Translater

22 مارچ 2014

لوک سبھا چناؤ2014 کے اہم اشو!

ایک اور تازہ سروے میں این ڈی اے کو سب سے بڑے اتحاد کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ زی میڈیااور تعلیم ریسرچ فاؤنڈیشن کے سروے کے مطابق این ڈی اے کو 2014 ء لوک سبھا چناؤ میں 217 سے 231 سیٹیں مل سکتی ہیں وہیں کانگریس کی قیادت والے یوپی اے محاذ کو 120 سے 133 سیٹیں مل سکتی ہیں۔ تیسرے مورچے کو85 سے 115 سیٹیں ملنے کا امکان جتایا گیا ہے وہیں وزیر اعظم کے عہدے کے لئے نریندر مودی کو سروے میں شامل 6 4فیصدی لوگوں کی پہلی پسند بتایا گیا ہے۔ آنے والے چناؤ میں اگر اشوز کی بات کریں تو زیادہ تر کے لئے اہم چناوی اشو وہی ہیں جو ان کی روزانہ کی زندگی پر اثر ڈالتے ہیں دیش کی جنتا کیلئے اہم اشو ہیں ۔زیادہ تر لوگوں کو شکایت ہے کہ گذشتہ برسوں میں جس تیزی سے مہنگائی بڑھی ہے اس کے مطابق کمائی بڑھنے کے بجائے گھٹنے لگی ہے۔ ہندی بیلٹ کے کئی لڑکوں کا کہنا تھا کہ 5 سال پہلے انہیں جتنی تنخواہ ملتی تھی آج بھی ان کی تنخواہ اتنی ہی ہے اور اس سے بھی کم ہوگئی ہے۔ حالانکہ گھر چلانے کا خرچ تین سے دس گنا بڑھ گیا ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے عام لوگوں کی مرکزی سرکار کو لیکر ناراضگی کافی بڑھ گئی ہے۔ پورے دیش میں ناراضگی زبردست پھیلی ہوئی ہے اور کانگریس مخالف فیکٹر تبدیل ہوتا نظر آرہا ہے۔ پورے دیش میں کانگریس کے خلاف اس فیکٹر کا فائدہ انہیں پارٹیوں کو مل رہا ہے جو کانگریس کے خلاف ہیں۔ جس تلنگانہ کے لئے کانگریس نے اتنا زور لگایا وہاں بھی اسے سپورٹ ملتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ لڑکوں کے بیچ روزگار کے گھٹتے مواقع کو لیکر کافی ناراضگی پھیل رہی ہے۔ عام لوگوں کا خیال ہے پچھلے پانچ برسوں میں نوکری کے موقع اور گھٹ گئے ہیں اور ان کو اپنے مستقبل کو لیکر چنتا ستا رہی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سرکار ان کے لئے نئی نوکریاں دستیاب کرانے میں ناکام رہی ہے۔ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ووٹ دینے سے پہلے بڑے قومی لیڈروں کے علاوہ اپنے علاقے کے مقامی امیدواروں کو بھی دیکھتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے نریندر مودی کو ہندوؤں کے نئے ابھرتے لیڈر کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ اسی بنیاد پر انہیں ووٹ دینے کی بات کررہے ہیں۔ حالانکہ مودی کٹر ساکھ کے سبب کچھ لوگوں خاص کر مسلمانوں میں ان کی مخالفت بھی ہورہی ہے۔ اسے مانیں یا نہ مانیں آج پورے دیش میں نریندر مودی کی لہر جاری ہے اورا ن کابڑھتا قد بھی اس بار چناوی اشو بن گیا ہے۔ اترپردیش، بہار، راجستھان جیسی ریاستوں میں تو کئی لوگوں نے یہ بھی رائے دی کہ اگر نریندر مودی کو ہٹا دیا جائے تو بی جے پی 2009ء کے چناؤ سے بھی زیادہ کمزور نظر آتی ہے۔ دیش میں کنیا کماری سے لیکر کشمیر تک نریندر مودی کی مقبولیت ہر جگہ بڑھتی نظر آئی ہے۔ مودی فیکٹر چناؤ میں بی جے پی کے لئے کام کررہا ہے۔ اس عام چناؤ میں علاقائی پارٹیوں کی طاقت بھی چناوی اشوز کے طور پر سامنے ہے۔ تاملناڈو میں جے للتا، مغربی بنگال میں ممتا بنرجی، یوپی میں مایاوتی، اڑیسہ نوین پٹنائک کے ذریعے جنتا سے اپیل کی ہے کہ انہیں دہلی میں مضبوط کیا جائے چناوی اشو بن سکتا ہے اور نمو کو بھاری چنوتی دے سکتا ہے۔ مقامی لوگوں کو اس سے اپنی ریاست کو فائدہ ہونے کا خواب دکھایا گیا ہے۔ آخر میں 16 ویں لوک سبھا کے لئے ہونے جارہے عام چناؤ دنیا کے سب سے خرچیلے چناؤ ہوں گے۔ امیدواروں کی طرف سے اس بار چناؤ کمپین میں قریب30500 کروڑ روپے خرچ کئے جانے کا اندازہ ہے جو امریکہ کے بعد سب سے مہنگا چناؤ ہوگا۔
(انل نریندر)

تنازعوں میں پھنسے زی میڈیا کے چینل!

آج کل مشہور نیوز چینل ’زی نیوز‘ تنازعوں میں ہے۔ ایک ساتھ ہی زی نیوز پر دو مقدمے درج ہوئے ہیں۔ ایک مقدمہ ٹیم انڈیا کے کپتان مہندر سنگھ دھونی نے کیا ہے تو دوسرا مقدمہ صنعت کار نوین جندل کے ذریعے چناؤ کمیشن میں چینل کے خلاف شکایت سے متعلق ہے۔ پہلے کپتان مہندر سنگھ دھونی کے معاملے میں بات کرتے ہیں۔ ٹیم انڈیا کے کپتان مہندر سنگھ دھونی نے منگلوار کو مدراس ہائی کورٹ میں دو نیوز چینل پر 100 کروڑ روپے کا ہتک عزت کا مقدمہ ٹھونکا ہے۔ انہوں نے دو نیوز چینل زی نیوز اور نیوز نیشن کے خلاف ہتک عزت کا کیس دائر کیا ہے۔ آئی پی ایل اسپارٹ فکسنگ معاملے میں ان کا نام گھسیٹنے کو لیکر انہوں نے یہ کارروائی کی۔ اپنی عرضی میں دھونی نے کہاکہ11 فروری 2014ء کو میرے خلاف ان چینلوں نے جھوٹی خبریں دکھائی تھیں۔ اس میں کہا گیا تھا کہ میچ سٹے بازی، اسپارٹ فکسنگ اور میچ فکسنگ میں میں شامل رہا ہوں۔ ان خبروں سے میری ساکھ کو نقصان پہنچا ہے اس کی بھرپائی ممکن نہیں ہے پھر بھی میں صرف100 کروڑ روپے کا مقدمہ کررہا ہوں۔ اس کے بعد جسٹس ایس۔تسلوان نے دھونی کی آئی پی ایل فکسنگ میں مبینہ شمولیت سے متعلق کسی بھی خبر کے ٹیلی کاسٹ پر روک لگادی ہے اور یہ حکم دو ہفتے تک جاری رہے گا۔ جسٹس نے دھونی کے حلف نامے کا جائزہ لینے کے بعد اپنے حکم میں کہا میرا خیال ہے کہ یہ ایک پہلی نظر میں معاملہ بنتا ہے اور یہ کہ شکایت کنندہ کے حق میں ہے۔ عدالت نے دونوں نیوز چینل کے مدیر اور بزنس ہیڈ اور شروع میں آئی پی ایل فکسنگ معاملے کی جانچ کرنے والے آئی پی ایس افسر جی سمپت کمار کو نوٹس جاری کئے۔ ادھر چینلوں نے الزامات کی تردید کی ہے۔ چینل نے صاف کیا کہ اس نے24-28 فروری کو ٹیلی کاسٹ اسٹنگ آپریشن کے دوران وہ خبر ٹیلی کاسٹ کی تھی جو بندو دارا سنگھ اور آئی پی ایس افسر سمپت کمار کے انکشاف پر مبنی تھی۔ چینل نے دعوی کیا اس نے ثبوت کی بنیاد پر اسٹنگ آپریشن کیا۔ ساتھ ہی جسٹس مدگل کے ذریعے سپریم کورٹ میں دائر رپورٹ کی بنیاد پر اسٹوری تیارکی۔ دوسرا معاملہ صنعت کار اور کرکشیتر کے کانگریس ایم پی جوین جندل سے وابستہ ہے۔ انہوں نے چناؤ کمیشن سے شکایت کی ہے کہ زی میڈیا بے بنیاد اور جھوٹی خبریں ان کے خلاف دکھا رہا ہے۔ جندل کا کہنا ہے جب سے لوک سبھا چناؤ کا اعلان ہوا ہے تب سے اب تک زی گروپ کے چینل زی نیوز اور بزنس اور زی یو پی ان کے خلاف 85 ایسی خبریں دکھا رہا ہے جو نہ صرف حقائق سے پرے ہیں بلکہ پوری طرح سے جھوٹی اور من گھڑت ہیں۔ منگلوار کو جندل نے چناؤ کمیشن میں چیف چناؤ کمشنر وی ایس سمپت سمیت تینوں چناؤ کمشنروں سے ملاقات کرکے زی میڈیا کے تینوں چینلوں کے خلاف اپنے بارے میں جھوٹی اوربے بنیاد خبریں ٹیلی کاسٹ کرنے کی شکایت کی۔ انہوں نے زی میڈیا کے خلاف ثبوت بھی پیش کئے ساتھ ہی مانگ کی کہ قاعدے قانون طاق پر رکھ کر وہ من گھڑت خبریں دکھا کر جنتا کو گمراہ کررہے ہیں اور اس کے لئے چناؤ کمیشن مناسب کارروائی کرے۔ بعد میں جندل نے بتایا کہ زی نیوز اور زی بزنس نے مجھ سے 100 کروڑ روپے مانگے تھے جسے نہ دینے پر اور اس کی شکایت پولیس میں درج کرانے کے بعد اب زی میڈیا میری ساکھ خراب کرنے کے لئے گمراہ کن پروپگنڈہ کررہا ہے۔
(انل نریندر)

21 مارچ 2014

بھاجپا کی اندرونی چالبازیاں کہیں آخر میں بھاری نہ پڑجائیں؟

ہم نے ہر چناؤ میں ٹکٹوں کے بٹوارے کو لیکر جھگڑے ہوتے دیکھا ہے اس لئے اگر اس مرتبہ بھی لوک سبھا چناؤ کے ٹکٹوں کے بٹوارے پر ہنگامہ جاری ہے تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ یہ تقریباً سبھی سیاسی پارٹیوں میں جاری ہے لیکن سب سے زیادہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس کی ایک خاص وجہ ہے کہ دیش میں نریندر مودی کی ہوا بہہ رہی ہے اس لئے سبھی چاہتے ہیں کہ انہیں بھاجپا کا ٹکٹ ملے اور ہنگامے کی سب سے بڑی وجہ ہے باہری امیدوارکو تھونپنا۔ویسے اصولی طور پر آج تک مجھے یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ باہری امیدوار کون ہے؟ ہندوستان ایک جمہوری دیش ہے اور کوئی بھی شخص دیش کے کسی کونے سے چناؤ لڑنے کے لئے آزاد ہے۔ آئین میں یہ کہیں نہی لکھا ہوا ہے کہ ہر شخص محض جس ریاست میں پیدا ہوا ہے وہیں سے چناؤ لڑ سکتا ہے؟ ایک شخص دہلی میں پیدا ہوا ہے اور وہ چنئی سے بھوپال اور بھوپال سے جموں سمیت کہیں سے بھی چناؤ لڑ سکتا ہے لیکن پارٹیوں کے ورکروں کو یہ بہانہ مل گیا ہے کہ اگر ہم بھارتیہ جنتا پارٹی میں ٹکٹوں کے بٹوارے کے سبب ناراضگی کی بات کریں تو کچھ جائز ہے اور کچھ بلا وجہ کی بات کرتے ہیں۔ اگر جنرل وی کے سنگھ کی غازی آباد میں مخالفت ہو رہی ہے تو یہ غلط ہے۔ جنرل وی کے سنگھ فوج کے سابق چیف ہے۔ غازی آباد راجناتھ سنگھ کی جیتی ہوئی سیٹ ہے۔ ویسے تو ان کے پھر غازی آباد سے ہی لڑنے کی امید تھی لیکن یہ سیٹ چھوڑ دی یا بھاگ گئے تو اگر اس سیٹ سے جنرل وی کے سنگھ لڑ رہے ہیں تو غلط کیا ہے؟ ڈاکٹر ہرش وردھن مشرقی دہلی سے جیتے تھے اب وہ چاندنی چوک سے لڑ رہے ہیں تو کیا یہ غلط ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہنا ضروری ہے کہ بھاجپا میں ٹکٹ بٹوارے کو لیکر سب سے زیادہ گڑ بڑی پارٹی لیڈر شپ نے اور پارلیمانی بورڈ نے کی ہے۔ پارٹی صدر راجناتھ سنگھ کیونکہ غازی آباد سیٹ بدلنا چاہتے تھے اس لئے اس سلسلے کو انہوں نے شروع کیا۔ وہ لکھنؤ سے لڑ رہے ہیں۔ لکھنؤ میں موجودہ ایم پی لال جی ٹنڈن اس کے لئے تیار نہیں تھے۔ لکھنؤ جیت اٹل بہاری واجپئی کی ہوا کرتی تھی اس لئے اس کی خاص اہمیت ہے ایک وقت یہ بھی بات اڑی کے شاید نریندر مودی یہاں سے چناؤ لڑیں۔دراصل بھاجپا چیف نے ایک تیر سے کئی نشانے لگانے کی کوشش کی ہے۔ پہلے تو انہوں نے پارٹی اور اپنے حریفوں کو مات دینے کی نیت سے ٹکٹ بٹوارے میں یا ان کی من پسند سیٹ سے ٹکٹ کاٹا ان میں( شتروگھن سنہا، نوجوت سنگھ سدھو، ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی) پھران کی جگہ اپنے حمایتیوں کو ٹکٹ دینے کی کوشش کی۔ ان کے مخالفوں کے حمایتیوں کا بھی صفایا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کل میں ایک ٹی وی چینل پر تھا۔ ایک سیاسی مبصر کا کہنا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اندر ایک طبقہ ایسا ہے جو نریندر مودی کو وزیر اعظم بننے سے روکنے کی غرض سے پارٹی کی جیتی سیٹوں پر کنٹرول قائم کرنا چاہتا ہے تاکہ اتنی سیٹیں نہ آئیں کہ مودی پی ایم بن سکیں۔اگر بھاجپا کی سیٹیں بہت کم رہ جاتی ہیں تو اس طبقے کو لگتا ہے کہ نریندر مودی کو دوسری این ڈی اے پارٹیاں بطور پی ایم قبول نہیں کریں گی اس صورت میں بھاجپا کا کوئی دیگر لیڈر جو سب کو این ڈی اے میں شامل پارٹیوں کو لیکر چلے اس پر متفق ہوجائیں۔ مجھے لگا کہ اس بات میں کچھ دم ہے کبھی کبھی پارٹی لیڈرشپ کی مجبوری بھی ہوتی ہے کہ پردیش میں جو تین ناموں کا پینل آیا اس پر ایک نام پر اتفاق رائے بن پاتی ہے۔ اس لئے جھگڑا نپٹانے کے لئے کسی باہری نام کو اعلان کردیا جاتا ہے تاکہ ورکر آپس میں نہ لڑیں اور مل کر چناؤ میں کام کریں لیکن اس کا الٹا اثر ہو سکتا ہے۔ ورکر مایوس ہوکر گھر بیٹھ جاتے ہیں اور کہتے ہیں ہر بات یہ ہی ہوتا ہے پانچ سال تک ہم مرتے کٹتے رہتے ہیں تو جب وقت آتا ہے تو ٹکٹ کسی باہری شخص کو دے دیا جاتا ہے۔ پھر ہر پارٹی میں خاص طور سے اس مرتبہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں بہت سے لوگ پارٹی سے باہر کے شامل ہوئے ہیں۔ ایسے لوگوں کو بھی ٹکٹ دینا پڑتا ہے کیونکہ انہیں اسی وعدے پر لایا گیا ہے۔ پھر ہر پارٹی چاہتی ہے کہ وہ ہر سیٹ پر جیتنے والے امیدوار کو اتارے چاہے وہ باہری ہو یا داغی ہو کچھ بھی ہو بس سیٹ نکال سکے۔ باہری امیدواروں کو تھونپنے کا فائدہ بھی ہے نقصان بھی ہے۔ سوائے عام آدمی پارٹی کے جو پہلی بار چناؤ لڑ رہی ہے اور سبھی پارٹیوں میں اس کی موجودگی سے ناراضگی ہے کچھ میں کم کانگریس اوربھاجپا میں زیادہ دیکھی جارہی ہے۔
(انل نریندر)

لوک سبھا کی 72 سیٹوں پر فیصلہ کن رہے گا مسلم ووٹ!

اس چناؤ میں کانگریس سے زیادہ عام آدمی پارٹی مسلمانوں سے رابطہ کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ پارٹی مسلمانوں سے اپنی بات یہاں سے شروع کررہی ہے کہ ان کو ناپسند آنے والے نریندر مودی کو ان کے گھر چنوتی دینے کا کام صرف اور صرف کیجریوال نے کیا ہے۔ عام آدمی دیش کے مسلمانوں کو رجھانے کے لئے نریندر مودی کا ہوا دکھا کر ایک دہشت کا ماحول بنانے میں لگی ہوئی ہے۔ یہ کام صرف عام آدمی پارٹی نہیں کررہی ہے بلکہ کانگریس۔ سماجوادی پارٹی بھی اس میں پیچھے نہیں ہے۔ کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے تو مودی کا نام لیکر ان پر کرارا حملہ کرتے ہوئے کہا کہ 2002ء کے گجرات دنگوں کے لئے مودی کو کلین چٹ نہیں دی جاسکتی۔ اس کی بات کرنا ناسمجھی کی نشانی مانا جاسکتا ہے۔ فساد کے دوران انتظامیہ کی واضح اور لاپروائی کے لئے مودی سرکار کی عدلیہ جوابدہی طے ہونی چاہئے۔ دیش بھر سے کل543 لوک سبھا سیٹوں میں سے 72 ایسی سیٹیں ہیں جہاں مسلم ووٹ فیصلہ کن رول میں ہے۔ حالانکہ مسلم اکثریتی آبادی والی ان سیٹوں پر جیت کی تاریخ بتاتی ہے کہ مسلم ووٹروں کے ووٹ بٹنے کے چلتے ان پارٹیوں کو بھی فائدہ پہنچا ہے جنہیں زیادہ تر مسلم ووٹ عام طور پر پسند نہیں کرتا۔ پچھلے لوک سبھا چناؤ میں ان سیٹوں میں صرف 19 مسلم امیدواروں نے ہی جیت درج کی ہے جبکہ17 سیٹوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور25 سیٹوں پر کانگریس نے کامیابی حاصل کی۔ دیش کی سب سے زیادہ گنجان مسلم آبادی والی 22 سیٹیں ہیں۔ ان میں بارہمولہ(جموں وکشمیر) 97 فیصد، اننت ناگ 95.5 فیصد مسلم آبادی ، لکشدیپ 95 فیصدی، سرینگر90فیصدی، کشن گنج (بہار) 67فیصدی، جنگیپور(مغربی بنگال) 60 فیصدی، مرشد آباد( مغربی بنگال)59فیصدی، رام گنج 56فیصدی، چھبری (آسام)56 فیصدی، ملاپورم(کیرل) 56فیصدی، رامپور( اترپردیش)50فیصدی، لداخ 46فیصدی، کریم گنج 45فیصدی، بھہیڑ پور44فیصدی، بشیر ہٹ 44 فیصدی، مالدہ 41 فیصدی، مراد آباد 40 فیصدی، بھونڈی 39فیصدی، سہارنپور40 فیصدی، بجنور (یوپی) 39 فیصدی، بارپیٹا (آسام) 39 فیصدی وغیرہ وغیرہ ۔ ان22 سیٹوں میں سے 12 سیٹوں پر کانگریس نے جیت درج کی باقی علاقائی پارٹیوں کے امیدوار جیتے۔20 سیٹیں ایسی ہیں جہاں مسلم آبادی25فیصدی سے اوپر ہے اور 30 فیصدی سے کم ہے۔22 سیٹیں ایسی ہیں جہاں مسلم آبادی20 فیصدی سے زیادہ اور25 فیصدی سے کم ہے۔ دیش کی اقلیتی آبادی کا یکمشت ووٹ پانے کے لئے یوپی اے سرکار نے پہلے اور دوسرے عہد میں کوئی کثر نہیں چھوڑی تھی۔پچھلے 60 برسوں میں یوپی اے سرکار نے اقلیتوں کی ترقی کے لئے بنیادی ڈھانچے اور مختلف اسکیموں پر 11544 کروڑ روپے خرچ کرنے کا دعوی کیا ہے۔ویسے تو دیش کے ہر حصے میں اقلیتیں موجود ہیں لیکن دیش میں سیاستدانوں کے لئے اقلیتوں کا مطلب مسلمانوں سے ہوتا ہے۔ کانگریس پارٹی کی ساری توجہ مسلمانوں پر ہے، سکھوں ،جینیوں، عیسائیوں کی تعداد اتنی زیادہ نہیں کے انہیں ووٹ بینک کی طرح مان لیا جائے لیکن مسلمان قریب 14 فیصد ہیں۔ دیش کے90 ضلع مسلم اکثریتی ہیں ان میں سے72 لوک سبھا سیٹوں پر مسلم ووٹ ہارجیت کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی نائب صدر مختار عباس نقوی نے حال ہی میں راجستھان کے تجارا میں شہید حسن خاں میواتی کے شہیدی دیوس پر ایک ریلی کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ خود ڈرے ہوئے لوگ (کانگریس۔ آپ) مودی کی ترقی کے ایجنڈے پر ڈر کا پلیتا لگا رہے ہیں جبکہ آج ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان مودی کا ڈر کہیں نہیں ہے اور ترقی کا چہرہ بن کر ابھر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کانگریس اور ان کے کچھ سیکولر سورماؤں نے برسوں تک فرقہ پرستی اور سیکولرازم کے نام پر مسلم ووٹروں کو جم کر استعمال کیا اور ان کے اقتصادی ،سماجی اور تعلیمی مفادات کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا ہے۔ نقوی کا کہنا ہے کہ کانگریس نے مسلمانوں کے ساتھ مجرمانہ کام کیا ہے اور آج بھی نریندر مودی اور بھاجپا کا ڈر دکھا کر پھر اسی چال کو دوہرایا جارہا ہے جس سے ہندوستانی مسلمانوں کو ترقی کی دھارا سے کوسوں دور رکھا جاسکے۔
(انل نریندر)

20 مارچ 2014

کاشی میں گونجا نعرہ’ہر ہر مودی، گھر گھر مودی‘

نریندر مودی نے اپنی وارانسی ریلی میں ایڈریس کی شروعات کی تھی کہ سومناتھ سے وشواناتھ کا لمبا سفر انہوں نے طے کیا ہے۔ اس وقت یہ بات کسی کو سمجھ میں نہیں آئی کہ مودی کی نظر بنارس سیٹ پر ہے۔ انہوں نے کاشی کو مرکز میں رکھ کر اترپردیش اور بہار میں کئی ریلیاں کی تھیں۔ اس سے لگا تھا کہ ان کا منصوبہ اور پکا ارادہ ہے کہ چناؤ لڑنا ہے تو شیو کی اس نگری سے۔ بھاجپا کے پی ایم امیدوار نریندر مودی کے لئے آر ایس ایس کنبہ آخر کار بنارس کو ہی کیوں مفید مان رہاتھا اس کے پیچھے کئی وجہ ہیں۔ بنارس میں حالانکہ 18 فیصدی مسلمان ووٹر ہے لیکن آر ایس ایس امید ہے کہ باقی82فیصدی ووٹ کا پولارائزیشن ہوجائے گا اور وہ ایک مشت مودی کو ملیں گے۔ دراصل وارانسی بھاجپا کے لئے ہمیشہ ہی ایک اہم اشو رہا ہے لیکن وقتاً فوقتاً اسے خطرے کی گھنٹی میں سنائی دیتی رہی ہے۔ اس چناؤ میں بھی آر ایس ایس کچھ خطرہ دکھائی دے رہا ہے کیونکہ مشن 2014ء فتح کرنے کے لئے وہ وارانسی سمیت پوروانچل کی24 اور بہار کی 9 ، مدھیہ پردیش کی ایک درجن سیٹوں پر اپنی نظر لگائے ہوئے ہیں اور وہ مودی کو یہاں سے لڑ کر پورے خطے میں بھگوا اثر بنانا چاہتی ہے۔نریندر مودی کے وارانسی سے چناؤ لڑنے کا اعلان ہونے کے بعد بلا شبہ یہ دیش کی سب سے ہاٹ سیٹ بن گئی ہے۔ بھاجپا کا خیال ہے کیجریوال اگر امیدوار بنتے ہیں تو بھی وارانسی سے مودی کی جیت پکی ہے۔ ساتھ ہی پوروانچل کی30 سیٹوں پر بھی فائدہ ہوسکتا ہے۔مودی کے لئے صرف ایک خطرہ تھا اگر موجودہ ایم پی ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی ناراض ہوجاتے تو اس کا غلط پیغام جاتا لیکن جوشی کو منا ہی لیا گیا۔ وارانسی کے ورکروں میں جوش بھرے نعرے لگ رہے ہیں۔’ہر ہر مودی۔گھر گھر مودی‘۔ وارانسی سیٹ پر مسلم ووٹ اچھی خاصی تعدادمیں ہیں لیکن مسلم ووٹوں کا اگر پولارائزیشن ہوا تو ہندو ووٹ کے یکجا ہونے سے مودی کو فائدہ ہوگا۔ او بی سی کے ووٹوں پر بھی مودی کیمپ کی نظر رہے گی۔ پچھلے چناؤ میں ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی کی جیت محض17 ہزار ووٹ کے فرق سے ہوئی تھی جو کسی پارلیمانی حلقے کے لئے حاشیے والی کامیابی مانی جاسکتی ہے لیکن مودی کے کھڑے ہونے سے یہاں کے حالات یقیناًبھاجپا کے حق میں دکھائی دے رہے ہیں۔اترپردیش 80 سیٹوں والا صوبہ ہے اگر دہلی کا اقتدار کی چابی ہے تو گنگا کے ٹٹ پر بسی شیو نگری وارانسی دور قدیم سے ہی ایک پوتر استھل کی شکل میں کروڑوں ہندوؤں کی آستھا کا مرکز ہے۔ ہندوتو کی لہر پر بہنے والے نریندر مودی اب زبان کھولیں بھی نہ لیکن وہ اپنا پیغام بھیجنے میں کامیاب رہیں گے۔ پارٹی کے پی ایم امیدوار کی شکل میں مودی پہلی بار گجرات کے دائرے سے نکل کر دیش کے سب سے بڑے صوبے اترپردیش کے ساتھکلچر سے ہی نہیں بلکہ جغرافیائی طور سے بھی وابستہ ہورہے ہیں جس کا بڑا فائدہ بھاجپا کو مل سکتا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال اپنی چناؤ ریلیوں میں اکثر کہتے آئے ہیں کہ مودی جہاں کہیں سے بھی کھڑے ہوں گے وہ وہیں سے ان کے مقابلے پر چناؤ لڑیں گے اور انہیں ہراکر ہی دکھائیں گے۔ کیجریوال جی مودی جی تو کھڑے ہوگئے ہیں اب آپ کی باری ہے۔ ہمیں لگتا ہے اس بار پھر کیجریوال تھوک کر چاٹیں گے۔ وہ بھاجپا سے مقابلہ کرنے کے لئے ماہر ہوچکے ہیں۔ سنئے اب کیجریوال کیا فرماتے ہیں۔ بنگلورو میں ایتوار کو ایک ریلی کو خطاب کرتے ہوئے کیجریوال نے کہا ان کی پارٹی چاہتی ہے کہ وہ مودی کے خلاف چناؤ لڑیں۔ میں اس چنوتی کو قبول کرنے کو تیار ہوں لیکن اس چناؤ کو میں ابھی قبول نہیں کرتا۔میں وارانسی جاؤں گا 25 مارچ کو وارانسی میں منعقدہ ریلی میں اس بات کا اعلان کریں گے اور لوگوں کی رائے جانیں گے۔ وارانسی کے لوگ جوکہیں گے وہی آخری فیصلہ ہوگا۔اگر وارانسی کے لوگ مجھے ذمہ داری دینے کا فیصلہ کرتے ہیں تو میں تہہ دل سے اس کو قبول کروں گا۔ میں دیش کے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ 25 مارچ کو وارانسی آئیں۔ انہوں ن ے کہا دوستوں اور پارٹی کی میٹنگ ہوئی ہے۔ پارٹی لیڈروں نے مجھے نریندر مودی کے خلاف چناؤ لڑنے کو کہا میں جانتا ہوں یہ بڑی چنوتی ہے۔ ہم پیسہ کمانے کے لئے اقتدار نہیں لینے آئے ہیں، ہم دیش کے لئے قربانی دینے کے لئے آئے ہیں۔ بھگت سنگھ کی طرح میں دیش کیلئے قربانی دے پایا تو یہ میرے لئے خوش قسمتی ہوگی۔ دلچسپ ہوگا اگر کیجریوال مودی کے خلاف چناؤ لڑنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ویسے تو ہمیں نہیں لگتا کہ وہ یہ ہمت دکھا پائیں اور آخر میں یہ ہی کہیں گے کے میں ایک سیٹ تک محدود نہ رہوں اور پورے دیش میں کمپین چلاؤں اس لئے میں وارانسی سے چناؤ نہیں لڑوں گا۔ لیکن اگر وہ لڑتے ہیں تو دیکھنا یہ ہوگا کہ جس مسلم ووٹ پر وہ اتنی امید لگائے ہوئے ہیں وہ کس طرف جائے گا؟ پچھلے چناؤ میں جوشی سے مات کھا چکے دبنگ مختار انصاری اس بار بھی وہاں سے اپنی قسمت آزمانے کی تیاری میں ہیں، کیا انہیں اپنے فرقے کی حمایت ملے گی یا سیاسی فائدے کے نام پر کیجریوال مسلم ووٹ بٹور پائیں گے؟ اقلیتی ووٹوں کے لئے آپ بھی تمام طرح کی بازی گری میں لگی ہوئی ہے۔ وارانسی کے نتیجے اس کے لئے بھی مستقبل طے کریں گے۔ مودی بنام کیجریوال کی جنگ میں سپا یا بسپا ، کانگریس یہاں کتنی ٹک پاتی ہیں یہ دیکھنا بھی دلچسپ ہوگا۔ 
(انل نریندر)

دیویانی پر الزام مسترد امریکی دادا گری کو کرارا جواب!

ہندوستانی خاتون ڈپلومیٹ دیویانی کھوبراگڑی کے خلاف عائد الزامات امریکی عدالت کے ذریعے مسترد کیا جانا خود دیویانی اور بھارت کے لئے خوشی کا بڑا موقعہ ہے۔ امریکی عدالت نے نوکرانی سنگیتا رچرڈ کی جانب سے عائد ویزا دھوکہ دھڑی سے متعلق سبھی الزامات مسترد کردئے ہیں۔ نیویارک کے جنوبی ڈسٹک کی ایک عدالت نے 12 مارچ کو سنائے گئے فیصلے میں کہا تھا کہ جس وقت دیویانی پر ویزا جعلسازی اور اپنی نوکری کی تنخواہ کو لیکر غلط بیانی کے الزامات لگائے گئے تھے تب انہیں سفارتی سرپرستی حاصل تھی اس فیصلے نے 9 جنوری کو دیویانی کے خلاف سرکاری وکیل کی طرف سے لگائے گئے سبھی الزامات کو مسترد کردیا۔ قابل ذکر ہے دیویانی کو ویزا جعلسازی اور اپنی نوکرانی کو کم تنخواہ دینے کے الزام میں نیویارک میں12 دسمبر2013 کو گرفتار کیا گیا تھا اس وقت نیویارک میں ہندوستانی قونصل خانے میں بطور ڈپٹی قونصلیٹ دیویانی کی گرفتاری اور بعد میں اس سے لی گئی تلاشی پر بھارت نے سخت ردعمل ظاہر کیا تھا۔ معاملے کو لیکر چلی سیاسی بات چیت کے بعد دیویانی کو انڈیا امریکی ہیڈ کوارٹرز معاہدے کے تحت8 جنوری2014ء کو پوری سفارتی رعایت دی گئی تھی۔ اس فیصلے سے یہ تو طے ہوگیا کہ گرفتاری کے وقت بھی دیویانی کے پاس سفارتی مخصوص اختیارات تھے۔ اس کے باوجود اگر ان کی گرفتاری کی گئی تھی تو صاف ہے کہ امریکہ نے ان کے ساتھ نا انصافی کی تھی۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ دیویانی پر امریکی انتظامیہ کے ذریعے لگائے گئے الزامات غلط اور بے بنیاد تھے۔ امریکی دادا گری کو اگر اس فیصلے سے کرارا جواب ملا ہے تو وہیں بھارت سرکار کے سخت موقف اپنانے کی بھی جیت ہوئی ہے۔ امریکی عدالت کے ذریعے دیویانی پر لگے الزامات مسترد ہونا بھارت کی سفارتی جیت ہی مانا جائے گا۔ ان کی گرفتاری کے بعد سے بھارت نے پہلی بار سخت موقف اپنایا اور ایک کے بعد ایک جوابی قدم اٹھائے۔ اس معاملے میں ہندوستانی مشینری آخر تک اس بات پر اٹل رہی۔ اس کے بعد دنوں ملکوں کے رشتے بیحد تلخ ہوگئے۔ بھارت نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے مخصوص زمرے کے امریکی سفارتکاروں کو ملنے والے خاص اختیارات کم کرنے سمیت کئی قدم اٹھائے۔ امریکی سفیر نینسی پاویل نے یکم جنوری2014ء کو اس معاملے میں افسوس ظاہر کیا۔ دراصل یہ سبھی جانتے ہیں کہ امریکہ اپنے سفارتکاروں کے لئے الگ پیمانہ رکھتا ہے تو دوسرے ملکوں کے سفرا کے لئے الگ۔ دیویانی سے پہلے بھی امریکہ کے ذریعے دیگر سفارتکاروں کے ساتھ اس طرح کا غیر انسانی رویہ اپنایا گیا۔ امریکی فطرت میں شمار ہے دوسری کی بے عزتی کرنا، نیچا دکھانا، اپنے آپ کو بالاتر ثابت کرنا وغیرہ وغیرہ اور یہاں تک کہ نامور لیڈروں سے لیکر دنیا کے مشہور فنکاروں تک کے ساتھ امریکہ بے عزتی کرتا رہا ہے لیکن یہ پہلا معاملہ ہے جب امریکہ کو اسی کی عدالت میں منہ کی کھانی پڑی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اب دیویانی کے معاملے کو یہیں دفن کردیا جائے گا تاکہ بھارت امریکہ کے رشتوں میں آئی کرواہٹ دور ہو اور آپسی رشتے پٹری پر آجائیں۔ خبر تو یہ بھی ہے کہ دیویانی کے خلاف امریکی عدالت میں ایک اور معاملہ درج کیا گیا ہے۔ امید کی جاتی ہے اس کا حشر بھی پہلے جیسا ہی ہوگا۔
(انل نریندر)

16 مارچ 2014

بھاجپا۔ کانگریس دونوں کیلئے ان صوبیداروں سے نمٹنا کڑی چنوتی ہے!

کچھ سیاستدانوں کا ماننا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نریندر مودی کی قیادت میں بیشک اگلے لوک سبھا چناؤ میں سب سے بڑا دل بن کر ابھرے لیکن سرکار وہ تبھی بنا سکے گی جو دوسرے چھوٹے دل این ڈی اے کا سمرتھن کرنے کو تیار ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ این ڈی اے اپنے بوتے پر 272+ سیٹیں نہیں لاسکتی۔ حالانکہ دیگر تجزیہ کاروں کا دعوی ہے کہ دیش میں مودی کی لہر ہے اور این ڈی اے اپنے بوتے پر بنا لے گی۔ لگتا تو یہ ہی ہے کہ کیندر کی اقتدار کی دوڑ میں شامل دونوں بڑے سیاسی دل بھاجپا اور کانگریس کو آئندہ لوک سبھا چناؤ میں علاقائی صوبیداروں سے کڑی چنوتی ملے گی۔ اگلی سرکار کے قیام کے راستے میں جہاں یہی دل ان کے راستے کی رکاوٹ ثابت ہوسکتے ہیں وہیں ان کے سمرتھن سے ہی نئے پردھان منتری کی تاجپوشی ہوسکتی ہے۔ان سب کے بیچ اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی بھی دونوں بڑے دلتوں کے لئے ووٹ کٹوا ثابت ہوسکتی ہے۔ اترپردیش اور بہار کی سیاسی تصویر میں پہلے بتاچکا ہوں۔ آج بات کریں گے دیگر ریاستوں کی۔گزشتہ چناؤ کو دیکھیں تو کانگریس کو کیندر کے اقتدار میں پہنچانے میں دکشن کی دو ریاستوں آندھرا پردیش اور تاملناڈو کا بڑا کرداررہا تھا۔توبھاجپا کے پردرشن کے لئے اترپردیش کا بڑا رول رہا تھا۔وہیں اس بار کانگریس کے لئے آندھرا پردیش اور تاملناڈو وائرل ثابت ہوسکتے ہیں۔ آندھرا پردیش جہاں لوک سبھا کی 42 سیٹیں ہیں وہاں کانگریس کے لئے تیلگودیشم پارٹی اور جگن کی رہنمائی والی وائی ایس آر کانگریس اس کی راہ میں روڑا بن سکتی ہے۔ ریاست کے بٹوارے کا فیصلہ کانگریس کے لئے کتنا فائدہ مند ہوگا یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن اس فیصلے سے پیدا ہوئی سیماندھرا کی حالت کو تلنگانہ سے بھرپائی کرنے کیلئے کانگریس کی امیدیں ٹکی ہوئی ہیں۔تاملناڈو میں جے للتا کی انا درمکھ نے ریاست کی سبھی 39 سیٹوں پر اپنے امیدواروں کا اعلان کرکے صاف اشارہ دے دیا ہے کہ وہ چناؤ سے پہلے کسی سے گٹھ بندھن شاید نہ کریں۔ 2009 کے چناؤ میں کانگریس ڈی ایم کے کی رہنمائی والے لوک تانترک ڈی پی اے کے ساتھ گٹھ بندھن کرکے16 سیٹوں پر چناؤ لڑی تھی۔ جس میں سے 9سیٹوں پر اسے جیت نہیں ملی تھی۔ اس بار ڈی ایم کے نے اب تک یہی اسٹینڈ لے رکھا ہے کہ وہ کانگریس سے گٹھ بندھن نہیں کرے گی۔ مرکزی فائننس منسٹر پی چدمبرم نے کہا ہے کہ اگر گٹھ بندھن نہیں ہوتا تو وہ سبھی سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑا کریں گے۔ وہیں یہاں کے کانگریس کو نقصان ہوسکتا ہے جہاں تک بھاجپا کا سوال ہے اس کے لئے تاملناڈو میں ایک بھی سیٹ جیتنا مشکل دکھ رہا ہے۔ پشچمی بنگال جہاں گذشتہ چناؤ میں کانگریس نے ترنمول کانگریس کے ساتھ چناؤ لڑا تھا اس بار الگ الگ چناؤ میدان میں ہوں گے۔ ریاست کی 42 پارلیمنٹ سیٹوں کے لئے میدان میں اترنے والے چاروں اہم سیاسی دل نے اس بار لوک سبھا چناؤ میں پہلی بار کوی گورو رابندر ناتھ ٹیگور کے ’ایکلا چلو رے‘ گیت کو حقیقت بنا دیا ہے۔یہ پہلی بار ہے کہ جب ترنمول کانگریس، کانگریس ،کمیونسٹ پارٹی اور بھاجپا بنا کسی تال میل یا گٹھ جوڑ کے میدان میں اترے ہیں۔ ترنمول کانگریس کی سبھی سرووں میں مضبوط پوزیشن دکھائی گئی ہے۔ممتا کی سونامی میں دیگر گٹھ بندھن یا دل پتہ نہیں کتنا ٹک پائیں گے۔ گذشتہ چناؤ میں ممتا کے کھاتے میں 18 سیٹیں آئیں تھیں۔ ریاست میں بھاجپا مودی لہر پر بیٹھ کر اپنا کھاتہ کھولنے کے فراق میں ہے۔اڑیسہ جہاں21 سیٹیں ہیں بیجو جنتادل ، بھاجپا اور کانگریس دونوں کے لئے بڑی چنوتی پیداکرے گا۔ گذشتہ چناؤ میں اس کے کھاتے میں 14 سیٹیں آئی تھیں۔مہاراشٹر میں علاقائی پارٹیوں میں جہاں شیو سینا ، بھاجپا اور منسا بھاجپا کے ساتھ ہیں وہیں راشٹریہ کانگریس پارٹی۔ کانگریس مل کر چناؤ میدان میں اتریں گے۔ ’آپ‘ پارٹی بھی ریاست میں اپنا کھاتہ کھولنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے۔ کل ملاکر اترپردیش، بہار، تاملناڈو، آندھرا پردیش، پشچمی بنگال اور اڑیسہ ایسی ریاستیں ہیں جہاں بھاجپا اور کانگریس دونوں کو علاقائی صوبیداروں سے پار پانا آسان نہیں ہوگا۔ دیش کی ان چھ ریاستوں کی264 سیٹوں پر بھاجپا اور کانگریس کا سیدھا مقابلہ ان صوبیداروں سے ہوگا۔ بھاجپا اور مودی کو اپنے 264+ مشن پر کامیاب ہونا ہے تو ان ریاستوں میں اپنا ٹھوس پردرشن کرکے کچھ سیٹیں لانی ہوں گی۔ اب بات کرتے ہیں نارتھ ایسٹ ریاستوں کی۔ بھاجپا کے لئے اچھی خبر سامنے آئی ہے جب اسم گن پریشد کے دو بڑے نیتا بھاجپا میں شامل ہوگئے۔ اسم گن پریشد کے سابق صدر چندر موہن پٹواری اور اعلی نیتا اور سابق وزیر ہتیندر ناتھ گوسوامی بڑی تعداد میں اپنے سمرتھکوں کے ساتھ بھاجپا میں شامل ہوگئے۔ ایک دیگر پیش رفت میں گورکھا مکتی مورچہ صدر بمل گورنگ نے اعلان کیا کہ ان کا سنگٹھن پشچمی بنگال میں بھاجپا کو دارجلنگ کی سیٹ پر سمرتھن کرے گا۔ غور طلب ہے کہ2009 میں جی جے ایم نے دارجلنگ سیٹ پر بھاجپا کا سمرتھن کیا تھا اور وہ کامیاب رہے تھے۔آسام میں بھاجپا پہلے ہی تین موجودہ سانسدوں سمیت پانچ امیدواروں کے نام کا اعلان کرچکی ہے۔ آسام میں کانگریس کی گگوئی کی رہنمائی میں کانگریس کی سرکار ہے اور کانگریس کو یہاں سے بہت امیدیں ہیں۔ دیگر ریاستوں میں بھی کانگریس کی حالت مضبوط ہے۔ کیرل کی 20 سیٹوں لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ اور برسر اقتدار کانگریس کی رہنمائی والی یو ڈی ایف کے درمیان کڑا مقابلہ ہے۔ ریاست میں اور قومی سطح پر لمبے وقت تک کمیونسٹ مورچے کے اہم سہیوگی دل آر ایس پی نے گٹھ جوڑ سے الگ ہونے کے اعلان سے وام مورچہ کمزور ہوا ہے۔پنجاب میں اہم مقابلہ بھاجپا۔ اکالی گٹھ بندھن اور کانگریس کے درمیان ہے۔ منجیت سنگھ بادل کی پارٹی کا حال ہی میں کانگریس کے ساتھ گٹھ بندھن ہوا ہے۔ اب بات کرتے ہیں جموں وکشمیر کی۔ جموں و کشمیر میں ایک جانب جموں علاقہ ہے اور دوسری طرف گھاٹی ہے۔ ریاست میں جموں۔ اودھم پور، سری نگر، اننت ناگ، بارہمولہ اور لداخ چھ سیٹیں ہیں۔ فی الحال پانچ سیٹیں کانگریس۔ نیشنل کانفرنس گٹھ بندھن کے پاس ہیں جبکہ ایک سیٹ پر آزاد امیدوار قابض ہے۔جموں میں ایک بھاجپا سمرتھک شاہ کہتے ہیں کشمیر اس بار اتہاس رچے گا ، بدلاؤ کی آندھی ہے، مودی ہی مودی ہے لیکن گھاٹی میں نہ تو بھاجپا کہیں ہے اور نہ ہی مودی ۔ یہاں کانگریس۔ نیشنل کانفرنس گٹھ بندھن کا بول بالا ہے۔ بھاجپا جموں اور اودھمپور سیٹیں جیت سکتی ہے۔ نریندر مودی کی وجہ سے ہندو ووٹر ایک جٹ ہوکر ووٹ کریں گے ایسی امید بھاجپا لگائے ہوئے ہے۔ میں نے ملک کی کچھ اہم ریاستوں کے بارے میں اختصار میں آپ کو جانکاری دینے کی کوشش کی ہے۔ یہ ریاستیں نریندر مودی کے مشن 272+ میں اہم کردار نبھا سکتی ہیں۔ دیگر نارتھ اور سینٹرل بھارت میں تو بھاجپا مضبوط حالت میں ہے اصل چنوتی بھاجپا کے لئے ان ریاستوں میں ہے دیکھیں یہاں بھاجپا کا پردرشن کیسا ہوتا ہے؟
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...