے گا۔ان توپوں کی سپلائی اگست 2019سے شروع ہو جائے گی اور یہ پوری کاروائی 24مہینے میں مکمل ہوگی۔ہم مودی سرکار کو بدھائی دینا چاہتے ہیں کہ آخر کار انہوں نے بغیر کسی نکتہ چینی کی پرواہ کئے بغیر ان توپوں کو خریدنے کی ہمت دکھائی ۔ہندوستانی فوج کے ہاتھ مضبوط کئے ۔جے ہند۔

(انل نریندر)

شری رام مندرتعمیر کے لئے چوطرفہ دباﺅ

رام مندر مہم زور پکڑتی جا رہی ہے۔ایودھیا میں رام مندر ایشو کا وقت پر حل نہیں نکلا تو سماج میں بے چینی پھیلے گی۔یہ وارنگ وشو ہندو پریشد نے دی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ کروڑوں ہندوں کی عقیدت اور ترجیحات کو دنیا سمجھے تو وسیع رام مندر تعمیر کا راستہ ہموار ہو ۔سوال یہ ہے کہ مسئلہ کیسے حل ہو؟جہاں تک سپریم کورٹ کا سوال ہے رام مندر کا اشو اس کے لیئے ترجیح نہیں رکھتا ۔نچلی عدالت نے رام جنم بھومی بابری مسجد تنازع پر جلد سماعت سے انکار کر دیا ہے۔چیف جسٹس رنجن گوگوئی اور جسٹس سنجے کشن کول کی بینچ نے کہا کہ اس نے پہلے ہی اپیلوں کو جنوری میں مناسب بینچ کے پاس فہرست میں درج کرا دیا ہے۔آل انڈیا ہندو مہا سبھا کی جانب سے پیش وکیل ورون کمار کے معاملے پر جلد سماعت کرنے کی اپیل کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنے حکم پہلے ہی دے دیا ہے۔اپیل پر جنوری میں سماعت ہوگی۔متنازع دھانچہ معاملے کے حل میں ہو رہی دیری سادھو سنتوں و دھرم آچاریوں کے ساتھ ساتھ فریقوں کو بھی اکھرنے لگی ہے۔مسلم فریق اقبال انصاری کے گھر پر پچھلے دنوں ہندو فریق مہندر دھرم داس سمیت صوفی سنتوں نے فیصلہ لیا کہ ایودھیا معاملے میں یومیا سماعت کی مانگ کے لئے صدر جمہوریہ کو خط بھیجیں گے اور یومیا سماعت کے لئے الگ سے بینچ بننی چاہئیے ۔ہندو فریق دھرم داس نے کہا کہ ایودھیا معاملے کو لیکر ہم آپس میں لڑنا نہیں چاہتے وہیں مسلم فریق اقبال انصاری نے کہا کہ ایودھیا معاملے کی عدالت جلد سماعت کرئے تاکہ اس معاملے کا حل نکل آئے۔قومی اقلیتی کمیشن کے چیرمین سید غیور الحسن رضوی نے کہا کہ متنازع جگہ پر رام مندر بننا چاہئیے تاکہ دیش کا مسلمان سکون اور حفاظت اور عزت کے ساتھ رہ سکے۔وشو ہندو پریشد نے اعتماد ظاہر کیا ہے کہ مودی سرکار پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے دوران ایودھیا میں رام مندر تعمیر کے لئے قانون پاس کرائے گی جس سے وہاں قانونی طریقے سے مندر کی تعمیر ہو سکے گی۔وی ایچ پی کے نگراں صدر آلوک کمار نے اخبار نویسوں سے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ سرکار رام مندر کے لئے بل لائے گی اور این ڈی اے کے باہر کے نیتا بھی پارٹی لائن سے اوپر اٹھ کر اس کی حمایت کریں گے اور اسے بھاری اکثریت سے پاس کریں گے۔رام مندر معاملے میں آڈیننس لانے کے لئے اب تو این ڈی اے کی اتحادی پارٹیاں بھی دباﺅ بنانے لگی ہیں ۔شیو سینا کے ترجمان و ایم پی سنجے راوت نے کہا کہ سرکار اگر پارلیمنٹ میں رام مندر کا پرستاﺅ لاتی ہے تو بھاجپا کانگریس کے ساتھ چار سو سے زیادہ ممبران پارلیمنٹ کی حمایت ملے گی اور رام مندر کے لئے اب آندولن کی نہیں آڈیننس لانا ہے۔اور کہا مرکز میں اور یوپی میں ہندتو وادی حکومتیں ہیں۔رام مندر کے لئے اس پر نہیں تو کس پر دباﺅ بنائیں گے؟آر ایس ایس نے شری رام مندر تعمیر کے حق میں ماحول بنانے کے ساتھ ساتھ ہی کانگریس ،سپا،بسپا کو گھیرنے کی بسات بچھانی شروع ہو گئی ہے۔سنگھ پریوار کی حکمت عملی پانچ دسمبر کو ایودھیا میں دھرم سبھا کے ذریعہ یہ سندیش دینا ہے کہ ہندو سماج مند ر تعمیر میں اب دیری نہیں دیکھ سکتا ساتھ ہی یہ بھی بتانا ہے کہ کانگریس صدر بھلے ہی مندر گھوم رہے ہوں لیکن ایودھیا کے اشو پر فیصلے میں دیری کے پیچھے انہیں پارٹی کی سازش ہے ۔وی ایچ پی کے وائس چیر مین چمپت رام نے کہا کہ کپل سبل راجیو دھون کو یہ بتانا پڑے گا کہ بڑی عدالت نے مندر اشو پر کیوںٹلوانا چاہتے ہیں۔اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے رام مندر کا اشو اٹھاتے ہوئے کانگریس سے پوچھا کہ اسے بھگوان رام کی چنتا ہے یا مغل بادشاہ بابر کی ۔وشو ہندو پرشد سمیت تمام سنت سماج اب اس مسئلے کا حل چاہتا ہے ۔سپریم کورٹ سے اس مسئلے کے حل کی امید بہت کم نظر آتی ہے اگر اسے حل کرنا ہے تو اب مودی سرکارکو پہل کرنی ہوگی۔پردھان منتری بھی بی جے پی کا مکھیہ منتری اور گورنر و صدر جمہوریہ بھی بھاجپا سے ہی تعلق رکھتے ہیں اب اور کیا چاہئے؟

(انل نریندر)

16 نومبر 2018

رافیل سودے میں بے قاعدگیوں کو ثابت کرنے کی ذمہ داری اب اپوزیشن پر

چھائے رافےل جنگی جہاز سودے مےں مرکزی حکومت نے جو جواب سپرےم کورٹ مےں داخل کےا ہے ۔اس سے تو اپوزےشن کو اب ثابت کرنا ہوگا کہ اس سودے مےں کہاں کہاں ،کےسے کےسے گڑبڑی ہوئی ہے ۔کانگرےس سمےت تمام اپوزےشن نے حکومت پر تما م طرح کے الزام لگا ئے ہےں ۔اب تک رافےل کی قےمت پر خاموش رہی مودی سرکار نے پےر کو سےل بند لفافہ مےں سپرےم کورٹ کو بتا ےہ جہاز کتنی قےمت کا پڑا حکومت نے ےہ بھی پبلک کردےا ہے کہ پورا سودا کتنے مےں ہوا۔حالانکہ پچھلی سماعت مےں مرکز نے دلےل دی تھی قےمت جےسی معلومات راز قانون کے تحت آتی ہےں اور ہم نے پارلےمنٹ کو بھی ےہ جانکاری نہےں دی ہے ۔اس پر عدالت نے حکومت سے حلف نامہ مانگاتھا ۔سرکار کی طرف سے داخل رپورٹ مےں بتاےاگےا کہ ےوپی اے کی 2013کی ڈےفنس خرےد کارروائی سے ہی 36رافےل جہازوں کاسودا ہواہے ۔اسے 24اگست 2016کو سےکورٹی پر کےبےنٹ نے منظوری دی تھی ۔سال بھر مےں فرانسےسی فرےق کے ساتھ 74مرتبہ مےٹنگ اس کو فائنل کےا گےا اور 23ستمبر 2016کو بھارت اور فرانس کی حکومتوں کے درمےان دستخط ہوئے تھے ۔ فرانس کی کمپنی دسالٹ کے مقابلے بھارت مےں رافےل بنانے کے لئے اےچ اے اےل نے دو اعشارےہ سات گنا وقت مانگا اس لئے ان سے سمجھوتہ نہےں ہوسکا تھا ۔قےمت کو لےکر کانگرےس کے الزامات پر فرانسےسی کمپنی کے سی ای او اےرےک ٹوپےچر نے بتاےاکہ بھارت کو اس سودے مےں جہاز پہلے کے مقابلے 9فےصدی سستا مل رہا ہے ۔الزا م تراشےوں کے درمےان فرانسےسی کمپنی کی طرف سے وضاحت اہم ہے ۔کمپنی کے سربراہ نے سودے سے وابستہ ہر پہلو پر کھل کر بات رکھی دسالٹ اےوےشن نے دعوی کےا ہے کہ ےہ سودا صاف ستھرا اور9فےصدی سستا ہے کمپنی کے سی ای او نے اےک ملاقات مےں کہا کہ 18تےار جنگی جہازوں کی جتنی قےمت ہے ،اسے دام مےں 36جہازوں کا سودا کےا گےا دام دوگنے ہونے چاہےئے تھے لےکن چونکہ ےہ دوحکومتوں کے درمےان معاہدہ ہوا اور قےمتےں انھوں نے ہی طے کی اس لئے ہمےں بھی 9فےصدی کم دام پر سودا کرنا پڑا ۔ انھوں نے بتا ےا رےلائنس کو آفسےٹ پارٹنر چننے کا فےصلہ ان کی کمپنی کا تھا رےلائنس کے علاوہ 30کمپنےاں بھی جڑی ہوئی ہےں ۔کانگرےس کے الزامات پر ٹوپےچر نے بتاےا کہ مےں جھوٹ نہےں بولتا جو ہم نے پہلے کہا تھا وہےں آج بھی کہہ رہا ہوں ۔مےری ساکھ جھوٹ بولنے والے کی نہےں ہے انڈےن اےئر فورس اس سودے سے خوش ہےں ادھر کانگرےس صدر راہل گاندھی نے کہا سرکار نے حلف نامہ مےں مانا ہے کہ انھو ں نے بغےر ائےر فور س سے پوچھے ٹھےکہ بدلا اور 30ہزار کروڑ روپے امبانی کے جےب مےں ڈالا ۔پکچر ابھی باقی ہے مےرے دوست وزےر خزانہ ارون جےٹلی نے پلٹ وار کرتے ہوئے کہا کہ کانگرےس رافےل سودے پر غلط فہمی پھےلانے کوشش کررہی ہے ۔ےوپی اے حکومت نے سودے کو لٹکائے رکھا جب کہ ےہ جہازوں کےلئے ضروری تھا سپرےم کورٹ کی نگرانی مےں رافےل سودے کی سی بی آئی چانچ ہوں ےا نہےں اس پر 4گھنٹے بحث کے بعد عدالت نے فےصلہ محفوظ کرلےا ہے عدالت نے عرضی گذاروںکے ساتھ سرکار کی صفائی اور فضائےہ کو بھی سنا حالانکہ رافےل کی قےمت کو سامنے لانے کی مانگ کررہے عرضی گذاروں کو اس وقت جھٹکا لگا جب کورٹ نے کہا کہ ہم خود قےمت کو نہےں کھولےں گے ۔تب تک اس پر کوئی بحث نہےں ہوگی ۔رےلائنس ڈےفنس کو آفسےٹ ٹارنٹر بنانے پر پرشانت بھوشن نے کہا رےلائنس ڈےفنس کے پاس اےسی صلاحےت نہےں ہے اسے فائدہ پہنچانے کےلئے حکومت ہند کے کہنے پر اےسا ہوا ۔رےلائنس ڈےفنس کو پارٹنربنانے کےلئے قواعد بدلے گئے ےہ کرپشن ہے ۔اس پر سپرےم کورٹ نے پوچھا کہ 2015مےں آفسےٹ گائڈ لائنس کےوں بدلی گئی ؟اس پر وزارت دفاع کے افسرنے کہا کہ قواعد مےں 2014مےں تبدےلےاں ہوئی تھےں اور انھےں 2015مےں منظور کےا گےا ۔جسٹس کے اےم جوزف نے سوال اٹھاےا کہ اگر آفسےٹ پارٹنر ہٹتا ہے تو کون ذمہ دار ہوگا اس پر افسر نے بتاےا کہ آفسےٹ پارٹنر کے بارے مےں پوزےشن واضح نہےں ہے ۔اس پر عدالت کا کہنا تھا معاہدہ کے مطابق 3مہےنے مےں آفسےٹ کی تفصےلات (داسا)کو دےنی ہے تو آپ کےسے کہہ سکتے ہےں کہ آپ کو واضح جانکا ری نہےں ملی ہے ۔ججوں نے پوچھا ائےر فورس سے کوئی ہے کےا ؟اس کے بعد ائےر مارشل وائےر وائس مارشل کو بلاےا گےا ان سے پوچھا آخری بار جےٹ ڈےفنس مےں کب شامل ہوئے تھے ؟افسروں نے بتاےا کہ آخری کھےپ 1985مےں مےراج جہازوں کی کھےپ ملی تھی ۔پڑوسی ملکوں کی تےارےوں کو دےکھتے ہوئے جدےد جنگی جہازوں کی سخت ضرورت ہے ۔ےہ ڈےل بھارت اور فرانس کی حکومتوں کے درمےان نہےں ہے جےسے چےن جنگ کے دوران ہوئی تھی ےہ داسا کے ساتھ کاروباری سودا وسمجھوتہ ہے ۔مرکز نے مانا فرانس کی حکومت نے 36جنگی جہازوں کی کوئی گرانٹی نہےں دی ہے لےکن اس سے لےٹر آف کنفرٹ ملا ہے ۔جو گرانٹی ہی جےسا ہے حکو مت کی طرف سے اٹارنی جنرل نے رافےل سودے کے خلاف سماعت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عدالت ےہ فےصلہ نہےں کرسکتی کہ کونسا جہاز اور کونسے ہتھےار خرےدے جائے ےہ ماہرےن کا کام ہے عدلےہ نظر ثانی نہےں کرسکتی ۔انھوں نے کہا اگر دام کی پوری معلومات سامنے آجائے تو حرےف پارٹےاں اس کا فائدہ اٹھا سکتی ہے ۔اب دےکھنا ےہ ہے کہ کےا پورے سودے کی مختلف نکات پرسچائی سامنے آئے گی ےا نہےں کےا دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوگا ؟اپوزےشن کے دواہم الزام کے پہلا ےہ کہ اس سودے مےں پےمانہ جاتی کارروائی پر تعمےل نہےں کی گئی اور رےلائنس ڈےفنس کو آفےسٹ کنٹرےکٹ دےنے کے لئے حکومت نے کہا تھا کہ اس نے دونوں الزامات کا جواب دےدےا ہے اس کے باوجود اپوزےشن اپنی بات پر اڑی ہوئی ہے اب چونکہ معاملہ کورٹ نے ماتحت ہے اس لئے امےد کی جاتی ہے بصد احترام عدالت ان سبھی اشوز پر فےصلہ سنائے گی ۔لےکن اتنا ضرور ہے کہ سرکار کے جواب سے اپوزےشن بےکفٹ پر آگئی ہے اور اسے ثابت کرنا ہوگا ےہ صرف چناوی اشو نہےں ہے بلکہ اس مےں بے قاعدگےاں بڑھتی گئی ہےں اب ان کو ثابت کرنے کی ذمہ دار ی اپوزےشن پر آگئی ہے ۔

(انل نرےندر)



14 نومبر 2018

تیج پرتاپ نے لالو خاندان کا بنا دیا تماشہ

راسٹریہ جنتا دل کے چیف لالو پرساد یادو کے لڑکے تیج پرتاپ کے ذریعہ طلاق کے قصے نے خاندان کا تماشہ بنوا دیا ہے۔تیج پرتاپ کا تنازع سلجھ نہیں پا رہا ہے۔ان کی والدہ رابڑی دیوی تو اتنی دکھی ہیں کہ انہون نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اس سال چھٹ پوجا تک میں نہیں شامل ہوں گی۔وہ اپنے بڑے بیٹے تیج پرتاپ کے اپنے بیوی کو طلاق دینے سے دکھی ہیں۔لالو یادو تو بے چارے خود جیل میں ہیں اور رابڑی دیوی نے سارے معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔قریب چھ مہینے پہلے شاہی انداز میں شادی کر کے لائی گئی اپنی بیوی ایشوریا سے نجات کی خواہش لے کر تیج پرتاپ تیرتھوں میں بھٹک رہے ہیں۔تیجسوی پارٹی کے کام میں مصروف ہیں۔جبکہ بہن میسا بھارتی سامنے آنے سے بچ رہی ہیں۔پھر کون لالو خاندان میں تنازعوں کا حل کون نکالے گا؟فی الحال تو یہی بڑا سوال ہے ۔ادھر آر جے ڈی مخالف پارٹیوں کو لالو خاندا ن میں پھوٹ کا انتظار ہے ۔تیج پرتاپ کی شادی چھ مہینے پہلے آر جے ڈی لیڈر اور سابق وزیر چندرکا رائے کی بیٹی اور بہار کے سابق وزیر اعلیٰ دروگا رائے کی پوتی ایشوریا کے ساتھ بارہ مئی کو شادی پٹنہ میں ہوئی تھی۔لیکن تیج پرتاپ نے ذہنی بد حواسی کا حوالہ دیتے ہوئے دو نومبر کو پٹنہ کی سیول کورٹ میں طلاق کی عرضی دی ہے۔اس درمیان بڑے بھائی تیج پرتاپ یادو کے خاندانی رشتوں میں کھٹاس کے بارے میں بہار اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر اور تیج پرتاپ کے چھوٹے بھائی تیجسوئی یادو سے جب اس سلسہ میں پوچھا گیا تو وہ خفا ہو گئے ۔اور کہا میڈیا کو ہمارے معاملوں سے دور رہنا چاہئے ۔اور خفا ہوتے ہوئے اے ٹو زیڈ معاملے کو اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے اور یہ گھریلو معاملہ ہے اور خاندان کے لوگ اس سے نمٹ لیں گے۔اپوزیش پارٹیاں تماشہ دیکھ رہی ہیں اور انتظار میں ہیں کہ لالو خاندان کب بکھرتا ہے۔ابھی تک جو اشارے مل رہے ہیں ایشوریا سے طلاق لینے کی عرضی ہی گھر میں طوفان کی وجہ نہیں ہے بلکہ اور بھی کچھ ہے ۔متھرا میں میڈیا کے سامنے آکر تیج پرتاپ نے بہت سی اپنی توقعات سے آگاہ کیا اور خاندان کے مکھیا اور آر جے ڈی کی نئی لیڈر شپ کو آگاہ کیا ہے کہ گھر میں کچھ دریو دھنو کا قبضہ ہے وہ پہلے بھی کئی بار اس بارے میں کہہ چکے ہیں۔ظاہر ہے گھر میں پردے کے پیچھے باتیں سلجھا لی جاتی تو تیج پرتاپ کو باہر منھ کھولنے کی ضرورت نہیں ہوگی ۔پریوار اور سسرال کے جھگڑے سلجھانے میں تیج پرتاپ کے سسر ،چندرکا رائے کا اہم رول ہو سکتا ہے۔ہمیں رابڑی دیوی سے ہمدردی ہے۔پتی جیل میں بیٹا در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے ۔امید کی جاتی ہے کہ لالو خاندا ن کا جھگڑا جلد ہی سلجھ جائے گا ۔اور سب ٹھیک ٹھاک ہو جائے گا۔

(انل نریندر)

سرکاری کمپلیکس میں سنگھ کی شاکھاپر پابندی سے واویلا


مدھیہ پردیش میں کانگریس نے اپنے چناﺅ منشور(وچن پتر)میں لکھا ہے کہ اگر اس کی سرکار بنی تو سرکاری ایمارتوں میں کمپلیکس میں آر ایس ایس کی کی شاکھا لگانے پر پابندی عائد کی جائے گی۔اور افسران،کمرچاریوں کو شاکھا میں جانے کی چھوٹ کے حکم کو منسوخ کیا جائے گا۔اس لائن سے پردیش کی سیاست گرما گئی ہے۔112صفحات کے اس وچن پتر میں لکھے جانے سے بھاجپا کے سرکردہ لیڈروںنے کانگریس پر تلخ نکتہ چینی کی ہے۔اتوار کو صبح بھاجپا پردیش صدر راکیش سنگھ اور ترجمان سنبت پاترا اور بعد میں مرکزی وزیر نریندر سنگھ تومر نے تلخ حملہ کیا تو شوشل میڈیا پر کیلاش ورگی نے ٹویٹ کر کانگریس کو اڑے ہاتھوں لیا ۔سیاسی پارہ چڑھا تو کانگریس کے لئے کمل ناتھ پی چتمبرم،دگ وجے سنگھ،پرینکا چترویدی نے مورچا سنبھالا۔بھاجپا کی جانب سے جوابی حملہ کرتے ہوئے راکیش سنگھ نے کہا کہ ہمت ہو تو شاکھاﺅں پر پابندی لگا کر دکھائیں ۔پہلے بھی تین بار ایسی کوششیں ہوئیں لیکن کانگریس کو منھ کی کھانی پڑی ۔وہیں نریندر سنگھ تومر نے کہا آرایس ایس ایک سماجی و کلچرل تنظیم ہے۔راہل گاندھی کٹر ہندو بتانے کی کوشش کر رہے ہیںیہ ان کا نکلی پن ہے۔کیلاش ورگی نے کہا کہ ملک کے دشمن دیش کو ہمیشہ سے لوٹنے والے کیا جانیں گے سنگھ کی آئیڈیا لوجی کو ۔(بندر کیا جانے ادرک کا سواد)یہ عقل کے اندھے اورکنفیوز ہیں ۔بھاجپا کے قومی ترجمان سنبت پاترا کا کہنا ہے کہ کانگریسی نکسلیوں کی حمایت کرتے ہیں لیکن آر ایس ایس پر پابندی لگانا چاہتے ہیںمعاملے میں راہل گاندھی،کمل ناتھ ،معافی مانگیں وہیں کانگریس کی جانب سے کمل ناتھ کا کہنا تھا کہ بھاجپا غلط فہمی پھیلا رہی ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ کرمچاری اپنے دفاتر میں بیٹھیں تاکہ جنتا اپنے کاموں کے لئے لائن میں لگ کر پریشان نہ ہو۔سابق وزیر خزانہ پی چتمبرم نے کہا کہ ہم اقتدار میں آئے تو سرکاری احاطوں میں سنگھ کی شاکھائیں بند کرائیں گے ۔ان میں جانے کی چھوٹ کو بھی ختم کیا جاےئےگا۔آر ایس ایس سیاسی ایجنڈے والی تنظیم ہے۔دگ وجے سنگھ کا کہنا ہے کہ مرکزی سرکار میں افسر اور ملازم پر روک لگی ہے۔مدھیہ پردیش میں ماضی گذشتہ میں مدھیہ پردیش میں بھاجپا سے وزیر اعلیٰ اوما بھارتی بابو لال گوڑ کی حکومتوں میں بھی روک لگی تھی۔کانگریس کی ترجمان پرینگا چترویدی نے کہا کہ سنگھ نہ صر ف ایک سیاسی تنظیم ہے اور نہ ہی کلچرل ۔آئین میں سرکاری ملازمین کے لئے جو نظام ہے ۔اس کی سبھی کو تعمیل کرنی چاہئئے۔مدھیہ پردیش نوٹیفائی افسر سنگھ کے مقامی صدر اشوک شرما نے کہا کہ سرکاری پروگراموں کے انعقاد کو چھوڑ کر کسی بھی نتظیم کی شاکھا یا دیگر سرگرمیاں سرکاری کمپلیکس میں نہیں ہونی چائیں ۔سرکاری حکام ملازمین کو یہ پوری آزادی ملنی چاہئے کہ وہ کسی بھی تنظیم سے جڑیں ۔ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اسلئے ملازم کسی بھی سنگھ یا انجمن کی سرگرمیوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔انہوں نے آگے کہا کہ ویسے تو پردیش میں کانگریس کی سرکار نہیں آئے گی۔لیکن اگر کانگریس میں ہمت ہے تو سنگھ پر پابندی لگا کر دکھائیں ۔انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کو لے کر کانگریس کے نظریہ پردیش میں مسلم ووٹروں کے خوش آمدی کی کوشش ہے۔
(انل نریند)

13 نومبر 2018

ٹکٹوں کی مارا ماری اور باغیوں کا مسئلہ

5ریاستوں کے اسمبلی چناﺅ کا عمل شروع ہو گیا ہے۔چھتیس گڑھ میں پہلے مرحلے کے ووٹ پڑ چکے ہیں ۔راجستھان اور مدھیہ پردیش میں ابھی ووٹ پڑنے ہیں۔راجستھان میں پارٹی کے ٹکٹوں کے لئے مارا ماری جاری ہے۔یہاں بھاجپا کا یہ حال ہو چاہے کانگریس کا اس سے پہلے بتا دیں کہ ایک تازہ سروے سی-ووٹر کا آیا ہے جس میں پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناﺅ سے پہلے نومبر کے دوسرے ہفتے میں کرائے گئے اوپینین پول میں مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں کانگریس کی ٹکر ہوگی ۔جبکہ راجستھان اور تلنگانہ میں کانگریس اقتدار میں آتی دکھائی دے رہی ہے۔نارتھ ایسٹ کی ریاست میزورم میں کانگریس اقتدار سے باہر ہو سکتی ہے۔راجستھان کی کال 2سو سیٹیوں میں کانگریس کو 47.9فیصدووٹ کے ساتھ 145سیٹیں ملنے کا دعوی کیا جا رہا ہے۔جبکہ بھاجپا کو 39.7فیصد کے ساتھ 55سیٹیں ملتی بتائی جا رہی ہیں ۔مدھیہ پردیش میں کانگریس کو 42.3فیصد کے ساتھ 116سیٹیں ملنے کا مکان ظاہر کیا جا رہا ہے ۔جبکہ بھاجپا کو 107سیٹیں ہیں۔چھتیس گڑھ میں کانگریس کو 41فیصد ووٹ کے ساتھ 90میں اکتالیس سیٹیں بھاجپاکو 41.7فیصد کے ساتھ 43سیٹیں ملنے کے دعوئے کے گئے ہیں۔وہیں دونوں پارٹیوں میں ٹکٹ پانے کے لئے مارا ماری کے بعد اب باغیوں نے بھاجپا اور کانگریس کے خلاف تیس سیٹوں سے زیادہ سیٹوں پر مشکل کھڑی کر دی ہے۔مدھیہ پردیش میں کاغذات داخل کرنے کی آخری تاریخ کے بعد ٹکٹ نہ ملنے پر ناراض لیڈر سامنے آگئے ہیں۔اور انہون نے پارٹی کے امیدواروں کے خلاف اپنا مورچہ کھول دیا ہے۔بھاجپا کے پانچ بار ایم پی ممبر اسمبلی رہے کرمی طبقہ کے نیتا ڈاکٹر رام کرشن کوموریا نے ایک ساتھ دو سیٹوں دموہ اور پدھریا سے پرچہ داخل کر شیوراج سرکار میں وزیر جینت بھلیا کے لئے مشکل کھڑی کر دی ہے۔اب بھاجپا لیڈر شپ ڈیمج کنٹرول میں لگ گئی ہے۔وہیں حال کانگریس کا بھی ہے جھگوا میں کانگریس نے ایم پی کانتی لال بھریا کے بیٹے وکرانگ بھریا کو امیدوار بنایا ہے ۔ممبر اسمبلی جے ویر میڈا ان کے راستے میں آگئے ہیں ۔بھاجپا سیاست میں بھلے ہی کنبہ پرستی کی مخالفت کرتی ہو لیکن راجستھان میں کم سے کم اس کے لیڈر پیچھے نہیں ہیں۔راجستھان میں ہونے والے اسمبلی چناﺅ کے لئے کئی نیتا موجودہ ایم ایل اے اورکچھ وزیر بھی اپنے بیٹے پوتوں اور رستے داروں کو ٹکٹ دلانے کے چکر میں ہیں۔اقتدار مخالف لہر کے سبب اپنے دادا پتا کے ساتھ سرگرم دکھائی دینے والے پارٹی کے زیادہ تر لیڈر اپنے لڑکے پوتے،بہو کو اس مرتبہ ٹکٹ دلانے کی کوشش میں مرکزی لیڈروں کے گھروں پر چکر لگا رہے ہیں۔حد تو تب ہوگئی جب مدھیہ پردیش میں اسمبلی کا ٹکٹ نہ ملنے سے ناراض ایک کانگریس لیڈر نے گوالیر میں زہر کھا لیا۔اس کی حالت نازک ہے وہ اسپتال میں زیر علاج ہے ۔گوالیر میں کانگریس کے سابق ضلع جنرل سیکریٹری پریم سنگھ نے ٹکٹ نہ ملنے پر صدمے میں چوہے مار دوا کھا لی اور یہ کام انہوں نے سورگیہ مادھو راﺅ سندھیا کے موجسمہ کے پاس کیا۔

(انل نریندر)

سرکارکار کی چالک ہے تو آر بی آئی سیٹ بیلٹ ہے


سرکار اور ریزرو بینک کے درمیان جاری کھینچ تان میں نیا موڑ اس وقت آیا جب حکومت نے صاف لفظوں میں کہا دیش کی مالی حالت بالک صحیح ہے اور اسے آر بی آئی کے روپئے کی ضرورت نہیں ہے سرکار نے کہا کہ وہ ریزرو بینک سے پیسے نہیں مانگ رہی ہے۔اور نہ ہی مرکزی سرکار نے آر بی آئی سے 3.6لاکھ کروڑ روپئے لینے کی مانگ نہیں کی۔کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ مودی سرکار اور آر بی آئی کا ریزرو فنڈ ہتھیانا چاہتی ہے۔غلط پالیسیوں کے سبب سرکار کا خرچ بڑھ رہا ہے۔وہ اپنے سیاسی فائدے کے لئے رقم لینا چاہتی ہے تاکہ 2019میں چناﺅی ریوڑیاں بانٹ سکے ۔کانگریس کی طرف سے صدر راہل گاندھی اور ترجمان منیش تیواری اور سابق وزیر خزانہ پی چتمبرم نے حملہ بولا ہے راہل نے ایک میڈیا رپورٹ کے حوالے سے کہا کہ پی ایم کی اقتسادی پالیسیوں کا خمیازہ ہے جو سرکار کو 3.6لاکھ کروڑ جیسی کثیر رقم کے لئے آر بی آئی کے سامنے ہاتھ پھیلانے پڑے۔سرکار اپنی دبنگی سے دیش کے اہم ترین اداروں پر حاوی ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔وہیں کانگریس ترجمان منیش تیواری نے کہا کہ مودی سرکار آر بی آئی کے سیکشن 7لا استعمال کر اسے تباہ کر رہی ہے۔سرکار ایسا کام کیوں کر رہی ہے جو 1934سے لے کر اب تک کی کسی بھی سرکار نے ایسا نہیں کیا ۔وہ سیکشن 7کا سہارا لے کر آربی آئی پر پیسہ دینے کے لئے دباﺅ کیوں ڈال رہی ہے۔بتا دیں کہ آربی آئی ایکٹ کے سیکشن 7سرکار کو آر بی آئی کو حکم دینے کا اختیار دیتا ہے ۔آر بی آئی کے سابق گورنر رگھورام راجن نے بھی آگاہ کیا ہے کہ اگر سیکشن 7کا استعمال کیا گیا تو دونوں کے درمیان تعلقات خراب ہو جائیں جو سبھی کے لئے تشویش کی بات ہے ۔یہ تنازع اس لئے ہو ا کیوں کہ ایک میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آر بی آئی سرکار کے درمیان تعطل وزات داخلہ کے اس پرستاﺅ کو لیکر پیدا ہوا جس میں سرکار ریزرو بینک کی بچت سے 3.6لاکھ کروڑ روپئے لینا چاہتی ہے۔یہ مرکزی بینک کا 9.59لاکھ کروڑ روپئے کے محفوظ رقم کے ایک تہائی سے زیادہ ہے۔ریزرو بینک آف انڈیا کے سابق گورنر رگھو رام راجن نے مودی سرکار کے دو بڑے فیصلے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کو ہندوستان کی اقتصادی اضافے کی راہ میں سب سے بڑی اڑچن بتایا ہے۔جہاں دنیا بھر میں معاشی شرع تیزی سے بڑھ رہی ہے وہاں ان کے لگاتار جھٹکوں سے ہندوستان کی معیشت رفتار رک گئی ہے۔انہوں نے بتایا سات فیصد کی موجودہ ترقی شرع کو بھی ضرورت کے حساب سے نا کافی بتایا ۔راجن کا کہنا ہے ریزرو بینک کار کی سیٹ بیلٹ ہے اور سرکار ایک ڈروئیور کی طرح ہے۔اس کے بغیر حادثہ میں سنگین نقصان ہو سکتا ہے۔وہیں سابق وزیر مالیات پی چتمبرم نے کہا کہ مودی سرکار سرکاری مالی بہران سے نکلنے کے لئے ریزرو بینک کو اپنی مٹھی میں کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔سرکار اس چناﺅی سال میں خرچ بڑھانا چاہتی ہے۔اس لئے اس کی ریزرو بینک کے محفوظ سرمایے پر نظر ہے۔

(انل نریندر)

11 نومبر 2018

مہنگائی کے باوجود دھن تیرس پر ریکارڈ خریداری

سونے کی قیمتیں آسمان چھونے کے باوجود پیر کے روز دھن تیرس پر جم کر ریکارڈ بکری ہوئی ۔کمزور روپئے کے بعد دھن تیرس پر لوگوں نے جم کر خریداری کی صرافہ بازار سے لے کر گاڑیوں کے شو روم تک میں گراہکوں کی بھیڑ لگی رہی بازاروں میں بھیڑ کے سبب سڑکوں پر جام لگا رہا۔ایک اندازہ کے مطابق صر ف ایک دن میں صرافہ کاروبار 35سو کروڑ تک پہنچ گیا۔دہلی اور نوئیڈا کے صرافہ بازاروں میں ایک ایک ہزار کروڑ روپئے کی بکری ہوئی ۔دھن تیرس میں سب سے زیادہ خریداری برتنوں کی ہوتی ہے اس کے بعد سونے کا نمبر آتا ہے اس دن جو لوگ سونا نہیں خرید پاتے وہ امید اور چاہت کے ساتھ اگلے دھن تیرس کا انتظار کرتے ہیں۔اور محلوں میں یہی تذکرہ رہتا ہے کہ کیا خریدا اور کتنا سونا خریدا ۔تہوار پر خریداری کے لئے دہلی این سی آر کے سبھی شہروں کے بازاروں میں لوگوں کی ایسی بھیڑ امڑی کی بازاروں میں پیر رکھنے کی جگہ بھی نہیں تھی۔دہلی کے چاندنی چوک کے مشہور جوہری بازار کوچہ مہاجنی میں تو داخلے کے لئے لوگوں کو قطاروں میں لگ کر انتظارکرنا پڑا ۔اندر پورا بازار بھرا ہوا تھا۔اور دہلی پولس کے جوان بھی نگرانی کے لئے بھی تعینات تھے۔ایک طرف جہاں سونے چاندی کی 10اور بیس گرام کے سکوں کی خاص مانگ رہی تو لوگوں نے سرمایہ کاری کے لحاظ سے زیورات میں خاص دلچسپی دکھائی ۔چاندی کے سکے مورتیوں کے ساتھ ہی تھالی ،گلاس،لوٹا،گھنٹی،مندر سمیت کئی دوسری چیزوں کی لوگوں نے خریداری کی۔حالانکہ کی سونے کی قیمتیں دہلی میں 32690روپئے فی دس گرام جو سال 2017میں دھن تیرس کے دن 30710روپئے فی دس گرام کے مقابلہ دو ہزار روپئے زیادہ تھی اس سے بھی گراہکوں پر کوئی اثر نہیں پڑا ۔اس بارے میں دریبہ جویلرس ایسوشی ایشن کے پردھان ترن گپتا نے بتایا کہ دھن تیرس نے کاروباریوں کو کافی دنوں کے بعد مسکرانے کا موقہ دیا۔کافی اچھا کاروبار ہوا اس سے بازار کوبھی فائدہ ہوا۔جانکاروں کے مطابق اس موقع پر بھی شادی کے لئے زیورات کی خرید ہوئی ۔زیورات کے مقابلے میں سونے کے سکوں کی مانگ زیادہ تیز بتائی گئی ہے۔اس سے دو باتیں تو ثابت ہوتی ہیں ایک دہلی کے مڈل کلاس کے لوگوں کے پاس بہت زیادہ نقدی ہے دوسرے نوٹ بندی کے بعد لوگ اپنے گھروں میں نقدی رکھنے کے بجائے سونا رکھنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ لوگوں کے پاس کتنی بلیک منی ہے۔لیکن یہ اچھا ہے کہ یہ بلیک منی باہر بازار میں آرہی ہے اس سے نہ صر ف زیورات سے جڑے کاروباریوں کو فائدہ ہوگا بلکہ معیشت کوبھی تقویت ملے گی۔

(انل نریندر)

جمہوریت کی خاطرجان خطرے میں ڈال کرفرض نبھانے میں لگے ہیں جوان!

چھتیس گڑھ میںدو مرحلوںمیں پولنگ سے ٹھیک پہلے دتیواڑہ میں نکسلیوں نے ایک بار پھر حملہ کیا ہے۔انہوں نے آئی ڈی دھماکہ کر ایک بس کو اڑا دیا ۔یہ واردات بتاتی ہے کہ نکسلیوں نے جس بس کو بارودی سرنگ بچھا کر اڑایا تھا اس میں چنائو ڈیوٹی میں لگے جوان تھے۔چھتیس گڑھ میں ملازم جس طرح جان خطرے میں ڈال کر اپنی ڈیوٹی نبھا رہے ہیں۔اس حملہ میں گاڑی کے پرخچے اڑ گئے اور سی آئی ایس ایف کے جوانوں سمیت پانچ لوگوں کو جان گنوانی پڑی۔چنائوی ریاست میں دس دنوں کے اندر یہ تیسرا حملہ ہے ۔یہ حملہ جگدل پور میں وزیراعظم نریندر مودی کی جمعہ کو ہوئی چنائوی ریلی سے پہلے کیا گیا تھا۔چھتیس گڑھ میںکشمیر وادی کی طرح ہی نکسلیوںنے چنائو کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے ۔اس سے پہلے 30اکتوبر کو نکسلیوں نے ارن پورمیں پولس ٹیم پر گھات لگا کر حملہ کیا تھا اس میں تین جوان پولس شہید ہوئے تھے اور ایک میڈیا ملازم(دوردرشن کا کیمرہ مین)بھی ہلاک ہو گیا تھا۔27اکتوبر کو بیچا پور میں ہوئے حملے میں سی آر پی ایف کے چار جوان و2دیگر لوگ مارے گئے تھے۔چھتیس گڑھ میں دو مرحلوں کی پولنگ میں پہلا مرحلہ اسی مہینے کی 12تاریخ کو 18اسمبلی سیٹوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے باقی 72سیٹوں کے لئے 20نومبر کو ووٹ پڑیں گے۔چھتیس گڑھ میں نکسلیوں و چنائو کمیشن کے درمیان ہورڈنگ و دیواروں پر پوسٹر وار الگ سے چل رہی ہے۔کچھ مقامات پر الکشن کمیشن کی طرف سے بڑے بڑے بینروں کے ذریعہ لوگوں سے ووٹ اتسو منانے کو کہا گیا ہے۔مقامی گوڑی زبان میں پینڈم کا مطلب اتسو ہوتا ہے۔کئی مرکزوں کو مندروں کی طرح سجایا گیا ہے۔مقامی انتظامیہ اور الکشن کمیشن لوگوں کو تحفہ دے رہے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ نکسلیوں کے گمراہ کن پروپگنڈہ کا مقابلہ کرنے کے لئے چنائو کمیشن نے یہ پہل کی ہے۔نکسلیوں نے دتیواڑہ اور سکما کے اندورنی علاقوں میں پوسٹر لگا کر دیہاتیوں سے چنائو کا بائیکاٹ کرنے کو کہا ہے۔ہمیں تو پورا یقین ہے کہ کشمیر کی طرح چھتیس گڑھ میں بھی جنتا اس بار بڑی تعداد میں ووٹ دینے نکلے گی اور اپنی پسند کے امیدوار کو ووٹ دے گی۔یہ تقریبا طے ہے کہ نکسلیوں کو اس بار بھی منھ کی کھانی پڑئے گی۔ایک بار پھر چنائو ان بندوقوں کو مات دیں گے جو ان لوگوں کے ہی خلاف کھڑے ہیں۔جن کے لڑائی لڑنے کی بات نکلسی کرتے ہیں۔جمہوریت کے ساتھ جنگ میں ان کی بارودی سرنگوں اور تابڑ توڑ حملے بیشک سیکورٹی ملازمین اور چنائو کی ڈیوٹی کر رہے حکام کی جان لے لے آخر کار جنتا کی ہی جیت ہوگی اور جمہوریت کی جیت ہوگی۔چنائو ڈیوٹی پر لگے حکام و سکیورٹی فورسیز کی ہمت کو ہم سلام کرتے ہیں یہ دیش کی خدمت کرنے اور جمہوریت کو مضبوط کرنے کا کام کر رہی ہیں۔

(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...